Baaghi TV

Category: بلاگ

  • معاشرہ اور بیٹی . تحریر: ام امیمہ (زہرا )

    معاشرہ اور بیٹی . تحریر: ام امیمہ (زہرا )

    حیدر آباد میں کل قتل ہونے والی چار بچوں کی ماں عینی بلوچ کی ایک تصویر نظر سے گزری خوبصورت لڑکی دلہن کے روپ میں اپنی زندگی میں شامل ہونے والے محرم کے ساتھ خوش و خرم نظر آ رہی ہے ۔ساتھ ہی دوسری تصویر تھی جس میں بتایا جا رہا ہے کے محرم بن کر زندگی میں شامل ہونے والا اس سے جینے کا حق چھین گیا ۔

    یاد رکھیے ! نہ تو یہ واقعہ پہلا ہے نہ ہی آخری لیکن قصور وار کہیں نہ کہیں ہم ہی ہیں ۔ بحثیت معاشرہ ہمارے اپنے قوانین ہیں نہ تو ہم اسلام نہ ہی قانون کے پابند ہیں۔ یہ کیا کہے گا وہ کیا کہے گا بیٹی واپس آ گئی اف اب کیا منہ دکھائیں ۔ ایسی ہزاروں باتیں جبکہ اسلام نے تو عورت کو معتبر کیا ۔ بیٹی کو اسلام نے بہت سے حقوق اور رتبے دیے وہ بیٹی جسے اسلام سے قبل زندہ درگور کیا جاتا تھا اسلام نے اسے وارثت میں حقدار ٹہرایا ۔ بیٹی کے ساتھ حسن سلوک پر بہت سی احادیث ہیں جن میں سے ایک یہ ہے

    مفہوم حدیث ہے !
    ” حضرت انس ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت ہے ”
    نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے فرمایا
    ” جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھے انداز میں پرورش کرے (اور جب شادی کے قابل ہوں تو ان کی شادی کرے ) تو میں اور وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں ملی ہوئی ہیں
    (بحوالہ ترمذی ۔باب ماجاء فی النفقہ علی البنات )

    لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کے ہم نے اسلام اور قانون سے مکمل رو گردانی کی اور اپنی دو اینچ کی مسجد بنا کر بیٹھ گئے ۔
    جہاں بیٹی کی طلاق اور خلع کو ہم نے اپنے ماتھے پر بد نما کلنک سے تعبیر کیا بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ بیٹی کی موت تو قبول کرتا ہے لیکن اگر اس کا شوہر اس پر عرصہ حیات تنگ کر دے تو اسے شوہر سے الگ ہو کر جینے کا حق نہیں دیتا

    بہت افسوسناک لیکن تلخ حقیقت یہ ہے
    ” پہلے بیٹی دفنائی جاتی تھی اور اب بھی بہت سی جگہوں پر ایسا ہو رہا ہے فرق اتنا ہے ۔
    اب بیاہی جاتی ہے ”
    ہم اسلام سے محبت کے دعویدار رسول ﷺ کے عشق میں مر مٹنے والے ان کی تعلیمات سے منحرف کیوں ہوے؟
    کیوں ہم بیٹی بہن ماں کو اسلام کے دیئے گئے اصولوں کے مطابق حقوق نہ دے سکے وارثت میں حصہ تو دور کی بات شادی کر کے گھر سے رخصت کرتے وقت واپس نہ آنے کی تاکید ایسے کرتے ہیں
    کے بیٹی سمجھ جاتی ہے اب یہاں واپسی کی گجائش نہیں
    پھر اگربد قسمتی سے شوہر کے روپ میں ظالم جابر شخص مل جائے تو یا تو ہمت ہار کر زندگی کا خاتمہ کرتی ہے ۔وجہ ؟
    "اخلاقی معاشی جذباتی مدد کا نہ ہونا ”
    یا وہ اس ظالم کے ہاتھوں ماری جاتی ہے

    ہاں ! ایک تیسری قسم لڑکیوں کی جو جرات کرتی ہیں ہار نہیں مانتی اور خود اس ظلم سے چھٹکارا حاصل کرتی ہیں
    لیکن یقین جانئے ۔
    وہ جتنی مضبوط پڑھی لکھی اور کمانے والی ہوں یہ معاشرہ ان کو قدم قدم خون کے آنسو رلاتا ہے وجہ ؟
    ان کی زندگی میں شوہر کا نہ ہونا

    تو خدا راہ آئیے !
    خود سے ابتدا کریں خود کو بدلیں اپنی سوچ بدلیں مردہ بیٹی کے بجائے زندہ بیٹی کو کھلی باہوں سے قبول کریں زندگی نے اگر اسے دھوپ میں لا کھڑا کیا اس کے لئے سایہ دار درخت بن جائیں تاکہ پھر کوئی بیٹی قتل نہ کی جائے آئیں اپنے حصے کا چراغ جلائیں

