Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان اورافغان امن . تحریر: فرزانہ جنت

    پاکستان اورافغان امن . تحریر: فرزانہ جنت

    افغانستان اورپاکستان خطے میں انتہائی اہمیت کے حامل دو اسلامی برادر ملک ہیں. پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اسلام ہمیں پر امن طریقے سے زندگی گزارنے کا درس دیتا یے. بحیثیت مسلمان یہ ہم پاکستانیوں کا مذہبی فریضہ ہے کہ خطے میں امن و امن کو برقرار رکھیں. اسی لئے پاکستان اپنے ملک اور باقی تمام اسلامی و غیر اسلامی ممالک میں امن چاہتا ہے.

    پاکستان ہمیشہ سے افغانستان کا خیر خواہ.رہا ہے. مستحکم اور خوشحال افغانستان اپنے اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے بھی مفاد میں یے. کیوں کہ افغانستان میں امن کا مطلب ہے پاکستان میں امن__ خطے میں امن و استحکام افغانستان میں دیرپا امن سے منسلک ہے
    ہمارے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ ایک پرامن افغانستان کا مطلب بالعموم ایک پرامن خطہ اور بالخصوص ایک پرامن پاکستان ہے ، اور کہا : "ہم ہمیشہ ‘افغان امن عمل’ کی حمایت کریں گے۔”

    پوری تاریخ میں ، پاکستان واحد طاقت رہی ہے جو واقعتا یہ سمجھتی ہے کہ افغانستان میں استحکام اور قیام امن ازحد ضروری ہے. پاکستان سے زیادہ کسی اور ملک نے افغانستان میں امن کی خواہش نہیں کی۔ پاکستان نے افغان امن عمل کی لئے لازوال قربانیاں دی ہیں. ہزاروں قیمتی انسانی جانوں کے ساتھ کھربوں روپے مالیت کا معاشی بوجھ برداشت کیا. معاشی و اقتصادی پابندیاں اس کے علاوہ ہیں. چالیس سال سے زائد عرصہ سے لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں قیام پذیر ہیں جن کی وجہ سے ملک کو منشیات، ناجائز اسلحے کی بہتات اور امن وامان کے حوالے سے سنگین مسائل نے لپیٹ میں لیے رکھا. ان تمام نہ مساعد حالات کو برداشت کیا گیا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ افغان امن کے بغیر خطے کی سلامتی اورپاکستان کے استحکام کوممکن نہیں بنایا جا سکتا۔ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لئے ٹھوس کردار ادا کیا اور افغان طالبان اور عالمی برادری کے درمیان کامیاب مذاکرات کی راہ ہموار کی۔ پاکستان کے اندرونی حالات چاہے پیچیدہ ہوں لیکن پاکستان کبھی دوسرے ملک کا برا نہیں سوچ سکتا ہے. یہ پاکستان کی ہی مخلصانہ کوششوں کا ثمر ہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان تاریخ ساز امن معاہدہ طے پایا.

    اس سب کے باوجود پاکستان پر الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ پاکستان امن کی راہ میں رکاوٹ ہے اور دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے. لیکن یہ صرف بےبنیاد الزامات ہیں . جن کی حقیقت کچھ بھی نہیں. حقیقت میں ، پاکستان نے افغانستان میں صرف اسٹریٹجک استحکام اور امن کی کوشش کی ہے۔ پاکستان پورے خطے میں استحکام چاہتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے ان شاء الله. ہمیشہ انکی مدد کرے گا

    @_J786

  • اردو زبان کا زوال . تحریر : طلحہ

    اردو زبان کا زوال . تحریر : طلحہ

    أردو زبان کا زوال کی جانب بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث ہماری روایات، معاشرتی اقدار، اخلاقیات، طور طریقے حتیٰ کہ چال چلن سب کچھ تبدیل گا جن ہوچکا، گویا یوں سمجھئے ہم نے غیر لوگوں کی زبانوں کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہم جس معاشرے کا حصہ بنتے جارہے یا بن چکے ہیں قوی امکان اورگہری أمید وابستہ کی جاسکتی ہے کہ ہمارا اردو زبان سے مکمل تعلق ختم ہو جائے گا، یا پھرہم اردو زبان کو فقط اپنی قومی زبان ہی کہہ سکیں گے اس بڑھ کر کچھ نہیں غیر قانونی اور غیر پسندیدہ زبانیں جس قدر ہمارے دماغ، ہمارے جسم میں پیوست ہوتی جارہی ہیں جس طرح ہمارے معاشرے کا لازمی جزو بنتی جارہی ہیں ہم بجائے ترقی کریں ہم دن بدن نیچے جارہے ہیں.

