Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہمارے محسن. تحریر: محمد احمد

    ہمارے محسن. تحریر: محمد احمد

    پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا جب بھی کہیں پر ذکر آئے گا سب سے پہلے ڈاکٹر عبد القدیر خان کا نام لیا جائے گا۔۔ پاکستان کو پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بنانے میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔

    ڈاکٹرعبد القدیر خان 27اپریل 1936کو ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے آپ سات بہن بھائیوں میں چھٹے نمبر پر تھے،آپکے والد شعبہ تعلیم سے وابستہ تھے،وہ اپنے شاگردوں اور بچوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی نقطہء نظر سے انکی اخلاقی تربیت پر بھی خاص توجہ دیتے تھے ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کو مچھلیاں پکڑنے اور ہاکی کھیلنے کا بھی شوق تھا۔۔۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے ڈی جے سائنس کالج کراچی سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔۔کالج کی تعلیم کے دوران انہیں فزکس کے مضمون سے بھی لگاؤ رہا، بی ایس سی کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے جرمنی چلے گئے، آپ ہالینڈ اور بلجیئم بھی گئے،ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد آپ ہالینڈ کی ایک فرم ایف ڈی او میں ملازمت اختیار کی۔۔یہ فرم ان دنوں کئی یورپی ممالک کےایک مشترکہ منصوبے کیلئے ہالینڈ میں یورینیم کے افزودگی کے پلانٹ تعمیر کررہی تھی۔۔ یورینیم کی افزودگی کا مطلب اسے ایٹمی توانائی حاصل کرنے کے قابل بنانا تھا۔۔ڈاکٹر عبد القدیر خان جن دنوں جرمنی میں ڈاکٹریٹ کررہے تھے انہی دنوں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا المناک حادثہ پیش آیا تھا۔۔۔ ڈاکٹر صاحب بھی دیگر ہم وطنوں کی طرح شدید ذہنی صدمے سے دوچار تھے۔۔۔ انکے دل میں اس واقعے کے بعد وطن عزیز کیلئے کچھ کر گزرنے کی خواہش شدت اختیار کر گئی۔۔1974 میں جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب نے اپنے علم اور تجربے کو پاکستان کیلئے وقف کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔۔ ایف ڈی او سے منسلک ہونے کی وجہ سے آپ یورینیم افزود کرنے کے فن میں مہارت حاصل کرچکے تھے۔۔انہیں یقین تھا وہ اپنی اس صلاحیت کے ذریعے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر عبد القدیر خان اس سال دسمبر میں جب چھٹیاں گزارنے وطن واپس آئے تو اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ملے،اور انکے ساتھ ایٹمی منصوبے پر گفتگو کی۔۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کے مطابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی دلچسپی کے باعث پاکستان میں یورینیم افزودہ کرنے کے منصوبے پر اتفاق ہوگیا۔۔۔ اس موقع پر آپ نے وزیراعظم کو کہا کہ ” پاکستان کے وسائل انتہائی محدود ہیں جبکہ ہمارا پروجیکٹ بہت بڑا ہے” تو وزیراعظم نے کہا آپ کام شروع کریں فنڈ فراہم کرنا میرا مسلہ ہے۔

    جنوری 1976 میں ڈاکٹر صاحب نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں بطورِ ایڈوائزر کام کرنا شروع کردیا۔۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں جو تنخواہ وصول کررہے تھے وہ ہالینڈ میں ملنے والی تنخواہ کے مقابل بہت کم تھی،لیکن وطن کی خدمت کے جذبے کے آگے تنخواہ کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔۔ جولائی 1976 میں راولپنڈی میں کہوٹہ نامی قصبے ایک منصوبے کی بنیاد رکھی گئی جو براہ راست وزارت دفاع کے ماتحت تھا۔۔ اس ادارے کا نام کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز رکھا گیا اس منصوبے کا مقصد دفاع اور اسکے مقاصد کیلئے یورینیم کی پر امن افزودگی کرنا تھا۔۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب نے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کا چارج سنبھالتے ہی جس جانفشانی،گن اور جذبے سے اس پرعمل درآمد شروع کیا وہ ہماری قومی تاریخ کا ایک درخشندہ باب ہے۔ پلانٹ کیلئے عمارت کا ڈیزائن اسکی تعمیر اور اس میں کام کرنے والے محنتی اور باصلاحیت افراد کا انتخاب بھی ایک کھٹن مرحلہ تھا۔ اصل پلانٹ کے ساتھ ایک چھوٹی سی لیبارٹری میں یورینیم کی افزودگی پر تجرباتی کام شروع کردیا گیا۔۔ 1977 میں جب حکومت تبدیل ہوئی تو لوگوں کا خیال تھا کہ اب کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کا کام بند ہو جائے گا۔۔۔ مگر نئے سربراہ مملکت جنرل ضیاء الحق نے ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کو مزید اختیارات اور سہولتیں دے دیں اور ڈاکٹر صاحب کی صلاحیتوں کے اعتراف کے طور پر کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کو ڈاکٹر عبد القدیر ریسرچ لیبارٹریز کا نام دے دیا گیا۔۔ 1981 میں ایٹمی پلانٹ کی تنصیب کا کام مکمل ہوا اور 1982 میں یورینیم کی باقاعدہ افزودگی شروع ہوئی۔۔اس دوران ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب نے جن انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہیں۔۔ آپ نے ثابت کردیا کہ وطن سے محبت کرنے والے لوگ کیا کچھ کرسکتے ہیں۔۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بہت کم لاگت اور بہت کم عرصہ میں اتنی بڑی کامیابی حاصل کرنا ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب اور سنکے ساتھیوں کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا اور جب 28مئی1998ء کو پاکستان نے بھارت کے ایٹمی تجربات کے جواب میں چاغی کے مقام پر پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کیئے ملک بھر کے لوگ خوشی سے سجدہ شکر بجا لائے۔۔ ہندوستان کا غرور ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کی محنتوں کی بدولت پاکستان نے خاک میں ملا دیا تھا۔۔پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن چکا تھا اور ہے ( الحمد اللہ) اور چاغی سمیت وطن کی فضائیں ڈاکٹرعبد القدیرزندہ باد اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھی تھی.

