Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اتحاد امت تحریر : محمد بلال انجم کمبوہ

    اتحاد امت تحریر : محمد بلال انجم کمبوہ

    *ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے*
    *نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر*

    امت مسلمہ میں اتحاد دور حاضر کی اہم ضرورت ہے۔
    ہمیں قومیت و فرقہ ورانہ کشیدگی سے بالاتر ہو کر ملت اسلامیہ کے لیے سوچنا چاہیے، ہمیں امت میں اتحاد و اخوت کو فروغ دینے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ ظلم و بربریت کے خاتمے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ مظلوم و مجبور کی حمایت کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ دین اسلام کو کونے کونے میں پھیلانے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

    *یہ اختلافات*
    بھی کوئی اختلافات ہیں، ان سب کو بالائے طاق رکھیں اور اللہ کا برکت والا نام لے کر اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کے وقار کو بلند کرنے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ ہمیں ہر قیمت پہ متحد ہونا چاہیے، اگر اس راہ حق پہ جان بھی قربان کرنی پڑے تو رائیگاں نہیں۔

    *اللہ تعالیٰ نے فرمایا:*

    *”اللہ کی رسی (دین اسلام) کو مضبوطی سے پکڑو اور فرقوں میں مت بٹو”* (العمران 103)

    کیا ہم فرقوں میں بٹے ہوئے نہیں؟
    کیا ہم نے اس رسی کو مضبوطی سے پکڑا؟
    کیا ہم ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں؟

    *دین اسلام*
    اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین اور کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی امانت ہے اللہ تعالیٰ اور حبیب اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔۔۔۔
    اور ہم سب اس کے امین ہیں۔
    اس دین کی وجہ سے ہم ایک قوم ہیں اور فرد واحد کی طرح ہیں۔

    *حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:*

    *تم مومنوں کو آپس میں رحم کرنے، محبت رکھنے اور مہربانی کرنے میں ایسا پاؤ گے جیسا کہ بدن۔ جب بدن کا کوئی عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو جسم کے سارے اعضاء اس کے دکھ میں شریک ہوتے ہیں اور بیماری اور بخار میں سارا جسم شریک رہتا ہے۔* (بخاری مسلم عن نعمان بن بشیر (رض))

    دین اسلام کی وجہ سے اخوت کا رشتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم کیا ہے۔ اس رشتے کے مقابلے میں باپ بیٹے اور بہن بھائی جیسے سب رشتے کچے دھاگے کی مانند ہیں۔
    دو ارب مسلمان اور رشتہ اخوت۔ یہ ہے ملت اسلامیہ۔۔ حق و انصاف کی علمبردار۔۔۔۔
    مگر افسوس!!!!
    یہ مرکز دور کیوں؟
    یہ انتشار کیسا؟
    یہ جدائیاں کیوں؟
    یہ خرابیاں کیسی؟
    یہ سب ایک کیوں نہیں؟
    یہ مصنوعی دیواریں کیسی؟

    ملت کا ہر فرد اور اسلام کا ہر فرزند اس کا جواب دے ان کو کون منہدم کرے گا؟
    ان مصنوعی فاصلوں کو کون ختم کرے گا؟

    *ہے کوئی جمال الدین افغانی؟*
    *ہے کوئی صلاح الدین ایوبی؟*
    *ہے کوئی محمد بن قاسم؟*
    *ہے کوئی طارق بن زیاد؟*
    *ہے کوئی محمود غزنوی؟*
    *ہے کوئی شہاب الدین غوری؟*

    سامنے آؤ!!!!
    ملت تمہیں پکار رہی ہے۔۔

    *اے ملت اسلامیہ کے نوجوانوں!!!*

    ہمارا مرکز استنبول، قاہرہ، دمشق، ڈنمارک، واشنگٹن، شنگھائی، لندن،پیرس، جکارتہ، راولپنڈی، کابل یا دہلی نہیں۔۔۔۔۔
    مکہ معظمہ کو مرکز مانو!!
    کعبہ کو مرکز تسلیم کرو۔۔
    جس کو اللہ تعالیٰ نے مرکز بنایا ہے۔

    اُٹھ شیرِ مجاہد ہوش میں آ
    تعمیرِ خلافت پیدا کر

    کیوں فرقے فرقے ہوتا ہے
    اب ایک جماعت پیدا کر

    کر تو بھی ترقی دنیا میں
    اسبابِ تجارت پیدا کر

    قارون کی دولت ٹھکرا دے
    عثمان کی دولت پیدا کر

    اسلام کا دم بھرتا ہے
    کفر سے پھر کیوں ڈرتا ہے

    یا تو اسلام کا نام نہ لے
    یا شوقِ شہادت پیدا کر

    *آؤ*
    عالم اسلام کو ایک کرو۔ اسلام کی شمع کو روشن کرو۔ دکھی انسانیت کی خدمت کرو۔ انسانوں کے لئے ایسا معاشرہ قائم کرو جو ظلم و زیادتی سے پاک ہو، جہاں انصاف کا بول بالا ہو!!!۔۔۔۔۔۔۔۔
    جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اسلام کا پیغام گونجے۔۔
    جہاں وہ نظام رائج ہو جو اسلام کا بنیادی نظام ہے۔۔

    *اے مسلمان!!!!!!*
    اے قیصر و کسریٰ کی بلندوں بالا سلطنتوں کو روندنے والے! تو نے مغرب کی وادیوں میں اذانیں دیں۔۔۔ روم کی جاہ و حشمت کو پارہ پارہ کیا۔۔۔ چین و فرانس کی سرحدوں کو چھوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو نے ہی قسطنطنیہ کا آہنی حصار توڑا۔۔۔۔۔۔
    ہسپانیہ میں اسلامی دبدبے کا سکہ تو نے ہی بٹھایا۔۔۔۔۔۔

    آج تو بے بس ہے۔۔۔۔۔۔ کیوں؟
    آج کفر غالب ہے۔۔۔۔۔۔ کیوں؟

    کفر تو مغلوب ہوتا ہے۔۔۔

    *اے سوئے ہوئے مسلمان!!!*
    بیت المقدس پہ یہودی قابض ہیں۔۔۔۔
    مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔۔۔۔
    ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔۔۔۔
    کشمیر و فلسطین جل رہا ہے۔۔۔۔
    افغانستان اور فلسطین کے مہاجرین دھکے کھا رہے ہیں۔۔۔۔
    عالم اسلام جل رہا ہے۔۔۔۔۔
    اور تو خاموش ہے۔۔۔۔۔

    *مگر*
    تو اب بھی پہلے پاکستانی ہے۔۔۔۔۔ افغانی یا بنگالی ہے۔۔۔۔
    عربی یا عجمی ہے۔۔۔۔۔
    اور بعد میں مسلمان!!!!!
    ایک صدیوں سے سویا ہوا مسلمان!!!!

