Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مصائب اور اسکا مقابلہ .تحریر : ریحانہ بی بی

    مصائب اور اسکا مقابلہ .تحریر : ریحانہ بی بی

    انسانی زندگی میں خوشی اور غم کا عجیب سنگم ہے, کبھی بہت زیادہ خوشی اور کبھی کوئی مصیبت…
    پہلی بات یہ ہے کہ اگر زندگی میں دکھ نہ ہو تو خوشی کا احساس بھی نہیں ہوتا. زندگی اپنی تمام تر خوشیوں اور غموں کے ساتھ, پھول کے ساتھ کانٹے, دھوپ کے ساتھ چھاؤں کا حسین امتزاج ہے. البتہ خوشی کے لمحات غیر محسوس طریقے سے گزر جاتے ہیں.
    اس دنیا میں کبھی بھی انسان کو دائمی خوشی حاصل ہے نہ دائمی غم. یہ سلسلہ ہر انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے کوئی اس سے خالی نہیں. پر جب کسی پہ پریشانیوں کا سلسلہ دراز ہوجاتا ہے تو وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیا کی ساری مصیبتیں اسی کو مل رہی ہیں..
    ہم میں سے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ان مشکلات سے بددل ہوجاتے ہیں کہ انکی زندگی آ زمائشوں کا مجموعہ بن گئی ہے, وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ انکی قسمت ہی ایسی بنائی گئی ہے…… مگر یاد رکھیں اللہ کے نبی کا ارشاد ہے کہ :
    لوگوں میں سب سے زیادہ مصائب اور آ زمائش انبیاء کو پہنچے, پھر نیک و صالح لوگوں کو پھر جو اُن سے زیادہ مشابہت رکھنے والے انکو.
    حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آ زمائش کس کی ہوتی ہے ؟
    آ پ نے فرمایا انبیاء کی, پھر صالحین کی کی.
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ جب کسی قوم کو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے تو اسے آ زمائش میں ڈالتا ہے. بندہ جب اس پر راضی رہتا ہے تو اللہ اس سے راضی و خوش ہوجاتا ہے.
    اس حدیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ محض بیماری, پریشانی, آزمائش, سزا نہیں بلکہ اُس آ زمائش پر صبر نہ کرنے میں ہے.
    حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ جب اپنے بندے کے ساتھ خیر کا معاملہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا ہی میں جلدی سزا دے دیتا ہے اور اگر اللہ اپنے بندے کے ساتھ خیر کرنا نہیں چاہتا تو اسکے گناہوں کے باوجود اسکی گرفت نہیں کرتا, پھر قیامت کے دن اسکا بدلہ دیتا ہے.

    ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ ہمیں مصائب و آ زمائش میں کس طرح رہنا ہے , اس سے کس طرح نمٹنا چاہئے.
    منفی انداز اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ منفی طرزعمل بندے کو اللہ سے دور کر دیتا ہے.
    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جو کسی نہ کسی طرح کی آ زمائش میں مبتلا نہ ہو ہاں اسکی نوعیت الگ الگ ضرور ہوتی ہے.
    میری اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو مصائب کیوں درپیش ہوتے ہیں اور انکا مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے.
    انسان مصائب کا مقابلہ صبر سے کرے. اس میں کوئی شک نہیں کہ اسکے مصائب نعمتوں سے بدل جائیں اور نعمتوں کی حفاظت شکر ادا کرکے کریں.

  • عیب پوشی . تحریر:عائشہ شاہد

    عیب پوشی . تحریر:عائشہ شاہد

    "ﺣﺎﻝِ ﺩﻝ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ سب ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ
    ﻗﺼﮧ ﻏﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮈﮬﻮﻟﮏ ﮐﯽ ﺗﮭﺎﭖ ﮐﮩﺘﮯ هیں.”

    ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ !!
    ( جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا ) (بخاری و مسلم)

    یہاں میں ہم سب کی رہنمائی کے لیے ایک واقع شئیرکرنا چاہوں گی کسی ملک میں ایک نہایت ہی انصاف پسند اورعوام کے دکھ درد بانٹنے والا بادشاہ رہتا تھا مگرجسمانی طورپرایک ٹانگ اورایک آنکھ سے محروم تھا ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہرمصوروں کواپنی تصویربنوانے کیلئے بلوا لیا اوروہ بھی اس شرط پرکہ تصویرمیں اُس کے یہ عیوب نہ دکھائی دیں۔ سارے کے سارے مصوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکارکردیا اوروہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویربناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ہی ایک آنکھ سے محروم اوروہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پرکھڑا ہوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سے بھی معزورتھا.

    لیکن اس اجتماعی انکارمیں ایک نہایت ہی ہوشیارمصورنے کہا :
    بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپ کی تصویراورجب تصویرتیارہوئی تو اپنی خوبصورتی میں ایک مثال اورشاہکار تھی۔

    وہ کیسے؟؟
    تصویرمیں بادشاہ شکارکرتا دیکھائی دے رہا تھا ہاتھ میں تیرکمان تھا اوروہ گھوڑے پرسوارتھا اورشکار کرتے ہوئے اس نے ایک آنکھ بند کر رکھی تھی جس آنکھ سے وہ محروم تھا اورجس ٹانگ سے وہ معزورتھا وہ ٹانگ گھوڑے کے دوسری جانب تھی جوکہ دیکھائی نہ دیتی تھی
    اوراس طرح بڑی آسانی سے ہی بادشاہ کی بے عیب تصویرتیارہوگئی تھی بادشاہ نےاس مصورکو اس عیب پوشی پربے انتہا انعام سے نوازا۔

