Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انصاف (عدالت) اور معاشرہ  . تحریر : ذیشان علی

    انصاف (عدالت) اور معاشرہ . تحریر : ذیشان علی

    کوئی بھی معاشرہ اصول قوانین اور ضابطہ اخلاق کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، کسی بھی معاشرے اور ریاست میں امن و امان قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ رعایا کو انصاف دیا جائے، بحیثیت مسلمان ہمیں ظلم اور بے انصافی زیب نہیں دیتی ہمارے لیے حکم ہے کہ انصاف کے ساتھ پورا تولو اور حد سے تجاوزنہ کرو صلہ رحمی کرو بےشک اللہ رحم کرنے والوں کو پسند کرتا ہے.

    اللہ تعالی قرآن کریم فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے،
    "یقیناً اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف پر مبنی فیصلہ کرو یقین رکھو اللہ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہوتی ہے، بےشک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ” سورہ نساء 58.

    مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی نے یہ واضح کیا ہے جب لوگوں کے درمیان کسی مقدمے کا فیصلہ کرو تو ان کا مذہب خواہ کوئی بھی ہو یا دوست ہو یا دشمن فیصلہ کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ تمام تعلقات سے الگ ہو کر سچائی کے ساتھ اور انصاف پر مبنی فیصلہ کریں،
    جو فیصلہ اپنے پرائے کے تعلقات پر مبنی ہو جو فیصلہ حقائق کو چھپا کر اور جو فیصلے تعلقات پر مبنی پیسہ وجائیداد کے عوض کیے جائیں وہ ظلم اور زیادتی کے زمرے میں آتے.

    انصاف پر قائم رہنا کسی حکومت اور عدالت کا ہی کام نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں یہ ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ساتھ اور لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کرے، یعنی دوسروں کو بھی انصاف پر قائم رہنے کی ترغیب دے، عام فہم الفاظ میں کہ انصاف کو خریدنے اور بیچنے سے بچا جائے، جو ریاست اپنی رعایا کو انصاف دیتی ہے انصاف وہ جو صاف شفاف ہو جو امیر غریب گورے کالے میں بغیر کسی فرق رکھے کیا جائے اور نہ کسی کا عہدہ یا پیسہ و جائیداد انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہو.

    جو معاشرے جو ریاستیں انصاف قائم نہیں کرسکتے پھر ان ریاستوں میں اور معاشروں میں ظلم بڑھتا ہے اور ظلم کے ساتھ فتنہ و فساد برپا ہوتا ہے کوئی بھی ریاست اور معاشرہ ظلم اور فتنوں کے ساتھ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا یعنی انصاف کا قتل معاشروں اور ریاستوں کے لئے تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے.

    چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم فرقان حمید میں ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے،
    "ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلے احکام دے کر بھیجا ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) انصاف کرنے کے احکام کو نازل فرمایا،
    تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں” سورہ الحدید 25.

    ریاست اسلامی ہو یا غیر اسلامی معاشرہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی عدل کو قائم رکھنے ہی میں سب کی بھلائی ہے،
    اللہ تعالی کی کلام مسلم اورغیرمسلم تمام کے لیے ہے، اس میں کائنات کی وسعتوں کی تمام نشانیاں ہیں اس میں زندگی گزارنے کے طور طریقے ہیں، مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر لازم کیا گیا اس کتاب کی تلاوت کرنا اور اسے سمجھنا اور اس پرعمل کرنا.
    اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اور ہمارے ملک کو اور ہماری عدالتوں کو انصاف پر قائم رکھے، ہرشخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف پسند ہو انصاف پسند افراد خوبصورت معاشرہ تشکیل دیتے ہیں خوبصورت معاشرہ خوبصورت قوم اور خوبصورت ریاست میں بدل جاتا ہے، خوبصورت معاشرے خوبصورت ریاستیں ظلم و زیادتی سے نہیں عدل و انصاف سے ہی قائم ہو سکتی ہیں،

