Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عمران خان کا دورہ ازبکستان اورامیرتیمورکی قبرپہ حاضری . تحریر: حسنین مغل

    عمران خان کا دورہ ازبکستان اورامیرتیمورکی قبرپہ حاضری . تحریر: حسنین مغل

    گزشتہ دنوں عمران خان ایشائی ممالک کی ایک تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے ازبکستان پہنچے کانفرنس کے بعد انہوں نے مشہور مسلمان فاتح ” امیر تیمور ” کی قبر پے حاضری دی اور دعا کی "امیر تیمور” تیمور ایک ترک منگول قبیلے برلاس سے تعلق رکھتا تھا چنگیز خان اورامیر تیموردونوں کا جد امجد تومنہ خان تھا. تیمورلنگ کا تعلق سمرقند سے تھا وہ سمرقند کے قریب ایک گاؤں ’’کیش‘‘ میں پیدا ہوا اس کے والدین معمولی درجے کے زمیندار تھے تیموردریائے جیحوں کے شمالی کنارے پرواقع شہرسبز(جس کو کش بھی کہتے ہیں) 1336ء میں پیدا ہوا۔ یہ علاقہ اس وقت چغتائی سلطنت میں شامل تھا جو زوال پزیرتھی چغتائی حکمران بے بس ہوچکے تھے اورہرجگہ منگول اور ترک سرداراقتدارحاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔

    تخت نشین ہونے کے بعد اس نے صاحب قران کا لقب اختیارکیا۔ (علوم نجوم کی رو سے صاحب قران وہ شخص کہلاتا ہے جس کی پیدائش کے وقت زہرہ اور مشتری یا زحل اورمشتری ایک ہی برج میں ہوں۔ ایسا شخص اقبال مند، بہادراورجری سمجھا جاتا ہے مجازاً اپنے دورکا عظیم ترین حکمران)۔

    تیمور نے اپنی زندگی میں بیالیس ملک فتح کیے۔ وہ دنیا کے چند نادر لوگوں میں بھی شامل ہوتا ہے۔ تیمور کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ ایک وقت میں اپنے دونوں ہاتھوں سے کام لے سکتا تھا وہ ایک ہاتھ میں تلوار اُٹھاتا تھا اور دوسرے ہاتھ میں کلہاڑا، اسلام کا یہ بہادرسپوت 18 فروری 1405ء کو انتقال کر گیا اس کی لاش سمرقند لاکر دفنائی گئی لڑائیوں میں زخم کھانے کی وجہ سے تیمورکا دایاں ہاتھ شیل ہوگیا تھا اوردائیں پاؤں میں لنگ تھا اس لیے مخالف مورخین اس کو حقارت سے تیمورلنگ لکھتے تھے۔

    @HasiPTI

  • ‏قومی غیرت اورخوداری . تحریر : عاصم صدیق

    ‏قومی غیرت اورخوداری . تحریر : عاصم صدیق

    محمد علی جناح کے بعد کوئی بھی ایسا حکمران نہیں آیا جو خودار اورغیورہو۔ لیکن پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اب پاکستان کا وزیراعظم عمدان احمد خان نیازی ہے جو امریکہ جیسے سپر پاور ملک کو بھی "نا” کرنا جانتا ہے ۔عمران خان نے نہ صرف امریکہ کو ” do more ” سے "No more ” سکھایا بلکہ سینا تان کر امریکہ کو کہا کہ اب پاکستان امریکہ کی جنگ میں شامل نہیں ہوگا اور کسی قسم کی ملٹری سہولت فراہم نہیں کرے گا اور صاف الفاظ میں امریکہ کو ہوائی اڈے رینے سے انکار کردیا ۔

    یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا اس سے پہلے کشمیر کے مسلئے پر بھی خان نے ثابت کیا کہ وہ ایک خوداراورغیرت رکھنے والا انسان ہے۔ اقوام متحدہ میں پوری دنیا کے سامنے جب خان نے للکاردی تو آدھی دنیا کئی دن تک حیران رہی کہ شائد اب پاکستان ایک خودارملک بن چکا ہے ،کیونکہ یہ وہی پاکستان تھا جہان امریکہ جب چاہتا کرتا تھا ۔ دڑون حملے کر کے ہمارے ہی پاکستانیوں کو موت کی نیند سلایا گیا لیکن ہمارے حکمران صرف تماشا دیکھتے رہے۔ ریمنڈ دیوس دن کی روشنی میں لوگوں کو کچل کر چلا جاتا ہے لیکن ہمارے حکمران تو سوئے ہوے تھے ۔

