Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ماں میری پیا ری ماں        ازقلم :عظمی ربانی

    ماں میری پیا ری ماں ازقلم :عظمی ربانی

    ماں۔۔۔۔۔میری پیا ری ماں

    ازقلم :عظمی ربانی

    پیاری ما ں تیرے شفیق چہرے کی چمک
    دل نے تو کیا روح نے بھی………

    تجھ سے ہی محبت کی ہے

    میں جہاں بھی جاؤں تیری دعائیں ساتھ چلتی ہیں
    رب نے ماں کی صورت میں……..

    مجھ پہ عنایت کی ہے

    تیری صورت نگاہوں سے ہوتی نہیں اوجھل
    میری نظروں نے ہر آن اس کی….

    حفاظت کی ہے

    میری ماں پہ ہزاروں رحمتیں ہوں نچھاور
    دل سے نکلی دعاؤں نے یہی….

    چاہت کی ہے

    میرے پیاروں پہ ماں کاسا یہ رہے سلا مت
    اس کی خدمت نے تو ہمیں جنت کی ۔۔۔ ۔۔

    بشا رت دی ہے

  • توبہ . تحریر : روبینہ سرور

    توبہ . تحریر : روبینہ سرور

    ہر گناہ سے توبہ کرنا واجب ہے- اگرگناہ کا تعلق بندے اور اللہ کے درمیان ہو اور کسی انسان کا حق اس سے متعلق نہ ہو تو اس کے لئے تین شرائط ہیں-
    *پہلی شرط یہ ہے کہ وہ اس گناہ سے لا تعلق ہو جائے-
    *دوسری یہ ہے وہ اس کے ارتکاب پر نادم ہو-
    * تیسری یہ ہے وہ اس بات کا پختہ ارادہ کر ے کہ دوبارہ کبھی اس گناہ کا ارتکاب نہیں کرے گا-
    اگر ان تین میں سے کوئی ایک بھی شرط موجود نہ ہوئی تو تو بہ درست نہیں ہو گی-
    اگر گناہ کا تعلق کسی آدمی کے ساتھ ہو تو اس کی شرائط چار ہو ں گی- تین شرائط کے ہمراہ
    *چوتھی یہ ہے کہ آدمی اس حقدار کے حق سے بری الزمہ ہو یعنی اگر مال وغیرہ تھا تو اسے وہ واپس کر ےاور اگر حدقذف وغیرہ کا معاملہ ہو تو اپنے آپکو اس کے حوالے کر گیااس سے معافی مانگے اور اگر غیبت ہو تو اسے بھی معاف کروائے.

    اللہ اپنے بندے کی توبہ سے جب وہ بندہ اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے اس شخص سے زیادہ خوش ہو تا ہے جو اپنی سواری پر کسی جنگل میں موجود ہو اور پھر وہ سواری اسے چھوڑ کر چلی جائے اس سواری پر اس کے کھانے اور پینے کا سامان ہو اور وہ شخص اس سواری سے مایوس ہو کر درخت کے پاس آئے اور اس کے ساۓ میں لیٹ جاۓ جبکہ وہ اس سواری سے مایوس ہو چکا ہو ابھی وہ اسی حالت میں ہو کہ وہ سواری اس کے پاس کھڑی ہوئی ہو تو وہ اس کی لگام تھام کر یہ کہے خوشی کی شدت کی وجہ سے یہ کہے اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا پروردگار ہوں یعنی خوشی کی شدت کی وجہ سے غلط بول دے.

