Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قومی حکومت تشکیل دے کرملکی مفادات میں آئینی اصلاحات کی جائیں مافیاز کا رستہ روکا جائے تحریر:ڈاکٹر راہی

    الیکشن سے زیادہ وطن عزیز کوایسی آئینی اصلاحات کی ضرورت ہےجن کے ذریعے بیس کروڑ کے عوام کی اسمبلی چند افراد کے ذاتی مفادات کی خاطر استعمال ہونے کا تدارک ہو
    ایسی پارلیمنٹ بنے جو قوم کی آواز ہو

    ایسی حکومت آئے جومسائیل کے حل کے لیے بہترین قانون سازی کرے
    جہاں جرم کے لیے قانون میں کمزوری نظر آئے اس کمزوری کو مقننہ دور کرے
    ہو یہ رہا ہے کہ مقننہ چوروں کو استثنی دے کر ان کی حفاظت کرتی ہے
    ان کو بڑے بڑے عہدوں پر پہنچاتی ہے
    پارلیمنٹ چوری ہضم کروا کر بعد میں اس واردات کو گڑا مردہ کہہ کر این آر او کر لیتی ہے
    اس ملک کے ادارے یرغمال ہیں انہیں سیاسی مداخلت سے نجات چائیے

    اس وقت نون لیگ پی پی پی قاف لیگ جماعت اسلامی جے یو آئی ایم کیو ایم فنکشنل مسلم لیگ تحریک انصاف میں موجود لوگوں اوران سب پارٹیوں نے کسی نہ کسی صورت اقتدار کا حصہ رہ کر جو تیر مارنا تھا وہ مار لیا عوام نے دیکھ لیا
    پی ٹی آئی نے خیبر پختونخواہ کو کس قدر بدلا ہے یہ وہاں کے عوام بتلا سکتے ہیں

    اسوقت ملکی سیاست پارٹیوں سے زیادہ چند سیاسی خاندانوں کے ہاتھ میں ہے
    ایک حلقے میں کسی خاندان کا کوئی فرد سیاسی طور پر مضبوط ہے تو پارٹیاں اسی کے چچا ماموں یا کسی رشتہ دار کو اس کے مقابلے میں تکٹ کو ترجیح دیتی ہیں

    اعلی قیادت کرپشن نہ بھی کرے ثانوی قیادت دونوں ھاتھوں سے ملکی خزانے پراپنا ہاتھ صاف کر لیتی ہے

    ملکی قانون تو بیچارہ کرپٹ مافیا کے گھر کا غلام ہے

    قومی اسمبلی اور سینٹ نے گزشتہ دنوں نا اھلی کی شرط ختم کرکے کسی اک شخص یا خاندان کو جو فائدہ دینے کی کوشس کی یہ بات نئی نہیں مشرف اور زرداری کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے بھی قانون میں کئی بار ترمیم کی گئی
    کوئی سیاسی پارٹیاں قبضہ گروپوں سےخود کو الگ نہیں کرسکتیں
    حال یہ ہو چکا ہے کہ بدعنوان لوگ سیاسی پارٹیوں کی مجبوری بن گئے ہیں
    ان کرپٹ لوگوں کے سرمایے نے ان پارٹیوں کو بچا رکھا ہے
    بڑی پارٹیوں کی اعلی کمان ان لوگوں کے کرتوت جان کر بھی ان کو تحفظ دیتی ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے ان کی بھی بادشاہت قائم ہے
    بد عنوان لوگوں کا یہ وطیرہ بن گیا ہے کہ جب قانون ان پر اپنی گرفت مضبوط کرتا ہے یہ سیاسی پارٹیوں میں شامل ہو کر سیاسی انتقام کا واویلا کرنا شروع کر دیتے ہیں
    علاوہ ازیں یہ اقتدار میں موجود پارٹیوں پر اپنی سیاسی حیثیت جتلا کر اپنے حق میں رعائیت کروا لیتے ہیں
    کئی سیاسی گروہ قرضے معاف کروا گئے کئی این آر او کے ذریعے جیلوں سے نکل گئے
    وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے سیاسی نظام کو عوام کے حق میں مضبوط کیا جائے
    قانون سازوں کو صرف قانون سازی تک محدود رکھا جائے

    یا تو پورا ملک ایک حلقہ ہو تمام پارٹیوں کا باہمی مقابلہ کرایا جائے
    یاپھرہر ضلع میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کا مقابلہ پارٹیوں کے درمیان ہو
    پورے ضلع میں کسی پارٹی کو پڑنے والےووٹ کے تناسب سے پارٹیوں کواس ضلع میں نشستیں الاٹ کی جائیں

    وڈیروں جاگیرداروں ٹھیکیداروں کی دلچسپی سیاست میں کیوں ہے ؟
    کیونکہ انہوں نے اسمبلیوں میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرنا ہوتی ہے
    مندرجہ بالا تحفظات اور تجاویز کے ساتھ میری محب وطن لوگوں اور مقتدر لوگوں سے اپیل ہے کہ بیشک الیکشن کے انعقاد میں تین سال لگ جائیں نگران حکومت کے اس عرصہ میں ملک کو درست سمت میں چلانے کے لیے قومی حکومت تشکیل دے کر کڑے فیصلے کیے جائیں
    وسائیل کی منصفانہ تقسیم فاٹا کے الحاق سے لے کر تمام فیصلے مل بیٹھ کر کیے جائیں
    ملک لٹیروں سے نجات کا یہی واحد راستہ ہوگا کہ گزشتہ پندرہ بیس سالوں کاکڑا احتساب کیاجائے
    جو سیاسی لوگ گھپلوں میں ملوث پائے جائیں انہیں جیل بھیجا جائے
    اس صفائی کے بعد الیکشن کا انعقاد کرایا جائے
    تمام استثنی وغیرہ ختم کیے جائیں
    ہر عہدیدار کو جوابدہ بنایا جائے چاہے وہ پاک فوج کا جرنیل ہی کیوں نہ ہو
    عوامی عہدوں پر لوگوں کا بے جا پروٹوکول واپس کیا جائے
    اسمبلی اراکین و وزراء کو ایک سے زیادہ گاڑی نہ دی جائے

