Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عوام اور سیاستدان!!.تحریر: موسی حبیب راجہ

    عوام اور سیاستدان!!.تحریر: موسی حبیب راجہ

    کسی بھی ملک کے انتظامی نظام کو چلانے کیلئے ایک جمہوری حکومت کی ضرورت ہوتی ہے دنیا کے ہر ملک میں آج تک ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ عوام اپنے پسندیدہ نمائندوں کو منتخب کرتی ہے اور ان کو ایوانوں تک پہنچاتی ہے…

    یہ حق عوام کا ہی ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ ترین عوامی نمائندگان کو منتخب کریں۔ پاکستان کو آزاد ہوئے تقریبا 74 سال گزر چکے ہیں پاکستان کی آزادی کے بعد ایک حکومت تشکیل دی گئی تاکہ اس ملک کا نظام موثر طریقے سے چلایا جا سکے اور آج تک یہی ہوتا آرہا ہے الیکشن کے آغاز میں ہر سیاسی جماعت ایک لائحہ عمل تیار کرتی ہیں جس کے مطابق وہ عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کرنے کا وعدہ کرتی ہیں۔ الیکشن سے پہلے کے حالات دیکھیں تو ووٹروں کو بہت عزت دی جاتی ہے، وعدے کیے جاتے ہیں، خواب دکھائے جاتے ہیں پھر جب الیکشن کے بعد کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت میں آتی ہے تو عوام سے کئے گئے وعدے خواب ہو جاتے ہیں۔۔

    پھر ایوانوں میں بیٹھے نمائندہ عوام کو بھول کر اپنی سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ عوام کی خواہشات کی تکمیل کرنے والے اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہو جاتے ہیں اور ایسا تقریبا 35 سالوں سے ہوتا آرہا ہے کہ دو سیاسی جماعتیں جو زیادہ تر حکومت کا حصہ نہیں حکومت کے آنے کے بعد انہوں نے عوام سے کیے گئے وعدے ہوا میں اڑا دیئے…

    آج بھی آپ کو ان سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جائیدادیں اندرونی اور بیرونی ممالک میں ملیں گی اور اس کی وجہ کیا ہے کہ نظام کا قصور ہے یا کہ سیاسی نمائندوں کا قرآن پاک میں بھی یہ واضح ارشاد ہے کہ جو قوم اپنی حالت نہیں بدلتی خدا ان کی حالت نہیں بدلتا کیا ہم ساری کرپشن کا قصور صرف سیاستدانوں کو ٹھرائیں گے کیا ہم خود بخثیت عوام کرپشن کا حصہ نہیں ہیں۔

    آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اتنا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی خاموش ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم خود ان برائیوں میں ملوث ہیں جن برائیوں میں ہم سیاستدانوں کو دیکھ رہے ہیں سب سے بڑی ضرورت ہمیں اپنے من کو اپنے آپ کو تبدیل کرنے کے ضرورت ہے تبدیلی سیاستدانوں سے نہیں عوام سے آتی ہے پہلے ہم سب کو اپنا آپ درست کرنے کی ضرورت ہے…
    @RajaMusaHabib

  • گاڑیوں کی قیمتوں کی پرواز ویسی.تحریر.ام سلمیٰ

    گاڑیوں کی قیمتوں کی پرواز ویسی.تحریر.ام سلمیٰ

    وفاقی وزیر صنعت خسرو بختیار نے 7 جولائی بروز بدھ کہا ہے کہ مالی سال 2022 کے بجٹ میں گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں کمی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کے کاروں کی نئی کم قیمتوں کو کچھ دنوں میں لاگو کیا جانے کہ اعلان کیا جاۓ گا۔جو کے اب تک صحیح طرح لاگو نہ ہوسکی کیوں کے گاڑیوں کی کمپنیوں نے گاڑیوں پر اؤن بڑھا کر پرانی قیمت ہی وصول کر رہی ہیں اب تک کی تازہ اطلاع کے مطابق.

    نئی آٹو پالیسی کے پہلوؤں کے بارے میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صنعت نے متعدد قسموں سے تعلق رکھنے والی متعدد کاروں کا نام لیا اور قیمتوں میں ہونے والی کمی کا اعلان کیا.

    انہوں نے کہا ، "ان تمام کاروں کے لئے نئی قیمتوں کا نفاذ ایک دو دن میں ہو جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں جلد ہی ایک نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ اس سے آٹوموبائل سیکٹر میں مانگ میں اچانک اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ کاروں کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔ "میں یہ خوشخبری بھی دینا چاہتا ہوں کہ جیسے ہی ہم کاروں کی پیداوار میں اضافہ کریں گے اس سال اس [آٹوموبائل] سیکٹر میں تقریبا 300،000 نئی ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔”

    خسرو بختیار نے کہا کہ اس سال آٹوموبائل کی پیداوار کو 300،000 کاروں تک بڑھانے اور مراعات اور دیگر اقدامات کے ذریعہ اپنی طلب کو بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

    "اس آٹوموبائل شعبے کے لئے سب بنیادی مقصد یہ ہے کہ قیمتیں کم ہونے پر طلب میں اضافہ ہو
    لیکن کہیں بھی قیمتیں کم ہوتی نہں دکھائی دے رہی گاڑیوں کی کمپنیاں وہی قیمت دوسرے طریقے اپنا کر حاصل کر رہی ہیں جب کے سرکاری اعلان کے مطابق اون بھی ایک مقرر کردہ حد کے مطابق لیا جہ سکتا ہے لیکن کمپنیاں ابھی تک اپنے خود کے مقرر کردہ طریقے سے اون وصول کر رہی ہے گاڑی کی قیمت میں کمی کے بعد گاڑیوں کی کمپنیوں نے فوری اون میں اضافہ کر دیا ہے اور قیمت اون ملا کر اب بھی وہی وصول کی جہ رہی ہے جو بجٹ سے پہلے تھی۔

    جب کے حکومت نے چھوٹی کاروں پر سیلز ٹیکس میں کمی کے ساتھ کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) اور اضافی کسٹم ڈیوٹی (اے سی ڈی) کو بھی ختم کردیا ہے۔” خسرو بختیار نے اور بتایا تھا کے

    حکومت ان اقدامات کا مقصد صارفین کو کچھ ریلیف فراہم کرنا تھا ، لیکن اب تک قیمتیں برقرار ہیں پچھلی سطح پر.

