Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ماں کے ساتھ حُسنِ سلوک . تحریر: محمداحمد

    ماں کے ساتھ حُسنِ سلوک . تحریر: محمداحمد

    انسان کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحات ماں کے ساتھ گزارے لمحات ہے جن کے بغیر زندگی میں اندھیرا نظر آتا ہے مولانا رومی فرماتے تھے "کہ ماں باپ کے ساتھ تمہارا سلوک ایسی کہانی ہے جو لکھتے تم ہو لیکن پڑھ کر تمہاری اولاد سناتی ہے” اسی لئے اللہ پاک میں ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے.

    خداراہ ماں باپ کے ساتھ ظلم و زیادتی نہ کریں بیشک آپ کسی بھی مزہب سے ہوں معاشرے میں دیکھا جاتا ہے کہ بچوں کی جب شادی ہو جاتی ہے تو ماں باپ کے ساتھ رویہ بدل جاتا ہے انسان اپنی انسانیت بھول جاتا ہے لیکن انسان کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے جو آج حال ماں باپ کا ہے وہ حال کل تمہارا بھی ہوگا جو سوالات آج بچے اپنے ماں باپ سے کر رہے ہیں وہی سوالات کل آپ کے بچے آپ سے کریں گے اس لئے ماں باپ کی قدر کریں.

    قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ماں باپ کو اُف تک نہ کہو
    اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم فرمایا جو بچے ماں کی خدمت کرتے ہیں ماں کی عزت کرتے ہیں ماں کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ماں کی دعا ہر رستے انسان کے ساتھ ہوتی ہے.

    اج کل کے دور میں لوگ ماں کو اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آتے ہیں ماں کو اولڈ ایج چھوڑتے وقت ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان اور قرآن مجید کی تعلیم ہمیں کیا درس دیتی ہے اسلام میں ماں کے احترام کا درس دیا گیا ہے خداراہ اپنے اپنے والدین کی عزت احترام کریں جن کو والدین وفات پا گے ہیں اُن کیلئے دعا خیر کریں اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

    @JingoAlpha

  • ‏پُرانے وقتوں کی چار جماعتیں پاس تحریر : بشارت محمود رانا

    ‏تعلیم جو کہ ہر انسان کیلئے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ جسم سے روح کا تعلق ہو کیونکہ یہ تعلیم و تربیت ہی ہے جو انسانوں اور جانوروں میں فرق بتلاتی ہے۔ اور میری آج کی یہ تحریر موجودہ میٹریلائیزڈ دور میں ہمارے بچوں کو ملنے والی بڑی بڑی ہائی کلاس ڈگریوں کے باوجود بھی وہ ہمارے اسلامی و معاشرتی اصولوں سے بڑی حد تک ناواقفیت کی وجہ سے ایک نامکمل انسان بن رہے ہیں۔

    ‏اور اس کے برعکس پرانے وقتوں میں جب کہ اِن ڈگریوں کے بغیر ہی اپنے گھر کے بزرگوں اور مسجد یا سکول سے حاصل شدہ معمولی تعلیم و تربیت کے باوجود بھی اپنے مضبوط اخلاق و کردار سے نظر آنے والے ایک مکمل اور کامیاب انسان بننے کے بارے میں ہے۔

    ‏اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ دوست میری اس بات سے متفق ہوں اور کچھ دوست اختلاف بھی کریں۔ مگر! میں اتنا کہتا چلوں کہ یہ سب میں اپنے ذاتی مشاہدے، تجزیے اور علم کی استطاعت میں رہتے ہوئے لکھ رہا ہوں گا۔

    ‏علم جو کہ کسی کی میراث نہیں ہوا کرتا اور جو کوئی بھی اس کو حاصل کرنے کی لگن رکھتا ہو اور اس کے لیے کوشش کرتا ہو یہ اسی کے پاس چلا جاتا ہے۔ اسی طرح علم رکھنے والے کو اپنے پاس علم کے ہونے کا ثبوت کے طور پر کسی کو دکھانے کے لیے ناں تو کوئی ورق اور ناں ہی ڈگری نامی کسی شے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلکہ یہ تو اُس کے عمل، بول چال اور اخلاق و کردار سے ہی واضح ہو جاتا ہے کہ کسی بھی شخص کی علمی اور ادبی استطاعت کتنی ہو سکتی ہے۔

    ‏اگر ہم وقت کے حساب سے تھوڑا پیچھے چلے جائیں اور اپنے بزرگوں کی زندگی پہ نظر دوڑائیں اور ان کی باتوں کا مشاہدہ کریں تو ہمارے لیے اس کا اندازہ لگانا ذرا بھی مشکل نہیں ہو گا۔ جیسا کہ اگر ہم اُن کا دینی میدان میں معاملات پر بات چیت کا انداز اور اُن کے پاس معقول دینی علم کا ہونا اور پھر اُس پہ اُن کا عملی طور پہ مضبوط کردار کا بھی ہونا، الغرض! آپ کو دینی لحاظ سے ان میں ایک مکمل اور بہترین انسان دیکھنے کو ملے گا۔

    ‏اور اسی طرح اگر ہم اُن کا دنیاوی زندگی میں اپنے معاملات کو دیکھنا، مسائل کو سمجھنا اور پھر اُن کے مطابق بہترین اپروچ اپناتے ہوئے انہیں حل بھی کرنا، اُن کے دنیاوی علمی ہُنر کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔

    ‏اور پھر اگر اُن کا معاشرتی و خاندانی لحاظ سے زندگی کا جائزہ لیا جائے تو اُن کا اپنے بڑوں و بزرگوں کے ساتھ انتہائی ادب و احترام سے پیش آنے کا طریقہ، اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ اُن کا حُسنِ سلوک، اُن کا بچوں کے ساتھ پیش آنے کا شفقت و مہربانی والا انداز اور یہاں تک کہ اپنے ہم عمر لوگوں کے ساتھ شرارتی اور مہذب طریقے سے کیا جانے والا مذاق کا انداز بھی انتہائی دیدنی ہوتا ہے۔

    ‏اور یہ سب کچھ انہیں کسی مہنگے سکول، کالج یا یونیورسٹی سے حاصل کی ہوئی بڑی بڑی اعلی ڈگریوں والی تعلیم سے نہیں بلکہ! ان کی ذاتی زندگی کے تجربات اور اُن کے اپنے بزرگوں یا اُن کے دور کے معمولی سے سکول سے پاس کی ہوئی چار جماعتوں والی زبانی تعلیم اورعلم کا ہی کمال ہوتا ہے۔

    ‏اور اگر دیکھا جائے تو ہمیں اُن میں سے زیادہ تر کی دنیاوی تعلیم کے حوالے سے قابلیت میٹرک، مڈل یا پرائمری تک کی ہو گی (البتہ! ان میں سے چند اس سے زیادہ پڑھے لکھے بھی ہوں گے، مگر زیادہ تر اُن بزرگوں میں آپ کو کم پڑھے لکھے ہی دیکھنے کو ملیں گے)۔

    ‏اب اس سب کے برعکس اگر ہم آج کے دور کے نوجوانوں کو دیکھیں اور اُن کی دینی، دنیاوی اور معاشرتی زندگی میں ان کے کرداروں کا بغور جائزہ لیا جائے۔ تب آپ کو پتا چلے گا کہ آج کل کے نوجوان جو کہ زیادہ تر بڑے مہنگے مہنگے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بڑی بڑی اعلی ڈگریوں کے مالک تو بن رہے ہوتے ہیں۔

    ‏مگر! میرے مطابق ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آج کے نوجوان اِن مہنگے مہنگے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے اچھی تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد وہ زندگی کے ہر شعبے میں ایک بہترین اور کامیاب انسان بنیں، لیکن آج کا نوجوان یہ اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد زیادہ تر تو صرف اور صرف پیسہ کمانے والی بہترین مشینیں ہی بن کے رہ گئے ہیں۔

    ‏اور اُنہیں ملی ہوئی اِس مادیت پسندی کی تعلیم و تربیت کے علاوہ زیادہ تر نوجوان نہ تو اپنے مذہبی، معاشرتی، ثقافتی اور خاندانی اصولوں و اقدار کے بارے میں زیادہ جانتے ہی ہیں، نہ ہی اس میں انہیں کوئی زیادہ دلچسپی اور نہ ہی اس میں حصہ لینے کی اِن کی کوئی باقاعدہ کوشش نظر آتی ہے۔

    ‏اور اب اگر آج کے اِس نوجوان کو اُن پرانے دور کے چار یا چند زیادہ جماعتیں پاس کیے ہوئے ان بندوں کے ساتھ کمپئر کیا جائے۔ تو میں اُس پرانے دور کے چار یا چند زیادہ جماعتیں پاس بندوں کو آج کے نوجوانوں سے بہتر کہوں گا جو اپنی سب مذہبی، معاشرتی، خاندانی اور ثقافتی اقدار کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے بھی ایک بہترین اور کامیاب انسان ہیں/تھے۔

    ‏اور اب آخر میں یہ کہوں گا کہ اے میرے پیارے پاکستان کے پیارے نوجوانو! میرے نزدیک کتنی بھی اعلي ڈگری ہو وہ صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔ اِس سے زیادہ اس کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ یہ کاغذ کا ٹکڑا کبھی بھی کہیں بھی گم ہو سکتا ہے لیکن آپ کا حاصل کیا ہوا ذاتی علم اور تجربہ ہی اصل خزانہ ہے جو آپ کے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے۔

    ‏اور بلاشبہ ہم نے پرانے دور کے مقابلے میں بہت ترقی کر لی ہے لیکن! ہمیں اپنے مذہبی، معاشرتی، خاندانی رسم و رواج اور اپنی ثقافت کو بھی ہر صورت ہر جگہ اپنی پہچان بنا کر اپنے ساتھ لے کر چلنا ہے۔

    ‏تاکہ ہم اس ماڈرن ورلڈ میں لازوال ترقی کی منازل طے کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی بہترین مذہبی و ثقافتی اقدار کو بھی زندہ رکھ سکیں۔ کیونکہ جو قومیں اپنی اصلیت کھو بیٹھتی ہیں وہ کبھی اُس اصل کامیابی کو حاصل نہیں کر سکتیں جو ہم نے حاصل کرنی ہے۔
    ‏اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
    ‏واخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين
    ‏دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    ‏ : ⁦‪@MainBhiHoonPAK

  • عنوان : ﷽ "ذوالحجہ دس دن اور دس راتوں میں چهپے بابرکت خزانے  ‏تحریر : عائشہ شاہد