    یہ صرف کہانی نہیں بلکہ ایک سبق ہے کیوں کہ ہم بھی اِسی طرح دوسروں کی بے عیب تصویربنا لیا کریں اوراپنے رب کریم سے انعامات حاصل کیا کریں آج اس نفسا نفسی کے دور میں ہر ایک دوسرے میں مصروف ہے حالانکہ ہمارے اندر بھی بے شمارعیب موجود ہیں۔ آج ہم دوسرے مسلمانوں کے عیوب پرپردہ ڈالیں گے کل ان شاء اللہ رب رحیم ہمارے عیوب سے درگزر فرمائے گا۔ تو آج سے کوشش کریں دوسرے کے عیبوں کو چھپایا کریں گے خواہ ان کے عیب کتنے ہی واضح ہی نظر آ رہے ہوں اورجب بھی لوگوں کی تصویر دوسروں کے سامنے پیش کیا کریں اُن کے عیبوں کی پردہ پوشی کریں گے کیونکہ انبیاء کے علاوہ کوئی شخص بھی عیبوں سے خالی نہیں بے شک

    اے انسان یہ جان لوتم کسی بشرمیں ہزارخامی اگرجودیکھو تو چپ ہی رہنا کسی بشرکا جو راز پاؤ یا عیب دیکھوتو چپ ہی رہنا اگرمنادی کو لوگ آئیں تمہیں کوئی کُریدیں یا تمہیں منائیں تمہاری ہستی کے گیت گائیں تمہیں کہیں کہ بشرمیں دیکھی برائیوں کو بیان کردو تو چپ ہی رہنا
    جواز یہ ہے دلیل یہ ہے
    ضعیف لمحوں کی لغزشوں کو
    بے محر ناطے کی قربتوں کو
    ہماری ساری حماقتوں کو
    ہماری ساری خباثتوں کو
    وہ جانتا ہے
    وہ دیکھتا ہے
    مگر وہ چپ ہے
    اگر وہ چپ ہے
    تو میری مانو
    وہ کہہ رہا ہے
    چپ ہی رہنا

    @BinteChinte

  • معلم علم دیتا ہے . تحریر: صاحبزادہ ملک حسنین

    معلم علم دیتا ہے . تحریر: صاحبزادہ ملک حسنین

    بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے دوسری درسگاہ اساتذہ کی تربیت ہے "معلم” یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب سکھانے والا ہے معلم قوم کا معمارہوتے ہیں معلم وہ ہے جوبے ادب کو باادب اور بے ہنرکو باہنرکردے معلم کا کردارصرف کلاس کی چاردیواری تک محدود نہیں بلکہ قوم کی ذہنی واخلاقی تربیت میں بھی موجود ہے یہ معلم ہی ہے جو طلبہ میں اخوت، مساوات، بھائی چارہ اورجذبہ حب الوطنی پیدا کرتا ہے معلم ہی طلباء میں شخصیت سازی اورکردارسازی کی بنیاد ڈالتا ہے معلم ہی نے اس دنیا کوعظیم مفکرین ماہرین دیے ”

    معلم بادشاہ نہیں ہوتا مگر وہ اپنے طلبا کو بادشاہ بناسکتا ہے معلم انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا! میں دنیا میں ایک معلم بنا کربھیجا گیا ہوں عظیم مفکر روسوں کہتا ہے کہ بچہ ایک کھلی کتاب ہوتا ہے اوراس کے ہرورق کو پڑھنا معلم کے لیے لازمی ہوتا ہے معلم ایک ایسا زینہ ہے جو خود تو ہمیشہ اپنی جگہ پررہتا ہے لیکن اس کے سہارے ہزاروں لاکھوں لوگ بلندیوں کی طرف بڑھ جاتے ہیں معلم اپنے ہنراپنے فن اوراپنے علم کو طلبہ تک ایسے ہی پہنچاتا ہے جیسے ایک پرندہ اپنے بچے کے منہ میں دانہ ڈالتا ہے اسی لیے ہزاروں سالوں سے معلم کو عزت احترام اورتکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے فاتح عالم سکندرایک مرتبہ اپنے استاد ارسطو کے ساتھ جنگل میں سے گزررہا تھا کہ راستے میں ایک بڑا برساتی نالہ آگیا نالہ بارش کی وجہ سے نالہ طغیانی پرآیا ہوا تھا استاد اورشاگرد دونوں بضد تھے کہ پہلے نالہ کون پارکرے گا آخرکار ارسطو نے سکندرکی بات مان لی سکندرنے پہلے نالہ پار کیا اور پھرارسطو نے نالہ پار کرکے سکندر کوکہا کہ تم نے پہلے نالہ پارکر کے میری توہین نہیں کی کیا؟ سکندر نے جواب دیا نہیں استاد مکرم! میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے ارسطو رہے گا تو ہزاروں سکندر تیار ہوسکتے ہیں لیکن سکندر ایک بھی ارسطو تیار نہیں کرسکتا معلم بچے سے وہاں سے امید لگاتا ہے جہاں سے دوسرے امید چھوڑ دیتے ہیں

    حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں جس نے مجھے ایک لفظ پڑھایا وہ میرا استاد ہے وہ چاہے تو مجھے بیچ دے یا ساری زندگی کے لیے اپنا غلام بنا لے

    دنیا میں جس معاشرے میں اساتذہ کی عزت نہیں کی گئی تاریخ گواہ ہے کہ وہ معاشرے تباہ اوربرباد ی کا شکار ہوئےہیں لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے آج کل کے پر فتن دورمیں معلم کے ساتھ جس قدربرا سلوک کیا جاتا ہے اس سے ہم سب واقف ہیں کبھی اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی مذہب کا لبادہ اوڑھ کرقتل کردیا جاتا ہے وہ معاشرہ کیا ترقی کرے گا جواساتذہ کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرے گا
    استاد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب خلیفہ وقت ہارون الرشید نے اپنے بچوں کواستاد کی جوتیاں پہنانے کے لیے لڑتے ہوئے دیکھا ایک کہتا ہے کہ استاد محترم کو جوتیاں میں پہناؤں گا دوسرا کہتا ہے کہ میں "تاج رکھا ہے زمانوں نے ان کے سروں پر
    جو تھے استاد کے جوتوں کو اٹھانے والے”

