Baaghi TV

Category: بلاگ

  • امت مسلمہ کی حالت زار  تحریر: تماضر خنساء

    امت مسلمہ کی حالت زار تحریر: تماضر خنساء

    آج امت زبوحالی کا شکار ہے ۔نبی آخر الزمان ص جس
    امت کو ایک تسبیح کے دانے میں پروگئے وہ ٹوٹ چکی ہے اور امت ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے ۔جہاں نظر اٹھاؤ تو مسلمان مشکل میں ہیں ،کہیں کفار کی درپردہ چال بازیاں ہیں تو کہیں کفار کھلم کھلا غاصب ہے ۔یہ جنگ تو ازل سے ابد تک جاری رہے گی بدی اور نیکی کی جنگ کفار اور مسلمان کی جنگ!
    اللہ کے نبی نے تو ہمیں واضح بتادیا کہ امت تو ایک جسد واحد ہے کہ ایک عضو تکلیف میں ہو تو دوسرا
    عضو بھی سکون نہیں لے پاتا ۔

    حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا سب مسلمان ایک جسم واحد کی طرح ہیں۔ اگر اس کی آنکھ دُکھے تو اس کا سارا جسم دُکھ محسوس کرتا ہے اور اسی طرح اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بھی سارا جسم تکلیف میں شریک ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم)

    مگر یہ امت کیسی امت ہے کہ جسکا ایک عضو تکلیف میں ہے اور باقی سب خاموش تماشائ ہیں، ہر ایک مصلحت کے تحت خاموش ہے، مسلمان مسلمان کی تکلیف نہیں سمجھتا آخر یہ کیسی بے حسی ہے جو اس امت پہ طاری کردی گئ ہے ۔

    حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ ﷲ کے رسول صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے تعلق ایک مضبوط عمارت کا سا ہے اس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپؐ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھایا کہ مسلمانوں کو اس طرح باہم وابستہ اور پیوستہ ہونا چاہیے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

    لیکن آج یہ امت ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے ،مسلمان اپنے مسلمان بھائ کا دشمن ہے، یہود و نصاری کو اپنا دوست سمجھتے ہیں
    ایک طرف امت کا دھڑکتا دل! فلسطین انبیائے کرام کی سرزمین ،وہی سرزمین جو واقعہ معراج کی شاہد ہے لہو لہان ہے، غاصب مسلط ہیں، مگر باقی دنیا کے مسلمان پھر بھی مست ہیں اس دنیا کی زندگی میں کھوئے پڑے ہیں ۔جانتے نہیں کہ یہ بے حسی اس امت کو اپاہج کرسکتی ہے اور اپاہج بھلا کسی سے اپنا حق بھی لے پایا ہے کبھی؟
    فلسطین سے نظر پھیر بھی لو توامت کا بازو کشمیرہے جہاں ،نہ جانے کتنے سالوں سے ظلم کا بازار گرم ہے کرفیو لگادیا جاتا ہے، ماؤں بیٹیوں کی عصمتیں تار تار کردی جاتی ہیں دن دھاڑے اس امت کے بیٹے چھین لیے جاتے ہیں، مگر ہم! ہم تو سکون سے ہیں تو ہمیں کیا غرض کہ فلسطین اور کشمیر کس کرب میں ہیں! ہمیں کیا غرض کہ ایغور کے مسلمانوں پہ کیا بیت رہی ہے! ہم تو بس اپنی زندگی میں مست ہیں فلسطین اور کشمیر کو منظر نامے سے ہٹا کر ہی دیکھ لیں تو مسلم ایٹمی قوت پاکستان ہے، جس سے ہر مسلم ملک کو امیدیں ہیں کہ کوئ محمد بن قاسم آئے گاکوئ عمر بن خطاب پیدا ہوگا مگر یہاں تو مراثی ہیں یا اداکار! جو اس زندگی کو فلم کی طرح جییے جارہے ہیں، طاقت ہوتے ہوئے بھی بے بس ہیں یہ کیسی بے بسی ہے جو ہمارے ہاتھ باندھے ہوئے ہے اور زبانیں خاموش ہیں!
    مان لو پھر کہ ایٹمی قوت پاکستان سے زیادہ بہتر وہ لہو لہو سرزمین فلسطین ہے جہاں ظلم کے خلاف مزاحمت ہے جہاں سچ اور حق کی آواز کڑے وقت میں بھی باطل کے سر پر تازیانہ بن کر پڑتی ہے ۔جہاں کم از کم لب تو بولنے کیلیے آزاد ہیں ۔۔۔ہم تو آزادی کے نام پر غلام بنالیے گئے ہیں ذات پات رنگ و نسل ماڈرنزم کے غلام! ہمیں آزادی کا بہلاوا دے کر قید کردیا گیا ہے ۔۔
    ایک ایٹمی قوت کے ہوتے بھی امت کسمپرسی کاشکار ہے ۔۔ آخر اس زبوحالی کی وجہ کیا ہے؟
    بس یہی کہ امت تفرقے میں بٹ گئ ہے، وہ رسی تو چھوٹ ہی گئ جس میں اس امت کی کامیابی کی ضمانت پوشیدہ تھی،

    وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ

    اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو (القرآن)

    محمد مصطفی تو سکھا گئے کہ تفرقے میں نہ پڑنا ورنہ جھاگ کی طرح کی حیثیت میں رہ جاؤگے سمندر ہو کر بھی طوفان نہیں بن سکوگے .
    مگر ہم تفرقے میں بٹ گئے، امت بکھر گئ آج مسلمان تو ہیں مگر انکا وہ دبدہ نہیں رہا، کوئ شیعہ ہے تو کوئ سنی ،کوئ وہابی تو کوئ اہل حدیث ہے ،
    کہیں نسلی و علاقائ تعصب کی آگ ہے جس میں
    اپنا ہی اپنے کو دھکیل رہا ہے، ہر ایک خود کو دوسرے سے افضل سمجھتا ہے اور اس جنگ میں اپنوں کا ہی خون کیے جاتے ہیں.،جانتے نہیں کہ چاہے شیعہ ہو یا سنی، وہابی ہو یا دیوبندی کفار کیلیے سب مسلمان ہیں سب انکے دشمن ہیں۔جو چیز آج ہمیں اپنانی تھی وہ کفار آزماتے ہیں اور ہم ماڈرنزم اور مغرب کے پیچھے بھاگتے ہوئے ذہنی غلام ہیں۔
    ۔کسی کو انگریزی بولتا دیکھ کر مرعوب ہوجانے والے یہاں ایک عالم سے زیادہ عزت ایک مراثی کو دی جاتی ہے جہاں پڑھ لکھ کر آگے بڑھنے والا تو بے روزگار ہے مگر رشوت خور مزے میں ہے، جہاں ایماندار کو پاگل کہا جاتا ہے اور بے ایمان کو بولڈ سمجھا جاتا ہے ۔۔۔بے حیائ کی مانگ ہے اور حیادار کیلیے زندگی مشکل، ایسی غلامی کی زندگی جی رہے ہیں ہم!

