Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حادثے کا ذمہ دار کون ؟   تحریر: احسن ننکانوی

    حادثے کا ذمہ دار کون ؟ تحریر: احسن ننکانوی

    عید سے دودن پہلے گھروں میں سوگ ہی سوگ: بدقسمت بس سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات۔

    آج صبح ڈیرہ غازی خان میں مسافربس اور ٹریلر کے درمیان ہونے والے خونریز تصادم ہوا، بدقسمت بس سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔
    کہ اس میں کیا کیا تبدیلیاں ہوئیں اور بس ڈرائیور کا اس میں کتنا کردار تھا ۔
    یا بس مالکان کا اس میں کتنا کردار تھا ۔

    ذرائع کے مطابق حادثے کا شکار بس تکنیکی اعتبار سے خراب تھی بس میں لوگوں کو بٹھانے کی گنجائش اڑتالیس تھی لیکن انہوں نے اٹہتر لوگوں کو بٹھایا ہوا تھا ۔
    اس کا ذمہ دار کون کیا ہمارے ادارے خوب خرگوش کا مزہ لے رہے تھے ۔

    ٹریفک پولیس کہاں تھی کہ بس نے اتنا لمبا سفر کیا اور اس کو راستے میں کسی نے نہ روکا ۔

    آرپی او ڈیرہ غازی خان فیصل رانا نے میڈیا کو بتایا کہ واقعے کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ بس کا ایکسلیٹر ناکارہ تھا، ڈرائیور ریس کی تار ہاتھ سے پکڑ کر گاڑی چلارہا تھا سنگین انسانی غفلت کے باعث سیالکوٹ سے ڈی جی خان تک بس کو کہیں نہیں روکا گیا ، اور نہ ہی اس کا چالان ہوا۔

    دوسری جانب حادثے میں جاں بحق مسافروں کی تعداد چونتیس تک جاپہنچی ہے، ہاسپٹل میں زیر علاج مزید سات مسافر دوران علاج دم توڑ گئے جبکہ چالیس سے زائد زخمی تاحال زیر علاج ہیں، جن میں بیشتر کی حالت نازک ہے۔

    اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے میں جاں بحق بیشتر افراد مزدور تھےجو سیالکوٹ میں کام کرتے تھے اور عید منانے گھروں کو واپس آرہے تھے، سانحے میں جاں بحق افراد میں چار سگے بھائی بھی شامل ہیں۔
    یار کب ہمارا ملک ٹھیک ہو گا آر پی او کہ رہے ہیں
    بس میں تکنیکی خرابی تھی لیکن نہ روکا گیا نہ چلان ہوا ۔
    کیوں؟
    آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں کیوں نہیں روکا گیا اور کیوں
    یہ بسیں اورلوڈ ہوتی ہیں۔
    اس میں ہماری ٹریفک پولیس کی کرپشن ہے انہوں نے منتھلی لگائی ہوتی ہے ۔
    کہ ایک ماہ بعد اتنے پیسے دے دینا اور پورا مہینہ بے غم ہو کر چلاؤ۔
    چاہے اورلوڈ کرو چاہے بغیر ہارن چلاؤ۔
    ہاں میں یہ نہیں کہتا کہ سارے پولیس والے ایک جیسے ہوتے ہیں۔
    لیکن ہمارے پیارے وطن پاکستان کو کچھ لوگ دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔
    ہمارے اپنے علاقے میں ٹریفک پولیس والوں نے منتھلی لگائی ہوئی ہے ۔
    اس کے علاوہ عملے کا بھی قصور ہوتا ہے ۔
    جو پہلے تو سواریوں کے چکر میں رکے رہتے ہیں۔
    اور بعد میں ٹائم بچانے کے چکر میں اندھا دھند گاڑی چلاتے ہیں۔
    میں ان بڑی بسوں کی وجہ سے دو بار حادثے کا شکار ہوا ہوں ۔
    ایک بار بازو ٹوٹ گیا اور کافی چوٹیں آئیں جس کی وجہ سے میرا یونیورسٹی میں داخلے کے لئے انٹرویو تھا اور میں نہ پہنچ سکا ۔
    جس یونیورسٹی میں پڑھنے کی خواہش بچپن سے تھی وہ چکنا چور ہوئی ۔
    دوسری بار بھی بہت دردناک واقعہ ہوا خیر میں نے تو اپنی بائیک روڈ سے زمین کی طرف اتار دی لیکن میری آنکھوں کے سامنے ایک عورت کو اس بس نے کچل دیا ۔
    اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ساری عمر اپنی ماں کو ترستے رہیں گے۔😪
    یار کیا ہوتا ہے اگر آپ تھوڑی آہستہ چلا لو اور قوانین کے اندر رہتے ہوئے گاڑی میں جتنے مسافروں کی گنجائش ہو اتنے بٹھاو۔
    ہمارے اداروں کو بھی ان کالی بھیڑوں کے خلاف ایکشن لینا ہوگا ۔
    ذرائع کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے چار سگے بھائی تھے ۔
    ان کے والدین کا کیا حال ہوگا۔
    افسوس صد افسوس۔

