Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اولاد کا غم تحریر:  عائشہ رسول

    اولاد کا غم تحریر: عائشہ رسول

    اولاد ایک بڑی نعمت ہے. جنکی اولاد نہیں ہوتی وہ طرح طرح کے جتن کرتے ہیں. اگر اولاد راہ راست پر نہ ہو یعنی نافرمان ہو تو ایسی اولاد زندگی بھر کے لیے روگ بن جاتی ہے
    دورہ حاضر میں پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں ہی اس مسئلے کو لے کر لوگ پریشان ہیں

    اولاد کا غم’ غموں کا بادشاہ ہے جسے بھلایا نہیں جاسکتا’ جب یاد آتاہے تازہ ہو جاتا ہے
    نافرمان اولاد ہو یا بیوی وہ قابل قبول نہیں خواہ وہ نبی کی ہی کیوں نہ ہوں

    اسماعیل علیہ السلام بھی نبی کا بیٹا تھا اور نوح علیہ السلام کا بیٹا بھی نبی کا بیٹا تھا. نوح علیہ السلام کی بیوی بھی نبی کی بیوی تھی اور خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا بھی نبی کی بیوی تھی جنہیں جبرائیل علیہ السلام سلام بھیجتا تھا. حضرت مریم علیہا السلام بھی نبی ہی کی ماں تھیں.

    ماں کا نیک ہونا اولاد کیلئے فضیلت اور اولاد کا نیک ہونا والدین کیلئے. جو اولاد ماں باپ کی عزت و احترام کا خیال نہیں رکھتی وہ ساری زندگی گرم ریت اور کانٹوں پہ بسر کرتی ہے خواہ اس کے محلات اور دولت کے انبار ہی کیوں نہ ہوں. سکون انکے نصیب میں نہیں ہوتا
    والدین مہمان ہوتے اور اولاد میزبان. قدرت کے نظام میں تبدیلی نہیں آئی اج جو کچھ ہم اپنے والدین کے ساتھ کریں گے کل ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا

    اولاد جزبات سے سوچتی اور والدین جزبوں سے والدین کے جزبات بہت نازک ہوتے ایسے رویے مت رکھیں کہ والدین منہ بند ہو جائے اور آنکھیں ہونے کے باوجود اپکو دیکھنا بند کر دیں. اس عذاب کا بڑا سخت حساب ہوتا. اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو والدین کا فرمانبردار فرمائے.
    آمین ثم آمین

    @Ayesha__ra

  • ‏بچوں کی حوصلہ افزائی کیجئے . تحریر: خالد اقبال عطاری

    ‏بچوں کی حوصلہ افزائی کیجئے . تحریر: خالد اقبال عطاری

    یہ ایک حقیقت ہے کہ بنیاد مضبوط ہو تو عمارت بھی مضبوط ہوتی ہے. بالکل اسی طرح بچوں کی تربیت اچھی ہو تو وہ بڑے ہو کر گھر اور سوسائٹی کے اچھے فرد بن سکتے ہیں. بالخصوص اس میں والدین اور اساتذہ کرام کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے.
    پیارے والدین اوراساتذہ کرام اپنے بچوں کو با کردارو با صلاحیت بنانے میں حوصلہ افزائی کا نہایت ہی اہم کردار ہوتا ہے. ہمارے بزرگوں اور بڑوں کی سیرت سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ حوصلہ شکنی کے بجائے حوصلہ افزائی کی جائے. چنانچہ ایک بار حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے ایک آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا؟ لوگ جواب نہ دے سکے لیکن آپ کے ایک شاگرد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اس کے متعلق میرے ذہن میں کچھ ہے. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اے میرے بھتیجے اگر تمہیں معلوم ہے تو ضرور بتاؤ اور اپنے آپ کو حقیر ( یعنی چھوٹا) نہ سمجھو.

