Baaghi TV

Category: بلاگ

  • احساس برتری ایک خطرناک بیماری تحریر: شازیہ ستار

    احساس برتری ایک خطرناک بیماری تحریر: شازیہ ستار

    کتنی عجیب بات ھے کہ ھم احساس کمتری کو تو بہت تذکروں میں لاتے ہیں اور فٹ سے کسی کو طعنہ بھی دے دیتے ہیں مگر ھم احساس برتری کا نہ ھی ذکر کرتے اور نہ ھی اسکو بیماری گردانتے ہیں یہ بہت خطرناک بیماری کی ایک قسم ھے احساس برتری کا شکار انسان خود کو حراست کسی سے برتر و بالا سمجھتا ھے اور اپنے عہدے اور حسب نسب پہ فخر کرتا ھے کیونکہ اس کی ذات میں کوئی صفات نہین ھوتی ہے اور اسکے اندر بےچینی اور بے سکونی ھوتی ھے تو وہ ھر وقت اپنے لباس اور اپنے گھر اور گاڑی کی تعریف ھی سُننا چاہتا ھے پھر ایسے لوگ دوسروں کی ھر وقت تضحیک کرنے سے بھی باز نہیں آتے کیونکہ اس سے انکے احساس فخر کو تسکین مل رھی ھوتی ھے ۔۔۔یہ بیماری معاشرے کے لئے پھر فساد اور بگاڑ کا سبب بنتی ھے اور بہت سے لوگوں کی دل آزاری کا ذریعہ بھی ۔۔لہذا اسکو بھی بیماری مان کر اسکا تدارک بہت ضروری ھے
    ورنہ یہ بیماری معاشرے میں ناسور کی طرح بڑھتی جارہی ہے اسکی وجوہات کو جاننا بھی ضروری ہے وجہ پتہ ھو گی تو قابو پایا جا سکتا ہے
    اس میں مبتلا لوگ اپنے ساتھ رہنے والوں اپنے کولیگز اپنے رشتہ داروں کی زندگی کو اجیرن کئے رکھتے ہیں
    بدقسمتی سے ھر دوسرے بندے میں یہ بیماری موجود ھے مادیت پرستی اور بے حسی بھی اسکی وجوہات میں شامل ہے ۔جس انسان میں تکبر نہیں ھوتا عاجزی ھوتی ھے وہ کبھی کسی کو کم تر نہیں سمجھتا اسلام میں تکبر کو شرک کے گناہ جیسا سمجھا جاتا ھے کہ جس کے دل میں رائی برابر تکبر آیا اس نے بہت بڑا گناہ کیا ۔۔اللہ پاک ھمین اپنی غلطیوں کو سمجھنے اور انکو سدھارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    @ALLAHknowbetter

  • ‏دوسروں کو حقیر سمجھنا –  تحریر : خالد اقبال عطاری

    ‏دوسروں کو حقیر سمجھنا – تحریر : خالد اقبال عطاری

    بنی اسرائیل کا ایک شخص جو بہت گناہگار تھا ایک مرتبہ بہت بڑے عابد یعنی (عبادت گزار) کے پاس سے گزرا جس کے سر پر بادل سایہ کرتے تھے گناہگار شض یہ سوچ کر اس عابد کے پاس بیٹھ گیا کہ میں گناہگار اور یہ بہت بڑے عبادت گزار ہیں اگر میں ان کے پاس بیٹھوں تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر بھی رحم فرما دے. عابد کو اس کا بیٹھنا بہت ناگوار گزرا کہ کہاں مجھ جیسا عبادت گزار اور کہاں پر یہ پرلے درجے کا گناہگار! یہ میرے ساتھ کیسے بیٹھ سکتا ہے؟ چنانچہ اس نے بڑی حقارت سے اس شخص کو کہا اٹھو یہاں سے! اس پر اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کے نبی علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ ان دونوں سے کہو کہ اپنے عمل نئے سرے سے شروع کریں میں نے اس گناہگار کو بخش دیا اور عبادت گزار کے عمل ضائع کر دیے.
    جس طرح انسان کا ظاہر بہت سی خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے اسی طرح انسان کا باطن بھی اچھائیوں اور برائیوں کا مرکب (compound) ہوتا ہے. مسکراہٹ، جسمانی حرکات و سکنات کا با وقار ہونا، نرم انداز گفتگو، صاف ستھرے کپڑے، سلیقے سے سنوارے ہوئے بال، ناخن اور دانتوں کا صاف ہونا، جسم پر میل کچیل کا نہ ہونا چہرے پر مسکراہٹ ہونا اور دیگر بہت سی چیزیں انسان کے ظاہر کو اچھا بناتی ہیں. جبکہ گالم گلوچ فحش کلامی، جھوٹ، غیبت، تہمت لگانے، چغلی کھانے چوری کرنے اور ظلم کرنے جیسے اوصاف ہمارے ظاہری کردار (Character) کو داغدار کر دیتے ہیں، اسی طرح مسلمانوں سے ہمدردی و خیر خواہی کا جزبہ، ان سے محبت رکھنا، عاجزی، اخلاص جیسے بہت سی برائیاں ہمارے باطن کو آلودہ کر دیتی ہیں، باطن کی اچھائیاں اور برائیاں ظاہر پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں مثلاً دل میں نرمی ہوگی تو اس کی مٹھاس زبان پر بھی آئے گی.
    ہمارے باطن کو گندہ کرنے والی صفات میں سے ایک صفت تکبر ہے. ہم اپنے آپ کو تو اعلی سمجھیں اور باقی لوگوں کو اپنے سے کمتر سمجھیں. اب ایک سوال ہے کہ ہم اپنے کو کمتر سمجھیں یا برتر یا برابر؟؟؟
    تو گزارش ہے کہ خود کو کسی کے برابر سمجھنے میں بظاہر کوئی حرج نہیں. اور اگر ہم خود کو حقیر سمجھیں تو یہ عاجزی ہے جوکہ باعثِ ثواب ہے. لیکن کسی کو اپنے سے گھٹیا حقیر اور کمتر نہ سمجھیں.
    تکبر کی کچھ وجوہات ہیں جن کی بناء پر ہم دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں
    1: علم : علم کی وجہ سے خواہشات نفس میں گرفتار انسان کا دماغ آسمان پر پہنچ جاتا ہے وہ دوسروں کو جاہل اور گنوار سمجھنے لگتا ہے.
    2،عبادت : فرائض و واجبات کی پابندی کے ساتھ ساتھ نوافل، تلاوتِ، نفلی روزے، ذکرِ و اذکار کی کثرت بہترین عادت ہے. لیکن جو نفلی عبادت نہ کرنے والوں کو گھٹیا اور حقیر سمجھنا جائز نہیں.
    3، دولت : حلال و جائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت بری چیز نہیں لیکن معاملات جب خراب ہوتے ہیں جب غریب لوگ ہمیں کیڑے مکوڑے نظر آنے لگیں. یاد رکھیے دولت میں وفا نہیں آج اسکے پاس تو کل اسکے پاس. تو ایسی بے وفا کی وجہ سے کیوں ہم مسلمان کو حقیر جانیں؟
    4،صحت و طاقت : صحت و طاقت رب عزوجل کی ایک نعمت ہے. تو اسکی وجہ سے کمزوروں، بیماروں اور چھوٹے قد والوں کو حقیر سمجھنا جائز نہیں.
    5، شہرت :کچھ لوگوں کو جب شہرت ملتی ہے تو وہ اپنی آنکھیں سر پر رکھ لیتے ہیں اسکی وجہ سے لوگ انہیں حقیر لگنے لگتے ہیں. یاد رکھیے ہر عروج کو زوال ہے. لہذا شہرت کی وجہ سے لوگوں کو حقیر سمجنا چھوڑ دیجئے.
    6، حسن و جمال: بعض اوقات انسان اپنی خوبصورتی کی وجہ سے متکبر ہو جاتا ہے.گورے رنگ والا کالے رنگ والے کو، بڑے قد والا چھوٹے قد والا کو، بڑی آنکھوں والا چھوٹی آنکھوں والے کو کو حقیر سمجھتا ہے. عموماً ی بیماری مردوں کے مقابل عورتوں میں ذیادہ پائی جاتی ہے. یاد رکھیے عمر کے ہر دور میں حسن یکساں نہیں رہتا بلکہ وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتا ہے. تو سوچیے کیا ہمیں اس حسن پر ناز کرنا چاہیے.
    7، حسب و نسب : ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو حسب و نسب پر غرور کرتے ہیں. اور دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں. کیا یہ جہالت نہیں؟
    ذرا سوچیے اس تکبر کا کیا حاصل؟ جوکہ اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ناراضی کا سبب بنے، مخلوق کی بیزاری اور میدان محشر میں ذلت و رسوائی کا سبب بنے؟
    اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہمیں چند لمحوں کی عزت چاہیے یا ہمیشہ کیلئے جنت.

