Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ادھوری بات، ادھورا علم،تحریر:پارس کیانی

    ادھوری بات، ادھورا علم،تحریر:پارس کیانی

    بچپن ہمیشہ عجیب ہوتا ہے۔ یہ ہمیں ہنس کر وہ سچ دکھا دیتا ہے جسے بڑے ہو کر بھی ہم نہیں سمجھ پاتے۔ مجھے آج بھی اپنا وہ بچپن یاد ہے جب ہمارے ایک چچا ہر محفل میں ایک عجیب شدت کے ساتھ ایک ہی بات دہراتے تھے۔ وہ علامہ اقبال رح کے شیدائی تھے، اور ان کے ایک مصرع نے تو جیسے ان پر جادو کر دیا تھا۔ جب بھی کہیں بیٹھتے، گفتگو ذرا سی رکتی تو وہ بڑے یقین سے کہتے:

    "پھول کی پتی ہیرے کا جگر کاٹ سکتی ہے… علامہ صاحب نے فرمایا ہے!”

    محفل میں لوگ چونک جاتے۔ کوئی ہنستا، کوئی بحث چھیڑ دیتا، مگر چچا جان اپنی جگہ اٹل رہتے۔
    "بھئی، اقبال نے کہا ہے تو سچ ہی کہا ہوگا۔”
    اور بس، بات وہیں ٹھہر جاتی۔
    ایک دن کسی نے ہمت کر کے ان کو دوسرا مصرع سنا دیا:
    "مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر”

    مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے۔ چچا جان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو عجیب سی خاموشی اُتری، جیسے پوری زندگی ایک لمحے میں الٹ گئی ہو۔ انہوں نے پہلی بار جانا کہ وہ برسوں سے جس بات پر بضد تھے، وہ پوری تھی ہی نہیں۔ وہ صرف آدھا شعر تھا، اور آدھا سچ لے کر چلتے رہے ۔کبھی دوسرے مصرع کو غور سے پڑھنے کی اور سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔۔۔۔
    اس دن پہلی بار سمجھ آیا کہ ہم سب کسی نہ کسی درجے میں اسی چچا جان کی طرح ہی ہیں، ادھوری بات سنتے ہیں، ادھوری سمجھتے ہیں، ادھورا علم لے کر پوری زندگی چل پڑتے ہیں۔
    ہمارے گرد موجود اکثر گمراہیاں پوری غلط فہمی نہیں ہوتیں، صرف ادھی معلومات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
    ہم لفظوں کے پہلے حصے سے فیصلے کرتے ہیں، جذبات کے پہلے جھٹکے سے رشتے توڑ دیتے ہیں، ایک سن کر دس کہہ دیتے ہیں، کوئی افواہ پوری سنی نہیں ہوتی اور ہم اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اکثر ماں باپ بچوں سے ادھی بات کرتے ہیں، استاد ادھی وضاحت پر اکتفا کرتے ہیں، بچے اسکول سے ادھی حقیقت اٹھا لاتے ہیں، اور ہم ساری زندگی ادھورے خیالات کے بوجھ تلے چلتے رہتے ہیں۔
    سوال یہ نہیں کہ ہم ادھی بات لے کر چلتے ہیں،
    سوال یہ ہے کہ ہم پوری بات سننے میں ناکام کیوں ہیں؟
    سماجیات کہتی ہے کہ انسان جلد نتیجہ نکالنے کی جبلّت رکھتا ہے۔
    نفسیات بتاتی ہے کہ ذہن آدھی بات کو مکمل کہانی بنا لیتا ہے۔
    تاریخ گواہ ہے کہ بڑی غلطیاں، بڑی جنگیں، بڑے فتنہ و فساد… اکثر ایک ادھوری بات سے پھوٹے۔

    اور روزمرّہ کی زندگی میں؟
    ہم اپنے غلط مفروضے سنبھال کر رکھتے ہیں، انہیں عقیدے کی طرح برتتے ہیں، اور پھر کبھی پلٹ کر یہ نہیں دیکھتے کہ حقیقت کیا تھی۔ علم کی دنیا میں تو یہ بات اور بھی خطرناک ہے۔ آدھی کتاب، آدھا حوالہ، آدھا فہم، یہ سب انسان کو یقین کا ہتھیار دیتے ہیں، مگر حقیقت کا چراغ بجھا دیتے ہیں۔
    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم ادھوری بات سن کر چل پڑتے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ادھوری بات آگے بھی منتقل کرتے رہتے ہیں۔ ہم ایسے ہی جملے، ایسے ہی غلط مفروضے اور ایسے ہی ادھورے حوالوں کو نسل در نسل پہنچاتے رہتے ہیں۔ کیا پتہ جو ہمارے سامنے غلط بول رہا ہے، کسی بات کو آدھا سن کر پورا سمجھ بیٹھا ہے، وہ خود بھی کسی ایسے ہی شخص کا شکار ہو جس نے اسے ادھوری بات کا تحفہ دیا تھا۔
    یہ ذمہ داری ہم سب پر ہے کہ جب ہم پہلی بار کسی کو کوئی علم دیں، کوئی حوالہ بتائیں، کوئی بات سمجھائیں، تو یہ یقین کر لیں کہ بات پوری پہنچی بھی ہے یا نہیں۔ علم چراغ کی طرح ہے؛ اگر ہم اسے آدھا ہی تھما دیں تو وہ روشنی نہیں دیتا، صرف دھند پیدا کرتا ہے۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ سننے والا بات کو کتنا سمجھ پایا ہے، کہاں خلا رہ گیا ہے، اور کہاں وضاحت کی ضرورت ہے۔
    دنیا کو ادھورے فہم نہیں، مکمل اور سچّی باتوں کی ضرورت ہے، اور یہ ذمہ داری ہم سے شروع ہوتی ہے کہ ہم جو منتقل کریں، وہ پورا ہو، درست ہو، روشن ہو، اور آنے والے ذہنوں کو بھٹکائے نہیں بلکہ سمت دے۔
    جب بھی ہم علم یا کوئی سوچ منتقل کریں، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اکثر جو ہمارے سامنے بات کر رہا ہے، اس کے پاس بھی علم ادھورا ہو سکتا ہے، کسی نے اسے بھی ادھوری بات ہی دی ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف اپنی بات پوری کریں بلکہ سننے والے کی سمجھ بھی پرکھیں۔ پلٹ کر دیکھیں، جانچیں، اور اس بات کا یقین کر لیں کہ علم صحیح اور مکمل پہنچا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جو ادھورے فہم کو ختم کرتا ہے اور زندگی کو روشن کرتا ہے۔