    @rsjanbaz

  • نیا پاکستان محض نعرہ یا حقیقت تحریر: فیضان علی

    نیا پاکستان محض نعرہ یا حقیقت تحریر: فیضان علی

    سیاسی پارٹیاں عموماً عوام کی توجہ مبذول کرنے لیے سیاسی نعرے کا سہارا لیتی ہیں اور سیاسی نعرے کی بات کی جائے تو پیپلز پارٹی کا تذکرہ عمومی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کا وجود ہی غریبوں کی پارٹی کا چورن بیچتے ہوئے آیا جنہوں نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ بلند تو کیا مگر ماضی شاہد ہے اور حقیقت واضح ہے کہ یہ نعرہ صرف نعرہ ہی رہا نہ تو غریب کو کھانے کو روٹی ملی نہ سر ڈھانپنے کو کپڑا اور نہ رہنے کو گھر کی چھت بلکہ آج بھی سندھ کے لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہے جہاں پیپلز پارٹی 13 سال سے حکومت میں ہے اب اس کا موازنہ وفاق سے تو نہیں کیا جا سکتا پر اگر اسکا پنجاب حکومت سے کیا جائے جہاں تحریک انصاف کو آئے محض 3 برس ہی ہوئے وہاں نہ صرف وفاق کو فالو کرتے ہو غریبوں اور راہ گیروں کے لیے پناہ گاہیں قائم کی بلکہ خیبر پختون خواہ کے صحت انصاف کارڈ کے سٹرکچر کو فالو کرتے ہوئے پنجاب میں صحت کارڈ متعارف کیا جس سے غریب کسی بھی اسپتال چاہے پرائیویٹ ہو یا سرکاری مفت علاج کروا سکے گا اور یہ اب صرف خیبر پختون خواہ یا پنجاب تک محدود نہیں بلکہ اب بلوچستان، گلگت بلتستان میں بھی یہ منصوبہ شروع ہوچکا، یہی تک نہیں بلکہ اب حکومت آسان اقساط پہ قرضے بھی دے رہی ہے تاکہ ہر غریب آدمی کا اپنا گھر ہونے کا خواب ادھورا نہ رہے. نعرہ صرف ایک نعرہ نہیں ہوتا بلکہ امید کی کرن ہوتی ہے جس سے لوگوں کے جذبات جڑ جاتے ہیں اور اگر ان سے کیے گئے وعدے پورے نہ ہوں تو وہ امید ٹوٹ جاتی ہے عمران خان نے پاکستان کی عوام کو مایوس نہیں کیا اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آزاد کشمیر کے الیکشن میں عوام آزمائے ہوؤں کو آزماتی ہے یا کشمیر کے حقیقی سفیر کو.

    @FMAliPTI

  • میری کہانی  میری زبانی . تحریر اسامہ خان

    میری کہانی میری زبانی . تحریر اسامہ خان

    میرا نام اسامہ جہاں زیب خان ہے لیکن سب اسامہ خان کے نام سے جانتے ہیں میرا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے میں 2000 ملتان میں پیدا ہوا، اپنی پیدائش کے بعد تقریبا ایک سال ملتان رہا اپنے والدین کے پاس اس کے بعد میں جھنگ اپنے ماموں کے پاس آ گیا یہاں میں نے پرائمری تعلیم الحمد ماڈل سکول سے مکمل کی اس کے بعد مڈل اور میٹرک میں نے گورنمنٹ ایم بی ہائی سکول ریل بازار جھنگ سے 2016 میں مکمل کی اس کے بعد میں نے گورنمنٹ ڈگری کالج ادھی وال جھنگ میں داخلہ لیا۔ یہ وقت زندگی کا بہت مشکل وقت تھا جب میں نے 11th کلاس کے پیپر داہے تو اس دوران ایک ہوٹل پرویٹربن کر 2 ماہ کام کیا اور اپنے اخراجات پورے کیے اور جب کالج دوبارہ کھل گے تو 12th کلاس میں اللہ کی طرف سے ہمارے انگلش کے استاد تبدیل ہوئے اور انہو نے ہم میں خدمات خلق کا جذبہ اجاگر کیا اس دوران میرا روجہان خدمت خلق وسیاسی کاموں کی طرف گیا تو خدمت خلق کے لئے 2018 میں ٹیم سرعام جھنگ میں بطور صدر شمولیت اختیارکرلی اورخدمت خلق کرنا شروع کردی جس میں نے بطور صدراپنے خون کا عطیہ دے کر اپنی ٹیم کا جذبہ ابھارا اور ایسے ہی ہم آج بھی جہاں خون کی ضرورت ہوتی ہے ہمارے جانباز خون کا عطیہ دینے وہاں پہنچ جاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہم نے بہت سے اسکولوں کالجز اور اکیڈمیز میں آگاہی کیمپ لگائے تاکہ لوگوں میں خدمت خلق کا جذبہ پیدا کر سکیں مجھے آج فخر ہے کیا اللہ پاک نے مجھے اپنے بندوں کی خدمت کرنے کا موقع دیا اور ساتھ ہی ساتھ میں نے سیاست میں بھی شمولیت اختیار کرلی وقت گزرتا گیا سیاسی و سماجی کام چلتے رہے 2019 میں میری کارکردگی دیکھتے ہوئے مجھے محترمہ غلام بی بی بھروانہ ایم این اے جھنگ کا فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا بنا دیا گیا اس دوران جھنگ کے تمام ہونے والے ترقیاتی کاموں اور جھوٹی افواہ او سے عوام کو آگاہ کیے رکھا کیونکہ ہمارے سیاسی مخالفین جو کہ جھنگ میں 15 سال حکومت کرتے رہے لیکن سوائے اپنے کاروبار اورمفاد کے علاوہ کبھی بھی جھنگ کے لیے انہوں نے نہیں سوچا.

