Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آزمائشوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے .تحریر: فروا نذیر

    آزمائشوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے .تحریر: فروا نذیر

    یہ زندگی اللہ پاک کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک ہے…
    سب سے بڑی بات یہ کہ اللہ نے انسان کو اشرف المخوقات ہونے کا شرف بخشا اللہ نے ہمیں جانور پرندے نہیں بنادیا اللہ کا ہم انسانوں پر سب سے بڑا احسان یہ ہے..
    اللہ تعالٰی کے پاس عبادت کیلیے فرشتوں کی کمی نہیں ہے لیکن اللہ نے انسان کو زمین پر اتارا حضرت آدم علیہ السلام سے یہ سلسلہ شروع کیا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم پر ختم ہوا اللہ نے ہر نبی کو معجزہ الگ الگ معجزات عطا کیے تاکہ جو گمراہی میں لوگ ہیں وہ سیدھے راستے پر چل سکیں ہر نبی نے اسلام کا پیغام پہنچایا..

    اللہ پاک نے نبی پاک صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم کو ہر انسان کیلیے رحمت بنایا جب نبی پاک اس دنیا سے رخصت ہوئے تو تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنی امت کو اپنی سیرت اور اسوۂ حسنہ چھوڑ کر جارہا ہو تم اسکو تھام لو…
    لیکن میں اب اصل بات کی طرف آتی ہو اللہ نے ہم انسانوں کی رہنمائی فرمائی اپنے انبیاء کے ذریعے تاکہ انسانوں کو مشکل نہ ہو…

    لیکن میں آتی ہو اب کے حالات کی طرف…
    ہم انسان آجکل اسطرح کے ہو چکے ہیں کہ ذرا سی مشکل آئے تو اللہ کو بھول جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ نے دنیا جہان کی ہر مشکل ہمارے سر پر ڈال دی ہے ہم آزمائش کو سزا بنا لیتے ہیں اللہ پاک نے اپنے ہر پیارے نبی پر آزمائش دی
    حضرت موسٰی کو فرعون کے پاس بھیج دیا حضرت یوسف کو کنویں میں تین دن رکھا اور ظالموں پاس بھجوادیا لیکن ان سب انبیاء نے افف تک نہ کیا

    لیکن ہم.سب مسلمان جو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کا دعوٰی کرتے تو ذرا سی مشکل پر واویلا کرتے ہیں

    ہم انسانوں میں صبر ختم ہو چکا ہے آزمائش شرط ہے یہ تو اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ہے:
    اللہ پاک اپنے ہر بندے کو آزماتا ہے کبھی لے کر آزماتا ہے تو کبھی دے کر آزماتا ہے
    اللہ نے ہر انسان کو جہاں مشکل دی ہے وہی آسانی بھی دی ہے

    فرمایا گیا ہے:
    ان مع الاسر یسرا
    فان مع الاسر یسرا

    ہر مشکل کے بعد آسانی ہے
    ہر غم کے بعد راحت ہے

    پس تم صبر کرو جتنا کرسکتے ہو اللہ اپنے بندے کو زیادہ مشکل میں نہیں ڈالتا
    ہم سب کو نبی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہر.مشکل میں صبر کرنا چاہیے کیونکہ مایوسی کفر ہے

    اللہ پاک قرآن میں فرماتا تم مشکل میں صبر کرو اور مجھے یاد کرو کثرت سے
    تمہاری ہر مشکل آسان ہو.جائے گی

    تو میری اپنے تمام دنیا میں جہاں بھی مسلمان ہیں ان سب سے گزارش ہے کہ مشکل وقت میں صبر کریں اللہ کا ذکر کریں اللہ اپنے بندوں کو اکیلا نہیں چھوڑتا

    اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سبکو سیدھے راستے پر چلائے اور صبر کرنے کی تلقین عطافرمائے

    آمین ثمہ آمین

    @InvisibleFari_

  • ہیکرز کس طرح اپ کا اکاؤنٹ باآسانی لاگ ان کر سکتے ہیں، دلچسپ اور معلوماتی آرٹیکل  تحریر :- مدثر حسین

    ہیکرز کس طرح اپ کا اکاؤنٹ باآسانی لاگ ان کر سکتے ہیں، دلچسپ اور معلوماتی آرٹیکل تحریر :- مدثر حسین