    مگر یہ غلامی ہماری چنی ہوئ ہے ہم آزاد ہو کر بھی غلام ہیں تسلط آج بھی مغربی ذہنیت کو حاصل ہے! بٹی ہوئ امت آخر زوال کا شکار کیونکر نہ ہوگی ؟ ذرا سوچیے کہ آخر کب تک اس بے حسی کی چادر کو تھامے ہم خواب خرگوش کے مزے لیتے رہیں گے محض ایسی دنیا کیلیے جو فانی ہے!
    آخر روز آخرت ہم اپنے ہادی ص سے نظریں کیسے ملا پائیں گے ہمیں تو وہ امتی بننا تھا کہ جس امت کیلیے وہ ہستی روز محشر بھی شفاعت کی طلبگار ہوگی کہ یا ربی میری امت یا اللہ مری امت! اور ہم اس قابل بھی نہ ہونگے؟ آخر تفرقے کی اور مغربی غلامی کی اس جنگ سے ہم کب باہر آئیں گے؟
    ہمیں بے حسی کی اس چادر کو اتار پھینکنا ہوگا اور ایک امت بننا ہوگا جس پہ نبی آخر الزمان فخر کرسکیں
    وگرنہ ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں!

    Twitter Handle:
    @timazer_K

  • ‏ہمارا بلوچستان . تحریر :  سید غازی علی زیدی

    ‏ہمارا بلوچستان . تحریر : سید غازی علی زیدی

    جیو سٹریٹیجک مقام، پاکستان کا دوام، وسطی ایشیا کا در، دشمنوں کیلئے ڈر، معدنی وسائل سے مالامال، یہی خصائص جان کا وبال، پاکستان کی جان ہمارا بلوچستان

    سکندر اعظم سے نادرشاہ تک اورمنگولوں سے انگریزوں تک، بلوچستان کی تاریخ قدیم بھی ہے اورجنگجویانہ بھی ممتازتاریخ دان ہرزفیلڈ کے مطابق لفظ بلوچ کے معنی "بلند چیخ” کے ہیں۔ جبکہ کچھ تاریخی کتب میں بلوچ کے معنی "اعلیٰ طاقتور” بیان کئے گئے ہیں۔ تہذیب وثقافت ہو یاطرز بودوباش، لباس ہو یا اقدار، بلوچوں کی روایات سب سے منفرد اور مختلف ہیں۔

    رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، سب سے زیادہ پسماندگی کا شکار ہے۔ بلوچستان، اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے، ہمیشہ سے اپنے اور پرائے کی آنکھوں میں یکساں کھٹکتا، دنیا کے حساس ترین خطوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خطہ ارض وسط ایشیا کا دروازہ بھی ہے اور گرم پانیوں تک رسائی کا ذریعہ بھی۔ طویل ساحل اور بیش بہا قدرتی وسائل کی بنیادپر ایشیا سے لیکر یورپ تک ہرعالمی طاقت نے اس پر تسلط کے خواب دیکھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کبھی گریٹر بلوچستان تو کبھی آزاد بلوچستان کے نام پر عالمی طاقتیں اس کو اپنے زیر نگیں لانا چاہتی ہیں۔

    گوادر پورٹ ہو یا چائنا پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ؛ بلوچستان، جہاں ایک طرف غیر ملکی سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کی توجہ کا مرکز بن چکا وہیں پر امن و امان اور روشن مستقبل کو سبوتاژ کرنے کیلئےدہشتگرد اورعلیحدگی پسند قوتوں کی جارحیت کا بھی مسلسل نشانہ بنا رہاہے۔

    لیکن اب موجودہ حالات میں بلوچستان تاریخ کے اہم ترین موڑ پرکھڑا ہے۔ دشمنوں اپنے ناپاک عزائم سمیت پورے طور پرآشکارہوچکےہیں۔ کبھی کلبھوشن یادیو کی صورت میں ازلی دشمن کا مہرہ اپنی چالوں سے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی ناکام کوششیں کرتا تو کبھی بظاہر دوست بنے آستین کے سانپ فرقہ ورانہ فسادات کی آڑ میں امن و سکون کی دھجیاں بکھیر دیتے۔ لیکن شاید وہ اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ بلوچ سر کٹ تو سکتا مگر جھک نہیں سکتا۔

    فی الوقت بلوچستان دو مختلف ادوار سے ایک ساتھ گزر رہا ایک طرف جا بہ جا بکھرے، چشم انسانی سے پوشیدہ، جلوے بکھیرتے قدرتی نظارے: اسرار میں ڈوبی جھیلیں، رنگ رنگ کے پہاڑ، بیش قیمت پتھروجواہرات، رسیلے تازہ پھل، دل موہ لیتی آبشاریں، گنگناتے چشمے، جھھومتے جھرنے ہیں، جبکہ دوسری طرف پسماندگی، غربت، جہالت، بےروزگاری،احساس محرومی، ناکافی ترقیاتی سرمایہ کاری، قبیلوں و قومیتوں میں بٹے، نسلوں سے نوابوں اور سرداروں کی غلامی کرتے بلوچ عوام، اور اندرونی و بیرونی ریشہ دوانیوں کا شکار معصوم جوان۔ وسائل اور مسائل کے درمیان حائل گہری خلیج نے برسوں سے اس خطے کو شرپسندوں کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔
    بلاشبہ ماضی میں یہ صوبہ غیر مربوط منصوبہ بندی اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بدحالی اور پسماندگی کا شکار رہا ہے۔ ماضی کی حکومتوں کے بلوچستان کیطرف معاندانہ رویے بھی بلوچ جوانوں میں بغاوت کی ایک بہت بڑی وجہ بنے ہیں حکومت اور عوام کا ٹکراؤ ہمیشہ غیر ضروری پیچیدگیوں کو جنم دیتا۔ نظریاتی سوچ کا چورن بیچتے قوم پرست سردار، غیر ملکی قوتوں کی پشت پناہی سے، چند نوجوانوں کو ورغلا کر اپنی ہی ریاست کیخلاف علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہیں۔

    اس حقیقت کو فراموش کئے کہ غدار کی نہ تو کوئی عزت ہوتی نا وقار۔ بھٹکے ہوئے بلوچ نوجوان نواب، میر، سردار کے گرد گھومتی سیاست کی بھول بھلیوں میں بھٹک کر رہ گئے ہیں۔ تاریخی دوراہے پر کھڑا پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ترقی کی دہلیز پر ہے۔ خوشحال بلوچستان کا صدیوں پرانا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کو ہے۔ لیکن یہ تعمیر و ترقی دشمنان وطن کو کیسے ہضم ہوسکتی؟ مشرقی بارڈر سے لیکر مغربی بارڈر تک، دشمن حسد و جلن کی آگ میں جل رہے اور ان کی پوری کوشش کہ اس آگ کی لپٹیں خاکم بدہن بلوچستان کو جلا کر راکھ کر دیں۔ لیکن انشاء اللہ العزیز وہ اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے کیونکہ دشمن کے راستے کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار وہ غیور بلوچ سردار و جوان ہیں جن کا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے جو مر تو سکتے مگر مادر وطن سے غداری کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ رہی بات باقی صوبوں کے عوام کی تو وہ بخوبی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ بلوچستان کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے۔ غیرت مند بلوچ نہ تو کبھی پاکستان کا دشمن ہو سکتا نہ کبھی دشمن کا آلہ کار بن سکتا۔

    بقول اقبال
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
    پاکستان زندہ باد

