Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حضرت عمرؓ .تحریر مدثر محمود

    حضرت عمرؓ .تحریر مدثر محمود

    مرادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تاریخِ اسلام کی وہ نامور شخصیت ہیں جو جرأت و بہادری کی وجہ سے قبولِ اسلام سے قبل ہی شہرت کے حامل تھے۔ امام ترمذی نے بیان کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی اسی جرأت کی وجہ سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بحضورِ الہٰ التجاء کی: اے اللہ! عمر بن خطاب اور عمرو بن ہشام (ابوجہل) میں سے اپنے پسندیدہ بندے کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا فرما۔ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کی دعا قبول کرتے ہوئے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعہ اسلام کو عزت دی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام سے قبل مسلمان مشرکینِ قریش سے چھپ کر عبادات کیا کرتے تھے لیکن جب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ آج سے مسلمان عبادات چھپ کر نہیں بلکہ علی الاعلان کیا کریں گے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:

    ’’بے شک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام ہمارے لیے فتح تھی۔ خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے ہم نے مشرکین کا مقابلہ کیا اور خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھنا شروع کیں۔‘‘

    (المعجم الکبیر للطبرانی، رقم: 8820)

    اُس دن سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا لقب فاروق رکھ دیا گیا۔ یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا-

  • بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں باپ کا کردار! .تحریر: فیضان علی

    بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں باپ کا کردار! .تحریر: فیضان علی

    بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں باپ کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے جو کے پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے
    ابتدائی عمر سے لے کر اسے شعور آجانے تک یہ والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اسے کیسا ماحول فراہم کر رہے ہیں کیونکہ وہ جس ماحول میں رہے گا اور وہاں کے لوگوں کے درمیان رہے گا جو انہیں کرتا دیکھے گا وہی اس کورے کاغذ یا سلیٹ جیسے دماغ میں نقش ہوجائے گا

    (ماں کی گود بچے کی پہلی درست گاہ ہوتی ہے)

    تعلیم و تربیت انسانی روح کی بہت اہم غذا ہیں
    جب بچہ دنیا میں آ کر اپنی آنکھیں کھولتا ہے تو اس کے کانوں میں اذان دی جاتی ہے گویا اسی وقت اس کی تعلیم و تربیت کا آغاز ہو جاتا ہے ماہرین کا کہنا ہے بچے کا دماغ کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے بچہ جس ماحول میں پیدا ہوتا ہے بہت جلد وہ اسی ماحول کا اثر پکڑ لیتا ہے
    اپ جیسا ماحول بچوں کو مہیا کریں گے وہ اسی ماحول کی تعلیم حاصل کریں گا اور اسی رنگ میں ڈھل جائیں گے یہ بات ہم پر لازم ہے کے ہم اپنے بچوں کو کس قسم کا ماحول اور کس قسم کی تعلیم اپنے بچوں کو دیتے ہیں
    ابتدائی عمر سے لے کر انہیں شعور آجانے تک یہ والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ بچوں کو ایک اچھا ماحول دیں اور ان کی اچھی تربیت کریں بچے اپنے ماحول میں اردگرد کے لوگوں کو جو کرتا دیکھیں گے جن کے ساتھ نشت و برخاست ہوں گا انہی چیزوں کو انہی کے آداب طور طریقے اپنے دماغ میں نقوش کرتے جائیں گے اور یہ ماحول کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے
    سب سے بڑھ کر ماں باپ کی محبت بچوں کے لیے، بچوں کی تعلیم و تربیت میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے آپ اپنے بچوں کے ساتھ جس شفقت اور محبت کے ساتھ پیش آئیں گے اپ کے بچے بھی اسی طرح ایک میٹھی تربیت حاصل کریں گے دنیا میں محبت اور شفقت سے بڑھ کر کچھ نہیں یہی شفقت بچوں کو ایک اچھا انسان بھی بناتی ہے

    اب جب بچہ اسکول جانے لائق ہوجاتا ہے تو لازماً اسے ادب و آداب و اخلاقیات اور حسنِ عمل کی بنیادی تربیت فراہم کی جائے والدین کو اپنے گھروں میں مذہبی اور روحانی ماحول تشکیل دینے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے انہیں جھوٹ، بدزبانی اور لڑائی جھگڑے سے کنارہ کشی اختیار کرلینی چاہیے بچوں کو کھیلنے کے لیے کون سا کھلونا دینا ہے یہ فیصلہ کرتے ہوئے والدین کو بہت بڑی احتیاط برتنی چاہیے
    گھر کا ماحول سب سے اہم ترین عنصر ہے جو بچے کی زندگی پر گہرا اثر مرتب کرتا ہے ایک بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی لمحات سے ہی اپنے والدین پر منحصر ہوتا ہے جو اس کی تمام ضروریات کو پورا کرتے ہیں والدین بچوں کے پہلے معلمین ہوتے ہیں اور ان کے لیے رول ماڈل کا کردار ادا کرتے ہیں
    بہت سارے بچے خوش قسمت ہوتے ہیں کے جن کو گھر کا ماحول والدین کی محبت اور شفقت سے بھرپور ایک اعلیٰ سازگار ماحول ملتا ہے اور یہ بچوں کی کامیابی کا بہت اہم ضامن ہے
    اگر والدین یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں کتنے کامیاب ہیں تو اس کا اندازہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کو دیکھ کر لگا سکتے ہیں اگرچہ بچے اخلاقی طور پر اچھے ہیں تو یہ والدین کی اعلیٰ کامیابی ہے یوں بچے کامیابی اور ناکامی پرکھنے کا حقیقی پیمانہ ہیں

