Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دولہا اپنی ہونےوالی بیوی کودیکھنےکےبعد موقع سےکیوں فرارہوگیا؟

    دولہا اپنی ہونےوالی بیوی کودیکھنےکےبعد موقع سےکیوں فرارہوگیا؟

    نئی دہلی: شادی کے ’منڈپ‘سے دولہا اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھنے کے بعد فرار ہو گیا ۔

    باغی ٹی وی : یہ نہایت ہی حیران کن واقعہ بھارت میں پیش آیا ہے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے شیئر کی جارہی ہے جس میں دولہا اور دلہن اپنے نئے سفر کے آغاز کیلئے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے جارہے تھے –

    رسم کی ادائیگی کیلئے دولہا جب اپنی نشست سے کھڑا ہوا تو ساتھ دلہن بھی اٹھنے لگی لیکن وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور لڑکھڑا کر گر پڑی –

    لڑکی کے نیچے گرنے سے اس کے چہرے سے گھونگھٹ بھی ہٹ گیا ۔ دولہے نے جب لڑکی کو دیکھا تو فوری طور پر گلے سے پھولوں کو اتار کر پھینکتے ہوئے موقع سے فرار ہو گیا ۔

    میڈیا پر چلنے والی اطلاعات کے مطابق دولہے اور دلہن نے شادی سے قبل ایک دوسرے کو دیکھا نہیں تھا اور نہ ہی کوئی ملاقات ہوئی تھی ۔تاہم ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے یا اصلی اور یہ کس بھارتی علاقے سے وائرل ہوئی ہے ۔
    https://youtu.be/iUiZuRiu1f0

  • کشمیراور سیاحت . تحریر: اسامہ ذوالفقار

    کشمیراور سیاحت . تحریر: اسامہ ذوالفقار

    سیاحت معیشت کی آمدنی کو بڑھاوا دیتی ہے ، ہزاروں ملازمتیں پیدا کرتی ہے ، کسی ملک کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دیتی ہے ، اور غیر ملکیوں اور شہریوں کے مابین ثقافتی تبادلے کا جذبہ پیدا کرتی ہے.
    پاکستان کو 2020 کے لئے سب سے بہترین تعطیل کا مقام قرار دیا گیا تھا اور اسے 2020 کے لئے دنیا کی تیسری سب سے اعلی امکانی مہم بھی قرار دیا گیا تھا۔ جیسے ہی ملک میں سیکیورٹی بہتر ہوتی ہے ، سیاحت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    اب بات کرتے ہیں کشمیر کی سیاحت پر کشمیر "پیراڈائز آن ارتھ” کے نام سے مشہور ، جموں و کشمیر اپنی قدرتی شان ، برف سے ڈھکے پہاڑوں ، بہت سارے جنگلات کی زندگی ، شاندار یادگاروں ، مہمان نواز افراد اور مقامی دستکاری کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان ملکی اور ایک حد تک غیر ملکی سیاحوں کے لئے اہم سیاحتی مقام کے طور پر ابھرا ہے۔ وہ پہاڑی مقامات اور قدرتی مناظر ، اور مناسب حفاظت کی فخر کرتے ہیں۔ گوگل کے مطابق 2018 میں ، 1.4 ملین سے زیادہ سیاحوں نے آزاد کشمیر کا دورہ کیا۔

    زرخیز، سبز، پہاڑی وادیاں آزاد کشمیر کے جغرافیہ کی خصوصیت ہیں ، جو اسے برصغیر کا ایک خوبصورت خطہ بنادیتی ہیں۔ مظفرآباد، نیلم ویلی اور جہلم ویلی اضلاع سمیت آزادکشمیر کے علاقوں میں موسم گرما میں انتہائی ٹھنڈا موسم ہوتا ہے جو کہ پاکستان اور دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے. وادی کشمیر خوبصورت مناظر سے بھری ہوئی ہے اور یہاں سیاحوں کی توجہ کے بہت سے مقامات جیسے گنگا چوٹی ، دریائے نیلم ، بنجوسہ جھیل ، پیر چناسی ، منگلا ڈیم ، ٹولائپر اور بہت سے دوسرے شامل ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے ہر سال لوگ ان مقامات کی زیارت کے لئے آتے ہیں۔

    اس کے نتیجے میں ، مقامی معیشت کو ایک بہت بڑا فروغ ملا اور ہم نے بھی شہر میں تیزی سے معاشرتی تبدیلی کا مشاہدہ کیا۔ فاسٹ فوڈ پوائنٹس ، صحت کی دیکھ بھال اور تفریحی سہولیات کی طلب میں بھی اضافہ ہوا اور لوگوں کو ان ریستورانوں اور ہوٹلوں کی ضرورت سے آگاہی حاصل ہوگئی۔ اب ، آزادکشمیر میں چھوٹے سے بڑے بڑے ہوٹل ، فاسٹ فوڈ پوائنٹس اور ریسٹ ہاؤس ہیں جن میں بہتر سہولیات اور بہتر انتظام ہے جس نے سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لئے بہت آسانی پیدا کردی ہے۔

    کسی بھی خطے کے لئے انفرا اسٹرکچر سیاحت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ صرف خوبصورت مقامات ہونا ہی کافی نہیں ہے۔ اس وجہ سے ، ہمارے پاس ایک اچھا انفراسٹرکچر اور روڈ نیٹ ورک بھی ہونا چاہئے تاکہ لوگوں کو ان مشکل مقامات تک پہنچنے کے لئے مشکل اور مشکل سڑک پر مشکل سفر ہونے کے خوف کے بغیر سفر کرنا آسان ہوجائے۔ یہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ ماضی میں لوگ کشمیر جانے نہیں آئے تھے۔ ناران کا اسلام آباد سے فاصلہ 282.2 کلومیٹر ہے اور تولی پیر کا محض 142.2 کلومیٹر ہے لیکن لوگوں نے ناران کی آمد کو اس لئے ترجیح دی کہ صرف ترقی یافتہ انفراسٹرکچر اور وہاں جانے کے لئے آسان اور آرام دہ سفر ہے۔ بڑھتے ہوئے وقت کے ساتھ ، بنیادی ڈھانچے میں پیشرفت ہوئی ہے جس نے آزاد جموں و کشمیر میں سیاحت میں بے حد اضافہ کیا ہے۔ تاہم ، ہمیں خطے میں سڑکوں ، رسائ پوائنٹس اور ہوٹلوں کو مزید بہتر بنانے کے لئے ذہن اور وسائل میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