  • وزیر اعظم عمران خان – عالمی فورم پر اسلامو فوبیا بیداری کو اجاگر کرتے ہوئے تحریر: محمد ذیشان

    وزیر اعظم عمران خان – عالمی فورم پر اسلامو فوبیا بیداری کو اجاگر کرتے ہوئے تحریر: محمد ذیشان

    بہت سارے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ، پہلی بار بیرون ملک جاتے ہوئے ، ائیرپورٹ پر اہل خانہ کی طرف سے مشورہ دیا جاتا ہے: کبھی بھی اسلام کے بارے میں کسی بات میں ملوث نہ ہوں ، یہاں تک کہ اس کا دفاع یا وضاحت بھی نہ کریں ، چاہے کوئی کتنا بھی قیاس کرے اور فرض کرے اس کے بارے میں.
    تو ، کبھی بات نہیں کی جاتی، مفروضے غلط فہمیاں بن جاتے ہیں اور غلط فہمیاں شکوک و شبہات بن جاتی ہیں۔ شکوک فریبوں کا باعث بنتے ہیں ، اور پھر بھی ہم کبھی بات نہیں کرتے ہیں۔ وہم مستحکم عقائد کی طرف جاتا ہے اور عقائد اگلی نسلوں میں منتقل ہوجاتے ہیں جو پھر اپنے وراثت میں پائے جانے والے عقائد کی بنیاد پر فرض کرتے ہیں ، اس طرح شیطانی چکر جاری رہتا ہے… اور ہم پھر بھی بات نہیں کرتے!
    اسلامو فوبیا کی تباہی اس وقت ہوتی ہے جب ہم بات نہیں کرتے ہیں۔ اس سے قبل میں نے اسلامو فوبیا (اسلامو فوبیا: ایک پراسرار وبائی بیماری) کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ ایک نئی وبائی بیماری بنتی جارہی ہے۔ ہیضے سے زیادہ مبتلا اور ایڈز سے زیادہ مہلک۔
    کینسر سے زیادہ میٹاسٹک اور پولیو سے زیادہ کمزور۔ ایسی بیماری جس کی فوری تشخیص اور علاج کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر ، یہاں تک کہ ماں کے پیٹ میں موجود بچوں کو بھی ان کے عقائد کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا ، اور اس طرح ان کے ساتھ امتیازی سلوک اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    عدالتوں میں نہیں بلکہ بے گھر منشیات فروشوں کے ذریعہ سڑکوں پر مقدمہ چلایا گیا۔ مساجد میں گورے بالادستی کے ذریعہ مقدمہ چلایا گیا۔ سب سے زیادہ "استغاثہ” لوگوں نے سڑکوں پر مقدمہ چلایا۔ سڑکوں پر ہجوم کے ذریعہ قانونی کارروائی کی۔
    ایک ایسے وقت میں ، جو سورج کو مشرق سے مغرب تک سفر کرنے کے لئے درکار ہوتا ہے ، اس سے کم وقت میں ، اسلامو فوبیا مشرق سے مغرب تک کا سفر کرتا، اور اسی وجہ سے میں اسے "وبائی بیماری” کے نام سے پکارتا ہوں۔ مشرق میں ، 6 ماہ کی حاملہ خاتون پر سڈنی میں صرف اس کے لباس (اسکارف) کی وجہ سے حملہ کیا گیا۔
    یہاں تک کہ بے دردی سے مارنے پیٹنے کے بعد ، سب سے پہلا کام جو اس خاتون نے کیا وہ سکارف کو ایڈجسٹ کرنا تھا۔اس نام نہاد مفت جدید دنیا میں ،اپنے آپ کو پوری طرح ڈھانپنا، آدھے ننگے چلنے سے آسان ہے۔ دنیا رہنے کے لئے ایک خوفناک جگہ بن چکی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب اس حملے کے بعد اس والدہ کا الٹراساؤنڈ سڈنی کے کسی اسپتال میں ہوتا تو ، 6 ماہ کا بچہ چیخ چیخ کر کہتا: ”میں پیدا بھی نہیں ہوا ہوں۔ میں دہشت گرد نہیں ہوں…! ”
    آسٹریلیا کو ایک شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جہاں پولین ہینسن جیسے سینیٹر "برقع” میں اسمبلی میں حجاب کا مذاق اڑانے آتے ہیں۔ جہاں نسل پرست بالادستی برینٹن ٹرانٹ کی قدر کی جاتی ہے۔ جہاں فریزر اننگ جیسے پارلیمنٹیرینز نفرت انگیز تبصرے کرتے ہیں۔
    مغرب میں ہونے والے دوسرے واقعہ میں ، کرسٹیشینند (ناروے) شہر میں "سائان” (ناروے میں اسلام پسندی روکیں) نامی ایک تنظیم کے ذریعہ اسلام مخالف مظاہرہ کیا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو قرآن مجید نہ جلانے کی انتباہ کے باوجود ، سی ای این کے رہنما "لارس تھرسن” (جو ماضی میں اسلام کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی وجہ سے ایک ماہ قید کاٹ چکا تھا) کے نام پر اس مقدس کتاب کو جلا دیا۔ الیاس نامی ایک نوجوان مسلمان شخص نے اس پر حملہ کیا جس نے اسے روکنے کی کوشش کی اور دونوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
    میں وزیر اعظم خان (مرحومہ محترمہ شوکت خانم) کی والدہ کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے بیٹے کو اپنے مذہب کے بارے میں غلط فہمیوں کی وضاحت کرتے ہوئے ایسی سفارتی بلکہ تابعدارانہ حکمت عملی اپنانا کبھی نہیں سکھایا۔
    27 ستمبر 2019 کو ، یو این او ہیڈکوارٹر ، نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ، وزیر اعظم پاکستان مسٹر خان نے اس نئی وبا کے اسباب ، علامات ، تشخیص اور علاج کے بارے میں ایک فکری تقریر کی.
    وہ 30 منٹ میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کسی عالم سے کم نہیں لگتا تھا جس کی وضاحت 30 سال میں کسی بھی مسلم عالمی رہنما نے نہیں کی تھی۔
    ہم سب کو اس معاملے پر آواز اٹھاتے رہنا چاہیے.
    Twitter : @Zeeshanvfp