  • اسرائیلی ہیکنگ دوسر ا وکی لیکس   تحریر :  ملک علی رضا

    اسرائیلی ہیکنگ دوسر ا وکی لیکس تحریر : ملک علی رضا

    سائنسی جدت کے اس دور میں جہاں ممالک چاند سے بھی آگے نکل کر دیگر سیاروں پر اپنی آماجگاہ بنانے کی سوچ رہے ہیں وہاں پاکستان جیسے کئی ایسے ممالک ہیں جو انہی ممالک کی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس لیے پاکستان کے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کا مکمل بائیو ڈیٹا ان ممالک کے پاس ہے جنکی ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے اور وہ جب چائیں جیسے چائیں اس کو استعمال کر سکتے ہیں
    بین الاقوامی خبر رساں ادارے دی گارڈین کے مطابق رواں سال میں اسرائیلی کمپنی این ایس او کی بنائی گئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کم از کم دو درجن پاکستانی سرکاری حکام کے موبائل فونز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی کمپنی کے جاسوسی کے سوفٹ وئیر کے ذریعے دنیا بھر میں کم ازکم 50 ہزار افراد کی مبینہ جاسوسی کی گئی جبکہ جاسوسی کا دائرہ کم ازکم 50 ممالک تک پھیلا ہوا تھا۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ بھارت اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ منصوبہ بنایا گیا ہے ۔
    ان تمام افراد کی جاسوسی اسرائیلی سائبر فرم این ایس او کے سافٹ وئیر پیگا سس کے ذریعے کی گئی۔امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی حکومت کے پاس جاسوسی، نگرانی اورڈی کوڈ کرنے کی صلاحیت ہے اور بھارت میں اسرائیلی جاسوس نظام پیگاسس کے ذریعے ہیکنگ کی جاتی ہے۔امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ بھارت سمیت 10 ممالک اسرائیلی کمپنی کے کلائنٹ ہیں۔
    اسرائیلی ہیکنگ سافٹ ویئر وزیر اعظم عمران خان کےخلاف استعمال ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی ہیکنگ کا معاملہ دوسرا وکی لیکس بن گیا، جہاں ہوشربا انکشاف کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے جاری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی ہیکنگ سافٹ ویئر عمران خان کےخلاف بھی استعمال ہوا ہے، نوازشریف کی حکومت میں سافٹ ویئر عمران خان کےخلاف استعمال ہوا۔
    یہ سافٹ ویئراس وقت استعمال ہواتب عمران خان وزیراعظم نہیں تھے، ریکارڈ کے مطابق مختلف نمبرز میں ایک نمبر وزیراعظم عمران خان کے زیراستعمال تھا، اس کے علاوہ نواز حکومت میں یہی سافٹ ویئر حساس اداروں اور سیاست دانوں کےخلاف استعمال ہوا۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب نوازشریف نے مولانا اجمل قادری کوخفیہ اورخصوصی دورے پراسرائیل بھیجا تھا ،اس دورے پر جانے والے وفد کے سربراہ مولانا اجمل قادری نے اس بات کا اعلانیہ اعتراف بھی کیا ہے کہ مجھے نوازشریف نے خصوصی پیغام دے کربھیجا تھا۔
    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی کمپنی کے جاسوسی کے سوفٹ وئیر کے ذریعے دنیا بھر میں کم ازکم 50 ہزار افراد کی مبینہ جاسوسی کی گئی جب کہ جاسوسی کا دائرہ کم ازکم 50 ممالک تک پھیلا ہوا تھا۔
    اسرائیلی کمپنی این ایس او کے فون ہیکنگ سافٹ ویئر سے دنیا کے کم سے کم50 ہزار شخصیات کے فون نمبرز ہیک کیے گئے۔ ان نمبروں کا اندراج آذربائیجان، بحرین، ہنگری، بھارت، قازقستان، میکسیکو، مراکش، روانڈا ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے کیا گیا۔
    ان تمام معاملات کے انکشافات ہونے کے بعد اور حقائق سامنے آنے کے بعد پاکستان کی اعلی سول و عسکری قیادت کی اہم میٹنگ ہوئی جس میں اعلی عہدوں پر فائز رہنے والے تمام اداروں کے ملازمین اور اعلی شخصیات کے ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کی بنائی ہوئی ایک واٹس ایپ کی طرز کی ایپلیکیشن بنائی گئی ہے جس پر 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور مکمل ایپلیکیشن بننےکے ساتھ ہی یہ ایپلیکیشن استعمال میں لائی جائے گی۔ خصوصی ایپلیکیشن پبلک استعمال کے لیے نہیں ہوگی بلکہ اعلی قیادت اور حساس اداروں کے ملازمین کمیونیکیشن کے لیے استعمال کریں گے۔
    پاکستان ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھارت اور اسرائیل کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ پاکستان میں پہلے اس کام کی طرف اُس طرح توجہ ہی نہیں دی گئی۔ اب جب معاملات کے انکشافات ہونے لگ گئے تو آنکھ کُھلنا شروع ہوگِی۔پاکستان کے سکیورٹی ادراے پہلے ہی ان معاملات سے باخبر تھی جس کی بنا پر کئی ایسے اقدامات بھی کیے گئے جس سے پاکستان کی اہم معاملات کو لیک ہونے سے بچایا جا سکے ۔پاکستان کے اداروں کی ویب سائٹس تک کو ہیک کرنے کی بھی کوششیں ہوتی رہیں مگر سائبر سکیورٹی کے معاملات میں باقی ادارون کی نسبت قدرے بہتر رہے۔ پاکستان کو اس چیز کے مدنظر رکھتے ہوئے خاصے اقدامات کرنے ہونگے تاکہ ایسے واقعات نہ ہوں ۔ اس معاملے میں وہ اپنے ہمسایہ ملک اور دوست چائینہ سے مدد لے سکتے ہیں جو کہ اپنے ملک میں اپنی ہی بنائی ہوئی ایپلیکیشنز استعمال کرتے ہیں۔
    چین سائبر ٹیکنالوجی سے اعتبار سے بھی ترقی یافتہ ہے اور اس لیے پاکستان اسکی مدد سے بہت ساری چیزیں جو اپنے ملک کے لیےبنا سکتے ہیں تا کہ پاکستان کی عوام دوسروں کی بنائی ہوئی چیزوں کا استعمال نہ کریں اور یہ خطرہ ہی پیدا نہ ہو۔

  • بچوں کی تعلیم وتربیت میں ماں کا کردار  تحریر: صائمہ مسعود

    بچوں کی تعلیم وتربیت میں ماں کا کردار تحریر: صائمہ مسعود

    ماں کے پاؤں تلے جنت ہے
    اس بات سے ماں کی عظمت اور درجے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے
    اسلام نے عورت کو جو روپ دیئے ان میں سب سے زیادہ افضل ماں کا روپ ہے
    جب ایک بچہ دنیا میں انکھ کھولتا ہے اسکی پہلی درسگاہ اسکی ماں کی گود ہے
    ماں بجے کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ ا سکی ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہیے
    بچہ مکتب جانے سے پہلے بہت ساری باتیں ماں سے سیکھتا ہے
    کھانا کھانے کے اداب
    بڑوں کی عزت کرنا
    بات چیت کرنے کے طور طریقے
    اہم ہیں
    اسکے بعد جب عملی طور پر بچہ گھر سے باہر کے ماحول سے آشنا ہوتا وہ بہت کچھ سیکھ چکا ہوتا ہے
    اور جوں جوں وقت گزرتا ماں ہی وہ ہستی ہوتی جو اساتذہ کے ساتھ ساتھ بچوں کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے
    اج کل کے دور میں جہاں زمانہ تبدیلیوں کی جانب رواں دواں ہے وہا معاشرے کے رویوں کو بھی سمجھنا لازم ہو چکا
    ایسے میں تعلیم یافتہ ماں بچے کو ایک ذمہ دار انسان بناتی
    بچے کو احساس ہو کہ وہ مستقبل کا معمار ہے اور معاشرے میں ایک اہم ستون ہے ۔۔
    ماں ہی وہ عظیم ہستی ہوتی جو بچوں کی ہر ذمہ داری باپ کے شانہ بشانہ نبھاتی
    اوربچوں کے بہتر مستقبل کا سوچتی
    بچوں کی مثبت شخصیت بنانے میں ماں کا کردار اہم ہوتا ہے
    اسی لئے ماں خصوصاً جب اسکی بیٹیاں ہوں تو وہ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ گھر گرہستی کے امور بھی بچیوں کو سکھاتی ہے
    دنیا بھر میں خواتین خصوصاً وہ جو بچوں کو تن تنہا پالتیں
    ان کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے
    بچے یا بچی کے لئے ماں آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے
    ماں کو دکھ نہیں دینے چاہیں
    کیونکہ ماں اپنے بچوں کو ہر طرح کے حالات میں تنہا نہیں چھوڑثی
    اور اولاد کے لئے کسی قسم کے حالات ہوں ڈھال اور بہترین پناہ گاہ ہے