    @zsh_ali

  • نواز شریف کی ملک دشمنوں سے ملاقات کیوں ؟؟  تحریر  :  ملک علی رضا

    نواز شریف کی ملک دشمنوں سے ملاقات کیوں ؟؟ تحریر : ملک علی رضا

    پاکستان اور افغانستان سیمت موجودہ خطے کے حالات کس طرف جا رہے ہیں یہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے سابق تین بار وزیر اعظم رہنے والے اور پاکستان کی عدالتوں سے مفرور پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک بڑی جماعت کے تا حیات نا اہل سربراہ میاں نواز شرف جو اس وقت لندن میں سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں انہوں نے افغانستان کے مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر حمد اللہ محب اور وزیر برائے امن و امان سید سعادت منصور نادر نے وفد کے ہمراہ لندن میں ملاقات کی ،یہاں یہ بات یاد رہے کہ افغانستان کے سکیورٹی ایڈوائزر حمد اللہ محب جو کہ گزشتہ کچھ مہینوں سے جب سے پاکستان نے امریکہ کو آنکھیں دیکھانا شروع کیں کہ ہم کسی قسم کی سرزمین نہیں دیں گے کو دوسرے ممالک کیخلاف استعمال ہو، تب سے اس شخص نے پاکستان نے گالیاں اور نازیبا الفاظ استعمال کیے جا رہاہے ۔ کابل انتظامیہ بھی اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہے وہ بھِی بار بار پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اورالزام تراشیاں کر ر رہے ہیں۔
    حمد اللہ محب نے پاکستان کو "چکلا” جیسے القابات سے بھی مخاطب کیا یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے تمام فورمز پر افغانستان کے مشیر قومی سلامتی سے ہر قسم کی تعلق کو ختم کر دیا اور افغانستا میں موجود اپنے عملے کو بھی احکامات جار کر دیے تھے کہ اس شخص سے کسی قسم کی ملاقات نہ کی جائے اور نہ ہی اس سے کوئی بات شئیر کی جائے، پھرحمد اللہ محب نے بیرون ممالک میں پاکستان کیخلاف احتجاجی مظاہرے بھی کروائے جن میں پاکستان مخالف نعرے درج تھے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔جب یہ ملاقات ہو رہی تھی تو دوسری جانب لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کی باہر سینکڑوں کی تعداد میں افغانی پاکستان مخالف احتجاجی مظاہر ہ بھیِ کر رہے تھےوہاں پر موجود عملے ہو حراساں کیا ، پاکستانی شہریوں پر تشدد کیا، مظاہرے میں پاکستان مخالف نعرے لگائے گئے اور نجانے کیا کچھ نہیں کہا گیا۔
    یہ بات جو سب سے اہم ہے یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور کروا کون رہا ہے تو جان لیجے حمد اللہ محب امریکہ کا پالتو ہے اور بھارتی نواز ایجنڈے پر مکمل عمل پیرا ہے اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے۔اور اس وقت وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں یہاں تک کہ افغان حکومت جو کچھ بھی کر رہی ہے وہ سب امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کی باہمی رضا مندی سے کر رہی ہے جو آرڈر ان کو دیا جاتا ہے یہ اس پر من وعن عمل کرتے ہیں۔
    باتیں بہت سی ہیں مگر فلحال آپ لوگوں کو بتانا یہ ہے کہ یہ ملاقات کیوں ہوئی ہے اور کس لیے کروائی گئی ہے ۔۔۔؟؟؟
    اس وقت پاکستان کے اندر بھارت کے تمام منصوبے پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں نےبُرے طرح ناکام بنا دیے ہیں ، جنکے ثبوت پوری دنیا سے سامنے رکھے جا چکے ہیں۔بھارتی وفد کی افغانی وفد سے اہم ملاقات ایک تیسرے ملک میں ہوئی جہاں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں اپنے مقاصد کو حل کرنے کے لیے سب سے اہم شخصیت کا استعمال کیا جائے کیونکہ وہ شخصیت اس وقت پاکستان کی حکومت، اسٹیبلیشمنٹ اور سکیورٹی اداروں کیخلاف برسر پیکار ہے۔اور وہ شخصیت ہے لند ن میں بیٹھے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف ، اس کام کے لیے مکمل ایجنڈا دے کر حمد اللہ محب کو بھیجا گیا ۔افغان عملے نے وہاں پہنچے سے پہلے لندن میں نواز شریف سےرابطہ کیا کہ ہمیں ملاقات کا شرف بخشا جائے تو نواز شریف انکے سامنے لیٹ گئے اور کہا حضور جب آپکا دل چاہے آپ آیں ہم ملاقات کے لیے حاضر ہیں۔
    یہاں کچھ سوالات ہیں جن کا جواب یا تو ن لیگ دے سکتی ہے یا پھر نواز شریف، سوال یہ ہے کہ
    پاکستان کو گالیاں دینے والے سے نواز شریف نے ملاقات کیوں کی ؟
    نواز شریف پاکستان کی عدالتوں میں مفرور ہیں پھر ان سے ملنے کا مقصد ؟
    نواز شریف نے اس ملاقات سے پہلے ن لیگ یا حکومت کو اعتماد میں لیا ؟
    نجانے اور کتنے ایسے سوالات ہیں جن کا جواب دینا نواز شریف کا کام بنتا ہے مگر وہ جواب کیا دیتے جب انکی بیٹی نے اس ملاقات کو کوئی اور ہی رنگ دے دیا کہ جواب مانگنے کی ضرورت نہ پڑے بہرحال یہ سوالات ہر پاکستانی کے دماغ میں ضرور ہیں۔
    اس ملاقات کی اندر کی کہانی کچھ یوں ہے کہ نواز شریف کو اب آنے والے دنو ں میں کچھ ایسے بیانات دلوانے جا سکتے ہیں جو کہ پاکستان کے وقار کو مجروع کیا جا سکتا ہے۔ ان میں نواز شریف کو بھاری پیشکش بھی کی گئی ہوگی کہ اگر وہ مکمل طور پر انکے ایجنڈے پر من و عن عمل کریں گے تو امریکہ انکو ریلیف دلوانے کے اقدامات کر سکتا ہےجس سے وہ بچ سکتے ہیں۔اب ان میں سرکاری راز بھی شئیر کیے جا سکتے ہیں جو کہ پہلے بھی نواز شریف اور مریم نواز دھمکا چکے ہیں کہ اگر یہ ہوا تو ہم وہ کردیں گے اور وہ کریںگے یہ بھی ممکنات میں سے ہے۔ ہمارے ذرائع کے مطابق پاکستان کو بین الاقوامی طور پر بدنام کرنے کے لیے ایک منظم پروپیگنڈہ کیا جائے گا جس سے پاکستان ایف اے ٹی ایف میں گرے لسٹ سے نکلنے میں مزید دشواریاں ہو سکتی ہیں۔دوسری جانب پاکستان کی اسٹیبلیشمنٹ اور سکیورٹی اداروں کو پیغام دیا گیا ہے کہ اب خیر منا لو آپکا تین بار کا وزیر اعظم رہنے والا نواز شریف اب ہمارے ہاتھ میں ہے ہم جو چاہیں گے اس سے کروایں گے اور اس میں کوئی دوسری آپشن نہیں کہ نواز شریف ایسا نہ کریں ۔
    پاکستان کے اہم راز وزیر اعظم کے پاس ہوتے ہیں اس لیے جو الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے کہ پاکستان طالبان کو سپورٹ کر رہا ہے اس الزام کو سچ بنانے کے لیے نواز شریف سے بیانات دلوائے جاسکتے ہیں۔
    پاکستان نے ہمیشہ سے افغانستان میں امن و امان کے لیے اپنی مصالحانہ کوشش کو سپورٹ کیا مگر کابل انتظامیہ کو ڈر یہ ہے کہ اگر کابل پر بھی افغان طالبان قبضہ کر لینگے تو انکی حکومت ختم ہوجائے گی اور اس طرح بھار کی اربوں ڈالر کی انوسٹمنٹ ڈوب جائے گیاور جو کچھ وہ کرتے ہیں پاکستان کیخلاف افغانستان کے ذریعے وہ سب عیاں ہوجائے گا اس لیے بھارت ہر وہ کوشش کرے گا جس سے پاکستان پر دباو پڑے اور لوگوں کا دھیان افغانستا ن سے ہٹے اور پاکستان کی جان ہوجائے۔
    نواز شریف کی اس ملاقات کیوجہ سے مسلم لیگ ن شدید تنقید کا سامنہ کر رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے نواز شریف کو ملک دشمن قرار دےدیا ۔

