Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ‏عنوان ذات پات، رنگ ونسل تحریر : شاہ زیب

    اللہ تعالی نے اس دنیا میں بہت سی مخلوقات کو بھیجا جن میں چرند ،پرند اور جن و انس شامل ہیں۔
    ان تمام مخلوقات میں سے صرف انسان کو ہی اشرف المخلاقات کہا گیا ہے۔ اللہ تعالی نے تمام انسانوں کو برابری کی بنیاد پر پیدا کیابغیر کسی رنگ،ذات پات کے تفرقے کے۔
    مگر ہوا یوں کہ انسان اپنے رب کے فرمان کو خاموش کر بیٹھا۔
    پھر یوں ہوا کہ انسانوں کو جانچنے کا معیار انسانیت سےنہی بلکہ ذات پات رنگ نسل اور پیسے کی بنیاد پر ہونےلگا۔

    زیادہ مال دولت رکھنے والا شخص خود کو خدا سمجھ بیٹھا۔
    مال دولت کے ساتھ ساتھ غرور تکبر سے بھی مالا مال ہو گیا۔
    دوسروں کوحقیر خود کوحاکم سمجھنے لگا ۔ ایسے لگا جیسے کہ وہی سب کچھ ہے ۔اور پھر دولت نے انسانوں کے درمیان ایک دیوار قائم کردی۔ آج بھی کوئی بھی پیسے والا انسان کم آمدن والے شخص سے میل جول میں آر (شرم) محسوس کرتا ہے۔

    اب بات کرتے ہیں ذات پات کی آج بھی ہمارے درمیان بہت سے لوگ ہیں جو محصوص ذات کو ہی اعلی سمجھتے ہیں۔ وہ یہ گوارہ نہیں کرتے کہ اپنی ذات کے سوا کسی اور ذات سے کوئی بھی تعلق رکھا جائے۔اور نہ ہی اپنی ذات کے باہر شادی کرنے کا رواج ہوتا ہے۔

    پھر آتے ہیں وہ لوگ جو صرف رنگ کی بنیاد پر دوسروں کو حقیر جانتے ہیں۔کالے رنگ کے لوگوں کا مزاق بنایا جاتا ہے۔
    یا پھر اگر کسی کا قد چھوٹا رہ گیا تو اسکا الگ مزاق۔

    آخر ہم کیوں نہیں سمجھے کہ اللہ نے سب انسانوں کو برابری کی بنیاد پر ہی اس دنیا میں بھیجا ہے ۔
    ہم لوگ کیوں فرقوں اور تفرقوں میں پڑ کر رہ گئے

    نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
    کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے معیار کے۔

    اللہ کے نزدیک انسانوں کو جانچنے کا ایک ہی معیار ہے وہ ہے تقوی کی بنیاد۔

    ہمیں چاہیے کہ ہم انسانوں کے درمیان کھڑی اس دیوار کو ہٹائیں کسی بھی رنگ و نسل اور ذات پات کے اس تفرقے سے نکلنے کی کوشش کریں کریں۔ کیونکہ بے شک اللہ کے نزدیک معیار تقوی کا ہے

    ‎@shahzeb___

  • محنت کشوں کی زنگ آلود بیڑیاں تحریر:عزیز الحق

    محنت کشوں کی زنگ آلود بیڑیاں تحریر:عزیز الحق

    قدرت کے قوانین کے مطابق کائنات کی ھر شئے اپنی معتدل اور تسکین والی حالت کے لئے ارتقاء میں رھتا ھے۔ اور جب جس وقت انکی ارتقاء جمود ھو جاتا ھے، تو وہ قدرت کے قہر کے زد میں آکر زوال پذیر ھو جاتا ھے۔ یہ دنیا اور اس میں رھنے والے مخلوقات بھی مسلسل ارتقائی حالت سے گزرتے رھتے ھیں۔ ان میں 1 مخلوق نسل انسانی ھے، جو اپنی بنیادی ضروریات زندگی کے لئے مل جل کے سماج کی شکل میں رھتے ھیں۔ اور اس سماج میں ھر انسان کی بنیادی ضروریات، ان کی محنت اور وسائل کی تقسیم ایک جیسی ھوتی ھے۔ اور جب ذرائع پیداوار کی غیر منصفانہ تقسیم ھوتی ھے تو سماج مختلف طبقات میں تقسیم ھو کے بگاڑ کی صورت اختیار کرنے لگتا ھے۔ موجود عہد میں ذرائع پیداوار کی اسی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے نسل انسانی کا بیشتر حصہ ناانصافی کا شکار ھے اور اپنی محنت بیچ کر اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش میں لگے ھیں۔
    اس عہد میں جہاں رجائیت پر مبنی سوچیں مقید ھوں اور جہاں سماج بدلنے کی گفتگو عام فہم میں تضحیک کا نشانہ بنتی ھو وہاں محنت کش طبقے کی بات کرنا، عمومی سوچ، سیاست اور انقلابات کی لئے جرآت اور دلیل سے کھڑے ھونا مضحکہ خیز بنا دیا جاتا ہے۔
    ھر عہد ھر دور میں محنت کش طبقہ اپنی استحصالی کے خلاف تحریکیں چلاتی ھیں۔ 1917 کا بالشویک انقلاب دنیا بھر کے محنت کشوں کے لیے باعث تقویت بنا۔ لیکن 1991 میں روڈ میں ‘سوشلزم کا انہدام’ عمومی طور پر نہایت ھی منفی اثرات مرتب کرنے کا موجب بنا۔ اسی طرح پاکستان میں 1968 اور افغانستان میں 1978 کاسال محنت کشوں کے لیے باعث نجات بن سکتا تھا، مگر موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے وحشی اور درندہ صفت حکمرانوں کی وجہ سے محنت کشوں کو پھر سے اندھیروں کا سامنا کرنا پڑا۔
    آج دنیا بھر میں ایک نیا ھیجان، عدم استحکام اور سماجی تحریکیں پھر سے سر اٹھانے لگی ھیں ان گلے سڑے اور فرسودہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جن کی ناکامی کا ذندہ مثال موجودہ کورونا کے خلاف گھٹنے ٹیکنا ھے۔
    چین، لاطینی امریکہ، برطانیہ، ایکواڈور سے ہانگ کانگ اور لبنان سے ایران تک ھر جگہ محنت کشوں کی تحریکیں ابھر ابھر کے سامنے آرھی ھیں۔ غربت، بےروزگاری، محرومی، ذلت اور مہنگائی کے نئے ریکارڈ ٹوٹ اور بن رھے ھیں۔
    مفلوج زدہ اور گلاسڑا ناتواں نظام انکی سرکشی کے ھر قسم کا ہربہ آزمانے سے ھچکچاتے نہیں۔ کبھی مذھب پرستی تو کبھی وطن پرستی جیسے کھوکھلے پروپیگنڈوں سے ان تحریکوں کو کچلنے کی ناکام کوششیں کر رھی ھیں۔
    اس نظام میں ٹیکنالوجی سے لیکر صنعت تک، سیاست سے لیکر اقتصادی نظام تک سبھی حکمران طبقاتِ کی مختلف تراکیب ھیں، جن سے محنت اور انسانیت کا استحصال جاری رکھا جا سکے۔ لیکن محنت کش اب مزید استحصال کے شکار رھنے والے نہیں۔ صرف مسئلہ اس جرآت ہمت اور اس عزم کا ھے جس کی اس انقلاب اور نظام کی تبدیلی کے لیے ضرورت ھے۔ محنت کش عوام نے صبر کی انتہا کی ھے، اب انکے تحمل اور برداشت کی انتہا ھورھی ھے۔ اب انہوں یک جان یک قالب ھو کے اس فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینکنا ھوگا۔
    کیوں کہ
    *محنت کشوں کے پاس کھونے کے لیے صرف زنجیریں اور پانے کے لیے سارا جہاں پڑا ھے۔*