  • پاکستان سٹیل مل کی تباہی کے اسباب و مل کا مستقبل تحریر: ملک حارث

    پاکستان سٹیل مل کی تباہی کے اسباب و مل کا مستقبل تحریر: ملک حارث

    پاکستان سٹیل مل کی تباہی کے اسباب و مل کا مستقبل
    پسِ منظر:
    پاکستا ن سٹیل مل ایک سرکاری ادارہ ہے جو ملک کے لیے سٹیل اور ہیوی میٹل مصنوعات تیار کرتی ہے۔ جس کا دفتر کراچی سندھ میں ہے ، مل کی پیداواری صلاحیت 5 ملین ٹن سٹیل اور لوہے کی فاؤنڈریوں کی ہے۔ 1970 کی دہائی میں سوویت یونین کی طرف سے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے ساتھ بنائی گئی، اس وقت سے ، اس کی آپریشنل پلانٹ کی گنجائش حکومت کی مالی مدد کے حصول کے بعد 30٪ -50٪ تک جا پہنچی ہے۔ مل پاکستان میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑامل ہونے کے ساتھ دنیا کی چند بڑی اسٹیل ملز میں شمار ہوتا ہے جبکہ اس کی تعمیر کے وقت اس مل کو مزید توسیع دینے کے لیے پہلے سے ہی اسے اس طرح تعمیر کی گئی کہ وقت آنے پر اس کی پیداواری صلاحیت کو دوگنا کیا جا سکے۔

    1947 میں قیام پاکستان کے بعدریاست کو ابتداء میں مقامی پیداوار نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی درآمدات پر انحصار نے مشکلات پیداکردی تھی، جس میں لوہا و سٹیل کی وافر درآمدات بھی شامل تھی ، اسی بناء پروزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکومت کو لوہے اور اسٹیل کی مقامی پیداوار کی اہمیت کا احساس ہوا۔ 1951 میں لیاقت علی خان کے قتل کی وجہ سے یہ معاملہ زیر التوٰا ہو گیا،لیکن پھر وزیر اعظم حسین سہروردی اور صدر ایوب خان کی حکومتوں میں اس منصوبے پر جامع بحث ہوئی۔ مینوفیکچرنگ کے عمل ، مطلوبہ مشینری اور خام مال کی فراہمی کے ذرائع ، ملکیت کا تناسب نے کافی وقت کے لئے اس منصوبے کو روک دیا۔ سائنسی اور صنعتی تحقیقاتی کونسل سرکاری سائنسی تھنک ٹین کی 20 سال(1947-1967) کی تحقیق اور مطالعات کے بعد صدر جنرل یحییٰ خان نے سفارشات کو منظوری دے دی، بیوروکریٹس اور سائنس دانوں نے اس متفقہ فیصلے پر اتفاق کیا کہ "کراچی اسٹیل پروجیکٹ” کو سرکاری پبلک سیکٹر میں سپانسر کیا جائے گا۔ 1956 میں سوویت یونین کے وزیر اعظم نیکولائی بلگینن نے وزیر اعظم سہروردی کو اسٹیل ملوں سے متعلق تکنیکی اور سائنسی مدد کی پیش کش کی اور ملک کی پہلی اسٹیل مل کے قیام میں دلچسپی کا اظہار کیا، اسی کو مدِنظر رکھتے ہوئے آخر کار ، جنوری 1969 میں سوویت یونین کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ،جس میں تعمیر کے لئے تکنیکی مالی مدد فراہم کرنے پر راضی ہوگیااور 1971 میں کراچی میں اسٹیل مل کی تعمیر کا باقائدہ آغاز ہوگیا۔ پاکستان سٹیل مل 2 جولائی 1973 کو عمارتی تعمیرمکمل ہونے کے بعد جدید طریقوں کے مطابق پیداوارکے تحت لوہے اور اسٹیل پیدا کرنے والے ممالک کے ایلیٹ کلب میں شامل ہونے کے لیے 14 اگست 1981 کو بلاسٹ فرنس نمبر 1 کے اجراء کےبعد 24.7 ملین روپے کی لاگت سے اسٹیل مل کا باقاعدہ افتتاح 15 جنوری 1985 کو صدر جنرل ضیاء الحق نے کیا ۔
    تباہی کے اسباب:
    70کی دہائی میں روس کے تعاون سے تعمیر ہونے والی پاکستان سٹیل مل نے 80 اور 90 کی دہائیوں میں خوب منافع کمایا۔ تاریخ کے مطابق کہ فوجی حکمرانوں کے دور میں سٹیل ملز خوب منافع کماتی رہی مگر سیاسی حکومتوں کے آتے ہی بحران کا شکار ہوگئی۔مل جو سال میں سالانہ 9.54 ارب روپے کا منافع دے رہی تھی ، وہ آج خساروں وقرضوں کے بوجھ تلے بندپڑی ہے،جوکہ صرف نااہل، کرپٹ سیات دانوں کی بندولت ہے۔ مل کی تباہی کی وجوہات میں وزیر اعظم شوکت عزیز کے نجکاری پروگرام کے تحت اسٹیل ملوں کو عالمی نجی ملکیت میں نجکاری دینے کی ایک متنازعہ کوشش کی گئی۔ تاہم ، ان کوششوں کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ نے ناکام بنا دیا۔ ایک وجہ پیپلز پارٹی کے دور میں ملازمین کی اندھا دھند بھرتیاں بھی ہے۔ وہ مل جسے چلانے کے لیے صرف 9 ہزار ملازمین درکار تھے، وہاں پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ملازمین کی تعداد 17 ہزار پر پہنچ گئی۔
    اس وقت ملازمین کو بروقت تنخواہ کی ادائیگی ہوتی تھی وہ بھی بمعہ الاؤنس کبھی نہ ہوا کہ تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی ہو۔ سٹیل مل 90 کی دہائی کے اوائل تک اپنی مکمل صلاحیت پر کام کر رہی تھی ۔ مل کی منافع بخش تاریخ میں خسارہ عثمان فاروقی کی بطور چیئرمین تعیناتی سے شروع ہوا۔عثمان فاروقی سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی سلمان فاروقی کے بھائی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں 100 ارب روپے خسارے میں رہی، نواز لیگ کے دور میں سٹیل ملز کو 140 ارب روپے کا نقصان ہوا ۔
    مل کے پاس ایک اندازے کے مطابق 10ارب کا خام مال، 12ارب تک کیش اور8ارب کی تیار مصنوعات موجود تھیں۔ لیکن ان تما م اشیا اور رقم کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا یہ راز آج تک راز ہی ہے۔مل کی پیداوار میں کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے 42ارب کا بیل آؤٹ پیکج بھی دیا گیا جو شاید کاغذوں میں ہی تھا ۔ مل کے محنت کشوں کے حالات بد سے بد تر ہونے لگے بعض محنت کشوں نے تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے اسٹیل مل کی نوکری کے بعد پارٹ ٹائم نوکریاں کرنا شروع کر دیں۔ زرداری کا اقتدار ختم ہوا اور نواز شریف نے اقتدار سنبھالا۔ نواز شریف نے آتے ہی 75ارب کا حساب طلب کیا یعنی خام مال، تیار مصنوعات اور کیش جو اسٹیل مل کے پاس موجود تھا اور وہ 45ارب جو اس ادارے کو چلانے کے نام پر جاری کیا گیا تھا۔ حساب نہ دے پانے کی بنا پر چند افسران کو گرفتار کرنے کے بعد ایک اور بیل آؤٹ پیکج دیا گیا جس کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان اسٹیل ملز نے اپنی پیداواری صلاحیت کا 30فیصد بروئے کار لانا شروع کر دیا۔ یہ ایک اہم نکتہ تھا جہاں اس ادارے کے محنت کشوں نے ثابت کیا کہ وہ اس ادارے کو نہ صرف صرف چلا سکتے ہیں بلکہ ان کی اتنی تکنیکی صلاحیت موجود ہے کہ وہ ایک مردہ ادارے میں جان ڈال سکتے ہیں۔ پیداواری صلاحیت میں جان پڑنے کے بعد محنت کشوں کے حوصلے بلند ہونے لگے جو کہ نجکاری کرنے والے سرمایہ داروں کے پیشہ ور دلالوں اور بیرونی اور اندرونی سرمایہ داروں کے لیے خطرناک تھا۔ اسی لیے جب پیداواری صلاحیت کو 30فیصد تک پہنچایا گیا اسی وقت یعنی جون 2015ء میں گیس سپلائی کرنے والے سرکاری ادارے نے پاکستان اسٹیل مل کو گیس کی فراہمی منقطع کر دی۔ جس کے نتیجے میں اس ادارے کی کارکردگی پھر سے صفر پر آگئی۔ رپورٹ کے مطابق مل سوئی سدرن گیس کمپنی کے 22 ارب روپے کی قرض دار ہے جبکہ نیشنل بینک سے 36.42 ارب روپے کی مقروض ہے ،حکومت نے سٹیل ملز کو برسوں پہلے گیس کی فراہمی روک کر خود اس ادارے کا گلا گھونٹا ہے۔

