Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "لبرل ازم اور اسلام”   تحریر :فیضان قمر

    "لبرل ازم اور اسلام” تحریر :فیضان قمر

    "لبرل ازم” کو جہاں تک میں نے سنا، پڑھا اور جانا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ لبرل ازم یہودیت سے پیدا شدہ فضلات میں سے ایک ہے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسلام کا یہودیت سے ایسا سخت ترین معرکہ ہے جو صبح قیامت ہی کو ختم ہو سکتا ہے اس سے پہلے اس کا تصور ممکن نہیں ہے. مطلب اسلام کے کسی نام لیوا کے لئے "لبرل ازم” کے تصور کا بھی حق نہیں ہے چہ جائے کہ وہ اس کا حامی ہو. اور اجازت ہو بھی کیسے؟ کیونکہ یہ "لبرل ازم” زبردستی کی "حریت” اور آزادی کا قائل ہے، جبکہ اسلام ایک ایسا مکمل نظام حیات ہے جس نے انسانیت کی زندگی کے ہر شعبے، ہر موڑ اور ہر مصیبت میں دستگیری کی ہے. زندگی کا ایک حصہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں مذہب اسلام اپنے ماننے والوں سے کنارہ کشی اختیار کرتا نظر آیا ہو. اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام ایک پاکیزہ، صاف و شفاف نظام حیات ہے جس میں کسی طرح کی عریانیت، عیاری، مکاری، زنا کاری، سود خوری اور دیگر صفات رذیلہ کا کوئی مقام نہیں ہے. جبکہ "لبرل ازم” لوگوں کو ایسی "حریت” کا حامی بناتا ہے جس میں عریانیت اور لادینیت کو بنیادی مقام حاصل ہے.
    اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اسلام نے قرآن کریم کے ذریعے واضح الفاظ میں خواتین کو حجاب (پردے) کا پابند بنایا ہے. جبکہ "لبرل ازم” کے بنیادی ارکان میں سے” حریت” کا مقصد یہ ہے کہ” ہر انسان کو اپنی زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہے اور اس زندگی کے طریقہ کار اور نہج کا بھی خود مختار ہے کسی کے قواعد و قوانین اس کے لئے ذرہ بے مقدار کی حیثیت رکھتے ہیں. چاہے وہ کسی سے اپنے تعلقات استوار کرے یا کسی سے بالکل بھی تعلق نا رکھے وغیرہ وغیرہ. بس اپنے اندر ودیعت کی ہوئی صفات و کمالات کو قوم کے سامنے اجاگر کرنا یہ مقصد اصلی ہے جس سے سرمایہ داری میں روز بروز اضافہ ہو اور زندگی گزارنے کے لئے تمام تر وسائل و اسباب مہیا ہوں”.
    یعنی لبرل ازم کے اندر حریت کے ذریعے مکمل آزادی کا مطالبہ ہے. جبکہ اسلام نے بھی ہر انسان کو آزاد رہنے کا مکلف بنایا ہے مگر اس آزادی کو چند امور پر مشروط کیا گیا ہے جن کی بجا آوری ضروری ہے، اور یہ شرائط بھی قیود کے طور پر نہیں ہیں بلکہ ان کے ذریعے بھی انسانیت کی دستگیری ہی مقصود ہے. مثلاً خواتین کو مکمل آزادی ہے مگر اس کے لئے پردے کا اہتمام کرنا ضروری ہے. تو اب لبرلز یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ اسلام کے اندر عورتوں کو قید کر کے رکھا جاتا ہے تا آں کہ اسے اپنا چہرہ بھی دکھانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ مرد کو اس طرح کی کسی پابندی کا مکلف نہیں بنایا گیا. تو ان لوگوں کے لئے جواب یہ ہے کہ کہ آپ لوگوں نے اسلام کو بدنام کرنے کے لئے صرف ایک ہی جہت پر محنت کی ہے جبکہ اس کی ایک جہت اور بھی ہے کہ اسلام نے عورتوں کو پردے کا پابند بنایا ہے اس کے ساتھ ساتھ مردوں کو "غض بصر” (نگاہیں نیچی رکھنے) کا حکم بھی دیا ہے.
    اسلام کے اس نظام سے مساوات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح اسلام نے اس حکم کے ذریعے عریانیت اور ننگے پن کا سد باب کیا ہے جس کی وجہ سے ہر ایک شخص دوسرے کا مکمل احترام کرتا ہے. اس کے بر عکس مغربی تہذیب کا جائزہ لیا جائے تو ان کے یہاں کسی بھی طرح کی ترقی کا عریانیت کے بغیر تصور محال ہے. آپ کسی بھی شعبے (ڈپارٹمنٹ) کی جانب نظر کریں تو معلوم ہوگا کہ وہاں عریانیت کا بازار گرم ہے حتیٰ کہ امور خانہ داری میں بھی اس عریانیت کو فیشن کا نام دیکر اچھی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے زنا کاری عام سے عام تر ہوتی جا رہی ہے.
    خلاصہ یہ ہے کہ جس پردے کو اسلام نے مصلحت کے طور پر رکھا ہے اس کے فوائد کثرت سے معاشرے میں نمایاں نظر آتے ہیں. اور لبرلز کے یہاں سب سے اہم چیز "سرمایہ کاری” ہے چاہے اس کے لئے عریانیت کے لباس کو زیب تن کرنا پڑے. اور اس کے سب سے زیادہ تباہ کن اثرات خاندان پر مرتب ہوتے ہیں جہاں ماں باپ اولاد کی تربیت سے زیادہ سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ خود غرضی، لالچ، حرص اور حسد کا سیلاب پورے معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے. عورتیں گھروں سے نکل کر بازاروں کی زینت بن جاتی ہیں اور عصمت و عفت کی چادریں چاک ہوجاتی ہیں. زنا اتنا عام ہو جاتا ہے کہ نکاح ایک نا معقول فعل نظر آتا ہے جیسا کہ ابھی چند دن قبل ایک نام نہاد بین الاقوامی شہرت یافتہ مسلم لبرل خاتون نے یہ زہر نکالا تھا کہ "معاشرے میں نکاح کی ضرورت ہی کیا ہے جب سارا نظام ایسے ہی چل رہا ہے”. حرامی بچوں کی تعداد کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے جیسا کہ امریکہ، سویڈن اور فرانس میں ہو چکا ہے. جہاں حالیہ سرویز کے مطابق زنا سے پیدا شدہ بچوں کی تعداد جائز اولاد سے کہیں زیادہ ہے. اور اس وقت یہ رجحانات مغرب تک ہی محدود نہیں ہیں. دو ہزار گیارہ کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں غیر ثابت النسب بچوں کی تعداد دو ہزار ایک کے مقابلے میں 367 فی صد زیادہ ہے.اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مغربی تہذیب کتنی غلیظ ترین تہذیب ہے.ایک طرف اسلام ہے کہ اس نے مرد و عورت دونوں کو پردے کا مکلف بنایا ہے اور دوسری طرف یہ نام نہاد صاف و شفاف تہذیب جس میں زنا کاری کو جائز ہی نہیں قرار دیا مزید برآں اس کے لئے مظاہرے کئے جاتے ہیں اور باقاعدہ یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ "ہر انسان خود مختار ہے، جس کے ساتھ چاہے جسمانی تعلقات استوار کر سکتا ہے”.
    خلاصہ یہ ہے کہ کسی مسلمان کو "لبرل ازم” کے تصور کا بھی حق نہیں ہے چہ جائے کہ وہ اس کا حامی ہو. یہ مغربی قوم روئے زمین کی غلیظ ترین قوم ہے کوئی اسلام کا نام لیوا اس سے متاثر نہ ہو بلکہ صحیح اسلامی عقائد اور اسلامی تعلیمات سے آراستہ و پیراستہ ہو تاکہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں اسلام سے دامن نا چھڑائے بلکہ ان تمام غلیظ تہذیبوں سے اپنے آپ کو بچا لے.

