Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عید کا تیسرا دن: اونٹ کے گوشت کی دعوت تحریر : محمد آصف شفیق

    عید کا تیسرا دن: اونٹ کے گوشت کی دعوت تحریر : محمد آصف شفیق

    آج سعودیہ میں عید کا تیسرا دن ہے احباب جدہ نے اس دن مل بیٹھنے کا بہانا نکال لیا ، شاہد احمد داود بھائی کئی سالوں سے جدہ میں مقیم ہیں او ر اپنے ہم وطنوں میں بہت مقبول ہیں آپکا تعلق کراچی سے بے حد محبت کرتے ہیں عید کی خوشیاں دوبالا کرنے کیئے آج اپنے گھر میں دعوت کا اہتمام کیا نماز جمعہ کی ادائیگی کے فوراً بعد ہم شاہد بھائی کی طرف پہنچ گئے
    کھانے کا وقت ہوا تو حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ شاہد بھائی نے آج اونٹ کا گوشت اور چاول ( مندی حاشی ) سعودیہ میں تقریباً ہر اچھے ہوٹل میں مل جاتی ہے اونٹ کے بچے کے گوشت اور چاول یہاں مندی حاشی کہلاتا ہے
    اونٹ کے گوشت کو کھانے کے بعد وضو کرنا ضروری ہے اس حوالے سے چند احادیث پیش خدمت ہیں
    حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کیا میں بکری کا گوشت کھانے سے وضو کروں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے تو وضو کر اور اگر نہ چاہے تو نہ کر اس نے کہا کیا میں اونٹ کا گوشت کھانے پر وضو کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں اونٹ کا گوشت کھانے پر وضو کر پھر اس نے کہا کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کروں فرمایا ہاں اس نے کہا کیا میں اونٹوں کے بیٹھنے کے مقام میں نماز ادا کروں فرمایا نہیں۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 800)

    حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے وضو کرو اور بکری کا گوشت کھا کر وضو کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا اس سے وضو مت کرو اور سوال کیا گیا اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ پر نماز پڑھنے کے بارے میں تو فرمایا اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ پر نماز مت پڑھو۔ کیونکہ وہ شیطانوں کی جگہ ہے اور دریافت کیا گیا بکریوں کے رہنے کی جگہ پر نماز پڑھنے کے بارے میں تو فرمایا وہاں نماز پڑھ لو کیونکہ وہ برکت کی جگہ ہے۔(سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 183)

    حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا اونٹ کا گوشت کھانے کی وجہ سے وضو کرنے کے متعلق۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کی وجہ سے وضو کر لیا کرو ۔(سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 494)

    ” اور حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (اسم گرامی جابر بن سمرۃ اور کنیت ابوعبدا اللہ عامری ہے سن وفات میں اختلاف ہے بعض لوگ فرماتے ہیں کہ ٦٦ھ میں انہوں نے وفات پائی کچھ حضرات کی تحقیق ہے کہ ان کا سن وفات ٧٤ھ ہے۔) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ” کیا ہم بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو کریں” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا جی چاہے تو وضو کرو اور نہ چاہے تو نہ کرو” پھر اس آدمی نے پوچھا کیا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کروں؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہاں اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرو” پھر اس آدمی نے سوال کیا ” کیا بکریوں کے رہنے کی جگہ میں نماز پڑھ لوں” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہاں! پھر اس آدمی نے دریافت کیا ” کیا اونٹوں کے بندھے کی جگہ نماز پڑھوں” آپ نے فرمایا ” نہیں” ۔” (صحیح مسلم)( مشکوۃ شریف:جلد اول:حدیث نمبر 290 )
    تشریح :
    حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ چونکہ ظاہر حدیث پر عمل کرتے ہیں اس لیے انہوں نے تو یہ حدیث دیکھ کر حکم لگا دیا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنا چاہئے کیونکہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنے کا حکم فرمایا ہے۔
    لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ، حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمہم اللہ کے نزدیک اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس لیے کہ یہ حضرات اس حدیث کا محل وضو کے لغوی معنے” ہاتھ منہ دھونے” کو قرار دیتے ہیں یعنی یہ حضرات فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ اونٹ کے گوشت میں بساندہ اور چکنائی زیادہ ہوتی ہے اس لیے اس کو کھانے کے بعد ہاتھ منہ دھو لینا چاہئے چونکہ بکری کے گوشت میں بساندھی اور چکنائی کم ہوتی ہے اس لیے اس کے بارے میں فرما دیا کہ اگر طبیعت چاہے اور نظافت کا تقاضا ہو تو ہاتھ منہ دھولیا کرو اور اگر طبیعت نہ چاہے تو کوئی ضروری نہیں ہے۔
    اونٹوں کے بندھنے کی جگہ نماز پڑھنے سے منع فرمانا نہی تنزیہی کے طور پر ہے اور منع اس لیے فرمایا کہ وہاں نماز پڑھنے میں سکون و اطمینان اور خاطرجمعی نہیں رہتی، اونٹوں کے بھاگ جانے یا لات مار دینے اور تکلیف پہنچانے کا خدشہ رہتا ہے بخلاف بکریوں کے چونکہ وہ بیچاری سیدھی سادی اور بے ضرر ہوتی ہیں اس لیے ان کے رہنے کی جگہ نماز پڑھ لینے کی اجازت دے دی۔
    اتنی بات اور سمجھ لینی چاہئے کہ نماز پڑھنے کے سلسلہ میں یہ جواز او عدم جواز اس صورت میں ہے جب کہ مرابض (بکریوں کے رہنے کی جگہ) اور مبارک (اونٹوں کے بندھنے کی جگہ) نجاست و گندگی سے خالی ہوں اگر وہاں نجاست ہوگی تو پھر مرابض میں بھی نماز پڑھنی مکروہ ہوگی۔حضرت ذی الغرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چہل قدمی فرما رہے تھے، اس نے پوچھا یا رسول اللہ! بعض اوقات ابھی ہم لوگ اونٹوں کے باڑے میں ہوتے ہیں کہ نماز کا وقت ہوجاتا ہے تو کیا ہم وہیں پر نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، اس نے پوچھا کیا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد ہم نیا وضو کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا کیا ہم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا کیا بکری کا گوشت کھانے کے بعد ہم نیا وضو کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ۔
    مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 2439