    @zarasani87

  • "سی پیک اور پاک چین دوستی ” تحریر:لاریب اطہر

    "سی پیک اور پاک چین دوستی ” تحریر:لاریب اطہر

    پاکستان اور چین بیسیوں صدی کے درمیان وجود میں آئے اور تب سے ہی ان دونوں میں آپسی تعلقات استوار ہوئے جو کہ مختلف ادوار کے داؤ پیچ دیکھتے دکھاتے آج اپنے عروج کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ پاکستان اور چین میں ڈپلومیٹک تعلقات تو انیس سو اکاون میں ہی قائم ہو گئے تھے لیکن تب دونوں ممالک اک دوسرے کے ساتھ اتنا ہم آہنگ نہ تھے جس کی وجہ سے ابتدائی سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان کوئی خاص پیش رفت نہ ہوئی۔ دوسری جانب اک بڑی وجہ پاکستان کے مغرب کے ساتھ تعلقات بھی تھے جن کی وجہ سے چین کے ساتھ ابتدائی اک دو عشروں میں بہترین تعلقات استوار نہ ہو سکے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ دونوں ممالک نے اک دوسرے کو مکمل نظرانداز کیا
    کیونکہ انیس سو چھپن میں حسین شہید سہروردی نے پاکستان کا وزیر اعظم ہونے کے ناطے چین کا دورہ کیا اور اسی سال چین کے وزیر اعظم بھی پاکستان کے دورے پر آئے۔ امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے کی وجہ سے پاکستان اور چین میں سرد مہری تھی لیکن پھرایوب خان نے بھی صدر پاکستان کی حثیت سے چین کا دورہ کیا۔
    انیس سو باسٹھ کی انڈیااور چین کے درمیان جنگ کے بعد پاکستان اور چین میں نزدیکیاں بڑھنے لگیں اور اس سے اگلے سال انیس سو تریسٹھ میں دونوں ممالک کے درمیان باؤنڈری ایگریمنٹ ہوا اور مشترکہ بارڈر کی نشاندھی کی گئی۔ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات میں اصل موڑ تب آیا جب پاکستان نے انڈیا کے ساتھ 1965 اور 1971 کی جنگیں لڑیں اور ہمارے نام نہاد حواری نے چالبازی کے ساتھ دھوکہ دیا اور چین نے ہماری مدد کی اور اس کے ساتھ ہی سرد مہری والے تعلقات گرمجوشی میں تبدیل ہوتے گئے۔
    اگر پاکستانی حکمرانوں کے حوالے سے بات کی جائے تو شاید ذوالفقار علی بھٹو پہلا پاکستانی حکمران تھا جس نے چین کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی داغ بیل ڈالی۔ بھٹو نے اپنے دور حکومت میں تین چار بار چین کا دورہ کیا بدلے میں چین نے بھی گرمجوشی دکھائی تو دن بدن تعلقات گہرے ہوتے چلے گئے کہ پھر چاہے سیاسی تعلقات ہوں ،ثقافتی، معاشی ہوں معاشرتی تعلقات، فوجی تعلقات ہوں یا ایٹمی پروگرام سب میں پاکستان اور چین ایسے جڑے جیسے اک ہی سکے کے دو رخ ہوں۔ جہاں پاکستان نے چین کی سلامتی کونسل کی سیٹ پر سپورٹ کیا تو بدلے میں چین نے بھی کشمیر کاز پر پاکستان کا ساتھ دیا۔

    ضیاء الحق بھی ایوب خان کی طرح امریکی پلڑے میں تھے لیکن اس دوران بھی پاکستان اور چین کے تعلقات معمول پر رہے۔ چین نے اپنی معاشی ترقی کا سفر جاری رکھا اور اکیسویں صدی میں اک بڑی معیشت بن کر ابھرا۔ اسی بڑی معیشت کی بنا پر ماضی قریب میں چین نے OBOR ون بیلٹ ون روڈ کے نام سے اک منصوبہ شروع کیا جس کے تحت چین جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے دنیا کو روڈ کے زریعے اک دوسرے سے ملانا چاہتا ہے۔ CPEC بھی اسی منصوبہ کی ایک کڑی ہے یا یوں کہہ لیا جائے کہ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ اسی سی پیک کی بدولت جہاں چین ایک طرف روس سے ہوتا ہوا منگولیا، پاکستان سے گزر کر بحیرہ عرب تک جا پہنچے گا اور وہاں سے آگے مشرق وسطی اور پھر افریقہ کی جانب۔ دوسری جانب چین اسی OBOR کے تحت سنٹرل ایشیاء اور آگے ایورپ تک زمینی راستوں کو وسعت دینا چاہتا۔ اس سارے منصوبے میں سب سے اہم منصوبہ سی پیک کا ہے کیونکہ اسی کی بدولت چین کو جنوب کی طرف پانیوں تک رسائی ہو گی اسی لیے انڈیا اور امریکہ ہر صورت میں سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف عمل ہیں۔
    یہ سی پیک منصوبہ ہے کیا آئیے ذرا اک نظر اس پہ ڈالی جائے۔ ویسے تو سی پیک کا کریڈٹ مشرف بھی لیتا تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی لیتی ہے لیکن اصل میں رسمی طور پر 2013 میں ن لیگ کے دور میں پاکستان اور چین کے درمیان 51 ایم او یوز سائن ہوئے جس کی بدولت چین پاکستان میں چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے نام سے ایک ترقیاتی منصوبہ شروع کرنے جا رہا ہے جس پر بنیادی طور پر 46 ارب امریکی ڈالرز کی لاگت آئے گی۔ یہ منصوبہ اصل میں ایک انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کا منصوبہ ہے جس میں چین کے جنوبی علاقے کاشغر کو پاکستان کے جنوبی علاقے گوادر سے ملایا جا رہا ہے۔ ان 46 ارب ڈالرز میں سے تقریباً 12 ارب ڈالر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ جس میں ہائی ویز، ریلوے لائنز، گوادر پورٹ ڈیویلپمنٹ اور گوادر شہر کی ترقی پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب تقریبا 34 ارب امریکی ڈالر انرجی منصوبے پر خرچ ہوں گے۔ ہائی ویز میں اسلام آباد سے لیکر گوادر تک مختلف نئے روڈز بنائے جائیں گے جو پاکستان کے تمام صوبوں میں سے ہو کر گوادر تک پہنچیں گے۔ جہاں سی پیک کے پاکستان کے لیے بہت فوائد ہیں وہیں یہ منصوبہ چین کے لیے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ چین تقریباً اپنا 80 فیصد تیل مڈل ایسٹ سے منگواتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خام مال بھی افریقی ممالک سے حاصل کرتا ہے جس کے لیے اسے یہ مال لے کر انڈین اوشن میں سے گز کر آبنائے ملاکہ میں سے ہوتے ہوئے آگے ساؤتھ چائنہ سی میں سے گزرتے ہوئے اپنے ملک پہنچتا ہے۔ اس سارے پراسیس میں اسے 15 ہزار سے 16 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور ساتھ میں ان ممالک کی حدود میں سے بھی گزرنا پڑتا ہے جس کے ساتھ چین کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ جبکہ دوسری جانب سی پیک کی بدولت چین کو 10سے 11 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ کم ہو کر 5 سے 6 ہزار کلومیٹر تک پڑتا ہے اور جو مال آبنائے ملاکہ سے چین تین ماہ میں پہنچتا تھا وہ اسے ایک ماہ میں مل جائے گا اور اس میں چین کو صرف ایک ملک پاکستان کی حدود میں سے گزرنا پڑے گا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات اس کے پہلے سے ہی اچھے ہیں۔