    پیارے والدین اور اساتذہ کرام اگر چہ کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں حوصلہ افزائی کی ضرورت نہیں ہوتی وہ اپنی لگن اور محنت جستجو سے کامیابیاں حاصل کرتے ہیں. لیکن کچھ بچوں کو حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے جسمیں والدین اور اساتذہ کرام کنجوسی کرتے ہیں. حوصلہ افزائی کے حوالے سے مفید اقدامات حاضر ہیں.
    1: بچہ کوئی اچھا کام کرے کوئی اچھا کارنامہ انجام دے، کسی کی مدد کرے، اسکول ہوم ورک وغیرہ اچھا کرے تو اسکی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تعریف کریں، شاباشی دیں، کوئی تحفہ دیں، اسکی پسند کی کوئی کھانے کی چیز بنا کر دیجئے اس سے بچہ آئندہ کام اچھے اور لگن سے کرے گا
    2: بچے کوئی مشکل کام سر انجام دیں یا ذیادہ محنت والا کام کریں تو انہیں یہ احساس دلائیں کہ آپ ان کے اس کام سے خوش ہیں یوں آئندہ وہ بچے اور مزید ذیادہ محنت کریں گے
    3: والدین اور اساتذہ بچوں کو کوئی چیلنج یا ٹارگٹ دیں اور پھر انہیں وہ ٹارگٹ مکمل کرنے پر حوصلہ افزائی کریں. اسطرح بچے اپنے گھر والوں اور دینی یا دنیاوی تعلیم دینے والوں کو اپنے قریب اور اپنا خیر خواہ سمجھے گا اور تنہائی محسوس نہیں کریں گے.
    4: انہیں بتائیں کہ امتحانات میں ذیادہ اچھے نمبر نہ آنے پر مایوس نہ ہوں. بلکہ مزید تعلیم پر توجہ دیں. اصل چیز قابلیت ہے اگر وہ ہے تو سب کچھ ہے.
    5: بچوں کے ساتھ وقت گزاریں. ان سے باتیں کریں انکے سوالات کے جوابات دیں اور خود ان سے ان کی پڑھائی کے متعلق سوالات کریں. اسطرح انکا حوصلہ بڑھے گا.
    6: اگر بڑوں کی موجودگی میں وہ کچھ بولنا چاہیں تو انہیں بولنے دیں ساتھ میں انہیں بڑوں سے کسطرح گفتگو کرنی چاہیے یہ بھی سکھائیں.
    7: اگر کسی بات پر بچہ صحیح ہو اور آپ غلطی پر تو اپنی غلطی کا اعتراف کیجئے یوں آپ کی عزت بڑھے گی.
    8: بچوں کی اسکول و مدرسہ کی تعلیم کا جائزہ لیجیے اور غلطی پر سمجھائیں اور اچھے کام پر حوصلہ افزائی کیجئے.
    9: ہر معاملے میں شاباشی اور تعریف نہ کریں بلکہ ان کی غلطیوں کی بھی نشاندہی کریں مگر بہترین انداز کے ساتھ.

    پیارے والدین و اساتذہ بچے گیلی مٹی کی طرح ہوتے ہیں ان سے جسطرح پیش آئیں گے انکی ویسی ہی شکل بن جائے گی لہذا انکی ہمت بندھایا کریں ذیادہ مارنے پیٹنے، ڈانٹنے سے حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے.
    بچوں کی حوصلہ افزائی کیجئے اور انکا مستقبل بہتر کیجئے.