    محترمہ غلام بی بی بھروانہ وہ واحد لیڈر ہیں جنہوں نے جھنگ کے لیے بلاتفریق ترقیاتی کام شروع کروائے، میری جدوجہد دیکھتے ہوئے 2021 میں مجھے پاکستان تحریک انصاف سوشل میڈیا ٹیم ڈسٹرکٹ جھنگ کا ہیڈ بنا دیا گیا میری جدوجہد چلتی رہی اور میرے سیاسی تعلقات بڑھتے گئے میں نے سیاسی تعلقات کو ہمیشہ کوشش کیا کہ خدمت خلق میں اور مظلوموں کو انصاف دلانے میں استعمال کرو، سیاست میں مجھے بھائیوں جیسے اچھے دوست ملے جیسے کہ وزیر آباد سے کوڈینیٹر سی ایم پنجاب رانا عابد، فوکل پرسن سی ایم پنجاب اظہر مشوانی، اور یہاں اگر میں اپنے چاچو کا ذکر نہ کرو تو زیادتی ہوگی عمران شیخ جو کہ ایم این اے جھنگ اور سابقہ ایم پی اے جھنگ شیخ یعقوب و راشدہ یعقوب سابقہ ایم پی اے جھنگ کے سیکرٹری ہیں اور مجھے ہمیشہ بڑا بھائی بن کر راہ دکھایا آج میں اپنی تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے سافٹ ویئرانجینئرنگ کررہا ہوں اور ساتھ ہی ساتھ اینڈرائڈ ڈویلپمنٹ میں فری لانسنگ کر رہا ہوں اور آج مجھے فخر محسوس ہوتا ہے جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں یہ جدوجہد ابھی جاری ہے اور ان شاء اللہ آگے بھی ایسے ہی محنت اور لگن سے جاری رہے گی یہ تھا آج تک میری زندگی کا خلاصہ۔ انشاءاللہ آنے والے بلاگز میں آپ کو فری لانسنگ کے بارے میں آگاہ کرؤں گا کہ آپ فری لانسنگ کرتے ہوئے کیسے خود مختار ہو سکتے ہیں اور بعد میں آپ اسی کاروبار کو کیسے ایک حتمی کاروبار کی شکل دے سکتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کو یہ بھی آگاہ کروں گا کہ آپ کیسے اپنی سکیل کو تلاش کر سکتے ہیں اور اپنے ہنر کو بھیجتے ہوئے آپ کیسے آن لائن کام کر سکتے ہیں.

    @usamajahnzaib

  • پاکستان ایٹمی طاقت کیسے بنا . تحریر : محمّد جاوید

    پاکستان ایٹمی طاقت کیسے بنا . تحریر : محمّد جاوید

    پاکستان کا اٹم بم اس وقت دنیا اکثر ممالک کو کھٹک رہا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے اس وقت تمام مسلم ممالک میں پاکستان واحد ملک ہے جو کسی کے بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا ہے۔ اٹم بم بنانا کوئی آسان کام نہیں پاکستان کو بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بہت سارے نشیب وفراز دیکھنے کو ملے پھر جاکر پاکستان اٹمی طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

    یہ سفر اتنا آسان نہیں تھا ہر طریقے سے پاکستان کے اوپر پریشر ڈالنے کی کوشش کی گئی کبھی معاشی پابندیوں کی صورت میں تو کبھی سیاسی دباؤ ڈال کر مگر پاکستان نے کبھی ہمت نہیں ہارا البتہ تاخیر ضرور ہوئی مگر اخیر کار 28 مئی 1998 کو پانچ دھماکے کرکے دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بن گیا۔ اور پاکستان دنیا کے ان چند ممالک کے صف میں شامل ہوا جن کے پاس اٹمی قوت ہے ۔ پاکستان کو اس مقام پہ پہنچنے کے لئے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا آج میں اپنے کالم میں روشنی ڈالنے کی کوشش کرونگا کیونکہ اس ناقدری قوم میں بہت ساروں کو معلوم ہی نہیں کہ اٹمی طاقت حاصل کرنے میں کتنی محنت لگی تھی۔
    پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز کچھ یوں ہوتا ہے کہ آزادی کے بعد پاکستان نے ایٹمی ہتھیار بنانے کا عندیہ دیا اور سنہ 1953 میں امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ پہ دستخط کیا کہ امریکہ صنعتی اور پُرامن مقاصد کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کے استعمال اور ری ایکٹر کی تعمیر میں پاکستان کی مدد کرے گا۔

