Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بچپن کی یادیں تحریر : منیب انجم علوی

    بچپن کی یادیں تحریر : منیب انجم علوی

    عید کی چھٹیوں میں مجھے کچھ فرصت کے لمحات میسر آئے تو اُن لمحات میں مجھے میری سوچ میرے بچپن میں لے گئی جب امی جان ہمیں صبح فجر کی اذان کے ساتھ اٹھاتی نماز پڑھنے کے لئے اور وہ خود اُس وقت تک تحجد کے نوافل ادا کر چکی ہوتی ہم اُٹھ کر مسجد کی طرف چل پڑتے اور وہ گھر میں میری بہنوں کے ساتھ نماز کا اہتمام کرتی۔
    ہم جب نماز ادا کر لیتے تو اُس کے بعد مسجد محلے کے بچوں سے کھچاکھچ بھر جاتی جن کو قاری صاحب بغیر کسی معاوضے کے قرآن پڑھاتے تھے ہم بھی انہیں بچوں کے ساتھ مسجد میں قرآن پڑھتے پھر واپس گھر کی راہ لیتے ہمارے گھر پہنچنے سے پہلے والدہ نے آٹا گھوند کر چولہا جلایا ہوتا۔ والد صاحب صبح فجر کے فورا بعد کام کی طرف روانہ ہو جاتے اور ہم جب مسجد سے گھر پہنچتے وہ جا چکے ہوتے لیکن جانے سے پہلے وہ والدہ کو ہمارے سکول کا جیب خرچ دے کر جاتے تھے پھر ہم بھی سکول کے لئے تیار ہوتے اور سب بہن بھائی اکھٹے بیٹھ کر ناشتہ کرتے والدہ چولہے سے روٹیاں اتارتی جاتی اور ہم سب کھاتے جاتے اُس کھانے میں جو برکت تھی وہ شائد اب نہیں رہی کیونکہ اب نا تو ہمارے پاس وقت ہے اکھٹے بیٹھنے کا اور نہ ہی وہ خلوص باقی ہے اب جب اپنے بچپن کے وہ دن یاد کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کاش ہم بڑے ہی نہ ہوتے کاش وہ دن دوبارہ واپس آجائیں جب رشتوں میں محبت تھی وسائل کم تھے اور برکت ذیادہ( لیکن اب وسائل ذیادہ ہیں اور برکت کم) لیکن افسوس اب نہ تو وہ دن واپس آسکتے ہیں اور نہ ہم دوبارہ بچے بن سکتے ہیں لیکن ایک کام ہے جو ہم اب بھی کر سکتے ہیں اور وہ ہے رشتوں کا احساس ہم آج اپنے قریبی رشتوں کے لئے وقت نکالیں تو بہت سے مسائل خودبخود حل ہو سکتے ہیں
    اگر آپکو تحریر اچھی لگے تو اپنی قیمتی رائے سے اگاہ ضرور کیجیے

