Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میرے خواب کب پورے ہونگے .تحریر:راحیلہ عقیل

    میرے خواب کب پورے ہونگے .تحریر:راحیلہ عقیل

    جب ایک لڑکی پیدا ہوتی ہے اس وقت اس بچی کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی سوچ فکر بھی جنم لیتی ہے بچی کی بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی سوچ بھی پڑھتی جاتی ہے، کے کیسے بیٹی کو اسکے گھر کا کرنا ہے لیکن کیا کبھی کسی ماں باپ نے یہ سوچا ہے کے ہماری بیٹی کی بھی کچھ خواہشات ہونگی اسکے سپنے ہونگے جو روزانہ اس نے جاگتی آنکھوں سے دیکھے ہونگے اچھی تعلیم روشن محفوظ مستقبل کھلا آسمان، مہکتی صبح کے ساتھ پھولوں کی طرح کھلنا، گڑیا سے کھیلنا، بہن بھائیوں سے ناز اٹھوانا، والد سے فرمائشیں پوری کروانا، ماں کے آنچل میں بادلوں کی آواز سے چھپ کر سوجانا، سہیلیوں سے گھنٹوں باتیں کرنا، من پسند کتابوں کو تکیے کے نیچے چھپا کر سونا، یہ سب ایک نارمل لڑکی کے سپنے ہی تو ہیں جو وہ جینا چاہتی ہے بارہ سال کی ہوئی گھر کے کام کاج سیکھو 14 کی ہوئی تو طریقے سے ڈوپٹہ لو گھر سے اکیلے باہر جانا بند کھیلنا بند دوستی گڑیا کھلونے سب سے ناطہ توڑ کر والدین لڑکی کو اسکے گھر کا کرنے میں لگ جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ معصوم جس نے گھر کی چار دیواری کے باہر کی دنیا صرف کتابوں کہانیوں میں دیکھی وہ اچانک اتنی بڑی سمجھدار کیسے ہوگئی کے اسکو دوسرے گھر بھیجنے کی تیاری ہونے لگے وہ ہاتھوں میں مہندی لگائے خوب چمک دمک کا ڈوپٹہ اوڑھے خاندان والوں کے درمیاں بیٹھی اپنی ہتھیلیوں کو غور سے دیکھتی رہی کے آخر ابھی کچھ وقت ہی تو گزرا جب اس نے اپنی گڑیا رانو کی شادی اپنی دوست کے گڈے سے کی تھی اور آج اچانک اتنی جلدی وہ خود کسی کی دلہن بنی بیٹھی ہے اس کے سارے خوب ریت کی طرف بہہ گئے وہ رونا چاہتی تھی چیخنا چاہتی تھی پر اسکی آنکھوں کے سامنے اسکی ماں کمزور سا چہرہ لیے بیٹھی تھی ماں باخوبی واقف تھی اپنی اولاد کی حالت سے پر وہ کیا کرتی یہ خاندانی روایت ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ناجانے کب تک یونہی پھولوں جیسی نازک بچیاں اپنے خوابوں کو بکھرتا دیکھتی رہنگی کب وہ دن ہوگا جب وہ آزادی سے اپنی مرضی سے تعلیم حاصل کرینگی آزاد ہوا میں سانس لینگی؟؟
    کسی معصوم نے اپنی مرضی سے ایک قدم جو اٹھایا اس کا حساب اپنے خون سے دینا پڑتا ایسی نا جانے کتنی معصوم بچیاں ہونگی جو نا چاہتے ہوئے بھی ماں باپ کی مرضی پر قربان ہوجاتی ہیں پھر ساری زندگی اپنے سپنوں کو روند کر زندگی کی حقیقت کا سامنا کرتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کاش کے سب والدین اپنی اولادوں کو پڑھانے پر توجہ دیں انکو زندگی میں آگے بڑھنے کا موقع دیں ناکہ انھیں مزید دلدل میں دھکیل دیں غربت سے نکلنے کا واحد راستہ تعلیم ہے۔۔۔۔۔ جو بےحد ضروری ہے ہمارے لیے ہماری آنے والی نسلوں کے بہتر محفوظ مستقبل کے لیے

    …….سوچ بدلیں وقت خود با خود بدل جاے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • حاسد، حسد اور شر      تحریر: احسان الحق