    الحمد للہ آج ہمیں ایک اور سنت نبوی ﷺ پر عمل کرنے کا موقع میسر آیا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کر کے نماز عصر ادا کی اللہ رب العالمین نبی کریم ﷺ کی تمام سنتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں

    @mmasief

  • نماز‏ سکون کا راستہ . تحریر : عزیز الحق

    نماز‏ سکون کا راستہ . تحریر : عزیز الحق

    زندگی میں اگر سکون چاہتے ہیں تو نماز کی پابندی کریں نماز صرف زندگی کا سکون ہی نہں آپکو ہر طرح کے برے کاموں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے جو بھی انسان صحیح طرح دل سے اللہ کے لاگو کیے گئے اس احکام کی پیروی کرے تو نہ صرف اس کی وقتی زندگی آسان ہوجاتی ہے بلکہ اس کے مستقبل میں کامیابی کے راستے آسان ہوجاتے ہیں.نماز کی پابندی کرنے والے کے لیے نماز اس کی تمام برائیوں کو جڑ سے ختم کرنے کا سبب بن جاتی ہے اور انسان کی اخلاقی طور پے اصلاح کا باعث بنتی ہے معاشرے میں آپکا مقام بنانے میں کردار ادا کرتی ہے آپکی آخرت سنوارنے کا سبب بنتی ہے نماز کے خواہ جیتنے فوائد گنوائے جائیں کم ہیں.
    نماز روزانہ کی عبادت ہے ، جو دن میں پانچ وقت کی پڑھی جاتی ہے.صبح ، دوپہر ، سہ پہر ، شام اور رات کے وقت۔ ایک مسلمان کسی بھی جگہ باجماعت یہ اکیلے بھی نماز ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اجتمائی نماز/جماعت کے ساتھ کے فوائد اور اہمیت عليدہ ہی ہیں. نماز اللہ پاک سے ملاقات کا ایک بہترین ذریعہ ہے آپکو ڈائریکٹ اس خالق سے ملوا دیتی ہے جو اس کائنات کا مالک ہے بیماری ہو یا علاج معالجے کی تلاش پریشانی ہو یا بے چینی انسان ہر مسئلے کو نماز ادا کر کے سجدے میں سر جھکا کے اپنے رب سے دعا مانگ کر حل کر سکتا ہے، خاص کر نفسیاتی بیماریوں میں بھی شفا بخش ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ہمارے پیارے نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق بہت سی بیماریاں نفسیاتی حالات جیسے پریشانی ، غم ، خوف ، تنہائی ، وغیرہ کی نماز اور مذہب سے دوری کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں۔ لہذا ، نماز روح کا سکون ہے اور آپکی زندگی کے سکون کو بحال کرتی ہے۔
    نماز رسمی معنوں میں ایمان کا ایک فریضہ ہے ، جو بالغ مسلمان روزانہ پانچ وقت ادا کریں۔
    اپنی زندگی میں نماز کی پابندی کو اپنا کر اپنا حال اور مستقبل کامیاب بنائیں.