  • خود اعتمادی  تحریر : عمر خان

    خود اعتمادی تحریر : عمر خان

    خدا کی قدرت ہے کہ اُس نے ایک بہت بڑی دنیا بنائی۔ اس دنیا میں ہر رنگ اور نسل کی مخلوق تخلیق کی۔ سبحان اللّٰہ اسکی قدرت پر کہ ایک واحد ذات کی تخلیق ہونے کے باوجود انسان نہ صرف رنگ کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہے بلکہ انسان کی انفرادی خصوصیات بھی ایک دوسرے سے بلکل مختلف ہیں۔
    پھر میں سوچتا ہوں کہ ہم میں یہ تنازعات کیوں پائے جاتے ہیں؟کیوں ہمارے دل و دماغ خود کو دوسروں سے مختلف اور بہترین تصور کرنے سے قاصر ہیں؟
    اسکی سب سے بڑی وجہ خود اعتمادی کی کمی ہے۔ جیسے انسان کے اندر لمحیات کی کمی اسے لاغر کر دیتی ہے بلکل ویسے ہی خود اعتمادی کی کمی انسان کے دماغ کو دیمک کی طرح چاٹنا شروع کر دیتی ہے۔
    کیوں انسانی عقل اشرف المخلوقات کا لقب بھول جاتی ہے؟کیوں ہم ہمیشہ دوسروں کی پیروری اور دوسروں کو کاپی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں؟
    صرف اور صرف ہمیں اعتماد نہیں اپنی آپ پر۔ سنو: جو اُس شخص نے کیا وہ ہم بھی کر سکتے ہیں۔ جو کامیابیاں اُس کو میسر ہیں وہ ہمیں بھی میسر ہو سکتیں ہیں بلکہ ہم اس سے بہتر پا سکتے ہیں کیونکہ ہم اس کے قابل ہیں۔ لیکن اس قابلیت کو پہچاننے میں جو رکاوٹ ہے وہ خود اعتمادی کی کمی ہے۔
    کچھ کرنے سے پہلے ہی ہار مان جانا کہاں کی عقل مندی ہے؟
    منزل کا راستہ تلاش کرنے سے پہلے ہی سواری کی تلاش کرو گے تو کامیابی کا راستہ کٹھن ترین ہو گا۔ خود اعتماد شخص ہمیشہ خود کی صلاحیتوں پر انحصار کرتا ہے.
    بے اعتماد شخص کی مثال اس پرندے کی سی ہے جو کسی کی قید میں رہنے کو خود کی آزادی سمجھتا ہے۔ اور اسی پنجرے کو آسمان میں لے اُڑنے کے خواب دیکھتا ہے۔
    جب انسان خود کی صلاحیتوں کو پہچاننا اور خود کو تراش کر ایک بہترین انسان بنانے کی طرف متوجہ ہو گا تو مجھے اُمید کہ آنے والی نسلیں اتنی خود اعتماد ہوں گی کہ وہ اپنی منزلیں خود بنا سکیں گیں.
    (ان شاءاللّٰہ )
    مجھے فخر ہے کہ میرے اندر خود اعتمادی کی صلاحیت موجود ہے۔ میں پُر اعتماد شخص ہوں خود کو پہچانتا ہوں اپنی کامیابیوں کا امیدوار ہوں۔ غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنے والا شخص ہوں۔
    کیا آپ ایک پُر اعتماد شخص ہیں؟؟خود کا تجزیہ کریں سوال کریں اپنے نفس سے اور خود کو آنے والی نسلوں کے لئیے مثال بنائیں.

    @U4_Umer_

  • ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں: تحریر فاطمہ بلوچ

    ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں: تحریر فاطمہ بلوچ

    ‏اللہ کی راہ میں صدقہ صرف یہ نہیں کہ صرف مانگنے والے فقیروں کی مدد کر دی جائے. بہت سے ایسے سفید پوش ضرورت مند لوگ ہیں جو مانگ نہیں سکتے. جن کو کوئی ادھار بھی اس لیے نہیں دیتا کہ واپس کہاں سے کریں گے. ایسے لوگ بہت زیادہ محتاج ہوتے ہیں مگر عزت دار ہونے کی وجہ سے کھُل کر کسی کے آگے اپنی محتاجی بیان نہیں کر سکتے. جب مہینہ ختم ہو رہا ہو گھر میں راشن بھی ختم ہو ابھی تنخواہ آنے میں دس دن رہتے ہوں اوپر سے بجلی کا بل آ جائے. جو اگر نہ دیا گیا تو میٹر کٹ جائے گا.
    ‏اگر کوئی اس وجہ سے ادھار مانگنے آئے کہ دوائیاں لینے جانا ہے، بجلی کا بل دینا ہے. بچے کی فیس دینی ہے. فوتگی پہ جانا ہے. گھر کا راشن لینا ہے. وائف کا آپریشن ہے. بیٹی کی شادی ہے. دو مہینے سے تنخواہ نہیں ملی دودھ اور کریانہ والے کے پیسے دینے ہیں. عید پہ بچوں کے کپڑے لینے ہیں. کوئی اچانک بیمار ہو گیا اسے ہاسپیٹل لے کر جانا ہے. ایسے لوگوں کو کبھی یہ سوچ کر انکار نہ کیا کرو کہ یہ تو واپس ہی نہیں دیتا یا یہ کہاں سے واپس کرے گا. بلکہ جتنا زیادہ ہو سکے انھیں دی دیا کریں کیونکہ وہ اس وقت بہت مجبور ہوتا ہے. اور یہ سوچ لیا کرو کہ یہ اگر واپس نہ بھی کرے تو میری طرف سے صدقہ ہو گیا. یقین کرو اللہ بندے کی ایسی نیکی کو کبھی ضائع نہیں جانے دیتا اور کئی گناہ بڑھا کر بندے کو لوٹاتا ہے.
    ‏ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں. ہم مسجد کے مینار کے لیے بڑے فخر سے پچاس ہزار دے دیتے ہیں مگر 10 غریب خاندانوں کو پانچ ، پانچ ہزار نہیں دیں گے. ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کس کا اجر زیادہ ہے. کہاں اس کا فائدہ زیادہ لوگوں کو پہنچے گا. ہم یہ دیکھتے ہیں کہاں خرچ کروں کہ لوگوں میں میرا نام اونچا ہو. جبکہ اللہ بندے کی نیت دیکھ رہا ہوتا ہے کہ یہ چاہتا کیا ہے.