    اکیسویں صدی میں نئی نئی ایجادات نے اس دنیا کو ڈیجیٹل بنا دیا ہے.ایک طرف جہاں انسانی رابطوں کے الات ڈیجیٹل ہیں، دوسری طرف سوشل میڈیا ہماری ضرورت بن چکا ہے
    ایک عام انسان ان آلات کو استعمال تو کر سکتا ہے لیکن صحیح معنوں میں اپنے اکاؤنٹس کو محفوظ رکھنے کے طریقوں سے ناواقف ہے. بہت ساری ویب سائٹس اپنے یوزر (صارفین) کا بائیو ڈیٹا اپنے پاس محفوظ رکھتی ہیں تا کہ پاسورڑ بھول جانے کی صورت میں اس بائیو ڈیٹا کی مدد سے اصلی صارف کی شناخت ممکن ہو سکے، ورنہ کوئی بھی کسی کے اکاؤنٹ کا پاسورڑ تبدیل کر لے گا.
    یہ سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بہت بڑا رسک بھی ہے. ہیکرز کسی کا اکاؤنٹ ہیک کرنے کے لئے اسکی ڈیوایس (انٹرنیٹ استعمال کرنے والا آلات)، اس کا فون نمبر ان دو چیزوں کا clone (جعلی معلومات) بنا کر ان چیزوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں جس کے لئے ایک خاص قسم کے اوپریٹنگ سسٹم kali linux کو استعمال کیا جاتا یے، کچھ لوگوں نے اپنے اکاؤنٹس پہ two factor authentication آن کر رکھا ہوتا ہے یعنی لاگ کرنے پہ وہ ویب سائٹ اس شخص کے موبائل نمبر پہ ایک کوڈ بھیجتی ہے جو گنتی کے چار سے چھ ہندسوں پہ مشتمل ہوتا ہے، اس کو جب تک اپ لاگ ان پیج پہ لکھیں گے نہین تب تک اپ اپنا اکاؤنٹ استعمال نہیں کر پاییں گے. ہیکرز اس مرحلے کو بھی عبور کر لیتے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ ایسی ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہیں جس پہ عارضی طور پہ اپ کوئی بھی فون نمبر لکھ کر اس پہ انے والا مطلوبہ میسج /پیغام اپنی سکرین پہ دیکھ سکتے ہیں، بشرطیکہ اپ کو پیغام بھیجنے والے کا فون نمبر بھی معلوم ہو. ان ویب سائٹس کی مدد سے ہیکرز وہ میسج کوڈ سمیت وصول کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں. سیکیورٹی کے اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف سوشل میڈیا ویب سائٹس اب صارف کو اسکا مکمل فون نمبر ظاہر نہیں کرتیں 0123*******+تا کہ صارف آخری ہندسوں سے اپنے نمبر کی تصدیق بھی کر لے اور اس کے زیر استعمال فون نمبر پہ کوڈ بھیجتے وقت فون نمبر کسی بھی جگہ ظاہر نہ ہو سکے.
    تاہم کئی لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں کاروباری سرگرمیوں کی وجہ سے بہت ساری ویب سائٹس اور applications کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور ان اپلیکیشنز کو استعمال کرنے کے لئے ان پہ اپنا اکاؤنٹ بنانا ضروری ہوتا ہے، اکثر ایسی ویب سائٹس کی سیکورٹی کے غیر محفوظ ہوتی ہے، عین ممکن ہے کہ ہیکرز ان ویب سائٹس کے دیٹا تک رسائی حاصل کر کے اپکا فون نمبر نکال لیں اور جہان جہاں اپکا اکاؤنٹ ہے وہ اس ویب سائٹ / سوشل میدیا ویب سائٹس پہ جا کے اپکا پاسورد مندجہ بالا طریقے سے باآسانی تبدیل کر لین. سیکورٹی کے اس مسئلے سے بچنے کے لیے بہت سے لوگ اپنے اکاؤنٹس میں اپنا فون نمبر درج ہی نہیں کرتے وہ صرف ای میل کا استعمال کرتے ہیں.
    ای میل باقاعدہ سرور پہ محفوظ ہوتی ہین جن تک ہیکرز کی رسائی انتہائی مشکل امر ہے، تو ہیکرز ایسی صورت میں ایک خاص طریقہ کار استعمال کرتے ہیں جس کے تحت وہ مطلوبہ شخص کا پاسورڈ تبدیل کرنے کے لیے forgot password والے صفحے پہ ایک خود ساختہ میل درج کرتے ہیں، جس سے وہ ویب سائٹ ایک error کا پیغام دیتی ہے، اور پھر تصدیق کے چند مراحل پیش کرتی ہے جس میں مطلوبہ شخص کی ای میل کے hints وہ آپ سے طلب کرتی ہے، ایسی صورت میں اگر ہیکرز کے پاس اپکا مکمل نام، پتہ، والدین اور دوست احباب کا علم ہو تو وہ ان hints کی مدد سے اپ کی ای میل پہ کوڈ بھیجنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تا ہم ویب سائٹس ای میل کو فون نمبر کی طرح ظاہر نہیں کرتیں اور کچھ اس طرح سے آپکو ای میل کی نشاندہی کرتی ہین s16@gmail.com***********
    اور پھر صارف کو اس بھیجی گئی ای میل کے زریعے علم ہو جاتا ہے کہ اسکا پاسپورڈ تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی یے اور وہ احتیاطی طور پہ اپنا پاسورڑ تبدیل کر لیتا ہے، پاسورد تبدیل کرتے وقت cookies کا آپشن اگر آن ہو تو اس صفحے کا ریکارڈ کچھ دیر کے لئے browser پہ محفوظ ہو جاتا ہے، جس کی مدد سے ہیکر اس صفحے کو دوبارہ refresh کر کے پاسورڈ تبدیل کرنے والا صفحہ اپنی سکرین پہ باآسانی دیکھ سکتا ہے اور اس طرح بغیر ای میل معلوم کئے وہ نیا پاسورڑ درج کر کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لیتا ہے.