  • اک ادبی محفل کا حال ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اک ادبی محفل کا حال ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    آٹھ فروری کو پنجاب یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب میں ایک ایک باوقار نشست منعقد کی گئی جس کا اہتمام یاسر پبلیکیشنز کی بانی اور اونر با صلاحیت فاطمہ شیروانی نے کیا یہ تقریب، ، فریم سے باہر ،، کی مصنفہ دعا عظیمی کو رائٹر گلڈ انعام ملنے کی خوشی میں اور یاسر پبلیکیشنز سے شائع ہونے والی معروف ادیب سلمان باسط صاحب کی کتب کی تقریب پذیرائی کے سلسلے میں تھی جو بہت مقبول ہوئیں، تقریب کی صدارت سلمہ اعوان صاحبہ نے کی مہمانان خصوصی میں سلمان باسط صاحب ، غلام حسین ساجد صاحب اور سعید اختر ملک صاحب تھے ان سب نے کتابوں پر بہت اچھی گفتگو کی خاص طور پر تقریب میں شامل سینر ادیب حسین مجروح صاحب نے بہت سیر حاصل تبصرہ کیا اور بہت موثر اور مدلل گفتگو کی انہوں نے سلمان باسط صاحب کی کتاب، ، خاکی خاکے،، دعا عظیمی کی کتاب ،، فریم سے باہر، ، اور سعید اختر ملک صاحب کی کتاب، ، سوچ دلاان ،، پر بہت عمدہ اور باریک بینی سے اظہار خیال کیا ،

    سلمان باسط صاحب نے اپنی کتاب ،، خاکی خاکے ،، سے ایک خاکہ پڑھ کر سنایا جس سے محفل زعفران زار بن گئی ، تقریب کے شرکاء کو بھی گفتگو کا موقع دیا گیا اور آخر میں سلمہ اعوان صاحبہ نے صدارتی خطبہ دیا یہ تقریب بہت شاندار رہی فاطمہ شیروانی نے بہت عمدہ ڈنر کا انتظام کیا تھا بہت لذیذ کھانا تھا آخر میں کیک بھی کاٹا گیا اور شرکاء کو کتب کا تحفہ بھی دیا گیا، موسم بہت خوشگوار تھا یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب کا جگمگاتا خوبصورت ہال ، خوبصورت پینٹنگز اور فرنیچر سے مزین کوریڈور ، اور پھر لش گرین لان رات کی خنکی اور فسوں سے بہت اچھا لگ رہا تھا شرکاء میں حسین مجروح
    اشفاق احمد ورک
    غلام حسین ساجد
    سلمان باسط
    محمود ظفر ہاشمی
    قرة العین شعیب
    روزینہ زرش بٹ
    مریم چویدری
    ڈاکٹر عظمی
    ثروت جہاں
    زرقا فاطمہ
    عطرت بتول
    دعا عظیمی
    سلمی اعوان
    فاطمہ شیروانی اور
    رقیہ اکبر چوہدری شامل تھیں

    دعا عظیمی اور فاطمہ شیروانی کو مبارکباد، اللہ تعالٰی لکھنے والوں کے قلم کو ہمیشہ رواں رکھے ، فاطمہ شیروانی ہمارے ملک کی مایہ ناز پبلشر کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے آمین
    lahore

  • ہاتھوں میں دعا آنکھوں میں عمر بھر کا بوجھ،تحریر: آمنہ خواجہ

    ہاتھوں میں دعا آنکھوں میں عمر بھر کا بوجھ،تحریر: آمنہ خواجہ

    یہ تصویر کسی ایک انسان کی نہیں ایک پوری نسل کی کہانی سناتی ہے۔ جھکی ہوئی پیشانی آنکھوں پر رکھا ہوا ہاتھ اور سامنے پھیلی ہوئی ہتھیلیاں جیسے زندگی نے بہت کچھ کہہ دیا ہو اور اب الفاظ ختم ہو گئے ہوں۔
    یہ وہ ہاتھ ہیں جنہوں نے کبھی بچوں کو تھام کر چلنا سکھایا کبھی مزدوری کی سختی جھیلی کبھی خالی جیب کے ساتھ بھی گھر کی دہلیز پر مسکراہٹ رکھ دی۔ مگر آج یہی ہاتھ سوال بن گئے ہیں۔ سوال لوگوں سے نہیں وقت سے تقدیر سے، اور شاید اپنے ہی دل سے۔
    چہرے کی جھریاں صرف عمر کی نشانیاں نہیں ہوتیں یہ ان راتوں کا حساب بھی ہوتی ہیں جو فکر میں کٹ گئیں ان دنوں کی گنتی بھی جن میں اپنی خواہشیں بچوں کی ضرورتوں پر قربان ہو گئیں یہ آنکھیں اگر بند ہیں تو نیند کے لیے نہیں شاید اس لیے کہ آنسو اب دکھائے نہیں جاتے۔

