Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گھریلو تشدد بل کے پاکستانی معاشرے پراثرات . تحریر: عمران خان رند بلوچ

    گھریلو تشدد بل کے پاکستانی معاشرے پراثرات . تحریر: عمران خان رند بلوچ

    میرے معزز قارئین، پاکستان کا قیام دراصل ایک اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر عمل میں آیا۔ ہمارے عظیم قائد محمد علی جناح نے اپنی زندگی اس مشن کےلیے وقف کردی کہ مسلمانوں کے لیے اک الگ اسلامی فلاحی ریاست قائم ہو جس میں وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ پاکستانی معاشرے میں گھریلو تشدد بھی ایک حقیقت ہے جسے پس پردہ نہیں ڈالا جاسکتا، اس تشدد کے نتیجے میں کئی گھر ویراں ہوجاتے ہیں،تیزاب گردی کا نشانہ بنی خواتین اپنی باقی ماندہ زندگی میں اصلی صورت کو گنوا دیتی ہیں۔

    لیکن ان واقعات کی روک تھام کےلیے ہمارے معاشرے کی اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت کی ضرورت پر زور دیا جانا چاہیے۔
    پاکستانی معاشرے کی اصلاح صرف اسلامی قوانین کو نافذ العمل کرنے سے ہی ممکن ہے نہ کہ مغرب کی تقلید کرنے سے۔ قارئین کرام ہمارے حکمران اک طرف تو ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی باتیں کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ حکومت مغرب کی تقلید کرتی نظر آرہی ہے۔

    اسکی واضح مثال گھریلو تشدد بل کی منظوری ہے۔
    میرے معزز قارئین گھریلو تشدد بل اپریل میں محترمہ شیریں مزاری وزیر برائے انسانی حقوق نے مختلف عالمی تنظیموں کی ایماء پر اس بل کو تشکیل دیا۔اور قومی اسمبلی سے منظور کروا لیا۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل سینٹ کو بھجوایا گیا۔ ایوانِ بالا نے اس بل میں چند ترامیم کے بعد منظور کر کے واپس قومی اسمبلی کو بھجوا دیا گیا۔

    اس بل کی منظوری کے بعد سے معاشرے کے مختلف طبقات خصوصاً مذہبی جماعتوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ۔
    اس بل میں ہر قسم کے گھریلو تشدد کے خلاف سخت اقدامات کی تجویز دی گئی۔ بل میں کہا گیا کہ گھریلو تشدد کا مرتکب پائے گئے شخص کو زیادہ سے زیادہ تین سال اور کم سے کم چھ ماہ قید کی سزا ہوگی مزید مجرم کو بیس ہزارسے ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا ۔

    قارئین اس بل کی شق تین میں بیوی کو دوسری شادی یا طلاق کی دھمکی یا بانجھ پن کا طعنہ دینا یا خاتون کے کردار پر شک کرنا یا بیٹے یا بیٹی کی مرضی کو ٹھکرانے یا کسی کو مارنا ، ہراسانی کرنے وغیرہ کو زیادتی قرار دیا گیا ہے۔
    مزید یہ کہ عدالت میں درخواست دائر ہونے کے سات روز کے اندر کیس کی سماعت ہوگی اور نو روز میں فیصلہ سنایا جائے گا۔
    جب اس بل کی مخالفت میں ملک میں احتجاج ہونا شروع ہوئے تو حکومت نے اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوانے کا اعلان کیا۔
    جب اس بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا تو سوشل میڈیا پر چند NGO’s کی جانب سے حکومت مخالف ٹرینڈز بننا شروع ہوگئے۔
    فیمینزم اور سیکولر طبقے کی جانب سے اس اقدام کو مذہبی دباؤ کی وجہ قرار دیا گیا۔
    فیمینزم ماہر قانون اوروباستاراحمد نے ٹویٹ میں کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی ساخت ہی غیر قانونی ہے جس میں کوئی خاتون شامل نہیں وہ کیسے خواتین کے حقوق کا دفاع کرے گی۔

    جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد خان نے بل کے متن میں شامل زیادتی کی ان وضاحتوں پر اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل ہمارے خاندانی نظام کےلیے ٹائم بم ہے جو ہمارے خاندانی نظام کو تباہ کردے گا۔سینیٹر مشتاق احمد خان ان چند سینیٹرز میں شامل ہے جنہوں نے اس بل کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ دوسری تمام سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن، پی پی پی اور تحریک انصاف نے س بل کی حمایت میں رائے کا استعمال کیا۔

    سربراہ تحریک بیداری امت مصطفیٰ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ اس قسم کے اقدامات فہم سے بالا ہیں انہوں نے بل کی منظوری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اک طرف تو حکومت ریاست مدینہ کے نعرے لگاتی ہے دوسری طرف مغرب کی پیروی کرتے تھکتی نہیں۔

    علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ اس بل کے لاگو ہونے سے مغربی بے ہودہ کلچر کو فروغ ملے گا جو کہ اسلامی معاشرے اور خاندانی روایات کے صراصر خلاف ہے۔

    معروف عالم دین مفتی طارق مسعود نے اس بل کی مخالفت میں کہا کہ ایسے قوانین ہماری آنے والی نسلوں کےلیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔
    میرے خیال میں حکومت کو چاہیے کہ جلد سے جلد اس بل کو واپس لے اور منسوخ کرنے کا اعلان کرے۔
    حکومت کو ایسے قوانین بنانے سے اجتناب کرنا چاہیے جن کی کوئی واضح ساخت نہ ہو تاکہ اسکا غلط استعمال کم ہو

    @ibaloch007

  • تو یہ نہیں کرسکتا لوگوں کے ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ .  تحریر: شعیب

    تو یہ نہیں کرسکتا لوگوں کے ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ . تحریر: شعیب

