Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تنقید سے ڈرنا کیا  تحریر :صالح ساحل

    تنقید سے ڈرنا کیا تحریر :صالح ساحل

    دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو اپنے خیالات، نظریات اور افکار کو زمانے کی تنقید کی وجہ سے دفن کر دیتے ہیں اور ایک فضول سی زندگی گزار کے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں کیوں کے جن کے پاس نظریہ نہ ہو ان کی زندگی بھی کوئ زندگی ہے یقیناَ یہ لوگ خدا کے ناشکرے ہوتے ہیں ان کو خدا نے سوچنے سمجھنے کے لیے دماغ دیا ہوتا ہے نئے نظریات کو جنم دینے کی قابلیت ہوتی ہے مگر یہ دنیا کے ڈر سے اس کو ضائع کر دیتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کو ضائع کرنا بھی تو ایک جرم ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دوسرا گروہ ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جن کی تعداد تو کم ہوتی ہے مگر ان کے حوصلے بلند ہوتے ہیں یہ اپنے افکار نظریات اور خیالات کو زمانے کی فرسودہ روایات اور خوف کے نظر نہیں کرتے ان پر تنقید ہوتی ہے مگر یہ میدان سے نہیں بھاگتے یہ اس تنقید کو بھی صحیح استعمال کرتے ہیں اور اپنا جائزہ لیتے رہتے ہیں اس تنقید کے نتیجے میں بعض اوقات یہ اپنے راستے بدل لیتے ہیں مگر اپنے مقصد پر کمپرومائز نہیں کرتے یہ اپنی دھن کے پکے ہوتے ہیں ان کے لیے ڈھول نہیں بجائے جاتے کئ بار تنقید ان کے کلیجہ چیر دیتی ہے مگر یہی لوگ اپنے مقصد کو پا لیتے ہیں اور اگر منزل نصیب نا بھی ہو تو پر سکون مرتے ہیں ان کا نام ان کی موت کے بعد بھی ان کو زندہ رکھتا ہے
    ———–
    اس لیے آپ اپنی زندگی میں اس بات کا خوف نا رکھیں کے آپ پر تنقید ہو رہی بلکہ کے اپنے مقصد میں لگے رہے لوگ آپ کا ساتھ نہ بھی دیں یاد رکھیں دنیا میں حق کے چاہنے والے ہمیشہ کم ہوتے ہیں حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ چند لوگ تھے حضرت لوط کے ساتھ صرف دو بیٹیاں تھیں حضرت عیسیٰ کے ساتھ گیارہ لوگ تھے امام حسین کے ساتھ 72 لوگ تھے لوگوں کی تعداد کا ہونا میعار حق نہیں خدا نے آپ کو ذہن دیا ہے آپ سوچیں نئے انداز سے دنیا کو دیکھیں اپنے نظریات کو عوجے سوریا پر لے جائیں اور اپنے ذہنوں سے ڈر نکال دیں سقراط کے خیالات کو چند لوگوں نے قبول کیا اور ایتھنز کے حامی ہزاروں تھے اس لیے اپنے مقصد پر توجہ کریں
    ________

    اس سارے سفر میں آپ اپنا محاسبہ کرتے ہیں کے کہیں آپ کے نظریات کی جگہ ضد نے تو نہیں لے لی ضد اگر غالب آگی تو آپ ہار جائیں گے کیوں کے اس سارے سفر میں ضد اور انا آپ کی سب سے بڑی دشمن ہو گی خدا سے تعلق کو جوڑے رکھیں اور بڑھتے جائیں کامیابی آپ کا مقدر ہو گی اور زندگی سے گلے کم ہوں گے اور ہاں آخر میں یہ جملہ کہوں گا تنقید سے ڈرنا کیا یہ تو سوچنے کی ہمت دیتی ہے

