Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کا مطلب کیا؟۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ  تحریر ۔مدثر محمود

    پاکستان کا مطلب کیا؟۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ تحریر ۔مدثر محمود

    آج کی نوجوان نسل پاکستان سے محبّت تو ضرور کرتی ہے لیکن ان لوگوں کو محبت کا مفہوم معلوم نہیں ہے۔انہیں بتانا پڑے گا کہ قانون کی خلاف ورزی جرم ہے بد تہذیبی ہے اور گناہ بھی جرم ہے ۔ نوجوانوں میں وطن کی محبت ،قانون کا احترام اور اعلی اخلاقی صفات پیدا کرنے کے لیے بہت توجہ اور منصوبہ بندی سے کام کرنا پڑے گا اس کام کے لیے سب سے پہلے والدین اور پھر ماسٹر اور مولوی کا کردار بہت اہمیت کا حامل رہے گا ۔پاکستان کا مطلب کیا؟۔لا الہ الا اللہ۔ تحریک پاکستان اور یہ نعرہ کیوں لازم و ملزوم ہے ۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے کیوں کہا تھا کہ ’’تحریک پاکستان میں25 فیصد حصہ اصغر سودائی کا ہے۔ ‘‘اس کے لیے نوجوانوں کو قیام پاکستان سے پہلے کے حالات و واقعات بارے بھی بتانا ہوگا۔کہ کیسے ہمارے بزرگوں نے اس وطن کو حاصل کرنے کے لیے جانیں قربان کی ہماری ماؤں بہنوں کی عزتوں کو تار تار کیا گیا اتنی مصیبتیں مشکلات برداشت کرنے کے بعد پاکستان معرض وجود میں آیا۔

    پاکستان کا مطلب کیا؟۔لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگانے والوں کو اس نعرے کی الف ب سے روشناس کرنا ہوگا۔جب ہم ایسا کر لیں گے تو پھر یقینا ہمارے پاکستان پیارے پاکستان کو دُنیا کی کوئی طاقت ترقی یافتہ پاکستان بننے سے نہیں روک سکتی۔

    @Mudsr_Ch

  • ‏اسلام، ہم جنس پرستی اورعلما کا کردار . تحریر: نینی ملک

    ‏اسلام، ہم جنس پرستی اورعلما کا کردار . تحریر: نینی ملک

    اسلام میں کسی بھی غیرفطری طریقے کی جنس پرستی بہت سختی سے منع ہے۔ ہم جنس پرستی کی سزا اللہ کے نزدیک اس قدر سخت ہے کہ قوم لوط کے اس عمل پراللہ نے انکی بستی کو زمیں سے اوپر اٹھا کر زمیں پر دے مارا اور ہمیں قرآن میں واضح بتا دیا کہ کس قدرنا پسندیدہ عمل ہے. اس عمل کی سزا جب مقرر کی تو اس پر حد لگا دی کہ فریقین کی رضا مندی سے کیا گیا تو فاعل و مفعل کو عبرتناک سزا دی جائے علاقے کی بلند ترین عمارت سے اوندھے منہ گرایا جائے اور پھر بھی کسی میں زندگی کی رمق باقی رہے تو اسے سنگسار کر دیا جائے۔ اس دور پر فتن میں یہ گناہ عام ہو چکا ہے کالج یونیورسٹی کے طلبا ہوں ہاسٹل میں رہنے والے یا پھر مدرسوں میں پڑھنے والے ۔۔ جی ہاں اسلامی مدارس کے طلبا بھی اس قبیح عمل میں گرے ہیں۔

    کالج و یونیورسٹی میں تو بے راہ روی کے نتائج ہیں لیکن ایسا کیوں ہے کہ مدارس میں بھی ایسا کام ہو رہا ہو؟؟
    تو اسکی وجہ ہے ان مدارس کے وہ معلم جو خود اس گناہ میں ملوث ہیں ۔ جو طلبا کو اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کی لیے استعمال کرتے ہیں اور ظلم عظیم کہ خانہ خدا میں ایسے قبیح کام کرتے ہیں۔۔ رفتہ رفتہ طلبا عادی ہونے لگتے ہیں اور وہ بھی اس گناہ کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں.

    چند ہفتے قبل ایک ایسا ہی واقعہ منظرعام پر آیا ایک معلم نے اپنے شاگرد کے ساتھ کیا پھراس پر ظلم کہ قرآن پر حلف لیا اپنی بیگناہی پر ادارہ جسے سب سے پہلے اس واقعے کا نوٹس لے کر ایسے حیوان کے لیے اسلامی ریاست میں اسلامی سزا کا مطالبہ کرنا تھا انہوں نے فقط ادارے سے نکال کر اپنا فرض ادا کر دیا۔۔ کیا یہ اللہ کے دین سے خیانت نہیں کی گئ؟؟؟؟ صاحب ارباب نے اس حیوان کو انسانوں کی بستی میں ضمانت پر رہا کر دیا۔ کیا یہ ہے وہ اسلامی ریاست جو کلمے کی نام پر بنائ گئ تھی؟؟؟ یا یہ ہے وہ ریاست مدینہ جسکا خواب عمران خان صاحب نے دیکھا تھا؟؟؟ جواب یہی ہے کہ یقینا نہیں۔

    یہ خیانت ہے علما کی دین کے ساتھ ۔۔ اس اسلام کے نام پر بنی ریاست کے ساتھ کیوں وہ پاکستان میں شریعہ کے نفاذ کا فقط زبانی مطالبہ کرتے ہیں؟؟؟ کیونکہ اس طرح ہو گیا تو سب سے پہلے ان پر حد نافذ ہو گی۔ ایسے نام نہاد علما کو دوسروں کے لیے نشان عبرت بنایا جائےگا۔