    ہمارے ایک وزیراعظم کے امریکہ ائیرپورٹ پرکپڑے اتارے جاتے لیکن ہماری غیرت تب بھی نا جاگ سکی، کیونکہ ان حکمرانوں کے زاتی مفادات آڑے آجاتے تھے جب بھی قومی غیرت پربات آتی تھی ۔ اللہ کا کرم ہے کہ اب عمران خان جیسا لیڈر تخت نشین ہے جس کے لیے سب سے برھ کر اس ملک و قوم کا وقار ہے ، خان کی نظر میں أسکی غیرت پاکستان کی غیرت سے جڑی ہوئی ہیں ۔ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا تو پہلی بار دیکھ رہے کہ کوئی حکمران برابری کی بات کرتا ہے ۔جب سے خان کی حکومت آئی ہے کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا ۔خان نے سب کے ساتھ ویسے ہی سلوک کیا جیسا وہ حقدار تھا ۔مودی کو اسی کی زبان میں بار بار سبق سکھا رہا ہے خان اور جب کبھی بھی عالمی فورم پر آمنا سامنا ہو جائے تو ان سے ہاتھ تک نہیں ملاتا خان کیونکہ پہلے دن سے ہی خان نے کہا ہے کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تب تک بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہونگے ۔

    خان کے اس انداز کی وجہ سے خان کی مقبولیت دنیا کے ہرکونے تک پہنچ رہی ہے یہی نہیں بلکہ خان کو ” The Muslim world of year ” کا خطاب مل چکا ہے ۔خان کے ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان کو اسکی کھوئی ہوئی عزت واپس مل رہی ہے ۔ایک قوم مہنگائی ،کرپشن تو برداشت کر سکتی ہیں لیکن کبھی بھی اپنی عزت اپنے وقاراور ملک کی خوداری پرآنچ نہیں آنے دیتی ۔

    دعا ہے کہ پاکستان کی عزت ،پاکستان کا وقار ،پاکستان کی خوداری ہمیشہ ہمارے زاتی مفادات سے اوپر رہے ۔
    اللہ اس ارض پاک کو ایک خودمختار قوم بنائے آمین ۔

    @AsimISF_

  • افغانستان پاکستان دشمنی کیلۓ بیس کیمپ . تحریر : ڈاکٹر راہی

    افغانستان پاکستان دشمنی کیلۓ بیس کیمپ . تحریر : ڈاکٹر راہی

    جب ہم یہ کہتے تھے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان مخالف دشمنوں کے لئے بیس کیمپ بن گئی ہے تو ہمارے لبرل اورقوم پرست دوست بھد اڑاتے تھے۔ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں سے لے کربلوچ علیحدگی پسندوں تک، ایران کے ایجنٹوں سے لے کر ہندوستانی دہشت گردوں تک سب ان کی چھتری تلے بیٹھے تھے۔ ہندوستان نے اربوں کی فائنانسنگ کابل اوردیگر شہروں میں کی تھی، کیونکہ پاکستان میں دراندازی
    کے لئے افغانستان سے بہتر کوئی رستہ ممکن ہی نہیں۔ غرض ہمارے گوناگوں دشمنوں نے وہاں پرڈیرے ڈال رکھے تھے۔

    یہاں پرایک اوربات بھی سامنے رہے پچھلے چند سالوں میں کے پی سمیت بلوچستان میں کثرت سے لوگ سامنے سے گم ہورہے تھے۔ ہرایرا غیرا نتھو خیرا پاکستانی حساس اداروں اورایجنسیوں پربلا امتیاز ذمہ داری ڈال رہا تھا۔ لاریب کہ ہمارے اداروں نے بھی اس جنگ کے دوران بہت زیادہ زیادتیاں کی ہیں۔ اسلام پسندوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا۔ ۔جس پرکسی درجہ میں بھی شک ہوا اورجو کسی قدربھی کسی قسم کی عسکریت یا تحریکیت میں شامل رہا تھا، اسے اٹھا کرہی چھوڑا کچھ چھوٹ بھی گئے، کچھ ہمیشہ کوغائب کردئے گئے۔ اس وقت ان کے اس عمل کا دفاع نہ مقصود یے، نہ ممکن ہے، تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ درست اورواقعیت پرمبنی ہے کہ ہرگم ہونے والے کو اغوا بھی نہیں کیاجاتا تھا بلکہ بہت سارے سرحد پارپناہ لیتے تھے اور وہاں سے پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہتے تھے۔

    یہ بات یوں چلی کہ آج ایک بلوچ علیحدگی پسند رہنما کا بیان سامنے آیا ہے جس میں اس نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود بلوچ پناہ گزینوں کی حفاظت کا بندوبست کرے۔ یہ پناہ گزین کون ہیں؟ یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ وہ غائب شدگان ہیں ،جن کا الزام ہماری پاکستانی ایجنسیوں پرلگایا جاتا تھا۔ اب معاملہ کھل رہا ہے کہ یہ حضرات افغانستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے شہزادگان عالیشان کا قبضہ وسیع ہوتا جائے گا، چیاو چیاؤ کرنے والوں کی یہ تعداد بڑھتی جائے گی۔ عالیشان کی یہ ایک کرامت کیا کم ہے کہ ان کے ابھرتے ہی پاکستان دشمن اپنے ٹھکانے ظاہرکرنے لگے ہیں۔ امید ہے کہ ہرگزرتے دن کیساتھ ان سب کا یوم حساب قریب آتا جائے گا۔