    کیونکہ جو قوم اپنی قومی زبان کو اپنے گھروں، اپنے معاشرتی اقدار و روایات، اپنی تعلیم، اپنے طور طریقے میں رائج نہیں کرسکتی وہ قوم مشکل ہی کیا کبھی بھی ترقی کا ہلکا سا مزہ بھی نہیں چکھ سکتی، ہماری قومی زبان اردو کی تباہی کے زمے دارانگریزوں کی نحوست تو ہے ہی ہم بھی قومی زبان کی تباہی اورپستی کے برابرکے قصور وارہیں أردو کی تنزلی کی صورتحال کا آپ اس ایک بات سے لگا لیں حال ہی میں گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران احمد خان نیازی نے ایک مراسلہ جاری کیا کہ آئندہ جو بھی قومی یا سرکاری تقریبات منعقد ہوں گی یا کوئی بھی سرکاری سیمنار منعقد کیا جائے گا اسکو أردو زبان میں رائج کیا جائے گا دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی مراسلے کو انگلش زبان میں شائع کیا گیا اس قدر اردو زبان کی پَستی کا اندازہ شائید ہی کبھی نہ ہو مطلب ہم مکمل بے حِس اور لاچار ہی یہاں پراس امرکا ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے.

    ہم انگلش کے نام پراس قدرغلام ہوچکے ہیں کہ انگریزی ہمارے معاشرے کا لازمی جزو بنتی جارہا ہے، غیر محسوس طریقے سے اورجس انداز سے أردو کا زوال شروع ہوا وہ اب تک جاری ہے نا جانے کب رکے، ہمارا تعلیمی لیول میں انگریزی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے پہلے پڑھائی کرنے والے کو طالب علم کہتے تھے اب سٹوڈنٹس بن گئے ہیں اردو کی بے بسی اور تنزلی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ طالب علم سے لے کر سٹوڈنٹس تک آتے آتے ہم اپنی قومی زبان کو مکمل بھول چکے ہیں.

    میرا وزیراعظم عمران احمد خان نیازی سے مطالبہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام سے لے کر ریاستی نظام اورمعمالات میں اردو زبان کو فوری رائج کریں تاکہ قوم اپنی اردو زبان کا ہر موقع پر استعمال کرتے ہوئے عظیم قوم بن سکے۔

    @Talha0fficial1

  • بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی کرنا . تحریر: شمس الدین

    بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی کرنا . تحریر: شمس الدین

    سگریٹ نوشی کرنا صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے. کچھ لوگ شروع شروع میں سگریٹ شوق کی خاطر یہ کسی پارٹی وغیرہ میں دھواں اڑانے کی خاطر پیتے ہیں. پہر آہستہ آہستہ ان لوگوں کو سگریٹ نوشی کی لت لگ جاتی ہے. ان کا شوق مجبوری بن جاتی ہے. پہر سگریٹ سے جان چھڑانہ انتہائی مشکل ہوجاتی ہے.

    سگریٹ کا نشہ بہت عام ہوچکا ہے سگریٹ بہت عام ہوچکا ہے ہر جگہ ہر شہر میں باآسانی مل جاتا ہے. جو لوگ سگریٹ کے عادی ہیں سگریٹ چھوڑنا ان کے لیے مشکل ہے لہٰذا ان لوگوں سے گذارش ہے کبھی بھی اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ مت پیئں. اس سے آپ کا بچہ بھی سگریٹ کی لت میں آجائیگا. جب آپ اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ پیئں گے تو وہ بچے بھی سگریٹ کے عادی بن جائیں گے. بچے تو بچے ہوتے ہیں ان کو پتا نہیں ہوتا کیا چیز درست ہے کیا غلط ہے کون سی چیز صحت کے لیے اچھی ہے کون سی متاثرکن.

    آپ اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ پیئں گے تو لازمی ہے اس کا اثر آپ کے بچوں پر پڑیگا. ظاہری بات ہے جب آپ کا بچہ آپ کو سگریٹ پیتے دیکھے گا تو کل آپ کا بچہ بھی سگریٹ پینے لگے گا. ایسا ہوتا ہے اولاد بھی اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتی ہے. والدین کو خاص کر باپ کو چاہیے کبھی بھی اپنی اولاد کے سامنے سگریٹ مت پیئے. اس طرح آپ کی نوجوان اولاد بری عادت میں مبتلا ہوسکتی ہے.

    تمام والدین سے گذارش ہے اپنی اولاد کے سامنے کبھی بھی سگریٹ نوشی مت کریں. آج نہیں تو کل آپ کا بچہ بھی سگریٹ کی بری عادت میں مبتلا ہوسکتا ہے. پہر ایسا نہ ہو آپ کا بچہ سگریٹ کی بری عادت پر چل پڑے اور جب آپ اسے منع کریں تو وہ آپ کا کہنا نہ مانے! ایسا ہوتا ہے جوان اولاد جب باپ کے سامنے کھڑی ہوتی ہے تو باپ کے لیے بھی مشکل ہوجاتی ہے کے اپنی اولاد کو کیسے درست راہ پر لیکر آئیں.

    اکثر دیکھا ہے جب باپ کسی نشے کا عادی ہوتا ہے اور وہ اپنے بچوں کے سامنے نشہ کرتا ہے تو اس کا اثر اس کے بچوں پر پڑتا ہے. پہر آہستہ آہستہ اس کے بچے بھی اسی نشے کی عادی بن جاتے ہیں. والدین کبھی نہیں چاہیں گے کے اس کی اولاد نشہ جیسی بری عادت میں مبتلا ہوجائے. والدین تو چاہتے ہیں اس کی اولاد ایسے برے کاموں سے دور رہیں. تو اس لیے یہ والدین کی ذمہ داری ہے کے وہ اپنی اولاد کو صحیح راستہ دکھائیں یا غلط یہ سب ان تمام والدین پر فرض ہوتا ہے.