    Aziz Ul Haq

    @azizbuneri58

  • ‏جیو اور جینے دو ۔ تحریر : سید احد علی

    آج کل ہر بندہ دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہا ہے اور اس پر تنقید کررہا ہے
    کوئی کسی کی تعریف کرکے راضی نہیں ہے ہر بندہ دوسرے کے کام کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتا
    ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم دوسروں پر تنقید کا نشانہ بنائیں ، کون اچھا ہے ، کون برا ہے اس کے لیے اللہ تعالٰی ہیں ، ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم نفرتیں پیدا کریں ایک دوسرے کے لیے
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کسی گورے کو کالے اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں ۔
    ہم سب کو اللہ نے بنایا ہے ، جب بنانے والے نے ہی کوئی فرق نہیں سمجھا تو ہمیں تو حق ہی نہیں.
    لہذا تنقید کرنے سے بہتر ہے کہ دوسرے کے لیے آسانی کا ذریعہ بن جائیں اس کے خوشی غمی میں برابر کے شریک ہو جائیں حوس بھری نگاہوں سے دیکھنے سے بہتر ہے ایک سچے اور مخلص دوست بن کر رہیں اگر تنقید ہی کرنی ہو تو نرم لہجے سے تنقید کرے کیو نکہ نرم لہجہ ضمیر جگاتا ہے جبکہ سخت لہجہ آنا جگاتا ہے۔۔
    غیر ضروری تنقید وہ تلوار ہے جو سب سے پہلے خو بصورت تعلقات کا سر قلم کر تی ہے
    ہمیں چاہیے تنقیداگر مقصود ھے ھی تو تنقید برائے اصلاح کریں
    تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکے کہ ہم کیا ھیں تنقید کرنے سے پہلے ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے تنقید برائے اصلاح سے ہم بہترین معاشرہ ترتیب دے سکتے ھیں ہمیں اپنے اطوار و قلم سے محبتیں بانٹنی چاہیے نہ کہ نفرتیں
    نفرت تو آگے بہت ھے اسلیے جانے جانچے اور اصلاح کریں ۔
    اگر کسی کے لیے اپنے الفاظ سے زندگی خوشگوار نہیں کرسکتے تو برباد بھی نہ کریں ہماری زبان سے نکلا ہر لفظ ہمارے لیے تو ٹھیک ہے پر دوسرے انسان کو ہماری کون سی بات بری لگی ہو ہم نہیں جانتے سب کے لیے خوشی کا ذریعہ بن جائیں جیو اور جینے دو ۔

