Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عرش سے فرش تک سفر. تحریر:عزیز الرحمن

    عرش سے فرش تک سفر. تحریر:عزیز الرحمن

    اس دنیا میں کوئی بھی انسان جب کامیاب ہوجائے وہ اس وقت توبہت ہی خوشی میں مبتلا ہوجاتا ہے پروقت کے ساتھ ساتھ اس میں غرورتکبر آنا شروع ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں اس طرح زیادہ تروہ لوگ ہیں جو کامیابی تو حاصل کرتے ہے۔ کیوںکہ وہ غروراورتکبر کی وجہ سے اتنے لاعلم ہوجاتے ہیں کہ اس کواپنے پیچھے کی وہ بدحالی زندگی کو بھول جانے میں ذرا سی بھی دیرنہیں لگتی اوروہ اس قدر اپنے ہرفیصلہ میں جلد بازی کربیٹھتے ہیں۔ بہت سے لوگ آج کل اس قدر مبتلا ہے کہ عرش ملنے کے لئے بےتاب تو ہے ۔ پرانہیں کبھی فرش کے بارے میں سوچا بھی نہیں اورفرش میں آنے کے لئے دیربھی نہیں لگتی آج کل وہ زمانہ ہیں جوآپکو عرش تک لے گئے وہی آپکو فرش تک لے آنے میں ذارسی دیربھی نہیں کرتے، لہذا ہمیں چاہیے کہ فرش سے عرش تک جانے سے پہلے سوچنا بھی اورکبھی پیچھے کی زندگی کونہ بھولنا۔ کیونکہ کچھ لوگ آپ کو نہ توفرش میں رکھنے دیں گے اور نہ ہی عرش میں رکھنے دیں گیں۔ انسان کوچاہیے کہ برابری کے حساب سے چلے کیوں آج کل اس زمانہ میں رہنا ہی بہت ہوگیا ہے.

    اکثراوقات شوشل میڈیا پرمیں نے دیکھا کہ آج فلاں فلاں شخص کو اتنی عزت ملی اورکچھ عرصہ کے بعد وہی شخص پھرشوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنا رہتا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکا ہوگیا۔ کیوں اس دنیا میں بہت سے فرعون و بادشاہ گزر گئے اورآج بھی ان کو لوگ یاد کرتے ہے کچھ تو اچھے اورکچھ تو برا الفاظ میں کام وہ کرو تاکہ یہ دنیا اچھے لوگوں کے شمارمیں یاد کر لے، آئیں مل کرسب یہ وعدہ کریں کہ جب بھی کسی بھی جگہ پہ آپ کو کامیابی ملے اس کامیابی کو ہمیشہ ضائع مت کیجئے، اگرآپ کو کسی بھی ادارے، کمپنی، پارٹی، یا کوئی گروپ میں اچھے عہدے میں تعینات ہوں گے توکوشش کریں کہ سب کو خوش اوربرابری کی سطح پران پرنظرثانی کرے، کیوںکہ وہ لوگ ہے جو آپ کوعرش تک لے گئ۔

    @Aziz_khattak1

  • امریکہ: ڈینٹل کلینک میں بے ہوش مریض کے منہ سے 13 دانت چُرانے والی خاتون گرفتار

    امریکہ: ڈینٹل کلینک میں بے ہوش مریض کے منہ سے 13 دانت چُرانے والی خاتون گرفتار

    امریکا میں ایک ڈینٹل کلینک سے ہزاروں ڈالر چرانے کے جرم میں گرفتار ہونے والی خاتون نے بے ہوش مریض کے منہ سے 13 دانت بھی چوری کرنے کا بھی اعتراف کیا ہے ۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق، لاریل ایچ نامی 42 سالہ خاتون امریکی ریاست نیواڈا کی واشو کاؤنٹی کے علاقے سن ویلی میں دانتوں کے ایک کلینک میں ملازمت کرتی تھیں 3 مئی کے روز چوری کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس مذکورہ ڈینٹل کلینک پہنچی جہاں کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا جبکہ وہاں سے ڈاکٹر کی چیک بُک کے علاوہ تقریباً 23 ہزار ڈالر کی نقد رقم بھی غائب تھی۔

    چوری کا شبہ ڈینٹل کلینک کی ملازمہ لاریل ایچ پر گیا کیونکہ واردات کے بعد سے وہ بھی مسلسل غائب تھیں ڈھائی ماہ تلاش کے بعد، لاریل کو آخرکار بدھ کے روز گرفتار کرلیا گیا جنہوں نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کرلیا۔

    تفتیش کے دوران لاریل نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ واردات سے چند روز پہلے انہوں نے ایک بے ہوش مریض کے منہ سے 13 دانت بھی نکالے تھے جنہیں وہ اپنے پرس میں چھپا کر لے گئی تھیں۔

    اس انکشاف کے بعد واشو کاؤنٹی پولیس بھی چکرا کر رہ گئی ہے کیونکہ نقد رقم چرانے کا جواز پھر بھی بنتا ہے لیکن مریض کے منہ سے پورے 13 دانت چوری کرنے کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آرہی فی الحال پولیس کی تفتیش جاری ہے جس کے مکمل ہونے کے بعد ہی اس راز سے پردہ اٹھ سکے گا۔