    ایک سٹوڈنٹ تھا اس کے پیپر قریب تھے وہ اچھے نمبر لینے کے لیے بہت محنت کا رہا تھا ایک رات وہ پڑھتے پڑھتے دیر سے سویا اور اگلے دن وقت پر صبح اٹھ نہ سکا اور کلاس کے لیے لیٹ ہو گیا جب وہ کلاس روم میں پہنچا تو کلاس ختم ہو چکی تھی اور سارے سٹوڈنٹ جا چکے تھے وہ برا لائق سٹوڈنٹ تھا اسے افسوس ہو رہا تھا کہ اس کی کلاس مس ہوگی اس کی نظر بلیک بورڈ پر پڑی تو اس نے دیکھا کہ وہاں دو سوال لکھے ہوئے تھے وہ خوش ہو گیا کہ چلو کلاس تو مس ہوگئی لیکن کم از کم اسائنمنٹ تو نوٹ کرنے کو مل گئی آنے کا کچھ فائدہ تو ہوا اس نے وہ دونوں سوال نوٹ کر لئے اور گھر آ کر اسے حل کرنے میں لگ گیا بڑی محنت کے بعد بالآخر اس نے اسائنمنٹ تیار کر ہی لی اگلے دن وہ ٹیچر کے آنے سے پہلے ہی کلاس روم میں موجود تھا ٹیچر کے آتے ہی اس نے کھڑے ہو کر اسائنمنٹ ٹیچر کے ہاتھ میں تھما دی ٹیچر نے پوچھا کہ یہ کیا ہے سر یہ اسائنمنٹ ہے جو کل آپ نے دی تھی میں نے تو کوئی اسائنمنٹ نہیں دی تھی سر میں کل کلاس کے لیے لیٹ ہو گیا تھا جب میں آیا تو یہ بلیک بورڈ پر سوال لکھے ہوئے تھے میں نے ساری یہی سے نوٹ کئے تھے ٹیچر اس کی بات سن کر حیران رہ گیا وہ سوال تم نے حل کر لیے یہ تم نے کیسے کیا یہ تو ناقابل یقین ہے سر ان میں ایسی کیا خاص بات ھے تھوڑے مشکل ضرور تھے لیکن ان کو تو کوئی بھی حل کرسکتا ہے ارے یہ تو وہ سوال تھے وہ تھیورم تھے جن کو سٹیٹسٹک کی ہسٹری میں آج تک کوئی حل نہیں کر سکا سالوں سے ان کا سلوشن کوئی نہیں نکال سکا میں نے صرف سٹوڈنٹ کو یہی بتانے کے لئے ان کو بلیک بورڈ پر نوٹ کیا تھا اور تم ان کو حل کرکے لے آئے ہو یہ تم نے کیسے کیا یہ تو معجزہ ہو گیا ہے یہ تو ناقابل یقین ہے یہ ایک سچا واقعہ ہے جو 1939 میں پیش آیا تھا اس سٹوڈنٹ کا نام George dantzig تھا جو کہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں پڑھتا تھا اور اس کے اسٹیٹسٹک کی کلاس مس ہوگئی تھی اور جو تھیورم جارج نے حل کیے تھے وہ اسٹیٹسٹک تھیورم تھے جن کو آج تک کوئی حل نہیں کر سکا تھا بڑے بڑے قابل لوگ بڑے بڑے پروفیسر ان کا حل نہیں نکال سکے تھے کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ تھیورم سالوں سے کوئی حال نہیں کر سکا تھا انہیں ایک عام سے سٹوڈنٹ نے کیسے حل کر لیا جارج نے یہ اس لیئے کرلیا کہ جس وقت جورج انہیں حل کر رہا تھا اس وقت اس کے پاس کوئی نہیں تھا اسے یہ بتانے کے لئے کہ تو یہ نہیں کر سکتا ارے یہ تو بہت مشکل تھیورم ہیں انہیں سالوں سے کوئی نہیں حل کر سکا تو تم کیسے کر لو گے اسے یہ بتانے والا کوئی نہیں تھا.

    زندگی میں ہم بھی جب کوئی کام کرنے لگتے ہیں کوئی کام کرنے کا سوچتے ہیں وہ آئیڈیا ہمارے ذہن میں آتا ہے تو سامنے سے چار لوگ آ جاتے ہیں ہمیں روکنے کے لیے ارے یہ آئیڈیا تو فضول ہے یہ کام تو فلاپ ہے بڑا ہی مشکل ہے تو نہیں کر سکے گا یہ یہ تجھ سے نہیں ہوگا اس کو تو فلاں نے بھی ٹرائی کیا تھا فلاں نے بھی کیا تھا بڑے قابل لوگ تھے وہ تم سے کئی زیادہ قابل تھے وہ نہیں کر سکے تھے تو تم کیسے کر لو گے تم کس کھیت کی مولی ہو.

    شروعات کرنے سے پہلے ہی وہ ہماری ہمت کو توڑ دیتے ہیں کسی کا اگر کوئی پورا اکسپیرئینس ہے کوئی فیل ہو گیا تھا تو کسی کو اگر ناکامی ملی تھی تو اس سے ہمارا کیا لینا دینا اس کی ناکامی کا ہماری کامیابی سے کیا واسطہ ہو سکتا ہے وہ اپنی کسی غلطی کی وجہ سے فیل ہوا ہوں ہو سکتا ہے اس وقت حالات کچھ اور ہوں ہو سکتا ہے اس کو کوئی موقع نہ ملا ہو یا اس نے موقعے سے فائدہ نہ اٹھایا ہوا اس کے ہم ذمہ دار تو نہیں ہیں وہ نہیں کر سکا تو ہم بھی نہیں کر سکتے یہ کہاں کا اصول ہے اگر آپ خود پر یقین رکھیں گے اپنے اندر کے ڈر کو ختم کریں گے اور لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھرنا چھوڑ دیں گے تو کوئی آپ کو روک نہیں سکتا کیوں کہ جو صرف ٹھان لیتے ہیں وہ صرف اپنے دل کی مانتے ہیں یہ بات یاد رکھنا اگر آپ کو ہارنے کا ڈر ہے تو آپ ضرور ہاریں گے آپ کو جیتنے کا یقین ہے تو آپ ضرور جیتیں گے.

    @Shabi_223

  • پاکستان پنک سالٹ ایک قدرتی اثاثہ . تحریر: محمد کامران

    پاکستان پنک سالٹ ایک قدرتی اثاثہ . تحریر: محمد کامران

    ہمالین نمک قدرتی طور پر پاکستان کو عطا کر دا ایک اثاثہ ہے کیونہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا نمک ہمالین نمک ہے۔
    بہت سے لوگ اس کے نام سے یہ بات اخذ کر لیتے ہیں کہ یہ ہمالیہ سے نکالا جاتا ہوگا لیکن حقیقت میں اسکا ہمالیہ سے کوئی تعلق نہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ گلابی نمک ہے جو صرف اور صرف پاکستان میں ہی پایا جاتا ہے۔ اس کو ہمالیہ کے نام سے منسوب کرنے کے پیچھے ہمارے شریر پڑوسی کا ہاتھ ہے۔ بھارت میں نمک صرف ہمالیہ کے پہاڑوں ڈے ہی نکلتا ہے جو کہ مقدار میں انتہائی کم ہے۔ لیکن عیار بھارتی حکومت نے اس ہمالیہ والی نمک کی کانوں کا استعمال کرتے ہوئے نمک کی ایکسپورٹ کے جملہ حقوق حاصل کر لئے۔ جس کے نتیجے میں پاکستان سے ٹنوں کے حساب سے درآمد ہونے والا گلابی نمک کو بھی بھارت نے ہمالین نمک کا نام دے کر پوری دنیا میں ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیا لیکن ہماری حکومت سوئی رہی۔ بھارت نے باسمتی چاولوں کو بھی خود سے منسوب کیا اور دھڑا دھڑ ایکسپورٹ کی لیکن ہماری حکومت بدستور سوئی رہی۔ خیر اب جا کے کچھ ہوش آیا اور بھاگ دوڑ شروع ہوئی۔