    @once_says

  • جدیدیت یا عریانی . تحریر : ہادی سرور

    جدیدیت یا عریانی . تحریر : ہادی سرور

    جیسے جیسے ہم ترقی کرتے جا رہے ہیں اور سائنس نئی نئی ایجادات کرتی جا رہی ہے ویسے ویسے ہم دینِ اسلام اور رسول اللہﷺ کی تعلیمات کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ہمارے ایمان کمزور ہوتے جا رہے ہیں ۔آج کل کچھ لوگ موڈرنزم یعنی جدیدیت کا ٹھپہ لگوا کر کہتے ہیں ہماری سوچ تو ایڈوانس ہے ہم اکیسویں صدی کے لوگ ہیں جو چاہیں کریں ۔ان لوگوں کو میں بتا دینا چاہتی ہوں یہ جدیدیت نہیں ہے یہ بغیرتی ہے۔ جس میں آج کل کے مسلمان دینِ اسلام کو بھول کر یہودی و أنصاریٰ کے نقشے قدم پر چلنا شروع ہوگے ہیں۔
    جس میں پردہ والی خواتین, داڑھی والے مرد اور سنت نبویﷺ پر چلنے والے مسلمان مرد و خواتین کو پتھر کے زمانے کا کہا جاتا ہے ۔جبکہ اگر کوئی لڑکی یا مرد آدھے کپڑے پہن لے یا مرد خواتین اور خواتین مرد کے کپڑے پہن لیں تو اس کو فیشن ایبل کہا جاتا ہے اس کی واہ واہ کی جاتی ہے ۔ایک ناچنے والے کنجر مرد و خواتین کو مختلف ٹیلی ویژن پروگرامز میں بلا کر ان کی تعریفوں کے امبار لگاۓ جاتے ہیں۔ لیکن ایک حافظ قران ایک عالم کو کبھی مدعو کر کے حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ ان کے خیال میں ٹیلی ویژن میں معذرت کے ساس بہو سسر ،بھابی دیور کے افیئرز تو دیکھاۓ جاتے ہیں لیکن یہ کبھی نہیں دیکھایا جاتا کہ ہمارا دین اسلام گھریلو نظام پر کیا تعلیمات دیتا ہے ۔ آج کل کی کچھ نام نہاد عورتوں کو آزادی چاہیے آزادی کس سے چاہیے مذہب سے چاہیے یا بھائی شوہر باپ خاوند سے! عورت کو اسلام سے بڑھ کر عزت اور آزادی اور کون دے گا جس اسلام سے پہلے جب بیٹی پیدا ہوا کرتی تھی تو عورت کو زندہ دفن کر دیا جاتا اسی اسلام نے عورت کو عزت دی زندگی بخشی اور عورت کو اللّٰہ کی رحمت کہا۔

    اب بات کی جاۓ عورت کے حقوق کی تو عورت اور مرد گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں ۔ایک عورت کا حق ہے اس کا شوہر اس کا مکمل خیال رکھے اس بنیادی ضروریات اوراسکی خوشی اور پریشانی میں اس کا ساتھ دے۔ اگر ایک مرد اپنی بیوی کے ساتھ اس کا ہاتھ بٹاتا ہے تو اس میں شرم کی کوئی بات نہیں رسول اللّٰہ ﷺ بھی اپنی ازواج مطہرات ؓ کے ساتھ گھر کے کام کاج کروایا کرتے تھے۔ یہ بیغیرتی نہیں تو اور کیا جب میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگتے ہیں ان کو کوئی چیلنج کرنے والا نہیں ہوتا۔ سرِعام خواتین کچھ طلاق یافتہ عورتین خاندانی نظام کی دھجیاں اڑاتی پھرتی ہیں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا جو جسم جو جان ہمارے پاس اللّٰہ تعالی کی امانت ہے ہم ایک ایک سانس تک اللّٰہ تعالی کے مہتاج ہیں اس پر ہماری مرضی کیسے ہو سکتی ہے ۔قران و حدیث میں زندگی گزارنے کے تمام اصول و ضوابط اور مکمل رہنمائی موجود ہے لیکن افسوس ہمارے قران تو الماریوں میں پڑے پڑے ان پر دھول اور مٹی چڑھ چکی ہے ہم کو یاد نہیں کہ آخری مرتبہ ہم نے قران پاک کو کب ترجمہ کے ساتھ پڑھا تھا۔

    آج کل الیکٹرانک میڈیا پر صرف فحاشی دیکھائی جاتی نوجوان نسل کے زہنوں کو گندہ اور زنگ آلود کیا جارہا ہے ۔ایسے ڈرامے بناۓ جا رہے ہیں جو ایک عزت دار بندہ خاندان کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتا ۔ اب تو اتنی بیغیرتی بڑھ گئی کے دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہم پستی کی کس انتہا کو پہنچ گے ہیں کہ یورپ کی طرح اب یہاں بھی مرد کی مرد کے ساتھ شادی کی باتیں ہونے لگی ۔مطلب کہاں گیا ہمارا اسلامی جمہوریہ پاکستان کیا ان کو کوئی روکنے والا نہیں ! کیا ان پر کوئی کاروائی نہیں کر سکتا ! کیا کوئی اسلامی قانون چلے گا ہمارے ملک میں !

    آج کل بہت سے ممالک اَن گنت ڈالر صرف اس پر خرچ رہے ہیں کہ ایک مسلمان لڑکی اپنا پردہ اتار دے نقاب نا پہنے آج کل مختلف کیمپئن کے نام پر پردہ کے خلاف پروپیگینڈہ کیا جاتا ہے میں یہاں اپنی بہنوں کو بتا دینا چاہتی ہوں آپ کی عزت نقاب اور پردہ میں ہے۔ جب دنیا کی سب سے عزت دار عورت جو جنت میں عورت کی سردار ہیں حضرت فاطمہ ؓ ان پر پردہ فرض تھا تو آپ اور میں کیا ان سے پاک دامن آگئی ہیں !! آج جب پردہ کی بات کی جاۓ تو جواز یہ پیش کیا جاتا ہے ہمارا زہن صاف ہے کیا آپ کا زہن حضرت فاطمہ ؓ سے صاف ہے ! کیا آپ ان سے بھی پاک ہیں ! اگر نہیں تو جب انہوں نے ساری زندگی پردے میں گزاری تو آپ اور میں کیوں نہیں !
    پرسوں ایک محترمہ نے کہا عید الضحی پر جانور قربان کرنے والے خواتین و حضرات کے علاوہ سب کو عید مبارک ۔۔میں اس محترمہ کو بتاتی چلوں آپ رکھیں اپنی مبارکباد اپنے پاس ہمیں تو قران سے یہ درس ملتا آپ کی عید الضحی اس وقت ہوگی جب آپ جانور قربان کریں گے ۔تو آپ نام نہاد کون ہوتی ہیں مسلمانوں اور عید الضحی پر تنقید اور طنز کرنے والی !
    جب کے ایف سی اور میکڈونلڈ روزانہ ملین کے حساب سے مرغیاں زبح کرتے ہیں اور آپ شوق سے کھاتی ہیں تب آپ جانوروں کے حقوق کےلیے کیوں نہیں بولتی ہیں ! جب سپین میں ایک تہوار میں لاکھوں بیلوں کو چھریوں سے کاٹ دیا جاتا ہے تب آپ کی جانوروں سے ہمدردی کہاں جاتی ہے !

