Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میرے بلوچستان کے مسائل . تحریر: آصف کریم بلوچ

    میرے بلوچستان کے مسائل . تحریر: آصف کریم بلوچ

    بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ھے. اس کا رقبہ 347190 مربع کلومیٹرھے جو پاکستان کا کل رقبے کا 43.6 فیصد حصہ بننا ھے قدرتی وسائل سے مالامال بلوچستان محل وقوع میں اہم ترین صوبہ ھے اتنے بڑے صوبے کی عوام مختلف پریشانیوں کا شکارھے.

    1. جرائم، پانی کی قلت اوربجلی کی قلت کچھ بڑے مسائل ہیں.
    2. بلوچستان میں مختلف شہروں میں بہت بڑے حادثہ ہوتے ہیں روڈ سنگل ہونے کی وجہ سے حادثے ہورہے ہیں اگرڈبل روڈ بنایا جائے تو اس مسئلہ کا سامنا نہ کرنا پڑے.
    3. بلوچستان میں جنتی بھی سرکاری زمین ہیں وہاں اکثرپرقبضہ مافیا کا قبضہ ھے وہاں سے قبضہ ختم کیا جائے تو بہترہوگا.
    4. بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال ھے لیکن ہرسہولت سے محروم ھے سمجھ نہیں آتی اس قصورواربلوچستان کی عوام ھے یا سیاستدان لہذا ہماری اپیل ھے کہ بلوچستان کے وسائل بلوچستان کی عوام پرخرچ کیئے جائیں توبہترہوگا.
    5. روڈوں و ہسپتالوں کے حالت ہرضلع میں خراب ھے کسی ضلع میں ہسپتال کی بلڈنگ ٹوٹی پھوٹی ھے کسی ضلع کی ہسپتال میں ڈاکٹرغیر حاضررہتے ہیں روڈوں کا ٹھیکہ سیاسی لوگوں کے بندوں کو ملتا ھے جہاں 100% فیصد میں سے 40 فیصد کام ہوتا ھے ایک مہینہ کے بعد روڈ کی حالت بگڑ جاتی ھے لہذا روڈوں اورہسپتالوں کی حالت بہتربنائی جائے.

    اس کا خلاصہ یہ ھے کہ معاملات بہت سنگین ہیں عوام کو اس طرح کی مہلک پریشانیاں کا سامنا کرنا پڑتا ھے تاہم مناسب ارادے اورعزم کے ساتھ صوبائی گورنمنٹ وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر ان مسائل کا حل نکالیں بلوچستان کے مسائل کا حل آسان ہے اگرکوئی نکالنا چاہے تو مسلہ بڑا نہیں ھے لیکن افسوس بلوچستان کے سیاستدانوں نے بڑا بنا دیا ہے. میں چاہتا ہوں صوبائی اوروفاقی گورنمنٹ بلوچستان کے پانچ بڑے مسائل پرتوجہ دیں.

    @AsifKarimBaloch

  • پاکستان اورپاکستانی سیاست . تحریر: نواب فیصل اعوان

    پاکستان اورپاکستانی سیاست . تحریر: نواب فیصل اعوان

    پاکستان کو بنے 74 سال بیت جانے کے باوجود بھی پاکستان حقیقی معنوں میں وہ پاکستان نہیں بنا جس کا تصوراقبال نےدیکھا تھا اورقاٸداعظم نےعملی جامہ پہنایا تھا. سیاست نے ہمیں اس قدرگرا دیا ہے کہ ہم انسانیت کے درجے سے ہی گرگئے ہیں. پاکستان بننے سے لے کر اب تک کی پاکستانی سیاست کواگردیکھا جائے تو پاکستانی سیاستدانوں کی آپسی چپقلش اوروڈیرہ شاہی کی ہی وجہ سے ہم بنگلہ دیش سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں. اگراس وقت بھٹو اورمجیب دونوں مل کے اپنے مساٸل ملکی سلامتی کیلۓ حل کرلیتے تو آج بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ ہوتا اور ہم آپسی اتحاد واتفاق کی بدولت دنیا کی متحد، ترقی یافتہ اورمہذب قوم گردانے جاتے مگرافسوس کہ ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ گئے.

    اگرموجودہ صورتحال اورسیاست کا موازنہ کیا جاۓ تومیرے خیال سے پاکستان عالمی سطح پہ پاکستانی سیاستدانوں کی ہی وجہ سے بدنام ہے. ہم اپنے مفادات کی خاط ملک پاکستان سےغداری کرتے گئے اورحالات ایسے ہوچکے ہیں کہ ہرمحب الوطن پاکستانی ان حالات پہ پریشان ہے. پاکستان کے قیام سے لے کراب تک صرف چارسو خاندان اس ملک کی سیاست پرراج کرتے آئے ہیں ان خاندانوں کو مزید تقسیم کر دیا جائے تو ان کی تعداد تقریباﹰ ایک ہزاربنتی ہے. آج تک یہی بے رحم ایلیٹ کلاس اقتدارکے ایوانوں میں بیٹھ سکتے ہیں، بلکہ غریب عوام کو خوشحال بنانے، انہیں تین وقت کی روٹی دینے، سڑکیں، گلیاں، تعلیم اورصاف پانی فراہم کرنے کے نعرے لگاتی آئی ہے گو کہ کسی نے ایسا ممکن نہیں بنایا.

    پاکستان میں بدترین فوجی آمریت ہو یا جمہوریت، حکومت مسلم لیگ کی ہو یا پیپلز پارٹی کی، تحریک انصاف کی ہو یا پھر ق لیگ کی، اسمبلیوں تک نوے فیصد انہی ایک ہزارخاندانوں کے جاگیردار، زمیندار، صنعت کار اورقبائلی سردار پہنچتے ہیں باقی سیاستدانوں کو یا تو جبری دستبردارکرایا جاتا ہے یا ایسے کردارکشی کی جاتی ہے کہ اللہ امان وہ خود ہی تنگ آ کے سیاست سے دوری اختیارکرجاتے ہیں.
    اس وقت بیشتر سیاسی جماعتیں محض نام کی جمہوری جماعتیں ہیں ان نام نہاد جمہوری سیاسی جماعتوں کے تمام ترفیصلے صرف چند لیڈر آمرانہ اندازمیں کررہے ہیں ان سیاسی جماعتوں کی جمہوریت کی اوقات صرف اتنی ہے کہ ایک طرف عشروں سے چلے آ رہے یہ خاندانی لیڈرہیں اوردوسری طرف ان کی پیروی کرنے والے نسلی غلام ہیں.

