Baaghi TV

Category: بلاگ

  • فضیلت النساء : تحریر احسان اللہ خان

    فضیلت النساء : تحریر احسان اللہ خان

    اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کو ذلت وپستی کے گڑھوں سے نکالا جب کہ وہ اس کی انتہا کو پہنچ چکی تھی، اس کے وجود کو گو ارا کرنے سے بھی انکار کیا جارہا تھا تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا۔ اور اس زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی وملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے، اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں سونپیں۔
    حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے 1963عیسویں میں افریقہ میں منعقدہ جلسہ میں فضیلت النساء کے عنوان پر خطاب فرمایا۔
    حضرت نے سورۃ آل عمران کے تین آیتیں تلاوت کی اس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کا ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے ۔جس میں فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو خطاب فرمایا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ عورتوں کے بھی وہی حقوق ہیں جو مردوں کے ہیں۔ بلکہ بعض امور میں مردوں سے عورتوں کا حق زیادہ ہے۔ اسلئے کہ بچوں کی تربیت میں سب سے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے۔ اسی سے بچہ تربیت پاتا ہے۔ سب سے پہلے اسی سے سیکھتا ہے۔ باپ کی تربیت کا زمانہ شعور کے بعد آتا ہے۔ لیکن ہوش سنبھالتے ہی بلکہ بے ہوشی کے زمانے میں بھی ماں ہی اس کی تربیت کرتی ہے۔ گویا کہ اس کا تربیت گاہ ماں کی گود ہے۔ اگر ماں کی گود علم، نیکی، تقوی اور صلاحیتوں سے بھری ہوئی ہے تو وہی اثر بچے میں آئے گا اور اگر خدانخواستہ ماں کی گود ہی ان صلاحیتوں سے خالی ہے تو بچہ بھی خالی رہ جائے گا۔
    کسی فارسی شاعر نے کہا ہے
    خشت اول چوں نہد معمار کج
    تا ثریا می رود دیوار کج
    ”کہ جب عمارت کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی جائے تو آخر تک عمارت ٹیڑھی ہوتی چلی جاتی ہے۔ شروع کی اینٹ اگر درست رکھ دی جائے تو آخر تک عمارت سیدھی چلی جاتی ہے“جس کا آغاز اور ابتداء درست ہو جائے۔ اس کی انتہا بھی درست ہو جاتی ہے۔ اس واسطے میں عورتوں کا مردوں سے زیادہ حق بنتا ہے۔ اور ہم اسی حق کو زیادہ پامال کررہے ہیں۔ مرد تو ہر جگہ موجود ہے۔مگر عورتوں کو سنانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اگر عورتیں مردوں کے حکم سے آتی ہیں تو مردوں کا شکریہ اور اگر از خود آتی ہیں پھر ان کے دینی جذبے کی داد دینی چاہئے کہ ان کے اندر بھی از خود ایک جوش و جذبہ ہے کہ دین کی باتیں سیکھیں اور معلوم کریں۔
    بہرحال سب سے زیادہ خوشی یہ ہے کہ ان کے اندر دین کی طلب ہے۔ اگر از خود پیدا ہوئی تو وہ شکرئیے کی مستحق ہیں۔ اور اگر طلب پیدا کی گئی ہے۔ تو اس طلب پیدا کرنے والے بھی اور جنہوں نے اس کو قبول کیا وہ بھی شکریئے کے مستحق ہیں۔ اسی واسطے سے میں نے کہا کہ مردوں سے عورتوں کا حق زیادہ ہے اسلئے کہ زندگی کی ابتداء یہی سے ہوتی ہے۔

    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، زحمت نہیں  تحریر: سیدہ بنت زینب

    بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، زحمت نہیں تحریر: سیدہ بنت زینب

    ہر انسان قادر مطلق خدا کی مخلوق ہے، تمام انسانی دماغ خدا کی طرف سے تحفہ ہیں. جب اللّٰہ تعالٰی اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللّٰہ کے آخری نبی ہونے کے باوجود اپنی بیٹیوں سے پیار کرتے تھے تو تمام انسانوں کو بیٹیوں پر مہربان ہونا چاہیے اور ان سے رحم کا معاملہ کرنا چاہیے.
    محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”جو شخص لڑکیوں کے بارے میں آزمایا جائے یعنی اس کے یہاں لڑکیاں پیدا ہوں اور پھر وہ ان سے اچھا سلوک کرے ، انہیں بوجھ نہ سمجھے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے دوزخ کی آگ سے ڈھال بن جائیں گی” (مشکوۃ شریف)
    اسلام میں بیٹیوں کو”رحمت” اور بیٹوں کو "نعمت” کہا گیا ہے. نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "خوش نصیب ہے وہ عورت جسکی پہلی اولاد بیٹی ہو” اسی طرح کسی اور جگہ پڑھا تھا کہ ” اللّٰہ پاک جس سے خوش ہوتے ہیں اسے بیٹی عطا کرتے ہیں اور جسے خوش کرنا ہو اسے بیٹا عطا کرتے ہیں”. ہم نے اکثر اپنے اردگرد دیکھا ہو گا کہ عموماً بیٹوں کی پیدائش پر بہت زیادہ خوشیاں منائی جاتی ہیں جبکہ اگر انہی کے گھر بیٹی پیدا ہو جائے تو سارا گھرانہ افسوس کرتا ہے، غم مناتا ہے. ایسے لوگوں سے عاجزانہ گزارش ہے کہ اگر آپ بیٹیوں کے پیدا ہونے پر خوشی نہیں منا سکتے تو کم از کم غم بھی نہ کریں کیونکہ بیٹیوں کو اللّٰہ کی رحمت کہا گیا ہے اور اسی رحمت کے صدقے اللّٰہ پاک اکثر اپنی نعمتوں کے خزانے کھول دیا کرتے ہیں.
    میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں کہ بہت ساری وجوہات ہیں جن کی وجہ سے بیٹیوں سے نفرت کی جاتی ہے. ان میں سے سب سے اہم جہیز ہے چونکہ یہ دراصل جہیز درمیانے طبقے کے گھرانوں کے لئے سب سے پریشانی والا عنصر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان کی بیٹی کی شادی کے لیے انکے پاس کوئی وسائل نہیں ہوتے، ایسے خاندانوں میں ان کی بیٹیوں کی پیدائش کے ساتھ ہی انکے قتل کا زیادہ امکان ہوتا ہے.
    جہیز صرف ایک نحوست ہے، جس کی نحوست کا شکار گھروں میں بالغ و کنواری لڑکیاں ہورہی ہیں، والدین اپنی خوشی سے جو چاہے دے سکتے ہیں لیکن مجبور کرنا یا رسم و رواج بنا دینا کہیں سے بھی درست نہیں…..!
    "ہاں! بیٹی نہیں بلکہ جہیز ایک لعنت ہے، اور جہیز کی روایت، بیٹی کے بجائے قتل کی جانی چاہئے!”
    دوسری بڑی وجہ جو بیٹیوں کو زحمت سمجھنے میں سرفرست ہے وہ مجھے یقین ہے کہ "پرانی روایتی سوچ” ہی ہے. یہی پرانی سوچ بیٹیوں اور خواتین کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے. "مرد ہمیشہ خواتین سے بہتر ہوتے ہیں” یہ یقینی طور پر ایک غلط فہمی ہے اور اسے جلد ہی معاشرے سے ختم ہوجانا چاہئے.
    میرے والدین کہتے ہیں کہ بیٹی خدا کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور انہیں آزادی، پیار، عزت، احترام سب دیا جانا چاہئے اور آزادی کی زندگی تمام مخلوقات کا حق ہے. الحمدللہ میرے والدین نے مجھے شروع سے ہی بہت پیار دیا ہے، بیٹیوں کو تمام آزادیاں دی ہیں، انہوں نے بیٹوں سے بڑھ کر بیٹیوں کی پرورش کی ہے، انہیں پیار اور مقام دیا ہے.
    خواتین ہی اگلی مضبوط اور پرجوش رہنما ہیں جن کو آزادی، عزت، پیار، احترام اور آگے بڑھنے نے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں تبھی ہمارا ملک حقیقی معنوں میں ترقی کر سکتا ہے. جیسا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا قول ہے: "دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے انسانیت کے مجرم ہیں.”
    جب ہم اپنی خوشی سے بیٹیوں کو بیٹوں جتنا آگے بڑھنے کا موقع دیں گے تو یقیناً وہ آپکا نام دنیا کے ہر مقام پر اونچا کرتے ہوئے اپنے ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں. بس آخر پر یہی کہنا چاہوں گی کہ بیٹیاں اللّٰہ کی رحمت ہوتی ہیں، زحمت یاں لعنت نہیں.