    @S_Ali_9

  • اسلام کیسے پھیلا ؟  تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا

    اسلام کیسے پھیلا ؟ تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا

    اسلام تلوار کے زور پر پھیلا یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے ۔ لیکن یہ سچ ہے کہ اسلام کی شروعات کئی جنگوں سے ہوئی جن میں سب سے مشہور جنگ ہے جنگ بدر یا غزوہ بدر ۔
    بدر کی اس لڑائی میں 313 مسلمانوں کا مقابلہ ایک 1000 کی فوج سے تھا ۔ اور اس لڑائی میں مسلمانوں کی جیت ہوئی ۔ ابو جہل کی قیادت میں ایک 1000 کی فوج کا مقابلہ 313 مسلمانوں سے تھا ۔ اور پھر بھی مسلمانوں کی جیت ہوئی کیونکہ اللّه نے اپنے نبی کے لئے اس جنگ میں آسمان سے 1000 فرشتوں کی فوج اتار دی تھی ۔ کیا سچ میں اللّه نے بدر کی جنگ میں اپنے نبی اور امّت کا ساتھ دیا تھا ؟ کیا بدر کی جنگ میں مسلمانوں کی طرف سے واقعی 1000 فرشتے بھی کفار کے ساتھ لڑے تھے ۔ اس پوسٹ میں ہم اسی بات پر غور کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
    تاریخ میں ایسی بوہت سی جنگیں ہو چکیں ہیں جن میں کم تعداد والی فوج نے اپنی بہادری سے اپنے سے بڑی تعداد والی فوج کو ہرایا ہو ۔ چمکور کی جنگ کو ہی دیکھ لیں محض چالیس بہادر سکھوں نے لاکھوں کی مغل فوج کو دھول چٹا دی تھی جن لوگوں کو اس جنگ بارے نہیں پتا وہ گوگل کی مدد حاصل کر لیں ۔پتا بھی کیسے ہو کیوں کہ ہمارے ہاں تو صرف مسلمان فاتحین کے ہی قصے سنائے جاتے ہیں ۔ مٹھی بھر انگریزوں نے اپنی حکمت عملی سے کروڑوں ہندوستانیوں کو اپنا غلام بنا لیا تھا یا آج کے دور کو ہی دیکھ لیں لاکھوں یہودی کروڑوں مسلمانوں پر بھاری پڑ رہے ہیں ۔ کوئی بھی فوج جیت کے لئے اپنی تعداد پے کم اور بہتر قیادت بہتر حکمت عملی بہتر ہتھیار اور اپنے حریف فوج کی جنگی چالوں کے بارے پہلے سے معلومات پر زیادہ منحصر ہوتی ہے ۔ جو کہ اپنے جاسوس بھیج کر حاصل کیں جاتیں تھیں ۔ بدر کی جنگ بھی کچھ اسی طرح کی تھی ۔ 313 مسلمانوں کا مقابلہ مکہ کی بڑی فوج سے تھا اور آخر مسلمانوں کی جیت بھی ہوئی ۔ اس جیت کو اللّه کی طرف سے بھیجے گئے 1000 فرشتوں کی مدد سے جوڑ کر میدان جنگ میں لڑنے والے بہادر 313 مسلمانوں کی بہادی کی دھجیاں اڑا دی گیں ہیں ۔ کیا سچ میں غزوہ بدر میں اللّه نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کی مدد کے لئے 1000 فرشتوں کی فوج اتاری تھی ؟ اس کہانی کو اگر زمینی حقائق کی مدد سے جاننے کی کوشش کریں تو معلوم ہوتا ہے یہ کہانی بلکل جھوٹ پر مبنی ہے ۔ ایک من گھڑت کہانی ہے ۔ ایک فرضی کہانی ہے ۔ کیسے ؟ آیئں جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر غزوہ بدر میں اللّه کی طرف سے بھیجی گئی 1000 فرشتوں کی فوج والی بات کو سچ مان لیا جاۓ تو پھر مسلمان فوج کی تعداد محض 313 نہیں بلکہ بڑھ کر 1313 ہو جاتی ہے ۔ اور دوسری طرف 1000 کی فوج ۔ یعنی 1000 کی فوج کا مقابلہ 1313 کی فوج سے تھا ۔ مسلمانوں کی طرف سے 313 عام انسان اور 1000 فرشتے ۔ اور دوسری طرف صرف 1000 عام انسان ۔ اگر یہ بات سچ ہے تو جنگ یقیناً یک طرفہ ہی ہونی چاہیے تھی ۔ کیوں کہ ایک طرف عام انسان اور دوسری طرف اللّه کے فرشتے تھے جنھیں لڑنے کا طریقہ بھی اللّه نے بتایا تھا کہ تمہاری تلوار کا وار ان کی گردن پر ہونا چاہیے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان فرشتوں کے پاس کوئی جادوئی طاقت ہوتی ۔ اور وہ ایک ہی پل میں دشمن فوج کی دھجیاں اڑا دیتے ۔ دشمن فوج کا ایک بھی سپاہی زندہ نہ بچتا ۔ لیکن ایسا ہوا نہیں ۔
    گھنٹوں چلنے والی اس جنگ میں دشمن فوج کے صرف 70 سپاہی مارے گئے ۔ اور میدان جنگ میں اللّه کے فرشتے موجود ہونے کے باوجود 14 مسلمان بھی مارے گئے ۔ وہ فرشتے جنھیں اللّه نے خود لڑنے کا طریقہ بھی سمجھایا تھا کہ دشمن کو کیسے مارنا ہے ۔ پھر بھی فرشتے اس جنگ میں بلکل خاموش رہے ۔ یہاں ایک بات اور سمجھ سے باہر ہے ۔ کہ قرآن میں ایک طرف تو اللّه خود کو سب سے بڑا کہتا ہے اور جو وہ صرف کہہ دیتا ہے وہ ہو جاتا ہے ۔ اگر ایسی ہی بات تھی تو بیچارے فرشتوں کو کیوں پریشان کیا ۔ آسمان سے اتر کر انھیں عرب کے تپتے ریگستانوں کی خاک چھاننا پڑی ۔ اللّه صرف کہہ دیتے اے دشمن برباد ہو جا وہ ویسے ہی برباد ہو جاتے ۔ لیکن ایسا کوئی معجزہ نہ اللّه نے دکھایا اور نہ ہی اس کے فرشتوں نے ۔ اگر ہم اپنی آنکھوں پر بندھی عقیدت کی پٹی اتار کر دیکھیں تو بدر کی جنگ دوسری جنگوں کی طرح ایک عام جنگ تھی ۔ اس جنگ میں اللّه کے فرشتوں کی شمولیت والی بات ایک من گھڑت کہانی کے سوا کچھ نہیں ۔ ایسی سبھی کہانیاں جنھیں معجزات سے جوڑا گیا ہے ۔ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ۔ صرف ضرورت ہے تو ہمیں انھیں اپنی آنکھوں پر بندھی عقیدت کی پٹی اتار کر پڑھنے کی ۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا ۔

  • جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط اول) تحریر: رانا بشارت محمود

    جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط اول) تحریر: رانا بشارت محمود

    ‏جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں اِس اشرف المخلوقات حضرتِ انسان نے اپنی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کی دنیا میں بہت ساری ایجادات کی ہیں۔ اُنہی میں سے ایک بہت بڑی اور حیران کُن ایجاد آج کے دور میں استعمال ہونے والے سمارٹ سسٹم موبائلز فون بھی ہیں۔

    ‏اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جہاں ہم نے اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کے آنے کے بعد اپنی زندگیوں میں استعمال کے ساتھ بہت ساری آسانیاں اور بے شمار فوائد بھی حاصل کئے ہیں۔ وہیں یہ موبائل فونز ہماری زندگیوں میں سے ہماری بہت ساری پرانی استعمال کی جانے والی چیزیں، یادیں، ہمارے ارد گرد کی دوستیاں اور بہت کچھ اپنے اندر نِگل بھی گیا ہے۔

    ‏چونکہ! میں اپنی اس تحریر میں سمارٹ سسٹم موبائلز کے ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے برے اثرات کے بارے میں لکھ رہا ہوں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ سمارٹ فونز کے آنے کے بعد ہمیں صرف نقصانات ہی ہوئے ہیں۔ ( بلاشبہ اِن کے بے شمار فائدے بھی ہوئے ہیں جن کا ذکر میں اپنی اسی سلسلے کی دوسری قسط میں کروں گا)۔ تو آج اس تحریر کے زریعے میں اپنے ناقص سے علم کے مطابق کوشش کروں گا کہ اِن سمارٹ فونز کے ہر طرف عام ہونے کے بعد ہماری زندگیوں پہ اس کے جو بُرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، اُن سب کا مکمل احاطہ کر سکوں۔

    ‏1 . پڑوس کی دوستیاں، آپسی میل جول و محبت اور ہمارے قیمتی وقت کے ساتھ ساتھ ہمارا سکون بھی نگل گیا ہے۔

    ‏مثال کے طور پر اگر آپ اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کے عام ہونے سے پہلے تک اپنی روز مرّہ کی زندگیوں پہ نظر دوڑائیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ آپ اپنے محلے داروں، اڑوس پڑوس کے لوگوں، رشتہ داروں اور یہاں تک کہ اِن محلے داروں ، گاوں یا قصبے کے لوگوں کے علاوہ دوسرے محلوں، گاوں یا قصبوں میں رہنے والوں سے بھی ہماری کتنی قریبی اور گہری دوستیاں ہوا کرتی تھیں۔