    حاسد، حسد اور شر تحریر: احسان الحق

    حسد تقدیر اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم کے منافی سوچ ہے. حسد کے دو معنی ہیں. کسی انسان کی خوبصورتی، شکل و عقل، رزق وغیرہ جیسی نعمتوں اور کامیابیوں پر کڑھنا، جلنا اور غصہ کرنا. دوسرا معنی ہے کہ کسی انسان کی کامیابیوں اور نعمتوں کے زوال اور چھن جانے یا زائل ہونے کی خواہش کرنا. حسد دل کی بیماری ہے. حسد دل کے عوارض کا سبب بنتا ہے اور جب کسی کا دل تعصب، کینہ اور حسد کا شکار ہو جائے تو پھر دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو جاتے ہیں.
    اللہ تعالیٰ نے سورۃ فلق میں جن شرور سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے ان میں حاسد کے حسد کا ذکر بھی ہے. اللہ تعالیٰ نے سورۃ فلق میں بڑے اور خطرناک شرور کا ذکر کیا ہے. اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ تمام مخلوق کے شر سے جو کسی شر یا نقصان کا سبب بن سکتی ہیں، اندھیرے کے شر سے، جادو کے شر سے اور حاسد کے حسد یا حسد کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے. یقیناً حاسد کا حسد یا حسد کا شر بہت مہلک بیماری ہے.

    حسد کا مطلب نعمتوں پر اعتراض اور اختلاف کرنا ہے. حاسد کسی بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں پر اعتراض یا اختلاف نہیں کر رہا ہوتا دراصل وہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم اور عطاء پر اعتراض کر رہا ہوتا ہے. اللہ تعالیٰ نے تقسیم کے فیصلے زمین و آسمان کی پیدائش سے 50 ہزار سال پہلے کئے. ایک مومن بندہ دنیا اور آخرت کی بہتری کے لئے رشک کر سکتا ہے. حسد اور رشک میں فرق ہے. حسد کا مطلب کہ فلاں کے پاس فلاں چیز کیوں ہے یا نہ ہو. رشک کا مطلب کہ اس کے پاس جو چیز ہے وہ میرے پاس بھی ہو. ایک مسلمان دوسرے انسان کی نعمتوں، کامیابیوں اور رزق کی فراوانی دیکھ کر رشک کر سکتا ہے، رشک کرنے میں کوئی حرج نہیں اور دینوی اور اخروی معاملات میں رشک کرنا بھی چاہئے.

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بہترین کلیہ بتایا ہے کہ شرعی معاملات میں اپنے اوپر والے بندے کو دیکھو جو آپ سے علم، عمل اور تقوے میں بہتر ہو تاکہ تمہارے اندر عمل اور پرہیزگاری کا پہلے سے زیادہ شوق پیدا ہو. دنیاوی معاملات میں اپنے سے نیچے اور زیادہ غریب آدمی کو دیکھو تاکہ تمہارے اندر مال اور دنیا کی حرص پیدا نہ ہو اور نہ ہی تم احساس کمتری کا شکار ہو. جب انسان دنیا داری میں اپنے سے نیچے والے بندے کو دیکھے گا تو حسد پیدا نہیں ہوگا اور جب عبادت اور عمل میں اپنے سے اوپر والے بندے کو دیکھے گا تو اس میں عمل اور نیکی کا حرص پیدا ہوگا.

    امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے ملنے کے لئے ایک ساتھی صحابی کے ساتھ حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے. آپ امیرالمؤمنین کسی سرکاری کام میں مصروف تھے اور دربان کو کہا کہ وہ میرا انتظار کریں. اسی اثناء میں حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ بھی ملاقات کی غرض سے تشریف لے آئے. امیرالمؤمنین کو پتہ چلا تو آپ کام چھوڑ کر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ کو ملنے چلے آئے. بعد میں حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے اپنے ساتھی صحابی سے گلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امیرالمؤمنین نے عدل نہیں کیا، ہمیں انتظار کروایا اور بلال کو اسی وقت ملنے چلے آئے. ساتھی صحابی رسولۖ نے ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے فرمایا کہ حسد مت کرو، ہم نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا اور بلال نے جس وقت اسلام قبول کیا اس وقت اسلام قبول کرنا بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا اور بلال نے بہت صعوبتیں برداشت کیں. اللہ تعالیٰ نے بلال کو دنیا اور آخرت میں ہم سے بہتر مقام عطا کیا ہے لہذا جلنا اور حسد کرنا درست نہیں. جب آخرت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کو بڑی عزت و تکریم سے نوازیں گے تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی تقسیم اور نوازش پر اعتراض کرے گا؟

    اس دنیا میں رونما ہونے والے پہلے فتنے کی بنیاد بھی حسد اور غرور پر ہے. ابلیس کا خیال تھا کہ روئے زمین پر ایسی کوئی جگہ خالی نہیں جہاں میں نے سجدہ نہ کیا ہو، اب مجھے حکم دیا جا رہا ہے کہ مٹی کی پیداوار کو سجدہ کروں جو مجھ سے کمتر ہے. ابلیس مقام آدم کو دیکھ کر حسد میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ سے بغاوت کر گیا اور قیامت تک ملعون قرار پایا. شیطان نے اسی حسد کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے بھی نکلوایا.
    اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ تعلیم دی ہے کہ حاسد کے شر سے بچنے کے لئے پناہ طلب کرو. آخرت کے دن وہی لوگ جنت میں داخل ہونگے جو قلب سلیم لے کر آئیں گے. جن کے دل عوارض سے پاک ہوں گے مطلب ان کے دل کسی قسم کے حسد، تعصب اور بغض کی خباثت سے پاک ہوں گے.