    @The_salaar_786

  • معاشرے میں صفائی کی اہمیت تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    معاشرے میں صفائی کی اہمیت تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    صفائی اور حفظان صحت کی اہمیت کو کسی بھی معاشرے سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہر عقیدہ اور تہذیب صفائی کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے ، کسی تہذیب یا معاشرے کی ترقی کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے صفائی کو ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔ اسلام جسمانی اور روحانی طور پر ، صفائی اور پاکیزگی پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔ اسلام میں ، روحانی پاکیزگی جسمانی صفائی اور پاکیزگی سے منسلک ہے۔

    مزید اہم بات یہ ہے کہ صفائی ستھرائی کو ایک ناگزیر کہا جاتا ہے تاہم ، ہمارے عقیدے کا یہ بنیادی اور طاقتور اصول ، بدقسمتی سے ، ہمارے معاشرے میں عملی طور پر اس کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔ اسلام کے اس قیمتی اصول کو ہماری زندگی کا حصہ بنانے کے لئے ہمارے فرد کے ساتھ ساتھ اجتماعی طریقوں پر بھی سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔

    اسلام نے صفائی کی اہمیت پر اسے ایمان کا حصہ بنایا ہے لہذا ، لوگوں کو صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لئے شعوری کوششیں کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ، متعدد سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے عقیدے کی اس قیمتی قیمت کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں

    قرآن پاک میں ایسی بہت سی آیات ہیں جو صفائی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔

    ارشاد ربانیﷻ ہے: اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ.

    "بے شک اﷲ بہت توبہ کرنیوالوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے”(البقرة،2: 222)

    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا حَتّٰی يَطْهُرْنَ ج فَاِذَا تَطَهَّرْنَ

    جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں اور جب وہ خوب پاک ہوجائیں (البقرة، 2: 222)

    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: وَ ثِيَابَکَ فَطَهِّرْ

    اور اپنے (ظاہر و باطن کے) لباس (پہلے کی طرح ہمیشہ) پاک رکھیں (المدثر: 4)

    نگاہ نبوتﷺ میں صفاٸی کے وسیع المعنی لفظ ہے۔
    اس لئے رسول ﷺ نے طہارت کو نصف ایمان قرار دیا ہے

    فرمان رسول ﷺ ہے کہ الطهور شطر الايمان.

    "صفائی نصف ایمان ہے” صحيح مسلم
    قرآن مجید و حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے جسم و ماحول کی صفائی کے بغیر ، کوئی شخص روحانی طور پر اللہ کی قربت حاصل نہیں کرسکتا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ صفائی اور پاکیزگی کی عدم موجودگی میں ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔

    قارئين اکرام! ہمارے معاشرے میں صفائی کے بارے میں بیان بازی سے بہت کچھ کہا جاتا ہے لیکن عملی طور پر اس کا اطلاق غائب ہے۔ ایک تیز مشاہدے سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ صفائی اور حفظان صحت کے حوالے سے ہم نے کتنی بے حس ثقافت تیار کی ہے۔

    توجہ فرماٸیں!!