    وفاقی وزیر نے یہ بھی وضاحت کی تھی کہ کار تیار کرنے والی کمپنیاں صارفین کو 60 دن سے زیادہ گاڑی کی فراہمی کی کمپنی کی طرف سے تاخیر کرنے پر صارفین کو جرمانے کی ادائیگی بھی کریں گی اور صارفین اپنی گاڑی کے موجودہ مینوفیکچرنگ اسٹیج کو آن لائن چیک کرسکیں گے۔

    اب حکومت کی توجہ کار کے معیار کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے ، جیسے جدید حفاظتی خصوصیات کا تعارف تاکہ گاڑیوں کی بر آمد کا سلسلہ بھی شروع کیا جا سکے۔ترقی کو مستحکم رکھنے کے لئے اور قیمتوں کو کم رکھنے کے لئے ملک کی انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ اڈے میں اضافہ کرنا ضروری ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اب لوکلائزیشن پر توجہ دے ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی میں بھی لوکلائزیشن پر توجہ دی گئی ہے۔
    ڈیوٹی ، ٹیکس میں کمی کے باوجود کار ساز لوگ قیمتوں میں ریلیف میں تاخیر کررہے ہیں حکومت اس مسئلے پر فوری توجہ دے تاکہ بجت میں دیا گیا ریلیف عوام تک صحیح معنی میں پنہچ سکے۔
    @umesalma_

  • نشے کا بڑھتا رجحان. تحریر: سحر عارف

    نشے کا بڑھتا رجحان. تحریر: سحر عارف

    اسلام بہت خوبصورت دین ہے جس نے انسان کو حلال اور حرام چیزوں سے باخوبی آگاہ کیا ہے اور اسلام نے حرام اور حلال چیزوں کے حوالے سے کچھ حدود رکھی ہیں اور بتایا ہے کہ حرام چیزوں سے بچا جائے یہ انسان کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کردیتی ہیں۔ حرام چیزوں کے استعمال سے انسان نہ دنیا کا رہتا ہے نہ آخرت کا رہتا یے۔ ٹھیک اسی طرح نشہ بھی حرام ہے۔ ہر وہ چیز جو انسان کو مدہوش کردے، اسے اس کے رب سے دور کردے، جو انسان کے دماغ کو ماؤف کردے اور اس کے پورے جسم میں نشہ پیدا کردے جس کی وجہ سے وہ اپنے رشتے اور معاشرے کو بھول جائے اور انقصان پہنچائے حرام ہے۔ اور آج پوری دنیا میں نشہ عام چیز ہوگیا ہے۔ جہاں پوری دنیا نشے کی لت میں جکڑ چکی ہے وہیں یہ لعنت پاکستان کی نوجوان نسل کو تباہ و برباد کررہی ہے۔ افسوس کے ایک اسلامی ملک جس کا تو دین یہ کہتا ہے کہ نشہ حرام ہے وہاں اس حرام چیز کی مقدار اور اس کے چاہنے والے اور اس سے اثرانداز ہونے والے افراد کی تعداد میں روز کے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پہلے تو منشیات فروش اپنا کام کچھ مختص کیے گئے مقامات پر کرتے تھے پر اب تو یہ غلیظ دھندہ سرعام ہورہا ہے اور یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس ملک کے ادارے اور وہ تمام لوگ کہاں سو رہے ہیں جن پر منشیات کی روک تھام حکومت پاکستان کی طرف سے فرض کی گئ ہے؟ پاکستان میں سب سے زیادہ نشے سے اس ملک کی نوجوان نسل برباد ہورہی ہے۔ کسی بھی ملک کے نوجوان اس ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں اور آج افسوس ہے کہ اس ملک کا اثاثہ بربادی کی طرف گامزن ہوتا چلا جارہا ہے۔ نوجوانوں میں نشہ کرنے کے کئ طریقے سامنے آئے ہیں جن میں سگریٹ، شراب، آیوڈکس، گٹکا، نشہ آور دوائیں اور ہیروئن وغیرہ شامل ہیں اور ان میں سب سے زیادہ تعداد سرنج سے نشہ کرنے والے افراد کی ہے اور اس طریقے سے نشہ کرنے کی وجہ سے ایچ آئی وی ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق ایسے نشے سے متاثر افراد ایک دوسرے کی سرنجیں استعمال کرتے ہیں جس وجہ سے وہ ان بیماریوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔

    جہاں نشہ معاشرے کو اپنی جکڑ میں لے رہا ہے وہاں پہ تعلیمی ادارے بھی خاصے متاثر ہوئے ہیں۔ وہ ادارے جن کو تعلیم کے حصول کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ نوجوان وہاں سے پڑھ لکھ کر ملک کی ترقی میں اپنا حصّہ ڈال سکیں اب وہ بھی منشیات فروشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے الیکٹرونک میڈیا پہ اس حوالے سے کافی ہلچل مچی ہوئی ہے کہ اب تعلیم اداروں میں کچھ طالب علم اپنے اساتذہ کے ساتھ مل کر منشیات کی خریدوفروخت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے ڈی ڈبلیو کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھتے ہوئے بتایا کہ ” میں نے آئس نامی نشہ آور مادے کا استعمال کافی کیا اور اس وجہ سے اپنی تعلیم کے دو سال بھی ضائع کردیے، پہلے میں صرف دوستوں کے ساتھ مل کر تفریح کے لیے اس کا استعمال کرتا تھا پر پھر مجھے اس سے سکون ملنے لگا۔ اس نشے سے میرے دل و دماغ کو بہت زیادہ سکون اور عجیب و غریب سرور ملتا تھا تو مجھے اس کی عادت ہوگئی، عادت اتنی بڑھی کے اس کہ میرے لیے اس کے بغیر رہنا ناممکن ہوگیا اس کو حاصل کرنے کے لیے میں گھر میں چوریاں کرنے لگا بار بار ایسا کرنے پر ایک بار میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا تو والدین کو اس ساری صورتحال کا علم ہوا اور پھر انھوں نے مجھے ایک ایسے مرکز میں داخل کروایا جہاں نشے سے متاثر افراد کا علاج کیا جاتا ہے اور اب میں کافی حد تک اپنی پرانی زندگی میں واپس آگیا ہوں”۔ سن 2015 میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو منشیات کے حوالے سے یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ پاکستان میں کل 70 لاکھ سے زائد افراد نشہ آور ادویات کے عادی ہیں جن میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی شامل ہیں۔ منشیات فروش ملک کے دشمن ہیں جو منشیات کی مدد سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ نشے سے متاثر افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کی کچھ اور اہم وجوہات بھی ہیں جن میں سب سے پہلے تو ہمارے ان اداروں کی غفلت ہے جو منشیات کی روک تھام کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ پھر کچھ حصّہ ملک میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری کا بھی ہے۔ جب ملک میں بےروزگاری بڑھتی ہے اور نوجوانوں کو کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں ملتا تو پھر وہ منشیات فروشوں کے شکنجے میں آجاتے اور ان کے ساتھ مل کر اس کام میں اپنا حصّہ ڈالتے ہیں اور پھر وہ افراد جو زندگی کے ان مشکل حالات سے گھبرا جاتے ہیں اور ہار مان لیتے ہیں، طرح طرح کی ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں تو وہ سکون کی تلاش کے لیے نشے کا استعمال شروع کرنے لگتے ہیں۔ بحیثیت انسان ہمیں چاہیے کہ ہم اس غیر قانونی اور حرام چیز کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس کی روک تھام میں حکومت کا ساتھ دیں اور ایسے لوگوں کا سہارا بنتے ہوئے ان کا بھی ساتھ دیں جو نشے کی وجہ سے اپنی زندگیاں برباد کر کے ہیں تاکہ وہ واپس اپنی پہلے والی زندگیوں میں آنے کی کوشش کریں اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ نوکریوں کا اہتمام کرے تاکہ پڑھے لکھے نوجوان اس سے مستفید ہوسکیں اور نشے جیسی لعنت سے بچ سکیں اور پاکستان کی آنے والی نسلیں ایک صاف و شفاف اور ابھرتا ہوا ملک دیکھیں جو نشے کی لعنت اور منشیات فروشوں کے ناپاک وجودں سے پاک ہو۔

  • باشعور قوم . تحریر:تحریر چوہدری عطا نت محمد

    باشعور قوم . تحریر:تحریر چوہدری عطا نت محمد

    بڑی قومیں ہمیشہ جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں سب سے پہلی ترجیح اپنی سرحدوں اور آزادی کی حفاظت ہوتی ہے اس کے بعد اجتماعی طور پر پورا معاشرہ اپنے آپ کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے جہاں ہر فرد انفرادی طور پر اپنا فرض سمجھ کر اپنے حصے کا کام پورا کرتا ہے۔

    دنیا میں کیا ہو رہا ہے کس ملک کی فوجیں کونسی جنگ لڑ رہی ہیں یہ کام دیکھنا سرکار کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں رہنے والے ہر فرد نے یہ ذمہ داری بھی خود لے رکھی ہے جہاں اس ملک کے اندر تقریبا دو دہائیوں پر مسلط جنگ نے ہزاروں بے گناہوں کے خون سے سر سبز و شاداب سرزمین کو رنگین کر دیا ہے۔

    آج اسی سوچ اور نظریہ کو پروان چڑھانے والے کسی دوسری سرزمین پر ہمارے محسن ٹھہرے ہیں جہاں انسانیت اور احساس مر چکا ہے اقتدار کی اس جنگ میں کوئی بھی باشعور قوم جذباتی فیصلے نہیں کر سکتی جہاں مذہب کے نام کو استعمال کر کے انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا جاتا ہے اپنے مفادات اور ملکی سلامتی کے لیے جس نظریے کو دفن کرنے کے لیے ہم نے پوری دنیا میں بدنامی حاصل کی 70 ہزار سے زائد افراد کی قربانی دی لاکھوں افراد نے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کی ہے کاروبار اور اولاد کی قربانیاں دی ہیں آج کسی دوسری سرزمین پر صرف اپنی ضد اور انا کی تسکین کے لئے اسی نظریے کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔

    وہ سوچ جس نے پوری دنیا میں اسلام کو بدنام کرنے کے لئے ہر طرح سے اپنا کام دکھایا ہے میری قوم اس جنگ میں آج فریق بن چکی ہے جہاں دونوں طرف سے اللہ اکبر کا نعرہ لگتا ہے جہاں دونوں طرف سے اسلام کو سچا مذہب مانا جاتا ہے جہاں دونوں اطراف سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی مانا جاتا ہے جہاں دونوں افواج اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتی ہیں۔