    @azizbuneri58

  • انگیج افریقہ پالیسی . تحریر : دانیال خلیل

    انگیج افریقہ پالیسی . تحریر : دانیال خلیل

    پاکستان کی براعظم افریقہ کی جانب معاشی سفارت کاری

    پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے ایک اہم کلیدی حصے کے طور پر براعظم افریقہ کے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مستحکم کرنے کے لئے "انگیج افریقہ ” پالیسی کا تصور کیا ہے ” وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

    قیام پاکستان سے ہی پاکستان نوآبادیاتی نظام اور امپیریلزم کے خلاف افریقی ممالک جیساکہ مراکش, زیمبیا, اریٹیریا کی جدوجہد کی موثر آواز رہا. براعظم افریقہ کے ساتھ معاشی اور سیاسی تعلقات ایک اہم سنگ میل ہے. نومبر 2019 سے جنوری 2020 تک پاکستان بحریہ کی جہازوں پی این ایس اصلت اور مومن نے 8 افریقی ممالک مراکش, کینیا, تنزانیہ, گھانا, نائجیریا, جنوبی افریقہ اور سچلیز کی بندرگاہوں کا کامیاب دورہ کیا. اور اسی عرصہ میں سوڈان اور جبوتی کا بھی کامیاب دورہ کیا گیا. ان دوروں میں پاکستانی عوام کی جانب سے افریقی ممالک کی عوام کے لیے خوراک, فری میڈیکل کیمپوں کے ذریعے علاج کی سہولت اور تکنیکی امداد فراہم کی گئ.
    پاکستان افریقی ممالک کی ترقی کے لئے پرعزم ہے.30 جنوری 2020 کو پاکستان کی جانب سے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں دو روزہ پاکستان – افریقہ ٹریڈ کانفرنس کا کامیاب انعقاد کیا گیا جس میں 100 پاکستانی کمپنیوں سمیت 20 افریقی ممالک سینیگال, مصر, مراکش کے 200 وفود نے شرکت کی. حکومت کی کوشش سے پاک-افریقہ تجارتی حجم 2019 میں باوجود کورونا وباء کے 4.6 ارب ڈالر کو چھو گیا جو 2013-2016 کے درمیان 3 ارب ڈالر رہا تھا.افریقی ممالک جیسا کہ نائجیریا کے نوجوانوں کو پاکستان کی اعلی علمی درسگاہوں تک رسائی پاکستان کی تعلیم کے فروغ کے لئے عالمی کوششوں کو تقویت ملتی ہے. اس کے علاوہ پاکستان مصر, سوڈان اور نائجیریا کے ساتھ اپنے تعلقات کو فوجی میدان تک وسعت دے رہا ہے. لیبیا میں دیر پا قیام امن کی خاطر پاکستان کی کوششیں موثر اور یقینی ہے. ایگنج افریقہ پالیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہے. برسوں سے براعظم افریقہ کے ممالک داخلی اور خارجی انتشار کا شکار ہیں پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے امن مشن کی صورت میں امن کے قیام کی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں.

    بغیرمعاشی اورسیاسی تعاون کے فروغ کے تعلقات قائم تو رہ سکتے ہیں لیکن موثر اور تعمیری نہیں ہو سکتے.

    @DanialFarooqi27

  • پری کوویڈ حج مہینوں کی طویل تیاری تحریر:  ثروت نجمی

    پری کوویڈ حج مہینوں کی طویل تیاری تحریر: ثروت نجمی

    پری کوویڈ حج مہینوں کی طویل تیاری ، جشن اور مذہبی جوش و خروش کا وقت ہوتا تھا۔ شرکاء کی اکثریت بچت کرتے تھے اور دعائیں کر کے پوری زندگی اس کے ادا کرنے کے قابل ہونے کا انتظار کیا کرتے تھے ۔ عروج پر ،20 لاکھ سے زیادہ زائرین مکہ پہنچتے اور حج ادا کرتے تھے ۔ اہل خانہ حج کی خوشی میں مذہبی تقاریب کے ساتھ عازمین کی روانگی اور آمد کا جشن منایا کرتے تھے ۔ حجاج کو معاشرے کی طرف سے انھیں وقار اور قدردانی عطا کرنے والے "حاجی” کا اعزاز حاصل ہوتا تھا

    2020 ایک انوکھا سال تھا کیونکہ کوویڈ وبائی مرض کی وجہ سے پوری دنیا لاک ڈاؤن میں تھی۔ حج کو بجا طور پر کم سے کم کردیا گیا۔ اس کا معاوضہ ادا کیا گیا کیوں کہ حج کو ایک سپر اسپریڈر کی درجہ بندی نہیں کی گئی تھی لہذا مسلمانوں کو اسلامو فوبیک ردعمل سے بچایا جاسکتا ہے۔