    ہمارے معاشرے میں گلیوں ، سڑکوں یا پارکوں میں کچرا پھینکنا ایک عام سی بات بن چکی ہے

    اگر دیکھا جاٸے عوامی مقامات پر ڈسٹ بِن شاذ و نادر ہی پائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ڈسٹ بنس انسٹال ہوجائے تو ، لوگ ان کا صحیح استعمال نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ ، وہ باہر کوڑا کرکٹ پھینکنا پسند کرتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنے گھروں اور دکانوں کو صاف کرتے ہیں اور کچرے کو اس کے مضمرات پر غور کیے بغیر سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ایلیٹ اسکولوں کے طلباء بھی کوڑے دانوں کی موجودگی میں ہی کچرا زمین پر پھینک دیتے ہیں۔ اس سے صفائی اور حفظان صحت کے بارے میں ہمارا رویہ ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح راہ چلتے ہوٸے لوگ دیواروں پہ پان تھوک دیتے ہیں ، جو نہایت ہی معیوب عمل ہے

    ایک اور شعبہ جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے عوامی بیت الخلاء کی خوفناک حالت۔ عوامی بیت الخلاء کی کمی ایک بہت بڑا چیلنج ہے ، لہذا لوگ فطرت کی آواز کا جواب دینے کے لئے کھلی جگہیں استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ جو بیت الخلاء موجود ہیں وہ انتہائی قابل رحم حالت میں ہیں کہ کوئی ان کو استعمال نہیں کرسکتا۔

    اس کے علاوہ بھی بہت سی مثالیں ہیں جو ہمارے معاشرے میں صفائی اور حفظان صحت کی قابل رحم حالت کی نشاندہی کرنے کے لئے پیش کی جاسکتی ہیں۔ لہذا ، اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے شعوری کوششوں کی ضرورت ہے۔

    ہمارے عقیدے کی روشنی میں لوگوں کو صفائی کی اہمیت کے بارے میں آگاہی اور حساس کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں معاشرتی ادارے جیسے تعلیمی ادارے ، میڈیا اور مذہبی ادارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں

    پاکستان ، نظام تعلیم کو اپنے طریقوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ صفائی اور حفظان صحت سے متعلق درس و تدریسی مواد کو نصاب اور درسی کتب میں شامل کیا جانا چاہئے۔ میڈیا عوام کو صفائی کی اہمیت اور غیر صحت پسندانہ زندگی کے نقصانات کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے اور اس کا احساس دلانے کا ایک طاقتور ذریعہ بن سکتا ہےمساجد اور مدرسے جیسے مذہبی ادارے بھی لوگوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ معاشرے میں صفائی اور حفظان صحت کو برقرار رکھنے میں حکومت کے کردار اور عزم کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    صفائی کی اہمیت کو فرد کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی میں بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک طرف تو یہ انسانی صحت اور روحانی ترقی کے لئے ایک اہم عنصر ہے۔ دوسری طرف یہ ماحولیاتی ترقی کے لئے ضروری ہے۔

    صاف ستھرا اور حفظان صحت سے متعلق طرز زندگی اپنانے سے ، جہاں صحت کے امور کا تعلق ہے وہاں ایک قیمتی رقم بھی بچائی جاسکتی ہے۔ ایک صاف ستھری اور صحتمند زندگی معاشرے کی ثقافت کو بہتر بنانے میں معاون ہے اور زندگی کے ہر پہلو جیسا کہ آرٹ ، فن تعمیر ، کھانا ، موسیقی وغیرہ کی عکاسی کرتی ہے۔ آخر کار ، یہ تہذیب کی ایک اعلی سطح کی طرف جاتا ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہےکہ سماجی و فلاحی تنظیمیں مسلمانوں میں صفائی ونفاست اور خوش سلیقگی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کریں اور قرآن اور حدیثﷺ کے نہج پر ایک مثالی مسلم معاشرے کی تشکیل کو ممکن بنائیں

    اللہ ﷻآپکا حامی و ناصر ہو آمین!

    ‎@HamxaSiddiqi

  • کشمیر     تحریر : محمد حنظلہ شاہد

    کشمیر تحریر : محمد حنظلہ شاہد

    لفظ کشمیر سنتے ہی زہن میں غلامی کا تصّور نمایاں ہو جاتا ہے۔وادی کشمیر جو کے بہت عرصے سے غلامی کی زنجیر میں بندھی پڑی ہے۔اگر خوبصورتی کی بات کی جائے تو کہتے ہیں اگر زمین پر کوئی جنت ہے تو وہ ہے”کشمیر”مگر اس زمین کی جنت میں لوگوں کے ساتھ جہنم بھی زیادہ بدتر سلوک کیا جاتا ہے ۔کشمیر ایک متنا زعہ علاقہ ہے اس کا ایک حصہ پاکستان اور دوسرا حصہ بھارت کے قبضہ میں ہے اور باقی کچھ حصہ پاکستان نے ایک معاہدے کے تحت چینیوں کو حفاظت کے لیے دیا گیا ہے اور تھوڑا سا علاقہ گلگت بلتستان کے نام سے جانا جاتا ہے ۔تقاضا اور وقت کے فیصلے بهی کتنے انمول ہوتے ہیں نا!
    روایات اور تقاضہ اف!
    یُوں بھی کہہ سکتے ہیں کے کشمیریوں نے اپنی پوری زندگی ہی غلامی کی نظر کی ہے۔
    کبھی کبھی سکھوں کی غلامی، کبھی پٹھانوں کی غلامی،کبھی مہاجروں کی غلامی، بہرحال اس غلامی کے رواں دواں میں انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انسان مشکلات کا سامنا کر لیتا ہے مگر عزتوں کی پامالی جب کی جائے تو اس کا کفارا کوئی عمر بھر بھی نہیں پورا کر سکتا ۔خیر غلامی سے نکلنے کے لیے آزادی ضروری ہے اور آزادی کے لیے خود لڑنا پڑتا ہے،خود اٹھنا پڑتا ہے اور خود سے خود کو فتح کرنا پڑتا ہے۔
    "آزاد پنچھیو سے کوئی تو پوچھے
    آسمان پر اڑنے کا مزا کیسا ہے
    فقط اتنا ہی کہیں گے
    ایک آزاد اڑان عمر بھر کے سکون کے لیے کافی ہے۔”