    ڈاکٹر راہی

  • معافی مانگئے معاف کیجئے تحریر  : محمد اویس

    معافی مانگئے معاف کیجئے تحریر : محمد اویس

    بس اتنی کوشش کیا کریں کہ کوئی آپ کی وجہ سے اپنے رب کے سامنے نہ رو پڑے
    یقین کیجیے اگر کوئی آپ کی وجہ سے اپنے رب کی بارگاہ میں رو پڑا اور جو رو رہا ہے وہ سچا اور مظلوم بھی ہے، تو آپ کی آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا بھی تباہ ہو سکتی ہے ۔
    کوشش کیجئے کہ کسی کا دل توڑنے کا بائث نہ بنیں ۔
    اگر کسی کا دل توڑا ہے ، ظلم کیا ہے ، دل آزاری کی ہے ، کسی کو اپنے رعب و دبدبے سے ڈرایا ہے تو فورا اُس سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لیجئے اِس سے پہلے کہ وہ اپنا فیصلہ اللّه پر چھوڑ دے
    اور
    اگر آپ کو کسی نے رلایا ہے، دل آزاری کی ہے ، ظلم کیا ہے، دھوکہ دیا ہے تو آپ کو میرا مشوره ہے کہ بڑے دل کا مظاہرہ کیجئے اور اللّه کی رضا کی خاطر اُس شخص کو معاف فرما کر درگزر سے کام لیجئے..
    ان شاءاللہ ! اس معاف کرنے کا اللّه آپ کو بہترین صلہ عطا فرماۓ گا ۔
    کیونکہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ ” جو رحم نہیں کرتا اُس پر رحم نہیں کیا جاتا اور جو معاف نہیں کرتا اُس کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ ”
    (مسند امام احمد ج۷ص۷۱ حدیث ،۱۹۲۶۴ )
    اور معاف کرنے سے تو عزت بھی بڑھتی ہے،
    جی ہاں !
    حضرتِ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے ربّ  تیرے نزدیک کون سا بندہ زیادہ عزّت والا ہے؟ فرمایا: ” وہ جو بدلہ لینے کی قدرت کے باوُجود مُعاف کردے۔”
    (شعب الایمان ج۶ص۳۱۹حدیث۸۳۲۷ )
    آج کل دیکھا گیا ہے ہر دوسرا گھر لڑائی جھگڑوں اور ناراضگیوں کی آفت میں مبتلا ہے ، کہیں بھائی بھائی کی آپس میں نہیں بنتی تو کہیں والدین اولاد سے ناراض ہیں ، کہیں بہنیں بھائیوں سے بات کرنے کو تیار نہیں تو کہیں ساس بہو کی آپس میں ٹھنی رہتی ہے الغرض ہر جگہ نااتفاقی اور ناراضگیوں نے اپنے جڑیں مضبوط کر رکھی ہیں۔
    اس لئے آپ سے عرض ہے کہ کوئی شرعی عزر نہ ہو تو معافی مانگنے ، معاف کرنے اور رجوع میں پہل کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ ایک ہمارا "رب” بھی تو ہے جو دن رات ہماری ہزارہاں غلطیاں و گناہ دیکھنے کہ باوجود ہم پر فوراً عذاب مسلط نہیں فرماتا بلکہ ہمیں توبہ و معافی مانگنے کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔
    بے شک اللہ پاک غفور و رحیم ہے اور ہم اُس کے بندے ہیں۔

    تو آخر میں خلاصہ کلام یہی ہے کہ معافی مانگئیے اور
    معافی دیجئے اور اپنے روٹھے ہوئے منا لیجئے ۔
    اور
    مجھ گناہ گار کو بھی اپنی دعاوں میں یاد رکھیے۔
    جزاک اللہ خیرا !