  • اس عید پر ہم نے کس چیز کی قربانی دی؟ . تحریر : محمد اسامہ

    اس عید پر ہم نے کس چیز کی قربانی دی؟ . تحریر : محمد اسامہ

    ہر سال کی طرح اس سال بھی عید الاضحٰی مذہبی جوش و جذبہ سے منائی گئی ہے. دنبہ، چھترا، بکرا، بیل اور اونٹ قربان کیے گئے ہیں. یہ تو واضح ہے کہ اللّٰه کو نہ ان کا خون چاہیے اور نہ ہی گوشت، وہ صرف تقویٰ دیکھتا ہے.

    ہمیں اپنے آپ پر غور و فکر کرنا چاہیے کہ جانور قربان کرنے کے ساتھ ہم نے اپنی ذات میں سے کن چیزوں کی قربانی دی ہے.
    کیا ہم نے اپنے برے اخلاق کی قربانی دی؟
    کیا ہم نے انا پرستی کی قربانی دی؟
    کیا ہم نے ناراضگی کو ختم کرنے کی قربانی دی؟
    ان سوالوں کے جوابات ضرور سوچیں.

    اصل میں قربانی کا مقصد ہی یہی ہے کہ اپنے ضمیر کی خرافات کو قربان کردیا جائے.

    qurbani

    @its_usamaislam

  • سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ دادی تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ دادی تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم
    سوشل میڈیا کے استعمال کے لی چند اخلاقی ضوابط جن کا خیال رکھ کر ہم خود کو اور دوسروں کو ذہنی کوفت سے بچا سکتے ہیں.
    *بہترین اور تعمیری مواد آپ لوڈ کریں
    *کاپی پیسٹ کی بجائے قوٹ یا ری ٹویٹ کریں
    *کسی کی تحریر کے ساتھ منقول ضرور لکھیں
    *شاعری لکھتے وقت شاعر کا نام ضرور لکھیں
    *آیت کا حوالہ آیت نمبر اور پارہ نمبر درج کریں
    *حدیث کا حوالہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ درج کریں
    *گالی سے پرہیز کریں
    *اور جہاں دلیل دینا لازم ہو ادب و احترام کے ساتھ دلیل دیں
    *اول تو خبر کی تصدیق ہو جانے تک خبر نہ دیں
    *اور اگر تصدیق کے بغیر خبر دیں تو ساتھ غیر مصدقہ ضرور لکھیں
    *سوشل میڈیا پہ آپکی ٹائم لائن آپ کا آئینہ ہے جیسی ٹائم لائن ویسی آپکی شخصیت ہے تو سوچ سمجھ کر شئیرنگ کریں
    *اگر آپکی دی گئی خبر یا تبصرہ سچ ثابت نہیں ہوتا تو اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معذرت کریں یا متعلقہ مواد حذف( ڈیلیٹ) کر دیں
    *اپنے اصل نام اور تصویر کے ساتھ اکاؤنٹ بنائیں
    *فیک اکاؤنٹ یا فرضی نام سے آپکی شخصیت چھپ جاتی ہے
    *بلا ضرورت اور بلا اجازت ان باکس میں میسج نہ بھیجیں
    *اپنی بائیو میں اپنی دلچسپی اور وابستگی کا اظہار لازم کریں تاکہ فالو کرنے والے کو معلوم ہو کہ آپکی وابستگی کا مرکز کیا ہے
    *سیاسی اور مذہبی اختلافات کا اظہار دلائل اور ثبوت کے ساتھ کریں نا کہ تلخ کلامی اور بدزبانی سے
    *ایسی موضوعات سے اجتناب کریں جن سے شر پھیلنے کا خدشہ ہو
    *اپنے عقائد کی ترویج ضرور کریں دوسروں کے عقائد کی نفی اور توہین کے بغیر
    *ہنسی مزاح کے موضوعات میں لغو زبانی اور فحش گوئی شامل کر کے اپنی شخصیت متاثر نہ کریں
    *تنقید برائےتنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح کریں
    *تنقید کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ ہر شخص کی ذاتی پسند نا پسند ہے اور رائے کا اظہار کرنا اسکا حق ہے
    *اپنے قومی اور ملکی معاملات پہ دفاعی غرض تحریر پاجائیں
    جہاں اپنی قوم کی اصلاح ممکن ہو اردو زبان میں تحریر کریں
    *سچ کا ساتھ دیں چاہے وہ آپ کے عقیدے آپکی سیاسی وابستگی کے مخالف شخص ہی کیوں نہ ہو.

