Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اخلاق نبوی صلیّ اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم  تحریر: فرح بیگم

    اخلاق نبوی صلیّ اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم تحریر: فرح بیگم

    اخلاق کا سب مقدم اور ضروری پہلو یہ ہے کہ انسان جس کام کو اختیار کرے اس پر اس قدر استقلال کے ساتھ قائم رہے کہ گویا وہ اس کی فطرت ثانیہ بن جاۓ

    حضرت علی رضی اللہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ، حضرت انس رضی اللہ جو مدتوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے تھے ان سب کا متفقہ بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہایت نرم مزاج، نیک سیرت اور اخلاق کے اعلی مرتبے پر فائز تھے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کرتا تو آپ اس کی بات کو غور سے سنتے تھے جب تک اس شخص کی بات ختم نہ ہوجاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منہ نہیں پھیرتے تھے۔ کوئی شخص آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تب تک اس کا ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک وہ شخص خود اپنا ہاتھ نہ چھڑاتا

    مجالس میں لوگوں کی ناگوار باتوں کو بھی برداشت کر لیتے تھے اور اظہار نہ کرتے تھے کسی شخص کی کوئی بات پسند نہ آۓ تو اس کے سامنے اس کا تزکرہ نہیں کرتے تھے۔

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں ہمیشہ جگہ کی کمی ہو جایا کرتی تھی کیونکہ صحابہ کرام زیادہ تعداد میں شرکت کرتے تھے تو ایسے میں اگر کوئی شخص آ جاۓ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے لیے اپنی چادر مبارک بچھا دیا کرتے تھے۔

    اگر کسی شخص کی کوئی بات ناگوار گزرے تو اس کا نام صیغہ راز میں رکھ کر فرماتے تھے کہ لوگ ایسا کرتے ہیں یا ایسا کہتے ہیں انہیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے اس سے لوگوں کی اصلاح بھی ہو جاتی تھی اور اس شخص تک بھی پیغام پہنچ جاتا تھا۔

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلی اخلاق ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی ہیں ہمیں بھی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوۓ اعلی اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    Twitter Id: @Iam_Farha

  • میں اور مولوی . تحریر : قاسم ظہیر

    میں اور مولوی . تحریر : قاسم ظہیر

    دنیا میں آج تک کسی فرد گروہ خاندان یا نظریات کو نقصان پہنچا تو اس کے اندر سے ہی پہنچا. اسی تناظر میں دیکھا جائے تو موجودہ حالات میں ہمارے اسلام کو بھی بے حد خطرات لاحق ہیں. چاہے وہ مسلمانوں کا اسلام پر عمل نہ کرنا ہو یا غیر مسلموں کی اسلام کے خلاف سازشیں ہو سب ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں ان حالات میں جس پر سب سے زیادہ ذمہ داری آتی ہے وہ ہمارے مذہبی اسکالر ہیں.لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری کو بخوبی نہ سمجھا.

    میں ایک عام پاکستانی اور مسلمان ہوں.میری اخلاقی تربیت میری معاشرتی تربیت کی جہاں ذمہ داری میرے والدین پر عائد ہوتی ہے وہیں یہ ذمہ داری ہمارے مذہبی علماء پر بھی عائد ہوتی ہے.ہمارے علماء کا ہمارے کردار کی تعمیر میں بے حد عمل دخل ہوتا ہے
    لیکن افسوس کے ساتھ ہمارے عالم آج بھی موسیقی حرام, اٹھ اور بیس تراویح, نماز جنازہ آہستہ پڑھنی چاہیے یا اونچی, تین طلاق تین ہیں یا ایک,کیمرہ اور تصویر کیوں ناجائز ہے,اور ایسی کئی چیزیں جن کا ہماری معاشرت سے کوئی لینا دینا نہیں کی گردان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ معاشرہ جہالت قتل کفر دھوکہ منشیات حق مارنا دشمنی بے حیائی اور منافقت میں ڈوب رہا ہے.یہاں میں واضح کرتا چلوں کہ میں ہرگز اس حق میں نہیں ہوں کہ ان کے بارے میں بات نہ کی جائے ان کے بارے میں بھی بات کی جائے لیکن اتنی بات کی ہے جتنی اس کی ضرورت ہے.نہ کہ ہماری ساری توانائی صرف اسی پر صرف ہو جائے.

    میرے نزدیک معاشرے میں ایک رہبر و رہنما اور لیڈر کی ذمہ داری بھی علماء پر عائد ہوتی ہے.ذرا سوچئے ان پچہتر سالوں میں ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟ ایک ہندو بھی سپریم کورٹ کا جج ریٹائر ہوا لیکن ایک مدرسے کا طالب علم کہاں تک پہنچا ؟اس سسٹم کی ہم نے کتنی خدمت کی؟

    اگر علماء صحیح معنوں میں اس ملک اور قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو نے آگے آنا ہوگا قدم بڑھانے ہوں گے.میں سب علماء سے درخواست کرتا ہوں کہ عورت کی حرمت,بہنوں کا حق, بیوی کے حقوق ,مسلمان کے مسلمان کے ساتھ تعلقات, اسلامی معاشرے میں جان کی قیمت , برداشت, صبر , محبت اور ہم آہنگی جیسے موضوعات پر بات کی جائے.اسی میں اصلاح کا رازمضمر ہے

    @QasimZahee

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے رجحانات تحریر: ملک نصیر اعوان

    ‎پاکستان میں بے روزگاروں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے
    ‎ہر چھ ماہ میں ہزاروں طلباء اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں اور یونیورسٹی سے ڈگری لینے کے بعد روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں ہزاروں طلباء جو ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد بھی ایک باوقار نوکری کی تلاش میں ہیں انہیں اس مہنگائی کے دور میں اپنے خاندان کی کفالت بھی کرنا ہوتی ہے جب انہیں کہیں بھی روزگار کی امید نظر نہیں آتی تو وہ مایوس ہو کر خودکشی پر مجبور ہو جاتے ہیں پاکستان میں بےروزگاری ایک بہت بڑا المیہ بن چکا ہے چند سال پہلے سینکڑوں پی ایچ ڈی طلباء جو ڈگری حاصل کرنے کے بعد ہرطرف سے باوقار روزگار سے مایوس ہو گئے تو انہوں نے اسلام آباد میں احتجاج کیا اور اپنی ڈگریوں کو جلانے کی دھمکی بھی دی ستر کی دہائی میں تعلیم حاصل کرنے کا رجحان اتنا نہیں تھا مگر اب ہر بچہ تعلیم حاصل کر رہا ہے چاہے وہ دیہات سے تعلق رکھتا ہو یا پھر شہر سے ۔اب دیہات میں کافی پرائمری ،ہائی سکول اور ہائیر سیکنڈری سکول بھی بن چکے ہیں اب جس اوسط سے بچے سکولز ،کالجز ،اور یونیورسٹیز بڑھ رہے ہیں اور پھر کل کو جب یہی طلباء اپنی ڈگریاں لے کر باہر نکلیں گے انہیں ایک باوقار روزگار کی تلاش ہوگی ہر طالب علم کے ماں باپ کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ جب انھوں نے لاکھوں روپے لگا کر اپنے بچے کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اسی طرح اسے ایک اچھا روزگار بھی ملنا چاہیے ۔پاکستان میں اس وقت بے روزگاری کے حالات بہت نازک ہیں اگر اب اس بےروزگاری جیسی بلا کو قابو نہ کیا گیا تو یہ بہت جلد ایک ناسور کی شکل اختیار کر لے گا میری حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ جو پہلے سے موجود بے روزگار ہیں ان کی داد رسی کی جاۓ اور نئے آنے والے طلباء کے لیے روزگار کی بہتر پالیسی عمل میں لائی جائے اور زیادہ سے زیادہ نوکریاں پیدا کی جائیں تاکہ جو طلباء اب تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کو مستقبل میں ایک بہتر روزگار کی امید دکھائی دے اور وہ زیادہ سے زیادہ دل لگا کر تعلیم حاصل کریں جب طلباء کو ایک اچھے روزگار ملنے کا یقین ہو جائے گا تو وہ لوگ جو یہ سوچ کر تعلیم حاصل نہیں کرتے کہ "نوکری تو ملنی نہیں تعلیم کیوں حاصل کریں ” تب ان کی یہ سوچ بھی ختم ہو جائے گی ہر بچہ تعلیم حاصل کرے گا اور ایک روشن پاکستان
    ‎بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا ۔

    @Awan_Zaaada

  • ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات . تحریر : عمران اے راجہ

    ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات . تحریر : عمران اے راجہ

    پارٹ ۱:
    پاکستان کے لیے سنہ 1992 دو لحاظ سے بہت یادگار ہے۔ ایک تو ہم نے کرکٹ ورلڈ کپ جیتا دوسرا ساؤتھ افریقہ دریافت کیا۔
    وجۂ دریافت بھی جونٹی رھوڈز کا انضمام الحق کو کیا گیا رن آؤٹ تھا ورنہ شاید ہم مزید کچھ عرصہ اس ملک سے بےخبر رہتے۔
    کم ہی لوگ جانتے ہوں گے نیلسن منڈیلا کو اقتدار کی منتقلی اور apartheid کے خاتمے سے پہلے ساؤتھ افریقہ بھی اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے پاسپورٹ پر بین لسٹ میں موجود تھا۔ وجہ تھی گوروں کا کالوں کے ساتھ نسلی امتیاز۔ جو خیر آج کے دور میں بالکل ایک دوسرے کے الٹ ہو چکا ہے۔

    ساؤتھ افریقہ میں ویسے تو بہت سے مقامات ٹورازم میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں مگر نمایاں مقام “Table Mountain” اور “Kruger National Park” کو حاصل ہے۔ ٹیبل ماؤنٹین کو تو دنیا کا آٹھواں عجوبہ تسلیم کروانے کی مہم بھی چلی تھی جو فی الوقت پائپ لائن میں ہے۔ “کروگر نیشنل پارک” کو ساؤتھ افریقہ میں وہی مقام حاصل ہے جو پاکستان میں “لاہور” کو۔ افریقہ آئے اور آپ نے کروگر پارک نہیں دیکھا تو سمجھیں کچھ نہیں دیکھا۔ “Big Five” کے لیے مشہور اس پارک میں آپ ناصرف قدرتی جنگل سے محظوظ ہو سکتے ہیں بلکہ سیزن میں “شیر” کی جھلک بھی دکھ سکتی ہے۔ کروگر کے سفر کو تبھی کامیاب تصور کیا جاتا ہے جب آپ Big Five میں سے کم سے کم تین دیکھ لیں اور ان میں شیر بھی شامل ہو تو پیسہ وصول۔
    کروگر کا رقبہ اتنا وسیع ہے کہ تین ممالک کے بارڈر کو چھُوتا ہے اور تمام تر سہولیات کے باوجود دو تین دن میں بھی پورا دیکھنا ناممکن ہے۔

    اس پارک کو جہاں بڑھتی ہوئی انسانی آبادی سے خطرات لاحق ہیں وہیں جانوروں کا غیرقانونی شکار کھیلنے والے “پوچرز” بھی ہاتھی اور گینڈا کی نسل کو تیزی سے ختم کر رہے ہیں۔ موزمبیق کی طرف بارڈر بہت دشوارگزار ہونے کی وجہ سے مکمل نگرانی مشکل ہے اور یہیں سے فائدہ اٹھا کر شکاری اپنا داؤ کھیلتے ہیں۔ اس کے باوجود SanParks جن کے لیے میں فوٹوگرافی بھی کرتا ہوں ڈرون اور ہیلی کاپٹرز کے علاوہ اب ڈاگ یونٹ بھی میدان میں لایا ہے۔ صرف 2012 میں 300 کے قریب پوچرز کو پکڑا گیا اور لگ بھگ تیس سے چالیس مختلف مقابلوں میں مارے گئے۔ یاد رہے ان مقابلوں میں حفاظتی اہلکار جنہیں “رینجرز” کہا جاتا ہے اکثر جنگلی جانوروں یا پھر پوچرز کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ حال ہی میں پوچرز کے ایک ہیلی کاپٹر پر فائرنگ سے نوجوان رینجر اہلکار ہلاک ہو گیا۔ اور ایسے بہت سے واقعات ہیں جن میں شکاری بھی جنگلی جانوروں کا شکار ہوئے اور موزمبیق سے آنے والا اٹھارہ شکاریوں کا دستہ شیروں کے ایک جھنڈ کے راستے میں آ گیا جن میں سے بمشکل تین بچ کر واپس جا پائے۔

    کروگر پارک میں کیمپنگ کے لیے محفوظ مقامات بھی بنائے گئے ہیں اور مختلف جگہوں پر نائٹ سفاری کے علاوہ ریسٹ ہاؤسز بھی ہیں مگر ان کے لیے آپ کو ایڈوانس بکنگ کروانی پڑتی ہے۔ کچھ مقامات تو اتنے مہنگے ہیں کہ شاید دونوں گردے بیچ کر بھی کچھ بقایا دینا رھ جائیگا۔
    (جاری ہے)

    @ImranARaja1

  • آج مسلمان کی تذلیل کیوں؟ . تحریر: محمد معوّذ

    آج مسلمان کی تذلیل کیوں؟ . تحریر: محمد معوّذ

    بھائیو! تم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہو اور تمہارا ایمان ہے کہ مسلمان پر اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے مگر ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کیا اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت تم پر نازل ہو رہی ہے آخرت میں جو کچھ ہوگا وہ تم بعد میں دیکھو گے مگر اس دنیا میں تمہارا جو حال ہے اس پر نظر ڈالو اس ہندوستان میں تم 32 کروڑ ہو تمہاری اتنی بڑی تعداد ہے کہ اگر ایک ایک شخص ایک ایک کنکری پھینکے تو پہاڑ بن جائے لیکن جہاں اتنے مسلمان موجود ہیں وہاں کفار حکومت کر رہے ہیں تمہاری گردنیں ان کی مٹھی میں ہیں کہ جدھر چاہیں تمھیں موڑ دیں۔ تمہارا سر جو اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کسی کے آگے نہ جھکتا تھا اور آج انسانوں کے آگے جھک رہا ہے تمہاری عزت جس پر ہاتھ ڈالنے کی کوئی ہمت نہ کر سکتا تھا آج وہ خاک میں مل رہی ہے تمہارا ہاتھ جو ہمیشہ اونچا ہی رہتا تھا اب نیچا ہوتا ہے اور کافر کی آگے پھیلتا ہے جہالت اور افلاس اور قرض داری نے تم ہر جگہ تم کو ذلیل و خوار کر رکھا ہے کیا یہ اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت ہے اگر یہ رحمت نہیں ہے بلکہ کھلا ہوا غضب ہے تو کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمان اور اس پر خدا کا غضب نازل ہو۔ مسلمان اور ذلیل ہو۔ مسلمان اور غلام ہو۔ یہ تو ایسی ناممکن بات ہے جیسے ہر چیز سفید بھی ہو اور سیاح بھی ہو۔ جب مسلمان اللّٰہ تعالیٰ کا محبوب ہوتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ کا محبوب دنیا میں ذلیل و خوار کیسے ہو سکتا ہے کیا نعوذباللّٰہ تمہارا خدا ظالم ہے کہ تم اس کا حق پہچان اور اس کی فرماں برداری کرو اور وہ نافرمانوں کو تم پر حاکم بنا دے۔ اور تم کو فرماں برداری کے معاوضے میں سزا دے؟ اگر تمہارا ایمان ہے کہ اللّٰہ ظالم نہیں اور اگر تم یقین رکھتے ہو اللّٰہ تعالیٰ کی فرمانبرداری بدلہ ذلت سے نہیں مل سکتا تو پھر تمہیں ماننا پڑے گا کہ مسلمان ہونے کا دعویٰ جو تم کرتے ہو اسی میں کوئی غلطی ہے تمہارا نام سرکاری کاغذات میں تو ضرور مسلمان لکھا جاتا ہے مگر اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں انگریزی سرکار کے دفتر کی سند پر فیصلہ نہیں ہوتا اللّٰہ تعالیٰ اپنا دفتر الگ رکھتا ہے وہاں تلاش کرو تمہارا نام فرمانبرداروں میں لکھا ہوا ہے یا نافرمانوں میں؟

    اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارے پاس کتاب بھیجی تاکہ تم اس کتاب کو پڑھ کر اپنے مالک کو پہچانو اور اس کی فرمانبرداری کا طریقہ معلوم کرو کیا تم نے کبھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اس کتاب میں کیا لکھا ہے؟ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تمہارے پاس بھیجا تاکہ تم مسلمان بننے کا طریقہ سکھائے کیا تم نے کبھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کی اس نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کیا سکھایا اللّٰہ تعالی نے تم کو دنیا اور آخرت میں عزت حاصل کرنے کا طریقہ بتایا کیا تم اس طریقے پر چلتے ہو اللّٰہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بتایا کہ کون سے کام ہے جن سے انسان دنیا اور آخرت میں ذلیل ہوتا ہے کیا تم ایسے کاموں سے بچتے ہو بتاؤ تمہارے پاس اس کا کیا جواب ہے اگر تم مانتے ہو کہ نہ تم نے اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب اس کے نبی کی زندگی سے علم حاصل کیا اور نہ اس کے بتائے ہوئے طریقے کی پیروی کی تو تم مسلمان ہوئے کب تمہیں اس کا اجر ملے جیسے تم مسلمان ہو ویسا ہی تمہیں اجر مل رہا ہے اور ویسے ہی اجر آخرت میں بھی دیکھ لو گے۔
    اللّٰہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام کی سمجھ اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین.

    @muhammadmoawaz_

  • موروثی راجکماری ۔ تحریر :‌ زوبیہ سدوزئی

    موروثی راجکماری ۔ تحریر :‌ زوبیہ سدوزئی

    مریم نواز صاحبہ کی بات کریں تو میں انہیں موروثی راجکماری یا جعلی ملکہ پاکستان کہوں گی۔ مریم نواز صاحبہ کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ پاکستان کی عوام شعور سے عاری ہے۔ اگر شعور کی بات کریں تو شعور آئے گا بھی کیسے؟ صدیوں سے پاکستان پہ حکومت لٹیروں اور چوروں کی رہی۔ ان چوروں اور لٹیروں نے عوام کو شعور نہیں غلامی باننٹی۔ اگر شعور دیا ہوتا تو آج یہ موروثی راجکماری کیا ہزاروں لوگوں کی لیڈر ہوتی؟ اگر اس عوام میں شعور ہوتا تو کوئی اک بھی بندہ موروثی راجکماری کے جلسوں میں شرکت کرتا نظر نہ ائے۔ اگر تقاریر اور ویژن کی بات کی جائے تو موروثی راجکماری اپنے حسن کے جلوے دکھانے میں مصروف نظر آتی ہیں اور جاہل عوام ان حسن کے جلوؤں سے لطف اندوز ہوتی نظر آتی ہے۔ جب کہ اگر عوام باشعور ہو تو مریم کو لیڈر ماننے سے پہلے ان سے ان کی کارگردگی پہ سوال کرے۔ موروثی راجکماری سے یہ سوال پوچھے کہ پاکستان کا پیسہ لوٹ کے جائیداد بنانے کے علاوہ آپ نے کیا کیا اس ملک کے لیے؟ آپ کی اپنی کیا کریڈیبیلٹی ہے؟ لیکن یہ شعور آتے اور اک تربیت یافتہ قوم بنتے ابھی بہت وقت درکار ہے۔ اور جس دن عوام میں شعور آگیا کوئی اک بندہ بھی موروثی راجکماری کے جلسوں میں نظر نہیں آئے گا۔

    @KhatoonZobia

  • عنوان: ویزوں کے چکر میں دھوکے بازی تحریر: محمداحمد

    عنوان: ویزوں کے چکر میں دھوکے بازی تحریر: محمداحمد

    پاکستان میں لوگوں کا وطیرہ بن گیا ہے کہ دھوکے بازی کرکے لوگوں سے لوٹ مار کر رہے ہیں ہر انسان غلط نہیں ہوتا لیکن جو لوگ نیک نیتی کے ساتھ کسی دوسرے کی مدد کرتے ہیں ان کی ذات کیلئے بھی سوال پیدا ہوجاتے ہیں خداراہ ان مجبور کی مدد نہیں کرسکتے تو ٹھگی بازی کرکے کتنے پیسے کما لیں گے ویسے ہی وہ خرچ ہو جائیں گے اللہ پاک کی لاٹھی بے آواز ہے ہمیشہ اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے

    لیکن پاکستان میں لوگ منہ مانگی رقم وصول کرتے ہیں جبکہ دبئی، ابوظبی ، مسقط، عمان میں کفیل ویزہ فری دیتے ہیں سب کےلئے یہی مشورہ ہے کہ وہ کمپنی کے through ویزہ لیں اس کے بہت فائدے ہیں

    ویزے کا ٹوٹل خرچ کمپنی کا ہوتا ہے جس میں میڈیکل، ویزہ پیسٹنگ وغیرہ فری ہوتا ہے اس کے علاوہ دو سال بعد ویزہ بھی فری ہوتا ہے اِسی طرح جتنی دیر بھی باہر کے ممالک میں رہیں گے تمام واجبات کمپنی کے ہوتے ہیں یہی فائدہ کمپنی کے ویزے کا ہوتا ہے کہ کام کی پریشانی نہیں ہوتی واجبات ملتے رہتے ہیں

    جبکہ جو لوگ آزاد جاتے ہیں ان کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے کام ڈھونڈنے کی پریشانی ، رہائش کی پریشانی اس کے علاوہ اگر کسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں تو واجبات نا ملنے کی پریشانی ۔

    ہمیشہ ایک بات کا خیال رکھیں کہ کسی ایجنٹ سے ویزہ نا لیں صرف رجسٹرڈ ایجنسی سے ویزہ لیں جہاں نا تو پیسے ڈوبنے کا ڈر ہوتا ہے نا فراڈ کا ۔ اسی لئے اُن بےبس والدین پر تھوڑا سا رحم کریں تاکہ جو لوگ پیسوں کو اپنا وطیرہ بنا کر لوگوں کو لوٹ رہے ہیں اگر اللہ پاک نے آپ کو اہلیت دی ہے تو خدا ترسی کرکے بے لوث ہوکے مدد کر کے دیکھیں بڑی خوشی ملے گی اجر اللہ پاک نے دینا ہے اُس کی لاٹھی بے آواز ہے

    @JingoAlpha

  • پاکستان میں مہنگائی کا ذمہ دار کون  تحریر ; حسن خان

    پاکستان میں مہنگائی کا ذمہ دار کون تحریر ; حسن خان

    جہاں حکومت کو مہنگائی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے وہی پر ہم پاکستانی بھی مہنگائی کے ذمہ دار ہیں کیوں کہ ہم غیر ملکی اشیا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے مہنگی گاڑیاں مہنگے جوتے کپڑے کھانے پینے کی اشیا سب غیر ملکی استعمال کرتے ہیں کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ہم جو یہ پانی خرید کر پی رہے ہیں یہ ہمارے ملک کا ہی پانی ہےصرف ملٹی نیشنل کمپنی اپنا لیبل لگا کر ہم سے پیسے بٹور رہی ہیں اور یہ پیسہ ملک سے ڈولر کی شکل میں باہر جاۓ گا
    جس دن غیر ملکی اشیا خریدنی کم ہوگئی اس دن ہم مہنگائی پر قابو پا لیں گے
    ہمارے سابقہ حکمرانوں نے نا ہم کو شعور دیا نا ہی بتایا کہ معیشت کیا ہوتی ہیں ترسیلات زر کیا ہوتی ہے ایکسپورٹ انپوٹ کیا ہوتی ہیں ملکی معیشت کو کیسے مستحکم بنایا جاتا ہے صرف قرضہ لیتے گئے سبسڈی دیتے گئے ملک لوٹتے گئے
    دس سال بعد جب قرضوں کی واپسی کا وقت آیا تو سارا نزلہ عمران سرکار پر گرا ملک معاشی طور پر مفلوج ہوگیا حکومتی ایوانوں میں افرا تفری مچ گئی عمران خان کبھی ایک ملک کبھی دوسرے ملک مدد کیلئے بھاگا بھاگا پھر رہا تھا وجہ ملکی قرضے واپس کرنے تھے وہ بھی ڈولر کی صورت میں ڈولر تو کرپٹ حکمران بیرونی ممالک لوٹ کر لے گئے تھے تب جاکے ہماری سعودی عرب اور چین نے مدد کی تو ملک مزید تباہی سے بچ گیا آج بہترین معیشت کے ساتھ سارے ادارے خساروں سے نکل چکے ہیں
    مہنگائی ڈولر کی وجہ سے اپر ہے اور ویسے بھی پوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے
    کرونا وائرس اس کی مین وجہ بنی
    مہنگائی سے بچے کیلئے پاکستانی عوام کو غیر ملکی اشیا کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہئے تاکہ ملک مزید ترقی کرے
    میری چھوٹی سی تحریر پڑھ کر اگے شیر ضرور کریں

    @Hk_isi_

  • بیٹی . تحریر : محمد علی شیخ

    بیٹی . تحریر : محمد علی شیخ

    بیٹی کو ایک بوجھ کی طرح سمجھنا آخر کیوں بیٹیوں کے بارے میں دو باتیں ہر کسی کی زبان پر ہوتی ہیں بیٹیاں بوجھ ہوتی ہیں، جتنی جلدی اتر جائے اچھا ہے۔ بیٹیاں پرایا دھن ہوتی ہیں۔ آخکیوں ایسا سمجھا جاتا ہے کیا ہم مکمل دین اسلام میں داخل نہیں ہیں کیوں ان کے لیے ایسی منفی سوچ رکھتے ہیں ۔ جب کے ہم بھی کیسی بیٹی کی اولاد ہی ہیں۔

    زمانہ جہالت میں بیٹی کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا قبائلِ عرب میں عورت کےحقوق واحترام کا تصور بھی بے عزتی سمجھا جاتا تھا انسانی تاریخ نےوہ ہولناک منظر بھی پیش کیا جب ایک باپ مفلسی اورکبھی شرمندگی کےخوف سےنومولودبیٹیوں کوزندہ درگورکر دیتےتھےاوراس عظیم گناہ پر عمل کرنے سےسکون اوراطمینان محسوس کرتے۔خاص طورپرقبیلہ مضر، خزاعہ اور بنوتیم کےقبائل میں یہ رواج عام تھا۔کتنے بے حس اور پتھر دل انسان ہونگے جو اس حد تک چلے جاتے تھے لاکھوں کروڑوں درود و سلام سرکارِدوعالم حضرت محمدﷺ جملہ کائنات کے لیے رحمۃ للعالمین ﷺ نے اس عمل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور قرآن کریم میں ان دل سوز واقعات کی منظر کشی یوں کی گئی ہے: اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی (پیدا ہونے) کی خوشخبری ملتی ہے تو اس کا چہرہ (افسوس کی وجہ سے) کالا پڑجاتا ہے اور وہ دکھ سےبھرجاتاہے۔(سورۃالنحل:۵۸)

    اب صرف فرق اتنا ہے کچھ گھرانے اسے بیٹی کو اس کی نظروں میں درگور کر دیتے ہیں۔۔ ہر قسم کی روک ٹوک ہر جگہ اسے احساس دیلانا تم بیٹی ہو بیٹی بن کے رہو۔۔یہ مت کرو وہ مت کرو۔ ہمیں تمام شریعت کے احکامات دین دنیا کی تعلیم اور معاشرے کے بدلتے رنگ ڈھنگ سب بتانے چاہیں۔ روک ٹوک ایسے کرو کے اس کے ذہنی نشونما ہو ایسا نا ہو وہ خود پر ہی اپنا اعتماد کھو دے
    بیٹی کی طاقت بنا چاہیے نا کہ اس کی کمزوری بنیں۔ اولاد اللہ پاک کی نعمت ہے، خواہ بیٹا ہو یا بیٹی۔ اصل اولاد کا نیک وصالح ہونا ہے ، صرف اپنی صنف کی وجہ سے بیٹے کو بیٹی پر کسی قسم کی برتری حاصل نہیں تو خدارا ہمیں ان کی تربیت کی ضرورت ہے ان کو نیچا دیکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ میری بیٹیوں نے مجھ سے سوال کیا پاپا آپ نے آج تک ہمارے لیے اللہ تعالی سے کونسی خاص دعا کی ہے تو میں نے کہا بیٹا ماں باپ کی ہر دعا بیٹیوں کے لیے خاص ہی ہوتی لیکن وہ سب ضد کرنے لگیں تو میں نے کہا تو سنو میں نے اللہ سے دعا کی ہے یا رب میری اگر میری بیٹیوں کے حصے میں کوئی دکھ تکلیف ہے تو وہ بھی مجھے دے دینا میری حصے کے سکھ چین میری بیٹیوں کو دے دینا ۔ وہ تینوں مجھے سے چمٹ گئیں رونے لگیں بار بار بولتی رہی یہ دعا واپس لو اپنی آج بھی وہ منظر یاد کرتا ہوں تو آنکھ بھر آتی ہے یہ سب بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے بیٹی لازوال محبت کا نام ہے اللہ ربالعزت تمام بیٹیوں کی حفاظت فرمائے.
    آمین ثم آمین

    @MSA_47

  • میرا شہر آج تک پسماندہ کیوں   تحریر: محمد ابراہیم

    میرا شہر آج تک پسماندہ کیوں تحریر: محمد ابراہیم

    میں ضلع ڈیرہ غازی خان کے حلقہ پی پی 287 ( این اے 190) کا رہائشی ہوں۔ میرے حلقہ میں آج بھی پینے کا صاف پانی بہت سے علاقوں میں نہیں ہے۔ میرے حلقہ میں آج بھی بہت سے علاقوں میں لڑکیوں کا سرکاری سکول نہیں۔ میرے حلقہ میں آج بھی بنیادی صحت کی سہولت موجود نہیں۔ میرے حلقہ میں آج بھی کئی علاقوں میں بجلی موجود نہیں۔ میرے حلقہ کے بہت سے علاقوں میں گیس موجود نہیں۔ میرے بہت سے علاقوں میں امن و امان کی حالت بہت خراب رہتی ہے۔ میرے وسیب میں آج بھی بہت سے سرکاری محکموں میں رشوت اور سفارش عروج پر ہے۔ وغیرہ وغیرہ
    آخر میرا وسیب آج تک اتنا پسماندہ کیوں ہے؟ آئیے کچھ تاریخ پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں جس سے ہمیں شاید کچھ باتیں واضح ہو سکیں۔
    ہمارے وسیب کی تاریخ کا ذرا جائزہ لیں تو اس حوالے سے بہت کچھ ملے گا لیکن ایک بات جو واضح ہے کہ سردار/وڈیرہ نظام عرصہ دراز سے قائم و دائم ہے۔ اس حوالے سے وسیب میں تمن داری نظام کو دوام حاصل رہا جس کے اثرات آج تک نظر آتے ہیں۔ اس سردار/وڈیرہ نظام کو مضبوط کرنے میں ہر برادری کے چند بڑوں (مالی حیثیت سے مضبوط) نے اپنا کردار ادا کیا۔ جو برادری کے نام پر لوگوں کو اکٹھا کر کے زیادہ تر اپنے لیے مفادات لیتے رہے اور اپنے من پسند سردار/وڈیرہ کو ہمیشہ خوش رکھتے رہے اور انھیں سیاسی طور پر مضبوط کر کے اسمبلیوں میں بھیجتے رہے جس کا سلسلہ ہمارے حلقہ میں آج بھی جاری ہے۔اس نظام نے سردار/وڈیروں اور برادری کے چند بڑوں کو تو فوائد دیئے لیکن 99۔99 فیصد عام طبقہ بنیادی سہولتوں کو ترستا رہا جو آج کے دور میں بھی جاری و ساری یے۔ جس کی مثال ہمارے وسیب کی پسماندگی سب کے سامنے ہے۔
    کیا ہمارے وسیب کے کسی شخص نے اس سے پہلے اس نظام کے خلاف کبھی بغاوت نہیں کی؟ بالکل ایسا نہیں ہے۔ اس حوالے سے کئی لوگوں کی مثالیں موجود ہیں۔

    اس حوالے سے جس شخصیت نے خاص طور پر اس سردار/وڈیرہ نظام کو ختم کرنے کے لیے حقیقی جدوجہد کی وہ 1970 میں ڈاکٹر نذیر احمد شہید تھے۔ یاد رہے وہ پیشے کے لحاظ سے ایک حکیم تھے اور ایک مشہور ومعروف سماجی شخصیت تھے۔ وہ جماعت اسلامی کے اہم کارکن و رہنما تھے۔ 1970 کے انتخابات میں حلقہ این ڈبلیو 88 ڈی جی خان 1 سے انھوں نے ہمارے حلقہ سے سردار/وڈیروں اور بڑے ناموں کو شکست دی تھی۔ ان میں ایک طاقت ور سردار محمد خان لغاری مرحوم ( والد سابق صدر پاکستان فاروق احمد خان لغاری) تھے۔ اس دور میں ہمارے وسیب کی عوام نے نے ان سردار اور خواجگان کے مقابلہ میں اس عام طبقہ کے سماجی کارکن کو جماعت اسلامی ٹکٹ پر منتخب کروایا۔ یاد رہے میری معلومات کے مطابق وہ جس سیٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے تھے وہ سیٹ رمک سے روجھان تک پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے انھیں جلد قتل کروا دیا گیا جس کا خمیازہ آج تک ہمارا وسیب بھگت رہا ہے اور یوں سردار/وڈیرے اس کے بعد مسلسل اقتدار میں آتے رہے ہیں جو سلسلہ آج تک تھم نا سکا۔
    اسی طرح 1970 کے الیکشن میں منظور احمد لنڈ نے بھی پی این ڈبلیو 88 پر پی پی پی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور سردار/وڈیرہ نظام کے خلاف اپنی بھرپور مزاحمت کی۔

    اور اس کے علاوہ بھی کچھ عام طبقہ کے لوگوں نے اپنی سکت کے مطابق کوشش کی جن میں ایک نام ظفر خان بلوچ مرحوم کا ہے جنھوں نے سردار/وڈیروں کے خلاف کافی جدوجہد کی۔ وہ کبھی جیت تو نا سکے لیکن سیاسی حوالے سے سردار/وڈیروں کا خوف کسی حد تک کم کر گئے۔
    پھر جنرل الیکشن 2013 میں حلقہ پی پی 242 سے پی ٹی آئی ٹکٹ پر ایک عام طبقہ کے جوان عطاء اللہ خان کھوسہ صاحب نے الیکشن لڑا۔ حالانکہ وہ الیکشن ہار گئے لیکن انھوں نے جس طرح محنت کی اور نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے اس سردار/وڈیرہ نظام کے خلاف جد وجہد کی وہ لائق تحسین ہے جس کے ثمرات آج تک نوجوان قیادت میں موجود ہیں اور وہ اب اپنی سکت کے مطابق کوشش کر رہے ہیں۔ سردار/وڈیرہ نظام کس طرح کام کرتا ہے اور کتنا مضبوط ہے

    Twitter , @IbrahimDgk1