    اسی طرح سے 2008سے اب تک ریٹائر ہونے والے محنت کشوں میں سے 2000سے زائد ایسے ہیں جن کو گریجوئیٹی کی رقم ادا نہیں کی گئی اور نہ ہی پنشن دی جا رہی ہے۔مل وسیع اراضی 18 ہزار ایکڑ پر پھیلی ہے اراضی حاصل کرنے کے لیے بہت سے ادارے ،قوتیں برسرِ پیکار اور پراپرٹی کے بڑے ڈیلرز للچائی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔اس زمین کی مالیت 500 ارب سے زائد ہے اور یہی وہ وجہ ہے جس کے لیے اس ادارے کو تباہ کیا گیا ہے تا کہ اس کی اراضی کو حاصل کیا جا سکے۔مل کی بدترین حالت کو دیکھتے ہوئے نیب کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا تھا کہ بربادی کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ذمہ داران کے نام ای سی ایل میں ڈالنے سے کیا ان ملازمین کے گھروں کے چولہے جل جائیں گے؟ کیا اسٹیل مل کی بند پڑی بھٹیاں پھر سے فولادی مصنوعات کی پیداوار شروع کر دیں گی؟نہیں ان تحقیقات کے ساتھ ساتھ اسٹیل مل کو دوبارہ چلانے پر بھی غور کرنا ہوگا۔ کیوں کہ اسٹیل مل کے بند ہونے سے کسی ایک یا دو کا نہیں، بلکہ ہزاروں گھرانوں کے چولہے بجھ جائیں گے۔
    ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میری ذاتی طور پر موجودہ حکومت سے گزارش ہے کہ سٹیل مل کی نجکاری کے بجائے اروسی سرماکاری کو بروکار لاتے ہوئے پاکستانی ملازمین کے ذریعے سے دوبارہ سے شروع کی جائے،جس سے ناصرف درآمدات میں کمی ہوگئی، بلکہ ملک میں روزگار کے مواقع فراہم ہونے سے بےروزگاری میں کمی ہوگئی، اور قومی خزانہ کے سرمائے میں بھی اضافہ ہوگااور پاکستان معاشی طور پر مضبوط ہ

