Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سیاست وہ کھیل ہے جہاں صدیوں میں کوئی "قائد اعظم "پیدا ہوتا ہے . تحریر : محمد حنظلہ شاہد

    سیاست وہ کھیل ہے جہاں صدیوں میں کوئی "قائد اعظم "پیدا ہوتا ہے . تحریر : محمد حنظلہ شاہد

    آج کل ایک پیغام پورے ارد گرد منتقل ہو رہا ہے، جس میں محمد علی جناح (قائداعظم) اورعمران خان کے درمیان ایک مقابلے ہے. جیسا کہ محمد علی جناح اعلی تعلیم کے لئے انگلینڈ گئے اوراس کے بعد وہ مل کربھارت واپس چلے گئے اور وہاں اپنی پسندیدہ وکالت حاصل کی. اسی طرح عمران خان کے ساتھ معاملہ تھا وہ اپنی اعلی تعلیم کے لئے بھی انگلینڈ گئے اوراس کی تکمیل کے بعد، انہوں نے پاکستان کو ترجیح دی. وہ واپس آیا اورایک کرکٹر کے طورپراپنا کیریئرشروع کردیا. اس کے بعد محمد علی جناح مسلم کو ایک غیرمسلم لڑکی کوتبدیل کر دیا اوراس سے شادی کی. لیکن بدقسمتی سے شادی طویل عرصہ تک نہیں ہوسکی تھی.عمران خان کو بھی اسی حالت کا سامنا کرنا پڑا تھا. جب ایم علی جناح نے اپنی پیشہ ورانہ کیریئر یا شاید ان کی عملی زندگی شروع کی تو اس نے اپنی راہ میں بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. اسی طرح عمران خان کو بھی بہت مشکلات اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا. ایک وقت آیا جب محمد علی جناح اتنے سنجیدہ ہوگئے کہ وہ متحدہ بھارت چھوڑ کربرطانیہ چلے گئے لیکن علامہ اقبال نے مجبور کیا کہ وہ اپنے ملک واپس آ جائیں. اسی طرح عمران خان نے اسی طرح کے تخفیف کو محسوس کیا اوراپنے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا لیکن ضیاالحق کی وجہ سے ٹیم واپس آ کر ملک کو ورلڈ کپ سے نوازا.

    جب محمد علی جناح نے یہ محسوس کیا کہ ہندوؤں اور برادریوں کے ذیلی براعظم کے مسلمانوں کے ساتھ ایک تبعیض علاج تھا اور وہ وہاں مناسب انصاف حاصل نہیں کرسکتے تھے، اس نے تمام بھارتی نیشنل کانگریس کواچھی طرح سے بیدارکیا اوراس سے منسلک کیا مسلم لیگ اس کے بعد انہوں نے علیحدگی کے تمام مسلمانوں کوعلیحدہ ریاست کے حصول کے لئے متحد کیا، ایک ریاست جہاں جہاں تمام مسلمانوں اوردیگراقلیتیں آزادانہ طور پر ان کی زندگی رہ سکتی تھیں. ذات، رنگ، تخلیق یا حیثیت کے امتیازی سلوک کے باوجود، زیادہ تر مسلمانوں نے پاکستان کی کامیابی کے لئے محمد علی جناح کی مدد کی.

    اس وقت کوئی سندھی، پنجابی یا بلوچی نہیں تھا، ہر ایک کا واحد مقصد تھا اور یہ ایک آزاد ریاست تھا جہاں تمام مذہب سے تعلق رکھنے والے تمام افراد ان کی خاص اصولوں کے مطابق کسی بھی مداخلت کے بغیرزندہ رہ سکتے تھے. لہذا مسلمانوں کو ایک علیحدہ ریاست حاصل کرنے میں کامیابی ملی تھی اوربرطانیہ باقی مطالبات کی منظوری کے لۓ دوسرے ممالک کے ساتھ چھوڑ گئے تھے. لیکن بدقسمتی سے، محمد علی جناح کے بعد، کوئی دوسرے رہنما نہیں ہے جو کسی خاص مقصد یا خاص مقصد کے تحت مسلمانوں کو متحد کرسکتے ہیں. اگر ایسا رہنما تھا تو، مشرقی بنگال کبھی کبھی بنگلہ دیش نہ بنیں گے، وہاں بلوچستان میں جانے والی کوئی الگ ریاست تحریک نہیں ہوگی، شیعوں اور سنن کے درمیان کوئی تنازع نہیں ہوگا، اور وہاں نہیں لسانی بنیاد پر مسائل ہیں. ظاہر ہے سب لوگ اس ملک کو اپنا پاکستان یا سامراجی ریاست بنانا چاہتے ہیں، جو یہ نہیں ہے اور یہ نہیں ہوسکتا. محمد علی جناح نے اس اسلامی جمہوریہ ریاست کی بنیاد رکھی ہے. آج، ہمیں دوبارہ اس ریاست کو مضبوط کرنا ہوگا.

    جب عمران خان نے انتخابی مہموں کے دوران ایک تاریخی عوامی اجلاس کی صدارت کی تو انہوں نے پاکستان کو ایک اسلامی ریاست دوبارہ بنانے کا نعرہ اٹھایا. پاکستان کو اسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے اب 1947 میں سامنا ہوا تھا. ہم اب بھی غلامی کی زنجیروں میں پابند ہیں، چاہے امریکہ یہ ہے کہ ہم اس سے پہلے یا سامراجی نظام کو روکتے ہیں. عمران خان دراصل الیکٹرانکس کو منتخب کرنے میں یقین رکھتے ہیں اور پارلیمنٹ میں ہونے والے خلافت کے نظام کے بارے میں لاتے ہیں. اگر عمران خان تمام مسلمانوں اور اقلیتوں کو ایک ایسی قوم کے طور پر اسلامی ریاست کی ایک چھت کے تحت جمع کرے، جہاں ذات، تخلیق، حیثیت اور فخر کی کوئی تبعیض نہیں ہوگی، جہاں کوئی بھی سندھی یا بلوچی نہیں ہے، نہ ہی کوئی سیکولر. ہر ایک کا وہی مقصد ہوگا جسے پاکستان کی خوشحالی اور ترقی ہے. اگر ایسا ہوتا ہے تو، عمران خان اگلے رہیں گے