    عنوان : ﷽ "ذوالحجہ دس دن اور دس راتوں میں چهپے بابرکت خزانے ‏تحریر : عائشہ شاہد

    ماہ ذوالحجہ آپ سب مسلمانوں کو مبارک ہو.
    اس مبارک مہینے کی پہلی دس راتوں کی ﷲ تعالٰی نے قسم کهائی ہے کہ ان دس راتوں میں بہت بڑی طاقت ہے

    بلکہ یوں کہیئے کہ ﷲ تعالٰی کی بہت حکمت چھپی ہوئی ہے
    ان راتوں میں ﷲ نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے
    ان راتوں میں ﷲ تعالٰی کی قسم گردش کر رہی ہے
    ان راتوں میں برکت و عافیت کے خزانے پوشیدہ ہیں
    ان راتوں میں ایک پوشیدہ نور ہے
    ان ہی راتوں میں مدد ہی مدد ہے ﷲ تعالی کی طرف سے
    ذوالحج کی 10 راتوں میں اولاد ہے
    ان ہی راتوں میں بندشوں کا خاتمہ ہے
    ان راتوں میں مال و دولت میں برکت بھی ہے
    ان ہی راتوں میں پریشانیوں کا خاتمہ بھی ہے..
    ان ہی راتوں میں خوش بختی ہے
    ان راتوں میں دین و دنیا پوشیدہ ہے
    ان راتوں میں سچی توبہ کریں معافی مانگیں خلوت جلوت کے گناہوں کی رو رو کر معافی مانگیں . بعض اوقات بہت کچھ عطاء ہونے والا ہوتا ہے مگر ہمارے گناہ سامنے آجاتے ہیں.

    ذوالحجہ کے پہلے دس دن دنیا کے افضل دن ہے اللّٰہ پاک نے ان دس دنوں کی قسم قرآن پاک میں اٹھائی ہے سورہ فجر کی پہلی آیات میں ( والفجر . ولیال عشر۔ ترجمہ فجر کی قسم ۔اور دس راتوں کی قسم )
    حضرت جابر بن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ یارسول اللّہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں افضل ترین دن ذوالحجہ کے دس دن ہیں

    حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے رسول ﷲ نے ارشاد فرمایا: کوئی دن ایسا نہیں جس میں عمل صالح ﷲ کے ہاں (ذو الحجہ کے) دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی’’ یا رسول ﷲ ﷺ کیا جہاد بھی ان کے برابر نہیں؟
    آپ ﷺ کافرمان: ہاں مگر وہ شخص جو جان و مال لے کر جہاد کے لیے نکلے اور پھر ان میں کوئی بھی واپس نا آئے یعنی اپنا سب جان و مال قربان کردے
    نبی کریم ﷺ کی سنت احکامات پر علم پیرا ہو جائیں.دعا میں ﷲ تعالٰی سے اس مہینے میں پوشیدہ برکت و عافیت کے خزانے مانگیں پوری امت اپنے مسلمان جو تکلیف میں جو ظلم کا شکار ہیں ان کے لیے مانگیں انسان ذات اور پرند چرند کے لیئے خیر کی دعا مانگیں

    ﷲ تعالی سے رزق میں برکت اور خیر و عافیت مانگیں
    @BinteChinte

  • بےروز گاری، مواقع کی کمی یا سستی اورکاہلی . تحریر: وقاس محمد

    بےروز گاری، مواقع کی کمی یا سستی اورکاہلی . تحریر: وقاس محمد

    بیروزگارافراد سے پوچھیں تو آدھے افراد اس لئے فارغ ہیں کہ کوئی ڈھنگ کی نوکری نہیں مل رہی اور چاہتے ہیں کہ کوئی عالی شان جاب تھالی میں سجا کر انہیں پیش کی جائے اور وہ بس کرسی پر بیٹھ کر دستخط کر کے احسان کر دیں اور ہر ماہ ان کے اکاؤنٹ میں بھاری رقم آ جائے اور آدھے لوگ اس لئے بیروز گار ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی تھالی میں سجا کر چلتا پھرتا کاروبار ان کو پیش کرے اور وہ کلف لگا سوٹ پہن کر کرسی پر بیٹھ کر سیٹھ بن کر بیٹھے رہیں.

    ایسا کیسے ممکن ہے اور دنیا میں کہاں ہوتا ہے ایسے، دنیا کے کامیاب افراد کو دیکھیں آپ کو سمجھ آئے گی کہ انہوں نے کس طرح صفر سے شروع کیا اور پھر محنت سے لگن سے اپنا مقام بناتے ہوئے آگے بڑھتے جاتے ہیں.

    پھر ہمارے یہاں یہ بہت بری روایت کہہ لیں یا عادت کہہ لیں کہ ہم آگے بڑھنے کا سوچتے ہی نہیں ایک انسان جس ملازمت سے زندگی شروع کرتا ہے اسی پر ہی ساری زندگی گزار دیتا ہے ڈرائیونگ سے کیریئر شروع کرنے والا ساری زندگی ڈرائیور بن کر ہی گزار دیتا ہے اس سے آگے سوچتا ہی نہیں، اسی طرح ہم دیکھیں تو ہمارے آس پاس نظر آئے گا چاچا منظور 20 سال سے دوکان ہی چلا رہا ہے، لالہ ارشد 25 سال سے حجامت کرتا نظر آتا ہے، ارشد مکینک آپکو ساری زندگی سے بجلی کے سوئچ لگاتا نظر آتا ہے، ماسی رشیداں گھروں میں کام ہی کرتی رہی اب اسکی بیٹی بھی اسکے ساتھ وہی کام کرتی ہے، چاچا غلام رسول جوتے ہی سلائی کرتا نظر آتا ہے اسی طرح ملازمت کرنے والے افراد اسی فیکٹری اسی کارخانہ اسی دفتر میں ساری زندگی کام کرتے رہتے ہیں وہ آگے بڑھنے اپنی زندگی بہتر بنانے کیلئے کچھ کرتے ہی نہیں اور پھر حکومت یا نصیب کو کوستے نظر آتے ہیں.

