Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تحریر: محمد مدنی پاکستان میں بچوں عورتوں کے ساتھ زیادتی جیسے واقعات میں تیزی

    تحریر: محمد مدنی پاکستان میں بچوں عورتوں کے ساتھ زیادتی جیسے واقعات میں تیزی

    پاکستان میں جب سے سوشل میڈیا زیادہ آیا ہے ہر دوسرے دن کہیں نا کہیں ریپ جنسی تشدد کے واقعات سننے کو ملتے ہیں اور یہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں سوشل میڈیا سے پہلے بھی یہ کام ہوتا تھا اب بھی ہو رہا ہوگا مگر فرق یہ ہے کہ جلد ہی سوشل میڈیا پر خبر آجاتی ہے آج بھی دیہات گاؤں جیسی جگہوں پر یہ واقعات ہوتے ہیں اس کا علم نہیں ہوتا وہ اس لئے کہ وہاں ہر کسی کے پاس موبائل انٹرنیٹ نہیں اور سادہ آدمی اسے استعمال بھی نہیں کر سکتا
    پاکستان میں اس وحشیانہ اور گھناؤنے جرم میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اس میں ملوث بڑے بڑے لوگ جن کا بزنس بھی ہوتا ہے شامل ہوتے ہیں اور انھی کی سرپرستی میں یہ سب دھندے ہوتے ہیں کسی کی اتنی ہمت کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ اتنے کانفیڈینس کے ساتھ کام کرے اس میں ضرور کہیں نا کہیں پولیس بھی شامل ہوتی ہے بہت سننے میں آتا ہے ہمارے مذہب میں کیوں کہا گیا ہے کہ نکاح کو آسان اور جلدی اپناؤ تاکہ بے راہ روی نا پھیلے

    اب ایک اور چیز نکل آئی ہے اور وہ ہے ڈارک ڈیپ ویب یہ سلسلہ ڈیجیٹل اور کمپیوٹر کی دنیا کا ہے جہاں پر ہر غلط کام ہوتا ہے جنسی تشدد کے دوران ویڈیوز بھی بنائی جاتی ہیں اور پھر کسی پر جنسی تشدد یا ریپ کر کے اس کو مزید بلیک میل بھی کیا جاتا ہے یہ کہہ کر کہ اگر تم نے فلاں کو بتایا تو میں ویڈیو وائرل کر دوں گا ڈارک ڈیپ ویب ایک ایسی جگہ ہے جہاں تشدد یا ریپ کے دوران بنائی جانے والی ویڈیو کو وہاں اپلوڈ کر دیا جاتا ہے اور کرپٹو ڈیجیٹل کرنسی میں بزنس بھی کیا جاتا ہے جب پاکستان میں ڈارک ڈیپ ویب کا نام آیا تو بہت سے میڈیا چینلز نے اس کے متعلق بتایا ان ویڈیوز کو وہاں باقاعدہ بیچا جاتا ہے اور ڈالر حاصل کیے جاتے ہیں مطلب باقاعدہ ایک بزنس پاکستان میں ایسے تشدد بڑھنے کی وجہ یہ ویب سائٹ بھی ہے کئیوں کے تو اس آمدنی سے گھر کے خرچے بھی چلتے ہیں ابھی کچھ دنوں پہلے اسلام آباد میں عثمان مرزا نامی شخص نے وحشیانہ درندگی کی اس واقعے سے سب ہی واقف ہو چکے ہوں گے
    زینب بیٹی کا جب واقعہ ہؤا تو میڈیا پر ڈارک ڈیپ ویب سے متعلق انکشافات ہوئے اس وقت زیادہ تر لوگوں نے اس سے انکار کیا لیکن یہ حقیقت نہیں اس دھندے کو ٹریس کرنا ہمارے ہاں زرا مشکل کام ہے لیکن باہر کے ممالک سے تلاش کرنا اور یہ کام کرنے والے کو پکڑنا آسان ہے
    ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ سسٹم کا خراب ہونا بھی ہے رشوت ہمارے ہاں عام ہے اور جب انصاف کے کٹہرے میں ملزم جاتا ہے تو اس کے ہاتھ اتنے لمبے اور تعلقات ہوتے ہیں کہ وہ ثبوت بھی مٹوادیتا ہے اور پھر عدالت کے سامنے مجرم نہیں گردانہ جاتا

    اپنی اولاد کو ایک خاص وقت میں اپنی حفاظت کے لیے تدابیر اور معلومات ضرور دیں
    جب تک پاکستان میں ریپ جنسی تشدد کےخلاف سخت سزا اور اس پر عمل نہیں ہوگا اس وقت تک یہ جرم بڑھتا رہے گا اور نہیں رکے گا
    ایک بار سیریا میں ایک ریپ کا کیس ہؤا وہاں اس وقت جنگ کی حالت تھی جس نے ریپ کیا اس کامیڈیکل ہؤا میچ کیا گیا اور پندرہ منٹ کے اندر اندر اس شخص کو سرے عام پھانسی دے دی گئی وہ دن اور آج کا دن اس کے بعد ایسے واقعات نہیں سننے میں آئے جبکہ ہمارے ہاں جب بھی ایسا کچھ سوچا جاتا ہے تو فوراً انسانی حقوق کی تنظیمیں جاگ اٹھتی ہیں اور پریشانیاں لاحق ہونے لگتی ہیں جبکہ انھیں کشمیر اور فلسطین نظر نہیں آتا

    پھر کہتا ہوں جب تک سخت سے سخت سزا نا ہوگی کچھ نہیں ہوگا

    کئی افراد لوگ اپنی شرمندگی کی وجہ سے پولیس کو نہیں بتاتے یا پھر وہ بااثر شخصیات کی دھمکی کی وجہ سے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں خاموشی اختیار کرنا ریپ یا جنسی تشدد کرنے والے سے کہیں زیادہ جرم ہے

    ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کا سوچنا ہے آئیے اس گند کے خلاف متحد ہوں

    @M1Pak

  • تحریر: سید غازی علی زیدی پاکستانی معاشرہ، منتشر یا مستحکم

    تحریر: سید غازی علی زیدی پاکستانی معاشرہ، منتشر یا مستحکم

    ذہنی، فکری اور نظریاتی لحاظ سے زبوں حالی کا شکار، ادراک واحساسات سے عاری، مادیت پرستی و جاہ و نصب کی چاہ میں تمام اقدار وروایات کو ٹھکراتا، پاکستانی معاشرہ۔۔۔حصول زر کیلئے ہر جائز و ناجائز کا سہارا لیتے والدین اور اس حرام کمائی کو عیاشی میں اڑاتی نوجوان نسل، تعلیم کو کمائی کا ذریعہ بناتے اساتذہ اور تربیت سے ناآشنا طلباء، غرض آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔
    تعلیم و تربیت اور اخلاقی اقدار پاکستانی معاشرے میں ایک قصہ پارینہ بنتے جارہے۔ تمیزوتہذیب کی مذہبی و مشرقی روایات جن پر کبھی فخر کیا جاتا تھا آج ان کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ معاشرہ بری طرح سے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ بےشعور لوگ تماش بین جبکہ باشعور لوگ بےبسی کی تصویر بنے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ بہتان طرازی کو ہتھیار سمجھتے سیاستدان، اخلاقیات سے عاری میڈیا اور گالم گلوچ کو فیشن سمجھتی نوجوان نسل، غرض ایک طوفان بدتمیزی ہے جس نے پورے معاشرے کو یرغمال بنایا ہوا۔ کیا بچے، کیا بوڑھے کیا خواتین، ہر ایک نے تمیز کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ تنقید برائے تنقید ہم لوگوں کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ حسد، غیبت، جھوٹ، چغلی غرض ہر وہ اخلاقی برائی جس پر قرآن وسنت میں سخت سزا کی وعید ہے وہ آج ہمارے سماج میں معمولی بات سمجھی جاتی۔
    پاکستانی عوام ہر بات میں مغرب کی مثال دیتے نہیں تھکتے لیکن جب بات اصولوں کی آئے تو ہم سے بڑا بےاصول کوئی نہیں۔ ایک طوفان بدتمیزی ہے جس کی ہر شعبہ زندگی پر یلغار ہے۔ سوشل میڈیا کے نام نہاد جنگجو اپنا مقصد پورا کرنے کیلئےہر حد پار کرتے نظر آتے۔ سمارٹ فون کی آڑ میں نہ کسی کی عزت محفوظ ہے نہ جان۔ بلاشبہ سوشل میڈیا کے مثبت کردار سے کسی کو انکار نہیں جس کی وجہ سے بڑے بڑے مجرم نہ صرف بینقاب ہوئے بلکہ ان کو سزائیں بھی ہوئیں۔ لیکن وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارا معاشرتی نظام دن بدن زبوں حالی کا شکار ہو رہا اور آنے والے کل کی بنیاد دروغ گوئی، فحاشی اور دشنام طرازی پر رکھی جارہی ہے۔ بلا تحقیق کے کی گئی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ اچھی بھلی زندگیوں کو جہنم بنانے کیلئے کافی ہے۔ بلیک میلنگ کا گھناؤنا کھیل اپنے عروج پر ہے۔
    بقول شاعر!
    انسان کی بلندی و پستی کو دیکھ کر
    انساں کہاں کھڑا ہے ہمیں سوچنا پڑا
    مجموعی طور پر یہ حالات اچھے خاصے انسان کو نفسیاتی مریض بنانے کیلئے کافی ہیں۔ سونے پر سہاگا! مایوسی اور ناامیدی زہر قاتل کی طرح معاشرے کی رگوں میں سرائیت کر چکی ہے۔
    کوئی بھی ذی شعور انسان سوشل میڈیا کا تجزیہ کر کے بآسانی یہ نتیجہ اخذ کر سکتا کہ انتہا پسندی کا شکار، فہم و فراست سے عاری معاشرہ انتشار اور بگاڑ کی راہ پر گامزن ہے۔ تعلیم و آگاہی سے نابلد نوجوان نسل کو انٹرنیٹ کا بے دریغ استعمال جسمانی و ذہنی طور پر تباہ کررہا۔ عامیانہ اور محدود سوچ کے حامل افراد اپنا جاہلانہ نقظہ نظر ہر کس و ناکس پر تھوپتے نظر آتے۔ اخلاقیات اور علم و دانش کا جنازہ نکل چکا ہے جبکہ والدین، اساتذہ و اربابِ اختیار بے بسی سے تماشا دیکھ رہے ہیں۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات میں سے باشعور لوگ آگے آئیں اور منظم ہو کر اخلاقی پستی، مذہبی عدم برداشت، بےراہ روی جھوٹ اور فریب کی دلدل میں جکڑے زوال پذیر معاشرے کو باہر نکالنے کا عزم کریں۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ "اللّٰہ تعالیٰ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی اور بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو”(سورہٗ النحل۔90 )
    یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ جب کوئی معاشرہ بداعمالیوں میں حد سے تجاوز کر جاتا ہےتو خداایک حد تک اُسے مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کر لے۔ لیکن اگر برائی کی روش برقرار رہے تو قانون قدرت حرکت میں آتا دنیا ہی میں ذلت اور پستی مقدر بن جاتی۔ہم مسلمانوں کیلئے دین اسلام ہی واحد نصب العین اور حضور اکرم ﷺ کی اسوہ حسنہ بہترین نمونہ ہے۔ اور اسی پر عمل کرکے ہم ایک مستحکم معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے اور دنیا و آخرت میں سرخروئی حاصل کر سکتے۔