    سی پیک کو اگر ریجنل ویو کے مطابق دیکھا جائے تو جنوبی ایشیاء میں اس وقت دو متحارب بلاک ہیں جس میں ایک پاکستان-چین جبکہ دوسرا انڈیا-امریکہ۔ ان دونوں گروہوں میں ایک جنوبی ایشیائی ملک ہے جبکہ دوسرا غیر جنوبی ایشیائی۔ چین تو خیر پھر بھی ان دونوں بڑے جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنی سرحد شیر کرتا ہے جبکہ امریکہ تو سات سمندر پار ہے۔ امریکہ اور انڈیا دونوں ممالک چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے پریشان ہیں امریکہ چین کو عالمی پس منظر میں دیکھتا ہے جبکہ انڈیا جنوبی ایشیاء کے حوالے سے۔ پاکستان اور چین کا سی پیک جیسا گیم چینجر منصوبہ شروع کرنا ان دونوں کے لیے جلتی پر تیل کے مانند ہے
    ۔ امریکہ اور اس کے حواری بالخصوص یورپ، اور انڈیا اس منصوبے کو ہر حال میں سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس اکنامک کوریڈور کو اک عسکری کوریڈور بنا کر دنیا میں پیش کر رہے ہیں۔ حالیہ جی سیون کے اجلاس کا مین مدعا بھی چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا تھا۔

    امریکہ ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ کم از کم پاکستان کو ہی سی پیک سے باز رکھا جائے جس کے لیے وہ ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن جب کسی جانب دال نہ گلی تو دونوں ممالک میں نفرت کا بیج پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عمران خان کے امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں جب امریکہ کو نہ کہی تو اینکر پرسن نے پینترا بدلتے ہوئے چین میں موجود ایگور مسلمانوں کا ایشو اٹھا لیا جس کو عمران خان نے عمدہ طریقے سے ہینڈل کیا جیسے لمحہ موجود میں کرنا چاہیے تھا۔
    قصہ مختصر یہ کہ پاکستان چین کی جو دوستی 1951 میں شروع ہوئی تھی ٹھیک ستر سال بعد اپنے نقطہء عروج پر پہنچ چکی ہے اور جیسے اک شہر یا گاؤں میں دشمنوں کو ایسی دوستی ایک آنکھ نہیں بھاتی بالکل اسی طرح امریکہ انڈیا اور ان کی حواریوں کو بھی پاکستان اور چین کی یہ دوستی بہت کھنکتی ہے۔ اب دشمن آئے روز کوئی نہ کوئی چال چل رہا ہے کہ کسی طرح پاکستان اور چین میں چپقلش پیدا کی جائے۔ وہ ہر بار منہ کی کھاتا ہے اور ہر بار ایک نئے منصوبے کے ساتھ آتا ہے۔
    داسو ڈیم کے قریب چینی عملے پر ہونے والا حملہ بھی اسی چال کی اک کڑی ہے۔ اب پاکستان اور چین پر منحصر ہے کہ وہ کیسے ان سب چالوں کو ناکام کرتے ہوئے سی پیک کو مکمل کرتے ہیں۔

  • ‏عرض پاک کے سوداگر . تحریر : محمّد وقاص

    ‏عرض پاک کے سوداگر . تحریر : محمّد وقاص

    سابقہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی کتاب “دی اوریجنل فیس آف پاکستان “میں انکشاف کیا ہے کہ اگر نواز شریف تین سال اور حکومت کر جاتا تو اس سے پاکستان خرید لیا جاتا۔ مزید براں ٹرمپ نے لکھا ہے کہ نواز شریف پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی جاسوسی کیلئے امریکہ کے ساتھ پچاس ارب ڈالرز کا معاہدہ کرنے والا تھا۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف صاحب جو کہ تین دفعہ وازارت عظمیٰ کے مرتکب پر فیض پائیے مگر میاں نواز شریف کا ماضی پاکستان مخالف بیانئیے کی عکاسی کرتا ہے میاں نواز شریف کے اس بیانئیے نے بھی وطن پاکستان کی ساخت کو نقصان پہنچایا کہ ممبئی حملے پاکستان نے کروائے ہیں۔

    اسکے علاوہ جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کارگل کے محاذ پر جموں کشمیر کے کافی حصے پر اپنے پاؤں جما لئے تھے اور بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا تو تب میاں نواز شریف نے افوج پاکستان کو واپس آنے کو کہا جس کے نتیجے میں لاکھوں گھروں کے چراغ گل ہو گے بہت سے فوجی جوان شہید ہوگے۔ اسکے بعد جب دنیا بھر میں پاناما کا سکینڈل سامنے آیا تب جناب کا نام سرفہرست تھا اس وقت نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم تھے اپوزیشن نے مطالبہ کیا انکا احتساب ہونا چاہیے جس میں سے سب سے زیادہ کاوش جناب عمران خان صاحب کی تھی اجنہوں نے خود کو بھی احتساب کے لئے پیش کر دیا جب عدالت میں کیس لگا تو نواز شریف صاحب عدالت میں آمدن سے زائداثاثہ جات میں عدالت کو ثبوت فراہم نہ کر سکے اور ان پر ایون فیلڈ فلیٹس کا بھی کیس تھا عدالت نے ذرائع پوچھے تو میاں نواز شریف صاحب عدالت میں ثبوت جمع نہ کروا سکے جس میں وہ مجرم قرار پائے اور ان پر فرد جرم عائد ہو گیا۔
    دوسری طرف عمران خان نیازی صاحب عدالت میں تمام ثبوت فراہم کر کے عدالت سے صادق ال آمین قرار پائے۔