    اخبار کے صفحے پر چھپنے والی یہ تصویر ہمیں جھنجھوڑتی ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمارے اردگرد کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو مانگتے نہیں بس خاموشی سے دعا کے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں۔ جن کا دکھ شور نہیں کرتا مگر دل ہلا دیتا ہے۔
    یہ تصویر ہم سب سے ایک سوال پوچھتی ہے:
    کیا ہم نے ان ہاتھوں کو وقت پر تھاما؟
    یا پھر ہم بھی گزر گئے یہ کہہ کر کہ یہ تو کسی اور کی ذمہ داری ہے؟
    شاید انسان کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ جھکے ہوئے سروں کو سہارا دے اور ان خاموش دعاؤں کا جواب بن جائے جو لفظوں کے بغیر بھی آسمان تک پہنچ جاتی ہیں۔

  • ریاست کے ستونوں کو سنبھالنا ہو گا۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    ریاست کے ستونوں کو سنبھالنا ہو گا۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ریاستیں نعروں، خواہشات یا محض سیاسی بیانیوں سے نہیں چلتیں، بلکہ مضبوط اداروں، واضح نظم اور قومی اتفاقِ رائے سے قائم رہتی ہیں۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنے قومی سلامتی کے اداروں کو کمزور، متنازع یا عوامی تضحیک کا نشانہ بنایا، وہ بالآخر انتشار، خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔

    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو جغرافیائی، نظریاتی اور سلامتی کے اعتبار سے غیر معمولی دباؤ میں رہا ہے۔ دہشت گردی، علاقائی کشیدگی، سرحدی تنازعات اور اندرونی عدم استحکام کے باوجود ریاست کا برقرار رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں قومی سلامتی کے ادارے نہ صرف موجود ہیں بلکہ فعال بھی ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں ایسے ادارے ریاستی ستون سمجھے جاتے ہیں، جن پر تنقید ضرور ہوتی ہے، مگر ایک متعین آئینی اور قومی دائرے میں۔

    تاہم پاکستان میں ایک خطرناک رجحان مسلسل جڑ پکڑ رہا ہے—جہاں بعض سیاستدان، خود ساختہ دانشور اور سوشل میڈیا کے متحرک کردار قومی سلامتی کے اداروں کو براہِ راست عوامی نفرت اور شکوک کی علامت بنا رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ جمہوری روایت سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی بین الاقوامی سیاسی دانش سے۔

    لیبیا، شام، عراق اور یمن جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جہاں ادارہ جاتی کمزوری کو ’’عوامی آزادی‘‘ کا نام دے کر ریاستی ڈھانچے کو منہدم کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ جمہوریت بچی، نہ خودمختاری، اور نہ ہی عوام کا تحفظ۔ عالمی تھنک ٹینکس اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس بارہا اس امر کی نشاندہی کر چکی ہیں کہ ریاستی اداروں کا ٹوٹنا براہِ راست انسانی بحران کو جنم دیتا ہے۔
    یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اصلاحی تنقید کسی بھی جمہوریت کا حسن ہوتی ہے۔ سوال اٹھانا، احتساب کا مطالبہ کرنا اور پالیسی پر اختلاف رکھنا ایک صحت مند عمل ہے۔ لیکن جب تنقید کا مقصد اصلاح کے بجائے تضحیک، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا عوامی ذہن کو گمراہ کرنا بن جائے، تو یہ عمل ریاست کے لیے نقصان دہ ہو جاتا ہے۔

    پاکستان جیسے حساس خطے میں واقع ملک کے لیے سیاسی قیادت، میڈیا اور رائے ساز طبقوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ الفاظ محض آواز نہیں ہوتے، یہ بیانیہ بناتے ہیں—اور بیانیے قوموں کو جوڑ بھی سکتے ہیں اور توڑ بھی سکتے ہیں۔

    عالمی تجربہ ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ مضبوط قومی سلامتی کے ادارے جمہوریت کے مخالف نہیں ہوتے، بلکہ اس کے محافظ ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ادارے طاقتور ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم انہیں قومی مفاد کے دائرے میں مضبوط رکھ پا رہے ہیں؟
    ریاستیں اختلافِ رائے سے نہیں ٹوٹتیں، بلکہ بے احتیاط زبان، غیر ذمہ دار سیاست اور ادارہ جاتی تصادم سے کمزور ہوتی ہیں۔

    اگر پاکستان کو محفوظ، مستحکم اور باوقار مستقبل دینا ہے تو ہمیں تنقید اور تخریب کے فرق کو سمجھنا ہوگا، اور ریاست کے ستونوں کو گرانے کے بجائے انہیں سنبھالنا ہوگا۔

  • اسلام آباد میں مسجد پر حملہ: خاموشی نہیں، فیصلہ کن اقدام کا وقت.تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسلام آباد میں مسجد پر حملہ: خاموشی نہیں، فیصلہ کن اقدام کا وقت.تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسلام آباد میں مسجد کے اندر پیش آنے والا حالیہ دہشت گردی کا واقعہ پوری قوم کے لیے گہرے صدمے اور تشویش کا باعث ہے۔ دارالحکومت، جو ریاستی رِٹ، سکیورٹی اور نظم و ضبط کی علامت سمجھا جاتا ہے، وہاں عبادت گاہ کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے دشمن اب کسی حد تک جانے سے گریز نہیں کر رہے۔