  • درخت – زندگی کی ضرروت تحریر : مصعب طارق

    درخت – زندگی کی ضرروت تحریر : مصعب طارق

    گرمی کے موسم کا آغاز ہوچکا ہے، اور ہم تیز دھوپ کے نیچے کچھ دیر قیام نہیں کرسکتے ہیں۔ درجہ حرارت برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ لیکن آپ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا! آسانی سے سانس لیں اور اے سی کے درجہ حرارت کو 26 میں ایڈجسٹ کریں۔ دیہی علاقوں میں درجہ حرارت شہروں کے مقابلہ میں کم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہروں میں موجودہ ٹریفک کا بہاؤ دیہی علاقوں سے مختلف ہے۔ ہمارے ملک میں ٹریفک کے شور اور ٹریفک کے دھواں کسی گنتی میں شمار نہیں کیے جاتے ہیں، اور وہ ہر سال ہزاروں جانوں کے جانے کا باعث بن رہے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے نئے رہائشی منصوبوں کے لئے زرعی اراضی پر رہائشی علاقوں کی تعمیر کے کاروبار میں اسے تبدیل کردیا ہے۔ ہمارے ملک میں کوئی قانون یا ضابطہ اخلاق موجود نہیں ہے۔اگر سبز اراضی کو رہائشی علاقے میں تبدیل کردیا جاتا ہے تو اس علاقے میں جیتا سبزہ کاٹا گیا ہے اس کے برابر اتنا ہی سبزہ کسی دوسرے علاقے میں لگایا جاۓ۔
    آپ دوسروں کی بات کیوں کہنا چاہتے ہیں، پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ لیکن اس کی زراعت صرف کاغذی کام تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ اس پر یقین نہیں رکھتے ہیں تو، جب آپ اپنے شہر سے کسی دوسرے شہر کا سفر کرتے ہو تو راستے میں سڑک کے کنارے ایک پھل دار درخت یا کوئ سایہ دار درخت نظر آ جاۓ یہ نامکمن ہے۔ ہمارے رہائشی علاقے میں درخت غائب ہوگئے ہیں۔ اور جو موجود بھی ہیں وہ صرف سجاوٹ کے لیے جس کا نہ کوئ سایہ نا کوئ پھل۔ اس صورت میں، کون اب خالی جگہوں پر سبز رنگ کی نمائش کی توقع کرسکتا ہے؟ پاکستان میں درجہ حرارت کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ملک میں جنگلات کی کمی، درخت نہ لگانے کے رجحان اور ذاتی غیر ذمہ داری ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہم شدید گرمی کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔آئندہ آنے سالوں میں، شدید گرمی سے ہماری نسلیں تشدد کا نشانہ بنیں گی۔ کوئی اسے روک نہیں سکتا۔آپ زیادہ سے زیادہ ٹاک شوز میں بیٹھ کر باتیں کر سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم، آپ اور پورے ملک، ہم سب ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ہمیں اپنی بے حسی کے عروج پر فخر ہے۔ کوئی بھی ہمیں پیاس سے مرتے رہنے سے نہیں روک سکتا۔ بھارت نے ہمارے پانیوں میں ڈیم بنا کر ہمارے ملک کو صحرا کی راہ پر گامزن کردیا ہے۔
    آج، ہمیں یہ سمجھنے کے لئے سخت محنت کرنی ہوگی کہ درخت ہمارے اور ماحول کے لئے بہت اہم ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ وزارت زراعت، جنگلات و آبپاشی کی وزارت مشترکہ منصوبہ تجویز کرے گی جسے حکومت اس مسئلے کے حل کے لئے نافذ کرسکتی ہے۔ یہ توقع نہیں کی جانی چاہئے کہ کوئی بھی حکمران اس مسئلے کے ہل کا سوچھ سکتا ہے، اور صوبائی سطح پر سڑکوں کے کنارے درخت اور پودے لگانے کی کوشش کرے۔ کیونکہ وہ صرف اپنے کمرے کے درجہ حرارت کو کم رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    لہذا،اب لوگوں کو اپنی مدد آپ اپنے گھر کے چاروں طرف درخت لگانے کی ضرورت ہے۔ سڑک کے کنارے بسنے والے ہی اس ملک کو جل کر مرنے سے بچانے کے لئے سڑک کے کنارے درخت اور گھاس لگاسکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زندگی کو بچانے کے لیے سب سے بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔
    @mussab_tariq

  • ڈپریشن کا آپریشن تحریر:حُسنِ قدرت

    ڈپریشن کا آپریشن تحریر:حُسنِ قدرت

    جو لوگ مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ میں ایک پر باش اور زندگی سے بھرپور لڑکی ہوں مجھ سے کل سہیلی نے یہ سوال کیا کہ کیا آپ اُداس ہوتی ہیں ،مجھےیہ سوال عجیب سا لگا میں نے کہا کہ میں بھی اداس ہوتی ہوں کیونکہ میں بھی انسان ہوں
    پھر اس نے پوچھا کہ آپ کیا کرتی ہیں اپنی پریشانی ختم کرنے کےلیے
    میں نے بتایا کہ میں اس ڈپریشن کا آپریشن کرتی ہوں
    اسکے لیے چند اسٹیپس ہیں جن پہ عمل کرکے آپ سب بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں
    1۔پریشانی کی وجہ دیکھتی ہوں کہ اسکی وجہ کیا ہے
    2۔جب وجہ جان لیتی ہوں اگر تو ہے وہ خدشہ یا بدگمانی تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتی ہوں اور توبہ کرتی ہوں تاکہ اللّٰہ تعالیٰ آئندہ مجھے اس سے محفوظ رکھے
    3۔اگر واقعی وہ کوئی سیریس مسئلہ ہے تو اسکی وجہ ڈھونڈتی ہوں اور اسکے بعد حل کی طرف توجہ دیتی ہوں ،وجہ ختم مسئلہ حل عمومآ ایسا ہوتا ہے لیکن کچھ مسائل کو ہمیں گہرائی میں جاکر دیکھ کے صبر سے حل کرنا پڑتا ہے
    4۔اگر وہ کوئی ایسا مسئلہ ہے جو میں حل نہیں کر سکتی تو 2 نفل قضائے حاجات کے پڑھ کر اُسے اللّٰہ کے حوالے کر دیتی ہوں