    تاہم ، جولائی 2021 ایک الگ کہانی ہے۔ ابھی ابھی ہمارے پاس یورپی کپ فٹ بال ٹورنامنٹ ہوا جس میں لاکھوں شائقین متعدد شہروں میں مختلف اسٹیڈیموں ، پارٹیوں میں گئے اور بغیر کسی پریشانی کے خوشی خوشی لطف اٹھایا۔ عالمی سطح پر ، بہت سے ممالک نے تمام پابندیوں کو ختم کردیا ہے اور لوگ بڑی تعداد میں بغیر کسی احتیاط کے آزادانہ طور پر جمع ہو رہے ہیں۔

    پھر کسی نادان وجہ سے ، حج 2021 ایک انتہائی محدود واقعہ ثابت ہوا۔ صرف 60،000 عازمین حج کی اجازت ہے اور وہ بھی صرف ملک کے اندر سے۔ اس نے مسلمانوں کے لئے ایک خوشگوار وقت کی بجائے محرومی اور غم کا احساس پیدا کیا ہے۔ مسلمان بقیہ دنیا کو بغیر کسی پابندی کے کھلے دل اور آزادانہ طور پر اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ابھی تک ، کسی بھی مسلمان کی سب سے اہم زیارت کی اجازت نہیں ہے۔ وہ سب حیران ہیں کہ سعودی عرب کے حکمرانوں نے یہ کارروائی کیوں کی؟

    یہ بہت افسوسناک ہے۔ کاش ہمارے پاکستانی اسکالرز اور لوگ اس شہزادے کے خلاف احتجاج کریں۔

    کینیڈا میں ہمارے نام نہاد مسلمان رہنما کہاں ہیں جو ہر وقت اسلامو فوبیا کا رخ کرتے ہیں؟ اب ، کیا کسی کافر نے ان کی زبان بند کردی ہے؟ وہ کیوں اس شہزادے کے خلاف ایک لفظ نہیں کہتے ہیں؟
    ہمارے کینیڈا کے امام اور پارلیمنٹ کے مسلمان ممبران ، کہاں بیٹھے ہیں اور تمام مفت فائدے اٹھا رہے ہیں ، انہیں کینیڈا کے بارے میں برا کہنے میں شرم نہیں آتی ہے۔ یہ بے شرم مسلمان امام اور مسلم قائدین جس پلیٹ میں کھاتے ہیں اسے چھید دیتے ہیں۔

    لیکن ان میں ہمت نہیں ہے کہ وہ عرب شہزادوں کے خلاف بات کریں۔ عربوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات جعلی بنائے اور حج اور کعبہ کی بے حرمتی کی ، اور ان اماموں اور مسلم رہنماؤں نے دم گھٹ لیا اور خاموش رہے۔

    ہم سب منافق اور بے ایمان ہیں ، اسی لئے ہم سو جوتیاں اور سو پیاز کھاتے ہیں۔ وہ اپنے اور دوسروں کو مار دیتے ہیں۔

    اب ہمارے پاکستانی مسلمان ان عرب شہزادوں کے خلاف احتجاج کرنے ، کعبہ کی بے حرمتی پر بھی خاموش رہنے والے اماموں اور کینیڈا کے مسلم قائدین پر احتجاج کرنے کے لئے کینیڈا میں سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتے ہیں۔

    خدا ان کافروں سے پہلے ان نام نہاد بے شرم اور بے ایمان مسلمان اماموں ، اسکالروں اور مسلم قائدین کو ہدایت دے – آمین ثمہ آمین