    ہم امید کرتے ہیں وہ تمام والدین جو سگریٹ کی بری عادت میں مبتلا ہوچکے ہیں. وہ کبھی بھی اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ نہیں پیئں گے. میں ان تمام والدین کو ہاتھ جوڑ عرض کر رہا ہوں اپنا نہ صحیح اپنی اولاد کا خیال کریں اپنی اولاد کو بری عادتوں سے بچائیں. سب پہلے تو آپ خود اس بری عادت سے جان چھڑوائیں اگر آپ بہت دور نکل چکے ہیں آپ سے یہ بری عادت نہیں چھوٹ رہی تو کم از کم اپنی اولاد کو اس بری عادت سے دور رکھیں. اپنے بچوں کو بری عادتوں سے محفوظ رکھیں.

    @shamsp6

  • عید قربان اور انسان .تحریر : شانزے علی

    عید قربان اور انسان .تحریر : شانزے علی

    عید کا تہوار قریب تر ھے،ہر طرف گہما گہمی کا عالم ھے،بچے بوڑھے اور جوان سر گرم نظر آ رھے ھیں۔گائے ، بیل،بکرے،بھیڑ ،اونٹ جگہ جگہ بندھے ھوئے ھیں۔بچوں کا شور ،بڑوں کی آوازیں اس پر جانوروں کی دوڑ اور نوجوانوں کی شرطیں۔
    زبردستی چارہ کھلانے اور پانی پلانے کاجنون۔
    اک عجب سا منظر ھے شاید جانور بھی سوچ رہا ھے جانور کون ھے؟؟
    میرے گھر کی تیسری منزل سے کئی روز سے میں یہ مناظر دیکھتی ھوں اونٹوں کی نکیل ان کی ناک سے جڑی ھوتی ھے۔بچے اس رسی کو بے دردی سے کھینچتے ھوئے اونٹ کو زبردستی بھاگنے پر مجبور کرتے ھیں۔اور جب وہ رکتا نہیں ھے تو نکیل کو جھٹکا دے کر روکنے کی کوشش کرتے ھیں ۔
    کیا وہ جاندار نہیں؟کیا اسے درد نہیں ھوتا؟کیا قربانی سے پہلے وہ آپکا کھلونا ھے؟؟
    دوسری جانب گلی میں ایک بیل ھے جو دو بار رسہ تڑوا کر بھاگ چکاھے اور کل اس کی گردن پر رسہ کھینچنے کی وجہ سے زخم ھو گیا ھے۔
    کسی نے وجہ جانی یا سوچا؟
    جب جانور کے کھیتوں یا کسی فارم ہاؤس یا ڈیری فارم سے لایا جاتا ھے نازوں سے رکھا جاتا ھے۔وقت پر کھلایا پلایا اور نہلایا جاتا ھے۔
    یہاں گرمی ،غلاظتوں کا ڈھیر اس پر شور اسے تکلیف دیتے ھیں۔ پھر وہ بھاگتا ھے اور انسان عید کے گوشت کے پیچھے بھاگتا ھے۔

    کیا قربانی گوشت کا نام ھے؟
    وہ گوشت جسے بس ذبح کرو،فریز کرو،مہینوں جمع رکھو،رشتے داروں میں شاپر بھر بھر بانٹو جو خود بھی قربانی کرتے ھیں؟؟
    باربی کیو بناؤ؟؟پارٹیاں اڑاؤ؟
    ذرا سوچئے!!کیا آپ کو عید قربان کا معنی و مفہوم معلوم ھے؟؟ اسی کی مخلوق کو درد اور تکلیف میں ڈال کر اپنا اور اپنے بچوں کا نفس خوش کر کے کیا قربان کر رھے ھیں آپ گوشت یا اپنی پیار سے پالی ھوئی چیز راہ خدا میں رضائے خدا کے لئے ؟

  • کرکٹ کا عالمی چیمپئن 1992 . تحریر: انس حفیظ

    کرکٹ کا عالمی چیمپئن 1992 . تحریر: انس حفیظ

    کرکٹ کا عالمی چیمپئن 1992

    ایک تاریخ ساز لمحہ جسے دوہرانے کا خواب ہم ہر چار سال بعد دیکھتے ہیں مگر نامراد لوٹتے ہیں۔ 1992 کا عالمی کپ جیتنا بے شک پاکستانی تاریخ کے چند عظیم ترین اور قابل فخر کارناموں میں سے ایک ہے۔

    بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کا تکا لگا یہ بالکل غلط بات ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ورلڈکپ سے قبل پاکستانی ٹیم شدید انجری مسائل سے دو چار ہوئی دو ورلڈ کلاس کرکٹرز اور میچ ونرز سعید انور اور وقار یونس انجرڈ ہو کر ورلڈ کپ سے باہر ہو گئے عمران خان کو کندھے کا مسلہ تھا اور وہ باؤلنگ نہیں کروا پا رہا تھا۔ وسیم اکرم فارم میں نہیں تھا سلیم ملک بھی آؤٹ آف فارم تھا جاوید میانداد بھی کافی عرصے بعد ون ڈے ٹیم میں واپس آیا تھا۔