    @Awsk75

  • جس تن لاگے، اوہی جانڑے تحریر: مجاہد حسین

    میں 5 سال کا تھا جب ابو فوت ہوئے (اللہ ان کے درجات بلند فرمائے)
    بھائیوں کے اصرار کے باوجود امی نے دوسری شادی نہیں کی،
    تین بھائی سکول میں تھے۔
    میں اور ایک چھوٹا بھائی ابھی سکول نہیں جاتے تھے۔
    ورثے میں تین کنال زمین ملی، دو کنال زرعی ایک بنجر۔
    ‏دو گائے تھیں ایک وچّھا ایک وچّھی تھی۔
    تین بکریاں تھیں۔
    شروع شروع میں رشتہ داروں اور عزیز و اقارب کی طرف سے فصل کٹائی پر صدقات کی مد میں اتنی گندم جمع ہو جاتی تھی کہ سال بھر کے لئے کافی ہوتی تھی۔
    کچھ عرصے بعد بڑے بھائی کو کالج چھوڑنا پڑا اور ویک ویگن پر کنڈکٹر لگ گیا۔
    ‏وقت گزرتا گیا
    ہماری ضروریات اس زمین اور جانوروں سے پوری ہوتی رہیں۔
    بڑے تینوں بھائی کام کاج پہ لگ گئے۔ سب سے بڑے کی شادی بھی ہوگئی۔ سرکاری ملازمت بھی لگ گئی۔
    اب اس کے بچے بھی ہو گئے تھے تو شہر میں الگ گھر بھی بنا لیا،
    لیکن ماں کو کب آرام تھا۔ ہم چھوٹے تھے
    اب توجہ کا مرکز بنے۔
    ‏کسی بھی طرح میں نے سکول (اول پوزیشن سے) پاس تو کر لیا لیکن آگے کالج داخلے کے لئے اخراجات نہیں تھے۔ بڑا بھائی جو شہر میں رہتا تھا، میرے کاغذات جمع کروا دئے اور انٹریو کی تاریخ بھی آگئی۔
    سوال یہ تھا کہ پیسے کہاں سے آئیں؟؟
    ‏اماں نے ایک وچھا پال پوس کے بیل بنایا تھا، چنگا سوہنڑا۔
    بیچنا پڑا۔۔۔
    داخلہ ہو گیا
    اور میں کالج سے گریجویٹ ہو گیا۔
    اماں کی دعا سے رزلٹ سے پہلے ہی نوکری مل گئی۔
    اور آج بیرون ملک اللہ کے فضل سے اپنی سوچ سے بھی زیادہ کما رہا ہوں۔
    سب بھائی خود مختار ہیں۔
    اپنے اپنے گھر خوش ہیں۔
    ‏ہم نے ایسے بھی دن دیکھے ہیں کہ کبھی کبھی دو دو دن تک گندم کے دلیئے میں لسی ڈال کر کھا کے گزارا کرنا پڑا۔
    اس دن ہماری عید ہوتی تھی جس دن گڑ والے چاول بنتے تھے۔
    حالات کا احساس اورادراک تھا اس لئے عید اور میلوں کا شوق پیدا ہی نہیں ہوا۔
    آج الحمدللہ خود مختار ہیں۔
    ‏سوال یہ ہے کہ جناب! یہ سب ممکن کیسے ہوا۔
    تو محترم! ماں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔
    نا کبھی نا شکری کی نہ ہمیں سکھائی۔
    گھر میں بندھی ان دو گائیوں، چند مرغیوں اور دو تین کنال زمین سے رب نے ماں کے وسیلے سے ایسا انتظام چلایا کہ کبھی کبھی جب آج سوچتے ہیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
    ‏قصہ مختصر: عمران خان نے جو غریبوں کو بھینسیں، بکریاں یا مرغیاں دی ہیں ان کی اہمیت کا اندازہ ملاوٹ والا دودھ، پلاسٹک کے انڈے اور پانی سے بھرا گوشت کھا کر اسٹنٹڈ گروتھ کے حامل ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے بے ضمیروں کو نہیں ہوگا۔

    کیونکہ جناب!
    جس تن لاگے، اوہی جانے

    @Being_Faani

  • والد کا احترام   تحریر:  سمیرا جمال

    والد کا احترام تحریر: سمیرا جمال

    والد وہ ہستی ہے جس کی شفقت کے سائے میں اولاد پروان چڑھتی ہے۔بچپن سے جوانی
    میں پاؤں رکھنے تک اولاد اپنے باپ کی وجہ سے خود کو مضبوط اور محفوظ سمجھتی ہے ۔کیونکہ والد ہی وہ ہستی ہے جو دنیا کے تنام غم اور تکلیف کو خود میں پرو لیتا ہے مگر اولاد پہ آنچ نہیں آنے دیتا۔باپ ہی وہ ہستی ہے جو خود تو بھوکا رہ لیتا ہے مگر اولاد کی بھوک اس سے برداشت نہیں ہوتی،یہ وہ ہستی ہے جو مصائب و آلام کے تھپیڑوں کے سامنے اولاد کے لئے ڈھال بن جاتی ہے ‏۔باپ اولاد کے لئے سائباں ہوتا ہے ،پتہ اس وقت چلتا ہے جب یہ عظیم ،بے غرض ،محبت بھرا رشتہ دنیا میں آپکو اکیلا چھوڑ کے عدم سدھار جاتا ہے ۔تب احساس ہوتا ہے کہ آپ تو کڑی دھوپ میں بے سہارا کھڑے ہیں،وہ ہاتھ جو ہر تکلیف میِ آپکو تھام لیتے تھے،وہ جسم جو زمانے کے سامنےآپ کے لئے ڈھال بن جاتا تھا، وہ ساکت ہے تب آپ زندہ لاش بن جاتے ہیِں۔استدعا ہے کہ والدین کا احترام سیکھیں،ان کا خیال اسی طرح رکھیں جیسا انہوں نے بچپن نیں آپ کا خیال رکھا۔تب جا کے اس قابل ہوئے کہ بول سکیں یا چل سکیں ۔بولنے کے بعد وہی زبان اپنے والدین کے سامنے نہ چلائیں۔ ہمارا مذ ہب بھی والدن سے نرمی کے برتاؤ کا درس دیتا ہے ایک موقع پر باپ کا مقام بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”باپ جنت کے بیچ کا دروازہ ہے، اگر تو چاہے تو اس دروازے کی حفاظت کر یا اس کو ضائع کردے۔
    ایک اور جگہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ذلیل و رسوا ہوا، وہ شخص ذلیل و رسوا ہوا، وہ شخص ذلیل و رسوا ہوا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی، یا رسول اللہﷺ کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے ماں باپ میں سے دونوں یا کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخلے کا حق دار نہ بن سکا۔“
    ۔بیٹی ہو یا بیٹا باپ کی شخصیت اولاد کے لئے آئیڈیل ہوتی ہے ۔مگر باپ بیٹی کا رشتہ ازل سے ہی بہت پیار اور انسیت کا رشتہ ہے باپ اور بیٹی کا رشتہ اللہ رب العزت نے بہت مقدس بنایا ہے اور اس رشتے کو بہت خوب صورت احساس سے نوازا ہے۔ بیٹیاں باپ کے آنگن کی رونق ہوتی ہیں۔باپ کا شفقت بھری تربیت بیٹیوں کے اندر زمانے کے تھپیڑوں سے نبرد آزما ہونے کی ہمت اور طاقت پیدا کرتی ہے۔
    خوش قسمت ہے وہ اولاد جن کے والدین حیات ہیں اور وہ خدمت سے جنت کما رہے ہیں ،اور بدبخت ہے وہ اولاد جو بڑھاپے میں اپنے والد صاحب کو اپنا وقت دے کر دعاؤں سے اپنا دامن نہ بھر سکیں۔
    آج زندہ ہیں تو ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھیں جب پردہ فرما گئے تو پھر زندہ لاشوں کی معاشرے کو کوئ ضرورت نہیں ۔
    سب تو اچیاں سنگتاں یارو باپ دیاں
    جیدے صدقے بندیاں قسمتاں آپ دیاں
    باپ مرے تے سارے حوصلے ٹے جاون
    پتر ، تیاں وچ مصیبتاں پے جاون
    لوک پرائے کدی وی نیڑے لگدے نئیں
    ٹر جاون جد باپ تے مڑ کے لبدے نئیں.😭

