Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اسلام میں خواتین کی حقیقی اہمیت اوربحیثیت مسلمان ہمارے فرائض  تحریر: محمد اختر

    اسلام میں خواتین کی حقیقی اہمیت اوربحیثیت مسلمان ہمارے فرائض تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام، اسلام قبول کرنے والی پہلی عورت حضرت خدیجہ (رض) تھیں، اسلام کی سب سے بڑی عالمِ دین ایک عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔وہ شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ پیار کیا وہ بھی ایک عورت ہی تھیں جن کا نام حضرت فاطمہ (رض)تھا، آج کے اِس دور میں اسلام کو غلط معنی میں پیش کیا جاتا ہے، جبکہ در حیقت اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت اور عزت عورت کو دی گئی ہے بشرط یہ کہ ہم اسلامی تاریخ کا اُس کی اصل روح سے مطالعہ کریں۔دورِ حاضر میں غلط فہمیوں کے باوجود، اسلام میں خواتین کا درجہ محبوب کے برابر کا ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں توپتا چلتا ہے کہ ایک گہری جنس پرست تاریخی سیاق و سباق کے درمیان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کی اہمیت پر دلیری سے تبلیغ کی۔ خاندان اور معاشرے میں ان کی شراکت کوسراہا، خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت اور ان کے حقوق کے لئے مہم چلائے۔اسلام میں خواتین کے ارد گرد بہت سے منفی دقیانوسی تصورات اسلامی رہنمائی سے نہیں بلکہ ثقافتی طریقوں سے جنم لیتے ہیں، جو نہ صرف خواتین کے حقوق اور تجربات کی نفی کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی بھی براہ راست مخالفت کرتے ہیں۔ نادان اور پردہ دار مسلمان عورت کی دقیانوسی باتوں سے دور، شیخ ابن باز نے کہا، ”اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام اس عورت کی عزت، حفاظت کرنے، انسانیت کے بھیڑیوں سے اس کی حفاظت کرنے، اس کے حقوق کو محفوظ بنانے اور اس کی حیثیت کو بلند کرنے کے لئے آیا ہے۔ ” تاریخ، ثقافت اور مذہب کے مابین تمام الجھنوں کے ساتھ، خود سے یہ سوال پوچھنا ضروری ہے۔ قرآن مجید اور احادیث اسلام میں خواتین کی حیثیت کے بارے میں در حقیقت ہمیں کیا سکھاتی ہیں؟

    اسلام ہمیں برابری کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے

    قرآن کریم ہمیں سکھاتا ہے کہ آدم اور حوا کو ایک ہی روح سے پیدا کیا گیا تھا۔ دونوں برابر کے قصوروار، یکساں ذمہ دار اور یکساں طور پر قابل قد تھے۔ بحیثیت مسلمان، ہم سمجھتے ہیں کہ تمام انسان ایک خالص حالت میں پیدا ہوئے ہیں – مرد اور خواتین – اور ہمیں ایمان کے ساتھ ساتھ اچھے ارادے اور عمل کے ذریعہ اس پاکیزگی کو بچانے کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی۔مساوات کا مرکزی خیال دیگر اسلامی تعلیمات کے ذریعہ بھی چلتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک اہم آیت میں لکھا ہے، ”مرد مومن اور خواتین مومن ایک دوسرے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور خیرات دیتے ہیں اور خدا اور اس کے نبی کی اطاعت کرتے ہیں۔ (قرآن، 9:71)۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے لئے مرد اور عورت کی یکساں ذمہ داریاں ہیں۔ ایک اور قرآنی آیت میں خواتین اور مردوں کے مساوی حیثیت کی وضاحت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے، ”جو بھی مرد، عورت، نیک عمل اور ایمان رکھتے ہیں، ہم ان کو ایک اچھی زندگی دیں گے اور ان کے بہترین اعمال کے مطابق انہیں بدلہ دیں گے۔” (16:97)
    خواتین کے حقوق کا تحفظ
    610 ء عیسوی میں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیکس ازم میں جڑے ہوئے تاریخی تناظر میں رہ رہے تھے۔ یورپ سے لے کر عربی دنیا تک، خواتین کو مردوں کے برابر سلوک نہیں کیا گیا۔ اسلام خود ہی جزیرالعرب، اب سعودی عرب میں پیدا ہوا تھا، جہاں خواتین کے پاس کاروبار نہ تھے، نہ ہی ان کی ملکیت تھی اور نہ ہی ان کا مال وراثت میں تھا۔ مزید یہ کہ جبری شادی عام تھی، لڑکیوں کے لئے تعلیم شاذ و نادر ہی تھی، اور خواتین بچوں کو اکثر ترک کردیا جاتا تھا یا انہیں زندہ دفن کیا جاتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تاجر زوجہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ان بہت سے ناجائز عمل کے خلاف کھڑی ہوئیں، مردوں سے عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ پیش آنے کی وکالت کی۔ اسلام کے قوانین کے مطابق،ہر انسان کی زندگی کو مقدس سمجھا جاتا ہے، اور مرد اور خواتین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کس سے شادی کرے اس کا انتخاب کریں اور انہیں کبھی بھی زبردستی نہیں لینا چاہئے۔ اسلامی قوانین کے تحت، خواتین کو یہ بھی حق حاصل ہے کہ وہ جائیدادیں فروخت اور خریدیں، کاروبار چلائیں، شادی کے دوران کسی بھی وقت اس سے جہیز کا مطالبہ کریں، ووٹ دیں اور سیاست اور معاشرے کے تمام پہلوؤں میں سرگرم حصہ لیں۔ یہاں یہ قابل ِ ذکر ہے کہ بہت سارے اسلامی ممالک، جیسے پاکستان اور ترکی میں خواتین کی ورزائے اعظم کی حیثیت میں سربراہی رہ چُکی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم تک یکساں رسائی کو فروغ دیا، ہمیں یہ تعلیم دی کہ، ”علم کی جستجو ہر مسلمان، مرد اور عورت کا فرض ہے۔” [ابن ماجہ] محبوب کی اپنی بیٹی، حضرت فاطمہ (رض)، اعلی تعلیم یافتہ اور قابل احترام تھیں۔ آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کا مطالعہ کریں تویہ ثابت ہوتاہے کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کسی کمرے میں داخل ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوجاتے اور اپنی نشست ا نہیں دے دیتے۔

    بحیثیت مسلمان ہمارا فرض

    قارئین کرام، ماضی قریب میں عورتوں کیخالف تشویش ناک حد تک بڑھتے جرائم درحقیقت دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے دور ہو کر مغربی ثقافت کو پروان چڑھانے کا نتیجہ ہے، ہمیں دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا اور معاشرے میں چُھپے درندہ صفت بھیڑیوں کو عورت کے مقام، عزت و مرتبہ کا بتانا ہوگا۔کیونکہ عورت ہی وہ ہستی ہے جو ماں،بہن،بیوی کے روپ میں ہمیں اچھی تربیت دے کر عورت کی عزت کرنا سکھاتی اور معاشرے کا ایک کارآمد شخص بناتی ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کی میراث، بحیثیت مسلمان، سنت کی پیروی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم کاموں کو جاری رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔ ہمیں ایک مہذب معاشرے اور قوم کو تشکیل دینے کے لئے اسلام کے احکامات اور قوانین کی روشنی میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا ہوگا۔
    @MAkhter_۔

  • حسنِ اخلاق اور ہم لوگ  تحریر: عامر سہیل

    حسنِ اخلاق اور ہم لوگ تحریر: عامر سہیل

    جب ہم یہ لفظ اخلاق سنتے ہیں تو ایک چیز ذہن میں آتی ہے ہم سوچتے ہیں کہ اخلاق مطلب ہے میٹھا بولنا مسکرانا۔ حسنِ اخلاق میں محض میٹھا بولنا ہی نہیں حسن اخلاق سچ بولنا بھی ہے۔ اچھا گمان رکھنا بھی حسن اخلاق ہے۔ لیکن ہم لوگ میٹھا بول رہے ہوتے ہیں اور دل میں نقصان پہنچانے کے ارادے کر رہے ہوتے ہیں۔
    حسنِ اخلاق کسی کو نفع دینا ہے۔ اخلاق وفادار رہنا ہے جس دوست، ہم منصب کے ساتھ آپ ساتھ چل رہے ہوں آپ کو اس کے ساتھ وفادار رہنا چاہیے یہ بھی حسن اخلاق میں ہے۔ اخلاق کردار کے سنوارنے کو کہتے ہیں جب ہمارا کردار پاک ہو ہم کسی کو دھوکا نہ دیں مجبوری کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔ ہم کسی کو دھوکہ دے کر اچھے اخلاق کے مالک بن سکتے ہیں بلکل بھی نہیں ہمارا دین ہمیں اس کی بلکل بھی اجازت نہیں دیتا۔ اگر آپ کو دھوکہ دے کر تکلیف ہوتی ہے کسی کو آسانی دے کر آپ کو سکون ملتا ہے آپ مطمئن ہوتے ہیں تو آپ اچھے اخلاق کے مالک ہیں اس کو اپنے اندر ڈھونڈ کر اپنی زندگی کو آسان بنانے۔
    غصے کو دبا لینا اور ضبط کر جانا بھی بہت اعلٰی صفت ہے جو آسانی سے نہیں آتی۔ غصے کے بارے تنبیہ کرنا اس کے فضائل بیان کرنا آسان ہے لیکن اس پر قابو اتنا ہی مشکل ہوتا۔ اگر آپ غصے کے وقت خود پر کنٹرول رکھیں تو یقینا آپ کامیاب ہوں گے۔
    غلط بات کو غلط رویہ کو برداشت کرنا اخلاق ہے بعض اوقات لوگ کہتے ہیں مجھ سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی حالانکہ غلط بات کو برداشت کیا جاتا ہے۔ صحیح بات کو برداشت نہیں قبول کیا جاتا ہے۔ ہمارے اسلام نے اس چیز ہر بہت زور دیا ہے کہ آپس میں حسنِ سلوک رکھو بھلے وہ تم سے کم طاقت میں ہے لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ امیر کے سامنے تو جھک جاتے ہیں اور غریب کو دباتے ہیں.
    نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
    أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا۔
    الحدیث۔
    سنن الترمذي:1162 ابواب البر والصلة
    ترجمہ:
    سب سے کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے
    حسنِ اخلاق کو عملی طور پر نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عمل کر کے دیکھایا ہے۔معاشرے میں اس چیز کی بہت کمی ہے انسان ایک دوسرے کو حقیر سمجھتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہ ہمارے معاشرے میں بہت تیزی سے آئی ہے ہماری نجات ہماری ترقی اسی راہ میں ہے جو راہ ہمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھایا ہے۔ لوگوں کو پرکھنا چھوڑ دیں خود احتسابی کریں۔
    کیا آپ نے لوگوں کی قدر کی؟
    کیا آپ اپنے والدین، اپنی بیوی کے ساتھ خوش اخلاق ہیں۔ کیا وہ آپ کو اپنی زندگی میں پا کر خوش ہیں اگر نہیں خوش تو آپ خود پر توجہ دینی چاہیئے آپ کہاں ہیں۔آپ خود کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں کسی کے سامنے اس چیز کا جوابدہ صرف اللہ کو ہیں
    اس دنیا سے ہزاروں لوگ چلے جا چکے ہیں کیا اُن کے جانے سے دنیا کو فرق پڑا؟
    بلکل بھی نہیں تو آپ کے جانے سے بھی نہیں فرق نہیں پڑے گا اللہ پاک نے اگر آپ کو موقع دیا ہے تو اس سے فائدہ اٹھائیں توبہ کریں.اور اپنے حقیقی خالق و مالک کو پہچانیں اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر لوٹ آئیں۔ اور حقیقی مقصد کے لئے کوشش کریں.

  • مشرقی لڑکی  اور ہمارا معاشرہ  تحریر: از عمرہ خان

    مشرقی لڑکی اور ہمارا معاشرہ تحریر: از عمرہ خان

    آج کل دیکھا جائے تو عورتیں ہر محاذ پر مردوں کے زمانہ بشانہ کھڑی ہیں اور یہ ہونا بھی چاہیے ۔۔۔ مگر دیکھا جائے تو ایک عورت جتنی ترقی کرلے وہ مرد سے ایک قدم پیچھے ہی رہے گی کیونکہ یہی قدرت کا قانون ہے ۔۔۔۔ بے شک ایک عورت پائلٹ ضرور بن سکتی ہے مگر 40 اور پچاس کلو وزن اٹھانا؟؟؟ یہ اسکے لئے ممکن نہیں ہے کیونکہ اسے تو خود ایک آبگینہ کہا گیا ہے ۔۔۔۔ اور آبگینہ کیا ہوتا ہے؟ نازک آبگینہ یعنی کانچ کا ٹکڑا جو ذرا سی کھرونچ سے اپنی خوبصورت کھو دیتا ہے ۔۔۔۔گر جائے یا ٹکرا جائے تو پاش پاش ہوجاتاہے ۔۔۔۔ عورت تو وہ نازک آبگینہ ہے ۔۔۔۔۔
    اونٹ اپنی رفتار سے چلائے جارہے ہیں کہ اونٹ بان کو حکم ہوتا ہے
    رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ”
    (بخاری:6211)
    "انجشہ! دھیرے چلو، ورنہ آبگینے ٹوٹ جائیں گے _”
    یہ آبگینے کون تھے ؟؟ یہ وہ عورتیں تھیں جو ان اونٹوں پر سوار تھیں۔ اور یہ کہنے والی ہستی ؟؟ یہ وہ ہستی صلی اللّٰہ علیہ وسلم تھی کے جسکے لئے کائنات کو وجود بخشا گیا ۔۔۔۔۔
    آج جب ایک عورت آزادی کیلئے آواز اٹھاتی ہے تو وہ درحقیقت اپنے خلاف خلاف آواز اٹھاتی ہے
    اور صرف یہی نہیں پھر مردوں کے بیچ وہ رہتی ہے۔ہر قسم کی باتیں اس ماحول میں کرتی ہے تو بھی وہ اپنی نسوانیت کھو رہی ہوتی ہے
    پھر وہ لڑکی ان مردوں میں اٹھتی بیٹھتی ہے ہنسی مذاق اور بات چیت کرتی ہے ۔۔۔۔۔ایک لڑکی کے پاس تربیت کے علاؤہ کوئی مانع نہیں ہوتا کہ وہ یہ ہنسی مذاقفضول گوئی نہ کرے ۔۔۔۔ اب ان باتوں پر بہت سے لوگ آئینگے کہ جنھیں یہ باتیں کنجسٹڈ سوچ اور دقیانوسیت لگے گی ۔۔۔۔۔مگر ہم چودہ صدی پیچھے جائیں تو دیکھتے ہیں امت مسلمہ کی رول ماڈلز کو حکم ہوا ہے کہ
    اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے میں بات نہ کرو مبادا جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال وابستہ کر لے اور قاعدہ کے مطابق گفتگو کرو۔‘‘
    پھر وہ تو پاکیزہ لوگوں کا دور تھا آج جہاں فتنہ و فساد برپا ہے جہاں 2 اور تین سالہ بچی نہیں بخشی جاتی وہاں ایک لڑکی مردوں سے بے تکلف ہوتی ہے ہنسی مذاق اور فضول گوئی کرتی ہے اور آج تو دل کے روگ کا اور بھی شبہ ہے ۔۔۔۔۔ کیا اچھا نہ ہو کہ عورت اپنی حدود میں رہ کر معرکہ سر کرے ۔۔۔۔۔ کیا اس وقت عورتیں باہر نہیں نکلتی تھیں ؟ کیا اس دور میں عورت گھر کی قیدی تھی؟؟۔ حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللّٰہ عنھما وہ مدینے کے اطراف میں کھجور کی گھٹلیاں چننے جایا کرتی تھیں ۔۔۔۔حضرت خولہ بنت ازور اس وقت اسلامی لشکر میں آگے آگے تھیں جب وہ لشکر انکے بھائی کو کفار سے چھڑانے کفار کا پیچھا کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ حضرت عائشہ صدیقہ امت ماں ۔۔۔ رضی اللّٰہ عنھا انسے بے شمار صحابہ نے بے شمار احادیث نقل فرمائیں۔ مگر ان سب عظیم عورتوں نے یہ سب اللّٰہ کی قائم کردہ حدودوں میں رہ کر کیا ۔۔۔۔۔۔
    صرف یہی نہیں دین اسلام کی پہلی شہید بھی ایک عورت تھیں حضرت سمیہ رضی اللّٰہ عنھا
    دین کی نشرو اشاعت سے لیکر روز مرہ کے کام کاج تک سبھی تو کرتی تھیں عورتیں چودہ سال پہلے بھی ۔۔۔۔۔اور پھر آزادی ؟؟؟ کیا ہمیں آزادی 1400 سال پہلے نہیں مل گئی؟؟ جب بچیوں کو زندہ دفنا دیا جاتا تھا ۔۔۔جب عورت دنیا کی حقیر ترین شئے تھی !!! اسلام آیا اور وہی عورت عظیم ترین ہوگئی ماں ہے تو قدموں تلے جنت بیٹی ہے تو رحمت ۔۔۔۔کیا یہ آزادی ملنا نہیں تھا؟ پھر یہ آزادی جو آج عورت چاہتی ہے کیا ہے؟ اب جو رہا ہے وہ مردوں کے برابر آ کھڑا ہونا ہے اور یہ تو قدرت ہی کہ قانون کے خلاف ہوجائے ۔۔۔۔ کیونکہ عورت تو اللّٰہ تعالٰی کی بڑی نفاست اور لچک سے بنی مخلوق پھر وہ کیسے ایک مرد کے برابر ہوسکتی ہے۔۔
    پھر دنیاوی کام کاج وہ تو آج سے چودہ سال پہلے بھی عورتوں نے نہیں چھوڑے تھے دین کے نام پر ۔۔۔۔۔بس آپ ایک بہن ایک بیٹی ایک ماں بن کر اللّٰہ کے حدود کی پاسداری کریںتو سب کچھ ممکن ہے۔۔۔۔۔ ترقی آج بھی عورت کر رہی ہے مگر یہ سوچ کہ ترقی کیلئے چھوٹے کپڑے اور بڑی سوچ ضروری ہے تو یہ سوچ غلط ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جس سوچ کو آج کل بڑی سوچ کہا جارہا ہے یہ اور کچھ نہیں صرف ذہن کا فتور ہے عورت پردے میں رہ کر بھی وہ سب کرسکتی ہے جو کچھ آ ج چھوٹے کپڑے اور بڑی سوچ کے نام پر گھٹیا سوچ بناکر کر رہی ہے۔۔۔۔کسی کو یہ باتیں چھوٹی سوچ کی عکاسی لگتی ہیں تو لگیں ۔۔۔عورت ایک آبگینہ ہے جو جتنا زیادہ چھپا کر اور حفاظت سے رکھا جائے اتنا ہی اپنی خوبصورتی برقرار رکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے معاشرے اور دین اسلام کی ان حدود سے کسی عورت کو شکایت ہے تو وہ مغربی ممالک کی عورت کو دیکھے امید ہے کہ شکایت میں کمی واقع ہوگی یوں بھی نسل عورت سے بنتی ہے آج کل جب سب کچھ الٹ چل رہا نسل نو پستی کا شکار ہے تو اس میں بھی کہیں نہ کہیں عورت کا ہاتھ ہے کیونکہ اس نسل کو اپنی پہلی درس گاہ سے ہی اچھا سبق نہ مل سکا تو دنیا میں فتوحات کیسے ہوں
    مشہور سپہ سالار نیپولین بوناپارٹ کا ایک قول ہے کہ
    ” مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دونگا ”
    اس بات کو تو مغرب بھی تسلیم کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اب وہ اسلامی معاشرے میں عورت کے کردار کو بری طرح مسخ کرنے کے درپے ہے تو آج تو عورت کو اور زیادہ دامن بچا بچا کر اور ثابت قدمی سے رہنا ہے ۔۔۔۔۔۔
    Twitter handle: @Amk_20k

  • ہمت مرداں مدد خدا  تحریر : طاہر ظہور غوری

    ہمت مرداں مدد خدا تحریر : طاہر ظہور غوری

    آج کی نوجوان نسل اپنے لئے اچھی نوکری تلاش کرتی نظر آتی ہے جو اچھی تعلیم حاصل کر گیا وہ بھی اور جو رہ گیا وہ بھی اسکو یاں سرکاری نوکری چاہئے یاں ایسی نوکری جس میں اس کو کوئی سخت کام نا کرنا پڑے-
    اور اگر کوئی ہمت کر کے کوئی کاروبار شروع کر بھی لیتا ہے تو پہلے ہی جھٹکے میں تھک کر بیٹھ جاتا ہے کہ شاہد یہ کام اس کیلئے ناممکن ہے کیا
    اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر کامیاب انسان نے بہت سی ناکامیوں کا منہ دیکھا ہوتا ہے
    ناکامی دراصل کامیابی کی سیڑی ہے جو یہ سمجھ گیا اور لگن سے کوشش کرتا رہے وہی کامیاب ہوتا ہے
    چلو کچھ مثالیں دے دیتے ہیں “ہرلینڈ ڈیوڈ سیڈنر” جو کہ کے ایف سی کا مالک تھا اس کی پینسٹھ سالہ زندگی ناکامیوں سے بھری پڑی تھی اس نے ریٹائرمنٹ کہ بعد کے ایف سی شروع کیا اور آج ہم لوگ اسکو کھانا سٹیٹس سمبل سمجھتے ہیں جب اس شخص نے اس عمر میں بھی اپنی تمام تر ناکامیوں کے باوجود ہار نہیں مانی اور آخر کار کامیاب ہوا
    “عمران خان” پہلے ہی ٹیسٹ میچ کے بعد بری کارکردگی کی وجہ سے ٹیم سے نکال دیا گیا پر ہمت نا ہاری اور اک دن پاکستان کی کریکٹ ٹیم کا کپتان بنا اور آج تک اس کا شمار دنیا کریکٹ کے بہترین کھلاڑی اور کپتان کے طور پر ہوتا ہے
    اب کچھ پڑھنے والے یہ کہیں گے کہ یہ تو ان لوگوں کی کہانی ہے جو زندگی میں کامیاب ہوئے تو یہاں یہی بتانا مقصد ہے کہ انلوگوں نے بھی شروع کے دنوں میں ناکامیوں کا منہ دیکھا پر اپنی لگن اور ہمت سے کامیابی حاصل کی
    مضمون کا حاصل یہی ہے کہ نوجوانوں اگر زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو جان لو ناکامیاں اور کامیابیاں زندگی کا حصہ ہیں
    کبھی کسی ناکامی یاں کامیابی کو آخری نا سمجھو اپنے حوصلوں کو کبھی پست نا ہونے دو اک سنہرا کا تمہارا منتظر ہے

    @tz_ghauri

  • جیسی قوم ویسے حکمران  تحریر: سیدہ بنت زینب

    جیسی قوم ویسے حکمران تحریر: سیدہ بنت زینب

    کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس کے لوگوں پر ہوتا ہے. ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اگر کسی ملک کے لوگ اپنے اپنے حصے کا کام پوری ایمانداری سے، پوری لگن سے کریں تو اس ملک کا دنیا میں بول بالا ہو گا. لیکن اگر اسی ملک کے لوگ اپنی جگہ بے ایمانی، کرپشن، زخیرہ اندوزی کرنے لگیں گے تو یقیناً اس ملک کو ترقی پذیر ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا.
    بدقسمتی سے پاکستان وہ ملک بن چکا ہے جہاں ہر شخص اپنی جگہ کرپٹ ہے، جسے جتنا موقع ملے وہ اتنی ہی ڈھٹائی سے کرپشن کرتا ہے. فریج والے سے لے کر موٹر والے تک، میکینک سے لے کر دکاندار تک، ایک چھوٹے بچے سے لے کر بوڑھے شخص تک ہر کوئی کرپشن جیسی بیماری میں مبتلا ہے. یہ بات اس بات سے بھی ثابت کی جا سکتی ہے کہ "اسکول میں پرنسپل نے ٹیچر کو کہا کہ بچوں سے دس روپے فارم کے لینے ہیں، ٹیچر نے کلاس میں آ کر بچوں کو کہا کہ صبح بیس روپے اسکول فارم کے لیے لے آنا، بچے نے گھر جا کر اپنی والدہ کو یہی رقم بیس کی بجائے پچاس بتائی اور اسکی والدہ نے یہی رقم بچے کے والد کو آگے سو بتا کر لی.” افسوس بحیثت قوم ہم سب کرپٹ ہو چکے ہیں.
    عوام ہمیشہ حکمرانوں پر ہی الزام لگاتی ہے کہ حکومت نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا اب ذرا عوام کی بات کریں تو کیا عوام بھی اسی تھالی سے نہیں کھا رہی جس میں سے سیاستدان کھا رہے ہیں؟
    جب بھی پاکستان کی ترقی پذیر ممالک میں ہونے کی بات آتی ہے تو ہر شخص اپنی جگہ بیٹھ کر سارا ملبہ ملک کے سیاستدانوں پر ڈال دیتا ہے کہ انہوں نے ہمارے ٹیکس کے پیسے کھائے ہیں، کروڑوں کی کرپشن کی ہے مگر دوسروں پر بات کرنے سے پہلے کوئی یہ نہیں سوچتا کہ وہ خود اپنی جگہ کتنے کرپٹ ہو چکے ہیں…!
    تو پھر ہم کس منہ سے حکمرانوں کو کچھ کہہ سکتے ہیں جب ہم خود ہی کرپٹ ہوں؟
    اپنے وزیروں، اداروں اور افسروں کو گالی دینے سے پہلے ایک بار ذرا خود سے پوچھیں کہ آپ نے کتنی ایمانداری سے اپنے حصے کا کام کیا ہے؟ آپ نے اپنی دھرتی اور اپنے لوگوں کے لیے کیا کچھ کیا ہے؟
    حکمرانوں کے دل اللّٰہ کے قبضہ میں ہوتے ہیں، جیسے لوگوں کے اعمال ہوتے ہیں اللّٰہ تعالی ان کے مطابق حکمرانوں کے دل کردیتا ہے، یعنی اگر عوام کے اعمال اچھے ہوں گے تو حکمران ان کے لیۓ اچھے ثابت ہوں گے اور اگر ان کے اعمال اچھے نہیں ہوں گے تو حکمران عوام کے لۓ برے ثابت ہوں گے.
    یہ تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ "جیسی قوم ویسے حکمران”. اگر حکمران ایمانداری ہو اور عوام بے ایمان، تب بھی کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ ایک اکیلا شخص سارے معاشرے کی برائی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کچھ اچھا کام کرے بھی تو لوگوں سے یہ بات برداشت نہیں ہوتی اور وہ اس اچھے انسان کے پاؤں کھینچ کر اسے اپنے سے پیچھے دھکیل دیتے ہیں. ہمیں ہر چیز سے پہلے اپنے آپ کو بدلنا ہو گا. جیسا کہ قرآن پاک میں سورۃ الرعد میں فرمایا گیا ہے کہ "حقیقت یہ ہے کہ اللّٰہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی اور جب اللّٰہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی.”
    ‏‎بس ہم سب سے ہمارے حصے کا ہی سوال پوچھا جائے گا. ہم دوسروں کی فکر کرنے سے سے پہلے اپنے حصے کا دیا جلانے کی فکر کر لیں تو پاکستان روشن تر ہو جائے گا.
    اگر ہم سب سید اقرار الحسن کی طرح اپنے حصے کا کام پوری لگن، پوری ایمانداری سے کریں تو مجھے پورا یقین ہے کہ ایک دن پاکستان کا پرچم دنیا کے ہر میدان میں سب سے بلند ہو گا.
    جیسا کہ سید اقرار الحسن کہتے ہیں کہ "آپ سب پاکستان کے ذمہ دار محب وطن شہری کی طرح اپنے حصے کا کام پوری ایمانداری اور لگن سے کرتے رہیں. بغیر کسی مفاد کے، بغیر کسی لالچ کے، لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں لاتے رہیں.مجھے یقین ہے کہ پھر وہ وقت دور نہیں ہو گا جب پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو جائے گا انشاء اللہ”
    پاکستان زندہ باد!

    @BinteZainab33

  • ہم اور ہماری قوتِ برداشت .تحریر :  ریحانہ بی بی  (جدون )

    ہم اور ہماری قوتِ برداشت .تحریر : ریحانہ بی بی (جدون )

    ہم اور ہماری قوتِ برداشت

    انسان کی سب سے بڑی قوت, قوتِ برداشت ہے. اور حقیقت میں برداشت کرنا بزدلی نہیں ایک بہادری ہے کہ کسی دوسرے کے اختلاف رائے کو آپ کھلے دل سے برداشت کرلیتے ہیں. جتنی آپکی قوت برداشت مضبوط ہوگی اتنا ہی آپ خوش رہنے میں کامیاب ہونگے….
    مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آج اس دور میں کوئی ماں باپ کی گالی دے تو ہم اسکو جان سے مارنے پہ تُل جاتے ہیں اور اگر وہی ماں باپ جب اولاد کے کسی غلط کام پر اسکو ڈانٹیں یا غصہ کریں تو اولاد نافرمانی کرنے پر اتر آتی ہے. ماں باپ کے آ گے نہ صرف اونچی آواز میں بولنے لگتی ہے بلکہ اُنکی آ نکھوں میں آنکھیں ڈالنے لگتی ہے.
    کئی حضرات گھر چھوڑ کے چلے جاتے ہیں کہ ہماری بےعزتی ہوگئی ہے. وہ اپنی انا کا مسلہ بنا لیتے اسکو… وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس کی ڈانٹ کو وہ اپنی بےعزتی سوچ رہے اسی ہستی کی بدولت دنیا میں تشریف لائے, اسی ہستی نے اُنکو پالا پوسا, پڑھایا لکھایا…
    اسکی بنیادی وجہ دین سے دوری ہے جسکی وجہ سے غصہ انکی شخصیت میں رچ بس گیا ہے.
    قوت برداشت نہ ہونے سے کئی شادیاں ناکام ہوجاتیں ہیں, مثلاً آپ اپنے پارٹنر کی چھوٹی سی غلطی پر بھی اُسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اسطرح رشتوں میں خرابیاں پیدا ہونے لگتی ہیں اور نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے.
    یہاں قصور کسی ایک پارٹنر کا نہیں دونوں طرف کا بھی ہوسکتا ہے. مرد اپنے پسند کی آیات حفظ کیے ہوتا ہے کہ بیوی پر اسے برتری حاصل ہے سو وہ ایک حاکم کی طرح خود کو سمجھنے لگتا ہے اور بیوی کے لئے اُسکے مزاج اسکے خاندان اسکی خوشی اسکی پسند ناپسند معنی رکھے.
    جہاں ایسا نہیں ہوتا وہاں ناچاقیاں جنم لینے لگتی ہیں. اور پھر بات بات پہ اسکی ذات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے. بعض اوقات اولاد کے سامنے.. اور پھر وہ اولاد کیا احترام کریگی ؟؟
    نتیجہ یہ نکلتا ہے وہ گھر آخر ٹوٹ جاتا ہے .
    آج کی دنیا میں لڑائی جھگڑے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ لوگوں میں قوت برداشت کی کمی ہے.
    بہترین انسان وہ ہے جو مسائل حل کرتا ہے اور بدترین انسان وہ ہے جو مسائل پیدا کرتا ہے.
    آج کی سیاست کو دیکھ لیں!
    اگر ایک پارٹی کسی دوسری پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے تو بدلے میں اس سے بھی سخت الفاظ میں جواب آ تا ہے کہ میں ایسا نہیں تم ایسے ہو تم ویسے ہو وغیرہ وغیرہ کی سیاست جاری ہے. بس ایک دوسرے کی کردار کشی شروع ہوجاتی ہے.
    خود اپنے لئے بہترین وکیل کی طرح اپنا دفاع کرنے لگتے ہیں.

    اور تو اور ہمارے معاشرے میں اگر کسی کا کسی سے جھگڑا ہوتا ہے تو فریقین گولیاں برسانے لگتے ہیں اور کئی گھرانے انہی جھگڑوں کی وجہ سے اجڑ گئے.

    دیکھیں زندگی ایک بار ملتی ہے اسے نفرتوں اور اختلافات میں ضائع نہ کریں. محبتیں بانٹیں کیونکہ ایسا کرنے سے دل کو بھی سکون ملے گا..

    کچھ چیزوں کو, کچھ باتوں کو, کچھ لوگوں کو نظرانداز کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو ذہانت کے ساتھ نظر انداز کرنے کا عادی بنائیں کیونکہ ضروری نہیں ہم ہر عمل کا ایک ردِعمل دکھائیں کیونکہ ہمارے کچھ ردعمل صرف اور صرف ہمیں ہی نقصان دیں گے بلکہ ہوسکتا ہے ہماری جان بھی لے لیں.
    دنیا میں سیاست دان ہوں, حکمران ہوں یا عام انسان انکا اصل حسن انکی قوت برداشت ہوتی ہے.
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے اندر برداشت کیسے پیدا کرسکتے ہیں..
    بہت آسان جواب.. حضرت محمد کی حیات طیبہ کو مد نظر رکھ کر.
    ایک بار ایک صحابی نے رسول اللہ سے عرض کیا یا رسول اللہ آپ مجھے زندگی کو پُرسکون اور خوبصورت بنانے کا کوئی فارمولا بتا دیں.
    آپ نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو.

    دیکھا جائے تو غصہ دنیا میں 90 فیصد مسائل کی ماں ہے اگر انسان اپنے غصے پر قابو پالے تو اسکی زندگی کے 90 فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں.
    جس شخص میں قوت برداشت ہے وہ کبھی ہار نہیں سکتا.

    @Rehna_7

  • ہم خوش کیو نہیں رہ سکتے . تحریر : انجینئرمحمد امیرعالم

    ہم خوش کیو نہیں رہ سکتے . تحریر : انجینئرمحمد امیرعالم

    ہم میں سے ہر ایک خوش رہنا چاہتا ہے پھر بھی اکثریت نا خوش کیوں ہے؟ بلا شبہ یہ بات مسلّم اور حقیقت پر مبنی ہے کہ اس کرہء ارض پر ہر انسان خوش رہنا چاہتا ہے لیکن اس کے باوجود بیشتر لوگ خوشی سے محروم ہوتے ہیں۔
    اب اس کی وجہ کیا ہے؟ در اصل ہم ان چیزوں میں خوشی ڈھوڈنتے ہیں جن سے ہمیں مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملتا‛ جن سے ہمیں خوشی مل ہی نہیں سکتی۔

    مثلاََ ہم میں سے ہر آدمی سمجھتا ہے کہ ڈھیر سارا پیسہ حاصل کر کے وہ خوشی اور مسرت کی زندگی بسر کرے گا لیکن حقیقی معنوں میں اگر دیکھا جائے تو دنیا میں اکثر وہ لوگ زیادہ پریشان اور ذہنی انتشار میں مبتلا ہوتے ہیں جو اچھے خاصے پیسے والے ہوتے ہیں۔

    آخرکیا وجہ ہے کہ اچھا خاصا پیسہ رکھنے والے‛ ہر قسم کی عیّاشی کرنے اور اپنی من پسند کی زندگی گزارنے والے لوگ قلبی سکون سے محرومی کے باعث زندگی سے تنگ آکر خود کشی کر لیتے ہیں۔

    ایک طرف ایک مالدار شخص اپنی حویلی کے ایک مخصوص شبستاں میں جہاں ان کے لئے ہر قسم کے آرام و آسائش کی چیزیں میسر ہوتی ہیں اپنے ایک قیمتی پلنگ پر بچھائے مخملی بستر میں ڈپریشن کی گولیاں کھا کر ساری رات نیند سے محرومی کے باعث کروٹیں بدلتا رہتا ہے‛ تو دوسری طرف ایک غریب آدمی اپنی جھونپڑی میں یا کہیں سرِ راہ خالص زمین کی فرش پر کسی اینٹ یا پتھر کو تکیہ بنا کر گہری نیند کے مزے لے رہا ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ دولت سے ہم خوشی حاصل نہیں کرسکتے۔

    لہٰذا خوش رہنے کے لئے قناعت پسند ہونا ضروری ہے۔
    جو نعمتیں ﷲ تعالٰی نے ہمیں عطا کی ہیں اُن نعمتوں کی قدر کرنی چاہئے‛ اور ہر وقت ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے‛ جو چیز ہمیں میسر نہیں اسے مشیّتِ الٰہی سمجھ کر صبر و قناعت کو اپنا شعار بنانا چاہئے۔

    اس کے علاوہ دنیا میں وہ لوگ جو ہم سے زیادہ مالدار ہوتے ہیں یا بظاہر ہم سے بہتر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ہم انہیں دیکھ کر رشک کرتے ہیں کہ کاش ہماری زندگی بھی ان کی طرح ہوتی۔
    ہمیں ایسے لوگوں کو دیکھ کر رشک کرنے کی بجائے ہمیشہ ان لوگوں کو دیکھنا چاہئے جو ہم سے زیادہ غریب ‛ تنگ دست اور لاچار ہوتے ہیں اور ان لوگوں کو دیکھ کر اس بات کا احساس پیدا کرنا کہ ﷲ تعالٰی نے ہمیں کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا ہے جن سے یہ لوگ محروم ہیں اور اس بات پر ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہئے۔

    اسلام بھی ہمیںں یہی بتا تا ہے کی دنیاوی اعتبار سے ہمیں خود سے نیچے لوگوں دیکھ کر ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہئے اور دینی اعتبار سے ہمیں خود سے زیادہ دیندار لوگوں کو دیکھ کر رشک کرنا اور ان سے سبقت لینے کے لئے کوشاں رہنا چاہئے۔

    اس کے علاوہ ﷲ تعالٰی کو اپنا محبوب و مقصود بنا لینا دونوں جہانوں کی کامیابی اور ہر قسم کی خوشی کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ کیوں کہ ﷲ تعالٰی کو جب محبوب بنائیں گے تو پھر محبوب کی خوشی میں عاشق کی خوشی ہوتی ہے اور محبوب جس حال میں رکھے گا عاشق کو تسلی اور سکون ملے گا۔

    بقولِ فراز:۔
    یہ قناعت ہے اطاعت ہے کہ چاہت ہے فراز!
    ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے

    ‎@EKohee

  • طلاق کیوں ہوتی ہے . تحریر: محمداحمد

    طلاق کیوں ہوتی ہے . تحریر: محمداحمد

    معاشرے میں بڑھتے ہوئے اس اقدام کیلئے دل خون کے آنسو روتا ہے اُس بیٹی پر کیا گزرے گی جو اس عذاب سے گزر رہی ہوگی ۔ بعض اوقات طلاق میں نا غلط عورت ہوتی ہے نا مرد.
    مرد اپنی حثیت کے مطابق اس کی ضروریات پوری کرتا ہے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے لیکن اکثر اوقات عورت کی نظر میں اُس کی تمام فرمائش پوری نہیں ہوتیں ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ مرد عورت کو اپنی عزت بناکے رکھتا ہے اُس کو میکے جانے سے بھی نہیں روکتا لیکن جب وہ بیوی اپنے میکے جاتی ہے اُس کی والدہ اسے کپڑے بناکے دیتی ہے وہاں سے تیسرے شخص کی مداخلت رشتوں میں آجاتی ہے جو طلاق کا باعث بنتی ہے ہنستا مسکراتا گھر اجڑ جاتا ہے ۔ دوسری طرف جب سے موبائل عام ہوا ہے اُس وقت سے میاں بیوی کے رشتے میں تیسرے شخص کی مداخلت زیادہ ہوگی ہے وہ چاہے کسی بھی شکل میں ہو مثلاً کوئی ہمسائ ، ساس، سالی وغیرہ وغیرہ یا اور فرد کی شکل میں رشتوں کو توڑنے میں شیطان کا کام کرتی ہیں.

    وہ عورت ہمیشہ اپنا گھر بنا لیتی ہے جسے اپنی شوہر کی حثیت کو دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ میں نے اپنے شوہر کا بازو بننا ہے وہ شوہر کے دل میں گھر بنا لیتی ہے جو عورت دوسروں کی باتوں کو ترجیح دے وہ اپنا ہنستا بستا ہوا گھر برباد کرلیتی ہیں اور بعد میں پچھتاتی ہیں مجھ سے غلطی ہوگئ ۔

    اکثر معملات میں اولاد کی نعمت سے محرومی بھی ہے اولاد اللہ پاک کی دَین ہے خداراہ ایسی باتوں کو ترجیح نا دے کے گھر آباد رکھیں اور لوگوں کی باتوں کو توجہ نا دیں اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کی ایک دوسرے کا ساتھی بنایا ہے جو ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں اُس رشتے کی قدر کریں اور مل کے رہیں اگر میں تحریر پڑھ کے کسی بھی عزیز کا دل دُکھا یا دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت چاہتا ہوں میں نے وہی بیان کیا ہے جو وقت نے دیکھایا ہے.

    @JingoAlpha

  • پاک افغان تعلقات .  تحریر: ارم چوھدری

    پاک افغان تعلقات . تحریر: ارم چوھدری

    جغرافیائی لحاظ سے پاکستان ایسے ہی ہے جیسے تیز نوکیلی تلواروں کی چھاؤں میں بیٹھا معصوم ہرن کا سہما ہوا
    بچہ ایک طرف افغانستان کی جانب سےڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے عمل میں روز ہمارے فوجی جوانوں کی شہادتیں اور دوسری طرف بھارت کا جنگی جنون ہمہ وقت پاکستان کو حالت جنگ میں رکھتا بات اگر افغانستان کی کی جائے توپاکستان اور افغانستان جنوبی ایشیا کے دو اہم ہمسایہ ممالک ہیں۔ دونوں ممالک تاریخی لحاظ سے جغرافی،لسانی اور نسلیتی بلکہ مذہبی وابستگی بھی رکھتے ہیں دیکھا جائے تو
    افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بہت عرصے سے کچھ زیادہ ٹھیک نہیں چل رہے.

    اسکی سب سے بڑی دو وجوہات ہیں پہلی یہ کہ کابل یہ دعوٰی کرتا ہے کہ وہ ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتے اور وہ علاقے جہاں پشتون آباد ہیں بشمول خیبر پختونخوا،قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کا ایک بہت بڑا حصہ وہ افغانستان کا حصہ ہے
    اور اس دماغی فتور کے لئے افغانستان نے کئی تحریکیں بھی چلائیں جس میں PTM سر فہرست ہے لیکن پاکستان اور بلوچستان کی غیور عوام نے نہ صرف اس تعصب زدہ تحریک کو بلکہ اس کے چلانے والوں کو بھی مسترد کردیا.

    پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں امن کی بحالی کی کوشش کرتا ہے کیوں کہ پاکستان اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ خطے میں امن کے لئے افغانستان میں امن ضروری ہے اور اس کے لیے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی کوششیں نا قابل فراموش ہیں
    افغانستان میں امن کے لئے طالبان کے ساتھ اتحادی حکومت لازمی ہے اور یہ بات انڈیا کو کھٹکتی ہے کیوں کہ انڈیا کبھی نہیں چاہتا کہ خطے میں امن و امان قائم ہو اور اسکی غنڈا گردی بند ہو جائے اس ضمن میں وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے جس سے امن تباہ ہو
    اور ماحول کشیدگی کی طرف جائے.

    ایسے میں جب امریکہ کی تاریخی ہار ہوئی اور اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا یہ ایک انتہائی خوش آئند بات ہے امریکہ نے دو دہائیوں تک با حثیت سپر پاور افغانستان میں جنگ کر کے دیکھ لیا بالآخر ہار اسکا مقدر ٹھہری موجودہ افغان صدر اشرف غنی جو امریکہ کی زبان بولتا اور اس کے اشاروں پر چلتا ہے اس کے لیے اپنا اقتدار قائم رکھنا مشکل ہو گیا کیونکہ طالبان نے پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا ماسوائے چند علاقوں کے اور بہت جلد طالبان پورے افغانستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے افغان عوام طالبان کا ساتھ دے رہی ہے کیوں کہ وہ محکوم قوم کے طور پر رہنا پسند نہیں کرتے. اسی حقیقت کو سمجھتے ہوئے عمران خان نے آج سے پندرہ سال پہلے کہا تھا کہ افغانستان میں حکومت اور امن کے لئے طالبان کے ساتھ مذکرات بہت ضروری ہیں.

    میرے خیال سے پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے پالیسیاں اس وقت تک تبدیل نہیں ہوں گی، جب تک پاکستان کو یہ گارنٹی نہ مل جائے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اور پاکستان کو جغرافیائی لحاظ سے تقسیم کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی
    اور اس کے لیے سب اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں انڈیا کی دخل اندازی بند ہو.

    حالیہ دنوں میں انڈیا نے اپنے سفارت خانے سے عملہ واپس لانے کے لئے فضائیہ کے جہازوں میں عملہ کی بجائے بھاری مقدار میں بارود بھر کے بھیجا اور اس کی یہ مکروہ سازش بے نقاب ہو گئی طالبان نے ویڈیو جاری کی اور ساری دنیا کے سامنے انڈیا کی حقیقت واضح ہو گئی انڈیا در حقیقت امریکہ کے کہنے پر اشرف غنی کی دم توڑتی حکومت کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی یہ کوشش کامیاب کرنے میں اشرف غنی نے افغان امن کانفرنس کو ملتوی کر دیا جس میں طالبان کے وفد کی قیادت بھی مدعو تھی اس حقیقت سے انکار نہیں کہ افغانستان میں حالات خراب ہونے سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوتا ہے.

    گزشتہ 15سالوں میں پاکستان میں دہشتگردی سے 70 ہزار سے زیادہ افراد شہید ہوئے اور کسی بھی ملک نے پرائی جنگ میں اتنی زیادہ قربانیاں نہیں دیں جتنی پاکستان نے ہمسایہ ہونے کے ناطے دی ہیں اسی زمر میں پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے اور آیندہ بھی کرتا رہے گا پاکستان ہمیشہ امن چاہتا ہے اور امن کے قیام کے لیے کوشاں رہے گا انشاء اللہ اُمید ہے افغانستان میں اتحادی حکومت کا قیام اور خطے میں امن و امان کی بحالی ممکن ہو سکے لیکن کوئی بھی بات قبل از وقت ہے آنے والے دنوں میں حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور افغان طالبان کس حد تک اپنی پالیسیز میں نرمی پیدا کر کے عوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

    @IrumWarraich4

  • مجبور اور لاچار عورتیں تحریر:حنا سرور

    مجبور اور لاچار عورتیں تحریر:حنا سرور

    آپ نے جگہ جگہ دیکھا ہو گا اپنے آس پاس گلی محلے میں ہی ہے ۔بہت سی عورتوں ایسی ہوں گی ۔جو بیوہ یا طلاق یافتہ ہوں گی جو اپنے باپ بھائ کی بھابیوں کی ڈانٹ ڈپٹ سنتی ہوں گی ان کے کام کرتی ہو گی ۔اس سب کے باوجود وہ خوش نہی ہوں گی ۔۔ان کو اپنے بھائیوں سے بھابھی سے والدین سے ہزار شکوے ہوں گے ۔وہ اپنے بچوں کو اچھی زندگی نہیں دے سکتی ۔بھائ کے بچوں سے مقابلہ یا لڑائ جھگڑے عجیب سی سوچ ہو جاتی ان عورتوں کی ۔۔اس سب کی ذمہ دار کون؟ والدین ۔۔والدین کو لڑکی کو یہ تو سکھاتے ہیں کہ شادی کے بعد شوہر کی خدمت کرنی ہے ساس سسر کی خدمت کرنی ہے وہ مر لڑائ جھگڑا کرے مگر تم نے وہ ہی رہنا ہے ۔۔لیکن اگر والدین کو لڑکی کو اس قابل بنائیں ۔کہ کل اللہ نہ کرے لڑکی کو طلاق ہو جاتی ہے آگے شادی نہیں کر سکتے ۔یا لڑکی بیوہ ہو جاتی ہے ۔تو کم از کم اسے اس قابل بنائیں کہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے اسے بھیک مانگ کر زندگی نہ گزارنی پڑے ۔آپ لڑکی کو نہیں پڑھا سکتے نہیں پڑھانا چاہتے مت پڑھائیں ۔آپ اسے سلائ سکھائیں ۔آج کے دور میں سلائ سب سے بہترین ہے وہ اپنی زندگی آسانی سے گزار سکتی ۔آپ اسے پڑھانا چاہتے اسے ضرور پڑھائیں ۔اسے کسی قابل بنائیں ۔شادی کا کیا ۔وہ تو ہو ہی جاتی لیکن کامیاب شادی یہ نصیب کی بات ہے ۔نصیب تو کوی بھی نہی دیکھ سکتا کہ آگے اس کے نصیب میں کیا ہے ۔اگر آپ اسے کسی قابل بنا دیں گے تو یہی آپکی اصل تربیت ہو گی ۔کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنی دکھی داستان سنا کر تماشہ بننے یا مجبوری میں بھیک مانگ کر گزارنا کرنے سے بہتر ہے اسے خودار بنائیں ۔۔لازمی نہیں کہ آپ کو میری یہ بات اچھی لگی ہو ۔۔مگر ممکن ہے کہ تیرے دل میں اتر جاے میری بات

     Article Author Name

    Hina Sarwar