    یہ صورتحال یقینی طور پر انتہائی تشویشناک اور خطرناک تھی مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ تھا کہ پچھلے تین سال میں پاکستانی ٹیم دنیا کی دوسری کامیاب ترین ٹیم چل رہی تھی۔ اس عرصے میں صرف آسٹریلیا کا ریکارڈ پاکستان سے بہتر رہا تھا۔

    تو ایک انتہائی تگڑی اور شاندار مگر ٹوٹی اور بکھری ٹیم کو بس واپس جوڑنا تھا اعتماد دینا تھا اور یہ فریضہ عمران خان نے بخوبی سر انجام دیا۔ اس کے بعد کی تاریخ سب جانتے ہیں

    تحریر: انس حفیظ

  • شاید کہ کسی دل میں اتر جائے میری بات .تحریر۔ ہماعظیم

    شاید کہ کسی دل میں اتر جائے میری بات .تحریر۔ ہماعظیم

    ‏یہ تحریر ہر لڑکی کے لٸیے ہے۔۔کیونکہ اس نے کبھی نہ کبھی ماں بننا ہے۔ اور ایک نسل کی زمہ دار ہے ہر لڑکے کے لٸیے بھی کہ وہ ایک نسل کا محافظ ہوگا
    یہ بات زہن میں رہنی جب بچہ کوکھ میں ہوتا ہے تو بچے کی فطرت بنتی ہے۔۔اور فطرت کبھی نہیں بدلتی۔۔اور فطرت بناتی ہے ماں۔۔
    ماں ہر حرکت بچے میں منتقل ہوتی ہے۔۔ماں کا دیکھنا سننا کوٸی کام کرنا۔۔۔
    سو صرف نو ماہ عورت ‏اللہ کے لٸیے گزارو۔۔روزہ رکھے آنکھوں کا کانوں کا ہاتھوں کا منہ کا۔۔بےشک نیک ہو پاک ہو ۔۔مگر گانے دیکھے گی۔کوٸی فحش ویڈیو۔۔کوٸی فضول ڈرامہ یا فلم۔۔بچے پر کہیں نہ کہیں اثر پڑے گا۔۔ماں جھوٹ بولے گی۔۔غیبت کرے گی۔۔کوٸی چیز بنا پوچھے لے کر استعمال کر لے گی بچےپر اثر آۓ گا۔۔ماں کسی غلط ‏ارادے سے چل کے جاۓ گی۔۔پھر بعد میں سوچے گی میرا بچہ غلط رستے پر کیسے نکل گیا۔۔

    ایک ماں کا واقعہ ہے۔۔وہ ایک بزرگ کے اس پہنچی اور کہا۔۔میرے بچے نے آج چوری کی۔۔جب کہ میں نے اسکی تربیت ایسی نہیں کی۔۔۔
    بزرگ نے کہا تم یاد کرو تم نے حمل کے دوران کچھ ایسا کام کیا ہوگا جو تمہیں نہیں ‏کرنا چاہیٸے تھا۔۔وہ عورت سوچنے لگی۔پھر بولی ہاں میرے پڑوس میں ایک پھلدار درخت ہے۔۔حمل کے دوران ایک آنگن میں بیٹھی تھی کہ پھل کی کچھ ڈالیاں لٹک کر میرے گھر آرہیں تھی۔۔میرے دل نے چاہا میں کھا لوں۔۔اور بنا پوچھے میں نے اس میں سے کچھ کھا لیا۔۔۔
    بزرگ بولے بس تمہیں جب شیطان نے بہکا دیا

    اسی طرح جب شیخ عبدaلقادر جیلانی اس دنیا میں تشریف لاۓ تو انہیں چودہ سپارے مادر شکم سےحفظ تھے۔۔معلوم پڑاکہ والدہ حالت حمل میں قرآن کی تلاوت کیا کرتی تھیں۔۔
    ‏اب آپ اندازہ لگا لیں۔۔۔کتنا اثر ایک ماں کا اسکی اولاد پر۔۔ماں کو اگر کوٸی درجہ دیا گیا ہے تو یہی وجہ ہے وہ اپنا دل مارتی ہے۔چاہت ختم کر دیتی ہے اولاد کے لٸیے۔۔احساس میں صرف وہ درد ہوتا ہے جو اولاد کے لٸیے ہوتا ہے۔تو آج بھی خالید بن ولیدؒ۔قاسمؒ اور غزنویؒ پیدا ہو سکتے ہیں۔جو ماں قربانی ‏دے گی اس کے بچے وہ پیدا ہونگے دنیا اس پر قربان جاۓ گی
    فطرت کے بعد بنتی ہے عادت جو ماں کی گود اور ماں تربیت جب تک بچہ اس کی دسترس میں رہتا ہے باہر نہیں نکلتا۔دوست نہیں بناتا۔۔تب تک ماں کی محنت ہے کہ وہ بچے کو کون سے سانچے میں ڈھالتی ہے۔اچھے برے اور غلط صحیح کا کیا معیار اس کےدماغ ‏میں ڈالتی ہے۔اسے معاشرے کے لٸیے سود مند بناتی ہے یا پھر زمانے کے لٸیے ایک مشکل بنا دیتی ہے۔یہ ایک ماں ہاتھ میں ہے