    بچوں کو چند احتیاطی تدابیر کے ساتھ والدین کے زیرِنگرانی سوشل میڈیا کا استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
    جب بچہ 10، 12 سال کا ہو جاتا ہے تو والدین کی ذمہ داریوں میں بھی تبدیلی آ جانی چاہیے اس عمر میں بچہ اسکول میں محلے میں اور معاشرے میں دوستیاں قائم کرنے لگتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اس عمر میں بچوں کے دوست بن جائیں اور ان کے لیے صحیح راستے کی رہنمائی کریں۔
    بچوں کی یہ عمر ہر لحاظ سے خوب پھلنے پھولنے کی ہوتی ہے اس عمر میں بچوں کی نقل و حرکات پہ کڑھی نظر رکھنی چاہیے بچوں کو گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے کے ساتھ اپنے ساتھ نماز ادا کرنے کا پابند بھی بنائیں اور معاشرے میں بڑھتے کچھ جرائم اور تشدد کے واقعات کے بارے میں بڑی احتیاط کے ساتھ بچوں کو انکے بارے میں آگاہ کیا جائے،
    ایک سنہری کہاوت ہے کے گھر میں بچوں کے اچھے دوست بن جائیں تو بچے باہر کی بری دوستی سے بچ جاتے ہیں سادہ الفاظ میں یہ کہوں گا کے بچوں کو گھر میں اچھا دوستانہ ماحول مہیا کریں تاکے اپ کے بچے بُری صحبت سے بیچیں
    اولاد ﷲ تعالٰی کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس کا تحفظ کرنا والدین کی زمہ داری ہے
    اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ، ‘اے ایمان والو تم اپنے آپ کو اور اپنے گهر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندهن آدمی اور پتهر ہیں۔‘ (66:6)

  • پاکستان اور اس کا مستقبل،تحریر: اسعد گل اعوان

    پاکستان اور اس کا مستقبل،تحریر: اسعد گل اعوان

    پاکستان کا مستقبل سیاسی، مزہبی اور دفاعی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان دنیا میں ایٹمی قوت سے جانا جاتا ہے۔ پاکستان اس وقت عالمی طاقتوں کیلئے بہت اہم ہے چاہے وہ روس ہو، چائنا ہو، امریکہ ہو یا پھر عرب ممالک۔ پاکستان کئی سالوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے جس کے نتیجہ میں ستر ہزار سے زائد عام شہری اور افواج پاکستان کے جوان اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کر چکے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ جیسے کہ پہلے کہہ چکا پاکستان کا مستقبل سیاسی،مزہبی اور دفاعی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے تو آئیں ان تینوں پہلوؤں کا الگ سے جائزہ لیتے ہیں۔
    1- سیاسی پہلو:
    پاکستان نے مارشل لاء میں کافی وقت سامنا کیا کیونکہ ہم پر ہمیشہ سے نا اہل حکمران مسلط رہےجنھوں نے صرف اپنے زاتی کاروبار کو آگے بڑھایا۔ مارشل لاء کی وجہ سے پاکستان کو کافی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود پاکستان معاشی طور پر مستحکم رہا۔ پہلے مارشل لاء میں بھی پاکستان معاشی طور پر اتنا مضبوط تھا کہ دوسرے ملکوں کو قرضے فراہم کرتا تھا۔ لیکن مفاد پرست ٹولے کے آنے کے بعد پاکستان کو کشکول اٹھانا پڑا۔ اور پھر اس کرپٹ ٹولی کی آپس کی باریوں کی بدولت پاکستان قرضوں میں ڈوب گیا۔پاکستان کو بہت عرصے بعد ایک ایسی قیادت نصیب ہوئی جس نے اپنے زاتی کاروبار کے بجائے پاکستان کو اہمیت دی اور مزید دیوالیہ ہونے سے بچایا جو اس کرپٹ ٹولے کو ہضم نہ ہوا۔ پاکستان اس وقت عمران خان کی قیادت میں مسحکم کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ اور انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب ٹیکسٹائل سے لے کر آئی ٹی تک پاکستان دنیا میں اپنا نام بنائے گا۔
    2-مزہبی پہلو:
    پاکستان کے وجود میں دین اسلام خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا 27 رمضان کو وجود میں آنا پھر کلمے کی بنیاد پر نام رکھا جانا اللہ کی طرف سے خاص تحفہ ہے۔ ماضی میں پاکستان نے فرقہ ورانہ دہشت گردی کا بھی سامنا کیا۔ حکومت وقت کی پابندیوں اور اقدام کی وجہ سے پاکستان کافی حد تک فرقہ ورانہ دہشت گردی کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ دین اسلام کی سر بلندی اور حضور پاک ﷺ کی ناموس کیلئے جس قدر مضبوط آواز عمران خان نے اٹھائی اس پر عمران خان کی تعریف نہ کرنا نا انصافی ہو گی۔سیاسی پہلو کے ساتھ مزہبی پہلو سے بھی عمران خان پاکستان کے امیج کو بہتر کی طرف لے جا رہے۔

    3- دفاعی پہلو:
    پاکستان دفاعی لحاظ سے کافی مضبوط ملک ہے۔ جس کے پاس جدید ترین ہتھیار، بہترین صلاحیت کی حامل افواج اور دنیا کی اعلی ترین انٹیلیجنس ایجنسی ہے۔ پاکستان کافی عرصے سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے چاہے وہ ٹی ٹی پی ہو، مشرکی اور مغربی بارڈر ہو، بھارتی ایجنسی را کے دہشت گرد ہوں یا بھارت کی حمایت یافتہ بی ایل اے کے دہشت گرد ہوں۔ افواج پاکستان بہت سے عالمی ساشوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ معرض وجود سے لے کر آج تک پاکستان بہت سے ملکوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے لیکن با صلاحیت اور جنگی حالات گزری ہوئی تجربہ کار فوج کے بدولت پاکستان آج بھی قائم ہے اور انشاءاللہ پاکستان کو ختم کرنے کا خواب دشمنان پاکستان کیلئے شرمندہ تعبیر ہوگا ۔