    ریاست مدینہ بنانے سب اپنا کردار نبھایئں۔۔ انصار و مہاجرین جیسی تربیت اپنی اولاد کی کریں اپنی اولاد کے قریب ہوں وہ کیا کرتے ہیں کہاں جاتے ہیں آپکو خبر ہونی چاہیے۔۔۔۔ انکے سکول انکے مدارس میں کون ان پر مہربان ہے خدارا خبر رکھیں۔۔ جب بچے والدین سے ایسی شکایت کریں تو خدارا انکو بچے اور اساتذہ کو بڑے اور قابل احترام سمجھ کر اگنور مت کریں ۔

    ریاست کی یہ ذمہ داری ہے اپنی قوم کے آنے والے معماروں کی حفاظت کریں سکول و مدارس میں کیمرے نصب کر کے انکا کنٹرول اپنی پہنچ میں رکھیں تاکہ کسی پر بھی ذہنی جسمانی یا جنسی تشدد نہ ہو پائے۔۔اگر کوئ ایسی شکایت درج کروائے اسکا فورا نوٹس لے کر ملزم کو عبرتناک سزا دی جائے۔
    اس پرفتن دور میں آنے والی نسل کو جنسی درندوں سے محفوظ کرنے کا صرف یہی حل ہے.

    Twitter handle: @NiniYmz

  • قربانی سنت ابراہیمی ہے   تحریر: تماضر خنساء

    قربانی سنت ابراہیمی ہے تحریر: تماضر خنساء

    حلال جانور کو تقرب الہی کیلیے قربان کرنے کا سلسلہ
    حضرت آدم ع سے چلا آرہا ہے جب آپ ع کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل نے بارگاہ ایزدی میں اپنی قربانی پیش کی.
    قرآن پاک اس کو کچھ یوں بیان کرتا ہے :
    وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّـهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴿سورۃ المائدۃ ٢٧﴾

    اور پیغمبر علیھم السّلام آپ ان کو آدم علیھم السّلام کے دونوں فرزندوں کا سچا ّقصّہ پڑھ کر سنائیے کہ جب دونوں نے قربانی دی اور ایک کی قربانی قبول ہوگئی اور دوسرے کی نہ ہوئی تو اس نے کہا کہ میں تجھے قتل کردوں گا تو دوسرے نے جواب دیا کہ میرا کیا قصور ہے خدا صرف صاحبان تقوٰی کے اعمال کو قبول
    کرتا ہے (27)

    اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قربانی کی عبادت آدم ع کے زمانے سے ہی چلی آرہی ہے مگر اس کی خاص پہچان خلیل اللہ کی وہ عظیم قربانی ہے کہ جس پر زمین و آسماں انگشت بدنداں تھے ۔
    اور اسی عظیم واقعے کی بنا پر یہ امت محمدیہ پر واجب کردیا گیا کہ ہر سال خلیل اللہ کی اس عظیم قربانی کا عمل دہرایا جاتا رہے گا ۔
    اس عظیم قربانی کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ
    سید نا ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں ۔انھوں نے اس کا تذکرہ اپنے بیٹے سے کیا تو اسماعیل نے کہا : آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے ، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ رب العزت نے اس بارے میں فرمایا:
    پھر جب دونوں مطیع ہو گئے اور ابراہیم نے اسے پیشانی کے بل گرادیا اور ہم نے اسے ندادی کہ اے ابراہیم علیہ السلام ! یقینا تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ یقینا ہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی بدلہ دیتے ہیں.
    (سورۃ الصافات: 103 – 105 )

    یہ قربانی کیاتھی؟ محض خون اور گوشت کی قربانی نہ تھی بلکہ روح اور دل کی قربانی تھی ۔ یہ محض باپ کا اپنے اکلوتے بیٹے کے خون سے زمین کو رنگین کرد ینا نہ تھا بلکہ اللہ تعالی کے سامنے اپنے ہرقسم کے ارادے اور مرضی کومٹادینا تھا۔ یہ اپنی عزیز ترین متاع کو اللہ تعالی کے سامنے پیش کرنا تھا۔ یہ تسلیم ورضا ،صبراور شکر کا وہ امتحان تھا جس کو پورا کیے بغیر اللہ تعالی کی رضا نہیں مل سکتی ۔ یہ غیر اللہ کی محبت کی قربانی اللہ تعالی کے راستے میں تھی۔ یہ اللہ تعالی کی اطاعت اور عبودیت کا بے مثال منظر تھا۔ جانوروں کی ظاہری قربانی دراصل اپنی روح اور دل کی قربانی ہے ۔اسلام قربانی ہے۔اسلام کے لفظی معنی اپنے آپ کو اپنی مرضی کو اللہ تعالی کے سپرد کردینا اور اس کی اطاعت اور بندگی کے لیے گردن سر تسلیم خم کر دینا ہے ۔قربانی قرب کا ذریعہ بنتی ہے ،اسی سے انسان سیکھتا ہے کہ اللہ تعالی کی خاطر کیسے اپنا سب کچھ قربان کرنا ہے ؟ اپنامال ، صلاحیتیں ،قوتیں ، وقت اور ضرورت پڑنے پر جان بھی جو کچھ بھی رب کی طرف سے ملا ہو، سب کچھ قربان کرنا ہے ۔ جانور کو قربان کر کے انسان قربانی کا سبق سیکھتا ہے ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ کے اس ایثار اور قربانی سے ظاہر ہوتی ہے ۔ یہی وہ برکت ہے جس کو مسلمان دن میں پانچ مرتبہ اپنے رب کے سامنے یاد کرتے ہیں: اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم اے اللہ تو محمد اور محمد کی آل پر برکت نازل کر، جس طرح تو نے ابراہیم اورا براہیم کی آل پر برکت نازل کی
    قربانی ایک اہم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے،یہ نمائش یا کسی رسم کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عبادت اور مذہبی فریضہ ہے، کیونکہ فرمایا گیا کہ ”اللہ تعالیٰ کو ان جانوروں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا، بلکہ اسکو تمہاری جانب سے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔
    اگر ایسا نہیں تو ہمارا رد عمل کیا ہے؟ ہمارے دور میں ”سنت ابراہیمی“ ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے؟
    بس یہی بتانا تھا کہ اللہ کے پاس تو نیت اور تقوی پہنچے گا اور ہم کیا پہنچا رہے ہیں؟