    جناب نواز شریف سزا کاٹ رہے تھے تو انکی طبیعت میں بیگاڑ پیدا ہوا اور انکے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا ان کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے پھر عدالت سے طبی بنیاد پر چار ہفتے کے لئے ٹائم لیا گیا اور وہ لندن چلے گے وہاں جا کر میاں صاحب نے نہ اپنا علاج کروایا نہ کوئی میڈیسن لی اور اب انہی ایون فیلڈ میں موجود ہیں جو منی لانڈرنگ سے خریدے گے اور پاکستان میں وہ اشتہاری ہے اور لندن میں اپنی شہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ پچھلے 10 سال میں جس بے دردی سے بڑے بڑے قرض لے کر اجاڑے گئے، 60 سالوں میں قرض 6 ہزار ارب اور صرف 10 سالوں میں 24 ہزار ارب قرض لیا بات تو سچ ھی لگتی ہے۔ ٹرمپ کی.
    اللّه پاک ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے اور ملک دشمن قوتوں کو زیر کرے آمین .
    پاکستان زندہ آباد

    @M_Waqas_786

  • جھوٹ ۔ تحریر: ہما ہادی

    جھوٹ ۔ تحریر: ہما ہادی

    معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی۔۔۔۔!!!

    معاشرے میں ہر برائی جھوٹ سے شروع ہوتی ہے
    اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ اصل چیز جو اس برائی کے پیچھے کار فرما ہے وہ جھوٹ ہی تو ہیں
    اگر بچے والدین کیساتھ اور اپنے بڑے بہن بھائیوں کیساتھ سچ بولنا شروع کرے تو کوئی بھی زانی نہیں بن سکتا نہ کوئی سمگلر ، نہ غنڈہ اور نہ ہی نشئی ایک دفعہ ایک شحص حضرت محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا مجھے بہت سی برائیوں کی عادت ہے
    حضرت محمّدﷺ کے استفسار پر کہا میں چوری کرتا ہوں ، زنا کرتا ہوں شراب پیتا ہوں اور بھی بہت سی برائیاں ہے حضرت محمّدﷺ نے اسے جھوٹ چھوڑنے کی نصیحت کر کے رخصت کر دیا اور ایک جھوٹ کو چھوڑنے کی بناء پر اس شخص کی تمام بری عادتیں چوٹ گئی کیونکہ اس نے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کیا تھا اور اگر وہ سچ بولتا تو سچ اسکے لئے شرمندگی کا باعث بن جاتا ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کا فرمان ہے ”

    میرا امتی ہر گناہ کرسکتا ہے لیکن کبھی کسی کو دھوکا نہیں دے گا اور جھوٹ نہیں بولے گے”
    افسوس کا مقام ہے کہ ہم وہی جھوٹ دھوکہ و فریب سے کام لیتے ہیں
    جس بات کی نہ کرنے کی امید سرور کونینﷺ نے ہم سے رکھی اب ہم وہی کر رہے ہیں
    روزانہ کے لین دین میں جھوٹ بولتے ہیں ایک لمحے کے لئے یہ نہیں سوچتے کہ ہم جس کے امتی ہیں اس عظیم ہستی نے ہم سے کیا کیا امیدیں وابستہ کی ہے؟ جہاں ہمیں یہ لگا کہ سچ بولنے میں نقصان ہوگا تو ہم بلا جھجک جھوٹ بول لیتے ہیں اور پھر اسی جھوٹ کے لئے اور سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں جھوٹ سے انسان اعلیٰ اخلاق کے درجے پر فائز نہیں ہوگا بلکہ معاشرے میں جوبگاڑ پیدا ہوتی ہے اس میں یہ جھوٹ سر فہرست ہے جھوٹ معاشرے میں رونما ہونے والی ہر برائی کی جڑ ہے.

    دکانداروں کی کبھی قیمتوں پر تو کبھی کوالٹی پر جھوٹی قسمیں ہوتی ہے عدالتوں میں جھوٹ بولنا جیسے پاکستانی وکیلوں اور گواہوں کے لئے ایک لازمی چیز بن گئی ہے جسکے نتیجے میں جج کے فیصلے سے حق دار اپنے حق سے محروم ہو جاتا ہے تعلیمی اداروں میں جھوٹ کی جعلی ڈگریاں دینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے بلکہ جی یہ تو انکا حق ہے جو یہ ایک اھل بندے سے چھین کے نا اھل کے ہاتھوں میں سونپ رہے ہیں کچھ لوگ ایک چھٹی کے لئے مختلف جھوٹ بولتے ہے بلکہ کبھی تو حد ہی کر دیتے ہیں زندہ انسان کو مار دیتے ہیں یا پھر مرے ہوئے انسان کو دوسری دفعہ مار دیتے ہیں کچھ لوگ دیر سے پہنچنے پر آرام سے جھوٹ بول لیتے ہیں مختلف اداروں میں وہاں کے ماحول کو مدنظر رکھ کر بہت سے جھوٹ بولے جاتے ہے حلانکہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے
    اور جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ ہے.

    لیکن انکو جب کسی نے بتایا ہوگا تب پتہ چلے گا کہ جھوٹ گناہ کبیرہ ہے جھوٹ سے ہمیں اپنے معاشرے میں زیادہ تر بگڑے ہوئے لوگ ہی ملے گے بچپن سے جب بچے جھوٹ بولنا شروع کرے تو یہ جھوٹ انکی فطرت بن جاتی ہے اور فطرت ناقابلِ تغیر ہے بچوں کو اگر بچپن میں یہ بات سمجھائی جائے کہ چاہے کچھ بھی ہو جتنا بھی نقصان ہو سچ بولنے میں ، تو ہونے دو لیکن جھوٹ نہیں بولنا تو یقین مانے جو ماں باپ پھر یہ رونا روتے ہے کہ میرا بیٹا یا بیٹی غلط کاموں میں پڑ گئے یہ ہر گز نہیں ہوگا کیونکہ جب کبھی ماں باپ اس سے کسی بھی بات کے متعلق پوچھے گے تو وہ بات کو اِدھر اُدھر کرنے کے بجائے سچ بولیں گے جھوٹ سے اجتناب کی بدولت وہ شرمندگی کی ڈر سے کسی غلط کام کا نہیں سوچے گا کیونکہ جھوٹ ایک دو باتوں پر مشتمل نہیں ہوتا بلکہ ایک جھوٹ انسان کی زندگی کو برباد کرنے کا سبب بنتی ہے
    جس بات کے لئے حضرت محمّدﷺ نے منع فرمایا آج کے دور میں یہ ایک عام بات ہے ہربندہ روزانہ کے حساب سے نجانے کتنا جھوٹ بولتے ہیں کبھی یہ سوچا ہے کہ ہم روز محشر کس منہ سے اپنے پیغمبر پاک کے سامنے جائیں گے ہم تو ہر دعا میں حضرت محمّدﷺ کی شفاعت مانگتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ہم کر کیا رہے ہیں؟