    @BinteZainab33

  • ‏محنت، کامیابی کی کلید ہے  تحریر:   جہانتاب احمد صدیقی

    ‏محنت، کامیابی کی کلید ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    محنت کے بغیر کامیابی ناممکن ہے ۔ سست انسان کبھی بھی کچھ حاصل نہیں کرسکتا ۔ جو شخص محنت کرتا ہے وہ زندگی میں کامیاب ہوجاتا ہے ۔ بغیر کسی محنت کے زندگی میں کامیاب ہونا ناممکن سی بات ہے ۔محنت کرنے والا شخص زندگی میں کبھی ہار نہیں مانتا ہے وہ اپنا ہر کام احسن طریقے سے سرانجام دیتا ہے جبکہ ایک سست شخص عیش و آرام کو ترجيح دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ زندگی میں کبھی متحمل نہیں ہو سکتا ہے

    ایک محنتی انسان زیادہ سے زیادہ محنت کرکے خود کو بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے ،جبکہ ایک سست انسان خود کو پستی میں دھکیل دیتا ہے ۔محنت سے کامیابی کا راستہ بنتا ہے۔ محنت کرنا مشکل ہے لیکن اپنی زندگی کو ہموار بنانا ضروری ہے۔ ایک محنتی شخص زندگی میں ہمیشہ خوش رہتا ہے۔. کامیابی محنت کا نتیجہ ہے۔. جو شخص سخت محنت کرتا ہے وہ زندگی میں بہت سی چیزوں کو حاصل کرتا ہے۔. لوگ ہمیشہ اس سے محبت کرتے ہیں۔. وہ ہمیشہ ہر ایک کا احترام کرتا ہے۔

    ہم میں سے ہر ایک کی زندگی میں اہداف ہیں۔. اہداف کی تکمیل کے لئے ہمیں سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔. بیکار بیٹھنا کسی کے مقصد کو پورا کرنے میں مدد نہیں کرتا ہے۔. ہم سب کو زندگی میں ملنے والے موقع کا احترام کرنا چاہئے۔. موقع کا احترام کرنے کا مطلب دل لگا کر محنت کرنا ہے۔.

    ہمیں ناکامی سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔. ناکامی ہماری زندگی کے لئے فطری ہے۔. جب ہم ناکام ہوجاتے ہیں تو ہمیں دل لگا کر محنت کرنا نہیں چھوڑنا چاہئے۔. ہم سب کو اپنے آپ پر یقین کرنا چاہئے اور جب تک ہم اپنے مقاصد کو حاصل نہیں کرتے ہیں کوشش کرتے رہنا چاہیے

    اگر ہم زندگی میں عزم اور توجہ مرکوز کریں تو ہم دل لگا کر محنت کر سکتے ہیں۔. کام میں ارتکاز بہت ضروری ہے۔. اگر کوئی کام کرتے وقت پوری طرح توجہ دیتا ہے تو ، کام کامیابی کے ساتھ اور بہت جلد ختم ہوجاتا ہے۔. ہمیں اپنی حراستی کی سطح کو بڑھانے کے لئے کام کرنا چاہئے۔. ہماری حراستی طاقت کو فروغ دینے کے لئے دل لگا کر محنت بہت ضروری ہے۔.

    بچوں میں محنت کے احساس کو فروغ دینے کےلیے ، والدین یا اساتذہ انہیں کسی ملک کے کامیاب افراد کی کہانیاں سنائیں۔. بچوں کو اپنی زندگی کے لئے ایک رول ماڈل کا انتخاب کرنا چاہئے تاکہ اپنی زندگی پر توجہ مرکوز کریں۔. اس سے انہیں دلچسپی کے ساتھ
    محنت کرنے میں مدد ملے گی۔

    انسان کو کامیاب ہونے کے لیے محنت کرنی چاہیے کیونکہ محنت کرنے والوں کو اللہ کا دوست کہا گیا ہے۔ اور محنت کرنے کے لیے یہی دلیل کافی ہے۔ اللہﷻ کا دوست ناکام کیسے ہوسکتا ہے ؟؟ محنتی شخص فقط کامیابی سے ہی ہمکنار ہوتا ہے

    مکرمی!! آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ محنت اور کوشش کرنا مت چھوڑیں، ناکامی زندگی کاحصہ ہے اگر آپ ایک بار ناکام ہوگٸے تو گھبرانا نہیں کیونکہ ہر کیسی کو پہلی باری سب کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے محنت کرتے رہے جب تک آپ کامیاب نہ ہوجاٸیں۔