    @painandsmile334

  • افغانستان  کی  کھچڑی  ۔تحریر: محمد شعیب

    افغانستان کی کھچڑی ۔تحریر: محمد شعیب

    اس وقت افغانستان کے حالات کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ کھچڑی پکی ہوئی ہے اور معاملات اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ جیسے ایک ڈور کے بڑے گنجل کو سلجھانا۔ہر ملک اپنا کھیل کھیل رہا ہے اور ہر ایک کے مفادات دوسرے سے متصادم ہیں۔
    آج کی اس ویڈیو میں ہم آپ پوری کوشش کریں گے کہ آپ کے ذہن میں افغانستان کے معاملے سے متعلق کئی سوالات کا جواب دے دیں۔ ہم آپ کو افغانستان کی اپڈیٹ مسلسل دے رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ان واقعات کی وجہ کیا ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔ کیا افغانستان میں امن ممکن ہے اور اگر نہیں تو اس کی وجوہات کیا ہیں معملات کتنے سنگیں ہیں اور کیا ماضی میں ان کے سلجھنے کے کوئی امکانات ہیں۔ امریکہ، چین، روس، بھارت اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کیوں افغانستان میں بر سر پیکار ہیں۔ ان کے کیا خدشات ہیں اور وہ انہیں کیسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان آج خانہ جنگی کا شکار ہے۔
    اگر اآپ نے ابھی تک اس چینل کو سبسکرائب نہیں کیا ہے تو کر لیں اور بیل آئی کون کو پریس کر دیں۔
    طالب حکومت پر امریکہ کے حملہ کرنے سے پہلے افغانستان میں چیچن مجاہدین، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، سنکیانک صوبے کی علیحدگی پسند تنظیم، القاہدہ سمیت دیگر تنظیموں کے لوگ پناہ لیے ہوئے تھے۔ جبکہ بھارت مولانا مسعود اظہر کی رہائی کے لیے جہاز کے ہائی جیک ہونے اور افغانستان میں قندھار ائیر پورٹ پر اترنے کے بعددنیا بھر میں یہ ڈھنڈورا پیٹ رہا تھا کہ بھارت میں بد امنی پھیلانے والی تنظیموں کی پرورش افغانستان میں ہو رہی ہے ۔
    جسے امریکہ کے افغانسان میں آنے کے بعد بھارت نے اپنے حق میں کر لیا۔ لیکن اب جہاں بھارت کے لیے مشکلات بڑھ رہی ہیں وہیں روس چین، ایران، سینٹرل ایشین ممالک سمیت پاکستان بھی پریشان ہے۔ اسے پتا ہے کہ اب پاکستان میں طالبانائزیشن زور پکڑے گی۔ ۔ چین الگ سے سنکیانک کے لیے پریشان ہے تو روس اپنے سینٹرل ایشین اتحادیوں کے لئے پریشان ہے جبکہ ایران بھی طالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت سے الجھن کا شکار ہے اور اس نے پاکستان کی طرح ایران بارڈر پر فوج تعینات کر دی ہے۔
    چاہے پاکستان ہو یا ایران روس اور چین۔۔ طالبان کسی کی بھی من و عن بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں اور اگر اس سوال کا تسلی بخش جواب نہ ہو اور جس میں انہیں اپنا مفاد نظر نہ آئے تو وہ نہیں مانتے ۔ کہنے کو تو امریکہ افغانستان سے زلت آمیز شکست کھا کر جا رہا ہے یہاں ڈھائی ہزار فوجی مروانے اور ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود انہیں طالبان سے معاہدہ کرنا پڑا ۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی فوجی جا رہے ہیں لیکن امریکہ افغانستان میں موجود ہے۔ امریکی پیسے سے ہی افغانستان چلے گا اور افغانستان کو چلانے کے لیے طالبان کو بھی پیسے کی ضرورت ہے۔ اس کے افغانستان کے اردگرد
    دو درجن فوجی اڈے ہیں اور ان کی کٹ پتلی حکومت ابھی تک کابل میں براجماں ہے تو ایسی صورتحال میں پریشان دوسری پارٹیوں کو ہونے کی ضرورت ہے جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔
    روس کی پریشانی کا یہ عالم ہے کہ پیوٹن جنیوا میں بائیڈن سے ملاقات میں امریکہ کو یہ آفر کر چکا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک تاجکستان اور کرغستان میں اس کے فوجی اڈوں کو امریکہ ڈرون سے جاسوسی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن امریکہ نے روس کی اس پیشکش کا جواب دینا بھی گوارا نہیں سمجھا۔
    امریکہ نے افغانستان کی حکومت اور طالبان کے مزاکرات کروانے کی بجائے خود مذاکرات کیے۔ جس کے بعد طالبان غیر ملکی فوج کو نکالنے کا کریڈٹ لینے کے قابل ہو گئے۔ امریکہ کے طالبان سے مذاکرات میں طالبان کے وقار میں اضافہ ہوا۔
    افغان حکومت کا سب سے بڑا دشمن اس وقت طالبان ہیں جن سے ان کی جنگ جاری ہیں اور طالبان سے شکست کے بعد افغان ھکومت نے اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کر دیا ہے۔ اس وقت افغان حکومت پر قوم پرست لیڈروں کا قبضہ ہے اور ان سے پاکستان کی کم ہی بنتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا اس بات سے پریشان ہے کہ کہیں افغانستان دنیا بھر کے دہشت گردوں کا ہیڈ کوارٹر نہ بن جائے۔ اس لیے پوری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ وہ افغانستان میں صرف ایسی حکومت کو تسلیم کرے گی جو افغانستان کی تمام عوام کی ترجمانی کرتی ہو صورف ایک یا دو طبقوں کو طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
    پاکستان پر طالبان کی سپورٹ کا الزام کیوں لگتا ہے پاکستان افغانستان میں گریٹ گیم کا حصہ کیوں بنا۔ افغانستان میں اثرورسوخ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ کیوں ہے۔ یہ انتہائی اہم سوالات ہیں۔
    افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو آج تک افغانستان کی حکومت نے تسلیم نہیں کیا یہاں تک کہ جب طالبان کی کابل پر حکومت تھی تو انہوں نے بھی پاکستان سے ڈیورنڈ لائن کے پرماننٹ معاہدے سے انکار کر دیا تھا۔ کیونکہ یہ معاملہ افغانستان میں بڑا ا حساس ہے۔
    افغانستان پاکستان کی پوری پشتون بیلٹ کو اپنا حصہ کلیم کرتا ہے جو May 1879 میںTreaty of Gandamak کے زریعےافغان بادشاہ یعقوب خان نے انگریزوں کو لکھ کر دے دی تھی۔ اس کے بعد نئے بادشاہ عبدالرحمان خان نے اس معاہدےکی تصدیق بھی کی۔افغانستان کے قوم پرست لیڈروں نے پاکستان کے قیام سے لے کرستر کی دہائی تک اس کے خلاف ہر سازش کی اور اس کے دشمنوں کی مدد سے ان علاقوں میں شورش پیدا کر نے کی کوشش کی۔ پاکستان کے قوم پرست لیڈروں کو بھڑکایا گیا اور پاکستان کی سالمیت کو خطرات لاحق کئے گئے جو آج بھی جاری ہیں، پھر بھٹو کے دور میں افغانستان میں مذہبی طاقتوں کو سپورٹ کر کےپاکستان نے وہاں اپنی پوزیشن مضبوط کی۔ اور اس کے بعد طالبان کے دور میں پاکستان کو کافی سکون رہا۔ پاکستان نے امریکہ کے پریشر میں افغانستان پر حملے کا ساتھ تو دے دیا لیکن پھر بعد میں پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کی ہے اس نے طالبان کو بچنے میں مدد دی اور انہیں پناہ بھی دی گئی۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں قدم جمانے اور پاکستان کے ساتھ کھل کر ہاتھ صاف کرنے اور یہاں دہشت گردوں کو ٹریننگ دینے اور علیحدگی پسندوں کو پیسہ دے کر پاکستان میں بد امنی کروانے کی کھلی چھٹی دے دی جس کی پاکستان نے بھاری قیمت چکائی جو آپ سب کے سامنے ہے۔اب بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی لاٹری نکل آئی ہے پاکستان طالبان کی صورت میں افغانستان میں کھوئی ہوئی طاقت حاصل کر رہا ہے۔ اوربھارت اپنے دشمن کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کی پوری کوشش کر رہا ہے خواہ اس کے لیئے اسے افغان حکومت پر قابض دھڑوں کو فنڈنگ کرنا ہو یا اسلحہ سمیت کوئی بھی چیز دینا ہو وہ انہیں دے رہا ہے۔ساتھ میں پاکستان کے امیج کو تناہ کرنے کے لیے مکروہ کھیل بھی کھیل جا رہے ہیں۔ لیکن طالبان اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں۔ طالبان کے بڑھتے ہوئے غلبے سے نہ صرف افغان لبرلز کو ڈرایا جا رہا ہے بلکہ دنیا کو بھی یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر طالبان آگئے تو ان کے ساتھ دنیا کا چلنا ممکن نہیں اور افغانستان کی تباہی کا سفر یہاں سے شروع ہو جائے گا اور یہ وہی لوگ کر رہے ہیں جو طالبان کو کسی صورت افغانستان پر قابض نہیں دیکھنا چاہتے۔انڈیا 2002 سے اب تک افغانستان میں تین بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور اس کے مفادات سلامتی اور معیشت دونوں سے وابستہ ہیں۔