    یہی سلسلہ نسل درنسل چلا آرہا ہے. پچاس کی دہائی سے لے کرآج تک تقریباﹰ ان ایک ہزارخاندانوں کا مرکزی مقصد اپنے ذاتی مفادات، اپنے رشتہ داروں، اپنے خاندان یا پھرزیادہ سے زیادہ اپنے قبیلے یا برادری کے مفادات کا تحفظ رہا ہے باقی عوام کو وعدوں کے چورن ہی بیچے گئے ایک پلڑے میں پاکستان کے نوے فیصد قانون سازوں، ایم پی ایزاورایم این ایزکی ذاتی لینڈ کروزرز، محل نما بنگلوں، زمینوں اور جائیدادوں کو رکھیں اوردوسرے پلڑے میں پاکستان کے دو سو ملین سے زائد عوام کو ملنے والی سہولیات کو رکھیں، آپ کو فرق سے پتہ چل جائے گا کہ قوم یا عوام کے مفاد میں انہوں نے کس قدر ’’جانفشانی‘‘ سے کام کیا ہے. عوام ان سیاستدانوں سے اپنی بنیادی سہولیات تک مانگتے ہوۓ ڈرتی ہے کیونکہ یہ زمینی خدا بنے بیٹھے ہیں.

    بقول نواب فیصل فیبی، میں ڈرتا ہوں ان سے کوئی بھی درخواست کرنے کوسفید پوش ہوں ڈرلگتا ہے کہیں پرچے نہ کرا دیں پاکستان کی سیاست اب غلاظت کے سوا کچھ نہیں رہی ایک دوسرے پہ الزام تراشیوں سے لیکرایک دوسرے کی کردارکشی تک سب چلتا ہے. غیرملکی آقاٶں کو خوش کرنے کیلۓ اس ارض پاک کے خلاف بیانات دے کریا اشتعال انگیزی پھیلانے سے بھی گریزنہیں کیا جاتا ہے.

    فرمان قاٸد ہے کہ، اگر ہم اس عظیم مملکت کو خوش اورخوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں اوربلخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پرمرکوزکرنی ہوگی.

    لیکن افسوس ہم بانی پاکستان قاٸداعظم محمد علی جناح کے سنہری اقوال ہی بھول گئے ہیں. یہی پاکستانی سیاست دان اسراٸیل کے دوروں پہ جاتے رہے ہیں جبکہ قاٸد فرما گئے تھے کہ ” اسراٸیل ایک ناجاٸز ریاست ہے جسے امت کے پیٹ میں گھونپا گیا ہے اسے پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا “

    الغرض ہم اپنی تاریخ اوراپنے محسنوں کو بھول کے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دینے لگ گئے اورپاکستان کو ایک صدی پیچھے جا چھوڑا ہے. ہم نے اجداد کے خون کے ساتھ وفا نہ کی، ہم اجداد کی قربانیاں بھول گئے، ہم بے حس ہوگئے، کسی بھی ملک کی سیاست اورسیاستدان ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں اگر ہڈی مضبوط ہے تو آپ کھڑے ہیں اگر ہڈی ٹوٹ جاۓ تو آپ بیٹھ جاتے ہیں اوریہی کچھ میرے ملک پاکستان کے ساتھ پاکستانی سیاستدانوں نے کیا ہے.

    @NawabFebi

  • قیام پاکستان میں علمائے کرام کا کردار . تحریر: سیدعمیرشیرازی

    قیام پاکستان میں علمائے کرام کا کردار . تحریر: سیدعمیرشیرازی

    علماء انبیاء کے وارث ہیں، یہ بات صحیح احادیث سے ثابت ہے، سننِ ترمذی، سننِ ابن ماجہ، صحیح ابنِ حبان ودیگرکتبِ حدیث میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث کا ایک جملہ "و إن العلماء ورثة الأنبياء” ہے،”سنن الترمذي” کی روایت کے الفاظ یہ ہیں۔

    لیکن ہماری بدقسمتی تودیکھیں اس حدیث کا انکارکررہے ہوتے ہیں اورعلماء کرام پربےجا تنقید بلکہ ذاتیات پرجا کرانکا مذاق اڑانے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتے بات ہورہی ہے پاکستان کے قیام میں علماء کا کردار جب سرسید احمد خان نے دوقومی نظریے "Two Nation Theory” کی بنیاد رکھی اورانہیں یہ محسوس ہوگیا تھا مسلمان اورہندو ایک ساتھ نہیں رہ سکتے دونوں کے مذہب ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں مسلمان اللّه کے ماننے والے اورہندو بتوں کے پجاری ہیں۔

    جب قائد اعظم محمد علی جناح نے چودہ اگست 1947 کے دن کا آزادی کا اعلان کیا تو ہندوؤں نے مسلمانوں پرتشدد کی کارروائیاں شروع کردیں اوردیکھتے ہی دیکھتے برصغیر جسے subcontinent کہا جاتا تھا وہاں ہرطرف مسلمانوں پرظلم وستم ڈھایا گیا، پھرمسلمانوں نے پاکستان ہجرت شروع کی اس ہجرت کے دوران لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اورانہی جانوں میں علماء کرام کی ایک بڑی تعداد شامل تھی اورتاریخ کی کتابوں میں یہ بات درج ہے کہ اس وقت کے علماء حق (علماء دیوبند) کے بیس لاکھ علماء کرام نے بھی اپنی جانیں قربان کی اس ملک کی بقاء کیلئےعلماء کو زندہ قبروں میں ڈالا گیا زندہ جلایا ہرطرح کا ظلم کیا گیا تھا.