    @IamRahiii

  • گڑیا . تحریر: محسن زید

    گڑیا . تحریر: محسن زید

    وہ اپنا بدبودارجانوروں جیسا وجود لے کرگڑیا کے اوپرجھک رہا تھا اورگڑیا جیسے ایک لاش کی مانند آنکھوں میں پانی کا سمندر لئے چھت کو گھور رہی تھی منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی لیکن اندر دنیا جہاں کا شور تھا، نام تھا یاسمین ابا پیارسے گڑیا کہتے تھے، پھر گھر والے رشتہ دارمحلے والے سب گڑیا کہنے لگے، گڑیا تین بھائیوں اوردو بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی، باپ قدرت اللہ گاؤں کی ایک چھوٹی سی مسجد کا امام تھا ماں ایک سیدھی سادھی گھردارخاتون تھی قدرت اللہ کی بات ماں کیلئے فرض ہوا کرتی تھی، وقت گزرا گڑیا نے بھی باقی بہن بھائیوں کی طرح گاؤں میں موجود پرائمری سکول سے پانچویں پاس کی اورگھر داری میں مصروف ہوگئی،

    ابا کی بڑی خواہش تھی کہ وہ اپنی گڑیا کے ہاتھ پیلے ہوتے دیکھے، لیکن یہ خواہش پوری نہ ہو سکی قدرت اللہ عشاء کی نماز پڑھا کر واپس گھرآیا لیکن صبح فجر کی نماز کیلئے اٹھ نہ سکا، گڑیا کیلئے یہ دکھ آسمان کے پھٹ جانے سے کم نہیں تھا اسکا باپ ہی تو گھر میں ایک انسان تھا جو گڑیا سے پیار کرتا تھا اسکا ماتھا چومتا تھا، گڑیا بڑی ہورہی تھی جوانی کی دہلیز پر پہنچ کر بھی اس نے شرم و حیاء کو اپنائے رکھا اسکی خواہش تھی اسکا پیار اسکی محبت چاہت اسکے وجود اور روح کا مالک اسکا شوہر ہو بس،
    ایک دن گڑیا کی ماں نے بتایا کہ کل کوئی دور پرے کے رشتہ دار آرہے ہیں تمہیں دیکھنے گڑیا نہ چاہتے ہوئے بھی چپ رہی، وہ آئے اور رشتہ پکا ہوگیا ، گڑیا سن رہی تھی کہ وہ جلدی شادی کرنا چاہتے ہیں،

    خیربڑے بھائیوں اور ماں نے شادی کی تاریخ تہہ کردی، شادی ہوگئی گڑیا کے بھائیوں اورماں نے صرف ایک ہی بات سمجھائی کہ اب تمہارا وہی گھر ہے تمہارا شوہر تمہارا خدا ہے تمہاری ساس تمہاری ماں ہے تم کبھی زندہ انکو دکھ دے کراس گھرمیں واپس نہیں آنا وہ جو بھی کہیں جیسے بھی ہو اب تمہارا مرنا جینا وہی ہے، شادی وہی روائتی انداز میں ہوئی دن گزرتے گئے شادی کے چھ ماہ تک کوئی اولاد جیسی خوشی گڑیا کو نصیب نہ ہوئی تو ساس نے باتوں باتوں میں سنانا شروع کر دیا، نندوں نے بھی اپنی زبان کی مٹھاس دیکھانا شروع کر دی، گڑیا کہاں جائے کس سے کہے۔؟

    خیر ایک دن ساس نے صاف کہہ دیا بات سن کڑیے بہت ہوگیا اب ہمیں اولاد چاہیے ورنہ اپنے گھر والوں کو بُلا وہ تمہں لے جائیں ہمیں یہ بانجھ عورت نہیں چاہیے، گڑیا نے بھری آنکھوں کیساتھ اپنے شوہرکی طرف دیکھا جو منہ لٹکائے چارپائی پربیٹھا ماں کی ہاں میں ہاں ملا رہا تھا، صبح ہوتے ہی ساس بولی چل ساتھ والے گاؤں ایک بابا جی ہیں تمہیں لے کرجانا ہے وہاں بہت پہچے ہوئے ہیں گڑیا چپ کرکے اپنی ساس کے ساتھ چل پڑی، وہاں کافی عورتوں کے درمیان ایک کالے رنگ کا بدشکل اوربدبودار کپڑے پہنے ایک بابا بیٹھا تھا گڑیا اسے دیکھ کر ہی اندر سے ڈرگئی تھی لیکن کیا کرسکتی تھی،

    خیر جب لوگ چلے گئے بابا جی نے گڑیا کی طرف بڑی بھوکی سی نظروں سے دیکھتے ہوئے اسکی ساس سے پوچھا کیا مسئلہ ہے مائی،
    وہ بولی بابا جی یہ میری بہو ہے دو سال سے بچہ نہیں ہوا، بابا جی نے ہاتھ بلند کیا اور زور سے بولا بس یہی بات۔؟
    گڑیا سہم گئی بابا جی نے کہا چلو اٹھو لڑکی اس کمرے میں چلو، تم پر کوئی جادو ہے اسکا توڑ ضروری ہے،
    گڑیا نے سہمی نظروں سے ساس کی طرف دیکھا ، ساس نے فوراً ایسے انداز سے گڑیا کی طرف دیکھا کہ تم ابھی تک گئی کیوں نہیں،
    گڑیا ڈرتے ہوئے بھاری قدموں سے کمرے میں چلی گئی،