    فطرت کے بعد آتی ہے عادت۔ یہ بھی ماں کا ہنر ہے بچہ جب تک گود میں ہے آپکی دسترس میں ہے۔آپ کی حرکات سکنات اپ کی باتیں ماں کا سمجھانا ماں اس کے سامنے اس کے ساتھ جو روٹین بناٸیں گی۔۔۔اس کے زہن میں نقش ہوتی جاۓ گی اور بڑھاپے تک اس کے ساتھ رہے گی۔
    جب بچہ گود سے نکل جاتا ہے باہر کی ہوا کھاتا ہے تو پھر وہ لوگوں کو دیکھتا سمجھتا ہے۔۔پھر امتحان شروع ہوتا ہےماں کی دی فطرت کا بناٸی گٸی عادت کا۔
    وہ پھر زمانے سے لڑنا سیکھتا ہے یہ دونوں چیزیں اس کا بازو اس کی طاقت بنتی ہیں۔وہ اپنا رستہ چنتا ہے صحیح یا غلط۔۔اگر اوپر کی لاٸینز کے مطابق ماں کوشش کر گٸی ہے تو براٸی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
    ماں کے بعد کردار ہے باپ کا کلیدی مضبوط کردار۔
    باپ کے عہدے پر فاٸز مطلب اپنی نسل کا زمہ دار ہونا
    جیسے عورت کا مرتبہ اسے ایسے نہیں ملتا۔۔وہ ماں بنتی بچے کی عادت اور فطرت میں جتنا اسکا ہاتھ ہے اتنا ہی باپ کا ہاتھ ہے۔۔۔
    والد کی کماٸی ۔والد کا رویہ۔اس بچے کے اوپر اثر انداز ہوتا ہے۔
    والد حلال کماٸی اسے ولی بنا دیتی ہے حرام نوالہ اسے معاشرے پر بوجھ بنا دیتا ہے۔ حرام کماٸی معاشرے میں ایک شیطان کا اضافہ کر سکتی ہے
    والد کا رویہ بچے کے لٸیے رول ماڈل ہے۔والد کا
    لہجہ اس کا لہجہ بناتا ہے۔آج باپ جو اپنے گھر والوں کے لٸیے ہے۔۔کل وہ بنے گا ۔
    لہزا ایک باپ ہونے کے ناطے اپنے اوپر ایسے توجہ دی جاۓ جیسے کسی کے آگے پیش ہونا ہے۔ایک باپ کو اپنا اخلاق اور رویہ ‏اپنے اقدار کو ایسے سنوارنا چاہٸیے کہ اس نے اللہ سے پہلے اپنی اولاد کے آگے پیش ہونا ہے۔۔پھر وہ اسے دیکھ کے آگے والوں کے آگے اور اللہ کے پیش ہونے کے قابل بنے گی

    شاید کہ کسی دل میں اتر جائے میری بات

    @DimpleGirl_PTi

  • اچھا ہم سفر روح کا ساتھی .تحریر: فرزانہ شریف

    اچھا ہم سفر روح کا ساتھی .تحریر: فرزانہ شریف

    کہتے ہیں اچھا ہم سفر قسمت سے ملتا ہےجب دو لوگوں کا نکاح ہوتا ہے اس میں ایک قسم کا عہد ہوتا ہے کہ ہر دکھ درد میں ساتھ نبھانا ہے کسی ایک پر کوئی تکلیف یاآزمائش آنے پر فصلی بٹیرے بن کر اڑ نہیں جانا بلکہ آخری سانس تک ساتھ نبھانا ہے یہ ہی خاندانی بیٹیوں کی پہچان ہوتی ہے
    اللہ سے دعا کرتی رہیں۔ وہ آپکو جسم کا ہی نہیں، روح کا ساتھی عطا کرے۔ جو آپکی عزت کرنے والا ہو، قدر کرے، محبت کرے۔ آپ دونوں ایک دوسرے کے حق میں بہترین، نفیس، آرام دہ لباس ثابت ہوں۔ مودت اور رحمت والا رشتہ ہو۔ ایک دوسرے کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون بنیں۔
    اللہ سے مانگیں ہر وہ چیز جو آپ اپنے شوہر میں دیکھنا چاہتی ہیں۔ وہ عرش کے خزانوں کا مالک ہے۔ سب کو سب کچھ عطا کر دینے پر بھی اس کے پاس کمی نہیں آتی وہ آپکے گمان کے مطابق آپکو اپنے فضل سے نواز دے تو شوہر کے دل کا سکون بننے کے لیے آپ ہر ممکن ہر حال میں ساتھ نبھانے کا دل میں پختہ ارادہ کرلیں غم و خوشی میں شوہر کی خوشی مقدم رکھیں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کی اس کے سر پر 24 گھنٹے سوار ہوجائیں تھوڑی سپیس بھی دیں کہ وہ اپنی مرضی سے سانس بھی لے سکیں اسی طرح شوہر کو بھی اپنی بیوی کو اپنی محبت کا مان دینا چاہئیے
    ممکن ہے کہ آپ شادی سے پہلے کسی اور کو پسند کرتے ہوں پہلی بات تو یہ ہے آپ نے اپنی پسند آخری حد تک حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے تھی اگر آپ ناکام ہوگے ہیں تواپنے دل ودماغ کو اس بات کے لیے راضی کرلیں کہ اب یہی عورت آپ کی محبتوں کی اصل حقدار ہے جو اپنے پیارے چھوڑ کر آپ کے پہلو میں موجود ہے۔ اس کے ساتھ شرارت کریں،اپنی محبت سے اسے تحفظ کا احساس دلائیں