    @RaisaniUZ_

  • عمران خان کا دورہ ازبکستان .تحریر : ارشد محمود

    عمران خان کا دورہ ازبکستان .تحریر : ارشد محمود

    پاکستان جس طرح کے بڑے بڑے مسائل سے نبرد آزما ہے شاید امریکا جیسے بڑے اور ترقی یافتہ ملک کو بھی نہ ہو ۔ پاکستان کو جہاں اندرونی مسائل کا سامنا ہے وہی پڑوس ممالک میں ہورہی تبدیلیوں کا بھی سامنا ہے کہ ان میں کوئی بھی تبدیلی پاکستان پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان جس طرح سے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ شاید بھٹو مرحوم کے بعد انہی کا خاصا ہے ۔ سازشوں کے جمگھٹے سے اپنے آپ کو نکالنا ہمارے لیے ہمیشہ سے ہی ناممکن حد تک مشکل رہا ہے ۔ افغانستان میں ہورہی جنگ کو آپ کوئی بھی نام دے لیجیے پاکستان ماضی میں بھی متاثر رہا ہے اور شاید مستقبل میں بھی متاثرین میں سرفہرست رہے ۔ ازبکستان کے دورہ میں جس طرح سے پاکستان نے افغانستان کا مقدمہ پیش کرکے اشرف غنی کو آئینہ دکھایا ہے وہ بھی قابل غور ہے ۔ افغانستان میں ہر روز طالبان فاتح کے طور پر نہ صرف ابھر رہے ہیں بلکہ اپنا آپ منوا بھی رہے ہیں۔ ازبکستان کے شہر تاشقند میں وسطی جنوبی ایشیائی رابطہ کانفرنس میں افغانی صدر اشرف غنی نے پاکستانی قیادت کے سامنے بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی تو پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کے سامنے افغانی صدر کے الزامات کو جہاں بے بنیاد قرار دیا وہی بتلایا کہ افغانستان میں امن کی سب سے زیادہ کوشش پاکستان کررہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث ہوگی کہ بھارتی چینل نے پاکستانی وزیراعظم سے پاک بھارت تعلقات بارے من چاہا سوال کیا تو اس کے جواب میں ہندو توا قیادت کا آئینہ دکھا کر بے پروا ہو کر پاکستانی قیادت آگے کو بڑھ گئی اس نے ظاہر کردیا کہ پاکستان اس وقت کس قدر پراعتماد ہوکر اپنے مسائل سے نمٹ رہا ہے ۔

    افغانی نائب صدر اور افغانی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ نے پاکستان پر الزام لگایا کہ پاک فضائیہ نے کہ اگر چمن بارڈر کے قریب أفغانستان کی حدود میں ان طالبان کے خلاف کارروائی کی گئی جنہوں نے سپین بولدک پر قبضہ کیا ہے تو اس کا پاکستان کی جانب سے جواب دیا جائے گا۔’تاہم پاکستان کی دفتر خارجہ نے جمعے کو ہی ایک بیان میں ایسے کسی پیغام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان کے بعض حکام دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کے لیے جھوٹ پر مبنی بیانات جاری کر رہے ہیں حالانکہ پاکستان نے کل ہی سپین بولدک پر طالبان کے حملے کے دوران وہاں سے فرار ہو کر پاکستان پہنچنے والے چالیس افسروں اور اہلکاروں کو واپس افغانستان پہنچایا ہے۔’ اس طرح کے بیانات سے پاک افغان تعلقات میں جو کشیدگی آئے گی اس کا سب سے زیادہ نقصان افغانستان کو ہوگا ۔ پاکستان کسی بھی طرح سے نہیں چاہے گا افغانستان میں امن کا مسئلہ قائم رہے۔ پرامن افغانستان ہی پاکستان کے حق میں ہے ۔ ماضی میں افغانستان سے جس طرح سے دراندازی ہوتی رہی ہے وہ ظاہر کرتی ہے افغان صدر اور ان کے لوگ بالواسطہ یا بلا واسطہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں ۔ افغان قیادت کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے تاکہ پاکستان بغیر کسی حیل و حجت کے ان کے ساتھ کھڑا رہے ورنہ تو پاکستان کے پاس آپشن موجود ہے۔

  • افغان جنگیں، مستقبل اور رائے . تحریر: اسحاق

    افغان جنگیں، مستقبل اور رائے . تحریر: اسحاق

    1973 میں افغانستان کی شہنشاہیت کا دور ختم ہوا تو داؤد خان نے جمہوری خطوط پر ملک کو استوار کرتے ہوئے اپنے لیے صدر کا عہدہ سنبھالا ، داؤد خان پاکستان کے سخت خلاف تھا، پاکستان کے پشتونوں اور بلوچوں کو ملک پاکستان سے علیحدگی کے لئے بہت ساری اندرونی سازشیں شروع کر کے پاکستان میں کئی دہشت گرد حملے بھی کروائے، اسی سلسلے میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی افغانستان پراکسی جنگ کا سلسلہ شروع کیا تھا جو آنے والے دن میں بڑھتا چلا گیا اور یہ آج تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تعلقات کے لیے مسئلہ ہے، دیکھا جائے تو 1979 کے آخر میں جب روسسی یونین نے افغانستان پر غیر انسانی حملہ کیا اور اس بدترین حملے سے لاکھوں جانوں کا ضیاع ہوا، لاکھوں گھر اجڑے، ہر طرف خوف و حراس پھیل گیا تو لاکھوں افغانی خاندان پاکستان کے بارڈر کو کراس کر کے پاکستان آئے، پاکستان نے ان کو گھر دئیے اور ملک میں کہیں بھی رہنے کام کرنے کا اجازت نامہ دیا، اس کے علاؤہ پاکستان نے اپنے فوجی دستے اور عام عوام کو افغانستان کیلئے روس کے خلاف جہاد کرنے کیلئے بھی بھیجا، اور بالآخر 1989 کے شروع میں روس کو شکست دے کر اس خطے سے نکال دیا گیا.