    اسی لئے کہتے ماواں ٹھنڈیاں چھاواں
    ماں گھر کو روشن رکھتی اور ماں کے بغیر گھر گھر نہیں رہتا
    ماں بچوں کو تہذیب سے روشناس کراتی
    اج کل کے تیزی سے بدلتے رجحانات میں ماں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے بچوں کے لباس سے لے کر دور جدید کی تمام سہولیات کو ماں کے سمجھنے کی ضرورت ہے اور وہ ہی بچوں کی بہتر نگرانی کر سکتی کہ بچوں کے دوست کیسے
    موبائل کا استعمال کہیں پڑھائ میں روکاوٹ تو نہیں
    ہمارا مذہب اسلام ہے اور اسلام ہمیں سادگی اور پاکیزگی کا درس دیتا
    بچوں کو دین سے محبت میں ماں کا کردار ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا
    کیونکہ بچے کی اول درسگاہ ماں کی گود اور تربیت ہے
    اولاد کی نشوونما کے ساتھ ساتھ انہیں نماز کی سکھانا اور راغب کرنا بھی ماں کی اولین ذمہ داری ہے
    ضرورت اس امر کی ہے کہ اولاد کی اچھی تربیت کریں تاکہ مستقبل میں وطن کے لئے فعال اور اچھے شہری بن سکیں

    @simsimsim1930

  • لاہور کے مسائل اور حکومت پنجاب – آصف گوہر

    لاہور کے مسائل اور حکومت پنجاب – آصف گوہر

    لاہور کے مسائل اور پنجاب حکومت ۔۔۔۔۔
    آصف گوہر

    2018 کے الیکشن جیتنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف پنجاب حکومت کو ورثے میں مالی بحران کے علاوہ صوبائی درالحکومت لاہور میں کئ طرح کے مسائل کا سامنا تھا اورنج لائن ٹرین کا نامکمل اور ناممکن منصوبہ جس کی وجہ سے سارے شہر میں گردوغبار اڑتا رہتا تھا۔جس کی وجہ سے لاہور میں ہوا کی کوالٹی خطرناک حد تک متاثر ہوچکی تھی اور شہر کو فضائی آلودگی کا سامنا تھا پنجاب حکومت نے مسئلہ کو فوری حل کرنے کے لئے پنجاب کےتمام محکموں تعلیمی اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر شجرکاری مہم شروع کرنے کا حکم دیا اور گلبرگ میں اربن فورسٹنگ میاوکی کے تحت سمارٹ جنگل لگایا گیا۔جلو باٹنیکل پارک کی بحالی پرکام شروع کیا گیا۔
    دوسرا بڑا اور قدیم مسئلہ لاہور جس سے سابقہ حکمرانوں نے ہمیشہ آنکھیں بند کئے رکھیں وہ بارش کے پانی سے لاہور میں ہرسال سیلابی صورتحال پیدا ہوجاتی تھی اور ہر سال برسات کے موسم میں لکشمی چوک پر واسا کے بےچارے آفیسرز کو معطل کرنے اور لمبے بوٹ پہن کر فوٹو شوٹ کروانے کے علاوہ کوئی خاطر خواہ کام نہ کیا گیا۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے اپنی حکومت کے پہلے سال ہی ماہرین سے مشاورت کے بعد لاہور کے ہاٹ سپاٹ ایریاز میں انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینکرز تعمیر کئے گئے اور شمالی لاہور کے علاقے چوک ناخدا مصری شاہ لکشمی چوک نسب روڈ فاروق گنج اور دیگر علاقوں میں اب شدید بارش میں بھی پانی کھڑا نہیں ہوتا۔ اب شہر کےکئ مقامات پر انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینکرز تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ اس کے ساتھ واسا کی وائس چئیرمین شپ کے لئے شیخ امتیاز کا انتخاب کیا گیا جو بارش شروع ہونے سے قبل اپنی ٹیمز کے ہمراہ شہر کی سڑکوں پر موجود ہوتے ہیں ۔
    موجودہ حکومت کو شہر کی بے ہنگم ٹریفک کا مسئلہ بھی درپیش ہوا جس سے نپٹنے کے لئے رش والی جگہ فردوس مارکیٹ چوک پر انڈر پاس تعمیر کیا گیا۔ اور شاہ کام چوک گلاب دیوی ٹریفک سگنل پر انڈر پاسز کی تعمیر جاری ہے مال روڈ پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لئے اس کو سگنل فری کیا جا رہا ہے ۔
    لاہور شہر میں صاف پانی کا نظام پائپ لائنز بوسیدہ ہونے کی وجہ سے ناکارہ ہوچکاہے پنجاب حکومت لاہور کے شہریوں کو صاف پانی فراہم کرنے کے لئے چین کے اشتراک سے منصوبہ شروع کرنے جا رہی ہے لاہور سمیت صوبہ بھر میں واٹر سپلائی کی غیر فعال سکیموں کو فعال کرنے کیلئے اب سی پیک پراجیکٹ کے تحت کام کیا جائے گا، صاف پانی کی سکیمیں سی پیک کے تحت مکمل ہوں گی جس کیلئے سی پیک جوائنٹ ورکنگ گروپ میں باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔ اب چین کے تعاون سے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، سپلائی کی تمام سکیموں کی نگرانی بھی چینی انجینئر کریں گے
    چین کی حکومت پنجاب حکومت کو شہریوں تک صاف پانی مہیا کرنے کیلئے 5 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کرے گی۔ لاہور کا ہیلتھ سسٹم آبادی میں مسلسل اضافہ کے بعد ناکافی ہوچکا تھا موجود حکومت نے لاہوز کے تمام ہسپتالوں کو اپ گریڈ کیا زچہ و بچہ کے لئے شہر کے وسط میں 600 بیڈز کا گنگادام مدر چائلڈ ہسپتال تکمیل کےآخری مراحل میں ہے اس کے علاوہ فیروزپور روڈ پر ارفعہ کریم آئی ٹی پارک کے قریب جنرل ہسپتال تعمیر کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے جس سے موجودہ ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم ہوگا ۔
    وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ لاہور پاکستان کا دل اور معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہے اس کی تعمیر و ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ لاہور کے مسائل حل کرنے کے لئے چیف منسٹر اسپیشل پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے لئے پنجاب حکومت نے لاہور کے میگا پراجیکٹس کیلئےنئے مالی سال میں مختص100 فیصد بجٹ جاری  کردیا ہے۔ جس سے 3نئی سڑکیں تعمیر کی جائیں گی شیرانوالہ فلائی اوورمنصوبے کیلئے مختص ایک ارب کے فنڈز جاری، شاہکام فلائی اوور کیلئے مختص ایک ارب روپے  اور گلاب دیوی انڈر پاس کیلئے مختص50کروڑ روپے کے فنڈز جاری کردیئے گئے۔ امیر چوک کالج روڈسےنواز چوک تک مسنگ لنک روڈکیلئے1کروڑ 93لاکھ ، کینال روڈ کے ساتھ بحریہ ٹاؤن تک سٹرکچر پلان روڈ کیلئے5کروڑ، سندرسےمانگا تک کینال روڈکیساتھ سڑک کی تعمیر کیلئے5کروڑ ، امیر چوک سے ایڈن چوک تک سٹرک کی تعمیر و بحالی کیلئے3کروڑ جبکہ  اک موریہ پل کیلئےمختص 8 کروڑ   روپے جاری کردیئے گئے ہیں اور ان تمام منصوبوں پر کام شروع ہوچکا ہے ۔

    مضمون نگار ایک فری لانس صحافی، بلاگر اور معروف ماہر تعلیم ہیں۔ سیاسی امور پر بھی عمیق نظر رکھتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں بارے بہت اچھی اور متناسب رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ایک اچھے ایکٹوسٹ کے طور پر سوشل میڈیا پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا پرسنل اکاؤنٹ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ آصف گوہر @Educarepak