    خیر ہم واپس آتے ہیں گلابی نمک کی طرف۔ یہ روالپنڈی سے تقریباً دو سو کلو میٹر کے فیصلے پر واقع ایک قدیم پہاڑی علاقے کھیوڑا سے نکالا جاتا ہے۔ کھیوڑا دنیا میں دوسری بڑی نمک کی کان ہے۔ جس کے بارے میں بہت سے ماہرین نے لکھا کہ یہ اسکی دریافت سکندر مقدونوی کی فوج نے کی۔ لیکن تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ یہاں پہلی بار کان کنی "جنجوعہ قبیلے ” کی جانب سے 1200ء میں کی گئی۔

    "گلابی نمک دنیا میں سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے”
    یہ جملہ پڑھ کر آپ سب کے ذہن میں یقیناً یہ سوال گردش کر رہا ہوگا کہ کھیوڑا تو دنیا کی دوسری بڑی کان ہے، پہلی بڑی کان کا نمک کیوں زیادہ استعمال نہیں کیا جاتا؟ اسکا جواب ہمالین نمک میں پائی جانے والی قدرتی خصوصیات ہیں۔ سائنسی ماہرین بتاتے ہیں کہ ہمالین نمک سب سے زیادہ خالص نمک ہے اس میں 96% سے 99% تک خالص سوڈیم کلورائیڈ پائی جاتی ہے اور زنک، کیلشیم ،آئرن اور میگنشیم جیسے باقی اجزا کی مقدار ایک فیصد سے بھی کم ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ صحت افزا ہے

    محققین اسکی سائنسی شفاء یابی کی صلاحیتوں کو ثابت کررہے ہیں۔ ہمالین نمک عام نمک سے بہترہے کیونکہ بغیر کسی ملاوٹ کے نمک کی کانوں سے نکالا جاتاہے۔ یہ نمک پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے لیکن کیا ہم نے اسکو اہمیت دی؟
    کیا اسکا صیحح طور پر فائدہ اٹھایا گیا؟ اس کا جواب اس بات میں موجود ہے کہ پاکستان اپنا زیادہ تر نمک انڈیا کو خام مال کی صورت میں برآمد کرتا رہا یے۔ خام مال میں ہمالین نمک کی قیمت بیس روپے کلو سے بھی کم بنتی ہے جب کہ انڈیا اسی نمک کو ٹھوڑی پروسیسنگ اور پیکیجنگ کر کے تقریبا نو سو روپے کلو کے حساب سے پوری دنیا کو برآمد کرتا رہا ہے کرونا سے پہلے تک ہمالین نمک کا سب سے بڑا اکسپورٹر بھارت ہی تھا۔ کرونا جہاں پوری دنیا کے لیے ایک خطرناک اور نقصان کا باعث بنا وہاں پاکستانی ہمالین نمک کے لیے قدرت کی جانب سے ایک محافظ بنا۔

    کرونا کی پہلی لہر کے دوران جہاں سارے بارڈر اور تجارت پر پابندی لگا دی گئی وہاں حکومت کو ہمالین نمک کا بھی خیال آگیا۔
    بھارت کو ہمالین نمک کی ایکسپورٹ پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔
    ایسا لگا سالوں سے سوئی حکومت پاکستان ایک دم جاگ اٹھی ہو۔
    کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان ہمالین نمک کو خود پروسیس کر کے ایکسپوٹ کرے گا اسکے لیے پاکستان کو ہمالین نمک کی پاکستان ٹیگنگ حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔

    حکومت پاکستان نے اپنے اداروں کو ٹیگ کے حصول کے لیے ٹاسک دے دیے۔
    پھر پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (PMDC ) نے پاکستانی ہمالین نمک کو دنیا میں پاکستان کے نام سے رجسٹرڈ کروانے کی ٹھان لی۔
    ماہ اپریل میں ادارے نے Geographical Indications کی رجسٹریشن کی تمام تر ضروریات کو پورا کر لیا تھا۔اب پاکستان ہمالین نمک کی( GI Tagging) لینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ اب وہ دن دور نہیں جب پاکستان قدرتی طور پر عطا کردہ ہمالین نمک جیسی نعمت کا صیحح طور پر فائدہ اٹھائے گا اپنی معیشت کو مظبوط بنائے گااور ہماری مظبوط معیشت ہماری خودمختاری کی ضمانت ہوگی۔ ان شاء الله
    پاکستان پائندہ باد

    Twitter ID @KamranRMKs

  • معاشرہ اور بیٹی . تحریر: ام امیمہ (زہرا )

    معاشرہ اور بیٹی . تحریر: ام امیمہ (زہرا )

    حیدر آباد میں کل قتل ہونے والی چار بچوں کی ماں عینی بلوچ کی ایک تصویر نظر سے گزری خوبصورت لڑکی دلہن کے روپ میں اپنی زندگی میں شامل ہونے والے محرم کے ساتھ خوش و خرم نظر آ رہی ہے ۔ساتھ ہی دوسری تصویر تھی جس میں بتایا جا رہا ہے کے محرم بن کر زندگی میں شامل ہونے والا اس سے جینے کا حق چھین گیا ۔

    یاد رکھیے ! نہ تو یہ واقعہ پہلا ہے نہ ہی آخری لیکن قصور وار کہیں نہ کہیں ہم ہی ہیں ۔ بحثیت معاشرہ ہمارے اپنے قوانین ہیں نہ تو ہم اسلام نہ ہی قانون کے پابند ہیں۔ یہ کیا کہے گا وہ کیا کہے گا بیٹی واپس آ گئی اف اب کیا منہ دکھائیں ۔ ایسی ہزاروں باتیں جبکہ اسلام نے تو عورت کو معتبر کیا ۔ بیٹی کو اسلام نے بہت سے حقوق اور رتبے دیے وہ بیٹی جسے اسلام سے قبل زندہ درگور کیا جاتا تھا اسلام نے اسے وارثت میں حقدار ٹہرایا ۔ بیٹی کے ساتھ حسن سلوک پر بہت سی احادیث ہیں جن میں سے ایک یہ ہے

    مفہوم حدیث ہے !
    ” حضرت انس ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت ہے ”
    نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے فرمایا
    ” جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھے انداز میں پرورش کرے (اور جب شادی کے قابل ہوں تو ان کی شادی کرے ) تو میں اور وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں ملی ہوئی ہیں
    (بحوالہ ترمذی ۔باب ماجاء فی النفقہ علی البنات )

    لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کے ہم نے اسلام اور قانون سے مکمل رو گردانی کی اور اپنی دو اینچ کی مسجد بنا کر بیٹھ گئے ۔
    جہاں بیٹی کی طلاق اور خلع کو ہم نے اپنے ماتھے پر بد نما کلنک سے تعبیر کیا بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ بیٹی کی موت تو قبول کرتا ہے لیکن اگر اس کا شوہر اس پر عرصہ حیات تنگ کر دے تو اسے شوہر سے الگ ہو کر جینے کا حق نہیں دیتا