    ہمیں یہ عادت چھوڑنا ہوں گی نوکری جو بھی ملے ﷲ کا نام لیکر شروع کریں اور آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہیں اسی طرح جو بھی کاروبار یا کام آپ کرتے ہیں اس میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہیں حالات اور وقت کے حساب سے چلیں، اپنی محنت کرتے رہیں اپنا سو فیصد دیں، بیروزگاری کچھ بھی نہیں بس ہماری کام چوری اور کاہلی کا دوسرا نام ہے جس دن ہم نے یہ عادت بدل ڈالی اس دن ہمیں نا تو کوئی فارغ نظر آئے گا اور نا ہی کوئی حالات اور ملازمت کا رونا روتے ہوئے.

    @WailaHu

  • نوجوان  تحریر :عائشہ رسول

    نوجوان تحریر :عائشہ رسول


    نوجوانی اور صبر کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا… جس معاشرہ کا نوجوان خاموش ہو جائے وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے…. .وہاں ظلم وناانصافی کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا…… وہاں بلند آوازوں اور نعروں کا رواج ختم ہوجاتا ہے۔ جلسے اور جلوس نہیں ہوتے… وہاں طاقت کے پاس حکمرانی کا حق چلاجاتا ہے. قانون بے حثیت ہوجاتا ہے وہاں قوم نہیں رعایا ہوتی ہےاور رعایا کے نوجوان انقلاب نہیں لاسکتے…. .غلاموں کی اولاد آزاد نہیں ہوتی….!!
    میرے دوستوں! قوم وہی قوم ہی بنے گی جس میں نوجوان کا شعور بھڑکے گا… حق مانگنے کا جزبہ انگڑائی لے گا… جب وقت اسے بیدار کرے گا.
    جب وہ سوچے گا اس میں کیا کمی ہے کیا وہ سرمایہ داروں کے نوجوانوں جیسا نہیں ہے .. کیا جاگیرداروں کے نوجوان کسی خاص مٹی سے بنے ہیں کیا خالق نے انہیں کسی خاص طریقہ سے پیدا کیا ہے?
    نوجوانوں صبر کا دامن چھوڑو انقلاب کا دامن تھام لو. تمہاری صلاحیتوں کو انڑنیٹ کھا ریا ہے. زہنی آورگی تمہاری دشمن ہے جو تمہارے زہنوں کو منجمد کر رہی ہے خیالوں کا بنا رہی ہے. کبھی نام نہاد سیاست اور جمہوریت کے نام پر اور کبھی ملائیت کے رویوں نام پر…
    اے غریب اور نوجوانو! اپنی مردہ صلاحیتوں کو زندگی دو. میدان عمل میں نکلو اور دشمنوں پر ٹوٹ پڑو..
    کون کون آپ کا استحصال کرہا ہے ان سے اپنا حق واپس لو.
    دیکھو تو تمہارے زہن کتنے آسودہ ہو اور کتنی زرخیزی آجاتی ہے. تمہارے زہن بڑے زرخیز ہیں زرا اس مٹی کو نم تو ہو لینے دو

    یہاں اقبال صاحب کا شعر یاد آیا کہ

    نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹّی بہت زرخیز ہے ساقی

    اے نوجوانو! تم قوم کا قیمتی سرمایہ ہو. تم لازوال قوم کے بچے ہو.. مسلم قوم ایک لازوال قوم ہے. پاکستانی قوم ایک جری اور بہادر قوم ہے اِسے ایک دلیر اور دیانتدار رہنما ملا ہے.. اے خدا تیرا شکریہ تو نے ہمیں ایک ایساعمران خان جیسا لیڈر عطا کیا جو نہ خود جھکتا ہے نہ ہمیں جکھنے دے گا. آئیں سب ملا کر اپنے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میں اپنے محبوب لیڈر وزیراعظم عمران خان صاحب کا ساتھ دیں…

    Official Twitter handle
    ‎@Ayesha__ra

  • آخرت ، تحریر : محمد خبیب فرہاد

    آخرت ، تحریر : محمد خبیب فرہاد

    ہم جتنا سوچتے ہیں اتنا کم حقیقتاً کرتے ہیں زندگی کی کہانی ” كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ” ہے۔ ہر ایک کو ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی پڑی ہے کہ مجھے شاہانہ زندگی ملے مہنگی گاڑیاں اور بنگلے ہوں کبھی سوچا ہے، کہ ہم کتنے پل کے مہمان ہیں اور کتنا جینا ہے کچھ معلوم نہیں تو کس چیز کی حوس ہے، جو جینے نہیں دے رہی؟

    جو ہمیشہ رہنے والی ہے وہ ہے ہماری آخرت اور آخرت میں دو اعمال کی جزا اور سزا ہیں جنکی کی بنا پر جنت یا جہنم ملے گی ۔
    اللہ تعالی جب ناراض ہوتا ہے تو سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے اپنے بندے /بندی سے۔