    @Hanzi87

  • اشرف غنی کی ہرزہ سرائی . تحریر: محمدزمان

    اشرف غنی کی ہرزہ سرائی . تحریر: محمدزمان

    نائن الیون کے بعد امریکہ اوراتحادیوں کی یورش کے باعث افغانستان بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے۔ امریکہ طالبان براہِ راست مذاکرات امن معاہدے پرختم ہوئے توافغانستان میں امن کی امید پیدا ہوئی۔ خطے کا امن افغانستان کے امن سے وابستہ ہونے کے ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا دارومداربھی شورش زدہ پڑوسی ملک میں امن کے قیام پرہے مگراب حالات کسی اورطرف کروٹ لیتے نظر آرہے ہیں افغانستان میں امن کی بحالی کے امکانات معدوم ہونے لگے ہیں۔ امریکہ اورطالبان کے مابین امن معاہدہ 29 فروری 2020 کو ہوا جس کی افغان انتظامیہ کی طرف سے شدید مخالفت کی گئی تھی۔ افغان قومی سلامتی کے مشیر حمدللہ محب امریکہ طالبان مذاکرات اور بعد ازاں امن معاہدے کے خلاف زہراگلتے رہے۔ امریکہ اورطالبان کو مذاکرات پرپاکستان نے آمادہ کیا تھا جبکہ حمداللہ محب پاکستان کیخلاف آج بھی بدزبانی کررہے ہیں۔ امن معاہدے پرعمل کیلئے افغان حکمرانوں کا تعاون ضروری تھا۔ وہ تو نہ صرف معاہدے کی شدید مخالفت کرتے رہے بلکہ معاہدے کوسبوتاژکرنے کیلئے ہرحربہ آزماتے اورسازشیں بھی کرتے رہے۔

    امریکہ کا آج بھی افغانستان میں واضح عمل دخل ہے۔ امن معاہدے پرعمل کواسی نے یقینی بنایا ہوتا تو آج حالات اس انارکی کونہ پہنچتے۔ طالبان تعاون پرتیارتھے۔ ایک سیاسی سیٹ اپ آسانی سے تشکیل پاسکتا تھا۔ اب حالات پرقابو پانا مشکل نظرآتا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ 95 فیصد انخلا مکمل ہوچکا ہے۔ 100 فیصد مکمل ہونے پرافغانستان میں کیا صورتحال ہو گی اس کا اندازہ وہاں برپا شورش سے کیا جاسکتا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے افغانستان کے بیشترعلاقوں کے بعد چمن سے متصل باب دوستی کا کنٹرول بھی سنبھال لیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد سیل کردی گئی اورسکیورٹی فورسزکی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ گزشتہ رات طالبان نے افغانستان کے سرحدی شہر سپن بولدک پاک افغان سرحد کے قریب حملہ کیا تھا۔ افغان فورسز کے پیچھے ہٹنے کے بعد درجنوں طالبان پاک افغان سرحد کے باب دوستی پرپہنچے اورمرکزی دروازے پراپنا پرچم لہرا دیا۔

    ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں بھی اس کی تصدیق کردی گئی ہے طالبان کے مقبوضات میں اضافہ ہورہا ہے۔ 85 فیصد علاقوں پروہ پہلے ہی قبضہ کرچکے ہیں۔ ادھرصدراشرف غنی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ طالبان کی کمرجلد توڑدی جائیگی، ان سے زیرقبضہ علاقے واپس لے لیں گے۔ اشرف غنی کی فوج کی حکمت عملی اتنی ہی کامیاب ہوتی تو آج طالبان وسیع علاقوں اورشہروں پر قبضہ نہ کرلیتے۔ حالات اب جس طرف جارہے ہیں اس کا اندازہ برطانوی وزیر دفاع کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔

    بین ویلس نے کہا ہے کہ طالبان نے حکومت بنائی تو انکے ساتھ تعاون کیلئے تیارہیں۔ افغان انتظامیہ کی طرف سے بھارت کے ساتھ رابطوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ بھارتی فضائیہ کی مدد لی جا رہی ہے۔ اگرامریکہ اشرف غنی حکومت کا تحفظ نہیں کرسکا تو بھارت کس باغ کی مولی ہے۔ اچھا ہے بھارتی فوج اشرف غنی کی مدد کو آئے اورافغانستان میں اپنا قبرستان بنوائے۔ بھارت افغانستان کی موجودہ صورتحال میں کودتا ہے توخطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگی۔ بھارت افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال کرتا رہا ہے جس میں اب کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔ افغان انتظامیہ سے چھینی گئی پوسٹوں سے طالبان کو3 ارب روپے کی پاکستانی کرنسی ملی ہے۔ یہ رقم پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال کی جا رہی تھی۔ بھارت کتے کی دم کی طرح ہے جو کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی۔ وہ لاتوں کا بھوت ہے۔ اس کو مشرقی بارڈر پرحملوں کا منہ توڑجواب دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے اندربھی اسکے گیدڑ جاسوس اورایجنٹ دھرلیے جاتے ہیں۔

    اسکے باوجود پیسے کے زور پر اسکی بزدلانہ کارروائیاں جاری رہتی ہیں۔ گزشتہ روز داسوڈیم کی بس نالے میں گرنے سے 9 چینی ورکرز سمیت 13 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ اس حادثے میں دہشتگردی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا جس میں بھارت ملوث ہوسکتا ہے۔ وہ پہلے بھی ایسی بھیانک کارروائیاں پاک چین تعلقات کو متاثراورسی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے کرچکا ہے اشرف غنی اقتداربچانے کیلئے اِدھرادھرہاتھ پائوں مارنے کے بجائے حقائق کا ادراک کریں۔ رواں ہفتے دوحہ میں طالبان افغان وفد سے ملاقات کیلئے آمادہ ہیں۔ افغان مسئلے کے حل کا یہی ایک پرامن موقع ہے جس کا افغان انتظامیہ فائدہ اٹھا کرافغانستان میں مزید خونریزی کو روک سکتی ہے اوریہ اسکی طرف سے امن معاہدے کی مخالفت کا کفارہ بھی ہوسکتا ہے۔ افغانستان کی موجودہ حکومت اوربھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی کا سب سے بڑا مقصد اورہدف پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا، ہمارے امن کو تباہ کرنا اوردنیا میں پاکستان کے تاثرکوخراب کرنا ہے۔

    بھارت اشرف غنی کی حکومت کے ذریعے سرکاری ذرائع استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کی مالی مدد کر رہا ہے، اشرف غنی سے اپنا گھر سنبھالا نہیں جاتا، انہیں اقتدارختم ہوتا نظرآ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ افغان صدر نے بے بنیاد اورجھوٹے الزامات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اشرف غنی کی طاقت ہرروزکم ہوتی جا رہی ہے، طالبان نے ملک کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ناصرف اشرف غنی کو اقتدار چھن جانے کا غم کھا رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی موجودہ حکومت کے بھارتی حکومت کے ساتھ رابطے اور تعلقات بھی بے نقاب ہو رہے ہیں، دنیا کو پتہ چل رہا ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی سازشیں کر رہا ہے۔ چند روز قبل ہی این ڈی ایس کے ایک کرنل کے کمپاونڈ سے تین ارب روپے برآمد ہوئے ہیں، بھارتی قونضل خانے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بن چکے ہیں، افغان سرزمین دہشت گردوں کی سرپرستی اور مالی معاونت کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ اشرف غنی اپنے معاملات کو درست کرنے کے بجائے پاکستان پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں۔ اس طرح نہ تو وہ اپنی ناکامی چھپا سکتے ہیں، نہ ہی ان کا اقتدار بچے گا اور نہ ہی وہ دنیا کو دھوکا دے سکتے ہیں۔