    انڈیا کویہ بھی خدشہ ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان کا اثر و رسوخ بڑھتا ہے تو کشمیر کی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے۔ بھارت نے ایران کے راستے افغانستان اور پھر سینٹرل ایشین ممالک تک پہنچنے کے لیے بھی بہت سرمایہ کاری کی ہے۔7200 کلومیٹر شمال جنوبی راہداری میں سرمایہ کاری کی ہے جو ایران سے روس تک چلے گی۔ مگر یہ سب امریکی سپاہیوں اور افغانستان میں جمہوری حکومت کی موجودگی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔ طالبان سے بھارت کی محبت سب کے سامنے ہے۔ایسی صورتحال میں طالبان کی افغانستان میں آمد انڈیا کے لیے دھچکے سے کم نہیں ہے۔ انڈیا کو خدشہ ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف سٹریٹیجگ سبقت کھو دے گا۔ پاکستان پر نفسیاتی اور سٹریٹیجنگ دباؤ ہے کہ افغانستان میں انڈیا مضبوط ہو رہا ہے۔ انڈیا کے کمزور ہونے سے پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔جبکہچین کا وسائل سے مالا مال صوبہ سنکیانگ اور افغانستان کے بیچ آٹھ کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ افغان صورتحال کے پیش نظر چین کو خدشہ ہے کہ اگر طالبان اقتدار میں آئے تو اس سے سنکیانگ میں علیحدگی پسند ایسٹ ترکستان اسلامی تحریک کو پناہ اور مدد مل سکتی ہے۔
    یہ ایک چھوٹا علیحدگی پسند گروہ ہے جو مغربی چین کے سنکیانگ صوبے میں متحرک ہے۔ یہ ایک آزاد مشرقی ترکستان قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سنکیانگ صوبے میں چین کی ایک نسلی مسلم اقلیت اویغور آباد ہے۔کچھ عرصے سے چین افغانستان کے صوبے بدخشاں میں اپنے تاجکستان کے ملٹری بیس سے ایکٹیو ہوا ہوا ہے۔چین افغانستان کو بھی اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل کرنا چاہتا ہے اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے امکانات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔طالبان نے چین کویقین دلایا ہے کہ وہ آئندہ سنکیانگ سے علیحدگی پسند اویغور جنجگوؤں کو افغانستان داخل نہیں ہونے دیں گے۔
    روس کو خدشہ ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان سخت گیر اسلام کا گڑھ نہ بن جائے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر افغانستان میں اسلام کی بنیاد پر انتہا پسندی بڑھتی ہے تو اس سے پورے وسطی ایشیا کو خطرہ ہو گا۔ یعنی اگر خون بہے گا تو اس کے قطرے ماسکو پر بھی پڑیں گے۔روسی اثر و رسوخ میں رہنے والے ملک جیسے تاجکستان اور ازبکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحدیں ہیں۔ روس کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں افغان سرحدوں پر انسانی اور سکیورٹی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔Islamic Movement of Uzbekistanاور and Eastern Turkistan Islamic Movement سے ان ممالک کو خطرہ ہے ان دونوں تحریکوں کے طالبان،القائدہ اور داعش سے تعلقات ہیں اسی لیے افغانستان کی سرحد پر سینٹرل ایشن ممالک اور روس نے پچاس ہزار فوجی اور سات سو ٹینک تعینات کر رکھے ہیں۔طالبان کے ایک وفد نے روس کے دورے پر یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان میں کسی پیشرفت سے وسطی ایشیا کے علاقوں کو خطرہ نہیں ہو گا۔اورافغان سرزمین کو کسی ہمسایے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔ترکمانستان کو بھی اسی طرح کے خدشات ہیں جہاں یہ افغانستان کے ساتھ 804 کلو میٹر طویل سرحد رکھتا ہے۔

    چین اور روس کی طرح قازقستان اور کرغزستان کو بھی افغانستان میں سخت گیر اسلام کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ان کی سرحدیں افغانستان سے نہیں ملتیں مگر انھوں نے اپنے ملکوں میں ایسے حملے دیکھے ہیں جن کا تعلق افغانستان سے قائم کیا جاتا ہے۔ سیکیورٹی کے علاوہ افغانستان میں امن قائم کرنے سے وسطی ایشیا کے ملک تیل، گیس یا کوئلے جیسے قدرتی وسائل انڈیا اور پاکستان سمیت دیگر جنوبی ایشیا کے ملکوں میں بھیج سکیں گے۔ اس لیے بھی ان ممالک کی نظریں افغان صورتحال پر جمی ہوئی ہیں۔