    بہت افسوسناک لیکن تلخ حقیقت یہ ہے
    ” پہلے بیٹی دفنائی جاتی تھی اور اب بھی بہت سی جگہوں پر ایسا ہو رہا ہے فرق اتنا ہے ۔
    اب بیاہی جاتی ہے ”
    ہم اسلام سے محبت کے دعویدار رسول ﷺ کے عشق میں مر مٹنے والے ان کی تعلیمات سے منحرف کیوں ہوے؟
    کیوں ہم بیٹی بہن ماں کو اسلام کے دیئے گئے اصولوں کے مطابق حقوق نہ دے سکے وارثت میں حصہ تو دور کی بات شادی کر کے گھر سے رخصت کرتے وقت واپس نہ آنے کی تاکید ایسے کرتے ہیں
    کے بیٹی سمجھ جاتی ہے اب یہاں واپسی کی گجائش نہیں
    پھر اگربد قسمتی سے شوہر کے روپ میں ظالم جابر شخص مل جائے تو یا تو ہمت ہار کر زندگی کا خاتمہ کرتی ہے ۔وجہ ؟
    "اخلاقی معاشی جذباتی مدد کا نہ ہونا ”
    یا وہ اس ظالم کے ہاتھوں ماری جاتی ہے

    ہاں ! ایک تیسری قسم لڑکیوں کی جو جرات کرتی ہیں ہار نہیں مانتی اور خود اس ظلم سے چھٹکارا حاصل کرتی ہیں
    لیکن یقین جانئے ۔
    وہ جتنی مضبوط پڑھی لکھی اور کمانے والی ہوں یہ معاشرہ ان کو قدم قدم خون کے آنسو رلاتا ہے وجہ ؟
    ان کی زندگی میں شوہر کا نہ ہونا

    تو خدا راہ آئیے !
    خود سے ابتدا کریں خود کو بدلیں اپنی سوچ بدلیں مردہ بیٹی کے بجائے زندہ بیٹی کو کھلی باہوں سے قبول کریں زندگی نے اگر اسے دھوپ میں لا کھڑا کیا اس کے لئے سایہ دار درخت بن جائیں تاکہ پھر کوئی بیٹی قتل نہ کی جائے آئیں اپنے حصے کا چراغ جلائیں

    @zarasani87

  • "سی پیک اور پاک چین دوستی ” تحریر:لاریب اطہر

    "سی پیک اور پاک چین دوستی ” تحریر:لاریب اطہر

    پاکستان اور چین بیسیوں صدی کے درمیان وجود میں آئے اور تب سے ہی ان دونوں میں آپسی تعلقات استوار ہوئے جو کہ مختلف ادوار کے داؤ پیچ دیکھتے دکھاتے آج اپنے عروج کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ پاکستان اور چین میں ڈپلومیٹک تعلقات تو انیس سو اکاون میں ہی قائم ہو گئے تھے لیکن تب دونوں ممالک اک دوسرے کے ساتھ اتنا ہم آہنگ نہ تھے جس کی وجہ سے ابتدائی سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان کوئی خاص پیش رفت نہ ہوئی۔ دوسری جانب اک بڑی وجہ پاکستان کے مغرب کے ساتھ تعلقات بھی تھے جن کی وجہ سے چین کے ساتھ ابتدائی اک دو عشروں میں بہترین تعلقات استوار نہ ہو سکے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ دونوں ممالک نے اک دوسرے کو مکمل نظرانداز کیا
    کیونکہ انیس سو چھپن میں حسین شہید سہروردی نے پاکستان کا وزیر اعظم ہونے کے ناطے چین کا دورہ کیا اور اسی سال چین کے وزیر اعظم بھی پاکستان کے دورے پر آئے۔ امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے کی وجہ سے پاکستان اور چین میں سرد مہری تھی لیکن پھرایوب خان نے بھی صدر پاکستان کی حثیت سے چین کا دورہ کیا۔
    انیس سو باسٹھ کی انڈیااور چین کے درمیان جنگ کے بعد پاکستان اور چین میں نزدیکیاں بڑھنے لگیں اور اس سے اگلے سال انیس سو تریسٹھ میں دونوں ممالک کے درمیان باؤنڈری ایگریمنٹ ہوا اور مشترکہ بارڈر کی نشاندھی کی گئی۔ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات میں اصل موڑ تب آیا جب پاکستان نے انڈیا کے ساتھ 1965 اور 1971 کی جنگیں لڑیں اور ہمارے نام نہاد حواری نے چالبازی کے ساتھ دھوکہ دیا اور چین نے ہماری مدد کی اور اس کے ساتھ ہی سرد مہری والے تعلقات گرمجوشی میں تبدیل ہوتے گئے۔
    اگر پاکستانی حکمرانوں کے حوالے سے بات کی جائے تو شاید ذوالفقار علی بھٹو پہلا پاکستانی حکمران تھا جس نے چین کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی داغ بیل ڈالی۔ بھٹو نے اپنے دور حکومت میں تین چار بار چین کا دورہ کیا بدلے میں چین نے بھی گرمجوشی دکھائی تو دن بدن تعلقات گہرے ہوتے چلے گئے کہ پھر چاہے سیاسی تعلقات ہوں ،ثقافتی، معاشی ہوں معاشرتی تعلقات، فوجی تعلقات ہوں یا ایٹمی پروگرام سب میں پاکستان اور چین ایسے جڑے جیسے اک ہی سکے کے دو رخ ہوں۔ جہاں پاکستان نے چین کی سلامتی کونسل کی سیٹ پر سپورٹ کیا تو بدلے میں چین نے بھی کشمیر کاز پر پاکستان کا ساتھ دیا۔

