Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہمارا مقصدِ حیات  تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    ہمارا مقصدِ حیات تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    دنیا ایک امتحان گاہ ہے جس میں اللّٰه نے ہمیں آخرت میں ہونے والے امتحان میں تیاری کے لیے پیدا فرمایا ہے تا کہ بروزِ قیامت یہ معلوم ہو سکے کون اطاعتِ خداوندی کا پیکر بنا رہا اور کون نافرمانوں کی فہرست میں رہا

    ہمیں اس امتحان کی تیاری کے لیے پیدائش سے لے کر موت تک کا جو مخصوص وقت دیا گیا ہے اس دورانیے میں اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی اللّٰه اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے بسر کرنی ہے اور یہی ہمارا "مقصدِ حیات” ہے

    آتے ہوئے اذان اور جاتے ہوئے نماز
    قلیل وقت میں آئے اور چلے دیئے

    اللّٰه نے ہمیں عبادت و اطاعت کے ذریعے اپنی رضا حاصل کرنے کے لیے زندگی کی انمول نعمت سے نوازا ہے پس جس شخص کی زندگی میں بندگی نہ ہو بھلا وہ بھی بندہ ہے؟؟ کیونکہ بے بندگی رضائے خداوندی کے حصول میں سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہ ہوگا

    ہزاروں مصروفیات کے باوجود دنیا کے لیے جیسے بھی ممکن ہو ہم وقت نکال ہی لیتے ہیں تو کیا جس مقصد کے لیے ہمیں پیدا کیا گیا ہے اس کے لیے تھوڑا سا وقت بھی نہیں نکال سکتے؟ اس سلسلے میں ہمارا طرزِعمل کیسا ہے اس پر خود ہی غور فرما لیجیے کیونکہ ہمارا مقصدِ حیات تو رضائے خداوندی کا حصول ہے

    مگر افسوس! صد افسوس! ہم اس سب سے غافل ہو کر دنیا کی ترجیحات میں مگن ہو چکے ہیں۔

    ہمارے مذہب کا نام اسلام ہے اور ہم مسلمان ہیں اگر ان الفاظ کے معانی پر غور کر لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمیں تو احکامِ اللّٰه کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے کا حکم ہے مگر شاید ہم دَھن کی دُھن میں نہ صرف اپنے مقصدِ حیات کو بھول کر رحمتِ خداوندی سے دور ہو چکے ہیں بلکہ خود اپنے آپ سے بھی غافل ہو چکے ہیں

    حیرت شیخ ابوطالب فرماتے ہیں کہ اللّٰه نے اہلِ سلامتی و نجات کے دو گروہ بنائے ہیں جن میں سے کچھ، کچھ سے افضل ہیں جبکہ ہلاکت و بربادی والے افراد کا صرف ایک ہی درجہ ہے ان میں سے کچھ، کچھ سے پستی میں ہیں۔ لہٰذا بروزِ قیامت جن لوگوں کے بائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال ہوگا وہ ان کا دل اس حسرت میں مبتلا ہو گا کہ وہ دائیں ہاتھ والوں میں کیونکر نہ ہوئے۔ اور دائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال دیئے جانے والے اس حسرت میں مبتلا ہوں گے کہ وہ مقربین میں کیونکر نہیں اور مقربین اس حسرت میں مبتلا ہوں گے کہ وہ شہدا میں کیوں شامل نہیں اور شہدا چاہتے ہوں گے کہ وہ مقامِ صدیقین پر فائز ہوتے

    الغرض یہ دن حسرت کا ہوگا جس سے غافلین کو ڈرایا گیا ہے پس جو لوگ آج یہاں مردہ ہیں کل وہاں ان کی حالت کیسی ہوگی؟ کیونکہ ان کے پاس تو کوئی نیکی نہ ہو گی۔

    اپنے مقصدِ حیات کو پہچانیے اور اللّٰه کی رضا و عبادت میں خود کو پا لیں اور زندگی کو حقیقت معنوں میں جیئیں۔ ہماری زندگی کا حقیقی مقصد یہی تو ہے

    اور بے شک دونوں جہانوں میں اللّٰه کی رضا اور خوشنودی کا کوئی نعم البدل نہیں
    اور اللّٰه کی خوشنودی پانے کا بہترین ذریعہ اس کے رسولؐ کی سنت و احکام پر عمل کرنا ہے۔ اللّٰه اور اس کے رسول کی پیروی ہم سب پر واجب ہے

    اپنی سانس کی مالا کے ٹوٹنے سے خود کے آنے کا مقصد پہچانیے اسی میں بھلائی و بہتری ہے آج کی بھی اور آنے والے کل کی بھی اور اس کے بعد روزِ محشر میں بھی یہی ہماری مددگار بھی ہوگی

    وتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ

    @H___Malik

  • پہلی صلیبی جنگ اور سقوط بیت المقدس  تحریر: رانا محمد عامر خان

    پہلی صلیبی جنگ اور سقوط بیت المقدس تحریر: رانا محمد عامر خان

    پانچویں صدی ہجری کے آخر میں جب کہ خلافت عباسیہ زوال پذیر تھی اور امت مسلمہ مختلف ٹکڑوں میں بٹ کر کمزور ہو چکی
    تھی میسحئ اقوام کو اپنی ناپاک آرزوکی تشکیل کا موقع مل گیا۔ میڈیاوار کے تحت پطرس راہب نے مسلمانوں کے مظالم کی
    فرضی داستانیں سن کر پورے یورپ میں اشتعال پیدا کر دیا اور مسحیی دنیامیں ایک سرے سے دوسرے سرے تک آگ لگادی
    ۔ پوپ اربن دوئم نے اس جنگ کو "صلیبی جنگ کانام دیا اور اس میں شرکت کرنے والوں کے گناہوں کی معافی اور ان کے
    جنتی ہونے کا مژ دہ سنایا- زبردست تیاریوں کے بعد فرانس انگینڈ اٹلی جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کی افواج پر مشتمل تیره
    لاکھ افراد کا سیلاب عالم اسلام کی سرحدوں پر ٹوٹ پڑا- روبرٹ نارمنڈی ‘گاڈ فری اور ریمون الطلولوزی جیسے مشہور یور پی
    فرمانروان بپھری ہوئی افواج کی قیادت کر رہے تھے۔ شام اور فلسطین کے ساحلی شہروں پر قبضہ کرنے اور وہاں ایک لاکھ سے
    زائد افراد کا قتل عام کرنے کے بعد شعبان 496 جولائی 1099 میں صلیبی افواج نے بیالس دن کے محاصرے کے بعد بیت
    المقدس پر قبضہ کیا اور وہاں خون کی ندیاں بہادیں۔ فرانسی مورخ "میشو کے بقول صلیبیوں نے ایسے تعصب کا ثبوت دیا
    جس کی مثال نہیں ملتی عربوں کو اونچے اونچے برجوں اور مکانوں کی چھتوں سے گرایا گیا آگ میں زندہ جلایا گیا گھروں سے
    نکال کر میدان میں جانوروں کی طرح ذبح کیا گیا-صلیبی جنگجو مسلمانوں کو مقتول مسلمانوں کی لاشوں پر لے جاکر قتل کرتے- کئی
    ہفتوں تک قتل عام کا یہ سلسلہ جاری رہا – ستر ہزار سے زائد مسلمان صرف اقصی میں تہ تیغ کیے گئے۔ عالم اسلام پر نصرانی
    حکمرانوں کی یہ وحشیانه یلغار تاریخ میں پہلی صلیبی جنگ کے نام سے مشہور ہے۔
    عیسائی کمانڈروں نے فتح کے بعد یورپ کو خوشخبری کا پیغام بیجھا اور اس میں لکھا: ‘اگر آپ اپنے دشمنوں کے ساتھ ہمارا سلوک
    معلوم کرنا ہیں تو مختصر یہ لکھ دینا ناکافی ہے کہ جب ہمارے سپاہی حضرت سلیمان علیہ اسلام کے معبد (مسجد اقصی) میں داخل
    ہوئے تو ان کے گھٹنوں تک مسلمانوں کا خون تھا۔( تاریخ یورپ اے جے گرانٹ )
    بیت المقدس کے سقوط کے بعد مسحی اقوام نے مقبوضہ شام و فلسطین کو تقسیم کرکے القدس,طرابلس, انطاکیہ, اور یافاکی کی چار
    مستقل صلیبی ریاستیں قائم کر لیں- حالات نہایت پر خطر تھے- عالم اسلام کے اکثر حکمران خانہ جنگیوں میں مست تھے -بعض صلیبیوں کے حلیف بن گئے۔
    ان میں سے کوئی بھی نصرانیوں سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہ رکھتا تھا-
    *Twitter ID @pakdefsd*

  • بیوی ایک حسین ساتھی  تحریر:  محمد بلال اسلم

    بیوی ایک حسین ساتھی تحریر: محمد بلال اسلم

    حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ خوش خلقی، حسن معاشرت کی عظیم مثالیں قائم کرکے گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کے اصول بتا دیے ۔ آپ ﷺ کا اپنی ازواج کے ساتھ جس طرح کا محبت بھرا انداز تھا اسکو اگر ہم اپنی زندگیوں میں لے ائیں تو ہمیں گھریلو ناچاقیوں سے چھٹکارہ مل سکتا ہے اور ہمارے گھر سکون اور خوشیوں بھر سکتے ہیں۔ ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کر کے گھر کو جنت بنا سکتے ہیں

    نبی پاک ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ’’تم میں بہترین انسان وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے حق میں بہتر ہو اور میں اپنے اہل کے لیے تم میں سب سے زیادہ بہتر ہوں۔ (ترمذی)

    انسان کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جس کے سامنے وہ اپنی زندگی کی داستان بیان کرسکے اور یہ ضرورت ایک اچھی بیوی پوری کرتی ہے اور اسی طرح انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ سکون حاصل کرے تو بیوی ایسی ذات ہے کہ جسکے ذریعے انسان سکون حاصل کرتا ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے: ’’اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو۔‘‘ ( القرآن )

    حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ازواج سے محبت ۔۔
    ( 1) آپ ﷺ کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کا عالم یہ تھا کہ آپ ﷺ ان کے پس خوردہ کو بھی پسند فرماتے تھے اور جہاں سے آپ رضی اللہ عنہا ہڈی سے گوشت کھاتیں سرکار ﷺ وہیں سے گوشت تناول فرمایا کرتے تھے۔۔۔( 2) حضرت ربیعہ بن عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سرکار ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم مجھے مکھن ملی کھجور سے بھی زیادہ محبوب ہو۔ ( الطبقات الکبری لابن سعد)(3) حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مقام حُر) سے واپس آرہے تھے، میں ایک اونٹ پر سوار تھی جو دوسرے اونٹوں میں آخر میں تھا، میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز سنی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہائے میری دلہن“۔ (مسند احمد: 26866 ) ایسے ہی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کاموں میں اپنی ازواج کا ہاتھ بٹاتے اور انکے ساتھ مزاح فرماتے ۔۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش ائیں

