Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان میں آج کل سب سے بڑا مسئلہ اور پی ٹی آئی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی ہے   تحریر:   سلمان الیاس

    پاکستان میں آج کل سب سے بڑا مسئلہ اور پی ٹی آئی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی ہے تحریر: سلمان الیاس

    باقی ہر محاذ پر حکومت بڑی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے مہنگائی کو چوڑ کر ۔
    مہنگائی کنٹرول نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ بیوروکریسی ہے ۔کیونکہ وہ لوگ کام تو کرتے نہیں بس حاضری لگوانے آتے ہیں ۔اور آکر اے سی میں بیٹھ کر اور پھر چلے جاتے ہیں ۔ ان سے سوال کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے ۔ دکھ کی بات یہی ہے
    ہمارے وزیر بھی ماشاءااللہ کسی سے کم نہیں ہے بیان بازی میں سب سے آگے ہیں اور آگے سب اچھا ہے کا رپورٹ دیتے ہے لیکن کام کرنا نہیں کئی کو چھوڑ کر ۔

    حکومت کی طرف سے سبسڈی دی جاتی ہے ۔لیکن اس کے ثمرات نیچے تک نہیں پہنچتی

    سستے بازار حکومت لگواتی ہے پر وہاں بھی غریب کے لئے کوئی چیز پہلے تو سستا نہیں ہوتا اور اگر مل جائے تو کھانے کے لائق نہیں ہوتا ۔

    یوٹیلیٹی سٹورز پر تو غریب آدمی صرف ذلیل ہوسکتا ہے ۔کیونکہ وہاں پر غریب کی ضرورت کا کوئی چیز تو پہلے ملتا نہیں اور اگر مل بھی جائے تو دکھے کھانے کے بعد کسی خوش نصیب کو ملتا ہے۔

    اب یہ سب کنٹرول کرنا کس کا کام ہے ہم عوام کا ؟
    مہنگائی نے لوگوں کی کمر تھوڑ کر رکھ دی ہے۔اور خاص کر سفید پوش لوگ بہت زیادہ متاثر ہوئے ہے لاک ڈاؤن کے بعد کیونکہ کاروبار کا تو ویسے بھی برا حال ہے ۔اور مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگیں ہے .

    نچلے طبقے والے لوگوں کے ساتھ لوگ امداد کرتے ہے ۔کسی نے زکوٰة دیا صدقہ خیرات دیا انکا گزارہ ہو جاتا ہے
    لیکن سفید پوش نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتے ہے ۔اور نہ خود سے کوئی دیتے ہے۔

    اب اگر حکومت پوری دنیا بھی فتح کرلے تو غریب آدمی کا اس سے کوئی غرض نہیں ۔کیونکہ انکو تو دو وقت کی روٹی چاہئے جو عزت سے اور سکون سے مل جائے

    اس لئے میں کہتا ہو ۔حکومت بمقابلہ اپوزیشن نہیں
    بلکہ حکومت بمقابلہ مہنگائی ہے کیونکہ یہ کنٹرول ہوگئی تو حکومت کو کوئی ہلا بھی نہیں سکتا اور اگر نہیں۔۔۔۔

    میں بحیثیت پی ٹی آئی کا ایک ادنا سا کارکن یہ سب بڑی دکھ کےساتھ لکھ رہا ہوں ۔لیکن یہ صرف میری آواز نہیں بلکہ ان کروڑوں ورکرز کی آواز ہے جنہوں نے پارٹی کے لئے جان لڑا دی ہے اب تک چاہے وہ سوشل میڈیا کے محاذ پر ہوں یا گراؤنڈ پر ۔

    تو خدارہ اس طرف بھی تھوڑا توجہ دے کر ہم ورکرز پر احسان کردے ۔ شکریہ

    🌷خوش رہے اور خوشیاں بانٹھے یہی اصل زندگی ہے 🌷

    عنوان
    پی ٹی آئی بمقابلہ مہنگائی

    ٹویٹر اکاؤنٹ
    @Salmanjani12

  • صفائی ایک قومی فریضہ تحریر : محمد وقاص عمر

    صفائی ایک قومی فریضہ تحریر : محمد وقاص عمر

    صفائی ستھرائی ہمارے ایمان کا آدھا حصہ ہے۔صفائی کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا کیونکہ صفائی کو ایمان کا نصف حصہ قرار دیا گیا ہے۔ایک حدیث نبویﷺ میں حضور اکرمﷺ نے فرمایا پاکیزگی نصف ایمان ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی آسمانی کتاب قرآن مجید میں کئی جگہ تاکید فرمائی کہ صفائی اور پاکیزگی کو یقینی بنایا جائے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں جسم کے ساتھ لباس، جگہ، ماحول اور روح کو بھی پاکیزہ رکھنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے اور یہ سب تک ہی ممکن ہو سکتا ہے جب ہم اپنے دماغ کو صاف ستھرا رکھیں گے۔تب جا کر ہم اس مقام پر پہنچ سکتے ہیں جس کو ایمان کا نصف قرار دیا گیا ہے۔

    دنیا کے تمام مذاہب صفائی پر زور دیتے ہیں۔لیکن ان میں صرف ظاہری صفائی پر ہی توجہ دی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم خوراک میں حلال یا حرام کو نہیں دیکھتے۔جن دین اسلام صفائی اور پاکیزگی کی بنیاد پر حلال اور حرام میں فرق کرتا ہے۔