    : @once_says

  • تحریر: مجاہد حسین ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

    تحریر: مجاہد حسین ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

    ہمارے معاشرے میں ہمیں طرح طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہزاروں قسم کی فطرتیں دیکھنے میں آتی ہے۔ بہت سے لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا یے۔ کبھی کبھی کوئی غیر ہمارے دلوں پر ایسا اثر اور نشان چھوڑ جاتا ہے جو کسی اپنے سے امید بھی نہیں کی جا سکتی۔
    کچھ ایسا ہی واقعہ آج ہمارے ساتھ پیش آیا۔
    آج سعودی عرب میں یوم العرفہ تھا۔ آج کو دن یہاں کے مقامی لوگوں کی اکثریت روزہ رکھتی ہے۔ یہاں بھی ہر طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ آپ نے اکثر سعودی پلٹ پاکستانیوں کے منہ سے کفیلوں کی برائیاں سن رکھی ہونگی۔ اور یقیناً ان میں سے اکثریت کے بارے میں ہماری رائے بھی ایسی ہی ہے۔ لیکن آج ہوئے واقعے نے ہمیں یہ سکھا دیا کہ "ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں”
    اللہ نے نفلی روزہ رکھنے کی توفیق دی، سارا دن گھر والوں سے باتوں میں، نماز اور ذکر اور سو کے گزر گیا۔ شام ہوئی تو دوست نے کہا کہ آج ریسٹورنٹ سے کھانا کھا کے آتے ہیں۔ رہائش کے پاس ہی ایک ترک ریسٹورنٹ ہے۔ اکثر جانا ہوتا ہے وہاں پر۔ افطار کمرے میں کر کے جب ہم ریسٹورنٹ پہنچے تو وہاں پہلے سے ایک باریش سعودی کھانا نوش فرما رہا تھا۔ میں نے رسماً انہں سلام کہا، انہوں نے میری طرف دیکھا مسکرا کر وعلیکم السلام کہا، میں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی عربی میں انہیں عید کی ایڈوانس مبارک بھی دے ڈالی، یہ سب دیکھ کر وہ مسکرائے اور کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے۔
    اتنی دیر میں ہمارا آرڈر بھی آ گیا اور ہم نے بھی کھانا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد ویٹر پیپسی لے کے ہمارے پاس آیا اور بولا، "یہ ان صاحب نے آپ کو دینے کے لئے کہا ہے” ہم نے قبول کی اور ان کا شکریہ ادا کر کے کھانا کھانے لگ گئے۔ انہوں نے اپنا کھانا ختم کیا اور کاؤنٹر پہ حساب کتاب کر کے پیسے دے دئیے۔ جاتے وقت مسکراتے ہوئے ہمیں "عید مبارک” بھی کہہ گئے۔
    ہم نے کھانے سے فارغ ہو کے، ہاتھ دھو کے جب بل دینا چاہا تو معلوم ہوا کہ اللہ کا وہ نیک بندہ ہمارے پیسے بھی دے گیا ہے۔ ہم حیرت بھری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ ایسا کیوں کیا؟
    آخر ایسا کیا تھا جس نے اس شخص کو متاثر کیا؟
    ہوٹل میں اور بھی لوگ تو موجود تھے (کئی تو سعودی بھی تھے) تو ہمارا بل ہی کیوں؟
    کیا ریسٹورنٹ میں آتے ہی ہمارا اسے سلام کرنا، اس سے حال پوچھنا، عید کی مبارک دینا اسے پسند آیا؟
    اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن ایک بات تو ہے۔ اخلاق آپ کے بڑے سے بڑے دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے۔ آپ کے قتل کے درپے لوگ آپ کے خادم بھی بن جایا کرتے ہیں یہ چیزیں ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت سے ملتی ہیں۔
    خیر، وجہ چاہے کچھ بھی ہو، جب آپ کسی سے اخلاق سے پیش آتے ہیں تو آپ کا ایک مثبت اثر اس کے دل میں اتر جاتا ہے۔ حضرت ابودردہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : "میزان میں حسن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں” ایک اور مقام پہ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بیشک مومن اپنے حسن اخلاق کی بدولت روزے رکھنے اور قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے” اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں حسن اخلاق سے نوازے۔ آمین
    @Being_Faani

  • تحریر: وسیم اکرم عنوان: کشمیر کی داستان

    تحریر: وسیم اکرم عنوان: کشمیر کی داستان

    کشمیر ایک جنت کی وادی ہے جہاں لوگ دور مقامات سے سیر کرنے کیلئے آتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑھ رہا ہے اس جنت نظیر وادی کو نظر لگ گئی ہے وہاں کے مسلمانوں پر ظلم اور بربریت کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں

    مگر افسوس صد افسوس! مسلم امہ انکھوں پہ پٹی باندہ کہ سوئ ہوئی ہے کسی کو کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم نظر نہیں آ رہے کیا ان کا قصور ہے کہ وہ مسلمان ہیں یا اپنا حق مانگتے ہیں؟

    ہم سب کو چاہیے کشمیر یا جہاں بھی مسلمانوں پہ ظلم ہو رہا ہے اس کو اجاگر کریں اور لوگوں کو دیکھیں کہ دیکھیں کتنے معصوم بچے یتیم ہوگے کتنی بہنیں، بیٹیاں یتیم ، لاوارث ہوگئیں