    وہاں حق اور باطل کا فیصلہ ہم اتنی آسانی سے کیسے کر سکتے ہیں اس اقتدار کی جنگ میں ہر باشعور قوم اس ملک کی منتخب جمہوری حکومت کا ساتھ دے گی جو عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئی ہے اگر عوامی اعتماد کھو چکی ہے تو جمہوری راستے کا استعمال کر کے ایوان تک پہنچا جا سکتا ہے لیکن طاقت اور بدمعاشی سے کسی بھی جمہوری ملک کے اندر یا آزاد قوم کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا اس دوہرے معیار سے نکلیں اور دوسروں کے بارے بھی اتنا ہی بہتر سوچیں جو آپ اپنے گھر اپنے ملک اپنی سرزمین کے بارے میں جذبات رکھتے ہیں۔

    اللہ پاک ہم سب کو آچھی سوچ اور ایک قوم بن کر رہنے کی توفیق دیں

    آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • علما حق ہمارے سروں کے تاج .تحریر : راجہ ارشد

    علما حق ہمارے سروں کے تاج .تحریر : راجہ ارشد

    الحمداللہ ہم مسلمان ہیں
    اللہ تعالٰی کو ایک ماننے والے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی مانتے ہیں دنیا میں رہنے کے لیے زندگی گزارنے کے لئے اصول و ضوابط اور حدود مقرر کر دی گئی ہیں،

    ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان ہم سیدھے اور غلط راستے کا انتخاب خود کرنے کی بجائے دوسروں پر انحصار کرتے ہیں اور یہی بنیادی وجہ مذہبی انتشار اور تفرقہ بازی کا سبب بنتی ہے بغیر تحقیق کے اور سمجھے بغیر نام نہاد مُلائوں کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چلتے ہیں جس سے معاشرے میں نفرت پیدا ہو رہی ہے خود کو عالم کہنے والے ایسے افراد مفاد پرست ہوتے ہیں جن کے پیچھے مقاصد عوام کو تقسیم کرنا اور مذہب کے نام پر عوام کے جذبات سے کھیلنا ہوتا ہے۔

    یہی وہ لوگ ہیں جو کبھی قبضہ مافیا کے ساتھ مل کر سرکاری زمینوں پر قبضے کر کے مقاصد حاصل کرتے ہیں کبھی بچوں کے ساتھ زیادتی میں شامل ہوتے تو کبھی کفر کے فتوے لگا کر بے نقاب ہو رہے ہیں مذہب کو اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے ممبر پر بیٹھ کر جنت اور جہنم کے فیصلے کرنے والے یہی وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالٰی کی محبت پیدا کرنے اور اس کی بیشمار رحمتوں کے بارے میں بتانے کی بجائے خوف پیدا کر دیتے ہیں۔

    جذباتی بلیک میل کر کے افراد کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلنے والے ایسے چند مفاد پرست مولوی درحقیقت خود بھی دین کی سمجھ نہیں رکھتے علما حق ہمارے سروں کے تاج انبیاء کے وارث ہیں جو آج بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے دین کو لوگوں سے بیان کرتے آ رہے ہیں لیکن مذہبی انتشار پھیلانے والے نام نہاد مُلائوں نے اس قوم کو صدیوں پیچھے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے سیاسی مفادات کے لیے ایک ہو جانے والے دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلمان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے حلال حرام کی تمیز کیئے بغیر مال کھانے والے کس طرح سیدھے راستے پر لوگوں کو لے کر جا سکتے ہیں۔

    مدرسوں کے اندر ریپ ہو رہے ہیں منہ پر سنت رسول رکھنے والوں سے آج شریف والدین کو خوف آنے لگتا ہے کوشش کریں اپنے بچوں کے محافظ خود بنیں اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات خود دیں یا ایسے علما کا انتخاب کریں جو اعلی کردار کے مالک ہوں جن کا ظاہر اور باطن صاف ہو جو صرف اسلام کی تبلیغ کرتے اور اس پر خود بھی عمل کرتے ہوں جن کے اعمال ان کی صداقت کی گواہی دیتے ہوں جن کے عمل ان کی پاکیزگی کی ضمانت ہوں خود کو اس قابل بنائیں کہ آپ خود نمازیں پڑھا سکیں نکاح اور جنازے پڑھا لیں ضروری نہیں آپ کسی کے محتاج ہوں علماء حق کی عزت کرنا ہمارا فرض ہے۔

    لیکن معاشرے میں اس ظلم کے خلاف جہاد جاری رکھیں جس سے بچوں کو درباروں مدارس کے اندر بیوقوف بنا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے جنت حاصل کرنا مشکل نہیں ہے جتنا ان مفاد پرستوں نے اس دور میں مشکل بنا دیا ہے اللہ پاک ہم سب کا ہمارے بچوں کا حامی و ناصر ہو آمین

    @RajaArshad56

  • پالیشیے لفظ کا وجود . تحریر : بلال ناصرکھرل

    پالیشیے لفظ کا وجود . تحریر : بلال ناصرکھرل

    ہماری زندگی میں بہت سے لوگ آتے ہیں، اکثر ہمارے خاندان میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہے جو مکھن لگاتے ہے، جن کو اکثر لوگ پالیشیا کہتے ہے ان لوگوں کا ہماری زندگی میں بہت بڑا کردارہوتا ہے اچھا بھی اوربرا تو بہت ، اکثر اوقات یہ پالیشیے ہمارے ڈیروں میں اور بڑوں کے آگے پیچھے بہت ہے خاص کرجو لوگ پولیٹکس میں ہے ان کا کام ہرغلط کام میں حصہ داری ہوتا، وہ کام ان پولیٹیشن کو پتہ بھی نئ ہوتے جو یہ لوگ سرانجام دیتے، ہرادارے میں اِن لوگوں کے کارِے خاص ہوتے جن سے یہ ہر طرح کا کام نکلواتے،
    بلیک میلنگ سے لے کر رشوت تک اِن کا ہاتھ ہوتا، اِن کی پہچان اُس پولیٹیشن سے بھی زیادہ ہوتی،

