Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ریڑھ کی ہڈی میں موجود ڈسک سے جڑے مسائل .تحریر: حسن قدرت

    ریڑھ کی ہڈی میں موجود ڈسک سے جڑے مسائل .تحریر: حسن قدرت

    ڈسک کیا ہے اور کیسے بنتی ہے؟ ریڑھ کی ہڈی میں چھوٹے چھوٹے جوڑ موجود ہوتے ہیں جنہیں ہم ورٹیبری کہتے ہیں کچھ جوڑ آپس میں جڑے ہیں کچھ میں اور کچھ میں سپیس ہے جنکے درمیان ایک لچکیلا مادہ ہوتا ہے جسے ہم ڈسک کہتے ہیں ہماری ریڑھ کی ہڈی کے ٹوٹل33 جوڑ ہیں جن میں 23 انٹرورٹیبرل ڈسک موجود ہیں جتنا انسان صحت مند ہوگا اس میں ڈسک اتنی زیادہ ہوگی اور اسی تناسب سے اسکی لمبائی ہوگی

    ڈسک کے اجزاء: ڈسک میں بنیادی طور پر کولیجن ہوتا ہے اور پروٹیوگلائیکینز (جو پانی کو اپنی طرف اٹریکٹ کرتے ہیں) یہی وجہ ہے کہ ایک صحت مند ڈسک کے نیوکلیس میں 90 فیصد پانی موجود ہوتا ہے

    ڈسک کیسے کام کرتی ہے : ڈسک ہمارے جوڑوں کو رگڑ سے بچاتی ہے ڈسک پانی جذب کرتی ہے اور فاسد مادے خارج کرتی ہے یعنی یہ ایک پراسس ہے جس میں انجذاب اور اخراج ایک ساتھ ایک ہی وقت میں ہوتا ہے یعنی پانی کا انجذاب اور فاسد مادوں کا اخراج اور اگر ایسا نہیں ہوتا ، ڈسک کو صحیح مقدار میں پانی نہیں ملتا تو ڈسک الٹا کام کرنے لگتی ہے یعنی پانی کو خارج کر کے فاسد مادے اکھٹے کرنے لگتی ہے

    ڈسک کیسے متاثر ہوتی ہے:ہماری روزمرہ کی سرگرمیوں کے دوران ڈسک بہت زیادہ کمپرس ہو جاتی ہے جب اس پہ دباؤ پڑتا ہے تو یہ پانی خارج کرتی ہے اور پوٹاشیئم اور سوڈیم کو جذب کرتی ہے (فاسد مادے) جسکی وجہ سے بیلنس خراب ہوتا ہے اور پانی کی کمی کی وجہ سے یہ کم ہو جاتی ہے ( اگر وقت پہ اسکا تدارک نہ کیا جائے تو یہ سپائنل کروز کو متاثر کرتی ہے جس سے پوسچر خطرناک حد تک خراب ہوجاتا ہے )

    وجوہات: اسکی وجوہات عمر کا بڑھنا ،پراپر نیوٹریشن کا نہ ہونا ،ڈایابٹیز،سموکنگ،اوورلوڈنگ،کوئی ماضی کی ڈسک انجری یا ایسا کام جس سے ڈسک بہت زیادہ موبائل ہو یا وائبریٹ ہو ہوسکتی ہیں (اگر آپ کو ڈسک کا کوئی مسئلہ ہے تو کوشش کریں کہ ایسا کام نہ کریں جس سے ڈسک پہ زور آئے یا شاک لگے)

    صبح اٹھ کر ریڑھ کی ہڈی کے سارے جوڑوں میں درد کیوں محسوس ہوتا ہے؟ ایک نارمل بندہ جب صبح اٹھتا ہے تو سپائن کی جو ہائٹ ہے سارا دن وہی رہتی ہے مگر وہ بندہ جسکی ڈسک کا مسئلہ ہے اس میں سپائن کی ہائٹ سارا دن گزرنے کے بعد 2 سینٹی میٹر تک کم ہو جاتی ہے اور عموماً صبح اٹھنے کے 30 منٹ بعد ہی ریڑھ کی ہڈی میں سے 54 فیصد پانی خارج ہو جاتا ہے اسلیے بہت ممکن ہے کہ اسے اٹھتے ساتھ ہی ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف ہو جسکی وجہ یہ ہے اٹھتے ساتھ ہی پانی کا اخراج ڈسک سے شروع ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ڈسک انجری کے چانسز صبح کے وقت زیادہ ہوتے ہیں