  • میری محبت، ایک افسانہ . تحریر: محمد وسیم

    میری محبت، ایک افسانہ . تحریر: محمد وسیم

    عاطف اورعروج کی پہلی ملاقات پنجاب پبلک لائبریری میں ہوئی۔ عاطف انجینرنگ کے آخری سال میں تھا اور عروج ڈاکٹر بن رہی تھی۔ شعبہ مختلف مگر خیالات بہت یکساں تھے۔ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا اور بے تکلفی بڑھتی گئی۔ ایک دن دونوں محو گفتگو تھے کہ اچانک عاطف کو کال آ گئی۔ اس نے عروج سے معزرت کی اور موٹر سائیکل پر چلا گیا۔ عاطف جا رہا تھا کہ اچانک ٹرک کی ٹکر سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔ ہسپتال پہنچنے پر اس کا علاج و معالجہ شروع ہوا، اس کی جیبوں کی تلاشی لی گئی تاکہ شناخت ہوسکے، وہاں سے ایک فون نمبر ملا جو عروج کا تھا۔ انہوں نے اس نمبر پر کال کی اور عاطف کے حادثہ کے بارے میں بتایا توعروج یہ خبر سن کر حواس باختہ ہوگئی اور فوراََ ہسپتال پہنچی۔ ڈاکٹروں نے عروج کو بتایا کہ عاطف کے اعصاب کو شدید نقصان پہنچا ہے اور شاید اب وہ عمر بھر چل پھر نہیں سکتا۔ عروج اب ہسپتال میں ہی رہ کر عاطف کی دیکھ بھال کرنے لگی۔ اسی طرح دو ماہ گزر گئے۔ ڈاکٹروں نے عاطف کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا۔ چونکہ وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھا اس لیے عاطف عروج کے ساتھ ہی رہنے لگا۔ وہ اس کا بہت زیادہ خیال رکھتی۔ اسی طرح چھ ماہ گزر گئے اور وہ تندرست ہوگیا لیکن معذور، دونوں کی تعلیم مکمل ہوگئی۔ عاطف نے عروج کو شادی کی پیش کش کی۔ عروج پہلے تو بہت خوش ہوئی لیکن ایک خیال نے اسے پریشان کردیا۔ خیال یہ کہ عاطف تو معذور ہو گیا ہے، والد صاحب اس حالت میں عاطف کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔ اس نے عاطف سے کہا کہ اسے اس حالت میں والد صاحب کبھی بھی قبول نہیں نہیں کریں گے۔ اس لیے اسے چلنا پھرنا ہوگا اور جب تک وہ عروج کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے قابل نہیں ہو پاتا تب تک وہ اس کے ساتھ شادی نہیں کر سکتی۔ عاطف نے عروج سے کہا کہ تم تو جانتی ہوکہ میں عمر بھر چل نہیں سکتا تو میں تمہاری یہ شرط کبی بھی پوری نہیں کر سکتا۔ عروج نے کہا کہ اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو اور چاہتے ہو کہ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں تو تمہیں یہ کرنا ہوگا۔ محبت میں مرتا کیا نہ کرتا۔ بے چارہ عاطف عشق کے ہاتھوں مجبور عروج کی شرط مان گیا۔ عروج نے اپنے آبائی گھر جانے کی اجازت لی اور کہا کہ جب تم چلنے کے قابل ہو جاو تو میرے ابا سے میرا رشتہ طلب کر لینا وہ تمیں انکار نہیں کریں گے۔ وہ چلی گئی۔ اور چونکہ وہ خود ڈاکٹر تھی اس لیے وقتاََ فوقتاََ عاعف کی اعصابی قوت کے ٹپس دیتی رہی۔ عاطف نے چلنے پھرنے کی کوشش کی انتہا کردی۔۔ شروع شروع میں وہ بیساکھیوں کے سہارے چلنے لگا۔ پھر آہستہ آہستہ لاٹھی کے سہارے اور آخر کار وہ بغیر سہارے کے چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا۔ تین سال گزر گئے۔ اب اس نے عروج کو کال کی اور اپنے آنے کی اطلاع دی کہ وہ اس کے باپ سے اس کا ہاتھ مانگنے آرہا ہے۔ عاطف عروج کے گھر گیا، وہاں اس کی خوب خاطر تواضع کی گئی۔ اس نے عروج کے باپ سے رشتہ کے بارے میں بات کی تو اس نے عروج کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے پوچھ لیں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ عاطف اب عروج کی طرف توجہ کرتا ہے۔ عروج کہتی ہے” بڑی دیر کردی مہرباں آتے آتے” ۔ اب تو وقت گزر چکا۔ عروج اپنے شوہر کو آواز دیتی ہے کہ ” وسیم! زرا محمود اور خزینہ کو باہر لے کر آئیے” محمود عروج کا بیٹا اور خزینہ اس کی بیٹی تھی۔ وہ اپنے شوہر اور بچوں کا تعارف عاطف سے کرواتی ہے۔

    عاطف حواس باختہ ہوگیا اورعروج سے کہا کہ وہ محبت وہ وعدے وہ سب کچھ کیا تھا۔ عروج کہتی ہے کہ میں ایک پیشہ ور ڈاکٹر ہوں اور میرا کام مریضوں کو کسی بھی طریقے سے صحت یاب کرنا ہے اس لیے وہ تو محض میں تمہاری صحت یابی کے لیے محبت کا ڈرامہ کر رہی تھی۔ بہر حال میرا تجربہ کامیاب رہا۔

    @mstrwaseem

  • اداس کیوں تحریر:حسن قدرت

    پہلے زمانے کے لوگ بہت خوش و خرم زندگی گزارتے تھے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ بات بالکل درست ہو انکے بھی مسائل ہوتے ہوں گے ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہو انسان اور مسائل کے بغیر زندگی گزار کے جائے ناممکن!
    موجودہ نسل میں اداسی بڑھتی جارہی ہے اور وہ بانٹ کر بھی خوشی حاصل نہیں کر پاتے جو خوشی اس دور کے لوگ ملکر کھانے میں محسوس کرتے تھے
    جیسے جیسے زمانہ گزرا ویسے ہی حالات بدلے اور مسائل وہی رہے شاید مگر نوعیت بدل گئی پہلے لوگ اس بات پہ پریشان ہوتے تھے کہ شدید موسمی حالات کا مقابلہ کیسے کریں گے اب لوگ اس بات پہ پریشان ہوتے ہیں رشتوں میں چھپی اس حسد اور نفرت کی شدت کا مقابلہ کیسے کریں گے
    اب لوگ اداس کیوں ہیں؟ اسکی وجہ جو میں نے جانی ہے وہ آپ لوگوں کو بتاتی ہوں اگر
    اگر آج ہم کسی کو ایک روپیہ بھی دیتے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارا شکریہ ادا کرے جبکہ ہم اپنے رب کے بھی شکرگزار نہیں ہوتے ، ہم لوگ اتنی شدت کے خودپسند ہوچکے ہیں کہ اگر ہم کسی کو محبت دیتے ہیں ،کسی کو شفقت سے نوازتے ہیں یا کسی کی خدمت کرتے ہیں تو لاشعوری طور پر ہم چاہتے ہیں وہ بندہ ہمارے آگے سر جھکا کے رکھے آخر کیوں؟
    ہم یہ سب انسانوں کو اپنے آگے جھکانے کے لیے کیوں کرتے ہیں؟ اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں کہ ہم نے تو اتنا کچھ کیا اسکے لیے لیکن اس بندے نے مجھے کیا صلہ دیا

    اگر آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں تو آپ اسکے بندوں سے بھی بے لوث ہوکر محبت کریں انسانیت کی خدمت کریں اور یہ بات ذہن میں رکھیں یہ سب آپ نے اپنے مالک کے لیے کیا ہے اللہ تعالیٰ کی محبت میں کیا ہے پھر آپ کو غیب سے اسکا صلہ ملے گا اور اتنا اچھا کہ آپ نے سوچا بھی نہیں ہوگا
    اپنی ترجیحات میں جب ہم اپنے بنانے والے کو اور اسکے حکم کو شامل نہیں کرتے تو ہم روتے ہیں چیختے ہیں اور خود سے کہتے ہیں کہ میں *”اداس کیوں”*؟ آخر میں ہی کیوں ؟

    Twitter: @HusnHere

  • مدینہ کے وارث مدینہ چھوڑ چلے . تحریر: مزمل مسعود دیو

    مدینہ کے وارث مدینہ چھوڑ چلے . تحریر: مزمل مسعود دیو

    یزید کے تخت سنبھالتے ہی اس نے والی مدینہ ولید بن عتبہ کو خط لکھا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور انکے جانثار ساتھیوں جن میں حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر ان سے بیعت لے لو اور اگر یہ منع کریں تو ان سب کے سر مجھے بھیج دو۔ ولید نے مروان سے پوچھا کہ کیا کریں تو مروان نے کہا کہ امام حسین نواسئہ رسول ہے وہ کبھی بھی یزید کی بیعت نہیں کریں گے اس سے قبل انکو یزید کی تخت نشینی کی خبر پہنچے ان سب کو بلا لو۔ ولید نے رات کو ہی اپنا ایک آدمی آپ سب کی طرف بھیجا۔ حضرت امام حسین اس وقت اپنے نانا کے مرقد پر تھے تو آپ نے اس آدمی کو کہا کہ میں بعد میں آتا ہوں۔ باقی لوگ بھی امام حسین علیہ السلام کے پاس پہنچ گئے اور اس بارے میں آگاہ کیا۔