    کیا تو اپنا کھویا ہوا مقام و مرتبہ، کھوئی ہوئی عظمت، کھویا ہوا وقار پھر سے حاصل کرنا چاہتا ہے؟

    *تو آ* !!!
    اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل پیرا ہو،
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو پھر سے زندہ کر۔۔۔۔۔۔
    پہلے مسلمان بن۔۔۔۔
    پھر افغانی، پاکستانی، عربی، عجمی، بنگالی بن۔۔۔۔۔۔

    سب اختلافات کو ختم کر کے ایک مرکز پر متحد ہوجاؤ، یہ کفار آپ کے سامنے کچھ نہیں ہیں۔۔۔
    آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد ہے۔۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ کے دین اسلام کے لیے متحد ہوجاؤ اور پوری دنیا پہ چھا جاؤ۔۔۔۔

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپس میں متحد ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔۔۔۔

    *اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر*
    *خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی*
    *ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار*
    *قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری*
    @ibn_e_Adam424

  • مروت .تحریر : فضیلت اجالہ

    مروت .تحریر : فضیلت اجالہ

    ایک ایسا لفظ جو آج کی لڑکی کے لیے سب سے نقصان دہ ہتھیار بن چکا ہے وہ ہے مروت ،اس ایک لفظ کے چکر میں بہت سی لڑکیاں پہلے پہل تو اپنے آرام و سکون کو داؤ پر لگاتی ہیں، لیکن پھر رفتہ رفتہ بات یہاں تک آ پہنچتی ہے کہ عزت تک کا سودا کرنا پڑ جاتا ہے۔۔۔۔

    زندگی میں بہت سے مقامات پر "نہیں ” کہنا بہت ضروری ہوتا ہے،بلخصوص ایک لڑکی کے لیے۔۔۔
    یاد رکھیے۔۔
    ہماری مروت کے حقدار صرف ہمارے محرم رشتے ہیں”اور بس۔۔
    انکے علاوہ اس دنیا کا کوئی غیر محرم اس لائق نہیں ہے کہ اسکی مروت میں آ کر، یہ سوچ کر کہ اسے کہیں برا نہ لگ جائے۔۔۔
    ہم اسکی کسی الٹی سیدھی بات پر منہ نہ توڑ سکیں۔۔۔

    زمانہ اتنا شاطر ہو چکا ہے کہ گھر بیٹھی عزت دار معصوم لڑکیوں کو ورغلانے کے ہزاروں نسخے لیے پھرتا ہے۔۔۔

    ہم یہی سوچتی رہ جاتی ہیں میرے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔۔
    یا میرے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا اور ہماری اسی بیوقوفی میں ہمارے ساتھ سب ہو جاتا ہے ۔۔تباہی کے دھانے پر کھڑی لڑکیاں اسی معاشرے میں ہوتی ہیں۔ہم جیسی ہی ہوتی ہیں۔اور سب سے اہم "آسمان سے نہیں اترتی، ہم میں سے ہی ہوتی ہیں۔”

    جاگ جائیے۔۔۔
    بھائی کہہ دینے سے کوئی آپکا بھائی بن نہیں جاتا۔۔۔
    آپکا بھائی صرف وہی مرد ہے جسے اللّٰہ نے تخلیق کر کے بھیجا ہے۔۔۔
    باقی خود کو بہلانے کے طریقے ہیں تو شوق سے بہلیے۔۔۔ لیکن پھر اس دن کا انتظار کیجئے جب آپکے ہاتھ میں پھسلتی ریت کی طرح کچھ نہیں بچے گا۔

    اب بہت سے زہنوں میں
    ایک سوال آتا ہے کہ آخر "نہیں ” کہنا کب ہے۔۔۔۔

    تو سنیے
    ایک سادہ سا فارمولا ہے اسکا ۔۔۔

    جب آپ کو لگے کہ کوئی انسان آپکے کمفرٹ زون میں داخل ہو رہا ہے۔۔اسکے آپ کی زندگی میں ہونے کی وجہ سے آپ کچھ ایسے کام کرنے جا رہی ہیں جو زندگی میں آج تک نہیں کیے، جو آپکی حد سے باہر تھے۔یا کچھ ایسا جسے آپ فخر سے سب کے سامنے بیان نہیں کر سکتی۔۔
    تو خدارا کسی کو وہ حدود کراس کرنے کی اجازت نہیں دیجیے ۔یہ وہ مقام ہوتا ہے جب ایک عزت دار لڑکی نے مقابل کو شٹ اپ کال دینی ہوتی ہے۔۔۔
    یا سادہ الفاظ میں کہوں تو "نہیں ” کہنا ہوتا ہے۔۔۔

    اور یہ "نہیں ” کسی کو بھی کہا جا سکتا ہے۔۔۔
    "کسی کو بھی۔۔۔۔۔۔۔۔”
    اپنے جاننے والوں کو ۔۔۔
    ملنے ملانے والوں کو ۔۔۔
    کزنز کو ۔۔۔
    کولیگز کو ۔۔۔
    سوشل میڈیا پر قدم قدم پر ملتے بھائیوں کو
    زندگی میں کہیں پر بھی
    اپنے اندر کسی کی غلط بات پر اسکا منہ توڑنے کی ہمت پیدا کریں ۔یوں ہاتھ جھٹکیں کہ مقابل کو ایسا کرنٹ لگے اور اسکا ہاتھ ایسا مفلوج ہو کر رہ جائے کہ دوبارہ کبھی آگے بڑھنے کی ہمت نہ کر سکے۔۔
    ہماری مقدس کتاب میں ربِ کعبہ نے فرما دیا کہ؛

    "يَٰنِسَآءَ ٱلنَّبِيِّ لَسۡتُنَّ كَأَحَدٖ مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِنِ ٱتَّقَيۡتُنَّۚ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِٱلۡقَوۡلِ فَيَطۡمَعَ ٱلَّذِي فِي قَلۡبِهِۦ مَرَضٞ وَقُلۡنَ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا”

    "اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللّٰہ سے ڈرتی ہو تو بات کرنے میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا مریض آدمی کچھ لالچ کرے اور تم اچھی بات کہو۔۔۔”

    (سورہ احزاب۔ آیت 32)

    اس آیت میں پہلے تو امہات المؤمنین کی برتری بیان کی گئی۔۔۔ لیکن ساتھ جو ہدایت دی گئی علماء کے مطابق اس کا اطلاق تمام مومن عورتوں پر ہوتا ہے۔۔۔
    یہ قاعدہ ربِ کریم نے سب خواتین کے لیے مختص کیا ہے۔۔۔
    یعنی ہمارے خدا نے تو حد بندی کر دی کہ غیر سے بات کرنے کے لیے لہجہ سخت کر لو۔۔
    لیکن پھر ہم نے کیا کیا؟
    ہم نے تو اپنا الگ ہی معیار مقرر کر لیا۔

    اونچے عہدے والے سے ہنس کر بات کرنی ہے اور رکشے والے سے سختی سے بات کرنی ہے۔۔۔

    سوشل میڈیا پر ایڈمنز سے مسکرا کر بات کرنی ہے اور ممبران کی بار حدود یاد آ گئی۔۔۔

    سمجھدار لگ رہا ہے تو اچھا امپریشن دینا ہے، ایویں سا ہے تو بھاڑ میں جائے۔۔۔

    بڑی عمر کے انکل جی کا تو دل نہیں دکھا سکتے ناں ہم۔۔۔
    ان سے تو ویسے ہی پیار سے بات کرنی ہو گی۔۔۔
    وہ الگ بات ہے کہ آجکل اکثر انکل جی ہی "پیا جی” بن بیٹھتے ہیں۔۔۔
    مرد کو تو خود کو اچھا اور ڈیسنٹ شو کروانا ہی ہے۔۔ اور ہم ٹھہری بھولی بھالی مخلوق۔۔۔
    ہاں یہ بھی سچ ہے کہ اکثر لڑکیاں بھائی کا لفظ احتراماً نہیں، احتیاطً ہی استعمال کر رہی ہوتی ہیں۔۔