    ‏پھر اسی طرح ہمارا آپس کا میل جول اور ایک دوسرے سے پیار و محبت اور عزت سے پیش آنا، کتنا ہی زبردست اور چاہت سے بھرپور دور ہوا کرتا تھا۔ کہ ایک دوسرے کو ملنے، ایک ساتھ اکٹھے ہو کر بیٹھنے اور یہاں تک کہ ایک دوسرے سے کسی معاملے پہ بحث و تکرار کے لیے بھی کتنا وافر وقت ہوا کرتا تھا اور پھر ہمارا کتنی کتنی دیر تک آپس میں ایک جگہ بیٹھ کر ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کا کرنا، گپیں ہانکنا اور ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ کو اپنا دُکھ سُکھ سمجھ کر اس میں ہر وقت شامل بھی رہنا، ایک بہترین احساس تھا۔

    ‏اور پھر ہر اچھے و بُرے وقت میں ایک دوسرے کی مدد کے لئے بھی ہمہ وقت تیار رہنا، پھر اگر کبھی آپس میں کسی دوست کی ناراضگی ہو جایا کرتی تھی، تو سب محلے کے دوستوں نے مل کے اُن کی آپس میں صلح بھی کروایا کرنی اور ایسے معاملات میں بعض اوقات تو کئی کئی گھنٹوں اور پھر کبھی تو رات گئے تک آپس میں بات چیت کرتے ہی وقت گُزر جایا کرتا تھا کیونکہ تب کسی کے پاس بھی وقت کی کوئی کمی نہیں ہوا کرتی تھی اور ایک دوسرے سے پیار اور دوستیاں بھی سچی ہوا کرتی تھیں۔

    ‏اور پھر یہی آپسی میل جول ایک دوسرے کی عزت اور آپسی پیار میں بھی بے شمار اضافے کا باعث بنا کرتا تھا تو پیار و محبت کی اِسی پُر ستائش فضا کی وجہ سے ہماری زندگیوں میں بھی بے شمار سکون اور اطمینان ہوا کرتا تھا۔

    ‏لیکن پھر اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کے آنے کے بعد آہستہ آہستہ یہ سب کچھ بکھرتا چلا گیا اور ہر کوئی اپنے اِن سمارٹ سسٹم موبائلز تک محدود ہو کے رہ گیا ہے اور پھر اب ہر کوئی اپنا زیادہ تر وقت اِن سمارٹ سسٹم موبائلز پہ موجود سوشل میڈیا کے ذریعے (جن میں فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب، انسٹاگرام، واٹس ایپ، لنکڈ اِن، سنیپ چیٹ، ٹِک ٹاک اور دوسری بہت ساری ایپلیکیشنز شامل ہیں) اب ہم بہت سارے انجان، دور دراز اور اَن دیکھے لوگوں سے باتیں کر رہے ہوتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو نہ ہم کبھی ملے ہوتے ہیں اور نہ ہی کبھی ہماری ملنے کی امید ہی ہوتی ہے۔ اور اسی لئے اب ہماری دوستیاں بھی اِن موبائلز تک ہی محدود ہو کے رہ گئی ہیں۔

    ‏مگر اپنے اُن قریبی دوستوں، عزیز رشتہ داروں، محلے داروں اور دوسرے گِرد و نواح کے لوگوں کو ہم بالکل ہی بھول کر رہ گئے ہیں اور کبھی کبھار ہم انہیں، وہ بھی کسی خوشی یا غمی کے موقع پہ یا تو صرف میسج ہی بھیج کر کام چلا لیتے ہیں یا پھر زیادہ سے زیادہ دو چار منٹ کے لیے کال کر کے ان سے بات کر لیتے ہیں۔ اور میرے مطابق اِن سب قریبی لوگوں سے دوریوں کا باعث صرف اور صرف اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کا ہر طرف عام ہو جانا ہی ہے۔

    ‏اور پھر کیونکہ اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کے آنے سے پہلے تک نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا آپس میں بے دھڑک ہو کے بات چیت کرنا بالکل بھی ممکن نہیں ہوا کرتا تھا تو اِن موبائلز کے عام ہو جانے کے بعد بہت سے انجان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی آپس میں دوستیوں اور پھر اس سے بھی بڑھ کے ملاقاتوں تک کے ہونے کے بعد معاشرے میں بہت ساری برائیوں نے بھی جنم لے لیا ہے، جن کے بارے میں بھی ہمیں آئے روز خبریں اور حتٰی کہ ویڈیوز تک بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اور میرے مطابق ہمارے اِن نوجوانوں میں پھیلنے والی زیادہ تر برائیوں کا باعث اور دوسری بہت ساری وجوہات کے ساتھ ساتھ اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کا ہر طرف عام ہو جانا بھی ہے۔

    ‏اور اب آخر میں! میں اپنے ملک پاکستان کے نوجوانوں کو ایک پیغام بھی دینا چاہوں گا کہ اگر تو آپ اپنی زندگیوں کو سکون و اطمینان سے گزارنا چاہتے ہیں تو اپنے خاندان کے افراد، قریبی دوستوں، محلہ داروں، عزیز اور رشتہ داروں اور ظاہری طور پر موجود اپنے قریبی لوگوں سے اپنے تعلقات کو مضبوط بنائیں اور انہیں زیادہ سے زیادہ وقت بھی دیا کریں۔

    ‏اس کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق و کردار کو بھی مضبوط بنائیں اور کیونکہ اب یہ سمارٹ سسٹم موبائلز بھی ہماری مجبوری بن چکے ہیں تو جہاں تک ہو سکے سوشل میڈیا کے ذریعے انجان لوگوں سے ہونے والی دوستیوں کو اپنی نجی زندگیوں پہ اثرانداز نہ ہونے دیا کریں۔ (بلاشبہ! سوشل میڈیا پہ بھی ہمیں سب لوگ ایک جیسے نہیں ملتے ہیں اور ہمیں بہت سارے اچھے، پڑھے لکھے، سُلجھے ہوئے اور قابلِ احترام دوست بھی ملتے رہتے ہیں، جن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے اور اُن سے ملنے والے علمی تجربات سے بھی استفادہ کرتے ہوئے ہم اپنی عملی زندگیوں کو مزید بہتر سے بہتر بنا سکتے ہیں)۔

    ‏اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
    ‏وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين
    ‏دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ
    ‏ Twitter Handle: ⁦‪@MainBhiHoonPAK

  • جمہورکاپیغام تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    جمہوری پارٹیاں اگر خود کو جمہوری سمجھتی ہیں اور واقعئی اس ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے مخلص ہیں تو سب سے پہلے ہر پارٹی اپنے اندر جمہوریت پیدا کرے اپناجمہوری ڈھانچہ ترتیب دیں
    موروثیت کا خاتمہ کریں
    میرٹ کو سامنے رکھیں
    اک دوسرے پر گند بازی کے بجائے، اپنی خدمات کی بنا پر سیاسی جدو جہد کریں
    بلاول عہد کرے کہ میں وزیراعظم نہیں بنوں گا اور مستقبل کے لیے پاکستان کے پسماندہ علاقوں سے غریب کارکنوں کےچند پڑھے لکھے نوجوان تیار کرے ان کی میڈیا مہم چلائے ان کے علاقوں میں ان کا ورک کرے
    انہیں لوگوں سے میل جول رابطے میں سرگرم رکھے فلاحی کاموں میں ان کی مدد کرے