    @mian_ihsaan

  • کیا جہاد فرضِ عین ہوچکا ہے؟  تحریر:  محمد معوّذ

    کیا جہاد فرضِ عین ہوچکا ہے؟ تحریر: محمد معوّذ

    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ مسلمان عورت کی عزت کو خطرہ ہو یا کوئی مسلمان عورت کافروں کے قبضے میں ہو تو مشرق سے مغرب شمال سے جنوب تک کے تمام مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہوجائے گا۔
    آج صرف ایک مسلمان عورت کی عزت کو خطرہ نہیں صرف ایک مسلمان عورت کافروں کے قبضے میں نہیں بلکہ ہزاروں مائیں، بہنیں، بیٹیاں ان کی حراست میں ہیں۔ ہزاروں باحیا باپردہ عورتوں کی عزت لوٹی گئی شیر خوار بچوں کو ماؤں کی گود میں شہید کردیا گیا نوجوانوں کو لائنوں میں کھڑا کر کے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا انہیں انٹروڈکشن سینٹروں کے اندر ٹارچر کیا گھروں کو مسمار کر دیا گیا مساجد شہید کر دی گئیں ہزاروں بہنوں کو بے ردا کیا گیا اسلام کی باحیاء اور باپردہ بیٹیوں کو سرعام چوکوں اور چوراہوں پر بےعزت و بے آبرو کیا گیا اور بندوق کینال پر رکھ کر سر عام بازاروں میں نچایا گیا اور اس کے علاوہ بچوں کو یتیم کیا گیا عورتوں کو بیوہ کیا گیا فصلیں اور باغات اجاڑ دیے گئے کتاب حق قرآن مجید کی بے حرمتی کی گئی۔
    تاریخ میں دیکھا جائے تو کفار نے اپنے ہر دور میں مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں اور تاریخ اس بات کا بھی شاہد ہے کہ کفار نے جب مسلمانوں کو روکنے کی کوشش کی تو اسلام کے ہر جیالے نے جہاد کو فرض عین سمجھ کر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر میدان و صحراوں جنگلوں اور پہاڑوں میں اور دنیا کے کونے کونے میں نکل گئے اور یہ ثابت کرکے دکھایا کہ جب اسلام پر کفار نے چڑھائی کا فیصلہ کیا تو دین حق کے جیالوں نے کفار کے خلاف جہاد کو فرض عین سمجھ کر اپنے دین کی اور اس کے ہر جزو کی حفاظت کی ذمہ داری کو پوری دیانتداری کے ساتھ ادا کیا۔ محمد بن قاسم نے ایک بہن کی پکار پر ہندوستان کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر نے جہاد کو فرض عین سمجھ کر اسپین فرانس اور بہت سے علاقوں کو کفار کے پنجے سے چھڑایا سید سلطان صلاح الدین ایوبی نے جہاد کو فرض عین سمجھ قبلہ اول اور پورے فلسطین کو آزاد کرایا ہر دور کے مسلم حکمرانوں نے ظلم کے خلاف جہاد کو نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے مطابق فرض عین سمجھا۔
    اللّٰہ تعالی آج کے مسلمان حکمرانوں کو ہدایت دے کہ وہ جہاد کو فرض عین سمجھ اس فریضہ کو سرانجام دیں ارشاد باری تعالیٰ ہے اے ایمان والو جہاد تم پر فرض کر دیا گیا ہے خواہ تم ناگوار گزرے۔
    اس وقت قرآن و حدیث کی روشنی سے جہاد مسلمانوں پر فرض عین ہوچکا ہے اللّٰہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اس فرض کو فرضِ عین سمجھ کر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین

    @muhammadmoawaz_

  • تعلیم کا فقدان  عدنان علی

    تعلیم کا فقدان عدنان علی

    ہم اپنی آنے والی نسل کو کیسے باور کروائیں کہ علم سے ہی ہماری زندگی روشن ہوگی۔۔۔
    کچھ عرصے تک میں یہی سوچ رکھتا تھا کہ علم حاصل کرنا کوئی کامیابی کی کنجی نہیں ہے لیکن پھر احساس ہوا کہ اگر ایسا نہیں ہے تو یہ کالج یونیورسٹیاں کیوں بھری ہوئی ہیں؟؟
    ہر ماں باپ چاہتاہے کہ ہمارے بچے تعلیم سے آراستہ ہوں۔۔۔
    ہمارے بچوں کی سوچ ہے کہ اگر ہم کالج یا یونیورسٹی نہ جائیں گے تو ہمارے گھر والے ہمیں کہی مزدوری پر ڈال دیں گے اس لیے وہ چلے تو جاتے ہیں لیکن یہ لوگ اپنی جوانی کو انجواے کرنے کی سوچ میں رہتے ہیں
    اور تعلیم سے دوری کی بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری نسل سمجھتی ہے کہ خیر ہے کچھ نہیں ہوتا ہم کوئی نہ کوئی سفارش کروا لیں گے ۔ سفارش سے کسی نہ کسی جگہ سیٹ ہو جائیں گے
    تعلیم کا مقصد ہے انسان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنا، ذہن و شعور میں ایک مثبت تبدیلی لانا، قومی کردار کی روح پھونکنا، انسانی اقدار کے دریچے کھولنا، تعصب اور تنگ نظری کو ختم کر کے اخلاقی قدروں کو برقرار رکھتے ہوئے انسان کو تہذیب و تمدن کے بلند و بالا مقام تک پہنچانا ہے۔

    تعلیم کے لئے خود سے جنگ کرنی پڑے گی اپنے مستقبل کو سنوارنے کے شوق پیدا کرنا پڑے گا ۔
    ہمارے استاد ہوا کرتے تھے بہت ہی پیارے جو ہمیں کہا کرتے تھے کہ زندگی میں انجواے بھی کرو لیکن اپنے مقصد کو اگنور نہ کرو اگر آپ آج کچھ نہیں کریں گے تو کل کو آپکے سامنے آئے گا اور آج اکثر ان کی باتیں یاد آتی ہیں کہ وہ سنجیدہ تھے کہ ہمیں اپنے علم کی روشنی سے روشن کر دینے کو لیکن ہم تب نادان تھے جو جوانی کو زندگی کے خوبصورت ترین دن سمجھ کر ضائع کرتے رہے
    تعلیم کو پوری دنیا میں وہ واحد ہتھیار سمجھا جاتا ہے جو ایک غیر مہذب معاشرے کو مہذب معاشرے میں بدل سکتا ہے

    لہذا خود بھی اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہ باور ضرور کروائیں کہ تعلیم کا
    ہماری زندگی میں کیا کردار ہے
    ہمیں چاہیے کہ تعلیم حاصل کریں اور اس کا صیح استعمال کریں اور اگر ایسا ممکن ہوا تو وہ دن دور نہیں کہ ہم دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونا شروع ہوجائے گا جو جدید علوم سے اگاہی رکھتے ہیں۔
    @_Ryder007

  • عنوان: کسی درد مند کے کام آ تحریر: فرقان اسلم

    السلام و علیکم۔۔۔!!
    "ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا”
    ہم اکثر یہ محاورہ سنتے ہیں لیکن اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ محاورہ صرف باتوں تک ہی محدود ہے۔ عملی طور پر ہمارے معاشرے میں اس کا فقدان ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے تو وہ اسی بِنا پر بنایا کہ انسان دوسروں کا احساس کرے ان کے درد کو اپنا درد سمجھے۔ ان کی مدد کرے ان کی ضروریات کا خیال رکھے۔ اگر ہم اس کے باوجود دوسروں کی مدد نہیں کرتے تو یہ نہایت افسوس کی بات ہے۔ ہمارا دین اسلام جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ہمیں اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ ہمیں انسانیت کی خدمت کرنی چاہیئے۔ بھوکے کو کھانا کھلانے اور پیاسے کو پانی پلانے پر ہمارے دین میں بڑی فضیلت حاصل ہے۔ عیدِ قرباں پر ہم جو قربانی کرتے ہیں وہ بھی احساس اور ایثار کا عملی ثبوت ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں احساس کی کمی ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں بہت سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں۔ اگر ہم مالی امداد کرسکتے ہوں تو وہ کرنی چاہیئے کسی کو اچھی بات بتانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔ کسی بوڑھے کو سڑک پار کروا دیں۔ کسی پیاسے کو پانی پلا دیں۔ کسی بھٹکے ہوئے کو راستہ بتادیں۔ غرض یہ کہ ہمیں ہر لحاظ سے مستحق اور دردمندوں کی مدد کرنی چاہیئے کیونکہ اسی میں روحانی سکون اور خوش پوشیدہ ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کے قرب کا بھی ذریعہ ہے۔ اگر ہم نے کسی ضرورت مند کو دیکھا تو اس کی مدد نہ کی حالانکہ اس کی مدد کرنے پر ہم قادر بھی ہوں تو خدا کی قسم ہم مفتی ہو سکتے ہیں نمازی ہو سکتے ہیں متقی ہو سکتے ہیں مگر ہم نیک انسان نہیں ہو سکتے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کے تو الفاظ یہ ہیں کہ "تم میں سے اللّٰہ کے نزدیک سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو نفع دیتا ہے۔”
    حقیقی فاتح وہ ہوتا ہے جو لوگوں کے دل جیتنا جانتا ہے اور لوگوں کے دل وہی انسان جیت سکتا ہے جس کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ ایسا شخص دکھی انسانیت کا مسیحا ہوتا ہے۔ جیسے ہمارے سامنے عبدالستار ایدھی صاحب کی مثال موجود ہے جنہوں نے ہزاروں انسانوں کی بے لوث مدد اور خدمت کی اور آج بھی وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
    ایک جگہ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ ” خدا تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں، لیکن میں نے خدا کا پسندیدہ ترین راستہ مخلوق سے محبت کو چنا”۔
    اللّٰہ پاک ہم سب کو دوسروں کی حقیقی معنوں میں مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین
    یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
    کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
    @Rumi_PK