    حکومتی ذرائع اور سکیورٹی اداروں کی ابتدائی معلومات کے مطابق اس دہشت گردانہ کارروائی کے تانے بانے افغانستان اور بھارت سے جا ملتے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف جاری پراکسی وار کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ملک میں خوف، عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنا ہے۔

    یہ حقیقت اب عالمی برادری سے پوشیدہ نہیں رہنی چاہیے کہ افغانستان کی سرزمین طویل عرصے سے دہشت گرد عناصر کے استعمال میں رہی ہے۔ ماضی میں بھی وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہی ہیں اور حالیہ برسوں میں ایک بار پھر ان سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ افغانستان خود دہشت گردی کی آگ میں جلتا رہا ہے، مگر افسوس کہ اس کے اثرات ہمسایہ ممالک تک پھیل رہے ہیں۔

    اسی طرح بھارت کا کردار بھی مسلسل سوالات کی زد میں ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی مداخلت کے الزامات کوئی نئی بات نہیں۔ اسلام آباد میں مسجد جیسے مقدس مقام کو نشانہ بنانا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ دشمن قوتیں مذہبی جذبات کو بھی استعمال کر کے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔

    یہ واقعہ صرف ریاستی اداروں کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی دنیا کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ اگر دہشت گردی واقعی ایک عالمی مسئلہ ہے تو پھر اس کے خلاف ردعمل بھی عالمی سطح پر یکساں اور غیرجانبدار ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی اداروں اور طاقتوں کو چاہیے کہ وہ افغانستان کو واضح طور پر پابند کریں کہ اس کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، اور بھارت کو یہ پیغام دیا جائے کہ خطے میں عدم استحکام کی پالیسی ناقابلِ قبول ہے۔

    پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے چکا ہے۔ ہزاروں معصوم شہری، نمازی، علما اور سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ اب مزید صبر کا مظاہرہ ممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری محض تشویش کے اظہار سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے تاکہ پاکستان کے بے گناہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
    اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والا یہ حملہ ایک واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اگر دشمن عناصر کو بروقت اور مؤثر انداز میں لگام نہ دی گئی تو اس کے نتائج پورے خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر اپنے شہریوں کے خون پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔

  • میں صحافی نہیں ہوں

    میں صحافی نہیں ہوں

    میں صحافی نہیں ہوں
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    میں صحافی نہیں ہوں۔یہ جملہ میں نے کسی جذباتی لمحے میں نہیں کہا، بلکہ 2026 میں اُس دن خود سے دہرایا جب ڈیرہ غازیخان کی ضلعی انتظامیہ نے ہفتہ کے روز پریس کلب کی ووٹر لسٹ جاری کی اور وہ فہرست میرے سامنے آئی۔ میں نے نام تلاش کیا، کئی بار دیکھا، مگر میرا نام اس فہرست میں موجود نہیں تھا۔ یوں محسوس ہوا جیسے برسوں پر محیط میرا صحافتی سفر، میری شناخت اور میرا وجود ایک سرکاری کاغذ کے ایک فیصلے سے بے معنی بنا دیا گیا ہو۔ یہ محض ایک فہرست نہیں تھی، بلکہ میرے لیے یہ اعلان تھا کہ میں اب سرکار کی نظر میں صحافی نہیں رہا۔

    یہ کوئی تکنیکی غلطی نہیں تھی، نہ ہی کسی لاپرواہی کا نتیجہ۔ یہ ایک دانستہ اقدام تھا، جس کے پیچھے وہی سرکاری چمچے، نام نہاد لیڈر اور وہ عناصر کارفرما تھے جنہوں نے پریس کلب کی سیاست کو اصولوں کے بجائے مفادات کا کھیل بنا رکھا ہے۔ حیرت اس بات پر نہیں کہ میرا نام نکالا گیا، حیرت اس بات پر ہے کہ 23 برس سے جاری صحافتی سفر، ذمہ داریاں، عہدے اور خدمات سب کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا۔

    میرا صحافتی سفر 2003 میں روزنامہ سنگ میل ملتان سے شروع ہوا۔ وقت کے ساتھ میں نے نمائندہ خصوصی، کرائم رپورٹر، ڈسٹرکٹ رپورٹر، بیورو چیف اور انتظامی ذمہ داریاں نبھائیں، حتیٰ کہ گروپ ایڈیٹر کے عہدے تک پہنچا۔ آج بھی میں مبشر لقمان جیسے سینئر صحافی کے ادارے باغی ٹی وی میں بطور انچارج نمائندگان خدمات انجام دے رہا ہوں، جبکہ لاہور سے شائع ہونے والے ایک اخبار میں ڈیرہ غازی خان کا بیورو چیف ہوں۔ قومی اور بین الاقوامی حالاتِ حاضرہ پر مسلسل کالم لکھ رہا ہوں۔ پریس کلب کی سیاست میں بھی میرا کردار محض تماشائی کا نہیں رہا؛ مختلف ادوار میں باڈی کا حصہ رہا اور الیکشن شیڈول جاری ہونے تک بطور سینئر نائب صدر (الیکٹرانک میڈیا) ذمہ داریاں نبھاتا رہا۔ اس سب کے باوجود، سرکاری فہرست میں میرا نام نہیں۔

    سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟
    اس کا جواب بہت سادہ مگر بہت تلخ ہے۔
    میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں برائی کے اڈے نہیں چلاتا، نہ ان کی سرپرستی کرتا ہوں اور نہ ان لوگوں سے تعلق رکھتا ہوں جو خبر کے نام پر راتوں کو شراب اور گناہ کی محفلیں سجاتے ہیں۔ میں نے کبھی یہ نہیں مانا کہ صحافت کے لیے کردار کی قربانی دینا لازم ہے، اسی لیے میں سرکار کی فہرست میں قابلِ قبول نہیں۔

    میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں نے کبھی جوئے کے اڈے نہیں چلائے، نہ شراب و شباب کی محفلوں کا حصہ بنا اور نہ کسی قبیح فعل کو “ذاتی معاملہ” کہہ کر نظرانداز کیا۔ میں نے برائی کو برائی کہا، چاہے وہ کسی دوست کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ شاید یہی سب سے بڑا جرم ہے۔

    میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں تاجر نہیں ہوں جو تجارت کی آڑ میں دو نمبر سامان بیچتا پھرے۔ میرے پاس نہ چمکتی دمکتی گاڑی ہے، نہ کسی چیمبر آف کامرس کی چھتری، اور نہ ہی اشتہار کے بدلے خبر بیچنے کا ہنر۔ میں نے ہمیشہ قلم کو روزی نہیں، ذمہ داری سمجھا۔

    میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں نہ سمگلر ہوں اور نہ سمگلروں کا سہولت کار۔ نہ کسی افسر کا کارِ خاص ہوں جو پردے کے پیچھے سودے طے کراتا پھرے۔ میں نے خبر کو کبھی “مفاد” کے ترازو میں تول کر ہلکا یا بھاری نہیں بنایا۔

    میں اس لیے بھی صحافی نہیں ہوں کیونکہ میرے پاس وہ گاڑی نہیں جس میں محکمہ تعلقاتِ عامہ کے افسران کو گھمایا جائے، ان کے لیے محفلیں سجائی جائیں یا انہیں مہمانِ خصوصی بنا کر خوش رکھا جائے۔ میں نے صحافت کو ٹیکسی سروس یا تعلقات کا ذریعہ نہیں بنایا۔

    میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں ڈپٹی کمشنر یا کمشنر کے دفاتر میں حاضری دینے کا عادی نہیں۔ میں نے کبھی ان کے دروازوں پر کھڑے ہو کر سلامی نہیں بھری، نہ کسی کا سفارشی بنا اور نہ ہی کسی سفارش کا سہارا لیا۔ میرے نزدیک خبر طاقت کے ایوانوں میں نہیں، عوام کے دلوں اور گلیوں سے جنم لیتی ہے۔

    اور میں اس لیے بھی صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں کسی سرکاری دفتر سے منتھلی کا خواہشمند نہیں رہا ہوں۔ نہ چوکیدار ہوں، نہ چپڑاسی، نہ وہ دیوس جو افسران کی راتیں رنگین کرنے کا کام کرے۔ میں اپنی حق حلال کی کمائی پر جیتا ہوں اور اسی پر فخر کرتا ہوں۔

    یہ تمام باتیں دراصل میری نااہلی کی فہرست ہیں۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر مجھے بتایا گیا کہ میں اب صحافی نہیں رہا۔ مگر میں پورے شعور کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ اگر صحافی ہونے کی شرط یہی سب کچھ ہے تو پھر مجھے یہ اعزاز قبول نہیں۔

    میں صحافی نہیں ہوں، مگر میں سچ لکھنے والا انسان ہوں۔میں وہ شخص ہوں جس کی جیب خالی ہو سکتی ہے، مگر ضمیر نہیں۔میں وہ شخص ہوں جسے پریس کلب کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں، مگر صحافت سے عشق ہے۔

    دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں،ایشیا ہو یا یورپ، امریکہ ہو یا افریقہ..کہیں بھی حکومتیں صحافیوں کی "ووٹر لسٹیں” مرتب نہیں کرتیں۔ کہیں کسی ڈپٹی کمشنر، ضلعی انتظامیہ یا کسی نوکر شاہی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ میز پر بیٹھ کر یہ طے کرے کہ "کون صحافی ہے اور کون نہیں”۔ صحافی کی پہچان اس کا قلم، اس کا کام اور اس کی عوامی ساکھ ہوتی ہے، نہ کہ کسی سرکاری دفتر سے جاری ہونے والی کوئی فہرست۔ مگر حیرت ہے کہ مملکتِ خداداد میں "ڈیرہ غازی خان” وہ واحد بدقسمت ضلع بن چکا ہے جہاں ضلعی حکومت صحافیوں کے شجرے اور فہرستیں مرتب کرنے میں مصروف ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا اب پورے پاکستان میں صحافیوں کی سندِ صداقت بانٹنے کا اختیار ڈپٹی کمشنرز کو سونپ دیا گیا ہے؟ یا پھر ڈیرہ غازی خان میں صحافت پر پہرے بٹھانے کا کوئی ایسا انوکھا اور خطرناک تجربہ کیا جا رہا ہے جسے ‘گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ’ میں درج کروانا مقصود ہے؟ اربابِ اختیار جواب دیں کہ کیا اب ضلعی افسر یہ طے کریں گے کہ سچ بولنے کا مجاز کون ہے؟ اگر آج صحافی کی پہچان سرکار کی مرضی سے ہوگی، تو کل خبر کا متن بھی سرکار لکھ کر دے گی، اور پرسوں سچ لکھنا ریاست کے خلاف بغاوت قرار پائے گا۔