    بابا کمرے میں آیا اندر سے دروازہ لاک کیا گریا ڈر کے مارے کاپنے لگی بابا پاس آیا اپنے گندے دانت دیکھاتے ہوئے بولا تیرا بندہ ٹھیک نہیں ہے میں تمہیں اولاد دے سکتا ہوں یا پھرتیرے ساس تمہیں طلاق کروا دے گی تو تم ہوتی رہنا زلیل دنیا بھر میں، گڑیا جو سہمی ہوئی ایک کونے میں بیٹھی تھی اسکے کانوں میں غریب بھائی اور بوڑھی ماں کی آواز گونجنے لگی کہ کبھی واپس مت آنا وہ جو کہیں وہ کرنا ،
    گڑیا دنیا جہاں کے شورکے درمیان زندہ لاش کی مانند بیٹھی تھی جس نے کبھی اپنے مرد کے علاوہ کسی دوسرے مرد کو اپنا ہاتھ تک نظر آنے نہیں دیا تھا اسکا وجود ڈھیلا ہونے لگا وہ سیدھی زمیں پرلیٹ گئی۔

    @mohsin__zaid

  • مرد کو سمجھنے کی جتنی صلاحیت اللہ تعالیٰ نےعورت کو بخشی ہے، مرد کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی . تحریر: حنبل ریاض

    مرد کو سمجھنے کی جتنی صلاحیت اللہ تعالیٰ نےعورت کو بخشی ہے، مرد کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی . تحریر: حنبل ریاض

    مرد کے معاملے میں خود اللہ پاک نے عورت میں وہ (Sensor) لگایا ہے جو دھواں سونگھ کر آگ کی خبر دیتا ہے، MBA شوہردوست کو گھر لاتا ہے اور مڈل پاس بیوی اس کو دس منٹ میں بتا دیتی ہے کہ اس کی نظر ٹھیک نہیں، عورت میں مرد کے بارے میں اتنی Applications رکھی گئی ہیں کہ وہ اس کی نظر پڑھ سکتی ہے، اس کی چال پڑھ سکتی ہے، اس کے الفاظ پڑھ سکتی ہے، یہاں تک کہ وہ مرد کی مصنوعی اورحقیقی مسکراہٹ کے فرق کو دن اوررات کی طرح جانتی ہے۔

    جھوٹ پکڑنے والی مشین کو دھوکا دیا جاسکتا ہے، عورت کو دھوکا دینا نا ممکن ہے، وہ مروت سے چپ کر جائے تو اس کی مہربانی ہے، جھگڑا دفتر میں ہوتا ہے اور اس کی خبر وہ آپ کا مُکھڑا دیکھ کر دے دیتی ہے، آپ ٹریفک وارڈن سے لڑ کرمسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوں مگر وہ اچانک پیچھے سے آ کر کہتی ہے ” کس سے لڑ کر آئے ہیں ؟ ” اور آپ کا تراہ نکل جاتا ہے،  جس خدا نے عورت کو جسمانی طور پہ نازک بنایا ہے اس خدا نے نفسیاتی طور پراس کو بڑا قوی بنایا ہے۔

    پیغمبروں کی حفاظت عورت کو سونپی گئی، کتنے بڑے امتحان کے لئے بھولی بھالی مریم علیہ السلام کو چنا گیا موسی علیہ السلام کی ماں سے کیا کام لیا ؟ موسی علیہ السلام کی 9 سال کی بہن سے کیا کام لے لیا ؟ فرعون کی بیوی سے کیا کام لے لیا ؟ اورشیخِ مدین کی بیٹی نے باپ کے سامنے اجنبی موسی کا پورا Curriculum بیان کیا تھا یا نہیں ؟ 

    کیا وہ ان کو جانتی تھی ؟ اسے کیسے پتہ چل گیا کہ وہ مارشل آرٹس کے ماہر ہیں اورامین بھی ہیں حیاء والے بھی ہیں؟ جس اللہ نے عورت کو جسمانی طور پہ کمزور بنایا ہے اس اللہ نے ہی اسے نفسیاتی طور پر بہت مظبوط بھی بنایا ہے لہذا عورتوں کو ہر لحاظ سے کمزور سمجھنا یہ مردوں کی غلط فہمی ہے، اور ایک عورت کو وہی مقام دینا چاہئیے جو ایک مرد اپنے لئے حاصل کرنا چاہتا ہے، ان کی عزت ان کا احترام ایسا ہی ضروری ہے جیسے وہ اپنے لئے دوسروں سے سوچتا ہے.

    تحریر ۔۔ حنبل ریاض
    Twitter @Iamhunbli

  • میرا وطن. تحریر:عائشہ رسول

    میرا وطن. تحریر:عائشہ رسول

    وطن کی مٹی میں جو خوشبو ہے وہ پردیس کے پھولوں میں کہاں ہے. ہم وطن کو برابھلا کہتے ہیں جبکہ وطن نے ہمیں پہچان اور ایمان دیا ہے .میری روح میرے وطن
    پر قربان.
    اے میرے وطن! کوئی ہے جو مجھے امن و سلامتی دے مجھے انصاف دے عزت نفس دے میرے بھروسے پر پورا اترے .!