  • دم توڑتی سچائی تحریر: افشین

    سچائی "حقیقت” ہے اور حقیقت اپنا آپ منواتی ہے چھپتی نہیں
    سچائ اس روشنی کی مانند ہے جو چاروں اطراف منور ہوتی ہے تو ہر طرف اجالا ہوجاتا ہے سچائ حقیقت ہے اور حقیقت سے کبھی منہ نہیں پھیرا جاسکتا ہے اگرچہ سچائ کا راستہ دشوار ہے مگر کامیابی اسی میں پوشیدہ ہے
    سچائ وقتی دبائ جاسکتی ہے مگر اسکا سورج کی طرح طلوع ہونا لازم ہے انسان جھوٹ پہ جھوٹ بولتا جاتا ہے مگر جھوٹ عارضی ہوتا ہےہمیں سچائ کا ساتھ دینا چائیے اور چاہے اس کے لیے لڑتے اپنی جان بھی چلی جائے پر پیچھے ہٹنا نہیں چاہیےسچ بولنے والے سے رب بھی خوش ہوتا ہے اور وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہےہمارے پیارے نبی پاک نے بھی سچائ کا درس دیا سچائ صداقت و ایمانت داری سے بھری ہوئ ہوتی ہےسچائ آدب ولحاظ اور دلی سکون سے منسلک ہےسچائ معاشرے میں موجود تمام برائیوں کا سد باب ہےآجکل ہر طرف جھوٹ کا بازار گرم ہے ہر پیشہ میں جھوٹ بولنا سر فہرست ہے جھوٹ کے بغیر جیسے کوئ کام چلنا ہی نہیں جھوٹ کے بغیر جیسے اپنا بچاو ہی نہیں جیسے جھوٹ کو لازم قرار دیا گیا ہوجھوٹ بولنے والا منافق شخص ہوتا ہے وہ اپنی باتوں سے جلد سب کو قائل کر لیتا ہے اور سچائ کو دبانے میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے مگر جھوٹ ہمیشہ قائم نہیں رہتا سچائ کھول کے سامنے آجاتی ہے دیر صحیح مگر درست صحیح ۔سچائ کا ساتھ دینے والے اس دنیا میں خوار بہت ہوتے ہیں مشکلات بہت سہتے ہیں پر آخروی کامیابی ایسے ہی لوگوں کے لیے ہےجو انسان سچا ہو اس کو کم لوگ سنتے ہیں کم لوگ اسکا ساتھ دیتے ہیں اور اکثر سچائ کے کیے لڑتے لڑتے کہیں لوگ دم توڑ دیتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں اب جھوٹ سرعام بھکتا ہے اور انصاف کے قوانین برائے نام رہ گئے ہیں
    اس میں ہمارا قصور ہے ؟ یا اس معاشرے کا جس میں ہم رہ رہے ہے آخر کیوں سچائ کو ایڑیا رگڑنی پڑتی ہیں آخر سچائ کا دم توڑنے میں ہر کوئ کیوں سر فہرست ہےجھوٹ بولنے والا انسان نا صرف خود کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے بلکہ خود سے جورے ہر انسان کو مشکل میں دھکیل رہا ہوتا ہےجھوٹے انسان کا لہجا مٹھاس اور فریب سے بھرا ہوا ہوتا ہےاپنے اپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے وہ کسی حد تک جا سکتا ہے پیشہ و تجارت ہو یا گھریلو معاملات سب میں سچائ ایک اہم جزو ہے گھر میں مسلے جھوٹ سے بنتے ہیں ادھر کی آدھر کی جھوٹ ملاوٹ کیا اور فساد برپاہ ہوگیا ایسے ہی تجارت و پیشہ میں بھی جھوٹ ملاوٹ کرنے سے سب تباہ ہوجاتا ہے اگر عدلیہ میں انصاف مہیا نہیں تو سارا نظام درہم برہم ہوجانا ہے لہذا سچائ ہر لحاظ سے اہم ہےہمیشہ سچ بولے اور سچ کا ساتھ دیں تاکہ دنیا وآخروی کامیابی پاسکے