    لیکن بھئی ضرورت کیا ہے اس سب کی۔۔
    اس مروت کے ڈھونگ کی۔۔
    جن محرم رشتوں میں مروت اور لچک دکھانی ہے وہاں آجکی لڑکی کو اپنے دو نمبر حقوق کی بناء پر زبان چلانی ہے،اور جہاں سختی دکھانی ہے وہاں اتنی لاچاری۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
    آپ یہ کیسے بھول سکتی ہیں کہ کردار کا آئینہ ایک بار ٹوٹ گیا تو لاکھ ایلفیاں لگانے پر بھی یہ کبھی نہیں جڑ پائے گا۔۔۔۔
    "اس ایک لفظ "مروت” کے چکر میں آپ اتنی کمزور نہیں بن سکتی کہ کوئی آپ سے کھیل جائے اور آپ بھیگی بلی کی طرح کھی کھی کرتی رہ جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔”

    تلخ الفاظ کے لیے پیشگی معذرت۔۔۔۔
    لیکن اس میں بڑا سبق ہے۔۔۔
    اگر سمجھیں تو
    یا

    "اگر سمجھنا چاہیں تو۔۔۔۔
    @_Ujala_R

  • عمران خان کی شہرت کی لازوال داستان   تحریر : فجر علی

    عمران خان کی شہرت کی لازوال داستان تحریر : فجر علی

    کہتے ہیں ہر عروج کو زوال ہے ۔پر میرے خیال سے نہیں جنہیں اللہ چن لیتا ہے انہیں صرف عروج ہی عروج حاصل ہے ۔ان کی زندگی میں زوال کا ز تک نہیں آتا ۔وہ اس لئے کہ وہ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہوتے ہیں ۔حاکمیت،محبت،دانشمندی،صادقت نرم دل شجاعت حوصلہ ثابت قدم، نڈر،دلیر ایمان کی طاقت خود پر یقین انا پرست مددگار خدمت خلق ۔حسن اخلاق خوبصورتی شہرت تعلیم محبت کرنے والے چاہنے والے لوگ یہ سب خصوصیات کا حامل ایک شخص کیسے ہو سکتا ہے؟
    بیٹا تھا تو ماں سے محبت کی انتہا کردی۔۔
    طالب علم تھا تو اپنے استاد کا پیارا قابل لائق جب اپنی تخلیقی قابلیت پر یقین ہوا تو ملک کا نام روشن کیا کہ اس کے بعد ایسی ہمت کوئی نہ کرسکا ۔اللہ کسی ایک ہی انسان کو اتنی خوبیاں کیسے نواز سکتا ہے
    ۔وہ اپنے حسن سے بہت سے لوگوں کو گرویدہ کرچکا ہے ۔اس کے حسن سے جوان کیا بوڑھی کیا ہر عمر کی خاتون متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں ۔
    حسن یوسف سنا تھا لیکن اللہ نے حسن یوسف کی ایک تجلی ہمیں عمران خان کے روپ میں عطا کی ۔
    یہ شخص ایک جادو گر ہے کہ جب وہ بولتا ہے تو انسان سنتے سنتے تھکتا نہیں ۔اس کا بات کرتے شرمانا نظریں جھکا کر بات سننا ۔کیا اتنے اخلاق والا انسان کوئی ہوسکتا ہے ہرگز نہیں ۔
    وہ اس قدر ہمددر انسان پایا ہے کہ اپنی ماں کو کینسر جیسے مہلک مرض میں کھونے کے بعد اس نے اپنی ماں کے نام کا ہسپتال بنا دیا ۔محبت کی ایسی مثال آج تک انگریزوں میں یا مغل بادشاہ کی دیکھی ہے جس نے اپنے محبوب کی خاطر تاج محل بنوایا ۔لیکن یہاں محبت کی ایک لازوال داستان رقم کی تو ایک ایسے نواجون نے جس کی ساری زندگی بے مروت عیاش پسند لوگوں میں گزری جس نے دنیا کی سب رنگینیاں دیکھیں ۔جس نے اپنے حسن اور سحر سے لوگوں کو دیوانہ بنایا ۔

    ماں کی محبت اس کے دل سے کبھی ختم نہ ہوئی اسی لیے اس نے اپنے ملک پاکستان میں کینسر ہسپتال بنائے اور اپنی تمام تو جمع پونجی اس کی تعمیر و ترقی پر لگا دی ۔تاکہ دوسرے بچوں کی ماوں کی زندگی بچ سکے ۔اتنا ہمدرد انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ۔۔

    وہ شوہر بنا تو اپنی بیوی کا محبوب ۔
    اللہ کو شاید اس سے مزیدکوئی کام لینا تھا اسی لیے اس کی شادی ایک غیر مسلمان خاتون سے ہوئی جس نے اسکی خاطر خود کو بدلا اپنا مذہب بدلا لیکن معاشرے کے ایسے لوگ جو دوسروں کو کافر اور مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ تھماتے تھے وہ ان کی جدائی اور پاکستان سے نکلنے کا باعث بنا یوں ایک خوبصورت محبت کرنے والے میاں بیوی الگ ہوگئے ۔یہ وقت اس کڑیل جوان کے لیے شاید بہت سخت امتحان والا تھا جہاں اپنی محبوب بیوی سے ہمیشہ کہ واسطے علیحدگی اختیار کرنا پڑی ۔۔

    اپنے خوبصورت معصوم بچوں کی جدائی برداشت کرنا کسی کے لیے آسان کام نہیں ۔۔اس نے اپنی زندگی میں جس چیز کا ارادہ کیا اسے اللہ کی مدد اور اس کے حکم سے حاصل کرلیا ۔۔ میں نے اسےاپنے ارادوں میں مربوت پایا ۔۔پاکستان کے لیے ورلڈ کپ حاصل کیا پھر کینسر ہسپتال بنایا اور یہاں غربا کا مفت علاج کا ذمہ اٹھایا ۔
    اس ہسپتال کا عملا انتہائی حسن اخلاق والا وہ نہیں دیکھتے کہ یہ مریض پیسے والا ہے تو اس سے ادب سے پیش آنا ہے یا یہ غریب ہے تو اس کے ساتھ سخت رویہ رکھنا ہے ۔ایسے اصول وضوابط لاگو کئے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں اور اساتذہ کو دیکھیں تو افسوس ہوتا ہے ۔۔
    اس مرد مجاہد نے نہ صرف اپنے غریب لوگوں کی صحت کا خیال کیا بلکہ اپنے ملک کے بچوں کے لیے ایک ایسی یونیورسٹی بنائی جو دنیا کی یونیورسٹیز میں ایک خاص مقام رکھتی ہے ۔اس شخص سے نفرت کرنا بھی چاہیں تو نہیں ہوتی ۔۔کیونکہ میرے سامنے اس کی زندگی کے تمام واقعات موجود ہیں ۔
    میرا بچپن اس بےباک نڈر سپاہی کو دیکھتے گزرا ۔لوگوں کی زبانوں سے اس کے لیے محبت و عزت کے الفاظ سنے اخبارات اور میگزین اس کی تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھکتے تھے ۔اور آج بھی یہ شخص ہر اخبار اور میگزین کی ہر خبر میں موجود ہے ۔۔
    اس کا ماضی اور حال ایک سا ہے ۔وہ اپنے ملک پاکستان کی خستہ حالت پر رنجیدہ رہتا اور اپنے ملک کی بگڑی صورت کو ٹھیک کرنے کا جب اس نے ارداہ کیا تو اللہ کی مرضی سے اس کے انتخاب کرنے پر وہ اس اسلامی دولت پاکستان کا وزیراعظم بن گیا ۔۔اس کی زندگی کے تمام ادوار میں مجھے اس سے نفرت نہیں ہوسکی ۔دل چاہے بھی تو اسے برا کہنے کو دل نہیں مانتا ۔دل اس کی بات پر یقین کئے چلے جاتا ہے ۔۔
    کیونکہ یہ وہ شخص ہے جسے میرے اللہ نے تحفہ کے طور پر ہم نازل کیا ۔اس کی ہمدردیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔۔ وہ تمام تر دشمنوں خواہ وہ ملک کے اندر ہو یا باہر تن تنہا لڑ رہا اور تھکتا نہیں ساتھ ہمیں بھی تلقین کرتا کہ ہارنہیں ماننا مشکل سے مشکل وقت میں اسکا ڈٹ کے مقابلہ کرنا ۔جھکنا نہیں کسی کے سامنے ۔
    اور اللہ اس مہربان عمران احمد خان نیازی میرے کپتان کو ہمشیہ سرسبز شاداب و وادیوں کی طرح سلامت رکھے ۔آمین