  • تحریر: حبیب الرحمٰن خان  عنوان: اسلام اور عورت

    تحریر: حبیب الرحمٰن خان عنوان: اسلام اور عورت

    بلاشبہ حضرت انسان کی تخلیق اور اسے اشرف المخلوقات کا لقب عنایت کرنا رب العرش العظیم کی بے پناہ عنایت ہے
    اور اسے بھی دوسری دنیاوی مخلوقات کی طرح جوڑے کی شکل میں پیدا فرمایا
    لیکن ہر صنف کو الگ صفات سے نوازا
    اگر مرد کو طاقت و جرات عنایت فرمائی
    تو عورت کو مرد کے لیے بے مثال بنا کر دنیا میں رونمائی دی
    اگر مرد کو زیب وزینت کی کمی ملی تو
    عورت کو صنف نازک کہا گیا
    اسی صنف نازک کی کمی کا مرد نے ہر دور میں فاہدہ اٹھایا
    اسلام سے قبل عورت کو مرد کے مقابلے میں اشرف المخلوقات سے حصہ دینے سے ہی انکار کر دیا گیا
    جس کی مثال ایسے ہے کہ اسے پیدا ہوتے ہی قتل کر دیا جاتا
    میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کے نزول کے مقاصد میں عورت کو مقام دلانا بھی شامل تھا۔
    اسی لیے رب کائنات نے قرآن مجید فرقان حمید اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زریعے عورت کی بقاء کے لیے مختلف مقامات پر مختلف انداز میں کبھی حکم فرمایا تو کبھی ترغیب دی
    جیسا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

                    مَنْ عَالَ ثلاثَ بناتٍ فأدَّبَہُنَّ وَزَوَّجَہُنَّ وأحسنَ الیہِنَّ فلہ الجنة(۶)

                    جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ان کو تعلیم تربیت دی، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی) حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔
    اور دین حق نے نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زریعے عورت کو دنیا کے مختلف امور پر فائز کر کے عورت کی اہمیتِ کو اجاگر کیا
    صحابہ کے درمیان قرآن وحدیث میں علم رکھنے والی خواتین کافی مقدار میں ملتی ہیں، قرآن وحدیث کی روشنی میں مسائل کا استنباط اور فتویٰ دینا بڑا ہی مشکل اور نازک کام ہے؛ لیکن پھر بھی اس میدان میں عورتیں پیچھے نہیں تھیں؛ بلکہ صحابہٴ کرام کے مدِمقابل تھیں، جن میں کچھ کا ذکر کیا جاتاہے۔ مثلاً:

    حضرت خدیجہ ،حضرت عائشہ، حضرت ام سلمہ، حضرت ام عطیہ، حضرت صفیہ، حضرت ام حبیبہ، فاطمہ بنت آقا دوجہاں، اسماء بنت ابوبکر، ام شریک، فاطمہ بنت قیس، وغیرہ نمایاں تھیں۔
    لیکن دور حاضر میں مرد نے دور جہالت کا وطیرہ اپناتے ہوئے ایک بار پھر عورت کو پردے سے نکال کر دنیاوی رونق اور مرد کے لیے عیش و عشرت کا سامان بنا کر پیش کیا۔
    بد قسمتی سے اس سارے معاملے میں عورت نے ہی عورت کے استحصال کے لیے
    اہم کردار ادا کیا
    اور دنیاوی خواہشات کے لیے اپنی ہی جنس کی عزت و آبرو کو پاؤں تلے روندنے کے لیے مواقع فراہم کیے
    میرے خیال سے جسے ہم دور جدید کا نام دیتے ہیں
    وہ دور جہالت کی ہی ایک قسم ہے
    دین سے دوری نے حضرت انسان کو کسی کام کا نہیں چھوڑا
    متفق ہونا ضروری نہیں
    @HabibAlRehmnkhn

  • انا پرستی،معاشرے کا ناسور  تحریر حمزہ احمد صدیقی

    انا پرستی،معاشرے کا ناسور تحریر حمزہ احمد صدیقی

    "اَنا پرستی” ایک خطرناک نفسیاتی مرض ہے۔ اَنا پرستی ہی کی وجہ سے انسان منافق، جھوٹا اور غیر شفاف ہے۔ آج جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو اس عفریت نے ہر دوسرے شخص کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔

    اَنا اُس زہر كی مانند ہے، جو انسان كو تباہ وبرباد كر دیتا ہے، جب تک انسان میں اَنا نہیں ہوتی وه سكون سے رہتا ہے، لیكن جیسے ہی اس میں اَنا آجاتی ہے، اس كا سكون محال ہو جاتا ہے، اَنا پرست لوگ اپنی "میں” میں مبتلا آگے بڑھتے ہوئے نہ جانے کتنے دلوں كو اپنے تلخ جملوں سے زخمی كر چكے ہوتے ہیں۔

    بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اس اَنا پستی کے مرض کا کمینگی کی حد تک اسیر ہو چکا ہے، یہاں دو گز زمیں پر قتل ،گاڑی سٹینڈ کی پرچی پر قتل اور متعد واقعات پر جان کا خاتمہ۔ ہم نے اپنی اقدار اور اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور ہمیں اس کا ادراک تک نہیں جو کہ زیادہ ہولناک ہے۔

    لفظ” مَیں” اور” اَنا "ہر شخص میں رچ بس چکا ہے ۔چاہے وہ چھوٹا ہے ،بڑا ہے، بوڑھا ہے، غریب ہے ،امیر ہے ،سیاستدان ہے، حکمران ہے ،مذہبی اسکالر ہے ،صحافی ہے، پولیس آفیسر ہے ،مالک ہے یا ملازمکوئی شرط نہیں۔سب ” میں ” اور "اَنا” کے مرض میں مبتلا ہیں۔

    ہم سب نے ایک زعم پال رکھا ہے کہ کرہ ارض پر مجھ سے بہتر عقل و دانش کا پیکر کوئی دوسرا نہیں۔ ہم دوسروں کو خود سے کم تر اور حقیر جانتے ہیں اور ہم خود کو علم و فضل اور لیاقت کا ہمالیہ سمجھ بیٹھے ہیں اور ہمارے نزدیک دوسروں کی اہمیت محض اجڈ، گنوار، کوڑھ مغز اور زمیں پر رینگنے والے حشرات کے برابر ہے۔ اَنا پرستی کے زیر سایہ ہم اس قدر تعصب پسند اور تنگ نظر ہو چکے ہیں، کہ ہمیں اپنی ذات کے سوا دوسرا کوئی نظر ہی نہیں آتا-

    معاشرے کو اَناٶں کے خاتمے کی اشد ضرورت ہے۔ یہاں ہر کوئی اپنی اَنا کی وجہ سے پھنے خاں بنا پھرتا اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے، جس دن انسان اپنی اَنا پرستی کو شکست دے گا، اس کے اندر اور باہر کی دنیا میں تازگی اور کشادگی نازل ہو جائے گی۔ رسوم، رواج اور دستور کچھ نہیں، یہ انسانوں کی اَناؤں کی مدد کرتے ہیں اور انسان کو اپنا قیدی بناتے ہیں۔

    قارئين اکرام! ہم عہد کرتے ہیں اس عید پہ اپنی” اَنا” کو ذبح کردوں، جو بات بات پر میں میں کرتی ہے۔ہمارا
    معاشرہ میں” اَنا” و” میں” کی بھینٹ سینکڑوں لوگ چڑھ رہے ہیں۔یہ انا عید پر ہی نہیں زندگی کے ہر معاملے میں اکڑ جاتی اور معاشرے میں ناہمواری اور عدم استحکام پیدا کرتی ہے اس لیے اس عید پر اس” اَنا” کو قربان کر دیاجائے تو معاشرہ بربادہونے سے بچ سکتا ہے ۔”اَنا” کو شکست دو اور سچ کو پالو یہی حقیقت ہے اور زندگی کی حقیقی دلکشی ہے۔۔!!