  • خلیفہ دوم، مُرادِ رسولﷺ سیدناعمرفاروق رضی اللہ عنہ . تحریر : محمد معوّذ

    خلیفہ دوم، مُرادِ رسولﷺ سیدناعمرفاروق رضی اللہ عنہ . تحریر : محمد معوّذ

    پیغمبر آخر و اعظم، سرورِکونین،امام الانبیاء، سیدالمرسلین، خاتم النبیین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:’’ میرے صحابہؓ ستاروں کی مانند ہیں، تم (ان میں سے)جس کی بھی پیروی کرو گے، ہدایت پا جائو گے۔‘‘ تمام ہی صحابہؓ عشق و محبّت کے پیکراورایثارو وارفتگی کا مقدّس نمونہ ہیں۔ تمام صحابہؓ جہاں بھرسے افضل و اعلیٰ ہیں، لیکن چند چیزوں میں مرادِ رسولﷺ، سیّدنا عمربِن خطّابؓ تمام صحابہؓ میں ممتاز ہیں، ان میں آپ کا عدل و انصاف، آپ کی رائے کا وحی اور قرآن کے موافق ہونا، آپ کی شجاعت و دلیری، اللہ اوراس کے رسول ﷺکے معاملے میں کسی کا پاس نہ کرنا، قابل فخراورشان داردینی و مذہبی خدمات، رعایا کی خبرگیری خاص طورسے قابلِ ذکر ہیں۔

    حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بےشک، تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے لوگ بھی ہوتے تھے، جنہوں نے اللہ سے صرف ہم کلامی کا شرف پایا، لیکن وہ نبی نہ ہوئے، میری امت میں اگرکوئی ایسا (نبی) ہوتا تو وہ عمرؓہوتے۔ (صحیح بخاری )

    رسول اللہ ﷺنے یہ بھی ارشادفرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبوت کا مقام پا سکتا تو وہ حضرت عمرؓ ہوتے۔(مستدرک حاکم) ایک اورموقع پرسرکاردوعالم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نےعمرؓکی زبان پرحق کوجاری کردیا ہے، وہ حق بات ہی کہتے ہیں۔ (مشکوٰۃ )حضرت سعدؓ بن ابی وقاص اُن دس صحابہ میں سے ہیں، جن کے جنتی ہونے کی بشارت حضور ﷺ نے دی ہے۔ وہ حضرت عمرؓ کے بارے میں کہتے ہیں: خدا کی قسم ، عمرؓ اسلام لانے میں گو ہم سے پہلے نہیں اورنہ ہی ہجرت کرنے میں ہم پر مقدم ہوئے، مگرمیں خوب جانتا ہوں کہ کس چیزکے سبب وہ ہم سے افضل ہیں، وہ ہم سے آگے اس لئے بڑھ گئے کہ وہ سب سے زیادہ دنیا سے بے تعلق تھے ۔

    (ازالۃ الخفاء )حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاص ؓبھی رسول اللہ ﷺکے جلیل القدرصحابہؓ میں سے ہیں، حضورﷺ کی احادیث لکھنے کی سعادت آپ کو نصیب ہوئی۔ آپ حضرت عمرؓ کے بارے میں فرماتے ہیں، حضرت عمرؓ بہت جلیل القدرانسان تھے، ایک مرتبہ آپ نے حضرت عمرؓ کے لئے دعائے رحمت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بعد حضرت عمرؓ سے زیادہ خوف خدا رکھنے والا کسی کو نہیں پایا۔ (کنزالعمال )اسلام کے گلشن کوجن شہدائے اسلام نے اپنا قیمتی خون دے کرسدا بہارکیا، ان میں امیرالمومنین سیّدنا فاروقِ اعظمؓ کا اسمِ گرامی سرِفہرست ہے، آپؓ کے قبول اسلام کے لیے خود رسول اللہﷺ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا فرمائی ’’اے اللہ، اسلام کو عمر بِن خطّابؓ، یا عمرو بن ہشام کے ذریعے عزت دے۔‘‘