    ایک اندازے کے مطابق برازیل نے صرف سال 2021 ایک اعشاریہ آٹھ ملین میٹرک ٹن جانور زبح کیے اسی طرح امریکہ اور انڈیا نے بھی ایک اعشاریہ چار ملین میٹرک ٹن جانور زبح کیے تب آپ کیوں نہیں بولی ! سب سے بڑھ کر جب فلسطین اور کشمیر میں انسانوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ۔ان کو جانوروں سے بھی درد ناک طریقے سے شہید کیا جاتا ہے آپ تب کیوں نہیں بولتی ہیں؟
    یہ جانوروں سے ہمدری آپ کو صرف عید الضحی پر یاد آتی ہے جب ان غریبوں اور مستحق افراد میں گوشت تقسم کیا جاتا ہے جو سارا سال گوشت کھانے کےلیے صرف عید الضحی کا انتظار کرتے ہیں ! میں تمام مسلمان خواتین بہن بھائیوں سے التجاء کروں گی قربانی کی ہڈیا ضائع نا کریں بلکہ اس جیسے جدت پسند بیغرتوں کو ڈالیں ۔

    آخرمیں میری جسم میری مرضی اور تمام ان جدت پسند اور اسلام کو بھول کر یورپ اور یہود و نصاریٰ کی پیروی کرنے والے مرد و خواتین کو بتا دوں کامیابی جدیدت میں نہیں بلکہ چودہ سو سال پیچھے جا کر ہم سب کے پیارے رسول اللّٰہ ﷺ کی تعلیمات ان کی سنت اور قران مجید کی پیروی کرنے سے آۓ گی ۔ اللّٰہ پاک سب کو ہدایت دے.

    @iitx_hadii

  • ہمارا نظام تعلیم ہمارا دشمن تحریر:  سیدہ ام حبیبہ

    ہمارا نظام تعلیم ہمارا دشمن تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم تعلیم و تعلم کی اہمیت و افادیت سے کسی طور انکار ممکن نہیں.کسی بھی ملک کا نظام تعلیم اور تدریسی مواد یہ طے کرتا ہے کہ اس ملک کے باشندوں کو کیا پڑھنا ہے اور کیوں پڑھنا ہے.
    کیا پڑھنا ہے اسکو کریکولم کہتے ہیں اور کیوں پڑھنا ہے اس کی بنیاد کسی بھی ملک کی نظریاتی اساس اور جغرافیائی خدوخال دیکھ کر طے کی جا سکتی ہے.
    وطن عزیز کا کریکولم بھی ماہرین تعلیم کی جانب سے نظریاتی بنیادوں اور جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر ڈیزائن کیا گیا.واضح طور پہ طے کیا جاتا ہے کس عمر کے افراد کو انکی ذہنی استعداد کے مطابق کیا پڑھایا جائے.
    مگر قربان جائیے اپنے تعلیمی نظام کے کہ کریکولم کے تحت تیار شدہ نصاب سالوں پرانا اور نئی نسل کے رحجانات سے. اس قدر غیر مسابقت رکھتا ہے کہ طلباء کی دلچسپی اور آمادگی تقریبا ناممکن ہو جاتی ہے.
    رہی سہی دشمنی ہمارے نظام امتحان نے نکال لی.
    اس امتحانی نظام نے تعلیم کو صرف نمبر حاصل کرنے کی حد تک ضروری رکھا.باقی رہے نام اللہ کا.
    کسی بھی کہانی کے نصاب میں ہونے کے مقاصد کو یکسر نظر انداز کر کے اس کہانی کے اہم حصوں اور سوالات کا رٹا لگوایا جاتا ہے.تاکہ نمبر اچھے آئیں.
    اس میں قصور بلاشبہ میرٹ سسٹم کا ہے کہ جتنے زیادہ نمبر اتنے ذیادہ اچھی نوکری کے چانس.
    اس دوڑ میں ایسی نسل پروان چڑھی ہے جسکو تعلیم و تربیت کی بجائے رٹا و نوکری کی خوراک سے پالا گیا ہے.تدریسی مقاصد کے ساتھ ہی اخلاقی تربیت تو گھاس چر ہی رہی ہے ساتھ ایک ناقابل تلافی نقصان یہ ہو رہا ہے کہ سب کے سب نوکریوں کے منتظر بیٹھے ہیں.
    نوکریاں بھی سرکاری.
    اب ایک ڈی اے ای ڈپلومہ ہولڈر
    دبئی کسی کمپنی میں گیٹ کیپر ہے تو اس میں قصور کس کا ہے؟
    اگر کوئی ماسٹرز ڈگری لے کر مستری ہے تو کس کا قصور ہے؟
    سراسر ہمارا تعلیمی نظام جس میں ہنر مند بنانے کی طرف کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ووکیشنل سنٹرز بنائے گئے لیکن انکا پریشان کن حال آئندہ کسی تحریر میں بیان کروں گی.
    قارئین اکرام کیا ہمیں شعبہ تعلیم میں ہماری نسلوں کے ساتھ ہمارے ساتھ کی گئی دشمنی کا حساب نہیں لینا چاہیے ہمیں تعلیمی انقلاب کے لیے کمر بستہ نہیں ہونا چاہیے.
    ہمیں اسوقت ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جس میں طلباء کے رحجانات و صلاحیتوں کے مطابق تدریس کے ساتھ انکو ہنر سکھایا جائے.وہ حصول تعلیم کے دوران ہی حصول رزق کے قابل ہو جائیں.
    سوٹ بوٹ پہنا کر روبوٹس بنانے کی بجائے جھاڑو پوچا کھانا بنانا سلائی دھلائی جیسے سب بنیادی امور سکھائے جائیں.
    اور جتنی سائنس کی تعلیم دی جائے اسکے پریکٹیکل کو لازمی بنایا جائے نہ کہ کاپیاں بنوا کر نمبر لگوا دیے جائیں.
    ہمارا کریکولم اور نصاب غلط نہیں ہمارا امتحانی اور تدریسی نظام نادرست ہے.