    قائداعظم رح کی محنت کے ساتھ ساتھ علماء کی بھی لازوال قربانیاں تھی جس کے بعد یہ پاک دھرتی باب الاسلام ہمیں ملا علمائے کرام کی لازوال قربانیوں کو ہم بھول نہیں سکتے اورسب سے التجا بھی ہےعلماء پرتنقید کرنے سے پہلے یہ ضرورسوچیں علماء کون ہیں کل روز محشرمیں جب ہم اللّه کے ہاں پیش ہونگے تو انبیاءؑ کی صفوں میں چالیس صفیں علماء کی ہونگی یہ شان ہے علماء کی اورآج ہم کتنی آسانی سے کسی عالم دین کا دنیا والوں کے سامنے مذاق بنا دیتے ہیں کیا ہمیں مرنا نہیں ہے ؟؟ موت تو برحق ہے کل ہم کس منہ سے حضورﷺ کے سامنے پیش ہونگے یہ سوچیں ذرا اورخدارا آج سے اللّه کے حضورمعافی مانگیں بیشک اللّه رحمن و رحیم ہے۔

    @SyedUmair95

  • جذبہِ ایثار، تحریر:بشارت محمود رانا

    جذبہِ ایثار، تحریر:بشارت محمود رانا

    ہر سال ۱۰ ذوالحج کو تمام دنیا کے مسلمان حضرت ابراہیم (ع) کی اللہ تعالی کے حکم پہ عمل کرتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کی اُس عظیم قربانی کی سُنت پہ عمل کرتے ہوئے جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔

    ہزاروں سال پہلے پیش آنے والا یہ واقعہ اللہ تعالی نے ہمیں قرآنِ مجید میں ہو بہو بیان کر کے ہم مسلمانوں تک پہنچایا ہے۔ تاکہ ہم بھی اِس سے سبق سیکھ سکیں۔

    جِس طرح حضرت ابراہیم (ع) نے اپنے اکلوتے بیٹے جو کہ انہیں اور حضرت حاجرہ (ع) کو اللہ تعالی نے تب عطا کیا جب کہ یہ دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ تو عُمر کے اس آخری حصے میں اللہ تعالی کی طرف سے ملی ہوئی اس اولاد کو اللہ تعالی کے حکم کے مطابق جب حضرت ابراہیم (ع) کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم ملا، تو حضرت ابراہیم (ع) نے تب نہ تو کوئی حیلا اور نہ کوئی بہانہ گھڑنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس بارے میں کسی قسم کی اللہ تعالی سے کوئی شکایت کی۔

    اور دوسری جانب حضرت اسماعیل (ع) جو تب تک ایک چھوٹے سے بچے تھے، انھوں نے بھی اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے اس حکم کو سن کے لمحہ بھر کے لئے بھی نہ ڈرے، نہ ہچکچائے اور نہ کسی قسم کی کمزوری دکھائی۔

    اور یہاں تک کہ کبھی حضرت ابراہیم (ع) کو اور کبھی اُن کے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو بار بار شیطان مردود بھی آ کے ورغلاتا و پھسلاتا رہا کہ کہیں کسی طرح کوئی کمزوری دِکھا کے اللہ تعالی کے حکم کی نافرمانی کر سکیں، لیکن وہ مردود ناکام ہی رہا۔

    پھر جب حضرت ابراہیم (ع) اللہ تعالی کے اس حکم کے سامنے سر تسلیمِ خم کرتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو قربان کرنے کے دوران چھری کو چلا رہے تھے، تب پھر اللہ تعالی نے چھری کو کاٹنے سے منع فرما دیا اور حضرت ابراہیم (ع) کی اس عظیم قربانی کو قبول کرتے ہوئے ایک دُنبہ بھیجا اور حضرت ابراہیم (ع) کو اس دُنبے کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔

    اسی عظیم قربانی کے بدلے میں حضرت ابراہیم کو اللہ تعالی کی طرف سے خلیل اللہ (جس کے معنی اللہ کا دوست کے ہیں) کا لقب دیا گیا اور اُن کے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو اللہ تعالی کی طرف سے ذبیح اللہ (جس کے معنی ﷲ کی راہ میں قربان ہونے والا کے ہیں) کا لقب دیا گیا۔

    تو اس عظیم اور بے مثال قربانی کو سنت کے طور پر نبھاتے ہوئے تمام دنیا کے مسلمان۱۰ ذوالحج کو عید الاضحی کے موقع پر جسے عید ایثار یا پھر قربانی کی عید بھی کہا جاتا ہے، اس پہ تمام صاحبِ استطاعت لوگ جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کر کے مناتے ہیں

    اور اس قربانی کے گوشت کو ہم اللہ تعالی اور اپنے پیارے نبی و رسول جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دیے گئے احکامات کے مطابق اپنے عزیز و اقارب، رشتے داروں، محلے داروں، اپنے ارد گرد موجود غریب و غرباء اور اُن لوگوں میں بانٹتے ہیں جو قربانی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔

    اگر دیکھا جائے تو اس قربانی کے دن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، جیساکہ اللہ تعالی کے احکامات کو ہمیں ہر صورت ماننا چاہیے اور شیطان مردود کے ہاتھوں کھلونا نہیں بننا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے یا جن سے منع فرمایا ہے اُن میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔

    اور دوسرا یہ کہ شیطان مردود جو کہ انسان کا کُھلا دشمن ہے، وہ طرح طرح کے طریقوں سے ہمیں ورغلا اور پِھسلا کر گناہوں کی طرف دھکیلنے اور اللہ تعالی کے احکامات سے رو گردانی کروانے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے۔ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمیں کبھی بھی اُس شیطان مردود کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہیے اور اللہ تعالی کے احکامات کو اپنی اپنی زندگیوں میں لازم و ملزوم سمجھ کر شامل کرنا چاہیے

    اور تیسرا یہ کہ ہمیں نہ صرف اس عید ایثار کے موقعے پہ ہمارے ارد گرد موجود غریب و غربا، محلہ داروں، رشتہ داروں اور اُن لوگوں کو جو سفید پوش ہیں، کبھی نہیں بھولنا چاہیے اور اپنی استطاعت میں رہتے ہوئے ان کی ہر قسم کی مدد کو تیار رہنا چاہیے جس سے ایک بہترین اور ہمدرد معاشرہ بھی قائم ہو سکتا ہے جو ایک دوسرے کا ہر اچھے و برے وقت میں خیال رکھتا ہو۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو اس عید ایثار کی عظیم قربانی سے سبق سیکھنے، اس پہ عمل کرنے اور اس کی برکات کو سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

    واخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

  • "پانی کی قدر و قیمت” .تحریر:نـــازش احمــــد

    "پانی کی قدر و قیمت” .تحریر:نـــازش احمــــد

    پانی کی قدر و قمیت پانی اللہ
    ﷻکی بہت بڑی نعمت ہے، انسان کے بےشمار معاملات پانی سے حل ہوتے ہیں انسان کو قدم قدم پر پانی کی ضرورت پڑتی ہے،پانی کے بغیر انسان کے لئے شاید زندہ رہنا بھی ناممکن ہوجائے ،اور زندگی کے معاملات حل کرنا دشوار ہوجائیں ،تومعلوم ہوا کہ پانی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور وطن عزیز پاکستان کو اللہ ﷻنے اس نعمت سے خوب نوازا ہے ،پانی وافر مقدار میں موجود ہے لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم اس پانی کی حفاظت کریں  پانی کو ضائع نہ کریں، جتنی بڑی یہ نعمت ہے وہی حیثیت اس پانی کو دی جائے اور اس پانی کی حفاظت کی جائے اور اسے احتیاط سے استعمال کیا جائے مگر بدقسمتی کے ساتھ قدرت کے اس حسین تحفے کاضیاع بیدردی سے جاری ہے،چھوٹی چھوٹی احتیاطوں سے اس انمول تحفے کی بچت کی جا سکتی ہے۔ہم اپنے روزمرہ کے کاموں میں بہت سا پانی ضائع کردیتے ہیں۔جس کا ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا۔ اپنے روزمرہ کے کاموں میں اگرہم تھوڑی سی احتیاط کرلیں توبڑی مقدارمیں پانی بچاسکتے ہیں۔ ٹوتھ برش کرنے کے دوران اگرکھلا نل ہم بندکردیں ،تواس سے ہم 1 منٹ میں کئی لٹرتک پانی کی بچت کرسکتے ہیں۔ نہاتے وقت اگرآپ صابن لگانے کے دوران نل یا شاوربندکردیں، توپانی کی بڑی مقدارضائع ہونے سے بچ سکتی ہے ،

    اس کے علاوہ اگر ممکن ھو تو نہاتے وقت شاور کی بجائے، بالٹی کا استعمال کیا جائے۔صابن لگاتے اوربال شیمپوکرتے وقت شاوربند کرنے کی صورت میں کافی پانی بچایا جا سکتا ہے ۔اگر اپنی گاڑی کوپانی کے پائپ کی بجائے، پانی بھری بالٹی سے دھوئیں ،تونہ صرف بہت زیادہ پانی کی بچت ہوگی، بلکہ آپ کاگیراج بھی کم گندہ ہوگا۔ پانی میں دھونے کے بجائے، اپنی سبزیاں کٹورے میں دھوئیں۔پانی اورتوانائی دونوں بچاتے ہوئے، سبزیاں کم سے کم پانی میں پکائیں۔ دھونے والے برتنوں پر،پہلے سے پانی بہاناضروری نہیں۔اگربرتنوں پرسے بچے ہوئے کھانے کوہاتھ سے کھرچ دیں گے توکافی پانی بچ سکتاہے۔ واشنگ مشین کوکپڑوں سے بھرکردھونا زیادہ بہترہے۔کیوں کہ اگرمشین کوکم کپڑوں کیساتھ دھویا جائیگا توپانی کیساتھ ساتھ توانائی بھی زیادہ خرچ ہوگی۔ ان سب کے علاوہ گھرمیں ٹپکتے، نلوں اورپانی رستے دیگرآلات کی مرمت سے پانی کی بڑی مقداربچائی جاسکتی ہے۔جبکہ بارش کاپانی محفوظ کرکے بھی کئی طرح سے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی کے مسائل کے بارے میں عوام میں شعور پیدا کیا جائے! اللہ ﷻہم سب کو اپنی نعمتوں کی قدر کرنے کی توفیق دے اور نعمتوں کی ناقدری کرنے اور اس کو ضائع کرنے سے بچائے۔ آمین ثم آمین!
    @itx_Nazish
    نـــازش احمــــد

  • زندگی کا راز اور قانون کشش ،تحریر: آمنہ بخاری

    زندگی کا راز اور قانون کشش ،تحریر: آمنہ بخاری

    لوگ جو چاہتے ہیں وہ ان کے پاس نہیں ہے اور اس کی وجہ صرف ایک ہے کیونکہ وہ زیادہ تر اس بارے میں سوچتے ہیں جو وہ نہیں چاہتے بجائے اس کے جو وہ چاہتے ہیں زندگی کا عظیم راز "قانون کشش” میں رکھا گیا ہے اس قانون کے تحت جو کچھ آپ سوچتے ہیں آپ اس چیز کو اپنی طرف کھینچتے ہیں قانون کشش در حقیقت آپکے خیالات کا ردِ عمل ہے اور یہ قانون بالکل قانون ثقل کی طرح کام کرتا ہے یہ غیر جانبدار اور بے لاگ ہے اور یہ فطرت کا قانون ہے یہ آپکو وہ کچھ دیتا ہے جس کے بارے میں آپ سوچتے ہیں ایک انسان کی حقیقت اسکی سوچ میں موجود ہوتی ہے آپ اگر لگاتار سوچتے ہیں کہ میں بحث نہیں کرنا چاہتا تو قانون کشش کے مطابق آپ زیادہ بحث کرنا چاہتے ہیں

    یہ ساری کائنات خیالات کی آماجگاہ ہے ہر انسان اپنی زندگی قانون کشش و خیالات کے ذریعے تخلیق کر رہا ہے یہ قانون ہر شخص کی زندگی میں ہمیشہ سے کام کر رہا ہے جب کوئی انسان اس قانون سے باخبر ہو جاتا ہے تو اس بات سے بھی باخبر ہو جاتا ہے کہ آپ ناقابل یقین قوت کے مالک ہیں جو آپ کو آپکی زندگی کے وجود کے بارے میں سوچنے کے قابل بناتی ہے آپ جو سوچ رہے ہیں وہ آپ کے مستقبل کی تخلیق کر رہا ہے آپ کو زندگی میں جو کچھ چاہیے آپ کو اپنی ذات کو صرف اس بات کا یقین دلانا ہے کہ وہ چیز آپکی ہو چکی ہے پھر فطرت کا قانون دیکھیں وہ کیسے راستے بنا کر اس چیز کو آپ تک پہنچائے گی آپ کی زندگی تب بدلتی ہے جب آپ اپنی سوچ کا دائرہ کار بدل لیتے ہیں

    "رونڈ ابرن” کی ایک کتاب "دی سیکرٹ” کے مطابق خیالات مقناطیسی ہیں اور خیالات کی ایک فریکوئنسی ہے جیسے ہی آپ اپنے خیالات سوچتے ہیں یہ کائنات میں بھیجے جاتے ہیں اور یہ ایک ہی فریکوئنسی کی مشابہت والی چیزوں کو اپنی طرف کشش کرتے ہیں ہر بھیجی گئی چیز اپنے منبع کی طرف واپس لوٹتی ہےخیالات مثبت اور منفی ہوتے ہیں کوئی دوسرا آپکو نہیں بتا سکتا کہ آپ اچھا محسوس کر رہے ہیں یا برا آپ کے خیالات ہی آپ کے احساسات(جذبات) کا باعث بنتے ہیں اگر آپ برا محسوس کر رہے ہیں تو یہ آپ کے خیالات ہیں جو آپ کو برا محسوس کروا رہے ہیں جب کبھی آپ کو برے احساسات محسوس ہوں تو فوراً اپنی فریکوئنسی کو بدلیں اور اس کے لیے مسلمان ہونے کے ناطے آپ اللّہ کا ذکر کرنا شروع کر دیں اپنی خوشگوار یادوں کی طرف خود کو راغب کریں اور ایسا کرنے کے لیے آپکو صرف دو سے تین منٹ درکار ہیں۔