    اور مردوں کو ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ مرد بیوی کو گھر کے کام پر مجبور نہیں کر سکتا، اگرچہ مستحب ہے کہ عورت گھر کے کام کو انجام دے ۔۔عورت کا اخلاقی حق ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کے افراد کے کام کرے لیکن اسپر ضروری نھیں ۔۔اور شوہر ماں اور بیوی دونوں کو ساتھ لیکر چلے بیوی کی وجہ سے ماں کے ساتھ نا انصافی نا کرے اور ماں کی وجہ سے بیوی کے ساتھ نا انصافی نا کرے ۔۔کسی کے سامنے دوسرے کو نا ڈانٹے بلکے کسی اکیلے وقت میں انکو سمجھائے۔۔۔۔۔اللہ پاک ہمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلائے ۔آمین

    @BilalAslam_2

  • سبق آموز از    تحریر: صدام حسین

    سبق آموز از تحریر: صدام حسین

    یہ کہانی میری آپ بیتی ہے بس سانپ اور دوسرے کردار نقلی ہیں کہانی کو سمجھنے والے دماغ سے اگر پڑھا جائے تو بہت زبردست پوائنٹ ہے کسی کے لئے

    *سبق آموز ____*
    گاؤں میں میرے ایک دوست نے ایک سانپ رکھا ہوا تھا نہایت ہی خوبصورت اور دلکش سفید رنگ دھاری دار تھا
    میں اکثر اس کے گھر پر جاتا اور سانپ کے ساتھ دل بہلاتا تھا، یا آپ یوں کہ لیں کہ میں اس سے بہت مانوس ہوگیا تھا، ایک دن میں سانپ کے ساتھ کھیل رہا تھا میں لیٹا ہوا تھا کہ سانپ نے مجھے پاؤں پر ڈس لیا، ﷲ کی قدرت خون کڑوا ہونے کی وجہ سے مجھے کچھ خاص پریشانی تو نہ ہوئی بس ڈنگ کی تھوڑی سی تکلیف ہوئی_

    میں دوست کو بتائے بغیر واپس آگیا کچھ دنوں بعد جب دوبارہ اس کے گھر گیا تو سانپ نے ایک بار پھر خلافِ توقع مجھے ڈس لیا، اور حیرانی کی بات مجھے کچھ نہ ہوا اب کی بار میں ایک دن کے ناغہ کے بعد گیا تو سانپ نے اپنا نرم سا جسم میرے اردگرد لپیٹ لیا، میں بے خبری میں اس سے کھیلتا رہا جیسا کہ میں بتا چکا ہوں میں اس سانپ کم دوست زیادہ سے بہت مانوس ہو چکا تھا اس لئے اسے کچھ کہہ نہیں سکتا تھا _
    خیر مجھے کسی کام سے شہر جانا پڑ گیا جب ایک ہفتے بعد میں واپس آنے لگا تو دوست نے کال کی کہ کسی ماہر ڈاکٹر کو ساتھ لے آنا سانپ بیمار ہوگیا ہے اسے چیک کروانا ہےمیں ڈاکٹر کو لے کر سیدھا دوست کے گھر آیا، میرے دوست نے بتایا کہ سانپ نے ایک ہفتے سے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے کمزور ہو گیا ہے،
    جب ڈاکٹر صاحب نے معائنہ کرنے کے بعد جس چیز کا انکشاف کیا تو ہم دونوں حیران رہ گئے_______

    ہوا یہ کہ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ جب سانپ میرے جسم کے اردگرد گھیرا ڈال کر کھیل رہا تھا تو بظاہر وہ کھیل رہا تھا مگر اصل میں وہ جا ئزہ لے لیا تھا کہ کتنے دن وہ کھانا نہ کھائے تو مجھے وہ کھا سکتا ہے اس لئیے سانپ نے ایک ہفتے سے کھانا نی کھایا- مزید یہ کہ جب میں نے بتایا کہ سانپ دو دفعہ مجھے ڈس چکا ہے تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اگر آپ پہلی دفعہ ہی اِسے مار دہتے تو اچھا ہوتا مگر آپ نے خود موقع دیا اسے اس میں سانپ کی نہیں آپکی غلطی ہے اگر آپ اُسی دن مار دیتے تو آج یہ آپکو کھانے کی تیاری نہ کر رہا ہوتا_____ لہذا میں نے دوست کے ساتھ مل کر اُس سانپ کو ٹھکانے لگایا اور ﷲ کا شکر ادا کیا_____