    افغان صدر اشرف غنی نے وسطی و جنوبی ایشیائی رابطہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ "پاکستان سے دس ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ہیں اگر بات چیت نا ہوئی تو ہم طالبان کا مقابلہ کریں گے۔ یہ امن کیلئے آخری موقع ہے”۔ اشرف غنی کا یہ بیان ایک شکست خوردہ شخص کی سوچ ہے۔ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان نے دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، پاکستان نے ستر ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، کھربوں ڈالر کا مالی نقصان برداشت کیا ہے، ایک پوری نسل دہشت گردی کی نذر ہوئی ہے، پاکستان کا افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، طالبان مذاکرات کی میز پر آئے ہیں تو اس بات چیت میں پاکستان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ دنیا اس معاملے میں پاکستان کے کرداراور کاوشوں سے ناواقف نہیں ہے۔ اشرف غنی بھارتی شہ پر نریندرا مودی کا بیانیہ پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اشرف غنی میں ہمت ہے یا وہ اتنی اہلیت رکھتے ہیں تو طالبان سے بات چیت کریں اگر بات چیت نہیں کر سکتے تو مقابلہ کریں، دنیا بھرمیں طالبان کو تسلیم کرنے کی سوچ تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ پاکستان میں امن کانفرنس کا انعقاد ہو رہا تھا اشرف غنی کے الزامات کے بعد کانفرنس کا ملتوی ہونا امن کی کوششوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔

    اشرف غنی کے لیے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کا یہ بہترین موقع تھا، افغان صدر امن کے دشمن کے طور پرسامنے آئے ہیں۔ افغان کانفرنس ملتوی ہونے سے صرف پاکستان کا نقصان نہیں ہے بلکہ اس کانفرنس کے ملتوی ہونے سے خطے کے امن کو نقصان پہنچے گا۔ امریکہ، افغانستان کی موجودہ حکومت اور بھارت مل کر افغانستان میں مقبول عوامی قیادت کا راستہ روک کر دہائیوں سے جنگ لڑنے والے ملک کے عوام کو ایک نئی جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں وزیراعظم پاکستان افغان صدر کے بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اشرف غنی کی طرف سے پاکستان پر الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ افغانستان کی صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا شدید ناانصافی ہے۔

    افغانستان میں امن کے لیے سب سے زیادہ کوششیں اور قربانیاں پاکستان کی ہیں۔ وہیں بھارتی صحافی نے بھی وزیراعظم عمران خان سے امن اوردہشت گردی کے حوالے سے طنزیہ سوال کیا تو وزیراعظم عمران خان نے اسے بھی ایسا جواب دیا ہے کہ نریندرا مودی برسوں اسے یاد رکھیں گے۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بھارت کو کب سے مہذب ہمسائے کی طرح رہنے کا کہہ رہے ہیں لیکن کیا کریں آر ایس ایس کا نظریہ راستے میں رکاوٹ ہے۔ اشرف غنی کا بیان اور بھارتی صحافی کا سوال ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے بھی افغان صدر کی طرف سے پاکستان پرعائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ "پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات درست نہیں۔ پاکستان کی طرف سے کوئی دراندازی نہیں ہو رہی درحقیقت افغانستان کی طرف سے دراندازی ہو رہی ہے۔پاکستان افغانستان میں کسی دھڑے کی حمایت نہیں کر رہا۔ پاکستان امن کا خواشمند ہے۔پرامن اور مستحکم افغانستان ہی پاکستان اور دیگر ممالک کے مفاد میں ہے۔”یہ کھیل اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ دنیا میں امن صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ پاکستان نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مثبت کردار ادا کرتے ہوئے خطے کو پرامن بنانے کے کام کیا ہے لیکن خطے میں بھارت کے عزائم کو نقصان پہنچتا ہے۔ طالبان کی طاقت بڑھنے سے افغانستان میں ڈمی حکومت ختم ہو جائے گی بھارت کا اثرو رسوخ کم ہو گا، جنگی جنون میں مبتلا بھارت اسلحے اور سازشوں کے زور پر پاکستان کو دیوار سے لگاتے ہوئے بالادستی قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا، وہاں طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت نے نریندرا مودی کا یہ خواب چکنا چور کر دیا ہے۔

    سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آ رہی ہے، طالبان قیادت نے پاکستان کے خلاف کسی سازش کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے خطے میں امن عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ان حالات میں اشرف غنی کے پاس الزام تراشیوں کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔ بھارت پہلے سے موجود بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے نئے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ دہشت گردوں کی سرپرستی اور مالی معاونت کے ثبوت دنیا کے سامنے ہیں ایک طرف امن پسند پاکستان ہے تو دوسری طرف توسیع پسندانہ عزائم کا حامل اور دہشتگردوں کا سرپرست بھارت ہے دنیا خود فیصلہ کرے کہ اس نے امن دوستوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے یا پھر دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والوں کا ساتھ دینا ہے۔ اشرف غنی بھارتی اشارے پر طالبان کی امن پسند کوششوں کو متنازع بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ان شااللہ پاکستان کے دشمن ناکام ہوں گے۔ افغان امن کانفرنس کی مخالف قوتیں وقتی طور پر تو کامیاب ہوئی ہیں۔ تمام ممالک کو اپنے اردگرد نظر رکھنے اور پہلے سے زیادہ
    متحرک رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ نے ایک نیا کھیل شروع کر دیا ہے۔

    @Zaman_740

  • صحافت اوربلیک میلنگ . تحریر : جام محمد ماجد

    صحافت اوربلیک میلنگ . تحریر : جام محمد ماجد

    صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے صحافت ایک ایسا مقدس پیشہ ہے جس کا مقصد معاشرے کی برائیوں کو روکنے اورمظلوموں کو انصاف دلانے میں ہرممکن حد تک مدد کرنا اورلاقانونیت اورعلاقای مسائل پرآوازاٹھانا ترجیح ہونی چاہیے تاکہ عام عوام کے مسائل حل ہونے اورمظلوم عوام کوانصاف ملنے کی راہ ہموارکی جاسکے بلا شبہ ہمارے ملک کی صحافی برادری میں جو جینوین صحافی ہیں انھیں اس مقصد میں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے حتی کے بعض اوقات جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملتی ہیں لیکن جو حق سچ کے متلاشی نڈرصحافی ہیں وہ اپنے مقصد پرڈٹے رهتے ہیں ان کے لئے ہی غالبا شاعرنے کہا ہے جوڈٹے ہوے ہیں محاذ پرمجھے ان صفوں میں تلاش کر.

    جیسا کے میرے کالم کا عنوان ہے میں بات کر رہا ہوں صحافت کا لبادہ اوڑھے ان صحافیوں کا جونام کے صحافی ہیں جنہوں نے اس مقدس پیشے کی تذلیل کر کے رکھ دی ہے جن کا مقصد بلیک میل کر کے اپنے کام نکلوانا ہے اوربدقسمتی سے پاکستان میں ایسے قلم فروش نام نہاد صحافیوں کی تعداد میں دن با دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جن کی وجہ سے لوگوں کا اس مقدس پیشے سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے
    میری تمام صحافتی تنظیموں اورحکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ ایسا طریقہ کار اپنایا جائے جس سے امان دارپڑھے لکھے اچھی شہرت کے حامل صحافیوں کی حوصلہ افزائی ہو اورقلم فروش بلیک میلرصحافیوں کی حوصلہ شکنی ہو.