    بالکل جیسے آپ کو صاف ستھری بیوی اچھی لگتی ہے، بیوی کا بھی حق ہے کہ آپ hygiene کا خیال رکھیں۔ اس کے پاس صاف ستھرے ہو کر جائیے۔ اپنے لمحات خوبصورت بنائیے۔ Make her feel loved, not used.
    آپ کے ساس سسر نے کئی سال پال پوس کر اپنی اولاد آپ کے حوالے کی ہے۔ ان کا احترام کریں۔ بیوی بھی آپ کے گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے رہے آپ اپنے بہین بھائیوں پر خرچ کریں تو منہ بسور کر نہ بیٹھ جائے بلکہ ہر معاملے میں آپ کی طاقت بنے نہ کہ کمزوری ہمیشہ اپنے شوہر کی وفادار بن کر رہیں اور وہ اپ کی وفادار رہیں۔
    اپنے شوہر کے لیے خود کو سنوار کر رکھیں اپنی پرسنیلٹی میں کانفیڈینس کے لئے اپنا مخصوص سٹائل۔بنائیں
    جیسےاپنے خاص انداز سے دوپٹہ اوڑھنا۔
    جو accessories پسند ہیں, انہیں سلیقے سے استعمال کریں جیسے ٹراؤزر کیساتھ کرتے پہننا؟یا شرٹ کے رنگوں کے حساب سے ٹراؤزر ۔اہم چیز یہ نوٹ رکھنی ہے آپ پر سوٹ کیا چیز کررہی ہے
    میک اپ کرنا یا نہ کرنا جس سٹائل میں بھی آپ خود کو کمفرٹیبل سمجھتے ہیں، اسے اپنا سگنیچر سٹائل بنالیں اور پورے کانفیڈینس کےساتھ اپنے ہم سفر کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلیں
    میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں
    اللہ سبحان و تعالی آپ کے رشتوں میں برکتیں دیں
    اللہ نبی ﷺ اور خدیجہؓ والا ساتھ نصیب کرے۔ آمین

  • مرد مجاہد .  تحریر: سیف اللہ عمران

    مرد مجاہد . تحریر: سیف اللہ عمران

    تاریخ انسانی میں کئی عظیم انسان آئے کئی آئیں گے لیکن ان میں سے مرد مجاہد بہت ہی کم آئیں ہیں میرا موضوع اس دور کا مرد مجاہد وزیر اعظم پاکستان عمران خان ہے 5 اکتوبر 1952 کو شوکت خانم کی گود سے جنم لینے والے اس عظیم انسان نے جس میدان میں قدم رکھا اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطاء فرمائی عمران خان کی پہلی وجہ شہرت کرکٹ ہے عمران خان کا ڈیبیو 1971 میں ہوا پہلے میچ کے بعد آپ کو آپ کو ٹیم سے باہر کر دیا گیا لیکن عمران خان اور ہار مان لے یہ نا ممکن ہے عمران خان نے ٹیم سے باہر رہتے ہوئے انتہائی سخت محنت کی اورپہلے سے زیادہ اچھے آل راؤنڈربن کر ابھرے عمران خان شاندار کارکردگی کے باعث 1982 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے اس طرح عمران خان کے شاندارکپتانی کیریئرکا آغازہوا

    عمران خان پاکستان کی تاریخ کے سب سے کامیاب کپتان ہیں عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے عظیم ترین فتوحات حاصل کیں پاکستان نے پہلی دفعہ انڈیا کوانڈیا میں شکست دی پاکستان نے انگلینڈ کوانگلینڈ میں ہرایا اور اس طرح پاکستان کے اچھے دن شروع ہو گئے
    1987 ورلڈ کپ عمران خان کے لیے ایک اہم ایونٹ تھا کیوں کہ عمران خان کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان کر چکے تھے اور عالمی کپ جیتے بغیر یہ مشکل تھا پاکستان ٹیم شاہینوں کی طرح میدان میں اتری کئی فتوحات حاصل کیں لیکن بد قسمتی سے سیمی فائنل میں شکست ہوئی اورعمران خان نے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا

    لیکن پاکستانی عوام کی پرزوردرخواست پرعمران خان نے ریٹائرمنٹ واپس لے لی اور؛کرکٹ کے میدان میں ایک بار پھر قدم رکھ دیا اب پاکستان کی کرکٹ تاریخ کا سب سے تاریخی ایونٹ 1992 کا ورلڈ کپ آ چکا تھا لیکن قومی ٹیم کے دو اہم کھلاڑی سعید انوراور وقار یونس زخمی ہو کر ٹیم سے باہر ہو گئے اس وقت عمران خان نے حوصلہ نہ ہارا ٹیم کا مورال بلند کیا ابتدائی شکستوں کے با وجود ٹیم کی امید نہ ٹوٹنے دی کواٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز کی مضبوط ٹیم کو شکست دے سیمی فائنل میں پاکستان نے انضمام الحق کی شاندار اننگ کی بدولت نیوزی لینڈ کو زیر کیا اورپاکستان فائنل میں پہنچ گیا فائنل شروع ہوا عمران خان اپنی کارنرڈ ٹائیگر شرٹ کے ساتھ ٹاس کیلئے آۓ پاکستان ٹاس جیتا بیٹنگ کا آغازہواعمران خان ایک کھلاڑی آؤٹ ہوتے ہی کھیلنے آ گئے اورفاتحانہ اننگ کھیلی. میچ کا اختتام بھی عمران خان کی جانب سے لی گئی وکٹ سے ہوا یوں عمران خان کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امرہوگئے.