    @FA_aLLi_

  • اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے  تحریر : آصف شاہ خان

    اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے تحریر : آصف شاہ خان

    *اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے ؟*

    یہ کالم میری زاتی رائے اور بحثیت شریعہ کے طالب علم زاتی تجربے پر مبنی ہے۔ آپ کا متفق ہونا یا اس سے اختلاف رکھنا دونوں میرے لیے قابل قدر ہیں۔ آپ کا متفق ہونے سے میری حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور آپ کا اختلاف رکھنا میرے علم میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے ہم آخری امت کی ہدایت کے لیے رحمت العالمین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا انتخاب کرکے بھیجا۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو تبلیغ دینا شروع کی تو پہلے کم لوگ تھے جو ان کے قریب تھے ایمان لائے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ بڑھتا گیا اور وہ لوگ بھی شامل ایمان ہونے لگے جو دور دراز علاقوں سے تھے۔ ان ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو زندگی میں صرف ایک بار دیکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم رحمت العالمین تھے اور وہ چاہتے تھے کہ میری امت کو اللہ کے احکام کرنے میں آسانی ہو تو اس غرض سے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے احکام کو عملی شکل میں لایا گیا۔ وہ اصحابہ اجمعین جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر موقع پر ہوتے تھے وہ بہت کم تھے اور اس کے بجائے وہ اصحابہ اجمعین زیادہ تھے جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر موقع پر موجود نہیں ہوتے تھے۔ اس وجہ سے ان اصحابہ کرام نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک حکم کے مختلف طریقوں سے کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمیں دین اسلام بتدریج نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اصحابہ، اصحابہ اجمعین سے تابعین، تابعین سے تب تابعین اور پھر اس طرح ہوتے ہوتے ہم تک پہنچ گیا ہے۔ اس طرح ہمیں وہی اسلام پہنچ گیا ہے جس پر عمل کرتے ہوئے کسی صحابی نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا ہوگا۔ اور اس صحابی رسول سے ہوتے ہوتے ہم تک پہنچ گیا۔ اور اس طرح میری قریب رہنے والی فیملی کو شاید کسی اور صحابی سے بتدریج پہنچ گیا ہو ۔ اب اگر ہم دونوں کے پاس دلائل موجود ہو تو پھر ہم لڑ کیوں رہے ہیں؟ کیوں ہم امت مسلمہ کو توڑنے کا سبب بن رہے ہیں؟ کیوں ہم آندھی تقلید میں رہتے ہوئے اپنے مسلمان بھائی کے خون کے پیاسے بن رہے ہیں؟ میرا قاری سوچ رہا ہوگا کہ پھر تو سارے فرقے ٹھیک ہیں، اس کے لیے میں یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہاں سب ٹھیک ہے اس حد تک جب تک ان کے پاس قرآن اور حدیث سے دلیل ہو۔ کیوں کہ دین اسلام کے کوئی بھی فعل کے تولنے کے لیے ترازو قرآن اور حدیث ہے۔ اگر کوئی فعل اس ترازو پر تولے ٹھیک ہو تو پھر اس پر خود بھی عمل کرنا چاہیے۔ اگر آپ اس سے مطمئن نہیں ہو جو دوسرے گروہ کا ہو آپ بیشک اس سے اختلاف رکھے لیکن خدارا اپنے ان لوگوں کے جو دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں ان کے آندھی تقلید میں اس وطن عزیز کا اور دین اسلام کا امن خراب نہ کریں۔ ہمارا اصل مسلہ علم کی کمی ہے اور ان لوگوں کی آندھی تقلید ہے جو دوسروں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں۔ میں شریعہ کا ایک معمولی طالب علم ہوں۔ ایک زمانہ تھا میں نے فقہ وغیرہ نہیں پڑھا تھا، میں سوچتا کہ میرا عقیدہ ٹھیک ہے باقی سب غلط راستے پر ہیں۔ لیکن جب تھوڑا بہت پڑھ لیا تو معلوم ہوا کہ سارے اپنی اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں۔ ان سب کے پاس ہر حکم کیلئے دلیل ہوتی ہے۔ بغیر دلیل کے حکم لاگو نہیں کرتے ہیں۔ ہاں بعض جگہ انسان غلطی کرسکتی ہے لیکن زیادہ اختلاف کے مسائل میں سب کے پاس دلیل موجود ہے۔ میں جو دوسروں کو کافر سمجھتا تھا یہ دراصل میرا جہالت تھا۔
    اس اختلاف امت کے مسلے سے جو مسائل جنم لیتے ہیں ان کے لیے جلد از جلد حل تلاش کرنا چاہیے کیونکہ ان مسائل سے آے روز کوئی نہ کوئی لڑائی ہوتی ہے ۔ ان مسائل کی وجہ سے کچھ اندھے مقلدین اس حد تک جاتے ہیں کہ دوسرے کی زندگی تک لے لیتے ہیں۔ اس سے دشمنیاں شروع ہوتی ہیں۔ اور ملک و دین دونوں کا پر امن ماحول خراب ہوجاتا ہے۔
    اس کے حل کیلئے میری زاتی رائے یا یوں سمجھئے کہ تجویز یہ ہے کہ حکومت وقت ان علماء کو اکٹھا کرکے جن کے پاس علم ہو اور معتدل ہو اور وہ مختلف پلیٹ فارم سے عوام کو سمجھائے کہ ہم جو طریقہ اپنا رہے ہیں کسی خاص حکم میں بحثیت فلاں مکتبہ فکر تو ہمارے پاس یہ دلیل ہے لیکن یہ دوسرا مکتبہ فکر جو طریقہ اپنا لیا ہے اس کے پاس یہ دلیل ہے لہذا آپ لوگ وہی کرلے جس کی دلیل آپ لوگوں کو اچھی لگے۔ لیکن آپس میں جھگڑے کرنے کا کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں اور نہ اس دین کی تعلیمات ہیں جس کے لیے تم آپس میں لڑ رہے ہو کہ آپس میں اختلاف کی وجہ سے لڑیں۔ اور علماء بھی کوشش کرے کہ سارے دلائل قرآن و حدیث سے پیش کریں۔ کیونکہ بحثیت مسلمان ہمارے لئے دین کے مسائل کیلئے ترازو قرآن اور حدیث ہے۔
    اللّٰہ ہمیں ان اختلافی مسائل سے پیدا ہونے والی نفرتوں سے نجات دلادے اور اللّٰہ پاکستان کو دین اور امن کا گہوارہ بنا دے۔
    (آمین)
    _________________________
    twitter.com/@IbnePakistan1