    اللہ پاکﷻ ہمیں ہدایت دے- آمین یارب العالمین!!

    @HamxaSiddiqi

  • بیٹیوں کی شادی اور غربت .تحریر:حنا

    بیٹیوں کی شادی اور غربت .تحریر:حنا

    آج کل ہمارے معاشرے میں یہ رواج بنتا جا رہا ہے ۔چاہے لڑکی غریب ہے یا امیر ۔۔خواب سبھی کے ایک سے ہے ۔لڑکا گاڑی والا ہو ۔بنگلے والا ہو ۔۔ہمارے بزرگ کہتے تھے جتنی چادر ہو اتنے پاوں پھلاو ۔۔ہمارا اسلام کہتا ہے ۔لالچ بری بھلا ہے ۔۔بیٹی کا پہلا رشتہ آئے اگر لڑکا اچھا ہو تو فورا شادی طے کر دو ۔لیکن آج کل رواج ہے کہ پہلے بیسوں رشتے ٹھکرای جانے ۔۔اور پھر جب شادی کی عمر گزر جانی تو خود وہی رشتے ڈھونڈنے لگ جانا ۔۔پھر کہنا ملے تو سہی کوی ۔۔بس کر ہی دینی ہے ۔۔اور پھر اچھا رشتہ ملتا نہیں ۔۔دوسری طرف ایک طبقہ جو گیارہ بارہ سال کی بچیوں کی شادی کری جاتے ہیں ۔سولہ سترہ سال کے لڑکوں ساتھ ۔۔آپ جانتے ہو ۔۔معذوری کی شرح بڑھتی جارہی ہے ۔۔۔کبھی نوٹ کیا ہے بارہ تیرہ سال کی بچی جسے بمشکل دو وقت روٹی کھانے کو ملتی ہو اس سے سالہا سال بچے پیدا کرواتے رہنا اور امید رکھنا کہ وہ زندہ بھی رہے ۔

    ۔کبھی گیلی مٹی کے سانچے بنتے دیکھے ہیں۔۔۔نہیں نہ ۔۔تو ایک کمزور بچی کیسے صحت مند بچہ پیدا کر سکتی ہے ۔۔آج بھی ہمارے ہاں کچھ جگہوں پر جہالت کا سماں عام ہے ۔۔۔جنھوں نے عورت کو صرف کام والی یا بچے پیدا کرنے والی مشین سمجھا ہوتا ہے ۔۔پتہ نہیں کیوں لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ زندگی کا مقصد صرف شادی نہیں ہوتا ۔۔۔۔میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے لڑکا لڑکی بالغ ہو تو ان کے رشتے طے کر دو تاکہ وہ گناہ سے بچ سکیں ۔۔لیکن بالغ ہونے کو صرف ان کے جسم میں بدلاو کا مطلب نہیں گیا ۔بلکہ عقل بھی ہو۔۔بچی کی عمر کم از کم سترہ اٹھارہ تو ہو اگر آپ کو زیادہ ہی جلدی ہے اپنی بیٹی کو گھر سے نکالنے کی اور لڑکا کم از کم اٹھارہ سے اوپر کا ہو ۔ایسا نہیں کہ لڑکی بارہ تیرہ سال کی اور لڑکا سولہ سال کا جو لڑتے لڑتے زندگی گزارے اور جوانی میں بیس بار طلاق کا لفظ بھی بول چکے ہیں ایسی عمر میں ان پر شادی کا بوجھ ڈالنا اور سمجھنا کہ وہ عقل مند ہو گے ۔۔بالکل نہیں پھر لڑائ جھگڑے لڑائ جھگڑے نہیں قتل و غارت تک پہنچ جاتے ہیں ۔ایسا ہی تو ہورہا آج کل طلاق اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ لفظ ہے ۔لیکن بہت سارے لوگ بے شمار سمجھدار اچھے بھلے لڑائ جھگڑے میں طلاق بول کر پھر سے ویسے کے ویسے ساتھ رہ رہے ہوتے ہیں کون سا کسی کو پتہ چلا ۔۔جبکہ طلاق کے بعد بیوی کا مرد کے ساتھ رہنا گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔۔اب کوی یہ مت سوچے کہ میں شادی کے خلاف ہوں یا لبڑل کی زبان بول رہی ہوں الحمدللہ میں حافظہ ہوں اور قرآن پاک سے اتنا تو سیکھا ہے کہ اسلام بہت آسان دین ہے لوگوں نے ان کی سوچوں نے اسے مشکل بنا دیا ہے ۔۔ہر بندہ اپنے اپنے مطلب کی حدیث نکال کر لے آتا ہے لیکن عورت کو قرآن میں اللہ نے جو حقوق دیے وہ کوی نہی پڑھتے جیسے وراثت میں حصہ ہی دیکھ لیں ۔۔آپ ضرور کریں بچیوں کی شادیاں لیکن کم از کم انھیں کچھ تعلیم بھی دلوائیں تاکہ انھیں شعور تو ہو کہ بیوی کا مقصد شوہر کی خدمت ہوتا اس شوہر کی جو عقلمند ہو اور بیوی کا خیال رکھتا ہو نہ کہ خاموشی سے اس شوہر کا ظلم سہنا جو مار پیٹ کرتا ہو سالہا سال بچے تو پیدا کرواتا ہو لیکن خود نشے پہ لگا ہو اور نچوں کے اخراجات بیوی بچوں کے حقوق کا پتہ تک نہ ہو ۔۔اور پھر انھی بیوی بچوں کو قتل کر دیتا ہو ۔۔یاد رکھیے ظلم پر خاموش رہنا بھی ظلم ہوتا ہے ۔