    ایک مقصد یہاں پورا ہوا اب اگلے کی باری تھی یہ مقصد شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر تھی عمران خان نے دنیا بھرمیں تحریک چلائی اور نہ صرف شوکت خانم ہسپتال بنایا بلکہ چلا کر بھی دکھایا اس کے بعد آتی ہے سیاست عمران خان نے 1996 میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا تحریک انصاف کے نام سے جماعت بنائی لیکن 1996 میں وہ اپنی نشست بھی نہ جیت سکے لیکن وہ عمران خان ہی کیا جو ہمت ہار جائے وہ مرد مجاہد دوبارہ کھڑا ہوا 2002 میں ایک نشست جیتی 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا 2013 میں آپ کی جماعت اپوزیشن آئی اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں آپ کی جماعت حکومت میں آئی عمران خان کی انتھک محنت سے آپ کی جماعت 2018 میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت بنی اور عمران خان نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا اب وہ اپنے مقصد”نیا پاکستان” کی تکمیل کی کوشش کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس مقصد میں بھی کامیابی عطاء فرمائے آمین

    @Patriot_Mani

  • سر زمین اقصیٰ روتی ہے!   تحریر  آٸمہ چودھری

    سر زمین اقصیٰ روتی ہے! تحریر آٸمہ چودھری

    انبیاء کی سر زمین فلسطین کو یہودی ریاست میں تبدیل کرنا مشرق وسطیٰ کے بحران کی بنیادی وجہ ہے۔ یہودیوں کے ان ناپاک عزاٸم کی ابتداء 1857ء میں تھیوڈر ہرزل کی تحریک پر پہلی صہیونی کانگرس میں ہوٸی۔ مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ یہاں کے مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف (عربی: الحرم القدسی الشریف) کہتے ہیں۔ یہ مشرق میں یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل قابض ہے۔ میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجاٸش کے ساتھ یہ دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2000ء میں الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔ مسجد اقصی کے نام کا اطلاق پورے حرم قدسی پر ہوتا تھا جس میں سب عمارتیں جن میں اہم ترین قبۃ الصخرۃ ہے جواسلامی طرز تعمیر کے شاندار نمونوں میں شامل ہے۔ تاہم آج کل یہ نام حرم کے جنوبی جانب والی بڑی مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔ یروشلم/بیت المقدس میں مسجد اقصی کے قریب موجود ایک تاریخی چٹان کے اوپر سنہری گنبد کا نام ہے۔ الصخرۃ (Dome of the Rock) کہا جاتا ہے۔ یہ اونچی عمارت پچھلی تیرہ صدیوں سے دنیا کی خوبصورت ترین عمارتوں ميں شمار ہو رہی ہے۔ اور حرم قدسی کا ایک حصہ کہلاتی ہے۔ یہاں کے رہنے والے (مسیحی اور یہودی) اسے (Dome of the Rock) کہتے ہیں۔ عربی زبان میں قبۃ کا مطلب گنبد اور الصخرۃ کا مطلب چٹان ہے۔
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معراج کے سفر کے دوران مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ پہنچے تھے اور یہاں تمام انبیا کی نماز کی امامت کروائی۔

    قرآن مجید کی سورہ بنی الاسرائیل میں اس کا ذکر اللہ پاک نے ان الفاظ میں فرمایا :

    ” پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے تا کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالٰی ہی خوب سننے اوردیکھنے والا ہے (سورہ الاسرائیل آیت نمبر 1)ایک حدیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں ، کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے۔

    حضرت عمر فاروق کے دور میں جب مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو حضرت عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا اور یہاں انہوں نے اپنے ہم راہیوں سمیت نماز ادا کی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ( بنی اسرائیل) کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔

    اس کا رقبہ 144000 مربع میٹر ہے۔احاطہ اقصیٰ کے چودہ دروازے ہیں۔ تاہم صلاح الدین ایوبی نے جب اس مسجد کو آزاد کروایا تو اس کے چاروں دروازوں کو بعض وجوہات کی بنا پر بند کروادیا, یایوں موجودہ دروازوں کی تعداد دس ہے۔

    ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان اگست 1969ء کو قبلۂ اول کو آگ لگا دی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرق کی جانب سے عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔اسی دوران محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہو گیا جسے سلطان صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اول کی آزادی کے لیے تقریبا 16 جنگیں لڑیں اور دوران جنگ وہ اس منبر کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تا کہ فتح ہونے کے بعد اس کو مسجد میں نصب کریں۔
    چونکہ یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اس عبادت گاہ کو گرا کر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں جب کے وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل یہ ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔
    عالم اسلام کی تاریخ کی ورق گردانی مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت اور اس کی بنیاد کے مکمل ، ٹھوس اور واضح ثبوت رکھتی ہے۔