    اس کے بعد پاکستان نے اٹامک انرجی کمیشن کا بنیاد رکھا۔ اب پاکستان کے سامنے یورینیم کو حاصل کرنا تھا۔ 1963میں باقاعدہ طور پر کمیشن بنا کر یورينيم کی تلاش شروع کی پس قدرت بھی پاکستان پہ مہربان ہوئی اور پاکستان نے اخیر کار ڈیرہ غازی خان کے مقام پہ یورینیم کے ذخائر دریافت کیے اور پھر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے اس کو نکالنا شروع کیا۔ 

    بھارت کے اٹمی پروگرام کا علم پاکستانی اداروں کو 1965 میں ہی ہوا تھا پھر پاکستان نے اپنی بقا کے لئے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش تیز کر دی۔پھر جب پاکستان نے انڈین مداخلت اور "ادھر ہم ادھر تم” والے نعرہ کی وجہ سے 1971 میں جب مشرقی حصہ کھو دیا تب اداروں کو یہ بات سمجھ میں آگئی تھی کہ اگر بھارت کا مقابلہ کرنا ہے تو ہر صورت اٹم بم بنانا ہوگا چاغی کے پہاڑں کے دامن میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے وابستہ سائنسدانوں کے گروپ نے یہ نعرہ بلند کیا تھا۔”گھاس کھائیں گے، ایٹم بم بنائیں گے”
    بعد میں اس نعرے کو کسی سیاسی لیڈر کے ساتھ منسلق کیا گیا۔ پھر بھٹو نے بھی گھاس کھائنگے والا نعرے کا ساتھ دے دیا اور اس طرح تیزی سے پاکستان نے کوشش شروع کی۔

    پاکستان نے اپنا پہلا نیو کلیر ريكٹر کینیڈا کی مدد سے 1972 میں لگایا تھا ۔ 1974 میں کسی پریشر کی وجہ سے کینڈا نے مدد کرنے سے انکار کیا اور 1974 میں ہی انڈیا نے ايٹمی تجربہ کیا تو پاکستان کے لے اب ایٹمی طاقت حاصل کرنا ناگزیر ہوگیا تھا ۔ پھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ذمداری سونپی گئی پھر ہوا یوں سنہ 1979 امریکہ نے پاکستان کی امداد معطل کر دی اور موقف اپنایا کہ اب پاکستان کا ايٹمی پروگرام پرامن نہیں رہا۔

    پھر جب روس نے افغانستان کے اوپر حملہ کیا تو امریکہ کو پاکستان کی ضرورت محسوس ہوئی اور پاکستان کی امداد کو پھر سے بحال کیا اور ساری پابندیاں ہٹا دی پھر سویت یونین کو شکست ملی اور امریکہ سپر پاور بنا تو ایک بار پھر پاکستان کے اوپر پابندیاں لگا دی۔ پاکستان نے ان پابندیوں کے باوجود ايٹمی پروگرام جاری رکھا اور جب
    بھارت نے سنہ 1996 میں ایٹمی وار ہیڈ لے جانے والے پرتھوی میزائل کا تجربہ کیا۔ پھر 1998 کو جب بھارت نے یکے بعد ديگر دو دھماکے کئے پہلا 11 میں اور دوسرا 13مئی کو تب انڈیا کا لہجہ تبدیل ہوگیا اور پاکستان کو دھمکانا شروع کیا تب پاکستان کے اندر سے تمام حلقوں کی جانب سے آوازیں انی شروع ہوئی کہ بھارت کو جواب دینا چاے۔

    اس وقت پاکستان نازک صورتحال سے گزر رہا تھا پاکستان کے اوپر بیرونی دباؤ بڑھ رہا ہے اور اس وقت کی وزیر اعظم نواز شریف دھماکے کرنے کے حق میں نہیں تھے مگر فوجی قیادت نے ٹھان لی تھی کہ بھارت کو ہر صورت جواب دینا ہے اب یہ جواب ناگزیر ہوچکا ہے۔
    تب چاغی کے پہاڑوں کو دھماکے کے لیے چنا گیا اور اخیر کار 28 مئی 1998 کو پاکستان نے ایک ساتھ سات دھماکے کر کے دنیا کو یہ بتا دیا کہ اب پاکستان ایک ايٹمی پاور بن گیا ہے اور پاکستان کا دفاع اب بہت مضبوط ہاتھوں میں ہے اب کوئی پاکستان کو میلی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا اور اسطرح پاکستان نہ صرف ساتویں بڑی ایٹمی قوت بنا بلکہ پہلا اسلامی ملک بھی بن گیا جیس کے پاس ايٹمی پاور ہے۔
    ہر سال پاکستان میں 28 مئی کو "یوم تکبیر” کے طور پر منایا جاتا ہے۔
    اور اسی طرح 1953 سے شروع ہونے والی یہ اٹم بم کی داستان بلا اخیر 28 مئی 1998 کو کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔
    ہمیں ان تمام لوگوں پہ فخر ہے جن کی انتھک محنت کی وجہ سے آج ہم دشمن اور دنیا کے سامنے اپنا سر فخر سے اٹھاتے ہیں ۔
    پاکستان زندہ آباد♥