    مولانا فضل الرحمان اپنے بیٹے بھائیوں کو بھلے سیاست میں لائے مگر اعلیٰ عہدوں پر کارکنوں کو آگے لائے ان کی تربیت کرے اور اپنی پارٹی سے موروثیت ختم کرے

    شریف برادران اگر ملک میں حقیقی جمہوریت کے لیے سنجیدہ ہیں تو الیکشن کمیشن کے ادارے کو بہتر بنوانے میں اپنا کردار ادا کریں
    ایسی قانون سازی کریں کہ ملکی ادارے مل مالکان کے حق میں غلط استعمال نہ ہوں

    شریف برادران بھی اپنی بیٹی کے ذریعے پسماندہ علاقوں کی پڑھی لکھی بیٹیوں کی الیکشن مہم چلائیں انہیں اپنے علاقوں اور عوام میں متعارف کروائیں

    قانون سازی کے لیے حکومت پردباو ڈالیں کہ الیکشن کمشن قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے لیے کورس متعارف کروائے جسے پاس کر نے کے بعد ہی کوئی میمبر کسی حلقے سے الیکشن لڑنے کا اھل ہو

    اگر انہوں نے یہی گھوڑے گدھے خرید کر سیاست کرنا ہے تو ایسی جمہوریت سے یہ قوم لنڈوری بھلی

    چند خاندانوں کو مضبوط کرکے آپ نے قوم کو ان کا غلام بنا دیا
    آپ اگر قومی خدمت میں واقعی سنجیدہ ہیں اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرنے کے لیے کوئی پروگرام تشکیل دیں
    جھوٹ اور بہتان بازی سے آپ نے اپنا وقار کھودیا
    اقتدار کی خاطر آپ نے اک دوسرے کے خلاف جو جھوٹ گھڑے یا تو ان کے سچ ہونے کا یقین دلائیں یا پھر اگر وہ جھوٹ تھے تو قوم سے معافی مانگیں

    ہر شخص تو فریب نہیں دیتا
    مگر اب اعتبار زیب نہیں دیتا

    قوم سے اس بات پر معافی مانگیں کہ ہارس ٹریڈنگ کو فروغ دے کر آپ نے مافیاز جنم دیے، جنہوں نے ہر حکومت سے اپنا لاڈ منوایا ہے
    ہردور میں سارے عوام خصوصاً کسانوں نے مافیاز کے ہاتھوں ذلالت اٹھائی
    کسانوں نے ریٹ نہ ملنے پر اپنی کپاس جلائی، کبھی گنے کے کھیت جلائے
    جمہوری حکومتوں کی عین ناک تلےگندم کا باردانہ گم ہوتا رہا، کسان دربدر رہا
    چاول کا ریٹ تب اچھا بنا جب کسان کے ہاتھ سے نکل گیا
    ہر دور میں لیبر کے ساتھ نا انصافی
    جمہوری حکومتوں میں جمہور بھوک سے مرتی رہی
    مگر
    بڑے بڑے تاجروں کےکروڑوں کے قرضے معاف کردیے جاتے رہے
    آپ نے ہر ادارہ جاگیردار سیاست دانوں کے ہاتھ میں دے دیاجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ؟
    انہوں نےہر ادارے ہر شہر میں اپنے بندے بھرتی کرادیے
    یوں غریب لوگ قطاروں میں دھکے کھاتے رہے
    مگر؟
    سیاسی خط یاچٹھی والے لوگوں کو خصوصی پروٹوکول ملنے لگا
    کسی بھی ادارے کی سیاست میں مداخلت جائز نہیں
    اگر
    اس جواز کو غلط بنانا ہےتو؟
    آپ کو تاجر کے بجائے لیڈر بننا پڑےگا

    تو؟؟؟
    گھرسے قربانیوں کا سلسلہ شروع کریں
    یہ قوم بڑی سخی ہے یہ آپ کو معاف کردے گی
    آپ کے اخلاص پرپھرسے مر مٹے گی
    اس قوم نے آپ کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں بہت مرلیا
    اب کوئی تو ہو جو اس کی خاطر مرے

    ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
    وہ اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے

    Doctor Rahii

  • اسلامی یورپ کا خوف  تحریر: محمد ذیشان

    اسلامی یورپ کا خوف تحریر: محمد ذیشان

    مغرب اسلام سے خوفزدہ ہے۔ اس خوف کے دو رخ ہیں۔ ایک پہلو مسلمانوں کی نسلی خودکشی اور یوروپی اقوام کی نسلی خودکشی ہے۔ دوسرا پہلو اسلام کا نظریاتی غلبہ ہے۔ خوف کے دونوں رنگ مغرب کے چہرے پر صاف نظر آتے ہیں.
    معروف اسرائیلی اخبار اروت شیوا کے ایک اطالوی کالم نویس گلیئو میوٹی نے ایک تفصیل میں اسلام کو خوفزدہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: "مسلمان اور اسلام پسند ایک ایسے براعظم پر جمع ہورہے ہیں جس کی مقامی آبادی اور تہذیب ختم ہو رہا ہے۔ یوروپ کو ہتھیار ڈالنا نہیں چاہئے ، ورنہ طویل عرصے تک یورپ میں اسلامی خلافت کا بنیادی خواب پورا ہوگا۔ یورپ میں صدیوں سے تعمیر ہونے والی تہذیب سیکولرائزیشن کے ہاتھوں گرتی جارہی ہے۔ گرجا گھر ویران ہیں ، برسلز ، میلان ، لندن ، ایمسٹرڈم ، اسٹاک ہوم اور برلن سبھی متاثر ہیں۔ یہاں تک کہ پوپ فرانسس نے یوروپ کے بارے میں بات کرنے سے انکار کردیا ہے ، گویا وہ یورپ سے مایوس ہے۔ لوگوں کو جنسی خوشی ، جسمانی نگہداشت اور مادی آسائشوں کے لئے افیون دی گئی ہے۔ 2015 تک عرب دنیا میں مسلم آبادی 37.8 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ صرف افریقہ میں ، مسلمان سن 2050 تک 95 ملین کو عبور کر لیں گے۔ یورپ میں پیدائش پر قابو پانے اور قدرتی آفات سے آبادی کو دسیوں لاکھوں کی کمی واقع ہوگی۔ بحیرہ روم کے اطراف ، یوروپ کو پھر سے للکار رہے ہیں۔ ہم اسلام کے خلاف سنجیدہ جنگ نہیں لڑ رہے ، ہم اپنے لوگوں کو اس بات پر راضی کر رہے ہیں کہ وہ دہشت گردی (اسلام) کے ساتھ رہنا سیکھیں۔ یقینا. ، یورپ اسلام سے خوفزدہ ہے ، اور اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہا ہے۔ ”