    اب اصل بات پہ آتی ہوں لالچ ۔۔لوگ لالچ میں اپنی بیٹیوں کی شادیاں بیرون ملک سے آئے بوڑھوں سے کر دیتے ہیں ۔۔کہ بیٹا باہر چلا جاے گا یا لڑکی کے باپ کو وہ بوڑھا اچھا کاروبار کروا دے گا ۔۔لیکن اکثر اس کے برعکس ہوتا ہے ۔۔آج سے چھ سال پہلے ایک دوست تھی ۔اس وقت اس کی عمر اٹھارہ سال تھی تازہ تازہ بی۔اے ۔میں ایڈمشن ۔داخلہ ۔لیا تھا ۔کالج میں کسی ساتھ افیر تھا ۔نہ جانے کیا گناہ کر بیٹھی ۔۔کہ پتہ تب چلا جب باپ کے دوست کا رشتہ آگیا جو ۔عمر میں باپ سے بھی بڑا تھا ۔۔لڑکی اٹھارہ انیس سال کی اور وہ مرد آدمی ساٹھ سال کا ہوگا جو سعودی عرب رہتا تھا دو بچے تھے ۔۔آدمی کی بیٹی شادی شدہ تھی ۔اس لڑکی سے بھی عمر میں بڑی تھی ۔اور ایک لڑکا تھا وہ بھی جوان تھا ۔بیوی بھی زندہ تھی ۔۔۔۔جس لڑکی کی شادی ہونا تھا اس کے خاندان کے دیگر رشتہ داروں نے لڑکی کے والدین کو سمجھایا ۔۔کہ اگر لڑکی سے غلطی ہو بھی گئ ہے ۔تو تو کوی مناسب رشتہ ڈھونڈیں یہ ظلم ہے. لیکن والدین کو لالچ تھا ۔کہ اور بھی چھ بیٹیاں ہے ۔ایک بیٹا ہے ۔بیٹا باہر چلا جاے گا زندگی سنور جاے گی ۔۔ایک تو غریب کے خواب بھی کچھ زیادہ بڑے ہوتے ہیں ۔۔۔۔خیر شادی ہو گئ ۔۔کچھ عرصہ وہ لڑکی وہ آدمی کی فیملی کے ساتھ سعودی عرب رہی ۔پھر وہ فیملی پکا پکا پاکستان آگئ ۔۔۔آج اس کی شادی کو پانچ چھ سال ہو گے چار بچے ہے ۔۔اور اب اس کی عمر چوبیس سال ہو گی جو دکھنے میں کوی پچاس سال کی عورت کی طرح لگتی ہے ۔۔ سارا کام بھی کرتی ہے اور حکم ہے کہ بڑی بیگم جو اس کی ماں سے بھی بڑی ہو گی اس کے سامنے افف بھی نہیں کرنی ۔۔اپنی اچھی بھلی زندگی کو خود اپنے ہاتھوں برباد کر بیٹھی ۔۔ایسے ہی آنکھوں دیکھا ایک اور واقعہ ہے

    ایک تینتیس سال کی عورت بیوہ ہو گئ ۔اس کی ساس جو اس کی پھوپھی بھی تھی اور دو بیٹے تھے عورت کے پھوپھی نے بیٹے چھین لیے بہو کو گھر سے نکال دیا ۔۔۔بھائ کے گھر آگئ ۔۔ٹینشن سے ذہنی مریض بن گئ۔علاج کروایا تھوڑا بہت وہ ٹھیک ہووی ۔تو اس کے نئے رشتے تلاش کرنے لگ گیا ۔دوسری طرف ایک بابا جی تھے جس کا بیٹا اسے اکیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔بابا جی کو بھی کسی سہارے کی تلاش تھی کہ سب کام خود کرتا تھا ۔۔خیر بابا کی بیٹی نے خود ہی بابا کا وہ بیوہ سے رشتہ کر دیا ۔۔۔اس عورت کا بھائ بھی لالچی تھا کہ بابا جی ہے بزرگ کل مر جاے گا ساری جائیداد ہماری ۔۔لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔۔اس بابا جی سے وہ عورت کی ہووی دو بیٹیاں ۔۔بابا تو پھس گیا ایک تو ویسے خود بیمار دوسرا اوپر سے خرچہ کے لیے الگ لائن لگ گئ ۔وہ عورت کے بھائ کی بھی امیدوں پر پانی پھر گیا ۔۔پر بابا جی ایسے پھسے کہ وہ عورت پھر سے ذہنی مریض بن گئ ۔لوگوں نے بابا جی کو ڈرایا کہ عورت ہے ٹینشن لیتی ہو گی کہ میرے بام کچھ بھی نہیں کل تمھیں کچھ ہو گیا تو جائیداد میں باقی اولاد کا حصہ بھی آجاے گا میری بچیوں کا کیا ہوگا ۔۔

    بابا جی نے اپنی ساری جمع پونجی جائیداد سب وہ عورت کے نام کر دی ۔۔۔اپنی طرف سے حقوق دے کر سرخرو ہو گیا۔۔لیکن اب کیا ہوا وہ عورت اپنے بیٹوں سے ملنے لگ گئ ۔اب بابا جی اس ٹینشن میں بیمار پڑے ہووے کہ کہیں یہ سب کچھ بیٹوں کے نام نہ لگوا دے ۔اس سارے لکھنے کا مقصد یہ ہے ۔۔کہ لالچ نے ہمیں کتنا اندھا کر دیا ہے ۔۔لالچ میں ایسے لوگ اپنی دس دس سال کی بچیاں بھی خود وڈیروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔۔غربت تو بدنام ہے ۔۔کبھی بھوک سے کوی مرا ہے ۔۔کہتے ہیں غربت کی وجہ سے فلاں نے ایسے کیا ویسا کیا ۔۔ارے رزق انسان کے پیچھے موت کی طرح بھاگتا ہے مگر شرط ہے انسان کوشش تو کرے صدق دل سے صاف نیت سے ۔۔پر نہیں انسان چاہتا ہے راتوں رات کوی خزانہ ہاتھ لگ جاے بس لگ جاے کسی بھی طرح پھر حلال حرام کی پہچان کہاں رہتی ہے ۔۔غربت کو روتے ہو تم ۔۔میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور صحابہ علیی اسلام سے زیادہ غریب ڈھونڈ کر دکھا دو آج ۔میرے ملک کا فقیر بھی آج پیاز سے روٹی نہیں کھاتا ہوگا ۔۔جو ان عظیم ہستیوں نے کھائ کھجور کا آدھا ٹکرا کھا کر بھی روزے رکھے انھوں نے ۔ نااعوذباللہ نہ غربت کے ڈر سے حرام موت لی کسی نے نہ رب سے گلے شکوے کر کہ اپنا ایمان کمزور کیا ۔۔۔اب یہ نہ کہنا کہاں وہ کہاں ہم ۔۔۔یہاں بات غربت اور انسان کی ہے.اس وقت کیا یہ سب سہولتیں تھی ۔۔۔بالکل نہیں ۔۔انھوں نے تو جنگیں بھی بھوکے پیاسے لڑی ۔۔۔۔مجھے دکھا دو کسی نبی کسی صحابہ نے کسی ایک نے تاریخ میں یا تاریخ کی کسی کتاب میں کسی نے غربت کا رونا رویا ہو ۔۔

    آخر میں اتنا ہی کہوں گی ۔جناب ۔۔غربت بری نہیں نہ غریب برا ہے ۔۔بری تو وہ خواہشات کی لگام ہے جو کھلی چھوڑی ہووی ہے ۔۔۔خدارہ اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو ۔۔۔صبر اور برداشت سے جینا سیکھیے۔۔۔ویسے تو ہم کہتے ہیں کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم مسلمان ہے صرف مسلمان تو نہ بنیے ۔۔محمد کی امت بھی تو بنے ۔۔وہ امت جسے لوگ دیکھ کر سوچنے پرجبور ہو جائیں ۔۔کہ یہ یہ امت ایسی ہے تو ان کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیسے ہوں گے ۔۔شاید کہ اتر جاے تیرے دل میں میری بات ۔۔جزاک اللہ ۔