    میں ان پوائنٹس پہ عمل کر کے اپنی ڈپریشن کا آپریشن کرتی ہوں
    کیا آپ لوگ بھی ان پوائنٹس کو اپنا کر اپنی ڈپریشن کا آپریشن کرکے اسے جڑ سے ختم کرنے کے لیے تیار ہیں؟

    Twitter: @HusnHere

  • ایک دن آزاد کشمیر میں.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    ایک دن آزاد کشمیر میں.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    بیٹھے بیٹھے فیصلہ ہوا آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے دیکھ کر آئیں کیا چل رہا ہے, چند دوستوں کے ساتھ اسلام آباد سے ہم روانہ ہوئے, ہماری پہلی منزل میر پور تھی. میر پور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا بھی جلسہ تھا. میر پور چیک پوسٹ کراس کی تو الگ ہی منظر تھا ہر طرف سیاسی پارٹیوں کے پرچم, بینرز آویزاں تھے. یہاں ایک نئی جماعت کا پرچم بھی آویزاں تھا,یہ کشمیر کے الیکشن میں پہلی مرتبہ حصہ لینے والی جماعت جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا پرچم تھا. ہم نے اپنے اس سفر میں اس جماعت کے امیدواروں سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی. ہماری پہلی منزل میرپور حلقہ ایل اے 3 تھی جہاں جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے امیدوار چوہدری شبیر چیچی سے ملاقات کرنا تھی. چوہدری شبیر چیچی کے پاس پہنچے ان سے ہم نے الیکشن کے حوالے سے گفتگو کی وہ پرعزم نظر آرہے تھے. چوہدری شبیر چیچی بتانے لگے پہلے وہ مسلم کانفرنس کے ساتھ تھے لیکن اس بار انہوں نے جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا منشور دیکھا تو انہوں نے سوچا کہ وہ اس جماعت کے ساتھ مل کر انتخابات میں حصہ لیں جو ختم نبوت ﷺ اور کشمیر کی آزادی کے لیے صف اول میں نظر آتے ہیں. چوہدری شبیر چیچی کہنے لگےان کا مقابلہ تحریک انصاف اور ن لیگ سے ہے, وہ پاکستان کے کچھ سیاستدانوں سے بہت نالاں تھے کہ یہ لوگ باہر سے آکر ہمیں دو ٹکے کا کہتے ہیں ,کہنے لگے میں تو اپنے حلقہ کی عوام سے کہتا ہوں ہم کشمیر کے مقامی لوگ ہیں, کشمیر کی مقامی جماعت ہیں آپ ہمارا ساتھ دیں.اس موقع پر ان سے میرپور کے حوالے سے دیگر مسائل پر بھی بات چیت ہوئی .

    اسی دوران ہمیں جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے حلقہ ایل اے 4 کھڑی شریف کے امیدوار چوہدری خالد حسین آرائیں کی طرف چلنا تھا, موومنٹ کے میڈیا کوآرڈینیٹر انیس الرحمان باغی بھی ہمارے ساتھ تھے. میرپور شہر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر منگلا کے علاقے میں ہم داخل ہوئے تو بڑے بڑے بینرز اور اشتہارات چوہدری خالد حسین کے آویزاں تھے .چوہدری خالد حسین ہمارے انتظارمیں تھے لیکن ہم تاخیر سے ان کی طرف پہنچے وہ نکل چکے تھے اور اب ہم ان کے انتظار میں وہاں موجود تھے. کچھ دیر بعد چوہدری خالد حسین کندھے پر سفید رومال رکھے داخل ہوئے اور ہماری آمد پر شکریہ ادا کیا. چوہدری خالد حسین کو ہم نے نہایت پرجوش پایا وہ بھی اپنے علاقے اور کھڑی شریف کی عوام سے بہت سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے. ہمیں یہ بھی کچھ ذرائع سے معلوم ہوا کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے امیدوار کی طرف سے انہیں دستبردار ہونے کی پیشکش بھی کی گئی جو انہوں نے ٹھکرا دی. چوہدری خالد حسین کہنے لگے کہ اب وہ وقت نہیں رہا ٹوٹی نلکے کی سیاست کی جائے, اب ہم خدمت انسانیت کی سیاست کرنا چاہتے ہیں, عوام کے اور بھی بہت سے مطالبات ہیں میں اگر کامیاب نہ بھی ہوسکا تو میرے دروازے کھڑی شریف کی عوام کے لیے کھلے ہیں. میرپور میں سیاسی حوالے سے ہم نے صورتحال کا جائزہ لیا تو زیادہ تر لوگ پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کررہے ہیں. ن لیگ کے انتخابی جلسہ کے حوالے سے ہمیں مقامی لوگوں نے بتایا کہ کوٹلہ ارب علی خان سے ایم این اے عابدرضا کوٹلہ نے پانچ سو افراد کو اپنے ساتھ لا کر مریم نواز کا جلسہ کامیاب کروایا لیکن عوامی سطح پر ان کی پوزیشن اتنی مظبوط نہیں .قائد اعظم سٹیڈیم میں بھی پنڈال سج چکا تھا جہاں وزیر اعظم عمران خان نے بھی خطاب کرنا تھا .ہم میرپور سے نکلے اور اگلی منزل ہماری کوٹلی تھی. کوٹلی ہم دھنواں سے تتہ پانی کے علاقے میں پہنچے یہاں مسلم کانفرنس دیگر جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تھی اور یہاں تحریک لبیک کے بینرز اور پرچم بھی ہمیں دیکھنے کو ملے, یہاں ہم جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے امیدوار سانول آکاش کے بارے نجی چینل پر ایک رپورٹ دیکھ چکے تھے, انہوں نے تتہ پانی شہر میں اپنی انتخابی ریلی سے خطاب کرنا تھا, سانول آکاش ایڈووکیٹ کے بارے بتایا گیا وہ دھنواں کے علاقے میں کچے مکان میں رہتے ہیں, موٹر سائیکل پر کمپین کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کا کوئی بنک بیلنس نہیں,