    اقتباس لمبا ہے ، لیکن بہت اہم ہے۔ اسلامی مفکر سید مودودی نے اپنی بے مثال ریسرچ ‘اسلام اینڈ برتھ کنٹرول’ میں ، اس وقت مغرب کے مستقبل کا ایک معنی خیز مشاہدہ کیا تھا جب یوروپ عروج پر تھا۔ سید صاحب یقین کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ پیدائشی کنٹرول خاموشی سے مغربی تہذیب کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔ مندرجہ بالا حوالہ صورتحال کی وضاحت کرتا ہے۔ مذہب اور فطرت نے وقت کے ساتھ ہی یورپ کو واپس لایا ہے۔

    ایک اور مثال خوف کا دوسرا رنگ ہے۔ "یہ الفاظ کا بہت محتاط انتخاب تھا ،” مشہور جرمن اخبار ڈائی ویلٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ، ریاستہائے متحدہ امریکہ کے نیشنل ریویو کے ایک پالیسی سینئر ، اینڈریو میککارتی نے کہا۔ اس کے بارے میں سوچو ، لوئیس نے یہ نہیں کہا کہ یورپ میں مسلمانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہوگی۔ نہیں ، پروفیسر لیوس نے کہا کہ یورپ اسلامی ہو جائے گا۔ ہم یہاں مسلمانوں کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں ، ہم اسلام کی بات کر رہے ہیں۔ انفرادی سطح پر ، بہت سارے مسلمان امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن اسلام کامل تسلط چاہتا ہے … لہذا ، اب جب ایک اور جہادی کا قتل کیا گیا ہے تو ، لندن اس کا نشانہ بن گیا ہے۔ خالد مسعود ، جو واضح آسمانی احکامات پر غیر مسلموں سے لڑ رہا تھا ، ویسٹ منسٹر پل میں راہگیروں کی طرف سے گزر رہی تیز رفتار کار میں چلا گیا۔ تقریبا پچاس افراد زخمی ہوئے ، چار ہلاک ہوگئے۔ باسٹھ سالہ ویٹ لفٹر مسعود کا مجرمانہ ریکارڈ تھا اور اسے خنجر کے کئی حملوں میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ مسعود برمنگھم میں ایک طویل عرصے سے مقیم ہے ، یہ شہر جہاں اسلامی قانون بہت سے علاقوں کو تیزی سے گھیر رہا ہے ، جو غیر مسلموں کے لئے نو گو زون بن چکے ہیں۔ جب ہم اسلام کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ، یہ صرف مذہبی رسومات کا نظام نہیں ہے۔ اسلام ایک مکمل تہذیب ہے ، جو اسلام کی آفاقی شناخت سے وابستہ ہے۔ اس کی اپنی ایک تاریخ ، قواعد ، اقدار اور قوانین ہیں۔ یہ غیر مغربی نہیں بلکہ مغرب مخالف ہے۔ منہاج الاسلام ، بطور اخوان المسلمون کے بانی ، حسن البنا ، کہا کرتے تھے ، وہ سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے غالب ہے۔ مغرب (اسلامی تسلط) کے سیاسی اور اشرافیہ حقیقت پر نگاہ ڈالتے رہے۔ ان کے ذہن میں ، مسلم سماجی گروہ دوسرے سماجی گروہوں کی طرح ہیں۔ نہیں ، اسلام مکمل خودمختاری چاہتا ہے۔ یہ آج کے معاشروں میں شریعت نافذ کرتا ہے ، اور کل کے جہادی پیدا کرتا ہے۔ اس کی ایک مہم جوئی ویسٹ منسٹر برج پر دیکھنے کو ملی۔ "(لندن میں اسلام اور جہاد از اینڈریو سی میکارتھی)۔ یہ بیان خوف کا ایک اور رنگ ہے۔ اس ریاست کی حالت ارتقائی ہے ، اسے ترقی یافتہ نہیں کہا جانا چاہئے۔ یہ روایتی طور پر جوش و خروش کا ایک مرکب ہے۔
    معروف مورخ برنارڈ لیوس کا قول 100٪ درست ہے ، لیکن یہ خیال کوئی نیا نہیں ہے۔ مشہور یوروپی مصنف جارج برنارڈ شا نے سن 1936 میں اسلامی یورپ کی پیش گوئی کی تھی۔اس سے پہلے ہی علامہ محمد اقبال اور سید ابواللہ مودودی مغرب میں اسلام کے طلوع ہوتے سورج کو دیکھ رہے تھے۔ یورپ کا اسلامی تسلط نظریاتی ، ثقافتی ، سائنسی ، نظریاتی اور نفسیاتی نوعیت کا ہے۔ یورپ میں سائنس کی پہلی عظیم پیشرفت کے پیچھے بھی اسلام ایک محرک قوت رہا ہے۔
    تو ، یہ سچ ہے۔ یورپ اسلام سے خوفزدہ ہے۔ یہ خوف بلا وجہ نہیں ہے۔بہت سارا دین فطرت کا تقاضا ہے۔

    By.
    Muhammad Zeeshan
    @Zeeshanvfp

  • سیکرٹری الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات میں دھاندلی کے تمام الزامات مسترد کر دیئے

    سیکرٹری الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات میں دھاندلی کے تمام الزامات مسترد کر دیئے

    سیکرٹری الیکشن کمیشن آزاد کشمیر محمد غضنفر خان نے پی پی اور ن لیگ کی جانب سے آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی اور کم ٹرن آؤٹ کے تمام الزامات مسترد کردیئے ہیں-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن آزاد کشمیر محمد غضنفر خان نے کہا کہ دھاندلی کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں نہ ہی کوئی ثبوت ملا ،چند حلقوں کو چھوڑ کرمجموعی طور ووٹنگ پرامن رہی، کسی حلقے سے ووٹنگ بند ہونے یا نامکمل ہونے کی رپورٹ نہیں ملی تاہم قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے،ذمہ داروں کو سخت سزا ملے گی ۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ پولنگ کا عمل مقررہ وقت صبح8بجے سے بغیر کسی تعطل کے پرامن انداز سے جاری رہا،مجموعی طورپرامن و امان کی صورتحال اطمینان بخش رہی-

    میں بالکل مایوس نہیں ہوں ،ن لیگ نے بہت اچھا الیکشن لڑا ہے ،مریم نواز کی ووٹرز اور ورکرز کو شاباش