    @Hu__rt7

  • معاشرے میں تشدد کا عنصر  تحریر:سید لعل بُخاری

    معاشرے میں تشدد کا عنصر تحریر:سید لعل بُخاری

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے اندر جارحیت بڑھتی جا رہی ہے۔ہر آدمی عدم برداشت کا شکار نظر آتاہے۔دیگر شعبہ ہاۓ زندگی کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی گالی گلوچ کی بھرمار ہو چکی۔
    یہ سب کچھ بہت افسوسناک ہے۔کیا ہم جنگل کی زندگی کی طرف واپس جا رہے ہیں؟
    ہم ایک مہذب معاشرہ بننے کے بجاۓ پُر تشدد معاشرہ بننے کی طرف کیوں گامزن ہیں؟
    ہم چند روپوں کی خاطر ایک دوسرے کی جان کیسے لے سکتے ہیں؟
    کیا ہمارے مذہب کی یہی تعلیمات ہیں؟
    بلکل نہیں۔
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے،جو ہمیں جیو اور جینے دو کی پالیسی پر گامزن رہنے کا حکم دیتا ہے۔ہمارے مذہب اسلام میں تو جانوروں حتی کہ درختوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔
    اس مذہب عظیم میں ایک انسان کی جان لینے کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
    اگر مذہب یہ کہتا ہے تو ہمیں اسکی تعلیمات کو اختیار کرنے میں کونسا امر مانع ہے؟
    ہمارے مذہب کو لوگ اچھا مذہب اُسی وقت تسلیم کریں گے،جب ہم اچھے مسلمان اور اچھے انسان بن کے اسکا عملی نمونہ پیش کریں گے۔
    ان پر تشدد رویوں کی جو وجہ مجھے نظر آتی ہے،وہ معاشرے میں عدم مساوات اور انصاف کی عدم فراہمی ہے۔
    عام آدمی کو جب ایک بااثر آدمی کے مقابلے میں انصاف نہیں ملتا تو لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیتے ہیں۔
    اسی طرح عام آدمی حقوق کی جگہ جگہ پامالی بھی اسی معاشرتی تفرقے اور بگاڑ کا باعث بن رہی ہے۔ایک عام آدمی کو چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے لائن میں لگنا پڑتا ہے،جبکہ با رسوخ افراد یہی کام گھر بیٹھے ایک فون کال پر کروا لیتے ہیں۔
    ان تباہ کُن رویوں میں اضافے کا باعث ہمارے سیاستدان بھی ہیں،جنہیں آپ روزانہ دست و گریبان ہوتےاور گالم گلوچ کرتےدیکھ سکتے ہیں۔
    ان لوگوں کے اس وطیرے کا نوٹس لینے کی بجاۓ پارٹی قیادت شاباشی دیتی ہے۔
    لوگ اپنے ان نام نہاد راہنماوں کی پیروی میں وہی نا مناسب رویہ عام زندگی میں اختیار کر لیتے ہیں۔
    ہمارے آپس کے لڑائ جھگڑوں کی ایک وجہ دوسرے کی بات کو اہمیت نہ دینا بھی ہوتا ہے۔ہم بس اپنی سُنانا چاہتے ہیں،کسی کی سننا نہیں چاہتے۔ضروری نہیں کہ ہر دفعہ ہم ہی درست ہوں یا حق پر ہوں۔
    بعض دفعہ دوسرا بھی سچائ پر ہو سکتا ہے۔اگر ہم اپنی بات کہتے ہیں،تو دوسرے کی سننے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے۔
    انصاف کی عدم مساوات کے ساتھ ساتھ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم بھی لوگوں کو زہنی مریض بنا رہی ہے،امیر ،امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔غریب ،غریب ترین۔
    یہ تفاوت اسی وقت دور ہو سکتی ہے،جب معاشرے سے کرپشن ختم ہو جاۓ۔ہر ایک کا بے رحم احتساب کیا جاۓ۔اسکا آغاز کھرب پتی افراد سے کرنا چاہیے نا کہ ایک سائیکل اور چھابڑی والے سے۔
    ہر شہری کو مواقع ،برابری کی بنیاد پر ملنے چاہییں،چاہے وہ تعلیمی یا طبی سہولیات ہوں یا کاروبار کے مواقع۔
    پرچی مافیا کا خاتمہ ہو۔
    ہر ایک کا کڑا احتساب وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    اگر ہم نے یہ سب نہ کیا تو یہی عدم برداشت کی لہر ایک طوفان کی شکل اختیار کر جاۓ گی اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے،
    خدانخواستہ#

    @lalbukhari

  • عقیدہ ختم نبوتﷺ    تحریر: ارم سنبل

    عقیدہ ختم نبوتﷺ تحریر: ارم سنبل

    عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی اساس ہے عقیدہ ختم نبوت دین متین دین اسلام دین حق کا بنیادی عقیدہ ہےاسلام کی عمارت عقیدہ ختم نبوت پر کھڑی ہے۔
    اس عقیدہ پر ذرا برابر شک مسلمان کو دین اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔

    عقیدہ ختم نبوت قرآن و حدیث سے ثابت ہے
    قرآن پاک میں ہے کہ

    مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰)

    ترجمہ:

    محمدﷺ تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والاہے۔

    حضور ﷺ نے خود اپنے آخری نبی ہونے کی گواہی دی

    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

    وإنہ لا نبي بعدي

    اور بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (صحیح بخاری: ۳۴۵۵، صحیح مسلم: ۱۸۴۲، دارالسلام: ۴۷۷۳)

    عقیدہ ختم نبوت پر دور رسالت ﷺ سے ہی حملےہونا شروع ہو گئے تھے۔

    حدیث مبارکہ ہے کہ

    ’’میری امت میں تیس (30) جھوٹے کذاب ہوں گے ان میں سے ہر ایک کذاب دعوه کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘

     ترمذي، السنن، کتاب الفتن، باب : ماجاء لا تقوم الساعة حتی يخرج کذابون، 4 : 499، رقم : 2219.

    حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ہر دور کے مسلمانوں نے اپنے لہو سے ختم نبوت پر پہرا دیا۔

    سن گیارہ ہجری میں سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب نامی لعنتی نے نبوت کا دعوہ کردیا۔اس فتنہ کو کچلنے کیلئے اپ رضی اللہ عنہ نے حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لشکر روانہ فرمایا جو اس فتنہ کو کچلنے میں کامیاب ہوا۔

    اس جنگ میں صحابہ نے 36 ہزار منکرین ختم نبوت کو واصل جہنم کیا اور حضور ﷺ کی ختم نبوت پر پہرا دیتے ہوئے 600 سے زائد صحابہ نے جام شہادت نوش کیا اور آج تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ایک مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن حضور ﷺ کی ختم نبوت و ناموس رسالت ﷺ پر سمجھوتہ نہی کر سکتا.

    کیونکہ

    نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب ﷺ کی حرمت پر

    خدا شاہد ہے کامل میرا، ایماں ہو نہیں سکتا۔۔!!