    @Majidjampti

  • آپ حیران ہوں گے . تحریر:شفقت سجاد دشتی

    آپ حیران ہوں گے . تحریر:شفقت سجاد دشتی

    میٹرک کلاس کا پہلا امتحان برصغیر پاک وہند میں 1858ء میں ہوا اوربرطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ برصغیرکے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اسلئے ہمارے پاس ‘پاسنگ مارکس’ 65 ہیں تو برصغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں 2 سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کیلئے پاسنگ مارکس 33 کر دئیے گئے اورہم 2021ء میں بھی انہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کوتلاش کرنے میں مصروف ہیں.

    جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھایا جاتا ہے اور وہ ‘اخلاقیات’ اور’آداب’ ہیں، حضرت علیؓ نے فرمایا: ‘جس میں ادب نہیں، اس میں دین نہیں مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اورہمیں ابھی تک انکی یہ بات معلوم کیوں نہ ہوسکی بہرحال، اس پرعمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے ہمارے ایک دوست جاپان گئے اورایئرپورٹ پرپہنچ کرانہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اورپھرانکو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔

    یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز۔

    آپ یقین کیجئے استادوں کوعزت وہی قوم دیتی ہے جو تعلیم کوعزت دیتی ہے اوراپنی آنیوالی نسلوں سے پیارکرتی ہے جاپان میں معاشرتی علوم ‘پڑھایا’ نہیں جاتا کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہے اوروہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کیساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں، جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کیلئے بچے اوراساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے اسکول آنیکے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول، بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریں جو صرف نقل اورچھپائی پر مشتمل ہے، ہمارے بچے ‘پبلشرز’ بن چکے ہیں÷

    آپ تماشہ دیکھیں جوکتاب میں لکھا ہوتا ہے اساتذہ اسی کو بورڈ پرنقل کرتے ہیں، بچے دوبارہ اسی کو کاپی پرچھاپ دیتے ہیں، اساتذہ اسی نقل شدہ اورچھپے ہوئے مواد کوامتحان میں دیتے ہیں، خود ہی اہم سوالوں پرنشانات لگواتے ہیں اورخود ہی پیپربناتے ہیں اورخود ہی اسکو چیک کر کے خود ہی نمبر بھی دے دیتے ہیں، بچے کے پاس یا فیل ہونیکا فیصلہ بھی خود ہی صادر کر دیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اورقابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں، جنکے بچے فیل ہوجاتے ہیں وہ اس نتیجے پرافسوس کرتے رہتے ہیں اوراپنے بچے کو ‘کوڑھ مغز’ اور’کند ذہن’ کا طعنہ دیتے رہتے ہیں.

    آپ ایمانداری سے بتائیں اس سب کام میں بچے نے کیا سیکھا، سوائے نقل کرنے اورچھاپنے کے؟
    ہم پہلی سے لے کراوردسویں تک اپنے بچوں کو ‘سوشل اسٹڈیز’ پڑھاتے ہیں اورمعاشرے میں جو کچھ ہورہا ہے وہ یہ بتانے اورسمجھانے کیلئے کافی ہے کہ ہم نے کتنا ‘سوشل’ ہونا سیکھا ہے؟ سکول میں سارا وقت سائنس ‘رٹتے’ گزرتا ہے اورآپکو پورے ملک میں کوئی ‘سائنسدان’ نامی چیزنظرنہیں آئیگی کیونکہ بدقسمتی سے سائنس ‘سیکھنے’ کی اورخود تجربہ کرنے کی چیزہے اورہم اسے بھی ‘رٹّا’ اور ‘گھوٹا’ لگواتے ہیں.

    ہمارا خیال ہے پالیسی ساز، پرنسپل، اساتذہ اورتمام اسٹیک ہولڈر اس ‘گلے سڑے’ اور’بوسیدہ’ نظام تعلیم کو اٹھا کرپھینکیں بچوں کو’طوطا’ بنانے کے بجائے ‘قابل’ اور’باشعور’ بنانے کے بارے میں سوچیں.

    @balouch_shafqat

  • ہندوستان، حالات حاضرہ کی روشنی میں قسط نمبر(2) . تحریر : تحریر: محمد صابرمسعود

    ہندوستان، حالات حاضرہ کی روشنی میں قسط نمبر(2) . تحریر : تحریر: محمد صابرمسعود

    اسی ظلم و بربریت، اکثریتی مذہب کی شدت پسندی اورحکومتی تانا شاہی کا نشانہ اترپردیش میں واقع دادری کے محمد اخلاق کوبنایا گیا۔ 2014 میں محمد اخلاق کو اسکے فریزرمیں گائے کا گوشت ہونے کا جھوٹا الزام لگا کر ایک ہجوم نے قتل کردیا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فریزرتومحمد اخلاق کے گھر میں تھا تو ان شرپسند دشمنوں، آرایس ایس کے چڈھوں اوراکثریتی مذہب سے تعلق رکھنے والے غنڈوں کو اس بات کا کیسےعلم ہوا کہ موصوف کے فریزرمیں گائے کا گوشت موجود ہے؟ اس بات کا ان حضرات کے پاس کوئ جواب موجود نہیں ہے کیونکہ یہ ایک بے بنیاد الزام تھا لہذا معلوم ہوا کہ انکی خطا صرف اورصرف مسلمان ہونا تھی؟ اب اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انکوانصاف ملا؟ قاتلوں کوانکے ظلم و قتل کی پاداش میں جیل بند کیا گیا ؟ اگرنہیں توکیا فقط اس وجہ سے کہ قاتل ہندو تھے؟ تمام سوالات کے جوابات کا انتظارکریں.

    اسی مآب لنچنگ کا نشانہ اخباری رپورٹ کے مطابق سنہ 2020/ ستمبر میں بریلی میں 32 سالہ مسلم نوجوان باسط علی کو انتہا پسندوں، غلیظ و ناپاک سوچ رکھنے والے غنڈوں کے ایک ہجوم نے چوری کے شک میں بری طرح زدوکوب کیا، ان پرلوہا چوری کرنے کا جھوٹا الزام عائد کرکے ہندو شدت پسندوں بالفاظ دیگر بی جے پی و آرایس ایس کے لیٹرنگ جیسے چڈھے پہننے والے غنڈوں نے کئی گھنٹے تک درخت سے باندھ کررکھا اورجم کراس کی پٹائی کی، اس واقعے کی اطلاع جب پولس کو ملی اورپولس موقع واردات پرپہنچی تو ہجوم نے باسط کو پولس کے حوالے کردیا، اس واقعے کا دل کو دہلا دینے و بے چین کردینے والا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پروائرل ہوا، ویڈیو میں نظرآنے والا شخص باسط علی ہی ہے، ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جاسکتاہے کہ اس کے دونوں ہاتھوں کودرخت سے باندھ دیا گیا ہے، زدوکوب کے درمیان وہ چیختے و چلاتے ہوئے مدد و نصرت کی فریاد کررہا ہے لیکن موقع پرموجود لوگ اسکو سنی ان سنی کرکے اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں بلکہ کئی لوگ تومسکراتے ہوئے ہونٹوں سے موتیاں بکھیرتے ہوئے بھی نظرآرہے ہیں اورآپس میں بات چیت کررہے ہیں.