    امید ہے اس تحریر سے تحریک اٹھے گی
    ہمارا نام بھی انقلابیوں میں آئے گا

    @hsbuddy18

  • بیٹی  ایک خوبصورت احساس تحریر: صائمہ مسعود

    بیٹی ایک خوبصورت احساس تحریر: صائمہ مسعود

    جب کوئ عورت ماں بننے والی ہوتی تو انے والے نئے مہمان کے لئے تجسّس میں ہوتی کہ خدا کس نعمت سے نوازیں گےاور دل ہی دل میں خداسے دعا کرتے کہ جو بھی ہو بس مکمل صحت مند ہواور ساتھ خیریت کے ہو
    خاص کر جب وہ پہلی بار ماں بنتی۔اس پر سب کی نظر ہوتی اسکے ارام اور خوراک کا خاص خیال رکھا جاتا
    اور جوں جوں وقت قریب اتا جاتا وہ تجسس بڑھتا چلا جاتا اور بالآخر وہ دن اتا جب ایک نومولود دنیا میں وارد ہوتا اور عورت ایک تکلیف دہ عمل سے گزر کر ماں کے عظیم رتبے پر فائز ہوتی ۔بہت سے لوگوں کی اولاد کے لئے الگ الگ خواہش پوتی
    کہ بیٹا ہو ۔بیٹی ہو
    اور زیادہ تر لوگ بیٹے کی خواہش رکھتے
    لیکن بیٹی کی پیدائش پر بھی لوگ اتنے ہی خوش ہوتے
    اور اسکو خدا کی رحمت سمجھتے اور خوشی خوشی اسکا استقبال کرتے۔بیٹی اپنے وجود سے سب کو پیاری پوتی
    اور اج کل کے دور میں بیٹی بھی بیٹے کے جیسی اہم ہوتی ہے ۔بیٹی سے ماں لے ساتھ ساتھ باپ کو بھی پیاری ہوتی ہے اور دونوں کی نگاہ کا مرکز بن جاتی
    بیٹی اپنی خوبصورت باتوں سے سب کا دل موہ لیتی۔ماں بھی بیٹی کے لیے رنگ برنگے کپڑے بناتی اسکو سنوارتی
    اسلام سے قبل جب دنیا جہالت کے اندھیروں میں مست و غرق تھی اور عورت کو جانوروں کی سی حیثیت دی جاتی تھی
    کوئ بھی حق نہیں دیا جاتا تھا ہر طرح کا ظلم ڈھایا جاتا تھا
    بیٹیوں کو زندہ دفنایا جاتا تھا
    اور جب اسلام کا سورج دنیا پر ابھرا تو گویا انسانیت کی فلاح کا راستہ کھل گیا
    اور عورت کے حقوق کے حوالے سے زور دیا گیا اور انہیں برابری کا درجہ دیا
    بیٹی کی پیدائش کو رحمت کہا گیا اور انکی سچھی پرورش پر زور دیا گیا
    بیٹی ایک خوبصورت احساس کانام
    بیٹیاں جوں جوں بڑی ہوتی جاتی گھر کے امور میں ماں کا ہاتھ بٹاتی اور باپ کے لئے بھی نرم گوشہ رکھتیں
    اور پھر جب بیٹی کی تعلیم وتربیت کا وقت اتا تو وہ ماں باپ کو مایوس نہیں کرتیں اور معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل کرتیں۔شعبہ ہائے زندگی میں مرد کے شانہ بشانہ ہوتیں
    بیٹی کے وجود کا احساس تب زیادہ ہوتا جب اپ اسکی شادی کا سوچتے اور انے والے اچھے نصیب کی دعا کرتے اور انکو ہر طرح سے آسودہ رکھنے کی کوشش کرتے
    بیٹی کی پرورش ایک اہم جز ہے کسی بھی معاشرے اور گھرانے میں
    اور اج کل کے دور میں جسطرح سے نفسا نفسی ہے تو وہ بیٹی ہی ہوتی جو اپنے والدین کا سہارا بنتی اور انکو سنبھالتی سسرال سے اکر بھی اپنے ماں باپ کی دکھ درد کو بانٹتی
    بھت سی بیٹیاں گھروں سے باہر نکل کر اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کا فرض انجام دیتیں۔اور معاشرتی مسائل کو حل کرنےمیں بھی مدد گار ثابت ہوتیں
    بیٹی کی قدر کریں اور اسکی اچھی تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ اسکی خوراک پر بھی خصوصی توجہ دیں اور جدید دور کی اہمیت سے روشناس کروائیں

    @simsimsim1930

  • ایک عام آدمی کا پیغام اپنے حکمرانوں کے نام . تحریر : عام آدمی

    ایک عام آدمی کا پیغام اپنے حکمرانوں کے نام . تحریر : عام آدمی

    عام آدمی پریشان حال، گرمیوں کے سخت دن، گھر کے حالات، بجلی کی بندش، بچوں کی پڑھائی،بیٹیوں کی شادی، یہ بچوں کو نوکری نا ملنا، کہیں طرح کے مسائل میں گھرا ہوا، شیر کو بھی دیکھ چکا، تیر سے بھی زخم کھائے، مہاجروں نے جو امیدیں توڑی، نیا پاکستان کا خواب لیے چلا، لیکن کیا پایا؟؟

    وہی مسائل وہی پریشانیاں، وہی نظام، وہی عدالتوں کے دھکے، اب تو روز مرہ کی اشیاء سے بھی گیا، جمہوریت کا حسن دیکھ رہا ہے، مارشل لاء بھی آزماچکا، کہیں قومیں کہا سے کہا چلی گئی، اور ہم جہاں تھے وہاں سے بھی کہیں پیچھے، تنگ آ کر کوشش کرتا ملک چھوڑ کے کسی دوسرے ملک چلا جاؤں، پردیس چلا جاؤں، وہاں جا کے کماؤ کے گھر کا خرچ چل سکے، کیوں اُسے یہ سوچنا پڑتا؟ یہ سوال کا جواب ہم سب جانتے ہیں، ایسا نظام نہیں ہے کہ خوش خالی ہو، وہی بندے جو پہلے پچھلی حکومت میں تھے اب نئی حکومت میں آ جاتے، ہر ادارہ اپنے کام میں ناکام نظر آ رہا، سوائے چند ایک کے، کیا ہم کم تر انسان ہیں؟ یا ہم میں عقل کم ہے؟ یا یہ ملک صرف اشرافیہ کے لیے ہی ہے، لیکن کب تک؟

    حکومت جب اپوزیشن میں ہوتی ہے تو اُسے عام آدمی کے مسائل مہنگائی پریشانی دکھ سب نظر آ رہا ہوتا ہے لیکن جب وہی حکومت میں آتے ہیں تو سب غائب ہو جاتا ہے، خود بھی وہی کر رہے ہوتے ہیں جو گزر جانے والی حکومت کر رہی تھی، گزشتہ حکومت کو قصور ور ٹھہرا رہے ہوتے ہیں، لیکن ایسا کب تک چلے گا؟
    پھر وہی کام حکومت کر رہی ہوتی ہے جس پے پچھلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا تھا، کس پے یقین کرے؟ کون بدلے گا یہ نظام، کہیں مدینہ کی ریاست کی شنوائی، تو کہیں روشن پاکستان ، کہیں روٹی کپڑا مکان ،
    اِن میں سے کتنا ملا کتنا چھینا، یہ عام آدمی سے بہتر کوئی نہیں جانتا، تو پھر کیا کرے؟ ہر حکومتی نظام کو جو دیکھ چکا ہے، دن بھر دن حالت بہتر ہونے کے بجائے اُسے خراب نظر آ رہے ہیں، کس در پے جائے؟؟

    تقریباً ہرادارے میں بہتری کی گنجائش بہت زیادہ ہے، جب تک ادارے اپنا کام نہیں کرے گے ایمانداری کے ساتھ، نظام بہترنہیں ہوگا، کام لینا اداروں سے حکومت کا کام ہے، اور حکومت میں بیٹھے لوگ جب تک مخلص نہیں ہوں گے، کچھ بھی بدلے گا نہیں، ریلوے کا نظام، ماحولیات کا نظام، صفائی کا نظام، ٹرافک کا نظام، ارسال کا نظام، پانی کا محکمہ، بجلی, گیس کا محکمہ، سیکیورٹی، عدالتوں کا نظام، کاروبار کا نظام،تعلیم کا نظام، ہاؤسنگ سوسائٹی کا نظام، اس طرح سے ہر ادارہ کو اپڈیٹ کرنے کی ایمرجنسی ضرورت ہے،
    جب تک سوچ نہیں بدلے گی، سیاست کو حقیقی معنی میں خدمت نہیں سمجھا جائے گا، بلکے کاروبار سمجھا جّائے گا، اور افسر شاہی والا نظام نہیں بدلہ جائے گا، عام آدمی ہی پسے گا، سب سے کمزور طبقہ ہے، مہنگائی کا بوجھ ڈال کے ٹیکس وصول کر کے، اُسے دبا کے سب عیاشی کر تو رہے ہیں،؟ لیکن کب تک؟

    نہیں رہے گا یہ باغبان، جس کے مالی ہی پھولوں کے چور اور چہکتے پرندوں کے شکاری ہے، ایک دن تو اُن کی نسلیں بھی تباہ ہو گی، پر کہیں دیر نا ہو جائے عام آدمی کی پریشانی کہیں، ان کی نسلوں کو بھی تباہ نا کردے تو اس بات کو سمجھو اور سینسر ہو جاؤ خود کے ساتھ اپنی نسلوں کے ساتھ.