    2001 میں امریکہ یورپ سمیت دنیا بھر کی پاوفل افواج افغانستان میں اتر آئیں جن کا نظریہ افغانستان سے دہشت گردوں گردہ کا خاتمہ اور امن قائم کرنا تھا جہاں ان کا تصادم افغان طالبان سے تھا جن کا نظریہ جہاد اور افغانستان میں مکمل طور پر اسلام کا قانون نافذ کرنا تھا، جہاں کوئی بھی شخص اسلام کی حدود سے باہر کوئی ذاتی طرز زندگی کا حامل نہیں ہو سکتا تھا، 20 سال تک یہ جنگ چلتی رہی مگر دنیا کی تمام طاقتور افواج افغان طالبان کو زیر نہ کر سکیں، تو بات معاہدے پر آئی جو کہ 2020 کے شروع میں کیا گیا، جس کے تحت تمام غیر ملکی افواج افغانستان سے واپس نکلنے لگیں اور معاہدے کے مطابق افغانستان سے نکلنے والی افواج ہر طالبان حملہ آور نہیں ہوں گے ،

    متحدہ ممالک کی افواج کے انخلا کے بعد اب افغانستان ایک نئی جنگ سے دوچار ہے جس میں موجودہ افغان حکومت اور طالبان مد مقابل ہیں، جہان تک طالبان کی بات ہے تو پورے ملک میں اپنی مرضی کے قوانین نافذ کرنے کی ٹھان چکے ہیں اور موجودہ حکومت کسی طرح بھی ان کو روکنے کیلئے سرگرم ہے، حتی کہ افغان حکومت کسی طرح کے معاہدے کی بھی حامل نہیں، اور طالبان کو نئے علاقوں پہ قابض ہونے سے تو اعلانیہ طور پر روک بھی رہی ہے اور طالبان کے زیر سایہ علاقے بھی واپس چھیننے کی جسارت کر رہی ہے، اس وقت ملک میں خانہ جنگی کی شدت ہے، جس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ ہمسایہ ملکوں کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں.

    افغانستان کی عوام کو اپنی موجودہ حکومت پر کوئی بھروسہ نہیں، عوام موجودہ حکومت کو کرپٹ اورچورحکومت سمجھتی ہے جس کو اپنے ملک کی عوام کی فلاح و بہبود کی کوئی فکر نہیں ہے ، مگر عوام میں طالبان کا ایک خوف طاری ہے ، عوام میں یہ بات عام ہے کہ طالبان نے جو علاقے فتح کئیے اور اپنے قوانین لاگو کئیے وہاں عورتوں کا گھرسے باہرنکلنے کی اجازت نہیں، مردوں کو ہر صورت داڑھی رکھنے کا لازم و ملزوم قانوں ہے اور مختلف اسلامی روایات کو ڈنڈے کے زور پر لاگو کرنے کے حامل ہیں، اس خوف سے عوام کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ کرپٹ حکومت کو تو سہن کر سکتے ہیں مگر طالبان کی طرف سے سختی اور زبردستی سے لاگو کردہ قوانین کو سہن نہیں کر سکتے، جبکہ طالبان کے بیان کے مطابق اس طرح کی کوئی زبردستی قانونی حیثیت رائج نہ کی ہے اور نہ کی جائے گی.

    ایک تجزیے کے مطابق یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے افواج کی انخلا کا عزم اس لئیے کیا تاکہ پاکستان دشمن قوتیں اپنی ضمیر فروش تنظیموں کو پاکستانی بارڈر کے ساتھ قبضہ کرنے کا موقع فراہم کرے جو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملے کریں اور سی پیک کو نقصان پہنچائیں، جس ہر پاکستان نے اظہار تشویش بھی کیا ہے.

    عوامی رائے کی مانیں تو افغان عوام اپنی ایمان فروش حکومت سے انتہائی نالاں اور برہم ہے، تو اسی سلسلے میں افغان طالبان کو اپنے قوانین میں انفرادی آزادی، محبت اور تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ افغانستان میں ایک آزاد اسلامی ریاست کا قیام ہو، اورمزید یہ کہ پاکستان اورایران سے تمام افغان مہاجر اپنے ملک واپس جاسکیں، اس خطے میں کوئی بدامنی باقی نہ رہے، اللہ عالم اسلام کو آزادی اور سکون عطا کرے اور بدامنی اور خونریزی سے محفوظ رکھے.