    @timazer_K
    Twiter handle

  • مطلقہ اور بیوہ کہاں جائیں . تحریر : سیدہ بخاری

    مطلقہ اور بیوہ کہاں جائیں . تحریر : سیدہ بخاری

    لوگ بہت سی معاشرتی برائیوں پر آواز اٹھاتے ہیں، کبھی جہیز لینے کے خلاف ، کم عمری میں شادی کے خلاف، کبھی چائلڈ لیبر کے خلاف تو کبھی والدین کو اولڈ ہوم میں داخل کروانے کے خلاف، بچوں اور بچیوں سے جنسی ذیادتی کے خلاف، یہ سب بہت اچھا ہے کہ ان معاشرتی برائیوں کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی جائے بلکہ انکے سدباب کیلئے موثر اقدامات بھی کئے جائیں لیکن آج میں جس موضوع پر لکھ رہی ہوں اس پر کہیں بات نہیں ہوتی، اور وہ ہیں شادی کے بعد ناموافق حالات کی وجہ سے اپنے میکے کی دہلیز پر واپس آ کر بیٹھ جانے والی طلاق یافتہ یا بیوہ لڑکیوں کے دکھ، وہ بدقسمت لڑکیاں جو سسرال کے جہنم سے نکل کر جب ماں باپ کی دہلیز پر آتی ہیں تو انکو خوش آمدید نہیں کیا جاتا بلکہ مصیبت اور بوجھ تصورکیا جاتا ہے، اس چیزپرشکر نہیں کیا جاتا کہ بیٹی ذہنی مریضہ بننے سے بچ گئی اورصحیح سلامت آپکو واپس مل گئی۔ پھر ہمارا معاشرہ انکے ساتھ جو سلوک کرتا ہے وہ ایک الگ کہانی ہے. جب یہ بدقسمت لڑکیاں پھر سے گھر بسانے کی آس میں نیا ہمسفر تلاش کرنے کی کوشش کریں تو اس میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بھی ایک الگ داستان ہے، میں نے جو سروے کیا اس میں ایک طلاق یافتہ مرد کو کنواری لڑکی کا رشتہ بھی آسانی سے مل جاتا ہے لیکن ایک طلاق یافتہ یا بیوہ کو ایسا رشتہ ملا ہو یہ شاذو نادر ہی دیکھا گیا ہے۔

    کیا ایک مطلقہ یا بیوہ اس بات کا حق نہیں رکھتی کہ اسکو اسکی عمر کے مطابق اچھا ہمسفر مل سکے؟
    کیا انکے نصیب میں بس پانچ بچوں کا ادھیڑ عمر باپ ہی ہوتا ہے جسکے بچوں کی ساری عمر خدمت کرنے کے باوجود بھی وہ سوتیلی کا ٹیگ سر پر سجائے پھرتی ہے؟
    ہمارے معاشرے میں مردوں کی نا انصافیوں اور عورتوں کے غلط رویوں، حسد اور عدم برداشت کیوجہ سے دوسری شادی بھی ایک گناہ کبیرہ بن کر رہ گئی ہے ورنہ اس میں کیا مضائقہ ہے کہ ایک صاحب حیثیت مرد انصاف کے تقاضوں پر پورا اترتے ہوئے ایسی خواتین سے نکاح ثانی کریں جو کہ عرب میں عام رواج ہے، جہاں مطلقہ اور بیوہ خواتین کو دوسری شادی کے لئے عمریں گلانی نہیں پڑتیں۔
    طلاق ہونے سے ذندگی ختم نہیں ہوتی لیکن ہمارے معاشرے میں تصور یہی ہے کہ اگر ایک لڑکی کو طلاق ہوئی ہو تو وہ اپنی تمام حسرتوں کو دفن کرتے ہوئے کسی بھی ایسے مرد کیلئے حامی بھرے جس کو کہ اسکا دل ماننے کو بھی تیار نہ ہو۔
    لیکن اس پر ہمارے ہاں کوئی بات نہیں کرتا، اپنے ماں باپ کی دہلیز پر بیٹھی ان مجبور بے بس لڑکیوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا جنکی آنکھیں اچھے رشتے کی راہ تکتے ویران ہو جاتی ہیں اور پھر مجبورا انکے حصے میں دوگنی عمر کا مرد ہی آتا ہے۔

    ایک مطلقہ /بیوہ لڑکی اس بات کا پورا حق رکھتی ہے کہ اسکو اچھا ہمسفر ملے اور وہ اچھی ذندگی گزارے جیسا کہ کسی بھی عام لڑکی کا حق ہے۔ طلاق سے کوئی لڑکی اچھوت نہیں بن جاتی نہ ہی اس میں کوئی ایسی نامناسب تبدیلی واقعہ ہو جاتی ہے کہ اس سے شادی کرنے کو غلط سمجھا جائے، ہمیں اپنے معاشرے سے ان فرسودہ ،جاہلانہ اور ہندوانہ رواجوں کا خاتمہ کرنا ہوگا اور اسکے لئے کسی کو تو پہلا قدم اٹھانا ہوگا۔

  • کب بدلے گا پاکستان؟ . تحریر: فیصل فرحان

    کب بدلے گا پاکستان؟ . تحریر: فیصل فرحان

    یہ سوال پچھلے ستر سالوں سے ہر پاکستانی کی جانب سے کیا جاتا ہے کہ آخر کب بدلے گا ہمارا پاکستان؟ کب ظلم و انصافی ختم ہوگی اور کب ہم ترقی کی منزل پر پینچے گے، کب آئے گا وہ دن جب ایک ماں بھوک کی وجہ سے اپنے بچوں کا گلا نہ گھونٹیں۔ میں آج اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرونگا۔ جب سے ملک پاکستان بنا ہے تب سے لے کر آج تک اس پر مافیا حکومت کرتا آرہا ہے ہے۔ ایک عالمی جریدے کی رپورٹ کے مطابق پچھلے ستر سالوں سے 22 خاندان پاکستان پر حکومت کرتے آرہے ہے۔ مطلب قائد کی وفات کے بعد جن وڈیروں نے ملک کا اقتدار سنبھالا آج بھی انہی کی اولادیں ہم پر مسلط ہے اور آگے بھی وہی مسلط رہے گی کیونکہ کسی مڈل کلاس بندے کو سیاست میں آنے ہی نہیں دیا جاتا اور اگر کوئی آ جائے تو اسے زلیل کر کے بھگا دیا جاتا ہے۔ اس وقت ہمارے ملک کے سارے سیاستدان بڑی بڑی فیملیوں سے تعلق رکھتے ہے اوران لوگوں نے کبھی غربت یا مشکلیں نہیں دیکھی اور نہ ہی انہیں اندازا ہے کہ ایک غریب بندہ اپنی زندگی میں کیا کیا فیس کرتا ہے اسلیے یہ لوگ اقتدار میں آ کر کبھی غریب کا نہیں سوچتے بلکہ عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھتے ہے اور ہم عوام بھی لکیر کے فقیر ہے جو ان لوگوں کی جھوٹی باتوں میں آ کران کے جلسوں میں بھنگڑے ڈالتے ہے اوران رنگ بازو کی خاطر اپنے دوستوں اور فیملیوں سے لڑتے ہے۔ یقین جانیے یہ سارے سیاستدان ان پڑھ ہے یقین نہیں تو ان کی پارلیمنٹ اجلاسوں والی ویڈیوز دیکھ لو جس میں یہ ایک دوسرے کی ماں بہن کو گالیاں نکالتے ہے، تو خود سوچوں ایسے لوگ ہماری بہتری کیلیے کیا قانون سازی کرے گے؟؟

    ان لوگوں کو الف ب کا بھی نہیں پتہ کہ غریب کس قرب سے گزر رہا ہے ملک میں، ان لوگوں کے سامبے ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے یہ ہم عوام کو ایک کیڑے مکوڑے کی طرح سمجھتے ہے تبھی تو ملک میں بچوں کے ساتھ ریپ ہوتے ہے ہمارے پیارے سرعام قتل ہو جاتے ہے لیکن ان لوگوں کی جانب سے سوائے بیان کے کچھ نہیں آتا۔ کیونکہ ان کے نزدیک ہماری زندگیوں کی کوئی ویلیو نہیں جبکہ خود ان کو معمولی سا بخار ہو جائے تو بیرون ملک علاج کیلیے چلے جاتے ہے۔ اس سارے کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ کو بارآور کروا سکوں کہ ان سیاستدانوں کے ہوتے ہمارا ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ ہر بار یہی لوگ چہرے بدل بدل کر آتے رہتے ہے۔ اب ہمیں نیچے سے لوگ سیاست میں لانا ہونگے اور خود اس فیلڈ میں قدم رکھنا ہوگا۔ جب مڈل کلاس بندہ اقتدار میں ہوگا تو اسے بخوبی اندازہ ہوگا کہ عام پاکستانی کن حالات میں جی رہا ہے اور پھر اسے احساس ہوگا۔ اب ہمیں ان 22 خاندانوں سے جان چھڑوانا ہوگی اور ملک میں انقلاب لانا ہوگا۔ اب پاکستان کی بھلائی کیلیے انقلاب ناگزیر ہوچکا ہے۔ اٹھوں نوجوانوں اور پاکستان کی خاطر میدان میں آو۔ جب ہم خود ہی میدان میں نہیں آئے گے تو ان ظالموں سے چھٹکارا کون دے گا؟
    اگر پاکستان کو بدلنا ہے تو ہم سب کو بدلنا ہوگا، ان شا اللہ پھر بہت جلد پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا.

    @Farhan_Speaks_

  • تحریر: محمداسعد لعل نصاب واحد کی ضرورت

    تحریر: محمداسعد لعل نصاب واحد کی ضرورت

    نصاب کے لغوی معنی راستہ ، رن وے ، گھوڑ دوڑ کے مقابلے کا راستہ ہے ۔جہان تک تعلیمی نصاب کا تعلق ہے اس کے مطابق ایسا نصاب جس کے تحت محتلف مدارج کے طلبہ اپنی تعلیمی صلاحیت کے مطابق مجوزہ راستے کو اپنا سکیں ۔
    نصاب کی ضرورت پیش کیوں آتی ہے ؟ نصاب کو کیساہونا چاہیے ؟ اور اس سے بڑھ کر کسی قوم کےلیے یکساں اور واحد نصاب کی ضرورت کیوں محسوس کی جاتی ہے ۔ ان تمام سوالات کےجواب ہمیں مختلف نصاب سازوں کی تحریروں اور نصاب ساز اداروں کی دستاویز سے مل جاتے ہیں ۔ سب سے پہلےان دستاویز سے ہمیں نصاب سازی کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔ایک بہتر اور جدید نصاب کی بدولت ہمارا معاشرہ فلاح اور کامیابی کی طرف ایک قوم کی صورت میں بڑھ سکتاہے۔
    دوسرا سوال جو ہمارے ذہن میں پیدا ہوتا ہےکہ نصاب کو کیساہونا چاہیے ؟ اس کے لیےماہرین تعلیم کی ہر دورمیں خواہش رہی ہے کہ نصاب کوجدید سے جدید بنایا جائے تاکہ ہماراطالب علم جدیددنیا کی بدلتی ہوئی ضروریات کوپورا کر تے ہوئےجدید عالمی مارکیٹ میں اپنا لوہا منوا سکے۔جدید نصاب سازی کے دوران معلم، متعلم ،تعلیم کےعالمی سطح پر مثبت اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئےطلبا کے فطری میلان کا بھی خاص خیال رکھا جائے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا بہتر ین نصاب مرتب کیا جائے جس کی بدولت ہماری آنے والی نسلوں کی جدید خطوط پر تعمیر و ترقی ممکن ہو سکے۔
    اس بحث میں تیسرا سوال یہ کہکسی قوم کےلیے یکساں اور واحد نصاب کی ضرورت کیوں محسوس کی جاتی ہے ۔ اگر ہم پاکستان کے نظام تعلیم کا جائزہ لین تو یہاں بھانت بھانت کی بولی بولی جاتی ہے ہر ایک نے اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد بنائے ہوئی ہے گویا پاکستان میں تعلیمی نظاموں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے یہ وجہ ہے کہ موجودہ خومت نے اس قوم کو اس گورکھ دھندے سے نکالنے کے لیے ایک قوم ایک نصاب کا نعرہ لگایا ہے اور اس کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے قومی نصاب کونسل کے زیر اہتمام مختلف تعلیمی نظاموں کے اکابرین کی کئی بیٹھکیں بلائیں گئیں جس میں مغربی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے مذہبی مدارس نے بھی بھر پور حصہ لیا اور اپنی اپنی سفارشات پیش کیں ۔ان سفارشات کو ایک قومی شکل دے کر پرائمری سطح تک کایکساں نصاب مرتب کیا گیا اور پھر اس بنیاد پر پرائمری سطح تک کی کتابیں چھاپی گئیں جوکہ موجودہ تعلیمی سال میں پڑھائی جارہی ہیں۔یکساں تعلیمی نصاب کی بدولت طبقائی نظام کا خاتمہ ہوگاجس سےطلبہ کی یکساں ذہنیت اور قومی سوچ ہونے کی وجہ سے برتری کا احساس ہوگا۔ اب مدارس کے طلبہ بھی اپنی تدریس کو یکساں اور جدیدنصاب کے تحت عصر حا ضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھال کر قومی ترقی میں متحرک کردار ادا کر سکیں گے۔
    جبکہ دوسری طرف وہ ادارے جوغیر ملکی تعلیمی اداروں سے الحاق شدہ ہیں ان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی ذہن سازی اس انداز میں کی جاتی تھی کہ آپ صرف حکمرانی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں ۔ جبکہ موجودہ نصاب ِواحد کے ذریعے اس طبقاتی تفریق کا کسی حد تک خاتمہ ہوگا ۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماراقومی نصاب ایسا ہو جس سے پیدا کندگان کی تعداد میں اضافہ اور صارفین کی تعداد میں کمی آئے۔ ہماری افرادی قوت روایتی تعلیم حاصل کرنے کی بجائے جدید تکنیکی تعلیم حاصل کرے۔تاکہ یہ ہنر مند افرادی قوت ہماری ملکی ضرورت کو پورا کرنےکے ساتھ ساتھ سمندر پار باعزت روزگار حاصل کر کے ملکی زرِ مبادلہ میں اضافے کا سبب بن سکیں۔
    امید ہےہمارا یکساں تعلیمی نصاب قومی ضروریات اور کردار سازی میں بھر پور کردار ادا کرے گا۔شرط یہ ہے کہ نصاب سازی قومی اْمنگوں کے مطابق ہو۔
    @iamAsadLal

  • قربانی اورہماری ذمہ داری . تحریر: محمد بلال اسلم

    قربانی اورہماری ذمہ داری . تحریر: محمد بلال اسلم

    قربانی کیا ہے ؟ عید الاضحی کے دن جانورکو قربان کرنا سنت ابراھیمی ہے ۔دنیا بھر میں مسلمان اس سنت کو بہت اچھے طریقے سے اداء کرتے ہیں۔قربانی اس چیز کا نام ہے کہ ہم اپنی محبوب چیز کو اللہ کے راستے میں قربان کریں جیسے ہمارے جدامجد حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو اللہ کا حکم پورا کرنے کے لئے قربان کرنے کا ارادہ کر لیا تھا ۔

    غرباء کی مدد اور یہ وہ دن ہے جب صاحب استطاعت مسلمان اپنے غریب بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں اور انکی خوشیوں کو دوبالا کرتے ہیں۔۔۔ انکے گھروں میں بھی قربانی کا گوشت وافر مقدار میں پہنچایا جاتا ہے ۔کچھ مسلمان بھائی اس حق کو پورا پورا اداء کرتے ہیں کہ وہ قربانی کا گوشت کسی پسماندہ محلے میں جاکر گھر گھر تقسیم کرتے ہیں ۔عید کی برکت سے وہ غریب مسلمان جن کو پورا سال گوشت کھانا نصیب نھیں ہوتا وہ گوشت کھا لیتے ہیں.

    عید کے دن سے پہلے ہماری ذمہ داری۔۔۔۔ پاکستان میں ہر سال عید الاضحی سے قبل شہری مویشی منڈیوں کا رخ کرتے ہیں اور ہر انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق اچھے سے اچھا جانور خرید کر لائے اور اللہ کی راہ میں قربان کرے اور شہری جانور لاکر گھروں کے باہر باندھ دیتے ہیں جس کی وجہ سے گلی محلوں میں گندگی کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں ۔سب سے پہلے تو یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے محلوں کو صاف رکھیں اپنی گلی اور گھر میں کوڑا جمع نا ہونے دیں اور جہاں جگہ ہو شام کو وہاں کوڑا ڈال دیں تاکہ جہاں ہم رہتے ہیں وہ جگہ صاف ستھری رہے اور ہمارے بچے بیماریوں سے محفوظ رہیں۔دوسرا انتظامیہ کی ذمہ داری بتنی ہے وہ کم سے کم ان دنوں میں لازمی ہر محلے میں چکر لگائیں اور کوڑے کو ڈھیر اٹھا کر لے جائیں۔

    عید کے دن ہماری ذمہ داری اس مذہبی فریضے کے بعد قربان کئے ہوئے جانور کی باقیات مثلا خون اوجھڑی اور ہڈیوں وغیرہ کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا صرف ہمارا قومی نہیں بلکہ مذہبی فریضہ ہے۔اوجھڑی ہڈیوں وغیرہ کو گلیوں میں یا کسی میدان میں یا کسی اور پبلک مقام پر چھوڑنے سے پہلے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے پیارے نبی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم صفائی کا کتنا خیال رکھتے تھے اور ہم اس اہم فریضے کی ادائیگی کے بعد لوگوں کو تکلیف پہنچا رہے ہیں۔

    جانور کی باقیات سے نا صرف بدبو پھیلتی ہے بلکے ان سے مختلف بیماریاں بھی پیدا ہوتی ہیں اور ان پر مکھیاں اور مچھر پیدا ہوتے ہیں جو سارے علاقے کے لئے نقصان دہ ہیں۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ان باقیات کو ایسی جگہ رکھیں جہاں سرکاری عملہ فورا اسکو اٹھا کر لے جائے اگر ہمارے علاقے میں سرکاری عملہ نھیں اتا تو اسکو گڑھا کھود کر اسمیں دبا دینا چاہیے.

    @BilalAslam_2

  • کروناکی بھارتی قسم نئی مصیبت . تحریر: سید لعل بُخاری

    کروناکی بھارتی قسم نئی مصیبت . تحریر: سید لعل بُخاری

    پچھلے کچھ دنوں سے وطن عزیز میں مثبت کرونا کیسز کی شرح میں پھر سے اضافہ نظر آنے لگا ہے۔اس معاملے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے،جب یہ انکشاف ہوتا ہے کہ نئے کیسز میں زیادہ تر بھارت سے آنے والا ڈیلٹا ویرئینٹ پایا جا رہا ہے۔اس ویریئنٹ کا پھیلاؤ دوسرے ویرئینٹ کے مقابلے میں 100فیصد تک زیادہ ہوتاہے۔

    اس ویریئنٹ کے پھیلاؤ کی روک تھام کے کئے جہاں حکومت کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،وہیں ہماری زمہ داریاں بطور ایک زمہ دار شہری کے بڑھ جاتی ہیں۔ تمام لوگوں کو خواہ انہوں نے ویکسین لگوالی ہو،یا نہ لگوائ ہو۔کرونا سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا ہو گا۔ہمارے اس عمل سے جہاں ہم،ہماری فیملیز محفظ رہ پائیں گی۔وہیں دوسرے لوگ بھی اس مہلک بیماری سے بچ پائیں گے۔

    کچھ لوگوں ویکسی نیشن کے بعد احتیاطوں کا دامن بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ اپنے آپ کو آزاد تصور کرتے ہوۓ ماسک اور سینی ٹائزر کا استعمال بندکر دیتے ہیں۔جس سے وائرس انہیں کسی بھی وقت دبوچ سکتا ہے،ویکسی نیشن کا مطلب 100فیصد بچاؤ نہیں بلکہ یہ ہر ایک ویکسین کی افادیت کے لحاظ سے ہوتا ہے،جو اب تک کی سٹڈی کے مطابق 95فیصد ہے،جو فائزر ویکسین سے مہیا ہوتا ہے۔برطانیہ کے وزیر صحت آسٹرازنیکاویکسین کی دو خوراکوں کے باوجود گزشتہ روز کرونا مثبت پاۓ گئے،جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ویکسین کی دو ڈوزز کے بعد بھی بچاؤ کا راستہ صرف اور صرف SOPsپر عمل درامد ہی ہے۔

    اسکے ساتھ ساتھ سازشی تھیوریوں کا شکار ہونے سے سے بھی بچنا ہو گا،ایسی افواہوں میں زرا برابر حقیقت نہیں ہوتی کہ جن میں کہا جاتا ہے کہ حکومت ہر تہوار سے پہلے جان بوجھ کر کرونا مثبت کیسز کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کر دیتی ہے،تاکہ لوگ ڈر کے احتیاطوں پر عمل کرنا شروع کر دیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں اعداد وشمار چھپانا نا ممکن ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اگر فرض کر لیں کہ حکومت لوگوں کی جانیں بچانے کے لئے جھوٹ بول رہی ہے تو پھر ہم سب کو اس جھوٹ کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔

    @lalbukhari

  • تحریر معین وجاہت  عنوان :منفی سوچ کے اثرات۔

    تحریر معین وجاہت عنوان :منفی سوچ کے اثرات۔

    منفی سوچ ایک ایسا زہر ہے جو جسم میں سرائیت کر جائے تو فرد معاشرے سے کٹتا ہی ہے ساتھ میں فیملی کے لئے بھی وبال جان بن جاتا ہے۔ایسے انسان سے کنارہ کش ہونا ہی بہتر سمجھا جاتا ہے ۔
    یہ حقیقت ہے کہ منفی سوچ انسان کی شخصیت کو بھی منفی بنا دیتی ہے کیونکہ ایسا فرد ہر مثبت پہلو سے بھی منفی پہلو ہی نکالتا ہے ۔اسی زہریلی سوچ کے زیر اثر انسان آہستہ آہستہ چڑچڑا پن کا شکار ہو جاتا ہے۔معاشرے سے ہٹ کے ایسے لوگ اپنوں کے لئے بھی سوہان روح بن جاتے ہیں۔ان سے لوگ بات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے اور کوشش کرتے کہ اسے اپنے معاملات سے الگ رکھا جائے جس کے نتیجہ میں ایسے افراد اکیلے رہ جاتے ہیں ۔ان تمام چیزوں سے بچنے کے لئے اپنا کتھارسیس کیجئے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ انجانے میں آپ کا رویہ آپکی سوچ آپکو تنہا تو نہیں کر رہی؟ کہیں آپ کے اپنے آپ سے بات نہ کرنا بہتر تو نہیں سمجھ رہے؟کیا آپ کو اپنی زندگی بوجھ تو نہیں لگنے لگی ؟کہیں آپ ہر لمحہ زہنی ڈیپریشن کا شکار تو نہیں ہو رہے؟اگر ان میں سے کوئ بھی سائین آپکو نظر آ رہا ہے اور آپ نارمل زندگی کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں اگر آپ اپنے ارگرد کے ماحول کو خوبصورت بنانا اور دیکھنا چاہتے ہیں زندگی کے تمام لمحوں کی خوبصورتی کو کشید کرنا چاہتے ہیں اس کائنات کے رنگوں میں کھونا اور انہیں محسوس کرنا چاہتے ہیں ؟ آپ اپنے ارد گرد بچوں کی قلقاریوں میں زندگی کا احساس چاہتے ہیں ؟ اور اگر آپ زندگی کو صحیح معنوں میں جینا چاہتے ہیں تو پھر اپنی سوچ کو بدلیں۔اپنی سوچ کے زاویے کو درست کریں ہر منفی سوچ کو جھٹک کر اسے مثبت انداز میں ڈھالیں زندگی کو محسوس کریں اپنوں کو اپنے منفی رویے کی وجہ سے دور نہ کریں۔بلکہ ایسا رویہ اپنائیں کہ آپ کے اپنے آپ کے نزدیک رہنا جنت تصور کریں ۔ جب آپ یہ قدم اٹھائیں گے تو یقین کیجئے آپکو اپنے ارد گرد تتلیاں اڑتی ہوئ محسوس ہوں گی اور آپ خود کو نہ صرف باوقار شہری بلکہ اپنے گھر کا ذمہ دار فرد سمجھیں گے۔ اور ہر قسم کے ڈیپریشن سے آزاد ہوں گے آزمائش شرط ہے

    @iamnoww50

  • تحریر: محمد عثمان  عنوان: مغل بادشاہ ترقی کے خلاف رکاوٹ

    تحریر: محمد عثمان عنوان: مغل بادشاہ ترقی کے خلاف رکاوٹ

    مغلوں کی تاریخ: مغلوں کی حکمرانی 1526ھ میں شروع ہوئی۔ ہندوستان میں مغلوں کا پہلا حکمران ظہورالدین بابر تھا۔ وہ مغل سلطنت کا بانی ہے۔ بنیادی طور پر ، مغل افغانی تھے۔ ان کو جنگھی خان (منگول کنگ) نے بے دردی سے شکست دی۔ وہ افغانستان میں پناہ مانگ رہے تھے۔ دریں اثنا ، اس حالت کو دیکھ کر ہندوستان کے مسلم قائدین نے اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ انہوں نے ظہورالدین بابر کو اپنی شکست خوردہ فوج کے ساتھ ہندوستان پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔ اس نے ہندوستان پر حملہ کیا اور بغیر کسی رکاوٹ کے فتح حاصل کی کیونکہ مرکزی رہنما اس کے حق میں تھے۔ وہ دراصل ایک نیک آدمی اور روحانی آدمی تھا۔ انہوں نے برصغیر میں اسلام کی تبلیغ کی۔ اس کی موت 1530a.h میں ہوئی۔ ان کی وفات کے بعد ، ان کے بیٹے ناصر الدین ہمایون نے سلطنت کی ذمہ داری قبول کی۔ وہ ایک روحانی شخص بھی تھا اور حکومت کی رسم و رواج میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں بہت ساری عمارتیں بنائیں۔ صورتحال پر نگاہ ڈال کر آگرہ کے گورنری گورنر شاہ سوری نے ہمایوں کے خلاف سڑکیں نکالیں جب وہ کسی دوسرے ملک کے دورے پر تھے۔
    شیر شاہ سوری: شیر شاہ سوری افغانی تھے۔ اس نے ہندوستان پر صرف پانچ سال حکومت کی۔ حکمرانی کا ان کا مختصر وقفہ (1540 سے 1545) صدی کا سب سے جدید دور سمجھا جاتا ہے۔ سوری بہت ذہین اور موجودہ ذہن کا حکمران تھا۔ انہوں نے اپنی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بہت سے اقدامات کئے۔ اس نے تنکا کی بجائے روپیہ متعارف کرایا۔ اس نے مسافروں کے لئے بڑی تعداد میں رہائشیں تعمیر کیں ، جہاں کوئی بھی کھانا کھا سکتا ہے اور دن کے کسی بھی وقت آرام کرسکتا ہے۔ مزید یہ کہ اس نے گرینڈ چوری روڈ (جی ٹی روڈ) کے نام سے ایک بہت لمبی سڑک بنائی۔ یہ سڑک بنگال سے شروع ہوتی ہے اور کابل میں ختم ہوتی ہے۔ اس نے مسافروں کو اپنا وقت بچانے میں مدد فراہم کی۔ اس سے برصغیر میں تجارت کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے قوم کے لئے اور بھی بہت کچھ کیا۔ انہوں نے ہندوستان میں پوسٹ سسٹم بھی متعارف کرایا۔ اس کی حکمرانی کے چھوٹے دورانیے کو سنہری حد کہا جاتا ہے۔ 1545 میں ان کی اچانک موت کے بعد ، ان کے بڑے بیٹے کو بادشاہ مقرر کیا گیا۔ وہ اس اہم ذمہ داری کے اہل نہیں تھا۔ اپنی غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے ہمایوں کو واپس آنے کا راستہ ملا۔ اس نے سوری کی سلطنت پر حملہ کیا اور 1547 میں جنگ جیت لی۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان نے ایک بار پھر ترقی کرنا چھوڑ دی۔
    مغلوں کے ذریعہ اختراعات:
    دراصل ، بہت سے مغل حکمران صرف روحانی اور اسلامی کلاس ہی پڑھائے جاتے تھے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ پوری دنیا میں کیا ہورہا ہے۔ مغل دانشور تھے۔ انہوں نے ادب کے لئے کام کیا۔ ان میں سے کچھ اچھے مصنف بھی تھے۔ انہوں نے شاعری پر اپنی کتابیں لکھیں۔ وہ اکثر شاعری کی جماعتیں کہتے تھے اور اچھے شاعروں کو بھی ان سے نوازا جاتا تھا۔ ظہورالدین بابر ، ہمایوں ، اورنگزیب عالمگیر اور بہادر شاہ ظفر مشہور مغل مصنفین ہیں۔ اورنگ زیب کے سوا سبھی حکمران موسیقی کے دلدادہ تھے۔ وہ ایسی موسیقی سنتے تھے جو روح کو چھوتی ہے۔ تان سنگھ اکبر کے زمانے کا مشہور موسیقار تھا۔ وہ مغل کے دور کے سب سے زیادہ ایوارڈ یافتہ موسیقار تھے۔ آج ہم سنتے ہیں کہ بہت سے راگ مغلوں نے متعارف کرائے تھے۔ راگ "سا رے گا” سب سے پہلے تن سنگھ نے گایا تھا۔ مزید یہ کہ مغلوں کے دور میں بڑی تعداد میں بے معنی عمارتیں سامنے آئیں۔ تاج مہل آگرہ ، لال قلعہ دہلی ، شاہی مسجد لاہور ، ہیران مینار اور بابری مسجد ان میں سے کچھ مشہور ہیں۔ مختصر یہ کہ اس بڑے دور میں کوئی سائنسی کام نہیں کیا گیا۔ ہندوستان روایتی زندگی گزار رہا تھا جبکہ پوری دنیا سائنسی لحاظ سے ترقی کر رہی تھی۔ مغلوں نے عیش و عشرت کی زندگی گزاری۔ ذرا تصور کریں کہ اتنی بڑی سرزمین کے بادشاہ کے پاس مہینوں شکار کرنے کے لئے وقت باقی رہتا ہے۔ یہ کتنا مضحکہ خیز ہے۔
    جب ہندوستان نے ترقی کرنا شروع کی:
    مغلوں نے تین صدیوں تک برصغیر پر حکمرانی کی۔ 1857 وہ سال تھا جب ہندوستان نے اس قسم کے بادشاہوں سے نجات حاصل کی جب برطانوی فوج نے ہندوستان پر حملہ کیا اور انہوں نے مغل سلطنت کا خاتمہ کیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ برطانوی فوج کو یہاں حملہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ہم نے انہیں صرف یہاں تجارت کی اجازت دی ہے۔ لیکن ، میری رائے انگریزوں کے حق میں ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ان کی پالیسیاں مسلمانوں کے خلاف تھیں۔ انہوں نے ان پر تشدد کیا۔ ایک مسلمان کے لئے اچھی زندگی گزارنا مشکل تھا لیکن لوگوں کو مردہ نیند سے بیدار کرنے کی سخت ضرورت تھی۔
    دوسری طرف،برطانوی حکومت اپنے ساتھ بہت سی نئی چیزیں لے کر آئی۔ مثال کے طور پر ، انہوں نے ٹرین کے ذریعے سفر متعارف کرایا۔ انہوں نے موٹر کاریں ، فون کالز ، اسلحہ کی بہت ساری قسمیں اور بہت کچھ پیش کیا۔ انہوں نے فرٹلائجیشن میں نئی تکنیک بھی متعارف کروائی۔ انہوں نے یہاں فیکٹریاں لگائیں۔ وہ بہت ساری چیزیں لائے جو ہندوستان کے مقامی لوگوں کو نا معلوم تھے۔ آخر میں ، میں یہ کہوں کہ مغل سلطنت سائنسی دور کا تباہ کن دور تھا۔
    تحریر: محمد عثمان
    @Usm_says1