    @Chem_786

  • بچوں کی صلاحیت پہچانیں  تحریر: نزاکت شاہ

    بچوں کی صلاحیت پہچانیں تحریر: نزاکت شاہ

    ہر بچہ مختلف عادات واطوار کا مالک ہوتا ہے ،ہر بچے کے شوق مختلف ہوتے ہیں، کوئی کھیل کا رسیا ہوتا ہے ،کوئی مطالعے کا ، کوئی ٹیکنیکل ذہن کا مالک ہوتا ہے اور کوئی مائنڈ گیمز کا ماسٹر،کسی کی آواز اچھی ہوتی ہے ، کسی کے بولنے کا انداز اچھا ہوتا ہے ۔لیکن یہ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ کسی بچے میں کوئی خوبی یا شوق نہ ہو ۔
    خرابی کب پیدا ہوتی ہے ؟؟؟
    جب والدین بچے پر اس چیز کو سیکھنے زور ڈالتے ہیں جس کی صلاحیت اس کے اندر موجود ہی نہیں ہوتی۔اور بچہ اس حد تک نتائج نہیں دے سکتا جو قدرتی صلاحیت والا بچہ دے سکتا تھا ۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچ باغی ہونے کے ساتھ ساتھ اعتماد کھونا شروع کر دیتا ہے ۔
    غیر ضروری دباؤ اس کی شخصیت کے بگاڑ کا سبب بنتا ہے ۔اس کے اندر والدین کا خوف پیدا کرتا ہے ۔اس کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے ۔بچے میں جو صلاحیت موجود نہیں ،اسے وہ سکھانے پر زور نہ دیں اور نا ہی اسے طعنہ دیں کہ وہ باقی بچوں جیسا کیوں نہیں ؟؟
    اس کی صلاحیت پہچانیں ،پھر اسے مواقع فراہم کریں اور اس کی حوصلہ افزائی کریں ۔کچھ عرصے میں ہی حوصلہ افزا نتائج اپکے سامنے ہوں گے ۔
    معاشرے کو ایک صحت مند سوچ کی حامل نسل دیں ۔ایسی نسل جو ذہنی طور پر مضبوط اور منفرد ہو۔جس کی سوچ کا رخ مثبت ہو ۔جس میں احساس کمتری نہ ہو ۔یہ صدقہ جاریہ ہے جو اپ کیلئے ہمیشہ کام ائے گا ،
    تجربہ شرط ہے

    @NZ760

  • پاکستان کی سیاسی جماعیتں اور جمہوریت تحریر: ثاقب نوید

    پاکستان کی سیاسی جماعیتں اور جمہوریت تحریر: ثاقب نوید

    پاکستان کی کسی سیاسی جماعت میں جمہوریت نہیں ہے
    پاکستان کا آج تک ایک جمہوری ملک نہ بننے کی سب سے بڑی وجہ پالستان کی سیاسی جماعیتں ہیں، ہر جماعت یا تو کسی خاندان کی جماعت ہے یا ایک شخص کی جماعت ہے ۔
    پی پی پی آج تک بھٹو خاندان کی غلامی میں مبتلا ہے ، کبھی بھٹو پھر اُسکی بیٹی پھر اسکا شوہر زرداری اور اب زرداری کے بچے بھٹو بن کر اب پی پی پی کے غلاموں کے سردار ہیں، پی پی پی کی لیڈرشپ اور نہ کسی کارکن نے کبھی پارٹی میں جمہوریت کی بات کی اور اس پارٹی میں تو دیکھا ہے کہ پڑھے لکھے بڑے قد کاٹھ والے لوگ ایک نابالغ لڑکے کو لیڈر اور سر کہ کر پکارتے رہے۔
    مُسلم لیگ ن کا بھی یہی حال ہے شریف خاندان کے علاوہ کوئی اس جماعت میں سربراہ نہیں بن سکتا اور باقی لوگوں کو نوکر اور غلام اور قصیدہ پڑھنے والے بننے کی اجازت ہے ، اگر کبھی کوئی اس پارٹی میں جمہوریت کی بات کر دے اس کا سائیڈ لائن کر دیا جاتا ہے ، شریف خاندان نے سندھ کے بھٹو خاندان کے مقابلہ میں پنجاب کا سلطانی خاندان بن گیا اور پنجابی کارڈ کھیل کر اپنے لیے اسٹلیشمنٹ کی مدد بھی حاصل کی ۔اس جماعت میں سربراہی صرف یا نواز شریف یا شہباز شریف کی یامریم یا حمزہ کی پاس ہو گی باقی جو ان کی چاپلوسی اور خوشامد کرے گا وہ قریب اور عہدے کا حقدار بنے گا
    ن لیگ میں جمہوریت کا نام و نشان بھی نہیں لیکن سب سے زیادہ آج کل جمہوریت کا نعرہ یہ جماعت لگاتی ہے بے شرمی اور منافقت سے بھرپور سیاست رہی ہے اس پارٹی کی ۔
    پاکستان تحریک انصاف ایک ایسی جماعت تھی جس سے ایک اُمید لگی تھی کہ وہ ایک جمہوری جماعت میں بنے گی اور اس جماعت نے ایک کوشش بھی کی لیکن کامیاب نہ ہو سکی اور اس کے بعد نہ کوشش کی نہ کوئی اس جماعت کا کوئی ارادہ ہے اب اس طرح تحریک انصاف بس ایک فرد واحد کی جماعت بن کر رہ گئی
    پاکستان کی باقی چھوٹی پارٹیوں کا بھی یہی معاملہ ہے ۔
    جب یہ جماعتیں اپنی جماعت میں جمہوریت نہیں لا سکتے نہ بات کر سکتے ہیں لیکن بے شرمی اور ڈھٹائی سے پاکستان میں جمہوریت کی بات کرتے ہیں کوئی ووٹ کو عزت کی بات کرتا ہے کوئی پارلیمان کی عزت اور سپرمیسی کی بات کرتا ہے
    لیکن اپنی جماعت میں جمہوریت کا نام لینا ممنوع ہے ۔
    پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں آگے بڑھنے کا طریقہ صرف ایک ہی ہے” شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار” ہماری سیاسی جماعیتں ایسے وفاداروں سے بھری پڑی ہیں جو خوشامد اور چاپلوسی اور غلامی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر کردار ادا کرتے ہیں۔ ابن الوقت مطلبی، مصنوعی اور ضمیر فروش سیاستدان اس معاملہ میں سب سے آگے نظر آئیں گے۔ پارٹی لیڈر کی خوشنودی کے لیے پاکستان کے ہر ادارے پر تنقید اور کہیں خوشامد کرنی ہو تو اپنی اس وفاداری کے بھرم میں وہ وہ چیزیں بھی بیان کر جاتے ہیں جو سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی، سیاستدان ہی کیا اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں تو بہت سارے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار اچھلتے کودتے شور مچاتے اور اپنے بے سرے راگ الاپتے دکھائی دیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ لگاتے ہیں کون زیادہ اپنے لیڈر کو خوش کرنے کے لیے دوسری پارٹی کے لیڈر کے گالیاں اور بُرا بھلا کہتا ہے کیونکہ یہی ایک معیار ہے ان کو اوپر اور عہدہ ملنے کا۔
    جتنا جو زیادہ زبان دراز ہو گا اتنا ہی اسکو پارٹی کے اندر پارٹی لیڈر سراہے گا اور وفادار کا خطاب دیا جائے گا۔ اس کے بعد سب بڑی خصوصیت کا ذکر کرتے ہیں وہ ہے بلا جھجھک جھوٹ بولنا اور اس بے شرمی اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولنا کہ سچ بھی شرما جائے ۔
    مقولہ ہی “ اتنی سچائی سے جھوٹ بولو کہ جھوٹ بھی سچ لگنے لگے”
    یہ جمہوریت،جمہوری نظام، ایوان کا تقدس اور ووٹ کی عزت کے نعرے صرف اپنی چودھراہٹ کو واپس لانے کے لیے ہے اور عوام کو بار بار بیوقوف بنانے کے لیے ۔
    @saqibnaveed21