  • عورتوں پر تشدد اور یہ معاشرہ  تحریر:محمد کامران

    عورتوں پر تشدد اور یہ معاشرہ تحریر:محمد کامران

    عورتوں پر تشدد زمانہ قدیم سے لیکر
    اب تک چلا آ رہا ہے کسی پر زبردستی اپنی جارحیت اور ظلم کا نشانہ بنانہ تشدد کہلاتا ہے عورتوں پر تشدد کو غیر فطری نہیں سمجھا جاتا کیونکہ مرد کا
    عورت پر جبر ایک تاریخی پس منظر ہے لوگ اس کو روایات کا نام بھی دیتے ہیں، عورت کو نچلی زات سمجھا جاتا ہے. عورتوں کو انکے جائز حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے. جسمانی تشدد کہ ساتھ ساتھ انکو زہنی دباؤ اور زیادتی کا شکار بھی کیا جاتا ہے. یوں ہر شعبے میں مردوں کو عورت پر فوقیت دی جاتی ہے مرد اپنی طاقت کا اظہار تشدد کی صورت میں کرتے ھیں مختلف ادوار میں
    حکومت نے عورتوں کہ حقوق کی پاسداری اور ظلم و جبر روکنے کہ لیے متعدد بار قانون سازی کی مگر عملی طور پر عورتوں پر تشدد اور غیرت کے نام پر قتل عام ہے اور کوئی بھی قانون اس ظلم کو روکنے میں ابھی تک قاصر ہے. بہت سے واقعات میں عورتوں کو گھروں سے نکال کر انکے معصوم بچوں سے دور رکھا جاتا ہے. اگرچہ گورنمنٹ اور سول سوسائٹی نے عورتوں کی بالادستی اور مثاوی حقوق کہ لیے بہت آواز بلند کی ہے مگر ہمارے معاشرے میں عورتوں کا بنیادی تحفظ اور گھریلو تشدد کے واقعات کم ضرور ہوئے ہیں لیکن ابھی تک عورتوں کو وہ مقام نہیں مل سکا. بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ بھی عورتوں پر تیزاب پھینکنے، جنسی ہراساں کرنے جیسے واقعات میں ملوث ہے. دین اسلام نے عورتوں کو تعلیم سے لیکر گھریلو داری تک عزت اور مثاوی حقوق دیئے ہیں. بحثیت مسلمان ہمیں عورتوں کہ حقوق اور پر تشدد واقعات کو روکنے کہ لیے اپنی آواز بلند کرنا ہوگی. اگر عورت مضبوط ہوگی تو آنے والی نسل بھی بہترین پروش پا کر ملک و قوم کے لیے تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لے گی اور بہت سی معاشرتی برائیوں سے معاشرہ پاک رہے گا.

  • وزیراعظم عمران خان کا دورہ ازبکستان بہادری    ‏تحریر :تنویر راجپوت کی مثال

    وزیراعظم عمران خان کا دورہ ازبکستان بہادری ‏تحریر :تنویر راجپوت کی مثال

    وزیراعظم عمران خان کے دورہ ازبکستان نے ویسے تو کئی بہادری کے جھنڈے گاڑے ساتھ ساتھ دنیا کو یہ باور کروایا کہ اب پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہے اب پاکستان کی حکمرانی ایک ایسے محب وطن لیڈر کے ہاتھوں میں ہے جسے صرف خدا کے ڈر کے علاؤہ کسی کا ڈر نہیں ۔۔۔
    عمران خان نے ازبکستان میں اس بہادری اور جرت مندانہ طریقے سے پاکستان کا موقف دنیا کے سامنے رکھا جو پیچھلی کئی باریاں لینے والے زرداری اور نواز شریف نا کر سکے ۔۔

    نواز شریف اور زرداری نے قوم کو سوائے دھوکے میں رکھنے کے کچھ نہیں کیا ڈرون حملوں کی اجازت دے کر کئی سالوں تک عوام کے سامنے مذمتی چورن پیچا گیا ۔۔

    پیچھلے روز قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے 60 منٹ سے زائد وقت کے خطاب نے ثابت کردیا کہ وہ واقعی اقبال کا سچا شاہین اور قائد اعظم کا بہادر سپاہی ہے اس مرد مجاہد کی تقریر بغیر کسی شور شرابے ،رکاوٹ کے جاری رہی پورا اعوان نعرہ تقبیر اللہ ہو اکبر کے نعروں سے گونج رہا تھا اور لہو گرما دینے والا منظر ان آنکھوں نے دیکھا۔۔
    وزیراعظم عمران خان کے خطاب سننے کے بعد اس مرد مجاہد کے لیے دل سے دعائیں نکلتی رہیں کہ اے میرے رب اس شخص کے ارادے بہت بڑے ہیں منزل صاف ہے لیکن راستہ بہت مشکل خان صاحب کے راستے میں آنے والی تمار رکاوٹیں دور عطا فرما اور وزیراعظم عمران خان کو تندرستی عطا فرما آمین

    دورہ ازبکستان میں وزیراعظم عمران خان کو شاندار گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا دورے میں معاشی تعاون اور باہمی دلچسپی کی امور بھی زیر بحث آئے اس کے علاوہ دو طرفہ تعاون کے مزید فروغ کیلئے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کے گئے وزیراعظم عمران خان پاک ازبک تجارتی فورم سے بھی خطاب کیا جسے سن کر با حیثیت ایک پاکستانی سینا فخر سے چوڑا ہوگیا ۔۔۔وزیراعظم عمران خان کے ہر بیرونی دورے میں کیے گئے خطاب میں وہ موقف پیش کیا جاتا رہا جو ہر ایک پاکستانی کے دل کی آواز ہے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی صحافی کو دیے گئے بیان میں بھی دو ٹوک بات کی گئی جس میں بھارتی بھونڈے چہرے کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ کپتان نے بھاتی صحافی کو دھو کر رکھ دیا یہ وہ عمل تھا جو صرف وہ شخص کرسکتا ہے جسکی بیرون ملک جائدادیں نا ہوں جو ذاتی مفاد کو ملکی مفاد پر ترجیح نا دیتا ہو۔۔