    کسی وائی فائی کا پاسورڈ ہیکرز کیسے ہیک کرتے ہیں اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ یہ سب اگلے آرٹیکل میں ان شاء اللہ…

    ‎@MudassirAdlaka
    ‎#mudassiradlaka

  • جنسی زیادتی کے اسباب اور سدباب  تحریر: بشارت حسین

    جنسی زیادتی کے اسباب اور سدباب تحریر: بشارت حسین

    معاشرے میں جنسی زیادتی کا بڑھتا ہوا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا۔ دور حاضر میں جنسی زیادتی کا شکار نہ صرف خواتین ہیں بلکہ کم عمر بچے اور بچیاں بھی ہونے لگیں ہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے گا کہ اب تو جانور بھی اس سے محفوظ نہیں تو یہ غلط نہ ہو گا۔
    جنسی زیادتی کہ شرح میں خطرناک حد تک کا اضافہ معاشرے میں خوف اور عدم استحکام کا سبب بن چکا ہے۔
    والدین اپنے بچوں کو گھر سے نکالتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ پتا نہیں کیا ہو گا اللہ خیر کرے۔
    لیکن ہمارے معاشرے کے وہ ناسور اور درندے کھلے عام پھرتے ہیں اپنا شکار تلاش کرتے ہیں اگر پکڑے بھی جائیں تو اکثر والدین بدنامی کے ڈر سے تھانوں کچہریوں میں جاتے ہیں نہی اگر چلے بھی جائیں تو کچھ عرصہ بعد وہ درندے پھر سے جیلوں سے بری ہو کر آ جاتے ہیں۔
    یوں یہ رحجان بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔
    اسباب
    معاشرے میں اس بیماری اور ناسور کے پھیلنے کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں
    جن میں سب سے پہلا انٹرنیٹ کا کردار ہے۔
    انٹرنیٹ جہاں بہت حد تک زندگی میں اسائیش لایا وہیں پورن ویب سائٹ نے ہمارے معاشرے کے خوبصورت ماحول کو تہس نہس کر دیا۔
    ایسی ویب سائیٹ پہ صرف زنا اور ہر طرح کے گندے کام دکھائے جاتے ہیں جس سے ہمارے بچے وقت سے پہلے جوان ہو جاتے ہیں اور ان میں یہ جنسی خواہشات کا رحجان بڑھ جاتا ہے اس طرح تقریبا انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچے پچاس سے پینسٹھ فیصد تک اس خطرناک مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    دوسرے نمبر پہ شادی کے مسائل
    ہمارے معاشرے میں شادی کو عموما اتنا مہنگا کر دیا ہے کہ اب نکاح مہنگا اور سنا سستا ہو گیا ہے۔
    جوان بچوں کی شادیوں میں اتنی دیر کر دی جاتی ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی غلط رستوں پہ چل نکلتے ہیں۔
    دین سے دوری
    اکثر ہمارے بچے اور بچیوں کو دیں سے شناسائی ہی نہیں ہوتی انکی نظر میں یہ کام کوئی زیادہ غلط نہیں ہوتا اس کو وہ تنگ نظری کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ۔
    سدباب
    معاشرے میں اس ناسور کو روکنے کیلئے سخت قوانین کی اشد ضرورت تو ہے ہی ساتھ والدین کی چند اہم ذمہ داریاں بہت نمایاں ہیں۔
    چھوٹے بچوں کو والدین ہر وقت اپنی نظر میں رکھیں انکے ساتھ اپنے تعلقات دوستانہ رکھیں۔
    بچے کے ساتھ ملنے والے ہر شخص کے کردار کو دیکھیں اور اپنے سے بڑی عمر کے بچوں سے دور رکھیں۔
    بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر نظر رکھیں اور بند کمروں میں انٹرنیٹ سے بچائیں۔
    بچے کو کسی کے ساتھ زبردستی کہیں بھی نہ بھیجیں اور نہ بچہ کوئی بات کر رہا ہو اور اس کو روکیں ہو سکتا ہے وہ اپنی پریشانی بتا رہا ہو اور آپ اس کو نظر انداز کریں اور وہی اس کیلئے خطرناک ہو۔
    بچوں کو اکیلا دکان وغیرہ پہ مت بھیجیں بلاشبہ یہ مشکل ہے لیکن اس پہ نظر رکھیں یہ آپ کے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔
    میاں بیوی بچوں کے سامنے کبھی بھی کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کریں۔
    بچوں اور بچیوں کو الگ الگ سلائیں۔
    کزن وغیرہ پہ بھی اعتماد نہ کریں بچوں کے معاملے میں کسی پہ کوئی اعتماد نہ کریں۔
    بچے جوان ہوں تو کسی نیک گھرانے میں بغیر لالچ کے شادی کریں۔
    بچوں کی عمر ضائع نہ کریں اور نہ ایسا موقع دیں کہ وہ آپکی رسوائی کا سبب بنیں۔
    مذہبی تعلیم سے آراستہ کریں اور برے کاموں پہ اللہ کی پکڑ کے بارے میں بتائیں۔
    معاشرے کا پر شخص ایسے لوگوں پہ نظر رکھے اور انکو پولیس کے حوالہ کرے۔
    اپنے محلے کے بچوں اور بچیوں کی غلط حرکات سے انکے والدین کو آگاہ کریں۔
    ہم سب ایک ہوں گے تو ہمارا معاشرہ صاف ستھرا ہو گا ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے تو کسی کو ہمارے ماحول کو معاشرے کو گندہ کرنے کی ہمت نہیں ہو گی۔