    آخرت کی تیاری وہی کرتا ہے جسے خوف خدا ہوتا ہے جس شخص میں اللہ کا خوف نہیں اللہ اس شخص کو اسکے حال پر چھوڑ دیتاہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے:

    موت کو کثرت سے یاد کرنا اپنے اندر فکر آخرت پیدا کرنے کے لئے بڑا معاون ذریعہ ہے ، موت دنیاوی زندگی کے خاتمے کا نام ہے ،

    پھر اس کے بعد آخرت کی منزل شروع ہوجاتی ہےاس لئےنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے موت کو بکثرت یاد کرنے کا حکم دیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے :
    لذتوں کو توڑنے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو۔

    (صحيح الترمذي:2307)

    اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ:

    اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے، اور اصل زندگی عالم آخرت کی ہے کاش وہ سمجھتے۔

    (سورۃ العنکبوت:64)

    آخرت پر ایمان رکھنا اسلام کی نہایت اہم تعلیم ہے۔ قرآن مجید میں اسکی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ سورۃ البقرہ میں متقین کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد ہوا :
    اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

    اگر آخرت پر ایمان نہ ہو تو انسان خود غرضی اور نفس پرستی میں ڈوب کر تہذیب و شرافت اور عدل و انصاف کے تقاضے کو یکسر بھول جائے ۔

    اے اللہ کے بندے اور بندیوں بڑھ چڑھ کر نیک کاموں میں حصہ لو تاکہ تمہاری آخرت سنور سکے، قرآن پاک کی تلاوت کرو اور اسے سمجھو کہ قرآن پاک ہمیں کن چیزوں کو کرنے کا حکم دیتا ہے اور کن چیزوں سے منع کرتا ہے ۔

    قبرستان کی زیارت کیا کرو اور جنازوں میں شرکت کیا کرو تاکہ تمہیں موت یاد آتی رہے، اپنے آپ کو حقیر سمجھو دوسروں کی بدولت تکبر صرف میرے اللہ کی ذات کو جچتا ہے۔ سادگی کا ساتھ کبھی مت چھوڑنا اسی میں بھلائی ہے کہ سادہ زندگی گزاری جائے ۔

    ارشاد باری تعالی ہے کہ:

    اور اپنے رب کی طرف پلٹ آؤ اور اس کے مطیع ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ جائے، پھر تمھاری مدد نہیں کی جائے گی۔
    (سورۃ الزمر، آیت: 54)

    @khubaibmkf

  • پردیس کی زندگی .  تحریر: فوزیہ چوہدری

    پردیس کی زندگی . تحریر: فوزیہ چوہدری

    پردیس میں اجڑے ہوئے پھرتے ہیں بیچارے کہتے تھے وہاں امیروں میں رہیں گے بات اگر کی جائے تو پردیس کی تو کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پردیس میں رہنے والے لوگ بڑی عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے پردیس کی زندگی جتنی دردناک ہے یہ کوئی پردیس میں رہنے والا ہی محسوس کر سکتا ہے کہ وہ کس طرح سے رہتے ہیں وہاں میری تو سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے کہ اگر میں پردیس میں ہوتی تو کیسے زندہ رہ پاتی اپنوں کے بنا رونا آ تا ہے جب یہ سوچتی ہوں کہ وہ لڑکے جو پاکستان اپنے گھر میں اتنے نازوں سے پلے ہوتے ہیں کہ شائد کبھی پانی کا گلاس بھی خود نہیں لیتے ہوں گے تو پردیس میں وہ بیچارے کبھی تو بنا چائے پانی پیے اور ناشتہ کئے گھر سے نکل جاتے ہوں گے کام کے لیے کہ کہیں دیر سے جانے پر نوکری نہ چلی جائے اور پھر لنچ ٹائم میں ساتھ لایا ہوا باسی کھانا وہ بھی بنا گرم کئے ایک گھنٹے کے بریک ٹائم میں انہوں نے کھانا بھی کھانا ہے نماز بھی پڑھنی ہو آ رام بھی کرنا ہوتا ہے پھر ڈیوٹی سے واپس آ کر خود ہی اپنے لئے کھانا بنانا اور زہن میں یہ خیال ضرور آ تا ہو گا کہ اگر میں گھر ہوتا تو ماں کو آ واز دیتا گھر آتے ہی اور بہن پانی کا گلاس لاتی اور کھانا لاتی۔

    پردیس میں رہنے والے اگربیمار ہوجائیں تو پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا انہیں خود ہی سب کرنا پڑتا ہے رابطہ اگر ماں سے ہو بھائی سے ہو بہن سے ہو اور وہ حال پوچھیں تو ایسا محسوس کرواتے ہیں جیسے پرسکون جنت میں رہ رہیں ہیں کوئی پریشانی نہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ پردیس میں رہنے والے اپنوں کی خوشی کے لیے اپنی خوشیوں کا گلا گھونٹ دیتے ہیں یہاں تک کے وہ اپنے گھر والوں کی روٹی پوری کرنے کے اپنی ایک وقت کی روٹی تک قربان کر دیتے ہیں۔ پردیس میں رہنے والوں کو اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ باہر جا کر اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو بھول گیا ہے تو ایسی پریشانی سے بھری ہوئی زندگی میں وہ خود کو بھول جاتے ہیں تو کسی دوسرے کو کیسے یاد کریں گے۔ پردیس سے واپسی پر انکو کیا ملتا ہے بگڑی ہوئی اولاد، بوڑھی بیوی اور یہ بات کہ آ پ نے ہمارے لئے کیا ہی کیا ہے؟ سیونگز کچھ بھی نہیں.