    میں برملا کہتا ہوں کہ میں "سرکاری صحافی” نہیں ہوں،اگر صحافت کی قیمت اپنی آزادی، ضمیر اور قلم کو کسی سرکاری فہرست کی زنجیر پہنانا ہے، تو مجھے ایسی صحافت سے توبہ ہے۔ یاد رکھیے! ووٹر لسٹ سے میرا نام تو کاٹا جا سکتا ہے، مگر تاریخ کے اوراق سے میری آواز مٹانا کسی سرکاری قلم کے بس میں نہیں۔ میں صحافی نہیں ہوں… اور شاید اسی لیے آج بھی آزاد ہوں۔

    آخر میں صرف چھوٹا سا سوال "کیا ضلعی انتظامیہ نے ڈیرہ غازی خان کی تمام عوامی محرومیاں ختم کر دی ہیں کہ اب ان کے پاس صرف صحافیوں کی لسٹیں بنانےکا کام باقی رہ گیا ہے؟”

  • لاہور میں بسنت: تہوار، تضاد اور تلخ سوالات،تحریر:شہزاد قریشی

    لاہور میں بسنت: تہوار، تضاد اور تلخ سوالات،تحریر:شہزاد قریشی

    پچیس برس بعد لاہور میں بسنت منانے کی اجازت دیے جانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس ایک شہر میں بسنت کے نام پر کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ بسنت نہ کوئی اسلامی تہوار ہے اور نہ ہی کوئی قومی روایت،یہ محض ایک کھیل تماشہ ہے، جسے دنیاوی تفریح کہا جا سکتا ہے۔ مگر سوال یہ نہیں کہ بسنت کھیل ہے یا تہوار؛ اصل سوال وہ تضاد ہے جو اس فیصلے نے بے نقاب کر دیا ہے۔

    پاکستان کے بارے میں برسوں سے کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک غریب ملک ہے۔ یہی بیانیہ عالمی مالیاتی اداروں، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور خود ہمارے سیاسی و میڈیا حلقوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ لیکن جب صرف لاہور جیسے ایک شہر میں کروڑوں روپے پتنگ بازی پر اڑا دیے جائیں، تو ایک فطری سوال جنم لیتا ہے اگر یہاں پیسہ ہے، تو پھر غربت کہاں ہے؟ اور اگر غربت ہے، تو یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟یہ تضاد پاکستان کے اس سرکاری بیانیے کو کمزور کرتا ہے جس کی بنیاد پر ہم عالمی اداروں کے سامنے مالی مدد کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ عالمی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ شاید مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ ترجیحات کی خرابی ہے۔

    دوسری طرف، بسنت کے آغاز کے ساتھ ہی ایک قیمتی جان ضائع ہو چکی ہے اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ بسنت کے ساتھ کیمیائی ڈور، چھتوں سے گرنے کے واقعات اور ہنگامہ آرائی جڑی رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک دن کی تفریح کے بدلے ہمیں کیا ملا؟ ایک لاش؟ چند زخمی؟ اور ایک بار پھر وہی پرانا المیہ؟ریاست کی ذمہ داری صرف اجازت دینا نہیں، بلکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ بھی ہے۔ اگر کسی سرگرمی کے نتیجے میں انسانی جانیں ضائع ہوں، تو پھر اس سرگرمی کے جواز پر سنجیدگی سے غور لازم ہو جاتا ہے۔

    بسنت سے نہ معیشت کو دیرپا فائدہ پہنچتا ہے، نہ غربت کم ہوتی ہے، نہ ہی قومی وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ البتہ اس سے یہ پیغام ضرور جاتا ہے کہ ہم بطور قوم ترجیحات طے کرنے میں ناکام ہیں،جہاں تعلیم، صحت اور روزگار کے بجائے وقتی تماشوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جشن منانے اور قومی ذمہ داری میں فرق سیکھیں۔ خوشی منانا جرم نہیں، مگر خوشی کی قیمت اگر انسانی جان ہو اور قومی بیانیہ کمزور پڑ جائے، تو یہ خوشی نہیں، غفلت بن جاتی ہے۔

  • بلوچستان میں پاکستان کا تیز رفتار انسدادِ دہشت گردی ردِعمل، تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    بلوچستان میں پاکستان کا تیز رفتار انسدادِ دہشت گردی ردِعمل، تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    کیا ہوا — اور یہ کیوں اہم ہے
    حالیہ دنوں میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے ایک غیر معمولی اور پرخطر قدم اٹھایا: بلوچستان کے 12 سے 16 شہروں اور قصبوں میں بیک وقت مربوط حملوں کی کوشش۔ مقصد واضح تھا—بدامنی پھیلانا، اپنی طاقت کا تاثر دینا، اور بھرتی کے بیانیے کو دوبارہ زندہ کرنا۔
    لیکن اس کے برعکس جو ہوا، وہ حالیہ برسوں میں پاکستان کے تیز ترین اور فیصلہ کن انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں سے ایک تھا۔
    48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں، پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے:
    تقریباً 200 دہشت گردوں کو ہلاک کیا
    بڑی تعداد میں کارندوں کو گرفتار کیا
    دوبارہ منظم ہونے یا فرار کو روکنے کے لیے ہاٹ پرسوٹ آپریشنز شروع کیے
    عالمی انسدادِ دہشت گردی کے تناظر میں یہ ردِعمل اس لیے نمایاں ہے کہ یہاں صرف اعداد نہیں، بلکہ رفتار، ہم آہنگی اور نظامی خلل کی گہرائی اہم ہے۔

