Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کشمیر الیکشن تحریر: علیہ ملک

    کشمیر الیکشن تحریر: علیہ ملک

    :

    جتنی پرانی تاریخ پاکستان کی ہے اس سے زیادہ پرانی تاریخ کشمیر کی ہے۔
    موجودہ آزاد کشمیر 1948 کی جنگ آزادی میں آزاد ہوا۔
    اس جنگ کی ابتداء ضلع باغ کی تحصیل دھیر کوٹ کے نواح نیلا بٹ کے مقام سے ہوئی۔
    سردار عبدالقیوم خان نے دشمن کے خلاف پہلا فائر کیا اور مجاھد اول کا لقب پایا۔
    اس مجاھد اول نے آزاد کشمیر میں 60سال سے زیادہ حکومت کی
    مجاھد اول کی سیرت کے پہلو پہ تحریر ایک الگ موضوع ہے۔
    جنگ آزادی بھی الگ موضوع ہے
    میں یہاں صرف مختصراً
    کشمیر کی موجودہ صورتحال پہ چند باتیں قلم بند کرنا چاہتا ہوں۔
    جیسا کہ لکھا جا چکا ہیکہ سردار عبد القیوم خان مجاھد اول کی جماعت "مسلم کانفرنس” نے 60 سال سے زیادہ عرصہ حکومت کی
    لیکن جب یہ حکومت مجاھد اول کے بیٹے سردار عتیق خان کے سپرد ہوئی تو آہستہ آہستہ مخالفت بھی دم بھرنے لگی
    اور بالآخر مسلم کانفرنس کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا
    اسکی ایک اہم وجہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا کشمیر کے الیکشن میں حصہ لینا ہے۔
    اسی آزاد کشمیر میں پاکستان کی دو سیاسی پارٹیاں حکومت کر چکی ہیں اور آج کے الیکشن میں تیسری پاکستان کی سیاسی پارٹی کی حکومت بننے کا چانس 60فیصد سے زیادہ ہیں۔
    تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ اس مرتبہ کشمیر کے الیکشن میں ایک چوتھی بڑی سیاسی و مذہبی پارٹی تحریک۔ لبیک۔ پاکستان نے بھی بھرپور حصہ لیا۔
    تحریک۔ لبیک۔ پاکستان
    پاکستان میں 2018کے الیکشن میں بائیس لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کرچکی ہے۔
    پنجاب میں تیسری بڑی سیاسی پارٹی کے طور پہ سامنے آئی
    لیکن شروع دن سے اس پارٹی کے ساتھ جو سلوک ہوتا آیا ہے وہ انتہائی زیادہ قابل مذمت ہے۔
    آج کے الیکشن میں کئی جگہوں پہ ٹی ایل پی کے کیمپس اکھاڑ کے کیمپ میں موجود کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    ہم اسے ریاستی دہشت گردی سمجھیں یا موجودہ حکومت کی غنڈہ گردی
    یا پھر جمہوریت کے نام پہ ایک زوردار تھپڑ۔
    ان واقعات کے پیش نظر یہ کہنا کہ کشمیر میں الیکشن نہیں بلکہ مکمل طورپہ سیلکشن ہورہی ہے تو بالکل غلط نہ ہوگا۔
    اس کے علاوہ کشمیر کا یہ پہلا الیکشن ہے جس میں علی وزیر گنڈا پور پہ پابندی کے باوجود اسلحہ کے زور پہ علی وزیر نے الیکشن کمپین کی
    کیا یہ بھی حکومتی غنڈہ گردی نہیں۔۔۔۔۔؟؟؟

    @KHT_786

  • ‏موبائل فون ہیکنگ، سیکیورٹی لیک ہونے کے خطرات تحریر :  مدثر حسین

    ‏موبائل فون ہیکنگ، سیکیورٹی لیک ہونے کے خطرات تحریر : مدثر حسین

    50 ہزار سے زائد سیاست دان اور صحافی حضرات کے فون ہیک ہونے کا انکشاف۔
    اسرائیلی سافٹ وئیر پیگاسس کی مدد سے دنیا بھر کے کئی ممالک کی اہم شخصیات کے فون ہیک ہونے کا انکشاف ہوا یے جس کا زکر مغربی اخبارات میں کیا گیا تھا ، اعلی پاکسانی شخصیات کے فون ٹیپ ہونے میں مودی حکومت کے ملوث ہونے کا انکشاف بھی ہوا۔ جس کے بعد پاکسان کی اعلی عسکری قیادت نے اپنا سوفٹ وئیر بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے. جن اہم شخصیات کے فون ہیک کئے گئے ان کی تعداد پجاس ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے جن میں عمران خان اور انکے قریبی ساتھیوں سمیت کشمیر کی اعلی قیادت اور انڈیا کے راہول گاندھی کے بھی فون ٹیپ ہونے کا انکشاف ہوا ، ایک اسرائیلی اخیار میں بتایا گیا کہ پیگاسس سوفٹ وئیر کے زریعے دو مرتبہ راہول گاندھی کا فون ٹٰئپ کرن کی کوشش کی گئی۔ جب کہ ہیکنگ کا شکار ہونے والے پچاس ہزار افراد میں سے ایک ہزار کا تعلق انڈیا سے ہے جن میں زیادہ تت صحافی حضرات ہیں.

    اندرون و بیرون ملک سیاسی حریفوں کی سرگرمیوں پہ نظر رکھنے اور خفیہ معلومات تک رسائی کے لئے ہیکنگ کا استعمال بہت بڑھتا جا رہا ہے. جس سے سیکیورٹی لیک ہونے کے خطرارت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئے ہیں.