    ۔

    <

  • آزاد کشمیر کے الیکشن تحریر : سعدیہ ناز

    آزاد کشمیر کے الیکشن تحریر : سعدیہ ناز

    جب بھی الیکشن کی بات ہوتی ہے تو وہاں کا موسم بڑا گرم ہو جاتا ہے جہاں الیکشن ہو رہے ہوتے ہیں،سیاسی پارہ ہائی ہو جاتا ہے۔
    ساری سیاسی پارٹیاں بڑے جوش اور جذبے سے الیکشن کے دنگل میں اترتی ہیں، کارکنان سے لے کر پارٹی رہنماؤں تک سارے ہی لوگ الیکشن مہم کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں اور اپنی تیاری مکمل کر کے میدان میں اترتے ہیں.سب سیاسی پارٹیاں اپنی جیت کے دعوے کر رہی ہوتی ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے کیوں کہ حلقہ، شہر اور صوبے کے لوگ اس پارٹی کو جتواتے ہیں جس پارٹی نے وہاں کے لوگوں کے لیے کام کیا ہوتا ہے۔ اب عوام بھی اتنی بیوقوف نہیں رہی، پہلے کام پھر ووٹ.
    25 جولائی کو آزاد کشمیر میں ہونے والے ہیں الیکشن اور ساری سیاسی جماعتوں نے آزاد کشمیر میں ڈال لیے ہیں ڈیرے۔جلسے جلوس بڑے جوش و جذبے سے ہو رہے ہیں.
    اگر ہم مسلم لیگ ن کی بات کریں تو اس کی قیادت کر رہی ہیں مریم صفدر ،دیکھا جائے تو پچھلے کچھ عرصے سے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے۔لیکن مریم صفدر کی تقریروں سے لگتا ہے جیسے وہاں کسی اور جماعت کی حکومت ہے، تقریر میں وہی پرانے نعرے بازی، وہی پرانے وعدے جو کبھی وفا ہی نہیں ہوئے۔ جہاں پر آپ کی پہلے سے حکومت ہے وہاں آپ نے پہلے ہی کچھ نہیں کیا تو اب کیا کریں گے؟ آزاد کشمیر کے وزیراعلیٰ راجہ فاروق حیدر سے ہی پوچھ لیں انہوں نے اپنے حلقہ کے لوگوں کے لیے کیا کیا ہے؟ نا تو وہاں کوئی سڑک پکی ہوئی ہے،نا کوئی ایسا ہسپتال بنایا ہے جہاں غریب عوام کا مفت علاج ہو سکے اور نا ہی لوگوں کو صاف پانی پینے کو ملتا ہے۔ اب آپ خود سوچیں وہاں لوگ کیا ایسی پارٹی کو ووٹ دیں گے جس نے حکومت میں ہوتے ہوئے کوئی کام نہیں کیا۔ سب سے بڑی چیز کشمیر کی عوام پوچھتی ہے مسلم لیگ ن نے کشمیر کا مقدمہ اقوام متحدہ میں کیوں نہیں لڑا؟ کیوں خاموش بیٹھی رہی ؟ سب سے بڑی چیز جب نریندرا مودی میاں نواز شریف کی دعوتوں میں آتا تھا تو نواز شریف نے مودی سے مسئلہ کشمیر پر کیوں بات نہیں کی؟
    میرے خیال میں کشمیر کے لوگ باشعور ہیں انہیں پتا ہے انہیں کس جماعت کو ووٹ دینا ہے۔
    اگر ہم پاکستان پیپلز پارٹی کی بات کریں تو شاید اس جماعت کو آزاد کشمیر کے الیکشن میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے کیوں کہ چیئرمین بلاول زرداری آزاد کشمیر کے الیکشن کو چھوڑ کر امریکہ گئے ہوئے ہیں اور پیپلز پارٹی کی قیادت آصفہ زرداری نے سنبھالی ہوئی ہے.آصفہ زرداری جس کے بارے میں لوگوں کو لگتا ہے جیسے دوسری بینظیر بھٹو ہو۔لیکن میرے خیال میں کشمیر کے لوگ یہ نہیں دیکھیں گے سامنے بینظیر کی بیٹی ہے یا خود بینظیر ہے بلکہ وہ تو یہ دیکھیں گے کہ سامنے والی جماعت نے ہمارے لیے کیا کیا ہے۔اور جس جماعت کا چیئرمین خود امریکہ میں بیٹھا ہو اور بہن کو سیاسی مہم کے لیے بھیج دے میرے خیال میں کشمیر کی عوام اتنی بیوقوف نہیں.
    اور اگر ہم پاکستان تحریک انصاف کو دیکھیں جس نے 2018 میں عام انتخابات جیت کر حکومت بنائی ہے اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں جس طرح وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کا مقدمہ لڑا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔کشمیر کے لوگوں کے لیے اس سے بڑی چیز اور کیا ہو سکتی ہے۔ آزاد کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تو نہیں ہے لیکن وہاں کے لوگوں کو صحت انصاف کارڈ دیا گیا ،وہاں کے لوگوں کو احساس ایمرجنسی کیش پروگرام میں شامل کیا گیا۔حکومتی جماعت نے باقی صوبوں کی طرح آزاد کشمیر کو بھی ہر چیز میں شامل کیا. یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن بوکھلاہٹ کا شکار ہے کبھی جیت کے دعوے کر رہی ہے تو کبھی دھاندلی کا رونا شروع ہے ابھی سے۔مسلم لیگ ن کو بھی پتا کہ آزاد کشمیر کے لوگ بھی تبدیلی چاہتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے لوگ مسلم لیگ ن کی غلامی سے نجات چاہتے ہیں۔
    بہرحال کوئی بھی جیتے لیکن الیکشن کمیشن کو یہ یقین دہانی کرانی چاہیے کہ آزاد کشمیر کی الیکشن شفاف ہو ۔
    میرا تو ساری سیاسی جماعتوں کو مشورہ ہے کہ کوئی بھی جیتے کوئی بھی ہارے آپ لوگوں نے الیکشن کمیشن کے نتائج کو تسلیم کرنا ہے۔جیتنے اور ہارنے والا ایک دوسرے کو گلے لگا کر ایک اچھے سیاستدان اور اچھے پاکستانی شہری ہونے کا ثبوت دے۔کیوں کہ کوئی بھی جیتے آخرکار ہم ہیں تو سب ہی پاکستانی.
    @sadianaz123

  • ویڈیو اسسٹڈ ایکشن۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    ویڈیو اسسٹڈ ایکشن۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    دُنیا جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے ویسے ہی جدید ایجادات انسانی زندگی میں آسانی پیدا کر رہی ہیں۔ ان جدید ایجادات میں ایک ویڈیو شیئرنگ ٹیکنالوجی بھی ہے۔ آج کے جدید دور میں ویڈیو اسسٹڈ کانفرنس، ویڈیو اسسٹڈ میٹنگز، ویڈیو اسسٹڈ تعلیم اور حتیٰ کہ ویڈیو اسسٹڈ سرجريز بھی ہو رہی ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی بہت کچھ بدل دے گی۔ دور دراز علاقوں میں تعلیم، علاج اور کاروبار آسان ہو جائے گا۔

    لیکن ہمارا پیارا پاکستان اِس ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی سب سے آگے ہے۔ آج یہاں ہر چیز ویڈیو اسسٹڈ ہو چکی ہے۔ ہمارا معاشرہ اور تمام ادارے ویڈیو اسسٹنس کے عادی ہو چُکے ہیں۔ جب تک کسی جُرم، ظُلم یا زیادتی کی ویڈیو وائرل نہیں ہوتی مُجرم کے خلاف کوئی ریاستی ادارہ حرکت میں نہیں آتا۔