    آپریشنل پھیلاؤ (نقشہ جاتی وضاحت)
    اگرچہ اصل نقشہ تزویراتی تفصیل دکھاتا، مگر آپریشنل دائرہ یوں سمجھا جا سکتا ہے:
    حملہ اور ردِعمل کے علاقوں میں شامل تھے:
    شمالی بلوچستان کے اضلاع
    وسطی نقل و حمل اور مواصلاتی راہداریوں
    جنوبی ساحلی اور اطرافی علاقے
    یہ وسیع جغرافیائی پھیلاؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ:
    بی ایل اے نے صوبے بھر میں بیک وقت دباؤ ڈالنے کی کوشش کی
    پاکستان نے انفرادی ردِعمل کے بجائے صوبہ گیر انٹیلی جنس ایکٹیویشن کے ساتھ جواب دیا
    انسدادِ دہشت گردی کی اصطلاح میں یہ صوبائی سطح پر کمانڈ سنکرونائزیشن کی مثال ہے—ایک ایسی صلاحیت جس کے حصول میں کئی ریاستیں ناکام رہتی ہیں۔

    وہ اعداد جنہوں نے منظرنامہ بدل دیا
    بی ایل اے کی قوت بمقابلہ نقصانات
    زمرہ
    اندازاً تعداد
    بی ایل اے کے کل جنگجو
    ~1,500
    ہلاک کیے گئے دہشت گرد
    ~200
    ہلاک شدہ فیصد
    ~13%
    وقت
    < 48 گھنٹے سادہ الفاظ میں: دو دن میں کسی مسلح تنظیم کے دس فیصد سے زائد افرادی قوت کا خاتمہ تباہ کن ہوتا ہے۔ زیادہ تر عسکریت پسند گروہ محدود نقصانات برداشت کر لیتے ہیں، مگر وہ آسانی سے بحال نہیں ہو پاتے جب: اچانک افرادی قوت میں کمی ہو تربیت یافتہ جنگجو ضائع ہو جائیں ٹھکانوں اور سہولت کاروں کا انکشاف ہو جائےعالمی سی ٹی تجزیہ کار اسے بڑی کامیابی کیوں سمجھتے ہیں
    بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی جائزے صرف “کتنے مارے گئے” پر نہیں رکتے؛ وہ دیکھتے ہیں کہ کون سے نظام ٹوٹے۔
    اس آپریشن نے متاثر کیا:
    کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس
    شہری سلیپر سیلز
    اضلاع کے درمیان نقل و حرکت کی راہداریاں
    بھرتی کی رفتار اور تاثر
    دنیا کے کئی محاذوں—ساحل (Sahel) سے مشرقِ وسطیٰ تک—میں اسی نوعیت کی کمی حاصل کرنے میں مہینے لگتے ہیں، اکثر بیرونی مدد کے ساتھ۔
    پاکستان نے یہ کارنامہ مقامی صلاحیت کے ذریعے اور انتہائی تیزی سے انجام دیا۔
    اصل نقصان: نفسیاتی دھچکا اور بھرتی کا انہدام
    دہشت گرد تنظیموں کے لیے تاثر، اسلحے جتنا ہی اہم ہوتا ہے۔
    بی ایل اے کے اہداف تھے:
    اپنی رسائی دکھانا
    اپنی اہمیت جتانا
    نئے بھرتی حاصل کرنا
    نتیجہ مگر الٹ نکلا:
    فوری نشاندہی
    فوری غیر مؤثر بنانا
    محفوظ آپریٹنگ اسپیس کا خاتمہ
    ممکنہ بھرتی کے لیے پیغام سخت اور واضح ہے: “تم زیادہ دیر نہیں ٹکو گے۔”
    یہ خوف آئندہ بھرتی کے خلاف ایک طاقتور رکاوٹ بنتا ہے۔

    تزویراتی پیغام*Strategic Message

    بلوچستان سے آگے تک
    یہ آپریشن کئی سطحی پیغامات دیتا ہے:
    عسکریت پسندوں کے لیے: بڑے پیمانے کی ہم آہنگی تیز رفتار تباہی کو دعوت دیتی ہے
    سرپرستوں اور سہولت کاروں کے لیے: پراکسی تشدد سے دباؤ یا فائدہ حاصل نہیں ہوگا
    عالمی برادری کے لیے: پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی صلاحیت ایک فاسٹ ری ایکشن، انٹیلی جنس غالب ماڈل میں ڈھل چکی ہے
    یہ پاکستان کے اس مؤقف کو بھی مضبوط کرتا ہے کہ بلوچستان میں عدم استحکام بیرونی عناصر کے ذریعے بھڑکایا جاتا ہے، مگر اندرونِ ملک اسے عزم کے ساتھ ناکام بنایا جاتا ہے۔

    خلاصہ

    محض تاکنیکی کامیابی سے بڑھ کر
    بی ایل اے کے مربوط حملوں پر پاکستان کا ردِعمل صرف کامیاب نہیں تھا—یہ تزویراتی طور پر سبق آموز بھی تھا۔
    48 گھنٹوں سے کم وقت میں کسی دہشت گرد تنظیم کے تقریباً 13 فیصد کا خاتمہ:
    آپریشنل رفتار توڑ دیتا ہے
    حوصلہ پست کر دیتا ہے
    بھرتی کے بیانیوں کو کمزور کر دیتا ہے
    وسیع اور پیچیدہ جغرافیے میں ریاستی رِٹ کو مضبوط کرتا ہے
    جیسے جیسے ہاٹ پرسوٹ آپریشنز جاری ہیں، بی ایل اے کو صرف نقصانات نہیں بلکہ وجودی ساکھ کے بحران کا سامنا ہے۔ پاکستان کے لیے، یہ کارروائی ایک پُراعتماد اور جدید انسدادِ دہشت گردی مؤقف کی عکاس ہے جسے دنیا اب نظرانداز نہیں کر سکتی۔