    ضیاء الحق بھی ایوب خان کی طرح امریکی پلڑے میں تھے لیکن اس دوران بھی پاکستان اور چین کے تعلقات معمول پر رہے۔ چین نے اپنی معاشی ترقی کا سفر جاری رکھا اور اکیسویں صدی میں اک بڑی معیشت بن کر ابھرا۔ اسی بڑی معیشت کی بنا پر ماضی قریب میں چین نے OBOR ون بیلٹ ون روڈ کے نام سے اک منصوبہ شروع کیا جس کے تحت چین جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے دنیا کو روڈ کے زریعے اک دوسرے سے ملانا چاہتا ہے۔ CPEC بھی اسی منصوبہ کی ایک کڑی ہے یا یوں کہہ لیا جائے کہ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ اسی سی پیک کی بدولت جہاں چین ایک طرف روس سے ہوتا ہوا منگولیا، پاکستان سے گزر کر بحیرہ عرب تک جا پہنچے گا اور وہاں سے آگے مشرق وسطی اور پھر افریقہ کی جانب۔ دوسری جانب چین اسی OBOR کے تحت سنٹرل ایشیاء اور آگے ایورپ تک زمینی راستوں کو وسعت دینا چاہتا۔ اس سارے منصوبے میں سب سے اہم منصوبہ سی پیک کا ہے کیونکہ اسی کی بدولت چین کو جنوب کی طرف پانیوں تک رسائی ہو گی اسی لیے انڈیا اور امریکہ ہر صورت میں سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف عمل ہیں۔
    یہ سی پیک منصوبہ ہے کیا آئیے ذرا اک نظر اس پہ ڈالی جائے۔ ویسے تو سی پیک کا کریڈٹ مشرف بھی لیتا تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی لیتی ہے لیکن اصل میں رسمی طور پر 2013 میں ن لیگ کے دور میں پاکستان اور چین کے درمیان 51 ایم او یوز سائن ہوئے جس کی بدولت چین پاکستان میں چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے نام سے ایک ترقیاتی منصوبہ شروع کرنے جا رہا ہے جس پر بنیادی طور پر 46 ارب امریکی ڈالرز کی لاگت آئے گی۔ یہ منصوبہ اصل میں ایک انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کا منصوبہ ہے جس میں چین کے جنوبی علاقے کاشغر کو پاکستان کے جنوبی علاقے گوادر سے ملایا جا رہا ہے۔ ان 46 ارب ڈالرز میں سے تقریباً 12 ارب ڈالر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ جس میں ہائی ویز، ریلوے لائنز، گوادر پورٹ ڈیویلپمنٹ اور گوادر شہر کی ترقی پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب تقریبا 34 ارب امریکی ڈالر انرجی منصوبے پر خرچ ہوں گے۔ ہائی ویز میں اسلام آباد سے لیکر گوادر تک مختلف نئے روڈز بنائے جائیں گے جو پاکستان کے تمام صوبوں میں سے ہو کر گوادر تک پہنچیں گے۔ جہاں سی پیک کے پاکستان کے لیے بہت فوائد ہیں وہیں یہ منصوبہ چین کے لیے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ چین تقریباً اپنا 80 فیصد تیل مڈل ایسٹ سے منگواتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خام مال بھی افریقی ممالک سے حاصل کرتا ہے جس کے لیے اسے یہ مال لے کر انڈین اوشن میں سے گز کر آبنائے ملاکہ میں سے ہوتے ہوئے آگے ساؤتھ چائنہ سی میں سے گزرتے ہوئے اپنے ملک پہنچتا ہے۔ اس سارے پراسیس میں اسے 15 ہزار سے 16 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور ساتھ میں ان ممالک کی حدود میں سے بھی گزرنا پڑتا ہے جس کے ساتھ چین کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ جبکہ دوسری جانب سی پیک کی بدولت چین کو 10سے 11 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ کم ہو کر 5 سے 6 ہزار کلومیٹر تک پڑتا ہے اور جو مال آبنائے ملاکہ سے چین تین ماہ میں پہنچتا تھا وہ اسے ایک ماہ میں مل جائے گا اور اس میں چین کو صرف ایک ملک پاکستان کی حدود میں سے گزرنا پڑے گا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات اس کے پہلے سے ہی اچھے ہیں۔

    سی پیک کو اگر ریجنل ویو کے مطابق دیکھا جائے تو جنوبی ایشیاء میں اس وقت دو متحارب بلاک ہیں جس میں ایک پاکستان-چین جبکہ دوسرا انڈیا-امریکہ۔ ان دونوں گروہوں میں ایک جنوبی ایشیائی ملک ہے جبکہ دوسرا غیر جنوبی ایشیائی۔ چین تو خیر پھر بھی ان دونوں بڑے جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنی سرحد شیر کرتا ہے جبکہ امریکہ تو سات سمندر پار ہے۔ امریکہ اور انڈیا دونوں ممالک چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے پریشان ہیں امریکہ چین کو عالمی پس منظر میں دیکھتا ہے جبکہ انڈیا جنوبی ایشیاء کے حوالے سے۔ پاکستان اور چین کا سی پیک جیسا گیم چینجر منصوبہ شروع کرنا ان دونوں کے لیے جلتی پر تیل کے مانند ہے
    ۔ امریکہ اور اس کے حواری بالخصوص یورپ، اور انڈیا اس منصوبے کو ہر حال میں سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس اکنامک کوریڈور کو اک عسکری کوریڈور بنا کر دنیا میں پیش کر رہے ہیں۔ حالیہ جی سیون کے اجلاس کا مین مدعا بھی چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا تھا۔

    امریکہ ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ کم از کم پاکستان کو ہی سی پیک سے باز رکھا جائے جس کے لیے وہ ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن جب کسی جانب دال نہ گلی تو دونوں ممالک میں نفرت کا بیج پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عمران خان کے امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں جب امریکہ کو نہ کہی تو اینکر پرسن نے پینترا بدلتے ہوئے چین میں موجود ایگور مسلمانوں کا ایشو اٹھا لیا جس کو عمران خان نے عمدہ طریقے سے ہینڈل کیا جیسے لمحہ موجود میں کرنا چاہیے تھا۔
    قصہ مختصر یہ کہ پاکستان چین کی جو دوستی 1951 میں شروع ہوئی تھی ٹھیک ستر سال بعد اپنے نقطہء عروج پر پہنچ چکی ہے اور جیسے اک شہر یا گاؤں میں دشمنوں کو ایسی دوستی ایک آنکھ نہیں بھاتی بالکل اسی طرح امریکہ انڈیا اور ان کی حواریوں کو بھی پاکستان اور چین کی یہ دوستی بہت کھنکتی ہے۔ اب دشمن آئے روز کوئی نہ کوئی چال چل رہا ہے کہ کسی طرح پاکستان اور چین میں چپقلش پیدا کی جائے۔ وہ ہر بار منہ کی کھاتا ہے اور ہر بار ایک نئے منصوبے کے ساتھ آتا ہے۔
    داسو ڈیم کے قریب چینی عملے پر ہونے والا حملہ بھی اسی چال کی اک کڑی ہے۔ اب پاکستان اور چین پر منحصر ہے کہ وہ کیسے ان سب چالوں کو ناکام کرتے ہوئے سی پیک کو مکمل کرتے ہیں۔

  • ‏عرض پاک کے سوداگر . تحریر : محمّد وقاص

    ‏عرض پاک کے سوداگر . تحریر : محمّد وقاص

    سابقہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی کتاب “دی اوریجنل فیس آف پاکستان “میں انکشاف کیا ہے کہ اگر نواز شریف تین سال اور حکومت کر جاتا تو اس سے پاکستان خرید لیا جاتا۔ مزید براں ٹرمپ نے لکھا ہے کہ نواز شریف پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی جاسوسی کیلئے امریکہ کے ساتھ پچاس ارب ڈالرز کا معاہدہ کرنے والا تھا۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف صاحب جو کہ تین دفعہ وازارت عظمیٰ کے مرتکب پر فیض پائیے مگر میاں نواز شریف کا ماضی پاکستان مخالف بیانئیے کی عکاسی کرتا ہے میاں نواز شریف کے اس بیانئیے نے بھی وطن پاکستان کی ساخت کو نقصان پہنچایا کہ ممبئی حملے پاکستان نے کروائے ہیں۔