    اللہ پاک ﷻ ہمیں اپنے محنت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

  • تعمیر بیت اللہ ،زم زم،  ابراہیم ؑ کی دعا تحریر: محمد آصف شفیق

    تعمیر بیت اللہ ،زم زم، ابراہیم ؑ کی دعا تحریر: محمد آصف شفیق

    جیسے ہی حج کا دن ختم ہوا عمرہ کی ادائیگی کیلئے اجازت نامہ حاصل کیا تو بے ساختہ اس ماں کا خیال آگیا جس کی اپنے بچے کی پیاس بجھانے کیلئے بے صبری سے صفا اور مروہ کے چکر لگانے کی ادا اس رب کریم کو ایسی پسند آئی کہ اس گھر (بیت اللہ )کو آنے والوں یعنی عمرہ ادا کرنے والوں کیلئے عمرہ کا حصہ بنا دیا جو تا قیامت جاری رہے گا عمرہ مکمل ہی سعی کرنے سے ہوتا ہے صفا اور مروہ کے درمیان 7 چکر مکمل کرنے کا نام سعی ہے
    بیت اللہ کی تعمیر آب زم زم کی روانی اور ام اسماعیل ؑ حضرت حاجرہؑ کی محبت کے حوالے سے حدیث مبارکہ ہے کہ عبداللہ بن محمد ابوعامر عبدالملک بن عمرو ابراہیم نافع کثیر بن کثیر سعید بن جبیر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابراہیمؑ اور ان کی بیوی کے درمیان شکر رنجی ہوگئی تو اسماعیلؑ اور ان کی والدہ کو لے کر نکلے اور ان کے پاس ایک مشکیزہ میں پانی تھا پس اسماعیل ؑکی والدہ اس کا پانی پیتی رہیں اور ان کا دودھ اپنے بچہ کے لئے جوش مار رہا تھا حتیٰ کہ وہ مکہ پہنچ گئیں ابراہیمؑ نے انہیں ایک درخت کے نیچے بٹھا دیا پھر ابراہیمؑ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ چلے تو اسماعیلؑ کی والدہ ان کے پیچھے دوڑیں حتی کہ جب وہ مقام کدا میں پہنچے تو اسماعیلؑ کی والدہ انہیں پیچھے سے آواز دی کہ اے ابراہیمؑ! ہمیں کس کے سہارے چھوڑا ہے؟ ابراہیم ؑنے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماعیلؑ کی والدہ نے کہا میں اللہ (کی نگرانی) پر رضا مند ہوں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا پھر وہ واپس چلی گئیں اور اپنے مشکیزہ کا پانی پیتی رہیں اور ان کا دودھ اپنے بچہ کے لئے ٹپک رہا تھا حتیٰ کہ پانی ختم ہو گیا تو اسماعیل علیہ السلام کی والدہ نے کہا کہ کاش میں جا کر (ادھر ادھر) دیکھتی شاید مجھے کوئی دکھائی دے جاتا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ گئیں اور کوہ صفا پر چڑھ گئیں اور انہوں نے ادھر ادھر دیکھا خوب دیکھا کہ کوئی شخص نظر آ جائے لیکن کوئی شخص نظر نہیں آیا پھر جب وہ نشیب میں پہنچیں تو دوڑنے لگیں اور کوہ مروہ پر آ گئیں اسی طرح انہوں نے چند چکر لگائے پھر کہنے لگیں کاش میں جا کر اپنے بچہ کو دیکھوں کہ کیا حال ہے جا کر دیکھا تو اسماعیلؑ کو اپنی سابقہ حالت میں پایا گویا ان کی جان نکل رہی ہے پھر ان کے دل کو قرار نہ آیا تو کہنے لگیں کہ کاش میں جا کر (ادھر ادھر) دیکھوں شاید کوئی مل جائے چنانچہ وہ چلی گئیں اور کوہ صفا پر چڑھ گئیں (ادھر ادھر) دیکھا اور خوب دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا حتیٰ کہ ایسے ہی انہوں نے پورے سات چکر لگائے پھر کہنے لگیں کاش میں جا کر اپنے بچہ کو دیکھوں کہ کس حال میں ہے تو یکایک ایک آواز آئی تو کہنے لگیں فریاد رسی کر اگر تیرے پاس بھلائی ہے تو اچانک جبرائیل علیہ السلام علیہ السلام کو دیکھا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر جبرائیل علیہ السلام نے اپنی ایڑی زمین پر ماری یا زمین کو اپنی ایڑی سے دبایا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (فورا) پانی پھوٹ پڑا اسماعیل علیہ السلام کی والدہ متحیر ہو گئیں اور گڑھا کھودنے لگیں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتیں تو پانی زیادہ ہوجاتا ابن عباس نے کہا کہ وہ یہ پانی پیتیں اور ان کے دودھ کی دھاریں ان کے بچہ کے لئے بہتی رہتیں۔ ابن عباس نے کہا کچھ لوگ قبیلہ جرہم کے وسط وادی سے گزرے تو انہوں نے پرندے دیکھے تو انہیں تعجب ہونے لگا اور کہنے لگے کہ یہ پرندے تو صرف پانی پر ہوتے ہیں سو انہوں نے اپنا ایک آدمی بھیجا اس نے جا کر دیکھا تو وہاں پانی پایا اس نے آ کر سب لوگوں کو بتایالہذا وہ لوگ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کیا تم ہمیں اجازت دیتی ہو کہ ہم تمہارے ساتھ قیام کریں؟ ان کا بچہ (اسماعیلؑ) جب بالغ ہوا تو اسی قبیلہ کی ایک عورت سے نکاح ہو گیا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ابراہیم علیہ السلام کے دل میں آیا اور انہوں نے اپنی بیوی سے کہا میں اپنے چھوڑے ہوؤں کے حال سے واقف ہونا چاہتا ہوں ابن عباس کہتے ہیں ابراہیمؑ آئے اور آ کر سلام کیا پھر پوچھا اسماعیل علیہ السلام کہاں ہیں؟ اسماعیل علیہ السلام کی بیوی نے کہا وہ شکار کے لیے گئے ہیں ۔ ابراہیمؑ نے کہا جب وہ آجائیں تو ان سے کہنا کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ تبدیل کر دو جب وہ آئے اور ان کی بیوی نے انہیں (سب واقعہ بتایا) اسماعیلؑ نے کہا کہ چوکھٹ سے مراد تم ہو لہذا تم اپنے گھر بیٹھو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ پھر ابراہیم ؑکے دل میں آیا تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں اپنے چھوڑے ہوؤں کے حال سے واقف ہونا چاہتا ہوں ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابراہیمؑ آئے اور پوچھا کہ اسماعیل ؑکہاں ہیں؟ ان کی بیوی نے کہا شکار کو گئے ہیں اور آپ ٹھہرتے کیوں نہیں؟ کہ کچھ کھائیں پئیں ابراہیمؑ نے کہا تم کیا کھاتے اور پیتے ہو؟ انہوں نے کہا ہمارا کھانا گوشت اور پینا پانی ہے ابراہیمؑ نے دعا کی کہ اے اللہ ان کے کھانے پینے میں برکت عطا فرما ابن عباس نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (مکہ میں کھانے پینے میں) حضرت ابراہیمؑ کی دعا کی وجہ سے برکت ہے ابن عباس نے کہا پھر (چند روز بعد) ابراہیم ؑکے دل میں آیا اور انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں اپنے چھوڑے ہوؤں کو دیکھنا چاہتا ہوں وہ آئے تو اسماعیلؑ کو زمزم کے پیچھے اپنے تیروں کو درست کرتے ہوئے پایا پس ابراہیمؑ نے کہا کہ اے اسمعیلؑ! اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس کا ایک گھر بناؤں اسماعیلؑ نے کہا پھر اللہ کے حکم کی تکمیل کیجئے ابراہیم ؑنے کہا کہ اس نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ تم اس کام میں میری مدد کرو اسماعیل ؑنے کہا میں حاضر ہوں یا جو بھی فرمایا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا پھر دونوں کھڑے ہو گئے ابراہیم علیہ السلام تعمیر کرتے تھے اور اسماعیل ؑانہیں پتھر دیتے تھے اور دونوں کہہ رہے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم سے (یہ کام) قبول فرما بیشک تو سننے جاننے والا ہے حتیٰ کہ دیواریں اتنی بلند ہو گئیں کہ ابراہیم اپنے بڑھاپے کی وجہ سے پتھر اٹھانے سے عاجز ہو گئے سو وہ مقام (ابراہیم) کے پتھر پر کھڑے ہو گئے اسماعیل انہیں پتھر دینے لگے اور کہتے تھے (رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ) ۔صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 623
    اے رب کریم سب مسلمانوں کیلئے اپنے گھر کے دروازے کھول دے اس وبا سے نجات دے ۔ آمین یارب العالمین

    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • سوشل میڈیا اور تباہی  تحریر: رانا عزیر

    سوشل میڈیا اور تباہی تحریر: رانا عزیر

    اگر آج کے حالات و واقعات پر ہم لوگ نظر دوڑائیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے سے اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا ہے لیکن ہم پھر بھی اس معاشرے کو تہذیب یافتہ کا نام دے رہے ہیں۔
    قصہ کرنل کی بیوی ہو یا ٹی وی پر بیٹھے سیاستدان ایک دوسرے کی عزت چوکوں پر لٹکا رہے ہوں یا کوئی بھی صحافی، ان حالات میں سوشل میڈیا نے ہمیشہ آگ بھڑکائی اور ایندھن کا کردار ادا کیا