    میرا سلام ہے ہر اس پردیس میں رہنے والے کو جو اپنی فیملی کو اچھی زندگی دینے کے لئے ان سے ہی دور ہو کہ بیٹھا ہے

    @iam_FoziaCh

  • دین فطرت اور ہماری زندگی تحریر:  ملک منیب محمود

    دین فطرت اور ہماری زندگی تحریر: ملک منیب محمود

    ‏پورے عالم میں اس وقت امت مسلمہ کے افراد ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ دنیا کی پوری آبادی کا ایک بٹہ چھ حصہ ہے اس طرح مسلمان دوسرے مذاہب اور تہذیبوں کے ماننے والوں کے مقابلے میں ایک عظیم قوم شمار کیے جاتے ہیں اور برابر اس میں اضافہ ہو رہا ہے صرف امریکہ میں تقریبا ایک کروڑ مسلمان موجود ہیں اور ان کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے اس طرح یورپ کے تمام ممالک اور دنیا کے مشرقی حصے میں بھی اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں نہایت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ماضی تہذیبوں کے سائے میں جن لوگوں نے وقت گزارے اور عیش و عشرت سے پوری طرح فائدہ اٹھایا وہ سب کچھ حاصل کرنے کے باوجود جوہر نایاب سے محروم رہے اور اس کو دور کرنے کے لئے انہوں نے تمام فارمولوں کو آزما کر دیکھ لیا لیکن ان کو وہ سکون نہیں مل سکا جس کے بغیر زندگی میں کوئی لذت یا اس کی کوئی قیمت باقی رہے آخرکار ان کو اسلام کا مطالعہ کرنے اور اس کے بنائے ہوئے نظام زندگی کو بہ نظر غائر دیکھنے کی توفیق ہوئی اور ان کو وہ متاع گمشدہ مل گئی جس سے ان کی زندگی کا رخ بدل گیا اور ان کو خالق کائنات کا یقین حاصل ہوا اور اس کے بنائے ہوئے ہوئے اصول زندگی کو انہوں نے آزمایا تو اچانک ان کے اندر انقلاب برپا ہوا یہ اسلام کے دین فطرت ہونے اور انسانی مزاج سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہونے کی دلیل ہے اللہ تعالی اس حقیقت کی وضاحت فرماتے ہیں کہ "پس سیدھا رکھو اپنا رخ دین کے لیے یکسو ہو کر۔ وہی اللہ کی فطرت ہے جس پر لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کے دین میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔یہی سیدھا دین ہے۔لیکن اکثر لوگ اس کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔” (سورہ روم:30) البتہ جن لوگوں پر یہ حقیقت منکشف ہو گی وہ اس کو اپنانے اور اس کو اپنی زندگی کا رہنما بنانے پر متفق ہوگئے اور دنیا کی عظیم سے عظیم تر متاع کی نظروں میں بے قیمت بن کر رہے گی وہ اس دریافت پر نہ صرف یہ کہ بے حد مسرور اور مطمئن ہیں بلکہ اس کو اللہ تعالی کا خاص فضل و انعام سمجھ کر اس پر نازاں ہیں اور اسے اپنی زندگی کا اصل سرمایہ سمجھتے ہیں ۔ ایک نو مسلم نے اسلام قبول کرنے کے بعد جب انتہائی مسرت کا اظہار کیا تو مسلمان رہنما نے اس کو مبارک باد دی ۔ اس نے جواب دیا کہ مبارکباد کس بات کی؟ میں نے اللہ تعالی کے فضل سے فطرت کو پا لیا جس پر اللہ تعالی نے اولاد آدم کو پیدا کیا اور وہ فطرت اسلام ہی ہے۔ لہذا میں نے گویا اپنے آپ کو دریافت کیا ہے اور اس کے قبل میں گمراہی میں مبتلا تھا اور اپنی ذات سے نا آشنا تھا

    تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ہم مسلمانوں نے اپنی فطرت کے خلاف زندگی کی گاڑی چلا رکھی ہے یہی سبب ہے کہ ہم کو قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہم کو مٹانے کی کوشش کی زرداری کے ساتھ جاری ہے اور کامیابی سے ہمکنار ہو رہے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سارے جہاں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے اس رحمت کا نمونہ آپ کی سیرت طیبہ میں موجود ہوتے ہوئے بھی ہم اس سے بڑی حد تک مستغنی ہو گئے ہیں اور ہم تہذیبوں کی بے رحمانہ بندشوں میں اپنے آپ کو مقید کرنے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتے۔ مشرق و مغرب میں ہر جگہ ہم یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اب اسلامی نظام عدل و مساوات اور عالمی قوت کا تصور ایک خواب بن کر رہ گیا ہے اور مادہ پرست نظامی زندگی میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ عورتوں کو اس میں ایک طویل غلامی اور بے رحمانہ زندگی سے نجات دلاکر عزت و عظمت کا بلند مقام و مرتبہ عطا کیا اور اسلامی معاشرے کی تعمیر میں ان کے کرداروں کو دنیاوی اہمیت دی آج ہم اپنے صراط مستقیم سے ہٹ کر دیگر اقوام کی طرح بے سمت مادہ پرستی کے علمبردار بن کر رہ گئے ہیں اور یہود ونصاریٰ کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے یہ ایسا سنگین خطرہ ہے کہ ہم اس کا مقابلہ سنجیدگی کے ساتھ اس وقت کر سکتے ہیں جب ہم مکمل طور پر اسلامی تہذیب کی نمائندگی کر سکیں یہی تہذیب زندہ و جاوید ہے اور زمان و مکان میں اس کی قیادت انسان کی عظمت کو تسلیم کرانے میں مشعل راہ ہے رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت آج دوراہے پر کھڑی ہے اور اپنے کردار کو رحمت کے آئینے میں پیش کرنے سے دور ہے