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر : تماضر خنساء

    سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر : تماضر خنساء

    آج کل ہر بچے بچے کے پاس موبائل نظر آتا ہے صرف یہی نہیں تین اور چار سال کے بچے بھی اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب ان سے وعدہ کیا جائے کہ بھائی آپکو موبائل دینگے ۔۔۔۔۔
    یوں کہنا ٹھیک رہے گا کہ کرونا سے بڑا وائرس یہ موبائل ہے !!! یہ موبائل صرف انسان کو نہیں ختم کر رہا باقی سب کچھ ختم کرتا جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔
    یوں تو اسکے جہاں نقصان ہیں وہاں فائدے بھی بہت ہیں ۔۔۔۔۔۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں یہاں 24 میں سے 14 گھنٹے آرام سے موبائل کو دیتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔بلکے یوں کہنا درست رہے گا کہ موبائل آج کے نوجوان کو دس گھنٹے دوسری مصروفیات کیلئے دے دیتا ہے ۔۔۔۔ جس میں ہمارے نوجوان سونا کھانا پینا اور اگر خرافات میں پڑ جانے کی وجہ سے انسے توفیق عبادات سلب نہیں ہوئی ہیں تو وہ کرتا ہے ۔۔۔۔۔
    لوگوں کی مختلف اقسام ہیں کچھ اس موبائل کو اپنے فائدے کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں یہ فائدے دنیوی بھی ہیں اور دینوی بھی ۔۔۔۔ کچھ لوگ اسکے ذریعے سے حلال رزق حاصل کر رہیں ہیں تو کچھ اپنے نامہ اعمال کو بھاری کر رہے ہیں۔ اب قارئین سوچ رہے ہونگے کہ ان دو باتوں کو ساتھ ذکر کرنے سے میرا مقصد کیا ہے؟؟ تو مختصر یہ کہ مختلف ایسی ایپلیکیشنز متعارف ہوئی ہیں جنکے ذریعے سے لوگ پیسہ بنا رہے ہیں ۔۔۔۔ اور بس یہی نہیں بلکہ اس میں اب ایک پڑھا لکھا طبقہ ملوث ہوگیا ہے ۔۔۔۔ چلیں ٹھیک ہے ایک ایپلیکیشن ہے آپ اسے انسٹال کرتے ہیں اور پھر اس پر اچھی ویڈیوز بناتے ہیں یا جیسی بھی بناتے ہیں یہ آپ پر ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اپ
    اپنے ہر عمل کے زمہ دار خود ہیں مگر کیا ہم اتنے باعمل ہیں کہ دوسروں کی بداعمالیوں کا بوجھ بھی اٹھا سکیں؟ ٹک ٹاک اور اسنیپ ویڈیو آپ نے شیئر کیں اور آپکے اکاؤنٹ میں پیسے آئے اور یوں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ انوائیٹ کر کے آپ زیادہ سے زیادہ کمائینگے ۔۔۔۔۔ اور یاد رہے کہ آپ اس دنیا میں کمانے اور کھانے نہیں آئے تھے بلکہ بندگی کیلئے ہم بھیجے گئے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
    اَلَّـذِىْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ (الملک:٢)
    جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کس کے کام اچھے ہیں اور وہ غالب بخشنے والا ہے۔

    یعنی جینے کیلئے پیسے کی ضرورت ہے ہم پیسے کہ نہیں پیسہ ہمارا غلام ہے ہم نے اب جتنے لوگوں کو اس پر انوائیٹ کیا اگر وہ نیکی کرتے ہیں اسکے ذریعے تو ظاہر ہے ہمارے اس اکاؤنٹ میں بھی اضافہ ہوگا جو ہمیں روز آخرت ملے گا۔۔۔۔۔ اور جہاں کوئی برائی کرے گا تو اس کی برائی کا بوجھ بھی ہم اٹھا لیں کیا ایسا ممکن ہے؟؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
    لِیَحْمِلُوا اٴَوْزَارَھُمْ کَامِلَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَمِنْ اٴَوْزَارِ الَّذِینَ یُضِلُّونَھُمْ بِغَیْرِ علم ۔اٴَلاَسَاءَ مَا یَزِرُونَ (النحل:٢۵)
    "روز قیامت یہ لوگ اپنے گناہوں کا بوجھ پوری طرح اپنے دوش پر اٹھائیں گے اور ایک حصہ ان لوگوں کے گناہوں کا بھی کہ جنہیں جہالت کی وجہ سے انہوں نے گمراہ کیا ہے
    جان لو کہ وہ بد ترین بوجھ اور ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھا ئے ہوں گے ”
    یوں بھی آج ہم سب فرائض بمشکل انجام دیتے ہیں گناہوں سے دل سیاہ ہے اور یوں شیئرنگ کر کے گناہوں میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں ۔۔۔
    پھر صرف یہ ویڈیو کی ایپلیکیشنز ہی نہیں اور بھی سوشل میڈیا کی بڑی ایپلیکیشنز جو کے نوجوان نسل اپنی بربادی کیلئے استعمال کرتی ہے ۔۔۔۔ صرف اخروی ہی نہیں دنیوی بربادی کا سبب بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
    میٹرک اور انٹر کے سنہرے وقت کو جس میں انکی زندگی بنتی ہے سوشل میڈیا پر محبتوں میں برباد کردیے ہیں جب انھیں یونیورسٹی کے لئے تعین کرنا ہوتا ہے تب والدین انکے لئے سائیکالوجسٹ کا انتظام کر رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
    اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ دماغی صحت یہاں کہاں سے آگئی تو جناب کہا جاتا ہے کہ نسل نو کا اسمارٹ فونز اور کھانے پینے کی طرف رجحان اتنا ہے کہ وہ اپنی صحت کی طرف متوجہ نہیں ہوپاتے اور انکی جسمانی اور ذہنی صحت مسلسل گرتی جارہی ۔۔۔۔ پھر سوشل میڈیا پر مختلف باتوں پر ری ایکشن بھی ضروری سمجھا جاتا ہے جس سے عدم برداشت کے تناسب میں بھی اضافہ کوریا ہے ۔۔۔۔۔۔۔خاندان جو کبھی ساتھ ملکر بیٹھا کرتے تھے اب وہ وقت بھی موبائل کھا جاتا ہے اس وجہ سے اپنے معاملات بڑوں سے ڈسکس کرنا بھی اس نسل نے نہیں سیکھا۔۔۔۔۔ ایک ہی چیز ایک ہی معاملے کو سوچ سوچ کر مکمل ڈیپریسڈ نسل ہے یہ اور میں اگر اپنے ارد گرد کا مشاہدہ کروں تو اکثر وہ لوگ جو بس ضرورت کے تحت سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں انکی شرح ڈیپریسڈ ہونے کی ان نوجوانوں سے کم ہے جو سوشل میڈیا میں ڈوبے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔۔ اچھا ہے کہ ہم اس نعمت کو نعمت ہی کی طرح استعمال کریں اسے زحمت نہ بنائیں ۔۔۔۔