  • ‏آزاد کشمیر بھی کپتان کا .تحریر : فضیلت اجالہ

    ‏آزاد کشمیر بھی کپتان کا .تحریر : فضیلت اجالہ

    25 جولائ کا دن آزاد کشمیر میں الیکشن کے روائتی جوش و جزبے اور جیت کی امید کے ساتھ طلوع ہوا
    ہر طرف الیکش کی روائتی گہما گہمی کے ساتھ ساتھ کچھ شر پسند عناصر کی سرگرمیاں بھی عروج پر رہیں ۔کشمیر سے پرانا تعلق ہونے کی دعوے دار نون لیگ کے کیمپوں کی ویرانی بتا رہی تھی کہ ایک دفعہ پھر سے دھاندلی ہو گئ کا شور اٹھنے والہ ہے ۔
    تحریک انصاف کے خیموں میں عوام کا سیلاب اور کارکنان کا اطمینان دیکھ کر اپوزیشن نمائندے گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ کا شکار رہے ۔نون لیگی امیدوار اسماعیل گجر نے ہرزہ سرائ کی تماحدیں عبور کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو بھارت کی دھمکیاں دیتے رہے اور اپنے بھگوڑے لیڈر نواز شریف کے یار مودی کو مدد کیلیے پکارنے کا اعلان کر کے کشمیری عوام کو ایک مرتبہ پھر سے بتا دیا کہ کس طرح نون لیگی کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے رہے ہیں ۔

    پولنگ کے بعد نتائج آنا شروع ہوئے تو آزاد کشمیر کی نڈر عوام نے ثابت کردیا کہ انکی آخری امید عمران خان ہے
    25 جولائ کے سورج کے ساتھ ساتھ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا سورج بھی ہمیشہ کیلیے غروب ہوگیا ۔
    مریم نواز کی فوٹو شاپ اور اوچھے ہتھکنڈے بھی کسی کام نا آسکے وہیں سندھ کی تباہ حالی پیپلز پارٹی کی راہ کی دیوار بنی اور کشمیری عوام نے بلے پر مہر لگا کر عمران خان کو اپنا سفیر مانا۔خان کی جیت سے پہلے اور بعد میں بھی ہمسایہ ملک بھارت سے اٹھتی چینخوں نے عوام کو واضح کر دیا ہے کہ کشمیر فروش اور مودی کا یار کون ہے ۔
    کشمیری عوام کا تحریک انصاف پر اعتماد اس بات کی دلیل ہے کہ عمران خان ہی کشمیر کے حقیقی سفیر ہیں ۔کشمیر کی عوام نا کسی شیر کی دہشت میں آئ اور نا ہی نوٹوں کی خوشبو ں انہیں اپنی طرف راغب کر سکی ۔