    جو طریقے پیغمبر پاک نے بتائیں ہیں کیا ہم اسکے مطابق زندگی گزار رہے ہیں؟ اگر ہم انکے بتائیں ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی گزاریں گے تو کیا ہمیں روز محشر انکی شفاعت نصیب نہیں ہوگی؟ ہم انسانوں کے کام اتنے خراب ہے ہمیں تو جھوٹ گناہ ہے والی بات اس وقت یاد آتی ہے جہاں جھوٹ بولنے کا ثواب ملتا ہو ایک گھرانے کو بچانے کے لئے جب سب کچھ بکھرنے والا ہو تو ہم وہاں زرہ برابر جھوٹ نہ بولے کہ یہ تو گناہ ہے حسد بعض میں ایک دوسرے کو نیچا ثابت کرنے کے لئے ہی تو جھوٹ بولتے ہیں کبھی کسی کی بھلائی کے لئے جھوٹ بولتے ہوئے ہمیں یہ یاد آ جاتا ہے کہ جھوٹ گناہ کبیرہ ہے وہ جو دن میں ہم کبھی ماں باپ سے کبھی بہن بھائیوں سے کبھی کسی عزیز رشتے دار سے جھوٹ کے بہانے کر کے جان چھڑاتے ہیں اس وقت وہ جھوٹ جھوٹ نہیں ثواب ہے تو بس ہمارا اللّٰہ ہی مالک ہے
    اللّٰہ پاک ہم سب کو سچ بولنے اور سچ کی راہ پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے.
    {آمین ثمہ آمین}

    @honeykhan_11

  • پاکستان اوراس کی خوبصورتی . تحریر : حسیب احمد

    پاکستان اوراس کی خوبصورتی . تحریر : حسیب احمد

    پاکستان قدرتی وسائل اوررنگوں سے بھرپور ہے، پاکستان میں دیگر ممالک کے مقابلے بہت ساری حسیں نظارے ہیں، یہاں ہمارے پاس برف پوش پہاڑ اور رنگوں سے بھرے ہوئے چشمے، دل فریب جنگلات اور پرکشش صحرا۔۔!! پاکستان وہ ملک ہے جہاں کے سیاح ہر سال موسم سرما اور موسم گرما میں موسم کے مطابق شمالی علاقہ جات کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستان میں بہت ساری حسیں وادیوں کے ساتھ ساتھ کچھ تاریخی مقامات جیسے "موئن جو دارو” اور "ہڑپہ” اور ایسے بہت سے مقامات جو پاکستان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ پاکستان کے قدرتی وسائل اتنے ہیں کہ ہمیں باہر گھومنے پھرنے کی ضرورت نہیں۔ یقین جانیں پاکستان کا اگر آپ بائی روڈ سفر کریں گے تو وہ حسیں اور پرکشش وادیوں کا نظارہ کرسکتے ہیں جن کو دیکھنے کے لیے ہم باہر جاتے ہیں۔

    سربزو شاداب اور گھنے درخت و جنگلات خوبصورتی کا ایسا روپ ہیں جس کا کوئی نیم البدل نہیں۔ سوچئے اگر دنیا بھر میں بھر میں یہ قدرتی ذخائر ختم کردیئے جائیں تو ہماری دنیا کیسی لگے گی؟؟ کیا ہم زندہ رہ سکتے ہیں ان کے بغیر؟؟ یقین کریں یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی بالوں والے شخص کے سر سے بال ختم کردیئے جائیں تو وہ کیسا لگے گا۔
    دریا، سمندر، پہاڑ، درخت، جھیلیں، ندیاں، جنگلات اور صحرا۔۔۔۔ یہ سب کسی بھی علاقے کا خوبصورت و قدرتی حسن ہیں اور پاکستان بھی اس حسن سے مالا مال ہے۔

    اللہ تعالٰی نے پاکستان کو بہت خوبصورت تحفہ ان قدرتی وسائل کی صورت میں دیا ہے اس کو بربادی کی طرف نا لے جائیں۔ ان قدرتی وسائل اور رنگوں سے دل فریب چیزوں کی حفاظت کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو خوبصورت اور پرنور پاکستان کا تحفہ دیں اور اگر آج آپ ان وسائل کی ترقی و حفاظت کریں گے تو آپ کی نسلیں بھی سیکھیں گی اور پھر پاکستان ان وسائل سے ہمیشہ مالا مال رہے گا اور ایسا وقت آئے گا باہر کے لوگ یہاں ہمارے وسائل اور قدرتی چیزوں پر پیسا خرچ کریں گے جس سے پاکستان کا ریونیو بڑھے گا اور پاکستان اپنے ان وسائل کی وجہ سے اپنے آپ مضبوط بنانے میں کامیاب ہوگا۔

    اس کی حفاظت کریں اور اس پر توجہ مرکوز کریں تاکہ یہ قدرتی اثاثے محفوظ رہیں اور ہمیشہ پاکستان کو اپنے حسن سے خوشبودار اور خوبصورت رکھے۔ پاکستان وہ خوبصورت سرزمین ہے جہاں چاروں موسموں کا مزہ اپنے اپنے انداز میں لیا جاتا ہے۔
    ہمیں بھی دیگر قوموں کی طرح اپنے وسائل اور ان قدرتی چیزوں کا محافظ بننا ہے.