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدید کاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

  • عالمی منڈی میں آلو کی برآمدات اور کسانوں کے مسائل ،تحریر :کامران اشرف

    عالمی منڈی میں آلو کی برآمدات اور کسانوں کے مسائل ،تحریر :کامران اشرف

    پنجاب کے زرعی شعبے کے لیے حالیہ دنوں میں بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب، محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں کی جانے والی زرعی اصلاحات نے آلو کے کاشتکاروں کے لیے نہ صرف امید کی کرن روشن کی بلکہ ان کی محنت کو منافع بخش بنانے کا عملی راستہ بھی کھولا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں آلو کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ اور 12 ملین میٹرک ٹن کی تاریخی پیداوار نے پنجاب کو آلو کی عالمی منڈی میں ایک اہم کھلاڑی بنانے کی بنیاد رکھی ہے۔

    آلو کی بمپر فصل، اگرچہ کاشتکاروں کے لیے خوشی کی خبر ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بڑا چیلنج بھی جڑا ہوا ہے: پیداوار کے ضائع ہونے کا خطرہ۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان سے آلو کی برآمد کی اجازت طلب کی۔ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ وہ اپنے کسانوں کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گی اور انہیں مناسب معاوضہ دلانے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی کے عملی اقدامات کر رہی ہیں۔

    پنجاب حکومت کی کوششیں صرف پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر برآمدات کے لیے قازقستان سمیت دیگر بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ مریم نواز شریف کے مطابق، قازقستان پہلا قدم ہے اور اس کے بعد مزید بین الاقوامی زرعی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے گی تاکہ آلو کی ریکارڈ پیداوار کو کوڑیوں کے بھاؤ نہ بیچا جائے۔

    کسانوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ فصل کی منڈیوں تک آسان رسائی ہے۔ زمین کی تیاری، فصل کی اگائی، دیکھ بھال، کھاد اسپرے اور پانی کی فراہمی جیسے اقدامات میں محنت کے باوجود، کئی بار کسان منافع نہ کما پاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے ہیں تاکہ آلو کی پیداوار نہ صرف ملک میں بلکہ عالمی منڈی میں بھی مناسب قیمت اور استحکام کے ساتھ فروخت ہو۔

    اس تمام عمل کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ پنجاب کے کسان اپنی محنت کا پوری قیمت حاصل کریں اور ان کی فصلیں ضائع نہ ہوں۔ آلو کی بمپر پیداوار اب کسان کے لیے پریشانی نہیں بلکہ خوشحالی اور معاشی استحکام کا پیغام لائے گی۔ پنجاب کی حکومت کی یہ حکمت عملی نہ صرف زرعی شعبے میں انقلاب لانے کی طرف ایک مضبوط قدم ہے بلکہ پاکستان کے زرعی برآمدات کے فروغ اور عالمی منڈی میں مقام بنانے کے لیے بھی اہم ہے۔

    مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب کی زرعی اصلاحات نے آلو کی پیداوار کو ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا ہے اور عالمی منڈی میں برآمدات کی راہیں کھول دی ہیں۔ یہ اقدامات کسانوں کے مالی استحکام، پیداوار کی حفاظت اور ملک کی معیشت میں زبردست بہتری کا سبب بن سکتے ہیں۔ آلو کی بمپر فصل اب صرف ایک زرعی کامیابی نہیں بلکہ پنجاب کے کسانوں کے لیے خوشحالی کا حقیقی پیغام ہے۔

  • کشمیر، حریت اور یومِ یکجہتی،تحریر: انمول اعوان

    کشمیر، حریت اور یومِ یکجہتی،تحریر: انمول اعوان

    کشمیر دنیا کا ایک خوبصورت خطہ ہونے کے ساتھ ساتھ جدوجہد، قربانی اور حریت کی علامت بھی ہے۔ قدرت نے کشمیر کو بے مثال حسن سے نوازا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ جنت نظیر وادی کئی دہائیوں سے ظلم و جبر کا شکار ہے۔ کشمیری عوام نے ہمیشہ آزادی اور اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ اُن کی جدوجہد اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ آزادی انسان کا بنیادی حق ہے، جسے طاقت کے زور پر ہمیشہ کے لیے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہر سال پانچ فروری کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرنا اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام آج بھی اپنے حقِ خودارادیت کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اور بے شمار قربانیاں دے رہے ہیں۔ اُن کی یہ قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔

    کشمیر کے عوام نے ظلم، جبر اور پابندیوں کے باوجود کبھی اپنی آزادی کی خواہش کو ختم نہیں ہونے دیا۔ اُن کے حوصلے، صبر اور استقامت پوری دنیا کے لیے مثال ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ظلم چاہے جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، سچ اور حق کی طاقت ہمیشہ غالب آتی ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں۔

    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں صرف کشمیری عوام کی حمایت کا درس ہی نہیں دیتا بلکہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں مظلوموں کی آواز بننا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کریں اور کشمیری عوام کے حق کے لیے آواز بلند کریں۔ ایک قوم کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اخلاقی، سفارتی اور انسانی بنیادوں پر کھڑے رہیں۔

    آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی، حوصلے اور قربانی کی لازوال داستان ہے۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں اتحاد، بھائی چارے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام اپنی آزادی حاصل کریں گے اور امن و سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں گے۔