    جہاں ایک طرف کشمیر میں تیر چلے گا کے دعوے داروں کے ارمانوں پہ تیر چلا وہیں شیر ایک واری فیر،ڈھیر ہوا ۔
    اب تک کہ غیر حتمی بتائج کے مطابق عمران خان 26 نشستوں پر کامیابی کے ساتھ آزاد کشمیر میں بھی حکومت بنانے جا رہے ہیں ۔شیروانی کا بٹن نہ دینے والوں کی ازیت کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں، اپوزیشن کا رونا تو بنتا ہی ہے کہ وہ عمران خان جسے نواز شریف چار حلقے نہی کھولنے دے رہا تھا وہ چار صوبوں ،میں حکومت بنا چکا ہے بے شک اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے ۔
    گزشتہ حکومتوں نے ہمشہ کشمیری عوام کے حق پہ ڈاکہ ڈالہ اور زاتی مفادات کو اولین رکھا آج کشمیری عوام نے اپوزیشن کا بیانیہ مکمل طور پر دفن کردیا ہے ۔
    عمران خان کو سلیکٹیڈ کہنے والے دیکھ لیں آج کشمیری عوام نے بھی عمران خان کو سلیکٹ کیا ہے ۔

    مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کا بھی عمران خان پر اعتماد عمران خا کی بڑی کامیابی اور ان لوگوں کہ منہ تھپڑ ہے جو کہتے تھے خان کو سیاست نہی آتی ،ہاں خان کو منافقت کی کرپشن کی،پیسو کی ،دھاندلی کی سیاست واقع نہی آتی ۔امید ہے کہ عمران خان کشمیری عوام کی مرحومیوں کا ازالہ کریں گے ،
    2023 کے الیکشن میں تحریک انصاف انشاء اللہ سندھ میں بھی حکومت بنائے گی اور پھر آگے بڑھے گا پاکستان ،نیا ،روشن،کپتان کا پاکستان ۔

    ‎@_Ujala_R

  • دوستی ایک نازک رشتہ تحریر:امتیاز احمد سومرو

    دوستی ایک نازک رشتہ تحریر:امتیاز احمد سومرو

    لفظ دوستی ایک ایسی مشعل ہے جو اجنبی ، انجان ، نا آشنا لوگوں کے دلوں میں بھی جلنے لگتی ہے اور یہ مشعل دوستی جیسے اعلی رشتے کو باہم روشن کرتی ہے۔جانتے ہیں اس مشعل کو جلانے کے لیے کس چیز کی ضرورت پڑتی ہے ؟ اعتماد ، جی ہاں اعتماد ہی وہ ہوتا ہے جو اس مشعل کو جلائے رکھتا ہے۔ اگر اعتماد ختم ہو جائے تو عرصہ دراز کی دوستی لڑ کھڑا جاتی ہے اور دم توڑنے لگتی ہے۔ اگر اعتماد بحال نا ہو تو یہ عظیم رشتہ دم توڑ جاتا ہے۔ لیکن ٹھہرئیے یہاں ایک اور بات غور طلب بات یہ ہے کہ دوبارہ اعتماد بحال کیونکر ہو؟ فرض کریں اعتماد بحال ہو بھی جائے تو کیا یہ پہلے جیسا مظبوط اعتماد ہو گا؟ کیا یہ ایسا اعتماد ہو گا جو دوستوں کی آپس کی ناچاکیاں اپنے اندر سمیٹ لے۔ ایسا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اب ایسا کیوں جناب!
    ۔
    ایسا اس لیے کہ اعتماد ایک نازک آئنیہ کی طرح ہوتا ہے جب تک آئینہ ٹوٹے نہ یہ مکمل اور پورا شفاف عکس دکھاتا ہے لیکن جب ٹوٹ جاتا ہے تو جڑنے کے بعد بھی یہ مکمل اور پورا عکس نہیں دکھاتا بلکہ دو عکس دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح دوستی میں بھی ہوتا۔ دوستی میں جب تک باہمی اعتماد برقرار رہتا ہے تب تک دوستوں کا عکسواضح اور ایک ہی دکھائی دیتا ہے لیکن جب باہمی اعتماد ٹوٹ جائے اور کم و بیش بحال بھی ہو جائے تو عکس دو ہی دکھائی دیتے پھر۔ دوستوں کی آرا میں یکجیہتی ختم ہو جاتی۔ ایسی دوستیاں پھر دیر پا نہیں چلتی بلکہ غلط فہمیوں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔
    برائے کرم چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو در گزر کریں تاکہ اعتماد کا آئینہ ٹوٹنے نا پائے۔

    @Imtiazahmad_pti

  • کورونہ وائرس اور پاکستان میں تعلیم پر اس کے اثرات    تحریر: زاہد کبدانی

    کورونہ وائرس اور پاکستان میں تعلیم پر اس کے اثرات تحریر: زاہد کبدانی

    کورونا وائرس نے پاکستان کا نظام تعلیم اور امتحانات کا نظام درہم برہم کردیا ہے۔ پاکستان میں تعلیمی نظام 20،2020 مارچ کو تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے تھے ، کیونکہ کسی ملک کے نظام کی وجہ سے ، اس ملک سے سائنس دان ، ڈاکٹر اور انجینئر جتنے زیادہ آتے ہیں۔ COVID-19 کے وسیع پیمانے پر ، اور افراد کو گھر سے خود کو الگ تھلگ کرنے کی تاکید کی گئی۔ لاک ڈاؤن کا معیشت پر منفی اثر پڑا ، لیکن اس نے تمام تعلیمی سرگرمیاں بھی بند کردیں ، جس سے پوری دنیا میں طلباء کی تعلیم اورعلم میں ایک بہت بڑا فرق پڑ گیا۔ کسی بھی ملک کی ترقی سے شدید متاثر ہوئے ہیں اس کا انحصار اس کے نظام تعلیم پر ہے۔ کورونا وائرس کی بہتر تعلیم جس طلباء نے جس نے سارا سال محنت کی اور وہ طالب علم جنہوں نے اپنا وقت ضائع کیا اور اپنے والدین کا پیسہ ضائع کیا۔ دونوں قسم کے طلبہ کو فروغ دیا۔ اس مقداری مطالعے کا مقصد پاکستان میں اعلی سطح کے طلبا کی تعلیم پر COVID-19 کے اثر و رسوخ کا تعین کرنا تھا۔ انٹرمیڈیٹ ، انڈرگریجویٹ ، گریجویٹ ، اور پوسٹ گریجویٹ لیول میں داخلہ لینے والے لرن کو پانچ نکاتی لیکرٹ اسکیل سوالنامہ دیا گیا تھا۔ سروے میں کل 74 افراد نے جواب دیا۔ ایس پی ایس ایس
    ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لئے 23 استعمال کیا گیا تھا۔ اعداد و شمار نے اشارہ کیا کہ طلبا کو آن لائن کلاسوں کے دوران کلیدی موضوعات کو سمجھنے میں بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ شاگردوں کے پاس انٹرنیٹ کنیکشن کی کمی تھی اور ان کو آن لائن پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کے بارے میں کوئی پیشگی ہدایت نہیں تھی۔ جب ایک ہی وقت میں آن لائن تعلیم کی بات آتی ہے تو اساتذہ اور طلبہ دونوں ہی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس بات کا بھی پتہ چلا کہ اساتذہ کے باوجود طلبہ کو مطلوبہ اوزار اور آراء دیتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت نے پہلے سمارٹ نصاب دیا اور پھر بعد میں اعلان کیا کہ صرف تین مضامین کے کاغذات ہوں گے لازمی مضامین نہیں لئے گئے ، حالانکہ پاکستان اور اسلام کے بارے میں جاننا زیادہ ضروری ہے۔ پاکستان میں باقی سب کچھ چل رہا تھا لیکن صرف تعلیمی ادارے ہی کیوں بند کیے گئے؟ اب اساتذہ اور طلبہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ سخت محنت کریں اور پچھلی تعلیم میں کسی قسم کی کوتاہیوں کا مقابلہ کریں۔

    @Z_Kubdani

  • اندھیروں کا سفر  تحریر: ڈاکٹر نجیب اللہ

    اندھیروں کا سفر تحریر: ڈاکٹر نجیب اللہ

    قبل از اسلام اخلاقی اقدار کے انحطاط کا یہ عالم تھا کہ لوگ زمانۂ جاہلیت میں زنا کا اقرار بھی کیا کرتے تھے اور زنا عربی معاشرے میں بڑے پیمانے پر عام تھا بلکہ بہت سے لوگ عورت کو زنا پر مجبور بھی کیا کرتے تھے۔ مگر
    اسلام نے اسکی ممانعت کر دی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَ لَا تُکۡرِہُوۡا فَتَیٰتِکُمۡ عَلَی الۡبِغَآءِ اِنۡ اَرَدۡنَ تَحَصُّنًا لِّتَبۡتَغُوۡا عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا
    اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا سازوسامان حاصل کرنے کے لیے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامنی چاہتی ہوں
    سورۃ النور آیت 33 ترجمہ تقی عثمانی صاحب
    اسلام کی آمد سے قبل عورت بہت مظلوم اور معاشرتی و سماجی عزت و احترام سے محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اور قابل نفرت تصور کیا جاتا تھا
    زمانہ جاہلیت میں مردوں نے نکاح کو بھی اپنی مرضی کے سانچے میں ڈال رکھا تھا ، اس زمانے میں زواج البعولتہ،
    زواج البدل ، نکاح متعین ،نکاح الخذان، نکاح شغار، نکاح الاستبضاع ، نکاح البغایا کا رواج عام تھا
    پھر عرب میں آفتابِ اسلام طلوع ہوا ، اسلام نے انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں تاریخ ساز تبدیلی پیدا کی ہے۔ اسلام نے دنیا کے مذہبی و سیاسی، علمی و فکری اور اخلاقی و معاشرتی حلقوں میں نہایت پاکیزہ اور دور رس انقلاب کی قیادت کی ہے۔ زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جہاں تک آفتابِ اسلامی کی کرنیں نہ پہنچی ہوں
    ریاست مدینہ کے بعد اسلام کے نام پر بنے والا ملک اسلام جمہوریہ پاکستان 27 رمضان 1947 کو معرضِ وجود میں آیا، اور تب سے لے کر آج تک یہاں اسلامی قانون نافذ العمل نہیں ہوا لیکن تاریخی اوراق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں روز اول سے لبرلزم کے نام پر عرب طرزِ زندگی گزانے پر زور دیتے ہیں اور بات یہاں ختم نہیں ہوتی ، زمانہ جاہلیت میں عرب نے زنا کی کیلئے نکاح کے مختلف اقسام بنائیں تھے لیکن آج کل پاکستان میں لبرلزم اور آزادی کے نام فحاشی کو فروغ دے رہے ہیں، 2020-21 میں ھم دیکھے تو بچیوں سے ذیادتی کی واقعات ہو یا عثمان مرزا، ضمیر جعفری جیسے کہانیاں اور واقعات ، ایک سروی کے مطابق پاکستان میں روزانہ 11 خواتین اور 8 بچوں کو ذیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے
    خدارا اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات پڑھائیں اور ان کو زمانہ جاہلیت کے رسومات سے دور رکھے ، کہی ایسا نہ ہو کہ ھم ترقی اور آزاد خیالی کی طرف بڑھتے بڑھتے زمانہ جہالت کے اندھیروں کی طرف نکل جائیں، اللہ ھم سب کا حامی و ناصر ہوں اور ھم سب کو نیک راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین
    اسلام ذندہ باد

    @DrNajeeb133

  • قربانی اور سیکولر طبقے کا دوہرا معیار تحریر: محمد عبداللہ مزاری

    قربانی اور سیکولر طبقے کا دوہرا معیار تحریر: محمد عبداللہ مزاری

    قربانی کے تین بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں،
    ١_اللہ سبحان وتعالی کی رضا
    ٢_سنت ابراہیمی کے مقدس فریضے کی ادائیگی
    ٣_غریب و نادار طبقہ کو تین دن مسلسل گوشت کی فراہمی شامل ہے
    اس عظیم خوشی کے موقع پر سیکولر طبقہ مختلف رائے رکھتا ہے ، اِن کے مطابق لاکھوں جانوروں کی قربانی کرنے کے بجائے انہی پیسوں کو کسی اور فلاحی کام میں لگایا جائے ، اس سے لاکھوں جانوروں کی زندگیاں بچ جائیں گی اور فلاحی کام بھی ہوسکیں گی،
    معزز قارئین! انہی لبرل و سیکولر طبقے کو کیا واقعی جانوروں سے ہمدردی ہے ، یا نشانہ دراصل اسلامی ضابطہ حیات ہے؟
    اس سوال کا مختصراً جواب یہ ہے کہ، انہی لبرل و سیکولر مافیاز کو "سپین؛ میں جانوروں کے حقوق پر کبھی بولتے نہیں پایا گیا ، جہاں ہر سال چھری اور نیزوں سے ہزاروں بیلوں کو ہلاک کردیا جاتا ہے ، بے زبان جانوروں کو اذیت ناک موت دے کر کہتے ہیں یہ تو بس ایک کھیل ہے.
    انہی لبرل مافیاز کے زبانوں پر اسوقت تو آبلے پڑ جاتے ہیں جب نیپال میں ہر پانچ سال بعد ہندؤں! کی جانب سے لاکھوں جانوروں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے، وجہ اپنے دیوی ماتا کو راضی کرنے کے لئے.
    معزز قارئین! جب ڈنمارک میں ہر سال سینکڑوں افراد ہزاروں ڈولفنز کو قتل کر دیتے، حتیٰ کہ سمندر کا رنگ سرخ پڑ جاتا ہے لیکن نہیں یہ بھی ایک کھیل ہی ہے اور ایک تہوار ہے ، لبرل مافیاز کا اس پر خاموشی کوئی اچنبھے کی بات نہیں.
    جب یہودیوں! کی جانب سے ہرسال ہزاروں مرغیوں کو پتھروں پر مار کر ہلاک کردیا جاتا ہے تو وہاں بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں ، ہاں کسی کو اعتراض ہے بھی سہی تو اسلامی اقداروں پر ہے .
    معزز قارئین! اگر اب بھی کسی کو جانوروں کی قربانی پر اعتراض ہے تو اسے اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔

    @AbdullahMazari12