  • جنگیں، فساد یا امن…!!! تحریر: محمد اسامہ

    جنگیں، فساد یا امن…!!! تحریر: محمد اسامہ

    جنگ کا مطلب فساد، خون ریزی، تباہی، بربادی ہوتا ہے. جنگ ہمیشہ فساد کا ہی باعث بنتی ہیں. جنگ جانی، مالی، اعصابی، جذباتی نقصان کا موجب ہوئی ہے. جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہ تھی نہ ہے. اس کا ثبوت یہ ہے کہ مسائل کو جنگ کے ذریعے حل کرنیوالے بالآخر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں. دنیا جنگوں کی تاریخ سے بھڑی پڑی ہے. ان کی داستان کوپڑھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہرجنگ کا اختتام میزپرہی ہوا ہے. جنگ عظیم اول ہو، جنگ عطیم دوئم ہو، ہٹلرکی نسل کشی ہو، سب جنگوں کا اختتام میزپرہوا ہے. جنگوں نے ہمیشہ کسی بھی ملک کی جانی اورمالی کمرتوڑی ہے. جنگ زدہ ممالک اپنے حال سے مزید سوسال پیچھے چلے جاتے ہیں.

    کچھ اس طرح ہی جنوبی ایشیائی ممالک میں ہورہا ہے. جنوبی ایشیاء میں برصغیر کی مثال سامنے رکھیئے. برصغیرپر1000 سال تک حکومت کرنے والے مسلمان حکمرانوں کو آپس میں لڑوا کرانگریزنے برصغیرپرقبضہ کرلیا تھا. اپنی موجودگی میں نسل پرستی کومزید شے دیکر نسلوں کوآپس میں لڑوا دیا گیا تھا. امن کا پیامبربن کردونوں نسلوں میں صلح صفائی کروا کرمعززبن جاتا تھا. برصضیرپرسوسال کی حکومت میں انگریز نے دوقوموں کو لڑوایا ہی تھا. اسی اثناء میں برصغیرمیں ایک قومی لیڈر پیدا ہوئے. جنہیں برصغیر کی موجودہ حالت دیکھ کرسمجھ آ گئی تھی کہ اب یہ دو قومیں اکٹھی نہیں رہ سکتی ہیں. ان دونوں قوموں کو علیحدہ ہونا پڑے گا. طویل جدوجہد کے بعد برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا تھا. اس فیصلے کو منتقی انجام دینے والے وہی انگریز تھے، جنہوں نے دونوں قوموں لڑوایا تھا. چنانچہ تقسیم برصغیر کے وقت بھی انگریزخون کے پیاسے نکلے تھے. تقسیم کے دوران بھی قیمتی جانوں کا سرعام قتل کیا گیا تھا. انگریزنے برصغیر میں نہ چاہتے ہوئے بھی تقسیم کردی تھی. مگر دل میں برصغیرمیں ہونے والی ناکامی پربغض رکھا ہوا تھا. اس بغض کی وجہ سے انگریزنے برصغیرکواب تک مستقل جنگ میں دھکیل دیا ہے. وسط ایشیاء مسلسل میدان جنگ بنا ہوا ہے.

    متعدد چھوٹی جنگوں کے علاوہ اس خطے میں بڑی جنگیں ہوچکی ہیں. 70 کی دہائی میں دنیا نے روس کوآگے لگا کرسوویت یونین کے نام سے 28 ممالک نے خشک اورگرم علاقے کی سرزمین افغانستان پرحملہ کردیا تھا. اس حملہ کے نتیجہ میں بے گناہ جانوں کا ضیاع ہوا تھا. امن سے رہنے لے افغانیوں پرظلم کیا گیا تھا. پھردنیا نے دیکھا نہتے افغانیوں نے اس وقت کی دنیا کی سپرپاورکے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا. یتھیاروں سے لیس 28 ممالک کو نہتے افغانیوں سے شکست سے دوچارہونا پڑا تھا. وقت کی سپرپاورکے 26 ٹکڑے ہوئے تھے. افغانیوں نے اس وقت کی سپرپاورکا غرورخاک میں ملا دیا تھا. سپرپاوراوراس کے اتحادیوں کو منہ کی کھانا پڑی تھی. نتیجہ کیا نکلا، سپر پاوراور اس کے اتحادیوں کا، افغانیوں کا اور خطے کا امن برباد ہوا تھا، خطے کی معاشی حالت برباد ہوگئی تھی. پھراس جنگ ک اختتام بہت سی جانیں گوانے کے بعد ایک میزکے گرد بیٹھ کر، ایک کاغذ کے ٹکڑے پرہوا تھا. یوں کہیں کہ میز کے گرد بیٹحھ کرامن کا معاہدہ کرکے کیا گیا تھا. اتنی جانیں اورمال گوانیں کے بعد میزکے گرد ہی بیٹھنا تھا توجنگ کی کیوں……..

    سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ کے پاس دنیا کی سرداری گئی تھی. تقریبا دس سال کےعرصہ کے بعد امریکہ نے اپنے ملک میں ڈرامائی حملہ کرکے افغانیوں پرالزام لگایا کہ یہ حملہ انہوں نے کیا ہے. اس حملے کا بدلہ لینا اوردنیا کواپنی پاوردکھانے کے لیے افغانستان میں حملہ کرنا ضروری ہوگیا تھا. اپنے ملک میں حملہ کا ڈرامہ کروانے کا مقصد یہی تھا کہ اسے افغانستان پرحملہ کرنے کا بہانہ مل سکے. چنانچہ افغانستان پرحملہ کوعملی جامہ پہنانے کیلئے 7 اکتوبر2001 کی صبح افغانستان کی سرزمین پربارود کے بادل چھانے شروع ہوگئے تھے. اس جنگ میں امریکہ اکیلا نہیں تھا. اس کے ساتھ 58 ملکوں کی فوج تھی. جنہیں نیٹو فورسسز کا نام دیا گیا تھا. ان 58 ملکوں کی فوج کے ساتھ جدید جنگی سازوسامان، دنیا کے بہت بڑے دفائی بجٹ تھے. اس جنگ کو دنیا کی مہنگی ترین جنگوں میں گنا جاتا ہے. اس جنگ مں نیٹو فورسزنے ہمسایہ ممالک سے ہوائی اڈے لے لیے تھے. خطے کے ملکوں کو بھی اس جنگ میں زبردستی گھسیٹا گیا تھا. ایک اسلامی ملک کو دوسرے اسلامی ملک کے خلاف اپنا اتحادی بنایا گیا تھا. عالمی رپوٹس کے مطابق اس جنگ میں 325 بلین ڈالر کا خرچہ کیا گیا تھا. اسلحہ کی ہرنئی ایجاد اس جنگ میں استعمال کی گئی تھی. 2001 سے شروع ہونے والی یہ جنگ 2020 تک چلی. اس جنگ میں نیٹو فورسز کے لاتعداد فوجی قتل ہوئے تھے. مدمقابل افغانی قوم نے کچھ نہ ہونے کے باوجود ان 58 ممالک کا بھرپورمقابلہ کیا. دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ نہتے افغانیوں نے نیٹو فورسزکے ساتھ کیسا سلوک کیا ہے. دونوں ہتھیار بند فورسز نے ایک دوسرے کا بھرپورمقابلہ کیا ہے. مگر اس جنگ میں افغانستان کے معصوم لوگوں کا بہت نقصان ہوا ہے. اپنے گھروں سے نکل مکانی کرنا پڑی ہے. 20 سال کی جنگ میں نیٹو فورسز کو افغانستان کی ایک انچ جگہ بھی نہیں ملی. بلکہ 20 سال کی طویل جنگ کے بعد افغانستان کے مدمقابل لوگوں کے سامنے ہتھیارڈالنے پڑے ہیں. نیٹو فورسزنے افغانستان کے پمسایہ ملکوں سے منت ترلہ کرکے اس طویل جنگ کوختم کرنے کا اعلان کیا ہے. آخر20 سال کی قتل و غارت کے بعد میزکے گرد ہی بیٹھنا پڑا. نہتھے افغانیوں سے جنگ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے، بلکہ جان اورمال کا ضیاع ہوا ہے.

    انگریز نے جنوبی ایشیاء میں جنگیں کیوں کیں……!!!!!!
    برصغیر کی تقسیم سے پہلے اس علاقے پر ہزار سال تک مسلمانوں نے حکومت کی ہے، اپنے دورحکومت میں ان حکمرانوں نے اس خطےمیں امن کا قیام کیا، انصاف کیا. مگر ہرعروج کو زوال ہوتا ہے. مسلمان حکمران آپس میں لڑنا شروع ہوگئے تھے. پھرانگریزنے اس کا بھرپورفائدہ اٹھایا. ان کی لڑائیوں میں مزید آگ لگادی. آگ کی شدت اتنی ہوگئی کہ پورے خطے میں اپنی حکمرانی کھو بیٹھے تھے. انگریز نے اس خطے پرقبضہ کرلیا تھا. 100 سال تک حکومت کی. اس خطے کی عوام نے ان کی حکومت کوقبول نہیں کیا. ایک نظریاتی ملک کے قیام کی تحریک نے برصغیرکو دوحصوں میں تقسیم کردیا. دنیا کے نقشے پرایک نظریاتی ملک وجود میں آگیا تھا. اس ملک نے بہت تھوڑے عرصے دنیا میں بہت اہمیت حاصل کرلی تھی. قدرت نے اس علاقے کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے. گرم پانی یہاں ہے، ہر قسم کی معدنیات یہاں ہیں، دنیا کی سب سے بہترین بحری پورٹ یہاں ہے، صلاحیت سے بھرپورعوام یہاں پیدا ہوتے ہیں.

    اس ساری بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جنوبی ایشیاء میں ہونے والی ان طویل جنگوں کا مقصد اس نظریاتی ملک پرقبضہ کرنا تھا. جو بری طرح ناکام ہوا ہے. سوویت یونین کی سپرپاورہویا نیٹوفورسزسب نے اپنے بھرپوروسائل لگائے ہیں. مگراس نظریاتی ملک کو زیرنہیں کرسکے ہیں. افغانستان میں سوائے خشک پہاڑوں کے کچھ نہیں ہے. جس نے بھی افغانستان پرحملہ کیا ہے اس کا مقصد نظریاتی ملک تھا. کیونکہ اس نظریاتی ملک نے آزاد ہونے کے تھوڑے ہی عرصہ میں ایٹمی حیثیت کرلی تھی. دنیا کو یہ بات چبھنے لگ گئی تھی. دنیا نے محسوس کرلیا تھا کہ اس نظریاتی ملک مستقبل میں ہماری جگہ لے لیگا.