    @JaanbazHaseeb

  • ‏دروازے کے دکھ . تحریر:عمرخان

    ‏دروازے کے دکھ . تحریر:عمرخان

    چائے کا کپ ہاتھ میں لئے جب میں چھت پے بیٹھ کر غروب ہوتے سورج کو دیکھتا ہوں تو اداس ہو جاتا ہوں وجہ یہ نہیں ہوتی کہ سورج کیوں غروب ہو رہا ہے وجہ یہ ہوتی ہے کہ کل جب نیا دن نکلے گا تو کیا وہ وہی اداسی لے کر آئے گا جو پہلے ہی لاکھوں لوگوں کے گھروں میں گھر کر چکی ہے ؟
    میری بات کا شاید کوئی مطلب نہ سمجھ پایا ہو، تو چلو میں سمجھا دیتا ہوں.

    ہم روز کئی حادثات دیکھتے ہیں اخبارات پڑھتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر بھی ہر روز نئی سے نئی خبر چل رہی ہوتی ہے کہ آج فلاں مر گیا.
    کیا کبھی سوچا ہے کہ وہ دکھ وہ تکلیف جو دوسرے برداشت کر رہے ہوتے ہیں خدانحواستہ ہمارے ساتھ بھی ہو سکتی ہے, کیونکہ مرنا تو ہر کسی نے ہے.موت تو برحق ہے تو پھر کیوں نہ ہم دوسروں کی تکلیف کو اپنی سمجھیں تاکہ معاشرے میں احساس باقی رہ سکے.
    پہلے ادوار کے معاشرے اللہ اور رسول اللہ کے قوانین کے مطابق چلتے تھے .لیکن آج کل کا معاشرہ صرف سوشل میڈیا کے مطابق چلتا ہے.
    پہلے قاضی اور انصاف نافذ کرنے والے ادارے اللہ سے ڈرتے تھے, لیکن آج کل کے قاضی اور انصاف نافذ کرنے والے ادارے سوشل میڈیا سے ڈرتے ہیں.

    کچھ چیزیں ہمارے معاشرے میں بہت ناپید ہو چکی ہیں جیسا کہ احساس، برداشت، عزت, صبر، اتفاق اور اخترام اور بہت کچھ.
    سوچتا ہوں معاشرہ کس ڈگر چل پڑا ہے ؟لوگوں نے جانا کہاں ہے ؟لوگوں کی منزل کہاں ہے ؟
    تو جواب خاضر ہے قبر, ہاں قبر ہی ہم سب کی منزل ہے. اور موت ہی اس معاشرے کی حقیقت ہے.
    اگر انسان بچ کر نکلنا بھی چاہے تو نہیں نکل سکتا کیونکہ یہی ہمارے دروازے کا دکھ ہے. اور اس دکھ سے کوئی نہیں بچ سکتا.
    افسوس کہ آج چائے پھر ٹھنڈی ہو گئی اور سورج پھر پوری طاقت کے ساتھ غروب ہو گیا ,اور سورج نے پھر مجھے موت کے سامنے مات دے دی.

    ‎@U4_Umer_

  • “ جادو ٹونے اور دم دعا “تحریر۔ جواد خان یوسفزئی

    “ جادو ٹونے اور دم دعا “تحریر۔ جواد خان یوسفزئی

    جادو کی حرمت قران و حدیث سے ثابت ہے۔لیکن کیا عمل جادو ہے اور کیا نہیں، یہ چیز ہمیشہ موضوع بحث رہی ہے۔ کچھ لوگ سفلی اور علوی اعمال کے نام سے اس کو حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    جادو جیسے اعمال تقریباً ہر معاشرے میں موجود رہے ہیں اور بیشتر مذاہب میں اسے نا پسندیدہ سمجھا گیا ہے۔لیکن جادو کو مذہب سے الگ کرنا بھی ایک مشکل عمل رہا ہے کیونکہ بہت سے مذاہب میں جادو جیسے اعمال شامل ہیں۔مذہب اور جادو کی ایک تعریف ماہرین بشریات کچھ یوں کرتے ہیں:
    "مذہب اپنے آپ کو کسی مافوق الفطرت طاقت کے تابع بنانے کا نام ہے جب کہ جادو کسی ما فوق الفطرت طاقت کو قابو میں لا کر اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کا”۔
    اسلام بطور مذہب اس تعریف پر بالکل پورا اترتا ہے کیونکہ اسلام کے معنی ہی اطاعت تسلیم کرنے کے ہیں۔ جادو کی مذکورہ تعریف بھی اسلام کے نقطہ نظر سے زیادہ مختلف نہیں۔خود جادو کے اعمال کرنے والے بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جن بھوت، ہمزاد اور شیاطین وغیرہ کو قابو کرکے ان سے مادی فوائد حاصل کرتے ہیں۔
    جب کوئی اس قسم کی کوشش کرتا ہے تو وہ اسلام کے نزدیک مبعوض ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے کس قسم کے یا کس زبان کے کلمات استعمال کرتا ہے۔ قران مجید میں جادو ٹونے اور فال گیری وغیرہ کو بلا استثنیٰ حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کی کسی حلال قسم کا ذکر نہیں۔

    قران مجید میں جادو کا ذکر ایک تو سورہ بقرہ میں ہے جہاں اس گمراہ کن خیال کی تردید کی گئی ہے کہ حضرت سلیمان کا جادو ٹونے سے کوئی تعلق تھا۔واضح کیا گیا ہے کہ جادو کفر اور شیاطین کا کام ہے، خدا کا پیعمبر کفریہ کام کیسے کر سکتے تھے۔ اور جو دو فرشتے کچھ ایسے اعمال لوگوں کو بتاتے تھے تو وہ واضح کرتے تھے کہ یہ غلط کام ہے اور تمہاری آزمائش کے لیے ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ قران کی اس قدر وضاحت کے باوجود اب بھی جادو ٹونا کرنے والے سلیمانؑ کا نام کسی نہ کسی طریقے سے اس معاملے سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    اس کے علاوہ قران مجید کی آخری دو سورتوں میں جادو کرنے والوں کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔سورہ فلق میں جھاڑ پھونک کرنے والوں اور سورہ الناس میں وسوسہ ڈالنے والے جنی اور انسی شیاطین کے شر سے بناہ مانگنے کا حکم ہے۔
    سورہ بقرہ کی آیات کو معوذتین سے ملا کر پڑھنے سے جادو ٹونے کے بارے میں کچھ یوں صورت حال سامنے آتی ہے:

    جادو ٹونا ایک شیطانی عمل ہے جس کا کام انسانوں کو خدا سے دور کرنا ہے۔ کوئی پیعمبر(اور اس کا ماننے والا) ایسا کوئی کام نہیں کرسکتا۔ جنی اور انسی شیاطین یہ کام انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ جنی شیاطین انسانوں میں سے اپنے ایجنٹ بھرتی کرتے ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو جادو ٹونے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جادو ٹونا اور دم دعا کرنے والے یہی ایجنٹ ہیں۔ جنی شیاطین اپنے ایجنٹوں کو چھوٹی موٹی اطلاعات پہنچاتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً آپ کسی عامل کے پاس جائیں گے تو وہ آپ کو کچھ ایسی باتیں بتائے گا جو آپ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں۔ یہ باتیں جنی شیطان اسے پہنچاتا ہے۔ ان شیاطین کا ایک وسیع نیٹ ورک ہوتا ہے جو دور دراز تک کام کرتے ہیں۔ لیکن ان کا دائرہ کار بہت محدود ہوتا ہے۔ وہ کسی کو نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔
    بس وسوسہ ڈال کر گمراہ کر سکتے ہیں۔

  • دولہا اپنی ہونےوالی بیوی کودیکھنےکےبعد موقع سےکیوں فرارہوگیا؟

    دولہا اپنی ہونےوالی بیوی کودیکھنےکےبعد موقع سےکیوں فرارہوگیا؟

    نئی دہلی: شادی کے ’منڈپ‘سے دولہا اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھنے کے بعد فرار ہو گیا ۔

    باغی ٹی وی : یہ نہایت ہی حیران کن واقعہ بھارت میں پیش آیا ہے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے شیئر کی جارہی ہے جس میں دولہا اور دلہن اپنے نئے سفر کے آغاز کیلئے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے جارہے تھے –

    رسم کی ادائیگی کیلئے دولہا جب اپنی نشست سے کھڑا ہوا تو ساتھ دلہن بھی اٹھنے لگی لیکن وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور لڑکھڑا کر گر پڑی –

    لڑکی کے نیچے گرنے سے اس کے چہرے سے گھونگھٹ بھی ہٹ گیا ۔ دولہے نے جب لڑکی کو دیکھا تو فوری طور پر گلے سے پھولوں کو اتار کر پھینکتے ہوئے موقع سے فرار ہو گیا ۔

    میڈیا پر چلنے والی اطلاعات کے مطابق دولہے اور دلہن نے شادی سے قبل ایک دوسرے کو دیکھا نہیں تھا اور نہ ہی کوئی ملاقات ہوئی تھی ۔تاہم ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے یا اصلی اور یہ کس بھارتی علاقے سے وائرل ہوئی ہے ۔
    https://youtu.be/iUiZuRiu1f0

  • کشمیراور سیاحت . تحریر: اسامہ ذوالفقار

    کشمیراور سیاحت . تحریر: اسامہ ذوالفقار

    سیاحت معیشت کی آمدنی کو بڑھاوا دیتی ہے ، ہزاروں ملازمتیں پیدا کرتی ہے ، کسی ملک کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دیتی ہے ، اور غیر ملکیوں اور شہریوں کے مابین ثقافتی تبادلے کا جذبہ پیدا کرتی ہے.
    پاکستان کو 2020 کے لئے سب سے بہترین تعطیل کا مقام قرار دیا گیا تھا اور اسے 2020 کے لئے دنیا کی تیسری سب سے اعلی امکانی مہم بھی قرار دیا گیا تھا۔ جیسے ہی ملک میں سیکیورٹی بہتر ہوتی ہے ، سیاحت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    اب بات کرتے ہیں کشمیر کی سیاحت پر کشمیر "پیراڈائز آن ارتھ” کے نام سے مشہور ، جموں و کشمیر اپنی قدرتی شان ، برف سے ڈھکے پہاڑوں ، بہت سارے جنگلات کی زندگی ، شاندار یادگاروں ، مہمان نواز افراد اور مقامی دستکاری کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان ملکی اور ایک حد تک غیر ملکی سیاحوں کے لئے اہم سیاحتی مقام کے طور پر ابھرا ہے۔ وہ پہاڑی مقامات اور قدرتی مناظر ، اور مناسب حفاظت کی فخر کرتے ہیں۔ گوگل کے مطابق 2018 میں ، 1.4 ملین سے زیادہ سیاحوں نے آزاد کشمیر کا دورہ کیا۔

    زرخیز، سبز، پہاڑی وادیاں آزاد کشمیر کے جغرافیہ کی خصوصیت ہیں ، جو اسے برصغیر کا ایک خوبصورت خطہ بنادیتی ہیں۔ مظفرآباد، نیلم ویلی اور جہلم ویلی اضلاع سمیت آزادکشمیر کے علاقوں میں موسم گرما میں انتہائی ٹھنڈا موسم ہوتا ہے جو کہ پاکستان اور دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے. وادی کشمیر خوبصورت مناظر سے بھری ہوئی ہے اور یہاں سیاحوں کی توجہ کے بہت سے مقامات جیسے گنگا چوٹی ، دریائے نیلم ، بنجوسہ جھیل ، پیر چناسی ، منگلا ڈیم ، ٹولائپر اور بہت سے دوسرے شامل ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے ہر سال لوگ ان مقامات کی زیارت کے لئے آتے ہیں۔