    اے میرے وطن!
    میرے حکمرانوں نے میری کشادہ مزاجی چھین لی ہے میں حوصلہ افزائی سے مرحوم کر دیا گیا ہوں میرے زہن کی تمام صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا گیا. میں خود پر رو نہیں سکتا.. میرے سوتے خشک ہوگئے ہیں۔ ظلم دیکھ دیکھ کر میری آنکھوں کا نور زائل ہوگیا ہے.
    اے میرے وطن! تیری کھیتاں صحراوں میں تبدیل ہو نے والی ہیں تو بوند بوند پانی کو ترس جائے گایہ آب فروش حکمران تیری رگوں سے خون نچوڑ لیں گے انکی بانجھ نسلیں ہمارا مستقبل تباہ کردیں گی.

    اے میرے وطن! میرے پاس میری پاس اپنی درد مندی کا علاج نہیں تیرا رزق کھاتے ہیں اور تیرے لیے انکی زبان پر دعا نہیں رعایا اور حاکم کا رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے… یہ وطن. سے محبت کی کمی کی وجہ سے ہے
    اے میرے وطن! عزت سے خود کشی بھی کر لوں تو میرے لیے باعثِ فخر ہے ؛
    بیگانے دیس میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کروں اور وصیت یہ ہو کہ مجھے وطن میں دفن کیا جائے .یہ کتنا بڑا اپنے نفس کے ساتھ دھوکا ہےوطن سے بغاوت ہے وطن کی نافرمانی ہے.

    اے وطن! میں زہنی غلام بن کر نہیں رہنا چاہتا. مجھے اجازت دے کی میں خود کشی کر لوں میں زندہ نہیں رہنا چاہتا جہاں میرے لیے امن و سلامتی اور انصاف نہیں. جہاں میرے پاس انصاف خریدنے کے لیے دولت نہیں میں اپنی عزت نفس بیچ کر بھی زندگی کو امن نہیں دے سکتا
    بتا اے وطن! میرا گناہ کیا ہے یہ کہ میرے آباؤاجداد نے اپنا خون دے کر تجھے حاصل کیا تھا اور آج میں اپنے ہی وطن میں لاوارث ہوں قانون مجھے تحفظ نہیں دے رہا
    کیا اب بھی میں غلام ہوں غلام زہنی غلام ہوں مجھے اپنے ہی وطن میں بے گناہ مارا جا رہا ہے میں اپنا عقیدہ چھپا رہا ہوں .مجھے عقیدت کے نام پر قتل کیا جا رہا ہے میرا وطن قتل گاہ بن گیا
    تحریر: عائشہ رسول
    Official Twitter handle
    @Ayesha__ra

  • افغان جنگ اور دنیا. تحریر: سدرہ

    افغان جنگ اور دنیا. تحریر: سدرہ

    ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں تو افغان جنگوں میں فتح ہمیشہ افغان قوم کا ہی مقدر بنی ہے۔ برطانیہ اور افغانستان کے مابین جنگ  1839ء سے 1842ء تک لڑی گئی، اس جنگ میں مجموعی طور پر افغانوں کی فتح ہوئی۔ 4500برطانوی اور  ہندوستانی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ ان کے ساتھیوں میں سے 12000لوگ بھی ہلاک ہوئے۔ روسی اور برطانوی گریٹ گیم میں یہ سب سے پہلی بڑی لڑائی تھی۔ پھر27 دسمبر 1979ء کی ایک تاریک شب، جب سوویت یونین نے افغانستان پر شب خون مارا تو ایک طویل مدتی جنگ کا آغاز ہوا۔اس جنگ میں بھی 15000 سوویت فوجی مارے گئے اور 35000 کے قریب زخمی ہوئے، جبکہ دو لاکھ مجاہدین اور دو ملین کے قریب عام شہری مارے گئے۔اس جنگ کی بڑی قیمت پاکستان نے بھی ادا کی۔ پاکستان نے بیس سال تک 2.8ملین مہاجرین کا بوجھ برداشت کیا۔ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد نے پاکستان کو دنیا میں مہاجرین کو پناہ دینے والے ملکوں میں سر فہرست لا کھڑا کیا۔

    اسی اثنا میں امریکہ بہادر نے انسانی حقوق کے نام پر سوویت حملے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا،پھر سوویت یونین کو جنگ میں شکست دینے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ 

    امریکہ سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا کو اپنی کامیابی سمجھ بیٹھا اور نائن الیون کے بعدافغانستان میں آبیٹھا۔ سوویت یونین کی بد ترین شکست نے یو ایس ایس آر کو  سولہ ملکوں میں تقسیم کر دیا، مگر اس شکست سے امریکہ نے سبق سیکھنے کی بجائے اس فتح کو ڈالرز میں تولا، جو شاید امریکہ کی سب سے بڑی غلطی تھی، کیو نکہ جنگ لڑنے کے لیے مال و زر سے زیادہ حوصلے، ہمت اور جذبہء حب الوطنی کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی سب سے بڑی مثال آئرش رپبلک آرمی، افغانستان اور ویتنام ہیں، جنہوں نے ترکش میں تیر نہ ہونے کے باوجود دنیا میں آزادی حاصل کرنے کے لیے نئی تاریخ رقم کر دی۔