    @I_MJawed

  • جنگلات ہمارا مستقبل . تحریر : محسن ریاض

    جنگلات ہمارا مستقبل . تحریر : محسن ریاض

    جنگلات اس وقت ہماری اہم ترین ضرورت بن چکا ہے کیونکہ موسم میں اتنی تیزی سے اور ڈرامائی انداز میں تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں کہ اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا اس کی ایک مثال بے موسمی اور اوسط سے زیادہ بارشوں کا ہونا ہے اس کی ایک تازہ مثال اس وقت چین میں موجود ہے جہاں گزشتہ دنوں اتنی شدید بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا کہ اس نے سیلاب کو صورتحال اختیار کر لی جس کی وجہ سے مالی نقصان کا تخمینہ لگانا تو اس وقت بہت مشکل ہے لیکن 33 کے قریب انسانی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے اس کے علاوہ اور بہت سارے جزائر جن کے ساحل پانی میں اضافے کی وجہ سے ڈوب رہے ہیں -درختوں کے کٹاؤ کے حوالے سے کوئی واضح قانون بھی نہیں جس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں درختوں کو لکڑی کے حصول کی غرض سے یا پھر ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کے چکر میں کاٹ دیا جاتا ہے جس کا نقصان پورے ملک کو بھگتنا پڑتا ہے گزشتہ دنوں ملتان میں ڈی ایچ ائے سوسائٹی کے نئے فیز کے لیے لاکھوں آم کے درختوں کا قتل عام کیا گیا اور آم کا درخت کئی عشروں کے بعد جا کر پروان چڑھتا ہے مگر کاٹنے میں چند گھنٹوں کا وقت درکار ہوتا ہے اسکے علاوہ ایسی زمینوں پر بھی سوسائٹیاں بنائی جا رہی ہیں جہاں پر کاشتکاری کی جاتی ہے مگر کسانوں کو مناسب دام نے ملنے پر دلبرداشتہ ہو کر مافیا کو زمینیں بیچنے پر مجبور ہیں -اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی ہونی چاہیے کہ ایسی زمین جہاں پر باغات ہیں یا پھر زراعت کے لیے استعمال ہو رہی ہے وہاں پر کسی صورت بھی سوسائٹی یا کنسٹرکشن کی اجازت نہیں ہونی چاہیے-

    اس کے علاوہ اس وقت ٹیکنالوجی اور ریسرچ میں بہت ترقی ہو چکی ہے میواکی کے ذریعے بہت کم وقت میں گھنے جنگل اگائے جا سکتے ہیں اس طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے آپ پہلے ایسے ردخت لگاتے ہیں جو انتہائی تیز رفتاری سے بڑھتے ہیں اس کے بعد دیگر اقسام کے درخت لگائے جاتے ہیں اس طرح چند سالوں میں گھنا جنگل تیار ہو جاتا ہے اس طریقے پر عمل کرتے ہوئے لاہور اور کراچی میں چند چھوٹے چھوٹے جنگل لگائے جا چکے ہیں موجودہ حکومت اس بارے میں کافی حد تک سنجیدہ ہے اس حوالے سے شجر کاری مہم کا آغاز بھی کیا گیا ہے زیتون کے جنگلات لگائے جا رہے ہیں اور پہلے سے موجود درختوں کو پیوند کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ زرمبالہ بھی کمایا جا سکے -اور اہم وجہ جس کی وجہ سے جنگلات میں کمی واقع ہو رہی ہے وہ ہے فاریسٹ آفیسرز کی عدم توجہ اور ملی بھگت جس کی وجہ سی جنگلات سے قیمتی لکڑی چوری کی جاتی ہے-اس حوالے سے حکومت کو چاہئیے کہ ریکارڈ ترتیب دیا جائے جس کی بنا پر چیکنگ کی جائے تاکہ اس کی روک تھام کی جا سکے-درختوں کے موسم پر ہونے والے اثرات کے حوالے سے آنکھوں دیکھا حال آپ کو بتاتا چلوں کہ جس وقت آپ شہر لاہور میں پھرتے پھراتے جامعہ پنجاب میں داخل ہوتے ہیں تو درجہ حرارت ہیں کافی حد تک کمی دیکھنےکو ملتی ہے یہ صرف اس وجہ سے کہ وہاں درختوں کی بہتات ہے اس وقت بحثیت قوم یہ ہماری زمہ داری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور دوسروں کو بھی اس طرف مائل کرئیں تاکہ ہم آنے والی نسلوں کو زندگی گزارنے کے لیے ایک بہتر ماحول فراہم کر سکیں-اس کے علاوہ گلیشئرز کے پگھلنے میں بھی گزشتہ کئی سالوں میں تیزی دیکنھے میں آئی ہے جس کی بنیادی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے سیلاب کے خطرات موجود رہتے ہیں اس لیے ہم سب کو اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیےاور گلشن کو سنوارنے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئیے۔