    پاکستانی اور انڈین قیادت نے ہیکرز کی غیر اخلاقی حرکت پہ سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔ راہول گاندھی نے اس کی مکمل چھان بین کرانے کی پرزور اپیل بھی کی۔۔ جبکہ دوسری طرف مودی حکومت کے عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں کے فون ٹیپ کرنے کا انکشاف انتہائی شرمناک حرکت ہے۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک اہم شخصیت کے فون ٹیب ہونے کا بھی انکشاف ہوا. پیگاسس پروجیکٹ انوسٹی گیشن میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر کے 180 سے زائد صحافیوں کے فون کی ریکارڈنگ بھی کی گئی ہے اور اس سلسلے میں کل 12 لوگوں نے این ایس او کی خدمات حاصل کیں، تفتیشی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کے زیر استعمال ایک فون نمبر بھارتی فہرست میں کم از کم ایک دفعہ ضرور رہ چکا ہے ۔ پاکستان کی اعلی عسکری قیادت نے اس سلسلے میں اپنا سوفٹ وئیر بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ پاکستانی کو سائبر وار میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے اقدامات اٹھانا ہوں گے ۔ فواد چودری اور شیری مزاری کی طرف سے بھی ایسے شرمناک اقدامات کی پرزور مزمت کی گئی ہے اور اس سلسلے میں اپنا سوفٹ وئیر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

    ‎@MudassirAdlaka

  • بیٹی کے گھر کے آداب تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    بیٹی اللہ کی دی ہوئی ایسی رحمت ہے جس کی چہچہاہٹ سے گھر کے آنگن میں رونق رہتی ہے. خود سے پیار لیتی اور بھرپور لاڈلی اور محبتوں کے حصار میں رہتی ہے. ایک باپ کے ساتھ اپنی بیٹی کی محبت دنیا کی تمام چیزوں سے انمول ہوتی ہے. لہجہ بھلے سخت ہی لیکن بیٹی کے لیے دل ہمیشہ موم کی طرح نم ہوتا ہے. بیٹی کے بچپن کے لاڈ، پھر تعلیم و تربیت بھر بلوغت کے ساتھ ساتھ اس کی شادی کی فکر باپ کی تگ و دو میں اضافہ کرتی چلی جاتی ہے.
    الغرض ایک باپ اپنی ہمت اور جوانی بیچ کر اپنی زاتی خواہشات کو ختم کر کے اپنے بچوں کا مستقبل خریدتا ہے. لیکن اس سب کے باوجود کائنات کی ہر چیز بھی بیچ ڈالے بیٹی کا نصیب اپنی مرضی کا نہیں خرید سکتا. بیٹی شادی کے ساتھ ہی باپ کی محبتیں اپنے دامن میں لئے اپنے شوہر کے گھر روانہ ہو جاتی ہے. ماں تو آہ و بقا کر لیتی ہے. باپ چپکے چپکے محبت کے آنسو اپنے دامن سے پونچتا ماں کو حوصلہ دیتا دکھائی دیتا ہے. دنیا اس باپ کا مضبوط اور حوصلہ مند کندھا تو دیکھتا ہے اس کے اندر بہتا جدائی کا سمندر کوئی نہیں دیکھ پاتا. اس کے آنگن کی چہچہاہٹ اس کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کسی اور کے آنگن میں مسکراہٹ بکھیرنے چل پڑتی ہے. یہ دنیا کا دستور اور قانون قدرت ہے. اپنے چگر کا ٹکڑا کسی کے حوالے کرن؛ اور کسی کے جگر کے ٹکڑے کو اپنے گھر کی عزت بنانا ازل سے چلا آ ریا قانون قدرت ہے اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے.
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس نے زندگی کے ہر شعبے سے متعلق رہنمائی فرمائی وہاں ہر رشتے کے آداب بھی سکھاے. بیٹی کے گھر کے آداب بھی سکھاے. نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی جنہیں جنتی عورتوں کی سردار کا درجہ دیا گیا کیسے ان کے ساتھ پیش آتے اس حوالے سے دو واقعات اپنی تحریر کا حصہ بنانا چاہتا ہوں تاکہ ہماری رہنمائی ہو سکے.
    صحیح بخاری میں روایت موجود ہے جس کا مفہوم ہے. ایک بار حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں فرمانے لگیں بابا جان (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے ہاتھ میں چکی چلا چلا کر چھالے پڑ گئے ہیں ابھی مال غنیمت میں کچھ لونڈیاں اور غلام آئے ہیں ان میں سے ایک مجھے دے دیں. آپ (رضی اللہ عنہا) نے جب ہاتھ بڑھایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں چھالے دیکھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خاموشی سے دامن میں آنسو سمیٹے اور بیٹی کو تسبیح فاطمہ کا تحفہ دیا اور ساری دنیا کو پیغام دے دیا کہ بیٹی کے معاملات میں صبر سے کام لیا جاتا ہے. اور سمجھا دیا کہ بیٹا چکی پھر بھی تم نے پیسنی بچے پھر بھی تم نے ہی پالنے اور شوہر کی خدمت الغرض گھر کے سارے معاملات تم نے ہی دیکھنے ہیں.
    *یہ تو ہے تربیت اہلیبیت بزبان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم*
    کہ بیٹی کے گھر کے معاملات میں کوئی کسی قسم کی بھی دخل اندازی نہیں کی. چاہتے تو ایک لونڈی یا غلام دءلے سکتے تھے لیکن ساری دنیا کو ایک پیغام دے دیا کہ بیٹی کے معاملے میں صبر اور برداشست سے کام لیا جائے اور اسے اپنے گھر کو خود سمبھالنے کا موقع دیا جاے اور حالات سے خود نمٹنے کا موقع دیا جاے.
    ایک جانب تو ہی پیغام تو دوسری جانب گھر کے آداب دیکھیں.

    مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ فاصلے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گھر مبارک ہے جس کے کچھ فاصلے پر ایک مسجد منارتین واقع ہے. جو لوگ عمرہ اور حج کے لیے سفر کرتے ہیں اس جگہ سے تقریباً آگاہ ہیں. ہے ترک میوزیم (جو کسی دور میں ترک سٹیشن ہوا کرتا تھا) سے تھوڑا فاصلے پر اسی سڑک کے کنارے واقع ہے. حضور کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بیٹی خاتون جنت سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے ملنے جاتے تو پہلے مسجد میں قیام کرتے اور گھر پیغام بھجواتے جب گھر سے واپس قاصد لوٹتا اجازت مل جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے. تو اس سے دو باتیں واضح ہوئیں.
    *1. بیٹی کے گھر کے راز کسے بھی صورت آپ پر عیاں نا ہو سکیں اسی لیے جب بھی جاؤ اجازت لے کر جاؤ. تاکہ وہ اپنے معاملات کو حل کر سکیں اور بیٹی کا شوہر کا مقام کسی صورت مجروح نہ ہو سکے.*
    *2. بالفرض کسی وجہ سے گھر میں آپسی ناراضگی والا معاملہ بھی ہو تو اس کو دور کرنے کا موقع مل سکے کیونکہ آپسی ناراضگی آپسی سمجھوتے سے ہی حل ہوتی ہے بیرونی مداخلت سے معاملات بگڑ جاتے ہیں*
    کتنی خوبصورتی سے دین نے ہر معاملے کے آداب بتا رکھے ہیں ان دو واقعات سے ہمیں کھلی آگہی ملتی ہے بیٹی کے گھر سے متعلق معاملات میں رہنمائی ملتی ہے.
    اللہ کریم ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین

    @EngrMuddsairH

  • وہ اپریل کی ایک خوشگوار سی صبح تحریر : شفقت سجاد دشتی

    وہ اپریل کی ایک خوشگوار سی صبح تھی، میں فیس بک کی تانکا جھانکی میں لگا ہوا تھا کہ میری نظر سے کسی خاتون کی ایک تحریر گزری، میں شاید سکرول کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتا، لیکن تحریر کے عنوان نے میرے قدم باندھ دیے، ”وہ کون تھا“ ان کی شاید وہ پہلی نثری تحریر تھی جس کے بیانیے نے مجھے متاثر کیا، نجانے مجھے کیوں اس تحریر میں صاحبہِ تحریر کا عکس نظر آیا کہ جیسے انہوں نے اپنی زندگی کا کوئی گوشہ حوالہ قرطاس کیا ہو۔۔۔۔۔ پھر میں نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی تحریریں پڑھنا شروع کر دیں، ہر تحریر مجھے خونِ دل سے سینچی ہوئی لگی، میرا بہت دل چاہا کہ میں ان تحاریر کی خالق سے بات کروں لیکن ہمت ہی نہیں ہوتی تھی، ان کی تحریروں اور تصویروں نے ان کی شخصیت کا ایسا رعب جما تھا کہ میں کئی دن تک بس ان کی تصویر دیکھ کر اور تحریر پڑھ کر خوش ہو لیتا۔ پھر ایک دن ہمت کر کے میں نے ان سے بات کر لی، انہوں نے خوش دِلی سے میری اس جسارت کو قبول کر لیا۔۔۔۔ ان کی کہانیوں پر تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ کچھ عرصے بات بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ جس دن میری ان سے بات نہ ہو میرا وقت بے چینی میں گزرتا ہے، میں اپنی اس کیفیت کو کوئی نام دینے سے قاصر تھا۔ عمروں کی تفاوت کے باوجود وہ مجھے اچھی لگتی تھیں۔
    کسی وجہ سے چند دن میری ان سے بات نہیں ہو سکی۔ میں اکثر سوچتا تھا ان کے بارے میں کہ حال میں وہ اتنی من موہنی اور باوقار ہیں تو عین عالم شباب میں کیسی ہوں گی۔؟
    اس کا جواب مجھے ایک رات خواب کی صورت میں ملا