    @timazer_K

  • جیت کا جشن  تحریر : امیر حمزہ کمبوہ

    جیت کا جشن تحریر : امیر حمزہ کمبوہ

    آج کا انسان بہت بھلکڑ اور مطلبی ہے جب چلنا سیکھتا ہے تو ڈر کے مارے دوسرے کی انگلی پکڑے رکھتا ہے ، لکھنا پڑھنا سیکھ رہا ہوتا ہے تو استاد سے سوال در سوال کر کے سیکھتا چلا جاتا ہے ، جاب میں آتا ہے تو اپنے سینئرز سے جلد از جلد زیادہ سے زیادہ سیکھ کر کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتا جاتا ہے
    اور پھر ایک وقت آتا ہے جب وہ کامیاب انسان بن جاتا ہے تب وہ اپنے ماضی کو بھول کر اپنی کامیابی کے جشن میں مصروف ہو جاتا ہے جیسے وہ اسی کامیابی کیلئے ہی پیدا کیا گیا ہو
    وہ بھول جاتا ہے کہ اس کی کامیابی کے پیچھے اللہ کے بعد کس کس کا ہاتھ ہے
    کس کس سے اس نے سیکھایا کہاں سے رہنمائی لی لیکن کامیابی کا نشہ اسے سب بھلا دیتا ہے بعض دفعہ انسان اپنی کامیابی میں کسی کو حصہ دار نہیں بنانا چاہتا اور وہ اپنے محسنوں کا ظاہری طور پر ذکر نہیں کرنا چاہتا
    حالانکہ میں نے مشاہدہ کیا ہے جو لوگ اپنے محسنوں کا نام سر عام لیتے ہیں وہ صاحب نظر لوگوں کے دل میں اپنا مقام بنا لیتے ہیں اور جو لوگ اپنی کامیابی کو ’’میں‘‘ سے جوڑ لیتے ہیں ان کی کامیابی کو ’’میں‘‘ ہی کھا جاتی ہے
    اس لیے اپنے محسنوں کو نہ تو نظر انداز کروں اور نہ ہی اپنے آپ کو ’’میں‘‘ میں مبتلا کرو

    اپنے رب تعالیٰ کا کا شکر ادا کریں اور اپنے والدین ، استاذہ اکرام ، صلاح کار ، قابل احترام سینئرز اور مخلص دوستوں کو اپنی کامیابیوں کی اصل وجہ سمجھیں اور ہو سکے تو کھلے عام اظہار بھی کریں یقین مانیں آپ کا رتبہ ان کی نظر میں اور اللہ کی نظر میں بلند ہوگا