    *جب بحث طول پکڑے اور فضول ہونے لگے تو وسلام کہہ کر گفتگو سمیٹ دیں
    *ممکن ہو تو گالی کے جواب میں گالی کی بجائے بلاک کا بٹن استعمال کریں.
    یہ نکات سوشل میڈیا پہ آپ کی ویلیڈٹی تو بڑھائیں گے ہی ساتھ آپکو بہترین وقت صرف کرنے کا موقع ملے گا.

    @hsbuddy18

  • کیا منٹو کو صفیہ سے محبت تھی؟ تحریر:طاہرہ

    کیا منٹو کو صفیہ سے محبت تھی؟ تحریر:طاہرہ

    منٹو اس معاشرے کے حساس اور نامور لکھاری کہیں نا کہیں اپنی ہی بہتر نصف کے معاشی تقاضوں کو نظر انداز کرتے رہے

    صفیہ نے کیا نہیں کیا تھا منٹو کیلئے جب منٹو سے ان کی شادی ہوئی تو منٹو کے پاس سوائے "منٹو”نام کے کچھ نہیں تھا زبردستی حاصل کئے گئے کہانی کے معاوضے جو کہ قریباً پانچ سو روپے تھا صفیہ نے انکے ساتھ زندگی کی شروعات کی. وہ حسین دور کہ جب ایک لڑکی اپنی آنکھوں میں حسین خواب سجاتی ہے صفیہ کو منٹو نے سوائے ادھار کی روٹی کے کیا دیا

    سعادت حسین منٹو کہتے ہیں
    "مگر یہ بھی تو سوچو کہ صفیہ نا ہوتی تو منٹو کیسے ہوتا کیا صابر عورت تھی کہان طعنوں اور نشے سے چورپچیس روپے کا ایک کہانی فروش کہاں صفیہ یہ دس روپے آپ کی بوتل کے پانچ روپے آپ کے آنے جانے کے اور یہ دس اس میں گھر کا خرچا چل جائے گا آپ بلکل پریشان نا ہوں میں ہوں نا……. ”
    آہ منٹو آہ وہ لکھاری جو عورت کے مدوجزر سے لے کر اسکی خواہشات تک پر لکھ لیتا تھا اپنی عورت کا درد اسکی تمنائیں نا سمجھ پایا منٹو کیلئے بوتل عزیز تھی صفیہ نہیں جب معلوم تھا مشکل ہے تو کیا منٹو کا حق بنتا تھا کہ جو پچیس روپے کماتے اس میں سے دس روپے اپنی شراب نوشی پر خرچ کرتے. کیا شراب انکے لئے اپنی تین ننھی پریوں سے زیادہ افضل تھی کیا منٹو کو صفیہ کا ساتھ ایسے نہیں دینا چاہیے تھا جیسے صفیہ نے دیا.
    صفیہ نے کیا نہیں کیا انکو شراب نوشی سے بچانے کیلئے شوہر کو سمجھایا انکی منت ترلے کیلئے گھنٹوں پہرا دیتی کہ شراب نا پئیں حتیٰ کہ مینٹل ہسپتال میں علاج کے غرض سے داخل بھی کروادیا ادبی محفلوں میں انکے ساتھ جاتیں کہ رستہ نا بھٹک جائے مگر منٹو نا بدلے یہاں تک کے صفیہ کے گھر میں غربت اور اداسی نے ڈیرے ڈال دئیے.
    محبت کی معراج تو صفیہ نے پائی منٹو جو اس معاشرے کے ناسور سماج کو دکھاتے اپنی زوجہ کے روح پر لگے زخم نا دیکھ سکے نگہت نصرت اور نزہت کی آنکھوں کی ویرانی نا دیکھ سکے
    منٹو سے مایوس ہوکر ایک ماں نے اپنے بچوں کی تربیت میں پناہ ڈھونڈی صفیہ بہت ہمت اور جرات والی تھی کہ جس نے اپنے مزاج خدا کی نظر اندازی کو اپنی طاقت بنایا اپنی بچیوں کی پرورش کی انکی شادیاں کی اس تمام عرصے میں نا "منٹو” کا نام نا اسکے نام سے ملنے والی رائلٹی اس کے کوئی کام آئی صفیہ منٹو کی محبت نا تھی بس
    آج منٹو کا نام ہر جگہ گونجتا ہے مگر صفیہ کہیں نہیں ہے مگر یہ بات درست ہے کہ اگر صفیہ نا ہوتی تو منٹو نا ہوتا.