    اگر ہم واقعی میں ترقی کرنا چاہتے ہیں اوراپنے طلبا کو صحیح معنوں میں علم دلوانا چاہتے ہیں تو "معلم”کے وہ تمام حقوق دیئے جائیں جن پر ان کا حق ہے اگر اساتذہ خوش ہوں گے وہ پریشانیوں سے دورہوں گے تو طلباء کو اچھے طریقے سے پڑھا سکیں گے اللہ رب العزت سے میری دعا ہے اللہ پاک میرے ان اساتذہ کی مغفرت فرمائے جو اس دنیائے فانی سے کوچ کر چکے ہیں اورآخرمیں اتنا ہی کہوں گا مجھ ناچیزکی اتنی اوقات نہیں کہ میں اساتذہ کی شان میں کچھ لکھ سکوں آج میں جو کچھ بھی ہو اپنے اساتذہ کرام کی وجہ سے ہوں۔

    Malik_Hasnain92

  • سوشل میڈیا کے مثبت استعمال .تحریر:فروا نذیر

    سوشل میڈیا کے مثبت استعمال .تحریر:فروا نذیر

    Twitter id: @InvisibleFari_

    سوشل میڈیا نے معاشرے میں بہت ترقی پائی ہے
    آجکل یہ سمجھ لیں کہ سوشل.میڈیا بغیر دنیا نامکمل ہے
    اور اسی سوشل میڈیا کو انسان اپنے مقصد کیلیے بھی استعمال کرتا ہے
    کوئی بھی انسان کچھ بھی بلاوجہ استعمال نہیں کرتا اسکو اپنے مقصد کو لاتا اور کوشش کرتا ہےکہ اس مقصد کو پورا کیا جائے

    سوشل میڈیا کے بہت سے اثرات ہوتے ہیں ہرعمر کے انسان پر چاہے وہ بچہ ہو جوان ہو بڑا ہو
    اور اسی طرح کے اس کے مثبت اثرات بھی ہیں جو انسان کی زندگی میں بہت تبدیلی لاسکتا ہے اگر ہم اسکو اچھی نیت سے استعمال کریں

    کچھ بھی کرنے کیلیے ہماری نیت صاف ہونی چاہیے اور ہر اس کام کو عمل میں پہلے خود لے کر آنا چاہیے جسے ہم سوشل میڈیا پر لاتے ہیں
    تاکہ ہم سب کو اندازہ ہو کونسے کام کو کہاں کیسے اور کسطرح استعمال میں لانا ہے..

    اس طرح سمجھ لیں کہ انسان اگر اپنا آپ دکھانا چاہتا ہے تو وہ سوشل میڈیا پر جائے گا سوشل میڈیا میں صرف کوئی ایک ایپ نہیں ہے بے تحاشا ایپس ہیں جن کا استعمال مفاد کیلیے اور مثبت انداز میں ہو رہا ہے
    جن میں سے چند یہ ہیں:
    • واٹس ایپ
    • ٹویٹر
    • انسٹاگرام
    • فیسبک
    • سکائپ
    وغیرہ وغیرہ یہ سب سوش میڈیا کی اقسام ہیں
    سب کے فائدے کیا کیا ہیں:

    – واٹسایپ
    واٹس ایپ ہر انسان کہ ضرورت ہے اس سے آپ کسی بھی وقت کہی بھی رابطہ کر کے اہنا کام کر سکتے ہو
    یہ آہکو رشتہ داروں سے بات کرنے کے مواقع بھی دیتی ہے اور اپنی فیملی سے جڑے رہنا ایک بہت اچھا کام ہے کیونکہ ہم سب کو ہمیشہ مل جل کے رہنا چاہہے تاکہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام آسکیں..

    – ٹویٹر
    ٹویٹر کے جہاں نقصان وہی بہت سے فوائد ہیں.
    آپ کو دنیا کی ہر خبر ٹویٹر سے مل سکتی یے آپ نے ڈائریکٹ اگر کسی سیاستدان سے بات کرنی تو ٹویٹر سب سے بیسٹ آپشن ہے آپ کسی مشکل میں ہیں ٹویٹر پر صرف ایک ٹرینڈ چلائے اور وزیراعظم کو مینشن کرتے جائے آہکا کام ہو گا
    ہر طرح کے لوگ ہیں ٹویٹر پر جن سے آپ رابطہ کر کے بہت کچھ سیکھ سکتے ہو صرف ایک ٹویٹر ایسی ایپ ہے جو آہکو بہت کچھ سکھاتی رہتی یے

    – انسٹاگرام
    یہ ایپ ٹویٹر سے زیادہ استعمال میں ہے لیکن اس کا اتنا فائدہ نہیں جتنا ٹویٹر ہے وہاں آپ آواز بلند کر سکتے ہو لیکن انسٹا پر اہسا کچھ نہیں ہوتا
    انسٹا بھی اپنی جگہ مفید ہے کچھ یوتھ کیلیے جن کو ڈراماز شوبز والوں سے ملنے کا شوق ہو وہ سب انسٹا کو جوائن کرتے ہیں اس لیے ہر چیز کا کسی نہ کسی کیلیے فائدہ ہے

    – فیسبک
    فیسبک ایک بہت ہی پرانی اور مفید سوشل ایپ ہے جہاں بہت سے مسائلز کو سامنے لایا جاتا پاکستان کے بارے میں
    انڈیا کے پروپیگنڈاز بھی سامنے آتے ہیں ٹویٹر والے ان سب پروپیگنڈوز کو اجاگر کرتے ہیں اور فیسبک سے انکی شروعات ہے… بہت سے لوگ آج بھی فیسبک پر زیادہ ہیں خاص کر یوتھ وہاں سے بہت کچھ حاصل کر رہی ہے

    – سکائپ
    سکائپ کا یہ فائدہ کہ آپ دنیا کے جس بھی کونے میں بیٹھے ہو اہنے عزیز کو باآسانی دیکھ سکتے ہو باآسانی بات کر سکتے ہو
    اسکو بہت سے فارن لوگ استعمال کرتے ہیں خاص کر وہ جو اونلائن جاب کرتے ہو وہ اسکو ویڈیو پر بات چیت کیلیے استعمال کرتے ہیں
    اسکا استعمال پہلے کی نسبت کم ہوتا جارہا ہے کیونکہ واٹسایپ سے ویڈیو کالز ہوجاتی ہیں