    @IshaqSaqii

  • ھندوستان کے خطے میں چودھری بننے کا خواب چکنا چور . تحریر :‌  فرمان اللہ

    ھندوستان کے خطے میں چودھری بننے کا خواب چکنا چور . تحریر :‌ فرمان اللہ

    افغانستان میں امریکی فوج انخلا کے بعد ھندوستان خطے پر بادشاہت بننے کا خواب دیکھ رہا تھا اور اسی وجہ کو لیکر افغانستان میں اپنے قونصل خانے قائم کی ساتھ اپنا فوج بھی افغانستان میں تعینات کیا امریکہ اور ھندوستان کا ملی بھگت تھا کہ خطے پر ھندوستان کا راج ہوگا، یہاں ھندوستان پاکستان کو ہر طرف سے گھیرنا چاہتا تھا جبکہ امریکہ اور چین کا نہیں بنتا تو امریکہ چین پر نظر رکھنا چاہتا تھا لیکن امریکہ کو کیا پتہ کہ اس مقصد کیلئے جس کو چھنا تھا وہ ظاہری طور پر بدمعاش لیکن بزدل ملک ہے، دوسرے طرف افغان م ج ا ھ د ی ن نے ٹھوک کے رکھ دئیے اور خالات کو یکسر تبدیل کر دئیے افغانستان میں ط ا ل ب ا ن نے یکدم سب کچھ ہلا کر رکھ دی اور قابض ہوتے نظر ائے تو ایک طرف امریکہ انخلا پر مجبور ہوگئے لیکن ان سے پہلے پہلے خطے کا چودھری ھندوستان گیدڑوں کیطرح بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے خالات بہت دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں ایک طرف ط ا ل ب ا ن نے افغانستان پر قبضہ جمانا شروع کیا ہے تو دوسرے طرف چین، روس، برطانیہ، نے ط ا ل ب ا ن کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے خطے سمیت دنیا کے خالات بدلتے نظر ارہے ہیں.

    ھندوستان اب صرف تماشہ دیکھ رہے ہیں اور ساتھ اس غم میں مبتلا ہیں کہ م ج ا ھ د ی ن افغانستان پر قابض ہونے کے بعد کہی سلطان محمود غزنوی کا تاریخ نہ دھرا لے اور اس بات کا اندازہ اپ ھندوستانی میں میڈیا کی چیخیں دیکھ کر سکتے، افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے ہم افغانستان میں امن کیلئے اچھے خواہشات رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اپس میں اتفاق عطاء فرمائے لیکن یہاں ایک بات ضروری سمجھتا ہوں لر بر اور سرخو کا کیا بنے گا جو لر بر کا نعرے لگاتے نہیں تھکتے تھے، افغانی حکام ہمیشہ پاکستان پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں لیکن حقیقت تو یہ کہ مشرف نے کھل کر امریکہ کا ساتھ دیا تھا خیر یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن پاکستان میں ہمیشہ لر بر کے نعرے لگانے والے اور پختون تحفظ موومنٹ کے نام سے بننے والے سرخو کے پیچھے ہمیشہ افغانستان کے حکام ملوث رہے پاکستان میں ھندوستانی ایجنٹ آسانی سے افغانستان سے اتے رہے ھندوستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف ہر ممکن کوشش کی لیکن ناکامی کے علاوہ کچھ نہیں ملا، پاکستان خطے کا زمہ دار ملک ہے خالات پر گہرے نظر رکھتے ہیں لیکن کسی بھی طرف ساتھ دینے سے فی الحال قاصر ہے اور یہی ٹھیک ہے پچھلے سولہ سال سے پاکستان کسی اعت کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکے ہیں.

    Femikhan_01

  • پرواز . تحریر: آصف راج

    پرواز . تحریر: آصف راج

    کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں ایک آدمی کو ایک عقاب کا چھوٹا سا بچہ مل گیا وہ اسے اٹھا کر اپنے گھر لے آیا اور گھر آ کر اس نے عقاب کے بچے کو گھر میں موجود اپنی مرغیوں اور چوزوں کے ساتھ چھوڑ دیا اب جو چیزیں مرغیاں کھائیں عقاب بھی وہی کھائے جس طرح مرغیاں چلیں عقاب بھی ویسے ہی چلے جیسا کہ سب جانتے ہیں مرغے مرغیاں پر ہونے کے باوجود زیادہ تر اڑتے نہیں ہیں اگر کبھی اڑتے بھی ہیں تو دیوار کی حد تک اب عقاب جو کہ انہی میں پل بڑھ رہا تھا اسکی پرورش بھی ویسے ہی ہو رہی تھی جیسے باقی کے مرغے اور مرغیوں کی ہو رہی تھی جیسے جیسے دن گزرتے گئے وہ سب بڑے ہوتے گئے اب وہ عقاب بھی خود کو مرغا ہی سمجھنے لگا
    لیکن رنگ نسل اور جسامت کو لیکر احساس کمتری کا شکاربھی کہ باقی سارے مرغے اور مرغیاں ایک جیسے ہیں انکی بولی اور شکل صورت بھی ایک جیسی ایک میں ہی ہوں جو ان جیسا نہیں ہوں.

    اس بات کا مرغے بھی خوب فائدہ اٹھا رہے تھے جیسے ہی سامنے کوئی دانہ دنکا آتا وہ اس پہ رعب ڈال کر خود کھا لیتے جو بچ جاتا اس میں سے عقاب کو ملتا اب جو مالک تھا وہ یہ سب کافی دنوں سے دیکھ رہا تھا اور دیکھ کر حیران بھی کہ یہ عقاب کو کیا ہو گیا یہ تو ایسے نہیں ہوتےسہمے سہمے سے اور یہ اڑتا بھی نہیں ہے شکار وغیرہ کرنا تو بہت دور کی بات اب وہ آدمی روزانہ عقاب کو اٹھائے اور اسے بولے کہ بھائی تو عقاب ہے زمین پہ چلنا تیرا کام نہیں تو آسمانوں میں اڑان بھر یہ کہہ کر وہ اسے ہوا میں پھینک دے لیکن اگلے ہی پل عقاب صاحب دوبارہ زمین پر ملیں وہ آدمی اسے پھر اٹھائے اور دوبارہ ہوا میں پھینک دے لیکن عقاب پر نا کھولے اور پھر زمین پرکافی دن ایسے ہی چلتا رہا لیکن مجال ہے کہ عقاب نے ایک بار بھی اڑان بھری ہوآدمی نے کہا کہ اب اگر تو نا اڑا تو میں تمہیں پہاڑ سے گرا آوں گا یہ کہہ کر اس نے پھر عقاب کو ہوا میں اچھالا لیکن اس بار بھی عقاب نہیں اڑا اب آدمی اسے لیکر پہاڑ کی چوٹی پہ پہنچ گیا اورعقاب سے کہا کہ دیکھ بھائی یہ تیرے پاس آخری موقع ہے .