    یاد رکھو بے ضمیر مسلمانوں اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے ۔ ظلم جب حد اے بڑھ جاتا ہے مٹ جاتا ہے میں سلام پیش کرتا ہوں عمران خان صاحب کا اور ان انصافین کا جنہوں نے اپنے اکاؤنٹ کی پرواہ کئے بغیر ظلم کو لوگوں تک پہنچایا اور دیکھایا کہ دیکھو اے بے حس لوگ 73 سال سے وہ اپنا حق مانگ رہے ہیں مگر آج تک ان کو ان کا حق نہیں دیا گیا اب تو نسل کشی شروع کر دی ہے

    میں پوچھتا ہوں ان لوگوں سے جو دوسرے ممالک میں رہتے ہیں کیا اپ کو اپکا حق نہیں دیا گیا کیا اپ پرجہاں رہتے ہیں ظلم کے پہاڑ تو نہیں توڑے گے پھر ایسا دوہرا معیار انڈیا میں کیوں؟

    زرا سوچیئے سب ممالک اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں دکھ تکلیف اسی کو ہوتی ہیں جس کو درد ہوتا ہے دکھ درد اسی کو ہوتا ہے جس کے گھر کوئی چلا گیا ہو یا معزور کر دیا جاتا ہے

    میرا کشمیر جہاں انسان کی حیثیت جانوروں سے بھی بدتر بنا دی گئی ہے۔ کل کا واقع ہے جہاں ایک بزرگ کشمیری خاتون کوانڈین آرمی نے جس بیدردی، سفاکیت سے فوجی گاڑی تلے کچلا اور شہید کیا اسکے بیان کیلئے الفاظ نہیں ہیں۔

    کہاں ہے عالمی برادری؟ کہاں ہے اقوام متحدہ؟

    کشمیریوں کی یہ قربانیاں پاکستان اور آزادکشمیر کے عوام پر قرض ہیں۔ کیا پاکستان کے حکمران یا مقتدر قوتیں آخری کشمیری کے مرنے کا انتظار کر رہے ہیں؟

    @MalikGii06

  • تحریر مدثر حسن : محافظ پاکستان عمران خان

    تحریر مدثر حسن : محافظ پاکستان عمران خان

    ہم اس عظیم ماں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جس نے ایک ہیرا پیدا کیا کسی کو کیا پتہ تھا کہ یہ ہیرا وقت آنے پر اپنی کشش کا لوہا منوائے گا اور لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے گا اور لوگوں کو اپنی باتوں سے اپنے عمل سے کھینچتا چلا جائے گا عمران خان نے اپنے کیریئر کا آغاز کرکٹ سے کیا جہاں پر ان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بہت سے لوگوں نے مذاق اڑایا کسی نے کہا کہ تم کرکٹ نہیں کھیل سکتے کرکٹ تمہارے بس کی بات نہیں کسی نے کہا تم کیپٹن نہیں بن سکتے تو کسی نے کہا تم ایک اچھے آل راؤنڈر نہیں بن سکتے قدرت کی ایسی کرنی ہوئی جو جو لوگوں نے کہا اس کے بر عکس ہوا نہ صرف ایک بہترین آل راؤنڈر بلکہ ایک بہترین کپتان بھی ثابت ہوئے اپنی کپتانی میں پاکستان کو 1992 کا ورلڈ کپ جتوایا
    پھر شوکت خانم ہسپتال بنانے کی جستجو ہوئی دیکھا کہ ہمارا ملک میں کینسر کے مریضوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے اور زیادہ تر ان میں غریب ہیں جن کے پاس ایک ٹائم کھانے کے پیسے نہیں ہیں اوپر سے کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں تو اس پر عمران خان میں ایک انسانیت کی فلاح وبہبود کا جذبہ پیدا ہوا کہ ہمارے ملک میں ایک ایسا ہسپتال ہونا چاہیے کینسر کا جہاں پر غریب لوگوں کا مفت علاج ہو اس کے لیے دن رات محنت کی چندہ اکٹھا کیا اور پروردگار کی مدد سے ہسپتال بنا دیا جہاں پر آج بھی غریب لوگوں کا مفت علاج ہو رہا ہے