    ڈاکٹرعبد القدیر خان صاحب ہمارے محسن ہیں اور ہم اپنے اس محسن کو اپنی دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔۔اللہ تعالیٰ انکو صحتیابی والی خوشحالی والی لمبی زندگی عطا فرمائے آمین ثم آمین۔۔۔ انہیں ہماری دعاؤں کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہ تھی آئیں سب ملکر ان کے لیئے دعا کریں،اللہ تعالیٰ انہیں اپنی امان میں رکھے اور انہیں ہر مصیبت سے بچائے. آمین ثم آمین

    @MohhammadAhmad

  • کوشش سے قوت . تحریر : زید علی

    کوشش سے قوت . تحریر : زید علی

    ایک طالب علم کو اس کے استاد نے کہا وہ تتلی کی زندگی پرتحقیق کرے اور اس کی زندگی کے آغازکا عملی طورپرمشاہدہ کرے۔ اس کے لیے انہوں نے اسے ایک کوکون دیئے۔ کوکون داراصل ایک ایسا گول سا غلاف ہوتا ہے جس میں تتلی پرورش پاتی ہے۔ طالب علم میں بہت زیادہ تجسس تھا کہ وہ یہ جان لے کہ تتلی اپنی زندگی کیسے شروع کرتی ہے؟ کچھ دن بعد طالب علم نے دیکھا کہ اس کوکون میں ایک سوراخ ہو چکا ہے۔ تتلی پورا زور لگا کر اس خول سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تتلی اپنی قوت اور جدوجہد کے باوجود اس خول سے باہر نہیں نکل پارہی تھی۔ اس کے پر ناتواں اور نہ ہونے کے برابر تھے۔ طالب علم نے فورا اس کی مدد کا فیصلہ کر کے اس خول کا سوراخ بڑا کر دیا کہ تتلی آسانی سے باہر نکل آئے مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تتلی اڑ ہی نہ پائی اور مر گئی۔ وہ بہت حیران ہوا اور اس نے یہ ساری بات اپنے استاد کو بتائی۔ استاد نے پوری تسلی سے طالب علم کی بات کو سنا ارو کہنے لگے۔ بیٹا! تتلی کی زندگی کے چار عہد ہوتے ہیں جنہیں انڈہ، لاروہ، پیوپا اور مکمل تتلی بن جانا کہا جا سکتا ہے۔ تتلی کے لیے فطرت کا اصول یہ ہے تتلی کو اس خول کو خود ہی توڑ کر باہر نکلنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے زندگی کے آغاز میں ہی خول سے جتنا زیادہ محنت کر کے باہر آئے گی اس کے پر اتنے ہی مظبوط اور خوشنما ہوتے ہیں۔ اس میں مشکل حالات میں جینے کی امنگ اور حوصلہ اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ بیٹا! ہم انسانوں کی زندگی بھی ایسی ہی ہے ہمیں ضرورت سے زیادہ مدد تبا و برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ ہماری زندگی کو بھر پور قوت اور طاقت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے مشکل اور سخت حالات میں خود ہی ہمت، جرات اور استقامت سے اپنی مشکلوں، مصیبتوں اور راستے کی رکاوٹوں پر قابو پا کر زندگی میں اپنا راستہ خود بنائیں۔ ہمیں زندگی میں قوت صرف کوشش سے ہی ملتی ہے۔ ہارتا صرف وہی ہے جو کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ بار بار کوشش کرنے والا اور ہمت نہ ہارنے والا کبھی ناکام نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ خدا کا اصول ہے کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے۔
    اللہ تعالی سے دعا ہے ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائے (آمین)

    @ZaidAli0000

  • گمنام ہیروز  تحریر : سیف اللہ عمران

    گمنام ہیروز تحریر : سیف اللہ عمران

    پاکستان کی سب سے اہم ایجنسی انٹر سروسس انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) ہے۔ وہ نہ صرف وطن کے دفاع کے لئے اہم ترین خدمات انجام دے رہا ہے ، ملک دشمن قوتوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھنے اور دشمن کے پوشیدہ اور واضح ارادوں کو ناکام بنانے کے لئے دن رات کوشاں ہے۔

    یہ پاکستانی خفیہ ایجنسی ، جس نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے ، کارکردگی ، پیشہ ورانہ مہارت اور کوالیفائی کے لحاظ سے اسے دنیا کی پہلی نمبر کی خفیہ ایجنسی کے طور پر جانا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے۔
    اسی لئے آئی ایس آئی اپنے ناقابل فراموش کارناموں سے پاکستانیوں کے خون کو گرم رکھتی ہے اور پوری پاکستانی قوم ان بہادر بیٹوں کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے آئی ایس آئی میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کی حفاظت اور کامیابی کے لئے دعا گو ہیں۔

    اپنے قیام سے ہی اس مغرور پاکستانی ادارے نے جنوبی ایشیاء میں ہندوستان کی تسلط ختم کرنے اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ایک کامل انٹلیجنس نظام کی بنیاد رکھی تاکہ کافروں کے مذموم منصوبوں اور تدبیروں سے آگاہی حاصل ہو۔

    آئی ایس آئی پاکستان کا دفاعی ضامن ، جولائی 1948 میں جدید عالمی تقاضوں کے مطابق انٹیلی جنس مقاصد کے حصول کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ آئی ایس آئی نے شروع سے ہی بہت ساری لڑائیوں میں اپنی تدبیر کو ثابت کیا ہے ، اور بغیر کسی بڑی جنگ کے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

    کئی عشرے پہلے ، پاکستان غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا مرکز بن گیا ، 40 سے زائد ممالک کے انٹیلیجنس ادارے اپنے اپنے ممالک کے قومی مفاد میں کام کر رہے تھے۔ جو بلوچستان میں امن بگڑ میں بھی ملوث تھیں ، مزید یہ کہ ہمارا سڑا ہوا سیاسی نظام ، جو عدم استحکام کا شکار ہے ، ان انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہورہا تھا۔ لیکن خوش قسمتی ہے کہ پردے کے پیچھے ، آئی ایس آئی آہستہ آہستہ ان تمام غیر ملکی ایجنسیوں کے مذموم مقاصد اور ان کے خلاف داخلی سیاسی ہتھکنڈوں کو ناکام بنا رہی تھی۔

    بظاہر کوئی آئی ایس آئی کا ترجمان نہیں ہے لیکن ہر پاکستانی اپنی اعلی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بے لوث خدمات اور بے لوث قربانیوں کو مانتا ہے۔ اور ہم اپنے گمنام فوجیوں کے عظیم کارناموں پر دل سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو اس ادارہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