    @kazAli16

  • گہرے سمندر، صحرائے بنجر اور خطرناک جنگل کی سیر . تحریر : جواد خان یوسفزئی

    گہرے سمندر، صحرائے بنجر اور خطرناک جنگل کی سیر . تحریر : جواد خان یوسفزئی

    اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی زندگی بہت مشکل ہے تو آپ کے ٹو جتنی غلط فہمی کا شکارہیں۔ کبھی ان بیچاروں سے حال احوال پوچھیں جو ریسرچ کے رولر کوسٹرسے گزرکرآئے ہوں۔ آپ کو یقیناً کافی اشتیاق ہوگا کہ یہ سفرکیسا ہوتا ہے۔ تو کچھ سیر ہم آپ کو اس گہرے سمندر، صحرائے بنجر اورخطرناک جنگل کی کراتے ہیں۔

    اس سفر کا آغاز پڑھائی لگاتار اور مسلسل پڑھائی سے ہوتا ہے۔ یہ عمل آپ کو تین چار دن تک کرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ لیپ ٹاپ کی روشنی آنکھوں میں چبھنے لگے۔ اس بےشمار پڑھائی کے بعد آپ کا ٹاپک فائنل ہوجائے تو وہاں سے آپ کی خواری کی نہ رکنے والی اننگز کو آغاز ہوجاتا ہے۔
    بیس بیس اور کبھی اس سے زائذ صفحات کے آرٹیکلز پڑھ کر اس میں سے بس ایک لائن اٹھانی ہوسوچ سکتے ہیں کتنی اذیت ہوتی ہے؟ دنیا جہاں میں اگرکسی نے ریسرچ کے نام پرلطیفہ بھی لکھا ہو، اس تک پڑھنا لازم و ملزوم ہوتا ہے کہ کہیں اسکا لطیفہ ہم دوبارہ سے نہ لکھ دیں۔ اسکے بعد جب دن رات جاگ کر لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کر آپ کی آنکھیں دکھنے لگیں، آپ کی کمر آپ کو احساس دلائے کہ آپ بچپن سے سیدھے بڑھاپے اور وہ بھی شدید علیل بڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہیں۔ تب آپ کے دل میں بس ایک دعا ہوتی ہے کہ سپروائزر آپ کے بھاری بھرکم الفاط اور لکھنے کے انداز سے متاثر ہو جائیں۔

    لیکن جب آپ امیدوں کے پُلوں پر چل کر سپروائزر کے کمرے میں جائیں اور وہ بے نیازی سے پڑھ کر تیکھے چتنوں سے دیکھ کر یہ کہہ دیں کہ
    "کہاں سے کاپی کیا ہے؟ ”
    دل پرسیدھی، الٹی، تیز، زنگ آلود ہر طرح کی چھری پھرتی ہے۔ پُل ٹوٹ کر ڈھڑام سے گر جاتے ہیں اور پھر ہم لٹکے منہ کے ساتھ لٹکتے لٹکتے واپس آ جاتے ہیں۔ اور اگر کسی کو لگے کہ یہ مبالغہ آرائی ہے تو آپ ہم بیچاروں کی سوجی، کالے دائروں سے بھری آنکھیں دیکھ سکتے ہیں۔ جن میں بس غموں کے آنسو ہیں۔

    اگلا مرحلہ پھر ڈیٹا کلیکشن کا آتا ہے۔ اور آپ ریسرچ سٹوڈنٹ سے ایک دم فریادی بن جاتے ہیں۔ موبائل میں جتنے نمبر موجود ہوتے ہیں، سب کو منتوں بھرا میسج کرنا پڑتا ہے کہ خدارا سوالنامہ حل کر دو۔ اور یہ سن کر لوگ سمجھتے ہیں جیسے انکی جائیداد میں سے حصہ مانگ لیا ہو۔ یا پھر انکا امتحان لیا جا رہا ہو۔ ساتھ سیکالوجی کا نام پڑھ کر انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب ہمارے دماغ کے خیالات کو جانچا جائے گا۔ ارے نہیں بھئی! بس چند سوالوں پر ٹِک لگانے سے آپکی شخصیت کا جائزہ نہیں لے سکتے ہم۔ اور اگر فرض کریں کہ لینے کی کوشش بھی کریں تو دو تین سو لوگوں کا لیں گے؟ نہیں ہم پاگل ہیں؟ ہاں، آپ سمجھتے ہیں تو الگ بات ہے، لیکن ہیں تو نہیں نا!
    اور پاکستانی قوم ماشاء اللہ اتنی بےغرض ہے کہ آپ اگر کسی راہ چلتے شخص سے گردہ مانگ لیں تو وہ کبھی انکار نہ کرے۔ لیکن questionnaires کا سن کا یوں انکار بھاگ کر آتا ہے جیسے فِل کرنے پر جنگ چھڑ جاتی۔ پر خیر خدا کے چند ( دو اڑھائی سو) رحمدل بندے اور بندیاںسوالنامہ حل کرتے ہیں۔ کچھ آدھا چھوڑ دیتے ہیں، کچھ ایسے خوبصورت ڈیزائن بنا کر واپس کرتے ہیں جیسے آرٹ گیلری میں رکھنا ہو۔خیر اس مرحلے کو پار کرتے ہی آپ ایسے جزیرے پر قدم رکھتے ہیں جہاں کی بولی ” ون، ٹو، تھری، ون، نہیں!فور فور۔۔ ہوتی ہے۔ ” ہر جگہ سے یہی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ اس آئی لینڈ کا نام ڈیٹا انٹری ہوتا ہے۔ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھے، کھاتے ہوئے اور سوتے ہوئے بھی ” ون، ٹو، ون، ٹو ” چل رہا ہوتا ہے۔

    آگے کے مرحلے اس سے بھی زیادہ تلخ ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی دل کرتا ہے لیپ ٹاپ کو آگ لگا دیں، ڈگری چھوڑ دیں۔ بار بار ڈاکومنٹ سرخ ہو کر لوٹ آتا ہے جیسے سپروائزر کے پاس چیکنگ بجائے پولیس انسپکٹر کے پاس تفسیش کے لیے گیا ہو۔ یہ سفر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ آپ چلنے سے رینگنے اور پھر رینگنے سے خود کو گھسیٹنے پر آ جاتے ہیں۔ دماغ معافیاں مانگنے لگتا ہے، جسم دہائیاں دیتا ہے۔ زندگی واپس بلاتی ہے لیکن ہم دلدل ہم پھنس چکے ہوتے ہیں۔ گھر والے بھی کرایہ مانگنا شروع کر دیتے ہیں کہ بس کھانے اور سونے آنا ہے تو کرایہ دینا شروع کر دو۔ پھر جب viva کا دن آتا ہے۔ اس دن تو آپ حال نہ پوچھیں۔ گوگل اور کتابوں کے اندر سے سارا علم نچوڑ کر اپنے اندر منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جب ہم تفتیشی کمرے میں داخل ہونے لگتے ہیں تو جو ہمارے ساتھ ہوتا ہے،آپ سن کر غمِ دانش بھول جائیں گے۔ ہم اپنے چیرمئین کو دیکھ کر معصومیت سے کہتے ہیں
    ” میرا یہ بھرم تھا، میرے پاس تم ہو۔ ”
    اور وہ آگے سے کہہ دیں
    ” میں تم لوگوں کو نہیں جانتی! ”