    دیکھا کہ پاکستان میں دو پارٹی سسٹم ہے دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو باریاں باریاں دے رہی ہیں اور ملک کو دونوں ہاتھوں سے بے دردی سے لوٹ رہی ہیں عمران خان کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی یہاں آپ کو بتاتا چلوں عمران خان ایک کرکٹ سٹار تھا اسے کیا ضرورت تھی شوکت خانم ہسپتال بنائے کرپٹ لوگوں سے چور لوگوں سے گلیاں کھائے اپنی آرائش وآرام والی زندگی چھوڑ کر یہاں کجھل ہو وہ کمنٹری کرکے لاکھوں روپے کماسکتا تھا اسے کیوں ضرورت پیش ہوئی سیاست میں آنے کی کیونکہ عمران خان کو وطن سے محبت اور غریب لوگوں کا احساس تھا ہمارے کرپٹ حکمران کرپشن کی انتہا کی ہوئی تھی ہر منصوبے میں لوٹ مار مچا کر پیسہ باہر بھیج رہے تھے اور لندن، دبئی میں بڑے بڑے فلیٹس بنارہے تھے
    عمران خان ریاست مدینہ کا خواب لے کر چلا چاہتا تھا کہ ہمارے ملک میں قانون کی بالادستی ہو کوئی قانون سے بالاتر نہ ہو ، انسانیت ہو میریٹ ہو بادشاہت نظام نہ ہو وراثتی سیاست نہ ہو جمہوریت کا نظام ہو سب قانون کے سامنے جوابدہ ہوں چاہے وہ وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو اس خواب کو پورا کرنے کے لیے 22 سالہ کوشش کی سیاست میں اپنا لوہا منوانے کی ان بائیس سال میں زندگی کے تمام نشیب و فراز کا سامنا کیا پاکستان کے چپہ چپہ پر جلسے،جلوس کیے پاکستان کا کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں پر خان صاحب نہ گئیں ہوں لوگوں کو آگاہی دی شعور دیا ذہنی غلامی سے نجات دلائی ملک کی سالمیت اور خودمختاری کا جھنڈا بلند کیا چاہتا تھا پاکستان کسی کے آگے جھکے نہ اور نہ بھیک مانگے خوددار قوم بنے کسی کے اشاروں پر نہ چلے جب عمران خان ملک کے وزیراعظم بنے مفاہمتی پالیسی اپنایا بولا جہاں پر ملک کا مفاد ہوگا ہم وہ کرے گئیں امریکہ کو دو ٹوک جواب دیا کہ پاکستان کی سر زمین اب کسی دوسرے کی جنگ میں استعمال نہیں ہوگی ملک کی خودمختاری کو یقینی بنایا اور ثابت کیا ہم ایک آزاد قوم ہیں کسی کے اشاروں پر چلنے والے نہیں ہیں عمران خان چاہتے ہیں پاکستان کے ہرے پاسپورٹ کی عزت ہو جہاں بھی جائیں دنیا عزت کی نگاہ سے دیکھے پاکستان کی معیشت کی ڈوبتی کشتی کو ایک کنارے لگایا دن رات محنت کرکے ملک کی معیشت کو ایک ٹریک پر لے آئے الحمدللہ پاکستان اب محفوظ ہاتھوں میں ہے قومی خزانے کی نگرانی کر رہا ہے ملک سے پیسہ اب باہر نہیں جارہا منی لانڈرنگ کے ذریعے سے ملک میں خوشحالی کا پہیہ چل پڑا ہے ملک ترقی کی درست سمت پر چل پڑا ہے ملک کا کھویا ہوا وقار اب بلند ہو رہا مدینہ کی ریاست کے اصول لاگو ہو رہےہیں عمران خان پاکستان کے لیے ایک معجزہ ثابت ہوا ہے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی عمران خان سے ہے کیونکہ خان صاحب نہ چور ہے نہ کرپٹ ہے مدینہ کی ریاست کا خواب لے کر چلا ہے اللہ تعالیٰ خان صاحب کی مدد فرمائے مدینہ کی ریاست بنانے میں آمین !!!!!!!

    @MudasirWrittes

  • تحریر : روشن دین دیامری :  موجودہ  دور میں ہم سیرتؐ سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں

    تحریر : روشن دین دیامری : موجودہ دور میں ہم سیرتؐ سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پوری انسانیت کے لئے بہت بڑی نعمت ہے۔ اپؐ کی تعلیمات ہمارے لے ثقافت یا مذہب سے قطع نظر اس دنیا کی ہر قوم کے لئے معاشرتی ترقی اور خوشحالی کے مثال کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اپؐ کی ولادت ہم سب کے لے باعث رحمت ہے ، یہ بہت اہم ہے کہ ہم اپؐ کے پیروکار ہونے کے ناطے ، ان کی پیش کردہ اسلامی تعلیمات کے تناظر میں اپنے موجودہ معاشرتی الجھنوں کا سنجیدگی سے تجزیہ کریں اور انسانیت کو ناانصافی اور جبر سے آزاد کرنے کے لئے اپؐ کے حکمت عملی پہ عمل کرے ۔ ہم اپؐ کے زندگی کے مختلف پہلوں کا تجزیہ کرکے جس میں اپؐ کی طرف سے اجتماعی بنیادوں پر شروع کی گئی جدوجہد کا طریقہ کار پہ عمل کر سکتے ہیں ، ہم استحصالی قوتوں کے ہاتھوں انسانیت کی مروجہ پریشانی اور بدحالی کو ختم کرنے کے لئے یقینی طور پر اپنے لائحہ عمل کو طے کرسکتے ہیں۔ حضور نبی اکرم (ص) کی زندگی سے متعلق پہلا اور اہم تصور یہ ہے کہ ان کی آمد کا واحد مقصد اس وقت کے ظالم نظام سرمایہ دارانہ طاقتوں کے ذریعہ مسلط انسانیت کو ظلم ، جبر اور استحصال سے آزاد کرنا تھا۔ بلا شبہ ، اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے اس مشن کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا اپنے دور کے استحصالی معاشی اور سیاسی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینک کر ، معاشی انصاف ، معاشرتی مساوات ، اجتماعیت ، امن ، اور انسانیت پسندی کے اصولوں پر مبنی معاشرتی نظام کی بنیاد رکھی۔ اپؐ کی زندگی کا ہر پہلو اسلامی اصولوں پر زور دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الوداعی خطبہ میں ، انہوں نے کہا ، "لوگو ، بیشک آپ کا رب اور پالنے والا ایک ہے اور آپ کا آباؤ اجداد ایک ہے۔ آپ سب حضرت آدم علیہ السلام کے اولاد ہو اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنے تھے۔ اللہ کے سامنے تم میں سب سے ممتاز وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ کسی
    عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں ہے اور نہ ہی کسی عربی پر کسی عجمی کو فضیلت حاصل ہے نہ ہی کسی گورے کو سیاہ پر اور نہ ہی کسی سیاہ کو کسی گورے پر ، سوائے اس کے کہ جس کا تقویٰ ذیادہ ہو۔ قبل از اسلام میں ، خواتین کو انتہائی شرم کی علامت سمجھی جاتی تھی اور ان کے معاشرے میں کوئی قابل احترام حیثیت حاصل نہی تھی۔ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرتی مساوات پر مبنی نظام کے نفاذ کے ذریعہ ان سے باوقار اور خود مختار زندگی جینے کا حق دیا۔ اپؐ کے متعدد تعلیمات خواتین کی عزت اور معاشرے میں ان کے کردار پر زور دیتی ہیں۔
    مثال کے طور پر ، اپنے الوداعی خطبے میں ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ، "اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ یہ یہ ان کا حق ہے ۔اور وہ بہت سارے معاملات خود سنبھالنے سے قاصر ہیں۔ لہذا اللہ سے ڈرو اور ان کے بارے میں شعور رکھو ،اور ان کے جائر مطالبات پورے کرو جسے میں نے اپ کو کر کے دیکھایا ہے۔ ، آپ کا باہمی رشتہ مقدس ہے۔ اجتماعی اور ایمانداری کی بنیاد پر آنحضرتؐ کی زندگی کے مذکورہ بالا اصولوں کا تجزیہ کرکے ، ہم اپنے موجودہ معاشرتی بحران پر قابو پانے کے لئے حکمت عملی مرتب کرسکتے ہیں۔ سنت نبوی (ص) کا دوسرا پہلو اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کی باضابطہ جدوجہد ، معاشرے کے غلط لوگو ں کی نشاندہی کرکے ایک اچھا معاشرہ بنایا جاائے ۔اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے حکمران طبقے کے استحصال ایجنڈوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک اجتماعی حکمت عملی تیار کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا گہرا تجزیہ یہ واضح کرتا ہے کہ ان کی پوری جدوجہد کا جو کہ دنیا بھر استحصال زدہ سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام کو ختم کرنا تھا۔ اس وقت ، مکہ مکرمہ کے خود غرض حکمران طبقے نے اپنی قوم کو دھوکہ دہی سے غلام بنانے کے لئے ایک بے رحمانہ سیاسی نظام بنایا تھا۔ اور وحشیانہ اور غیر انسانی سلطنتں جیسے روم اور فارس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بھی یہی معاملہ تھا۔ مکہ مکرمہ کے اس مستند حکمران فرقے نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انسانیت دوست مشن کی شدید مخالفت کی اور انہیں اور ان کے ساتھیوں کو سخت تکلیف پہنچائی۔ انہوں نے معاشرے کے کمزور اور لاچار لوگوں کو اپنی نمائندگی قبول کرنے اور اپنے مسلط کردہ آمرانہ نظام کی بالادستی کی مکمل پابندی کا مظاہرہ کرنے پر مجبور کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ حضور (ص) عرب ممالک پر ذاتی شان و شوکت کی خواہش رکھتے ہیں۔لیکن اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے مل کراس ظالمانہ نظام کو ختم کر دیا اور ایک عادلانہ معاشرہ قائم کیا۔ اللہ تعالی سے دے دعا ہے ہم اپؐ اور جماعت صحابہؓ کے طرز زندگی پہ عمل کر کے ایک انسانی معاشرہ ترتیب دیں۔امین

    @rohshan_Din

  • تحریر  شمیل:  سوشل میڈیا کا کردار

    تحریر شمیل: سوشل میڈیا کا کردار

    آج کل ہر طرف ایک نفسانفسی ہے ہر کوئی اپنے مہیا پلیٹ فارم سے آواز اٹھا چاہتا ہے اپنی آواز کو حکام بالا تک یا کم از کم اس بند کواڑ تک لے جانا چاہتا ہے جس سے یا جہاں سے اس کے مسئلے کا یا ان لوگوں کے مسائل کا مداوا ہو سکے جن کے لیے وہ آواز اٹھا رہا ہے.

    مختلف قسم کے لوگ ہر طبقے ہر میڈیم پہ آواز اٹھاتے ہیں
    کہیں کوئی سڑکوں پہ احتجاج کر رہا ہے
    کہیں کوئی تھانے کچہری کے سامنے
    کہیں کوئی ہسپتال کے سامنے عمل پیرا ہے

    غرض یہ کہ جس کی جہاں تک رسائی ہو پاتی ہے وہ وہاں تک جاتا ہے.
    ہمارے معاشرے اور ہماری زندگیوں میں بہت بڑا بدلاؤ جو چیز لے کر آئ وہ ہے سوشل میڈیا کا دور
    یوٹیوب
    فیس بک
    انسٹا گرام
    ٹویٹر
    وغیرہ وغیرہ.
    ان کا کردار بہت ہی مثبت ہے لیکن ایک بات واضع کر دوں کہ کردار مثبت تب ہی ممکن ہوتے ہیں جب آپ کا اپنا عمل مثبت ہو اور اس کے ثمرات اس سے بھی بڑھ کے نکلتے ہیں..
    بہت سے لوگوں کو انصاف کی فراہمی بروقت بھی میسر ہوئی اور بہت سے لوگوں کے سالوں لٹکے کام بھی پورے ہوے جب بہت سے لوگوں نے مل کر سوشل میڈیا پہ مثبت آواز کو مسئلے کو اجاھر کیا جن میں زینب قتل کیس ہو گیا جو سرفہرست ہے لوگوں کا سوشل میڈیا کے ذریعے آواز اٹھانا ہی اداروں کو حرکت میں لے کر آیا..
    قصہ مختصر یہ کہ جہاں منفی سوچ کو مار دینا ہو منفی نیت کو ختم کرنا ہو وہاں مثبت پہلو اور ارادہ لازم ہے.