  • بچے تو باغ کے پھول ہیں   تحریر:  مدثر حسن

    بچے تو باغ کے پھول ہیں تحریر: مدثر حسن

    آج میرا دل خون کے آنسوں رو رہا ہے میرے سے لکھا نہیں جارہا ہاتھوں میں کپکپاہٹ ہے میں اپنے معاشرے کی تلخ حقیقت بتانے جارہاہوں مجھے شرمندگی ہو رہی ہے کہ میرے تعلق اس معاشرے سے ہے جہاں پر کبھی سات سالہ بچی تو کبھی پانچ سالہ بچی کو اگواہ کر کے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرکے قتل کر دیا جاتا ہے

    میں پوچھتا ہوں ان پھول جیسے بچوں کا آخر قصور کیا ہے کیوں ان سے جینے کا حق لیا جاتا ہے کیوں ان کی زندگیاں محفوظ نہیں کیا یہی قصور ہے کہ وہ لڑکیاں ہیں کمزور ہیں اپنی حفاظت نہیں کرسکتی، ان درندوں کا سامنا کرنے سے قاصر ہیں ۔۔۔۔۔۔

    جو لوگ ان پھول جیسی بچوں کے ساتھ زیادتی کر تے ہیں ان درندوں کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ کوئی دین یہ لوگ انسانوں کے روپ میں بھیڑیا ہیں ان میں انسانیت نام کی چیز نہیں اور یہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔۔۔۔۔

    کیونکہ ہمارا دین اسلام تو بچوں کے ساتھ پیار کرنے کا حکم دیتا ہے ۔بچوں کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے

    بچے تو باغ کے پھول ہیں ان بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں یہ درندے جن کے گناہ فرشتے بھی نہیں لکھتے ان معصوم بچوں کی جانیں لیتے ہیں جن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پیار کرنے کا حکم دیتے ہیں

    میں پوچھتا ہوں ان درندوں سے قیامت والے دن اللہ اور رسول ﷺ کو کیا منہ دکھاؤں گئے کس منہ سے سامنا کرو گئے تم لوگ واجب القتل ہو تم لوگوں کو عبرت ناک سزا دینی چاہیے تاکہ لوگوں کو خوف ہو جائے اور ایسا کرنے کا سوچے نہ دوبارا۔۔۔

    تم لوگ کافروں سے بھی بدتر ہو تم لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ساری زندگی جہنم کی آگ میں جلتے رہو گئے۔۔۔۔۔

    اللہ پاک ہم سب کے بچوں کو ان جیسے حیوانی درندوں سے محفوظ رکھے آمین!!!!!