    صفائی پسند معاشرے کو ہر کوئی پسند کرتا ہے جیسے ایک صاف ستھرے شخص کو ایک گندے شخص کی نسبت زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔صفائی ستھرائی کے لیے امیر ہونا ضروری نہیں نہ ہے مہنگے کپڑے پہنے کی کوئی شرط ہے۔اس طرح مہنگے صابن یا شیمپو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں بس دین اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم صاف ستھرے رہ سکتے ہیں ۔وضو اور غسل کے احکامات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم پاکیزہ رہ سکتے ہیں۔صفائی ستھرائی ہمیں بہت سے بیماریوں سے بچاتی ہے۔ہم چاہیے کہ اپنے گھر کچن برتنوں کو اچھے طریقے سے صاف رکھیں تا کہ بیماریوں سے بچا جا سکے۔بارش کی صوردت میں گھر میں پانی نہ کھڑا ہونے دیں۔کوڑے کرکٹ کو گھر کے دور کسی جگہ پھینک کر تلف کر دیں۔خاص طور پر ہمیں بارش کا پانی گھر میں کہیں بھی جمع نہیں ہونے دینا چاہیا کیوں کہ اس سے ڈینگی وائرس جنم لیتا ہے۔یہ وائرس انتہائی خطرناک ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔خاص طور پر یہ پاکستان کے دو بڑے شہروں راولپنڈی اور لاہور میں پھیلا ہوا ہے۔اس لیے ہمیں احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے بارش کے پانی کو اپنے گھروں میں جمع نہیں ہونے دینا۔

    یہ کالم اصل میں عید قربان کے حوالے سے لکھ رہا ہوں کیونکہ اس عید پر لوگ بالکل بھی صفائی کا خیال نہیں رکھتے اور جانوروں کو ذبح کرنے بعد ان کی آلائیشں سڑکوں اور گلی محلوں میں پھینک دیتے ہیں۔ان آلائیشوں سے تعفن پھیلاتا ہے اور اس سے کئی قسم کی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں لہذا جانور قربان کرنے کے بعد ہمیں چاہیے کہ ان کی آلائشوں کو ایک خاص جگہ جمع کریں تا کہ پورے شہر کو صاف اور پاک رکھا جا سکے۔صاف ستھرائی کرنے کا کام صرف حکومت کا نہیں ہوتا بلکہ بحیثیت شہری یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اپنے گھر، گلی اور محلے کو صاف ستھرا رکھیں، کوڑا کرکٹ نالیوں میں پھینکنے کے بجائے مقرر کردہ کوڑا دانوں میں ڈالیں۔ تا کہ ہم اپنے آپ کو اور دوسروں کو کئی بیماریوں سے سے محفوظ رکھ سکیں۔

    Twitter Id @WaqasUmerPk

  • اسلامی معاشرہ اور نوجوان نسل تحریر: آمنہ فاطمہ

    اسلامی معاشرہ اور نوجوان نسل تحریر: آمنہ فاطمہ

    نوجوانی کی عمر انسان کی زندگی کا قوی ترین دور ہوتا ہے کسی بھی قوم و ملک کی کامیابی و ناکامی, فتح و شکست, ترقی و تنزلی اور عروج و زوال میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے
    اللّہ تعالیٰ کو جوانی میں کیا گیا عمدہ کام بشمول عبادات اتنی محبوب ہیں کہ جن کا اندازہ لگانا مشکل ہے اللّہ تعالیٰ نے اصحاب الکہف کے بارے میں فرمایا وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں مزید رہنمائی بخشی اور ہم نے ان کے دلوں کو اس وقت مضبوط کر دیا حب انہوں نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ: ہمارا رب تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی اور الہ کو نہیں پکاریں گے اگر ہم ایسا کریں تو یہ بعید از عقل بات ہوگی 148 ۔ یہ وہ نوجوان تھے جو وقت کے حاکموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اللّہ کی وحدانیت پر ایمان لائے
    اسلام میں نوجوانوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور روز قیامت اسی جوانی کے بارے میں خصوصی سوال کیا جائے گا حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ اللّہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: یعنی قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے یہاں تک کہ اس سے پانچ باتوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے عمر کن کاموں میں گنوائی؟ جوانی کی توانائی کہاں صرف کی؟ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ جو علم حاصل کیا اس پر کہاں تک عمل کیا؟
    دین اسلام کی سنہری تاریخ میں اسلام کی خدمت اور اشاعت میں نوجوانوں کا بڑا کردار ہے نوجوان صحابہ نےبڑے بڑے کارنامے انجام دیے دور شباب میں ہی حضرت على کرم اللہ وجہہ, حضرت معصب بن عمیر, حضرت خالد بن ولید, حضرت ابن عباس, اور دوسرے نوجوان صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ساتھ دیا اور بے شمار غزوات میں اپنی بے مثال قربانیاں پیش کیں. اسی دور میں صلاح الدین ایوبی, طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے سالاروں نے اپنے کارناموں سے اسلامی تاریخ کو تابناک بنایا یہ ایسے نوجوان تھے جنہوں نے اپنی جوانی اور اپنی صلاحیتوں کو اللّہ کے دین پر قربان کیا
    اس کے بر عکس آج کا نوجوان بے راہ روی کا شکار ہے سستی شہرت حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے آج کے نوجوانوں کی زندگی کا مقصد سوشل میڈیا پر اپنے آپ کو وائرل کر کے لائیکس, کمنٹس لینا اور فالورس بنانا رہ گیا ہے معاشرے میں اچھا گھر, گاڑی اور ملبوسات سے اسٹیٹس سمبل بننا چاہتا ہے خود پسندی اور خود نمائی نوجوانوں کی زندگیوں میں زہر گھول رہی ہے دیر رات تک چیٹنگ کرنا اور دن بارہ بجے تک سوئے رہنا مسلم نوجوانوں کا مشغلہ بن چکا ہے آج کے نوجوان کردار و اخلاق, شرم و حیا, ادب و احترام جیسی صفات سے محروم نظر آتا ہے آج دشمن اسلام ہر جانب سے مسلم نوجوانوں کے ایمان اور پہچان کو ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے اکثر نوجوان اس سازش کا شکار بھی ہو رہے ہیں
    آج کے مسلم نوجوان کو چاہیے کہ اپنی زندگی کا اصل مقصد تلاش کریں اور اپنے آپ کو پہچانیں اور یہ پہچان اسے صرف اسی صورت حاصل ہو سکے گی جب وہ قرآن و سنت کے ساتھ اپنا تعلق جوڑیں گے
    وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
    شباب جس کا ہے بے داغ, ضرب ہے کاری