    جس طرح ہر چیز کے بننے کا کوئی نہ کوئی فائدہ ہے اسی طرح ہر سوشل ایپ کا اپنی جگہ فائدہ اور استعمال ہے

    لیکن کوشش رہے سوشل میڈیا کو مثبت انداز میں استعمال کریں تاکہ مشکلات سے بچ سکیں اور بہت کچھ سیکھ سکیں

  • پاکستان، افغانستان اور طالبان.تحریر ملک علی رضا

    پاکستان، افغانستان اور طالبان.تحریر ملک علی رضا

    دوستو افغانستان سے امریکہ اور اتحادی افواج کے یکم مئی سے انخلا کے اعلان کے بعد سے متعدد اضلاع کی جانب طالبان کی پیش قدمی جاری ہے۔افغانستان میں طالبان نے اب تک ملک کے 34 صوبوں میں سے 20 صوبوں کے ہیڈ کوارٹرز کے گرد گھیرا تنگ کر لیا ہے۔ طالبا ن اپنی اسلامی ریاست بنانے کے لیے افغانستان نے آدھے سے زیادہ حصوں پر قابض ہوچکے ہیں۔
    طالبان کے قبضے میں آنے والے اکثر علاقوں کی سٹریٹیجک اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ یہ ان اہم شہراہوں پر واقع ہیں جو کابل کو ملک کے شمالی، جنوبی اور مغربی علاقوں سے جوڑتی ہیں۔اکثر شہر جن کا طالبان نے محاصرہ کیا ہے وہ ملک کے شمال میں واقع ہیں جہاں افغانستان کی سرحدیں اپنے وسط ایشیائی ہمسایوں کے ساتھ ملتی ہیں۔
    طالبان نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک کے جنوب اور مشرق میں واقع اہم شہروں کے گرد اپنے آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور اب انھوں نے افغان دارالحکومت کابل کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا ہے۔
    سنہ 1996 میں طالبان کی ’جائے پیدائش‘ کہلانے والے جنوبی صوبے قندھار کے بعض اضلاع پر طالبان پہلے ہی کنٹرول کرنے کا دعویٰ کر چکے ہیں جبکہ ملک کے دس بڑے شہروں میں سے کم از کم تین شہروں قندھار، ہرات اور غزنی کے گرد طالبان نے گھیرا تنگ کر لیا ہے.
    طالبان سپین بولدک، چمن سرحدی کراسنگ جو قندھار کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے ملاتی ہے وہاں افغانی افواج کنٹرول چھین لیا ہے اور اب مکمل طور پر بارڈر ایریا طالبان کےقبضے میں ہے۔جیسے ہی اس علاقے کا قبضہ طالبان نے حاصل کیا پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی سرگرمیاں اور ہر قسم کی آمدورفت بند کر دی گئی ، تاہم دو دن مذاکرات کےبعد طالبان قیادت نے پاکستان سے ملحقہ سپین بولدخ بارڈر کھول دیا گیا۔

    ادھر پاکستان نے بھی موجودہ خطرات کے پیش نظر افغانستان نے ملحقہ بارڈرز پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور بارڈر پر چیکنک کا عمل بھی سخت کر دیا گیا ہے۔ ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے بھی اس معاملے کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے قوم کو مکمل یقین دہانی کروائی ہے کہ کسی بھی قسم کی خطرے سے نمٹنے کے لیے افواج پاکستان ہمہ وقت تیار ہیں۔
    دوسری جانب افغانستان کے وائس پریذیڈنٹ امراللہ صالح نے پاکستان کے حوالے سے بیان دیا اس حوالے سے کچھ تحقیقات ہوئیں تو یہ پتہ چلا ہے کہ جب افغانستان کی طرف سے یہ رابطہ کیا گیا کہ طالبان نے پاکستان سے ملحقہ بارڈر ایریا پر قبضہ کیا ہے وہ طالبان سے قبضہ واپس لینے کے لیے افغان حکومت نے پاکستان کی آرمی سے بات چیت کی کہ ہم طالبان پر حملہ کرینگے تو ہو سکتا ہے پاکستان کی حدود پر بھی اس کے اثرات ہوں تو اس پر پاکستان نے صاف کہہ دیا کہ اگر پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا اسی لیے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر آپ نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تو اس پر ایکشن لیا جائے گا کیونکہ بارڈر ایریاز میں کسی بھی طرح سے پاکستانی حدود کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس کے بعد افغان حکومت کی جانب سے جو غیر ذمہ دارانہ بیان آیا اس لیے پاکستان کو اس طرح کا بیان دے کر نیچا دکھانے کی کوشش کی جائے گی ۔

    پاکستان میں ہونے والے حالیہ واقعات و معاملات کو اگر آپ دیکھیں تو یہ بہت سارے معاملات جو ہیں وہ نظر آرہے ہیں کہ جس میں پاکستان کے خلاف بہت ساری چیزیں جس طرح بھی افغان نائب صدر کی بیٹی کا اغواہ کیا گیا اور پاکستان کے خلاف ایک منظم سازش کی گئی اس میں بھی بڑے خدشات پائے جاتے ہیں ۔پاکستان کے دشمن پاکستان میں سی پیک کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں پاکستان کی ترقی ہو رہی ہے اس کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں دوسرا جو پاکستان خطے میں امن کی کوششیں کر رہا ہے ان کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔
    پاکستان اس وقت اچھی کوشیشیں کر رہا ہے تاکہ خطے میں امن ہو جائے لیکن پاکستان کے جو اس وقت معاملات ہیں وہ پاکستان کو بیرونی خطرات ہیں اور اندرونی خطرات ہیں جن پر پاکستان کڑی نظر رکھَے ہوئے ہے۔ پاکستانی افواج اور سکیورٹی ادارے کسی بھی قسم کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں ۔ اور پاکستان کی عوام کا اپنی افواج اور حکومت پر مکمل اعتماد ہے کہ ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔۔

  • لاقانونیت…تحریر: عثمان غنی

    لاقانونیت…تحریر: عثمان غنی

    پاکستان میں جرم کی شرح دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔دن دیہاڑے اغواہ،راستے میں گاڑی یا موبائل فون جیسے قیمتی سازو سامان چھین لینا،بھتہ خوری،راتوں کو گھروں یا دوکانوں میں نقب لگانا،ءیہ سب عام ہے۔ان وارداتوں کے ڈر سے اکثر لوگ مغرب ہوتے ہی گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں۔عوام خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔اور ان میں ایک خوف کی کیفیت پائی جاتی ہے۔جس وہ کھل کر سانس نہیں لے پاتے۔۔۔
    ہم اکثر بات کرتے ہیں ترقی یافتہ ممالک کے امن کی۔اور پھر اس کے بعد ہم ان کے امن کی وجہ ڈھونڈھتے ہیں۔اور سب سے آخر میں ہم ان سب ممالک کا اپنےملک کےموازنہ کرتے ہین۔موازنہ کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں ادارے کس طرح کام کرتے ہیں اور ہمارے ہاں ادارے کس طرح کام کرتے ہیں۔
    اس صورت حال میں پولیس کا کردار سب سے زیادہ ہے۔اور اسی لحاظ سے سب سے زیادہ تنقید بھی اسی ادارے پر کی جاتی ہے۔اب اگر اس ادارے کا موازنہ ہم ترقی یافتہ ممالک کی پولیس سے کریں تو سب سے بڑا فرق ہمیں عددی لحاظ سے نظر آتا ہےنظر آتا ہے ۔ ہماری پولیس کا سب سے بڑا مسئلہ اس کے پاس افرادی قوت کی کمی ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں جہاں ہر دو منٹ بعد آپ کو پولیس موبائل دیکھائِ دے گی وہیں پاکستان میں دو گھنٹے بعد بھی نہیں دیکھائی دے گی۔دور دراز کے علاقوں میں پولیس اپنی چوکیاں بناتی ہے مگر نفری کی کمی کی وجہ سے انہیں آباد نہیں کر سکتی۔تنخواہوں اور مرعات کی کمی وغیرہ ۔۔ثانوی مسائل ہیں جو تقریبا تمام سرکاری اداروں کو در پیش ہیں۔
    لیکن اگر ہم اپنی تاریخ میں دیکھیں تو عددی کمی کبھی بھی مسلمانو کے آڑھے نہیں آسکی۔زیادہ دور نہیں جاتے سن 1972سے پہلے کے سعودی عرب کو ہی دیکھ لیں۔ایک انگریز رائٹر جان پرکائنز اپنی کتاب "دا اکنامک ہٹ مین ” میں لکھتے ہین کہ اس زمانے میں سعودی میں حالات ایسے تھے کے اگر آپ ایک دن اپنا کوئی سامان کہیں چھوڑ جاتے ہیں تو دوسرے دن وہ آپ کو وہیں پڑا ملے گا۔
    اور آج کل سعودی بھی انگریزوں کے نقش قدم پر چلتا ہوا عددی قوت سے قابو پانے میں کوشاں نظر آتا ہے ۔مگر یہ بہر حال ناممکن کی حد تک مشکل ہے۔
    ایک لحاظ سے پولیس کی تعداد بڑھانا بھی ٹھیک ہے مگر ۔۔۔جو چیز ہمیں اند سے کھائےجا رہی ہے وہ اس سے زرا مختلف ہے۔
    مثال کے طور پر کہیں پولیس کا ناکا لگا ہے اور کسی پولیس والے کا استاد وہاں سے گزرتا ہے تو اس کو بنا چیکنگ کے جانے دیا جاتا ہے ۔ وجہ ۔۔۔۔ استاد کی عزت ہے۔ خاندان کو تو خیر رہنے ہی دیں۔۔۔اگر کوئی ہمسایا بھی گزرتا ہے تو اس کو بھی دوسروں پر فوقیت دی جاتی ہے وجہ۔۔۔ہمسائے کے حقوق۔۔

    اور اگر کوئی بیچارہ پولیس والہ ایسا نہ کریں تو ہم "امن پسند”عوام گلہ کرنے ان بیچاروں کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔۔گھر نا بھی جاسکیں تو کہیں بھی ملے ہمارہ شکوہ تیار ہوتا ہے۔۔۔اور وہ اگلی بر لازما ہم سے رعایت برتتا ہے۔اس سب سے عوام میں اختلافات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔اور پولیس جیسے حساس ادارے کے بارے میں منفی خالات پروان چڑھتے ہیں۔
    پولیس کی ناکامی کی جو سب سے بڑی وجہ ہے وہ ہے پولیس پر سیاست دانوں کا کنٹرول ۔۔۔۔اگر کسی چوکی میں کوئی نیا اے ایس آئی آتا ہے تو اس علاقے کے کونسلر کے پاس اس کے آنے سےبھی پہلے اس کی ساری معلومات پہنچ چکی ہوتی ہے ۔اور اس کے پہلے آرڈر سے بھی پہلے اس کو "آج رات کھانا ہمارے ساتھ کھانے "کا آرڈر مل چکا ہوتا ہے۔اس کھانے میں اس کو نمک حلالی کے سارے گر سیکھاے جاتے ہیں۔اور اس کے بعد پولیس کوئی بھی ایکشن لے "چھوڑ دو پاجی ساڈا بندا ے”کہہ کر سب رفہ دفعہ کرا دیا جاتا ہے۔اور وہ بیچارہ نمک حلالی کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