    @Chiishmish

  • پیسے کو سلام  تحریر:  محمد احسن گوندل

    پیسے کو سلام تحریر: محمد احسن گوندل

    شام ہوتے ہی شیخ صاحب کی بیٹھک میں گاؤں کے تقریباً تمام بڑے بڑے چوہدری بیٹھے ہوتے تھے۔کسی نے کوئی بھی کام شروع کرنا ہوتا نیا گھر بنانے سے لیکر بچوں کی شادی تک سب شیخ صاحب کے مشورے سے ہوتا۔ ان کو ایک بار اطلاع کرنی ہوتی یہ سب سامان ان کے گھر پہنچا دیتے چاہے کسی کے بچے کی شادی ہو یا کسی کا کوئی فوت ہوا ہو۔ یہ ایک قسم کے ان کے فنانس منسٹر لگتے تھے۔
    گاوں میں کسی خوشی یا غمی پر یہ خود لوگوں کے گھروں میں پہنچ جاتے اور ہر طرح کی ضروریات پوری کرتے۔
    کسی بھی محفل میں شیخ صاحب کے آنے پر ان کو خصوصی پروٹوکول دیا جاتا آؤ بگھت کی جاتی۔
    ان کے گھر اکثر ان کے رشتہ دار بچوں سمیت مہینوں رہتے تھے۔
    یہ پیشے کے لحاظ سے ایک بیوپاری تھے اپنے اور آس پاس والے گاؤں سے گندم اور مونجی (دھان) خریدتے تھے اور آگے منڈی میں بیچ دیتے ساتھ میں ایک بہت بڑی کریانے کی دوکان بھی تھی۔ پورے گاؤں کے لوگ اپنی خوشی غمی میں ان کی دوکان سے کھانے پینے کا تمام سامان لے جاتے اور پھر سال سال بعد انکو رقم لوٹاتے۔
    یہ اتنے پڑھے لکھے نہیں تھے اور بچے بھی ابھی چھوٹے تھے ان کا کاروبار اتنا بڑھ چکا تھا کہ انکے لیے اکیلے سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا۔ دو تین بڑے چوہدری جو ان کے زیادہ قریب تھے وہ ان کے کاروبار میں صلاح مشورے دینے لگے اور ہر اسی کام کا مشورہ دیتے جو ان کے اپنے مفاد میں ہوتا۔ کم پڑھے لکھے ہونے کیوجہ سے یہ احساب کتاب میں مار کھا گئے اور آستہ آہستہ یہ گھاٹے میں جانے لگے اور پھر ایک وقت آیا کہ وہ بہت بڑی رقم کے قرض دار ہوگئے۔
    یہ بات بہت جلد پورے گاؤں میں پھیل گئی اور سب سے پہلے جو ان کے زیادہ قریبی تھے جن پر شیخ صاحب کے بہت سے احسانات تھے انہی لوگوں نے اپنی فصلیں انکو بیچنے سے انکار کر دیا پھر دیکھتے ہی دیکھتے کوئی بھی ان کو اپنی فصل بیچنے کو تیار نہ ہوا۔یوں انکا پورا کاروبار بیٹھ گیا۔
    ان سب نے ایک دم سے ایسے آنکھیں پھیری کہ جیسے شیخ صاحب کو جانتے ہی نہ ہوں ۔انہی چوہدریوں نے انکوں اتنا تنگ کیا کہ اپنے بچے چھوڑ کر گاؤں سے جانا پڑا۔
    وہ جنکے بچوں کی فیسیں بھرتے تھے پھر انکی شادیوں کا خرچہ اٹھاتے تھے انہوں نے ان کے بچوں پر بھی ترس نہیں کھایا اور شیخ صاحب کے بچوں کو گھیسٹتے ہوئے گھر سے باہر نکال کر قبضہ کر لیا۔ ان کے بچے اب اسی اپنے گھر کے سامنے گودام میں رہتے ہیں۔
    اب دور کے رشتے دار تو الگ بات ان کے سگے بھی ان کے گھر کی طرف منہ نہی کرتے۔ میری ان سے ایک بار بس میں ملاقات ہوئی میں نے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ذکر کیا تو کہنے لگے بس پیسے کو ہی سلام ہے پیسا تھا تو رشتے دار بھی بہت تھے اور صلاح گیر بھی اب در بدر دکھے کھا رہا ہوں کوئی پوچھتا تک نہیں۔
    یہی حقیقت ہے اس دنیا کی لوگ آج کل کسی کو اہمیت اسکی مالی حثیت دیکھ کر دیتے ہیں جس کے پاس پیسہ سب اسی کے ہیں۔
    میری دعا ہے اللہ شیخ صاحب پر اپنا خصوصی کرم فرمائے اور انکی مشکلیں آسان فرمائے۔
    آمین ثم آمین

    @ahsangondalsa

  • پاکستان اور افغانستان  کے دوران سیریز ستمبر میں کھیلی جائے گی ،افغانستان نے کھلاڑیوں کااعلان کر دیا

    پاکستان اور افغانستان کے دوران سیریز ستمبر میں کھیلی جائے گی ،افغانستان نے کھلاڑیوں کااعلان کر دیا

    پاکستان اور افغانستان کے دوران سیریز ستمبر میں کھیلی جائے گی-

    باغی ٹی وی : افغانستان نے پاکستان کے خلاف ایک روزہ میچز کی سیریز کیلئے اپنے 17رکنی سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے بائیں ہاتھ کے بلے باز حشمت اللہ شہیدی کو ٹیم کی قیادت سونپی گئی ہے جبکہ رحمت شاہ کو ٹیم کا نائب کپتان بنایا گیا ہے ۔ سکواڈ میں عبدالرحمن، فضل حق فاروقی ، ابراہیم زدران ، اکرام علی خیل ، کریم جنت، محمد نبی ، مجیب الرحمان ، نجیب اللہ زدران ، نوین الحق، نور احمد ، رحمت اللہ گرباز ، راشد خان ، صدیق اللہ ، شاہد کمال شامل ہیں ۔

    قیس احمد، سلیم صافی ، شراف الدین اشرف اور یوسف زازئی بھی سکواڈ کا حصہ ہیں جو ریزرو کھلاڑی کے طور پر شامل ہیں حیران کن طور پر مڈل آرڈر اور تجربہ کار بلے باز اشغر افغان کو سکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔

    ہمسایہ ممالک پہلی مرتبہ ایک دوسرے کے خلاف سیریز میں آمنے سامنے ہوں گے ، دونوں ممالک اس سے قبل آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ہی ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اترے ہیں ۔

    پاکستان اور افغانستان اب تک چار ایک روزہ میچز میں ایک دوسرے کے مقابل آچکے ہیں جہاں پاکستان چاروں میچز میں فتح یاب ہوا ہے ، اس میں آئی سی سی ورلڈ کپ 2019 کا میچ بھی شامل ہے جو ہیڈنگلے میں کھیلا گیا اس میچ میں پاکستان سنسنی خیز مقابلے کے بعد تین وکٹوں سے جیتا تھا۔

  • 16جون کے بعد پہلی بار بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ

    16جون کے بعد پہلی بار بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ

    16جون کے بعد پہلی بار بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ ہفتوں میں بٹ کوائن کی قیمت 60 ہزار ڈالرز سے کم ہوکر 30 ہزار ڈالرز تک پہنچ گئی تھی تاہم ایمزون کا ایک اعلان ڈیجیٹل کرنسی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا سبب بن گیا ہے26 جولائی کو بٹ کوائن کی قیمت میں 12.5 فیصد کا اضافہ ہوا اور وہ کچھ وقت کے لیے 64 لاکھ پاکستانی روپوں تک پہنچ گئی۔

    ایمزون کی جانب سے گزشتہ ہفتے ڈیجیٹل کرنسی اینڈ بلاک چین پراڈکٹ لیڈ کی ملازمت کا اشتہار سامنے آیا تھا، جس کے بعد دنیا میں یہ خبر پھیل گئی کہ ایمزون کرپٹو کرنسی کے حوالے سے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

    ایمازون کے سرابرہ جیف بیزوس کی خلا سے زمین پر واپسی روکی جائے، پیٹیشز پر41000…

    رپورٹ کے مطابق کمپنی کی جانب سے دیگر کرنسیوں کو قبول کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے جبکہ کمپنی2022 میں اپنی ڈیجیٹل کرنسی بھی متعارف کرا سکتی ہےاس کا آغاز بٹ کوائن سے ہوگا جو کرپٹو پراجیکٹ کا اہم ترین ابتدائی مرحلہ ہوگا اور یہ ہدایات براہ راست جیف بیزوز کی جانب سے آئی ہیں۔

    ایمزون کی جانب سے بٹ کوائن کو قبول کرنے سے عالمی سطح پر ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔

    ایک ٹوئٹ نے ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا

    اس سے پہلے برقی گاڑیاں بنانے والے کمپنی ٹیسلا کے بانی ایلون مسک نے بھی اپنی گاڑیوں کے لیے ڈیجیٹل کرنسی قبول کرنے کا بیان دیا تھا، جس کے بعد بٹ کوائن کی قیمت آسمان چھونے لگی تھی۔

    چین کیجانب سے کریک ڈاؤن میں توسیع کیوجہ سے بٹ کوائن پھر گراوٹ کا شکار

    تاہم کچھ عرصے بعد انہوں نے یوٹرن لے لیا لیکن اب حالیہ دنوں میں ہونے والی ” بی ورلڈ ” کانفرنس میں ایلون مسک نے کہا ہے کہ ٹیسلا بٹ کوائن کو دوبارہ قبول کرنا شروع کر سکتا ہے۔

    بٹ کوائن کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری، نئی پابندیوں کےبعد قیمت زمین پر آگئی

  • امام مسجد کی عزت    تحریر: وقاس محمد

    امام مسجد کی عزت تحریر: وقاس محمد

    والدین سے پوچھ کہ آپ کی خواہش کیا ہے کہ آپ کا بچہ بڑا ہو کر کیا بنے، تو جواب ہو گا… ڈاکٹر ،انجینئر، جج، وکیل، ٹیچر، بزنس مین وغیرہ وغیرہ پر 1 بھی ایسا نہیں ہو گا جو چاہتا ہو کہ اس کا بچہ مولوی بنے اسی طرح بچوں سے پوچھیں کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں تو انکا جواب بھی آپکو یہی ملے گا کہ وہ فوجی، ٹیچر، پائیلٹ، ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ بننا چاہتے ہیں
    جو بچہ ہمارا کسی کمی یا معذوری کا شکار ہو اسکو ہم مدرسہ مولوی بننے بھیج دیتے ہیں سچ میں اگر آپ دیکھیں گے تو آپ کو ایسے بچے ہی ملیں گے مدارس میں

    ایسا اس لئے ہے کہ ہم بس برائے نام امام مسجد یا مولوی کی عزت کرتے ہیں اصل میں ہمارے معاشرے میں مولوی صاحب کی کوئی عزت نہیں ہم آٹھ دس ہزار تنخواہ پر امام مسجد رکھتے ہیں اور کبھی شادی بیاہ یا فوتگی کے موقع پر انہیں پانچ سو ہزار دیکر بڑا احسان کرتے ہیں اور مذید دیکھیں کہ خطبہ نماز جمعہ یا عید کے موقع پر آپکو نظر آئے گا کہ مولوی صاحب کی طرف سے باقاعدہ سب کے سامنے چادر پھیلا کر چندہ مانگتے نظر آئیں گے
    ایک وقت ہوتا تھا جب مولوی صاحب یا امام صاحب جس محفل میں ہوتے تھے انہیں سب سے اہم جگہ پر بٹھایا جاتا تھا اور انکی حیثیت مہمانِ خصوصی جیسی ہوتی تھی جبکہ اب مولوی صاحب آپکو ایک کونے میں بیٹھے نظر آئیں گے بلکہ ہم کہہ دیتے ہیں کہ حافظ صاحب کو الگ جگہ بٹھاو وہ ختم درود پڑھیں اور دعا کر کے چلتے بنیں…