    صرف عمران خان جیسا بہادر لیڈر ہی مسلم ملکوں کو متحد کر ان کے سربراہان کو ایک پیج پر لاسکتا ہے۔۔۔ انشاء اللہ

  • شیطان کے چیلے   تحریر: مدثر حسن

    شیطان کے چیلے تحریر: مدثر حسن

    آپ لوگ عنوان پڑھ کر یقیناً چونک گئے ہوں گے اور سوچ رہے ہو کہ یہ کس کو مخاطب کیا جارہا ہے
    میں آپ کو بتاتا چلوں یہ میں نے ان لوگوں کو کہا ہے جو بظاہر تو بہت مہذب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں لیکن دراصل شیطان کے چیلے ہیں۔ وہ ہی شیطان جس نے حضرت ابرہیم علیہ السلام کا تین دفعہ راستہ روکا تھا
    اب جو کہ زمانہ جدید ہے تو شیطان بھی جدید اشکال میں ظاہر ہورہا ہے خاص طور پر عید الاضحی۔ سے دن پہلے
    اپنے چیلوں کے ذریعے شیطان ہمیں مختلف پلیٹ فارمز جیسا کہ سوشل میڈیا پر ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کے حکم اور حضرت ابرہیم علیہ السلام کی پیروی سے زیادہ ضروری ہے جانوروں کی زندگی بچانا اور کسی غریب کی مدد کرنا ہے
    یہ وہ لوگ ہیں خود لاکھوں روپے روزمرہ کی اشیاء پر استعمال کرتے ہیں ۔ہزاروں روپے کا برانڈڈ کھانا کھاتے ہیں جن میں ایسے جانوروں کا گوشت ہوتا ہے جس کی قربانی سے ان کو تکلیف اس وقت نہیں ہوتی

    اب آتا ہوں میں وجہ کی طرف سب سے بڑی وجہ اسلام سے تکلیف
    جی بلکل ہمارے دیسی لبریز اسلام مخالف قوتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان میں اسلام اور اس کے احکام پر عمل درآمد ہو اس لیے وہ حیلے بہانے سے قربانی کے خلاف بولتے رہتے ہیں
    ایک اور بڑی اور اہم وجہ غیر ملکی قوتوں کی پیروی کرنا ہے وہ قوتیں اور ممالک جو خود تو سارا سال اربوں جانوروں کو زبح کرکے مختلف اشکال اور کھانوں میں لوگوں کو کھلاتے ہیں لیکن عید قربان پر ان کو تکلیف دیکھنے والی ہوتی ہے

    میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ نام نہاد انسانیت کے علمبردار سارا سال کدھر غائب ہوتے ہیں ؟
    یہ لوگ اپنی مہنگی گاڑیاں اور اپنے مہنگے پرس کی جگہ کیوں کسی غریب کی بیٹی کی شادی نہیں کرواتے ؟ کیوں یہ لوگ راڈو واچ لینے کی بجائے مسجد میں پنکھا اور واٹر کولر نہیں لگواتے
    وجہ صاف ظاہر ہے ہم سب کے ذہنوں میں وسوسے ڈالنا اور سنت ابرہیمی کی پیروی سے ہٹانا۔
    لیکن آپ لوگوں نے شیطان کے چیلوں کی باتوں میں نہیں آنا کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے اور بطور مسلمان ہم اللہ کے حکم پر نہ انکار کرسکتے ہیں اور نہ ہی سوال
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک کاموں کی توفیق دے اور شیطان اور اس کے چیلوں سے محفوظ رکھے ۔آمین !!!!!

    @MudasirWrittes

  • عمران خان  مسلسل  جدوجہد کا نام ہے تحریر : عائشہ شاہد

    عمران خان مسلسل جدوجہد کا نام ہے تحریر : عائشہ شاہد


    لیڈر وہ ہےجو اپنی آنے والی نسلوں کیلئے محنت اور خون پسینہ بہاتا ہے بلکہ لیڈر قوم کی آنے والی نسلوں کیلئے محنت کرتا اور پسینہ بہاتا
    قیادت جدوجہد کا نام ہے.
    عزم پختگی کانام ہے
    ایک سچے لیڈر کا تنہا کھڑا رہنااور اعتماد، سخت فیصلے کرنے کی ہمت اور دوسروں کی ضرورت اور دوسروں کی ضروریات کو سمجھنے کے لیے ہمدردی ہی ہے.
    وہ لیڈر بننے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ اپنے علم کی خوبی اور اپنے ارادے کی سالمیت سے ایک لیڈر بن جاتا ہے..
    مشکل وقت میں مشکل فیصلے کرنا، ہر طرح کا سیاسی خطرہ مول لیتا ہےاور اللہ بھی مدد کرتا ہے نیک نیتی کے سبب ہر بار سرخروح کرتا ہے
    "کوشش کرو کامیابی دینے والی ذات اللّہ کی ہے”