    Twitter handle @AHK_313

  • موجودہ وقت میں فری لانسنگ کی اہمیت اور فوائد۔ تحریر : اسامہ خان

    موجودہ وقت میں فری لانسنگ کی اہمیت اور فوائد۔ تحریر : اسامہ خان

    جب سے کرونا وائرس آیا ہے دنیا بھر کے کاروبار اس سے متاثر ہوئے ہیں اور بہت زیادہ ملکوں نے فری لانسنگ کی طرف رجحان کیا اس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے آج بھی بہت سے لوگوں کو فری لانسنگ کے بارے میں علم نہیں ہے اور وہ کسی ویب سائٹ پر پہلے پیسے دے کر ڈیٹا انٹری کے کام کو فری لانسنگ سمجھتے ہیں جو کہ بالکل فراڈ ہوتا ہے پاکستان میں فری لانسنگ اب سرکاری سطح پر سکھا ئی جا رہی ہے فری لانسنگ وہ واحد کام ہے جس میں آپ اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں فری لانسنگ میں آپ مندرجہ ذیل سکلز میں کام کر سکتے ہیں
    گرافک ڈیزائن
    اینڈرائڈ ڈویلپمنٹ
    ویب ڈویلپمنٹ
    سوشل میڈیا مارکیٹنگ
    کاپی رائٹنگ
    ویڈیو ایڈیٹنگ
    کونٹینٹ مارکیٹنگ
    سوشل میڈیا مینیجر
    اور ایسے بہت سے کام ہیں جن میں آپ مہارت حاصل کرکے فری لانسنگ کر سکتے ہیں، لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے کسی ایک چیز میں مہارت حاصل کر لی اس کے بعد ہم فری لانسنگ کیسے کریں اور کس ویب سائیٹ پر کریں، فری لانسنگ میں آپ اپوورک اور فائور پر کام کر سکتے ہیں، اگر آپ اپوورک سے کام شروع کرتے ہیں تو آپ کو کنیکٹ خریدنے پڑھیں گے جس سے آپ پروجیکٹس پر اپنی درخواست بھیج سکیں گے اور کام کو حاصل کر سکیں گے اور اگر آپ فائور سے شروع کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کوئی پیسے لگانے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو صرف اپنا اکاؤنٹ بنانا ہے اور اپنی گگس بنانی ہے، جس سے لوگ آ کر آپ کی خدمات حاصل کریں گے اور آپ کو اس کے پیسے دیں گے، اب سوال یہاں پر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر فائور اتنا ہی آسان ہے تو لوگ اپوورک کی طرف کیوں جاتے ہیں وہاں پیسے کیوں خرچ کرتے ہیں؟
    لوگ اپوورک پر اس لیے جاتے ہیں کیونکہ وہاں بڑے اور زیادہ دیر تک چلنے والے کلائنٹ اور پروجیکٹ ملتے ہیں اپوورک پر آپ مہینے کا جتنا چاہے کما سکتے ہیں لیکن فائور پر آپ کو چھوٹے کلنٹ ملیں گے جو آپ کو اجرت بھی ویسے ہی دیں گے جیسے ان کا کام ہوگا اس لیے زیادہ تر لوگ اپوورک کو پسند کیا جاتا ہے تاکہ اچھے کام کی اجرت بھی اچھی مل سکے۔ فری لانسنگ پاکستان میں رات کے وقت کی جاتی ہے رات کے وقت اس لئے کی جاتی ہے کیونکہ امریکہ اور دیگر ممالک میں اس وقت صبح ہوتی ہے کیونکہ ہمارے کلائنٹ امریکہ اور دیگر ممالک سے ہوتے ہیں اس لیے پاکستانی فری لانسر رات کو جاگ کر اپنا کام بھی کرتا ہے اور کام کو مکمل کرکے اپنے کلائنٹ کو بھی بھیجتا ہے اس طرح سے دونوں طرف ترازو برابر رہتا ہے، آج کے دور میں پاکستان میں سب سے زیادہ طالب علم فری لانسرز ہیں کیونکہ وہ پڑھائی بھی کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کوئی کام بھی کرنا چاہتے ہیں جس سے وہ اپنا اور گھر کا نظام چلا سکیں اس لیے ان کے لیے سب سے بہتر فری لانسنگ ہے، لیکن میں سب کو مشورہ دوں گا کہ سب سے پہلے کسی ایک سکلل میں مہارت حاصل کریں تو پھر فری لانسنگ مارکیٹ پلیس پرائی تاکہ جب وہ اپنی سروس بیچیں تو اپنی فیلڈ میں ایک بہترین فری لانسر ہو، اور کوشش کریں پہلے ایک دو فری کام کریں اپنے ملک کے لوگوں کے لئے تاکہ آپ کے پاس آنے والے کلائنٹ کو دکھانے کے لئے آپ کا پچھلا کام ہو جس سے وہ آپ کو بلا جھجک اپنا کام سونپ سکے، فری لانسنگ ایک غلطی بہت سے لوگ کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ فری لانسنگ میں کامیاب نہیں ہو پاتے اپنا کام وقت پر اپنے کلائنٹ کو دیں تاکہ وہ اگلی بار بھی آپ سے کام کروائے اور اپنے دوست و احباب کو بھی آپ کے بارے میں بتائیں تاکہ آپ کاروبار وسیع ہو اور فری لانسنگ سے آپ کو فائدہ یہ ہوگا کیا آپ گھر بیٹھے کاروبار چلا سکیں گے جب چاہیں جہاں چاہیں اپنی مرضی سے جا سکیں گے

  • خود ترسی   تحریر:حُسنِ قدرت

    خود ترسی تحریر:حُسنِ قدرت

    خود ترسی ایک نفسیاتی بیماری ہے اس میں مبتلا انسان ہر وقت چاہتا ہے کہ وہ اپنے دکھڑے دوسروں کو سناتا رہے اور دوسرے لوگ اسے دلاسے دیتے رہیں
    اب میں آپ لوگوں کو یہ بتاؤں گی کہ
    *کس طرح کے لوگ اس طرح کی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں؟*
    1_کمزور ذہنیت والے لوگ: کمزور ذہنیت والے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو ذہن پہ سوار کر لیتے ہیں اور جب کوئی بڑی پریشان آتی ہے تو وہ انہیں لگتا ہے کہ دکھ کا پہاڑ ہے وہ چاہتے ہیں کوئی ہو جو مسلسل انکا دل بہلائے تاکہ انہیں ذہنی سکون ملے
    2_کمزور شخصیت والے لوگ: کمزور شخصیت والے لوگ اپنی ویلیو کو دیکھتے ہوئے ٹوٹ جاتے ہیں انہیں شدید ترین بے قدری کا احساس ہوتا ہے اور وہ خود ترسی میں مبتلا ہو جاتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ وہ ہر ایک کو درد و غم سنائیں اور آنے والا ہر بندہ انہیں دلاسہ دے
    3_ایسے لوگ جو کئی سالوں سے دکھ برداشت کر کر کے تھک گئے ہوں: جو لوگ کئی سالوں سے دکھ برداشت کر رہے ہوتے ہیں وہ انکے بوجھ سے تھک کر ٹوٹ جاتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ہو جو انکی اذیت سہنے کی صلاحیت کی داد دے
    *کون لوگ خود ترسی کا شکار نہیں ہوتے؟*
    •-ایک مضبوط ذہنیت کا انسان جب پریشانی یا مشکل حالات سے گزرتا ہے تو وہ اپنی دل لگی کا کوئی اور سامان یعنی مصروفیت تلاش کرتا ہے جس سے وہ اپنی پریشانی سے کچھ دیر کے لیے پیچھا چھڑا سکتا ہے جیسا کہ کتاب پڑھنا یا کوئی کھیل وغیرہ
    •- مضبوط شخصیت کا انسان اپنی ویلیو دیکھتا ہے اور اسکے بعد یہ فیصلہ کرتا ہے کچھ بھی ہو جائے وہ پریشانی کو اتنا بڑا نہیں ہونے دے گا کہ وہ اسکے سر چڑھ کر بولے اس سے بچنے کے لیے وہ کوئی اچھا مشغلہ اختیار کرتا ہے جیسا کہ باغبانی ،پرسنیلٹی ڈیویلپمنٹ کے نئے آئیڈیاز اور کتابیں وغیرہ پڑھنا
    •-اگر مضبوط ذہنیت و شخصیت کا انسان دکھ سہہ سہہ کے تھک بھی جاتا ہے تو وہ اس پریشانی یا تکلیف سے سمجھوتا کر لیتا ہے اور اسے بھی دوست سمجھ کے ساتھ رکھتا ہے اور اس سے تقویت حاصل کرتا ہے کہ میں اس سے زیادہ مضبوط ہوں اور میں نے آگے لازمی بڑھنا ہے