  • آزاد کشمیرمیں الیکشن یا سلیکشن ؟ . تحریر۔ نوید شیخ

    آزاد کشمیرمیں الیکشن یا سلیکشن ؟ . تحریر۔ نوید شیخ

    کل آزاد کشمیر میں الیکشن ہونے جا رہا ہے۔ اس باریہ الیکشن بڑے سپیشل ہیں۔ کیونکہ تمام سیاسی جماعتوں نے خوب زور لگایا ہے مریم تو مسلسل وہاں الیکشن کمپین چلاتی رہیں ۔ بلاول نے بھی خوب بڑے بڑے جلسے کیے ۔ پی ٹی آئی کے وزیر بھی وہاں خوب نوٹ بانٹتے، گولیاں چلاتے، انڈے اور جوتے کھاتے دیکھائی دے ۔

    کشمیر میں الیکشن کے دوران خرید و فروخت کا کام بھی جاری رہا ۔ ایک ایک امیدوار نے بیس بیس کروڑ روپے دیئے ۔ اور ایسا لگا کہ سیٹ کے لیے سب سمجھتے ہیں کہ ہم نے سری نگر نہیں مظفر آباد کو فتح کرنا ہے۔ اب کل ہوگا کیا اس حوالے سے گیلپ نے سروے جاری کیا ہے جس کے مطابق تحریک انصاف آزاد جموں و کشمیر میں آسانی کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر میں وزیراعظم پاکستان عمران خان ایک مقبول ترین لیڈر مانے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی جماعت آزاد کشمیر میں بھی حکومت بنانے کے لئے بظاہر تیار ہے۔

    ان کے مطابق تحریک انصاف کے جیتنے کا امکان 44 فیصد ہے، جب کہ ن لیگ کے پاس 12 فیصد عوامی حمایت ہے۔ پیپلزپارٹی تیسرے نمبرپرصرف 9 فیصد عوامی پسندیدگی کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ اب اس سروے کو یقینی بات ہے پی ٹی آئی تو خوب پروموٹ کر رہی ہے ۔ بلکہ الیکشن سے پہلے ہی اس سروے کی بنیاد پر وہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ جیت چکے ہیں ۔

    سروے اپنی جگہ مگر جو کچھ دیکھائی دیا ہے اورجو خبریں وہاں سے آئی ہیں۔ مریم اوربلاول نے بھی بھرپورکمپین چلائی ہے۔ سیاست میں کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کب پانسہ پلٹ جائے ۔ یہ بھی ممکن ہےکہ حکومت تو تحریک انصاف کی ہی بنے مگر اسکو coliation government
    بنانی پڑے ۔ جیسا گلگت بلتستان میں ہوا یہ بھی ممکن ہے ۔

    دوسری جانب نواز شریف کی لندن افغان سیکورٹی ایڈوائزرسے ملاقات کوبھی خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ کئی وزیروں نے اس پر پریس کانفرنسیں بھی کردی ہیں۔ تو دوسری جانب ن لیگ بھی پیچھے نہیں ہے۔ مریم مسلسل ٹویٹس پرٹویٹس کر رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ establishment کو انڈرپریشرکرنے کے ساتھ ساتھ الیکشن سے پہلے ہی ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کررہی ہیں کہ شاید کل دھاندلی ہوگی ۔

    جبکہ بلاول بھی کہہ رہے ہیں کہ کل ایسا نہ ہو کہ تاریخ کے متنازعہ ترین الیکشن ہوں۔ ان کے مطابق وزیراعظم پاکستان اور وزرا سرکاری وسائل استعمال کررہے ہیں۔ ساتھ ہی ن لیگ کو بھی آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر بھی انتخابی مہم میں سرکاری وسائل استعمال کررہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق اورکئی دیگر رہنما بھی پہلے سے خبردار کرچکے ہیں کہ آزادکشمیر میں الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن ہورہی ہے۔ تو شیخ رشید بھی خوب تنقید کے نشتر چلا رہے ہیں کہ اپوزیشن نے آزاد کشمیرالیکشن سے پہلے رونا دھونا شروع کردیا ہے۔ اب وہ تو دعوی کر رہے ہیں کہ کل لال حویلی سے پی ٹی آئی کی جیت کا اعلان کروں گا۔

    اس سارے معاملے پرگنڈا پورکی زبان بھی خوب چل رہی ہے اورایسے چل رہی ہے کہ پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ کل تو انھوں نے بہت ہی گری ہوئی باتیں بھی کیں۔ جس پر پی ٹی آئی تو ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ بلکہ ٹاپ ٹرینڈزبن گئے ہیں کہ standwithgandapur تواس سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کہ سیاست میں تلخی کس عروج پر پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ روز عمران خان نے کشمیر پر ریفرنڈم کا بیان دیا جو شہباز شریف نے مسترد کر دیا ہے۔ جبکہ گزشتہ دوجلسے عمران خان نے بھی کافی بڑے اورتگڑے کیے ہیں۔ پرسوشل میڈیا پرایک الگ طوفان بدتمیزی مچا ہوا ہے آسان الفاظ میں جوجو کچھ پاکستان کے الیکشنز میں ہوتا ہے وہ تمام رنگ آزاد کشمیر کے الیکشن میں دیکھائی دیے ۔ کامن سینس تو یہی ہے کہ ووٹ تو انہی لوگوں کو ملنے چاہئیں جوعوام میں مقبول ہیں۔