    اور دیکھا جائے تو ہماری آدھی پولیس عدالتوں کے باہر اور آدھی سیاستدانوں کے گھرں کے باہر ملتی ہے۔اور اگر کوئی پولیس والا کہیں کچھ غلط کرتا نظر آحائے تو پوری علم فاضل قوم اپنے نادر و نایاب خیالات کا اضہار کرنے اور ان کو گالیاں دینے مین پیش ہوتی ہے۔اصل میں ہم شہدا کی لاشوں پر روتے ہیں غازیوں کو جوتوں کے ہار پہناتے ہیں۔ایک نوجوان جب پولیس مین جاتا پے تو وہ یہ یرارادہ لے کر نہین جاتا کے رشوت لون گا مگر ہم اس کو عادی کرتے ہین اپنے چھوٹے غیر قانانی کام نکلوانے کے لیَے کچھ کام جلدی کروانے کے لیئے۔۔۔۔
    اس تمام صورت حال کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پولیس اپنا کام صیح نہیں کر سکتی۔اور ملک میں جرم بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ہمیں پولیس پر تنقید سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔ہم اپنے پیاروں کو امتحان میں ڈال دیتے ہیں جب ہم ان سے تھوڑی سی "غیر اخلاقی”فیور لیتے ہیں۔ہم خود اپنے فرض پر جلدی پہنچنےکے لئے ان کے فرض کو سائد پر رکھ دیتے ہیں۔ہمیں باہر سے امن ادھار نہیں ملے گا ۔کوئی ہمیں امن گفٹ نہیں کرے گا ۔
    ہمیں اپنے ملک کے امن کے لئے خود کوششیں کرنی ہوں گی ۔اور سب سے بڑی کوشش ہم اپنے پیاروں کے لئے امتحان نا بن کر کر سکتے ہیں۔۔اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ کیا واقعی ہم کر سکتے ہیں؟؟؟؟؟؟

  • تعلیم نسواں . تحریر : ملک عمان سرفراز

    تعلیم نسواں . تحریر : ملک عمان سرفراز

    تعلیم کے بغیرکوئی بھی معاشرہ نا مکمل ہے ہمیشہ وہ معاشرہ ترقی کی راہوں پرگامزن ہوتا ہے جس معاشرہ کے افراد پڑھے لکھے ہوں۔ علم حاصل کرنا ہرمرد اورعودت پرفرض ہے تعلیم حاصل کرنا بلا تفریق ہرانسان پرفرق ہے چاہے وہ امیر ہو یا غریب مرد ہویاعورت۔

    حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ ’’حصول علم تمام مسلمانوں پر(بلا تفریق مرد و زن) فرض ہے۔ علم کا حصول عورتوں پربھی اس طرح ہی فرض ہے جس طرح مردوں پرکوئی بھی معاشرہ عورت کی تعلیم کے بغیرنا مکمل ہے۔

    جیسا کہ سب جانتے ہیں کے ایک بچےکی پہلی درس گاہ اس کی ماں کی گود ہی ہوتی ہے۔ اگرماں ہی تعلیم کےزیورسے آراستہ نہیں ہوگی تو کیسے ممکن اس بچے نے اپنی پہلی درس گاہ سے کچھ بہترسیکھا ہوگا. جس طرح مرد تعلیم  حاصل کرنے کے بعد ریاست کے نظام اور دوسرے نظام کوچلاتا ہے اسی طرح ایک عورت تعلیم حاصل کرکے ایک گھر کے نظام کو چلاتی ہے مرد کی تعلیم ایک ادارے کو فائدہ پہنچاتی ہے جبکہ عورت کی تعلیم  پورے معاشرے کو پڑھے لکھے افراد مہیا کرتی ہے۔

    ایک تعلیم یافتہ خاتون ایک نسل کو پروان چڑھانے میں بہت اہم فریضہ ادا کرتی ہے اگرماں پڑھی لکھی ہوگی تو یقیناً اس کی اولاد میں بھی اچھے اوصاف ہوں گے جو یقیناً معاشرے کے لئے سود مند ثابت ہوں گے کیونکہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے اس معاشرے کے لوگوں کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے، جہاں تک بچوں کے ابتدائی تربیت و تعلیم کی بات ہے تو اس کے لئے تعلیم نسواں ہی انتہائی اہم اورضروری ہے۔

    آپ کسی مرد کو تعلیم دلوائیں تو وہ ایک شخص کی تعلیم ہوگی لیکن اگرآپ ایک عورت کو تعلیم دیتے ہیں توگویا آپ پورے معاشرے کو تعلیم دیتے ہیں” نپولین کے قول کے مطابق توقوم کی تہذیب و تمدّن کا دارو مدار ہی عورت کی تعلیم پر ہے: ” تم مجھے تعلیم یافتہ ماں دو میں تمہیں مہذب قوم دوں گا”

    اور یہ مقولہ تو زبان زدِ عام ہیں کہ:
    ” بچے کا اولین مدرسہ ماں کی گود ہے

    اسی لئے کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے مرد کے ساتھ عورت کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے۔ ایک مضبوط اورپڑھے لکھے معاشرے کی پروان تعلیم یافتہ خواتین کے ہاتھوں ہی ممکن ہے۔

    @Speaks_Umn

  • مرد مجاہد.تحریر:سیف اللہ عمران

    مرد مجاہد.تحریر:سیف اللہ عمران

    تاریخ انسانی میں کئی عظیم انسان آئے کئی آئیں گے لیکن ان میں سے مرد مجاہد بہت ہی کم آئیں ہیں میرا موضوع اس دور کا مرد مجاہد وزیر اعظم پاکستان عمران خان ہے

    5 اکتوبر 1952 کو شوکت خانم کی گود سے جنم لینے والے اس عظیم انسان نے جس میدان میں قدم رکھا اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطاء فرمائی

    عمران خان کی پہلی وجہ شہرت کرکٹ ہے عمران خان کا ڈیبیو 1971 میں ہوا پہلے میچ کے بعد آپ کو آپ کو ٹیم سے باہر کر دیا گیا لیکن عمران خان اور ہار مان لے یہ نا ممکن ہے
    عمران خان نے ٹیم سے باہر رہتے ہوئے انتہائی سخت محنت کی اور پہلے سے زیادہ اچھے آل راؤنڈر بن کر ابھرے

    عمران خان شاندار کارکردگی کے باعث 1982 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے اس طرح عمران خان کے شاندار کپتانی کیریئر کا آغاز ہوا
    عمران خان پاکستان کی تاریخ کے سب سے کامیاب کپتان ہیں عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے عظیم ترین فتوحات حاصل کیں پاکستان نے پہلی دفعہ انڈیا کو انڈیا میں شکست دی پاکستان نے انگلینڈ کو انگلینڈ میں ہرایا اور اس طرح پاکستان کے اچھے دن شروع ہو گئے