    میں نے خواب میں انہیں دیکھا کہ میں خوابگاہ کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہوں، کھلی چاندنی میں ایک لڑکی وہاں کھڑی ہے۔ میں خوابگاہ سے باہر نکل گیا۔ مجھے دیکھ کر میں نے آہستہ آہستہ قدموں سے فاصلہ طے کیا اور جب قریب پہنچا تو دیکھا وہ دراز قد لڑکی سر کو آنچل سے ڈھانکے سر جھکائے کسی ملکہ کی طرح تمکنت کے ساتھ خاموش کھڑی ہے۔ وہ مجھے دیکھی دیکھی سی لگی لیکن سمجھ نہیں آتا تھا کہ کون ہے؟ میں نے پھر بھی اس سے پوچھ لیا ’’کون ہیں آپ اور یہاں کیا کر رہی ہیں؟‘‘ وہ اسی طرح سر جھکائے کھڑی رہی۔ سفید قمیص اور غرارے میں ملبوس، سر پر مہین جالی کا دوپٹہ، روشن پیشانی، ابروئے خمدار، حیا سے بوجھل پلکیں، رنگت جیسے کسی نے کچے دودھ میں سیندور گھول دیا ہو، عارض پر شفق کی ہلکی سی لالی، پنکھڑیوں جیسے ہونٹ، گویا کلیوں نے کم کم کھلنا ان ہی سے سیکھا ہو۔ صراحی دار گردن، سڈول بازو، مخروطی انگلیاں، حنائی ہتھیلی کہ کبھی اس ہتھیلی میں مصری کی ڈلی رکھ کر پوچھا جائے کہ کون میٹھی تو مقابل سانس لینا بھول جائے۔ آگے کو سینے پر پڑی گندھی ہوئی چوٹی جیسے خزانے پر سیاہ ناگن کا پہرہ۔ میں نے آس پاس چاندنی کو دیکھا، یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ روشنی چاند کی ہے یا اس مہ جبین کی۔ میں مبہوت کھڑا دیکھتا رہا۔ اس وقت تو ہوا بھی ساکت تھی کہ خاموشی کی شہنائی نے گویا سہاگ کے سر میں راگ مالکوس چھیڑ رکھا تھا۔ جب سحر ٹوٹا میں نے اپنے پورے حواس جمع کرکے پوچھا ’’آپ! آپ کون ہیں؟ کیا نام ہے آپ کا؟ کہاں سے آئی ہیں؟‘‘۔ میں نے بیک وقت کئی سوال کردیئے۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم ابھرا، پھر بانسری کا ساتواں سر چھڑا ’’ہم! بس ہم ہیں، آپ کوئی بھی نام رکھ لیجئے، کیا آپ نے مجھے پہچانا نہیں‘‘۔؟ اس نے تحیر سے بڑی بڑی آنکھوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ میں نے سوچا شاید سوال غلط تھا، لیکن جواب بالکل صحیح ہے۔ حسن بس حسن ہوتا ہے، اس کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ نام تو بس ایک شناخت ہے، ایک پہچان، جس کی پہچان سب سے الگ ہو اس کا بھلا نام کیا ہوسکتا ہے۔ جس کے لئے ہر تشبیہ ہیچ ہو اس کا نام کیا ہو۔ ’’پھر بھی، پھربھی! آخر کون ہے یہ‘‘ میں سوچتا رہ گیا اور وہ خراماں خراماں چلتے ہوئے اوجھل ہو گئی، جیسے چمبیلی کی خوشبو کو اوس نے ڈھک لیا ہو۔ میں واپس خوابگاہ میں آ کر مسہری پر لیٹ گیا۔ نیند اس وقت پلکوں کی مسہری پر اتر آتی ہے، جب حواس اس کے حوالے کردیئے جائیں۔ لیکن وہ تو جاتے جاتے حواس بھی ساتھ لے گئی تھی، سو نیند بھی روٹھ گئی۔ ابھی صبح نمودار نہیں ہوئی تھی، شب نے کامدانی کی ردا سر پر ڈال لی کہ کہیں آفتاب کو جھلک نہ دکھلائی دے کہ میں برآمدے میں آبیٹھا۔ ابھی ہلکی ہلکی روشنی سی نمودار ہوئی ہی تھی کہ میں پھر اٹھا اور اس جگہ پہنچ گیا، جہاں رات وہ کھڑی تھی۔ میں نے سوچا شاید کوئی نشان، کوئی پتہ، کوئی سراغ ہی مل جائے، لیکن وہ ایک خواب کی طرح سے آئی اور پلک کھلتے ہی غائب ہو گئی۔ پھر میری آنکھ کھل گئی۔
    رات کا خواب فلم کی طرح پردہ بصارت پر اتر آیا۔ اچانک روشنی کا جھماکا سا ہوا، اوہ یہ تو وہی افسانہ نگارخاتون ہیں جنہیں میں ملکہ کہتا ہوں جو دوشیزہ بن کر میرے خواب میں آئی تھیں۔
    میری کفیات اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہیں اس سے قطع نظر بطور افسانہ نگار میں ان کے حوالے سے بس اتنا کہوں گا کہ ملکہ۔۔۔۔۔۔۔! بہت عمدہ لکھتی ہیں، واقعی ان کے ہاتھ میں قلم روشنی بن جاتا ہے، کہیں طلسم تو کہیں خوشبو بن جاتا ہے ، کہیں فراق تو کہیں نغمہ، کہیں راگ تو کہیں تصویر بن جاتا ہے ، کہیں پربت تو کہیں جھرنا، کہیں شیشے کا خواب نگر بن جاتا ہے، ان کے لفظ ایسے ایسے منظر تراشتے ہیں کہ ، بصارت و بصیرت، شمس و قمر کے مقابل آ جاتے ہیں، ایک با وقار ہستی کی با وقار سی تحریریں جگنو بن کر میرے دل میں روشنی کرتی ہیں
    جن کی نادرتشبیہات ‘خوب صورت استعارے‘ نفیس علامتیں اوران گنت تلمیحات نے ایک سماں باندھ دیتی ہیں ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ان چھوئے اور ان کہے لفظوں کو ہی روشن کیا ہے ۔یہی لفظ جب موقع و محل کی مناسبت سے جملوں میں ترتیب پاتے ہیں تو ان لفظوں کے جمال کی دوشیزگی نکھرآتی ہے۔