    انہوں نے کہا کہ کل5118پولنگ سٹیشنز میں سے صرف 16 پولنگ سٹیشنز پر معمولی نوعیت کے مسائل سامنے آئے ہیں،پونچھ ڈویژن کے9،میرپور ڈویژن کے5اور مظفرآباد ڈویژن کے 2پولنگ سٹیشنز پرمعمولی نوعیت کے مسائل سامنے آئے، مجموعی طور پر 99فیصدپولنگ پرامن رہی ہے ۔

    واضح رہے کہ مریم نواز نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ میں نے نتائج تسلیم نہیں کیے ہیں اور نا کروں گی، میں نے تو 2018ء کے نتائج بھی تسلیم نہیں کیے نا اس جعلی حکومت کو مانا ہے، اس بے شرم دھاندلی پر کیا لائحہ عمل ہو گا؟ جماعت جلد فیصلہ کرے گی-

    آزاد کشمیر الیکشن :میں نے نتائج تسلیم نہیں کئے نہ کروں گی مریم نواز

  • مسلم لیگ کے وارث بیشمار: قائداعظمؒ کی نظریاتی میراث کا وارث کون؟  ‏تحریر: محمد اکرم

    مسلم لیگ کے وارث بیشمار: قائداعظمؒ کی نظریاتی میراث کا وارث کون؟ ‏تحریر: محمد اکرم

    ‏ ⁦

    ‏پاکستان ایک ایسی نظریاتی مملکت ہے جو دو قومی نظریہ کی اساس پر معرض وجود میں آئی ورنہ 14 اگست 1947ء سے پہلے دنیا کے نقشے پر پاکستان نامی کسی ملک کا کوئی وجود نہ تھا۔

    ‏دو قومی نظریہ کی بنیاد کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ہے جو مسلم قوم کو دیگر اقوام سے الگ تشخص عطا کرتا ہے۔ حبشہ کے بلال حبشیؓ اور روم کے صہیب رومی کو محمد ﷺ کی قوم میں شامل قرار دیتا ہے۔ محمد ﷺ کے سگے چچا عرب سردار ابولہب کو محمد ﷺ کی قوم سے خارج قرار دیتا ہے کیونکہ وہ کلمہ گو نہیں تھا۔

    ‏عربی زبان کا معروف قول ہے تعرف الاشیاء باضدادھا ترجمہ: چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ پس دو قومی نظریہ کو سمجھنے کے لیے متحدہ قومیت کے نظریہ کو جاننا ازبس ضروری ہے۔ ہندوستان کبھی بھی یکجا حالت میں موجود نہ تھا۔ یہ مسلم حکمران تھے جنہوں نے مختلف اکائیوں میں تقسیم راجواڑوں کو فتح کرنے کے بعد ہندوستان کو ایک اکائی اور وحدت کی شکل دی تھی۔

    ‏پھر انگریز نے ہندوستان پر قبضہ جما لیا۔ جب یہ قبضہ برقرار رکھنا ممکن نہ رہا تو ہندوستان کے مستقبل کے بارے میں سوچ بچار شروع ہوئی۔ کانگرس اس نظریہ کی پرچارک تھی کہ قومیت کی بنیاد وطن ہے، مذہب نہیں لہذا ہندوستان کو اسی حالت میں آزادی دے دی جائے۔ آل انڈیا مسلم لیگ مسلمانوں کو ایک جدا قوم تصور کرتی تھی جس کی تہذیب تمدن روایات تاریخ ہندوؤں سے بالکل مختلف ہے۔ کانگرس اور اس کی ہمنوا جمیعت علماء ہند، مجلس احرار، سرخپوش تحریک نے وطنی قومیت کے نظریہ کا شد و مد سے پرچار شروع کر دیا۔ علامہ اقبالؒ وفات سے پہلے شدید علالت کے دور سے گزر رہے تھے جب انہوں نے قومیت پر فکری مباحث کے دوران مولانا حسین احمد مدنی کے جواب میں ایک معرکۃ الآراء مقالہ بعنوان ‘جغرافیائی حدود اور مسلمان’ تحریر کیا جو اخبار احسان میں مؤرخہ 9 مارچ 1938ء کو شائع ہوا جس میں دریا کو کوزے میں سموتے ہوئے علامہ اقبالؒ نے یہ ناقابل فراموش تاریخی الفاظ رقم کیے تھے:۔

    ‏[حضور رسالت مآب ﷺ کے لیے یہ راہ بہت آسان تھی کہ آپؐ ابولہب یا ابوجہل یا کفار مکہ سے یہ فرماتے کہ “تم اپنی بت پرستی پر قائم رہو مگر اس نسلی اور وطنی اشتراک کی بناء پر جو ہمارے اور تمھارے درمیان موجود ہے، ایک وحدت عربیہ قائم کی جا سکتی ہے۔ اگر حضور ﷺ نعوذ باللہ یہ راہ اختیار کرتے تو اس میں شک نہیں کہ یہ ایک وطن دوست کی راہ ہوتی لیکن نبئ آخر الزمان ﷺ کی راہ نہ ہوتی۔”]