    *خلاصہ* :- آپ بھی اپنے اردگرد نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ آپ کے دوستوں، رشتے داروں، اور خیر خواہوں کی شکل میں کئی ایسے سانپ ہونگے جو آپکو ڈسنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں اپنے آپکو محفوظ رکھئیے زمانے سے اور لوگوں کے شر سے، ضروری نہیں وہ سانپ بظاہر ہی کوئی سانپ ہو کسی کسی انسان کا دل، دماغ، زبان، آنکھ غرض کُچھ بھی ایسا سانپ ہو سکتا ہے جس سے آپکو نقصان تو ہوتا ہے پر پتا تب چلتا ہے جب آپ برباد ہو چُکے ہوتے ہیں_
    ایک بات اور قارئین انسان کی سب سے بڑی دولت اُسکی عزت ہے اسے سنبھال کر رکھیں کیونکہ یہ ایک بار چلی گئی تو واپس نی آئے گی اپنے آپ کو معاشرے میں ایسے بنائیں کہ دوسرے آپکی کاپی کریں نا کہ آپ سے نفرت کریں_
    @SAA_afridi

  • مستقبل کے امین تحریر: انوشہ امتیاز

    مستقبل کے امین تحریر: انوشہ امتیاز

    بچے کسی بھی معاشرے کا روشن کل اور آنے والے مستقبل کے امین ہوتے ہیں، لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے واقعات انتہائی افسوس ناک ہیں۔۔
    ننھی زینب کا کیس ہو یا قصور کے ان بدقسمت بچوں کا کیس ہو جو حیوانیت کا شکار ہوئے ، ان سے ہمارے پورے معاشرے کی وہ مسخ شکل سامنے آتی ہے جسے دیکھ کر انسان تو انسان جانور بھی شرما جائیں۔
    ان بڑھتے ہوئے واقعات کی اہم وجوہات میں والدین اور بچوں میں ہم آہنگی نہ ہونا، رشتہ داروں اور محلے داروں پہ اندھا یقین ہونا جو کہ ان واقعات کو جنم دینے اور بڑھانے کی ایک اہم وجہ ہے، زینب ریپ کیس اور قصور میں بچوں کے جنسی ہراسانی سکینڈل نے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ۔۔
    یہ کیسز کم ہونے کی بجائے دن بدن بڑھتے ہی جا رہے ہیں ،اور بہت سے کیسز میں تو والدین پولیس میں رپورٹ بھی درج نہیں کرواتے کیونکہ پولیس کا رویہ متاثرہ افراد کے ساتھ غیر زمہ دارانہ ہوتا ہے ، اس لئیے درست اعدادوشمار کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ،
    ایک این جی او ( ساحل ) کی رپورٹ کے مطابق 2007 میں 2,321 ، 2008 میں 1831، 2009 میں 2012، 2010 میں 2252، اور 2011 میں 2303 کیسز رپورٹ ہوئے،
    2017 میں 3445 اور 2018 میں اس میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا،
    2018 میں یہ اعدادوشمار ایک دن میں 9 کیسز سے بڑھ کر انکی تعداد 12 کیسز فی دن تک پہنچ گئی تھی ۔۔
    پنجاب میں ان جرائم کی شرح 65٪ ، سندھ میں 25٪ ، خیبرپختونخوا میں 3٪، اور بلوچستان میں 2٪ ، ہے ۔۔
    ابھی یہ وہ اعدادوشمار ہیں جو کیسز رپورٹ ہوئے، یا میڈیا کے ذریعے جن کے بارے میں پتا چلا ، ابھی ایسے بہت سے کیسز ہوں گے جو منظر عام پر نہیں آئے، لیکن یہ اعدادوشمار بھی رونگٹے کھڑے کر دینے کے لیے کافی ہیں،
    حال ہی میں قصور میں ہونے والے ایک اور گینگ ریپ جس میں ایک چھوٹی بچی کے ساتھ چار درندے جنسی زیادتی کرتے رہے،
    ایک اور کیس جس میں 11 سالہ بچے کو دو ملزم کچے کے علاقے میں لے جا کر زیادتی کرتے رہے، اسی طرح ایک اور واقعے میں متاثرہ بچے کو نہ صرف جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ اس کو اور خاندان کو بلیک میل کرنے کے لئے ویڈیو بھی بنائی،
    اسی طرح ” بھلہ ” گاؤں میں 14 سالہ بچی کو اسکول جاتے ہوئے 3 اوباش نوجوانوں نے اغوا کیا اور کئی دن تک زیادتی کا نشانہ بناتے رہے،
    قصور میں یہ واقعات ایک وبا کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جن کا سدباب انتہائی نا گزیر ہو چکا ہے۔۔۔
    ان واقعات سے معاشرے اور بچوں پہ گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔۔
    متاثرہ بچے یا تو قتل کر دیئے جاتے ہیں اور اگر کچھ بچ بھی جائیں تو وہ تمام عمر کے لئیے نفسیاتی پیچدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں،
    زینب ریپ اور قتل کیس میں مجرم کو پھانسی دینے جیسی سزائیں اس طرح کے قبیح اور غیر انسانی فعل کے لئے ناکافی ہیں، ان سے نمٹنے کے لئے حکومت کو آہنی ہاتھوں شکنجے کی ضرورت ہے ساتھ ہی ساتھ پولیس ، سماجی کارکنوں اور این جی اوز کو بھی ٹریننگ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ان جرائم کا مکمل طور پہ سدباب کیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے تحفظ کے لئے سکول کی سطح پر جنسی ہراسانی سے بچاؤ کی ٹریننگ دی جانی چاہیے، تاکہ اس عفریت سے چھٹکارہ پایا جا سکے جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے

    دھوپ کتنی بھی تیز ہو
    سمندر کو سوکھا نہیں کرتے.

    اللّٰہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

  • پاکستان اور ٹریفک حادثات تحریر: احسان الحق

    پاکستان اور ٹریفک حادثات تحریر: احسان الحق

    کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے سڑکیں اہم ترین اور بنیادی کردار ادا کرتی ہیں. دراصل پختہ سڑکیں یا لمبی چوڑی شاہراہیں اہم کردار ادا نہیں کرتیں، ان کے اوپر زرائع آمد ورفت اور اشیاء کی نقل وحمل کے لئے چلنے والی گاڑیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں. ان گاڑیوں سے زیادہ ان گاڑیوں کو چلانے والے لوگ زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں.
    ہم تیزی سے عمدہ اور پختہ سڑکوں کے جال بچھا رہے ہیں. خطے میں موٹر وے، ہائی وے سمیت سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے ہم سب سے آگے ہیں. اسی طرح ان سڑکوں پر حادثات اور قانون شکنی میں بھی شاید سب سے آگے ہیں. سڑکیں مناسب ہیں مطلب ان حادثات کے پیچھے سڑکیں وجہ نہیں. مسافروں اور اشیاء کی ترسیل کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیاں بھی اتنی بری نہیں جتنے برے ان گاڑیوں کو چلانے والے لوگ ہیں اور ان لوگوں سے زیادہ موٹر وے یا ٹریفک پولیس کے اہلکار برے ہیں جو معمولی سی رقم یا سفارش یا غفلت کی وجہ سے بڑے حادثے کی وجہ بن جاتے ہیں.
    پاکستان خطے میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں روڈ یا ٹریفک حادثات میں اگر پہلے نمبر پر نہیں تو چند پہلے آنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں سالانہ سب سے زیادہ ٹریفک حادثات میں اموات ہوتی ہیں. ان اموات کے پیچھے غیر تربیت یافتہ ڈرائیور یا نشے کے عادی ڈرائیور ہیں. موٹر وے یا ہائی وے پر تعینات پولیس اہلکاروں کی کرپشن بھی ایک وجہ ہے جو اوور اسپیڈنگ، اوور لوڈنگ، لائسنس کی عدم موجودگی، یا ڈرائیور کا نشے میں ہونا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر سزاء اور جرمانہ نہیں کرتے. ہماری دوہری بدقسمتی کہ حادثے کی صورت میں ہنگامی حالت کو ڈیل کرنے اور زخمیوں کو بروقت ہسپتال پہنچانے کے لئے وسائل نہیں اور ہسپتال بہت دور ہوتے ہیں. بعض اوقات زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کے لئے گھنٹوں انتظار اور سینکڑوں کلومیٹرز کا سفر کرنا پڑتا ہے جس سے زخمیوں کی حالت اور بگڑ جاتی ہے.
    اب چند دن پہلے ایک بس سیالکوٹ سے راجن پور کے لئے نکلی. بس کی 46 نشستوں پر 46 مسافروں کو بٹھانے کی گنجائش تھی مگر بس انتظامیہ نے 75 لوگوں کو بس کے اندر بٹھایا، 16 لوگوں کو چھت پر بٹھایا. 46 سواریوں کی جگہ تقریباً 91 لوگوں کو سوار کیا گیا. بس کی باڈی میں، بس کے اندر اور بس کی چھت پر ان مسافروں کا سامان بھی لادا گیا تھا. بس سیالکوٹ سے ڈیرہ غازی خان پہنچ گئی مگر کسی پولیس یا ادارے والے نے بس کو روکا اور نہ ہی جرمانہ کیا. بس ڈرائیور کی غلطی یا ٹینکر ڈرائیور کی غلطی، یا اوور لوڈنگ کی وجہ سے یا پولیس کی غلفت یا کرپشن کی وجہ سے 3 درجن لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے.
    ٹریفک حادثات روزانہ کی بنیاد پاکستان کے ہر علاقے میں ہوتے ہیں. ان حادثات میں اکثر جان لیوا ہوتے ہیں مطلب روزانہ کی بنیاد پر پاکستانی ٹریفک حادثات میں ہلاک ہو رہے ہیں. تحقیق کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ڈرائیور کی غفلت سے حادثہ ہوا ہے. ڈرائیور غیر لائسنس یافتہ ہوتا ہے، یا شراب میں دھت ہوتا ہے یا موبائل کا استعمال کر رہا ہوتا ہے یا ڈرائیور کی نیند پوری نہیں ہوتی. کبھی کبھی اوور سپیڈ یا ساتھ والی بس سے ریس لگاتے ہوئے بھی حادثات ہو چکے ہیں.
    ٹریفک کے نظام کو ٹھیک کرنا ہو گا، ان فٹ گاڑیوں اور ان فٹ ڈرائیوروں کو سخت سزائیں اور جرمانے کرنے ہونگے. گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ڈرائیوروں کا معائنہ بھی ہونا چاہئے. نشے کے عادی افراد کو کسی بھی صورت میں کسی بھی گاڑی پر نہیں بیٹھنے دینا چاہئے. ٹرانسپورٹ شعبے میں اکثریت ڈرائیور باقاعدگی سے شراب نوشی کرتے ہیں. آپکو یاد ہوگا کہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر شاہیںن ائیرلائن کا طیارہ خوفناک حادثے میں بال بال بچا اور بعد میں پتہ چلا کہ پائلٹ شراب کے نشے میں دھت تھا. پاکستان میں جب تک کوئی ڈرائیور کسی حادثے میں کسی کی جان نہ لے چکا ہو اس وقت تک اسکو ڈرائیور ہی تسلیم نہیں کیا جاتا. سڑک حادثات کو کم سے کم کرنے کے لئے ٹرانسپورٹرز، حکومت اور اداروں کو سنجیدگی اور ایمانداری سے کام کرنا ہوگا تاکہ سالانہ سینکڑوں لوگوں کو ہلاک ہونے سے بچایا جا سکے.
    @mian_ihsaan