    اس دوران کچھ لوگ مظلوم و بے قصورباسط علی کے پاس آئے ضرورمگروہ بھی صرف اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے ویڈیو وتصاویرلیکر واپس لوٹ گئے، ایک رپورٹ کے مطابق پولس نے بتایا کہ پٹائی کرنے کے بعد کچھ لوگ باسط کو تھانہ لیکرآئے، یہاں وہ لوگ بھی پہنچے جن کے سامان چوری ہونے کےالزام میں اس کو زدوکوب کیا گیا تھا، پولس اسٹیشن میں ان لوگوں نے کہا کہ چونکہ ان کا سامان واپس مل گیاہے اورباسط ان کا پڑوسی ہے، لہذا وہ شکایت درج نہیں کرانا چاہتے، پولس اسٹیشن میں مبینہ سمجھوتے کے ایک گھنٹے بعد باسط نے چیختے و چلاتے ہوئے وہیں دم توڑ دیا اورزندگی کی جنگ ہارگیا، مقتول کی ماں نے میڈیا سے کہا تھا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ باسط کو کچھ لوگ پیٹ رہے ہیں، تومیں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو اسے بچانے کےلئے کہا لیکن وہ اتنا ڈرگیا تھا کہ اس نے خود کو ایک کمرے میں بند کرلیا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انکو انصاف ملا ؟ اور کیا یہ الزام درست تھا ؟

    تمام جوابات کا انتظار کریں

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    @sabirmasood_

  • ایچی سن کالج اورہمارے خواب . تحریر: صائم مصطفیٰ

    ایچی سن کالج اورہمارے خواب . تحریر: صائم مصطفیٰ

    جون ایلیا صاحب ہمارے دورکے بہت بڑے شاعر گزرے ہیں وہ ایک مزاحیہ بات کرتے تھے جو کسی حد تک ٹھیک بھی ہے خاص طورپر ان لوگوں کیلیے جو تاریخ میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں نہ کہ معاشرتی علوم میں ۔
    ‘پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت تھی’

    نیا پاکستان ایچی سن کے لونڈوں کی شرارت ہے ۔جن کو نہیں پتہ ان کو بتا دوں کہ ایچی سن لاہور کا ایک اعلیٰ شاندارشاہی قسم کا کالج ہے جو دوسوایکڑ کے رقبے پرمحیط ہے۔ 1886میں انگریزوں نے امرا، اشرافیہ، جاگیرداروں اوراعلی سرکاری طبقے کے لیے بنایا تھا اوراب تک یہ روایت چلی آرہی ہے۔ جہاں پرنصابی اورغیر نصابی سرگرمیاں بھرپورطریقے سے کروائی جاتی ہیں ۔ ایسا ملک جہاں پینےکا صاف پانی نہیں اورصحت کی بنیادی ترین سہولیات میسرنہیں وہاں ہم ایسے کالج کی بات کررہے ہیں جس کا نام ایچی سن کالج لاہور ہے ۔

    اس وقت حکومت میں شامل لوگوں کی بات کریں تواکثریت اسی کالج کے فارغ التحصیل ہیں ۔
    ہمارے وزیراعظم عمران خان، سابق وزیرخزانہ حفیظ شیخ شاہ محمود قریشی، پرویزخٹک، خسروبختیار، حاضر سپریم کورٹ کے چارجج ایچی سن کالج کے پڑھے ہوئے ہیں ۔ ماضی میں بہت سے اہم لوگ جو یہاں سے تعلیم حاصل کرکے اعلی عہدوں پربیٹھے رہے ہیں ان میں فاروق لغاری، اعتزاز احسن، فیروزخاں نون، ایازصادق، اکبربگٹی، فیصل صالح حیات، غلام مصطفی کھروغیرہ ۔

    کچھ مہینے پہلے ایک والدین نے اپنے بچے کو ایچی سن داخل کروانے کی درخواست دی اوردرخواست یہ کہہ کر رد کردی جاتی ہے کہ آپکی سالانہ آمدن اٹھارہ لاکھ روپے ہے اس لیے آپ ہمارے تعلیمی اخراجات اٹھانے کے قابل نہیں ہیں۔ مطلب ایک آدمی جسکی ماہانہ آمدن ڈیڑھ لاکھ روپے ہیں وہ اس کالج میں پڑھنے کا ایل نہیں ہے۔ ہمارے ہاں تین قسم کے لوگ حکمرانی کرنے کیلیے آتے ہیں۔

    ایک جاگیردار، دوسرےبیورکریٹ، تیسرےفوجی افسر۔

    وہ لوگ جو ہماری طرح کسی سرکاری سکول یا کالجزمیں پڑھتے ہیں اوربعد میں بیس ہزارکی نوکری کی خاطرساری زندگی داو پرلگا دیتے ہیں۔ ایک معمولی نوکری کیلیے دن رات ایک کرتے ہیں نیند قربان کرتے ہیں لیکن حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ اسکی وجہ یہ ہوتی ہے ہم کو وہ ماحول اورتعلیم کی آسائشیں حاصل نہیں ہوتی جوکسی جاگیرداریا اعلی سرکاری شخص کے بیٹے کو حاصل ہوتی ہیں ۔

    معذرت کے ساتھ ہمارے ملک کی تمام سرکاری جامعات میں اتنی قابلیت نہیں کہ وہ ہمیں ایچی سن یا لمزکے برابرلا کھڑا کرے۔ انہی نرسریوں سے یہ بڑے ہوکرباہرتعلیم حاصل کرتے ہیں اورواپس آکراعلی عہدوں پربراجمان ہوتے ہیں اورہم پرحکمرانی کرتے ہیں ۔

    اگرآپ کو یقین نہیں آتا تو خود دیکھ لیں کتنے لوگ ہیں جو ٹاٹ کے سکولوں سے پڑھ کرحکمران بنے ہوں، جوکسی مزدورکا بیٹا سینٹربنا ہو، کسی ریڑھی بان کی بیٹی آرمی میں اعلی عہدے پرہو، کسی مزارعے کے بیٹے نے سی ایس ایس ٹاپ کیا ہو۔ آپ کو یہ مثالیں کہیں نہیں ملیں گی۔ امیرکا بچہ امیرہی رہتا ہے اورغریب کا بچہ غریب ہی. ہمارے ملک میں دو طبقے پیدا ہوئے ہیں ایک وہ جنہوں نے غربت کھڑکی سے دورکہیں ناچتی دیکھی ہے دوسرے وہ جو گلے تک غربت کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔

    انہی کلاس کے لوگوں نے ملک کے اہم اداروں میں پنجے گاڑھے ہوئے ہیں وہ ملٹری ہو، عدلیہ ہو، بیورکریسی ہو یا سیاست ہو۔ ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہم ایچی سن، لمزیا آکسفورڈ کے پڑھے ہوئے نہیں ہیں۔ اس سے شاہد ہم بھی اپنے ٹوٹے بکھرے خوابوں کو جوڑ لیتے۔ میرے جیسے ہزاروں نوجوان جو اپنی پہچان چاہتے ہیں جو ملک و معاشرے کیلیے کچھ زیادہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ یہ خواب اپنے سینے میں دفنا کرمرجائیں گے۔

    @saimmustafa9

  • عالمی ثقافتی ورثہ ٹیکسلا . تحریر : حسنین مغل

    عالمی ثقافتی ورثہ ٹیکسلا . تحریر : حسنین مغل

    راولپنڈی سے 22 میل دور، شمال مغرب کی جانب ایک قدیم شہر’ٹیکسلا‘ آباد تھا۔ 326 ق م میں سکندراعظم نے اس شہرپرقبضہ کیا اوریہاں پانچ دن ٹھہرا۔ یہیں راجا امبھی نے سکندر کی اطاعت قبول کی، جس کے بعد سکندرراجا پورس سے لڑنے کے لیے جہلم کے کنارے پہنچا۔ باخترکے یونانی حکمران دیمریس نے 190 ق م میں گندھارا کا علاقہ فتح کرکے ٹیکسلا کو اپنا پایۂ تخت بنایا۔ مہاراجا اشوک اعظم کے عہد میں بھی اس شہرکی رونقیں پورے عروج پرتھیں اوریہ بدھ مت تعلیم کا مرکز تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مشہورچینی سیاح ہیون سانگ یہاں آیا تھا۔ اس نے اپنے سفر نامے میں اس شہرکی عظمت وشوکت کا ذکرکیا ہے۔ یہاں گوتھک اسٹائل کا ایک عجائب گھر ہے، جس میں پانچویں صدی قبل مسیح کے گندھارا آرٹ کے نمونے، دس ہزارسکے ( جن میں بعض یونانی دورکے ہیں ) زیورات، ظروف اوردیگر نوادرات رکھے ہیں۔ ٹیکسلا میں زمانہ قبل ازمسیح کی عظیم باقیات یونیسکو کےعالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔

    مختلف نام ٹیکسلا کا قدیم شہردریائے سندھ اوردریائے جہلم کے درمیانی علاقے میں واقع ہے۔ سنسکرت میں یہ تکشاسلا اورمقامی طورپر تاکاسلہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یونانیوں اوررومیوں نے اسے ٹیکسلا کہا۔ یہ شہرزمانہ قدیم کے تین اہم تجارتی راستوں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ایک بڑا تجارتی مرکز تھا۔ جنوبی ہند، مغربی اور وسطی ایشیائی تجارتی راستے یہیں پرملتے تھے۔ قدیم جین مندرقدیم یورپی اقوام سکندراعظم کے ہندوستان پرحملے کرنے کے وقت سے ٹیکسلا کے نام سے واقف تھیں۔ چھٹی صدی قبل ازمسیح میں ٹیکسلا ایران کا ایک صوبہ تھا۔ بعد کی صدیوں میں یہ شہر کم از کم سات ادوار میں مختلف نسلوں کے شاہی خاندانوں کی حکمرانی میں رہا۔
    بازار جواب کھنڈرہیں ٹیکسلا کی قدیم تہذیب کی باقیات کی تلاش کے لیے پہلی مرتبہ کھدائی برطانوی نوآبادیاتی دورمیں آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا نے 1913ء میں شروع کی تھی، جو1934ء تک جاری رہی۔ پھر پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں بھی بہت سے مشہور یورپی اورپاکستانی ماہرین آثار قدیمہ یہاں کھدائی کرتے رہے۔ اس وقت جہاں خشک گھاس اورپتھر نظرآتے ہیں، وہاں صدیوں پہلے بھرے بازاروں میں انسانوں کی چہل پہل ہوا کرتی تھی۔

    اسٹوپے اورخانقاہیںوادی ٹیکسلا میں کھدائی کے نتیجے میں تقریبا دو درجن سے زیادہ اسٹوپے اورخانقاہیں دریافت ہوچکی ہیں۔ ان میں دھرما راجیکا، جولیاں، موہڑہ مرادو، پیلاں، گڑی، بھمالا، جنڈیال، جناں والی ڈھیری، بادل پور، بھلڑ توپ، کنالہ اورکلاوان نامی مقامات شامل ہیں۔
    قدیم ٹیکسلا کی یونیورسٹیقدیم ٹیکسلا شہر کے کھنڈرات کے آخرمیں شہزادہ کنالہ کے اسٹوپا کی جانب ایک مرکزی اورشاندارمقام ایسا بھی آتا ہے، جو پاکستان کے معروف ماہر آثار قدیمہ پروفیسر دانی کے بقول وہی جگہ ہے جہاں صدیوں پہلے ٹیکسلا کی مشہور یونیورسٹی قائم تھی۔
    شہزادہ کنالہ کا اسٹوپا ٹیکسلا کی قدیم یونیورسٹی سے کچھ دورشہزادہ کنالہ کا اسٹوپا ہے۔ اس اسٹوپے کے قریب کبھی ایک شاندارعمارت قائم تھی۔ اب وہاں صرف اس عمارت کی پتھریلی باقیات ہی رہ گئی ہیں۔ اس مقام اوراس کے قرب و جوار میں کھدائی سے بھی ماہرین کو بہت سے قدیم سکوں کے علاوہ مٹی اوردھات کے بنے برتن ملے تھے۔

    نازک لیکن تاحال محفوظماہرین آثارقدیمہ کو موہڑہ مرادو کے ایوان مجلس کے کمرہ نمبر نوسے ملنے والا اسٹوپا ، چونے مٹی کا بنا ہوا ہے لیکن صدیاں گزرجانے کے باوجود اب بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ اسی خانقاہ سے ماہرین کو چونے مٹی کے بنے ہوئے مجسمے بھی ملے ہیں۔ موہڑہ مرادو سے ملنے والے دیگر نوادرات میں کھانے پینے کے برتن، گھریلو استعمال کا سامان، مختلف اوزاراورتانبے کے برتن بھی شامل ہیں۔ ٹیکسلا میوزیمٹیکسلا میوزیم پاکستان کے خوبصورت ترین عجائب گھروں میں سے ایک ہے۔ ہری پور روڈ پر واقع اس میوزیم کا نقشہ لاہور کے میو اسکول آف آرٹس (موجودہ نیشنل کالج آف آرٹس) کے پرنسپل سلیوان نے تیار کیا تھا۔ اس کی بنیاد برٹش انڈیا کے وائسرائے لارڈ چیمسفورڈ نے رکھی تھی۔ اس میوزیم میں ٹیکسلا سے دریافت شدہ 700 سے زائد نوادرات محفوظ ہیں لیکن عجائب گھر کے اندر فوٹوگرافی کی اجازت نہیں ہے۔