    بعض اوقات انہیں کفن اور تدفین کی خوشی صرف اس وجہ سے نہیں ملتی ہے کہ وہ "پاکستان کے سپاہی” ہیں اور انہیں کوئی گارڈ آف آنر نہیں ملتا ہے۔ اور نہ ہی کوئی اعزاز تمغہ یا ستارہ۔ اس کے برعکس ، آئی ایس آئی کے یہ گمنام فوجی حب الوطنی سے بھری تاریخ کے صفحوں میں بھر چکے ہیں۔ آئی ایس آئی کسی نامعلوم سیارے کی مخلوق نہیں ہے ، لیکن یہ عظیم لوگ ہمارے درمیان ہیں۔

    لہذا ہم سب اس کے ترجمان ہیں۔ کبھی کبھی جنگ میں حصہ لینے کی پاک فوج کی باری ہوتی ہے۔ لیکن آئی ایس آئی ہر دن جنگ میں ہے۔ یہ آئی ایس آئی ہی جاگتی ہے اور پوری قوم سوتی ہے۔

    آج ہر پاکستانی کو اس ادارے کی کارکردگی پر فخر ہے۔
    کیونکہ جب تک یہ ادارہ موجود ہے ، پاکستان مخالف عناصر پر یہ واضح ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کوئی براہ راست کارروائی نہیں کرسکتے ہیں۔
    Twitter @Patriot_Mani

  • طوائف کی زندگی  تحریر: فوزیہ چوہدری

    طوائف کی زندگی تحریر: فوزیہ چوہدری

    طوائف تو دنیا کی تھی بے حیاء
    رہے نسبتاً ہم ہی بےباک کم

    آ پ نے اکثر دیکھا ہو گا نئی چم چماتی گاڑیاں لیکن ان گاڑیوں کا استعمال لوگ کچرہ اٹھانے کے لئے گندگی صاف کرنے کے لیے نہیں کر سکتے بلکہ اس کام کے لئے الگ سے گاڑیاں ہوتی ہیں جو کہ آ پ کو کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں اور اگر آپ پاس سے گزر جائیں تا ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں کیوں؟ کراہت محسوس ہوتی ہے بدبو آ تی ہے اسی لیے نہ ؟ پر ان گاڑیوں کا ہونا بھی ضروری ہے ورنہ آ پ کو ہر گلی کوچے میں گندگی کے ڈھیر نظر آ ئیں گے اور آ پکا جینا مشکل ہو جائے گا۔
    بلکل اسی طرح طوائف کی بھی زندگی ہے یہ وہ عورت ہوتی ہے جو ایسے مردوں کی گندی کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے جو عیاش ہوتے ہیں حوس کے پوجاری ہوتے ہیں اور جیب میں چاندی کے سکے اور بہت سے پیسے لے کر گھومتے ہیں۔
    ایک عورت کو طوائف بنانے والے بھی مرد ہی ہوتے ہیں وہ لڑکی جو کسی مرد کے پیار میں گھر سے بھاگ جاتی ہے یا تو اسے بیچ دیا جاتا ہے یا چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ لڑکی کیا کرے جس کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں تو ایسی ہی لڑکی پھر ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے اور زندگی گزارنے کے لئیے غلط راستہ اختیار کر لیتی ہے۔
    یقین جانیں اگر یہ طوائف نہ ہو تو مرد کی گندگی آ پ کو ہر جگہ دکھائی دے گی اور شاید حوس کا پوجاری مرد اپنے ہی گھر کی بہو بیٹیوں کے ساتھ گندہ کھیل کھیل بیٹھے اور میں ایسے واقعات سنے بھی ہیں کہ باپ نے بیٹی کے ساتھ زیادتی کی،یہاں تک کہ بے زبان جانور تک کو نہیں چھوڑتے یہ لوگ،ایک معصوم بلی کے ساتھ لڑکوں کا وحشیانہ سلوک تو سب کو یاد ہی ہو گا ۔
    جس چیز کی مانگ زیادہ ہوگی وہ تو مارکیٹ میں ضرور آئے گی اور مرد کی مانگ ہے عورت اور رنگین رات اسی لیے آ ج بھی کہیں نہ کہیں چکلہ آ پکو ملے گا اور اگر مرد اچھا ہو جائے تو یقین کیجیے یہ چکلے ہر جگہ سے خود بخود بند ہو جائیں ۔
    ایک عام عورت اور ایک طوائف میں یہ فرق ہے کہ طوائف اپنے لیے خود کماتی ہے اور عام عورت کے پاس کمانے کے بہت لوگ ہوتے ہیں اسکا باپ بھائی یا بیٹا۔
    اور ایک بات یہ کہ اچھے اور برے لوگوں میں فرق صرف ہم انسان کرتے ہیں خدا تو کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔
    میں نے دیکھا ہے نیک لوگوں کو دوسروں کا مذاق اڑاتے ہوئے ان پر ہنستے ہوئے اور گناہ میں ڈوبے لوگوں کو راتوں میں اللّٰہ کے سامنے روتے ہوئے۔ہم نہیں جانتے کون اچھا ہے کون برا تو ہم کون ہوتے ہیں کسی پر بھی فتوا لگانے والے۔
    یہاں آ پ کو ایک مثال سے بھی سمجھا دیتی ہوں کہ آپ کی اولاد میں سے ایک بچہ لائق اور ایک نالائق ہے تو کیا آ پ اپنے نالائق بیٹے کو اکیلا چھوڑ دیں گے نہیں بلکہ اس پر زیادہ توجہ دیں گے کہ کسی طرح یہ بھی لائق ہو جائے پر آ پ انکا موازنہ یا مقابلہ ہر گز نہیں کریں گے۔
    بلکل اسی طرح ایک عام عورت اور طوائف کا کوئی مقابلہ ہے ہی نہیں بلکہ کسی ایک انسان کا دوسرے انسان سے نہیں ہے ہر انسان اپنے آ پ میں ایک ہیرا ہے کوئی نہ کوئی خوبی موجود ہے کیونکہ اللّٰہ نے کسی کو بھی فضول نہیں بنایا ہے۔
    بی
    بہت سے لوگ مجھے کہتے ہیں کہ آ پ سیاہ قلم ہو کڑوا لکھتی ہو تو میں کہنا چاہوں گی کہ میں معاشرے کا چہرہ دکھاتی ہوں اور اگر آپ میرا لکھا آ پ برداشت نہیں کر سکتے تو پھر یہ معاشرہ بھی بھیانک ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
    نوٹ: میں نے اس تحریر میں ہر مرد کو برا نہیں کہا ہے جو برے ہیں انکو برا لکھا اور بیان کیا ہے بے شک پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی ایسے ہی ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا شکریہ تحریر کیسی لگی ضرور بتائیے گا۔ خوش رہیں محبتیں بانٹتے رہیں