    @balouch_shafqat

  • حجاب حکمِ ربی۔ تحریر: نصرت پروین

    حجاب حکمِ ربی۔ تحریر: نصرت پروین

    حجاب دین اسلام کے احکامات میں سے ایک اہم حکم ہے۔
    حجاب حکمِ ربی ہے،
    حجاب قرآن کی آیت ہے،
    حجاب پردہ ہے،
    حجاب آڑ ہے،
    حجاب ڈھال ہے،
    حجاب زندگی ہے،
    حجاب بندگی ہے،
    حجاب عورت کا حق ہے،
    حجاب آزادی ہے بےحیائی سے،
    حجاب رکاوٹ ہے ان نظروں سے جو آپ کو بری نیت سے دیکھتی ہیں۔
    حجاب آپکے لئے جنت کا ٹکٹ بن سکتا ہے۔ حجاب آپکا محافظ ہے۔
    حجاب آپکو بے شمار برائیوں سے بچاتا ہے۔ کچھ نام نہاد روشن خیال مغرب کی تقلید کرنے والے حجاب کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتے ہیں حالانکہ حقیقت اسکے برعکس ہے عورت حجاب میں زیادہ پر اعتماد طریقے سے معاشی و معاشرتی خدمات انجام دے سکتی ہے۔
    الله تعالی نے کچھ چیزیں انمول بنائی ہیں جیسے غلاف میں چھپا کعبہ،
    غلاف میں قرآن،
    بند سیپ میں چھپے ہوئے موتی،
    کوئلے کی کان میں چھپے ہیرے،
    گہرے پانی میں چھپے گوہر،
    اسی طرح حجاب میں لپٹی ہوئی لڑکی۔
    الله تعالی نے تمام پھلوں اور سبزی پر ایک چھلکا محافظ مقرر کیا ہے جو جراثیم سے انکی حفاظت کرتا ہے جو انکا حجاب ہوتا ہے۔انار کو دیکھیں اسکے دانوں پہ ایک لئیر سی ہوتی ہے لئیر حجاب ہی تو ہےاور پھر اس لئیر پہ چھلکا۔ اگر آپ حفظانِ صحت کے اصولوں سے واقف ہوں اور آپکو بغیر چھلکے کے پھل ملیں تو کیا آپ انہیں استعمال کرینگے؟ انہیں کوئی استعمال نہیں کرے گا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ بغیر چھلکے کے تو گودے پر جراثیم لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح ہر قیمتی چیز کی حفاظت کی جاتی ہے آپ غور کریں بدن کے زیادہ قیمتی اعضاء زیادہ بڑے حجاب میں ہیں جیسے آپ کا دل پسلیوں کے اندر ہے، ہڈیوں کے ڈھانچے کے اندر پھر اوپر جلد کا پردہ ہے اسی طرح آپکا دماغ جھلی، کھوپڑی، جلد اور پھر بالوں کے اندر چھپا ہے اسی طرح خشک میوہ جات دیکھیں سب چھلکے میں محفوظ ہیں۔ اسی طرح آپ قیمتی ہیں انمول ہیں منفرد ہیں اور حجاب آپ کا محافظ ہے۔
    جب آپ حجاب اوڑھیں تو یہ سوچ کر اوڑھیں کہ آپ نے اپنے رب کا حکم اوڑھ لیا ہے۔
    الله رب العزت نے قرآن میں فرمایا !
    یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾
    اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں ۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔
    سورہ الاحزاب: آیت نمبر:59

    جب پردےکا حکم صحابیات کے لئے آیا انہوں نے بغیر کسی بہانے کے اطاعت کی۔ تو آپکے لئے انکی زندگی مشعلِ راہ ہے اگر حجاب اوڑھنا آپکو الجھن، گھٹن، اور آگ میں ہونا لگتا ہے تو الله کی رضا کی خاطر یہ گھٹن، الجھن اور آگ اوڑھ لیں دوزخ کی آگ میں بھی تو گرمی ہو گی نہ۔اور جسطرح حضرت ابراہیم علیہ السلام الله کی رضا کی خاطر آگ میں کود پڑے تھے اور وہ آگ ٹھنڈی ہو کر انکے لئے لباسِ گل بن گئی اسی طرح حجاب بھی آپکے لئے لباسِ گل بن جائے گا۔
    حجاب ایک عورت کو خوبصورت بنا دیتا ہےاس سے بھی خوبصورت جو آنکھیں دیکھتی ہیں حجاب ایک مرد کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایک عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھے نہ کہ کسی چیز کی حثیت سے، عورت حجاب میں نایاب پھولوں کا گلدستہ لگتی ہے۔ حجاب واجب ہو یا مستحب۔ لیکن نیکی تو ہے نہ۔ اور قیامت کے دن جب انسان ایک ایک نیکی کو ترسے گا پچھتائے گا تو کل کے پچھتانے سے بہتر ہے آج حکمِ ربی مان لیں۔ تو حجاب اوڑھ لیں۔
    Nusrat Perveen
    @Nusrat_186

  • انسانیت کہاں گئی  تحریر: احسن علی بٹ

    انسانیت کہاں گئی تحریر: احسن علی بٹ

    آج کے دور میں انسان تو زندہ ہیں لیکن بد قسمتی سے انسانیت مرگئی ہے انسان دوسرے انسان کا دشمن بنا ہوا ہے احساس نام کی چیز ہم میں رہی ہی نہیں وه دور اور تھا جب انسان کو اپنے ہمساؤں رشتے داروں دوستوں کا احساس ہوتا تھا لیکن آج کل بہت کم ایسا دیکھا جاتا ہے کہ کہیں کوئی کسی کی بے لوث مدد کرے اب میرا یہ کالم پڑھنے والے لوگ کہتے ہونگے کہ کیا بات کررہا ہوں یہ باتیں دل کو چب رہی ہونگی لیکن ایک دفعہ اپنے دل پر ہاتھ رکھے اور یہ سب سوچیں کیا ایسا نہیں ہے
    انسانیت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو انسان سے وابستہ رکھتا ہے اور اگر یہ احساس ختم ہو جائے تو معاشرہ اور قوم سب تباہ اور برباد ہو جاتا ہے آج کے دور میں اپنی خرابیوں کو نظر انداز کرتے ہوے ہر انسان کہہ رہا ہے کہ زمانہ خراب ہے حقیقت تو یہ ہے کہ ہر انسان کے دل سے انسانیت کا جذبہ و احساس ختم ہوتا جارہا ہے اور اگر ’’الف‘‘ سے انڈے اور انگور کی جگہ ’’الف‘‘ سے ’’انسانیت‘‘ سکھایا جاتا تو زیادہ بہتر تھا تاکہ انسانیت دفن نہ ہوتی اور ہم حیوان نہ بنتے آج کے حالات دیکھ کر دوکھ کہ ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ انسان تو زندہ ہیں لیکن انسانیت حقیقی لفظوں میں مر چکی ہے
    ہم بیشتر واقعات سنتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں ایک موٹر سائیکل چلانے والے بندے کے ساتھ حادثہ ہوا اور وہ وہاں گڑا ہوا تھا کہ کسی نے اسکا بٹوا اور موبائل غائب کرلیا اور اسکو اٹھا کر ہسپتال لے جانے کی زحمت نہ کی کہاں گئی انسانیت اب یہ ایک چھوٹی سی بات آپکو بتائی ہے لیکن آج کے دور میں اس سے بھی بڑے بڑے واقعات ہورہے ہیں جو کہ لکھتے ہوے بھی شرم آتی ہے حالیہ اسلام آباد میں وه جو واقعہ ہوا کہ ایک جوڑے کو زیادتی کا نشانہ بنا کر انکی ویڈیوز ریکارڈ کیں اور سوشل میڈیا پر پھیلا دی گئی یہ سن کر روح کانپ جاتی ہے اور انسانیت تو واقعی مر جاتی ہے یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایسے انسان حیوان سے بھی بدتر ہیں جو اس قدر اخلاقیات سے گڑ رہے ہیں اس طرح کے اور بھی کافی واقعات ہیں جو کہ انتہائی درد ناک ہیں جن میں لڑکیوں کو نوکری کا جانسا دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر بلیک میل کیا جاتا ہے
    ہمیں سزا اور جزا کے نظام کو بہتر کرنا ہوگا جب تک ان جیسے حیوانوں کو سزا نہیں ملے گی یہ ایسے ہی آزاد گھومتے رہے گے کوئی بھی تعلیم ہمیں صرف شعور دے سکتی ہے انسانیت نہیں سیکھا سکتی اندر کے حیوان کو صرف اور صرف سزا کا خوف ہی مار سکتا ہے
    اگر ‏مذہب میں سے انسانیت اور اخلاقیات نکال دی جائے تو باقی صرف اللّه پاک کی عبادات رہ جاتیں ہیں اور رب کائنات کے پاس اپنی حمدوثنا اور عبادات کیلئے فرشتوں کی کوئی کمی نہیں اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے مگر دوسروں کے لئے جینا سیکھیں اپنے اپ میں انسانیت کا جذبہ پیدا کریں اور یہ ہی اصل زندگی ہے دوسروں کے لئے جینا ہی انسانیت کی خدمت ہے انسان اپنے حسن و اخلاق اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے کی وجہ سے بھی عوام میں بہت مقبولیت حاصل کر لیتا ہے پر امید انسان کی کامیابی کا راز پرسکون دماغ ہوتا ہے اور پرسکون وہ ہوتا ہے جو انسانیت کی خدمت کرتا ہے
    میری اللّه سے دعا ہے یارب انکی رہنمائی فرما جو سیدھے راستے سے بھٹک گے ہیں اللّه ہمارا حامی و ناصر ہو
    @AhsanAliButtPTI