    افغانستان خاک و خون کی گھاٹیاں عبور کر کے بالآخر جنگ کے اختتام کی طرف بڑھ ہی رہا تھاکہ اشرف غنی کی حکومت او ر طالبان کے درمیان ایک نئی جنگ نے جنم لے لیا۔ شنید تھی کہ امریکی انخلا کے فوراً بعد خانہ جنگی کا آغاز ہو سکتا ہے، جو کسی حد تک سچ ثابت ہو رہا ہے۔ طالبان افغانستان میں دوبارہ ایک بڑی قوت بن کر ابھرے ہیں۔وہ ملک کے زیادہ تر حصوں پر قابض ہونے کے ساتھ ساتھ کابل پر کسی بھی وقت چڑھائی کر کے موجودہ حکومت کے خاتمے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

    گزشتہ بیس برسوں کی امریکی جنگ میں بھارت نے امریکہ کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف شدید پروپیگنڈہ کیا۔ یہاں تک کہ افغانستان میں خود دہشت گردانہ کارروائیاں کروانے کے بعد الزام پاکستان پر لگایا جاتا رہا، جس کی مثالیں لاہور بم دھماکہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہیں،افغان قوم کے دل میں پاکستان کے خلاف نفرت کا بیج بویا گیا، مگر بھارت اپنی اس کاوش میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکا۔ بھارت کے خلاف پالیسیوں کا اعلان دراصل طالبان نے بھارتی سفارتخانے پر قابض ہو کر کیا کہ اب افغانستان میں بھارت کی دال نہیں گلے گی۔دوسری جانب بھارت نے رد عمل کے طور پر بھاری اسلحہ افغان حکومت کی مدد کے لیے حال ہی میں پہنچا دیا جو جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔

    بھارت کی یہ حرکت خطے میں غیر یقینی صورت حال پیدا کرنے کا موجب بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے اس عمل سے طالبان کے ساتھ بھی کھلی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اب یوں محسوس ہو رہا ہے کہ بھارت نے امریکہ اور سوویت کی شکست سے سبق حاصل نہیں کیا۔بھارت کی بے جا مداخلت تاریخی غلطی تصور کی جا سکتی ہے،اس سے بھارت کی سالمیت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

  • فلسطینی اور صہیونی ریاست.تحریر: سدرہ سجاد

    فلسطینی اور صہیونی ریاست.تحریر: سدرہ سجاد

    اسرائیل کا قیام صریحاً ایک ناجائز اور زیادتی پر مبنی عالمی پردھان منتریوں کا مکروہ فعل ہے، یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی ہمارے مکان کے ایک حصے پر زبردستی قبضہ جمالے اور پھر کہے کہ مجھے اپنا پڑوسی مان لو اور میرے حقوق ادا کرو۔ اسرائیل کا قیام ایک ناجائز پیدائش بنی جو بانی جس کو پاکستان کے قیام تک نا تسلیم کرنے کی قائد اعظم محمد علی جناح کی خارجہ پالیسی رہی ہے جو آج تک قائم ہے۔ پہلی عالمی جنگ جس میں خلافت اسلام کو نشانہ بنایا گیا اور تھیوڈر ہیزل نے یہودیوں کے لیے فلسطینی زمین دینے پر خلیفہ عبدلحمید ثانی رحمۃ اللہ کو انعامات کی پیشکش کی مگر عثمانی خون نے زوال کو تسلیم کرلیا مگر یہ ذلت قبول نہ کی۔ اسرائیل کا قیام نہ صرف مسلمانوں بلکل عالمی امن کے لیے رستہ زخم ہے، دہشت گردی کے مراکز اور معیشت کے تمام زخائر اسرائیل کے شکنجے میں ہیں اور عالمی میڈیا اسرائیل کی لونڈی کا کردار ادا کررہی ہیں کہ جھوٹی خبریں اور افواہیں اس سرعت کے ساتھ پھیلا رہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
    فلسطینیوں کو اللہ حکمت دے کہ وہ آج تک اسرائیل کی بربریت کے سامانے چٹان بن کھڑے ہیں فلسطینیوں کی چوتھی نسل ہے جو یہود کا مقابلہ ایمان کیساتھ کررہی ہیں۔ ہر 2، 3 سال بعد اسرائیل اپنے ذاتی اور ریاستی مفادات کی تکمیل کے لیے مظلوم فلسطینیوں کے گھر اور زندگیوں پر میزائل اور دھماکے داغتے ہیں لیکن آج تک فلسطینیوں نے اپنے ایمان پر سودا نہیں کیا اور ہمت اور استقامت کیساتھ قبلہ اول کی حفاظت پر معمور ہیں۔ فلسطینیوں کا امت مسلمہ پر خاص احسان ہے کہ وہ عالمی امن کے دشمنوں کیساتھ طویل اور تاریخ ساز جنگ کررہے ہیں۔ قبلہ اول کی اس ے لوث محبت کے بارے خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