    @FLSARM

  • خدمتِ خلق . تحریر: اسد ملک

    خدمتِ خلق . تحریر: اسد ملک

    قوموں کی ترقی کا انحصار ان کی عوام پر ہوتا ہے۔اگر یہ عوام دھوکے باز ہو بڑے افسروں سے لیکر چوکیداروں تک سب کے سب بےایمان ہوں تو قومیں ترقی نہیں کرتیں۔ جن قوموں کی نوجوان نسل ٹک ٹاک تک محدود ہو جاۓ جس قوم کی نوجوان نسل چارسو کی خاطر اپنا ایمان تک بیچ دیں ایسی قومیں ترقی نہیں کرتی۔ آج ملک میں لوگ عارضی دنیاوی دولت کی خاطر اشرف المخلوقات کو کتوں کا گوشت کھلا رہے ہیں۔ آج ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی عدم توجہئ کی وجہ سے سیکنڑوں مریض مر رہے ہیں۔

    مطلب ہمارے ملک میں ہر وہ کام ہو رہا ہے جس سے غریب غریب تر ہوتا جا رہا اور امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ایک بندے کا کام نہیں ہے چاہے وہ وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو۔جب تک ملک میں وہ ڈاکیا(جو سڑکوں پر مارا مارا پھرتا ہے کہ کوئ خطوط کو ان کے مالک تک پہنچا سے تا کہ میرا سو روپیہ پٹرول کا بچ جاۓ گا) ٹھیک نہیں ہو گا۔

    آج ہمیں ایسے لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیراس بے حس قوم کو خواب غفلت سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں ایسے لوگ بھی ہماری طرح انسان ہی ہیں بس فرق یہی ہے کہ وہ انسان بھی ہیں اور ان کے اندر انسانیت بھی موجود ہے۔ کیونکہ انسان اور انسانیت میں بڑا فرق ہے بظاہر تو لگتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں لیکن ان کے اندر زمین و آسمان کا فرق ہے۔انسانیت آج کی اس دنیا میں بہت کم پائی جاتی ہے۔

    عبدالستارایدھی کی طرح آج بھی ایسے بہت لوگ اُن کی طرح موجود ہیں جو بغیر کسی معاوضے و کانچ کے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں تو ہمیں بھی چاہیے کہ ایسے لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ ہمارا تعلق چاہے کسی بھی علاقے سے ہو ہمیں ان کا حصہ بننا چاہیے اور انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے نزدیکی مستحق لوگوں کی مدد کرنی چاہیے ایسے لوگ ہی جب بڑے بن جاتے ہیں تو پھر کوئی عبدالستارایدھی تو کوئی قاسم علی شاہ بن جاتا ہے تو کوئی طارق عزیز بن جاتا ہے۔
    پاکستان زندہ باد🇵🇰