    خلیفۂ دوم،مرادِ رسول ؐ، شہیدِ محراب سیدنا فاروق اعظم ؓ کا نام نامی اسم گرامی عمر ‘فاروق اعظم لقب، والد کا نام خطاب تھا۔آپ علم الانساب میں ماہرتھے، نیز آپ کا شمار قریش کے ان گنے چنے افراد میں ہوتا تھا جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ فن خطابت کے بھی ماہر تھے۔ ذریعہ معاش تجارت تھا۔ اپنی آمدنی کا بیش تر حصہ فقرا‘ غلاموں، مسکینوں، مسافروں، ضرورت مندوں پرخرچ کیا کرتے تھے۔ اپنی بہن فاطمہؓ اوربہنوئی سعید بن زیدؓ کی استقامت سے متاثرہوکرمشرف بہ اسلام ہوئے۔ یہ دراصل آپ ﷺ کی اس دعا کا اثر تھا: اے اﷲ، اسلام کو عمر و بن ہشام (ابوجہل) یا عمر بن خطاب کے ذریعے عزت عطا فرما‘‘ اسی وجہ سے آپ مراد رسول ؐ کہلاتے ہیں۔اسلام قبول کرنے والوں میں آپ کا 40 واں نمبر ہے۔ آپ کے قبول اسلام سے دین اسلام کو نئی قوت عطا ہوئی۔آپ کاشمارمہاجرین میں ہوتاہے اورآپ نے 20 افراد کی معیت میں13 نبوی میں مدینہ منورہ ہجرت کی اور قبا میں حضرت رفاعہ بن منذرؓ کے مکان میں قیام فرمایا۔

    حضرت فاروق اعظم ؓ قبول اسلام کے بعدتمام غزوات میں بنفس نفیس شریک ہوئے اورجرأت وبہادری کے جوہردکھائے۔غزوۂ بدرمیں قریش کے سرغنہ کو قتل کیا ‘غزوہ اُحد میں آخر دم تک ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ،غزوۂ خندق میں خندق کے پارکفار کے حملوں کو پسپا کیا‘ غزوۂ خیبر میں قلعہ و طیع وسالم کو فتح کرنے کے لئے حضرت صدیق اکبر ؓ کے بعد آپ کو بھیجا گیا،فتح مکہ کے موقع پرحضور اکرم ﷺ نے خواتین سے بیعت لینے پرمامورفرمایا ،غزوۂ تبوک کے موقع پراپنے گھرکا آدھا مال لاکر خدمت اقدس میں پیش کردیا۔ غرض آپ تمام غزوات میں پیش پیش رہنے والوں میں شامل تھے۔حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں: تقریباً بیس بائیس مقامات ایسے ہیں جہاں فاروق اعظمؓ کی رائے پروردگار کی منشا کے عین موافق تھی ۔خلیفہ بلافصل حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی وفات کے بعد خلیفۃ المسلمین مقرر ہوئے۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے امور خلافت چلانے کے لیے مہاجرین وانصارکی مجلس شوریٰ قائم کی۔اس حیثیت سے آپ اسلام کے شورائی نظام کے بانی ہیں۔ ملک کوآٹھ ڈویژنوں میں تقسیم کرکے ان پرحاکم اعلیٰ اورگورنرزمقررفرمائے۔ کاتب‘بکلکٹر‘ انسپکٹرجنرل پولیس‘ افسرخزانہ ‘ ملٹری اکائونٹنٹ جنرل اورجج وغیرہ کے عہدے مقررکیے۔ باقاعدہ احتساب کا نظام قائم فرمایا۔ زراعت کی ترقی کے لیے نہری نظام جاری فرمایا، تالاب اورڈیم بنوائے اورآب پاشی کا ایک مستقل محکمہ قائم فرمایا۔بنجرزمینوں کے آباد کاروں کو مالکانہ حقوق دیے۔سرونٹ کوارٹرز‘ فوجی قلعے اور چھائونیاں‘ سرائے‘ مہمان خانے اورچوکیاں قائم کرائیں۔ کوفہ‘ فسطاط‘ حیرہ اورموصل سمیت کئی عظیم الشان شہروں کی بنیاد رکھی اورانہیں آباد کیا۔ فوج اورپولیس کے نظام میں اصلاحات کیں اورانہیں منظم کیا۔ بہترین نظام عدل و انصاف قائم کیا، جوضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سن ہجری کی بنیاد رکھی۔ مساجد کے ائمہ‘ موذنین‘ فوجیوں اوران کے اہل خانہ واساتذہ وغیرہ کی تنخواہیں مقررفرمائیں۔ اس کے علاوہ مردم شماری‘ زمین کی پیمائش کا نظام‘ جیل خانے‘ صوبوں کا قیام، لاوارث بچوں کے وظیفے کا اجرا‘ مکاتب قرآنی کا قیام‘ نمازتراویح کا باقاعدہ آغاز وغیرہ

    آپ رضی اﷲ عنہ کے دورخلافت کی یادگاریں ہیں۔ حضرت عمرفاروقؓ نے بائیس لاکھ مربع میل پرحکومت کی اورآپ کی مدت خلافت تقریباً ساڑھے تیرہ سال بنتی ہے۔ عراق اورشام پر لشکرکشی کرکے اسلام کا علم لہرایا۔ ایک لشکر بھیجا، جس نے مجوسیوں کوعبرت ناک شکست دی اوررستم کی سازشوں کا قلع قمع کیا۔ جنگ قادسیہ کے تین کامیاب معرکوں نے دشمن کی کمرتوڑکررکھ دی‘ ان کی قیادت حضرت سعد بن ابی وقاص‘ نعمان بن مقرن اورقعقاع بن عمروالغفاری رضی اﷲ عنہم نے کی۔ جنگ نہاوند آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں لڑاجانے والاآخری معرکہ تھا ،جس نےدشمن کی کمر توڑکررکھ دی۔ دمشق‘ اردن‘ حماۃ‘ شیراز‘ معرۃ النعمان‘ بعلبک‘ حمص‘ شام کا اکثرحصہ‘ بیت المقدس اوراس کے آس پاس کے علاقے‘ مصر، فسطاط‘ اسکندریہ‘ قیساریہ‘ آذربائی جان‘ طبرستان‘ کرمان‘ مکران اورخراسان وغیرہ آپ رضی اﷲ عنہ کے دورخلافت میں فتح ہوئے۔ ایران کااکثرحصہ چوں کہ آپ کے دورخلافت میں فتح ہوا، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے جذبہ انتقام کوسرد کرنے کے لیے آپ رضی اﷲ عنہ کے قتل کی سازش تیارکی۔

    مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کےپارسی غلام ابولولوفیروزمجوسی نے نماز فجرکی پہلی ہی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے فوراً بعد زہر سے بجھے ہوئے خنجر سے مرادِ رسول ﷺ پروار کیا۔ وصیت کے بہ موجب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے نماز مکمل کرائی۔ تین روززخمی حالت میں رہ کریکم محرم الحرام 24ھ میں63 برس کی عمر میں آپ رضی اﷲ عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ حضرت صہیب رومی رضی اﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ روضہ رسول ﷺ میں حضور اکرم ﷺ اورحضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پہلو میں آرام فرما ہیں.

    @muhammadmoawaz_

  • انگریزی کا جبری تسلسل پاکستانی نوجوانوں میں مایوسی ‘ ڈپریشن اور  خود کشی کا موجب بن رہا ہے

    انگریزی کا جبری تسلسل پاکستانی نوجوانوں میں مایوسی ‘ ڈپریشن اور خود کشی کا موجب بن رہا ہے

    انگریزی کا جبری تسلسل پاکستانی نوجوانوں میں مایوسی ‘ ڈپریشن اور خود کشی کا موجب بن رہا ہے!

    ایک اور نوجوان طالبہ نے مقابلے کے امتحان میں ناکامی پر زندگی کا خاتمہ کرلیا! جب پاکستان میں غلامی کی زبان کو غلط سلط بولنے والے’ غلط سلط لکھنے والے کو اعلی ملازمت کا مستحق سمجھا جائے گا جب انگریزی ‘ ایک غیر ملکی زبان بائس کروڑ پاکستانیوں کی زہانت کا قتل کرے گی تو یہی کچھ ہوگا۔۔ جو اس بے بس’ محترم طالبہ نے ایک اعلی ملازمت کے حصول کے لئے مقابلے کا امتحان غیر ملکی زبان میں دینے کی کوشش میں ناکامی پر خودکشی کر لی!

    ہم دعوی سے کہتے ہیں اگر فرانس ترکی جاپان’ جرمن ‘ کوریا’ دنیا کے دو سو ممالک میں بھی اعلی ملازمت کا حصول ایک غیر ملکی زبان میں امتحان دے کر ناکام یا کامیاب ہونے میں ہوں تو ان ممالک کے نوجوانوں میں خودکشی ‘ ڈپریشن ‘ مایوسی کی شرح پاکستانی نوجوانوں سے زیادہ ہوگی۔۔! کسی بدعنوان سے بدعنوان ملک کی اشرافیہ ایک غیر ملکی زبان پر عبور کو قابلیت کا معیار بنا کر ان کی زہانت کا قتل عام کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی!

    میرے ملک کے جوانوں! آؤ انگریزی کی تہتر سالہ غلامی کے خاتمے کے لئے ہمارا ساتھ دو انگریزی کو بطور ایک اختیاری مضمون کے پڑھایا جائے اردو میں مقابلے کا امتحان دینا تمہارا دستوری و آئینی حق ہے آؤ اس حق کے حصول کے لئے سینہ سپر ہو جاؤ!اللہ تمہارا حامی ونا صر ہو! امین !

    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • بہترین ایام اور عید الاضحٰی کے اسباق         بقلم:جویریہ بتول

    بہترین ایام اور عید الاضحٰی کے اسباق بقلم:جویریہ بتول

    بہترین ایام اور عید الاضحٰی کے اسباق…!!!
    بقلم:جویریہ بتول

    ہمدردی،غمگساری،جذبۂ قربانی،خواہشات نفس پر قابو،محبوب چیزوں کو اللّٰہ تعالٰی کی رضا کی خاطر قربان کر دینے کا پیام لیئے وفاؤں،محبتوں اور چاہتوں سے مزین مسلمانوں کا یہ تہوار عید الاضحٰی قریب ہے۔