    mohsenwrites@

  • ‏سندھ میں بڑی تبدیلی کا امکان . تحریر : نادرعلی ڈنگراچ

    ‏سندھ میں بڑی تبدیلی کا امکان . تحریر : نادرعلی ڈنگراچ

    پاکستان کے صوبے سندھ میں اس وقت پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہے پاکستان پیپلزپارٹی مشرف کا دور ختم ہونے کے بعد سے اب تک لگاتار تیسری بار سندھ میں اور ایک بار وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ہے مگر ان تینوں جنرل الیکشن میں کوئی ایسی جماعت سندھ میں نہیں تھی جو پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرسکے مگر اس بار صورتحال کافی مختلف ہے پہلی بار وفاق اور دو صوبوں پنجاب اور خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں اتحادی حکومت بنانے والی پاکستان تحریک انصاف 2023 میں پھر سے وفاق اور پہلی بار سندھ میں حکومت بنانے کی بھرپور تیاری کر رہی ہے.

    سندھ کے بڑے بڑے سیاسی نام جن میں شامل حروں کے روحانی پیشوا اور پاکستان مسلم لیگ (ف) کی سیاسی جماعت کے صدر پیر صاحب پاگارا, نوشہرو فیروز کے جتوئی خاندان جن شامل مسلم لیگ (ن) کے دور میں انڈسٹریل وزیر اور 1990 کی نگران حکومت میں وزیراعظم رہنے والے غلام مصطفی جتوئی کے بیٹے غلام مرتضیٰ جتوئی انکے بیٹے راضی خان جتوئی سابقہ صوبائی اسمبلی کے ممبرعاقب خان جتوئی اور گھوٹکی کے موجودہ صوبائی اسمبلی کے ممبراورسابقہ وزیراعلیٰ سندھ علی محمد خان مہرکے بھائی علی گوہر مہر سمیت کئی جی ڈی اے رہنماؤں کو باقاعدہ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دے دی گئی ہے. یے کام گورنر سندھ عمران اسماعیل, سندھ اسمبلی میں موجود اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ اور کچھ دن پہلے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے اور پرویز مشرف کے دور میں وزیراعلیٰ سندھ رہنے والے ڈاکٹر غلام ارباب رحیم کو دیا گیا ہے.

    پاکستان تحریک انصاف اس مقصد میں کامیاب ہوتی ہے یاں نہیں وہ تو وقت بتائے گا مگر اس بار سندھ کی عوام بھی تبدیلی کے منتظر ہیں پیپلزپارٹی پچھلے 13 سال میں سندھ کی عوام کے لئے وہ کام نہیں کر سکی جن سے عوام مطمئن ہو عوام کو تعلیم جیسے زیور اور روزگار بھی میسر نہیں کچے کے علاقوں میں بچے غذائی قلت کی وجہ سے مر رہے ہیں ہسپتالوں میں ان کو مناسب علاج کی سہولت میسر نہیں ان چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے امکان یہی ہے کہ 2023 کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف عمران خان پاکستان کے باقی صوبوں کے ساتھ ساتھ سندھ میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں.