    @ asad_malik333

  • درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو . تحریر : عمر عطاء

    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو . تحریر : عمر عطاء

    چند سال پہلے میرے بابا کا روڈ ایکسیڈنٹ ہوا واقعہ پرموجود کچھ بے شرم لوگوں نے مدد کرنے کی بجاۓ جیب سے نقدی خالی کرلی بھلا ہو وہاں پرموجود ان لوگوں کا جوبابا کو اچھی طرح جانتے تھے انہوں نے وہ نقدی ان بے شرموں سے واپس لے کر بعد میں ہمارے حوالے کی۔
    کیا ہمارے اندررتی برابربھی انسانیت کا احساس نہیں ہے۔

    ایسے بہت سارے واقعات منظرعام پر آۓ ہیں کہ روڈ ایکسیڈنٹس متاثرین سے زیورات، نقدی اورموبائل فونز ہتھیا لیے جاتے ہیں۔ علی پور روڈ جو کہ قاتل روڈ کے نام سے مشہور ہے۔ آۓ روز یہاں پر حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں اورسینکڑوں جانیں ضائع ہوئ ہیں لیکن یہاں کے سیاستدانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔ میرے ایک رشتہ دار جو کہ پٹرولنگ پولیس میں ہوتے ہیں بتا رہے تھے کہ کچھ سال قبل روہیلانوالی میں ایک بس کو حادثہ پیش آیا تھا اور اس میں تمام لوگ جان کی بازی ہار گئے تھے جن میں اکثریت خواتین کی تھی۔ اس سنگل روڈ پر حادثات تو روز کا معمول ہیں لیکن دل دہلا دینے والی بات یہ کہ وہ بولتے ہیں جب ہم لوگ ان تک پہنچنے تو خواتین کے کانوں سے بالیاں تک اتار لی گئیں تھیں۔ میں سوچ رہا تھا اللّٰہ تعالیٰ نے اس وجہ سے ہی قیامت کا دن رکھا ہے تاکہ مظلوموں کی شنوائی ہو سکے۔

    وہاں پرصرف مظلوم کی حمایت کی جائے گی اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا ملے گی۔ انسان کو اشرف المخلوقات بھی صرف اس وجہ سے بنایا گیا ہے کہ وہ انسانیت سے محبت سے پیش آۓ۔

    بقول شاعر
    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں!

    انسان جب نیکی پر اترتا ہے تو وہ فرشتوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتا ہے لیکن یہی انسان جب گرنے پر آتا ہے تو شیطان سے بھی بد تر ہو جاتاہے۔ بات صرف احساسات کی ہے.

    Momi_70

  • بحثیت قوم .  تحریر: مدثر حسن

    بحثیت قوم . تحریر: مدثر حسن

    بحثیت قوم

    بحثیت قوم ہم ایک سست قوم ہیں ہم اپنی منزل کو پانے کے شارٹ کٹ طریقے ڈھونڈتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی مشقت نہ کرنی پڑے اور ہمارے کام ہو جائے ہم خود کو تبدیل نہیں کرنا آج جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں ان کو دیکھ لیں ان کی عوام میں سستی نہیں وہ محنت کش لوگ ہیں شارٹ کٹ کے طریقے نہیں ڈھونڈتے اپنا کام پوری لگن سے کرتے ہیں ۔۔۔۔

    اور ہم بحیثیت قوم چور کرپٹ بھی ہیں بجلی چوری ہم کرتے ہیں رشوت ہم کھاتے ہیں ملاوٹ ہم کرتے ہیں سود خوری ہم کرتے ہیں کوئی ناگہانی آفت آجائے تو ذخیرہ اندوزی کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ہم تبدیلی چاہتے ہیں لیکن خود کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے ہم چاہتے ہیں ہم خود کو تبدیل کیے بغیر تبدیلی لے آئے حلانکہ تبدیلی ہمیشہ فرد سے شروع ہوتی ہے اور فرد سے تبدیلی کے اثرات بڑے پیمانے پر ہوتے ہیں

    ایک بندہ اگر تبدیلی کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پورے پاکستان میں تبدیلی لے آئے گا اکیلا ہاں البتہ وہ اپنے حصے کا کام کر جائے گا اگر یہ ہم سب اپنے اوپر فرض کر لیں کہ تبدیلی لانی ہے تو اس کے لیے سب کو اپنا اپنا کام کرنا ہوگا ایمانداری سے جس طرح قطرے قطرے سے سمندر بنتا ہے اسی فرد سے کارواں بنتا ہے ۔۔۔۔۔۔