    ان دو جنگوں کے بارے مختصر تعارف کروانے مقصد یہ ہے کہ جنگ کے کیا نتائج حاصل ہوتے ہیں؟
    جنوبی ایشیاء میں 70 کی دہائی سے شروع ہونے والی طویل جنگ نے خطے میں بے امنی اورخطے کومعاشی طور پرکمزورکیا ہے. جنگ ہمیشہ فساد برپا کرنے کا ہی باعث بنی ہے. دہشت گردی کے نام سے شروع ہونے والی جنگ نے خطے میں مزید دہشت گردی پھیلائی ہے. ایک تہذیب کی عوام کودوسری تہذیب کی عوام سے میں لڑوایا گیا ہے. پیسا دے کر بھائی کو بھائی کا قاتل بنایا گیا ہے. ان جنگوں سے جنوبی ایشیاء کے خطے میں بسنے والے ملکوں کی معیشت تباہ ہوئی ہے. قوموں کے مستقبل تباہ ہوئے ہیں. کسی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے. بلکہ شکست سے دوچارہونا پڑا ہے. جن کی سرزمین تھی وہی دوبارہ اپنی حکومت قائم کرنے کے قریب ہیں. یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ جس نظریاتی ملک کو صفحہ ہستی سے مٹانے آۓ تھے اسی کی منتیں کرنا پڑیں. اس کے ذریعے سے افغانستان میں جنگ بندی کیلئے ثالثی کا کردار ادا کروایا. اس نظریاتی ملک کو درمیان میں ڈال کر اس جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا. یہ ہے اس نظریاتی ملک کی دنیا میں اہمیت.

    @its_usamaislam

  • پاکستان کی یوم آزادی ایک لمحہ فکریہ . تحریر :‌ ابوبکراورکزئی

    پاکستان کی یوم آزادی ایک لمحہ فکریہ . تحریر :‌ ابوبکراورکزئی

    اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادی کا حصول اورمسلمانوں کے لئے الگ مملکیت کا قیام اللہ تعالی کی عظیم الشان نعمت تھی جو اس خطے کے مسلمانوں پرنازل ہوئی۔ یہ اہلِ پاکستان کا فرض تھا کہ وہ اس نعمیتںِ عظمی کو ہرقدم پریاد رکھتے اوراسے فراموش نہ ہونے دیتے۔ اس سلسلے میں چند گزارشات پیشںِ خدمت ہیں.

    1. جس طرح پاکستان کا قیام مسلمانوں پراللہ کا انعام تھا اس طرح اس کا عظیم اشان کرم یہ تھا کہاس مملکیت کے قیام کے لئے 27 رمضان اور جمعہ کے دن کا انتخاب کیا گیا۔ اس دن کا انتخاب کسی انسان کی سوچ کا نتیجہ نہیں تھا کیونکہ اس دن کا یقین تنہا مسلمانوں کے اختیار میں نہیں تھا۔ بلکہ اس فیصلے میں انگریز، ہندواورسکھ بھی شامل تھے۔ ظاہرہے وہ اس نقطہ نظرسے اس دن کا انتخاب نہیں کرسکتے تھے۔ کہ یہ مسلمانوں کے لئے ہرلحاظ سے خیروبرکت کا دن ہے۔ ظاہرمیں نگاہیں اس بات کو مخص اتفاق سمجھتی ہیں کہ جو دن اِن اقوام کے اتفاق سے قیامِ پاکستان کا دن قرارپایا وہ جمعہ 27 رمضان کا دن تھا۔ لیکن جس شخص کا ایمان، قدرت کاملہ اورحکمت بالغہ پرہواس کے نزدیک اس کائنات کا کوئی واقعہ مخص بحث واتفاق کا نتیجہ نہیں ہوتا ان میں سے بعض حکمتوں کا علم انسان کو ہو جاتا ہے اوربہت سی حکمتیں اس کے پروازِ تخیل سے ماورا ہوتی ہیں اوروہ اپنی محدود فکر کے نتیجے میں ہی ان واقعات کو بحث واتفاق کا کرشما قراردیتے ہیں۔ لہذا قیامِ پاکستان کے مہینے، اس مہینے کے آخری عشرے، اور آخری عرشے میں 27 رمضان اوراس میں بھی جمعہ کے دن کا انتخاب نہ تو انسانی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا اور نہ بحث و اتفاق کا۔ بلکہ یقینا یہ یقین منجانب اللہ تھا۔

    اس خطے کے مسلمانوں پراللہ تعالی کے بے پناہ کرم کا نتیجہ تھا کہ ہمیں پاکستان جیسی عظیم نعمت عطا فرمانے کے لئے اس مبارک دن کا انتخاب کیا گیا جو اپنی رحمتوں اور برکتوں کے لحاظ سے سال کا افضل ترین دن تھا۔ یہ تو اللہ تعالی کی عطا تھی جو ہماری کسی کوشش اور طلب کے بغیر مخص اس کے فضل وکرم سے حاصل ہوئی۔ لیکن اس عطا کے مقابلے میں اپنی ناشکری اورناقدری ملاحظہ فرمائیے کہ اس نعمت کا اتنا ادراک و احساس کرنے کی توفیق بھی نہ ہمیں ہوئی؟ کہ ہم 27 رمضان کو پورا پاکستان اور اپنا یومِ استقلال تسلیم کر لیتے۔ چنانچہ جب یومِ آزادی کے لئے دن کی یقینی کا سوال آیا تو ہم نے 27 رمضان کی بجائے 14 اگست کو اپنا یومِ آزادی قرار دے دیا۔
    مختصر یہ کہ اللہ تعالی کی اس غیبی تاہیک کی اس سے بڑھ کر ماقدری، احسان فراموشی اورکوتاہی کیا ہو گی؟ کہ سال کے جس افضل ترین دن کو اللہ تعالی نے ہمارے لئے یومِ پاکستان قرار دیا تھا ہم نے اس کو اپنا یوم آزادی تسیلم کرنے سے انکار کر دیا اور اس کو نظر انداز کر کے اپنی محبت اور عقیدت کا مرکز 14 اگست کو بنا لیا۔ میں سمجھتا ہوں یہ ہماری احسان فراموشی کا پہلا امتحان تھا۔ جس میں ہم "اللہ معاف فرمائے” بری طرح ناکام ہوئے۔ حکومت اس سنگین غلطی کی تلافی کرے اور ہم سے ماضی میں 27 رمضان کی ناقدری کا جو جرم سرزد ہوا اس سے اجتماعی توبہ کر کے آنئدہ کے لئے 14 اگست کی بجائے 27 رمضان کو یوِم استقلال ٹھہرائے۔