    @Nadir0fficial

  • امریکہ افغانستان جنگ . تحریر : علیہ ملک

    امریکہ افغانستان جنگ . تحریر : علیہ ملک

    افغانستان سے امریکی فوج کے خلاء کے بعد طالبان کی پیش قدمی تیز ترہوگئی طالبان کے کمانڈر کے مطابق افغانستان کے 85فیصد حصے میں طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے اسی پیش قدمی کو جاری رکھتے ہوئے افغان طالبان نے افغان فورسسز سے دو ماہ کیلئے مشروط جنگ بندی کی آفر بھی کردی اور اس میں سب سے پہلی شرط چھ سو سے زائد طالبان کی رہائی اور دوسری اہم شرط طالبان کو اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے نکالنا شامل ہے۔

    افغان فورسسز اور افغان حکومت اس وقت صوبائی عمارتوں تک محدود ہو کے رہ گئی ہے۔ ایک ایجنسی کی خبر کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بھی طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ کو روک دیں ترکی کے صدر کے اس بیان کو پاکستان کی عوام نے اچھا نہیں جانا کیونکہ پاکستان میں اکثریتی عوام اسلامی نظام کا نفاظ چاہتی ہے یہ سمجھتی ہے کہ افغان طالبان کی جنگ نفاظ اسلام کی جنگ ہے۔
    اس جنگ میں امریکہ کا کودنا اور پھر کم و پیش بیس سال کے لگ بگ افغانستان میں طالبان سے جنگ جاری رکھنا اور پھر شکست کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی فوج واپس لے جانا عالم اسلام بالخصوص افغان طالبان اس کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں لیکن امریکہ کا ایک یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ ہماری جنگ کا مقصد طالبان کو شکست دینا نہیں تھا بلکہ ہمارے اپنے کچھ مقاصد تھے جو حاصل کر لئے گئے ہیں
    اس لئے امریکی فوج کی واپسی ہوئی۔ اب امریکہ کے اس بیان میں کتنی صداقت ہے اور کیا واقعی وہ ایک مذموم مقاصد حاصل کرنے کیلئے جنگ کر رہا تھا ؟ یہ جاننے کیلئے مناسب وقت کا انتظار باقی ہے۔

    @KHT_786

  • اخلاقی دیوالیہ پن . تحریر : آصف گوہر

    اخلاقی دیوالیہ پن . تحریر : آصف گوہر

    بچے کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں آج کے بچے کل کے جوان اور قوم کے افراد بنتے ہیں ہمارا معاشرہ ایک تسلسل کے ساتھ انحطاط کا شکارہے ایسے جرائم بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں جن کا دنیا کے دیگر ممالک میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اگر ہم اپنے معاشرے کے بچوں کے احوال پر نظر ڈالیں تو بچے ہماری سوسائٹی میں غیر محفوظ نظر آتے ہیں۔

    یہاں پرکم سن بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے واقعات عام ہیں جنسی زیادتی بعد پھولوں کو موت کی نیند سلادیا جاتاہے ۔ بچوں پر تشدد اور جنسی درندگی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اضافہ کا سبب بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والوں کو پکڑا ہی نہیں جاتا بہت سارے کیسز تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے مقامی طور پر ملزم کو صلح صفائی کے نام پر دوبارہ سفاکیت کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔اور جو کیسز میدیا اور سوشل ایکٹیویزم کے باعث رپورٹ ہوجاتے ہیں ان میں بھی بہت سارے کمزور عدالتی نظام اور پراسیکیوشن کی وجہ سے ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔

    اس ضمن میں زینب الرٹ بل ایک اچھا اقدام ہے ۔لیکن اس سے ایک قدم آگے بڑھنے کی ضرورت ہے بچوں پر تشدد اور جنسی جرائم کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں اور ان خصوصی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کے حق کو ختم کیا جائےاور مجرموں کو معاشرے میں نشانہ عبرت بنانے کے لئے مجرم کی شناخت نہ چھپائی جائے اورایسے درندوں کی تصاویر قومی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دیکھائی جائیں تاکہ یہ شرم سے ڈوب مریں اور اپنی فیملی برادری میں بھی منہ دیکھانے کے قابل نہ ہوں ایسے افراد کے شناختی کارڈزپر چائیلڈ ابیوزر لکھ دیا جائے۔

    اگر ہم نے بچوں کو آج محفوظ معاشرے نہ مہیا کیا تو ایسے دلخراش واقعات میں اضافہ ہوتا رہے گا ۔ اگر آج بچوں کے خلاف یہ درندگی کو نہ روکا گیا تو اس استحصالی سلوک کا شکار ہونے والے بچے کل کو خود معاشرے سے انتقام لیں گے اور خود چائیلڈ ابیوزر بن جائیں گے لہذا خیال کیجئے کہیں بہت دیر نہ ہوجائے۔