    @iam_FoziaCh

  • پاکستان میں ٹیکسی ڈرائیورز کا معاشی قتل تحریر :ثاقب محمود

    پاکستان میں ٹیکسی ڈرائیورز کا معاشی قتل تحریر :ثاقب محمود

    ۔
    تقریبا” پورے پاکستان میں ہی
    ٹیکسی ڈرائیورز کا معاشی قتل
    ہورہا ہے جسکی وجہ سے ٹیکسی والوں کو فاقے تک کی نوبت آچکی
    ہے ،ٹیکسی ڈرائیور بیچارہ کرے تو کیا کرے ،ایک طرف کرونا نے ٹیکسی اور پبلک ٹرانسپورٹ کو ختم کردیا،اور دوسری طرف مختلف کمپنیز نے جیسے (اوبر) (کریم) (بائکی)( بی فور یو) اور دیگر کی وجہ سے جو پرانے اور
    پروفیشنل ٹیکسی والے ہیں ان کا کام نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے مہنگائی کے اس دور میں گزارہ کرنا مشکل ترین ہو گیا ہے ،صرف ان کمپنیز کی وجہ سے نہیں بلکہ پرائیویٹ کاروں کی وجہ سے بھی یے حالات ہوئے ہیں ، (اوبر ) (کریم) (بائیکیا)اور دیگر ایسی کمپنیز نے لوگوں کو راستہ دکھایا جس کی وجہ ہر پرائیویٹ گاڑی اور موٹر سائیکل والا سواریاں اٹھاتا نظر آتا ہے ،جو لوگ ملازمت پیشہ ہیں اچھی نوکری ہونے کے باوجود اپنا خرچہ نکالنے کے لئے آتے جاتے اپنی موٹر کار اور موٹرسائیکل سواریاں اٹھاتے نظر
    آتے ہیں ،کسی بھی پبلک سروس بس سٹینڈ یا ٹیکسی سٹینڈ پر جائیں یے لوگ آپ کو گھیرنا شروع کر دیں گے ،کئی لوگ اپنے پرانے اور انتہائی خستہ حال موٹر بائیک لے کر ہیلمٹ کو سبز رنگ کر کے آوازیں لگاتے نظر آئیں گے بائیک سروس بائیک سروس جو کے غلط اور انتہائی غیر قانونی ہے ،پرائیویٹ گاڑی جو کے بغیر پرمٹ کے ہے وہ اگر سواری اٹھائے گی تو جو لوگ سالانہ پرمٹ کے پیسے بھرتے ہیں وہ کیوں بھریں پھر ایک پرائیویٹ موٹر کار اور پبلک سروس گاڑی میں کچھ تو فرق ہونا چاہئیے ،پرائیویٹ گاڑی لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس ہوتی ہے ،اور پبلک سروس گاڑی ہر 6 ماہ بعد ایکسائز ٹیکس دیتی ہے،پبلک سروس گاڑی کا فٹ ہونا بھی ضروری ہے فٹنس سرٹیفیکٹ ہر 6 ماہ بعد بنتا ہے پاسنگ ہوتی ہے اور پرائیویٹ موٹر کار کا نہیں
    اس لئے فٹنس نہ ہونے کی وجہ سے بھی کافی حادثات ہوتے ہیں ، اور قیمتی جانوں کا نقصان ہوتا ہے ،اگر ہر بندہ ہی ٹیکسی ڈرائیور یا پبلک ٹرانسپورٹ ڈرائیور بنا ہوگا بغیر پرمٹ بغیر لائسنس بغیر کسی نالج کے تو مستقبل قریب میں بہت سے نقصانات ہونے کا خدشہ ہے ، سب سے پہلے تو ٹرانسپورٹ بزنس تباہ ہو رہا ہے ،اس کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کی مد میں جو ٹیکس اور ریونیو اکھٹا ہوتا ہے وہ بڑھنے کی بجائے کم ہوتا جائے گا جو ملک اور قوم کا بڑا نقصان ہے ،اس کے علاوہ اناڑی موٹر کار ڈرائیور اور پبلک سروس لائسنس ہولڈر ڈرائیور میں بہت فرق ہے جسکی وجہ سے آئے روز حادثات ہوتے ہیں اور مستقبل قریب میں مزید حادثات کا خدشہ ہے ، قارئین کرام زرا سوچئیے ہم سستے کے چکر میں کس طرف جارہے ہیں اور کتنا نقصان کر ہیں ، سب سے پہلے ملک کا نقصان اپنے ملک کی ٹرانسپورٹ کے سسٹم کو بہتر کرنے کی بجائے اور خرابی کی طرف لے کر جا رہے ہیں ،ہمیں نہیں پتا کہ جس شخص کے ساتھ ہم سفر کرنے جا رہے ہیں وہ ایک پروفیشنل پبلک ٹرانسپورٹ ڈرائیور ہے یا کوئی اناڑی ہے یا کوئی جرائم پیشہ عناصر میں سے ہے ، پتہ نہیں ہماری حکومت سوئی ہوئی ہے یے سب نظر نہیں آرہا ان کو ان کے ناک کے نیچے کتنی قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ،ٹیکسی کمپنیز والوں کو بھی چاہیے کے حکومت کے ساتھ ملکر کوئی ایسا نظام بنائیں جس سے یے خامخواہ ٹیکسی ڈرائیور سے جان چھڑائی جا سکے اور لیگل طریقے سے ٹیکسی کاروبار کو آگے بڑھایا جا سکے اور جوان انلیگل لوگ قوم کا نقصان کر رہے ہیں ان سے بچا جا سکے ، اگر کوئی کریم کی گاڑی ہے یا اوبر کی تو اس کے اوپر مارکہ ہونا چاہیے جس بھی کمپنی کی ہو ،اور رہی بات بائیک کی تو بائیک پر سواری اٹھانا ممنوع قرار دیا جائے ، فوڈ پانڈہ یا فوڈ ڈیلیوری تک تو بائیک صحیح ہے لیکن سواری اٹھانے کے لئے انتہائی خطرناک ہے جب سے بائکیا اور دیگر کمپنیز نے بائک سروس شروع کی ہر بندہ خود ساختہ بائک رائڈر بنا پھر رہا ہے جو کے آنے والے وقت میں انتہائی خطرناک رخ اختیار کر جائے ،اس لئے اس پر کنٹرول ضروری ہے ، اس سے پہلے کے یے معاشرے کا ایک خطرناک مسئلہ بن جائے اس پر قابو پانا ضروری ہے ، اور ٹرانسپورٹ کےکاروبار کو بہتر بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے اگر ہم مستقبل میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں تو اس کے لئے ہمیں بہتر کرنا پڑے گا اپنی ٹیکسی سروس کو اور لوکل پبلک سروس ٹرانسپورٹ کو، ہماری حکومت کو چاہئے کے ٹریفک پولیس کو الرٹ کرے اور چیک کیا جائے غیر قانونی ٹیکسی پر مکمل پابندی لگائی جائے غیر قانونی بائیک رائیڈر اور پرائیویٹ موٹر کار ڈرائیور کو پبلک سروس سے الگ کیا جائے ، تاکہ مستقبل میں نقصانات سے بچا جا سکے اور پلک سروس ٹرانسپورٹ کو بہتر بنایا جائے کرایہ بارگیننگ سسٹم ختم کر کے میٹر پر بنایا جائے تاکہ ہر مسافر کو پتا ہو میرا کتنا کرایہ بنا ہے ، اس سے مستقبل میں وطن عزیز میں آنے والے سیاحوں کو آسانی ہوگی اور ایک مشورہ میری طرف سے یے ہے کے سعودی عرب کی طرح ہر ٹیکسی میں کیمرہ ہونا چاہئے میٹر ہونا چاہیے اور اس کے علاوہ پبلک سروس ڈرائیور کو سال میں قوانین کی آگاہی کے لئے ہر سال 10 دن کی کلاسسز اور امتحان دینا ضروری ہو اور ان کو بتایا جائے کہ قیمتی جانوں کی ذمہ داری آپ پر ہے ،ہر ٹیکسی مانیٹر ہو تاکہ کسی بھی وقت کسی بھی گاڑی کو ٹریک کیا جاسکے تاکہ ملک کو بدنام کرنے کے لئے دشمن عناصر افغان سفیر کی بیٹی جیسا مزید کوئی ڈرامہ نہ کر سکیں ۔
    اس تحریر کے تمام نکات پر غور کریں اور شئیر کریں حکومت وقت کو جگائیں اور اپنے معاشرے
    میں بہتری لائیں شکریہ ۔