  • ہم سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، اور دنیا و آخرت میں ہمارا مُقام .تحریر: امان الرحمٰن

    ہم سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، اور دنیا و آخرت میں ہمارا مُقام .تحریر: امان الرحمٰن

    ہم سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نے ہر پلیٹ فارم پہ ڈٹ کر دشمن کے ہر طرح کہ پراپیگنڈے کا مقابلہ کیا ہے اور آخر دم تک کرتے رہیں گے
    میرے پیارے ہم وطن ساتھیو ہمیں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ بیشک آج ہمارا کوئی نام نہیں، پہچان نہیں لیکن تاریخ آپ کو ہی یاد رکھے گی، آپ کو اپنے بھی یاد رکھیں گے اور آپ کو دشمن بھی یاد رکھے گا. ہمیشہ آپ کو ہی یاد رکھا جائے گا. دشمن کے اربوں نہیں کھربوں ڈالر خاک میں ملانے والو پاک وطن کے عظیم مجاہدو آپ کو تاریخ ضرور بالضرور یاد رکھے گی. اور جب جب

    جب گمنام سپاہیوں کا ذکر ہوگا جب دشمن کی پراکسی وارز کا ذکر ہوگا، جب فوج کی پشت پہ قوم کے کھڑے ہونے کی بات کی جائے گی. جب آپ کا دشمن کہے گا کہ ہم پاک فوج کا مورال نہیں گرا پائے، جب کہا جائے گا کہ دشمن نے کھربوں ڈالر لگا دئیے مگر پاکستان کو توڑنے میں کامیاب نہ ہوسکے. جو خود بھی لڑتے رہے اور اپنی قوم کو بھی تربیت دیتے رہے، جب جب دشمن نے چُھپ کر پاکستان کے خلاف کوئی جھوٹا پروپیگنڈہ کیا تب تب پاکستان کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نےدن دیکھا نہ رات اور دشمن کا دندان شکن جواب دیا اورہر بار سُرخرو ہُوے.

    جب کہا جائے گا کہ موساد، را، این ڈی ایس، سی آئی اے، ایم آئی سکس اور ایسی سینکڑوں خفیہ ایجنسیوں کے جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ہزاروں آئی ٹی سیلز پر لاکھوں ڈالرز خرچ کرنے کے بعد بھی شکست اُن کا مُقدر بنی تو اُنہیں شکست دینے والے یہی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ تھے جو دُشمن کے طاقتور میڈیا سیلز کو چند سو کے انٹرنیٹ پیکجز اور ٹُوٹے پُھوٹے موبائل رکھنے والے چند لوگوں نے شکست دی. جب دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں نے اِن کے سامنے اپنی شِکست اور بے بسی کا اعتراف کیا.

    تاریخ سنہری حروف میں لکھے گی کہ جب سوشل میڈیا کے وار سے دنیا کے کئی ممالک کئی طاقتیں ڈھیر ہوئیں وہیں پاکستان میں کچھ ایسے بھی سر پھرے تھے جو سارا دن فارغ، ویلے اور اللہ جانے کیا کیا طعنے سن کر خاموشی سے دشمنوں کو ناکام کرتے ہوئے پاکستان کو خانہ جنگی سے بچا گئے. ایک طرف سیاسی منافرت تو دوسری طرف مذہبی تفرقے، صوبائی تعصب، قومیت پرستی، غرض جہاں دُشمن نے داؤ کھیلا یہ ففتھ جنریشن وارئیرز وہاں وہاں موجود رہے.

    تاریخ یار رکھے گی آپ کو آپ کی نسلیں یاد رکھیں گی آپ کو، کیا ہوا جو ہم گُمنام ہیں، کیا ہُوا جو ہمیں سرکاری ہستیوں کی ملاقاتیں نہیں ملیں، کیا ہُوا کہ ہمیں پہچان نہیں ملی خُدا کی قسم آج پاکستان دُشمن کی چالوں سے جیسے نِکل رہا ہے یہی آپ کا کام آپ کی پہنچان ہے. اِس کا بدلہ اِس کا نام اِس کی پہچان دنیا میں نہیں مگر اِن شاءاللہ اِن شاءاللہ مجھے میرے ربّ کی رحمت سے اُمید ہے کہ وہ ذات ہمیں آخرت میں اِس کا بہترین بدلہ اور ایک بہترین پہچان دے گا جب اِن شاءاللہ تحریکِ پاکستان کے شہیدوں، غازیوں، گُمنام سپاہیوں کے سامنے ہم سر اُٹھا کر آئیں گے، لہٰذا ہمیشہ پاکستان کہ مثبت پہلوؤں کو اُجاگر کرنے کی کوشش کرتے رہیں جُھوٹے پروپیگنڈے سے نہ تو گھبرانا ہے نہ ہی خوفزدہ ہونا ہے یہ ہائبرڈ وار فیئر جہاں انسان کی سوچ پر ضرب لگاتی ہے وہیں ہمارے عصاب بھی شل ہو جاتے ہیں تو اپنے عصاب پر یقین کے ساتھ جم کر جُھوٹ کا مقابلہ اپنے سچ سے کرنا ہے اور سچ کو کبھی شکست نہیں دی جا سکتی، ہاں یہ ضرور ہے کہ جُھوٹ وقتی اثر رکھتا ہے مگر جب جُھوٹ کے خلاف ہم سچ نہیں بولیں گے سچ نہیں لکھیں گے تو دُشمن کے جُھوٹ کو تقویت ملے گی مگر یہ وقتی ہی رہے گی، ہمیں سچ لکھنا ہے اور سچ نے ہی غالب آنا ہے اِن شاء اللہ.