    خلیل اللّٰہ کی آزمائشوں اور اُن پر پورا اترنے کے انعامات اس تہوار سے خصوصی منسوب ہیں۔
    یہ موقع ہمارے اندر جذبۂ ہمدردی،اخوت،بھائی چارے،اور محبتوں کے فروغ کا ہے…
    کہ جب ایک معاشرے کا غریب اور کمزور طبقہ بھی براہِ راست مستفید ہوتا تو وہ چاہے قربانی کے جانور کی خریداری ہو،اس کے گوشت کی تقسیم ہو یا اس کی کھال ہو…جس پر معیشت کاایک بہترین پہیہ بھی چلتا ہے…
    بہترین مصنوعات تیار ہوتی ہیں۔
    یہ ایام ہمیں اپنے رب کی قربت،عبادت اور رضا کے قریب کرتے ہیں جب ہم بدنی،مالی اور عملی عبادات کے ذریعے اس کا تقوٰی تلاشتے ہیں۔
    یہاں سب سے بڑا جو پیغام ہمارا رب ہمیں دے رہا ہے وہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالٰی کو نہ تو ہمارا خون پہنچتا ہے اور نہ ہی گوشت…
    ہمارے روزے اس کی بڑائی میں اضافہ کرتے ہیں نہ ہماری دیگر عبادات اس پر احسان ہیں…
    لیکن یہ ہمارے تقوٰی کو جانچنے کا ٹیسٹ ٹائم ہے…
    اور وہ ہم سے ریا و دکھاوے کی بجائے تقوٰی اور عاجزی اور اپنی رضا میں جینا چاہتا ہے…
    ابراہیم علیہ السلام کی بہترین اور پسندیدہ ترین چیز ان کا بیٹا اسماعیل علیہ السلام تھا۔
    جسے وہ رب کے اشارہ پر قربان کر دینے کے لیئے وہ فورًا تیار ہو گئے اور امام الناس کہلائے…!!!
    یہ ہمارے لیئے ایک سبق ہے کہ اگر ہمیں اپنی ایک خواہش قربان کرنی پڑے تو ہم کتنے بہانے گھڑتے ہیں…؟
    آئیں،بائیں شائیں کرتے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ تقوٰی کی راہیں مضبوط ایمان کی متقاضی ہوتی ہیں…
    ہم میں سے ہر ایک کو کوئی چیز کوئی رشتہ،کوئی مال بے حد محبوب ہوتے ہیں لیکن ایمان یہ ہونا چاہیئے کہ اگر رب کی رضا کی خاطر مجھے یہ سب بھی قربان کر دینے پڑیں تو کچھ خسارا نہیں ہے:
    والذین امنو اشد حبا للہ…(البقرۃ)۔
    اور پھر رب بھی اپنی محبت میں شدت اختیار کرنے والوں کو بے وقعت اور بے مول نہیں چھوڑا کرتا۔
    وہ راضی ہو کر انہیں کردار کی اوجِ ثریا پر پہنچاتا ہے…
    اُن کا ذکرِ خیر پچھلوں میں باقی رکھتا ہے…
    وہ جن سے محبّت کرتا ہے جبریل امین کے زریعے سے فرشتوں اور اہل زمین میں منادی کرواتا ہے کہ پھر دنیا والے بھی اس سے محبّت کرنے لگتے ہیں…
    یہ بڑے نصیب کی بات ہے،ایں سعادت بزورِ بازو نیست…
    حج بیت اللہ اس بہترین ایام کا ایک زبردست اور اتحاد و مساوات کا بہترین سبق ہے…
    جب گورے کالے،پست قامت،طویل قامت،ادنٰی،اعلٰی اس کی بارگاہ میں فقیر بنے ایک ہی پکار پکارتے ہیں:
    لبیک اللھم لبیک،لبیک لا شریک لک…
    رب کی وحدانیت کا پر زور آوازہ جو چہار دانگِ عالم سنائی دیتا ہے اور اس کی قدرت و جلال کی ہیبت دل میں بٹھا دیتا ہے۔
    عید الاضحٰی کے اس موقع پر ایک پیغام جو ہم سب کے لیئے واضح ہے وہ آدابِ فرزندی بھی ہے…
    وہ وقت جب باپ اور بیٹے کے درمیان مکالمہ جاری تھا کہ میں تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں؟
    بیٹے کا جواب کردار کی کس قدر بلندی کا غماز ہے کہ ابا جان آپ وہ کر گزریئے جس کا حکم آپ کو آپ کے رب نے دیا ہے…!!!
    مجھے آپ ان شآ ءَ اللّٰہ صابروں میں سے پائیں گے…!!!
    آج کی اولادیں جو والدین کی اہمیت سے نابلد دکھائی دیتی ہیں اُن کی بات کی پرواہ نہیں کرتیں،
    اُن کے تجربات اور حقائق کی نظر کو جھٹلا کر پریشانیوں کو تخلیق کرتی ہیں، یہ موقع ان سب کے لیئے بھی ایک گہرا سبق ہے بقول اقبال رحمہ اللّٰہ:
    یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی…
    سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی…؟
    اگر اسماعیل علیہ السلام جیسے آدابِ فرزندی ہمارے معاشرے بھی میں پنپنے لگ جائیں تو یقینًا یہ زندگیاں عید کی سی صورت میں گزرنے لگیں…!!!
    پھر ہلالِ عید حقیقی معنوں میں خوشیوں کی بہار بن کر طلوع ہو،
    اور کرب سے لبریز اور امن و راحت کو ترستا کوئی کاسۂ خالی نہ ہو…
    خوشی کا یہ موقع تمام مسلمانوں کی زندگیوں میں خوشی کو بھر دے…عالمِ اسلام پر چھائی خزاؤں کے سائے چھٹ کر سدا بہاروں کے گلستان مہکیں…
    اپنا اور اپنوں کا اور ارد گرد کے رشتہ داروں،لوگوں کا خیال رکھیں…
    اللّٰہ تعالٰی تمام مسلمانوں کی من
    جملہ عبادات کو اپنی بارگاہ میں خالص اپنی رضا کے لیئے قبول فرما لے…اور ان بہترین ایام کے اسباق کو بقیہ ایام میں بھی رہ نما اور روشنی بنانے کی توفیق نصیب فرمائے…آمین…!!!
    ===============================