    ہم کسی کی بھی نجی وڈیو اور بلیک میل کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں چاہے وہ عثمان مرزا واقعہ ہو جس میں سوشل میڈیا پر لڑکی کی تصویر کو سنسر کیے بغیر چلایا گیا اور لڑکی کی عزت کو پامال کیا گیا اس تمام صورتحال کو عکس بند بھی کیا گیا اور سوشل میڈیا صارفین انجوائے بھی کرتے رہے۔
    سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہی حرکات و سکنات ہماری نوجوان نسل کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے پرتلے ہوئے ہیں
    جب معاشرے میں بڑے, پڑھے لکھے سکالر اور ایلیٹ لوگ اس طرح کے حوصلہ شکن واقعات میں ملوث ہون گے تو نئ نسل کیا سیکھے گی، رہی سہی کسر آج کے ٹک ٹاکرز نے نکال دی ہے کہ چند ٹکوں کی خاطر سب کچھ بیچنے کیلئے تیار ہیں یہ انتہائی پریشان کن ہے اور لبرل ازم کے نام پر بے حیائ پھیلائی جارہی ہے اور ہر طبقہ اب انکی تقلید کرنا شروع ہوگیا ہے لیکن نفس پر کنٹرول بھی انسانی صفت ہے اور یہی ہمارا امتحان ہے کہ ہم اس سوشل میڈیا کی جنگ کو کسیے لڑتے ہیں یہ سب ہمارے لیے بہت اہم ہے

    twitter.com/RanaUzairSpeaks

  • فتنوں کا دور    تحریر : رمیصہ عروج

    فتنوں کا دور تحریر : رمیصہ عروج

    رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”نیک اعمال کر لو اس سے پہلے کہ فتنہ رات کے اندھیرے کی طرح پھیل جائے. اس دور میں انسان صبح کافر اور شام کو مومن ہوگا یا صبح مومن اور شام کو کافر ہوگا .وہ شخص تھوڑے سے فائدے کے لئے اپنے دین کو بیچ دے گا۔”(صحیح مسلم) اللہ کے نبی نے فرمایا کہ ایک ایسا دور آنے والا ہے جس میں فتنہ رات کے اندھیرے کی طرح پھیل جائے گا۔رات کے اندھیرے کی طرح پھیل جانے سے مراد ہے کہ حق واضح نہ ہو گا۔رات کے آندھیرے میں راستے گم ہو جاتے ہیں،دکھتے نہیں۔سا
    منے آنا والا راہ گزر بھی نہیں دکھتا،صحیح اور غلط کی پہچان نہیں ہوتی۔رات کی تاریکی میں چھپ کر گناہ کیے جاتے ہیں کیونکہ انسان کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ لوگوں میں سے کوئ مجھے دیکھ رہا ہے۔وہ یہ بھول جاتا ہے کہ عرش عظیم کا رب اسے دیکھ رہا ہے،فرشتے اس کا عمل تو کیا ہر لمحہ قلم بند کر رہے ہیں۔رات کے اندھیرے سے مراد ہے کہ حق کو پہچاننا مشکل ہو جاۓگا،حق پر ثابت قدم رہنا مشکل ہو جاۓ گا ۔انسان کا ایمان اور خیالات بہت ڈگمگائیں گے۔انسان کی شہوات اور خواہشات تو روزازل سے ہیں ہی،شبہات میں اضافہ ہو جاۓگا۔اگر غور کیا جاۓ تو آج فتنہ ہمارے ہاتھ میں ہے،فون کی ایک کلک پر یو ٹیوب پہ سب کھل کر انسان کے سامنے آجاتا ہے،انسان نہیں جانتا کہ اب نظروں کے سامنے سچ ہے یا جھوٹ۔فیس بک پر اسلام یا مسلمانوں کے خلاف مواد مل سکتا ہے۔عیسائیوں نے اپنے دین کی تبلیغ کے لیے بہت سی ویب سائٹس بنا رکھی ہیں۔دنیا میں سب سے زیادہ تبلیغ مذہب عیسائیت کی ہورہی ہے۔چشم زدن میں بہت سا ایسا مواد انسان کی نظر سے وقتاً فوقتاً گزر جاتا ہے جو اسے حق کی پہچان میں شبہات کا شکار کر جاتا ہے۔اسی طرح ا نسان اگر صبح کو مومن ہے تو رات تک اس کی نظروں سے ایسا مواد گزرگیا جس نے نور ایمان کم کر دیا اور شبہات اس حد تک بڑھا دیے کہ انسان شام تک کافر ہو گیا۔اعاذن اللہ منھم۔اب سوال یہ کے کہ حق کی پہچان کیسے کی جاۓ؟یا صحیح علم کیسے حاصل کیا جاۓ؟ سب سے پہلے تو ہم اللہ سے دعا کریں گے کہ "اے اللہ! ہمیں سیدھے راستے کی ھدایت فرمائیے۔”اور پھر ایسے ہی صحیح علم کی پہچان کریں گے جیسے ہم بہت سے ڈاکٹرز میں سے صحیح ڈاکٹر کا انتخاب کرتے ہیں۔ہم خود تو ڈاکٹر نہیں ہیں مگر صحیح ڈاکٹر کو ڈھونڈ لیتے ہیں۔اسی طرح ہم خود تو عالم نہیں مگر ہم تحقیق سے صحیح علم کی تفتیش کر سکتے ہیں۔اللہ نے ہمیں اتنا شعور دیا ہے کہ ہم جدوجہد کر کے صحیح اور غلط کی شناخت کر سکیں۔ہمیں بس کوشش کر کے تحقیق کرنی ہے اور جب ہم کوشش کریں گے تو اللہ ضرور ہمیں سیدھے راستے کی ھدایت فرما دیں گے۔اللہ نے فرمایا تم میری طرف ایک قدم آؤ ،میں تمہاری طرف دس قدم آؤں گا۔اللہ نے پہلا قدم انسان کو دے کر اسے اختیار دے دیا کیونکہ ہر انسان اللہ کی طرف قدم بڑھانے کے قابل نہیں ہوتا ،وہ کو ئ کوئ ہی ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں قدم بڑھائے اور پھر ثابت قدم رہے۔اللہ کا راستہ ایسا ہے جیسے ڈھلوان ہو اور انسان اونچائی کی طرف چڑھ رہا ہو،ہر قدم سوچ سمجھ کر ،جما کر رکھنا ہے۔ایک کمزور قدم انسان کو تین چار قدم پیچھے دھکیل دیتا ہے۔یہ وہ راستہ ہے جس میں انسان کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہے۔
    حدیث کا اگلا حصہ ہے کہ انسان تھوڑے سے فائدے کے لیے اپنے دین کو بیچ دے گا۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا کی بھاگ دوڑ میں،اچھے نمبروں کے پیچھے ،اچھے عہدوں کے پیچھے ہماری نمازیں رہ جاتی ہیں۔جب انسان کی نماز ہی رہ گئ تو کیا فائدہ کہ اس نے جتنی بھی شاندار کامیابی حاصل کی۔یہ ہے دنیا کے حقیر سے فائدے کے لیے اپنے دین کو بیچ دینا،گھاٹے کا سودا کرنا۔دنیا کی زندگی تو انسان کے تصور سے بھی زیادہ چھوٹی ہے۔اگر ہم تھوڑے سے فائدے کے لیے دین کو بیچ رہے ہیں تو پھر شکایتیں کیسی کہ ہم مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔بہت سی مشکلات انسان پر صرف اور صرف مکافات عمل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ہمیں خود کا جائزہ لینا ہے کہ کہیں ہم ایسے نہ ہو جائیں کہ دنیا کے حقیر اور معمولی سے فائدے کے لیے آخرت کو پس پشت ڈال دیں۔اس لیے حقیقت کو پہچاننے کی کوشش کریں۔بے مقصد چیزوں میں وقت ضائع نہ کریں ،انھیں اپنی زندگی سے نکال دیں۔ان چیزوں کو اپنی زندگی سے نکال دیں جو آپ میں دنیا کا حرص و لالچ پیدا کر رہی ہیں۔دنیا کی حرص تو وہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہونے والی،اس لیے اپنی زندگی سے اس کو نکال دیں۔ اس دور میں ہر قدم ہمیں پھونک پھونک کر رکھنا ہے اگر ہم اللہ کے بننا چاہتے ہیں تو،اگر ہم جنت حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو۔جنت اتنی ارزاں نہیں ہے ،بہت قیمتی ہے اور قیمتی چیزیں آسانی سے نہیں ملا کرتیں،ان کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔

  • عمران خان اور ان کی سیاست تحریر: ذیشان علی

    عمران خان اور ان کی سیاست تحریر: ذیشان علی

    وہ اپنی ہر تقریر سے پہلے قرآن مجید کی سب سے پہلی سورہ،
    سوره فاتحہ کی اس آیات کی تلاوت کرتا ہے،
    إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (5)
    جس کا ترجمہ ہے,!
    ” تیری (اللّٰہ)عبادت کرتے ہیں اور تم سے ہی مدد مانگتے ”

    عمران خان نے لگ بھگ کوئی 1966ء میں اپنی ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی اور اس جماعت کا نام پاکستان تحریک انصاف رکھا گیا اور وہ اس کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے آج بھی وہ اس کے چیئرمین ہیں،
    انسانیت خودداری اور انصاف اس جماعت کا نعرہ ہے، 1996 سے 2018 تک یعنی 22 سالہ طویل جدوجہد کے بعد اس جماعت کو عوام نے منتخب کیا اور یہ جماعت آج پاکستان کی حکمران جماعت ہے،
    2021 چل رہا ہے اور اس 25 جولائی کو اس جماعت نے اپنی حکومت کے تین سال پورے کر لیے،
    عمران خان اپنی قوم اپنے ملک کے وقار کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہا ہے عمران خان بلا شبہ ایک عظیم رہنما ہے لیکن سیاست تو پھر سیاست ہے بہت سے سیاسی حریف بھی ہیں جو ہر وقت اس کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے رہتے ہیں،
    لیکن عمران خان بھی ان پر تنقید کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے عمران خان ایک پڑھا لکھا اور باشعور اور منصوبہ ساز ہے،
    پاکستان اور اپنی قوم کو اوپر اٹھانے کے لئے اس کے کئی منصوبے ہیں،
    عمران خان اپنے تمام منصوبوں پر کام کر رہا ہے اس کی سیاست پاکستان کی ترقی اور خوشحالی اور اپنی قوم کا وقار ہے،
    اس کی خاص توجہ پاکستان کے نوجوان طبقے پر ہے وہ انہیں ہنر مند دیکھنا چاہتا ہے وہ انہیں دوسری اقوام کے مقابلے میں کامیاب دیکھنا چاہتا ہے پاکستان کو ایک عظیم ریاست بنانا چاہتا ہے،
    اور وہ بار بار اپنی قوم سے اس کا ذکر بھی کرتا ہے کہ وہ کرپشن نانصافی بدعنوانی چوری اور قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کے سخت خلاف ہے،
    عمران خان ہمیشہ کہتے ہیں کہ جب ملک کا سربراہ کرپشن کرتا ہے تو اس کے نیچے جتنے بھی ادارے ہیں وہ بھی یہ کام کرتے ہیں اس طرح ملک کا دیوالیہ نکل جاتا اور ملک نہیں چل سکتا،
    وہ تھانے کچہریوں کے انتظامات کو بہتر کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور کافی حد تک کامیاب ہوچکا ہے،
    عمران خان دیانت داری اور ایمانداری کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کرنے والوں کو پسند کرتا ہے،
    اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایمانداری اور دیانتداری کو پسند وہی کرتا ہے جو خود دیانت دار ہو،
    وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے کئی ممالک کے دورے کیے اور وہ اپنے ہر دورے میں دوسرے ممالک کے ساتھ پاکستان کےاچھے تعلقات قائم کرنے ترقی اور خوشحالی و تجارت کے ساتھ امن کی تجویز پیش کرتے ہیں،
    وہ تمام ممالک سے برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں وہ اپنے ملک کے وقار کو اپنی قوم کو کسی کا غلام نہیں دیکھنا چاہتے،
    اس نے غریبوں مسکینوں اور بےگھر افراد کے لیے قیام گاہیں قائم کروائیں اور ان میں انہیں تین وقت کا کھانا بھی میسر ہوگا اس بات کو یقینی بنایا،
    عمران خان کی والدہ ماجدہ کی وفات کینسر مرض سے ہوئی ملک میں کوئی ایسا ہسپتال نہیں تھا جہاں ان کی والدہ کا علاج ہوسکتا۔
    والدہ کی وفات کے بعد انہوں نے یہ جانا کہ ان کی والدہ تو اس مرض سے چل بسی لیکن میرے ملک کی کوئی اور ماں بہن بیٹی یا بھائی اس مرض سے یوں نکھوں کے سامنے دنیا سے چلا ،،
    انہوں نے لاہور میں اپنی والدہ کے نام پر ایک کینسر اسپتال بنانے کے لیے جدوجہد کی سو اپنی اس جدوجہد میں کامیاب ہوئے لاہور شوکت خانم میموریل ہسپتال عمران خان کا پاکستانی قوم کو دیا ایک انمول تحفہ ہے، گویا انسانیت کی خدمت اور احساس اس شخص کے اندر کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے،
    عمران خان نے ملک میں صحت انصاف کارڈ متعارف کروائے اس کے ذریعے مستحق افراد کا علاج فری ہوتا ہے، اور اس کے علاوہ احساس پروگرام متعارف کروایا جس کے ذریعے بیوہ خواتین اور مستحق لوگوں کا ماہانہ وظیفہ مقرر ہوا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ تمام مستحق افراد تک ہی پہنچے گا،
    عمران خان کے نزدیک سب سے قیمتی چیز ملکی وقار ہے،
    اس زمرے میں حال ہی میں عمران خان نے ایک امریکی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی امریکہ کو اس چیز کی اجازت نہیں دیں گے جس طرح وہ ماضی میں ہمارے ملک میں ڈرون اٹیک کرتا رہا اور ہماری سرزمین افغانستان کے خلاف بھی استعمال کرتا رہا،
    اور انہوں نے انگلش کے یہ دو الفاظ کہے absolutely not جو بہت زیادہ مقبول ہوئے اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان الفاظ کے ٹرینڈ بھی چلے،
    عوام نے عمران خان کو غیر ملکی صحافی کو ایسا جواب دینے پر خوشی کا اظہار کیا اور دل کھول کر عمران خان کو داد دی اور ان کی تعریف کی،
    اس کے بعد انہوں نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا وہ کسی بھی صورت ملک کے وقار کا سودا نہیں کر سکتے،
    ہم خود مختار ہیں اور خودمختار رہیں گے،
    وہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح بالکل نہیں ہیں وہ اس بات کی کبھی کسی کو اجازت نہیں دیں گے،
    کہ کوئی ہماری سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرے اور ہمارے لوگوں پر ڈرون اٹیک کرے،
    الغرض عمران خان ملک کی ترقی اور خوشحالی انصاف رواداری نظام کو بہتر کرنے کے لیے حکومت میں آیا اور وہ اپنے اس مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں،
    سوشل میڈیا اور اس کے علاوہ ملک کی بہت بڑی تعداد عمران خان کی فین فارورز ہے،
    یہ وہی لوگ ہیں جو ملک کو خوشحال وہ ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں،
    وہ اپنے وعدے اور دعوے سے پیچھے نہیں ہٹے گا سیاست میں آنے سے پہلے وہ کرکٹ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بھی رہ چکا ہے،
    سن 1992 کا ورلڈ کپ کوئی یہ نہیں کہتا تھا کہ عمران خان اور اسکی ٹیم کامیاب ہوگی اور یہ ورلڈ کپ پاکستان جیت سکتا ہے،
    لیکن پھر عمران خان کا جذبے اور ہمت نے تمام کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کیے اور پاکستان 1992 کا ورلڈ کپ جیت گیا،
    دعا ہے کہ عمران خان کی سیاسی ٹیم بھی اپنے حوصلوں کی پختگی کے ساتھ اس کا ساتھ دے پاکستان ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کرے،
    پاکستان زندہ باد

    @zsh_ali

  • لڑکی اور لڑکے کی دوستی تحریر : محمد شہباز سرکانی

    یورپ میں لڑکی اور لڑکے کے درمیان دوستی عام سی بات ہے اور اس کے بارے کسی قسم کے شک کی بات نہیں اور نہ ہی یہ عیب ہے کیونکہ وہاں ماحول ہی ایسا ہے لیکن وہاں بھی مسلمان جو کہ اسلام کے مطابق زندگی گزاررہے ہیں وہ اس بات کو عیب سمجھتے ہیں لیکن عام طور پر وہاں اس بات کو عیب نہیں سمجھا جاتا ۔ لیکن ہم بات کریں اپنے ملک پاکستان کی تو یہاں اس بات کو یہاں بھی آج کل عیب نہیں سمجھا جارہا حالنکہ ہمارا ملک اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اس بات کا واضع ثبوت یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور پردہ بھی ہمارے مزہب میں لازمی ہے ۔ عورت کےلیے پردہ اور مرد کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا کہا گیا ہے
    آج کل سوشل میڈیا اور بہت سے فورم پہ لڑکی اور لڑکے کے درمیان فوٹو سیشن عام سی بات ہے اور اس بارے ان کے والدین بھی خاموش ہیں حالانکہ ان کو اس بات کو پتہ بھی ہے کہ ان کے بچے کیا کررہے ہیں لیکن وہ پھر بھی خاموش ہوتے ہیں ۔ اس طرح بہت سے واقعات رونما ہورہے ہوتے ہیں جس سے طلاق کی شرح پڑھے لکھے نوجوانوں میں زیادہ ہے ۔
    اس بات کو اگر اہم نہیں لیں گے تو بہت سے واقعات رونما ہوتے رہیں گے ۔ دوستی کو جب رشتہ داری میں تبدیل کردیا جاتا ہے تو عام طور پر وہ رشتہ صرف ایک سال بھی مشکل سے چلتا ہے اور بہت سے مساٸل جنم لیتے ہیں ۔ ہمارے ملک پاکستان میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آذادی سے گھوم پھر رہے ہوتے ہیں ۔ ان کے والدین اس بات کو اہمیت نہیں دیتے کہ ان کے بچے کہاں جارہے ہیں اتنی رات گۓ وہ کس کے ساتھ تھے اور کیا کررہے تھے اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ان کی بدنامی کا باعث ہی ان کے بچے ہیں
    ہمارے وزیراعظم عمران خان نے عورت کے پردے کے بارے ایک بیان دیا اور بہت سے حلقوں نے ان پر حملے شروع کردیٸے حالانکہ ان کی بات بھی بالکل ٹھیک تھی کہ عورت اپنے آپ کو پردے میں رکھے جس سے مرد آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے ۔ تاکہ معاشرے سے بے حیاٸی کا خاتمہ ہو
    ہمارے دیہاتوں میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے لیکن شہروں میں تو نہ ہونے کے برابر رات گۓ ہوٹلوں میں پارٹیاں ہورہی ہوتی ہیں اور وہاں پر حیاٸی عروج پہ ہوتی ہے اور ان کو کوٸی روکنے والا نہیں ہوتا
    اگر بات کریں قانون کی تو وہ بھی ہمارے ملک میں کتنا نافذ ہے سب کو پتہ ہے لیکن اس بات پر زور دیں کہ ہمارے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اتنی آذادی نہ دیں جس سے ان کے بچے ان کی عزت پر حرف آنے کا باعث بنتے ہوں
    ہر حلقے کی جانب سے مختلف راۓ آۓ گی لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اللہ پاک نے عورت کو پردے کے بارے واضع طور پر حکم دیا اور کیوں کہ عورت کےلیے پردہ ہی اہم چیز ہے اس لیے اسلام میں عورت کو ایک مقام دیا گیا ہے تاکہ عورت کی زندگی پرسکون گزرے اور وہ لوگوں کی بری نگاہوں سے محفوظ رہے
    ۔ https://twitter.com/RjShahbaz01?s=09

  • ڈاکٹری پیشہ یا کاروبار.تحریر: راحیلہ عقیل

    ڈاکٹری پیشہ یا کاروبار.تحریر: راحیلہ عقیل

    ہسپتالوں پر اکثر ہم بات کرتے ہیں لکھتے ہیں جہاں انسانیت کو روند کر زندگی اور موت کا کاروبار کیا جاتا ہے وہی ایک خاص توجہ آپ سب کی پرائیوٹ کلینک پر دلانا چاہوں گی بڑے ہسپتالوں سے مریضوں کو اپنے کلینک لےجانا تو معمول کی بات ہے جہاں ڈاکٹر بھاری فیس لےکر آپ سے گھنٹہ بھر آپکے مسائل سن لیتا ہے وہی خواتین کے ایسے بہت سے مسائل ہیں جو کھل کر بڑے ہسپتالوں میں جانے سے گریز کرتی ہیں بلکہ پرائیوٹ کلینک بھی ایسا ڈھونڈتی جہاں انکو کوئی جانتا نا ہو خاص کر ناجائز بچے کو گرانے کے لیے ایسے وقت پر اکثر لڑکیاں بے وقوف بن جاتی ہیں حال ہی میں نظروں سے گزرا وہ واقعہ سب کو یاد ہی ہوگا جہاں ایک چھوٹے کلینک میں ڈی این سی کے لیے جانے والی لڑکی اپنی جان گنوا بیٹھی ، گلی نکڑ پر ایسے بہت سے کلینک ہوتے ہیں جہاں نا تجربہ کار ایل ایچ وی، یا سرکاری ہسپتالوں کی ماسیاں اپنا کاروبار چلا رہی ہوتی ہیں بظاہر تو کلینک آپکو او پی ڈی لگتا ہے مگر اندر ایک پورا گینگ ہوتا ہے جو جائز ناجائز بچوں کو گرانے کی بھاری قیمت وصول کرتا ہے جس میں جان بھی جاےپر انکی زمہ داری نا ہوگئی ایسا نہیں کے علاقے کی پولیس کو ایسے معاملات کا علم نا ہو باقاعدہ بھتہ وصول کیا ہے کبھی شکایت درج بھی ہوجاے تب بھی کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی علاقے کے بہت سے لوگ واقف ہوتے ہوئے بھی انجان بنے ہوتے ہیں پرائی بات میں دخل کیوں دیں یہ والی سوچ ہماری آج بھی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگئی، کون کرے کا ایسے جعلی ڈاکٹروں کا خاتمہ حکومت کب قانون میں اتنی سختی پیدا کرے گی کے ایسے درندے صفت لوگ ناجائز کام کرتے وقت سو بار سوچیں کب یہ کاروبار بند ہوگا ؟ اس کا جواب تو سب باخوبی جانتے ہیں یہ سلسلہ تو چلتا رہے گا ہمیں ہی اپنی نسلوں کو سدھارنے میں کردار ادا کرنا ہوگا