  • نکاح کو آسان بنائیں  تحریر:فرزانہ شریف

    نکاح کو آسان بنائیں تحریر:فرزانہ شریف

    جب ایک مڈل کلاس گھرانے میں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اس کے والدین اس کی پیدائش پر وہ خوشی نہیں مناسکتے جو بیٹے کی پیدائش پر خوشی منائی جاتی ہے حالانکہ بیٹیاں بیٹوں سے بھی ذیادہ پیاری ہوتی ہیں
    والدین کو وقت سے پہلے ہی اس کو رخصت کرنے کی فکر لگ جاتی ہے ۔
    لاکھوں کا جہیز اور جہیز میں وہ قیمتی چیزیں بھی شامل ہوتی ہیں جو لڑکی کے والدین کے اپنے گھر میں بھی نہیں ہوتیں
    پھر اعلی قسم کا برات کے لیے لاکھوں کا کھانا۔۔۔
    دلہے والوں کو قیمتی گفٹ دینا
    بچہ پیدا ہونے پر پھرخرچہ۔۔۔
    بیٹی ہے یا سزا ہے کوئی۔۔۔؟
    اور پھر جب مرد کہتے ہیں ہمیں چار شادیوں کی اجازت اللہ نے دے رکھی ہے یہ سنت بھی ہے
    مرد ہو ناں۔۔۔آگے بڑھو۔۔۔کرو یہ سب خرچہ خود۔۔۔اور کرو چار شادیاں۔۔۔!!
    سنت کیا صرف چار شادیوں پر ہی یاد ہے۔۔؟
    باقی سنتوں پر عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے کیا۔۔؟
    بیٹی اکثر اس لیے اپنے والدین اپنے بھائی سے فرمائشیں نہیں کرتی تھی کہ پہلے ہی اسکی شادی کا خرچ اور جہیز بناتے بناتے اس کے باپ اور بھائی نے اپنی ساری جمع پونجی لٹا دی تھی

    منگنی کے بعد اکثر لڑکے والے آتے رہتے تھے اور مہمان نوازی کرتے کرتے اس کی ماں تھک چُکی تھی۔۔۔مگر پھر بھی خالی جیب کے ساتھ مسکراہٹ چہرے پر سجائے ہر آنے والے کو اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے کھلاتی اور خوش کر کے بھیجتی تھی
    ایسے میں بیٹی اپنے والدین اور بھائی کے سامنے شرمندہ سی ان کا ہرکام خوشی خوشی کر کےجیسے باپ اور بھائی کو ہمت دلا رہی ہو یا یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ سوری بابا میری وجہ سے آپ قرض لینے پر مجبور ہیں۔۔۔!!

    شادی کی تاریخ فکس کرنا ایک تہوار بن چکا ہے، لڑکی والوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کتنے لوگ آئیں گے، انکے کھانے پینے کے علاوہ سب کیلئے کپڑے خرید کر رکھنے ہوتے ہیں چاہے 5 لوگ ہوں یا 100۔۔۔!!

    پھر بارات پر لڑکی کے باپ کودس بندے گھیر کر پوچھتے ہیں، جی کتنے بندے آجائیں۔۔۔؟؟؟ کیا بولے گا وہ۔۔۔؟؟؟

    اگر 100 کہے تو جواب ملتا ہے 100 تو ہمارے گھر کے قریبی رشتہ دار بن جاتے ہیں پھر محلے دار ۔۔برادری کے لوگ…!!کچھ نہیں تو 500 افراد تو مجبوراً لانے پڑیں گے ساتھ……..!!
    اب لڑکی کا باپ کیا کہے۔۔؟ مت لانا۔۔؟ سارے پیسے قیمتی جہیز خریدنے میں ہی خرچ ہوگے ہیں ۔۔۔؟؟؟

    لڑکی ہر دکھ درد سسرال میں صبر سے برداشت کرتی ہے اپنے والدین کو بھنک بھی پڑنے نہیں دیتی کہ وہ سسرال میں کتنا مشکل وقت گزار رہی ہے صرف اس لیے کہ اس کا باپ اور بھائی پریشان نہ ہوجائیں کہ شہزادیوں کی طرح رخصت کرنے پر بھی ہماری بیٹی سکھ سے نہیں رہ رہی

    آخر میں ۔مرد حضرات سے یہ کہتی ہوں کیا آپ کے لیے یہ کافی نہیں کہ والدین پال پوس کے پڑھا لکھا کر اپنے جگر کا ٹکڑا آپکو سونپتے ہیں آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ شادی کرنے کی شرط ہی یہ رکھیں کہ آپ نے جس سے شادی کرنی ہے اس کے والدین سے جہیز نہیں لینا ۔۔آپ
    اپنی ہونے والی بیٹی پر ترس کھائیں جو کل کو تمہارے خراب حالات سے اتنی ہی پریشان ہوسکتی ہے جتنی آج تمہاری ہونے والی بیوی پریشان ہے….!!