    آخر کار ووٹ تو عوام ہی دیتے ہیں۔ لیکن یہ کامن سینس اتنی کامن نہیں ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں ہمیشہ وہ پارٹی ہی کیوں جیتتی ہے، جو پاکستان میں حکومت وقت کی آزاد کشمیر شاخ ہوتی ہے۔ اب یہ جو مفروضہ ہے کہ جو پارٹی اسلام آباد میں برسرِاقتدار ہوتی ہے، اس کا مظفر آباد میں برسرِ اقتدار آنے کی دو وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ آزاد کشمیر کے لوگ ایک خاص قسم کی پہاڑی دانش رکھتے ہیں۔ ان کا یہ احساس بہت گہرا ہے کہ ان کولامحدود مسائل کا سامنا ہے۔ اس مسائل کے حل کے لیے وہی لوگ کچھ کر سکتے ہیں، جن کی پاکستان میں حکومت ہو۔ چونکہ کسی بھی بڑے اورقابل ذکر منصوبے کے لیے وسائل اورمنظوری تو بہرحال اسلام آباد سے ہی آئے گی۔ کچھ لوگ اس کیفیت کو دیکھ کر ان پر موقع پرستی کا الزام بھی دھر دیتے ہیں۔

    پراسکا counter narrative لوگ یہ دیتے ہیں کہ پھر پاکستان کے صوبوں میں بھی وہی ہونا چاہیے۔ پاکستان میں کئی بار ایسا ہوا کہ مرکز میں ایک پارٹی کی حکومت قائم ہے، مگر صوبے میں دوسری پارٹی حکومت بنا لیتی ہے۔ ضمنی انتخابات میں بھی اکثرایسا ہوتا رہا ہے کہ عوام نے مرکزی حکومت کے خلاف ووٹ دئیے۔ حال ہی میں پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات اس کی تازہ ترین مثال ہیں۔ لیکن ان معاملات سے تھوڑا آگے جا کر یہ سنجیدہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ اسلام آباد میں برسر اقتدار حکومت اس کے وزرا اور سرکاری اہل کار حکمران پارٹی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں، جس سے ان لوگوں کا پلڑا بھاری ہو جاتا ہے۔

    دوسری جانب لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کا راگ اس قدر شد ومد سے الاپ رہی ہیں جیسے کہ دھاندلی کا سارا منصوبہ ان کی نگرانی میں مرتب ہوا ہو۔ الیکشن میں کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹنے والی ان دونوں جماعتوں نے آزادکشمیر پر پانچ پانچ برس حکومت کی ۔ گزشتہ عام الیکشن میں پی پی پی اسمبلی کی محض تین نشستیں حاصل کرسکی تھی۔ اب کی بار نون لیگ کی الیکشن میں کامیابی کے امکانات مخدوش ہوچکے ہیں۔ اس کے بڑے بڑے برج الٹنے کا خطرہ حقیقت بنتا نظر آرہاہے۔ آزادکشمیر کے لوگ زیادہ دیر تک ایک جماعت سے وابستہ نہیں رہتے۔ اکثریت ان کی تعلیم یافتہ اور عملیت پسند ہے۔ وہ آزمائے ہوں کو باربار آزمانے کی تھیوری پر یقین نہیں رکھتے۔ ووٹروں اور رائے عامہ کو پی ٹی آئی کے حق میں ہموار کرنے میں اورسیز کشمیریوں کا بھی بڑا اہم کردار ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کے لیے 370 ارب روپے کا معاشی پیکیج دیا ہے۔ کشمیریوں کو توقع ہے کہ جیت کے بعد اسی طرح وہ آزادکشمیر کے لیے بھی بڑے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کریں گے۔ تحریک انصاف کو دوسری جماعتوں پر یہ بھی برتری حاصل ہے کہ وہ پہلے حکومت میں نہیں رہی۔ اس کے برعکس نون لیگ، پی پی پی اور مسلم کانفرنس طویل عرصے تک اقتدار سے لطف اندوز ہوتی رہی ہیں۔

    پی ٹی آئی میں ایسے سیاستدانوں کی ایک معقول تعداد شامل ہوچکی ہے جو اپنے اپنے علاقوں میں موثر ووٹ بینک رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ جماعت اسلامی کے سابق امیر عبدالرشید ترابی نے بھی پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس لیے ابھی تک دیکھا جائے تو پی ٹی آئی اچھی پوزیشن میں ہے صاف جیتی ہوئی دیکھائی دے رہی ہے ۔ مگرمیری sixth sense کہتی ہے کہ اگر پیپلز پارٹی اور ن لیگ اپنے ووٹر کو باہر نکالنے اور بقول مریم اور بلاول ان کے لوگ ووٹ پر پہرہ دینے میں کامیاب ہوگئے تو یہ سرپرائز ضروردے سکتے ہیں حکومت چاہے ان کی بنے یا نہ بنے۔

    @naveedsheikh123

  • دینِ اسلام اور جہاد   تحریر: محمد بلال

    دینِ اسلام اور جہاد تحریر: محمد بلال

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا،اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی، اور تمہارے لئے اسلام کو بطورِ دین پسند کیا۔(سورۃ المائدہ آیت# 3)