    میں سلام پیش کرتا ہوں سوشل میڈیا پہ اسلام اور وطن عزیز کا دفاع کرنے والے تمام ففتھ جنریشن وارئیرز کو، چاہے وہ لکھاری ہوں، کاپی پیسٹرز ہوں، گرافکس ڈیزائنرز ہوں، ہیکرز ہوں یا رپورٹرز آپ سب اِس پاک وطن کا فخر ہیں اِس لیے یہ بحث چھوڑ کر ہمیں اپنے کام پہ توجہ دینی چاہیے اللہ پاک ہم تمام سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو اور ہمارے سرحدوں پر موجود مُحافظوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین ثُم آمین
    جزاک اللہ خیرا” کثیرا
    پاکستان پائندہ باد
    @A2Khizar

  • کشمیر کا سلطان عمران خان  تحریر فرزانہ شریف

    کشمیر کا سلطان عمران خان تحریر فرزانہ شریف

    جیسا کہ سب کو پتہ ہے تحریک انصاف آزاد کشمیرکا الیکشن جیت چکی ہے سب محب وطن کو مبارکباد دیتی ہوں ۔۔ تمام حلقوں کے مکمل نتائج آچکے ہیں جس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 26 نشستیں جیت کر دوتہائی اکثریت حاصل کرلی ہے ،انتخابات کے اب تک کے تمام حلقوں کے نتائج آچکے ہیں پاکستان تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت بن کرسامنے آٸی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم کانفرنس بھی ایک سیٹ جیت چکی ہے یوں پی ٹی آئی کی اب تک 27 سیٹیں ہوچکی ہیں آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر رہی ہے اور11 حلقوں سے انتخاب جیت چکی ہے جبکہ ن لیگ جو کہ آزادکشمیرکی سب سے بڑی جماعت کے طورپرجانی جاتی تھی اور جس طرح مریم صاحبہ نے صرف عمران عمران کا رٹا لگایا ہوا تھا اپنی تقریروں میں تو کشمیر نےبھی پھر خوب کھچڑی کھلائی ہے 🤣 اب آزاد کشمیر کی تیسرے درجے کی جماعت کے طور سامنے آئی ہے۔ ن لیگ نے 6 نشستیں جیتی ہیں۔مسلم کانفرنس ویسے بھی پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ہےان کی ایک سیٹ ملا کرپی ٹی آئی ایوان میں 27 سیٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے اور اگر جے کےیو ایم کی ایک نشست وہ بھی پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کرتے ہیں تو یوں پی ٹی آئی کی 28 سیٹیں ہوجائیں گی۔
    پی پی کے پاس اس وقت چوہدری یٰسین کی جیتی ہوئی دو نشستیں ہیں ، ان میں سے ایک چھوڑنی پڑے گی اس پر ضمنی الیکشن ہوگا
    یہ بھی ہوسکتا ہے اس ضمنی الیکشن میں ایک مزید سیٹ پی ٹی آئی کو مل جائے انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد پی ٹی آئی اپنی 26 اوردواتحادیوں‌کی ملا کر28 سیٹیں لے کراسمبلی میں سب سے طاقتورپارٹی کے طورپرحکومت کرے گی مظفرآباد میں حکومت سازی کے لیے ابھی سے مشاورت شروع ہوچکی ہے۔اس کے علاوہ قانون ساز اسمبلی کی 8 مخصوص نشستوں کا انتخاب نتائج آنے کے بعد کیا جائے گا ان 8مخصوص نشت میں سے بھی پاکستان تحریک انصاف اتحادیوں کو ملا کر5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مزید جوڑ توڑ سے پی ٹی آئی کو6 نشستیں بھی حاصل ہوجائیں، یوں کشمیرکی قانون ساز اسمبلی میں پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اب کشمیر پر راج ہوگا کپتان کا اور ترقی کے کام تیزی سے شروع ہوجائیں گے چور لٹیرے کشمیر پر بوجھ گندے سیاستدانوں سے آج کشمیر آزاد ہوگیا ہےشکرآ یااللہ الرحمٰن

    @Farzana99587398

  • سندھ کا تعلیمی معیار   تحریر: ایمن زاھد حسین

    سندھ کا تعلیمی معیار تحریر: ایمن زاھد حسین

    پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ملک ہے۔اور یہاں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام پر اگر نظر ڈالیں تو میں سمجھتاہوں تعلیم کو طبقاطی نظام میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ امیر حکمرانوں کے بچے ملک سے باہر تعلیم حاصل کر رہے ھین اور جو غریب حکمران ہیں انکے بچے پرائوٹ ہائے فائے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رھے ہیں ۔پاکستان کے چاروں صوبوں میں تعلیمی نصاب الگ الگ ہیں اور ہر ایک صوبے میں ایک نظام تعلیم کا ہننا چاہیے تھا لیکن ایسا ہوا نہیں بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ اسے ہر لحاظ سے تباہ کیا جارہا ہے۔دنیا کے بیشتر ممالک اپنی قومی زبان میں تعلیم دیتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں اور یہاں اسکول انتظامیہ سے لیکر والدین تک اپنے بچوں کو نہ مادری زبان پر عبور حاصل کرتے دیکھنا چاہتے ہیں اور نا ہی قومی زبان پر پڑھنے بولنے لکھنے میں عبور حاصل کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کا معیار 1999 سے پہلے بہترین تھا۔ جہاں بچہ یا طالب علم کی تربیت اپنے والدین،خاندان،معاشرے سے لیکر اسکول استاد تک کے سامنے ہوتی تھی اور داخلہ بھی سخت امتحان کے بعد ملتا تھا لیکن اس کے بعد تو جیسے سرکاری اسکولوں پر عزاب مسلط ہو گیا۔تعلیم تباہ ہو گئی پھر اس کے بعد پرائوٹ اسکولوں کا آغاز ھوگیا۔ انگلش میڈیم کی بھرمار آگئی اور ایک کاروباری دوڑ شروع ہو گئی لیکن مقصد تعلیم بہت پیچھے رہ گیا۔اب تو یہ حال ہے کہ سرکاری اسکول میں پڑھانے والے اساتذہ کے بچے بھی انگلش میڈیم میں پڑھتے ہیں بلکہ نظام تعلیم سے منسلک تمام ہی افسران کے بچے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔انگلش میڈیم اسکولوں میں بھی الگ الگ معیار ہیں۔بھاری فیس والے اور نارمل فیس والے اور سستی فیس والے۔معیار اساتذہ اور دیگر سہولیات ہیں۔سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے ذیادہ تر اساتذہ سیاسی بھرتیاں ہیں جس سے سرکاری تعلیم کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔ 2011 کے بعد سندھ میں میرٹ سے بھرتی ہونے والے اساتذہ سے تعلیم 15% بہتر ہوئی 2014 -2015 میں میرٹ پر نئے اساتذہ بھرتے ہوئے جس سے سندھ میں تعلیم انقلاب پرباہ ہوا ۔پر افسوس کی بات یہ کہ سندھ حکومت کی طرف سے طرح طرح کے قوانین بننا پر ان پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ میں مختلف قسم کی پریشانیاں لاحق ہورہی ہیں۔پہلے تو اسکولوں کی خستہ حالت سے والدین اپنے بچوں کو اسکول نہیں بیجتے ۔دوسرا یہ کہ اسکولوں میں بنیادی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ پریشانیوں میں مبتلا ہیں ۔ جہاں بچے کم ہیں وہاں اساتذہ میسر نہیں اور جہاں اساتذہ ہیں وہاں بچے نہیں ۔ بہت سے ایسے گاؤں ہیں جو کئی سالوں سے بند پڑے ہیں۔ اس لیے میری سندھ حکومت سے عاجزانہ گذارش ہے کہ محکمہ تعلیم کا نظام بہتر بنانے کیلئے اوپر دیے گئے مسائل کو فوری حل کرکہ جئے بھٹو کی جگہ ” ہر گھر میں بچہ حاصل کریگا تعلیم کا نعرہ لگائیں کیونکہ تعلیم ہے تو قومیں ترقی کرتی ہیں،صرف نعرے سے کچھ نہیں ہوگا۔