  • حکومت پنجاب توانائی کے شعبہ میں      تحریر:آصف گوہر

    حکومت پنجاب توانائی کے شعبہ میں تحریر:آصف گوہر

    حکومت پنجاب توانائی کے شعبہ میں

    تحریر:آصف گوہر

    کسی بھی ملک کے لئےقابل اعتماد اور کم قیمت توانائی کی دستیابی کا معاشی ترقی، اور شہریوں کےمعیار زندگی پر بہت اثر پڑتا ہے۔ معیشت اور ملک کی سکیورٹی کا ہونا ایک ترقی پذیر ملک کے لئے ضروری ہے۔ بجلی کی گھریلو اور کاروباری صارفین کے لئے بڑھتی ہوئی مانگ اور بڑھتی ہوئی آبادی اور توانائی کی بچت پاکستان کے پالیسی سازوں کے لئے اہم چیلنج ہے۔ پنجاب میں محکمہ توانائی ایک مدت سے غیر فعال تھا منصوبہ جات پر کام فیتہ کاٹنے اور فائلوں کی حد تک ہی کیا جاتا تھا ۔اور پنجاب انرجی کمپنی مسلسل خسارہ میں جا رہی تھی ۔ ملک میں بجلی کی طلب میں 8 سے 10 فیصد سالانہ کی تیز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پنجاب پاور جنریشن پالیسی 2006 (نظر ثانی شدہ 2009)، کے مطابق پاکستان کی بجلی کی مانگ رہی ہے سال 2030 تک 101,478 میگاواٹ بڑھ جانے کی توقع ہے۔

    اس ضرورت میں مستقل اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت تھی۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے حکومت سنبھالتے ہی محکمہ توانائی پنجاب کوفعال کیااور اپنی کابینہ کے رکن ڈاکٹر محمد اختر ملک کو مختلف ٹاسک دئیے جن میں توانائی کا تحفظ بجلی کی پیداوار کی طرح اہم ہے۔
    توانائی کے تحفظ کے اقدامات جیسے 150 عوامی عمارتوں کا توانائی آڈٹ کرنا، ریٹرو فٹنگ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی تکمیل ہو چکی ہے جس نے سالانہ 891 میگاواٹ فی گھنٹہ کی بچت اور بجلی کی کھپت میں 44 فیصد کمی ملکی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری 100ارب سے 1263 میگاواٹ کا پاور پلانٹ تکمیل قریب ہے۔

    نیاپنجاب سولرائزیشن منصوبہ کےتخت10500 پرائمری سکولوں کو سولر بجلی فراہم کی گئ ہے جن میں 1800 سکول ایسے تھے جو 1947سے بغیر بجلی کے کام کررہے تھے۔ پنجاب کی یونیورسٹی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنولوجی لاہورسے جامعات کو سولر انرجی فراہم کرنے کے کام کا آغاز ہوچکا مزید پر کام جاری ہے
    ڈیرہ غازی خان ٹیچنگ ہسپتال کوسولر انرجی پر منتقل کیا گیا ہے۔لاہور جنرل ہسپتال میں سولر پینلز کی تنصیب کا کام مکمل ہوچکا ہے جوجلد کام شروع کر دے گا۔

    لیہ میں 100میگاوٹ کے سولر پاور پلانٹ کے منصوبہ کا آغاز کیا گیا ہے ۔ پنجاب میں پہلی بار بجلی چوروں کا محاسبہ کیا گا اور 20ارب روپے کی ریکوری کرکے رقم سرکاری خزانے میں جمع کروائی گی-

    پنجاب پاور کمپنی کوبہتر منصوبہ بندی سے پہلی بار مسلسل خسارے کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بار 217 ملین روپے کا منافع ہوا۔
    اس مالی سال میں پنجاب میں سولر پاور کے مزید 29 منصوبے شروع کئے جارہے ہیں جس کے تحت ہسپتالوں مزاروں سرکاری دفاتر مرکزی مساجد کو سولر انرجی پر منتقل کردیا جائے گا ۔