    قرآن مجید میں واضح بتایا گیا ہے کہ

    اِنَّ اللّٰہَ لایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِأنفُسِہِمْ الرعد، آیت 11

    ترجمہ: بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے

    خود کو بدلے ان شاءاللہ وہی ہوگا جو آپ چاہیں گے بس شروعات اپنے سے کریں ۔۔۔۔۔

    تحریر: مدثر حسن
    @MudasirWrittes

  • نام نہاد لبرل طبقہ اور قربانی . تحریر: مجاید حسین

    نام نہاد لبرل طبقہ اور قربانی . تحریر: مجاید حسین

    جیسے جیسے قربانی کے دن قریب آتے ہیں نام نہاد لبرل اور دین سے بے زار طبقہ قربانی کی روح کو سمجھے بغیر اس کے خلاف کھلم کھلا میدان میں آ جاتے ہیں۔ آپ نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پہ جا کے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان امیر ذادوں اور امیر ذادیوں کو اللہ کی راہ میں سنت ابراہیمی اور سنے رسول اللہ ﷺ کے خلاف اور اسے قائم رکھنے والوں کے خلاف کتنی نفرت بھری ہوئی ہے۔ ان کا اصل مدعا یہ ہے کہ قربانی پہ مسلمان جانور "ذبح” کر کے بہت ظلم کرتے ہیں جو نہیں ہونا چاہیئے بلکہ ان پیسوں سے کسی غریب کی مدد کر دینی چاہیئے۔

    لیکن اگر آپ مزید تحقیق کریں تو معلوم ہوگا کہ یہی لوگ میکڈانلڈ، برگر کنگ، کے ایف سی، سب وے اور پیزا ہٹ جیسے برانڈز کے نا صرف دلدادہ دلدادہ ہوتے ہیں بلکہ وہاں برگرز وغیرہ کھاتے ہوئے اپنی تصاویر شئیر کرنا قابل فخر سمجھتے ہیں۔ کیا نہیں معلوم نہیں کہ میکڈونلڈ میں ہر سال ایک ارب پاؤنڈ گائے کا گوشت پکایا جاتا ہے جس سے ان کے پسندید برگرز بنتے ہیں؟

    برگر کنگ ہر سال پچاس لاکھ پاؤنڈ صرف گوشت اپنے مشہور برگر "ووپر” میں استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح کے ایف سی ہر سال ایک ارب مرغیاں بھون کر لوگوں کو کھلا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف فوڈ چینز ہیں جن کا ذکر اس مضمون کو طویل کر دے گا۔
    سوال یہ ہے کہ کیا ان کے اندر جان نہیں ہوتی؟

    وہ لبرلز جنہیں قربانی پر جانوز ذبح کرنے پہ اعتراض ہے جس کا ایک تہائی گوشت غریبوں کو بانٹا جاتا ہے تاکہ کم از کم سال میں کچھ دن وہ بھی گوشت کھا سکیں، اس بات کا کیا جواب دیں گے کہ برگر، پیزا اور ہاٹ ونگز کھاتے ہوئے ان کا ضمیر کہا سویا ہوتا ہے؟
    ہے کسی لبرل کے پاس اس کا جواب؟؟