  • انفرادیت بمقابلہ اجتماعیت تحریر: قیصر عباس سیال

    انفرادیت بمقابلہ اجتماعیت تحریر: قیصر عباس سیال

    ایک ایسی دنیا سماعت و بصارت کے روبرو ہے جہاں نت نئے انداز سے ایک ہی کام دہرایا جاتا ہے اور ایک ہی بات کی پریکٹس کی جاتی ہے، وہ ہے دھوکہ.
    (میں اپنے قارئین پر ایک بات واضح کرتا جاؤں کہ میری تحریروں میں معاشرتی مسائل و برائیوں پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ٪100 لوگ ان برائیوں میں ملوث ہیں. بہت سے اللّٰہ کے نیک بندے خوف خدا اور انسانیت کے جذبے سے سرشار، اپنے کام کو سرانجام دے رہے ہیں.)
    اکثر اوقات کچھ سوانح نظر سے گزرتے ہیں جن کو فراموش نہیں کیا جا سکتا. اور جن کی بنیاد پر انسان کا نکتہ نظر تبدیل ہو کہ رہ جاتا ہے. کچھ ایسی باتیں انسان کے ذہن میں نقش ہو کر رہ جاتی ہیں جو تا حیات انسان کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پر اثرانداز رہتی ہیں.
    کاروبار یا ملازمت دو طریقہ ہائے زندگی ہیں جو انسان اپنی ضروریاتِ زندگی پورا کرنے کے لیے اپناتا ہے. ملازمت پر کسی دوسرے کالم میں لکھوں گا.
    کاروبار سے منسلک چند احباب نے شاید سمجھ ہی یہی لیا ہے کہ جھوٹ اور دھوکہ دہی سے ہی اچھی آمدن اکھٹی کی جا سکتی ہے. کچھ آپ بیتیاں پیشِ خدمت ہیں.
    ایک گارمنٹس شاپ پر جانا ہوا. اور دکان پر کھڑے سیلز مین کی ہوشیاری پر بعد میں دل ہی دل داد دیتا رہا. اور افسوس بھی ہوتا رہا. چہ جائے کہ یہ اسکے ہاتھ کی صفائی تھی مگر انفرادیت کی غلط سوچ اجتماعیت کے مکمل نقصان کی ضامن تھی.
    ایک جیکٹ پسند آنے کہ چکروں میں تھی. تو سیلز مین نظروں میں ہی بھانپ گیا. اور لپک کر آیا اور کہا سر یہ تو ڈپلیکیٹ جیکٹ پڑی ہے جو آپکے "شایانِ شان” نہیں. اسی میں اوریجنل جیکٹ پڑی ہے وہ اصلی ہے. میں آپکا خیرخواہ ہوں اس لیے بتا رہا ہوں، مالک کو نا بتائیے گا.
    اس ساری گیم کا تب جا کر اندازہ ہوا جب گھر جا کر مکمل تسلی سے چیک کی. تب پتہ چلا کہ "اصلی” کے چکروں میں وہی پہلے والی چند ہزار مہنگی مجھے چپکا دی گئی ہے.
    ایک پھلوں والے بازار میں جانا ہوا. انواع و اقسام کے پھل سجا کر رکھے ہوئے تھے. ان دنوں آم کا سیزن چل رہا ہے. ایک طرف سے آواز کانوں میں پڑی جو انسانی فطرت کے عین مطابق گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی. ایک صاحب فرما رہے تھے کھٹے ہوں تو دوگنا پیسے واپس. میں اس دوکان پر پہنچا تو اتفاقاً آذان بھی شروع ہو گئی.
    میں اکثر یہ واقعہ سوچنے یا بیان کرنے سے ڈرتا ہوں کہ اس وجہ سے ملتِ اسلامیہ اور امتِ محمدیہ کا دوسرے لوگوں پر کیا تاثر جائے گا.
    خیر دکان دار کے کلمہ پڑھ کر آذان کی طرف متوجہ کر کے تسلی نے مجھے وہاں سے خریدنے پر مجبور کیا. خراماں خراماں رہائش پر پہنچا. مبالغہ آرائی سے خدا بچائے، مگر ان کلو دو کلو میں سے ایک بھی کھانے قابل آم برامد نہ ہو سکا.
    مزید سنیے، کپڑوں کی دکان پر ایک اچھی کوالٹی کا سوٹ خریدنے پر بھی اسی طرح کی چرب زبانی اور ملے جلے قسموں وعدوں کے عوض چند ہزار کا چونا لگوانے کے بعد جب پہلی بار کپڑے دُھل کر سامنے آئے تو کپڑوں اور میرا دونوں کا رنگ اُڑ چکا تھا.
    اور سنیں، موٹر-سائیکل مکینک پر مکمل اعتماد ہونے کی وجہ سے اپنا موٹر-سائیکل مرمت کے لیے چھوڑ کر اپنے کسی اور کام کو مکمل کرنے کے لیے دوسری مارکیٹ چلا گیا. ارادہ تھا کہ واپسی تک موٹر-سائیکل مرمت ہو چکا ہو گا. اس بات کا اندازہ چند دن بعد ہوا جب کہیں جاتے ہوئے موٹر-سائیکل پنکچر ہوا اور پنکچر والے نے میرے سامنے ٹائر کھول کر نسبتاً طنزیہ انداز میں کہا "بادشاہو، اور کتنا ظلم کرنا ہے اس پر، اب نئے ٹیوب ڈلوا لیں”. جبکہ ابھی چند دن پہلے ٹائر اور ٹیوب نیا ڈلوایا جا چکا تھا.
    مجھے یہ سمجھنے میں ذرا سی ہی دیر لگی چند دن پہلے مرمت کے دوران سامان نکالا جا چکا ہے.
    ایسے کئی اور مواقع انسان کی زندگی میں آتے ہیں جن سے گزرنے کے بعد انسان سوچتا ہے کہ شاید ہم کرونا سے بھی کسی بڑی وبا کے انتظار میں ہیں. اور اس بات کا پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ دنیا چند ایک ایماندار لوگوں کی وجہ سے قائم ہے. ورنہ ہم نے کوئی کثر نہیں چھوڑی.
    ضرورت اس امر کی کے انفرادی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر اجتماعی طور پر سوچا جائے. ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے. اور اپنے امیج سے زیادہ اس بات کو سوچا جائے کہ ہمارے کسی عمل سے ہمارا دین و مذہب بشمول ملک و قوم بدنام نہ ہو.
    اللّٰہ ہمارا حامی و ناصر ہو.