    گزشتہ دنوں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں مدرسے کا ایک استاد اپنے شاگرد کے ساتھ نازیبا حرکات کر رہا تھا۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ قبیح نکلا۔ متاثرہ لڑکا ایک عرصے سے اپنے استاد کی طرف سے زیادتی کا نشانہ بن رہا تھا، لیکن جب اُس نے شکایت کرنے کی کوشش کی تو نہ ہی مدرسہ انتظامیہ نے اور نہ ہی پولیس نے کوئی ایکشن لیا۔ استاد کی گرفتاری کے لیے مجبوراً لڑکے کو ایک ویڈیو بنا کر وائرل کروانی پڑی، پھر جا کر ہمارے ادارے حرکت میں آئے۔

    ہمارے معاشرے میں پنپنے والی چھوٹی بڑی برائیوں کو اُس وقت تک بُرا نہیں سمجھا جاتا جب تک اس برائی کی ویڈیو فیس بک یا ٹویٹر کی زینت نہیں بنتی۔ کچھ عرصہ قبل ایک یونیورسٹی میں ایک لڑکے نے ایک ساتھی لڑکی کو پرپوز کیا۔ یہاں تک تو بات ٹھیک تھی لیکن پروپوزل قبول ہونے کے بعد دونوں نے سرِ عام نازیبا حرکات کی۔ اس واقعہ کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی اور جب بہت سارے مہذب شہریوں نے اس واقعے کی تنقید کی تو پھر جا کر یونیورسٹی نے ایکشن لیا۔

    ایک اور واقعہ جو کہ کچھ روز قبل ہی وقوع ہوا تھا، ایک موٹر سائیکل سوار لڑکے نے راہ چلتی لڑکی سے پرس چھینا اور دھکا دے کر گرا دیا۔ اس واقعے کی بھی ویڈیو وائرل ہوئی، ہمارے ادارے حرکت میں آئے اور ایک ہی روز میں ملزم گرفتار ہو گیا۔ تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ ملزم کافی عرصے سے یہ کام کر رہا ہے لیکن کبھی پکڑا نہیں گیا۔ اگر اس واقعہ کی ویڈیو وائرل نہ ہوتی تو نا جانے کتنے اور جرم ہوتے۔

    حال ہی میں ایک ویڈیو سکینڈل منظر عام پر آیا۔ با اثر افراد نے ایک جوڑے (کپل) کو مارنے پینے کے ساتھ نہ صرف لڑکی کو برہنہ کیا بلکہ ان سے زبردستی نازیبا حرکات کروائی گئیں۔ اسکے بعد لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس سب کی ویڈیو بنائی گئی۔ یہ واقعہ تقریباً 8 ماہ قبل پیش آیا تھا، اتنے عرصے میں مُجرم کھلے عام گھومتے رہے اور پولیس کو اُنہیں گرفتار کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ شاید اسی لیے لڑکا یا لڑکی میں سے کسی نے پولیس رپورٹ نہیں کی کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اُنہیں انصاف نہیں ملے گا۔ ان کی بھی داد رسی ہوئی لیکن ویڈیو وائرل ہونے کے بعد۔ ویڈیو وائرل ہونے کے کچھ ہی دنوں میں نہ صرف سب مُجرم گرفتار ہو گئے بلکہ ان کے پاس سے ایسی کئی دوسری ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں۔

    اگر اس جوڑے کو انصاف کی تھوڑی سی بھی امید ہوتی تو شاید وہ بہت پہلے پولیس کے پاس چلے جاتے۔ لیکن انصاف ملا بھی تو رُسوا ہونے کے بعد۔ بلکہ ابھی انصاف کہاں ملا ہے۔ کچھ دن بعد ہم یہ قصہ بھول بھال کر ایک نئی ویڈیو وائرل کریں گے جیسے ہم سیالکوٹ موٹروے والے واقعے کو بھول چکے ہیں۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا، ظلم ہوتا رہے گا، ویڈیوز بنتی رہیں گے، ہم واویلہ کرتے رہیں گے اور کچھ دن بعد ایک نئی ویڈیو وائرل ہوتے ہی پچھلے واقعات بھولتے جائیں گے۔

  • تحریر ماریہ بلوچ  عنوان: ناشکرے ہم

    تحریر ماریہ بلوچ عنوان: ناشکرے ہم

    بحثیت انسان مسلمان قوم و امت ہم ناشکرے لوگ ہیں ۔ ہم میسر نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے اور الٹا جو ہمیں حکمت الہی سے دیا نہیں گیا اسکی طرف دھیان لگائے رکھتے ہیں جب ہم بھوکے ہوتے ہیں ہم خواہش کرتے ہیں بس کہیں سے کچھ بھی کھانے کو مل جائے اور کھانے کے بعد شکر ادا نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کاش ہمیں کچھ اچھا کھانے کو مل جاتا۔ اور یہی حال ہم تمام نعمتوں کے ساتھ کرتے ہیں ۔
    مجھے ذاتی طور پر اسکی صرف ایک ہی وجہ نظر آتی ہے کہ ہم اللہ کی تقسیم پر راضی نہیں ہوتے ہمیں لگتا ہے جو ہمیں دیا گیا ہے ہم اس سے بہتر کے حقدار تھے۔ نادانستہ ہم اللہ کی حکمت کے منکر ہو رہے ہوتے ہیں۔ قرآن کی ایک مختصر سی آیت میں اللہ نے بہت جامعیت سے بتایا کہ
    "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور دونگا اور اگر تم نے کفر کرو گے تو عذاب شدید ہے”
    مطلب اگر شکر نہیں تو پھر وہاں کفر ہے ۔۔ کفر کس چیز کا؟؟ کفر اللہ کی نعمتوں کس انکار ہے جو اس نے دی ہیں اور پھر ایسے کفر پر عذاب بھی شدیدکہا۔۔
    بہت حیرت کی بات ہے ہمارے معاشرے میں انفرادی و اجتماعی کفر اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اب ہمیں اسکا ادراک بھی نہیں ہوتا۔
    کل 100 روپیہ کمانے والا آج 1000 کما رہا ہے اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد لگثریز کا عادی ہو رہا ہے اور زبان پر ایک ہی کلمہ ہے کیا کریں اخراجات ہی پورے نہیں ہوتے۔ اگر ہم قوم ہیں تو بھی ہمارا یہی حال ہے ہم اپنے ملک میں آذادی سے رہتے ہیں ہمارے جان مال و عزت کو وہ تحفظ اجتماعی طور پر حاصل ہے جس کے لیے ہم نے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کر کے یہ ملک حاصل کیا تھا لیکن اب ہم اس پر بھی شاکر نہیں ہمیں ہمارے ہی ملک میں نقائص نظر آتے ہیں ہماری نظریں یورپ کے بظاہر ترقی یافتہ مگر اخلاقی اقدار میں پست ممالک پر ہیں۔اور ہم ان جیسا ہونا چاہتے ہیں ۔
    ہمیں اپنا ملک اپنا نظام دیا گیا مگر ہم اسکو نہیں اپنانا چاہتے ناشکرے پن ہی میں ہم اللہ کے نظام کو ناکافی سمجھتے ہیں ہمیں اس میں نقائص نظر آتے ہیں۔۔
    اب بھی وقت ہے ہمارے لیے شکر کو اپنانے کا اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں یہی ہمارے لیے راہ نجات و وسیلہ کامیابی ہے

    Twitter handle: @ShezM__