    اسکے علاوہ جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کارگل کے محاذ پر جموں کشمیر کے کافی حصے پر اپنے پاؤں جما لئے تھے اور بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا تو تب میاں نواز شریف نے افوج پاکستان کو واپس آنے کو کہا جس کے نتیجے میں لاکھوں گھروں کے چراغ گل ہو گے بہت سے فوجی جوان شہید ہوگے۔ اسکے بعد جب دنیا بھر میں پاناما کا سکینڈل سامنے آیا تب جناب کا نام سرفہرست تھا اس وقت نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم تھے اپوزیشن نے مطالبہ کیا انکا احتساب ہونا چاہیے جس میں سے سب سے زیادہ کاوش جناب عمران خان صاحب کی تھی اجنہوں نے خود کو بھی احتساب کے لئے پیش کر دیا جب عدالت میں کیس لگا تو نواز شریف صاحب عدالت میں آمدن سے زائداثاثہ جات میں عدالت کو ثبوت فراہم نہ کر سکے اور ان پر ایون فیلڈ فلیٹس کا بھی کیس تھا عدالت نے ذرائع پوچھے تو میاں نواز شریف صاحب عدالت میں ثبوت جمع نہ کروا سکے جس میں وہ مجرم قرار پائے اور ان پر فرد جرم عائد ہو گیا۔
    دوسری طرف عمران خان نیازی صاحب عدالت میں تمام ثبوت فراہم کر کے عدالت سے صادق ال آمین قرار پائے۔

    جناب نواز شریف سزا کاٹ رہے تھے تو انکی طبیعت میں بیگاڑ پیدا ہوا اور انکے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا ان کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے پھر عدالت سے طبی بنیاد پر چار ہفتے کے لئے ٹائم لیا گیا اور وہ لندن چلے گے وہاں جا کر میاں صاحب نے نہ اپنا علاج کروایا نہ کوئی میڈیسن لی اور اب انہی ایون فیلڈ میں موجود ہیں جو منی لانڈرنگ سے خریدے گے اور پاکستان میں وہ اشتہاری ہے اور لندن میں اپنی شہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ پچھلے 10 سال میں جس بے دردی سے بڑے بڑے قرض لے کر اجاڑے گئے، 60 سالوں میں قرض 6 ہزار ارب اور صرف 10 سالوں میں 24 ہزار ارب قرض لیا بات تو سچ ھی لگتی ہے۔ ٹرمپ کی.
    اللّه پاک ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے اور ملک دشمن قوتوں کو زیر کرے آمین .
    پاکستان زندہ آباد

    @M_Waqas_786

  • جھوٹ ۔ تحریر: ہما ہادی

    جھوٹ ۔ تحریر: ہما ہادی

    معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی۔۔۔۔!!!

    معاشرے میں ہر برائی جھوٹ سے شروع ہوتی ہے
    اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ اصل چیز جو اس برائی کے پیچھے کار فرما ہے وہ جھوٹ ہی تو ہیں
    اگر بچے والدین کیساتھ اور اپنے بڑے بہن بھائیوں کیساتھ سچ بولنا شروع کرے تو کوئی بھی زانی نہیں بن سکتا نہ کوئی سمگلر ، نہ غنڈہ اور نہ ہی نشئی ایک دفعہ ایک شحص حضرت محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا مجھے بہت سی برائیوں کی عادت ہے
    حضرت محمّدﷺ کے استفسار پر کہا میں چوری کرتا ہوں ، زنا کرتا ہوں شراب پیتا ہوں اور بھی بہت سی برائیاں ہے حضرت محمّدﷺ نے اسے جھوٹ چھوڑنے کی نصیحت کر کے رخصت کر دیا اور ایک جھوٹ کو چھوڑنے کی بناء پر اس شخص کی تمام بری عادتیں چوٹ گئی کیونکہ اس نے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کیا تھا اور اگر وہ سچ بولتا تو سچ اسکے لئے شرمندگی کا باعث بن جاتا ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کا فرمان ہے ”

    میرا امتی ہر گناہ کرسکتا ہے لیکن کبھی کسی کو دھوکا نہیں دے گا اور جھوٹ نہیں بولے گے”
    افسوس کا مقام ہے کہ ہم وہی جھوٹ دھوکہ و فریب سے کام لیتے ہیں
    جس بات کی نہ کرنے کی امید سرور کونینﷺ نے ہم سے رکھی اب ہم وہی کر رہے ہیں
    روزانہ کے لین دین میں جھوٹ بولتے ہیں ایک لمحے کے لئے یہ نہیں سوچتے کہ ہم جس کے امتی ہیں اس عظیم ہستی نے ہم سے کیا کیا امیدیں وابستہ کی ہے؟ جہاں ہمیں یہ لگا کہ سچ بولنے میں نقصان ہوگا تو ہم بلا جھجک جھوٹ بول لیتے ہیں اور پھر اسی جھوٹ کے لئے اور سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں جھوٹ سے انسان اعلیٰ اخلاق کے درجے پر فائز نہیں ہوگا بلکہ معاشرے میں جوبگاڑ پیدا ہوتی ہے اس میں یہ جھوٹ سر فہرست ہے جھوٹ معاشرے میں رونما ہونے والی ہر برائی کی جڑ ہے.

    دکانداروں کی کبھی قیمتوں پر تو کبھی کوالٹی پر جھوٹی قسمیں ہوتی ہے عدالتوں میں جھوٹ بولنا جیسے پاکستانی وکیلوں اور گواہوں کے لئے ایک لازمی چیز بن گئی ہے جسکے نتیجے میں جج کے فیصلے سے حق دار اپنے حق سے محروم ہو جاتا ہے تعلیمی اداروں میں جھوٹ کی جعلی ڈگریاں دینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے بلکہ جی یہ تو انکا حق ہے جو یہ ایک اھل بندے سے چھین کے نا اھل کے ہاتھوں میں سونپ رہے ہیں کچھ لوگ ایک چھٹی کے لئے مختلف جھوٹ بولتے ہے بلکہ کبھی تو حد ہی کر دیتے ہیں زندہ انسان کو مار دیتے ہیں یا پھر مرے ہوئے انسان کو دوسری دفعہ مار دیتے ہیں کچھ لوگ دیر سے پہنچنے پر آرام سے جھوٹ بول لیتے ہیں مختلف اداروں میں وہاں کے ماحول کو مدنظر رکھ کر بہت سے جھوٹ بولے جاتے ہے حلانکہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے
    اور جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ ہے.