    @AttariKhalid1

  • تحریر:عرفان محمود گوندل   اشاروں پہ ناچنے والے قیمے والے نان

    تحریر:عرفان محمود گوندل اشاروں پہ ناچنے والے قیمے والے نان

    گزشتہ روز مسلم لیگ ( ن ) کی لیڈر محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے تقریر کے دوران ایک عجیب حرکت کی ۔
    انہوں نے اپنے سامنے قیمتاً (دیہاڑی) پہ خریدے گئے حاضرین سے ایک عجیب بات کی
    جلسے میں کہنے لگی
    میں یہ چاہتی کہ میں جب ہاتھ اوپر کروں تو آپ سب (غلام) میرے ہاتھ کے اشارے پہ کھڑے ہو جائیں اور اگر میں ہاتھ نیچے کروں تو آپ سب (غلام) بیٹھ جائیں ۔۔
    چونکہ سامنے سارے دیہاڑی دار تھے ۔ ایک ہزار روپیہ اور دوپہر کے کھانے کی قیمت پر انہوں نے ن لیگ گ کی لیڈر کی ہاں میں ہاں ملانی تھی ۔ اس لیے جب مریم نواز شریف صاحبہ نے کہا کہ میں
    آپ سب کو آزما کے دیکھوں ؟
    تو سب نے سیٹیاں بجائیں
    پھر شہزادی نے دونوں ہاتھ آہستہ آہستہ فضا میں بلند کیے
    سکرین پہ چونکہ عوام کا ( جم غفیر) نظر نہیں آرہا تھا اس لیے نہ دیکھ سکا کہ مریم صاحبہ کے اشارے پہ پنڈال کھڑا ہوا یا نہیں ۔
    کچھ لمحوں بعد مریم صاحبہ نے ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے کر دیے
    اندازہ ہے کہ دھنسی ہوئی آنکھوں والے ، بھوکے پیٹ ، سوکھی چمڑی ، پیلے دانت ، پھٹے ہوئے کپڑے اور ٹوٹے ہوئے جوتوں والے لیڈر کے اشاروں پہ ناچنے لگے ہوں گے ۔ کہتے ہیں بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے ۔
    یہی کچھ حال پنڈال میں کھڑے قیمے والے نانوں، بریانی کی پلیٹوں ، زندہ شناختی کارڈوں چمچوں کھڑچھوں بیلچوں ڈوئیوں چھونیوں اور پتیلیوں کا ہو گا ۔
    کھڑے نہ ہوتے تو دیہاڑی نہ ملتی یا شاید پیسے کاٹ لیے جاتے ۔ حکم کے غلام تھے بھوکے پیٹ کی خاطر گرم توے پہ ناچ لینا تھا ۔ غلامی کی نکیل ڈلی ہوئی تھی اس لیے ہاتھ کے اشاروں پہ ناچنا بھی تھا اور گانا بھی تھا کیونکہ یہی حکم تھا ٹھیکیدار کا کہ شہزادی صاحبہ کو خوش کرنا ہے
    ایک عورت نے تقریب میں دور کھڑے شوہر کو انگلی سے اشارہ کیا کہ ادھر آؤ ۔
    شوہر باادب ہو کے ہاتھ باندھے حاضر ہوا اور ادب سے پوچھا
    جی فرمائیے
    بیوی نے ادائے دلبری سے کہا کچھ نہیں میں تو انگلی کی مقناطیسی قوت چیک کررہی تھی کہ کتنی دور تک اثر رکھتی ہے ۔
    کیوں وہ صّیاد کسی صید پہ توسن ڈالے
    صید جب خود ہی چلے آتے ہوں گردن ڈالے

    @I_G68

  • افغانستان اور خطے کے ممالک کا کردار ۔ تحریر : روشن دین دیامر

    افغانستان اور خطے کے ممالک کا کردار ۔ تحریر : روشن دین دیامر

    جن احباب کو افغانستان کی تاریخ کا علم نہیں تو ان کی معلومات کے لئے یہاں ایک تاریخی حقیقت بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
    تاریخ میں افغانستان پہ کسی غیر ملکی طاقت یا حکمران نے دو دفعہ حکومت کی ہے۔ ایک اشوک اعظم اور دوسرا اکبراعظم نے۔ اس کے علاوہ افغانستان پہ اج تک کسی نے حکومت نہیں کی ہے۔ اب کچھ دوست کہیں گے بھائی امریکہ نے حکومت کی تو عرض ہے امریکہ نے حکومت نہیں قبضہ کرنے کی کوشش کی جو وہ ناکام و نامراد ہوکے چلی گی۔

    اب آئے ذرا تفصیل سے موجودہ صورت حال پہ روشنی ڈالتے ہیں۔ امریکی انخلاء کے بعد افغان کا ماضی کیا ہوگا؟ اس پہ ہر کسی نے اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہئں اور مختلف قیاس آرائیاں اور خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہم بھی چند گزارشات اپ کے نظر کرتے ہیں ۔
    ایک اہم بات امریکی گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان پہ مکمل کنڑول کبھی حاصل نہیں کر سکے تھے۔ اس کا شہری علاقوں پہ قبضہ رہا جبکہ دہاتی علاقوں پہ طالبان کی حکومت رہی ہے۔ چونکہ افغانستان ایک قبائلی معاشرہ ہے اسلئے یہاں کوئی منظم اور مضبوط حکومت کبھی نہیں رہا ہے۔ افغانستان کے گیارہ فیصد علاقہ شہری ہے جبکہ انانوے فیصد حصہ دہاتی ہے اور وہ بھی پاکستانی دہات کی طرح نہیں۔ افغان کے دہات ایک خالص قبائلی اور مزہبی ذہنت کے لوگوں پہ مشتمل ہیں۔ جو موجودہ دور میں بھی قرون وسطی جیسی سوچ ہے۔ پسماندہ قبائلی روایات بہت مضبوط ہے۔