    پاکستان جیسے ممالک پر کئی دہائیوں سےمنفی سوچ کے بادل چھائے ہوئے ہیں جب پاکستانی ناامیدی کا کفر ترک کر دیں گے اچھی سوچ اور امید سے سر اٹھا کر جینا سیکھیں گے مثبت رویوں کو اپنائیں گےتو یہ مایوسی کے بادل ایسے چھٹ جائیں گےجیسے کبھی تھےہی نہیں "ڈاکٹر جان ہیلگن کے مطابق اندرونی خوشیاں در حقیقت کامیابی کا راز ہیں”
    خوشیاں آپکی سوچ کے تابع ہیں سوچ بدلیں اور دیکھیں آپ کی زندگی کیسے بدلتی ہے۔
    قلمکار: آمنہ بخاری

  • آنلائن بزنس میں خواتین کا کردار،تحریر:طاہرہ عتیق

    آنلائن بزنس میں خواتین کا کردار،تحریر:طاہرہ عتیق

    آنلائن بزنس میں خواتین کا کردار،تحریر:طاہرہ عتیق

    آج کل کے حالات اور مہنگائی کو مد نظر رکھتے ہوئے خواتین کو چاہیے کہ وہ بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے گھر میں آمدنی میں اضافے کا سبب بنیں ،یہ کوئی اتنی انہونی بات نہیں. ہم خواتین اگر کہیں جاب کرنا چاہیں تو انکو اسکول جوائن کرنے ٹیوشن پڑھانے یا بینکنگ میں سیکٹر میں جاب حاصل کرنے کیلئے مشورہ دیا جاتا ہے جس سے خواتین ایک محدود آمدنی کما سکتی ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ اسکول جاب میں ٹائم تو کم ہے مگر تنخواہ کے نام پر چند ہزار پکڑا دئیے جاتے ہیں جبکہ بینکنگ سیکٹر میں کام تو خوب لیا جاتا ہے مگر ترقی کی راہ میں روذے اٹکانا معمول ہے
    وہ کیا ایسے کام ہیں جو خواتین اپنی مرضی سے اپنی آسانی کےساتھ کرسکتی ہیں

    دیکھا جائے تو آجکل کا سوشل میڈیا بہت طاقتور حیثیت رکھتا ہے. فیس بک انسٹا گرام ٹویٹر پر خواتین کی بڑی تعداد نظر آتی ہے فیس بک اور انسٹا گرام پر تو باقاعدہ پیجز بنا کر خواتین چھوٹے پیمانے پر بزنس چلا رہی ہیں کپڑوں جوتوں جیولری میک اپ کھلونے اور بہت سی ایسی اشیاء ہیں جو یہ خواتین نہایت مناسب دام پر فروخت کر کے اپنا خرچہ پورا کررہی ہیں.یہ خواتین یہ کام گھر سے کرتی ہیں جس سے یہ اپنے گھر کی زمہ داری پوری کرنے کے ساتھ اپنے فری ٹائم. کو استعمال کر کے آمدنی بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں اس مد میں وہ ایک اچھا پرافٹ کما لیتی ہیں یہ ایک آسان زریعہ آمدنی ہے جس کے زریعے آپ کو گھر بیٹھے معیاری اشیاء فراہم کردی جاتی اور بازاروں کی خواری سے بھی بچا جاسکتا ہے
    مگر افسوس کا مقام ہے کہ ان خواتین کیلئے حکومت کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھا سکی جس طرح آنلائن خرید و فروخت میں اضافہ ہوا ہے حکومت کو چاہیے کہ ان خواتین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو باقاعدہ ایک پلیٹ فارم منظم کر کے دے جس میں ایسی خواتین کے مسائل کا تدراک کیا جائے بلکہ انکی حوصلہ افزائی بھی کی جائے.

  • آزاد کشمیرکی معیشت . تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    آزاد کشمیرکی معیشت . تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    اگرکوئی یہ سوال کرے کہ آزاد کشمیرکی معیشت کیا ہے تو جواب یہ ہے کہ ایک آزاد کشمیر کی کوئی معیشت نہیں ہے کیونکہ معیشت کا مطلب ہوتا ہے پیداوارکے ذرائع اوروسائل کا اسطرح سے انتظام کہ کم سے کم وسائل ضائع ہوں جبکہ اپنے ہاں صورت حال ایسی ہے کہ جیسے معیشت کا مطلب ہو وسائل کا ایسا انتظام ہو کے کم سے کم وسائل استعمال ہوں اور زیادہ سے زیادہ ضائع ہوں۔ یہ بھی الحاق پاکستان کی طرف ایک قدم ہے کہ آزاد کشمیرکی معیشت آزاد کشمیرکے کنٹرول میں نہ ہو بلکہ اس پرپاکستان کی نوکرشاہی، صنعت کاروں اور گماشتہ سرمایہ داروں کا قبضہ ہو تاکہ آزاد کشمیر کے اندرصنعت اورحرفت کی وبا نہ پھیل سکے اوریہ خطہ بدستور پاکستان کے مذکورہ بالا طبقوں کی منڈی بنا رہے اورآزاد کشمیر میں زیادہ سے زیادہ چھوٹا تاجر پیدا ہوسکے جس کو زیادہ بڑا کاوبارکرنا ہے وہ پنڈی لاہوراور کراچی جائے۔

    سوال کیا جا سکتا ہے اور اکثرارد گرد سے بے خبراپنے آکاؤں کے افکاراورخیالات کے بغیرسوچے سمجھے جگالی کرنے والے کرتے بھی ہیں کے آزاد کشمیر میں ہے ہی کیا کہ یہاں کی معیشت کا کوئی ڈھانچہ اٹھ سکے؟؟؟ لیکن اس کا جواب سیدھا سادہ سا ہے کہ سرمائے کے لحاظ سے یہ خطہ پاکستان کے امیرترین خطوں میں سے ہے آزادکشمیر کے بینکوں کا کڑوروں روپیہ (کوئی پانچ چھ سال پڑانی ایک تحقیق کے مطابق ڈدیال کے ایک علاقہ چھتڑو کے گرد و نواح جہاں کی آبادی تین ہزارتھی وہاں بینکوں میں پانچ کروڑ روپیہ تھا )اسی طرح ڈڈیال اورمیرپوروغیرہ کے بینکوں کا اربوں روپیہ مقامی سطح پرنہیں بلکہ کراچی اورلاہورکے صنعت کاراستعمال کرتے ہیں۔