    Written by Malik Muneeb Mehmood

    ‎@MMuneebPTI

  • عنوان: حسن اخلاق تحریر: تہران الحسن خان

    عنوان: حسن اخلاق تحریر: تہران الحسن خان

    مومنوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہوں’

    حسن اخلاق ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی زندگی میں خوشیاں بڑھاتا اور دوریاں کم کرتا ہے۔

    ایک حدیث کا مفہوم بیان کرنا چاہتا ہوں۔

    دنیامیں ہر چیز فنا ہونے والی ہے بے شک چیزیں ختم ہو جائیں گی صرف انسان کا حسن اخلاق ہی ہے جو ہمیشہ یاد رہتا ہے کہ یہ باکردار اور اخلاق کا بہت بہترین شخص تھا یہ گواہی اس کے گناہوں کو دھوتی ہے اور نیکیوں کو بڑھاتی ہے بات صرف اخلاق اور اچھے سے ایک دوسرے کے خلوص کے ساتھ رشتے نبھانے کی ہےکہ کچھ نہیں دکھتا سوائے انسان کے حسن اخلاق کے.

    حسن اخلاق کے متعلق حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے
    جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے جوڑ لو جو تمہیں محروم کرے اس کو عطاء کرو جو تم پر ظلم کرےاسے معاف کرو..

    زندگی آئینے کی طرح ہے.
    آپ اِس کو بیزار ہو کر گزاریں گے تو بیزار ہو جائیں گے.
    مسکرا کر گزاریں گے تو مسکراتے چلے جائیں گے.
    اخلاق آپ کا آئینہ ہے زندگی آپ کا حسن.
    شکریہ