    مطلب کیسے؟ سر ہم وہی ہیں جو آپکی راہ میں بھٹکتے رہے ہیں۔ انہی گلیوں میں پھرے ہیں ہم! آپ کیسے بھول سکتی ہیں؟
    لیکن یہ غم دل میں لیے ہم جب اندر جاتے ہیں تو علم کا سمندر ہمارے اندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے۔ ہم سینہ تان کر کھڑے ہوتے ہیں کہ مارو سوالات کے راکٹ لانچر ہم تیار ہیں۔ وہ سامنے بیٹھے ٹیچرز خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بس یہ پوچھتے ہیں کہ آپ نے اس ریسرچ سے کیا سیکھا؟ وہاں تو پھر سقراط اور اقبال کے جانشینوں کی طرح جواب دینے پڑتے ہیں۔
    لیکن جب گھر آ کر اس سوال پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ جو ہمیں خواری لگ رہی تھی، وہ تو ہماری تراش تھی۔ ہمیں جو رگڑا لگ رہا تھا، وہ تو ہمیں سنوارا جا رہا تھا۔ ہم نے اس ریسرچ سے صبر، محنت کے علاوہ ریسرچ کرنا اور ٹھیک انداز میں کرنا سیکھا۔ ہماری چھوٹی چھوٹی غلطیوں اور انکی اصلاح کی ہلکی ہلکی خراشوں نے ہمیں ہیرہ بنایا۔ چار ماہ میں جتنا غصہ آتا تھا، اب اتنا ہی فخر ہوتا ہے کہ ہمارے استاد ہمیں بیکار کوئلے سے چمکدار ہیرہ بنا دیا ہے۔ یہ سب ہمارے اپنے فائدے کے لیے تھا۔ سونے کو پگھلانے اور بہترین شکل میں ڈھالنے کے لیے تپش دینی پڑتی ہے۔ پر جو جلنے سے انکار کر دے، وہ عام دھات ہی رہتا ہے اور جو جلنے پر آمادہ ہو جائے، وہ کندن بن جانا ہے۔ ہم اپنے اساتذہ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمیں کندن بنایا۔ کامیابی کی سند پر یقیناً ہمارا نام ہو گا لیکن سند، ہمارے اساتذہ کے نام ہو گی۔

    ( وہ جو ہم نے بل گیٹس بننے کا سنہری موقع گنوایا ہے، وہ یقیناً ہمیں مستقبلِ قریب میں واپس ملنے والا ہے )

  • کرونا اور لاک ڈاؤن . تحریر : عزیز الحق

    کرونا اور لاک ڈاؤن . تحریر : عزیز الحق

    ساری دنیا کرونا وبا کی چوتھی لہر اور ساری دنیا کرونا وبا کی چوتھی لہر اور متعدد قسم کے بیماریوں کے لپیٹ میں ہے، بھارت سے نمودار ہونے والا ویرینٹ ڈیلٹا بہت ممالک کو اپنے شکنجے میں لے لیا ہے اور انسانی زندگیوں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے اب ہمارے پاکستان کے لئے بھی خطرہ بن سکتا ہے، 2019 میں یہ وبا ظاہر ہونے کے بعد 2020 میں یہ وبا کئی لاک ڈاؤن متعارف کرواچکے ہیں جیسے اسمارٹ لاک ڈاؤن، مائیکرو لاک ڈاؤن اور مکمل لاک ڈاؤن سے پہچانے جاتے ہیں، عید ہو یا کوئی اور تہوار، خوشی کی سبھی مواقع چھین لیا ہے، لوگ پریشان ہیں مزدور ہو یا بزنسمین کاروبار کو تھالے لگے ہوئے ہیں، کبھی کبار تو یہ بیماری اتنی شدید پھیلتی جا رہی ہیں کہ عوام میں ایک خوف پیدا ہوجاتا ہے وہ یہی سوچتا ہے کہ شاید یہ وباء اب ختم ہونے کا نام نہیں لے گا، لیکن ہمیں بحیثیت ایک قوم اس وباء سے لڑنے کی اشد ضرورت ہے اور ہر بندے کو اختیاطی تدابیر پہ عمل کرنا اپنی اور دوسری انسانوں کی جان بچانے میں پوری کردار ادا کرنا چاہئیے.

    دنیا کی ہرحکومت خاص کر ہمارے سائینس دان طبقہ جس طرح اس مرض سے نپٹنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ قابل ستائش ہے، ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہونا چاہئیے اللہ پہ بھروسہ کرنا چاہئیے اورجو وقت کے مطابق ایس او پیسز ہیں اس پہ عمل کرنا چاہئیے، اللہ ساری دنیا سے کرونا جیسے ہر وباء کو انسان محفوظ رکھے. آمین.

    @azizbuneri58

  • لاہور کے مسائل اور پنجاب حکومت       بقلم :آصف گوہر

    لاہور کے مسائل اور پنجاب حکومت بقلم :آصف گوہر

    لاہور کے مسائل اور پنجاب حکومت
    آصف گوہر

    2018 کے الیکشن جیتنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف پنجاب حکومت کو ورثے میں مالی بحران کے علاوہ صوبائی درالحکومت لاہور میں کئ طرح کے مسائل کا سامنا تھا اورنج لائن ٹرین کا نامکمل اور ناممکن منصوبہ جس کی وجہ سے سارے شہر میں گردوغبار اڑتا رہتا تھا۔جس کی وجہ سے لاہور میں ہوا کی کوالٹی خطرناک حد تک متاثر ہوچکی تھی اور شہر کو فضائی آلودگی کا سامنا تھا پنجاب حکومت نے مسئلہ کو فوری حل کرنے کے لئے پنجاب کےتمام محکموں تعلیمی اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر شجرکاری مہم شروع کرنے کا حکم دیا اور گلبرگ میں اربن فورسٹنگ میاوکی کے تحت سمارٹ جنگل لگایا گیا۔جلو باٹنیکل پارک کی بحالی پرکام شروع کیا گیا۔

    دوسرا بڑا اور قدیم مسئلہ لاہور جس سے سابقہ حکمرانوں نے ہمیشہ آنکھیں بند کئے رکھیں وہ بارش کے پانی سے لاہور میں ہرسال سیلابی صورتحال پیدا ہوجاتی تھی اور ہر سال برسات کے موسم میں لکشمی چوک پر واسا کے بےچارے آفیسرز کو معطل کرنے اور لمبے بوٹ پہن کر فوٹو شوٹ کروانے کے علاوہ کوئی خاطر خواہ کام نہ کیا گیا۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے اپنی حکومت کے پہلے سال ہی ماہرین سے مشاورت کے بعد لاہور کے ہاٹ سپاٹ ایریاز میں انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینکرز تعمیر کئے گئے اور شمالی لاہور کے علاقے چوک ناخدا مصری شاہ لکشمی چوک نسب روڈ فاروق گنج اور دیگر علاقوں میں اب شدید بارش میں بھی پانی کھڑا نہیں ہوتا۔ اب شہر کےکئ مقامات پر انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینکرز تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ اس کے ساتھ واسا کی وائس چئیرمین شپ کے لئے شیخ امتیاز کا انتخاب کیا گیا جو بارش شروع ہونے سے قبل اپنی ٹیمز کے ہمراہ شہر کی سڑکوں پر موجود ہوتے ہیں ۔