    @AamnaBukhari

  • مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری ، 6 نوجوان شہید

    مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری ، 6 نوجوان شہید

    سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 3 روز کے دوران قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے 6 نوجوان شہید ہوئے۔

    باغی ٹی وی :کشمیر میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے اور حالیہ ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں مزید 2 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے جس کے بعد 3 روز میں شہید نوجوانوں کی تعداد 6 تک پہنچ گئی ہے۔

    بھارتی فوج نے ضلع کلگام میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کر کے مزید 2 نوجوانوں کو شہید کردیا جب کہ اب بھی سرچ آپریشن جاری ہے۔ علاقے میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے گزشتہ 3 روز کے دوران قابض فوج کے ہاتھوں اب تک 6 نوجوان شہید ہوچکے ہیں۔ اس سے قبل ضلع سوپور اور بانڈی پورہ میں بھارتی فوج نے فائرنگ کر کے متعدد نوجوانوں کو شہید کیا تھا۔

  • پاکستان کی کرکٹ ٹیم اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ   تحریر : انجینئر عنصر اعوان

    پاکستان کی کرکٹ ٹیم اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تحریر : انجینئر عنصر اعوان

    حال ہی میں پاکستان کی انگلینڈ کے ساتھ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز اختتام پذیر ہوئی ہے. ون ڈے سیریز میں بری طرح شکست کھانے کے بعد پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کی عمدہ پرفارمنس کی بدولت کچھ امید کی کرن نظر آئی جو فی الوقتی ثابت ہوئی اور بقیہ دو میچز میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی طرف سے پچھلی ون ڈے والی ناقص کارکردگی کو دہرایا گیا. اب ٹیم ویسٹ انڈیز پہنچ چکی ہے جہاں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلی جانی ہے. جو کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے پہلے کھیلی جائے والی پاکستان کی آخری سیریز ہے. یہ پاکستان کے پاس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں متوقع الیون بنانے کا آخری موقع ہے.
    انگلینڈ کے ساتھ ہونے والی حالیہ سیریز میں مڈل آرڈر بیٹنگ اور باؤلنگ مکمل طور پر فلاپ ہوئی. یہ بات یقینی نظر آئی کہ بابر اعظم جس میچ میں رنز بنائے گا پاکستان کے وہ ہی میچ جیتنے کے چانسز ہیں بابر اعظم اور محمد رضوان کے علاوہ کسی بیٹسمین کی طرف سے کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھائی نہیں دی. مڈل آرڈر میں کوئی بھی بیٹسمین زمہ داری قبول کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتا. اس وقت شعیب ملک صرف واحد بیٹسمین ہے جو پاکستان کی مڈل آرڈر بیٹنگ کو سہارا دے سکتا ہے. اس لیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سکواڈ میں شعیب ملک کی شمولیت اشد ضروری ہے.
    اسی طرح پاکستانی کرکٹ ٹیم کی باؤلنگ کا بھی یہی حال نظر آیا انگلینڈ کے خلاف سیریز میں پاکستان کی باؤلنگ مکمل طور پر فلاپ دکھائی دی. تمام باؤلرز وکٹیں نہ لینے کے ساتھ رنز کو روکنے میں بھی مکمل ناکام نظر آئے. حسن علی کے علاوہ کوئی بھی باؤلر خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا. ون ڈے میں 331 رنز بنانے کے باوجود پاکستانی باؤلرز ٹارگٹ کا دفاع نہ کر سکے جبکہ پہلے ٹی ٹوئنٹی میں بھی ریکارڈ 232 رنز بنانے کے باوجود بڑی مشکل سے میچ جیت پائے. جبکہ پاکستان کی باؤلنگ ہمیشہ سے دنیا کی بہترین باؤلنگ لائن میں شمار ہوتی آئی ہے. پاکستان اگر ٹی ٹوئنٹی میں 160 پلس سکور کر دیتا تو مخالف ٹیم کے لیے ٹارگٹ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا تھا. مگر حالیہ سیریز میں 200 پلس کا سکور بچانا بھی مشکل نظر آیا.
    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل دیگر ٹیمز کے مقابلے کے لیے پاکستانی باؤلنگ کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے جو کے محمد عامر اور وہاب ریاض کی قومی سکواڈ میں شمولیت سے ہی ممکن ہو سکتی ہے. ویسٹ انڈیز کے خلاف شروع ہونے والی حالیہ سیریز میں پاکستان کو چاہیے کے سکواڈ میں موجود تمام پلئیرز کو مواقع فراہم کئے جائیں اور ورلڈ کپ کے لئے متوازن سکواڈ کا انتخاب کیا جائے. مصباح الحق اور وقار یونس کو چاہیے کہ آنکھوں سے انا کی پٹی اتار کر شعیب ملک، محمد عامر اور وہاب ریاض کو ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل کر کے ایک متوازن ٹیم ورلڈ کپ میں بھیجیں نہیں تو ورلڈ کپ میں بھی ٹیم کی کارکردگی انگلینڈ سیریز سے مختلف نہیں ہو گی.