    JK یونائیٹڈ موومنٹ کے نامزد امیدوارسانول آکاش امیدوار راج محل کے ساتھ
    سانول آکاش ایڈووکیٹ بتانے لگے انہوں اسی تتہ پانی سے طلبہ سیاست کا آغاز کیا اور آج اسی تتہ پانی میں وہ اپنا انتخابی جلسہ کرکے فخر محسوس کررہے ہیں. تتہ پانی کے بارے سن رکھا تھا کہ یہاں ایک چشمہ ہے وہاں پانی شدید گرم ہوتا ہے اس کا مشاہدہ کرنے کے لیے ہم قریب ہی چشمے پر پہنچے .چشمے کا پانی واقعی نہایت گرم تھا. یہاں سے ہم واپسی کی رات لی اور رات کے ایک بجے ہم واپس اسلام آباد اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے .

  • اگر ہم امت محمدیہ نہ ہوتے تو کب کے تباہ ہوچکے ہوتے   تحریر: میمونہ سحر

    اگر ہم امت محمدیہ نہ ہوتے تو کب کے تباہ ہوچکے ہوتے تحریر: میمونہ سحر

    پچھلی قوموں کے واقعات پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کسی قوم پر عذاب برے فعل کی وجہ سے آیا ، کسی پر ناپ تول میں کمی کی وجہ سے ، کسی پر رب کے احکامات کی نافرمانی کی وجہ سے ۔ کسی ایک برے کام کی وجہ سے پوری کی پوری قوم تباہ و برباد ہوجاتی تھی

    آج ہماری امت ، امت مسلمہ کس برائی میں ملوث نہیں ؟
    "قوم لوط کا عمل ہم میں موجود ہے”
    "قوم شعیب کی ناپ تول میں کمی والی عادت ہم میں موجود ہے”
    "قوم نوح کی اللہ کے احکامات کو نہ ماننے والی عادت ہم میں موجود ہے”
    "قوم موسیٰ کی ناشکری والی عادت ہم میں پائی جاتی ہے ”
    "قوم عیسی علیہ السلام والی بنا تحقیق کے دوسروں پر الزامات لگانے والی عادت ہم میں موجود ہے”

    کوئی ایسی برائی نہیں جو ہم نہ پائی جاتی ہو ۔ لیکن اس کے باوجود ہم ابھی تک تباہ کیوں نہیں ہوئے ؟ کیوں یک لخت اللہ تعالیٰ کا عذاب ہم پہ نازل نہیں ہوا

    اس کی وجہ صرف اور صرف میرے پیارے نبی ﷺ کی دعائے مبارکہ ہے جو انہوں نے اپنی امت کیلئے کی

    کہ یارب! میری امت کو ایک ہی دفع عذاب سے تباہ نہ کرنا
    صرف اپنے نبی محمد ﷺ کی دعائے مبارکہ کی وجہ سے ہم بچے ہوئے ہیں ۔ ورنہ جیسے ہمارے اعمال ہیں ہم پر تو خدا کا غضب نازل ہوتا

    تو جس نبی کو اتنی فکر تھی ہماری آج ہم انکی سنت پر چلنے سے گریزاں کیوں ہیں ؟
    اللہ ہم سب کو حقیقی معنوں میں امت محمدیہ کا پیروکار بنائے تاکہ قیامت کے دن ہم اپنے نبی کے سامنے شرمندہ نہ ہوں
    آمین