    Twitter:@HusnHere

  • عورتوں میں عدم برداشت   تحریر:فراز حیدر چشتی

    عورتوں میں عدم برداشت تحریر:فراز حیدر چشتی

    آج کل زیادہ تر حضرات صرف عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کے دور حاضر کے حساب سے ہمیں مردوں کے حقوق کا بھی تحفظ کرنا ہوگا اور ہر فورم پے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے میں تو کہتا ہوں کہ مردوں کے حقوق کے لیے پاکستان کے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرنا چاہیے پر اس کے برعکس سیاست دان تو دور دنیا کے بیشتر صحافی کالم نگار ادیب خواتین کے خلاف لکھنے سے قبل ہزار بار سوچتے ہے
    دور جاہلیت کے وقتوں کی بات ہے جب مرد حضرات عورتوں پر تشدد کرتے تھے عورتوں کے حقوق پورے نہیں کرتے تھے محض بیٹیاں پیدا کرنے پہ ہی طلاق دے دیتے تھے تشدد کا نشانہ بناتے تھے حقوق پورے نہیں کرتے تھے لیکن آج کا زمانہ تبدیل ہو چکا ہے آج کل مرد حضرات پے عورتیں مظالم کرتی ہے ذہنی و جسمانی طور پر شدید ٹارچر کیا جاتا ہے مردوں کے ذرائع آمدن سے زیادہ اور مہنگے مہنگے برانڈز کی فرمائشیں کرتی ہیں عورتوں میں احساس تقریباً ختم ہو چکا ہے جس کے چلتے نوبت طلاق تک چلی جاتی ہے اس بات کا اندازہ آپ ایک رپورٹ سے لگائیں کے صرف کراچی میں 2019 کی رپورٹ کے مطابق 11 ہزار 143 کیسز دائر کروائے گئے ہیں طلاق کے لیے یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یہ تو صرف کراچی کی رپورٹ ہے پاکستان کے باقی تمام شہر کی عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے آج کل طلاق کی زیادہ تر منگ عورتوں کی طرف سے رکھی جاتی ہے عدالتوں میں بیشتر لڑکیاں طلاق کا مطالبہ کرتی ہیں ابھی چند روز قبل کی ہی بات ہے کہ میرے ایک دوست کی ایک بیٹی ہے سارا دن موبائل پے لگی رہتی ہے اپنے خاوند کے حقوق کا ذرا خیال نہیں رکھتی آئے روز ان کا جھگڑا ہوتا رہتا تھا موبائل کی وجہ سے تو تنگ آ کر اس کے خاوند نے کہا کہ يا یہ موبائل رکھ لو یا مجھے رکھ لو اس کی بیوی نے جواب دیا کے میں طلاق لے سکتی ہوں لیکن موبائل کو نہیں چھوڑ سکتی یہ ہے آج کی بیشتر لڑکیوں کا حال میری اپنی ماؤں بہنوں سے التماس ہے کہ سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے اندر عدم برداشت لانا ہوگا اور بڑھتے ہوئے طلاق کے رجحان کو روکنا ہوگا گا اور مرد حضرات سے التماس ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی کرم االلہ وجہہ الکریم کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عورتوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا کیونکہ عورتوں کے حقوق کے سب سے بڑے علمبردار ہمارے نبی پاک ہیں معاشرہ روز بروز اپنی تباہی کی طرف گامزن ہے مردوں اور عورتوں کو اپنی بے جا خواہشات کو علیحدہ رکھتے ہوئے دین اسلام کی بہترین تعلیمات کو اپنانا ہوگا اسی میں کامیابی ہے