    @Ssatti_

  • وطن سے محبت   تحریر:  حادیہ سرور

    وطن سے محبت تحریر: حادیہ سرور


    وطن پہ فدا ہے جو انسان ہے
    کہ حب وطن جزو ایمان ہے

    وطن سے مراد ایسا خطہ جہاں انسان پیدا ہوتا ہے، پرورش پاتا یے،جہاں اس کے عزیز و اقارب رہتے ہوں اور جہاں اس کی تلخ و شیریں یادیں وابستہ ہوں۔ انسان کو فطری طور پر اپنے وطن کے درودیوار سے ، گل و خار سے اور کوچہ و بازار سے محبت ہوتی ہے۔ اس فطری وابستگی کو حبِ وطن کہا جاتا ہے۔
    سیدنا رضی الله عنھا کا فرمان اقدس ہے
    "وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے”
    اس کا مطلب ہے جس طری دیگر ارکان اسلام کا ایمان لانا ضروری ہے اس طرح وطن سے محبت کرنا بھی ضروری ہے۔ جو سرزمین انسان کو پالتی ہے۔ تقاضائے ایمان ہے کہ اس سے بھی ویسی ہی محبت کی جائے۔
    وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ جو کوئی بھی جہاں بھی جس شعبے میں بھی ہو وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے۔اپنے ذاتی مفادات کو وطن کی خاطر قربان کرنا اور وطن کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر عمل کرنا محب وطن ہونے کا ثبوت ہے۔
    وطن کی سرحدوں کی حفاظت بھی وطن سے محبت کا تقاضا ہے۔ سرحدوں سے مراد جغرافیائی سرحد کے ساتھ وطن کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی ضروری ہےاور نئی نسل کو اپنے نظریہ وطن سے آگاہ کیا جائے۔
    ہم نے یہ وطن اسلام کے نام پر حاصل کیا اس کی نظریاتی اساس میں اسلام شامل یے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اس ملک میں اسلامی نظام رائج کریں۔ملکی روایات اور ثقافت کو فروغ دیں۔ غیروں کے طریقے اور طرز پر مبنی چیزیں دیں اور خالصتاً اسلام اور قرآن کے احکامات کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال لیں۔ تب ہی ایک خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب پورا ہوسکے گا۔
    تحریر:

    @iitx_hadii

  • بیٹے کی قربانی تحریر: محمد زمان

    آٹھویں ذی الحجہ کی رات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں یہ دیکھا کہ ایک فرشتہ اللہ کا حکم سنا رہا ہے کہ ابراہیم قربانی دو آپ نے صبع کو اٹھ کر ایک سو اونٹوں کی قربانی دی مگر دوسری رات بھی یہی خواب نظر آیا تو آپ نے علی الصباح دو سو اونٹوں کی قربانی دیں مگر تیسری رات بھی یہی خواب دیکھا تو آپ نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میں کیا چیز تیری راہ میں قربان کروں اس وقت خداوند کریم نے ارشاد فرمایا کہ ابراہیم تم میری راہ میں اس چیز کو قربان کرو جو دنیا میں تم کو سب سے زیادہ پیاری ہے آپ سمجھ گئے یہ میرے فرزند حضرت اسماعیل کی قربانی کا حکم ہے پھر آپ نہ گھبرائے نہ فکرمند ہوئے بلکہ میدان تسلیم و رضا کے شہسوار بن کر بیٹے کی قربانی کے لیے تیار ہوگئے اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر سات برس یا تیرہ برس کی تھی
    اور آپ بہت ہونہار اور صاحب حسن و جمال تھے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی بیوی حضرت ہاجرہ سے فرمایا کہ ایک نیک بخت بیوی آج تمہارے نور نظر کی ایک بہت بڑے بادشاہ کے دربار میں دعوت ہے یہ سن کر پیکر محبت ماں فرط مسرت سے جھوم اٹھیں اور اپنے لخت جگر کو نہلایا بھلا کر آنا اور نفیس پوشاک پہنا کر آنکھوں میں سرما بالوں میں کنگھی کر کے اپنے لال کو دولہا بنا کر باپ کے ساتھ میں بیٹے کی انگلی پکڑا دی حضرت خلیل اللہ اپنی آستین میں رسی اور چوری چھپے ہوئے ذوالحجہ کی دس تاریخ کو مکہ مکرمہ سے منیٰ کی گھاٹی کی طرف روانہ ہو گیے اور جب وادی منی میں پہنچے تو اپنے فرزند سے فرمایا کہ اے میرے پیارے بیٹے مجھے اللہ تعالی کا یہ حکم ہوا ہے کہ میں تم کو اس کی راہ میں ذبح کر دوں تو اے بیٹا تمہاری کیا رائے ہے مہربان باپ کی تقریر سن کر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے مقدس باپ ضرور خدا کے حکم پر عمل کریں ابا جان آپ اطمینان رکھیں کہ میں نہ روں گا نہ چلاوں گا اور نہ فریاد کروں گا بلکہ ان شاء اللہ تعالی میں صبر و استقامت کا پہاڑ بن کر خدا کی راہ میں قربان ہو جاؤں گا اور خدا بندے سبحان کے رضوان و زعفران کی سربلندیوں سے سرفراز ہو جاؤں گا ابا جان اس سے بڑھ کر بھلا میری خواہش نصیبی اور کیا ہوگی کہ میرے سر کی قربانی خدا کی راہ میں قبول ہو جائے

    پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام عرض کرنے لگے کہ ابا جان میری تین وصیتوں پر دھیان رکھیے گا سب سے پہلے وصیت تو یہ ہے کہ آپ قربانی کے وقت میرے ہاتھ پاؤں کو خوب جکڑ کر کر رسی سے باندھ دیں تاکہ بوقت ذبح میرا تڑپنا دیکھ کر آپ کو کہیں رحم نہ آ جائے

    دوسری وصیت یہ ہے کہ آپ مجھ کو منہ کے بل لٹائیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے سینے میں دل دھڑک جائے اور آپ کا ہاتھ جنبیش کر کے رک جائے تیسری وصیت یہ ہے کہ میرے ذبع ہونے کی خبر میری ماں کو نہ دیجیے گا ورنہ ممتا کے ماری میری دکھیاری ماں میرے غم کو برداشت نہ کر سکیں گی
    اور شدت غم سے اس کے سینے میں شیشہ دل پاش پاش ہو جائے گا اس گفتگو کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہاتھ پاؤں کو رسی سے باندھ کر انہوں نے ایک پتھر کی چٹان پر لٹایا اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اپنے نورِ نظر کو حلقوم پر چھری چلا دی لیکن شان خداوندی کا کرشمہ دیکھئے کہ چھری تیز حضرت اسماعیل کی گردن کو نہیں کاٹ سکیں

    اس مرحلہ پر باپ کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب امنڈ پڑا اور روتے ہوئے بارگاہ کبریا میں عرض کرنے لگے کہ اے الہی تیرے خلیل سے کون سی ایسی تقصیر ہوئی جو قربانی قبول نہیں ہو رہی ہے اور چھری کے نیچے لیٹے ہوئے حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی رو رو کر کہنے لگے کہ کہ خداوند مجھ سے کون سا ایسا قصور ہو گیا جو میرے سر کی قربانی بارگاہ کرم میں قبولیت سے سرفراز نہیں ہو رہی ہے

    پھر حضرت خلیل خوف خداوندی سے لرزتے ہوے چھری کو پتھر پر تیز کرنے لگے اور دوبارہ پوری قوت سے زبع کرنا چاہا مگر پھر بھی چھری نے کام نہیں کیا تو آپ نے جوش و غضب میں چھری کو زمین پر پٹک دیا اس وقت چھری زبان حال سے عرض کرنے لگی کہ اے ابراھیم آپ مجھ پہخفا ہو رہے ہیں میں کیا کروں ایک مرتبہ مجھ سے خدا کا خلیل کہتا ہے کہ کاٹ اور ستر مرتبہ رب جلیل فرماتا ہے کہ مت کاٹ
    تو اے خلیل اللہ اللہ آپ ہی بتا دیجئے کہ میں خلیل کا کہنا مانو یا رب جلیل کی فرمانبرداری کروں

    مسلمانوں یہ وہ منظر تھا کہ اللہ کے فرشتے بھی حضرت خلیل اللہ کے جذبہ وفاداری اور جوش فدا کاری پہ تسکین اور آفرین کا نعرہ بلند کرنے لگے اور رب العالمین نے فرمایا کہ اے فرشتو دیکھ لو بلاشبہ ابراہیم میرا خلیل ہے دیکھ لو کس طرح میرا خلیل میری راہ میں اپنے محبوب فرزند کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر کے اعلان کر رہا ہے کہ ابراہیم کے قلب میں خدا کے سوا کسی کی محبت کی گنجائش نہیں ہے

    بالآخر حضرت خلیل اللہ کے اس فدا کارانہ جذبہ خلوص اور ایثار پر رحمت پروردگار کو ایسا پیارا گیا کہ جناب جبرائیل امین کو یہ حکم دیا کہ اے جبرائیل جنت سے ایک دونبہ کر حضرت اسماعیل کی جگہ لٹا دو چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایک بہشتی دونبہ لا کر لٹا دیا اور خداوندے کریم میں حکم دیا کہ اے ابراہیم اب چھری چلاؤ چنانچہ اب کی مرتبہ جو حضرت خلیل نے ذبح کیا تو چھری چل گئی
    اور قربانی ہوگی مگر جب آنکھ کی پٹی کھول کر دیکھا تو یہ منظر نظر آیا کہ ایک دونبہ زبع ہوا پڑا ہے اور حضرت اسماعیل ایک طرف کھڑے مسکرا رہے ہیں

    اس وقت حضرت جبرائیل نے اللہ اکبر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا
    اور حضرت اسماعیل نے لا الہ الا اللہ واللہ اکبر پڑا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان پر وللہ الحمد کا کلمہ جاری ہوگیا