    2. ہمارا یومِ آزادی، اس پر منایا جانے والا جشن اور اس موقع پر منعقد ہونے والی تقاریب ان دوسری اقوام کے جشن آزادی سے مختلف اور ممتاز ہونی چاہئے جن کے نزدیک آزادی کی مسرت جیت رسمی کھیل تماشوں سے عبارت ہے۔ اللہ نے اس مملکیت کے ذریعے ہمیں بیک وقت انگریزی استعار اور ہندو سامراج دونوں سے نجات عطا فرمائی اور اپنی تعمیر کرنے کا خود موقع دیا۔ ہمارا یومِ آزادی درحقیقت یومِ شکر ہونا چاہئے جس میں صرف ہماری زبان نہیں بلکہ ہماری ایک ایک نقل و حرکت شکر گزاری کی آئینہ دار ہو۔

    پاکستان کا یوم استقلال ہر سال ہم سے یہ سوال بھی کرتا ہے کہ جس ملک کے قیام کے لئے ہزاروں مسلمانوں نے اپنے جان و مال اپنے جذبات اور اپنی عزت وآبرو کی جتنی قربانیاں دی تھیں جس کی بنیاد میں نا جانے کتنے مسلمانوں کا خون شامل تھا اس کے قیام کے لئے ہم نے کتنی جانیں رخصت کی ہیں؟ جب تک ہم اس سوال کے جواب میں اپنے پروردگار کے سامنے سرخرو ہونے کے اسباب پیدا نہ کر لیں اس وقت تک یوم آزادی کی یہ تقریبات مخص ایک رسمی کاروائی ہی رہیں گی اور قیام پاکستان کے اصل مقصد کے پیشِ نظر ان کی حیثیت ہماری بے عملی پر ایک بھرپور طنز سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتی۔

    @merayTweets

  • عورت ! . تحریر: مزمل حسین

    عورت ! . تحریر: مزمل حسین

    چودہ سے بیس سال کی عمرمیں عورت گلاب کی ایک شگفتہ کلی ہے نسیمِ سحر کا ایک جھونکا ہے شفاف پانی کا ایک چشمہ ہےسراپا محبت ہے.
    عورت اکیس سے پچیس سال کی عمر میں ایک سایہ داردرخت ہے اس کے جذبے شبنم کے قطروں کی طرح پاکیزہ ہوتے ہیں سراپا محبت ہے.
    عورت چھبیس سے تیس سال کی عمرمیں پھولوں سے بھری ہوئی ایک شاخ کی مانند ہے جس سے گھر کی آرائش ہوتی ہے یہ ویرانوں کو زندگی بخشتی ہے اس کی محبت چاند کی روشن کرنوں کی طرح دلکش ہوتی ہے یہ سراپا زندگی ہے.
    اکتیس سے پینتیس سال کی عورت اس باغباں کی مانند ہے جو گلستانِ حیات میں خوش رنگ پھول لگاتا ہے اور پھر ان کی نشوونما کرتا ہے اس عمرمیں عورت اولادِ آدم کی تعمیر کے لیے کوشاں رہتی ہے. سراپا جدوجہد ہے.
    چھتیس سے چالیس سال کی عمر میں عورت ایک ایسی چٹان ہے جو طوفان سے ٹکرا جانے کی ہمت رکھتی ہے اس کے چہرے پر کامرانی کے نقوش واضح ہوتے ہیں یہ اس فاتح کی مانند ہے جو زندگی کی بیشتر مہمات کو سر کر چکا ہو سراپا عزم ہے.
    عورت اکتالیس سے ساٹھ سال کی عمر میں ایک ایسی کتاب ہے جو سنہری تجربات سے بھری ہو یہ دوسروں کے لیے راستے کا ٹھیک تعین کر سکتی ہے یہ ایک ایسی روشنی ہے جو منزل کا ٹھیک پتہ دیتی ہے سراپا شفقت ہے.

    لیکن آجکل کی ماڈرن عورت کو دیکھتے ہوئے احساس ہورہا ہے ہماری آنے والی نسلیں خدا نہ کرے وہ پیدا ہونگی جیسی نسل امریکہ یورپ کی ہے.

    میری تمام ماؤں بہنوں سے گزارش ہے خود پررحم کریں آپ صرف ایک صنفِ نازک ہی نہیں قوم کے مستقبل کی بنیاد بھی ہیں تو اپنے آپکو اسلامی طریقہ زندگی کے مطابق ڈھالیں.

    @Muzii_2

  • سوشل میڈیا کا مثبت استعمال اورراج . تحریر :‌ زاہد نبی گل

    سوشل میڈیا کا مثبت استعمال اورراج . تحریر :‌ زاہد نبی گل

    سوشل میڈیا پراگلے بیس سالوں میں کوئی دوسری جماعت تحریک کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ تحریک انصاف کے وولنٹیراورایکٹوسٹ جو پچھلے دس سالوں سے عمران کے نظریہ کے لیے سوشل میڈیا پربغیرکسی پیسہ کے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں ان کا مقابلہ کرنا کسی دوسری جماعت کے بس میں نظرنہیں آرہا۔ سب سے بڑی وجہ نظریہ ہے جو تحریکی ایکٹوسٹ وولنٹیر کے پاس ہے۔

    پوری دنیا امریکا یورپ گلف یہاں تک کے افریقہ میں بیٹھے پاکستانی عمران خان کے فری میں وولنٹیر ہیں نظریہ عمران خان نیا پاکستان کے لیے وقت نکالتے ہیں. ایسی فورس اوردوسری کسی جماعت کے پاس دوردورتک نظرنہیں آتی۔ ‏فارن نیشنل کے بعد پاکستان میں بیٹھے لاکھوں سوشل میڈیا وولنٹیر بغیرکسی لالچ کے خان کا ساتھ دیتے ہیں. خان کے کہے بغیراس کی جنگ لڑتے ہیں دوسری طرف ذبردستی والا حساب ہمیں دیکھنے کوملتا ہے۔ پیڈ کمپین چلتی ہیں کیونکہ کسی دوسری جماعت کے پاس ابھی تک کوئ نظریہ نہی ہے ۔

    آخرمیں یہ کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا وولنٹیر نظریہ عمران خان نیا پاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دشمنوں کو بھی منہ توڑ جواب دیتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے وولنٹیرکا مقابلہ دوردورتک نظر نہیں آتا۔

    @ZahidNabiGill

  • ‏عید، قربانی کے مسائل اورفضائل .  تحریر: محمد بلال اسلم

    ‏عید، قربانی کے مسائل اورفضائل . تحریر: محمد بلال اسلم

    قربانی کا حکم، قربانی کرنا واجب ہے، رسول اللہ نے ہجرت کے بعد ہرسال قربانی فرمائی کسی سال ترک نہیں کی۔ جس عمل کو حضور نے لگاتارکیا اورکسی سال بھی نہ چھوڑا ہو تو یہ اُس عمل کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔ علاوہ ازیں آپ نے قربانی نہ کرنے والوں پر وعید ارشاد فرمائی۔ حدیث پاک میں بہت سی وعیدیں ملتی ہیں، مثلاً: آپ کا یہ ارشاد کہ جو قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔ علاوہ ازیں خود قرآن میں بعض آیات سے بھی قربانی کا واجب ہونا ثابت ہے۔

    قربانی کس پرواجب ہے جس شخص پرصدقۂ فطرواجب ہے، اُس پرقربانی بھی واجب ہے…یعنی قربانی کے تین ایام کے دوران اپنی ضرورت سے زائد اتنا مال یا اشیا جمع ہوجائیں کہ جن کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو اس پر قربانی لازم ہے.
    قربانی کے فضائل نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز ﷲ تعالیٰ کو پسند نہیں، ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کرہے اورقربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پرگرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی ﷲ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے (مشکوٰۃ) ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ’’ قربانی تمہارے باپ ( ابراہیمؑ) کی سنت ہے۔صحابیؓ نے پوچھا، ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ایک بال کے عوض ایک نیکی ہے۔ ( مسند احمد )

    عید کے دن کے مسنون اعمال۔ صبح سویرے اُٹھنا، غسل کرنا، مسواک کرنا، پاک اور صاف کپڑے جو اپنے پاس ہوں پہننا، خوشبو لگانا، نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا، عید گاہ کو جاتے ہوئے راستہ میں بآوازِ بلند تکبیرکہنا۔

    عید کی نماز پڑھنے کا طریقہ، نمازعید دو رکعت ہیں۔ نمازعید اوردیگر نمازوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں ہر رکعت کے اندر تین تین تکبیریں زائد ہیں۔ پہلی رکعت میں ’’سبحانک اللّٰہم ‘پڑھنے کے بعد قراءت سے پہلے اور دوسری رکعت میں قراءت کے بعد رکوع سے پہلے۔ ان زائد تکبیروں میں کانوں تک ہاتھ اٹھانے ہیں۔ پہلی رکعت میں دو تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑدیں، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیں۔ دوسری رکعت میں تینوں تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑ دیئے جائیں، چوتھی تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے جائیں۔ اگر دورانِ نمازامام یا کوئی مقتدی عید کی زائد تکبیریں یا ترتیب بھول جائے تو ازدہام کی وجہ سے نماز درست ہوگی، سجدۂ سہو بھی ضروری نہیں۔ اگرکوئی نماز میں تاخیرسے پہنچا اورایک رکعت نکل گئی تو فوت شدہ رکعت کو پہلی رکعت کی ترتیب کے مطابق قضاء کرے گا، یعنی ثناء سبحانک اللّٰہم کے بعد تین زائد تکبیریں کہے گا اورآگے ترتیب کے مطابق رکعت پوری کرے گا.