    اگرتم نے پہلے کی طرح بزدلی دکھائی تو کچھ ہی دیر میں ہزاروں فٹ نیچے کسی پتھر پہ پڑا تڑپ رہا ہوگا اور اگر ابار تم نے دلیری دکھا دی بتو پرندوں کا بادشاہ کہلائے گا یہ بول کر آدمی نے عقاب کو پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرا دیا اب جیسے جیسے زمین قریب آتی گئی یقینی موت کو دیکھ عقاب نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں اور اس آدمی کو بددعائیں دینا شروع کر دیں کہ کتنا ظلم کیا اس نے میرے ساتھ اور پھر اچانک سے اسے خیال آیا کہ یار یہ آدمی اتنے دنوں سے بول رہا تھا کہ تو عقاب ہے تیرا کام چلنا نہیں آسمانوں میں اڑنا ہے آج اسکی مان کر دیکھ ہی لوں
    ورنہ موت تو وہ ہے جو ابھی آئی کی آئی ہے یہی سوچ کر اس نے زندگی میں پہلی بار ہمت کر کے اپنے پروں کو اڑنے کے لئے کھولا تو اسے احساس ہوا کہ میرے پر عام پر نہیں بلکہ یہ وہ پر ہیں جو مجھے پر وقار ، با رعب اور وہ اونچی اڑان دیں گے کہ میں آسمانوں کا سینہ چیرتے ہوئے پرواز کروں گا ایسی پرواز جو مجھے پرندوں کا بادشاہ بنائے گی اس نے اڑنا شروع کیا کیوں کہ اب وہ جان چکا تھا کہ وہ کیا اب وہ جان چکا تھا کہ اس میں قوت پرواز ہے اب وہ جان چکا تھا کہ اس کے لئے اڑنا ممکن ہے.

    تو دوستو یہی کچھ ہمارے لئے ہے ہو سکتا ہے ہم پلے بڑھے ہی ایسے ماحول میں ہوں ہمیں کبھی ایسا موقع ہی نا ملا ہو کہ ہم خود کو جان سکیں ہمیں کبھی ایسا پلیٹ فارم ہی نا ملا ہو کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو منوا سکیں ہم رنگ نسل اور قومیت میں ہی دب کر رہ گئے ہوں آگے بڑھنے کا خیال ہی دل سے نکال دیا ہوہم نے کبھی اونچا اڑنے کے لئے اپنے ہر ہی نا کھولے ہوں اور احساس کمتری کا شکار ہو کر زندگی گزار رہے ہوں ہم اکثر کئی کامیاب لوگوں کو دیکھتے ہیں یا کئی کامیاب لوگوں کے بارے پڑھتے ہیں وہ کوئی آسمان سے نہیں اترے ہوتے وہ بھی ہم میں سے ہی ہیں لیکن انہوں نے اپنی سوچ کو محدود نہیں رکھا انہوں نے اپنی منزل کو آسمان جانا اور حاصل کرنے کے لئے اپنے پروں کو حرکت دی تو کیوں نا ہمیں بھی ایک بار اس رنگ نسل کی سوچ سے آگے احساس کمتری سے نکل کر اپنے اندر وہ عقابی روح بیدار کرنے کی کوشش تو کرنی چاہئے اپنے اندر موجود ان صلاحیتوں کو استعمال تو کرنا چاہئے جو ہمیں دوسروں کے لئے مثال بنا دے ہمیں ہمارے وہ پر کھولنے تو چاہئے جو ہمیں پرواز کی ان بلندیوں تک لیکر جائے جس کے لئے ہم پیدا ہوئے ہیں یقین کریں ہم میں وہ سب کرنے کی قوت حوصلہ صلاحیت موجود ہے جس کا دوسرے فقط تصور ہی کر سکتے ہیں بس دیر ہے تو اپنی اس خاصیت کو ڈھونڈ کر اس پہ عمل کرنے کی.

    @pm_22

  • دانتوں کی صحت کے لیے کچھ تجاویز . تحریر : مصعب طارق

    دانتوں کی صحت کے لیے کچھ تجاویز . تحریر : مصعب طارق

    ‎صحت مند دانت کا حصول زندگی بھر کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ کو یہ بتایا گیا ہو کہ آپ کے دانت اچھے ہیں ، لیکن ان کی دیکھ بھال کرنے اور پریشانیوں سے بچنے کے لئے ہر روز صحیح اقدامات کرنا اہم ہے۔ اس میں زبانی نگہداشت کی صحیح مصنوعات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی روز مرہ کی عادات کو بھی ذہن میں رکھنا
    ‎شامل ہے۔