  • کالج میں بی ایس پروگرام کا آغاز ، طالب علم کے ساتھ زیادتی   تحریر : محمد دانش

    کالج میں بی ایس پروگرام کا آغاز ، طالب علم کے ساتھ زیادتی تحریر : محمد دانش

    ‎بی ایس پروگرام، انٹر کے بعد چار سال کا ہوتا ہے
    ‎اور ماسٹر ڈگری کے برابر ہوتا ہے۔ یونیورسٹی لیول پہ طالب علم اس پروگرام سے بے حد مستفید ہوتا ہے کیونکہ یونیورسٹی بآسانی ان تمام سہولیات کو مہیا کر سکتی ہے جو کہ اس پروگرام کے لئے ضروری ہیں  جیسا کہ مناسب لائبریری، جدید کمپیوٹر لیب اور بہت ساری لیبارٹریاں۔
    ‎کالج لیول پر اس پروگرام کا آغاز سٹوڈنٹس کے مستقبل کو تاریک بنانے کے مترادف ہے۔ کالج میں انٹر اور ڈگری لیول کی کلاسز ہوتی ہیں اور اساتذہ کی تعداد پہلے ہی بہت کم ہوتی ہے وہ بہت مشکل سے ان کلاسز کو منظم کرتے ہیں اور بی ایس پروگرام کو منظم کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔لیکن اعلی حکام صورت حال کو جانے بغیر پالیسی بناتے ہیں اور اس کو لاگو کر دیتے ہیں وہ ادارہ جو انٹر کی کلاسز کو مشکل سے منظم کر رہا ہے وہ کیسے بی ایس پروگرام کو شروع کروا سکتا ہے
    ‎اگر بی ایس پروگرام کا آغاز کالج لیول پر کرنا ہے تو پہلے وہاں موجود پرنسپل اور متعلقہ استاد میٹنگ کے لئے بلانا چاہئے تاکہ اعلی حکام کو اصل حقائق کی خبر ہو۔
    ‎کیا صرف ایک لیبارٹری، لائبریری میں موجود چند کتابوں اور کلاس روم کی ناممکل سہولیات  سے بی ایس پروگرام کا آغاز کیا جا سکتا ہے؟؟
    ‎وہ طالب علم جو کالج بی ایس پروگرام میں داخلہ لیں گے  ان کے ساتھ یہ بہت زیادتی ہو گی کیونکہ نہ تو وہ یونیورسٹی کے طالب علموں سے مقابلہ کر پائیں گے اور نہ کوئی بہتر جاب حاصل کر پائیں گے۔ تو ایسی تعلیم اور سند لینے کا کیا فائدہ ہے جس سے نہ تو علم حاصل ہوا اور نہ ہی معاشرے میں کوئی بہتر روزگار۔
    ‎البتہ اس سب سے طالب علموں کے اندر مایوسی بڑھے گی اور ڈپریشن کی بیماری میں اضافہ ہوگا
    ‎لہٰذا طالب علموں کے بہتر مستقبل کے لئے کالج میں بی ایس پروگرام کا آغاز کرنے سے پہلے کالج میں ہر وہ سہولت مہیا کی جائے جو اس کے لئے ضروری ہے تاکہ طالب علموں کے مستقبل کو روشن تابناک بنایا جاسکے۔

    @iEngrDani

  • والدین اور اولاد اور والد کی بد دعا  تحریر: ذیشان علی

    والدین اور اولاد اور والد کی بد دعا تحریر: ذیشان علی

    ہمارا پیارا اسلام سب سے زیادہ والدین کے حقوق کی بات کرتا ہے،
    اسلامی تعلیمات کے مطابق ہمیں ہدایت دی گئی۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب وہ عمر رسیدہ ہو جائیں تو ان کی خدمت کرو۔
    اور ان کے اگے اف تک نہ کرو عاجزی کے ساتھ ان کے اگے جھکے رہو اور ان کے لئے دعا کیا کرو۔
    اللہ تعالی نے دونوں کو بلند مقام و مرتبہ دیا ہے۔
    اور شریعت میں اس سلسلے میں دو طرفہ حقوق اولاد کے والدین پر اور والدین کے اولاد پر واضح کیے ہیں،
    والد ایک سائبان شفقت ہے اور اولاد اس سائے میں پروان چڑھتی ہے۔
    وہ اپنی ساری زندگی بالخصوص اولاد کہ جوان ہونے تک ان کے لئے محنت مشقت کرتا ہے،
    والد اللہ رب العزت کی طرف سے دنیا میں ایک عظیم نعمت ہے۔ جب تک اولاد پر باپ کا سایہ سلامت رہتا ہے اولاد بے فکری کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرتی ہے۔
    لیکن جب یہ سایہ شفقت قانون قدرت کے تحت اٹھا لیا جاتا ہے تب اولاد کو اس کی کمی محسوس ہوتی ہے اور اولاد کو زندگی کے اتار چڑھاؤ اور نشیب و فراز کا اندازہ ہوتا ہے،
    کہ باپ اولاد کے لیے کتنی مشکلات سے گزرتا ہے اور اولاد کو اپنی مشکلات کا اندازہ بھی نہیں ہونے دیتا۔
    والد ایک ایسا مقدس محافظ ہے جو ساری زندگی اولاد کی حفاظت کرتا رہتا ہے اور انہیں کامیاب دیکھنا چاہتا ہے،
    دعا ہے رب العزت سے کہ وہ ہمارے آپ کے سروں پر باپ کا سایہ تادیر قائم و دائم رکھے،
    اور جن کے والد اس دنیا سے گزر گئے ان کی بخشش و مغفرت فرمائے،
    اولاد کو چاہیے کہ اپنے والدین کی نافرمانی سے اجتناب کرے کیونکہ یہ بہت ہی سخت گناہ ہے۔
    والد کی ناراضی اور اس کی بد دعا آپ کی کوئی دعا قبول نہیں ہونے دیتی۔
    والد کی بد دعا کے متعلق آپ سے ایک واقعہ شیئر کرتے ہیں،
    شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ کے ہاں ایک شخص اپنے بیٹے کو بہت عرصے تک لے کر آتا رہا،
    شاہ صاحب رحمہ اللہ کبھی اس کے لئے دعا کرتے، کبھی کوئی عمل اس کے باپ کو بتاتے،
    تو کبھی تعویذ لکھ کر دے دیتے،
    لیکن اس کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،
    ایک دن انہوں نے باپ سے پوچھا کیا تم نے کبھی اسے کوئی بد دعا دی ہے۔
    تو باپ نے کہا ہاں حضور اس کی حرکتوں اور اس کی نافرمانیوں کو دیکھ کر مجھے بہت غصہ آیا اور بہت دکھ ہوا اور میں نے غصے میں اسے بد دعا دی،
    تو شاہ صاحب نے فرمایا تو خود اس کا علاج کر۔
    بد دعا دے کے علاج مجھ سے کروانے آیا،
    ایک تو ہمیں والدین کی نافرمانی سے بچنا چاہیے اور دوسری طرف میری مخلصانہ عرض ہے کہ والدین کو چاہیے اٹھتے بیٹھتے نماز کے بعد اپنی اولاد کے لیے دعا کریں،
    ان کے بہتر مستقبل کے لئے دعا کریں والدین کی دعا! اولاد کی نسلوں تک ان کا ساتھ دیتی ہے،
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لیے دعا کی تھی، اور ان دعاؤں کا اثر قیامت تک ان کی نسلوں میں موجود رہے گا،
    اس لیے اپنی اولاد کو ایسی دعائیں دے جائیں جو ان کی نسلوں میں بھی سب کو نظر آئے اور وہ خود بھی اس کا مشاھدہ کریں،
    اللّٰہ سب کے والدین پر اپنا خصوصی کرم فرمائے، اور سب کی اولاد کو والدین کا فرمابردار بنائے، آمین