    سِرکپسِرکپ شہرکی تاریخی باقیات ٹیکسلا میوزیم سے قریب دو کلومیٹرکے فاصلے پرہیں۔ دوسری صدی قبل ازمسیح میں باخترکے یونانی ٹیکسلا پر حملہ آور ہوئے تو موریہ سلطنت ختم کر کے انہوں نے اپنی حکومت قائم کی اورایک نیا شہرسِرکپ آباد کیا۔ یہ شہرشطرنج کی بساط کی طرزپرآباد کیا گیا تھا۔ سیدھی گلیوں اوربازار کے باعث اس کے کھنڈرات بھی بہت منفرد ہیں۔ یہ شہرایک ایسی فصیل کے اندرآباد تھا، جس میں چاردروازے تھے۔

    موہڑہ مرادوٹیکسلا میوزیم سے مشرق کی سمت قریب پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر خانقاہ موہڑہ مرادو واقع ہے۔ یہ بدھ مت عبادت گاہ، مرکزی اسٹوپا اورخانقاہ کی باقیات پرمشتمل ہے، جہاں پُجاریوں کے رہائشی کمرے، ان کا ایوان، باورچی خانہ، غسل خانہ اورگودام ہوا کرتے تھے۔ باقیات اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ اس دور میں بھی کتنے تعمیراتی نظم و ضبط سے کام لیا گیا تھا۔ دو ہزارسال پرانی باقیات وادی ٹیکسلا سے ملنے والی بدھ مت کی عبادت گاہوں کی زیادہ تر باقیات پہلی صدی عیسوی سے پانچویں صدی عیسوی تک کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ دھرما راجیکا اسٹوپا تیسری صدی عیسوی کے دورکا ہے، جسے 1980ء میں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔ ان میں سے بہت سے تاریخی مقامات آج بھی حیران کن حد تک اچھی اورواضح حالت میں موجود ہیں۔

    @HasiPTI

  • ‏ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت ذرخیز ہے ساقی . تحریر: محمد مبین اشرف

    ‏ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت ذرخیز ہے ساقی . تحریر: محمد مبین اشرف

    علامہ اقبال نہ یہ شعربہت پہلے اس قوم کے حالات و جذبات کو دیکھتے ہوئے شاید اسی لیے کہا تھا کہ اس قوم میں جذبات و احساسات اور شجاعت کی کمی نہیں ہے بلکہ اس قوم کو بس بیدار کرنے اور اسکے منصب کو یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات ہرکسی کی نظر کے سامنے ہیں۔ دنیا کے خیالات بھی ہم سب کے سامنے ہیں۔ کس طرح اسلاموفوبیا کے نام پرمسلمانوں کو کچلا جارہا ہے، مارا جارہا ہے انڈیا میں نفرت انتہا پرہے۔ مسلمانوں کو زلیل کیا جاتا ہے اورمسجدوں کوشہید کیا جاتا ہے غرض کے کسی نہ کسی طریقے سے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

    دنیا کے حالات ہمارے سامنے ہیں مگر ہم مسلمانوں کے حالات پرغورکریں تو وہ مسلمان جوکہ تعلیم کے میدان میں سب سے آگے تھے اور آج مسلمان کہاں پرموجود ہیں سوچنے کی بات ہے لیکن گھبرانے کی بات نہیں ہے علامہ اقبال کا یہ شعرموجودہ حالات کی عکاسی کرتا ہے مسلمان اگرمل جائے توایک مضبوط عمارت کی مانند ہے۔

    بے شک مسلمان غفلت میں سو رہے ہیں یہ دنیا بھی جانتی ہے کہ جب مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے تو مسلمانوں نے بڑی بڑی فتوحات حاصل کیں۔ علامہ اقبال کا یہ شعرذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی کی اس بات کی تشریخ کرتا ہے کہ اس مٹی کو نم کی ضرورت ہے اس قوم کو بیداری کی ضرورت ہے اور جب یہ قوم بیدار ہوگئی تو یہ مسلم امت مضبوط ترین قوم بن جائے گی۔

    1947ء میں پاکستان کا تصور قبول کیے جانے کے بعد قائداعظم سے کہا گیا: "Do you really believe it will become a nation. It will take fifty years.” جواب میں ارشاد کیا:”No a hundred years” قوموں کی تشکیل و تعمیرکا عمل یہی ہے۔ فروغِ علم سے اس عمل کو متواتر اورمہمیز کیا جاسکتا ہے۔ اللہ مہربان ہو تو قائد اعظم ایسے لیڈروں کی نمود سے، اپنی مثال سے جو ہجوم کی تربیت کریں۔ آخری بات یہ ہے کہ مایوسی زہرہے۔ نظراٹھا کردیکھو تو اس قوم میں ایثاراورحسنِ عمل کی مثالیں بھی بہت ملیں گی۔ اقبالؔ نے کہا تھا۔ دل توڑگئی ان کا دو صدیوں کی غلامی دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا شاعرکی باقی پیش گوئیاں پوری ہوئیں تو یہ بھی ہو کررہے گی۔ کریں گے اہلِ نظرتازہ بستیاں آباد مری نظر نہیں سوئے کوفہ و بغداد۔

    @Its_MuBii

  • صنفی امتیاز کا خاتمہ . تحریر: عابد خان اتوزئی

    صنفی امتیاز کا خاتمہ . تحریر: عابد خان اتوزئی

    دنیا کی تخلیق کے طریقہ کارپردنیا بھرمیں اختلافات پایا جاتا ہے۔ دنیا کے ہرکونے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا اپنا ایک نظریہ ہے، دنیا کی تخلیق کیسی ہوئی؟

    ہرکوئی اس ضمن میں اپنی رائے کودلا ئل کے ساتھ پیش کرکے خود کو درست ثابت کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ اس ضمن میں بے شمارکتابیں بھی موجود ہیں۔ اس پرسائنس اورمذہب بھی کئی جگہوں پرآمنے سا منے آچکے ہیں ۔یہی صورتحال کچھ معاشروں کے وجود کا بھی ہے۔معاشرے کا وجود مختلف معاشرے کے اقدارمختلف معاشرے کے اصول مختلف رسم ورواج مختلف حتیٰ کہ مقاصد بھی مختلف لیکن ایک چیزایسی بھی ہے کہ جس کے بارے میں دنیا کا ہرانسان متفق بھی ہے اوردرست بھی ہے وہ یہ کہ زمین کی پیدا ئش انسان کیلئے ہوئی ہے دنیا میں کہی بھی کسی سے بھی اگرپوچھا جائے کہ کیا دنیا انسان کے رہنے کیلئے بنائی گئی ہے اس کا جواب مثبت ہوگا۔ یہ حقیقت بھی ہے.