    Twitter : @Q_Asi07

    qaisarabbas00@gmail.com

  • ‏میرے نمونے دوست    تحریر ماہ رخ اعظم

    ‏میرے نمونے دوست تحریر ماہ رخ اعظم

    دوستی ایک ایسا رشتہ ہے جو انسان خود بنتا ہے اور حقیقی دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل میں کام آٸے جو آپ کے دکھ و سکھ کا ساتھی ہو آپ پہ کوٸی بھی مصیبت آٸے تو وہ آپ کے ساتھ ہو ۔۔

    دنیا میں کہنے کو دوستی فقط ایک انسانی رشتہ ہے جو انسان خود بنتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ دوستی ہی ایسا رشتہ ہے جیسے پتہ چلتا ہے کہ کون آپ کا اپنا ہے

    لوگ کہتے دوست انسان کو خراب کردیتے ہیں ہمارے مستبقل کو برباد کرتے ہیں میں کہتی ہوں اگر کوٸی نبھانے والا ہو تو دنیا سلام کرتی ہے

    میرے اردگرد بےشمار دوست ہیں جو کہتے میں ان کی دوست ہو مگر وہ صرف کہتے ہیں مگر جو میرے حقیقی دوست ہیں وہ میرا ہمیشہ ساتھ دیتے ہیں ہنستے ہیں مصیبت میں کام آتے ہیں مطلب میرے لیے اپنی جان تک حاضر کردیتے ہیں

    میں اپنے تمام دوستوں کو سلام عرض کرتی ہو جو ہر وقت میرا ساتھ دیتے ہیں چاہے وقت اچھا ہو یا برا وہ کبھی یہ نہیں کہتے ہیں یار!! ہمارے پاس وقت نہیں ہے اپنے مساٸل خود حل کرو میرے دوست تو کوہ نور ہیرے جیسے ہیں جب بھی مدد کے لیے بلاٶ فورا حاضر ہوجاتے ہیں ہم دوست ساتھ میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور ساتھ ہی میں ایک دوسرے پہ جان وارتے ہیں

    آخر میں بس اتنی کہنا چاہو گی اگر آپکی زندگی نمونے دوست ہیں تو انہیں سنبھال کر رکھے کیونکہ ان جیسے لوگ پھر نہیں ملتے ہیں انہیں عزت دیں ، ان کا خیال رکھے کیونکہ یہ نمونے اصل میں زندگی کو رنگوں میں بدل دیتے ہیں

    اللہ میرے پیارے نمونے دوستوں کو سلامت رکھے اور مجھے انہیں ستانے کی توفیق عطا فرماٸے آمین!!