    موجودہ حکومت کو شہر کی بے ہنگم ٹریفک کا مسئلہ بھی درپیش ہوا جس سے نپٹنے کے لئے رش والی جگہ فردوس مارکیٹ چوک پر انڈر پاس تعمیر کیا گیا۔ اور شاہ کام چوک گلاب دیوی ٹریفک سگنل پر انڈر پاسز کی تعمیر جاری ہے مال روڈ پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لئے اس کو سگنل فری کیا جا رہا ہے ۔
    لاہور شہر میں صاف پانی کا نظام پائپ لائنز بوسیدہ ہونے کی وجہ سے ناکارہ ہوچکاہے پنجاب حکومت لاہور کے شہریوں کو صاف پانی فراہم کرنے کے لئے چین کے اشتراک سے منصوبہ شروع کرنے جا رہی ہے لاہور سمیت صوبہ بھر میں واٹر سپلائی کی غیر فعال سکیموں کو فعال کرنے کیلئے اب سی پیک پراجیکٹ کے تحت کام کیا جائے گا، صاف پانی کی سکیمیں سی پیک کے تحت مکمل ہوں گی جس کیلئے سی پیک جوائنٹ ورکنگ گروپ میں باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔ اب چین کے تعاون سے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، سپلائی کی تمام سکیموں کی نگرانی بھی چینی انجینئر کریں گے
    چین کی حکومت پنجاب حکومت کو شہریوں تک صاف پانی مہیا کرنے کیلئے 5 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کرے گی۔ لاہور کا ہیلتھ سسٹم آبادی میں مسلسل اضافہ کے بعد ناکافی ہوچکا تھا موجود حکومت نے لاہوز کے تمام ہسپتالوں کو اپ گریڈ کیا زچہ و بچہ کے لئے شہر کے وسط میں 600 بیڈز کا گنگادام مدر چائلڈ ہسپتال تکمیل کےآخری مراحل میں ہے اس کے علاوہ فیروزپور روڈ پر ارفعہ کریم آئی ٹی پارک کے قریب جنرل ہسپتال تعمیر کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے جس سے موجودہ ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم ہوگا ۔

    وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ لاہور پاکستان کا دل اور معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہے اس کی تعمیر و ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ لاہور کے مسائل حل کرنے کے لئے چیف منسٹر اسپیشل پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے لئے پنجاب حکومت نے لاہور کے میگا پراجیکٹس کیلئےنئے مالی سال میں مختص100 فیصد بجٹ جاری  کردیا ہے۔ جس سے 3نئی سڑکیں تعمیر کی جائیں گی شیرانوالہ فلائی اوورمنصوبے کیلئے مختص ایک ارب کے فنڈز جاری، شاہکام فلائی اوور کیلئے مختص ایک ارب روپے  اور گلاب دیوی انڈر پاس کیلئے مختص50کروڑ روپے کے فنڈز جاری کردیئے گئے۔ امیر چوک کالج روڈسےنواز چوک تک مسنگ لنک روڈکیلئے1کروڑ 93لاکھ ، کینال روڈ کے ساتھ بحریہ ٹاؤن تک سٹرکچر پلان روڈ کیلئے5کروڑ، سندرسےمانگا تک کینال روڈکیساتھ سڑک کی تعمیر کیلئے5کروڑ ، امیر چوک سے ایڈن چوک تک سٹرک کی تعمیر و بحالی کیلئے3کروڑ جبکہ  اک موریہ پل کیلئےمختص 8 کروڑ   روپے جاری کردیئے گئے ہیں اور ان تمام منصوبوں پر کام شروع ہوچکا ہے ۔

    مضمون نگار ایک فری لانس صحافی، بلاگر اور معروف ماہر تعلیم ہیں۔ سیاسی امور پر بھی عمیق نظر رکھتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں بارے بہت اچھی اور متناسب رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ایک اچھے ایکٹوسٹ کے طور پر سوشل میڈیا پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا پرسنل اکاؤنٹ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ آصف گوہر @Educarepak

  • تعلیم اور معاشرہ .  تحریر : فہد ملک

    تعلیم اور معاشرہ . تحریر : فہد ملک

    وہ قومیں جو تعلیم کو حقیر سمجھتی ہیں وہ ایک نا ایک دن برباد ہو جاتی ہیں، یہ مثال ہمارے معاشرے پر پوری طرح سے فکس آتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے لکھاری بھی مغربی لکھاریوں کی زبان استعمال کرتے ہیں، چونکہ ہمارے پاس سوچ کی تو کمی ضرور ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ تنقید کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں، اسی وجہ سے یورپی تاریخ ادب کا ماڈل ہمارے ذہنوں میں اس قدر شامل کیا جاچکا یے کہ ہم اپنی تاریخی عمل کو بھی یورپی نقطہ نظر سے سمجھنے اور دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    ایک قوم کو تاریخ کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟؟

    تاریخ کی ضرورت تب ہی محسوس ہوتی ہے جب مظلوم، لاچارکمزور، بےسہارا اور استحصال شدہ لوگوں کو ان کے اپنے جائزحقوق دلائے جائے۔
    ایلن مسلو کہتا ہے ” کہ ماضی نہ تو دریافت کیا جاتا ہے اور نہ ہی چپھا ہوا پایا جاتا ہے یہ مورخ ہیں جو اس کو تخلیق کرتے ہیں”

    اب اگر ملک پاکستان کی تاریخ کا ذکر کیا جائے۔ تو اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ماضی کی تشکیل نو کی جائے یہ اس لیے نہی کہ ماضی کو شاندار بنا کر اس پر فخر کیا جاسکے، بلکہ اس لیے کہ ہماری پسماندگی اور زوال کے اسباب کو سمجھا جا سکے ۔ اور یہ بھی زیر غور کیا جائے کہ کن وجوہات کی بنیاد پر ہمارا معاشرہ منجمد ہو کر رہ گیا ہے اس وقت ہمارے مسلم اقوام میں مذہبی اور سیاسی دونوں اختلاف موجود ہیں.

    جسکی وجہ سے ذہنی ثقافتی اورسماجی ترقی نہیں ہو رہی ہے۔ اس نے معاشروں اور معاشرے کے لوگوں کو اس قدر پسماندہ کردیا ہے کہ ان موجودہ دور کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی ذہنی دلائل اور عقلی استدلال نہیں لا سکتا۔ اس لیے جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آخر دنیا میں ہم مسلمانوں کی ہی عزت کیوں نہیں ہے؟ تو اس کا جواب ایک ہی ملتا ہے کہ دنیا میں ان قوموں کا احترام ہوتا ہے اور ان کی عزت کی جاتی ہے جو دنیا کے تہزیب و تمدن اور تقافت میں اضافہ کرتی ہیں اور اس میں حصہ لیتی ہیں۔ جو علم کی تخلیق کرتے ہیں اور اسکو زرخیز بناتی ہیں۔

    @Malik_Fahad333