    عبداللہ بن زبیر نے کہا حضرت امام حسین علیہ السلام سے کہا کہ مجھے ولید کے اس پیغام نے پریشان کردیا ہے۔ حضرت امام حسین نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یزید تخت نشین ہو گیا ہے اور یہ لوگ ہم سے اسکی بیعت کا مطالبہ کریں گے۔ فیصلہ ہوا کہ ولید کے پاس جاکر پوچھا جائے کہ اس نے کیوں بلایا چنانچہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے قریبا تیس لوگوں کو اپنے ساتھ لیا اور ولید کے پاس پہنچ گئے۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کو اسلحہ لے کر جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ آپ لوگ باہر ہی رکئے۔ اگر تم لوگ میری آواز کو بلند پاؤ تو اندر آجانا کیونکہ ہم اس کی بیعت والے معاملے کو نہیں مانیں گے۔

    حضرت امام حسین علیہ السلام ولید کے پاس گئے۔ مروان بھی وہیں بیٹھا تھا تو ولید نے امیر شام کی موت کی خبر دی اور ولید نے یزید کے خط کے بارے میں بتایا کہ یزید نے آپ سے بیعت کا مطالبہ کیا ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا، مجھے نہیں لگتا کہ تو خفیہ طریقے سے میری بیعت پر راضی ہو بلکہ تو چاہے گا کہ میں یزید کی بیعت اعلانیہ طور پر لوگوں کے سامنے کروں ، ولید نے جواب دیا کہ جیسا آپ نے فرمایا ایسا ہی ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ صبح تک صبر کر۔
    حضرت امام حسین وہاں سے جانے لگے تو مروان نے ولید سے کہا کہ ابھی تو امام حسین (ع) کا ہاتھ بیعت کے لئے نہ لے سکا تو کبھی ایسا نہیں ہو سکے گا اس لیے اگر ابھی بیعت نہ کریں تو ان کا سر قلم کر دے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام مروان کی گستاخی پر سخت غضباک ہوئے اور آپ نے فرمایا، تو مجھے قتل کرے گا، اللہ کی قسم تو جھوٹا ہے۔ تم سب میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ اسکے بعد آپ نے ارشاد فرمائے، "ہم اہلبیت نبوت ہیں، اللہ کے ملائکہ ہمارے ہاں آتے جاتے ہیں، خدا نے خلقت پر ہمیں مقدم کیا ہے اور ہم پر ختم کیا ہے اور یزید شراب پینے والا فاسق فاجر ہے، میں کبھی اس کی بیعت نہیں کر سکتا یہ کہہ کر امام حسین علیہ السلام اپنے چاہنے والوں کے ساتھ باہر نکل گئے”۔

    صبح حضرت امام حسین علیہ السلام گھر سے نکلے، مدینہ کے بازار میں مروان سے سامنا ہوا۔ مروان نے کہا کیا فیصلہ کیا تو آپ نے فرمایا میں یزید کی بیعت نہیں کروں گا۔ اسکے بعد آپ نے مدینہ کو ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اپنے نانا کے مرقد پر آئے اور وہ شب آپ اپنے نانا کے مزار پر ہی رہے، اسکے بعد آپ نے مدینہ کو چھوڑ دیا۔

    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یزید کی بیعت سے انکار کے بعد آپ نے یزید کے خوف سے مدینہ منورہ سے ہجرت کی حالانکہ اگر ایسا ہوتا تو حضرت امام حسین کسی خفیہ راستے سے مکہ جاتے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے ایک قافلے کی شکل جس میں گھوڑے، اونٹ ، ناقے جو گھریلو سامان سے لدھے ہوئے تھے سب مرکزی شارع سے مکہ گئے۔ بہت سے لوگوں نے آپ کو خاموشی سے نکلنے کا مشورہ بھی دیا تھا لیکن آپ نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ حضرت امام حسین نے کیونکہ بیعت سے انکار کردیا تھا اسلیے آپ چاہتے تھے کہ لوگوں کو اس بات کا پتا چل جائے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام مدینہ سے کسی ڈر اور خوف کی وجہ سے نہیں نکلے بلکہ لوگوں کو ایک اشارہ دیا کہ اب یہ وقت مدینہ میں محفوظ بیٹھنے کا نہیں، بلکہ کربلا سجانے کے عزم کے ساتھ اٹھ کر یزیدی نظام حکومت کے خلاف قیام کا وقت ہے۔ لہٰذا کہا جاسکتا ہے امام حسین علیہ السلام نے محض سوال ِبیعت کی بنا پر مدینہ نہیں چھوڑا بلکہ ظالمانہ حاکمیت کے خلاف آپ پہلے سے ہی قیام کا ذہن بنا چکے تھے۔ سوال ِبیعت نے اتنا ضرور کیا کہ آپ کو وہ موقع فراہم کر دیا جو آپ کے سفر کا نقطہ آغاز بنتا، اور آپ نے مدینہ سے مکہ کی طرف ہجرت کے ذریعہ کربلا کی تعمیر کی صورت اسکا آغاز کر دیا۔

    ۲۸ رجب سن ۶۰ ہجری میں حضرت امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے مکہ جانے کا ارادہ کیا۔ آپ ۲۹ رجب المرجب کی رات مدینہ سے نکل گئے اور اس سفر میں آپکے ہمراہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا، حضرت ام کلثوم (ع)، حضرت عباس بن علی (ع) حضرت علی اکبر بن حسین (ع)اور آپکے دیگر اہلخانہ موجود تھے۔ حضرت زینب و ام کلثوم سلام اللہ علیہما کو ملا کر آپکی ۱۳بہنیں اس سفر میں آپ کے ساتھ تھیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بہن حضرت جمانہ بنت ابوطالب (ع) اور ۹ کنیزیں آپ کے ہمراہ مدینہ سے نکلے، اس قافلے میں حضرت امام حسن مجتبٰی علیہ السلام کی بعض زوجات کے علاوہ ۱۶ افراد وہ تھے جنکا تعلق حضرت امام حسن مجتبٰی علیہ السلام و خانوادہ جناب مسلم بن عقیل سے تھا۔ اصحاب ِباوفا کے علاوہ ۱۰ غلام بھی آپکے ہمراہ تھے۔
    حضرت امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے مکہ پہنچ کر وہاں کم و بیش 4 مہینے قیام فرمایا اور 8 ذوالحجہ کو مکہ سے کوفہ کی جانب سفر شروع کیا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کو راستے میں حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملی اور پھر راستے میں آپکو ابن زیاد کا پیغام پہنچایا گیا کہ آپ کوفہ نہیں جاسکتے بلکہ آپکو شام لے جانے کا حکم ہے لیکن آپ کے انکار کے بعد آپ نے اپنے قافلے کا رخ کربلا کی جانب موڑ دیا۔ 2 محرم کو آپکا قافلہ کربلا کی سرزمین پر پہنچا اور آپ نے اس جگہ کا نام پوچھا تو بتایا گیا کہ اس کا نام کربلا ہے تو آپ نے اسی وقت وہاں پڑاو ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہی ہماری مقتل گاہ ہے۔