  • عورت اور معاشرتی رویّے  تحریر: سویرااشرف

    عورت اور معاشرتی رویّے تحریر: سویرااشرف

    مرد اور عورت اللہ تعالی کی پخلیق کردہ دو اصناف ہیں اور دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے ۔آج کے ماڈرن اورنام نہاد لبرل دور میں صنفی امتیاز کا لفظ تو زبانِ زدِ عام ہے جس کا مطلب کسی صنف کو اس کے حقوق سے محرومی یا عدم دستیابی کا لیا جاتا ہے، جو یقینا کہیں نہ کہیں دیکھنے میں بھی آجاتی ہے۔ انسانی تاریخ میں ناانصافی inequality. کی ٹرم بیسویں صدی سے باقاعدہ جانی جانے لگی تھی اور مرد اور خواتین کی برابری کی فضا باقاعدہ ماحول میں بدلنے لگی۔ اس اہمیت کو جانتے ہوئے لوگوں میں شعور بیدار ہوا کہ حقوقِ انسانی، خصوصاً عورتوں کے حقوق ، بھی کسی بلا کانام ہے۔ تحریک چلی تو چلتے چلتے ہر سُو پھیلنے لگی اور یوں ہم نے Gender Equality یا Gender Discriminationجیسے الفاظ سے نیا ناتا جوڑلیا۔پاکستان میں حالیہ برسوں میں صنفی مساوات کو فروغ دینے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے آج کی پاکستانی خواتین اپنی پچھلی نسلوں کی نسبت فیصلہ سازی کے زیادہ اختیارات رکھتی ہیں۔ لیبر فورس ہو یا ریاست، خواتین کی نمائندگی ہرشعبۂ زندگی میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ جس کے مثبت نتائج اس طرح دیکھنے میں آتے ہیں کہ آج کی خواتین ہر محاذ پر مردوں کے شانہ بشانہ نظر آتی ہیں۔ ملکی ترقی اور استحکام ہو یا اُمورِ خانہ داری، صنفِ نازک کی اوّل صفوں میںموجودگی اِس بات کا اظہار ہے کہ خواتین کسی صورت مردوں سے کم نہیں۔

    یہ تو ہوگئی مردوں اور عورتوں میں امتیاز کی بات لیکن ایک امتیاز ہماری سوسائٹی میں خواتین کا خواتین کے مابین بھی دیکھا جاتا ہے جس کوWorking Woman اور Housewife کے نام سے منسوب کردیاگیا ہے۔یہ تفریق معاشرے سے کہیں زیادہ ہمارے رویوں نے پیدا کی ہے لہٰذا ہم اس کا بوجھ معاشرے کے کندھوں پر نہیں ڈال سکتے۔ ایک مشرقی معاشرے میں، گھر میں رہ کر پورا دن گھر میں کام کرنے والی خاتون کو، 9 سے5 ملازمت کرنے والی خواتین سے، کم تر سمجھا جاتا ہے، یایہ کہا جائے کہ ملازمت کرنے والی گھر کی خاتون کو غیر ملازمہ گھر کی خواتین کی نسبت زیادہ عزت دی جاتی ہے لیکن یہ صورت حال ہر جگہ ایک سی نہیں ، ہم دیہی علاقوں کا رُخ کریں تو وہاں گھریلو خاتون کودی جانے والی ترجیح واضح دکھائی دیتی ہے۔ اسے عزت دی جاتی ہے جبکہ ایک عورت کے لئے باہر کے کام کرنا وہاں معیوب گردانا جاتا ہے۔یہ ہمارے معاشرے کے مختلف رویے ہیں جو ایک ہی صنف کے لئے مختلف نوعیت کا انداز رکھتے ہیں۔
    اب یہ ہمارے ماحول پر منحصر ہے کہ ہماری سوچ کس زوایے سے سب پرکھتی ہے اور کیسے پروان چڑھے گی۔ ماحول مثبت ہوگا تو سوچ اورخیالات بھی مثبت سمت میں پروان چڑھیں گے اور اگر ماحول منفی ہوگا تو نتائج بھی منفی ہوں گے۔ اِن تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ہم ایک شوہر کی حیثیت سے دیکھیں تو وہ ہمیشہ ایک کام کرنے والی خاتون کو بہتر سمجھتا ہے کیونکہ ایک ورکنگ لیڈی معاشی طور پر کنبے میں حصہ ڈال سکتی ہے اور شوہر کا بوجھ بانٹ سکتی ہے لیکن ہر جگہ ایسا نہیں سمجھا جاتا اسلیے ساتھ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو قدامت پسند سوچ رکھتے ہیں اور اپنی بیویوں کو کام کرنے، کی اجازت دینے میں عار محسوس کرتے ہیں ۔
    ایک بچے کی حیثیت سے دیکھیں تو ایک غیر ملازمت والی ماں بہتر ہے کیونکہ وہ بچے کی بہتر تربیت کرتی ہے اور اس کو اپنا سارا وقت دیتی ہے جس کی اس کی اولاد کو زندگی میں سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔۔ لیکن دوسری طرف دیکھا جاۓ تو ایک ورکنگ لیڈی بھی اچھی ماں ثابت ہو سکتی ہے ۔ ہمارے پاس بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ایک عورت نوکری کے ساتھ ساتھ بہترین ماں بھی ثابت ہوئی ہے، وہ عورت جو گھر اور نوکری کے فراٸض میں توازن رکھے اور ایک ساتھ باخوبی نبھائے تو وہ معاشرے کے لئے قابلِ تحسین بھی۔ بچے کی پرورش میں ماں کا کردار باپ سے زیادہ اہم ہوتا ہے اور اس لئے یہ ترجیح ہوتی ہے کہ ماں بچوں پر خصوصی توجہ اور وقت دے جس اور مزیدیہ کہ اپنے اپنے نقطۂ نظر کے مطابق بچے کی پرورش کرے۔
    گھر سے باہر رہ کر مردوں کے معاشرے میں کام کرنا یقینا ایک بہت بہادر عمل ہے لیکن اسکا مطلب یہ ہر گز نہیں اپنی مائوں، بہنوں کو جو دن رات24/7گرمی کی حدت اور سردی کی شدت میں ہمارے اور گھروالوں کے لئے اپنے دل و جان سے کام کرتی ہیں۔ معاشرتی طور پر ہمارا رویہ ایسا ہے کہ ایک ورکنگ وومین کا کام پہاڑ توڑنے کے مترادف سمجھتے ہیں اور دوسری طرف جب کوئی گھریلو خاتون اپنی پریشانی کا تھوڑا سا اظہار کردے تو ہم اسے کسی خاطر میں نہیں لاتے۔
    بس یہی فرق ہے ہماری سوچ کا۔۔۔۔ ہمارے رویوں کا۔۔۔ خواتین کسی بھی جگہ ہوں،کسی بھی رشتے،کسی بھی ذمہ داری کو نبھا رہی ہوں، گھریلو یا ورکنگ ،وہ قابلِ عزت ہے،قابلِ احترام ہے ۔ہمیں اپنے معاشرتی رویوں کو بدلنا ہوگا ہمیں یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ ایک گھریلو خاتون کسی طور پر بھی ورکنگ وومین سے کم نہیں ہے۔
    ایک طرف دیکھا جاۓ تو ورکنگ لیڈی کو اپنے کام کی اجرت ملتی ہے جبکہ گھریلو عورت کو کام کرنے کے باوجود اکثر لعن طعن ہی ملتی ہے
    ان حقائق کو مدِ نظر ہوئے اس بات کا فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کون کس سے بہتر ہے ۔
    ایک عورت ماں بھی ہے، بیٹی بھی،بہن بھی اور بیوی بھی۔ زندگی کے ہر روپ میں عورت کو اللہ نے ایک خاص مقام عطا کیا ہے اور اس خاص مقام کی بدولت ہی خدا نے اس کے قدموں تلے جنت رکھی ہے ۔ غرض عورت کے وجود سے ہی کائنات کی رونق ہے اور خود عورت ہونا ایک فخر کی بات ہے۔۔۔ لیکن افسوس کا مقام وہاں آتا ہے جب ہم ورکنگ ویمن کو گھریلو خاتون کے مقابلے میں زیادہ عزت دیتے ہیں۔ یہ بات انتہائی قابلِ افسوس ہے کہ ہمارا زیادہ تر پڑھا لکھا طبقہ بھی اس طرح کی سوچ رکھتے ہوئے زمانۂ جاہلیت کی باتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ اگر ایک مرد گھریلو اور ملازمت پیشہ خواتین کے لئے الگ الگ رائے قائم کرتا ہے تو اس کی یہ سوچ کسی حد تک قابلِ قبول ہو سکتی ہے لیکن ایک عورت ہو کر دوسری عورت کے لئے اس طرح کی سوچ رکھنا یقینا غیر مناسب ہے۔
    اگر کام کرنے والی خواتین اپنے کیرٸیر کیساتھ ساتھ بچوں،شوہر کی دیکھ بھال کے لئے وقت نکالنے کی جدو جہد کرتی ہیں وہی ایک گھریلو خاتون کو اپنے لئے وقت نکالنے کیجدوجہد کرتی ہے ۔ گویا دونوں کو وقت اور حالات کے تناظر میں مختلف چیلنجز کا سامنا رہتا ہے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ کوئی بھی بات یا فعل ایسا نہ ہو جس سے معاشرے کا کوئی بھی فرد حوصلہ شکنی کا شکار ہو یا اس میں احساسِ کمتری پیدا ہو کیونکہ زمانہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلے، تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور انسانی رویّوں کی دیکھ بھال ہر دَور کی ضرورت رہی ہے۔ اس لئے اس طرح کے امتیاز کو ذہنی اور معاشرتی طور پر کم کرنا چاہئے کیونکہ حوّا کی بیٹیوں کے دَم سے ہی اس بزمِ جہاں میں رونق ہے اور وہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہوں، معاشرے کی فلاح اور پروان میں دونوں کا اپنااپنا کردار ہے اور دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پرانتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