    آخر کیا ہے اسکی وجہ…
    میری نظر میں اسکی دو وجوہات ہیں
    پہلی تو یہ کہ اسلام میں مولوی جیسا کوئی عہدہ ہے ہی نہیں یہ ہماری کمزوری ہے کہ امامت کرانا، نکاح پڑھانا، جنازہ پڑھانے جیسے کام جو ہر مسلمان کو آنے چاہیئے ہم نے اپنی کمزوری کے بدلہ ایک بندہ مولوی یا امام مسجد کی زمہ داری لگا دی ہے
    دوسری سب سے اہم اور بڑی وجہ علماء اکرام اور آئمہ اکرام خود ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ بڑے بڑے علماء اور مشائخ انکی زندگی کا جائزہ لیں تو وہ خود بھی کام کرتے تھے اور اپنا روزگار ہوتا تھا ان کا، مدارس یا خان گناہوں کی زیر نگرانی کھیتی باڑی ہوتی تھی وہ بجائے خود ہاتھ پھیلانے کے کمزوروں اور مصیبت زدوں کی داد رسی کرتے تھے مسلم اور غیر مسلم ان سے متاثر ہو کر اسلام کی طرف راغب ہوتے تھے جبکہ اب ہمارے علماء، مولوی، آئمہ آپکو چندہ مانگتے نظر آتے ہیں

    تو کیسے ہو گی مولوی/امام مسجد کی عزت؟ کون بنانا چاہے گا اپنے بچے کو مولوی یا امام مسجد؟ کون ایسے چندوں پر رہنے والا مولوی یا امام مسجد بننا چاہے گا؟؟

    باتیں میری سخت ہیں ہو سکتا آپ کو پسند ناں آئیں لیکن یہی حقیقت ہے ہم اس سے جتنا بھی منہ پھیر لیں
    @WailaHu

  • فیمینسٹ   تحریر انعم نوید

    فیمینسٹ تحریر انعم نوید

    میں بھی فیمینسٹ ہوں. مگر میرا تعلق میرا جسم میری مرضی، اپنا کھانا خود گرم کرو اور میں تو ایسے ہی بیٹھوں گی جیسے نعروں کی علمبردار خواتین سے نہیں ہے. میرا جسم میرے خالق کی مرضی. جو میرے اللَّه نے مجھے حکم دیا ہے میں اِس جسم کو ویسا ہی رکھوں گی کیونکہ یہ جسم میرے پاس امانت ہے.

    گزشتہ دنوں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ایک انٹرویو میں دیے بیان پر بہت واویلا مچا. آزادی پسندوں نے اس سے متعلق سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بھی چلایا اور احتجاج بھی ریکارڈ کرایا. سوال یہ اُٹھتا ہے کہ وزیراعظم کے بیان میں ایسا کیا تھا کہ اتنا واویلا مچا.

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ، "اگر خواتین کم کپڑے پہنیں گی تو اِس کا اثر مرد پر ہو گا اگر وہ روبوٹ نہیں ہیں.” پھر اُنہوں نے مغربی اور مشرقی معاشرے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ، "مغرب میں ڈسکو اور نائٹ کلبز ہوتے ہیں جو کہ ایک بالکل مختلف رہن سہن اور معاشرہ ہے. مشرقی معاشرے میں یہ سب نہیں ہوتا. اِس وجہ سے یہاں اگر مرد کی شہوت کو اُبھارا جائے گا تو وہ اُس کی تسکین کے لیے اِسی معاشرے میں راہ ڈھونڈے گا. اور اِس کا اثر معاشرے پر پڑے گا.”

    سوال یہ اُٹھتا ہے کہ یہ بیان کس حد تک درست ہے. تجزیاتی نگاہ سے دیکھا جائے تو ہماری معاشرتی اقدار کے حوالے سے یہ بیان بالکل درست ہے.

    اِس بات کے حق بجانب ہونے میں شبہ کی گنجائش نہیں کہ زیادتی اور جنسی ہراسگی کے واقعات کا عورت کے لباس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں. ایک عورت اپنی ذاتی زندگی میں مرضی کی مالک ہے اگر وہ اللَّه کا حکم نہیں ماننا چاہتی. مگر عورت مرضی کا لباس پہن کے جنسی ہراسگی اور زیادتی کی مستحق نہیں.

    مگر ایک حقیقت یہ ہے کہ کپڑوں کا تعلق بالواسطہ مردوں کی نفسیات سے جڑتا ہے. جب ایک ایسا مرد، جس کی کوئی اخلاقی تربیت نہیں ہوئی، اپنے اردگرد چھوٹے یا کم لباس والی خواتین کو دیکھے گا تو یقیناً اُس کی ہوس کو ہوا ملے گی. اُس سے دماغ میں ہیجان کی کیفیت طاری ہو گی. اور ہمارے جیسے معاشرے میں، جہاں نہ ڈسکو ہیں نہ نائٹ کلبز، وی اپنی ہوس پوری نہیں کر سکے گا. تو اِس کا نتیجہ بہت ہولناک نکلے گا. کیونکہ پھر اُس درندہ صفت مرد کے لیے رنگ، نسل، عمر اور صنف کا فرق ختم ہو جائے گا. وہ کسی بھی کمزور انسان کو اپنی درندگی کا نشانہ بنائے گا.

    یہاں پر علمِ نفسیات کا ایک مضمون سایئکلاجیکل ڈسپلیسمنٹ اِس کی مزید وضاحت کرتا ہے.

    کیونکہ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، اس لیے اِس معاملے کا اسلامی پہلو دیکھا جائے تو قرآن کریم کی سورۃ النور کی آیت نمبر ٣١ کا ترجمہ کچھ یوں ہے:
    "مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں. اور اپنی زینت کو کسی پر ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے. اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال دیں.”

    قرآن کریم کا یہ حکم مومن خواتین کے لیے ہے. لیکن اِس آیت سے ایک آیت پہلے یعنی سورۃ النور کی آیت نمبر ٣٠ کا حکم کچھ یوں ہے:
    "مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں. یہی اِن کے لیے پاکیزگی ہے. لوگ جو کچھ کریں اللَّه تعالیٰ اُن سے خبردار ہے.”

    یہ دو آیات اِس پورے معاملے کی وضاحت کرنے کے لیے کافی ہے.سب سے پہلے مرد اور عورت دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے.

    یعنی اصل مسئلہ ہی اِن نگاہوں کا ہے. دیکھنے سے اگر ہیجان برپا نہ ہوتا تو فحش ویب سائٹس کا تو کام ہی تمام ہو جاتا اور بھوکے کو کھانا دیکھ کر کبھی منہ میں رال نہ آتی.

    یا اِس کو ایسا کہہ لیں کہ ملبوسات کی دکانوں میں سب سے دلکش جوڑے دکان کے داخلی حصے پر نمائش کے لیے آویزاں نہ کیے جاتے. یہ نمائش ہی انسان میں خریداری کی خواہش پیدا کرتی ہے.

    دوسرے نمبر پر اللَّه تعالیٰ نے مرد اور عورت دونوں کو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے. کیونکہ اگر نگاہوں کی حفاظت کے باوجود نگاہ پڑ بھی جائے تو خود کو پاکیزہ رکھنے کے لیے حفاظت اور احتیاط ضروری ہے.

    پھر تیسرے نمبر پر ایک حکم عورتوں کو زائد دیا گیا ہے. اور وہ یہ ہے کہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں اور اوڑھنیاں گریبانوں پر ڈال لیں.
    اب غور طلب بات یہ ہے کہ یہ حکم مردوں کو کیوں نہیں ملا؟ اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ زینت یا سجاوٹ ہے ہی عورت کے پاس اور اسی کو چھُپانے کا حکم دیا گیا ہے. تاکہ معاشرہ شر اور ہیجان سے پاک رہے.

    اہم بات یہاں پر یہ ہے کہ عورتوں کے متعلق حکم سے پہلے اللَّه تعالیٰ نے مردوں کو حکم دیا ہے کہ نگاہیں نیچی رکھو. کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہر معاشرے میں صرف مسلمان عورتیں ہی بستی ہوں جو کہ پردہ بھی کرتی ہوں. یہ حکم اِس لیے ہے کہ کسی بھی عقیدہ، قومیت یا مذہب کی عورت شر سے محفوظ رہ سکے. کیونکہ مردوں سے سوال آخرت میں اُن کی نگاہوں بارے ہونا ہے.

    فیمینزم کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ معاشرہ مادر پدر آزاد ہے. قطع نظر مذہب ہر معاشرے کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور کچھ پابندیاں ہوتی ہیں. مادر پدر آزادی کا کوئی بھی معاشرہ متحمل نہیں ہو سکتا.

    فیمینزم کا تعلق عورت کے بنیادی حقوق کے ساتھ ہے. جِسے مادر پدر آزادی کے علمبرداروں نے ہائی جیک کر لیا ہے جو کہ برابری کا نعرہ لگاتے ہیں. جبکہ مسئلہ برابری سے بڑھ کر توازن کا ہے.

    قرآن کریم میں جِس وجہ سے مرد کو افضل قرار دیا ہے وہ اپنے خاندان کی حفاظت اور بےدریغ قربانیاں ہیں. جبکہ ایک عورت تخلیق کے مراحل سے گزرتی ہے اور ایک انسان کو پیدا کرتی ہے. اِس لیے اُس کے قدموں تلے جنت رکھی گئی ہے.

    یہ فضیلت تنقید کرنے والوں کو نظر نہیں آتی. پھر عورت نسلوں کی تربیت کی ذمہ دار ہے. مرد جس نسل کو پالنے کی وجہ سے افضل ہے, اُس نسل کو پیدا کرنے اور تربیت کی ذمہ دار عورت افضل کیوں نہیں ہے. حقیقتاً سب کا اپنا مقام اور ذمہ داری ہے جس کا اُسی سے سوال ہونا ہے. جیسا کہ قرآن کریم کی سورۃ النساء کی آیت نمبر ٣٢ میں کہا گیا ہے:

    "اور اِس چیز کی آرزو نہ کرو جس کے باعث اللَّه تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے. مردوں کا اُس میں سے حصہ ہے جو اُنہوں نے کمایا، اور عورتوں کے لیے اُن میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا. اور اللَّه تعالیٰ سے اُس کا فضل مانگو. یقیناً اللَّه ہر چیز کو جاننے والا ہے.
    میں پھر سے یہاں اِس بات کو واضح کر دوں کہ بلاتفریق رنگ، نسل، قومیت، حُلیہ اور مذہب کوئی عورت جنسی زیادتی اور ہراسگی کی مستحق نہیں. لیکن معاشرے کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے عورت اور مرد دونوں کو اپنا کردار نبھانا ضروری ہے. جنسی زیادتی اور ہراسگی جیسے واقعات تبھی ختم ہو سکتے ہیں جب سب اپنی اپنی اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داریاں پوری کرے. خلاصہ یہ ہے کہ اپنے بچوں، خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا، کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت کیجئے تاکہ وہ ایک ذمہ دار شہری بن سکیں.

    @NaimatRehmn