    کالج میں پڑھنے والی لڑکیاں کسی درندے کی ہوس کا نشانہ بن کر ان کلینکس پر پہنچ جاتی ہیں نا گھر والوں کو خبر نا اپنی جان کی پرواہ عزتیں لٹوا کر عزتیں بجانے کی کوشش اکثر بہت بڑا نقصان کرجاتی ہے جسکا اندازہ کرنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا ایک انجان شخص کے ہاتھوں اپنی عزت دینا اور اس پر بھروسہ کرنا کے یہ ہمیں دھوکہ نہیں دیگا والدین بڑی امیدوں کے ساتھ اپنے بچوں کو ہاسٹل کالج بھیجتے کے ہمارے بچے پڑھائی کریں گے مگر اولاد زمانے کی رنگینیوں میں کھو کر اپنا سب کچھ داؤ پر لگادیتی ہے نتیجہ یا تو وہ لڑکا زندگی برباد کرکے چھوڑ دیتا یا حمل گرانے کے دوران جان سے جاتی، خودکشی کرتی یا برادری والے ہی مار دیتے

    لڑکا ہو یا لڑکی دونوں کو اپنی حدود میں رہنا ہوگا باقی کرنے والے تو افسوس کرہی لیتے ہیں
    یہ کہا تو جاتا ہے عورت کو برابری کے حقوق دو مگر عورت پر بھی لازم ہے وہ اپنی شرعی حدود میں رہ کر آگے بڑھیں میں عورت کی آزادی کے خلاف نہیں ہوں لیکن اتنا ضرور کہوں گی کے عورت کو اپنی آزادی کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے والدین کی دی ہوئی آزادی اصل میں آپ پر انکا بھروسہ ہوتا ہے جس کو اولاد تھوڑ کر خوش نہیں رہ سکتی، سوچیے ہم کہا کھڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

  • حقوقِ نسواں اسلام امن و سلامتی کا دین ہے  ‏تحریر:   چوہدری عطا محمد

    حقوقِ نسواں اسلام امن و سلامتی کا دین ہے ‏تحریر: چوہدری عطا محمد

    اس کا مقصد دنیا میں عدل و انصاف کے ابدی اصولوں پر مبنی ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں ہر حق دار کو اس کا پورا حق ملے اور کوئی کسی پر ظلم نہ کرسکے۔ تاکہ اولاد آدم اس دنیا میں حیات ِ مستعار کے لمحات امن و سکون سے بسر کرسکے۔ اسلام کے اس نظام کی بنیاد انسانی مساوات پر مبنی ہے۔ اسلام کی آمد سے قبل عورت بہت مظلوم اور سماجی عزت و احترام سے محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اور قابل نفرت تصور کیا جاتا تھا۔ اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کا پیغام تھی۔ اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کردیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھی اور عورت کو وہ حقوق عطا کیے جس سے وہ معاشرے میں اسی عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق مرد ہیں۔
    ‏اسلام نے حقوقِ نسواں پے بہت زوردیا ہے کیونکہ اسلام سے پہلے بیٹی کے پیدا ہونے پے سوگ منایا جاتا تھا اور اسے زندہ درگور کر دیا جاتا ہے اور ان کی عزت کو سرِ عام نیلام کیا جاتا تھا بولیاں لگاٸی جاتی تھی یا یہ کہنا بجا ہو گا کہ جنسی حوس کو پورا کرنے کے لیے درندوں کی طرح روندھا جاتا تھا فر ایک ایسی ہستی کا نزول ہوا جن کو دونوں جہاں کے لیے رحمت العلمین ﷺ بنا کے بھیجا گیا جن کے آنے سے ہر طرف نور ہی نور چھا گیا
    ‏آپﷺ نے ہر زی النوع کے لیے حق کی آواز کو بلند کیا اللہ کے یکتا ہونے کا درس دیا عورت کو خدا کا ایک خوبصورت تحفہ قرار دیا اور حقوقِ نسواں کا متعین کیا اور ورثے میں عورت کا حق مقرر کر دیاگیااور سب سے بڑا تحفہ یہ دیا عورت کو کہ ماں کی صورت میں
    ‏جنت ماں کے قدموں تلے رکھ دی
    ‏عورت کو پاؤں کی جوتی کی بجائے گھر کی مالکہ اور رفیقۂ حیات کا اعزاز بخشا اور اس کا نان نفقہ خاوند کی ذمے داری قرار دیا۔ اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہر لحاظ سے بلند مقام عطا کیا ہے۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے تاریخ میں پہلی بار عورت کو مرد کے مساوی حقوق دینے کا اعلان کیا۔ یہ فقط دعویٰ نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ اسلام جدید معاشرے کی عورت کو بھی وہی حقوق، عزت و وقار، عزت نفس اور پاکی و طہارت عطا فرماتا ہے جو اس نے زمانۂ قدیم کی عورت کو عطا کرکے اسے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر اوج ثریا تک پہنچا دیا۔

    ‏قرآن حکیم و حدیث نبویؐ میں عورت کی چار حیثیتوں کا بیان ہے

    ‏(1) ماں (2) بہن (3) بیوی (4) بیٹی

    ‏اسلام نے ماں کی حیثیت سے عورت کا مقام اس قدر بلند کیا ہے کہ معاویہ بن جاہمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ کی خدمت میں میرے والد حاضر ہوئے کہ یا رسول اﷲ ﷺ میں چاہتا ہوں کہ جہاد کروں اور آپؐ سے مشورہ کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ تمھاری ماں زندہ ہے، عرض کی کہ زندہ ہے، تو آپؐ نے فرمایا کہ تو اسی کے ساتھ رہو، اس لیے کہ جنت ماں کے پاؤں کے نیچے ہے۔ (نسائی)

    ‏حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرمؐ سے دریافت کیا کہ یا رسول اﷲ ﷺ میرے حسن سلوک کاسب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ تو آپ ؐ نے تین مرتبہ فرمایا کہ تیری والدہ اور چوتھی مرتبہ فرمایا کہ تیرا والد۔ (بخاری)

    ‏اس روایت سے معلوم ہوا کہ باپ کے مقابلے میں ماں کی حیثیت و مرتبہ استحقاقِ خدمت میں تین گنا زیادہ ہے۔ اگر ماں کافر بھی ہو تو اس سے حسنِ سلوک کرنے کا حکم ہے۔ 