    بہت قریب ہے کہ ایک شخص کے پاس اس کے گھوڑے کی رسی کے برابر ایسی زمین کا ہونا جہاں سے اس کی نظر بیت المقدس پر پڑتی ہو ؛ اس کیلیے تمام دنیا سے بہتر ہو گا۔ (مستدرك الحاكم)
    حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ جیسا ادارہ بھی کئی نشتیں کرچکنے کے باوجود بھی ابھی تک کوئی واضح پالیسی نا بنا سکا، 1948 سے 1967 تک اور اب حال ہی میں اقوام متحدہ کی افواج کے باوجود اسرائیل امن معاہدہ توڑ فلسطینی آبادی میں گھس گیا اور مسجد الاقصیٰ میں فساد کرنے لگا۔ نا عالمی طاقتوں نے اس پر غور کیا اور نا اسرائیل نے کوئی عالمی معاہدوں پر عمل کیا۔

    @de10thless

  • "ہم کہاں ہیں”.تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    "ہم کہاں ہیں”.تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    ہر ملک میں اس کی ترقی و خوشحالی میں نوجوان نسل کا اہم کردار ہوتا ہے۔ چاہے وہ ملک کتنا ہی پسماندہ ہو مگر اس کا نوجوان نسل کے عزم و ولولے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگر اس وقت ہمارے ملک میں دیکھا جائے تو اس نوجوان نسل کے نہ ہی Emotional وقت کا اچھی طرح معلوم ہے اور نہ ہی Determination کا۔ نہ جانے کس وقت جزبہ ایمانی جاگ اٹھتا ہے اور پھر نہ جانے کہاں چلا جاتا ہے۔
    یہ پورے معاشرے کا حال ہے اس میں بذات خود میں بھی شریک ہوں۔ اگر یہی حال تمام مسلم ممالک کا کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ ان کے پاس تمام تر وہ وسائل موجود ہیں جس سے ایک ترقی یافتہ اور طاقتور مملکت بنائی جا سکتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے پاس وہ تمام حقائق،سچی داستانیں اور ایسے تمام علوم موجود ہیں جس سے ایک سدیوں سوہی ہوئی قوم کو ازسرِنو جگایا جا سکتا ہے۔

    مگر افسوس اس وقت بھی ان پر جہالت کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔سورج کے ہونے کے باوجود اس سے فاہدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ ابر رحمت کو بھی ابر زحمت میں بدلا جا رہا ہے۔ مزاحیہ بات یہ ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی ان کی تمام چیزوں سے غیر فاہدہ اٹھا رہے ہیں اور یہ بڑے خوش ہیں۔ ان کو بتانے میں فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے علوم چرا کر غیر اتنی ترقی کر گئے اور ہم وہی کے وہی رہے۔
    آخر کیا وجہ ہے کہ ہم پیچھے ہیں۔ ہمارے پاس ایک شاندار ماضی کی داستانیں ہیں۔ ہمارے پاس ہر شعبے میں ترقی کرنے کی مثالیں ہیں مگر ہم غیر ترقی یافتہ ہیں۔ ان تمام حالات میں اگر دیکھا جائے تو کسی پر کوئی زمہ داری عائد نہیں ہوتی فقط ہر اس شخص پر جو ایسے معاشرے میں جی رہا ہے۔جسے معلوم ہے کہ میرا بھی سب کچھ یہی ملت یہی ملک ہے اور میری آنے والی نسلوں کا بھی تاقیامت۔
    اس وقت اس شخص کو ہی چاہئے کہ اس گلستاں کی ہریالی میں اپنا کردار ادا کرے۔ علامہ اقبال ہو یا قائداعظم کب تک ہم ان کے تاریخ پیدائش اور وفات پر محض ان کے گن گاہیں گے؟ ان کی بات و سیرت کو کب تک نہیں اپناہیں گے؟ اگر یہی حال رہا تو ہم ان پر واہ واہ کر کے اس زمہداری سے بچنا چاہتے ہیں جو ہم پر ان کی طرف سےعائد ہوتی ہے۔ اگر علامہ اقبال نے کلام لکھا تو کن کے لیے لکھا۔
    کیا ان کا پیغام وقت اس دور میں موجود لوگوں کے لیے تھا یہ ہم پر بھی کچھ زمہداری عائد ہوتی ہے؟ وہ کن کو خواب غفلت سے جگانے کے لیے تھا کہ تمہارے دشمن تمہیں دن بدن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور تم ہو جو تقسیم ہو۔ انہوں نے ہمیں ایک ہونے کا درس دیا۔ جیسا کہ امام علی علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے کہ
    "تم حق پر ہونے کے باوجود بکھرے ہوئے ہو اور وہ باطل پر ہو کے بھی متحد ہیں۔