    اللہ نے تمہیں مرد پیدا کیا ہے مرد بنیں خود میں اتنی ہمت پیدا کریں دوسروں کی محنت سے کمائی ہوئی دولت کے مزے لینے کے بجائے خود
    کما کر اپنی بیوی کو خوشیاں خرید کر دیں
    شوہر کی حیثیت ایک سائبان کی سی ہوتی ہے جو اپنی بیوی کو ہر طرح کے حالات میں تحفظ کا احساس دیتا ہے اور بیوی اس کے لیے راحت سکون کا باعث بننے کے لیے ہر وہ اچھا کام کرتی ہے جو اس کے شوہر کو پسند ہواس طرح گھر جنت بن جاتے ہیں

  • پاکستان کا چھوٹا سا گاؤں ، جہاں ڈیجیٹل انقلاب اب بھی نیا پن رکھتا ہے

    پاکستان کا چھوٹا سا گاؤں ، جہاں ڈیجیٹل انقلاب اب بھی نیا پن رکھتا ہے

    بلھیریجی کا چھوٹا سا گاؤں، جہاں ڈیجیٹل انقلاب اب بھی نیا پن رکھتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق لاڑکانہ کا پورا گاؤں واٹس ایپ کے ذریعہ منسلک ہے، یہ گاؤں موہنجو دڑو آثار قدیمہ سے چند کلومیٹر دور واقع ہے، گروپ کے منتظمین میں سے ایک ریاض پیرزادہ نے کہا ، ہم نے اپنے گاؤں واٹس ایپ گروپ کو 2016 میں شروع کیا تھا اور اس سال نومبر میں اس کی پانچویں سالگرہ ہوگی-

    پیرزادہ کا خیال ہے کہ ڈیجیٹل چیٹ روم نے پوری برادری کو کامیابی کے ساتھ تبدیل کر دیا ہے اجتماعی مسائل کے خلاف گاؤں کے لوگوں کو متحرک کرنے میں مدد کرنا ، ان طریقوں سے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ ابھی تک، اس گروپ میں 180 کے قریب ممبران آباد ہیں، ان میں ڈاکٹر، انجینئر، اسکالر، وکیل ، مصنفین اور سینئر اور جونیئر عہدوں پر کام کرنے والے مختلف سرکاری ملازمین شامل ہیں ، جو صوبے کے دیگر حصوں اور یہاں تک کہ بیرون ملک رہائش کے باوجود گاؤں کے امور میں معاون ہیں۔

    بلھیریجی کے لوگوں کے مطابق، واٹس ایپ سے لیس ان کی کمیونٹی کے کارکنوں نے اس پلیٹ فارم کا استعمال علاقے میں حفظان صحت اور صفائی ستھرائی کے لئے بھی کیا ہے پائیدار ترقیاتی اہداف کی مؤثر طریقے سے تعمیل کرنے کے لئے اس گروپ نے مواصلات، تعلیم، صحت، کھیلوں، خواتین کے مسائل، ادب اور ٹیکنالوجی کے لئے سوشل میڈیا رضاکاروں کو منظم اور سرشار کیا ہے۔

    بلھیریجی ولیج گروپ کے اہم ممبران نے دیگر تمام ذیلی گروپوں کے ساتھ ہم آہنگی کی اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے وسائل مہیا کرنے میں ان کی سہولت فراہم کی۔

    ڈاکٹر اصغر پیرزادہ ، جنہوں نے بلھیریجی واٹس ایپ گروپ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے ، نے کہا کہ اس پلیٹ فارم نے بہت سے معاشرتی اقدامات کی مدد کی ہے اور دیہاتی امور کو بھی تیز کیا ہے ، جو طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔

  • آزاد کشمیر انتخابات، ووٹنگ  جاری ، پی ٹی آئی ، پی پی پی اور ن کانفرنس میں کانٹے کا مقابلہ

    آزاد کشمیر انتخابات، ووٹنگ جاری ، پی ٹی آئی ، پی پی پی اور ن کانفرنس میں کانٹے کا مقابلہ

    مظفر آباد: آزاد کشمیر میں انتخابات کے لیے پولنگ کے وقت کا آغاز ہوگیا، الیکشن کمیشن کی جانب سے بیلٹ پیپرز اور باکس پولنگ اسٹیشن پہنچا دیئے گئے، پولنگ شام 5 تک کسی وقفے کے بغیر جاری رہے گی۔

    باغی ٹی وی : آزاد کشمیر کے 45 حلقوں میں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے ایل اے 27 مظفرآباد 1 کے 166 میں سے 15 پولنگ اسٹیشن حساس ترین اور24حساس قرار دیئے گئے ہیں-

    ایل اے 28 مظفرآباد 2 کے 156 میں سے 21 حساس ترین، 22 حساس قرار ، ایل اے25وادی نیلم1کے 38 حساس قرار دیئے گئے ہیں جبکہ حلقہ ایل اے 29 مظفرآباد 3 کے 114 میں سے 7 حساس ترین، 15 حساس ہیں-

    الیکشن کمیشن کے حکم پر انتخابی عمل کے دوران حساس پولنگ اسٹیشنوں پر فوج تعینات کردی گئی ہے۔ 40 ہزار پولیس اہلکار الیکشن ڈیوٹی انجام دیں گے۔