    @Being_Faani

  • یورپ کا لنڈا بازار. تحریر : محمد آصف شفیق

    یورپ کا لنڈا بازار. تحریر : محمد آصف شفیق

    بہت سے دوسرے پاکستانیوں کی طرح مجھے بھی یورپ جانے اوردیکھنے کا بہت شوق تھا، میں 2004 میں پاکستان سے بہترمستقبل اور بس چند سال لگا کرواپس پاکستان آنے کیلئے سعودیہ آیا تھا، پہلے چھ ماہ بہت ہی معمولی تنخواہ پرکام کیا اور پھرواپس پاکستان آگیا، چھ ماہ کی چھٹی گزاری اوربالکل آخری دن واپس سعودیہ پہنچا اوراسی پرانی نوکری پرکام شروع کیا اور ساتھ ساتھ اپنے رب سے رزق میں برکت کی دعا بھی کی اور وادی الدواسرنامی چھوٹے سے گاوں سے عمرہ کیلئے مکہ مکرمہ جانے کیلئے رخت سفرباندھا، پہلا عمرہ بس پرکیا ساتھ میں عبدالرحمان سلیم اورکچھ اورساتھی تھے الحمد للہ والدین کی دعاوں اوراللہ رب العالمین کی رحمت سے اگست 2005 میں ریاض میں ملازمت مل گئی جوکہ 2020 دسمبر تک ریا ض میں جارہی رہی.

    2009 میں یورپ جانے کیلئے کوششیں شروع کیں، بہت سے احباب نے اپنی اپنی معلومات کے مطابق ہمیں معلومات دینی شروع کیں، کسی بھائی کا خیال تھا کہ کوئی ایجنٹ پکڑا جائے اورکام کروایا جائے کسی بھائی نے حوصلہ افزائی کی تو کسی بھائی نے کہا کہ اگر آپ جیسوں کا ویزہ لگ گیا تو ہمارا تو اللہ ہی حافظ ہے، خیرمعلومات لیں تو پتا چلا کہ جس ملک جانا ہو وہاں کا رہائیشی بند ہ کسی وکیل سے ایک دعوت نامہ تحریرکروا کر بھیجے جس میں ان کی اورمیری سب معلومات ہوں، میرے بہنوئی اوربہن وہاں رہائش پزیر ہیں تو دعوت نامے والا معاملہ تو حل ہوگیا اورجو چیزیں چاہیں تھیں انکی ایک لمبی لسٹ تھی، میں نے بھی اپنی کمپنی سے گزارش کی کہ مجھے آئریش ایمبیسی کے نام لیٹر دیں اورگارنٹی لیٹربھی دیں کہ بندہ صرف سیر کی نیت سے جارہا ہے اورتین ماہ کی چھٹیاں گزارکرواپس اپنی نوکری پرلوٹ آئے گا، کمپنی والوں نے بھی کمال شفقت سے تعریفی لیٹر کیساتھ کیساتھ گارنٹی لیٹربھی بنا دیا اور لکھ کر دے دیا کہ ان کیساتھ میرا معاہدہ آئندہ پانچ سال تک کار آمد ہے.

    سب دستاوی مکمل کیں تو پتا چلا کہ ٹکٹ پہلے لینی پڑتی ہے پھرسے دوست احباب ہی کام آئے جس جس سے جتنا جتنا مال مل سکا نکلوا لیا گیا اور ٹکٹ خریداری والا معاملہ بھی الحمد للہ مکمل ہوا ترکش ائرلائن کی ٹکٹ خریدی جوکہ ریاض سے استنبول اوراستنبول سے ڈبلن کیلئے تھی اوراسی طرح واپسی ہونی تھی، میں بھی ٹائی وائی لگا کرسارے کاغزات لیکر آئرلینڈ ایمبیسی وقت سے دو گھنٹے پہلے پہنچ گیا، جب جاکرسکیورٹی والوں سے پوچھا تو پتا چلا کہ صبح 9:30 بجے سفارتخانہ کھلے گا اورآپ سے پہلے بھی چھ سات افراد موجود ہیں، طرح طرح کی فکریں لاحق ہوئی کبھی انگریزی میں ہونے والے انٹرویو کی فکر، کبھی ویزہ نہ ملنے کی فکر دامن گیرہوئی ،اللہ اللہ کرکے اپنی باری آئی تو سامنے اپنے ایک پاکستانی بھائی بیٹھے درخواستیں وصول کررہے تھے نا م تھا ملک قدیر صاحب ہنستے مسکراتے تعارف ہوا سب نے پیپر دیکھے اورامید دلائی کہ ان شاء اللہ ویزہ لگ جائے گا، قدیر ملک بھائی پاکستان پنڈ دادنخان کے رہنے والے ہیں، بہت ہی ملنسار نیک سیرت اوراچھا مزاج رکھنے والے بھائی ہیں ان سے 2009 سے بنا تعلق ان کی ریٹائرمنٹ 2020 تک قائم رہا ہرعید خوشی غمی میں ایک دوسرے کا حال احوال لینا اورغیر رسمی ملاقاتیں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ملک صاحب جہاں بھی ہوں اللہ رب العالمین انہیں بہترین صحت سے نوازیں.