    جیسے کہ ہمارے گاؤں کا ایک فیقہ مارسی سے آج میاں رفیق اس کا بھی اِس (پالیشیے ) لفظ سے بہت قریب کا تعلق ! فیقہ ایک گاؤں میں چوہدریوں کا چھوٹا موٹا کام کرتا اُسی کام میں وہ ضلع کے پولیٹیشن کا سکیورٹی گارڈ بن گیا اِسی طرح سے وہ لوگوں سے رشوتے لے کے آج اور کل اور اپنی رِشوت خوری کی ترقی میں مبتلا ہو گیا پھر وہ سٹی جا بسا اورمکھن اس نے بڑے افسران کے لئے تیار کیا اور انکو لگاتا گیا وہ میاں رفیق کالونیوں کا مالک بن گیا ، اُس نے بہت سے جلسوں میں اپنے مالکان کے لیے لیترکھائیں لیکن آج تک اس نے پالیش نئ چھوڑی !!

    یہ سب کہنے کا مطلب آج کا ہر انسان اِن جیسوں کو دیکھ کے پالش کا عادی ہو چکا ہے اپنے مطلب کے تحت حق پے لڑنے کی بجائے ہم پالش کو زیادہ ترجیح دیتے اور سوچتے یہ کام وہ ہمارا جلدی کروا لے گے لیکن ایسا بلکل بھی نہیں ہوتا بس آپ کی امید ہوتی کہ اِس بندے کی پہچان یا رتبہ زیادہ لیکن اِس بات کی حقیقت میں کوئی سچائی نئ ہوتی اگر آپ لوگ حق پے ڈٹ جائیں تو اُس انسان سے کہی درجے اچھا اپنا کام کروا سکتے اور ہمارا ملک بہتری کہ طرف آسکتا رشوت کا خاتمہ ہو سکتا بس آپ لوگ اپنے اندر ہمت پیدا کرے ہمارا آج کا نوجوان بھی ان جیسوں کو دیکھ کے کسی نا کسی کے پیچھے لگا ہوا اپنی پہچان کھو بیٹھا، آپ اپنے اوپر مسلط کیے گئے بڑے بڑے پولیٹیشن کی زندگی دیکھ لے وہ اِس لفظ سے ہو کہ گزرے ، کچھ میٹر ریڈر تھے اور کچھ معمولی کلرک اور آج وہ ہمارے ملک اعلی کار بنے ہوئے ، انکی زندگی اس مقام تک لانے میں انکا ہاتھ نئ جتنا آپ لوگوں کا کیونکہ آپ لوگ اِن جیسوں کو اپنے اوپر مسلط کرتے ہو جب وہ حکمران بن جاتے وہ دوسرے بڑے ممالک کی(پالش)شروع کر دیتے اور جب سے ہمارا ملک بنا اورآج تک دیکھ لے پالیشیے لفظ کا بہت ہی اہم کردار رہا ہے ہماری سب کی زندگی میں!!
    ہمارے ملک کی اللہ حفاظت کریں

    پاکستان زندہ آباد

    @kharal

  • تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم. ملک منیب محمود

    تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم. ملک منیب محمود

    علم کی اہمیّت و افادیت اپنی جگہ مسلم ہے آج کے اس عہد میں تعلیم اتنی ہی ضروری ہے جتنا کے زندگی کے لیے سانس کی آمدورفت۔ ایک بچہ کے لئے ماں کی گود سب سے پہلا مدرسہ ہوتا ہے ایک نومولود جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ بالکل معصوم اور فرشتے کی طرح گناہوں سے پاک ہوتا ہے تمام دنیاوی امور اور مسائل سے آزاد ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے وہ اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنی طفلانہ زندگی کا آغاز کرتا ہے ہر شے لا شعوری طور پر اس کے سامنے آئی ہے بچہ جب اپنی ماں کی گود سے اترتا ہے تو وہ اپنے گھر کی زمین پر قدم رکھتا ہے گویا اسے یہی احساس ہو جاتا ہے کہ اس کے اطراف کا ماحول کیا ہے کہ اپنے اطراف کے ماحول سے مانوس ہوتا چلا جاتا ہے اور ان چیزوں کو قبول کرتا ہے جو اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی ہیں۔

    سماجی نقطہ نظر سے ایک بچے کا سماج اس کا گھر ہوتا ہے اور بچہ اپنے اس ماحول کے تمام طور طریقوں سے مطابقت کرنا سیکھتا ہے یا والدین اسے سکھاتے ہیں اس میں مرکزی کردار ماں کا ہوتا ہے اس لئے کہ باپ تو تلاش معاش میں گھر سے باہر ہوتا ہے اگر ماں تعلیم یافتہ ہے تو سب سے پہلے بچے کو لکھنا پڑھنا سیکھاتی ہے لیکن ماں اگر ان پڑھ ہے تو وہ اس کی چنداں فکر نہیں کرتی لہذا بچہ اس سے آزاد اور کھیل کود میں مگن رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ اسکول میں داخل ہوتا ہے تو اس میں وہ دلچسپی یار محبت مفقود ہوتی ہے جو تعلیم یافتہ ماحول سے آنے والے بچوں میں ہوتی ہے ۔

    ماں کی گود کے بعد اور اسکول میں داخلے سے پہلے ایک بچے کا جو مکتب ثانی ہوتا ہے وہ اس کا گھر اور آس پاس کا ماحول ہوتا ہے
    گھر کے باہر کا ماحول بھی بچے کو اتنا ہی متاثر کرتا ہے جتنا کے اندر کا عموما بچے گھر کے باہر نازیبا کلمات اور گالی گلوچ سیکھتے ہیں اور اس کا ردعمل کم یا زیادہ گرمیں بھی نظر آتا ہے بہن بھائی کی لڑائی میں ان کی زبان سے کلمات نہ چاہتے ہوئے بھی ادا ہوتے ہیں یہ بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ بیرونی ماحول سے اپنے ہم عمر بچوں سے سننے والی باتیں وہ جلدی قبول کرتے ہیں مشترکہ خاندانوں میں بچے زیادہ نفساتی اور حساس ہوتے ہیں مشترکہ خاندانوں میں افراد کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب توتو میں میں عام بات ہوتی ہے اور دو افراد کے بیچ ردعمل کو جب دیکھتے ہیں تو اس کا اثر قبول کر لیتے ہیں اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ اکثر بچے اپنے گھر کے باہر لڑائی جھگڑے میں پیش پیش رہتے ہیں اگر مشترکہ خاندانوں میں بچوں کے سامنے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائے تو بچے اسی رو میں بہنا شروع کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں آگے چل کر خاندان کے دوسرے افراد متاثر ہو سکتے ہیں تجربات اور مشاہدات یہ ثابت کرتے ہیں کہ بچوں کا ذہن و دماغ ایک کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے بچپن میں جو باتیں یا عادتیں انہیں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں وہ ان کے دماغ میں ثبت ہو جاتی ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ ان میں پختہ بھی ہو جاتی ہیں

    ہمیں اپنے معاشرے کو صحت مند بنانے کے لیے اس قول کو اہمیت دے کر ایک بچے کو آنے والے کل کا ایک بہترین انسان بنانا ہوگا تاکہ وہ ایک اچھا اور سمجھدار انسان بن سکے جس طرح ایک سمجھدار انسان ایک چھوٹے سے بچے سے بہت ساری باتیں سیکھتا ہے بعینہ ایک بچہ بھی اپنے بڑے بزرگوں سے بہت ساری نہیں بلکہ تمام باتیں سیکھتا اور قبول کرتا ہے
    بچے فطرتا نقال ہوتے ہیں اس لئے گھر کے افراد کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جو بھی حرکات و سکنات ان سے سرزد ہوں گی بچہ اسے فورا قبول کرلے گا اس لئے بچوں کے سامنے لغویات اور فضولیات سے پرہیز کرنا والدین اور دیگر بڑوں کی اخلاقی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری بھی اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم ان بچوں کے ساتھ انصاف کرتے ہیں ان ایک صالح صاف ستھرے ماحول کی تشکیل کے لیے فضا سازگار کرتے ہیں

    بچے مستقبل کا سرمایہ ہیں اس لئے یہ بات نہایت ہی اہم ہے کہ ان کی پرورش کیلئے گھر کا ماحول خوشگوار اور صحت مند رکھیں کیوں کہ ایک بچہ اپنے گھر میں والدین کے ساتھ ساتھ گھر کے دیگر افراد کے ساتھ بھی وقت گزرتا ہے ایک نیک اور سوال بچہ جب گھر کے باہر قدم رکھتا ہے تو سماج میں مختلف لوگوں سے اس کا واسطہ پڑتا ہے متعلقہ افراد بچے کی عادات و اطوار اور کردار و گفتار سے اندازہ کر لیتے ہیں کہ اس بچے کے گھر کا ماحول کس طرح کا ہے

    ماحول دینی ہو تو اس کا اثر بچے کے ذہن کو متاثر ضرور کرتا ہے ورنہ عموما نئی نسل اپنے مذہب اور دین سے کوسوں دور نظر آتی ہے اس کمی کے لئے بھی والے اور گھر کے افراد کی ذمہ دار ٹھہراۓ جائیں گے بچے قدرتی طور پر معصوم ہوتے ہیں اور ان کی اس معصومیت میں آنے والے کل کا مستقبل پوشیدہ ہوتا ہے بالخصوص ایک ماں کی گود میں بچے کی تقدیر بدلتی ہے جو کہ اس مصرعے کی عماز ہے
    تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم

    Written by” Malik Muneeb Mehmood”
    ملک منیب محمود

  • کشمیر کا سفیر کون ؟ نواز یا عمران ؟ نام : عامر بیگ

    کشمیر کا سفیر کون ؟ نواز یا عمران ؟ نام : عامر بیگ

    ج کل مریم صفدر اعوان آزاد کشمیر کی الیکشن کیمپین میں نوازشریف کو کشمیر کا بیٹا ثابت کررہی ہیں۔
    دوسری جانب پی ٹی آئی کے لوگ عمران خان کو کشمیر کا سفیر قرار دے رہے ہیں۔
    آئیے ماضی کے جھروکوں میں دیکھتے ہیں کہ کشمیریوں کے ساتھ درست مخلص کون ہے۔
    سب سے پہلے بات کرتے ہیں
    سابق وزیر اعظم نواز شریف
    کی جو تین دفعہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر براجمان رہے۔
    مگر کمال کی بات ہے۔ تینوں دفعہ ہی کشمیریوں کا کوئی خاص فائیدہ نہیں کر پائے۔ بلکہ نوازشریف
    تو کشمیر کو صرف الیکشن کی حد تک ہی یاد رکھتے تھے۔
    جب ووٹ لینے ہوتے تو کشمیر کو چل پڑتے۔ اور اس کے بعد کشمیر کو بھول جاتے تھے۔
    آجکل مریم صفدر اعوان نوازشریف کو کشمیر کا سچا دوست قرار دے رہی ہیں۔ محترمہ مریم صفدر اعوان کی باتوں پر کتنا یقین کرنا چاہیے یہ تو مریم صفدر اعوان کے اس بیان کہ "میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں ہے” سے ہی واضح ہے۔
    پھر اس کے کچھ ہی عرصے بعد مریم صفدر کے اثاثے ایک ارب روپے سے زیادہ کے نکلتے ہیں۔ مریم صفدر اعوان کی بیٹی کی شادی پر نریندر مودی کی آمد ہوتی ہے۔ اور
    مودی جو مسلمانوں اور پاکستان کا ازلی دشمن ہے
    اس کی جاتی عمرہ آمد پر خوشی کے شادیانے بجائے جاتے ہیں۔
    یہاں تک کہ شریف خاندان کی انڈین تاجر سجن جندال جو کہ را کا فنانسر ہے کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں۔ ان خفیہ ملاقاتوں کی ضرورت شریف خاندان کو کیوں ہے ؟ اس کا اندازہ شریف خاندان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کو بخوبی ہے۔
    اس کے علاوہ نوازشریف کشمیریوں کے خون سے بے وفائی کرتا ہے۔ اور تاریخ میں پہلی دفعہ حریت رہنماؤں کو ناراض کرتا ہے۔ جس کے ردعمل میں بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی 2015 میں نوازشریف کی بے وفائی کی وجہ سے پاکستانی سفارت خانے کی عید ملن دعوت میں احتجاج کے طور پر شرکت نہیں کرتے۔
    اور نوازشریف کی بھارت نوازی اس حد تک ہوچکی ہے۔ کہ
    حضرت نوازشریف نے آج تک
    کلبھوشن یادیو بھارتی دہشت گرد کا نام لے کر آج تک انڈیا سے رسمی احتجاج تک نہیں کیا۔
    جبکہ اب بات کرتے ہیں کشمیر کے حقیقی سفیر جناب وزیراعظم عمران خان کی۔ جس نے ابھی حال ہی میں دورہ ازبکستان میں بھارتی حکومت کے غیر قانونی ، کشمیر میں ریاستی ظلم و بربریت کی وجہ سے
    بھارتی وزیر خارجہ سے ہاتھ تک نہیں ملایا۔

    اقوام متحدہ سے لے کر غیر ملکی سفیروں کو کشمیر پر بھارتی ظلم کو بے نقاب کیا۔
    وزیراعظم عمران خان کے جارحانہ اقدامات کی وجہ سے مودی حکومت بیک فٹ پر جا چکی ہے۔
    اور کشمیر کا پرانا سٹیٹس بحال کرنے پر غور کر رہی ہے۔
    وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کی وجہ سے ستر سال بعد مسئلہ کشمیر دوبارہ زندہ ہوا۔
    وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کے ایشو پر دوست ممالک کو بھارتی ظلم سے آگاہ کرتے ہوئے بھارت کو انڈر پریشر رکھا۔
    وزیراعظم عمران خان نے اب آزاد کشمیر کی سیاحت کو
    پروان چڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جس سے آزاد کشمیر کی عوام کے روزگار میں اضافہ بھی ہوگا۔ اورعوام کو اچھی تفریح بھی میسر ہوگی۔
    پورے آزاد کشمیر کو جنوری تک ہیلتھ کارڈ دینے کا اعلان بھی ہو چکا ہے۔
    یہ اتنا زبردست قدم ہے جس کا عوام کو ہر گزرتے دن
    کے ساتھ ساتھ معلوم ہوتاجائے گا۔ ہر خاندان کو
    سات لاکھ روپے سے زائد سالانہ ہیلتھ انشورنس میسر ہوگی۔
    جس سے غریب عوام اور مڈل کلاس لوگوں کی زندگیاں آسان ہوں گی۔ اور عوام کو میڈیکل کی بہتر سہولیات ملیں گی۔
    مریم صفدر اعوان آزاد کشمیر کے پینتیس سے زائد حلقوں میں سے صرف ایک درجن کے قریب کشمیر کے الیکشن میں امیدوار کھڑے کرکے ایک ناکام الیکشن کیمپین چلا رہی ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے تمام حلقوں میں اپنے وننگ ہارسز کھڑے کیے ہیں۔ اب فیصلہ آزاد کشمیر کی عوام کو کرنا ہے کہ پچیس جولائی کو بلے کے نشان پر مہر لگا کر حقیقی اور خوشگوار تبدیلی لانی ہے یا پھر وہی پرانا اور بانجھ سٹیٹس کو کا سسٹم ہی برقرار رکھنا ہے۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے چند عرصہ پہلے ہونے والے گلگت بلتستان کے الیکشن میں کیے گئے وعدے فتح کو فوراً بعد عملدرآمد شروع کردیا ہے۔
    جس سے آنے والے سالوں میں تعمیر و ترقی کے نئے راستے کھلنے کا روشن امکان ہے۔

  • قربانی واجب ہونے کی شرائط . تحریر : عنصر اعوان

    قربانی واجب ہونے کی شرائط . تحریر : عنصر اعوان

    قربانی کا فریضہ عید الاضحی کے دن حضرت ابراہیم ؑ کی اس عظیم ترین اطاعت خدا وندی کی مثال کی یاد گار کے طور پر ادا کیا جاتا ہے جس کے تحت خلیل اﷲ (اﷲ کے دوست) لقب پانے والے اس حق و صداقت کے علمبر دار پیغمبر ؑ نے اپنی ہزاروں دعائوں اور تمنائوں کے بعد پیدا ہونے والے پیارے بیٹے کو حکم خداوندی سے اﷲ کی راہ میں قربان کرنے کا ارداہ کر لیا تھا۔ قربانی کا مطلب ہے اﷲ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنا جب کہ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب عبادت کی نیت سے ایک خاص وقت میں حلال جانور کو اﷲ کی راہ میں قربان کرنا یا ذبح کرنا ہے۔یہ خاص وقت10ذی الحج کی صبح یعنی اشراق سے شروع ہوتا ہے اور 12ذی الحج کی عصر تک رہتا ہے۔ نماز عید سے قبل قربانی نہیں ہوتی ۔ اس کیلئے افضل تاریخ 10 ذی الحج ہی ہے۔