  • پاکستان میں اشیاء ضروریہ مہنگی کیوں ہوتی ہیں؟   تحریر: ثاقب محمود

    پاکستان میں اشیاء ضروریہ مہنگی کیوں ہوتی ہیں؟ تحریر: ثاقب محمود

    جی ہاں جناب پاکستان میاشیاء کی قیمتیں اچانک آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں اس کی کیا کچھ وجوہات ہیں؟ تو جناب من اس کی وجہ ہم خود ہیں جس چیز کی ویلیو نہیں ہوتی اس کو اہمیت دینا ہمارا شیوہ ہے اور ہم اس چیز کو حد سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں جس کا فائدہ ذخیرہ اندوز اور مافیا اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ،مثلا” ٹماٹر 100 کا 5 کلو بک رہا ہے ہم نے لے کے ذخیرہ کرنا شروع کردیا مارکیٹ خالی کر دی دوسرے دن وہی ٹماٹر مارکیٹ سے غائب اور سونے کے بھاو ملےگا لیکن آپکو کیا؟ آپ نے تو ذخیرہ کرلیا ہے ،ایسے ہی مزید چیزیں بھی ہیں عورتوں کے استعمال کی چیزیں لے لیں انتہائی تھرڈ کلاس کے کپڑے بھی مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں بارگیننگ مافیا بیٹھا جہاں داو لگا داو لگا لیا کوئی ریٹ فکس نہیں کوئی پرافٹ کا پتا نہیں ،اب چلتے ہیں باقی چیزوں کی جانب تو جناب گاڑیوں کی طرف چلا جائے زرا جینون کے چکر میں 35 سال چلی ہوئی سوزوکی ایف ایکس کے لوگ پانچ پانچ چھ چھ لاکھ مانگ رہے ہیں جی ہاں سوزوکی ایف ایکس اور مہران 92 ماڈل جینون اگر 4 لاکھ کی تو نئی تو مہنگی ہوگی نہ ہم نے ڈھائی سے تین لاکھ کے مٹیرئیل کی گاڑی کو 12 سے 13 لاکھ تک پہنچا دیا کیوں ہم اتنی اہمیت دیتے ہیں ہم چیزوں کو ہم چیزوں کے پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں اور جب تک اس کی قیمت آسمان سے باتیں نہیں کرتی ہمیں سکون نہیں سوزوکی ویگنار دیکھ لیں یار زیادہ سے زیادہ 7 لاکھ کریں لیکن 18 سے 20 لاکھ تک اندازا”
    پہنچی ہوئی ہے ، ایک آٹو رکشہ میرے حساب سے 60 ستر ہزار سے اوپر نہیں ہونا چاہیے لیکن وہ بھی 3 لاکھ کا مل رہا ہے سود خوروں نے تو قسطوں پر اس سے بھی مہنگا کر دیا ہے ، موٹر بائیک سی ڈی 70 دیکھ لیں کتنا مہنگا ہے اور 125 کا کیا ریٹ ہے یے سب ہم لوگوں کی غلطی ہے ہم یا تو سستی چیز کو اتنی زیادی اہمیت دے دیتے ہیں کے وہ مہنگی ہو جاتی ہے،اور سب سے اہم بات ہم کوالٹی پر کمپرومائز کر لیتے ہیں اس لئے ملاوٹ خور مافیا سستی چیزیں آسانی سے بنا کر مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں ، تو معزز قارئین کرام اگر ہمیں پتا چل جائے کے دو دن بعد پٹرول مہنگا ہونے والا ہے تو ہم پہلے سے ہی لائنیں لگا کر کھڑے ہو جاتے ہیں جیب میں پیسے نہ بھی ہوں تو کوشش
    کرتے ہیں کہیں سے قرض پکڑ کر ٹیکنکی فل کروا لیں ،ٹینکی کے علاوہ بھی بوتلوں میں بھر لیں ،
    پٹرول مہنگا ہوگا دو دن بعد اور ہم اس کو اہمیت پہلے سے ہی دینا شروع کر دیتے ہیں جسکی وجہ سے ریٹ اوپر جانے کے بعد نیچے آنے کا نام نہیں لیتا ،
    کہتے ہیں کے صدر ایوب خان کے دور میں ٹماٹر کچھ پیسے مہنگا ہوا تو حکومت کی طرف سے اعلان ہوا کے ٹماٹر بیچنے والے کو چھوڑیں اور چو ٹماٹر خریدتے ہیں انہیں کوڑے ماریں جائیں ، کہتے ہیں کے لوگوں نے کوڑوں کے ڈر سے ٹماٹر خریدنا ہی چھوڑ دیا اور عینی شاہدین کے مطابق لاہور میں ٹماٹروں سے بھرے ٹرک دریائے راوں میں بہائے گئے لیکن کسی نے خریدےنہیں، تو کیا آج بھی ہم اسی رویے کے متحمل ہیں کیا آج بھی ہمیں کوڑوں کی ضرورت ہے،
    مہنگائی کا صرف ایک ہی حل ہے
    کے ہم کوالٹی پر کمپرومائز نہ کریں اور چیز کے حجم اور میٹیرئل کے حساب سے قیمت ادا
    کریں اگر آپکو لگے کے چیز مہنگی ہے تو اس کو چھوڑ دیں متبادل دیکھیں اس چیز کے بغیر رہنے کی عادت ڈالیں آپ کے آباو اجداد بھی رہتے رہے ہیں ان چیزوں کے بغیر ان گاڑیوں کے بغیر ان موٹر سائیکلوں کے بغیر یقین جانئے آپ ان چیزوں کی اہمیت کو کم کریں آپ سوچیں مہنگی چیز نہیں لینی اور اس کے بغیر گزارہ کرنا ہے ،
    پھر دیکھیں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں کیسے کمی آتی ہے ۔
    اس کے علاو ہماری حکومت کا بھی کام ریٹ کو کنٹرول کرےبارگیننگ مافیا کو لگام ڈالے سیکنڈ ہینڈ چیز کی بھی ایک حد مقرر کرے ۔
    اور سب سے زیادہ چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے ۔
    ہر چیز ایک حد تک اور کیپیسٹی
    کے مطابق فروخت کی جائے، آپکےشہر میں اگر 10 ہزار رکشے کی ضرورت ہے لیکن آپنے 3 لاکھ رکشہ فروخت کردیا تو وہ رکشے کہاں چلیں گے ، مثلا” آپکی کمپنی ہے اس میں 50 بندوں کی گنجائش ہے اور آپ نے رکھ لیا 350 بندہ تو آپکو ان کا خرچہ نکالنے کے لئے دونمبری کرنی پڑے گی ایسے ہی ہے ہمارا سسٹم جب تک ہر بزنس کی ایک پراپر چین نہ بنائی جائے ، اور ہر بزنس کو حالات دیکھتے ہوئے کیپیسٹی کے مطابق فروغ دیا جائے تو ہی وطن عزیز ترقی کرے گا ایک ہی چیز پر فوکس نہ کریں اور ایک ہی چیز کے پیچھے نہ پڑ جائیں آپ اپنا اور ملک کا جانے انجانے میں نقصان کر بیٹھتے ہیں ، اسلئے اگر کوئی کہے کہ رکشے کا کام اچھا ہے تو سارے رکشہ ہی نہ لینے بیٹھ جائیں ، اگر کوئی کہے کہ ہاسپٹل کا بزنس اچھا ہے تو سب ڈاکٹر ہی نہ بننا شروع ہو جائیں، اور اگر کوئی کہے کہ سکولز کا یا اکیڈمی کا کام اچھا ہے تو سب سکول اور تعلیم کو بیچنے کے چکر میں نہ پڑ جائیں ، کیونکہ ہر چیز بکاو بنائیں گے تو معاشرتی نقصان میں آپ بھی شریک ہونگے کام سارے ہی اچھے ہیں لیکن اہم یے ہے کے آپ لو کونسا کام آتا ہے آپ اپنے پروفیشن کے مطابق کریں اور ایمانداری سے کریں ، آپ دیکھیں معاشرے میں کیسے سدھار آتا ہے ہے اور ریٹ کیسے جگہ پر آتے ہیں، اللہ ہمارے وطن پاک کو ترقی عطا فرمائے آمین۔

    @Ssatti_