    اپنے حوصلوں کی پرواز اونچی رکھو.ایک دن مکان بھی بن جائےگااور مقام بھی نب جائے گا اس وقت خان پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی جنگ لڑ رہاھے جو انگریزوں کو انہی کی زبان میں جواب دیتا ھے لیکن افسوس اسکی اپنی قوم کے چند نادان اسکو یہودی کہنے لگیں تو بات کیا ہوئی
    کبھی خود جھکا نا قوم کو کبھی جھکنے دیا ہے
    وزیراعظم عمران خان کا پاکستانی سر زمین پہ امریکی اڈے نہ دینے کے دوٹوک بیان نے پوری دنیا میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے ہمیں ایسا ہی لیڈر چاہیے تھا جو ہمیں سرخرو کرے تمام تر دنیا کی طاقتوں کے سامنے.
    74 سال بعد یہ محسوس ہوا ہے کہ ہم انگریزوں کی غلامی سےآزاد ہوگئے ہیں..
    جس شخص نے پوری دنیا کو بتایا کے حضور صل اللہ علیہ وآلہِ وسلم ہمارے دلوں میں بستے ہیں وہ بد عمل کیسے ہو سکتا ہے.
    عمران خان نے پردے،فحاشی کے متعلق بولا تو لبرلز کا ایک بیمار طبقہ اُن کے ماضی کو کھنگالنے لگا اُس کی پرانی تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کی گئیں اگر خان صاحب کل غلط تھا اورآج اس کے خلاف بات کر رہا ہے توتعریف کی جانی چاہیے۔ بغضِ عمران میں اپنا ایمان نا خراب کر بیٹھنا..

    "اللّہ ہم سب کا حامی و ناصر ”

    ‎@BinteChinte

  • ‏عنوان ، خواتین بس ہوسٹس کو عزت دو۔ تحریر ۔ شاہ زیب

    ہمارے چاروں اطراف اکثر لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل و حرکت کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے مختلف ذرائع نقل و حمل استعمال ہوتے، نزدیکی سفر کے لئے رکی ٹیکسی وغیرہ اور لمبے سفر کے لئے کچھ احباب لوکل بسوں کو استعمال کرتے اور کچھ ڈائیو و بس استعمال کرتے۔
    لمبے سفر میں خاص کے ڈائیوو یا ایسی بڑی بس سروسز میں دوران سفر کچھ ایسی چیزیں دیکھیں جس پر آج بات کرنا چاہوں گا۔ ڈائیوو بس میں سفر کریں تو بس میں بس ہوسٹس اکثر خواتین ہوتی ہیں اور محنت مشقت کر کے گھر چلا رہی ہوتی ہیں ،خواتین بس ہوسٹس کو شوق نہیں ہوتا یا تو گھر کا فرد کمانے والا نہیں ہوتا یہ لاچار غربت کی ستائی ہوئی دو وقت کی روٹی کی تلاش میں گھر سے نکلتی ہیں تاکہ بوڑھے ماں باپ یا چھوٹے بچوں کا پیٹ پال سکیں تاکہ گھر کو چلا سکیں اور مینے خود اکثر سفر کیا ہے عموما مردوں سے زیادہ خواتین بس ہوسٹس بسوں میں سروس مہیا کر رہی ہوتیں۔ فرداً فرداً ہر ایک کی سیٹ پر جاکر بوتل لیز اور کچھ کھانے کی اشیاء سرو کرتی۔اس کا بس کے اندر چکر کبھی آگے کبھی پیچھے لگتا رہتا اور اسی دوران کچھ کم ظرف لوگ اسی بس ہوسٹس کو گھٹیا انداز میں ہراساں کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے کبھی ٹانگیں پھیلاتے کبھی کچھ کبھی کچھ کبھی بہانے سے جان بوجھ کر بار بار پانی منگواتے۔ ڈرائیور کو بتائے بھی تو وہ کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ دونوں کی نوکری کا سوال۔ہوتا۔ اس مجبوری میں وہ سب سہہ رہی ہوتیں۔ کہ کہیں لگی لگائی نوکری ختم ہو تو گھر کے اخراجات کا بوجھ کیسے اٹھایا جائے گا۔
    اور اکثر دیکھا سٹاپ آتے ہی مائیک سے تمام لوگوں کو اپنی کانپتی آواز مخاطب کرتیں تو اوباش آوارہ قسم کے لوگ مزاق بناتے "روندیں کیو اے” اور ہنسنے لگ جاتے۔۔
    پھر احساس ہوتا ہے ہم کس معاشرے کا حصہ ہے جہاں ایک بہن کسی کی بیٹی تک محفوظ نہیں آخر ہو کیا گیا ہے پھر سوچتا "مکافات عمل” انسان جیسا کرے گا ویسے بھرے گا۔
    کیا کبھی سوچا ہم دوسروں کی بہنوں کو تنگ کرتے کوئی ہماری بہنوں بیٹیوں کو تنگ کرے تو ہم پر کیا گزرے گی کیا بحثیت قوم اتنے بے غیرت ہیں کہ ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی ۔ہم اپنی بہن کو محدود رکھتے لیکن دوسروں کی بہنوں پر گندی نظریں،
    دیکھا جائے تو اجتماعی طور پر ہم بڑے بے حس لوگ ہیں ہم تماشہ دیکھتے ہیں کوئی نہیں روکتا کہ بھائی وہ بھی کسی کی عزت ہے اپ ایسا کیو کرتے ہیں
    میں یہی کہو گا اگر خود بدلنا ہے تو اجتماعی طور پر سب کو بدلنا ہوگا کوئی بھی بہن بیٹی ہے اس کی عزت کا تحفظ دینا ہمارا فرض ہے بس ہوسٹس بھی ہماری بہنیں ہیں ہمیں ان کی عزت کو مقدم رکھنا چاہیے جیسے ہم اپنی بہنوں کی عزت کو مقدم سمجھتے ہوئے کرتے ہیں، اگر ایسا ہوا تو یقین کریں بس ہوسٹس خواتین بھی فخر کریں گیں کہ ہمارے معاشرے میں انسانیت ابھی زندہ ہے اور یہی بس ہوسٹس خواتین کام کر کے اپنے اپ کو ایزی محسوس کریں گی کہ ہم محفوظ ہیں اس لیے پھر کہو گا اپنے اپ کو اور معاشرے کو بے راہ روی سے روکنا ہمارے اختیار میں ہے دیری کس بات کی کل سے کیو ابھی کیو نہیں ۔۔