    @ummeAeman

  • سیاسی بحث اور عمران خان  تحریر: محمد وقاص شریف

    سیاسی بحث اور عمران خان تحریر: محمد وقاص شریف

    جب سے عمران احمد خان نیازی کی حکومت آئی ہے اس وقت سے مسلسل لوگوں کے درمیان سیاسی بحث اور معیشت کی باتیں زور پکڑ چکی ہیں
    آج کل آپ کسی گلی محلے یہ کسی بازار میں یا پھر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم حتی کہ کسی واٹس ایپ کے گروپ میں چلیں جائیں
    وہاں آپکو زیادہ تر لوگوں سیاسی بحث کرنے میں مصروف نظر آئیں گے
    ہر بندے کے منہ میں یہی الفاظ ہوتے ہیں کہ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگیا
    حالانکہ غربت اور بے روزگاری گزشتہ ہر حکومت میں دیکھی گی ہے
    دوسری جانب عمران خان کی بات کی جائے تو پاکستان کی تاریخ میں پہلے پاور فل وزیراعظم ثابت ہوا ہے جو دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتا ہے
    اور سچ تو ہے کہ عمران خان کی اس حکومت میں پاکستان عالمی سطح بہت تیزی سے مضبوط ہورہا ہے
    اس دورے حکومت میں سیاسی بحث غلیظ گفتگو اور معیشت تباہ کی باتوں کے ساتھ وہی پھدک رہے ہیں جن کا اس دورے حکومت میں پھدو نہیں لگ رہا
    دس روپے والی چیز میں کوشش کرتا ہے پندرہ روپے منافع مل جائے
    ایک موچی سے لے کر فیکٹریوں تک ایمانداری کا نام نظر نہیں آرہا
    چھوٹے سے چھوٹا دوکان کسٹمر کو کوشش کرتا ہے دونو ہاتھوں سے لوٹ لوں
    سبزی والا صبح سویرے کوشش کرتا ہے کمزور سبزی پہلے بیچ لوں کوئی مرتا ہے تو مر جائے میری بکنی چاہیے
    کریانہ والا اول کے پیسے لے کر دوم چیز بیچھتا ہے
    اگر اسی بات پر انتظامیہ ایکشن لے اور کریانہ والے کو جرمانہ کردے تودوکاندار کی جانب سے انتظامیہ کو گلیاں دی جاتی ہیں ہر چھوٹا بڑا کاروباری دوکاندار چاہے وہ لوہے کا کاروبار کرتا ہے یا مٹھائی والا سبز ی والا کپڑے والا جوتی والا کریانہ والا فروٹ والا منیاری والا اور دیگر تمام میں سے جس کا جتنا پھدو لگتا ہے وہ عوام کو لگا دیتا ہے اور کہتا ہے حکومت کرپٹ ہے
    اور باتیں سب معیشت تباہ ہوگئی کہتے ہیں
    عمران خان یا موجودہ حکومت پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور چھانک لیں
    کیا آپ اپنا کام ایمانداری سے کرتے ہیں، نہیں ، ہرگز نہیں
    عمران خان کی قیادت میں دن رات پاکستان ترقی کر رہا ہے ، عمران خان ایک ایماندار لیڈر ہے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے @joinwsharif

  • غیرت اور عورت   تحریر:   ازان حمزہ ارشد

    غیرت اور عورت تحریر: ازان حمزہ ارشد

    عورت اور غیرت کا صدیوں سے گہرا تعلق ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غیرت کے نام پر جب بھی ہوئی عورت ہی داغدار ہوئی۔

    ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہے جو کہ عورت کو سب سے زیادہ عزت و وقار دینے کا دعویٰ کرتا ہے یہی عورت گھر میں ہو تو اسے عزت سمجھا جاتا ہے اور اگر یہی عورت کسی دفتر یا کارخانے میں محنت مزدوری کر رہی ہو تو اسے بدکار سمجھا جاتا ہے۔ اپنے گھر کی عورت پر کوئی نظر ڈالے تو نظر ڈالنے والے کی آنکھیں نکال دی جاتی ہے اور اگر وہی نظریں خود کسی دوسرےگھر کی عورت پر ڈالی جائے تو اسے مردانگی کی اعلیٰ صفت قرار دے دیا جاتا ہے۔

    اپنی بہن کسی کے ساتھ بھاگ جائے تو عزت مٹی میں مل جاتی ہے اور اگر خود کسی کی بہن بھگا لاؤ تو اسے محبت اور جوانی کے جوش کا نام دے دیا جاتا ہے۔

    قریب ایک سال پہلے کی بات ہے میری ایک قریبی رشتہ دار 23 سالہ نوجوان 3 بچوں کی ماں کو اس کے شوہر نے بے دردی سے قتل کر دیا قتل کی وجہ گھریلو مسائل تھے ہم سب غم سے نڈھال تھے تبھی میرے کان میں میت کے قریب بیٹھے کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دی جو کہ کہہ رہے تھے کہ ضرور اس لڑکی کا کہی اور چکر ہوگا اور غیرت کے نام پر اسکے شوہر نے اسے قتل کر دیا۔
    مجھے افسوس یہ ہوا کہ ایسی باتیں کرنے والی خود عورتیں ہی تھی۔ یہ بات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اصل میں مرد نہیں عورت ہی عورت کی اصل دشمن ہے۔
    عورت کو غیرت کا نام لے کر قتل کیا جاتا ہے اور پھر اسی عورت کو موٹروے پر روک کر زیادتی کی جاتی ہے اور پھر اسی عورت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اسکا لباس درست نہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ جب 5 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے تو اس میں اسکے لباس کا کیا قصور تھا؟ جب عورت کو سسرال والوں کے ناجائز مطالبات پورے نہ کرنے پر جلا دیا جاتا ہے تو اس میں اسکا کیا قصور تھا؟

    قصور عورت کا نہیں ہماری سوچ کا ہے قصور ہم میں موجود اس جانور کا ہے جو عورت کو محض لطف کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ قصور اس نظر کا ہے جو گندگی سے بھرپور ہے۔

    خدارا اپنے گھر اور دوسروں کے گھر کی عورت کو برابر سمجھ کر انھیں عزت دینا شروع کر دیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب ہماری مائیں بہنیں ہمارے مکہ فاتح کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کی عزتوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔

  • مانسہرہ کی تاریخ     تحریر:یاسرشہزادتنولی

    مانسہرہ کی تاریخ تحریر:یاسرشہزادتنولی

    پاکستان کا سب سے خوبصورت شہر مانسہرہ ہے.

    مانسہرہ شہر خیبر پختونخواہ کے صوبے میں واقع ہے. یہ پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے. یہ ایبٹ آباد شہر کے قریب ہے. یہ کارکرم ہائی وے پر سیاحوں کے لئے ایک اہم سٹاپ ہے جس میں چین کی طرف جاتا ہے. یہ شمالی علاقوں اور مقامات جیسے کاغان وادی، ناران، شوگراں، جھیل سیف الملوک اور بابوسر اوپر کے لئے ایک اہم ٹرانزٹ نقطہ بھی ہے. اس شہر میں سب سے بڑی تعداد میں تاریخی مقامات موجود ہیں. سرن اور دریاۓ کہنار ضلع کے معروف دریا ہیں. سرن پنجول کے اور پکھلی کے مغربی کنارے کے ذریعے بہتی ہے. دو نہریں سرن دریا، شریریاری میں داراللہ اور کم سرن واال میں سرانڈر کے اوپر سے اوپر لے جایا گیا ہے.