    ان میں کچھ اقدامات ذیل ہیں
    1. دانت صاف کیے بغیر بستر پر نہ جائیں
    یہ کوئی راز نہیں ہے کہ عام دن میں ہی نے کم سے کم دو بار برش کرنا ہے۔ پھر بھی ، ہم میں سے بہت سے لوگ رات کے وقت دانت صاف کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ لیکن بستر سے پہلے برش کرنے سے وہ جراثیم اور (plaque) چھٹ جاتے ہیں جو دن بھر جمع ہوتے ہیں۔
    2. مناسب طریقے سے برش کریں
    جس طرح سے آپ برش کرتے ہیں وہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ دراصل ، دانت صاف کرنے کا ناقص کام کرنا تقریبا اتنا ہی برا ہے جتنا کہ برش نہیں کرنا۔ جراثیم کو ہٹانے کے لئے ٹوت برش کو نرم ، سرکلر حرکات میں منتقل کرتے ہوئے اپنا وقت لیں۔
    3. فلورائڈ ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں
    جب ٹوتھ پیسٹ کی بات آتی ہے تو ، سفید دانتوں اور ذائقوں سے کہیں زیادہ اہم عناصر کو تلاش کرنا ہوتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کون سا ٹوتھ پیسٹ منتخب کرتے ہیں ، یقینی بنائیں کہ اس میں فلورائڈ موجود ہے۔
    4. فلوسنگ کو بھی برش جتنی اہمیت دیں
    بہت سے لوگ جو برش کرتے ہیں کہ فلاس سے باقاعدگی سے نظرانداز ہوتے ہیں۔ فلاسنگ سے کھانے کے ٹکڑے جو آپ کے دانتوں کے درمیان پھنس رہے ہیں نکلنے میں مدر ملتی ہے۔ عام طور پر دن میں ایک بار فلاسنگ ان فوائد کو حاصل کرنے کے لئے کافی ہے۔
    5.ماوتھ واش پر غور کریں
    اشتہارات میں ماوتھ واش پر بہت زور دیتے ہیں ، لیکن بہت سے لوگ انہیں چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں۔ شوارٹز کا کہنا ہے کہ ماؤتھ واش تین طریقوں سے مدد ملتی ہے:
    یہ منہ میں تیزاب کی مقدار کو کم کرتا ہے ، مسوڑوں کے آس پاس اور برش والے علاقوں کو صاف کرتا ہے ، اور دانتوں کو دوبارہ معدنی بنا دیتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "چیزوں کو توازن میں لانے میں مدد کرنے کے لئے ماؤتھ واش ایک منسلک ٹول کے طور پر کارآمد ہیں۔ "میرے خیال میں بچوں اور بوڑھے لوگوں میں ، جہاں برش کرنے اور فلاس کرنے کی قابلیت مثالی نہیں ہوسکتی ہے ، وہیں ماؤتھ واش خاص طور پر مددگار ثابت ہوتی ہیں۔”
    اپنے ڈینٹسٹ سے مخصوص ماؤتھ واش سفارشات طلب کریں۔ کچھ برانڈز بچوں کے لیے بہترین ہوتے ہیں ، اور جن دانت حساس ہوتے ہیں۔
    6. زیادہ پانی پیئے
    منہ (oral health) کی صحت سمیت – پانی آپ کی مجموعی صحت کے لیے بہترین ہے۔ شوارٹز ہر کھانے کے بعد پانی پینے کی سفارش کرتے ہیں۔ اس سے برش کے بیچ میں چپچپا اور تیزابیت خوردونوشوں اور مشروبات کے کچھ منفی اثرات کو دھونے میں مدد مل سکتی ہے۔
    7. شوگر اور تیزابیت دار کھانوں کو محدود کریں
    آخر کار ، شوگر منہ میں تیزاب میں تبدیل ہوجاتا ہے ، جو پھر آپ کے دانتوں کے (enamel) کو خراب کرسکتا ہے۔ یہ تیزاب وہی ہیں جو (cavities) کا باعث بنتے ہیں۔ تیزابیت والے پھل ، چائے ، اور کافی دانتوں کے (enamel) کو خراب کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کو اس طرح کے کھانے سے مکمل طور پر گریز کرنا پڑے۔
    8. سال میں کم سے کم دو بار اپنے ڈینٹسٹ سے طبی معائنہ کروایں
    آپ کی اپنی روزمرہ کی عادات آپ کی مجموعی (oral) صحت کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ پھر بھی ، یہاں تک کہ انتہائی ذمہ دار برششر اور فولسروں کو بھی مستقل طور پر ڈینٹسٹ کے پاس جانے کی ضرورت ہے۔ کم سے کم ، آپ کو سال میں دو بار صفائی اور چیک اپ کے لئے اپنے ڈینٹسٹ سے ملنا چاہئے۔ ڈینٹسٹ نہ صرف (calculus) کیلکولس کو ہٹا سکتا ہے اور (cavities) کی تلاش کرسکتا ہے ، بلکہ وہ امکانی امور کو بھی تلاش کرنے اور علاج معالجے کی پیش کش کرسکیں گے

    @mussab_tariq

  •  پردیسیوں کے مسائل . تحریر :  تظخر شہزاد

     پردیسیوں کے مسائل . تحریر : تظخر شہزاد

    لفظ پردیسی پردیس سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں اپنے آبائی وطن گاؤں شہر یا علاقے کو چھوڑ کر دوسرے شہر یا ملک میں بسنے والا. آج کے ترقّی یافتہ دور میں لاکھوں پاکستانی اپنے وطن سے دور بہتر مستقبل اور خوشحالی کےلیے دنیا کے مختلف ممالک جن  میں مشرق وسطیٰ، جنوبی افریقہ، یورپ،  امریکہ اور کینیڈا  سر فہرست ہیں میں روزگار کماتے ہیں جس کی بڑی وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد تقریباً 9 ملین ہے جن میں سب سے زیادہ تعداد  تقریباً 2.6 ملین سعودی عرب میں ہے. بظاہرتو پردیسی خوشحال لگتے ہیں مگر ان کے مسائل بھی بے شمارہیں. کبھی ان کی آنکھوں میں جھانک کردیکھیں تو وہ کرب نظرآتا ہے