    @EducarePak

  • ہمارا قومی المیہ . تحریر : آصف گوہر

    ہمارا قومی المیہ . تحریر : آصف گوہر

    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے
    "آپ فرما دیجیئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں گو آپ کو ناپاک کی کثرت بھلی لگتی ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اے عقل مندو! تاکہ تم کامیاب ہو۔” سورة المائدہ 100 زندہ دل اورمردہ ضمیر برابر نہیں ہوسکتے ۔

    ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہم برائی کو برائی نہیں سمجھتے بلکہ ہر برائی کو اپنی سیاسی اور مذہبی وابستگی کی کسوٹی پر جانچتے ہیں اگر برائی میرے سیاسی قائد یا مذہبی پیشوا سے سرزد ہوئی ہے تو پھر یہ میرے نزدیک اچھائی ہے برائی نہیں اور اب یہ میرے اوپر فرض ہوچکا کہ میں نے ہرحال میں اپنےسیاسی رہنماکی وکالت کرنی ہے چاہے اس کے لیے مجهے کسی حد تک گرنا پڑے قومی اداروں کے ساتھ ٹکرانا پڑے. یہ رویہ انتہائی خطرناک ہے جب کسی قوم میں اچھائی اور برائی کا تصور ناپید ہو جائے تو وہ قوم نہیں ہجوم بن جاتا ہے اور ایسا بے سمت ہجوم معاشرہ جلد کسی سانحہ کا شکار ہو جاتا ہے.

    ہمارا قومی مزاج بهی عجیب ہے ہم اکثر حقیقی ہیروز کو متنازع بنا دیتے ہیں اور غداروں ملک دشمنوں کو قومی ہیروز بنا دیتے ہیں
    حتی کہ وہ شخص جو وصیت کرکے مرتا ہے کہ مجهے پاکستان میں دفن نہ کیا جائے ہم اس شخص کے نام پر ایئرپورٹ اور یونیورسٹیاں بنا دیتے ہیں .

    مہذب معاشروں میں اخلاقی اقدار کا معیار یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی عہدیدار پر الزام بهی لگ جائے وہ اپنے عہدے سے فوری طور پر دستبردار ہو جاتا ہے ۔موجودہ تحریک انصاف حکومت کو کم از کم یہ کریڈٹ ضرور ملنا چاہیے کہ اس کے جس رہنما پر بھی الزام لگا اس نے فوری رضاکارانہ طور پر اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعیم خاں ۔وزیر جنگلی حیات و ماہی پروری ملک اسد کھوکھر وزیر جنگلات پنجاب اور زلفی بخاری کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں وگرنہ ہمارے ہاں معاملہ بلکل برعکس رہا ہے مالی بدعنوانی ثابت ہو جانے پر بهی ڈھٹائی کے ساتھ اپنے منصب سے اس وقت تک چمٹے رہتے ہیں جب تک عدالت کان سے پکڑ کر وزارت اعظمی سے نیچے نہ اتار دے اور جہالت اور شخصیت پرستی کا یہ عالم ہے کہ چند خوشامدی پوری شد و مد کے ساتھ اپنے بدعنوان اور بدزبان رہنما کا اس بے شرمی کے ساتھ دفاع کرتے ہیں کہ بدعنوانی کرنے والے کو خود گمان ہو جاتا ہے کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا.
    گذشتہ چند روز قبل لندن کے ایک ریسٹورنٹ میں مسلم لیگ ن کے رہنما نے بچوں خواتین کے سامنے ننگی گالیاں نکالیں اور اگلے ہی روز مریم نواز کی سربراہی میں چلنے والے سوشل میڈیا گروپ نے ویلڈن عابد شیر علی کا ٹرینڈ چلایا اور ایک ناپسندیدہ عمل کی تائید اور پذیرائی کی جس پر عابد شیر علی کا حوصلہ بڑھا اور موصوف نے ایک ویڈیو کلپ ریکارڈ کروا دیا کہ میں آئیندہ بھی ایسی ہی گالیاں دوں گا
    کچھ میڈیا ہاوسز نے مالی فوائد کے پیش نظر مجرموں کو ہیرو بنانے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے اور ہر غلط بات ریاست مخالف بیانیہ کو پروموٹ کرنا اپنے اوپر فرض کرلیا ہے جوکہ کسی طور درست نہیں ۔ اگرآپ انسان ہیں تو اپنے ضمیر کو اس سطح پر نہ لے کرجائیں کہ اچھائی اور برائی میں فرق ہی نہ کر سکیں کیونکہ زندہ دل اور مردہ ضمیر برابر نہیں ہوسکتے ۔

    @EducarePak