    @IamSawairaKhan1

  • نواز شریف کی افغان سیکورٹی ایڈوائزر سے ملاقات تحریر: سید لعل بخاری

    نواز شریف کی افغان سیکورٹی ایڈوائزر سے ملاقات تحریر: سید لعل بخاری

    تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے
    ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہئے
    پروین شاکر کا یہ شعر نواز شریف جیسے لوگوں کے لئے ہی ہے۔جو ایک ایسے شخص سے ملاقات کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں،جو تمام تر سفارتی،اخلاقی اور دنیاوی آداب کو ایک طرف رکھ کر ہمارے ملک پاکستان کو چکلہ قرار دے۔جو کچھ اس بد تہذیب افغان سیکورٹی ایڈوائزر حمداللہ محب نے کہا،چلیں وہ تو اسکے اندر کی غلاظت تھا۔مگر پاکستان کے تین دفعہ کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اس سے ملاقات کرتے وقت شرم کیوں نہ آئ۔کیا پاکستان دشمن شخص سے ملاقات پاکستان دشمنی نہیں ؟
    یہ سوال ہمیشہ نواز شریف کا پیچھا کرتا رہے گا۔کیا یہ بھی عمران دشمنی میں کیا گیا ہے۔مگر یہ عمران دشمنی میں کیسے ہو سکتا ہے؟
    اس نے تو ارض پاک کو گالی دی تھی۔وہ گالی ہم سب کے لئے تھی۔شائد وہ گالی نواز شریف جیسے لوگوں کے لئے نہ ہو،جن کا اوڑھنا بچھونا ان کی دولت ہوتی ہے،چاہے وہ جائز طریقے سے آۓ یا نا جائز طریقے سے۔
    یہ لوگ اقتدار کے پجاری ہیں۔اقتدار میں آنے کے لئے انہیں ملکی اقدار کی پرواہ نہیں ہوتی۔انہیں ہر حال میں اقتدار میں آنا ہوتا ہے،اس کے لئے چاہے مودی سے ہاتھ ملانا پڑے،چاہے خفیہ طریقے سےاسرائیل وفد بھیجنا پڑے یا پھر حمداللہ محب جیسے مکروہ شخص سے ملنا پڑے۔
    جس ملک نے ان جیسے لوگوں کو عزت دی،دولت دی،شُہرت دی۔اسی کے ساتھ دغابازیاں،؟
    کہاں کا دستور ہے؟
    ایسی احسان فراموشیوں کی مثال نہیں ملتی۔
    اس بندے حمداللہ محب کی ہرزہ سرائ پر وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا تھا کہ آئندہ اس سے کوئ پاکستانی نہ تو ہاتھ ملاۓ گا اور نہ ہی ملاقات کرے گا۔
    میں بھول گیا کہ قریشی نے یہ بات پاکستانیوں کے لئے کی تھی جو شائد نواز شریف پر لاگو نہیں ہوتی۔کیونکہ وہ آجکل پاکستان کے قانون کو چکمہ دیکر بحیثیت مفرور اور اشتہاری کے لندن میں تشریف فرما ہیں۔انہیں نہ پاکستانی قانون کی پرواہ ہے اور نہ ہی پاکستان کی۔انہیں پاکستان اسی وقت پیارا لگتا ہے جب وہ وزارت عظمی کی کرسی پر براجمان ہوں۔
    پاکستان ایسے لوگوں کا مسکن اسی وقت ہوتا ہے،جب انہیں اس سے دولت آرہی ہوتی ہے۔اور وہ اقتدار کے مزے اُڑا رہے ہوتے ہیں۔
    پاکستان ان کے لئے پیسے بنانے کی مشین ہے۔
    دولت کے پجاریوں کا ملک ان کی دولت ہی ہوتی ہے۔
    ان کی زندگی کا محور اسی ہوس میں اندھا ہو کر آگے بڑھتے رہنا ہوتا ہے۔

    @lalbukhari

  • علم کا اجالا تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    علم کا اجالا تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    مرکزی کردار
    رشید۔۔۔۔۔ایک گاؤں کا ان پڑھ کسان
    بشیر۔۔۔۔۔رشید کا دوست جو تھوڑا پڑھا لکھا ہے اور گاؤں میں رہتا ہے اور دفتری کاموں کو جانتا ہے
    احمد۔۔۔۔۔۔۔ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے آیا ہوتا ہے
    اسلم۔۔۔۔۔۔ایک گورنمنٹ کا ملازم پٹواری
    ظفر اقبال۔۔۔۔۔۔ اسسٹنٹ کمشنر

    آغاز میں ہوتا یوں ہے کہ رشید کسی سے زمین خریدتا ہے اور وہ اپنے دوست بشیر کے پاس جاتا اور کہتا ہے کہ وہ اس کا کام کروا دے۔۔۔۔۔

    رشید:- میاں بشیر کیا حال ہیں اور کدھر مصروف ہوتے ہو؟

    بشیر۔۔ الحمدللہ رب کا کرم ہے اور دفتروں کا چکر لگاتے رہتے ہیں۔
    رشید:- یار بات یہ ہے کہ میں نے کچھ زمین خریدی ہے اور اسے اپنے نام کروانا چاہتا ہوں تم دفتروں کے معاملات جانتے ہو میں تو ان پڑھ جاہل ہوں۔

    بشیر:- اچھا بھائی کل تم تیار ہو کر آجانا ہم شہر چلے جائیں گے اور تمام معلومات لے کر آئیں گے اور بعد میں تمہارا کام کروا دوں گا۔
    (بشیر سرکاری لوگوں سے ملا ہوتا ہے اور پیسے لے کر سب کے کام کرواتا ہے اور وہ رشید کے ساتھ بھی ایسا کرتا ہے)

    بشیر:- اسلم بھائی (پٹواری) کیا حال ہیں اور یہ میرا دوست رشید ہے اس نے زمین نام کروانی ہے سرکاری فیس کے ساتھ جو بھی غیر سرکاری فیس ہے وہ بھی بتا دیں۔
    اسلم:- الحمدللہ۔
    زمین کی منتقلی کے لئے پچاس ہزار اور باقی پچاس ہزار غیر سرکاری فیس ہے۔ وہ بشیر کو علیحدہ کر کے بتاتا ہے کہ جس میں دس ہزار آپ کا ہے اور وہ بہت خوش ہوتا ہے۔
    بشیر:- اسلم بھائی آپ کا بہت شکریہ جو آپ نے مناسب ہدیہ لیا ہے باقی ہماری طرف سے فائنل سمجھیں اور وہ رشید کو آکر بتاتا ہے۔
    رشید:- بشیر بھائی مجھے کچھ پتہ نہیں جو سہی لگتا ہے وہ کر دیں۔
    (وہ شام کو گھر پہنچتے ہیں اور رشید اپنے گھر چلا جاتا ہے اور اسے احمد ملنے آتا ہے)
    احمد:- بھائی رشید کیا حال ہیں اور آج کل کیا چل رہا ہے؟
    رشید:- الحمدللہ بھائی جان۔۔۔۔۔ یار کچھ زمین خریدی ہے اور وہ کل منتقل کروانی ہے۔
    احمد:- بھائی سرکاری فیس کے علاوہ کوئی پیسے تو نہیں دیے؟

    رشید:- آپ کو تو پتہ ہے میں ان پڑھ ہوں بشیر کو ساتھ لے کر گیا تھا پچاس ہزار فیس کے ساتھ پچاس ہزار غیر سرکاری فیس دینی ہے۔
    احمد:- بھائی آج کل کوئی رشوت نہیں لیتا اور بشیر تو سب کچھ جانتا ہے، بھائی آج کل بہت سختی ہے۔
    رشید:- مجھے تو اس نے جو کہا میں نے تو اس کی ہاں میں ہاں ملائی ہے۔
    احمد:- میں کل تمہیں لے کر جاؤں گا اور تمہارا کام سرکاری فیس کے ساتھ کروا دوں گا۔
    رشید:- احمد بھائی آپ کی مہربانی ہوگی میں تو کچھ نہیں جانتا.
    (احمد اور رشید اگلے دن شہر جاتے ہیں اور احمد اس کا کام کرواتا ہے)
    (احمد اسسٹنٹ کمشنر ظفر اقبال کے پاس جاتا ہے اور کام کرواتا ہے)
    احمد:- ظفر اقبال صاحب یہ میرا دوست ہے اس نے زمین نام کروانی ہے اور سرکاری طور پر زمین نام کر دیں اور جو فیس ہے یہ ادا کر دیتا ہے۔
    ظفر اقبال:- جناب میں ان کا مسئلہ ابھی حل کروا دیتا ہوں۔

    (ظفر اقبال اپنے سیکرٹری کو بلاتا ہے اور اس کو کہتا ہے سرکاری طور پر اس کا مسئلہ حل کرو)
    احمد؛- رشید میاں مبارک ہو آپ کا کام ہو گیا اور ہمارے سب ادارے سرکاری فیس پر کام کرتے ہیں معاشرے کے چند لوگوں کی وجہ سے ادارے خراب ہو رہےہیں۔
    رشید:- احمد بھائی یہ سارا کچھ آپ کی وجہ سے ہوا ہے مجھے تو کچھ پتہ نہیں تھا۔
    احمد؛- بھائی یہ تو میرا فرض تھا جو میں نے پورا کر دیا۔

    رشید:- احمد بھائی آپ کا بہت بہت شکریہ۔
    ( جب یہ بات بشیر کو پتہ چلتی ہے تو وہ رشید کے پاس آتا ہے)
    بشیر:- رشید یار مجھے پتہ چلتا ہے کہ احمد نے تیرا کام کروا دیا ہے اور میں اپنے کئے پر شرمندہ ہوں۔
    رشید:- یار کوئی بات نہیں تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا یہی کافی ہے اور بات یہ ہے کہ معاشرے کا ہر شخص برا نہیں ہوتا….

    معاشرے میں چند لوگ غلط ہوتے ہیں پورا معاشرہ کبھی بھی غلط نہیں ہوتا اور ہمیں ہمیشہ اچھے لوگوں کو دیکھ کر ان کی اچھائی بیان کرنی چاہیے نا کہ برے لوگوں کی خامیاں بیان کرتے زندگی گزار دیں۔
    @ibn_e_Adam424

  • اپنا قیمتی اثاثہ بچا لیجئے۔ تحریر: نصرت پروین

    اپنا قیمتی اثاثہ بچا لیجئے۔ تحریر: نصرت پروین

    نوجوان نسل کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ملک و ملت کی ترقی یا تنزلی کا انحصار انہی پر ہوتا ہے۔ نوجوان مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ نوجوان اپنی ہمت، حوصلہ، صلاحیتوں، رجحانات، لگن، امنگ، محنت، جوش اور ولولہ کی وجہ سے کسی بھی قوم کا قیمتی فعال طبقہ سھمجے جاتے ہیں۔ انہی خوبیوں کی وجہ سے شاعر مشرق علامہ اقبال کی بہت سی توقعات نوجوان نسل سے وابستہ تھی۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جتنی بھی اقوام نے ترقی کی اپنی نوجوان نسل کی بہترین تعلیم و تربیت کی بدولت ہی کی۔ "شیخ عبدالعزیز بن باز لکھتے ہیں کہ کسی بھی قوم کے نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں جو اپنی قوم میں نئی زندگی اور انقلاب کی روح پھونکنے کا کام کرتے ہیں وہ ثمر آور تونائی، تازہ دم اور خداداد صلاحیتوں سے مسلح ہوتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ بیشتر قوموں کی بیداری اور انکے انقلاب کا سہرا نوجوانوں کے سر ہی جاتا ہے” دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہے تو اسکی نوجوان نسل کو انحرافی راہوں پر چلادیں اسطرح وہ قوم راہِ راست، مقصدِ حیات ،فلاح و کامرانی سے ہٹ کر تباہی کے راستے پہ چل پڑتی ہے۔
    پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوان نسل پر مشمتل ہے تعلیم و تربیت کسی بھی قوم کی روحانی خوراک سھمجی جاتی ہے۔ آج کے مسلم نوجوان کو دیکھیں تو اسکے پاس ڈگری ہے لیکن تعلیم وتربیت نہیں ہے، اسلام نہیں ہے۔ آج کا نوجوان اسلام، روایات، معمولات، اور اقدار سے عاری ہے وہ اپنے دین، روایات، معمولات، اقدار کا محافظ نہیں المیہ یہ ہے کہ وہ خدا کی واحدانیت، رب کی ربوبیت اور اسکی قہاریت و جباریت کا قائل نہیں۔ آج کا نوجوان اپنے دن کا بیشتر حصہ فضول ترین مشاغل اور فتنوں سے سرشار سرگرمیوں میں گزارتا ہے
    رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال قبل فرمایا "میں فتنوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ بارش کے قطروں کی طرح تمہارے گھروں میں داخل ہورہے ہیں۔ (بخاری:7060)”
    تو یہ فتنے کیا ہیں؟ تمام لہو و لعب، فحش اور منفی سرگرمیاں جنکی نذر آج ہمارا نوجوان ہے۔ تعلیم و تربیت کی بات کریں تو اسے تعلیم ناپسند اور خشک لگتی ہے تربیت پر وہ توجہ نہیں دیتا دین، علم و ادب سے دوری اسکے ذہنی بگاڑ کی بڑی وجہ ہےاور کامیابی کے لئے ناجائز حربے استعمال کرتا ہے اسطرح وہ علمی و ادبی میدان میں اپنے آپ کے ساتھ خود ہی خیانت کرتا ہےآج کا نوجوان مستقل مزاجی سے عاری ہے۔ اسکے پاس کوئی رول ماڈل نہیں۔ آج کا نوجوان مذہبی اقدار و معمولات کا قائل نہیں اسطرح ہمارا قیمتی اثاثہ مذہبی و ثقافتی اقدار کو پسِ پشت ڈال کر ایسی راہ پر چل پڑا ہے جسکی منزل پستی، ناکامی اور ذلت کے سوا کچھ نہیں۔ اخلاقی پستی کیا یہ عالم لمحہ فکریہ ہونے کے ساتھ ساتھ تشویشناک بھی ہے۔
    ہماری نوجوان نسل کے پاس بے شمار صلاحیتیں ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان صلاحیتوں کو نکھار کر انہیں صلاحیتوں کا بہترین استعمال سکھایا جائے۔ اس سلسلے میں والدین اور اساتذہ کا کردار بہت اہم ہے تاریخ میں جتنے بھی عظیم اور کامیاب لوگ گزرے ہیں انکی تعلیم و تربیت میں والدین اور اساتذہ نے بہترین خدمات انجام دی۔ والدین اور اساتذہ دونوں کو چائیے کہ اپنی زمہ داریوں کو سھمجیں اور نوجوانوں کی بہترین تعلیم و تربیت کریں انہیں زندگی کے اعلی و ارفع مقاصد کے تعین اور حصول کے لئے سرگرمِ عمل بنائیں۔
    والدین اور اساتذہ کیلئے اشد ضروری ہے کہ اپنا قیمتی سرمایہ بچانے کے لئے مربوط لائحہ عمل اپنائیں جس سے نوجوان نسل کی ذہنی و فکری نشوونما ہو اور پستی کا خاتمہ ہوسکے ایسی جدوجہد کی جائے کہ یہ بنجر زمین زرخیز ہو سکے۔
    نہیں ہے نو امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
    @Nusrat_186

  • پردیس ایک میٹھی جیل   تحریر:محمد احسن گوندل

    پردیس ایک میٹھی جیل تحریر:محمد احسن گوندل

    میں لاہور ائیر پورٹ کے ویٹنگ ہال میں بیٹھا گھر والوں سے کال پر بات کرنے میں مصروف تھا ابھی فلائٹ میں کچھ وقت تھا۔
    میرے بلکل سامنے والی کرسی پر ایک اور شخص بھی کال پر بات کرنے میں مصروف تھا اور ساتھ ساتھ اپنے آنسو بھی صاف کر رہا تھا اس کی آواز مجھے صاف سنائی دے رہی تھی میں نے بات ختم کی اور کال بند کر دی۔
    وہ مسلسل یہی کہ رہا تھا بیٹی میں جلدی واپس آؤنگا بہت جلدی ۔ ادھر جاکر بہت سارے پیسے بھیجوں گا پھر تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ گی بس اب رونا بند کرو بیٹی میری فلائٹ کا ٹائم ہوگیا ہے یہ کہ کر کال بند کر دی حالانکہ فلائٹ میں ابھی ٹائم تھا۔ اسکی آنکھوں میں زاروں قطار آنسو تھے اور وہ بار بار ٹشو سے صاف کر رہا تھا
    کرونا کی وجہ سے زیادہ رش نہی تھا اس بار ویٹنگ ہال میں وہ موبائل میں بار بار دیکھے جا رہا تھا اور آنسو تھے اسکے کہ رکنے کا نام نہی لے رہے تھے تھوڑی دیر تک وہ ریلکس ہوا تو میں نے پوچھ لیا کہ کہاں جارہے ہیں آپ تو انہوں نے بتایا کہ جدہ جارہے ہیں وہ میں نے بھی جدہ ہی جانا تھا تو حال حوال کے بعد میں نے ان سے خیر خیریت اور رونے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ مجبوریاں ہیں ورنہ پردیس والا زہر کون کھائے اللہ سب کو اپنے دیس میں رزق عطاء فرمائے میں نے آمین کہا اور پھر وہ کہنے لگے میں تین سال بعد دو بیٹیوں کی شادی کے لیے تین مہینے کی چھٹی لیکر آیا تھا لیکن ابھی فلائٹ بند ہونے کے ڈر سے دو مہینے بعد ہی جارہا ہوں۔دو بیٹیوں کی شادی کر دی ہے اور ایک چھوٹی بیٹی ابھی بیمار ہے ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے اسے اسی حال میں چھوڑ کر واپس جانا پڑ رہا ہے میری مصوم سی پھولوں جیسی بیٹی ہاسپٹل میں مجھے بلا رہی ہے میرا کلیجہ پھٹ رہا ہے دل کر رہا ہے ادھر سے ہی واپس چلا جاؤں لیکن مجبوریوں نے ایسا جکڑا ہے کہ نہ چاہتے ہوے بھی بھاری دل کے ساتھ واپس لوٹنا پڑ رہا ہے میرے نصیب میں اللہ نے شاید پردیس کی روزی ہی لکھی ہے ورنہ پھول جیسی بیمار بیٹھی چھوڑ کر کون جاسکتا ہے۔
    پردیس کے خواب بہت سہانے ہوتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ سوچیں ایسا تانا بانا بنتی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے لیکن جب حقیقت سے
    واسطہ پڑتا ہے تو چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ایک طرف محبتیں ہوتی ہیں تو دوسری طرف ان محبتوں سے جڑی مصلحتیں۔
    ایک پردیسی کچھ پیسے نہیں کما کر دیتا بلکہ آپنی دن رات کی محنت دیتا ہے ۔ خود پردیس میں ایک وقت کھانا کھاتا ہے تاکہ دیس میں بیٹھے بہن بھائی تین وقت کا کھانا کھا سکے ۔ ماں کی آواز سن کہ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ ماں کے ہاتھ کہ کھانے کو ترستے رہتے ہیں۔ بہنوں کی شادیوں پہ لاکھوں پیسے تو بھیج دیتے ہیں مگر بہنوں کے چہروں کی خوشی نہیں دیکھ پاتے۔
    پردیس ایک میٹھی جیل ہے جب انسان ایک بار اس میں داخل ہو جاتا ہے پھر نہ مجبوریاں ختم ہوتی ہیں نہ ہی خواہشات یہاں تک کہ پردیس میں بندہ اپنی جوانی ختم کردیتا ہے اور یہ ایک کڑوا سچ ہے۔
    اللہ پاک سب پردیسیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور رزق حلال اپنے وطن میں عطاء فرمائے آمین
    تحریر

    @ahsangondalsa