    اس کے نتیجے میں ، مقامی معیشت کو ایک بہت بڑا فروغ ملا اور ہم نے بھی شہر میں تیزی سے معاشرتی تبدیلی کا مشاہدہ کیا۔ فاسٹ فوڈ پوائنٹس ، صحت کی دیکھ بھال اور تفریحی سہولیات کی طلب میں بھی اضافہ ہوا اور لوگوں کو ان ریستورانوں اور ہوٹلوں کی ضرورت سے آگاہی حاصل ہوگئی۔ اب ، آزادکشمیر میں چھوٹے سے بڑے بڑے ہوٹل ، فاسٹ فوڈ پوائنٹس اور ریسٹ ہاؤس ہیں جن میں بہتر سہولیات اور بہتر انتظام ہے جس نے سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لئے بہت آسانی پیدا کردی ہے۔

    کسی بھی خطے کے لئے انفرا اسٹرکچر سیاحت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ صرف خوبصورت مقامات ہونا ہی کافی نہیں ہے۔ اس وجہ سے ، ہمارے پاس ایک اچھا انفراسٹرکچر اور روڈ نیٹ ورک بھی ہونا چاہئے تاکہ لوگوں کو ان مشکل مقامات تک پہنچنے کے لئے مشکل اور مشکل سڑک پر مشکل سفر ہونے کے خوف کے بغیر سفر کرنا آسان ہوجائے۔ یہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ ماضی میں لوگ کشمیر جانے نہیں آئے تھے۔ ناران کا اسلام آباد سے فاصلہ 282.2 کلومیٹر ہے اور تولی پیر کا محض 142.2 کلومیٹر ہے لیکن لوگوں نے ناران کی آمد کو اس لئے ترجیح دی کہ صرف ترقی یافتہ انفراسٹرکچر اور وہاں جانے کے لئے آسان اور آرام دہ سفر ہے۔ بڑھتے ہوئے وقت کے ساتھ ، بنیادی ڈھانچے میں پیشرفت ہوئی ہے جس نے آزاد جموں و کشمیر میں سیاحت میں بے حد اضافہ کیا ہے۔ تاہم ، ہمیں خطے میں سڑکوں ، رسائ پوائنٹس اور ہوٹلوں کو مزید بہتر بنانے کے لئے ذہن اور وسائل میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

    @RaisaniUZ_

  • عمران خان کا دورہ ازبکستان .تحریر : ارشد محمود

    عمران خان کا دورہ ازبکستان .تحریر : ارشد محمود

    پاکستان جس طرح کے بڑے بڑے مسائل سے نبرد آزما ہے شاید امریکا جیسے بڑے اور ترقی یافتہ ملک کو بھی نہ ہو ۔ پاکستان کو جہاں اندرونی مسائل کا سامنا ہے وہی پڑوس ممالک میں ہورہی تبدیلیوں کا بھی سامنا ہے کہ ان میں کوئی بھی تبدیلی پاکستان پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان جس طرح سے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ شاید بھٹو مرحوم کے بعد انہی کا خاصا ہے ۔ سازشوں کے جمگھٹے سے اپنے آپ کو نکالنا ہمارے لیے ہمیشہ سے ہی ناممکن حد تک مشکل رہا ہے ۔ افغانستان میں ہورہی جنگ کو آپ کوئی بھی نام دے لیجیے پاکستان ماضی میں بھی متاثر رہا ہے اور شاید مستقبل میں بھی متاثرین میں سرفہرست رہے ۔ ازبکستان کے دورہ میں جس طرح سے پاکستان نے افغانستان کا مقدمہ پیش کرکے اشرف غنی کو آئینہ دکھایا ہے وہ بھی قابل غور ہے ۔ افغانستان میں ہر روز طالبان فاتح کے طور پر نہ صرف ابھر رہے ہیں بلکہ اپنا آپ منوا بھی رہے ہیں۔ ازبکستان کے شہر تاشقند میں وسطی جنوبی ایشیائی رابطہ کانفرنس میں افغانی صدر اشرف غنی نے پاکستانی قیادت کے سامنے بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی تو پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کے سامنے افغانی صدر کے الزامات کو جہاں بے بنیاد قرار دیا وہی بتلایا کہ افغانستان میں امن کی سب سے زیادہ کوشش پاکستان کررہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث ہوگی کہ بھارتی چینل نے پاکستانی وزیراعظم سے پاک بھارت تعلقات بارے من چاہا سوال کیا تو اس کے جواب میں ہندو توا قیادت کا آئینہ دکھا کر بے پروا ہو کر پاکستانی قیادت آگے کو بڑھ گئی اس نے ظاہر کردیا کہ پاکستان اس وقت کس قدر پراعتماد ہوکر اپنے مسائل سے نمٹ رہا ہے ۔

    افغانی نائب صدر اور افغانی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ نے پاکستان پر الزام لگایا کہ پاک فضائیہ نے کہ اگر چمن بارڈر کے قریب أفغانستان کی حدود میں ان طالبان کے خلاف کارروائی کی گئی جنہوں نے سپین بولدک پر قبضہ کیا ہے تو اس کا پاکستان کی جانب سے جواب دیا جائے گا۔’تاہم پاکستان کی دفتر خارجہ نے جمعے کو ہی ایک بیان میں ایسے کسی پیغام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان کے بعض حکام دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کے لیے جھوٹ پر مبنی بیانات جاری کر رہے ہیں حالانکہ پاکستان نے کل ہی سپین بولدک پر طالبان کے حملے کے دوران وہاں سے فرار ہو کر پاکستان پہنچنے والے چالیس افسروں اور اہلکاروں کو واپس افغانستان پہنچایا ہے۔’ اس طرح کے بیانات سے پاک افغان تعلقات میں جو کشیدگی آئے گی اس کا سب سے زیادہ نقصان افغانستان کو ہوگا ۔ پاکستان کسی بھی طرح سے نہیں چاہے گا افغانستان میں امن کا مسئلہ قائم رہے۔ پرامن افغانستان ہی پاکستان کے حق میں ہے ۔ ماضی میں افغانستان سے جس طرح سے دراندازی ہوتی رہی ہے وہ ظاہر کرتی ہے افغان صدر اور ان کے لوگ بالواسطہ یا بلا واسطہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں ۔ افغان قیادت کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے تاکہ پاکستان بغیر کسی حیل و حجت کے ان کے ساتھ کھڑا رہے ورنہ تو پاکستان کے پاس آپشن موجود ہے۔