    موجودہ طالبان بھی وہ طالب نہیں رہے جو روس کے خلاف استمال ہوے تھے۔ اب یہ لوگ گزشتہ بیس سالوں سے امریکیوں سے لڑ لڑ کے سمجھ چکے ہیں کہ ریاست چلانے کےلے معاشی و سیاسی نظام بنانا ضروری ہوتا ہے۔ اب جب اچانک امریکہ باگ نکلا تو افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہوا ہے۔ اس کی وجہ امریکہ جاتے ہوے اپنا اسلحہ ساتھ لے کے نہیں گیا بلکہ اسے افغانستان میں چھوڑ کے جا رہا ہے۔ ابھی اگر وہ اسلحہ دائیش اور اِئی ایس جسے دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گیا تو خطے میں امن کےمسائل پیدا ہونگے۔ ایسے میں اس خطے کے ممالک کو اس حوالے ضرور اپنی حکمت عملی بنانا ہوگا ۔پاکستان، ایران، روس، چین، تاجکستان، ازبکستان سمیت دوسرے ممالک اس وقت افغانستان کے معاملے پہ بہت سنجیدگی سے غورکر رہے ہیں ۔وہ کسی صورت افغانستان میں خانہ جنگی ہونے نہیں دینگے۔ اس حوالے سے اگست کا مہنہ بہت اہم ہے۔ میری راے میں اگست تک یا اس کے بعد افغانستان میں ایک ایسی حکومت ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس میں تمام فریق اپس میں مل کے نظام حکومت بنائیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جو بھی حکومت ہوگی اسے بہت مشکلات کا سامنا ہوگا۔ معاشی طور پہ اور دفاعی طور پہ بھی۔ کیونکہ افغانستان اس وقت شدید افراتفری اور معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ مختلف مفادات رکھنے والے وار لارڈز اور مسلح جھتوں کا ایک جنگل بن چکا ہے۔ جسے صاف کرنے میں کچھ عرصہ تو ضرور لگے۔

    امید ہے خطے کے ممالک افغانستان کو اس دلل سے نکالنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے اور ایک دفعہ پھر پر امن افغانستان ابھرے گا اور خطے کے ترقی کے لے اپنا کردار ادا کرے گا.

  • حضرت امام شاہ ولی اللہ کا ایک مختصر تبصرہ ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    حضرت امام شاہ ولی اللہ کا ایک مختصر تبصرہ ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    حضرت امام شاہ ولی ولی رح (1703 میں پیدا ہوے اور 1763 میں وفات پاگے ہیں ۔اج ہم شاہ صاحب کے ایک مختصر سا تعارف اپ کو کرواتے ہیں جو شاہ صاحب کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں بہت کم سننے کو ملتا ہے۔ شاہ صاحب نے اپنا فلسفہ تب دیا جب یورپ اپنے جدید دور سے ابھی کئی دہائیاں دور تھا اور مارکس کے فلسفے سے تقریبا ایک صدی پہلے۔ ، شاہ ولی اللہ ہندوستانی معاشرے ، اس کی سیاست اور معیشت کے حوالے سے پیشن گوئی کے نظریات پیش کررہے تھے۔ اس کے خیالات بڑے پیمانے پر انسانیت کے لئے امید کی کرن ہیں۔

    دور حاضر کے ذہنوں کو اسلام کے بنیادی خطوط بیان کرنے کے لئے شاہ ولی اللہ نے اپنی شاہکار کتاب حجت اللہ البلغا لکھا جس میں شاہ صاحب نے اسلامی نظام کے حوالے سے ایک بہترین نظریہ دیا۔ انہوں نے اپنے قلم کی طاقت کو مذہبی ، سیاسی اور معاشی امور کے بارے میں لکھنے کے لئے استعمال کیا۔ ایک طرف انہوں نے نظام حکومت کو صیح طور پہ نہ چلانے پر ہندوستانی حکمران کو تنقید کا نشانہ بنایا تو دوسری طرف انہوں نے تعلیم یافتہ طبقہ کو سیاسی اور معاشی میدان میں اصلاح کے مطالبے پر دھیان دینے پر راضی کیا۔ انہوں نے بادشاہت کے خاتمے کی حمایت کی اور اس کی جگہ ایک نئے سیاسی نظام لانے کی بات کی۔ جس کو ٹیکنوکریسی یا اداراجاتی نظام کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ مطلب اب جو دور دور اے گا اس میں شخصی ویلو نہی بلکہ ادارے فیصلہ کرینگے۔ ہر فیلڈ کا ماہرین کا ایک گروپ ہوگا کو مشاورت سے کام کرینگے۔