    15 دن کےطویل انتظار کے بعد دوبارہ پاسپورٹ لینے آئیریش ایمبیسی آنا ہوا، ملک صاحب نے داخل ہوتے ہی ویزہ مل جانے کی خوش خبری سنائی اس طرح پہلی دفعہ کسی بھی دوسرے ملک کیلئے سفر کیا، ریاض سے ترکی استنول پہنچے استنبول کا ہوائی اڈہ انتہائی مصروف اوربہت بڑی ڈیوٹی فری مارکیٹ ہے جہاں دنیا جہان کی چیزیں خرید سکتے ہیں 4 گھنٹےانتظارکے بعد اگلی فلائٹ پکڑی اوراس طرح ڈبلن ائرپورٹ پہنچے، دورجہاز سے اتاردیا گیا اوراشارے سے کہا کہ وہ سامنے چلے جائیں، امیگریشن مکمل ہوئی بہن بہنوئی لینے آئے ہوئے تھے ڈبلن سے براستہ کارہم لونگ فورڈ پہنچے اور15 دن قیام کیا بہت عزیز رشتہ دارو ہاں مقیم ہیں پورے 15 دن دعوتیں ہوتی رہیں اورمختلف شہر اورمارکیٹیں دیکھنے کا موقع ملا ایسے ہی ایک بوٹ سیل ( جس میں لوگ اپنی استعمال شدہ چیزیں فروخت کرتے ہیں جاناہو ا) اور سیلفی لیکر دوستوں سے شئر کردی جس پر جواب آیا چوہدری صاحب یورپ جا کے وی لنڈا بزار لبھ لیا اے ( کہ یورپ جا کر بھی آپ نے لنڈابازارڈھونڈ لیا ) یہ ہی بات آج یاد آئی توسوچا کچھ اسی پرتحریرکرلیا جائے، کچھ پرانی یادیں تازہ کرلی جائیں، اپنے پڑھنے والوں کیلئے بھی کچھ لکھ دیا جائے باقی کا احوال بھی ان شاء اللہ جلد تحریرکیا جائے گا.

    @mmasief

  • درود پاک کی فضیلت . تحریر : عادل ندیم

    درود پاک کی فضیلت . تحریر : عادل ندیم

    درود پاک صلی علیہ وآلہ وسلم پڑھنے کا حکم خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن پاک میں بڑے پیارے انداز میں دیا گیا ہے۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود اور سلام بھیجو.
    ( الاحزاب56 )

    سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجتے ہیں( ترمذی)

    ذرا سوچئے کیا ھمارا شمار بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب لوگوں میں سے ھو گا.

    کیا ھم اپنے پیارے آقا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھتے ھیں ؟

    حضرت حذیفہؓ کا فرمان ہے کہ درود پاک پڑھنا، درود پاک پڑھنے والے کواور اس کی اولاد کو، اور اولاد کی اولاد کو رنگ دیتا ہے ۔

    کس خوبصورت طریقے سے درود پاک کی فضیلت بیان کی گئی ھے کہ درودِ پاک سے نہ صرف آپ کا نصیب بدل جاے گا بلکہ آپ کی آنے والی نسلوں کا بھی نصیب بدل جاتا ھے ۔
    ھمیں اپنی نمازکا یقین نہیں ھوتا کہ قبول ھوئی یا نہیں؟ ھمیں اپنی کی گئی نیکیوں کا پتہ نہیں ھوتا کہ قبول ھوئیں یا رد کردی گئیں لیکن
    درود پاک وہ واحد عبادت ھے جو کہ لازماً قبول ھوتی ھے.

    تو کیا یہ اللہ پاک کی طرف سے ایک خاص انعام نہیں ھے ؟

    درود پاک پڑھنے سے 10 نیکیوں میں اضافہ ھوتا ھے ، 10 گناہ مٹتے ھیں اور بندے کے 10 درجات بلند ھوتے ھیں.