    اللّه پاک کا کروڑوں احسان ہے
    جس نے ہمیں مسلمان پیدا کیا
    ہمیں ایمان اور اسلام کی دولت سے مالا مال فرمایا
    اپنے محبوب خاتم النّبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺکا امتی بنایا
    حق سچ کا راستہ بتایا
    اسلام کے زریعے ایک مکمل ضابطہ حیات فراہم کیا
    وه دینِ اسلام جس نے زندگی گزارنے کے اصول قوانین،اور ضابطے بیان کرکے انسان کو دوسرے طور طریقوں سے بے نیاز کردیا۔
    قرآنِ پاک نازل کرکے اعلان فرمایا کہ قرآن میں اصولِ دین کو کھول کر بیان کیاگیا ہے
    اور نبی اکرمﷺ کو مبعوث فرماکے اعلان کیا کہ تمہارے لئے اللہ کے رسولﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
    ان سب کے ہوتے ہوۓ مسلمانوں کے نزدیک کسی دوسرے مذہب، اور کسی بھی دنیاوی قانون کی کوئی حثیت نہیں

    مسلمان صرف ایک اللّه کو مانتے ہیں اسی سے ڈرتے ہیں اور سواۓ اللّه کے اور کسی کے آگے نہیں جھکتے

    وه دنیاوی طاقتوں کو خاطر میں نہیں لاتے
    ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے خود ساختہ ڈرامہ کے بعد ایک طرف لاکھوں بیگناہ مسلمانوں کو شہید کیا گیا
    تو دوسری طرف
    عالمی میڈیا کے زریعے جہاد کے بارے میں دنیا کی ذہن سازی کی گئی جہاد کو دہشت گردی اور جہاد کرنے والو کو دہشت گرد کہا گیا

    ڈالر اور طاقت کے بل پر مسلم حکمرانوں کی غیرت کو خریدا گیا

    افغانستان اور اسکے بعد پاکستان پر قبضے پر اپنی حکمرانی کے خواب دیکھے گئے

    لیکن ایک اللّه کے ماننے والو نے اللّه کی مانی

    دنیاوی طاقت کے آگے جھکنے سے انکار کیا
    اور اللّه کے فرمان

    وَ قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۴۴﴾

    اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتا ہے ،

    Surat No 2 : سورة البقرة – Ayat No 244

    پر عمل کرتے ہوۓ اللّه کی راہ میں جہاد کیا

    بدلے میں اللّه پاک نے 36 ملکوں کی فوج کے مقابلے میں مسلمانوں کو فتح یاب کیا

    افغانستان سپرپاور کا قبرستان بن گیا

    دنیا نے دیکھا کے امریکہ کھربوں ڈالر جھونک کر اور اپنے ہزاروں فوجی مروا کر
    ان ہی طالبان جن کو دہشت گرد کہتا تھا ان سے واپسی کی بھیک مانگتا رہا

    تاریخ گواہ ہے جب بھی مسلمانوں نے قرآن کے احکامات کو پس پشت ڈال کر دنیاوی طاقتوں کی کے آگے سر جھکایا ذلیل و رسوا ہی ہوۓ

    اور جب جب اللّه پاک اور پیارے آقا ﷺ کے بتاۓ ہوۓ پر رستے پر چلا دنیا ان کے قدموں میں آگری جس کی تازہ مثال افغانستان ہے

    جہاں تین سپر پاورز کا غرور خاک میں مل چکا ہے

    مصنف آزاد کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹیو سٹ ہیں
    @Bilal_1947

  • مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے تحریر: طاہرہ

    مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے تحریر: طاہرہ

    ایک لڑکی جب اپنے والدین کے گھر سے وداع ہوتی ہے تو اسکے دل میں مستقبل کے لئے ہزاروں خواب امیدیں خواہشیں ہوتی ہے. ہم لڑکیوں کو بچپن سے ہی زہن نشین کرا دیا جاتا ہے کہ تمہارا اصلی گھر شوہر کا گھر ہوگا. اسی ایک سپنے کو ایک لڑکی سینچتے بڑی ہوتی ہے والدین کے گھر کتنے بھی ناز و نعم سے پلی چھوٹی سی پری جب بابل کے گھر سے وداع لیتی ہے تو اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اب اسی گھر کو اپنا ماننا ہے اسی گلستان کو سینچنا ہے اسکی اینٹوں کو جوڑے رکھنا ہے اور جب وہ گلستان وہ آشیان وہ سائبان کسی وحشی درندے کی بھی اماہ جگاہ ہو تو وہی حسین خواب ایک بھیانک حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے.
    اپنی تکلیفوں پر روتی بلبلاتی جب والدین کے سامنے کچھ کہنے کی کوشش کرے تو اسے ہی سمجھایا جاتا ہے کہ گھر ایسے نہیں بنتے اسکے لئے قربانی دینی پڑتی ہے اپنے خوابوں کی.
    اسکی تکلیف کوئی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتا جان چھڑکنے والے ماں باپ اسکے دکھوں کو ان دیکھا کردیتے ہیں شادی کے بعد صرف کہنے کو ہی نہیں واقعی لڑکیوں کو پرایا دھن سمجھا جانے لگتا ہے.وہ دل ہی دل کڑہتی سسکتی اپنے ماں باپ کے مان انکی عزت کیلئے جسم اور روح پر پڑتے نیل کو سہتی رہتی ہے.سب یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی انسان ہے اس کو بھی تکلیف ہوتی ہے بیٹیاں بوجھ تو نہیں ہوتی بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہیں جو اللہ خوش ہوکر گھروں میں برساتا ہے بیٹیوں کی تربیت پر تو جنت کی وعید ہے مگر یہ کسی کتاب میں نہیں لکھا کسی مزہب میں نہیں لکھا کہ بیٹیوں کو مرنے کیلئے چھوڑ دو.
    شادی کے بعد بھی وہ آپ کی ہی بیٹی ہوتی ہے کوئی اپنے جسم کا ٹکڑا کاٹ کر کیسے علیحدہ کرسکتا ہے
    اسلام نے لڑکیوں کو وہ سارے حقوق دئیے جو اسکا حق تھا پھر معاشرہ کیوں ان کو خوش رہنے کا حق نہیں دیتا کیوں ان کے لئے زندگی نام نہاد غیرتوں سے باندھ دی جاتی ہے اگر وہ کہتی ہیں کہ وہ تکلیف میں ہے تو اسکی تکلیف سمجھیں.
    بیٹیاں آپ کے آنگن کی بلبل ہیں اگر وہ خاموش ہوجائیں تو اسکی روح کی چیخیں سننے کی کوشش کریں
    اپنی بیٹیوں کو عینی نا بننے دیں