    مانسہرہ ضلع میں تین خوبصورت جھیل ہیں. یہ کاغان وادی میں پہاڑی کی حد کے برف پہاڑوں کی چوٹیوں سے گھیرۓ ہوۓ ہیں. ان جھیلوں کے نام لولیسر، آنسوجھیل اور جھیل سیف الملوک ہیں. بابرس کی چوٹی کے قریب سابق دو جھوٹے ہیں جبکہ ناران کے قریب ایک مؤرخ ایک بہت اچھا ہے، جب اس کا پورا چاند ہے اور آپ ضلع کے سب سے شاندار علاقے میں ہیں. مانسہرہ، شوگراں-ناران اور ناران میں جب آپ جھیل سیف الاسلام پر واقع ہوں گے. یہ ایک شاندار منظر ہے، چاند کی روشنی جھیل پر گر جاتی ہے اور ارد گرد کے پہاڑوں پر خوبصورت کرن کی عکاسی کرتا ہے۔
    مانسہرہ میں سب سے بڑی تاریخ ہے.
    اس کے جغرافیائی حدود گزشتہ مہینے میں مختلف راجس، مہاراجہ اور کنگز کے دور میں مسلسل تبدیل ہوگئے ہیں. شمالی فتح حاصل کرنے کے بعد الیگزینڈر نے عظیم. انڈیا اس کے بڑے حصے پر اپنا حکمران قائم کیا.
    مختلف مورخین کا خیال ہے کہ سال 327 بی سی میں الیگزینڈر نے اس علاقے کو ابسراس کو پونچ ریاست کے راجا کے حوالے کردیا. موری خاندان کے دوران مینہرا ٹیکسیلا کا حصہ رہے. دوسری صدی میں ایک صوفیانہ ہندو بادشاہ راجہ رسوالو، سیالکوٹ کے راجا سالبھن کے بیٹے، اس علاقے کو اپنے راستے میں لے آئے مقامی لوگ اس کے ہیرو اور آج بھی والدین کے طور پر غور کرتے ہیں، اپنے بچے کو موسم سرما کی راتوں میں راجہ رسوالو اور ان کی بیوی رانی کونکلان کی کہانیاں بیان کرتے ہیں. یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ترکی شاہی اور ہندسی شاہی خاندانوں نے ایک بار پھر پاکھلی پر حکمرانی کی.
    ایک بار پھر 11 ویں صدی میں ہندو شاہی خاندان کے خاتمے کے بعد کشمیریوں نے اس علاقے پر کلشن (1063 سے 1089 ع) کی قیادت میں قبضہ کر لیا. 12 ویں صدی کے آخری سہ ماہی میں اسسٹنٹ خان، محمد غوری کا ایک جنرل، اس علاقے پر قبضہ کر لیا لیکن جلد ہی محمد غوری کی موت کے بعد کشمیر ایک بار پھر اسے قبضہ کر لیا. 1472 ء میں ڈاکٹر شہزادہ شاہد الدین کابل سے آئے اور یہاں اس کا اقتدار قائم کیا. انہوں نے ریاستی طور پر پاکی سارکر کی بنیاد رکھی اور گاؤں گلبغ کو اپنی دارالحکومت کا انتخاب کیا. 18 ویں صدی کے پہلے سہ ماہی میں، ترکوں کے لئے بدقسمتی ہوئی کیونکہ ان کی حکمرانی ان کی وحدت کے قیام اور پختونوں اور ان کے اتحادی قوتوں کی بڑھتی جارہی ہے. سب سے زیادہ اہم حملہ 1703 ء میں سید جلال بابا کے حکم میں سوات کا تھا، انہوں نے ترکوں کو نکال دیا اور اس علاقے پر قبضہ کر لیا. 1849 میں. ڈی. اس علاقے میں برتانیہ کے براہ راست کنٹرول کے تحت آیا. 1901 ء میں جب NWFP صوبے قائم کیا گیا تو، ہزارہ پنجاب سے الگ ہوگئے اور سرحد سرحد کا حصہ بنا.
    مانسہرہ کی مشہور سوغات میں کھوہ چپلی کباب اور پکوان مشہور ہیں۔
    آج مانسہرہ خوبصورت خوبصورتی کی ایک جگہ ہے. موسم سرما میں زیادہ موسم سرما میں سرد ہے اور موسم گرما میں خوشی سے گرم ہے. کاغان وادی جیسے شمالی حصے موسم گرما میں سرد ہے اور موسم سرما میں انتہائی سردی ہے اور اس کی بھاری برف گرنے کا امکان ہے. ضلع دو مختلف موسم ہے؛ موسم گرما کا موسم جو اپریل سے ستمبر تک ہوتا ہے اور موسم سرما کا موسم ہے جو اکتوبر سے مارچ تک ہے. جون کے مہینے میں زیادہ سے زیادہ اور کم از کم درجہ حرارت کا اندازہ تقریبا 35 ° C اور 21 ° C ہے.
    آگ لگادو آگ۔۔۔۔
    تحریر:(یاسرشہزادتنولی)

    بجلی کے بلوں کو آگ لگادو جلدی جلدی میں بھی آگ لگارہا ہوں یہ دیکھو۔کوئی ٹیکس نہ دے بلکل نہ دے۔ ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم متحد ہیں۔آج سے 2 سال پہلے ایک شخص کی طرف سے عوام سے محبت کااظہار کچھ اسطرح سے کیا گیا تھا کہ بجلی اگر سستی نہ ہوئی تو پاکستانی قوم اپنے بل نہیں بھرے گی، اور نہ ہی ٹیکس ادا کرےگی۔ لوگ حق حلال کا پیسہ کمارہے ہیں۔کیوں یہ سب برداشت کریں؟ بل جلوادیے گئے اور آج وہی لوگ عواپ کو تلقین کررہے ہیں کہ اگر آپ لوگ ٹیکس ادا کرینگے تو اپنے ملک کےلیے، اور فائدہ سوچیں تو اپنے ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں گے۔ تب ملک کی ترقی کہاں تھی جب صرف ایک دشمنی اور بغض کی وجہ سے اس عظیم ملک کو نقصان پہنچانے کی باتیں کی جارہی تھیں جس وطن کو اتنی تکلیفوں اتنی مصیبتوں اور جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیااور جہاں ہمارے بزرگوں کی قربانیاں، افواج پاکستان کا خون اس وطن کی مٹی میں شامل ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک نعرہ کسی بھی ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔اگر وہ نعرہ مثبت ہو تو ترقی کی راہیں کھل جاتی ہیں اور اگر وہ نعرہ منفی ہو تو تنزلی اور پستی مقدر بنتی ہے۔ اگر عوام میں شعور بیدار ہوگا تو انقلاب آئے گا اور اس دور میں یہ انقلاب آنا بہت ضروری ہے۔ قوم کی تقدیر عوام کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور باشعور قوم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ مگر اس ملک میں عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے اتنا دبا دیا ہے کہ وہ گیس ، بجلی اور پانی کے بلوں میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ حکمران کوئی بھی ہو جب تک عوام باشعور نہیں ہوگی اور یہ فرسودہ زنگ لگا ہوا نظام نہیں بدلےگا تب تک کچھ صحیح نہیں ہوسکتا۔لہٰذا تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والوں کو چاہیے کہ یوـ ٹرن لینے کے بجائے عوام کے مسائل کو حل کریں نہ کہ انکے لئے مزید پریشانی کا سبب بنیں۔
    https://twitter.com/YST_007?s=09