  • پاکستان اور سایبر جنگ  کی تیاری  تحریر: شہزاد احمد

    پاکستان اور سایبر جنگ کی تیاری تحریر: شہزاد احمد

    ہم اپنے بڑوں سے سنتے تھے کہ مستقبل میں جنگ بغیر بندوقوں کی ہوگی ہم اس بات کو سن کر ہم حیران ہوا کرتے تھے کہ بندوق کے بغیر بھی کوئی جنگ ہوتی ہے بھلا- جیسے ہی ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے اور دنیا ایڈوانس اور ہورہی ہے ایسے ہی بڑوں کی باتیں سچ ہونے لگ گئی ہے-
    ان بغیر بندوق کے جنگ میں سے ایک جنگ کا نام ہے سائبر کرائم دنیا کے ممالک میلوں دور فاصلے پر اپنے ہی سرزمین اپنے ہی گھر سے ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑ سکیں گے- اس جنگ میں نہ کسی بندوق کی ضرورت ہوگی نہ کسی جنگی جہاز کی ضرورت ہو گی اور نہ کسی ٹینک کا ضرورت ہوگا۔ بلکہ انٹرنیٹ کے ذریعے دوسرے کی سسٹم تباہ کر رہے ہوں گے- دنیا میں 2019 سے کرونا وائرس پھیلنے لگا ہے اور تب سے ہی اس جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہےـ
    دنیا کا تقریبا سارا نظام ہی انٹرنیٹ پر منحصر ہو چکا ہے- خواہ وہ کسی ملک کا الیکشن ہو تعلیمی نظام ہو معیشت ہو اکانومی ہو بزنس ہو تقریبا سب آن لائن ہو چکے ہیں-
    پاکستان میں بھی کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والے لگ ڈاؤن کے دوران ہزاروں سائبر اٹیکس ہوئے ہیں جن میں سے کچھ بزنس کے زوم سیشنز، پر تعلیم کے زوم سیشنز پر، گورنمنٹ ویب سائٹس، پر پرائیویٹ اداروں پر ہوئے ہیں-
    ان میں سے ایک یہ تھا جب پاکستان میں آن لائن تعلیم کا کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں تھا اور سٹوڈنٹس آن لائن امتحان لینے کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ کچھ انٹرنیٹ کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے تھے اسی اثنا میں (ایچ ای سی) ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کا ویب سائٹ ہیک ہو گیا-
    ہمارا پڑوسی ملک بھارت آئی ٹی کے دوڑ میں ہم سے بہت آگے ہیں اور ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ خدانخواستہ وہ کبھی بھی ہمارے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں-
    خصوصا ہمارے خطے میں موجودہ صورتحال کی وجہ سے پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہے-
    کوئی ہمارا ساتھ چاہے گا تو کوئی ہمارا خلاف ہوگا، کسی کو ہماری ضرورت ہوگی، جبکہ کسی کو ہم چاہیں گے-
    جس طرح جنگ کے دوران پاکستان عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی رہتی ہے کوئی امداد بھیج رہا ہوتا ہے تو کوئی اسلحہ لے کر باہر کی طرف جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستانی عوام میں سائبر سیکیورٹی اور سائبر کرائم کے عوامل کا شعور ہونا چاہیے تاکہ مشکل وقت میں اپنی اور اپنے ملک کی دفاع کرسکیں۔
    پاکستان اندرونی اور بیرونی سائبر سیکیورٹی کے مسائل سے دوچار ہیں-
    پاکستانی حکومت کو غصہ، مذمت، جیل اور پھر رہائی جیسے فلسفوں سے نکل کر عملی اقدامات کرنے چاہیے۔
    موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق پاکستان سائبر کرائم کے قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے اس کو مزید سخت اور فعال کرنا چاہیے
    بدقسمتی سے پاکستان میں حکومتی سطح پر کوئی بھی سائبر سکیورٹی اویرنس پروگرام یا کمپین نہیں چلایا جا رہا ہے جو کہ بعد میں ہمارے لیے بہت خطرہ بن سکتا ہے جس طرح کوئی سیاسی جماعت یا حکومت اپنی الیکشن کمپین مقامی زبانوں، محلوں اور گھروں میں جاکر کرتا ہے اسی طرح سے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر مقامی زبانوں میں سائبر سیکیورٹی اویرنس پروگرام چلانے چاہیے تاکہ پاکستانی عوام سائبر کرائم کے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور اپنے ملک کی دفاع کے لئے مکمل تیار ہو۔ پاکستان زندہ باد
    (@imshehzadahmad)

  • عنوان : عیدالاضحٰی اور سنت ابراہیمی تحریر : تہران الحسن خان

    عنوان : عیدالاضحٰی اور سنت ابراہیمی تحریر : تہران الحسن خان

    عید الاضحٰی ایک ایسا مذہبی تہوار ہے جو اپنے ساتھ بہت سی خوشیاں اور یادیں لے کر آتا ہے۔ اور اس خاص دن کے موقع پر دنیا بھر کے مسلمان سنت ابراہیمی کی ادائیگی پورے مذہبی جوش و خروش کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ یہ تہوار ایک ایسی قربانی کی یاد دلاتا ہے جس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں ملے گی۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا اور اس خواب میں حکم ملتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ اےابراہیم اپنی سب سے زیادہ پیاری چیز میری راہ میں قربان کرو۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کےحکم کے مطابق اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی زوجہ حضرت حاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا کہ اسماعیل علیہ السلام کو تیار کر دیں کسی دوست کے ہاں دعوت پر میں اس کو ساتھ لے جاناچاہتا ہوں۔
    اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت دعاؤں کے بعد عمر کے پچھلے حصے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شکل میں اولاد عطا فرمائی اور اللہ کے حکم کی تکمیل کیلئےحضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کو اپنے ہاتھوں قربان کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے گھر سے اس مقام (منی) کی طرف نکلے جہاں اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا تھا۔
    منزل کی طرف جاتے ہوئے شیطان نے راستہ روکا اور ورغلانے کی کوشش کی کہ ایک خواب کیلئے تم اپنے بیٹے کو ذبح کرنے جارہے ہو تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پتھر اٹھا کر شیطان کو مارا اور فرمایا ہٹ جاؤ میرے پاس ایک اسماعیل ہے اگر ہزار بھی ہوتے تواللہ کی راہ میں قربان کر دیتا۔سبحان اللہ
    اپنے تیرہ سالہ بیٹے حضرت اسماعیل کو ساتھ لیااور راستے میں اپنے خواب کا تذکرہ کیا اپنے بیٹے سے اس کی رائے پوچھی۔
    اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا۔
    ابو ذبح کیا کرناہے جو کرنا ہے کیجیے اور ایسا تو ممکن نہیں کہ گلے پر چھری چلے اور میں تڑپوں نہیں لیکن میں آپ کو صبر بھی کر کے دکھاوں گا۔