    @BilalAslam_2

  • قحط سالی کا شکار تھراوربےحس سندھ حکومت . تحریر: فرازوہاب

    قحط سالی کا شکار تھراوربےحس سندھ حکومت . تحریر: فرازوہاب

    اسلامی اقدارمیں خلیفہ کی ذمہ داری بہت اہم بنائی گئی ہے جب کوئی شخص خلیفہ کے عہدے پرفائزہوتا ہے تواپنی رعایا کے حقوق کے تحفظ کا ذمہ داربنا دیا جاتا ہے ایک صحابیِ رسول صلہ اللہ علیہ وسلم نے جب آپ صلہ اللہ علیہ وسلم سے پوچھا بہترین صدقہ کیا ہے تو آپ صلہ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’پانی پلانا‘۔

    لیکن آج اْمتِ مسلمہ پانی کی بوند کے لیے ترس رہی ہے اورارباب اقتدارجانورتو دورانسانی اموات کے ضیاع پربھی انتہائی ڈھٹائی سے کہ رہے ہیں کہ موت کا اختیار اللہ کے پاس ہے انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ وزیراعلی سندھ ایمانداری سے بتائیں کیا وہ چھوڑ سکتے ہیں اپنے اہلخانہ کوقحط زدہ تھرمیں؟ وہ بھی بغیرپانی کے؟ ماضی میں جب وزیراعلیٰ سندھ سے تھر کے متعلق کوئی بھی سوال کیا جاتا تو انتہائی مضحکہ خیزبات فرماتے کہ تھرمیں اموات بھوک سے نہیں غربت سے ہو رہی ہیں پتا نہیں کس قسم کا نفسیاتی معاملہ ہے وزیراعلی سندھ کے ساتھ جو ان کو یہ نہیں معلوم کہ غربت ہی بھوک کو جنم دیتی ہے اورشرجیل میمن کا یہ بیان کہ پاکستان میں روز600 بچے مرتے ہیں تھرمیں مرنے پہ شورشرابہ کیوں انتہائی سنگدلی اوربے غیرتی کی مثال تھی.

    ظاہر سی بات ہے اگرتھرمیں بھٹو، تالپور، سومرو اورمگسی خاندان رہتے تو وہ منرل واٹرپرگذارا کرتے پرتھرکواس لیے نظراندازکردیا گیا کہ وہاں غریب عوام رہتی ہے جو کنویں سے پانی بھرکراونٹوں اورگدھوں پرلاد کرگھرپہنچاتی ہے اورتھرکے معصوم بچے جنہیں تعلیم کی طرف جانا چاہیے وہ بچے بھی تعلیم کے بوجھ کی بجائے پانی کا بوجھ کاندھوں پرلیے پھرتے ہیں۔ سندھ دھرتی کے دعوے داربلاول زرداری سے سوال ہے کہ اس ضمن میں انہوں نے سندھ دھرتی جسے وہ ماں کہتے ہیں کی کیا خدمت کری؟ کیا کوئی اپنی ماں کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے جیسا سندھ دھرتی کو ماں کہنے والوں نے تھرکے ساتھ کیا؟

    سندھ حکومت کی بے حسی کی انتہا تو تھرمیں عیاں ہوگئی لیکن حیرت ہے وفاقی حکومت بھی غفلت کی چادراوڑھے ہوئے ہے اب تک سندھ حکومت اوروفاقی حکومت کی جانب سے تھرکے معاملے میں کوئی عملی اقدامات نظرنہیں آئے۔ تھرکے حالات سے حکمرانوں کی بےحسی کا اندازہ ہوجانا چاہیے جوپانچ کروڑکی آبادی والے صوبے کی عوام کوقحط سے ماررہے ہیں اتنی بڑی ناکامی پرسندھ حکومت کوغیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہوجانا چاہیے تھا۔

    @FarazWahab1

  • انسانیت . تحریر: شاہ زیب

    انسانیت . تحریر: شاہ زیب

    انسان نے آسمان کی بلندیوں کو چھولیا سمندرکی گہرائی تک کا سفر کیا چاند تک کا سفرکر ڈالا اورترقی کا سفرتیزی سے طے کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی کہ یہ اشرف المخلوقات تو ترقی کی منازل طے کرتے کہاں تک پہنچ گی ہے. یہ کیا انسان آسمان کی حد کو چھوگیا مگرافسوس کے ساتھ رہنے والے انسان سے بے خبرہے یہ کیا انسان کی نظرپوری دنیا کے حالات پرمگرساتھ رہنے والے انسان کے حالات سے بے خبر ہے. معلوم ہوا کہ ہم ہرچیز سے باخبر ہوچکے ہیں ہرچیز میں ترقی کرچکے ہیں مگرافسوس ہم انسان ہوکربھی انسانیت سے ناواقف ہیں.

    یہ کیا یہ ہجوم کیسا ہے؟
    کوئی زخمی حالت میں سڑک پرہے اردگرد لوگوں کا مجمہ ہے. سینکڑوں ہاتھ نظرآئے مگر افسوس کوئی ایک ہاتھ مدد کے لیے نا تھا ہر کوئی ویڈیو بنانے میں مصروف تھا. انسان ہی انسانیت کا تماشہ دیکھنے لگا. یہ انسان انسان کا دشمن ہے جائیداد کے نام پرکبھی انسان کا قتل ہورہا ہے تو کبھی غیرت کے نام پرعورت کا قتل ہورہا ہے. انسان اپنے مرتبے سے کسی کو بلند ہوتا دیکھ کردوسرے کا دشمن ہے.

    رکیے!!
    بات ختم نہیں ہوئی یاد کریں کہ کس طرح چارسال کی زینب کو درندگی کا نشانہ بنا کرقتل کیا گیا اورانسانیت شرمندہ ہوگئی، انسانیت نے منہ چھپا لیا، انسانیت انسان سے ڈرگئی

    سوچیے!غورکریں
    ہم اگرانسانیت کو نہ سمجھ پائے توہمیں اشرف المخلاقات ہونے کا کوئی شرف حاصل نہیں ہے. شکریہ

    @shahzeb___