    شاہ ولی اللہ کے معاشی خیالات انسانیت پسند تھے۔ اپ نے کام کاج کے اوقات کار چھے گھنٹے مختص کے تھے تاکہ انسان اپنے اولاد کو تربیت بھی دے سکے۔ فلسفیانہ دائرے میں شاہ ولی اللہ نے ایک ایسا نظریہ پیش کیے جو دنیا کے تمام مذاہب کو قریب لاسکتے ہیں۔ انہوں نے چار بنیادی خصوصیات پر روشنی ڈالی جو تمام مذاہب میں موجود تھیں: آخبات طہارت ، ، سماحت اور عدالت۔ مختلف مذاہب کی پیروی کرنے والے معاشروں کو شاہ ولی اللہ کے افکار پر مبنی نظام کے ضریعے آج بھی قریب لایا جاسکتا ہے۔شاہ صاحب اسلام معاشی سیاسی اور عدلتی نظام پہ مکل بحث کرتے ہیں ۔معاشی نظام کے حوالے سے وہ فرماتے ہیں ۔کسی معاشرے میں دولت چند سرمایہ داروں کے ہاتھ میں نہی بلکہ معاشرے میں سرکولیٹ ہونا چاے۔ تاکہ ہر انسان کے مسلہ حل ہوجاے۔ دولت کی تقسیم جو محاذ محنت کے بنیار پر یا پیسوں کے بنیاد پہ تقسیم نا کی جاے بلکہ ضرورت کو مد نظر رکھا جاے۔ انشااللہ ہم شاہ صاحب کو جو معاشی فلسفہ ہے اس پے اگے لکھتا رہونگا۔

  • بجلی والو! بوں۔۔۔۔۔۔۔۔او  تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    بجلی والو! بوں۔۔۔۔۔۔۔۔او تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    ملک عزیز کے سارے سرکاری و نیم سرکاری محکمے کامل ہڈحرامی و ناکامی کے بے مثل نمونے ہیں لیکن محکمہ واپڈا اس معاملے میں کئی خاص اعزاز رکھتا ہے ۔

    پورے ملک میں بلا تخصیص رنگ و نسل گالیاں کھانے کا جو مقام اب تک اس محکمے نے بغیر کسی محنت اور مشقت کے حاصل کیا ہے اس کے لئے اک خاص قسم کی بے عزتی پروف مادہ چاہئے ہوتا ہے جو خدا تکبر سے بچائے اس کے پاس بے حد کی حد سے بھی زیادہ ہے۔

    اجی! موسم نے تیور دکھائے نہیں اور انہوں نے ٹھانی نہیں کہ عوام الناس کی صحیح چیخیں نکالنی ہیں ۔اب بندہ پوچھے کہ حضور آپ نے لوڈ شیڈنگ کرنی ہے جم جم کریں تہتر کے آئین کے تناظر میں اور موجودہ حکومت کی عوام دوستی کے وسیع تر تناظر میں یہ آپکا سرکاری حق ہے لیکن اگر عوام کو مطلع کر دیا جائے کہ اس "وقت سے لے کر اس وقت تک” آپ نے پسینے میں نہانا ہے، جنرییٹر بابو کو تکلیف دینی ہے یا ہمیں گالیاں نکالنی ہیں تو اس میں آپ کا کیا جاتا ہے۔

    اب حال یہ ہے کہ پرانی گالی منہ میں ہی ہوتی ہے کہ لائٹ آکر پھر جاچکی ہوتی ہے ۔کوئی نظام الاوقات نہیں کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ۔

    گرڈ اسٹیشن والے اپنی مرضی سے تو بٹن نیچے نہیں کرتے ہوں گے ان کے پاس کہیں سے تو کوئی حکم نامہ آتا ہوگا ۔ظالمو وہی سرکولیٹ کردیا کرو ۔کم سے کم کسی درجہ تو سکون ملے کہ امتحان اتنے گھنٹے ہے ۔اتنی مدت کے بعد بجلی آہی جائے گی ۔ موجودہ دور میں کونسا مشکل کام ہے۔

    مگر محکمہ سرکاری ہو اور عوام کا فائدہ، سوچنا بھی نا۔۔۔

    تحریر ۔ ڈاکٹر راہی
    @IamRahiii

  • پیروی پرعمل اور تضاد . تحریر: سہیل احمد

    پیروی پرعمل اور تضاد . تحریر: سہیل احمد

    آج کل عید الاالضحئ کیلیے بہت اہتمام کیا جا رہا ہے ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑا مسلمان ثابت ہونے کیلیے بے دریغ پیسا خرچ کیا جا رہا ہے.ہر کوئی اپنی استطاعت کے بل بوتے پر ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت اور مہنگا جانور لینے کی ریس میں لگا .اس میں حرج بھی نہیں بس میرا اپنا ماننا یے ار ناقص العقل کی بدولت عرض کرنے پر مجبور بھی ہوں کی شاید اسکے دل میں اتر جائے میری بات ورنہ جیسے گزرا دن ویسے گزر جائے گی رات اب بات کرتا ہوں محلوں کی آپ اس بات سے اتفاق اس لیے کریں گے کیونکہ پڑھنے والوں میں ہر کوئی مریم نواز یاں سیٹھ عابد کا رشتہ دار نہیں .اللہ تعالئ نے کسی کو جاب عطا کی تو کسی کو اپنا بزنس. گزارہ تو عمران خان صاحب کی حکومت میں کرنا اب تھوڑا مشکل کیونکہ ہمیں عادت نہیں ہے ایف بی آر کی لسٹ میں اپنا نام ٹاپ پر لکھوانے کی. محلوں میں ماشاءاللہ بہت رونق ہوتی ہے کچھ معاملات میں ہم ایک دوسرے کے حق میں بھی چل پڑتے ہیں.

    کیسا وقت آگیا ہے کہ گلی میں ایک بزنس مین اور اسکے سامنے 50 سال سے ساتھ رہنے والا اسی کا ہمسایہ.جو کہ انتہائی غریب ہے .
    سیٹھ ہر سال 10 بکرے اور 2 3 گائے یاں اونٹ قربانی کیلیے لے آتا ہے. جبکہ غریب ہمسایہ شاید سال میں ایک آد بار ہی گوشت کو دیکھتا ہو گا.کیسا عجیب اتفاق ہے. ہیں دونوں ان پڑھ . پر حیثیت میں اوپر نیچے. کیا خوب کہا تھا کسی نے رب رزق دیندا نہ عقلاں نال نہ شکلاں نال رب نوازدہ اپنی مرضی نال.

    خیر سوال یہ تھا کہ کیا ہماری اتنی بڑی قربانی کو اللہ قبول فرمالے گا جبکہ ہم اپنے ہمسائے کے دل دکھانے میں جلتی پر تیل کا کام تو نہیں کر رہے.کیونکہ ہمسائے کے حقوق آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں . کیا اتنی بڑی قربانی کرنا بہتر ہے یاں اس غریب ہمسائے کو اپنے پیروں پر کھڑے کرنے کیلیے اس کے روزگار کیلیے مالی امداد کرنا.

    دوسری بات جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ رکاوٹیں ہٹانے پر بہت زور دیا گیا ہے اور راستوں میں مت بیٹھو وغیرہ وغیرہ.
    تو کیا ہم ٹھیک کر رہے ہیں جو اپنی حیثیت اور غفلت کی بنا پر عید کے تہوار کی بدولت اپنے جانوروں کےلیے گلیوں میں گیٹ لگوا رہے ہیں یاں قنات لگوا کر اپنی ہٹ دھرمی کا ثبوت دے رہے ہیں جبکہ اس کی بدولت عام شہری یاں آپکا ہمسایہ آپ سے بہت دکھی ہے.
    کیا ہمارا مزہب اسلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے ? کیا ہماری پرانی روایات اس سے مختلف نہیں تھیں . کیا ہم سب بھول کر اپنے آپ کو بخشوالیں گے. کیا ہمارا دکھی ہمسایہ قیامت والے دن ہمیں معاف کر دے گا.

    خدارا سوچیے
    ہم کس طرف جا رہے ہیں
    اپنے آپ کو پہچانیے

    @iSohailCh

  • ‏ تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا   ریاست ہماری ماں

    ‏ تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا ریاست ہماری ماں

    ہم میں سے بہت سے لوگ اکثر یہ کہتے ہیں ریاست ہمیں کیا دیتی ہے؟؟؟ ہمارے لیے کرتی ہی کیا ہے؟؟؟ 

    کبھی ان لوگوں نے خود سے سوال کیا ہے کہ یہ ریاست کو کیا دیتے ہیں ؟؟؟ یہ ریاست کے لیے کیا کر رہے ہیں ؟؟؟

    من حیث القوم ہم اپنی اصلاح کرنے کی بجائے ہمیشہ ریاستی اداروں کو ہی موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ 

    کوئی سانحہ رونما ہو جائے تو فوراً کہنا شروع ہوجاتے۔ ریاست سو رہی ہے۔ اس کے بس کی بات ہی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم اپنی ریاست کے لیے اپنے وطن کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ 

    سب سے پہلے تو پراپیگنڈہ کرنے میں ہم لوگ ہی پیش پیش ہوتے ہیں۔ تحقیق کی ہمیں بالکل بھی عادت نہیں ہے۔ بس جس طرف سیاسی مفاد پرست ٹولے ہمیں ہانک دیتے ہم اسی طرف بنا سوچے سمجھے چل پڑتے ہیں۔ 

    اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے۔ وطن کے مفاد کی بات آئے تو ریاست ہی ذمہ دار ہے۔ بھارتی عوام اپنی ریاست کے ہر جھوٹ کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے مگر افسوس ہماری قوم اپنی ریاست کے سچ کا ساتھ بھی نہیں دیتی۔ غداروں کی جھوٹی باتیں ہی سچ لگتی ہیں۔ اسی روش نے ہمیں سیاسی, مذہبی ٹولیوں میں بانٹ رکھا ہے۔ 

    پاکستان کے سبھی اداروں کا ساتھ دینا پاکستان کا ساتھ دینا ہے۔ تنقید برائے اصلاح کیجیے مگر پراپیگنڈہ نہیں۔ 

    ہماری ریاست کی فلاح اسی میں ہے کہ ہم مخلص ہو کے سبھی اختلافات ختم کر کے اس کے لیے کام کریں۔ اپنے اپنے شعبوں میں اخلاص کے ساتھ,  ایمانداری اور محنت کے جزبے سے کام کریں تاکہ ہمارے ادارے مضبوط ہوں۔ 

    ہماری ریاست ہمارا فخر ہے۔ 

    اللہ ہم سب کا پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

    ‎@DoctorZunera

  • "ڈپریشن” ایک بیماری اوراسکا علاج .  تحریر : لائبہ طارق

    "ڈپریشن” ایک بیماری اوراسکا علاج . تحریر : لائبہ طارق

    آجکل ہردوسرے نوجوان میں ایک چیزمشترکہ پائی جا رہی ہے وہ ہے ڈپریشن.
    ڈیپریشن ایک ذہنی بیماری ہے جو آپ کے مزاج یعنی جسطرح سے آپ خود کو اور اپنے ارد گرد کی چیزوں کو سمجھتے ہیں اسکو متاثر کرتی ہے۔ اسکے مختلف نام ہیں جیسا کہ کلینیکل ڈپریشن(Clinical Depression)، میجر ڈیپریشن کی بیماری (Major Depressive Disorder) یا Major Depression ہے۔

    ڈیپریشن ایک ایسی بیماری ہے جو بغیر کسی وجہ کے سامنے آسکتی ہے اور یہ بیماری ایک لمبے عرصے تک ہوسکتی ہے۔ ڈیپریشن کوئی غم یا موڈ خرابی کا نام نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک چیز کا نام ہے ۔ جو لوگ ڈیپریشن سے گزر رہے ہوتے ہیں وہ لوگ خود کو بیکار اور بے یار و مددگار محسوس کرتے ہیں۔ وہ بغیر کوئی وجہ کے خود کو مجرم محسوس کرتے ہیں۔

    کچھ لوگ ڈیپریشن کا سامنا غصے اور چڑچڑاپن کی صورت میں کرتے ہیں جس سے نا صرف توجہ دینے یا فیصلے کرنے میں انکو مشکل پیش آتی ہے بلکہ زیادہ تر لوگ ایسی چیزوں میں دلچسپی کھو دیتے ہیں جن سے وہ عام زندگی میں لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اسکی وجہ سے ہی وہ خود کو بھی دوسروں سے الگ کر دیتے ہیں۔

    ان کے علاوہ ڈیپریشن کی جسمانی علامتیں بھی ہیں، جیسے کہ نیند، بھوک، توانائی اور نامعلوم درد یا تکلیف کے مسائل شامل ہیں۔ کچھ لوگ اس بیماری میں موت یا اپنی زندگی کے خاتمے (خودکشی) کے بارے جیسے مشکل خیالات کا تجربہ سے گزرتے ہیں۔ ڈیپریشن دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک رہتی ہے اور عموماً یہ بیماری خود ختم نہیں ہوتی ہے جو آپکی پوری زندگی کو متاثر کرتی ہے۔