    حکومت پنجاب کے ان اقدامات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ 2023 تک پنجاب حکومت متبادل انرجی حصول اور بجلی کی پیداوار میں اضافہ کا ہدف حاصل کرلے گی۔

    مضمون نگار ایک فری لانس صحافی، بلاگر اور معروف ماہر تعلیم ہیں۔ سیاسی امور پر بھی عمیق نظر رکھتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں بارے بہت اچھی اور متناسب رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ایک اچھے ایکٹوسٹ کے طور پر سوشل میڈیا پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا پرسنل اکاؤنٹ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ آصف گوہر @Educarepak

  • امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں اسٹیڈیم کے باہر فائرنگ، 4 افراد زخمی

    امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں اسٹیڈیم کے باہر فائرنگ، 4 افراد زخمی

    امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں واقع بیس بال اسٹیڈیم کے باہر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق فائرنگ کے وقت بیس بال اسٹیڈیم میں میچ جاری تھا جہاں شائقین کی بڑی تعداد میچ دیکھ رہی تھی فائرنگ ہوتے ہی شائقین میں خوف و ہراس پھیل گیا اور اسٹیڈیم سے تیزی بھاگتے ہوئے نکلنے لگے جس کے باعث بھگدڑ مچ گئی۔

    شائقین کے مطابق ان میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ فائرنگ کا واقعہ اسٹیڈیم میں ہوا ہے یا اس کے باہر ہوا ہےاس صورتِ حال کے باعث بیس بال اسٹیڈیم میں جاری میچ روک دیا گیا-

    دوسری جانب امریکی پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے چاروں زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے صورتِ حال قابو میں ہے، واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    ڈی سی پولیس نے اطلاع دی کہ فائرنگ اسٹیڈیم کے بائیں فیلڈ کونے سے باہر ، ن اسٹریٹ اور جنوبی کیپٹل اسٹریٹ جنوب مشرق میں ہوئی۔ فائرنگ کے کچھ ہی لمحوں بعد ، اعلان میں شائقین سے بال پارک میں رہنے کی اپیل کی گئی-

  • اگست کی تاریخ کے انوکھے ریکارڈ نے پاکستانی کا نام گنیز بک میں درج کروا دیا

    اگست کی تاریخ کے انوکھے ریکارڈ نے پاکستانی کا نام گنیز بک میں درج کروا دیا

    اگست کے مہینے نے پاکستانی شخص کا نام گنیز بک میں درج کروا دیا-

    باغی ٹی وی : امیر آزاد منگی نامی پاکستانی شخص کی تاریخِ پیدائش یکم اگست، اس کی شادی بھی یکم اگست کو ہوئی، بیوی کی اور7 عدد بچوں کی تاریخِ پیدائش بھی یکم اگست ہی ہے اس انوکھے ریکارڈ پر لاڑکانہ کے امیر آزاد منگی کے گھرانے کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کر لیا۔

    امیر آزاد منگی کے مطابق ان کی تاریخِ پیدائش یکم اگست ہے جبکہ ان کی بیوی اور 7 عدد بچوں کی تاریخِ پیدائش بھی یکم اگست ہی ہے ان بچوں میں دو بار پیدا ہونے والے 4 جڑواں بچے بھی شامل ہیں جو یکم اگست کو ہی پیدا ہوئے۔

    دنیا بھر میں یہ واحد گھرانہ ہے جو ایک ہی تاریخ پر پیدا ہوا جبکہ دوسرے نمبر پر بھارت کا ایک ہی تاریخ پر پیدا ہونے والا گھرانہ ہے جن کی تعداد 5 ہے۔

  • بیٹیاں رحمت ہیں . تحریر : مدثر

    بیٹیاں رحمت ہیں . تحریر : مدثر

    ہم بیٹی کی پیدائش پراتنا خوش نہیں ہوتے جتنا بیٹے کی پیدائش پرہوتے ہیں ہم سب سے پہلے ان کا حق کھاتے ہیں ان کی پیدائش پرخوشی نہ کرنے کا ہم بیٹی کی نسبت بیٹے سے زیادہ پیارکرتے ہیں کوئی بھی چیزبازارسے خرید کر لائیں تو سب سے پہلے بیٹے کو دیتے ہیں پھر بیٹی کو دوسرا بڑا حق جو ہم کھا جاتے ہیں بیٹیوں کا وہ ہے تعلیم سے محروم کرنا بیٹے کے لیے خوش ہوکرتمام تعلیمی اخراجات پورے کرتے ہیں اوربیٹی کو یہ کہ کر تعلیم نہیں دلواتے کہ بیٹیاں گھرمیں ہی اچھی لگتی ہیں ان کا کیا کام تعلیم کا بس نام لکھنا، پڑھنا آنا چاہیے بس یہی کافی ہے.