    @Shameel512

  • تحریر :تہران الحسن خان : حب الوطن من الایمان

    تحریر :تہران الحسن خان : حب الوطن من الایمان

    ”یعنی وطن کی محبت ایمان کا جز ہے۔
    حب الوطنی یعنی وطن سے دلوں جان سے محبت کے ہیں۔ انسان کا یہ فطری عمل ہے کہ وہ جس جگہ رہتا ہے اس جگہ سے انسیت لگاؤ ہو ہی جاتا ہے۔ جس جگہ ساری زندگی رہا ہو آب وہوا، لوگ حتی کہ وہاں کی چیزوں سے محبت کرنا اس کے فطرت میں شامل ہوتا جاتا ہے. ہم جس جگہ پیدا ہوئے ہوں پھلے پھولے ہوں جوان ہوئے ہوں اس جگہ اس مقام کا عادی ہو جاتا ہے اور اس سے اتنی محبت ہو جاتی ہے دنیا میں کہیں بھی جائےگا اپنا وطن اس کی پہچان بنے گا.. اور ہم کتنا بھی دنیا میں گھوم آئیں جو اپنے وطن اپنی کی اپنی مٹی اپنے گھر کا سکون ہے وہ کہیں بھی نہیں ہے..
    انسان اپنے وطن سے دور ہوتا ہے تو تب ہی اس کو وطن سے محبت کا احساس شدت سے ہونے لگتا ہے
    وہ اپنے وطن کیی محبت میں ذاتی اغراض ومقاصد کو بے دریغ قربان کر دیتے ہیں

    وطن چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں
    خونِ دل دے کے نکھاریں گے رُخِ برگِ گلاب
    ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے.

    وطن سے محبت ہے تو اس کا ثبوت بھی دیں۔ ملک سے رشوت، سفارش، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی،جیسے نظام کو مل کر ختم کریں ۔ یہ کہنا مشکل نہیں کہ ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ یہ سمجھنا مشکل ہےاور بے شک عمل کرنا مشکل ہے. ۔ خود کو بدل لینا کافی نہیں۔ ہمیں یہ بیداری عام کرنی ہے ہم سب کو بدلنا ہو گا.

    پاکستان جس کو دنیا کے نقشے میں ابھرے صرف 74 برس ہی ہوئے ہیں اس کا مقابلہ ان ممالک سے کرنا کہاں کی سمجھ داری ہے. 237سال پہلے دریافت ہوا بھلاکیونکر درست ہو سکتا ہے۔ خدارا اپنی خودی کو پہچانیں ۔ بس ایک ہی التجا ہے موجودہ دور کی افراتفری کو خود پر حاوی مت کریں ۔

    پاکستان کلمہِٕ طیبہ”لا الہ اللہُ محمدُ الرسول اللّٰہ“ کی بنیاد پر وجود میں آیا، اس آزاد وطن کے حصول کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے مذہبی نظریات، عقاٸد، عبادات کا بھر پور تحفظ اور آزادی تھا۔ تاکہ آزاد وطن میں رہتے ہوٸے ہر مسلمان اپنے مذہب کا دفاع کرسکے.. امن، انصاف، احساس، ہمدردی، اور دوسروں پر احسان کرنے کو ترجیع دیں ، دوسروں کو ترقی کرتے دیکھ کر دلی مسرت محسوس کریں اللّہ ہم سب کو منافقت کینہ بغض جیسی گندی بیماریوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم صحیح معاشرہ تشکیل دے سکیں. اللّہ ہم سب کا حامی وناصر ہو. آمین ثم آمین


    Freelance Content Writer, Blogger, Social Media Activist
    To find more about him check 

     

  • تحریر : انوشہ امتیاز : صفائی نفس کی بھی اور ملک و قوم کی بھی ۔

    تحریر : انوشہ امتیاز : صفائی نفس کی بھی اور ملک و قوم کی بھی ۔

    آج ہمارا معاشرہ قربانی کے جذبے سے عاری اور نفسانفسی کا شکار ہوچکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذخیرہ اندوزی ، حب مال، اور حب جاہ کے ان جانوروں کی قربانی بھی دیں جو ہمارے اندر پلتے بڑھتے رہتے ہیں اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان آلائشوں سے تائب ہو جائیں۔جو معاشرے ایک دوسرے کے لئے قربانی دیتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد کا خیال رکھتے ہیں اورایک دوسرے سے نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں وہ معاشرے اس دنیا میں ہی جنتِ نظیرہو جاتے ہیں۔۔۔
    البتہ جن معاشروں کے انسانوں میں خواہشات سینوں میں حرص و ہوس کے بت تراش لیتی ہیں۔وہ جنت کا نہیں جنگل کا منظر پیش کرتے ہیں۔ عیدالاضحی کے موقع پر حکمرانوں اور سیاست دانوں سمیت ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ حرص و ہوس کے بتوں کی قربانی دے اور انہیں پاش پاش کر دے۔۔
    اس کے ساتھ ساتھ صفائی پر خصوصی توجہ دینا نہ صرف حکومت بلکہ عوام کا بھی فرض ہے۔۔۔

    اس حوالے سے اگرچہ سرکاری طور پر بھی بہت انتظامات کیے جاتے ہیں لیکن کروڑوں افراد کی آبادی کے لیے سرکاری انتظامات کافی نہیں ہوتے، اس لیے عوام کا سرکاری انتظامات کا ساتھ دینے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عید قربان کے بعد عام شہروں اور قصبوں میں عام دنوں کی نسبت صفائی ستھرائی کی ضرورت بہت بڑھ جاتی ہے۔