    لیکن انکو جب کسی نے بتایا ہوگا تب پتہ چلے گا کہ جھوٹ گناہ کبیرہ ہے جھوٹ سے ہمیں اپنے معاشرے میں زیادہ تر بگڑے ہوئے لوگ ہی ملے گے بچپن سے جب بچے جھوٹ بولنا شروع کرے تو یہ جھوٹ انکی فطرت بن جاتی ہے اور فطرت ناقابلِ تغیر ہے بچوں کو اگر بچپن میں یہ بات سمجھائی جائے کہ چاہے کچھ بھی ہو جتنا بھی نقصان ہو سچ بولنے میں ، تو ہونے دو لیکن جھوٹ نہیں بولنا تو یقین مانے جو ماں باپ پھر یہ رونا روتے ہے کہ میرا بیٹا یا بیٹی غلط کاموں میں پڑ گئے یہ ہر گز نہیں ہوگا کیونکہ جب کبھی ماں باپ اس سے کسی بھی بات کے متعلق پوچھے گے تو وہ بات کو اِدھر اُدھر کرنے کے بجائے سچ بولیں گے جھوٹ سے اجتناب کی بدولت وہ شرمندگی کی ڈر سے کسی غلط کام کا نہیں سوچے گا کیونکہ جھوٹ ایک دو باتوں پر مشتمل نہیں ہوتا بلکہ ایک جھوٹ انسان کی زندگی کو برباد کرنے کا سبب بنتی ہے
    جس بات کے لئے حضرت محمّدﷺ نے منع فرمایا آج کے دور میں یہ ایک عام بات ہے ہربندہ روزانہ کے حساب سے نجانے کتنا جھوٹ بولتے ہیں کبھی یہ سوچا ہے کہ ہم روز محشر کس منہ سے اپنے پیغمبر پاک کے سامنے جائیں گے ہم تو ہر دعا میں حضرت محمّدﷺ کی شفاعت مانگتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ہم کر کیا رہے ہیں؟

    جو طریقے پیغمبر پاک نے بتائیں ہیں کیا ہم اسکے مطابق زندگی گزار رہے ہیں؟ اگر ہم انکے بتائیں ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی گزاریں گے تو کیا ہمیں روز محشر انکی شفاعت نصیب نہیں ہوگی؟ ہم انسانوں کے کام اتنے خراب ہے ہمیں تو جھوٹ گناہ ہے والی بات اس وقت یاد آتی ہے جہاں جھوٹ بولنے کا ثواب ملتا ہو ایک گھرانے کو بچانے کے لئے جب سب کچھ بکھرنے والا ہو تو ہم وہاں زرہ برابر جھوٹ نہ بولے کہ یہ تو گناہ ہے حسد بعض میں ایک دوسرے کو نیچا ثابت کرنے کے لئے ہی تو جھوٹ بولتے ہیں کبھی کسی کی بھلائی کے لئے جھوٹ بولتے ہوئے ہمیں یہ یاد آ جاتا ہے کہ جھوٹ گناہ کبیرہ ہے وہ جو دن میں ہم کبھی ماں باپ سے کبھی بہن بھائیوں سے کبھی کسی عزیز رشتے دار سے جھوٹ کے بہانے کر کے جان چھڑاتے ہیں اس وقت وہ جھوٹ جھوٹ نہیں ثواب ہے تو بس ہمارا اللّٰہ ہی مالک ہے
    اللّٰہ پاک ہم سب کو سچ بولنے اور سچ کی راہ پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے.
    {آمین ثمہ آمین}

    @honeykhan_11

  • پاکستان اوراس کی خوبصورتی . تحریر : حسیب احمد

    پاکستان اوراس کی خوبصورتی . تحریر : حسیب احمد

    پاکستان قدرتی وسائل اوررنگوں سے بھرپور ہے، پاکستان میں دیگر ممالک کے مقابلے بہت ساری حسیں نظارے ہیں، یہاں ہمارے پاس برف پوش پہاڑ اور رنگوں سے بھرے ہوئے چشمے، دل فریب جنگلات اور پرکشش صحرا۔۔!! پاکستان وہ ملک ہے جہاں کے سیاح ہر سال موسم سرما اور موسم گرما میں موسم کے مطابق شمالی علاقہ جات کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستان میں بہت ساری حسیں وادیوں کے ساتھ ساتھ کچھ تاریخی مقامات جیسے "موئن جو دارو” اور "ہڑپہ” اور ایسے بہت سے مقامات جو پاکستان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ پاکستان کے قدرتی وسائل اتنے ہیں کہ ہمیں باہر گھومنے پھرنے کی ضرورت نہیں۔ یقین جانیں پاکستان کا اگر آپ بائی روڈ سفر کریں گے تو وہ حسیں اور پرکشش وادیوں کا نظارہ کرسکتے ہیں جن کو دیکھنے کے لیے ہم باہر جاتے ہیں۔

    سربزو شاداب اور گھنے درخت و جنگلات خوبصورتی کا ایسا روپ ہیں جس کا کوئی نیم البدل نہیں۔ سوچئے اگر دنیا بھر میں بھر میں یہ قدرتی ذخائر ختم کردیئے جائیں تو ہماری دنیا کیسی لگے گی؟؟ کیا ہم زندہ رہ سکتے ہیں ان کے بغیر؟؟ یقین کریں یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی بالوں والے شخص کے سر سے بال ختم کردیئے جائیں تو وہ کیسا لگے گا۔
    دریا، سمندر، پہاڑ، درخت، جھیلیں، ندیاں، جنگلات اور صحرا۔۔۔۔ یہ سب کسی بھی علاقے کا خوبصورت و قدرتی حسن ہیں اور پاکستان بھی اس حسن سے مالا مال ہے۔

    اللہ تعالٰی نے پاکستان کو بہت خوبصورت تحفہ ان قدرتی وسائل کی صورت میں دیا ہے اس کو بربادی کی طرف نا لے جائیں۔ ان قدرتی وسائل اور رنگوں سے دل فریب چیزوں کی حفاظت کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو خوبصورت اور پرنور پاکستان کا تحفہ دیں اور اگر آج آپ ان وسائل کی ترقی و حفاظت کریں گے تو آپ کی نسلیں بھی سیکھیں گی اور پھر پاکستان ان وسائل سے ہمیشہ مالا مال رہے گا اور ایسا وقت آئے گا باہر کے لوگ یہاں ہمارے وسائل اور قدرتی چیزوں پر پیسا خرچ کریں گے جس سے پاکستان کا ریونیو بڑھے گا اور پاکستان اپنے ان وسائل کی وجہ سے اپنے آپ مضبوط بنانے میں کامیاب ہوگا۔

    اس کی حفاظت کریں اور اس پر توجہ مرکوز کریں تاکہ یہ قدرتی اثاثے محفوظ رہیں اور ہمیشہ پاکستان کو اپنے حسن سے خوشبودار اور خوبصورت رکھے۔ پاکستان وہ خوبصورت سرزمین ہے جہاں چاروں موسموں کا مزہ اپنے اپنے انداز میں لیا جاتا ہے۔
    ہمیں بھی دیگر قوموں کی طرح اپنے وسائل اور ان قدرتی چیزوں کا محافظ بننا ہے.

    @JaanbazHaseeb

  • ‏دروازے کے دکھ . تحریر:عمرخان

    ‏دروازے کے دکھ . تحریر:عمرخان

    چائے کا کپ ہاتھ میں لئے جب میں چھت پے بیٹھ کر غروب ہوتے سورج کو دیکھتا ہوں تو اداس ہو جاتا ہوں وجہ یہ نہیں ہوتی کہ سورج کیوں غروب ہو رہا ہے وجہ یہ ہوتی ہے کہ کل جب نیا دن نکلے گا تو کیا وہ وہی اداسی لے کر آئے گا جو پہلے ہی لاکھوں لوگوں کے گھروں میں گھر کر چکی ہے ؟
    میری بات کا شاید کوئی مطلب نہ سمجھ پایا ہو، تو چلو میں سمجھا دیتا ہوں.