    ڈپریشن سے نکلنے کے لیں اپنی طرز زندگی بدلیں پہلا قدم اٹھانا ہمیشہ سب کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اپنے سکون کے لیے انسان کو کوشیش کرنی ہوتی ہے ۔اپنی زندگی میں ان لوگوں اور چیزوں کو شامل کر لیں جن سے آپکو خوشی ہو مثال کے طور پر سیر کیلئے جانا یا اپنی پسندیدہ موسیقی پر رقص کرنا یہ آپ کے موڈ کو بوسٹ اپ اور آپکو کافی حد تک انرجی دے سکتا ہے اپنی پسند کا کھانا تیار کرنا یا کسی پرانے دوست سے ملنے جانا ۔ ان چھوٹے لیکن مثبت اقدامات سے آپ ڈیپریشن جیسی بیماری سے چھٹکارہ حاصل کرسکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اپ خود کو خوشحال، صحت مند اور پر اُمید محسوس کرینگے،
    اپنی نیند کا خاص خیال رکھیں ۔نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے انسان چڑچڑا ہو جاتا ہے ۔اگر آپ نے اپنی مدد آپ کے تحت اقدامات اٹھاۓ ہیں لیکن طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں آنے کے بجائے ڈیپریشن مزید بڑھ رھا ہے تو پھر ضروری ہے کہ پیشہ ورانہ مدد حاصل کریں۔

    ماہر نفسیات کے پاس جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کے آپ پاگل ہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ کو خود سے پیار ہے اور اپنے اپ کو ٹھیک کرنے کے لیے مدد لے رہے ہیں ۔ماہر نفسیات تھراپی اور کونسلنگ سے آپکے مسئلے کو حل کرتا ہے اور آپ خود کو ایک بہتر انسان محسوس کرتے ہیں۔ اپنی زندگی سے منفی سوچ کو نکال دیں اور اپنے ذہنی صحت کو بھی اتنا ہی سیریس لیں جتنا جسمانی صحت کو لیتے ہیں۔

    صحتمندی اورپھرذھنی صحتمندی ایک نعمت ھے اسکی قدرکریں۔

    @LaaybaTariq

  • تحریر: اصغر بلوچ  ڈیرہ غازی خان کے سیاحتی مقامات

    تحریر: اصغر بلوچ ڈیرہ غازی خان کے سیاحتی مقامات

    ڈیرہ غازی خان کا شمار پاکستان کے سیاحتی مقامات میں سے ہوتا ہے
    قدرت نے ڈیرہ غازی خان کو سبز پہاڑوں سے ڈھانپ رکھا ہے
    آئیں آپکو لیں چلتے ہیں ڈیرہ غازی خان کا مری
    یعنی فورٹ منرو
    ڈیرہ غازی خان کا فورٹ منرو ڈیرہ غازی خان کے لوگوں کے لیے مری سے کم نہیں ہے  جہاں گرمیوں میں بھی شدید سردی ہوتی ہے فورٹ منرو چاروں طرف سے خوبصورت پہاڑوں میں چھپا ہوا علاقہ ہے جس کا حدود بلوچستان سے بھی ملتا ہے اور یہ ٹرائبل ایریا کہلاتا ہے یہ علاقہ بلوچ لیوی کے کنٹرول میں ہوتا ہے
    فورٹ منرو میں خوبصورت پہاڑ اور چین کی مدد سے بنایا گیا ایک خوبصورت اسٹیل پل سیاحوں کو اپنی طرف مائل کرتا ہے ڈیرہ غازی خان میں شدید گرمی کی وجہ سے کافی لوگ نقل مکانی کرکے فورٹ منرو چلے جاتے ہیں جہاں گرمیوں کا موسم گزارنے کے بعد واپس آجاتے ہیں
    فورٹ منرو میں اونچے سرسبز پہاڑ اور پہاڑوں سے نیچے بادل لوگوں کے دل جیت لیتے ہیں یہاں گرمیوں میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے
    فورٹ منرو میں بارشوں کا سلسلہ ہر دوسرے دن جاری رہتا ہے
    ڈیرہ غازی خان فورٹ منرو قدرت کا حسین کرشمہ ہے
    پاکستان بھر سے آئے سیاحوں کا دل جیت لیتا ہے
    اگر آپ بھی اس علاقے کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو بلاخوف خطر آپ تفریح کے لیے آسکتے ہیں
    تحریر MAsgharBloch