    آزاد کشمیر کے 45 حلقوں میں اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے 32 لاکھ سے زائد ووٹر حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    پاکستان بھر میں رہنے والے 4 لاکھ 5 ہزار 253 کشمیری ووٹر بھی آزاد کشمیر اسمبلی کے لیے اپنے من پسند امیدواروں کو ووٹ ڈالیں گے۔

    آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے جاری مہم آج اختتام پزیر، انتخابات…

  • وجودِ زن سے ہے، تصویر کائنات میں رنگ  تحریر: سمعیہ رشید

    وجودِ زن سے ہے، تصویر کائنات میں رنگ تحریر: سمعیہ رشید

    برصغیر پاک و ہند میں ایک عام تصور تھا کہ خواتین کی زمہ داری صرف گھر گر ہستی سنبھالنے تک محدود ہے، اور یہ تاثر 1947 سے سات دھائیاں گزر جانے کے بعد بھی عوام الناس کے دل و دماغ سے نا نکل سکا
    یہ تصور صحیح ہے یا غلط، اس تحریر کا مقصد یہ باآور کروانا ہرگز نہیں ہے بلکہ ان ستر سالوں میں خواتین نے جو ہمارا سر فخر سے بلند کیا ہے اسکو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کرنا ہے.

    محترمہ فاطمہ جناح

    انیسویں صدی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر بھابھی کی وفات کے بعد سب چھوڑ کے نا صرف بھائی کا گھر سنبھالنے لگیں بلکہ سیاسی میدان میں بھی ہر جگہ انکے شانہ بشانہ رہیں. آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد بھی انہی کی کاوشوں کا نتیجہ تھی جس نے بعد ازاں آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن کی شکل دھار لی.
    سیاست کے علاوہ سماجی طور پہ بھی بیگم لیاقت علی خان کے ساتھ خواتین کے حقوق کیلیے ایک قد آور شخصیت ثابت ہوئیں، پاکستانی نوجوان نسل کیلیے وہ سیاسی و سماجی اعتبار سے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی

    بیگم شائستہ اکرام اللہ


    بیگم صاحبہ لندن یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ پہلی پی ایچ ڈی ہولڈر ڈاکٹر تھیں، پاکستان قانون ساز اسمبلی سے سب سے پہلی خاتون ممبر منتخب ہو کے عورتوں کیلیے سیاست میں آنے کی راہ ہموار کی، نا صرف اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمایندگی کی بلکہ مراکو میں سفیر بھی رہیں
    محترمہ سیاست کے علاوہ بہت اردو اور انگلش اخباروں میں مصنفہ بھی رہیں
    حکومت پاکستان کی طرف سے نشان امتیاز لینے والی بلاشبہ پاکستانی بچیوں کیلئے ایک عملہ نمونہ ہیں

    عائشہ فاروق

    ہمت و جواں مردی، بہادری اور دیدہ دلیری کی بات ہو تو ہمیشہ مردوں کی طرف دھیان جاتا ہے پر یہ ریت بھی عائشہ فارق صاحبہ نے توڑ ڈالی جب چھبیس برس کی عمر میں پہلی فایٹر پائیلٹ بنی.
    اب خواتین صرف میڈیکل، انجینئرنگ اور کارپوریٹس سیکٹر تک ہی محدود نہیں رہیں بلکہ شاہینوں کے ساتھ پرواز کے سفر میں گامزن ہیں

    ارفع کریم

    جس عمر میں عموماً بچیاں کھلونوں اور گڑیاؤں سے کھیلتی ہیں اس عمر میں ایک نو سالہ غیر معمولی ذہین ننھی پری، مائکروسوفٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بنی ، جس نے نا صرف پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پہ نمایندگی بھی کرتی رہی،
    اور صرف سولہ سال کی عمر میں سب آنکھوں کو اشکبار چھوڑ کے ابدی نیند جا سوئیں..

    شمیم اختر

    جہاں بہت کم خواتین ٹرک کی سواری ہی کر پاتی ہیں وہاں ایک با ہمت عورت ٹرک چلانے لگتی ہے
    بے تحاشا تنقید اور مخالفت کے باوجود بھی محترمہ نا صرف اپنے فیصلے پہ ثابت قدم رہیں بلکہ تھوڑے ہی عرصے میں اپنی قابلیت کا لوہا بھی منوایا
    بلاشبہ شمیم بیگم کا ایسے شعبے میں آنا قابلِ تحسین ہے.
    جہاں ہر طرف مردوں کی اجارہ داری ہو اور عورت کو فیصلے کرنے کا بھی اختیار نا ہو وہاں ایک عورت کا باقی خواتین کے حقوق کیلیے اواز بلند کرنا اور ایک جرگے کی نمایندگی کرنا قابلِ تحسین ہے.

    تبسم عدنان

    تیرہ برس کی عمر میں دلہن بننے والی، شوہر کے ظلم و ستم کے خلاف کھڑی ہونے والی سماجی کارکن تبسم کو کم ہی لوگ جانتے ہونگے جو "خویندہ و جرگہ” کے نام سے ہفتہ وارانہ عورتوں کے مسائل حل کرتی ہیں..
    ان سب خواتین کو ملک و قوم کا نام روشن کرنے اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے پہ ہم خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں…