Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پروپیگنڈہ اور معصوم عوام تحریر : راجہ حشام صادق

    اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حکومت کے خلاف اپوزیشن اور میڈیا جس میں پاکستانی اور غیر ملکی میڈیا ہاؤسز بھی شامل ہیں۔

    مسلسل پروپیگنڈہ کررہے ہیں.
    اس پروپیگنڈہ کا مقصد ہماری معصوم عوام کے ذہنوں میں حکومت سے متعلق ابہام پیدا کرنا ہے۔اور کچھ نہیں

    ایک چھوٹی سے مثال بی بی سی نیوز ہے جو ایک طرف پی ٹی ایم کو پروموٹ کررہا ہے اور دوسری جانب وہ کپتان حکومت کے برعکس محاذ کھولے ہوئے ہے۔

    کپتان نے حکومت سنبھالتے ہی بین الاقوامی سطح پر چند غیر معمولی اقدامات کئے جس سے امریکہ اور اس کے تمام اتحادیوں ممالک کے مفادات کو کاری ضرب لگی ۔

    اب ان کی پوری کوشش ہے کسی بھی طریقے سے پاکستانیوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی جائے کہ عمران حکومت ناکام ہوچکی ہے اور ان کے ہوتے پاکستان کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔

    کوئی شک نہیں وطن عزیز اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے اور اسے معاشی چیلنج کا سامنا ہے لیکن کپتان حکومت نے معیشت کو بہتر کرنے کیلئے چند قابل ذکر اقدامات کیئے جو اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا ہاوسز کو ہضم نہیں ہوئے۔

    پی پی پی یا ن لیگ کے دور میں پاکستان کے مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات تاریخ کی بدترین سطح پر آگئے تھےکوئی بھی ملک پاکستان کی مدد کرنے کو تیار نہیں تھا۔

    مگر کپتان کے آنے کے بعد اب دنیا کو یہ معلوم ہوگیا ہے کہ پاکستانی عوام واقعی تبدیلی چاہتی ہے اور بحیثیت قوم اپنی حالت بدلنا چاہتی ہے.
    امید ہے بہت جلد کڑا احتساب بھی شروع ہو گا ظالموں اور جابر حکمرانوں کا پاکستان میں صرف ایک بار نظام کو ٹھیک ہو لینے دیں تو انشاءاللہ ہمیں ہمارا کھویا ہوا مقام بھی واپس ملے گا۔

    اور ان شاءاللہ پاکستان دنیا کے پراثر ترین ممالک کی صف میں آپ کو کھڑا نظر آئے گا.

    آخر میں بس درخواست ہے اپنے ہم وطنوں سے کہ خدارا کسی بھی پروپیگنڈہ پر ڈھنڈورا پیٹنے سے پہلے اسکی تصدیق کرلیا کریں۔

    تحریک انصاف کے تمام ممبرز جو سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں آپ کا یہ فرض ہے کہ نہ خود کسی پروپیگنڈہ کا شکار ہوں بلکہ جیسے ہی انہیں کسی پروپیگنڈہ کے بارے میں پتہ چلے اس کے خلاف محاذ بنالیں۔

    یاد رکھیں پروپیگنڈا کی بنیاد پر جنگوں میں بہت سے ممالک کو جیت اور شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے.اسی کا نام ہے فیتھ جرنشن وار

    آپ یقین ہونا چاہیئے کہ پاکستان کلمہ کے نام پر پہلا اسلامی ملک ہے اور اسکی حفاظت اللہ تعالی خود کررہے ہیں ان شاء اللہ

    پاک افواج نے حالیہ جن گوریلا جنگوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں دنیا کی تاریخ میں اسکی مثال کہیں نہیں ملتی۔ پاک فوج اور کپتان حکومت اپنا اپنا کردار ادا کررہے ہیں

    اب ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس ملک کے تحفظ اور ترقی کیلئے اپوزیشن جماعتوں اور ملکی و غیر ملکی میڈیا کے پروپیگنڈا کا بھرپور مقابلہ کریں۔
    ایک سوال اپنی قوم سےکیا آپ سب تیار ہیں پاکستان کے خلاف ہر قسم کی سازش کو ناکام بنانے کیلئے؟

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق دیں۔آمین

    @No1Hasham

  • سوسائٹی اور ماحولیات پر ٹِک ٹوک ایپ کا اثر .  تحریر: زاہد کبدانی

    سوسائٹی اور ماحولیات پر ٹِک ٹوک ایپ کا اثر . تحریر: زاہد کبدانی

    رواں دواں: نوجوان لوگوں پر ٹک ٹوک کا اثر حالیہ ماضی میں لوگوں کی طرف سے سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کا استعمال بڑھتا رہا ہے۔ نوجوان نسل کی مقبولیت کے استعمال کے لئے سوشل میڈیا کی بہت سی ایپلی کیشنز استعمال ہوتی ہیں۔ ٹِک ٹوک سوشل میڈیا کی بہت سی ایپلی کیشنز میں شامل ہے ، جو نوعمروں اور نوجوانوں کی جانب سے شہرت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور بعض اوقات غضب سے چھٹکارا پاتا ہے۔ ایپ کو بنیادی طور پر استعمال کنندہ کے مابین شیئر امیجز اور ویڈیوز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ امیج اور ویڈیو پر مبنی ایپس کے اثر سے متعلق حالیہ مطالعات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ وہ صارفین کو ذہنی طور پر صحت سے متعلق دشواریوں کا باعث بن سکتے ہیں جیسے کھانے کے عارضے اور آنکھوں کے مسائل۔ اس مطالعے نے نوجوانوں پر ٹک ٹوک کے تاثرات کی جانچ پڑتال میں عملی نقطہ نظر پر توجہ دی ہے۔ مشمولات کا تجزیہ صارفین کے ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد تاثرات کے بقیہ نظریات اور تبصروں سے لیا گیا ہے۔ اس کاغذ کے ساتھ ساتھ ٹک ٹوک کے صارفین کے ساتھ فوکس گروپ انٹرویو بھی استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ان پر اثر انداز ہونے والے امور دریافت کیے جانے والے سوچاوں کے مسائل اور ایپ کے بارے میں بنیادی حقائق دریافت کیے جارہے ہیں۔ اس مطالعے میں صارفین کے نقطہ نظر اور ایپ کی فعالیت کو بہتر بنانے کی بنیاد پر مزید تحقیق کے لئے علاقوں کو تیز کرنے کے سلسلے میں اس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تحقیقی سوال کا بیان – ٹک ٹوک کی تیز رفتار ترقی اور نوجوان لوگوں کے ذریعہ اس کے استعمال ، اس سے دونوں پر اثر پڑے گا طویل مدت میں مثبت اور منفی. اس میں تین عوامل ہیں جو نوجوان نسل پر اس کے اثرات پر غور کرنے کے لئے ہیں۔ ، اس منڈی کا استعمال جس کا مارکیٹ کے سامعین نوجوان ہیں۔ ٹک ٹوک کے سامعین 18-25 سال کی عمر کے نوجوان ہیں ، ان کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے اس کی ترقی بہت ضروری ہے۔ دوم ، ٹِک ٹاک میں موجود مواد مختصر ویڈیوز ہیں جن کی ویڈیو کی اصلیت پر مرکزی دھیان ہے جو بدلے میں بڑی تعداد میں نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ تیسرا ، ویڈیو کو بانٹنے میں ٹک ٹوک کی انفرادیت یہ آہستہ آہستہ ہر نوجوان کی ضرورت بن گیا ہے ، اور وہ اس ایپ کو استعمال کرنے میں گھنٹوں ضائع کرتے ہیں۔ انہیں یہ احساس نہیں ہے کہ وہ اس وقت کو کسی ہنر کو سیکھنے ، یا علم یا کوئی اور چیز حاصل کرکے استعمال کرسکتے ہیں جو مستقبل میں ان کی مدد کرسکے۔ وہ اپنا وقت کسی کی مدد کرنے یا کھیل کھیلنے میں بھی گزار سکتے تھے ، جس سے ان کا دماغ اور جسم صحت مند رہتا ہے۔ اپنی زندگیوں پر توجہ دینے ، اور اپنے کیریئر اور مطالعے کو ترجیح دینے کے بجائے ، وہ ان ایپس کے عادی ہو رہے ہیں جو ان کے سوچنے کے عمل میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے اور اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔

    @Z_Kubdani

  • احتجاج اور اسلام پسند طبقہ . تحریر: وقاص رضوی جٹ

    احتجاج اور اسلام پسند طبقہ . تحریر: وقاص رضوی جٹ

    اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑاٸی جاۓ تو یہ بات واضح ہےکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی قوانین کےنفاذ اور اسلامی شعاٸر کی حفاظت کےحوالےسےہر عشرےمیں ایک یا دو منظم اور بااثر تحریکیں چلتی رہی ہیں۔ چاہے 1950کی دہاٸی ہو جب 1953میں قادیانیوں کیخلاف چلنےوالی تحریک سےلیکر 2017میں ختم نبوت ﷺ کےقانون میں تبدیلی کیخلاف چلنےوالی تحریک تک کہیں نا کہیں اسلام پسند طبقہ اپنےمطالبات منوانےکیلیے احتجاج کاسہارا لیتارہاہے۔

    اگرمذہبی جماعتوں کےاحتجاج پرغور کریں تو یہ بات واضح نظر آتی ہےکہ انہوں نےاپنےمطالبات منوانےکیلیےاحتجاج کاراستہ اپنایااور اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔مگر سوال یہ ہےکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی قوانین اور اسلامی شعاٸر کی حفاظت کیلیےاحتجاج کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟دوسرا سوال یہ پیدا ہوتاہےکہ مختلف ادوار میں حکومتیں اسلامی جماعتوں کیخلاف متشدد رویہ کیوں اپناتی ہیں؟تیسرا سوال یہ ہےکہ اسلامی جماعتیں جن کےپاس بہت زیادہ سٹریٹ پاور ہونےکےبعدآج تک اقتدار میں نہیں آ سکیں؟
    ان تمام سوالوں کےجواب ڈھونڈنےکیلیے پاکستان میں تعلیمی نظام کوسمجھناضروری ہے۔اس وقت پاکستان میں تین قسم کےتعلیمی نظام موجود ہے۔ایک تعلیم نظام وہ ہے جس میں اشرافیہ کےبچےتعلیم حاصل کرتےہیں۔ان تعلیمی اداروں میں سرِ فہرست ایچیسن کالج لاہور ہے۔اس کالج کاقومی سیاست میں کردار کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ موجودہ وزیراعظم عمران خان وزیرِخارجہ شاہ محمود قریشی وزیرِدفاع پرویزخٹک سمیت بہت سےوفاقی و صوباٸی وزرا ایچیسن کےپڑھےہوۓ ہیں ایچیسن کےعلاوہ دیگر اداروں میں LUMSیونیورسٹی لارینس کالج مری سمیت بیکن ہاٶس اور لاہور گرامر سکول شامل ہیں جبکہ غیرملکی گریجوایٹس بھی شامل ہیں جن میں بلاول بھٹو سرفہرست ہیں درج بالاتعلیمی اداروں میں صرف جدید تعلیم پرتوجہ دی جاتی ہےاور سیکولرزم کی ترویج کی جاتی ہے۔ اس لیےجب یہ لوگ نظام پرقابض ہونگے جو سیکولراداروں سےپڑھےہونگےتویہ سیکولرزم کی ترویج کریں گے ناکہ اسلام کو۔دوسرا طبقہ متوسط طبقہ جو اسلام کےقریب توہوتےہیں مگر اپنی روزی روٹی کےچکرسےباہر نہیں نکل پاتےاسلام بماقبلہ سیکولرزم کی جنگ میں عملاً شریک نہیں ہوتے۔اس لیے انہیں ملکی حالات سےخاص غرض نہیں ہوتی۔

    جبکہ تیسرا طبقہ مذہبی طبقہ ہے جوحکومت کی غیراسلامی قوانین اور غیرشریعی پالیسیوں کےخلاف نکلتےہیں۔مگر چونکہ نظام پر سیکولر اشرافیہ کا قبضہ ہےاس لیےیہ اپنےمطالبات نہیں منوا پاتےاور مجبوراً پہیہ جام ہڑتال کرتےہیں اور سیکولر اشرافیہ کی حکومت مجبوراً انکےمطالبات وقتی طور پر مان لیتی ہے۔ مگر بعدمیں پھر کسی نا کسی موقع پہ سیکولر پاکیسیاں جاری رکھتی ہے۔
    اب وقت آگیاہےکہ اسلام پسند طبقےکو نظام میں اپنےپنجے گاڑھنےچاہیں اورتمام اہم اداروں خاص کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ ٗ سیاستٗ عدالتی نظام ٗ بیوروکریسی ٗ میڈیا اورصنعت و تجارت میں اپنے نوجوانوں کو شامل کرنےکیلیے جدید تعلیم پرتوجہ دینی چاہیے۔اگر ایسا نہ کیاگیا تولبرل اور سیکولر طبقہ جوپہلےہی اتنامظبوط ہوچکاہے اسے روکناناممکن ہوجاۓگا۔

    @waqasRizviJutt

  • خیبر پختونخوہ کے مثالی تعلیم سے ہم محروم . تحریر : محمد عرفات بدر

    خیبر پختونخوہ کے مثالی تعلیم سے ہم محروم . تحریر : محمد عرفات بدر

    بنیادی تعلیم ہر بچے کا حق ، اور اس بنیادی حق کو فرہم کرنا ریاست کی زمہ داری ہے حصول تعلیم کے زریعے ہی انسان اپنی منزل تک کے راستے اسان کر دیتا ، حصول تعلیم کے زریعے دنیا نے چاند پہ قدم رکھا ، بلکہ دنیا کے مختلف ممالک جیسا کہ امریکہ اور سعودی عرب چاند پہ کلوننگ کا منصوبہ بنا رہے ہیں کلوننگ کے حوالے سے سعودی ایجوکیٹ بھی کر رہے ہیں اس جدید تعلمی دور میں خیبر پختونخوہ کا آخری ضلع، ضلع کوہستان وہ تمام تر بنیادی تعلمی سہولتوں سے محروم ہے جو کہ ایک بچہ یا شہری اپنی ریاست پہ حق رکھتا ہے ، محکمہ تعلیم کا پوچھ تاش صرف شہر تک محدود ، اس محدود اینوسٹیگشن سے گاوں میں تعاینات محترم استاتذہ حضرات برپور فایدا اٹھاتے ہیں ، گاوں کا میٹرک پاس لڑکا جس کو ریڈینگ اتی ہو ۸ سے ۱۰ ہزار تک کی تنخواہ اس تک پنچا دی جاتی ہے اور وہ ایک قسم کا خود کو ہیڈ ماسٹر سمجھتا ہے سرکاری طور پہ تائنات استاد شہر میں ایک اعدد کوٹھی میں آ بستا ہے ، خدانخواستہ تگڑی اینوسٹیگیش ٹیم آ جاے تو اس کے اگے کے سہولت کار جانے سے پہلے فون کال پہ اطلاع فرہم کر دے گے کہ صاحب ہم تشریف فرما رہے ہیں اپ اپنی جگہ حاضرہو.

    سبحان اللہ، سکول کی عمارت اس کی تو بات ہی الگ ہے، عمارت کو تو ایسے کارآمد طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے کہ پوچھے ہی مت، پہلے تو سکول کی عمارت کھنڈر کا منظر پیش کرے گی ، بد قسمتی سے ایک عد کمرہ بچ بھی گیا ہو تو اس کے لون میں ، لمبے کانوں والی ایک بکری اور گاے اپنے بچھڑے کے ساتھ دھوپ تب رہی ہوگی اور اس نیک کام میں چوکیدار کا پورا پورا ہاتھ ہوگا، جوہی براے نام اینوسٹیگشن ٹیم کی کال اے گی چکیدار بھی مال معاوشی کو سایڈ کردے گا اور سکول کو صاف ستھر کر رکھے گا کیونکہ انے والے اینوسٹگیشن ٹیم میں ایک عدد ممبر ان کے اس نیک کام میں ملا ہوا نہیں ہوتا ، یہ سلسلہ کئی دہائوں سے چلا آ رہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں.
    بچیوں کے سکول کا تو اللہ ہی حافظ ہے.

    @ArafatBadr6

  • ریٹیل تھراپی اور اسکے نقصانات . تحریر : حُسنِ قدرت

    ریٹیل تھراپی اور اسکے نقصانات . تحریر : حُسنِ قدرت

    ریٹیل تھراپی کیا ہے؟ جب ہم پریشان ہوں اور ہمیں کوئی چیز خرید کر خوشی ملے جبکہ اس چیز کی ہمیں ضرورت نہ ہو تو اسے ریٹیل تھراپی کہتے ہیں.

    اس میں کوئی بری بات نہیں بظاہر لیکن جو کام ہمیں اچھا لگتا ہے ہمیں اسکی عادت ہو جاتی ہےاور ہم اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں ریٹیل تھراپی کے کچھ نقصانات یہ ہیں اس عادت سے ہم دھڑا دھڑ خریداری کرتے ہیں اور ہماری شاپنگ کنٹرول میں نہیں رہتی
    یہ تھراپی جب عادت کی صورت اختیار کرلیتی ہے تو مہنگی سے مہنگی چیزوں کی خریداری کی طرف لے جاتی ہے اور یہ غلط فہمی بڑھتی چلی جاتی ہے کہ میں نا خوش ہوں ،کیونکہ میرے پاس یہ چیز نہیں ہے یا میرے پیسے ختم ہو گئے ہیں میں نے شاپنگ نہیں کی اب میں خوش کیسے ہوں گی.

    یہ عادت ایسے شدت اختیار کرسکتی ہے جیسے کسی نشے کی لت میں مبتلا انسان کو نشے کی طلب ڈاکٹررونلڈریوڈن نے اس بارے میں تحقیق کی ہے کہ ہمارے دماغ میں موجود خوشی کے ایک ہارمون "سیروٹونین” کا تعلق خوشی سے ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ہم شاپنگ کے نشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں.

    جب ہم کوئی ایسی شے خریدتے ہیں جسکا تعلق دماغ کے سکون پہنچانے والے ہارمون سیروٹونین سے ہوتا ہے تو وہ شے خریدنے پر ہمیں خوشی ہوتی ہے یہ بالکل اسی طرح ہوتا ہے جیسا کہ سکون آور دوا کھانے پہ ہوتا ہے.

    اسلیے ہم بہت سی چیزیں بلاوجہ اور بغیر کسی ضرورت کے خود کو مختلف محسوس کرنے کےلئے خریدتے ہیں اور ہمارا بجٹ ڈسڑب ہونے لگتا ہے ہم بچت نہیں کر سکتے جسکی وجہ سے پیسے ختم ہونے پہ ہم پریشان ہوتے ہیں اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ ہم اس عادت میں خطرناک طور پہ مبتلا ہو چکے ہیں یا ہونے والے ہیں تو ہم اسے چھوڑ سکتے ہیں یہ ایک لاشعوری عادت ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے ہمیں اپنے ذہن میں یہ بات بٹھانی ہوگی کہ اس ماہ اتنے پیسے اگر میں نے بچا لیے تو میں خوش ہوں گی اس طرح آہستہ آہستہ ہم اپنی پرانی روٹین کی طرف آسکتے ہیں اور ریٹیل تھراپی کے برے اثرات سے بچ سکتے ہیں.

    Twitter: @HusnHere

  • ہماری توجہ کہاں؟ . تحریر : حسنین ممتاز

    ہماری توجہ کہاں؟ . تحریر : حسنین ممتاز

    نماز سے سلام پھیرتے ہی نمازیوں میں یہ بحث شروع ہو گئی کہ امام صاحب نے تین رکتیں پڑھائیں ہی چار رکتیں۔طویل بحث ہوئی لیکن سب ایک بات پر متفق نہ ہو سکے اتنے میں اگلی صف میں بیٹھا ایک شخص بولا رکتیں تو تین ہوئی ہیں اس شحص سے پوچھا گیا کہ تم اتنے اعتماد کے ساتھ بول رہے ہو تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو کہنے لگا دلیل کی کیا بات ہے میری چار دوکانیں ہیں ہر رکت میں، میں نے اپنی ایک دوکان کا اج کا حساب کتاب کیا ہے اور ابھی میری چوتھی دوکان کا حساب رہتا تھا تو امام صاحب نے پہلے ہی سلام پھیر لیا۔
    ایک وقت میں ایک کام ہی کیا جاتا ہے زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو اس میں توجہ بہت ضروری ہے چاہے وہ پرھانے والا استاد ہو،پڑھنے والا طالب علم ہو، مزدور ہو یہ کوئی بھی سرکاری ملازم ہو اگر وہ اپنے کام پر توجہ نہیں دیتا تو پھر زاتی معاملات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے جو کے معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ ہمیں اپنے اپ سے یہ پوچھنا چاہیے کہ جب ہمیں رقم گننی ہو تو ہماری ساری توجہ گننے کی طرف ہوتی ہے اسی طرح ہم ٹی وی، موبائل پر فلمیں ڈرامے کس قدر توجہ سے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی ہمیں آواز بھی نہ دے۔لیکن نماز میں ہماری توجہ کہاں؟ ذرا غور کیجئے کی ایسا کیوں؟
    تیری رحمتوں پہ ہےمنحصر،میرے ہر عمل کی قبولیت
    نہ مجھے سلیقہء التجا،نہ مجھے شعور نماز ہے۔

    @HusnainMumtaz10

  • انسان کی پیدائش، اس کی مرضی سے نہیں ہوتی . تحریر : زینب فاطمہ

    انسان کی پیدائش، اس کی مرضی سے نہیں ہوتی . تحریر : زینب فاطمہ

    مومن کا کامل ایمان ہوتا ہے کہ تمام جہانوں کی مخلوقات کا خالق "اللہ” ہے ۔ اس نے اپنی مخلوقات کو اپنی مرضی و رضا سے تخلیق کیا۔ وہ جب جہاں جسے چاہے جیسے چاہے تخلیق کر دیتا ہے۔ میرا اللہ کامل ہے، بے شک اس میں کوئی عیب نہیں، میرا مالک ہر عیب سے پاک ہے۔ اپنی مخلوق کو پیدا کرتے ہوئے وقت،جگہ،عمر،موت یہ سب اللہ اپنی مرضی سے طے کرتا ہے۔اگر بات کی جائے اشرف لمخلوقات کی تو انسان کی جائے پیدائش میں خدا کی ہی مرضی ہوتی ہے۔ یوں تو مومن زبان سےبولتا ہے کہ اللہ کی رضا میں اس کی رضا ہے مگر کچھ لوگوں کا دل ان کی زبان کا ساتھ نہیں دیتا ۔ عموماً انسان کو یہ دیکھ کر پہچانا جاتا ہے کہ وہ کس خاندان میں پیدا ہوتا ہے اگر اونچے، اچھے خاندان سے ہو تو اس انسان کو بغیر جانے بغیر پرکھے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ اس کہ  بر عکس جو شخص بُرے یا کسی نیچ خاندان میں جنم لے تو اس کہ بارے میں یہی گمان کیا جاتا ہے کہ وہ بھی گھٹیا ہی ہے۔ انسان کو جانے بغیر جو یہ اچھے اور بُرے ہونے کا پیمانہ رکھا جاتا ہے یہ بہت غلط ہے۔

    کسی کو اس بِنا پر دھتکار دینا اور اس سے دُور ہو جانا کہ وہ اچھے خاندان سے نہیں ہے اور اسی وجہ سے اس کی تمام اچھی باتوں کو نظر انداز کر کے اس خاندان سے جُڑی نصبت کو اپنے دل و دماغ میں رکھنا اور اس نے نفرت کرنا کیا صحیح ہے؟
    اسی طرح اگر کوئی اچھے خاندان سے ہو تو اس کی تمام تر خامیاں جانتے ہوئے بھی اس کے گُن گانا کیا صحیح ہے؟
    نہیں ہر گِذ نہیں۔

    انسان کے اچھے برے ہونے کا اندازہ اس کے خاندان کو دیکھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔ کس انسان نے کب کہاں اور کس خاندان میں پیدا ہونا ہے یہ تو میرے اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے نا۔ ہم اگر اچھے خاندان میں پیدا ہو جائیں تو اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں۔ تو یہ اکڑ اور انا کس بات کی ؟؟
    اسی طرح اگر ہم برے خاندان میں جنم لے لیں اور کوئی یہ سوچ کر ہم سے دور ہو جائے کہ ہمارا تعلق فلاں فلاں خاندان سے ہے، اور اس شخص کے سامنے اس کا اخلاق  اور محبت ایک طرف رکھ کہ  یہ بات بولی جائے کہ اس کے خاندان کی نسل کی نسل سے بھی دور رہنا چاہیے۔ کیا یہ سب درست ہے؟؟
    اُس شخص نے تو نہیں کہا تھا اللہ سے کہ مجھے فلاں خاندان میں پیدا کرے۔

    پیدائش کے وقت انسان خود تو اپنا خاندان پسند کر کہ پیدا نہیں ہوتا ۔اسے اگر اللہ نے نیچ خاندان میں پیدا کر دیا تو اس میں اس کا تو کوئی قصور نہیں۔ اسی طرح اچھے خاندان میں پیدا ہونےوالے شخص کا بھی اس میں کوئی کمال نہیں ۔ کوئی بھی یہ ضمانت دے کر جنم نہیں لیتا کہ وہ جس خاندان میں پیدا ہو رہا ہے بالکل اسی خاندان کے لوگوں پر جائے گا۔
    اچھےخاندان سے برے ، اور برے خاندان سے اچھے لوگ بھی موجود ہیں اس دنیا میں جنہیں ہمارا معاشرہ کھلی آنکھوں سے بھی نہیں دیکھ پاتا یا شاید دیکھنا ہی نہیں چاہتا۔ خدارا اس بات کو سمجھ جائیں کہ اللہ نے اپنی مرضی سے سب کو اپنی مرضی کی جگہ پہ پیدا کیا ہے۔
    وہ چاہتا تو ہمیں جانور بنا دیتا۔ اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں کہ ہمیں انسان پیدا کیا گیا یہ خدا کی رضا تھی وہ چاھتا تو ہمیں جانور بناتا اور ہم کچھ نہ کر پاتے۔ ٹھیک اسی طرح نیچ خاندان میں پیدا ہونے والوں کا اس میں کوئی قصور نہیں، نہ ہی ان کی پیدائش سے پہلے خدا نے ان سے ان کی مرضی پوچھ کر وہاں پیدا کیا۔
    تو پھر ایسے لوگوں کا دل کیوں دکھایا جاتا ہے؟
    کیوں ان کے ہر اچھے عمل کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے؟ صرف یہ دیکھ کر کہ وہ اچھے خاندان سے نہیں ۔
    دوسری جانب کسی اچھے خاندان میں پیدا ہونے والے بُرے شخص کے ہر عیب اور ہر گناہ کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے؟
    کیا یہی مومنوں کا طریقہ ہے ؟
    جبکہ میرا اللہ تو صاف صاف کہہ چکا ہے کہ روزِ حشر ذات پات اونچ نیچ اس سب سےکچھ نہیں ہوگا، خدا کی نظر میں اگر کچھ اہم ہے تو وہ ہے پرہیزگاری۔

    @zaynistic_13

  • پاکستان کا مطلب کیا . تحریر :  توقیر عالم

    پاکستان کا مطلب کیا . تحریر : توقیر عالم

    پاکستان اس وقت شاید اپنی تاریخ کے سب سے نازک موڑ پر ہے جہاں اک طرف بیرونی طاقتیں پورے زور و شور سے پاکستان میں حالات خراب کرنے کے در پہ ہیں وہیں سیاسی افراتفری اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے ناانصافی کرپشن اقرباء پروری اور رشوت کا بازار گرم ہے ہمارے نوجوانوں میں گرل فرینڈ بوائے فرینڈ جیسی بے حیائی عام ھو چکی ھے تعلیمی اداروں میں لڑکے لڑکیاں ناچتے نظر آتے ہیں اور تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ھو چکا ہے.

    تعلیمی ادارے تربیت گاہ کی بجائے ایک کاروبار بن چکے ہیں نوجوانوں کو مذہب بیزار بنانے کی مہم اپنے عروج پر ہے حقوق نسواں کے نام پر ہم جنس پرستی جیسی بے حیائی کے فروغ اور اس کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے.
    پاکستان کے قیام کا واحد مقصد ایک فلاحی اسلامی ریاست تھا جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ اپنے دین کی پیروی کر سکیں اسی خواب کی تعبیر کے لیے قائد اعظم علامہ اقبال اور دوسرے بانیان پاکستان نے ہندوستان میں مسلمانوں کو الگ ریاست کے قیام کے لیے قائل کیا اور ایک بھرپور تحریک چلائی تحریک پاکستان میں مسلمان جو نعرہ لگایا کرتے تھے وہ تھا ”پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ ” یعنی پاکستان کا مطلب شرک کا رد اور خدا کی واحدانیت کا اعلان تھا حالات اور واقعات نے ثابت کیا کہ پاکستان کا قیام مسلمانان ہند کے لیے ناگزیر تھا
    تقسیم ہند کے وقت لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی اور اپنے گھر بار جائداد کاروبار چھوڑ کر پاکستان چلے آئے ہجرت کے وقت جو واقعات رونما ہوئے اس خون آلود داستان کے دلخراش واقعات سن کر انسان کانپ جاتا ہے مگر سلام ہے ان مسلمانوں کو جو ایسے مظالم سہنے کے بعد پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی خدا کے حضور سجدہ ریزہ ھو کر اس کا شکر ادا کرتے رہے اس ہجرت میں لاکھوں بچے جوان اور بزرگ شہید ہوئے ہزاروں بیٹیوں کی عصمتیں لٹیں سینکڑوں نے عزت بچانے کی خاطر خود کو موت کی نیند سلا دیا
    میں اپنے بزرگوں سے اکثر سنا کرتا تھا اللہ کی رحمت کا نام پاکستان ہے یہ ملک اللہ کا تحفہ ہے مسلمانوں کے لیے مگر افسوس ہم نے اس ملک کی حفاظت نہیں کی آپسی لڑائی میں ہم نے اس ملک کا ایک حصہ گنوا دیا اور اس سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا ہمارے حکمران پاکستان کی بہتری کی کوشش کرنے کی بجائے اپنا پیٹ بھرنے میں لگے رہے جس کا بس چلا اس نے اس ملک کو جتنا نوچ سکتا تھا اتنا نوچا جس مذہب کے نام پر ملک حاصل کیا ہم اسی مذہب سے دور ھوتے جا رہےہیں مذہب کو بیسیوں فرقوں میں بانٹ دیا گیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سرعام ہمارے مذہبی عقائد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں مذہب پسندوں کو شدت پسند کہنا شروع کر دیا گیا مغرب نے اسلاموفوبیا کی ترویج کی تو ہمیں لبرل بنانے کی مہم شروع کر دی گئی کبھی آزاد خیالی کے نام پر تو کبھی فنونِ لطیفہ کی آڑ میں بے حیائی کو فروغ دیا گیا ہماری روایات ہماری ثقافت اور اقدار کو قدامت پسندی اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹ بنا کر پیش کیا گیا ہمارے معاشرتی نظام کو برباد کرنے کے لیے مغربی طرز معاشرت کو فروغ دیا گیا اور ہمارے احساس کمتری کا شکار لوگ خود کو مہذب اور پڑھا لکھا ثابت کرنے کے لیے مغربی اطوار اپنانے لگے.

    اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ دوبارہ سے جنگی بنیادوں پر اپنی نئی نسل کو حصول پاکستان کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا جائے تاکہ بچوں کو سمجھ آئے.
    پاکستان کا مقصد کیا لا الہ الا اللہ
    اللہ ہمارا اوراس پاک سرزمین کا حامی و ناصرہو.

    @Lovepakistan000

  • عمران خان کے سپورٹرز پُرامید . تحریر : دانش اقبال

    عمران خان کے سپورٹرز پُرامید . تحریر : دانش اقبال

    عمران خان کے نام کامیابیوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو ان کے سپورٹرز کو یقین دلاتی ہے کہ جس کام کا بیڑہ کپتان اٹھاتا ہے وہ کر کے رہتا ہے جلد یا بدیرکرکٹ کھیلنے سے لے کے ٹیم کا کپتان بننے تک اور پھر ورلڈکپ جیتنا , یہ سب سمجھتے تھے کہ یہ خان کی کامیابیوں کا اختتام ہے لیکن خان نے کامیابیوں کا سفر جاری رکھا اور شوکت خانم , نمل یونیورسٹی بنانے کے علاوہ سیاست میں قدم رکھ دیا جو کہ اس وقت بہت سے لوگوں کی نظر میں ایک رسک اور غلط فیصلہ تھا خان کو پتا تھا کہ یہ جدوجہد لمبی اور مشکل ہے لیکن خان نے ٹھان لی اور ایک سیٹ والی پارٹی سے پاکستان کی نمبرون پارٹی بناڈالی باٸیس سالہ جدوجہد رنگ لاٸی اور کپتان نے وزیراعظم کا حلف اٹھا لیا کپتان اور ان کے سپورٹرز کامیاب ہوۓ.

    جب اسمبلی میں سپیکر نے عمران خان کے وزیراعظم بننے کا اعلان کیا تو خان کی آنکھوں میں چمکتے موتی صاف دیکھے جاسکتے تھے کیونکہ اس لمحے کا کپتان نے باٸیس سال تک انتظار کیا تھا اب کپتان کی جدوجہد فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں انہیں باٸیس سالوں کے کۓ وعدے اور عوام کو دلاٸی گٸ امیدیں پوری کرنی ہیں اور احتساب کے وعدے کو بھی پورا کرنا ہے
    تین سالوں میں لۓ گۓ مشکل فیصلے , مہنگاٸی کی عالمی لہر اور مافیاز کی سازشیں , ان سب مشکلات پہ خان صاحب عوام کو یقین دلاتے رہے کہ سب ٹھیک ہو جاۓ گا گھبرانا نہیں ہے کچھ سپورٹرز گھبراۓ جبکہ اکثریت خان کے ساتھ کھڑی نظر آٸی اور اب ان کی طرف سے بہت یقین سے کہا جا رہا ہے کہ اگلی حکومت بھی عمران خان کی ہے اور ساتھ میں اس بات کا یقین بھی ہے کہ اگلی حکومت بغیر بیساکھیوں کے ہو گی اور عمران خان تن تنہا حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاٸیں گے.

    عمران خان کے سپورٹرز کا جوش و خروش دیکھ کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں سب بہتر ہوتا نظر آ رہا ہے خان جس کام کی ٹھان لیتا ہے وہ کر کے چھوڑتا ہے ماضی کا کامیاب ریکارڈ ہے جو خان کے سپورٹرز کے یقین کی وجہ ہے ان تین سالوں کے اقدامات اور بہتر ہوتی معیشت پہ اگلے کالم میں تفصیل سے لکھوں گا.

    @ch_danishh

  • انتہا پسندی اوراس کا سدِباب . تحریر : سعد طارق

    انتہا پسندی اوراس کا سدِباب . تحریر : سعد طارق

    انتہاپسندی ایک ایسی دماغی کیفیت نام ہے جس میں کوئی انسان ہر چیز اور ہر واقعہ کو ایک ہی زاویہ میں دیکھے اور اختلاف رائے کو بالکل برداشت نہ کرے۔ کسی بھی معاشرے میں انتہاپسندی کا وجود وہاں کے لوگوں کو دنیا و آخرت کی رسوائی کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اگرچہ تاریخ انسانی کے آغاز سے ہی انتہا پسندی کا بھی آغاز ہو گیا تھا، جب اللّٰہ کے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السّلام کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو حسد کی بناء پر قتل کیا۔ ہر نبی کے دور میں مذہبی و نظریاتی اختلافات تشدد کا باعث بنتے رہے ۔ کبھی اللّٰہ کے رسولوں کی توہین ہوئی بعض دفعہ نبیوں کے ماننے والوں کو بھی ظلم و جبر کا نشانہ بنایا گیا۔ بنی اسرائیل نے تو ایک ایک دن میں کئی انبیاء کو قتل کیا۔، حتی کہ لوگوں نے اس بناء پر حضرت محمد صلی اللّٰہ وآلہ وسلّم کو اس حد تک اذیتیں دیں کہ آپ صلی اللّٰہ وآلہ وسلّم نے فرمایا” اتنا کسی نبی کو نہیں ستایا گیا جتنا مجھے ستایا گیا۔”

    پس معلوم ہوا ہے کہ انسان ہر دور میں انتہا پسندی کا شکار رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی معاشرے میں مختلف الخیال لوگوں نے فکری اختلاف کو ذاتی اختلاف میں تبدیل کیا، اپنی بات کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لیے تمام اخلاقی حدود کو عبور
    کر کے معاشرتی اقدار کو اپنے پاؤں تلے روند دیا۔ انتہا پسندی معاشرے کے امن و سکون کو غارت کر دیتی ہے۔کسی بھی معاشرے میں انتہا پسندی کے بڑھنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

    معاشرے میں انتہا پسندی کے فروغ کے لیے سب سے بڑا ہاتھ معاشی صورتحال کا ہے ۔ تعلیم کو کسی بھی معاشرے میں قوم کی فلاح و بہبود کے لیے لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ تعلیم کی اہمیت کے لیے ایک ہی مثال کافی ہے کہ جب اللّٰہ نے اپنی محبوب ہستی حضرت محمد صلی اللّٰہ وآلہ وسلّم کو پہلی وحی بھیجی تو وہ سارے علم و تعلیم پر تھی۔

    تعلیم و قلم سے انکار نہیں لیکن جس ملک کی 28 فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں ، وہاں والدین اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے کیسے بھیج سکتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کو ابتدائی تعلیم کے لیے مدارس میں بھیج دیا جاتا ہے۔ اگرچہ ہمارے بیشتر دینی مدارس دین کی فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بہت سے دینی مدارس ملک میں انتہا پسندی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ دینی مدارس پر چھاپے مارے جاتے ہیں جہاں سے اسلحہ اور انتہا پسندی کو فروغ دینے والے لڑیچر برآمد ہوتے ہیں۔

    ہمارے حکمران اور ریاست گزشتہ کئی دہائیوں سے جارحانہ رہی ہے۔ اس تعلیمی پالیسی کے زیر اثر تیار والی نسل کو وہ بطور ایندھن استعمال کرتے رہے ہیں۔تنگ نظری، اپنے مذہبی حریفوں سے نفرت،عدم برداشت جیسی عادتیں ہمارے مزاج کا حصہ بنتی رہیں۔ آج بھی پاکستان کا نظام تعلیم ایسا کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام ہے کہ جس میں انسان کو سماجی شعور اور انسانی رویے فروغ پا سکیں۔ آج بھی ہمارا نصاب تعلیم رواداری ، انسان دوستی اور مسلمہ انسانی اقدار پر خاموش ہے اور ہم خطے میں امن ، سلامتی اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ آج بھی ہمارے نصاب تعلیم فرسودہ ہے۔

    انتہا پسندی کی ایک اہم قانون کی عملداری نہ ہونا بھی ہے ۔ کسی بھی معاشرے میں قوانین دراصل معاشرتی جرائم کی پیشگی روک تھام کے لیے بنائے جاتے ہیں اگر اس کے باوجود کوئی جرم کر بھی لے تو اسے قانون کی مطابق سزا دی جاتی ہے ۔ اگر کسی معاشرے میں قانون کی پاسداری نہ ہو تو وہاں انتہاپسندی کا فروغ یقینی ہوتا ہے ۔ایسے معاشرے میں ظالم طاقتور اور مظلوم کمزور ہوتا ہے۔
    انتہا پسندی کی ایک اور اہم وجہ مذہبی ،لسانی اختلاف کو رنگ دے نفرتوں کو فروغ دیا گیا۔ جو رسول اللہ صلی اللّٰہ وآلہ وسلّم رحمت بنا کر بھیجے گئے، انہیں کی نام پر مذہبی اکثریتی طبقے کی طرف سے بعض اوقات اقلیتوں کے حقوق کو بھی روند دیا جاتا ہے ۔ ان کی عبادت گاہوں اور انسانوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے۔ انتہا پسندی کے اسں تدارک سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام الناس کو شعور و آگہی دی جائے ۔ مختلف مذاہب ، لسانی اور نسلی سے تعلق رکھنے والے والوں کے مابین بامقصد مباحث کا اہتمام کیا جائے تاکہ وہ آپس میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کریں ۔

    رشوت اور میرٹ کا قتل انتہا پسندی کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کی وجہ نوجوان مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں ، اور وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کسی انتہا پسندی کے گروپ میں شامل ہو کے اپنی محرومیوں کا ازالہ کریں۔ انتہا پسندی کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طبقے میں موجود ہے۔ ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان کے کارکنان ذرا بھی اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے ۔ ان سیاسی جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ ملک کے نوجوانوں کی اکثریت ان کی حامی ہے ۔ اگر ایسا ہے تو ہمارے نوجوان تہذیب کے دائرے سے کیوں نکل رہے ہیں؟ کیونکہ نوجوانوں کی اکثریت استحصال کا شکار ہیں اور جب کبھی کسی نے ان کو تبدیلی کا خواب دیکھایا تو وہ اس کی طرف نکل پڑتے ہیں۔

    اگر ہم معاشرے کو انتہا پسندی سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو از سر نو مرتب کرنا ہو گا اور اس میں ایسے ابواب شامل کرنے ہوں گے جس میں انتہا پسندی سے بچنے کے اصول شامل ہوں ۔ عرض یہ کہ اگر ہم سب مل کر انتہا پسندی تدارک کے لیے صدق نیت سے اقدامات کریں تو یقیناً ہر لمحہ اللّٰہ کی مدد کے حقدار ٹھہریں گے کیونکہ اللّٰہ نے سورہ مبارکہ نجم کی آیت مبارکہ 39 میں ارشاد فرمایا ہے کہ ” اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔

    @SaadTariqPTI