    گزشتہ 73 برس اسرائیل وقتاً بوقتاً فلسطینیوں پر حملے کرتا آ رہا ہے، جس میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور لاکھوں نقل مکانی پر مجبور کیے گئے۔اسرائیلی کارروائیوں سے 7 سے 18 مئی 2021 کی سہ پہر تک 58 بچوں اور 34 خواتین سمیت 201 افراد جاں بحق ہوچکے تھے.رواں برس فلسطین تنازعے کے طور صیہونی ریاست اسرائیل نے مسلمانوں کے لیے اہم مہینے رمضان المبارک میں مقدس ترین رات ليلۃ القدر کے موقع پر فلسطینیوں پر مظالم اور حملوں کا آغاز کیا۔ عالمی ادارہ اقوام متحدہ سمیت دنیا کے تمام ادارے فلسطین کی سرزمین ہر ہونے والی دہشت گردی کو اسرائیل – فلسطین تنازعے کے طور پر رپورٹ کرتے ہیں، جبکہ پوری مسلم دنیا سمیت دنیا کے 135 سے زائد ممالک کو اس پر اعتراض رہتا ہے۔

    حال ہی میں ہونے والی اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ مسلمانوں کے خون سے سرخ ہو چکی ہے۔ اور ان بے ضمیر اسرائیلی افواج نے بربریت کی انتہا کر کے بالخصوص مسلمان فلسطینی بچوں کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کی نسل کشی کی طرف اقدام اٹھاۓ ہیں۔علاوہ ازیں غزہ شہر بمباری کے نتیجے میں بری طرح تباہ ہوا ہے۔
    اسی طرح اسرائیلی دہشت گردی مہذب دنیا اور اقوام عالم کی متحدہ قیام امن کی کاوشوں پر سیاہ دھبہ کی مانند ہے۔
    اسرائیلی ظلم و تعدی کے مقابلے اور مسجد اقصیٰ کے دفاع کی خاطر مسلمانوں کو مالی، جانی، اخلاقی اور سیاسی طور پر فلسطینی عوام کا ساتھ دینا ہو گا۔

  • خطے کوآگ وخون میں دھکیلنے کا مودی پلان . تحریر : فرمان اللہ

    خطے کوآگ وخون میں دھکیلنے کا مودی پلان . تحریر : فرمان اللہ

    مودی اجیت ڈوول اوراین ڈی ایس نے مل کر اس خطے کو آگ و خون میں دھکیلنے کا جو پلان بنایا ہے وہ بہت حطرناک ہے تاشقند کے اندر پاکستان کے سامنے بیٹھ کردس ہزارجنگجو افغانستان بھجنے کا الزام لگانا اور بھارت سے فوجی مدد لینے کا عندیہ دینا دراصل را اوراین ڈی ایس کا نیا پلان ہے جو وہ اگلے آنے والے دنوں میں رچانے جا رہے ہیں اس کے لیے یہ سارا اسٹیج تیار کیا جارہا ہے. مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس وقت بھارت نے افغانی ایما پر اپنے تین ہزار فوجی کابل میں پہنچا دیے ہیں جو بلکل فوجی وردیوں میں نہی ہیں.

    بلکہ ان کو افغانی وردیاں پہناٸی جاٸیں گی اورمصدقہ اطلاعات کے مطابق چھ ویڈیو بلکل تیارکرلی گٸی ہیں جن میں افغانی جو بھارتی پے رول پہ ہیں انہوں نے یہ ساری سٹوری ایڈٹ کرلی ہے جس کے مطابق ان ویڈیو میں عورتوں کو بڑے بے رحم طریقے سے مارا جاۓ گا ان کو سنگسار کیا جاۓ گا فوجیوں کے گلے کاٹے جاٸیں گے اور پھر وہ ایجنٹ خود کوطالبان بنا کر پیش کریں گے یوں طالبان کے خلاف بھارت بہت بڑی سازش رچنے جا رہا ہے کیونکہ طالبان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ عالمی قوانین کی پابندی کریں گے یوں برطانیہ یورپ طالبان کو تسلیم کرنے کے لیے تیارہیں.

    اس وقت ٹی ٹی پی پاکستان بلوچ ریجمنٹ اورداعش کے تمام سربراہ بھارت کے اندر موجود ہیں اور اجیت ڈوول کے زیراثرہرقسم کی دہشت گردی میں اس خطے کودھکیلنے کے لیے تیارکھڑے ہیں. اس لیے پاکستان مکمل طور پر ان کے ان کاٶنٹرکے لیے تیار ہے یہ پچھلے کٸی دنوں سے ہمارے فوجیوں پر حملے بہت زیادہ بڑھ گٸے ہیں جو ایک غیر معمولی بات ہے ۔ مگریہ سب اس سے بھی واقف ہیں کہ جہاں ان کی سچ حتم ہوتی ہے وہاں سے مارخور اپنا کام شروع کرتے ہیں ۔
    اللہ پاکستان کو قیامت تک قاٸم و داٸم رکھے ۔ آمین

    Femikhan_01