    ‏@warrior1pak

  • عمران خان کی تبدیلی اور اٹھارویں ترمیم . تحریر : اسد خان بلوچ

    عمران خان کی تبدیلی اور اٹھارویں ترمیم . تحریر : اسد خان بلوچ

    عمران خان نے جس تبدیلی کا خواب دیکھا تھا اس خواب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اٹھارویں ترمیم کو سمجھا جاتا ہے کہ اگر اٹھارویں ترمیم نہ ہوتی تو پاکستان کی حالت بہتر ہوجاتی ۔
    اٹھارویں ترمیم کو دیکھتے ہوئے تھوڑا سا تجزیہ کرتے ہیں کہ کیا واقعی پاکستاں کی ترقی میں اٹھارویں ترمیم
    رکاوٹ ہے؟

    اسلام آباد جو صرف 24 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے وہاں کوئی اٹھارویں ترمیم نہیں ہے وہاں وفاقی حکومت کا کنٹرول ہے اسلام آباد میں کونسی تبدیلی آئی ذرا دیکھئیے ۔
    شفقت محمود وفاقی وزیر تعلیم ہے لیکن ہر صوبے کا علیحدہ وزیر تعلیم بھی ہے اس لیے شفقت محمود 24 کلومیٹر کا وزیر تعلیم ہےتو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا
    شفقت محمود 24 کلومیٹر کے علاقے میں کیا تعلیمی تبدیلی لے کر آیا؟
    کیا کبھی شفقت محمود نے اسلام آباد کے نامی گرامی سکول ٹیچرز کو بلایا کبھی ان سے پوچھا کہ حضور جو سہولتیں پرائیویٹ سکولز مالکان آپکو دیتے ہیں اس سے بڑھ ہم آپ کو سہولیات دیں گے لیکن جو رزلٹ جو محنت آپ پرائیویٹ سکول میں کرتے ہیں وہ یہاں کئیجیے جب پرائیویٹ سکول سے بچے سرکاری سکول میں آئیں گے تو حکومت کی طرف سے آپ کو اتنا بونس ملے گا تبدیلی ہمیشہ کچھ بڑا کرنے سے آتی ہے ۔

    پولیس کو دیکھ لیں صوبوں کو چھوڑ دیں صرف اسلام آباد پولیس میں کیا تبدیلی آئی؟
    اگر اسلام آباد پولیس چاہے تو اسلام آباد سے ایک سوئی باہر نہیں جا سکتی وہاں اسی اسلام آباد میں نائٹ کلبز چل رہے ہیں اور پولیس ہفتہ لیتی ہے اور خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے
    عمران خان صاحب شہد کی دلدل سے نکلئیے اور روایتی طریقوں سے ہٹ کر کچھ کیجئے صوبوں میں اٹھارویں ترمیم آڑے آتی ہے لیکن اسلام آباد پولیس اور اسلام آباد میں تعلیمی نظام کو بدلئیے تاکہ لوگوں کو آپ پر بھروسہ ہو.

    @khanasad253

  • بنیادی تعلیمی نظام  تحریر : ‏سیدہ بنت زینب

    بنیادی تعلیمی نظام تحریر : ‏سیدہ بنت زینب

    تعلیم کا حصول فرد، معاشرے اور ریاست کے ساتھ ساتھ اجتماعی ترقی کے لئے بھی اہم ہے. بنیادی تعلیم ایک ایسی بنیاد ہے جس پر تعلیم اور انسانی ترقی کی پوری عمارت کھڑی ہے. یہ بچے کو نئی دنیا کی بنیادی بصیرت فراہم کرتا ہے اور اسے زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے لئے ضروری اوزار فراہم کرتا ہے. بدقسمتی سے، پاکستان میں پرائمری تعلیمی نظام انتہائی تاریک ہے۔ نجی تعلیمی نظام کی کاروباری کارپوریشنز والدین کا بے حد استحصال کرتے ہیں.
    ایک سروے کے مطابق کرونا کے دوران اب تک 10٪ بچے اسکول چھوڑ کر مختلف مزدوری کرنے لگے ہیں. اور باقی جو کسی بھی اسکول جا رہے ہیں وہ بھی معیاری تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے.
    پرائمری ایجوکیشن سسٹم کی خراب صورتحال کے لئے متعدد عوامل ذمہ دار ہیں جن میں بنیادی ڈھانچے کی کمی، اہل اساتذہ کی کمی، طلباء اساتذہ کا متناسب تناسب، لیبارٹریوں کی عدم موجودگی، اساتذہ کی غیر حاضری، تعلیم کی جدید تکنیک کا عدم استعمال اور ناقص اساتذہ اور والدین کی باہمی تعامل شامل ہیں.
    ملک کی بجٹ کی ترجیحات اس حقیقت سے عیاں ہیں کہ ہمارے پالیسی سازوں کے لئے تعلیم ترجیح نہیں ہے. اگر ہم ترقی یافتہ دنیا کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی اور اپنی ترجیحات کو درست بنانا ہوگا.
    ہنگامی بنیادوں پر ہمارے بنیادی تعلیمی نظام میں اصلاح کرنا ضروری ہے. پہلے، ہمارے بنیادی تعلیم کے نظام میں اصلاح اور جدید کاری کے لئے ہمارے بجٹ اور توانائیاں کا ایک بہت بڑا حصہ مختص کیا جانا چاہئے. دوم، ایک موثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے جو نہ صرف اساتذہ کی کارکردگی کی نگرانی کرے بلکہ نظم و ضبط اور احتساب کا عمل بھی کر سکے.
    ایمانداری کے ساتھ اٹھائے جانے پر اس طرح کے ضروری اقدامات نہ صرف بنیادی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ ہمیں اپنے پرائمری نظام تعلیم میں بہتری لانے کی بھی ترغیب دیں گے. تعلیمی ترقیاتی نظام کی طرف ایک اقدام پر غور کرتے ہوئے، پاکستان ترقی یافتہ دنیا میں مقابلہ کرسکتا ہے اور انشاء اللہ اپنا پرچم دنیا کے ہر میدان میں سب سے سر بلند کر سکتا ہے.
    *پاکستان ذندہ باد⁦!*

  • عمران خان اور پاکستان . تحریر : نسیم کھیڑا

    عمران خان اور پاکستان . تحریر : نسیم کھیڑا

    عمران خان آیا تو ملک چاروں اطراف سے سائل میں گھرا پڑا تھا معیشت بدحال تھی ،انڈسٹری کا پہیہ بند تھا ،زراعت تباه ہوچکی تھی اور ملک کئی اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچار تھا شاید یہی وجوہات تھیں کہ غربت اور مفلسی سے ستائی عوام نے عمران خان کا انتخاب کیا عمران خان نے آتے ہی ملکی معیشت کی بحالی اور ملکی داخلہ و خارجہ مسائل سے نمٹنے کے لئیے عملی اقدامات کئیے۔معیشت کی بحالی کے لئیے کئی اقدامات کئیے گئے ملکی انڈسٹری کے زوال کی بڑی وجہ بجلی کی کمی تھی عمران خان نے آتے کئی ڈیمز جن پر کام کئی دہائیوں سے رُکا ہوا تھا ان پر کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کروایا اور ساتھ ساتھ کئی سستی بجلی کے منصوبے شروع کئیے بجلی کے علاوه کئی مراعات اور انڈسٹریز کو سبسڈیز دیں یہ ہی وجہ ہے کہ فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں جہاں پاور سیل لوہے کے بھاؤ بک رہا تھا اب کئی لاکھ مزدوروں کی کمی کا شکار ہے اور متواتر لوگوں کو روزگار فراہم کررہا ہے.