    آخر پر اتنا کہو گا خدارا ان بس ہوسٹس خواتین کی عزت کیا کریں بلاوجہ تنگ کرنے سے اجتناب کریں اگر اپ کسی دوسرے کے بہن بیٹی کی عزت کریں گیں تو کل کو کوئی دوسرا شخص اپ کی بہن بیٹی کی عزت کی حفاظت کرے گا ۔۔ شکریہ۔۔

    ‎@shahzeb___

  • والدین کا مقام اور احترام  تحریر : ولید عاشق

    والدین کا مقام اور احترام تحریر : ولید عاشق

    اگر ساری کائنات میں کوئی بے لوث یے غرض محبت کرتا ہے تو وہ صرف آپ کے والدین ہیں،اور اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے،اگر آج آپ میں سے کوئی والد یا والدہ بن چکا /چکی ہے تو آپ با خوبی جانتے ہے کے رات دن والدین کیسے اپنے بچوں کی خدمت کرتے رہتے ہے،
    خدیث پاک کا مفہوم ہے کے اگر آپ محبت بری نگاہ سے اپنے والدین کو دیکھتے ہے تو اللہ‎ پاک آپ کو حج کا ثواب فرماتے ہے،

    اللہ تعالیٰ نے کائنات میں افضل اور اشرف مخلوق انسان کو بنایا ہے۔ والدین درحقیقت انسان کے دنیا میں آنے کا ذریعہ ہوتے ہیں،ہمارا وجود والدین کی وجہ سے ہوتا ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بھی والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی ہے۔محبت کا جذبہ فطری طور پر بدرجہ اتم والدین کو عطا کیا گیا ہے۔اولاد کے لئے والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں،والدین کی جس قدر عزت و توقیر کی جائے گی اسی قدر اولاد سعادت سے سرفراز ہوگی شریعت میں والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔

    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

    وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾
    (ترجمہ)
    اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا ۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف بھی نہ کہنا ،نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا۔

    دنیا کا سب سے بہترین اخساس جب آپکی امی اپ کو دیکھ کر فرطِ جزبات میں مسکرائے
    دنیا کا سب سے بہترین وقت جب آپکا باپ آپکی وجہ سے فخر مخسوس کرے

    ان سب کے لئے صرف ایک چیز لازمی ہے وہ ہے والدین کا اخترام۔
    "مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود وہ جلتا رہا”
    "میں نے دیکھا اک فرشتہ باپ کی پرچھائی میں”
    اللہ تعالی سب کو اپنے ماں باپ کا اخترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے

    Walees Ashiq

    Waleed Ashiq is a Freelance Journalist and blogger find more about his visit twitter Account