    اس وقت تقریبا ایک ملین یعنی دس لاکھ کشمیری مزدوراورمحنت کش مشرقی وسطیٰ اوریورپ وامریکہ میں آباد ہیں اورآزاد کشمیرکی آدھی آبادی کا روزمرہ کا خرچ اٹھانے اورہزاروں کو تعمیراتی شعبے میں مزدوری فراہم کرنے اورسینکڑوں بے روزگار "پوسٹ گریجویٹوں” اور وکیلوں کو پلاٹوں کی خرید و فروخت کاشغل مہیا کرنے اوربیسیوں کو پراپرٹی ڈیلنگ کے میدان میں ملازمتیں فراہم کرنے کے علاوہ کروڑ ڈالرسالانہ زرمبادلہ بھی بھیجتے ہیں. جو سارے کا سارا پاکستانی نوکرشاہی اورسرمایہ کارہڑپ کرجاتے ہیں بغیرکوئی ڈکارمارے۔ لیکن جب سال بعد ڈھائی ارب روپیہ آزاد کشمیر کی حکومت کودیا جاتا ہے تو اخباروں میں سرخیاں لگتی ہیں اورٹی وی پربھی اس کی خبریں نشرکی جاتی ہیں یوں عام کشمیری سے لے کر بڑے بڑے پھنےخان دانشور یہ سمجھتے ہیں کے آزاد کشمیر پاکستان پربہت بڑا بوجھ ہے۔

    لیکن ظاہرہے کہ ان میں سے اکثر یا تو کشمیر سے پاکستان کو ہونے والی آمدنی سے بے خبرہوتے ہیں یا پھردوسروں کو بے خبراورکنفیوز کرنا چاہتے ہیں جنگلات، منگلا ڈیم کا پانی وبجلی، دریا، پی آئی اے کی کشمیریوں سے سلانہ آمدنی اس کے علاوہ ہے۔ یوالحاق پاکستان کی قوتوں معیشت کے میدان میں بھی کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی بنیادیں خوب مضبوط کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی اورحق نمک خوب ادا کیا۔ اس احساس کو عام آدمی کے ذہن میں پختہ کرنے کے لیے کہ کشمیر پاکستان کے ساتھ الحاق کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا آزاد کشمیر کے اندربرسراقتدار”بااثراورمعتبر” شخصیات کی طرف سے اس طرح سے اخباری بیان بھی اہم کرداراداکرتے ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ "ہم تو پاکستان کی سرپرستی کے بغیرایک کپ چائے بھی نہیں بناسکتے ”

    @zeeshanwaheed43

  • ‏جھوٹ بولنا کتنا بڑا گناہ ؟تحریر یاسمین ارشد

    ‏جھوٹ بولنا کتنا بڑا گناہ ؟تحریر یاسمین ارشد

    خود اعتمادی کی زبردست کمی کا شکار رھنا ہر وقت محسوس ھوتی ھوئی دل کی بے سکونی جھوٹ کے نتیجے پہ ملنے والی قدرت کی طرف سے خود کار سسٹم کے تحت روحانی جسمانی ذہنی بیماریاں اگر جھوٹ پکڑا جائے تو دوسروں کا ہمیشہ کیلئے آپکی ذات پر سے اعتبار ختم ہو جاتا ہے جھوٹ بولنے والا ہمیشہ کم ظرفی کا شکار رھتا ھے کیونکہ اسکی سوچ مثبت سوچ سوچنے کی اہلیت سے خالی ھو جاتی ھے جھوٹ بولنے والے کی سوچ ایک کے بعد دوسرا فراڈ کرنے کا موقع ڈھونڈتی ھے یعنی ایسا انسان چاہ کر بھی کسی کے ساتھ بھی مخلص نہیں بن سکتا جھوٹ آپ سے اپکے مخلص سچے محبت کرنے والے دوستوں رشتوں کو چھین لیتا ھے کیونکہ مخلص لوگ جب آپکے لفظوں اور عمل میں جھوٹ اور دغا بازی دیکھتے ہیں تو نفرت کرنے لگتے ہیں کیونکہ انکا مان ٹوٹ جاتا ھے جھوٹ کی عادت بڑھتی بڑھتی ہر صورت منافقت تک پہنچ جاتی ھے یعنی یہ چھوٹی سی معصوم سی عادت سمجھی جانے والی گندی عادت بڑے بڑے گناہوں کو مقناطیس کی طاقت کے برابر اپنی طرف کھینچتی ھے سائنس کے پجاری بھی ذرا کان کھولیں سائنسی مشین کے مطابق جھوٹ ایسے ہارمونز اور کیمیکل جنریٹ کرتا ھے جو کینسر ، موٹاپے ، ڈپریشن ، مستقبل کا خوف ، نشے کی عادت ، جوا کھیلنے کی عادت ، بدکرداری ، اپنے روز مرہ کے کسی بھی کام میں پوری توجہ کا فقدان ، ماضی کے غم میں مستقل رھنے والے پیٹرن بنا دیتا ھے ایسا اس لئے ھوتا ھے کہ جب ہم جھوٹ بولتے ہیں اس وقت ہمارے نیورانز مطلب ذہنی مشینری قدرتی طریقہ کار سے ہٹ کر غلط رستے پر سوار ھو جاتی ھے جبکہ انسانی ذہن اور جسم قدرتی خودکار بنیادوں پہ چلنے والی مشین ھے