    صنعت کی بحالی کے علاوه ملکی معیشت اور عام عوام کے حالات ٹھیک کرنے کے لئیے سبز معیشت پر بھی زور دیا زراعت کی بحالی کے لئیے سستے بیج اور کھادوں کے علاوه عام کسان کی فصلیں "انشورڈ” کردیں اب فصلوں کے نقسان(کیڑا،آگ،سیلاب ) کی صورت میں عام کسان اس کے تباه کن معاشی اثرات سے بچ سکے گا اور اگلے سال پھر سے فصل اگانے کے قابل ہوگا.

    معیشت کی بحالی کے لئیے صنعت اور زراعت کے روایتی طریقہ کار کے علاوه غیر روایتی طریقہ کار بھی اپنایا۔ایک طرف روشن ڈیجٹل اکاؤنٹ کے ذریعے ملکی معیشت اور بیرون ممالک پاکستانیوں کو فائده ہوا تو دوسری طرف مذہبی ٹورزم ،سیاحتی ٹورزم،تاریخی ٹورزم اور تفریحی ٹورزم کی نئی جہتوں کو کھولا تاکہ پاکستان روایتی طریقوں کے علاوه غیر روایتی طریقوں سے معاشی ترقی حاصل کرسکے
    عمران خان کا سی پیک کے فلیگ شپ منصوبے اور اس سے جڑے چھوٹے بڑے منصوبوں پر متواتر کام بھی ملکی معیشت کے لئیے اکسیر ہے.

    عمران خان نے معیشت کی بہتری کے علاوه عوامی اور معاشرتی مسائل کے سدباب کے لئیے عملی اقدامات کئیےغریب افراد اور خاندانوں کی بھوک،افلاس ختم کرنے اور ان کے سر پر چھت دینے کے لئیے لنگر خانے ،احساس پروگرام،ہیلتھ کارڈ اور وزیراعظم ہاؤسنگ سکیم کا اجرا کیا ہیلتھ کارڈ کے ذریعے ہر شہری کے صحت کا خرچہ کم کیا اور گھروں کے لئیے وسیع پیمانے پر قرض دینے سے عام عوام ایک تو گھر جیسی سہولت حاصل کرنے لگے تو دوسری طرف کنسٹرکشن کی صنعت کو خوب فائده ہوا عام عوام کے ان مسائل کے علاوه اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لئیے معاشرتی کے سدباب کے لئیےبھی سعی کی۔والدین کے حقوق کے لئیے آرڈینینس لایا اور معاشرے میں بڑھتی اس برائی کو ہمیشہ کے لئیے ختم کرنے کی کوشش کی ،وراثت کا قانون لاکر خواتین کے شرعی حق کو محفوظ کیا اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی بےراه روی کو "پردے "کے حکم کی تلقین کرکے کم کرنے کی کوشش کی گئی.ٕ

    عمران خان ناصرف معشت،عوامی مسائل اور معاشرتی خامیاں دور کرنے کے لئیے سامنے آیا بلکہ ماحولیات پر بھی خاص توجہ دی عمران خان کا بلین ٹری سونامی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے جس سے نہ صرف پاکستان کی آلودگی کم ہوئی بلکہ کلائیمیٹ چینج پر بھی بین الااقوامی ایشو میں پاکستان کا کردارنمایاں ہوااور دنیا نے پاکستان ان ماحول دوست اقدامات کی تعریف کی اور کورونا وبا میں بھی پاکستان کا کردار بھی کچھ کم نہ تھا WHO قومی اداره صحت نے بھی کورونا وبامیں پاکستان کے مثبت اقدامات کی تعریف کی اور باقی اقوام کو پاکستان سے سیکھنے کا کہا یہ بھی عمران خان کا سمارٹ لاک ڈاؤن کا اقدام تھا جس سے نا صرف کورونا وبا کے اثرات سے عوام محفوظ رہی بلکہ غریب کو روٹی بھی ملتی رہی اور معیشت کا پہیہ بھی رواں دواں رہا.

    خارجہ محاذ پر پاکستان کئی دہائیوں سے مسائل کا کا شکار تھا دشمن ممالک نہ صرف اسے سفارتی طور پر "اکیلا” کرنا چاہتے تھے بلکہ اسے ایک دہشت گرد ملک کے طور پر دنیا کو ثابت کرنا چاہتے تھے لیکن عمران خان نے آتے ہی بھارت ،اسرائیل کو اصل دھشت گرد قرار دے دیا اور دنیا کو بتایا ہم پاکستان امن مپسند ملک ہیں اور بھارت RSS کے نظرئیے پر چل رہا ہے اور دنیا کے سامنے کشمیری اور فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم اور درندگی کو واضح کردیا .

    قارئین موجوده حالات میں پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کےلئیے بہت دباؤ بھی ڈالا گیا اور کئی معاشی فائدوں کا لالچ بھی دیا گیا لیکن قابل تحسین ہے عمران خان کا کردار جس نے نہ صرف ان ساری آفرز اور دباؤ کو ٹھکرایا بلکہ قائداعظم اور پاکستان کا اصولی کو دہرایا اور فلسطینوں کو ان کا حق نہ ملنے تک اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا.
    دشمن ممالک افغانستان میں بدامنی کے باعث پاکستان کو مسلسل بدامنی کی دلدل میں رکھنا چاہتے تھے لیکن عمران خان نے کمال دوراندیشی اور دانشوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناصرف امریکہ افغان امن معاہدہ کروایا بلکہ افغانستان کی سرزمین سے اٹھنے والی ہر پاکستان مخالف قوت کو منہ توڑ جواب دیا .

    امریکہ چین کی بڑھتی کشیدگی اور سپرپاور کے کھیل میں پاکستان کا کردار بہت واضح ہے پاکستان دونوں ممالک سے بہتر تعلقات چاہتا ہے لیکن کسی بھی ملک کے لئیے اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا جس کی واضح مثال وزیراعظم عمران خان نے امریکی ٹی وی کو "absolutely not ” کا جواب دے کر واضح کردی ہے .
    الغرض وہ وقت دور نہیں جب عمران خان اور پاکستانی عوام کا نا صرف "اسلامی فلاحی ریاست” والا خواب پورا ہوگا بلکہ پاکستانیوں اور پاکستانی پاسپورٹ کی پوری دنیا میں عزت ہوگی اور ہم سب فخر سے بتا سکین گےکہ ہم پاکستانی ہیں .

    @Naseem_Khera