    @MudasirWrittes

  • عدم برداشت کا کلچر تحریر: آصف گوہر

    عدم برداشت کا کلچر تحریر: آصف گوہر

    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے
    "جو لوگ آسانی میں سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے.”
    سورة العمران 134
    ہمارے ہاں عدم برداشت کا کلچر فروغ پا چکا ہے ۔آپ سڑک پر دیکھتے ہیں کہ گاڑی والا موٹرسائیکل والے کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ذرا آپ اس کی شاہی سواری کے راستے میں حائل ہو جائیں تو فوری ہارن بجا کر دور ہٹنے کا کہا جائے گا پھر اگر ذرا تاخیر ہوئی تو گاڑی کے اندر سے ہی صلواتیں سنانا شروع کردیں گےاور خواہش ہوگی کے کچل کر آگے نکل جائیں اور اسی طرح یہی سلوک موٹرسائیکل والا رکشہ یا گدھا گاڑی والے کے ساتھ کرتا ہے
    ذرا سی انیس بیس پر سڑک پر دست و گریباں افراد اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔
    عدم برداشت کی یہ بیماری صرف عام آدمی تک محدود نہیں بلکہ ہمارے سیاستدانوں اور ایوانوں تک سرائیت کر چکی ہے جس کا مظاہرہ ہم نے بجٹ سیشن میں کیا اور اب آزاد کشمیر کی انتخابی مہم کے دوران جلسوں میں ایک دوسرے کو یہودی ایجنٹ اور دیگر القابات سے نوازا گیا ۔سیاسی اختلافات کی یہ جنگ کارکنوں کے درمیان سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کو خوب گالیاں دے کر لڑ جاتی ہے ۔
    یہی حال عام گلی محلوں کا ہے معمولی سی بات پر قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوجاتا ہے اور دشمنی کا یہ سلسلہ کئ نسلوں تک چلتارہتا ہےاور خاندان کے خاندان ختم ہوجاتے ہیں ۔
    یہ عدم برداشت کا کلچر ایک دم سے ہمارے معاشرے میں نہیں آیا ایک عرصہ تک پنجابی فلموں اور ہمسایہ ملک کی مادر پدر آزاد ثقافتی یلغار کا شاخسانہ ہے ۔
    ہمارے نظام تعلیم نے خوب ترقی کی لیکن تربیت اور کردار سازی کے شعبہ میں بری طرح ناکام رہا۔ اب حالات یہ ہیں کہ بارہویں جماعت کے چند طلباء نے لاہور میں پیپر بورڈ کے دفتر لے کر جانے والے استاد سےپرچوں کا بنڈل بندوق کے زور پر چھین کرآگ لگا دی اور استاد کی موٹرسائیکل بھی نظر آتش کردی۔
    میڈیا کا ایک کردار طلباء کو امتحانات ملتوی کروانے پر اکساتا رہا اور ریاست اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔
    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت اور کردار سازی پر بھی توجہ دی جائے رویوں میں مثبت تبدیلی پیدا کی جائے لوگوں کو معاف کرنا سیکھیں چھوٹی چھوٹی باتوں کو سر پر سوار کرلینے سے آپ مسلسل ڈپریشن کا شکار ہوکر اپنی ہی صحت کا نقصان کر بیٹھتےہیں ۔
    میں نے سعودی عرب قیام کے دوران کا عجیب واقعہ دیکھا ایک شہری کی گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئ دونوں گاڑی سے نیچے اترے میں نے حسب دستور سوچا یہ دست و گریباں ہونگے اور سڑک پر تماشا ہوگا لیکن کیا دیکھتا ہوں جس کی غلطی تھی اس نے سلام کیا اور درود پڑھا اللہم صلی وسلم علی نبینا محمد اتنا کہنا تھا کہ دوسرا مسکرایا گلے ملے اور معاملہ ختم۔
    غصہ انسان کی عقل کا دشمن ہے غصے کی حالت میں انسان وہ کچھ کر جاتا ہے کہ بعد میں ساری عمر پچھتاوا رہ جاتا ہے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ملاحظہ ہو اور عمل کرکے اپنی زندگیوں کو خوبصورت اور پرسکون بنائیں
    ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ کوئی نصیحت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "غصہ نہ ہوا کر۔ انہوں نے کئی مرتبہ یہ سوال کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر۔”
    متفقہ علیہ ۔

    @Educarepak

  • ہمارا نظام تعلیم اور اس کو درپیش مسائل   تحریر: جام محمد ماجد

    ہمارا نظام تعلیم اور اس کو درپیش مسائل تحریر: جام محمد ماجد

    حصول علم میں ہوتا ہے بہت جاں کا ضیاع
    منزلیں یونہی سر راہ ملا نہیں کرتیں

    یہ امر مسلمہ ہے کہ تعلیم کا بہتر نظام کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کا ضامن ہونے کے ساتھ ساتھ کسی قوم کے بہتر کردار کا سر چشمہ ہوتا ہے اس حقیقت کے تحت ہر ملک وقوم کے افراد بہتر نظام تعلیم کے متقاضی ہوتے ہیں اس کے علاوہ یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ تعلیم ایک متحرک عمل ہے جو زمانے کے تغیرات اور تبدیلیوں کے تحت جاری و ساری رہتا ہے ۔ ان حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں اپنے مروجہ نظام تعلیم کے حالات کا بخوبی اندازہ ہوسکے گا کہ ہم نے اپنے نظام تعلیم سے کیا حاصل کیا اور کہاں تک کامیابی حاصل ہوئی ۔
    ہمیں جب نیا اور آزاد پاکستان نصیب ہوا تو بد قسمتی سے ہمیں غلامانہ اور فرسودہ برطانوی نظام تعلیم ملا جو کہ ہماری روایات اور فلسفہ حیات سے کسی بھی طرح ہم آہنگ نہ تھا۔ اس ضمن میں پاکستان کی پہلی قومی تعلیمی کانفرنس نومبر 1948 کو کراچی میں منعقد ہوئی جس کا مقصد ہمارے نظام تعلیم میں نہ صرف بہتری لانا تھا بلکہ ایسا تعلیمی نظام مرتب کرنا تھا جو کہ اسلامی نظریہ حیات سے ہم آہنگ ہو اور جس کے تحت فرد کی شخصیت کی مکمل نشوونما کی جائے اور اسے معاشرے کا بہترین رکن بنایا جائے ۔
    لیکن افسوس صد افسوس کہ آج 71 سال گزرنے کے بعد بھی ہمارا نظام تعلیم اس قابل نہیں ہو سکا۔ ہم نے وہی غلامانہ روش اختیار کیے رکھی ہے اور انگریزی کو اپنا معیار تعلیم بنا رکھا ہے جبکہ انگریزی صرف اور صرف ایک زبان ہے۔
    اگر ہم اپنے نظام تعلیم کا تجزیہ کریں تو کیا ہم نے وہ عمومی مقاصد حاصل کیے جس کے تحت یہ نظام تعلیم مرتب کیا گیا تھا اور کیا تعلیم جو کہ بذات خود ایک متحرک عمل ہے کے تحت اس نظام میں تبدیلیاں کی گئیں ہیں؟ یقینا نہیں ••••
    اور جہاں تک بات ہے اس نظام کو درپیش مسائل کی تو وہ مسائل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جس میں قابل ذکر منصوبہ بندی کی کمی ۔ بجٹ کی کمی ۔ غیر تسلی بخش اور غیر متحرک نصاب ۔ پست معیار تعلیم ۔ بد عنوانی ۔ غیر تربیت یافتہ اساتذہ ۔ ناقص امتحانات کا نظام ۔ نفسیاتی مسائل ۔ نا مناسب نظم ونسق ہیں ۔
    میں اپنی بات کا اختتام علامہ اقبال کے اس شعر سے کرنا چاہوں گا
    اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم
    ایک سازش ہےفقط دین وثروت کےخلاف
    @Majidjampti