    1987 ورلڈ کپ عمران خان کے لیے ایک اہم ایونٹ تھا کیوں کہ عمران خان کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان کر چکے تھے اور عالمی کپ جیتے بغیر یہ مشکل تھا پاکستان ٹیم شاہینوں کی طرح میدان میں اتری کئی فتوحات حاصل کیں لیکن بد قسمتی سے سیمی فائنل میں شکست ہوئی اور عمران خان نے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا

    لیکن پاکستانی عوام کی پر زور درخواست پر عمران خان نے ریٹائرمنٹ واپس لے لی اور کرکٹ کے میدان میں ایک بار پھر قدم رکھ دیا

    اب پاکستان کی کرکٹ تاریخ کا سب سے تاریخی ایونٹ 1992 کا ورلڈ کپ آ چکا تھا لیکن قومی ٹیم کے دو اہم کھلاڑی سعید انور اور وقار یونس زخمی ہو کر ٹیم سے باہر ہو گئے اس وقت عمران خان نے حوصلہ نہ ہارا ٹیم کا مورال بلند کیا ابتدائی شکستوں کے با وجود ٹیم کی امید نہ ٹوٹنے دی کواٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز کی مضبوط ٹیم کو شکست دے سیمی فائنل میں پاکستان نے انضمام الحق کی شاندار اننگ کی بدولت نیوزی لینڈ کو زیر کیا اور پاکستان فائنل میں پہنچ گیا
    فائنل شروع ہوا عمران خان اپنی کارنرڈ ٹائیگر شرٹ کے ساتھ ٹاس کیلئے آۓ پاکستان ٹاس جیتا بیٹنگ کا آغاز ہوا عمران خان ایک کھلاڑی آؤٹ ہوتے ہی کھیلنے آ گئے اور فاتحانہ اننگ کھیلی

    میچ کا اختتام بھی عمران خان کی جانب سے لی گئی وکٹ سے ہوا یوں عمران خان کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے

    ایک مقصد یہاں پورا ہوا اب اگلے کی باری تھی یہ مقصد شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر تھی عمران خان نے دنیا بھر میں تحریک چلائی اور نہ صرف شوکت خانم ہسپتال بنایا بلکہ چلا کر بھی دکھایا
    اس کے بعد آتی ہے سیاست عمران خان نے 1996 میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا تحریک انصاف کے نام سے جماعت بنائی لیکن 1996 میں وہ اپنی نشست بھی نہ جیت سکے لیکن وہ عمران خان ہی کیا جو ہمت ہار جائے وہ مرد مجاہد دوبارہ کھڑا ہوا 2002 میں ایک نشست جیتی 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا 2013 میں آپ کی جماعت اپوزیشن آئی اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں آپ کی جماعت حکومت میں آئی
    عمران خان کی انتھک محنت سے آپ کی جماعت 2018 میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت بنی اور عمران خان نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا اب وہ اپنے مقصد”نیا پاکستان” کی تکمیل کی کوشش کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس مقصد میں بھی کامیابی عطاء فرمائے آمین ♥️
    تحریر:سیف اللہ عمران
    Twitter: @Patriot_Mani

  • یہ بھی تو ہمارے ہی بیٹے ہیں . تحریر: بلال لطیف

    یہ بھی تو ہمارے ہی بیٹے ہیں . تحریر: بلال لطیف

    کیا ان کا لہوں اتنا سستا ہے؟
    پاکستان کا دشمن ہماری صفوں میں گھس کرہمارے لخت جگر ہم سے چھین رہا ہے اورپھرانہی کومجرم بھی ٹھہرایا جاتا ہے دشمن کے سہولت کارہمارے اپنوں میں سے ہی ہیں اورہروقت ہمیں نقصان پہچانے کے لیے تیاربیٹھے ہیں پاکستان کا استحکام دشمن کوکسی صورت گوارہ نہیں۔ دشمن اپنے سہولت کاروں کے ذریعے دہشت گردی، فرقہ واریت، سیاسی حل چل مچانے کے لیے ہروقت تیار رہتا ہے۔

    ان بیٹوں کا قصور یہ ہے۔ انہوں ہمارے بچوں کے لیے اپنے بچے یتیم کر دیے۔ ان کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے کل کہ لیے اپنا آج قربان کر دیا۔ کتنے خوبصورت جوان اپنی سرزمین کے لیے ہمارے بچوں کے لیے ہمارے لیے جام شہادت نوش کرگئے۔ کتنے جوان ایسے ہیں جو اپنے شیرخواربچے چھوڑکرہمارے لیے شہید ہوگئے۔ کتنے جوان ایسے ہیں جو بڑھاپے میں اپنے والدین کا سہارا بننے کی بجائے ان کے بڑھے کندھوں پراپنی شہادت کا بوجھ بھی لاد کرچلے گئے۔

    کبھی سوچنا جن لڑکھڑاتی ٹانگوں کوجوان بیٹے کے سہارے کی ضرورت تھی جب وہ بوڑھے کندھوں پراپنے جوان بیٹے کی لاش اٹھاتا ہوگا تو اس کے دل پرکیا گزرتی ہوگی؟
    کبھی سوچنا اس ماں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جس نے بیٹے کا سہرا سجا کررکھا تھا؟
    کبھی اس بہن کا سوچنا اپنے بھائی کے انتظارمیں تھی۔

    فوج کو گالی دینے والو شام، لیبیا،عراق اورافغانستان کا حال دیکھ لو۔
    فوج کودشمن سمجھنےوالوکبھی ایک دن باڈرپریا کسی مشن میں فوج کی زندگی جی کردیکھو تمہارے چودہ طبق روشن ہوجائیں گے۔

    اللہ سے دعا ہے ہماری فوج اورھمارا ملک ہمیشہ سلامت رہے.