    @Chiishmish

  • اسلام میں بھیک مانگنے کی مزمت  تحریر: صلاح الدین

    اسلام میں بھیک مانگنے کی مزمت تحریر: صلاح الدین

    بھیک مانگنے کی جس قدر مزمت اسلام میں کی گئی ہے شاید ہی کسی اور مذہب میں اس کی اس قدر برائی کی گئی ہو۔ جہاں تک ممکن ہو سائل کو سوال کرنے سے روکا جاۓ اور مانگنے کی برائی اور محنت و مشقت کی خوبی اس پر واضح کی جاۓ۔

    اس زمانے کے گداگروں کی ڈھٹائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کسی ممانعت کا ان پر اثر نہیں ہوتا۔ موجودہ حالات میں ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ غیر مستحق سائلوں کی داد رسی ہر گز نہ کی جاۓ اور جہاں تک ہو سکے مستحقین کی مدد کی جاۓ جو باوجود مستحق ہونے کے کسی سے سوال نہیں کرتے یا جو سخت مجبوری اور ناداری کی حالت میں مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ غیر مستحق مانگنے کے ساتھ کوئی سلوک اور کوئی بھلائی اس سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی کہ ان کو اس پیشے سے باز رکھا جاۓ۔

    ملک و قوم کے حق میں اس بڑا احسان اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ بھیک مانگنے کا پیشہ جو کہ ایک بیماری کی طرح افراد و قوم میں سرایت کرتا جا رہا ہے اور روز بروز بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کی روک تھام کی جاۓ-

    علامہ مقری تاریخ اندلس میں لکھتے ہیں کہ اندلس میں جس سائل کو تندرست اور کام کے لائق دیکھتے ہیں اس کو شرم دلاتے ہیں اور سخت سست کہتے ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ یہاں اپاہج اور معذور آدمی کے سوا کوئی سائل نظر نہیں آتا۔ افسوس کے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں جس قدر مسلمان بھیک مانگتے نظر آتے ہیں اس قدر کسی قوم میں نظر نہیں آتے۔

    بحیثیت پالستانی شہری ہمارا فرض ہیکہ ایسے لوگوں کی سخت مزمت کی جاۓ جو غیر مستحق ہیں اور پھر بھی بھیک مانگتے ہیں ایسے لوگوں کی ہر گز مدد نہ کی جاۓ بلکہ ان کو برا بھلا کہا جاۓ تاکہ یہ لوگ اس پیشے کو چھوڑ کر محنت مزدوری کرکے اپنے لیے روزی کما سکیں۔

    مستحقین کی مدد کی جاۓ تاکہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہ ہوں ان کی مدد ان کی گھر کی دہلیز پر جا کے کی جاۓ کیونکہ ایسے لوگ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کو برا سمجھتے ہیں

    Twitter ID: @Salahuddin_T2

  • نور مقدم قتل کیس . تحریر: ازان حمزہ ارشد

    نور مقدم قتل کیس . تحریر: ازان حمزہ ارشد

    نور مقدم کون تھی؟
    نور مقدم کا قاتل کون؟
    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نتائج کیا ہے؟

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو 20 جولائی کی شام اسلام آباد میں بے دردی سے قتل کردیا گیا۔
    نور مقدم 27 سالہ نوجوان زندگی سے بھرپور لڑکی تھی۔ نور مقدم کے والد کا نام شوکت مقدم ہے جو کہ پاکستان کے ساؤتھ کوریا میں سابق سفیر رہ چکے ہیں ۔ نور کے والد اوروالدہ بھی اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے۔

    نورمقدم کو بے دردی سے قتل کرنے والے شخص کا نام ظہیرجعفر ہے ۔ ظہیر جعفرایک بہت بڑی کمپنی کا سی ای او ہے۔ اس کے علاوہ ظہیرجعفرایک نفسیات کے شعبے سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر بھی ہے جو کہ اسلام آباد میں اپنا بہت بڑا کلینک بھی چلا رہا ہے۔ ظہیر جعفر کے ایک مریض نے بات چیت کے دوران بتایا کے علاج کے نام پر اسے بہت جسمانی طورپرتکلیف دی گئی اور اسے بلاخر وہاں سے بھاگنا پڑا۔

    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نورمقدم کی موت کی وجہ دماغ کو آکسیجن سپلائی کی بندش ہے رپورٹ میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ مقتولہ کا سردھڑسے الگ کیا گیا ۔ مقتولہ نورمقدم کی داہنی کنپٹی اورسینے پرخنجرکھونپا گیا۔ مقتولہ کے جسم پرتشدد اورتیزدھارآلے سے زخموں کے متعد نشانات پائے گئے ہیں.

    اسلام آبد پولیس کا انکشاف ہے کہ اس قتل میں ظہیرجعفرکے ساتھ کوئی اور قاتل بھی موجود ہے۔ ظہیرجعفرکا تین روزہ ریمانڈ چل رہا ہے جس میں وہ خود کو نفسیاتی مریض ظاہرکرنے کی کوشش کررہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ظہیرجعفر اورنورمقدم لیو ریلیشن شپ میں تھے۔ مزید تحقیقات جاری ہے اسلام آباد پولیس دن رات اس کیس میں اپنی ذمی داری سرانجام دے رہی ہے۔ نورمقدم کی تدفین اسلام آبد کے قبرستان میں کردی گئی ہے۔ نورکے والد اور والدہ نہایت صدمے کی حالت میں ہے۔