    ہم روز کئی حادثات دیکھتے ہیں اخبارات پڑھتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر بھی ہر روز نئی سے نئی خبر چل رہی ہوتی ہے کہ آج فلاں مر گیا.
    کیا کبھی سوچا ہے کہ وہ دکھ وہ تکلیف جو دوسرے برداشت کر رہے ہوتے ہیں خدانحواستہ ہمارے ساتھ بھی ہو سکتی ہے, کیونکہ مرنا تو ہر کسی نے ہے.موت تو برحق ہے تو پھر کیوں نہ ہم دوسروں کی تکلیف کو اپنی سمجھیں تاکہ معاشرے میں احساس باقی رہ سکے.
    پہلے ادوار کے معاشرے اللہ اور رسول اللہ کے قوانین کے مطابق چلتے تھے .لیکن آج کل کا معاشرہ صرف سوشل میڈیا کے مطابق چلتا ہے.
    پہلے قاضی اور انصاف نافذ کرنے والے ادارے اللہ سے ڈرتے تھے, لیکن آج کل کے قاضی اور انصاف نافذ کرنے والے ادارے سوشل میڈیا سے ڈرتے ہیں.

    کچھ چیزیں ہمارے معاشرے میں بہت ناپید ہو چکی ہیں جیسا کہ احساس، برداشت، عزت, صبر، اتفاق اور اخترام اور بہت کچھ.
    سوچتا ہوں معاشرہ کس ڈگر چل پڑا ہے ؟لوگوں نے جانا کہاں ہے ؟لوگوں کی منزل کہاں ہے ؟
    تو جواب خاضر ہے قبر, ہاں قبر ہی ہم سب کی منزل ہے. اور موت ہی اس معاشرے کی حقیقت ہے.
    اگر انسان بچ کر نکلنا بھی چاہے تو نہیں نکل سکتا کیونکہ یہی ہمارے دروازے کا دکھ ہے. اور اس دکھ سے کوئی نہیں بچ سکتا.
    افسوس کہ آج چائے پھر ٹھنڈی ہو گئی اور سورج پھر پوری طاقت کے ساتھ غروب ہو گیا ,اور سورج نے پھر مجھے موت کے سامنے مات دے دی.

    ‎@U4_Umer_

  • “ جادو ٹونے اور دم دعا “تحریر۔ جواد خان یوسفزئی

    “ جادو ٹونے اور دم دعا “تحریر۔ جواد خان یوسفزئی

    جادو کی حرمت قران و حدیث سے ثابت ہے۔لیکن کیا عمل جادو ہے اور کیا نہیں، یہ چیز ہمیشہ موضوع بحث رہی ہے۔ کچھ لوگ سفلی اور علوی اعمال کے نام سے اس کو حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    جادو جیسے اعمال تقریباً ہر معاشرے میں موجود رہے ہیں اور بیشتر مذاہب میں اسے نا پسندیدہ سمجھا گیا ہے۔لیکن جادو کو مذہب سے الگ کرنا بھی ایک مشکل عمل رہا ہے کیونکہ بہت سے مذاہب میں جادو جیسے اعمال شامل ہیں۔مذہب اور جادو کی ایک تعریف ماہرین بشریات کچھ یوں کرتے ہیں:
    "مذہب اپنے آپ کو کسی مافوق الفطرت طاقت کے تابع بنانے کا نام ہے جب کہ جادو کسی ما فوق الفطرت طاقت کو قابو میں لا کر اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کا”۔
    اسلام بطور مذہب اس تعریف پر بالکل پورا اترتا ہے کیونکہ اسلام کے معنی ہی اطاعت تسلیم کرنے کے ہیں۔ جادو کی مذکورہ تعریف بھی اسلام کے نقطہ نظر سے زیادہ مختلف نہیں۔خود جادو کے اعمال کرنے والے بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جن بھوت، ہمزاد اور شیاطین وغیرہ کو قابو کرکے ان سے مادی فوائد حاصل کرتے ہیں۔
    جب کوئی اس قسم کی کوشش کرتا ہے تو وہ اسلام کے نزدیک مبعوض ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے کس قسم کے یا کس زبان کے کلمات استعمال کرتا ہے۔ قران مجید میں جادو ٹونے اور فال گیری وغیرہ کو بلا استثنیٰ حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کی کسی حلال قسم کا ذکر نہیں۔

    قران مجید میں جادو کا ذکر ایک تو سورہ بقرہ میں ہے جہاں اس گمراہ کن خیال کی تردید کی گئی ہے کہ حضرت سلیمان کا جادو ٹونے سے کوئی تعلق تھا۔واضح کیا گیا ہے کہ جادو کفر اور شیاطین کا کام ہے، خدا کا پیعمبر کفریہ کام کیسے کر سکتے تھے۔ اور جو دو فرشتے کچھ ایسے اعمال لوگوں کو بتاتے تھے تو وہ واضح کرتے تھے کہ یہ غلط کام ہے اور تمہاری آزمائش کے لیے ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ قران کی اس قدر وضاحت کے باوجود اب بھی جادو ٹونا کرنے والے سلیمانؑ کا نام کسی نہ کسی طریقے سے اس معاملے سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    اس کے علاوہ قران مجید کی آخری دو سورتوں میں جادو کرنے والوں کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔سورہ فلق میں جھاڑ پھونک کرنے والوں اور سورہ الناس میں وسوسہ ڈالنے والے جنی اور انسی شیاطین کے شر سے بناہ مانگنے کا حکم ہے۔
    سورہ بقرہ کی آیات کو معوذتین سے ملا کر پڑھنے سے جادو ٹونے کے بارے میں کچھ یوں صورت حال سامنے آتی ہے:

    جادو ٹونا ایک شیطانی عمل ہے جس کا کام انسانوں کو خدا سے دور کرنا ہے۔ کوئی پیعمبر(اور اس کا ماننے والا) ایسا کوئی کام نہیں کرسکتا۔ جنی اور انسی شیاطین یہ کام انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ جنی شیاطین انسانوں میں سے اپنے ایجنٹ بھرتی کرتے ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو جادو ٹونے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جادو ٹونا اور دم دعا کرنے والے یہی ایجنٹ ہیں۔ جنی شیاطین اپنے ایجنٹوں کو چھوٹی موٹی اطلاعات پہنچاتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً آپ کسی عامل کے پاس جائیں گے تو وہ آپ کو کچھ ایسی باتیں بتائے گا جو آپ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں۔ یہ باتیں جنی شیطان اسے پہنچاتا ہے۔ ان شیاطین کا ایک وسیع نیٹ ورک ہوتا ہے جو دور دراز تک کام کرتے ہیں۔ لیکن ان کا دائرہ کار بہت محدود ہوتا ہے۔ وہ کسی کو نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔
    بس وسوسہ ڈال کر گمراہ کر سکتے ہیں۔