    واضح رہے کہ قربانی ہراُس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان، مرد اورعورت پرواجب ہے جو نصاب کا مالک ہے ، یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا سامان ہے، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، یعنی ساڑھے سات تولہ سونا (87.4875گرام ) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.4125گرام ) یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو ، یا رہائش کے مکان سے زائد مکانات یا جائیدادیں وغیرہ ہوں، یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان ہو ، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا مالِ تجارت، شیئرز وغیرہ ہوں تو اس پر ایک حصہ قربانی کرنا لازم ہے ۔ (تجارتی سامان خواہ کوئی بھی چیز ہو، اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اس کے مالک پر بھی قربانی واجب ہوگی ۔)

    نیز قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال ، رقم ، یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں، ذوالحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے مالک ہوجائے تو اس پر قربانی واجب ہے، چنانچہ اگر قربانی کے تین دنوں میں سے آخری دن (۱۲ذی الحجہ) کو بھی کسی صورت سے نصاب کے برابر مال یا ضرورت سے زائد سامان کا مالک ہوجائے تب بھی اس پر قربانی واجب ہے ۔ بنا بریں جس کے پاس رہائشی مکان کے علاوہ زائد مکانات موجود ہیں ، ضروری مکان کے لیے پلاٹ کے علاوہ دیگر پلاٹ ہیں ، ضروری سواری کے علاوہ دوسری گاڑیاں ہیں، خواہ یہ سب تجارت کے لیے ہو یا نہ ہو ، بہر حال ایسا شخص قربانی کے حق میں صاحبِ نصاب ہے ، اور اس پر قربانی کرنا شرعاً واجب ہے ۔

    نیزواضح رہے کہ ایسا شخص گھر میں ایک ہو یا ایک سے زائد ، درج بالا شرائط کی موجودگی کی وجہ سے اگر ایک گھر میں متعدد صاحبِ نصاب لوگ پائے جاتے ہوں تو سب پر علیحدہ علیحدہ قربانی کرنا واجب ہے ، اور ایسی صورت میں از روئے شرع ایک ہی قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہوگی۔

    @A_Awan11

  • ایبٹ آباد میں قبضہ مافیا کا راج . تحریر : علی معصوم

    ایبٹ آباد میں قبضہ مافیا کا راج . تحریر : علی معصوم

    پاکستان کا سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ امیرترین شہرایبٹ آباد ہے۔ ایبٹ آباد پاکستان کو اللّه کی طرف سے ایک ایسا انعام ہے جہاں صرف سیاحت کو فروغ دے کرپاکستان قرضوں کی دلدل سے آسانی سے نکل کرسکتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان کے اس خوبصورت شہر پے قبضہ مافیا کا راج ہے۔ ایبٹ آباد کے کمیشنر ڈی سی سے لے کر ایک عام سپاہی، کلرک اورمحکمہ مال کے اندر موجود مالی اور سیپر تک سب کے سب پراپرٹی ڈیلر بن چکے ہیں۔

    غریب لوگو کی جاهیداديں جیلی کاغذات اور انتقال کے ساتھ فروخت کی جا رہی ہیں لوگو کو انجان رکھ کے ان کے شجرہ مکمل طور پر تبدیل کر کے جیلی کاغذات سے ذمینوں پے قبضے کیے جا رہے ہیں جن میں پٹواری، سیاست دان، محکمہ مال، اور کمشنر، ڈی سی سے سپاہی تک اکثریت لوگ موجود ہیں۔

    قانون کے رکھوالے بھی اس گیم میں شامل ہیں اگر اس قبضہ مافیا کو روکا نا گیا تو ایبٹ آباد جیسا خوبصورت شہر تباہ ہو جاہے گا۔ جو بھی شخص پٹوار خانے کی طرف جاہے گا اور اپنی زمین پے قبضہ مافیا کو دیکھے گا تو لوگو کے درمیان خون ریز لڑاہیاں ہونگی حالات اس قدر خراب ہو سکتے ہیں کے جو کسی نے سوچا بھی نا ہو گا کیونکے ایبٹ آباد میں حویلياں شہر سے لے کر ناران کاغان تک ہر جگہ قبضہ مافیا کا راج ہے لیکن سب سے زیادہ قبضہ مافیا ایبٹ آباد شہر کے اندر ہے جہاں پٹواری، اور کمیشنر سے لے ایک عام سپاہی تک اور محکمہ مال کا عملہ مکمل طور پر پراپرٹی ڈیلر بنا ہوا ہے۔ چونکے ایبٹ آباد شہر پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کی وجہ سے سیکورٹی رسک ہے اس لیے اگر یہاں کے لوگو کو اس مافیا کے بارے میں علم ہو گیا تو یہاں خون ریز جنگیں ہو گی حالات حد سے زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔

    میری حکومت پاکستان اور قانون نافذ کرنے وال اداروں سے گزارش ہے اس مافیا کو روکے۔ ایبٹ آباد میں موجود پٹواری کی تنخواہ 20 سے 25 ہزار ہے لیکن وه کروڑوں کے مالک بن چکے ہیں کیسے ؟؟؟ پٹواری اور محکمہ مال کے اندر موجود ہر شخص کی بے نامی پراپرٹی ہے یہ سب کہاں سے ہو رہا ہے؟؟؟ ان کا احتساب کرے انہیں چیک کریں کیونکے فلحال ایبٹ آباد کے لوگ اس بات سے نا واقف ہیں کے کیسے یہ سب مل کے لوگو کا شجرہ نسب تک تبدیل کر رہے ہیں اگر ان لوگو کو یہ سب معلوم پڑ گیا تو یہاں بھی اکثریت پٹھان قوم ہے حالات اتنے خراب ہو سکتے ہیں جس کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا اور اگر یہاں حالات خراب ہو گےتو اس سب کی ذمہ دارحکومت ہوگی۔

    @AM03100