    ہماری سوچ ایک پسماندہ سوچ ہے اسی پسماندہ سوچ کی وجہ سے ہم بیٹیوں کا بنیادی حق تلف کر جاتے ہیں حالانکہ بیٹیاں جتنا اپنے کام سے لگاؤ رکھتی اورایمانداری سے سرانجام دیتی ہیں اتنا لڑکے بھی نہیں کرتے بیٹیوں کی فضیلت بھی کوئی قسمت والا جانتا ہوگا اگربیٹی کی فضیلت کا پتہ لگ جائے لوگوں کو تو سب نے بیٹے کی بجائے بیٹی کی فرمائش کرنی ہے

    بیٹی کی فضیلت تو اللہ نے خود بیان کی ہے کہ میں جس پر بے حد خوش ہوتا ہوں تو ان کے گھررحمت (بیٹی) عطا کرتا ہوں اوراللہ کہتا ہے کہ جب میں بیٹا عطاء کرتا ہوں تو بیٹے کو کہتا ہوں جاؤ اپنے باپ کا ہاتھ بٹاؤ۔ جب میں بیٹی دیتا ہوں تو اس کے باپ کا ہاتھ پاؤں خود بن جاتا ہوں۔

    بیٹے باپ کی جائیداد کے مالک بنتے ہیں اوربیٹیاں باپ کی بخشش کا ذریعہ بنتی ہیں ان کی مغفرت کے لیے دم درود قل پڑھتی رہتی ہیں. اللہ ہمیں سچے دل سے بیٹیوں سے پیار کرنے اور ان کی عزت کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین.

    @MudasirWrittes

  • امن کا سفیرپاکستان خان . تحریر : کامران واحد

    امن کا سفیرپاکستان خان . تحریر : کامران واحد

    کسے معلوم تھا کہ میانوالی کے شہر میں ایک شوکت خانم نامی خاتون نے بچے کو جنم دیا جس کا نام عمران خان رکھا گیا کسے معلوم تھا کے وہ عمران نامی بچہ بڑا ہوکردنیا میں ایک رقم تاریخ ھوگا، یقیناً کسی کونہیں معلوم تھا، ہاں لیکن عرش پربیٹھی ایک ذات جانتی تھی کے یہ عمران ایک دن سب کا مان ہوگا.

    سلسلہ شروع ہوا اورکرکٹ کے میدانوں سے ایک ستارہ ابھرا جسے دنیا عمران خان کے نام سے جاننے لگی اورپھریہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ کرکٹ کے میدانوں سے شوکت خانم ہسپتال، نمل جیسے تعلیمی اداروں سے ہوتا ہوا سیاست کے میدانوں میں ایک ہی نام گونجتا تھا عمران خان غرض کہ اب گزری تاریخ گواہ ھے کہ جس شعبے میں عمران خان اسکی بہتری کے لیے ھاتھ ڈالتا ھے تواس شعبےکواپنے عروج پر پہنچنا گویا مشیت ایزدی بھی بن جاتا ھے۔ ایساھی کچھ تب ھوا جب اس عظیم والدین کے عظیم سپوت نے پاکستان کی خدمت کے لیے اپنی سیاسی جماعت تحریک انصاف کا نعرہ لگایا۔

    قسمت کی دیوی ہرمیدان میں عمران پر مہربان تھی اورخداوند کریم کے خاص فضل سے 2018 میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کے طورپرسامنے آیا اورعمران نے اس خداداد پاکستان کی باگ دوڑسنبھالی. عمران چونکہ عالمی منظر نامے امریکہ افغان جنگ کشمیر جیسے معاملات سے بخوبی واقف تھا، اسی تناظرمیں اسکا ایک ھی نعرہ اورپالیسی تھی، جس کوعمران نے ھرفورم پراٹھایا اوروہ تھی "امن” کی پالیسی، کہ ہم کسی پرائ جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے اگر حصہ بنیں گے تو صرف "امن” کا اورعمران کی نظرمیں مسئلے کا حل جنگ نہیں صرف امن مذکرات ہی تھا جس پراسے طالبان خان بھی کہا گیا لیکن وہ اپنے موُقف پرڈٹا رہا۔ امریکہ جیسی سپر پاورنے افغان جنگ میں کھربوں روپے لگائے لیکن آخرمیں اسے منہ کی کھانا پڑی اورانہی طالبان سے امن مذکرات کیے جس کا عمران شروع دن سے کہ رہا تھا۔

    کشمیر کے حوالے سے پاک بھارت کشیدگی پربھی عمران کا وہی موُقف ہے کہ اس مسلے کا حل بھی امن مذکرات سے ہی نکلے گا جنگ سے نہیں، پوری دنیا کو عمران امن کا پیغام دے رہا تو اس میں کوئ شک نہیں کہ عمران خان ہی امن کا سفیر ہے۔

    یہاں پرایک بات قابل ذکر ھے کہ عمران خان نے دنیا اوراس مملکت خداداد کے اندرونی دشمنوں کو یہ بھی واضح طورپرپیغام دیا ھے کے اس امن پالیسی کو اس کی کمزوری مت سمجھا جائے جس کا اظہارایک شعر میں ایسے دیا ہے کہ

    ‏مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
    میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے

    پاکستان زندہ باد
    عمران خان پائندہ باد

    Twitter: @Khankamoo