    جو سالوں سے اپنے دل میں چھپائے ہوتے ہیں اپنوں سے دور رہ کر دیارِغیر میں جو کرب وہ محسوس کرتے ہیں الفاظ میں  بیان کرنا مشکل ہے  پاکستان میں خاندان کے کسی فرد کو کوئی تکلیف ہو یا کوئی وفات ہو تو ہزاروں میل دور پردیسی کے شب و روز کس قدر تکلیف میں گزرتے ہیں یہ وہی جانتے ہیں. اپنے اہل و عیال کی فرمائشیں پوری کرنے کےلیے وہ عرب کے تپتے صحراؤں میں یورپ اور امریکہ کی ٹھٹھرتی سردی میں دن رات محنت کرتے ہیں کون جانے کہ وہ اپنوں کے لیے چھپ چھپ کر روتے ہے مگر اس کے لیے بولے گئے الفاظ کہ آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے  سینے میں تیر کی طرح پیوست ہو جاتے ہیں اوورسیز پاکستانیوں کا ایک بڑا مسئلہ جائیداد پر غیر قانونی قبضہ بھی ہے دیار غیر میں خون پسینے کی کمائی سے خریدی جانے والی جائیداد پر قبضہ کر لیا جاتا ہے اور بعض اوقات تو اس میں رشتہ دار بھی ملوث ہوتے ہیں بیچارہ پردیسی کچھ ماہ کی چھٹی لے کر گھر جاتا ہے تو جائیداد کے تنازع میں الجھا دیا جاتا ہے اور کبھی کبھار توجائیداد سے ہاتھ دھونا پڑ جاتے ہیں.

    اس کے علاوہ پردیسیوں کے جہاں عرب ممالک میں ویزہ مسائل ہیں تو یورپ میں امیگریشن کاغذات کے مسائل جن کو حل ہونے میں کئی بار تو سالوں لگ جاتے ہیں عرب ممالک میں سب سے زیادہ مسئلہ اجرت کا ہے کئی کئی ماہ کی تنخواہیں روک لی جاتی ہیں کفالہ نظام کی وجہ سے دوسری جگہ  نوکری ڈھونڈنا محال ہو جاتا ہے.

    پردیسیوں کے مسائل حل کرنے میں مختلف ممالک میں پاکستانی ایمبیسیوں نے بھی کوتاہی برتی ہے اور اب بھی جاری ہے جہاں  کوئی غریب الوطن اگر چلا جائے تو اسے دھتکار دیا جاتا ہے گزشتہ ماہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے  ریاض میں  پاکستانی ایمبیسی کے عملے کے 6 ارکان کو واپس بلا لیا  اور انکوائری کا حکم دیا. ماضی میں اورسیز پاکستانیوں کے مسائل کی طرف توجہ نہ دی گئی مگر موجودہ حکومت کوشش تو کر رہی ہے مگر مسائل کا انبار ہے حل کرنے کے لیے  جہاں سفارتی عملے کی اخلاقی تربیت ضروری ہےوہاں وقت بھی درکار ہے. گزشتہ ڈیڑھ سال سے کورونا کی وجہ سے جو صورتحال ہے اس کا سب سے زیادہ اثر پردیسیوں پر پڑا ہے سفری مسائل اور ملازمتوں کا بحران شروع ہو گیا ہے مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والوں کے ویزے ختم ہونے کی وجہ سے ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں یورپ امریکہ اور دیگر ممالک میں بے روز گاری بڑھ گئی ہے.

      جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کے حالیہ ہنگاموں کی وجہ سے وہاں روزگار کمانے والے پاکستانی مشکلات کا شکار ہیں بنے بنائے کاروبار اور دکانیں  لوٹ لی گئیں ہیں ان کو ریسکیو کرنے کے لیے ایمبیسی کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ پاکستانیوں کی فوری مدد کی جائے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کو نعمتوں سے نوازے تاکہ کوئی پردیسی وطن چھوڑنے کے کرب سے نہ گزرے.

    @tazher55

  • ہم جس کے حقدار ہمیں وہی مقام نہیں ملا . تحریر : آصف شاہ خان

    ہم جس کے حقدار ہمیں وہی مقام نہیں ملا . تحریر : آصف شاہ خان

    مختلف اقوام کے لوگ اسلام کی چھتری کے نیچے جمع ہوے اور اپنے لیے ایک الگ شناخت اپنایا. ان لوگوں نے اپنے قائد ، قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں کھٹن محنت کرکے کرکے اور اخرکار ۱۹۴۷ء میں یہ لوگ اپنی الگ شناخت کے ساتھ ایک ریاست کے مالک بنے. لیکن ان لوگوں کی بدقسمتی یہ تھی کہ ریاست آزاد کرانے کہ بعد ابھی اس نظام کو لاگو نہیں کیا تھا جس کا ان لوگو ں نے اللہ وعدہ کیا تھا کہ ان کے اس معجزاتی تحریک کے اکثر قیادت وفات پاگئے. اب قیادت کےلیے اس نئ شناخت والی قوم کے ساتھ کوئی حل نہیں تھا سوا اس کے کہ قیادت کو ان لوگوں کے ہاتھ دیا جائے جن نے انگریزوں کے یہاں پر حکمرانی کے وقت ان کے ساتھ مختلف عہدوں پر نوکری کر چکے تھے. لوگوں کا خیال تھا کہ یہ چونکہ مختلف نوکریاں انجام دے چکے ہیں تو ملک چلانا اسان ہوگا یہ سوچ تو چلانے کے حد تک ٹھیک تھی لیکن مسلہ ایک اور جگہ پر تھا اور وہ یہ کہ ین نئی قیادت کے پاس اس نظام کو لاگو کرنے کے بارے کوئی علم نہیں تھا جس کے خاطر ملک کو حاصل کیا گیا تھا.