    قدرت نے دماغی سسٹم کی سیٹنگ اپنے معیار پہ رکھی ھے لیکن جب انسان اس معیاری سسٹم کو اپنے بے حودہ معیار پہ سیٹ کرتا ھے اس وقت نیورانز کی آمد و رفت میں اچانک ایکسیڈنٹ ھونا شروع ھو جاتے ہیں آگے آپ خود سمجھدار ہیں سسٹم کے اشاروں پہ چلنے والی ٹریفک پرسکون چلتی رھتی ھے جبکہ اپنی مرضی سے چلنے والی اشارہ توڑنے والی بے ہنگم گاڑیوں کی ٹکر کس انداز میں ھو سکتی ھے جسم کا کتنا نقصان ھو سکتا ھے اسکا اندازہ اپ لگا سکتے ہیں یقینا آپ جان چکے کہ گھر بیٹھے روحانی ، جسمانی اور ذہنی صحت کا اتنا بڑا نقصان کوئی جاہل گوار ہی کرے گا لیکن یقینا آپکی ذات اور جہالت میں زمین آسمان کا فاصلہ موجود ھے یہ میں جانتی ھوں جھوٹ چھوٹی موٹی بیماری نہیں ھے جھوٹ وہاں ملتا ھے جہاں انسان اندر سے کمزور ھو اپنے خیالات ، احساسات ، جزبات اپنی خوشیوں اپنے دکھوں کو بیان کرنے کی ہمت نہ رکھتا ھو ڈرا ھوا ھو جھوٹا انسان جھوٹ کی مدد سے رشتہ تو بنا لیتا ھے مگر اسے نبھانے کی اہلیت نہیں رکھتا کیونکہ جھوٹ اپنے ساتھ 10 اخلاقی بیماریاں بھی اسی سوچ میں پیدا کر دیتا ھے جو کسی رشتے کو مسمار کرنے کیلئے کافی ھوتی ہیں

    چنانچہ قرآن کریم میں ایک جگہ ہےکہ”تم بت پرستی کی گندگی اورجھوٹی بات کہنے سے بچو”(حج)اور رسول اکرم ﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ’تین چیزیں منافق کی نشانیوں میں سے ہے، جب بات کرے توجھوٹ بولے،کسی سے کوئی وعدہ کرے تو اسکی خلاف ورزی کرے،اورامانت میں خیانت کرے'(بخاری)اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ اگرچہ وہ روزہ رکھے،نماز پڑھے اور لوگ اسکو مسلمان سمجھیں مگر پھر بھی وہ منافق ہے،غور کرنے کی بات ہے کہ جھوٹے لوگوں کے لئے کتنی سخت وعیدیں آئی ہوئی ہیں،کیا ہمارا کوئی بھی کام آج جھوٹ سے خالی ہوتا ہے؟ہرگھنٹہ اور ہر منٹ بلکہ ہرہر سکنڈ پر آج لوگ جھوٹ بول رہے ہیں،پھر کیا اس جھوٹ میں ہم شامل نہیں؟کیا ہمیں اسکا محاسبہ نہیں کرناچاہئے؟ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’اگر کوئی مذاق کے طور پر بھی جھوٹ بولے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے”ایک اور حدیث میں ہے کہ’ایسے جھوٹ بولنے والوں کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کو ہنسانےکے لئے جھوٹ بولتا ہے،اسکے لئے ہلاکت ہے اسکے لئے تباہی ہے'(ترمذی)ان احادیث کی روشنی میں ہمیں غور کرنا چاہئے کہ کیا ہماری مجلسیں، محفلیں،ہوٹلیں، بازار،دکان اور ہمارے گھر وغیرہ اس سے محفوظ ہیں؟نہیں تو آخر اسکی وجہ کیا ہے؟جھوٹ بولنا بہت بڑاگناہ ہے مگر دو متحارب فریقوں یا دو لوگوں کےدرمیان مصالحت کرا دینا اور اسکے لئے محض صلح جوئی، فتنہ و فساد کے خاتمے کی نیت سے کچھ جھوٹی باتیں کہہ دینا جائز ہے اور اسکی اجازت دی گئی ہے،ایسا شخص جھوٹا اور گناہ گار نہیں کہلائے گا،مگر یہ ضروری ہے کہ وہ باتیں خیرو بھلائی کی ہی ہوں،جو ایک دوسرے کی طرف منسوب کرکے پہنچائی جائیں،ان میں فسق وشرک نہ ہو،بخاری کی حدیث میں ہے”وہ آدمی جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے پھر خیر کی باتیں پہنچاتا ہے یا اچھی باتیں کہتا ہے”اور مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ صرف تین مواقع ایسے ہیں جہاں جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئ ہے،ایک شوہر بیوی میں اختلاف کو دورکرنے کے لئے،دوسرے مسلمانوں میں باہمی تعلقات کی اصلاح کے لئے اور تیسرا میدان جنگ میں،

    علماء نے لکھا ہے کہ ان کے علاوہ اور کسی جگہ یاکسی مو قع پر کذب بیانی اورجھوٹ بولنا ہرگز درست نہیں،لیکن ہاں مجبوری کی حالت اس سے مستثنی ہے،اگر انسان کو مجبور کردیا جائے اور اسے اپنی جان کا خدشہ لاحق ہو تو ایسی صورت میں جھوٹ بولکر جان بچانے کی رخصت دی گئی ہے،اس صورت میں وہ گنہگار نہیں ہوگا،جھوٹ ایسی منحوس چیز ہے کہ اسکے بولنے والے کے پاس سے فرشتے بھی دور ہٹ جاتےہیں،ایک حدیث میں ہے کہ”جب بندہ جھوٹ بولتاہے تو فرشتے اسکی بدبو کی وجہ سے ایک میل دور چلے جاتےہیں”(ترمذی)ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ سے پوچھا گیا،کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں،پھرسوال کیا گیا کیا مومن بخیل ہوسکتا ہے؟فرمایا ہاں،پھر پوچھا گیا کیامومن جھوٹا ہوسکتا ہے؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں،دیکھا آپ نے اس حدیث میں مسلمان بزدل بھی ہوسکتا ہے،بخیل بھی ہوسکتا ہے لیکن جھوٹا نہیں ہوسکتا،ہمارا حال یہ ہے کہ کوئی بھی کام ہمارے پاس جھوٹ کے بغیر نہیں ہوتا،پھر ہمارے حالات کیسے درست ہوں؟ایک دوسری حدیث میں آپ نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ’تم جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لےجاتا ہے اورگناہ جہنم کی طرف لےجاتا ہے،آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اورجھوٹ کے پھیرنے میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالی کے نزدیک کذاب لکھ دیاجاتا ہے،دراصل جھوٹ ایسی بری صفت ہے جو کسی مسلمان کے شایان شان نہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جھوٹ بولنے سے احتیاط کریں اورہمیشہ سچ بات کہنے کی عادت ڈالیں،اپنے بچوں کے دلوں میں جھوٹ سے نفرت پیدا کریں،سچائی کی اہمیت اورمحبت اپنے بچوں کے دلوں میں ڈالیں اور یہ بتائیں کہ سچائی ہمیشہ نجات دلاتی ہے اور جھوٹ انسان کو ہلاک وبرباد کر دیتا ہے،بلکہ ایک حدیث میں ہےکہ آپ ﷺ نے فرمایا’جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دے،اگرچہ وہ باطل ہے تواللہ تعالی اسکے لئے جنت کے صحن میں گھر تعمیر فرمائیں گے'(ترمذی)لہذاٰ کوشش کریں کہ ہم ہرجگہ سچی بات کریں اورسچ کواپنی زندگی میں داخل کریں،تب ہی ایک صالح اورپاکیزہ معاشرہ وجود میں آسکتا ہے جو وقت کی بھی اہم ضرورت اور انسانی تقاضا بھی ہے اللہ تعالیٰ ہم سبکو جھوٹ سے بچائے اورہمیشہ سچ بولنے، سچی بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بھائیو اور بہنو یاد رکھنا ایک سچ سو سکھ لاتا ھے جبکہ ایک جھوٹ آپکی ذات میں ہزار کھوٹ پیدا کرتا چلا جاتا ھے کیا فائدہ جھوٹ کا ، ، ، اور ، ، ، جھوٹے کے ساتھ کا ۔۔۔

    تحریر یاسمین ارشد
    twitter.com/IamYasminArshad
    @IamYasminArshad

  • سیاست اوراسلام . تحریر: ملک منیب محمود

    سیاست اوراسلام . تحریر: ملک منیب محمود

    اسلام میں سیاست اُس فعل کو کہتے ہیں جس کے انجام دینے سے لوگوں میں بھلائی ہو اورفسادات دُورہوجائیں. جبکہ اہل مغرب حکومت کرنے کو سیاست کہتے ہیں ۔اہل مغرب کی نظر میں حکومت کرنے کے 2 ہی اصول ہیں، ڈکٹیٹر شپ اورجمہوریت.

    کچھ اسلامی ممالک میں بادشاہی نظام بھی متعارف ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اسلام اورسیاست کا تعلق کیا ہے؟
    کیا اسلام نے کوئی سیاست کے اصول بتائے ہیں کیا، احدیث اس بارے میں کیا کہتی ہے اورقرآن میں سیاست کے بارے میں کیا کیا حکم ہے؟
    قرآن کریم میں لفظ سیاست تو نہیں البتہ ایسی بہت سی آیتیں موجود ہیں جو سیاست کے مفہوم کو واضح کرتی ہیں، بلکہ قرآن کا بیشتر حصّہ سیاست پرمشتمل ہے، مثلاً عدل و انصاف، امربالمعروف و نہی عن المنکر، مظلوموں سے اظہارِہمدردی وحمایت، ظالم اورظلم سے نفرت اور اس کے علاوہ انبیا ٴاوراولیأ کرام کا اندازِسیاست بھی قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔

    وقال لہم نبیّہم انّ اللّٰہ قد بعث لکم طالوت ملکاً، قالوا انّی یکون لہ الملک علینا و نحن احق بالملک منہ ولم یوت سعة من المال قال انّ اللّٰہ اصطفہ علیکم وزادہ بسطة فی العلم والجسم واللّٰہ یوتی ملکہ من یشآء واللّٰہ واسع علیم “ (سورہٴ بقرہ، آیت 247 )

    ترجمہ : ”ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو حاکم مقررکیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ کس طرح حکومت کریں گے۔ ان کے پاس تو مال کی فراوانی نہیں ہے۔ ان سے زیادہ تو ہم ہی حقدارحکومت ہیں۔ نبی نے جواب دیا کہ انہیں اللہ نے تمہارے لیے منتخب کیا ہے اور علم و جسم میں وسعت عطا فرمائی ہے اوراللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتا ہے کہ وہ صاحب وسعت بھی ہے اورصاحب علم بھی “

    اس آیت سے ان لوگوں کے سیاسی فلسفہ کی نفی ہوتی ہے جو سیاست مدارکے لیے مال کی فراوانی وغیرہ کو معیارقراردیتے ہیں، سیاستمدار کے لیے ذاتی طور پر” غنی “ ہونا کا فی نہیں ہے بلکہ اسے عالم وشجاع ہونا چاہیے۔ اِس آیت کو ہم ایک اورزاویہ سے دیکھے تو جوآج سے 1000 سال پہلے کلیسائی نظام تھا اُسکے مطابق ریاست کا سربراہ حُکم الٰہی کی طرف سے ہوتا ہے مطلب یہ کہ اُنکے مطابق ریاست کا سربراہا اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے ۔

    اب حدیث کا بھی مطالعہ کرتے ہیں کہ حدیث کیا کہتی ہے اِس بارے میں
    حدیث میں سیاست کے معنی : عدل و انصاف اور تعلیم و تربیت کے ہیں۔
    جبکہ علمأ کی نظرمیں : رسول اللہ ﷺ اورخلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت و روش، استعمار سے جنگ، مفاصد سے روکنا، نصیحت کرنا سیاست ہے۔

    قرآن میں سیاست کے معنی : حاکم کا لوگوں کے درمیان میں حق کے ساتھ فیصلہ کرنا، معاشرے کو ظلم و ستم سے نجات دینا، امربالمعروف و نہی عن المنکرکرنا اوررشوت وغیرہ کو ممنوع قراردینا ہے. آج سے 14 سو سال پہلے اگر ہم حکومت کرنے کے اصول دیکھے جوھمارے نبی صلی علیہ وآلہ وسلّم نے اپنائے، جہاں امیرغریب، طاقتوراورکمزورسب برابرتھے. انصاف کا حصول اتنا ہی آسان تھا جتنا آج کے دور میں عدلیہ کا پیسوں کی خاطربک جانا ہے۔

    حضرت عمر فاروق کا زمانہ آج بھی مثل راہ ہے، وہ ایسا دور تھا جب ایک انسان کا بھوکا سوجانا بھی حکمران کو ہلا کر رکھ دیتا تھا۔ سب کوبنیادی حق حاصل تھا تمام مذاھب کے لوگ اُس ایک پرچم کے نیچے آباد تھے۔ آج کی سیاست سے موازنہ کیا جائے تومکمل طورپرتبدیل ہوچکا ہے۔ آج کے زمانہ انصاف كا حصول مشکل ترین فعل ہے۔ لوگ اپنے بنیادی حقوقِ ملنے سے قاصر ہیں۔ امیرغریب کا فرق ہرجگہ کیا جاتا ہے۔ آج بھی ہم اگر اُن بنیادی اصول پرعمل کرنے لگ جائے تو اسلامی ریاست ممکن ہے اوراُس لحاظ سے اسلام اورسیاست کا تعلق بہت گہرا ہے۔

    @MMUNEEBPTI