    نورمقدم کو انصاف ملے گا یا نہیں؟ کب تک عورت ظلم کا نشان بنتی رہے گی؟ یہ کیس بھی پہلے کی طرح کسی امیرزادے کے حق میں چلا جائے گا؟ کب تک اسی طرح ہمارے معاشرے میں نور قتل ہوتی رہے گی؟ کہاں ہے وہ مجرم جن کو پکڑکرسخت سزا دینے کا دعوی کیا گیا تھا؟
    ان سب سوالوں کے جواب تو فی الوقت ہم میں سے کسی کے پاس نہیں مگر جرم کے خلاف آوازاٹھانا ہمارا فرضِ عین ہیں۔ اس لیے اپنا فرض نبھائے اورنورکے حق میں اپنی آوازاٹھائے۔

    @Aladdin_Hu_Me

  • حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طائف کے سفر کا قصہ . تحریر : محمد زمان

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طائف کے سفر کا قصہ . تحریر : محمد زمان

    نبوت مل جانے کے بعد نو برس تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں تبلیغ فرماتے رہے اور قوم کی ہدایت اور اصلاح کی کوشش فرماتے رہے لیکن تھوڑی سی جماعت کے سواجو مسلمان ہو گئی تھی اور تھوڑے سے ایسے لوگوں کے علاوہ جو باوجود مسلمان نہ ہونے کے آپ کی مدد کرتے تھے اکثر کفار مکہ آپ کو اور آپ کے صحابہ کو ہر طرح کی تکلیف پہنچا دیتے مذاق اڑاتے تھے اور جو ہوسکتا تھا اس سے درگزر نہ کرتے تھے حضور کے چچا ابو طالب بھی انہیں نیک دل لوگوں میں سے تھے جو باوجود مسلمان نہ ہونے کے حضور کی ہر قسم کی مدد فرماتے تھے دسویں سال میں جب ابو طالب کا بھی انتقال ہو گیا تو کافروں کو اور بھی ہر طرح کے کھلے بہار اسلام سے روکنے اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کا موقع ملا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس خیال سے تشریف لائے تھے.

    طائف وہاں قبلہ ثقیف کی بڑی جماعت ہے اگر وہ قبلہ مسلمان ہوجائے تو مسلمانوں کو ان تکلیفوں سے نجات ملے اور دین کے پھیلنے کی بنیاد پڑ جائے کیونکہ وہاں پہنچ کر قبلہ کے تین سرداروں سے جو بڑے درجے کے سمجھے جاتے تھے گفتگو فرمائی اور اللہ کے دین کی طرف بلایا اور اللہ کے رسول کی یعنی اپنی مدد کی طرف متوجہ کیا مگر ان لوگوں نے بجائے اس کے کہ دین کے بعد کو قبول کرتے ہیں یا کم ازکم عرب کے مشہور مہمان نوازی کے لحاظ سے ایک نو وارد مہمان کی خاطر مدارت کرتے صاف جواب دے دیا اور نہایت بے رخی اور بد اخلاقی سے پیش آئیں ان لوگوں نے بھی یہ گوارا نہ کیا کہ آپ یہاں قیام فرمالیں.

    جن لوگوں کو سردار سمجھ کر بات کی تھی وہ شریف ہوں گے اور مزہ ہے گفتگو کریں گے ان میں سے ایک شخص بولا کہ آپ ہی اللہ کے نبی بنا کر بھیجا ہے دوسرا بولا کہ اے اللہ کے تمہارے سوا کوئی اور ملتا ہی نہیں تھا جس کو رسول بنا کر بھیجتے تیسرے نے کہا کہ میں تجھ سے بات کرنا نہیں چاہتا اس لیے کہ اگر تم واقعی نبی ہے ہے جیسا کہ دعویٰ ہے تو تیری بات سے انکار کردینا مصیبت سے خالی نہیں اور اگر جھوٹ ہے تو میں ایسے شخص سے بات کرنا نہیں چاہتا اس کے بعد ان لوگوں سے ناامید ہو کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے بات کرنے کا ارادہ فرمایا کہ آپ تو ہمت اور استقلال کے پہاڑ تھے اگر کسی نے قبول نہ کیا بلکہ بجائے قبول کرنے کے حضور سے کہا کہ ہمارے شہر سے فورا نکل جاؤ اور جہاں تمہاری چاہت کی جگہ ہوں وہاں چلے جاؤ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ان سے بالکل مایوس ہوکر واپس ہونے لگے تو ان لوگوں نے شہر کے لڑکوں کو پیچھے لگا دیا کہ آپ کا مذاق اڑائیں تالیاں پیٹتے پتھر مارے آتا کے آپ کے دونوں جوتے خون سے جاری ہونے سے رنگین ہو گیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں واپس ہوئے جب راستہ میں ایک جگہ ان شریروں سے ۔ اطمینان ہوا تو حضور نے یہ دعا مانگی
    اے اللہ مجھے سے شکایت کرتا ہوں اپنی کمزوری اور بے بسی کی اور لوگوں میں ذلت اور رسوائی کی اے الرحم الراحمین
    تو ہی صفات کا رب ہے اور تو ہی میرا پروردگار ہے تو مجھے اس کے حوالے کرتا ہے کسی اجنبی بیگانے کے جو مجھے دیکھ کر ترش رد ہوتا ہے اور منہ چڑھتا ہے یا کسی دشمن کے جس کو تو نے مجھ پر قابودے دیا اے اللہ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی اور کی پرواہ نہیں ہے.

    تیری حفاظت مجھے کافی ہے میں تیرے چہرے کے اس نور کے طفیل جس سے تمام اندھیریاں روشن ہوگی اور جس سے دنیا اور آخرت کے سارے کام درست ہوجاتے ہیں اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ مجھ پر تیرا غصہ ہو یا مجھ سے ناراض ہو تیری ناراضگی کا اس وقت تک دور کرنا ضروری ہے جب تک تو راضی نہ ہو نہ تیرے سوا کوئی طاقت ہے نہ قوت ہے.

    @Z_Bhatti1