    حضرت ابو ہریرہ رضی ا للہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ا للہ نے ارشاد فرمایا: "جو بندہ مجھ پر ایک بار درود پڑھے اللہ جل شانہ اس پر 10بار درود بھیجتے ہیں۔” ( صحیح مسلم )

    آئیں اپنے اللہ کا حکم مانیں اور اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کو اپنی عادت بنائیں۔
    درود پاک سے اللہ پاک کو اتنی محبت ھے کہ درودِ پاک کو نماز کا حصہ بنا دیا گیا.

    چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اپنی زبان کو اللہ پاک کے ذکر اور درودِ پاک سے معطر رکھیں ، آپ کی زندگیوں میں وہ تبدیلیاں آنا شروع ھو جائیں گی کہ جن کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ھوگا.

    اللہ پاک ھم سب کو اپنے پیارے آقا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے کی اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کی توفیق عطا فرمائیں.

    آمین ثم آمین

  • عید قرباں اور ہم  تحریر : احسن وقار خان

    عید قرباں اور ہم تحریر : احسن وقار خان

    کبھی سوچا ہے عید قرباں کیا ہے؟
    اس کو عید قرباں کیوں کہتے ہیں ؟
    کیا صرف جانور قربان کرنا ہی عید قرباں کا مقصد ہے ؟
    عید قربان صرف جانور قربان کرنے کا نام نہیں ۔عید قرباں کا مقصد تقویٰ اطاعت و فرمانبرداری اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے ۔

    عید قربان صرف جانور قربان کرنا نہیں بلکہ خدا کی راہ میں استقامت دیکھانا ہے
    اللہ کو نا قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نا ان کا خون ۔ کچھ پہنچتا ہے تو وہ تقوی پہنچتا ہے اور خدا صرف متقی لوگوں کی قربانی قبول کرتا ہے ۔
    سوچنے کی بات ہے کے ہم قربانی تو کرتے ہیں لیکن کیا ہم سمجھتے ہیں کے عید قرباں کیا ہے ؟
    ہم بڑے بڑے جانور قربان تو ضرور کرتے ہیں لیکن کی کبھی کسی نے سوچا ہے کے ہم قربانی کا اصل مقصد پورا کر رہے ہیں یا نہیں ۔
    کہیں ایسا تو نہیں کے ہم کہیں ہم ریاکاری میں ا کر اپنا قربانی کا مقصد کھو تو نہیں دیتے ۔
    کہیں اتنا پیسہ خرچ کر کے بھی ریاکاری ہی وجہ سے ہماری نیکی کا اثر زایل تو نہیں ہو رہا ۔

    قربانی صرف جانور کی قربانی نہیں یہ ہر اس چیز کی قربانی ہے جو آپ کو خدا سے دور کر رہی ہے ۔قربانی سے مراد ہماری آنا کی قربانی ہے ۔
    ہمارے اندر چھپی نفرتوں کی قربانی ہے ۔
    ہماری نفسیاتی خواہشات کی قربانی ہے ۔
    اس عید قرباں کچھ کر سکتے ہیں تو اپنی آنا
    اپنے دلوں میں پوشیدہ نفرتیں اور اپنی نفسیاتی خواہشات قربان کر کے دیکھیں سکون ملے گا ۔
    کوشش کریں کے سب کام خدا کی رضا کے لیے کریں ۔
    ریاکاری ، نفرتیں اپنی میں کو ختم کریں

    آئیے قربان کریں اپنی ذات کے ایک بت کو اِس سال صرف اس رب کے لیے جس نے قربان کرنے کا حکم دیا کیوں کہ ہماری اپنی ذات کا خول ہی ہمارے لیے سب سے عزیز ترین ہوتا ہے اور اسی خول کو توڑنا ہی دَر حقیقت ایک عبادت ہے ۔
    معاف کریں ، اپنے دلوں کو صاف کریں ، اپنے اور اپنوں کے لیے زندگیوں میں گنجائش پیدا کریں ، خوش رہیں اور خوش رکھیں۔

    Twitter account
    KhanKh23151672