    اسی طرح ملک بنانے میں بھی مقاصد چھپے ہوئے تھے۔ جن میں تمام مسلمانوں کی دنیا میں عظمت و خوشحالی اور سب سے اہم بات ایک ہونا شامل تھا۔ ہم کبھی بھی ان باتوں کو فراموش نہیں کر سکتے۔ آج اگر اس دور میں ہمارے اندر مسلمانوں کی خوشحالی و ترقی کی آرزو و کوشش نہیں تو ہم بالکل ہی پستی کی گہرائی میں ہیں۔ ہمیں اس بات کو بخوبی جاننا ہو گا کہ دشمن کس طرح ہمارے لیے باہر بیٹھا چالیں اور ہماری تباہی کے پروگرام بنا رہا ہے چاہے وہ بھارت،امریکہ،اسرائیل یا پھر کسی دوسرے ملک کی شکل میں ہو۔

    ان تمام Challenges سے مقابلے کے لیے بیداری ہے اور وہ بیداری آج کے ہر پاکستانی میں ہونا لازم ہے۔ کیونکہ ہم وہ قوم ہیں جو نہ ہی غلام بن کر جینا پسند کرتی ہے اور نہ ہی اپنے دوسرے بھائیوں کو اس حال میں دیکھنا۔ اب دشمن کو ہمارے علاقوں سے کوئی سروکار نہیں ہے اسے ہمارے ذہن چاہئیے اور ذہن بھی صرف اس طریقے سے بچ سکتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ سے بڑی مضبوطی کے ساتھ جڑے رہیں۔
    ہم اسلام کو صرف عبادات تک نہیں بلکہ اپنے معاشرے میں ہر کردار و گفتار پر نافذ کریں۔ آج دشمن نے معاشرے میں طرح طرح کی براہیاں پھیلا دی ہیں۔جن کا شکار دن بدن ہم ہی ہو رہے ہیں۔ اس کا مقصد ہمیں ان براہیوں میں الجھا کر تباہ و برباد کرنا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے سامنے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور ہم خاموش ہیں۔
    کیونکہ بقول علی شریعتی کہ
    "زمین مسجد خدا ہے اور تم دیکھ رہے ہو کہ نہیں ہے۔”
    شاید ہم پستی کی جانب رواں دواں ہیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہم اس پر خوش ہیں۔
    @Haider_Arbaz_01

  • سی پیک اور پاکستان. تحریر  : ولید عاشق

    سی پیک اور پاکستان. تحریر : ولید عاشق

    ( @iWaleedRaja )

    سی پیک پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے،پاکستان دشمن بول رہے ہے عمران خان نے سی پیک بیچ دیا.

    ‏پاک چین اقتصادی راہداری ملکی معاشی ترقی میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے- نوجوان سی پیک کے معاشی فوائد سے استفادے کیلئے خود کو تیار کریں،

    پاکستان اور چین کے مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان بہتر تعلقات کو استوار کے علاوہ سی پیک منصوبہ جیسے میگاپروجیکٹ کو موثر انداز میں سمجھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے،

    عمران خان نے نہ صرف نواز شریف کے دور میں روکے گئے سی پیک کی سڑکیں مکمل کیں بلکہ اس کے دوسرے فیز پر فوراً کام شروع ہورہا ہے جس میں کم از کم 5 ارب ڈالر کے بجلی بنانے کے منصوبے لگائے جارہے ہیں۔
    جو کہتے ہیں ایران کو بیچ دیا تو ایران کے پاس نہ راستہ ہے نہ گنجائش۔ چین کو تیل کی ضرورت ہے۔ اس نے ایران سے اگلے 25 سال تک 400 ارب ڈالر کا تیل لینے کا معاہدہ کیا ہے۔ امید ہے یہ تیل پاکستان کے راستے سے ہوکر جائیگا سمجھیں پاکستان کی لاٹری نکلے گی۔
    سی پیک کے تحت پاکستان میں توانائی سمیت دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، چینی وزار ت خارجہ
    چینی وزار ت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے کہا ہے کہ سی پیک ایک پٹی ایک شاہراہ کا ایک اہم منصوبہ ہے جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت پاکستان میں اب تک توانائی سمیت دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔
    بیجنگ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ سی پیک سے جہاں پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی ہوئی وہیں اس منصوبے کے تحت علاقائی روابط کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پٹی ایک شاہراہ کا منصوبہ چین کا ہے جس سے نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا مستفید ہو گی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ دنیا کے تقریبا 140 ممالک نے ایک پٹی ایک شاہراہ اقدام کے تعاون کے معاہدے پر چین کے ساتھ دستخط کئے ہیں جبکہ چین اور ایک پٹی ایک شاہراہ اقدام سے وابستہ ممالک کے مابین تجارتی حجم کی مجموعی مالیت 9.2 کھرب امریکی ڈالرز تک پہنچ چکی ہے ۔
    ‏سی پیک منصوبے سے ملکی معشیت میں بہتری آئے گی اور پاکستان میں غربت کا خاتمہ ہو گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے 7 لاکھ پاکستانیوں کو روزگار ملے گا جبکہ اس وقت  80 ہزار سے زائد پاکستانی سی پیک کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ‎پاک چین اقتصادی راہداری ،ترقی کے سفر کا وہ خواب ہے جس کی تعبیر کا حصول ہر پاکستانی کی خواہش ہے،پاکستانی حکومت اور عوام اپنے بہترین دوست چین کو ساتھ اس منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں ،اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم قدم ہو کر اس منزل تک پہنچنے کا پورا یقین ہے.