    اس نظام کے بارے میں علم نہ ہونے، انگریزوں کے ظاہری عیاشیاں قریب سے دیکھنے اور انگریزوں کی دنیا پر حکمرانی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نئی قیادت نے بجائے اس کے کہ اپنے نظام کو لاگو کرتے ان لوگو نے انگریزوں کے غلاموں کے لیے بنائے ہوئے نظام کو ترجیح دی. اس نئی قیادت کی نظر میں تھا کہ انگریزوں کے ظاہری عادات و اطوار کو اپنا کر، غلامی کے نظام کو لے کر اسلامی نظام کے بغیر ترقی حاصل کرینگے. اس قیادت کا خیال تھا کی انگریزوں کی ترقی ان کے ظاہری عادات و اطوار اور اس نظام کی وجہ سے ہے. لیکن یہ ان کی غلط فہمی تھی. انگریزوں کے عادات و اطوار توغلاموں پر حکمرانی کا نشہ اور ان کا یہاں بنایا ہوا نظام الگ غلاموں کیلئےتھا تاکہ غلام غلام رہے اور حکمرانی طویل عرصے کیلئے ریے. جن لوگوں کو حکمرانی ملی وہ تو تحریک پاکستان کا حصہ نہ تھے ہاں لیکن یہ ضرور تھا کہ وہ انگریزوں کے غلامی کے نظام کا حصہ تھے. اس لیے ان کے پاس اپنے نظام کا علم نہیں تھا لیکن انگریزوں کے غلامی والے نظام کے بارے جانتے تھے. اس لیے قیادت ملنے کے بعد رفتہ رفتہ اس نئی قیادت نے وہی غلامی کا نظام رائج کرنے کیلئے اقدامات شروع کیے اورانگریزوں کے ظاہری عادات و اطوار کو اپنا کر اپنے لیے باعث فخر سمجھ کر اس کو ترقی کا معیار مقر ر کیا. نتیجہ یہ نکلا کہ حکمرانوں میں اور عوام میں انگریرزوں کے دور کے طرح فاصلے بڑھ گئے .

    اپنے ظاہر کو انگریزوں کے طرح کرنے کیلئے عیاشیوں کے پیچھی پڑھ گئےاور پھر کیسی نے عوام کے مسائل اور ترقی کا نہیں سوچا کیونکہ وہ نظام اور حکمرانی کا نشہ ایسا تھا کہ جو غلاموں کو غلامی میں رکھنے کیلئے تھا. اور اس طرح عوام غلامی کے دور سے نجات نہیں پائے بس مالک بدلے. جو آج تک عوام بگھت رہے ہیں عمران خان سے پہلے ہم تاریخ دیکھ لے تو نظر آتا ہے کہ ہمارے حکمران انگریزوں سے اتنے متاثر ہیں کہ اپنے قومی لباس تک پر شرماتے ہیں . جس قوم کے حکمرانوں کا یہ معیار ہو وہ کیسے ترقی کرسکتی ہے؟ ہمارے نجات اور ترقی کا واحد زریعہ نظام کو تبدیل کرنا ہے ہمیں غلامی کے نظام کے بجائے اسلامی نظام جس کا ہم نے وعدہ کیا تھا لانا ہوگا. نظام کو تبدیل کرکے ہم ترقی حاصل کرسکتے ہیں.

    @IbnePakistan1

  • پاکستانی سپاہی . تحریر : مریم راجپوت

    پاکستانی سپاہی . تحریر : مریم راجپوت

    زندگی اور موت پاکستانی سپاہی کی زندگی اور موت کی داستان جسے ہم فراموش کر دیتے ہیں زندگی جس میں کسی اپنے سے کیۓ گئے وعدے پورے کرنے تھے زندگی جس میں ابھی کسی کا ہمسفر بننا تھا زندگی جس کی آمد ایک پورے گھر کی خوشی کی واحد وجہ تھی زندگی جس میں اپنی پھولوں جیسی بیٹی کے بہت سے ناز اٹھانے تھے زندگی جس میں اکلوتے بھائی نے بہنوں کے فرض سے سبکدوش ہونا تھا زندگی جسے بوڑھے باپ کا سہارا بننا تھا زندگی جو ماں کی گود میں سر رکھ کر زندگی جینا چاہتا ہے زندگی جسے اسے ابھی اپنے جگری یاروں کے ساتھ مل کر دشمنوں کے بےشمار ارادوں کو شکست دینی تھی.

    لیکن ایک سپاہی کی زندگی میں ایک ہی تمنا سب سے بڑی ہوتی ہے جس کی پوری ہونے کی دعا وہ ہر پل ہر دم کرتا ہے موت شہادت کی موت بس چند منٹوں کی بات ہوتی ہے اور زندگی اور موت کا فیصلہ ہوجاتا ہے….. وہ آنکھیں جو ابھی بہت سی خوشیاں دیکھنے کی منتظر تھی وہ بند ہونے جا رہی تھی وہ کان جو بہنوں کی چہکتی، بیٹی کی میٹھی اور ماں کی شیریں آواز سننے کے منتظر ناجانے کب سے انتظار میں تھے موت کی آغوش کو سن رہے تھے وہ دماغ آج سب ذمہ داریاں چھوڑ کر اپنی پہلی اور آخری ذمہ داری پوری کرنے میں آج اپنے ملک کے لیے قربان ہو رہا تھا اس کی آمد کا منتظر وہ چہکتا گھر وہ چڑیوں سے چہچہاتی بہنیں وہ ماں کی بے چین آنکھیں وہ باپ کا فخر بیٹی کا سوپر ہیرو اور کسی کا اپنے نام سے جڑے جانے والے سب کچھ کا انتظار چند گھنٹوں میں سبز پرچم میں لپٹے ہوۓ الوداعی سلام کے لیے پہنچ جاتا ہے .

    جو لوگ پاکستان کی ایک آواز پر اپنا گھر بار بچے ماں باپ چھوڑ کر بھاگے چلے آتے ہیں اور اپنی زندگی کا فیصلہ ایک پل میں کر دیتے ہیں خدارا ان کی عزت کیا کرۓ ان سے محبت کیا کرۓ.

    pagli_hun@