    ‏قرآن کریم میں جہاں عورت کے دیگر معاشرتی و سماجی درجات کے حقوق کا تعین کیا گیا ہے وہاں بطورِ بہن بھی اس کے حقوق بیان فرمائے ہیں۔ بطور بہن، عورت کی وراثت کا حق بڑی ہی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔ اسلام کی آمد سے پہلے بیٹی کی پیدائش کو ذلت و رسوائی کا سبب قرار دیا جاتا تھا۔ آپؐ نے بیٹی کو احترام و عزت کا مقام عطا کیا۔ اسلام نے نہ صرف معاشرتی و سماجی سطح پر بیٹی کا مقام بلند کیا بل کہ اسے وراثت کا حق د ار بھی ٹھہرایا۔ قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ نے نسل انسانی کے تسلسل و بقا کے لیے ازدواجی زندگی اور خاندانی رشتوں کو اپنی نعمت قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بیوی کے رشتے کی اہمیت اور اس سے حسن سلوک کی تاکید فرمائی ہے ۔

    ‏ارشاد ربانی ہے ’’ اور ان سے اچھا برتاؤ کرو پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں تو قریب ہے کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو، اور اﷲ نے اس میں تمہارے لیے بہت بھلائی رکھی ہو۔

    ‏(سورۃ النساء)

    ‏رسول اکرمؐ نے بھی بیوی سے حسن سلوک کی تلقین فرمائی۔ احادیث مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو مختلف واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے اپنی ازواج مطہراتؓ سے عملی طور پر بہت سے مواقع پر دل جوئی فرمائی۔ رسول اکرمؐ حضرت عائشہؓ کے ساتھ کبھی دوڑ لگا رہے ہیں او ر کبھی ان کو حبشیوں کے کھیل (تفریح) سے محظوظ فرما رہے ہیں۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اکرم ؐ کے ساتھ سفر میں تھیں فرماتی ہیں کہ میں اور آپؐ دوڑے، تو میں آگے نکل گئی تو پھر دوبارہ جب میں اور آپؐ دوڑے، تو آپؐ آگے نکل گئے۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ یہ اس کا بدلہ ہے تُو پہلے آگے نکل گئی تھی۔ یعنی اب ہم برابر ہوگئے۔ (ابوداؤد)
    ‏اللہ تعالی ﷻ نے عورت کو ایک اعلیٰ مقام پے فاٸز کر دیا اور عورتوں کے حقوق کے لیے اپنی پیاری کتاب قرآنِ مجید میں سورہ النسا نازل کر دی جس میں عورتوں کے لیے معاشی سماجی حقوق کے علاوہ مرد کے شانہ بشانہ اور برابر کے حقوق ادا کردیٸے
    ‏اگر قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ خواتین کے انفرادی حقوق، عائلی حقوق، ازدواجی، معاشی اور دیگر حقوق کو بڑی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ عورتوں کو عزت و تکریم عطا کی ہے۔ عورت کو اپنی پسند سے شادی کرنے کا اختیار ہے، وہ اپنے نام جائیداد خرید سکتی ہے اور اپنی ملکیت میں رکھ سکتی ہے۔ اسے اپنے خاندان، خاوند اور دوسرے قریبی رشتے داروں سے وراثت میں حصہ ملتا ہے۔ جس طرح مرد کو طلاق دینے کا اختیار ہے اسی طرح عورت کو خلع کے ذریعے نکاح تحلیل کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔

    ‏اسلام نے انسان ہونے کے ناتے سے مرد اور عورت کو برابر کے حقوق دیے ہیں۔ جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں اسی طرح عورتوں کے حقوق مردوں پر ہیں۔ لہٰذا جو ﷲ تعالیٰ ﷻاور رسول اکرمﷺ نے خواتین کو حقوق دیے ہیں ان کے حقوق کی پاس داری کرنا ہمارا اولین مذہبی فریضہ ہے۔ حقوق نسواں کے حوالے سے خطبہ حجّۃ الوداع کے موقع پر رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’خبردار تمہاری عورتوں کے ذمے تمہارا حق اور تمہارے ذمے تمہاری عورتوں کے حقوق ہیں۔ عورتوں کے حق یہ ہیں کہ انہیں اچھا لباس پہناؤ اور اچھا طعام کھلاؤ۔
    ‏ایسی ہزاروں احادیث ہیں جن میں عورتوں کے حقوق متعین کر دیٸے گٸے ہیں اسلام تمام ادیان سے بہتر دین ہے
    ‏جہاں دین اسلام نے حقوقِ نسواں کے لیے روزِ ازل سے آواز بلند کی وہاں دنیا میں ایسے خدا ترس لوگ بھی موجود ہیں جو خواتین کے حقوق کے لیے سر گرم ہیں ان میں ایک شخصیت کا زکر میں کرتی جاٶں گی
    ‏یوجین ہنگ
    ‏ایسی شخصیت ہیں جن کو حقوقِ نسواں کا حامی ہونے
    ‏ پر بہت فخر ہے۔
    ‏وہ کیلیفورنیا میں ریاضی کے ٹیچر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چودہ برس پہلے جب اُن کی بیٹی پیدا ہوئی تو اُس وقت وہ یہ سوچ کر ذہنی کشمکش میں پڑ گئے کہ یہ دنیا لڑکیوں کے لیے کیسے ہو گی؟

    ‏اُس وقت اُن کے ذہن میں یہ بات آئی کہ یونیورسٹی میں اُن کے ساتھ پڑھنے والی لڑکیوں پر کیا گزرتی ہوگی جو تنہا لائبریری سے گھر واپس جاتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔

    ‏ہنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘اُنھیں اپنے عدم تحفظ کے احساس کے ساتھ جینا پڑتا تھا مگر مجھے ایسے مسائل کا سامنا نہیں تھا۔ مجھے اُس وقت اس بات کا احساس ہوا کہ مجھے معاشرے میں کتنا امتیاز حاصل ہے اور میں اس سے بالکل بے خبر تھا۔’
    ‏’ایک مرد کی حیثیت سے میں ان سب باتوں کو اپنے لیے معمول کی باتیں سمجھتا تھا۔’
    ‏اُن کے اندر احساس کی بیداری نے اُنھیں عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والا ایک سرگرم کارکن بنا دیا۔ اُنھوں نے ‘فیمینسٹ ایشیئن ڈیڈ’ کے نام سے ایک بلاگ شروع کیا جس کا مقصد عورتوں کو معاشرے میں با اختیار بنانے کے بارے میں آواز اُٹھانا تھا۔

    ‏ہنگ اپنے بلاگ میں مختلف چیزوں پر بات کرتے ہیں جن میں ڈِزنی کی انیمیٹڈ فلم ’مُلان‘ جس میں ایک طاقتور عورت مرکزی کردار ادا کرتی ہے اور کملا ہیرِس امریکہ کی پہلی سیاہ فام خاتون نائب صدر کے انتخاب جیسے موضوعات شامل ہیں۔
    ‏المختصر کہ اسلام نے جو حقوق عورتوں کے لیے واضع کیے ہیں انکو تسلیم کیا جاٸے اور عورت کو وراثت میں اسکا حق دیا جاۓ
    ‏البتہ یہ بات اپنی جگہ بہ درجہ اتم حقیقت پر مبنی ہے کہ عورتوں کو اپنے حقوق اور تحفظ کے لیے دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ دینی و جدید تعلیم سے مزین ہونا ہوگا جو موجودہ صدی کا اہم تقاضا ہے
    ‏اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو اسلام کے اصولوں پے عمل پیرا ہونے کی توفیق دے
    ‏آمین یا رب العلمین