    پاک فوج زندہ آباد
    پاکستان پائندہ باد

    @Bilal_Latif1

  • خواجہ سرا اور ہمارا غیر انسانی رویہ .تحریر : فضیلت اجالہ ۔

    خواجہ سرا اور ہمارا غیر انسانی رویہ .تحریر : فضیلت اجالہ ۔

    ہم ایک اسلامی ملک کے آزاد باشندے ہیں ،نا صرف ہمارا مزہب بلکہ ہماری اقتدار و روایات بھی ہمیں انسانیت ،بھائی چارے اور حقوق العباد کا درس دیتیں ہیں
    ہمارے معاشرے میں عورتوں ،یتیموں، مساکین،نادار، اور بے آسرا افراد خواہ وہ مرد ہو یا زن کیساتھ ہمدردی ،انسانیت اور اخلاقیات برتنے کا سبق پڑھایا جاتا ہے جو کہ بہت اچھی بات ہے اس پہ عمل ہونا بھی چاہیے لیکن ان سب سے الگ ،سب سے ہٹ کر خدا تعالی کی بنائی ہوئی ایک اور مخلوق بھی ہے جو تمام رشتے ناتے ہونے کے باوجود ہر رشتے سے ہر حقوق سے محروم ہے ،
    قدرت کی تخلیق کردہ ایک ایسی تخلیق جسے ہمارا معاشرہ ،کھسرے،شی میل،تھرڈ جینڈر،خواجہ سرا اور ہیجڑے کے نام سے جانتا اور پکارتا ہے ۔جسے ہم سب مخلوق خدا تو مانتے ہیں لیکن طنز و تزیحک ، اور جانوروں سے بدتر سلوک کرنے میں بھی خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں
    جس طرح ہمارے مکمل انسان ہونے میں ہمارا کوئ ہاتھ نہی یہ تو احسان ہے اس پاک زات کا جس نے ہمیں مکلمل انسان بنایا بلکل اسی طرح خواجہ سرا بھی اللہ ہی کی تخلیق ہیں اس میں انکا اپنا کوئ عمل دخل نہی پھر ان کے ساتھ یہ غیر انسانی سلوک کیوں ،کیوں انہیں اچھوت سمجتے ہوئے خود سے الگ کر دیا جاتا ہے
    ہم معزز انسانو میں بمشکل 10 فیصد لوگ ایسے ہونگے جو انہیں عزت و تکریم دیتے ہونگے ۔کیوں انکے مرنے کے بعد بھی انہی کفن دفن، اور جنازہ جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے ،انکے مرنے کا اعلان تک نہی ہوتا یہ کہ کر انکار کردیا جاتا ہے کہ کیا کہیں ؟کون تھا کس کا بیٹا،کس کی بہن ،کسکا بھانجا بھتیجا؟؟؟ زندگی بھر ان رشتوں سے محروم رکھا چلو وقت آخر تو اسکی روح کو یہ سکون بخش دو کہ کوئ اسکا بھی اپنا ہے ۔

    کیا یہ لوگ انسان نہی ہوتے یا انکا دل نہی ہوتا؟
    گلی چوراہوں میں سڑکوں پہ ایسے لوگوں کو اپنے طنز و تضحیک کا نشانہ بناتے ہوئے کیا کبھی ہم میں سے کسی نے ایک پل کہ لیے بھی سوچا ہے کہ یہ لوگ کس قدر ازیت و تنہائ کا شکار ہوتے ہیں اور کس قدر مشکل زندگی گزارتے ہیں۔ کتنا خوفناک اور دلوں کو دھلا دینے والہ تصور ہے نا کہ پیدا ہوئے تو والدین نے رات کے اندھیرے میں والدین نے دنیا کے طعنو ں سے ڈرتے چند پیسے دے کہ کسی کو بھی سونپ دیا کہ اسے یہاں سے گمنام مقام پہ لے جاؤ ،عمر کی کچھ حدیں عبور کی تو نام نہاد معزز اور مکمل انسانوں نے ادھر ادھر چھو کر اپنی حوس کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔پیٹ کی بھوک مٹانے کیلیے ،ضرورت زنگی پورا کرنے کیلیے روزگار کی تلاش میں نکلا تو کھسرا کہ کر دھتکار دیا گیا ، تھک ہار کر روایتی ناچ گانا شروع کیا ،کسی کے گھر بدھائ لینے گیا تو معززین نےاپنی گندی اور ہوس زدہ نظروں کا نشانہ بنایا ۔

    وہ مولوی حضرا ت جو تنہائی میں ان پر ٹوٹ پڑنے کو تیار رہتے ہیں وہ بھی انکا جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیتے ہیں ،نام نہاد تعلیم یافتہ انسان انہیں چھیڑنے ،اور ہنسی مزاق کیلیے مخلتلف فتوے دینے کو ہر وقت تیار لیکن عزت اور نوکری دیتے ہوئے موت پڑتی ہے ۔
    خواجہ سرا وہ مظلوم مخلوق ہیں جنہیں بہن بھائ ،بیٹی سمجھنا تو درکنار انسان بھی نہی سمجھا جاتا اور ایسا غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے جو حیوانیت کو بھی مات دے ۔

    کوئی خوف خدا کرو زرا تو اپنے ضمر کو جھنجوڑو یہ کیسی غیرت ہے جو کسی کو عزت نہی دے سکتی ،کسی کیلیے زاد راہ نہیں بن سکتے تو پتھر بھی نا بنیے۔
    وہ لوگ جو ہماری خوشیوں میں دعائیں دیتے ہوئے شامل ہوتے ہیں انہیں بدعا مت بنائیں ،انہیں زمانے کی ٹھوکرو کے حوالے مت کریں
    آج یہ کسی اور کی اولاد ہیں کل کو تمھاری اولاد یا آگے اسکی اولاد میں بھی کوئ ایسا بچہ پیدا ہوسکتا ہے ،کیونکہ حقیقت بس اتنی ہے کہ خالق کل کائنات کی لاٹھی بڑی ہی بے آواز ہوتی ہے کب کہاں کس کو پڑ جائے کسی کو خبر نہی ۔اسلیے کوشش کیجے کہ آپ کے ہاتھ ،زبان اور اعمال سے مخلوق خدا کو گر فائدہ نہ پہنچے تو نقصان بھی نا ہو۔
    خدائے بزرگ برتر ہم سب کو اس بات کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دیں ۔آمین