    دوسری بات جس میں لوگ بظاہراختلافات نہیں رکھتے وہ انسان کی برابری ہے، اگرسوال کیا جائے کہ آیا دنیا کے تمام انسان حقوق کے لحاظ سے برابرہیں؟ توفخریہ اندازمیں جواب ہاں میں ملے گا۔ یہی وہ نقاطہ ہے جہاں سے انسان کے نظریات اورمنافقت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے دنیا اورزمین کی پیدائش کے اختلافات کے پیچھے ہرایک کا اپنا ایک نظریہ کارفرما ہوتا ہے جو درست بھی ہوسکتا ہے اورغلط بھی لیکن جس چیز کے بارے میں بظاہر سب کے سب انسان متفق ہے یعنی زمین انسان رہنے کی جگہ اورسب انسان برابرہیں کے پیچھے دنیا کی کثیرتعداد کی چھپی ہوئی منافقت موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہرتیسرے اورچوتھے ملک میں ایک فساد برپا ہے، اس کے علاوہ ہرملک میں انسانوں کے مابین حقوق کے غیرمساوی تقسیم نے کہرام برپا کیا ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کوخود سے بہترتصورکرتا ہے اس کی نسبت اپنے آپ کو زیادہ مراعات کا حقدارسمجھتا ہے، اس نقطہ سے لوگوں کے حقوق کی حق تلفی کا باقاعدہ آغازہوتا ہے۔

    دنیا کے کسی بھی کونے میں بھی کسی بھی انسان کے مابین اختلافات اورجھگڑے کی بنیادی وجہ حق تلفی ہی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس کسی بھی خوشحال ملک یا معاشرہ کا جائزہ لیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ خوشحالی کہ اصل وجہ لوگوں کے مابین حقوق کی مساوی تقسیم ہے، اس معاشرے میں ان گنت مسائل اوربے چینی پائی جاتی ہے جہاں پرمساوات کی قبریں موجود ہوتی ہیں اگران حق تلفیوں کی حوصلہ شکنی نہ کی جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ یہ رویہ کا شکل اختیارکرلیتا ہے، یہاں سے یہ مسئلہ انفرادیت سے اجتما عت کے مدارمیں داخل ہوجاتا ہے اورجب اجتماعیت کے ہاتھ میں ایک خاص رویہ پنپنا ہے تو وہ روایت بن جایا کرتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کے تجزئیے سے یہ بات بخوبی جانی جاسکتی ہے کہ ہراک روایت کے پیچھے ایک خاص رویہ مضمر ہے۔ روایات میں اپنی رویوں کا اظہارہوتا رہتا ہے، روئیے اور روایت کی بنیاد کسی قوم یا معاشرے کے حامل کردہ علوم پرہوتا ہے جو وہ حقوق کی تقسیم کے بارے میں رکھتے ہیں۔

    اگر حاصل کردہ علم زندگی گزارنے کے لئے ناکافی اورناقص ہے تو منفی رویہ بنے گا، منفی روایات بنے گئے اورمنفی معاشرے کی بنیاد پڑے گی اوراگر حاصل کردہ علم مثبت ہے اورایک بہترزندگی گزارنے کے لئے کافی ہے تو مساوی حقوق، مثبت رویہ، مثبت روایات اور مثبت معاشرہ بنے گا۔اس علم کی بنیاد پرمعاشرے میں ہرچیزکے بارے میں ایک خاص رویہ موجود ہے، اب اگرمعاشرے میں موجود رویے سے مسا ئل پیدا ہورہے ہیں توہمیں علم کے وہ سرچشمے بدلنے ہوں گے جن کی بنیاد پررویہ یا روایت بنتی ہے۔اب اگراپنے معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو بہت سے تکلیف دہ منفی روئیے سامنے آئے ہیں۔ان میں سے ایک منفی رویہ معاشرے میں موجود صنفی امتیاز ہے جس نے باقاعدہ تشدد کی شکل اختیارکررکھی ہے جس کا ثبوت چند دن قبل روالپنڈی کے علاقہ ثاقب آباد میں ہونے والا واقعہ ہے۔قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ ارسلان نامی جوان نے اپنی ماں پرتشدد کیا ہمارے معاشرے میں خواتین کے بارے میں موجود منفی رویے نے ہمیں دنیا میں چھٹے نمبرپرلا کھڑا کردیا صنفی امتیازی کی بدولت ہم دنیا میں جانے جاتے ہیں ”بدنام جو ہو گے تو کیا نام نہ ہو گا“ صنفی امتیاز کوختم کرانے اورخواتین کے بارے میں قائم منفی رویوں اورروایات کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے ہمیں آنے والی نسلوں کو مثبت علم دینا ہوگی ورنہ جو حالت گلنازبی بی کے ہیں وہ ہرگھرمیں موجود ہرعورت کے ہونگے.

    @AtozaiKhan

  • محب  وطن پاکستانی . تحریر: محمد آصف شفیق

    محب وطن پاکستانی . تحریر: محمد آصف شفیق

    پاکستانی قوم ایک محب وطن قوم ہے جس کے افراد دنیا میں کسی بھی ملک کے کسی بھی شہر میں ہوں ان کی حب الوطنی میں کمی نہیں آتی، دوسرے بہت سے بیرون ملک مقیم (Overseas Pakistani) کی طرح میں بھی گزشتہ 16 سال سے بیرون ملک مقیم میں جہاں میں نے پاکستانیوں کی حب الوطنی کی کئی مثالیں دیکھیں، جب بھی کسی پارٹی رہنما نے یہاں وزٹ کیا ہرپاکستانی نے اپنے پارٹی تعلق سے بالا تر ہو کراس پروگرام میں بھرپورشرکت کی اورکوئی ناخوشگوارواقعہ بھی کبھی پیش نہیں آیا، امیر جماعت اسلامی پاکستان محترم سراج الحق صاحب کے سعودیہ میں دوروں کے دوران بہت سے بڑے پروگرامات میں شرکت کا موقع ملا جن میں تقریباً تمام پاکستانی سیاسی ودینی جماعتوں کے افراد موجود ہوتے تھے، اسی طرح مستقل پاکستان واپس جانے والوں کیلئے الوادعی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے، کسی بھائی کی خوشی غمی میں شرکت ہو یا کسی فرد کی نمازجنازہ کبھی احساس ہی نہیں ہونے دیتے کہ ہم دیس میں نہیں پردیس میں ہیں، اگر کوئی بھائی فوت ہوجائے تواس کے پروسس میں پاکستانی ایمیبسی کی مدد درکار ہوتی ہے اورالحمد للہ جن بھائیوں کو ویلفئرسیکشن میں ذمہ داری دی ہوتی ہے وہ ہمیشہ بہترین تعاون کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان بھائیوں کواجرعظیم سے نوازیں جو پردیس میں رہ کر ایک دوسرے سے ایسے جڑے ہیں جیسے سیسہ پلائی دیوار

    یوم آزادی ہو یا یوم دفاع پاکستان یا کشمیرڈے ہویا کوئی بھی قومی دن پردیس میں موجود پردیسی اپنی گاڑیوں اپنے کپڑوں اوراپنی تیاریوں سے کسی بھی فرد جو کہ پاکستان میں موجود ہوکم محبت کا اظہار نہیں کرتا، مملکت سعودیہ میں موجود سفارتخانہ بھی ان اسپیشل دنوں کیلئے اپنے دروازے کھولتا ہے اپنے ہال میں بڑے بڑے پروگرامات ترتیب دیتا ہے، جن میں ہرپارٹی کے افراد کواظہارخیال کا بھرپورموقع فراہم کیا جاتا ہے.