  • افغانستان کے حالات کشیدہ کیوں؟ تحریر : ارشد محمود

    افغانستان کے حالات کشیدہ کیوں؟ تحریر : ارشد محمود

    افغانستان میں حالات کشیدہ سے کشیدہ ہوتے جارہے ہیں ۔ طالبان کا کنٹرول مضبوط سے مضبوط ہورہا ہے ۔ افغان حکومت امریکا و دیگر ریاستوں کی مدد و حمایت حاصل ہونے کے باوجود بےبس دکھائی دے رہی ہے ۔ طالبان اپنے پاؤں جماتے آگے بڑھ رہے ہیں اور افغان صدر بیانات داغ کر اپنا پلو جاڑ رہے ہیں۔ طالبان کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ انھوں نے عین عیدالاضحٰی کی نماز کے وقت صدارتی محل ہے قریب راکٹ فائر کردئیے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان افغان حکومتی کارندوں کے کس قدر قریب ہیں ۔ اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان میں کوئی بھی حکومت اس وقت تک کام یاب نہیں ہوسکتی جب تک طالبان اسے کام یاب نہ کریں۔ جب راکٹ حملے ہوئے اس وقت افغان صدر اشرف غنی، نائب صدر امراللہ صالح اور افغانستان کی اعلیٰ مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ سمیت کئی اہم عہدیدار صدارتی محل میں نماز عید ادا کررہے تھے۔ راکٹ حملے کے بعد خوف و ہراس کا پھیلنا لازمی بات تھی ۔ افغان صدر نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ طالبان نے ظاہر کردیا ہے کہ وہ امن کی خواہش نہیں رکھتے ۔ اب اسی بنیاد پر فیصلے کریں گے۔ ملک میں ملیشیا بنانے اور آمریت کی کوئی جگہ نہیں۔

    افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ افغان عوام کو ابھی سکون میسر ہونے میں شاید مزید 10 سال کا عرصہ لگ جائے ۔ افغان حکومت طالبان کے آگے بے بس ہوکر جو اندرون خانہ دوسرے ممالک کے ساتھ ساز باز کررہی ہے وہ طالبان کو مزید اشتعال دلا رہی ہے ۔ بھارت سے سازباز کرنے میں جہاں افغان حکومت کافی حد تک آگے جانے کی کوشش میں ہے وہی پر بھارت طالبان سے ڈر کر محتاط ہوچکا ہے ۔ پاکستان کو گھیرنے کی بھارتی خواہش مٹی تلے دفن ہوچکی ہے کیوں کہ افغانستان میں طالبان کا مستحکم ہونا بھارتی خوابوں کو ملیامیٹ کرنے کے لیے نہ صرف کافی ہے بلکہ وہ بھارت کے لیے سردرد بھی ہے ۔ بھارتی اربوں روپے کی سرمایہ کاری طالبان کے قبضے میں جارہی ہے اور بھارت کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے ۔ طالبان کی نظر شاید اب بھارتی مقبوضہ علاقہ جات کی طرف بھی مبذول ہوجائے کہ بھارت نے ایک طرح سے طالبان سے ٹکر لینے کی کوشش کی ہے ۔ پاکستان اس وقت اپنے بہ ترین خارجہ پالیسی پتے کھیل رہا ہے ۔ موجودہ حکومت اگر ایک اور بار اپنی حکومت بنانے میں کام یاب ہوجاتی ہے تو شاید پاکستان صحیح معنوں میں ایشین ٹائیگر بن کر ابھرے

  • آزاد کشمیر میں پاکستان جیتا  تحریر ۔ مدثر محمود

    آزاد کشمیر میں پاکستان جیتا تحریر ۔ مدثر محمود

    میری نظر میں آزاد کشمیر کا الیکشن اور پھر بھرپور کشمیری بھائیوں کی شرکت کرنا پوری دُنیا کے لیے پیغام ہے کہ ہم پاکستان کی ریاست سے خوش ہے اور اسکے ساتھ چلنے کا عزم رکھتے ہیں اور یہ ہی پاکستان کی جہت ہے ۔

    جبکہ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر جو انڈیا نے دھونس طاقت سے قبضہ میں کیا ہوا ہے وہاں کی سیاسی جماعتیں ہر الیکشن بائیکاٹ کردیتی ہے اسکی وجہ کہ وہاں آزادی سے الیکشن نہیں ہوتا وہاں بھارت اپنی کٹپتلی حکومت نامزد کردیتا ہے تاکہ وہ قبضہ جاری رکھ سکے۔

    مجھے اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ کون الیکشن جیتے گا آزاد کشمیر سے مجھے مریم نوازشریف ، بلاول بھٹو وزیراعظم عمران خان کے منعقد جلسوں سے غرض تھی کہ کشمیری عوام گھروں سے باہر نکل کر سنتی ہے تقریر یا پھر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی طرح نریندر مودی کا جس طرح وہ بائیکاٹ کرتے یہ تو نہیں کرتے لیکن پوری دُنیا نے دیکھا کہ آزاد کشمیر کی عوام نے پاکستان کی ساری سیاسی جماعتوں کو ویلکم کیا بلکہ جب میں یہ آرٹیکل لکھ رہا ہو تو نتائج آنے کا سلسلہ چل پڑا ہے جو دیکھتے ہوئے خوش ہوا کہ ووٹ بھی دیے۔

    اب میرا تمام عالمی دُنیا سے مطالبہ ہے کہ کب تک آنکھیں بند کرکے کشمیری مسلمانوں پر ظلم ہوتا دیکھتے رہینگے آگے بڑھے اور جموں کشمیر میں عوام سے استصواب رائے عامہ لیکر اس مسئلے کا حل نکالیں تاکہ ایشیا میں سکون ہوسکے ہم جنگی اشیاء کو اکٹھا کرنا چھوڑ غربت کو ختم کرنے کے بارے سوچیں۔

    @Mudsr_Ch