    ‏اس مقالے نے وطنی قومیت کے نظریہ کی بنیاد پر برسر عمل جمیعت علماء ہند، مجلس احرار اور سرخپوش تحریک کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ کانگرس کے اکھنڈ بھارت کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔ 1946ء کے انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ کو تاریخی کامیابی حاصل ہوئی اور وہ مسلمان قوم کی بلاشرکت غیرے واحد نمائندہ جماعت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی۔ کانگرس کو تقسیم ہند نوشتۂ دیوار نظر آئی۔ قیام پاکستان کی منزل قریب تر آ گئی۔ بالآخر قیام پاکستان کا اعلان ہوا۔ قائداعظمؒ نے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا۔ لیاقت علی خان وزیراعظم مقرر ہوئے۔ المیہ یہ ہوا کہ قائداعظمؒ کی وفات اور لیاقت علی خان کی ایک افغان کے ہاتھوں پراسرار شہادت کے بعد مسلم لیگ کا نظریاتی تشخص بیحد مجروح ہوا۔ وطنی قومیت کے پرچارک باچا خان، عبدالصمد اچکزئی، کانگرسی مولوی حسب سابق سرگرم رہے۔ اکھنڈ بھارت کی علمبردار جمیعت علماء ہند کی باقیات نے قیام پاکستان کی حامی جمیعت علماء اسلام کو ہائی جیک کر لیا۔ یہ سب لوگ قیام پاکستان کی مخالفت کے سابقہ مؤقف پر قائم رہے۔ دو قومی نظریہ کے منکر رہے۔ قیام پاکستان کو غلط قرار دیتے رہے۔ اسی فکر و سوچ کو اپنے کارکنان کے ذریعے آگے بڑھاتے رہے۔ ان کے نظریاتی لٹریچر اور سٹڈی سرکلز میں قیام پاکستان کو انگریز کی سازش قرار دیا جاتا رہا۔ بدقسمتی کی انتہا دیکھیے کہ مسلم لیگ قائداعظمؒ علامہ اقبالؒ کے افکار کو اسی شد و مد سے اپنے کارکنان اور عوام تک پہنچانے میں ناکام رہی۔ جن جماعتوں کو تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ نے کارنر کر دیا تھا، وہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھتے رہیں۔ نوبت یہاں تک آ گئی کہ ہر دور میں قائداعظمؒ کی جماعت مسلم لیگ کے نام پر مختلف دھڑے برسر عمل ضرور رہے مگر قائداعظمؒ کی فکری وراثت کو لے کر چلنے والا کوئی دھڑا موجود نہ رہا۔ تاریخ کا عظیم ترین المیہ ہے کہ قائداعظمؒ مزارقائدؒ میں دفن ہیں مگر ان دھڑوں نے ان کی فکری وراثت کے لاشے کو بے گور وکفن پھینک دیا ہے۔ اپنے باباؒ جان کی فکری وراثت کو لاوارث بے گور و کفن دیکھ قائداعظمؒ کے بیٹے بیٹیاں خون کے آنسو روتے ہیں۔ وہ شدید کرب سے دوچار ہیں۔ بابائے قوم کی روح بھی شدید ذیت میں مبتلا ہے۔ علامہ اقبالؒ کی روح بھی مزار اقبالؒ میں بےچین و بیقرار ہیں۔ اگر کوئی سکون چین قرار کی زندگی بسر کر رہا ہے تو وہ بابائے قوم کی نشانی مسلم لیگ کے نام پر قائم مختلف دھڑوں کی قیادتیں ہیں جنہوں نے قائداعظمؒ کی فکری وراثت کے لاشے کو لاوارث کی طرح بےگور و کفن چھوڑ دیا ہے جسے ان کے نظریاتی مخالفین گدھ کی طرح بیدردی سے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ یہ نظریاتی مخالفین قائداعظمؒ علامہ اقبالؒ کی فکری وراثت کے لاشے کی روز بیحرمتی کرتے ہیں مگر بابائے قوم کی فکری بیحرمتی پر بےحمیتی بےشرمی کی چادر اوڑھے خوابِ غفلت کی گہری نیند سونے والی مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کی قیادتوں کی سوئی ہوئی غیرت جاگ ہی نہیں رہی۔ کیا ان قیادتوں کو صورِ اسرافیل کے علاوہ کوئی چیز جگا سکتی ہے؟

  • طلباء میں منشیات کی لت    تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    طلباء میں منشیات کی لت تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    پاکستان میں 50 فیصد سے زیادہ اسکول کے طلباء منشیات کے عادی ہیں۔ یہ طلباء زیادہ تر نجی اسکولوں کے ہیں جہنیں ان کے اہل خانہ نے خراب کیا ہے اور ایسے طلبا اپنے برے دوستوں کی صحبت میں رہ کر منشیات کے عادی بن جاتے ہیں ۔طلباء میں منشیات کی لت ایک تشویش ناک صورتحال ہے جو پاکستان کے مستقبل کے لئے خطرناک ہے اور جلد از جلد اس سے نمٹا جانا چاہئے۔

    دیہی اسکولوں کے مقابلے شہری علاقوں کے اسکولوں میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہر میں اسکول کے بچوں کو زیادہ آزادی حاصل ہے اور وہ منشیات کے متحمل ہونے کے لئے زیادہ سے زیادہ جیب رقم رکھتے ہیں۔ ایک این جی او کی ایک رپورٹ کے مطابق ، اسلام آباد کے مشہور نجی اسکولوں کے 53٪ طلباء منشیات کے عادی ہیں۔ یہ حیرت انگیز حد تک زیادہ ہے کیونکہ اس سے ملک کے دارالحکومت میں اسکول جانے والی نصف سے زیادہ آبادی بن جاتی ہے۔لاہور کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے بارے میں ایک اور رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ ملک میں اسکول جانے والے کل طلبا میں 57٪ کم از کم ایک نشہ استعمال کررہے تھے۔ ایک اور سروے میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے ہر 10 میں سے ایک طالب علم منشیات کا عادی تھا اور ایلیٹ تعلیمی اداروں کے تقریبا 50 50٪ طلبا منشیات کے عادی تھے

    توجہ فرمائیں!

    بلوغت کے زمانے سے جب نوعمر نوجوان نئی چیزوں کی کھوج شروع کرتے ہیں تو ، اسکول جانے والے طلباء منشیات کی لت میں مبتلا ہوجانا شروع کردیتے ہیں۔ یہ محض تفریح ​​کے لئے پارٹیوں اور حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں شروع ہوتا ہے لیکن وہ جلد ہی اپنے آپ کو مہاماری کی طرف گہرائی میں پائے جاتے ہیں

    اسکول جانے والے طلباء کو دوسرے طلباء کا مذاق اڑاتے ہیں انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ بالائی اور اشرافیہ طبقے کے بگڑے ہوئے خطوط کو اس حد تک آزادی دی جاتی ہے کہ وہ اپنی حدود کو بھول جاتے ہیں اور دوسروں پر بھی زور دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

    بدقسمتی سے ، وہ بچہ جس کو سب کے سامنے تنگ اور ہراساں کیا جاتا ہے ،ان کا مذاق بنایا جاتا ہے، وہ بچے بہت سے ذہنی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ جن طلباء کو ہراساں کیا جاتا ہے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے جب ان کا دماغ انہیں صحیح اور غلط کی تمیز بھلا دیتا ہے تو وہ منشیات کے عادی ہوجاتے ہیں اس کے برعکس ، وہ لوگ جو جارحانہ اور عدم رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ جو ان طلباء کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں ابتدائی طور پر منشیات میں شامل ہونا شروع کردیتے ہیں۔پاکستان میں نجی اسکولوں میں بہت سے لطف اندوزیاں ، تقریبات اور پارٹیاں ہیں جہاں طلباء اپنی تعلیم پر توجہ نہیں دیتے ہیں اور اسکولوں کو بھاری فیسوں کے عوض وہ ان سے بھی زیادہ آرام اور تفریحی وقت کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    حکومت وقت سے گزارش ہے کہ ہمارے روشن مستقبل کو منشیات کے جان لیوا مرض سے جان چھڑاونے کے لیے منشیات پہ پابندی لگائیں جائیں اور اسکی روک تھام پر توجہ دی جاٸیں اور منشيات سمگلنگ کرنے والوں کو سخت سزاٸیں دی جاٸیں!!

    ‎@JahantabSiddiqi