     

  • اسلام میں عورت کا مقام   تحریر : تقویٰ نور

    اسلام میں عورت کا مقام تحریر : تقویٰ نور

    اسلام سے قبل عورت کو معاشرے میں کوئی مقام حاصل نہیں تھا. عورت کو تمام برائیوں کی جڑ اور قابل نفرت سمجھا جاتا تھا. بیٹیوں کو منحوس سمجھا جاتا اور انہیں پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا. عورت ہر طرح کے ظلم و بربریت کا شکار تھی.
    طلوعِ اسلام کے بعد عورت کو اس کا اصل مقام اور حق حاصل ہوا. اسلام نے ان تمام جاہلانہ رسومات کا خاتمہ کیا جو عورت کی عزت اور وقار کے خلاف تھیں. عورت نے معاشرے میں وہ مقام حاصل کیا جس کی وہ حقدار تھی اسے تمام معاشرتی، تعلیمی اور معاشی حقوق حاصل ہوئے. اسلام وہ دین ہے جس نے عورت کو بطور ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے عزت بخشی. جنت کو ماں کے قدموں تلے رکھ دیا.حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حسن سلوک کی سب سے زیادہ حقدار ماں کو قرار دیا.

    قرآن پاک میں مرد و عورت کے لیے ایک جیسے احکامات بیان کیے گئے ہیں.اگر عورت کوئی نیک کام کرے تو اس کی جزا اور گناہ پر سزا ہے اور یہی احکامات مرد کے لیے بھی ہیں.

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ’’جو کوئی بھی نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان والا ہو، ہم اس کو ضرور بالضرور پاکیزہ و طیب زندگی عطا فرمائیں گے‘‘۔

    زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا. اسلام نے اس قبیح رسم کا خاتمہ کیا اور بیٹی کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دیا.
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

    جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغ کو پہنچ گئیں تو قیامت کے روز میں اور وہ اس طرح آئیں گے۔ آپؐ نے اپنی انگشت شہادت کو ساتھ والی انگلی سے ملا کر دکھایا”۔

    اسلام سے قبل عورت کو وراثت کا حق حاصل نہیں تھا. اسلام نے عورت کا وراثت میں باقاعدہ حصہ مقرر کیا.

    ارشاد ربانی ہے :

    لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًاO

    ’’مردوں کے لئے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہےo‘‘

    اسلام نے مرد کو عورت کے نان و نفقہ کا ذمہ دار بنایا ہے. شادی سے پہلے باپ اور بھائی اور شادی کے بعد شوہر اور بیٹے کو عورت کا نگران مقرر کیا.اس طرح عورت کو روٹی، کپڑا اور مکان کی پریشانی سے آزاد کیا. عورت کو گھر کی ملکہ بنایا تا کہ وہ گھر میں رہے اور اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرے…

    غرضیکہ جتنے حقوق اسلام نے عورت کو دیے ہیں اس کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی

     

    @TaqwaNoorPTI

  • سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ داری تحریر: محمد آصف شفیق

    سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ داری تحریر: محمد آصف شفیق

    جب سے سمارٹ فون آیا اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال شروع ہوا ہے تب سے اسے استعمال کرنے والوں پر یہ فرض ہے کہ اسکا مثبت استعمال کریں اور یہ بالکل نہ بھولیں جو کچھ وہ لکھ رہے ہیں شئر کر رہے اس سب کی ذمہ داری ان ہی کے کاندھوں پر ہے
    قرآن کریم میں اللہ رب العالمین فرماتے ہیں وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ 10۝ۙ كِرَامًا كَاتِبِيْنَ 11۝ۙ يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ 12؀ حالانکہ تم پر نگران (فرشتے) مقرر ہیں، ایسے مُعَزَّز کاتب (لکھنے والے فرشتے)، جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں۔(سورۃ الانفطار10،11،12)
    ایسے حاضر باش فرشتے جو آپ کی ہر حرکت کو نوٹ کر رہے ہیں آپ کا نامہ اعمال ترتیب دیا جا رہا ہے اس دن سے ڈریں جب صورتحال ایسی ہوگی کہ
    وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ۣ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰٓى اِلٰى كِتٰبِهَا ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 28؀
    اُس وقت تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا دیکھو گے۔ ہر گروہ کو پکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامہ اعمال دیکھے ۔ اُن سے کہا جائے گا ، ’’ آج تم لوگوں کو اُن اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے۔ (28سورۃ الجاثیہ )
    اور اس دن کا احوال کچھ ایسا ہوگا
    وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَيَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً اِلَّآ اَحْصٰىهَا ۚ وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ۭ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا 49؀ۧ
    اور نامہ ٔ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتابِ زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ’’ ہائے ہماری کم بختی ! یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہو گئی ہو۔‘‘ جو جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا۔(49سورۃ الکھف )
    ہم سب کو اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ جو بھی تحریر کریں اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہم نے اپنے ہر فعل کا حساب دینا ہے ہمیشہ حق بات کہیں حق بات کا ساتھ دیں تمیز کے دائرے میں رہتےہوئے اپنی اپنی بات رکھیں اختلاف رائے کریں مگر دلیل کا جواب دلیل سے دیں گالم گلاچ اور بہتانوں سے پرہیز کریں
    ہر مکتبہ فکر کا احترام کیا جائے ، گروہ بندی کرکے ٹرولنگ کرنا ، بغیر سوچے سمجھے بغیر تحقیق کے لٹھ لے کے کسی کے بھی پیچھے پڑجانا کسی بھی طرح مناسب نہیں اگر کوئی اختلاف کرتا ہے تو اسے اچھے انداز میں قائل کیا جاسکتا ہے ، ہر ایک کے بارے میں اچھا گمان کیا جائے ، لوگوں کے بارے میں برا گمان کرنے سے منع فرمایا گیا ہے ، ہمیں کوشش کرنی چائیے کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچتے رہیں اور اس کریم رب سے اپنی مغفرت کیلئے دعا کرتے رہیں جس کا ہم سے وعدہ ہے کہ
    اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31؀
    اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے۔(سورۃ النساء31)
    اے رب کریم ہمیں سیدھے راستے پر رکھیے برائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیے اور ہر صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے محفوظ رکھیے ۔آمین یا رب العالمین

    جدہ – سعودیہ