    @zsh_ali

  • بلبیر سنگھ  تحریر: علیہ ملک

    بلبیر سنگھ تحریر: علیہ ملک

    تاریخ اسلام ایسے ایسے روحانی و وجدانی واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جنہیں پڑھنے اور سننے کے بعد انسان ایک عجیب کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے۔
    اسلام کے ابتدائی دنوں میں ایمان لانے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی اکثریتی تعداد غریب ہے دو چار کے علاوہ
    جس طرح ابتداء میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ غریب تھے (دنیاوی لہاظ سے) اسی طرح اُس وقت کے مشرکین مکہ کے ساتھ جنگ کی سکت بھی نہیں رکھتے تھے
    اگرچہ اس وقت جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔
    اس طرح چند سال گزر گئے لیکن اسلام کو طاقت میسر نہ آئی
    پھر ایک دن حضرت سیدنا عمر پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام قبول کر لیتے ہیں
    اور ان کے قبول اسلام کے ساتھ ہی اسلام طاقتور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
    پہلے دن ہی جناب عمر رضی اللہ عنہ مشرکین کو للکارتے نظر آتے ہیں
    مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
    یہ سلسلہ رکتا نہیں بلکہ مزید تیز ہوجاتا ہے
    مکہ سے حبشہ اور مکہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت ہوتی ہے
    مسلمان ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھتے ہیں
    جہاد کا حکم نازل ہوتا ہے
    معرکہ بدر وجود میں آتا ہے
    کفار کوشکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے
    اور کفار اس کا بدلہ لینے کیلئے دن رات ایک کرتے ہیں
    یہاں تک کہ غزوہ احد کا دن آجاتا ہے
    مسلمانوں پر کفار غالب آجاتے ہیں
    اور اس پر مسلمانوں کا بھاری نقصان خالد بن ولید اپنی کامیاب جنگی چال سے کرتے ہیں۔
    وقت گزرتا ہے وہی خالد بن ولید حضرت خالد بن ولید بن جاتے ہیں یعنی اسلام کو سینے سے لگا لیتے ہیں
    اور اپنی بہادری و شجاعت کی وجہ سے رسول اللہﷺ سے ” سیف اللہ” کا لقب پاتے ہیں اور فاتح شام و ایران ہوتے ہیں۔
    دنیاء کی "سپر پاور” قیس و کسریٰ کو اپنے پاؤں تلے روند دیتے ہیں۔
    یہ سلسلہ یہاں بھی ختم نہیں ہوتا بلکہ ہر دور کے اندر ایسے واقعات ملتے ہیں
    مذہب اسلام کوصفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے نکلنے والی درندہ صفت ہلاکو خان کی فوج جب بہت سارے علاقے فتح کرلیتی ہے اور عباسی خلیفہ "معتصم باللہ” کو گرفتار کرکے گھوڑوں کے سونبوں تلے روند چکی ہوتی ہے تو ہلاکو خان کا چچا زاد بھائی "برکہ خان” اپنی پوری فوج سمیت مسلمان ہونے کا اعلان کر دیتا ہے اور ہلاکو خان کی قمر ٹوٹ کے رہ جاتی ہے۔
    یہ تاریخ اسلام کے سنہری باب ہیں
    اسی طرح بر صغیر میں مسلمانوں کے عقائد کا پرچم بلند ہوتا ہے اور ایک ہزار کے لگ بگ سال اسلامی حکومت رہتی ہے
    لیکن وقتاً فوقتاً ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تعصب اور نفرت کی آگ کو بھڑکایا جاتا ہے
    اسی دوران برطانیہ کا انگریز بھی تجارت کی غرض سے ہندستان آتا ہے اور قابض ہوجاتا ہے
    کایا پلٹتی ہے تو بھاگ کے برطانیہ تک ہی محدود ہوجاتا ہے
    مگر انگریز کا بویا ہوا بیج ہندو مسلمان کے درمیان نفرت کو بڑھانا
    مزید ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔
    ہندستان کی قدیم اور سب سے بڑی مسجد "بابری مسجد” کو شہید کردیا جاتا ہے
    اور شہید کرنے میں ہندوؤں کے ساتھ ساتھ سب سے آگے رہنے والا "بلبیر سنگھ” ہوتا ہے
    مسلمانوں کے صرف جذبات مجروح نہیں کئے جاتے بکلہ مسلمانوں کے سینے گولیوں سے چھلنی کر دئے جاتے ہیں۔
    وقت کی کایا ایک بار پھر پلٹتی ہے اور "بلبیرسنگھ” مسلمان ہوجاتا ہے
    مسلمان ہونے کے بعد یہی بلبیر جب بابری مسجد کا ذکر کرتا ہے تو رو پڑتا ہے
    اور اس کا کفارہ اداء کرنے کیلئے ہندستان میں 100 مساجد تعمیر کرانے کا عہد کرلیتا ہے اور شب و روز اسی کار خیر میں گزارتا چلا جاتا ہے
    یہاں تک کہ 96مساجد کی تعمیر مکمل ہوچکی ہوتی ہے اور آج مورخہ 24/07/2021 کو یہ خبر گردش کرتی ہے کہ "بلبیرسنگھ” آج صبح اپنے دفتر میں مردہ پائے گئے۔
    إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

    @KHT_786