    باپ نے بیٹے کو لٹایا اور رسیوں سے بدن جکڑ لیا۔ ہاتھ میں چھری پکڑ لی۔
    اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد محترم سے فرمایا کہ یہ رسیاں کھول دیجیے مورخ لکھے گا کہ باپ ذبح کرنا چاہتا تھا بیٹا ہونا نہیں چاہتا تھا۔ سبحان اللہ۔
    باپ نے بیٹے کی ریشم جیسی گردن پر چھری رکھ دی اور پورے زور سے دبائی لیکن ایک بال بھی نہ کٹا چھری کو پتھر پر تیز کیا اور واپس گردن پر رکھ کر زور سے دبائی اور گردن کٹ گئی خون بہنے لگا خوش ہو گئے کہ اللہ کے حکم کی تعمیل کر دی۔بارگاہ رب ذوالجلال میں سرخرو ہو گیا جلدی جلدی آنکھوں سے پٹی اتاری اور دیکھتے ہیں کہ ذبح ہونے والا ان کا گوشہ جگر اسماعیل نہیں بلکہ ایک دنبہ تھا اور حضرت اسماعیل پاس کھڑے مسکرا رہے تھے۔

    اللہ پاک نے چھری کو اپنے حکم سے روک دیا کہ ایک بال بھی نہ کاٹے اور ساتھ ہی دنبہ حضرت اسماعیل کی جگہ رکھ دیا اور پچھلوں کیلئے سنت کر دیا۔
    عید الضحی اس عظیم قربانی کی یاد ہے جو ہر سال ذوالحج کے مہینے میں تازہ کی جاتی ہے۔
    اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور کئی ایسی عید کی خوشیاں نصیب فرمائے۔
    آمین۔
    شکریہ۔


    Freelance Content Writer, Blogger, Social Media Activist
    To find more about him check 

     

  • ڈیرہ غازی خان اور اس کے مسائل تحریر: ندرت حامد

    ڈیرہ غازی خان اور اس کے مسائل تحریر: ندرت حامد

    ڈیرہ غازی خان شہر کی تاریخ 400 سال پرانی ہے۔ پندرھویں صدی کے وسط میں حاجی خان میرانی نے اپنے بیٹے غازی خان میرانی بلوچ کے نام پر اس شہر کی بنیاد رکھی ۔ ڈیرہ غازی خان چاروں صوبوں کو آپس میں ملاتا ہے یعنی پاکستان کے بالکل درمیان میں ہے ۔ خوبصورتی میں بھی مالامال ہے جس کے مغربی حصے میں بلند و بالا کو سلمان اور مشرقی حصے میں پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ پایا جاتا ہے ۔ ڈیرہ غازی خان سیاسی اعتبار سے بھی کافی اہم راہ پاکستان بننے سے لے کر اب تک کوئی نہ کوئی اہم شخصیت کابینہ میں شامل رہی ۔
    بلخ شیر مزاری نون نون لیگ کی حکومت ختم ہوتے نگران وزیر اعظم بنے ان کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔ نومبر 1993 میں فاروق احمد خان لغاری جن کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالا جو کہ دسمبر 1997 تک قائم رہا۔ اسی طرح سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ بھی گورنر پنجاب رہے اور ان کے بیٹے دوست محمد خان کھوسہ وزیر اعلی پنجاب رہے جو کہ نون لیگی کارکن ہیں ۔
    موجودہ حکومت میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا تعلق بھی اسی شہر محکمہ موسمیات کی وزیر زرتاج گل اور مشیر وزیر صحت جناب حنیف خان پتافی کا تعلق بھی ڈیرہ غازی خان سے ہی ہے ۔
    سیاسی لحاظ سے بہت اہم شخصیت رکھنے والے شہر میں ترقی نہ ہونے کے برابر ہوئی۔ حال ہی میں تونسہ روڈ پر ہونے والا حادثہ جس میں تیس لوگوں نے جان کی بازی ہاری۔۔۔۔ یہ حادثہ نہیں بلکہ 70 سال سے ہونے والی نااہلی کا نتیجہ ہے ۔اسی روڈ پر ہر سال سینکڑوں جانیں چلی جاتی ہیں ۔ سڑکیں ہونے کی وجہ سے حادثات ہونا عام سی بات ہے ۔ چاروں صوبوں کو ملانے والا شہر میں سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے ۔ اربوں روپے کی لاگت سے ایک روڈ تعمیر ہوتا ہے اور چھ ماہ بعد اس کی حالت بدترین ہو جاتی ہے ۔ یہ حال صرف تونسہ روڈ کا ہی نہیں بلکہ اندرون اور بیرون شہر کی تمام تمام سڑکوں کا یہی حال ہے ۔

    اگر تعلیمی لحاظ سے شہر کی ترقی کا جائزہ لے کر 70 سال میں صرف ایک ہی یونیورسٹی بن پائی ۔ کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے بھی میدان نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

    شہریوں کے لیے پینے کا صاف پانی تک نہیں ۔ پائپ لائن جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی سیوریج کا پانی بھی پینے کے پانی میں شامل ہو جاتا ہے ۔
    اور انتظامیہ کی طرف سے اس بات کا کوئی خاص خیال نہیں رکھا جاتا۔

    الغرض ہر شہر طرح کے مسائل میں گھرا ہوا ہے ۔ موجودہ حکومت میں بزدار کی زیر نگرانی سات ارب کے ارب روپے کی لاگت سے ابھی تک صرف مختلف جگہوں (چوک) پر مجسمہ لگائے گئے ہیں اور مزید ترقیاتی کام جاری ہے-

    @N_Hkhan