    اس عید قربان پرعہد کریں کہ اپنے گلی محلوں اور نفس کی صفائی بھی اسی طرح کریں گے جیسے اپنے گھر کو صاف رکھتے ہیں ۔۔
    اگر شہری اپنی گلی، محلے کو صاف رکھنے کی خود کوشش کریں تو شہر خود بخود صاف ہوجائیں گے۔
    اسی طرح ارد گرد کے غربا کا بھی خیال رکھیں ۔
    وطنِ عزیز میں ایک بڑی آبادی خطِ غربت کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ اہل ثروث کی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ارد گرد فاقہ مست لوگوں کو ضرور یاد رکھیں۔
    حضرات ایک سے زائد قربانیاں کر رہے تھے انہیں چاہئے کہ وہ باقی گوشت غریب علاقوں میں بھیجیں اور انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔
    صفائی ستھرائی صرف حکومت ہی کا کام نہیں ہے اپنے گرد و نواح کو گندگی سے پاک رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
    قربانی کرنے والوں کو چاہئے کہ جانوروں کی آلائشوں کو فوری طور پر ٹھکانے لگا کر ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔۔۔
    آج ہمارا معاشرہ قربانی کے جذبے سے عاری اور نفسانفسی کا شکار ہوچکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذخیرہ اندوزی ، حب مال، اور حب جاہ کے ان جانوروں کی قربانی بھی دیں جو ہمارے اندر پلتے بڑھتے رہتے ہیں اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان آلائشوں سے تائب ہو جائیں۔جو معاشرے ایک دوسرے کے لئے قربانی دیتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد کا خیال رکھتے ہیں۔۔
    البتہ جن معاشروں کے انسانوں میں خواہشات سینوں میں حرص و ہوس کے بت تراش لیتی ہیں۔وہ جنت کا نہیں جنگل کا منظر پیش کرتے ہیں۔ عیدالاضحی کے موقع پر حکمرانوں اور سیاست دانوں سمیت ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ حرص و ہوس کے بتوں کی قربانی دے اور انہیں پاش پاش کر دے۔۔
    @e_m_ee_

  • جب دوست بن جائے دشمن . تحریر : واحید خان

    جب دوست بن جائے دشمن . تحریر : واحید خان

    انسانی رشتوں کے ساتھ اگر جذبات کا گہرائی تک جانا محبت کہلاتا ہے تو نفرتوں کے ساتھ ا نتقام کے جذبات کا انتہاہ تک جانا دشمنی کے زمرے میں اتا ہے اور پھر دوستی کے گہرائی سے پیار اور اخلاص کے جذبات کا اہستہ اہستہ دشمنی کے سفر میں جو درد سینے میں محسوس ہوتا ہے وہ وحشت کا ایک بھیانک تصویر بن جاتا ہے۔جس تصویر میں اپ ساری عمر محبتوں اور چاہتوں کے رنگ بھرتے بھرتے خودایک لازوال کہانی کا تصور بن گئے ہو،اپکی دوستی اور قربانی کی مثالیں دی جاتی رہی ہواور پھر اُسی تصویر سے اپ ایک ایک کرکے محبتوں کے رنگ مٹانے پر مجبور ہو اور اندر سے ہر رنگ کے مٹانے کے ساتھ ساتھ اپکے حواص میں ایک درد سا محسوس ہو رہا ہو مگر پھر بھی دوستی سے دشمنی کا سفر جاری ہو تو اللہ نہ کرے کہ یہ درد اور یہ کرب کسی کو نصیب ہو،،

    انسان عمرکے اُس حصے میں پہنچ جائے جہاں سے دنیا کے ہر چیز کو سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے تو وہاں سے اپنے بچپن کے دوستوں کو بہت ہی مقدس مقام پر محسوس کیا جاتا ہے ایک ایک لمحہ نہ بھولا نے والا ہوتا ہے اور پھر بچپن سے جو اپکے ساتھ ایک ساتھ چلتا ایا ہو ،اپکے راز و نیاز کا ساتھی ہو،دکھ درد کا ساتھی ہو،محبتوں کے سیکھنے اور سیکھانے کے عمل سے ایک ساتھ ہو کر گزرے ہو محبت کے نشیب و فراز میں ایک دوسرے کے ساتھ جذبات کی حد وابستگی ہو اور پھر وقت اور حالات اپکو انا کے ہاتھی پر سوار کر کے اُسی دوست کے مقابل ایک ناقابل برداشت دشمن کے شکل میں لاکھڑا کردے تو یہ عمل بہت ہی کربناک ہوتا ہے۔دوستوں کے درمیان دشمنی کے سفر میں اگر پیسہ ،دولت اور لالچ کو دخل حاصل ہے تو ساتھ ساتھ اس میں طاقت اور اختیار کا بہت بڑا ہاتھ ہو تا ہے،،،بعض دوستوں کو طاقت اور اختیار کے بنے ہوئے سانپ ڈس جاتے ہیں ،دوستوں میں جب کوئی ایک دوست طاقت اور اختیار انے کے بعد گرگٹ کی طرح رنگ بدلے،منہ میں پیار کی جگہ حکم کی زبان بولنے لگے،انکھوں میں احترام کے بجائے تضحیک بھر جائے ،اخلاص کے بجائے رسمی ادائیں سمو جائے،حقیقت کے بجائے خوش امدیوں کے فرضی کہانیوں سے فیصلے کرکے اپنے دوست کے ہر حقیقی اور سچی بات کا الٹ مطلب لینا شروع کرے ،زمینی حقائق کے بجائے مولا دوپیازہ جیسے لوگوں کے نخروں والی وقتی اور غیر حقیقی کہانیوں کو اپنی مشعل راہ بنانیکی کوشش کرے تو پھر ایسے ماحول میں دوستی کا جنازہ اغیار اپنے کندھے پر اٹھا کر بے ضمیروں کے قبرستان میں بغیر کفن کے ہی دفن کرتے ہیں۔

    @waheed859