    جب ہم رات کو ریلکس ہو کر سوتے ہیں ،ڈسک سے پریشر ختم ہوتا ہے وہ پانی کو جلدی سے جذب کرتی ہے اسلیے جب ہم رات کو نیند سے اٹھ کر پانی پیتے ہیں تو اس سے ڈسک کی لمبائی بڑھتی ہے (ڈسک ایک لچکیلا مادہ ہے جو جوڑوں کو آپس میں رگڑ سے بچاتا ہے )

    ڈسک کی صحت اور علاج:ڈسک کی صحت کے ضروری ہے کہ آپ اپنی خوراک کا خیال رکھیں پراپر جوسز لیں (کوشش کریں گھر پہ بنائیں)،فروٹس،کچی سبزیاں، دودھ کی مناسب مقدار اور ایسی غذائیں جن میں آئرن شامل ہو زیادہ پانی پئیں اسکا علاج مخصوص پوسچرل پوزیشنز سے کیا جاتا ہے جوگنگ سے بھی اور رننگ سے بھی اسکے ساتھ مخصوص ورزش بتائی جاتی ہے جس سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے کسی اچھے فزیو تھراپسٹ کو اپنی مکمل ہسڑی دیں اور پھر ان سے مشورہ کریں

    @HusnHere

  • ٹویٹر اکاؤنٹ کی ویرفکیشن مشکل مگر ناممکن نہیں : تحریر: محمد جاوید

    آج کل ٹویٹر پہ ایک دوڑ لگی ہوئی ہے جیس کو دیکھو اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ مجھ سمیت ہر بندہ ٹویٹر پہ اپنے اکاؤنٹ کی ویرفکیشن میں لگا ہوا ہے اور ہونا بھی چائے کیونکہ ویرفکیشن کرانا سب کا حق ہے۔ سب کو بلیو ٹک ملنا چائے تو اس سلسلے میں بنا کسی ریسرچ کے بندہ ناچیز نے بھی اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کے لئے اپلائی کیا اور بعد میں کافی ریسرچ کے بعد تب جاکر معلوم ہوا کہ اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کا کام اتنا آسان نہیں اور ناممکن بھی نہیں ہے بس کچھ باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ۔

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کے لئے اپلائی کرنے سے پہلے ایک بار اپنے اکاؤنٹ کو دیکھو کیا وہ ٹویٹر کے رولز کے حساب سے قابل قبول ہے بھی یا نہیں تو اس سلسلے میں کچھ بنیادی باتیں ہے جن کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے اس کے بعد اگر اپ اپلائی کرتے ہو تو 99 فیصد مثبت نتائج کے توقع کیا جا سکتا ہے
    اگر آپ ان شرائط پہ پورے اترتے ہیں تو اپکے اکاؤنٹ کو ویرفکیشن سے کوئی نہیں روک سکتا بس ان بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے

    (1) سب سے پہلے آپ کا اکاؤنٹ ایکٹو ہو اور کمپلیٹ ڈیٹیلز موجود ہو ۔
    (2) اکاؤنٹ کے پروفائل میں نام اور تصویر ہو ۔
    (3) پچھلے 6 مہینوں سے اکاؤنٹ آپ کے استعمال میں ہو اسکا مطلب ہے ایکٹو ہو
    (4) اکاؤنٹ میں تصدیق شدہ ای میل ایڈریس یا فون نمبر موجود ہو ۔
    (5) پچھلے 12 مہینوں میں ٹویٹر کی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کیا هو۔ جیسا کہ تین دن یا سات دن کی لمیٹ نہیں لگی ہو۔

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    اگر آپ کا اکاؤنٹ ان شرائط پہ پورا اترتا ہے تو اس کے بعد آپ جس پیشے سےوابستہ ہے اس کٹیگری میں اپلائی کرو اور اس کٹیگری کے شرائط پہ بھی پورا اترنا ضروری ہے جب آپ ویرفکیشن فارم پر کرو گے تب ٹویٹر آپ سے مانگے گا جیسا کہ اگر آپ جرنلسٹ کٹیگری میں اپلائی کرتے ہو تو آپکو کسی نیوز ارگنائزیشن کے ساتھ منسلک ہونا اپکا لکھا ہوا آرٹیکل جیس میں اپکا اکاؤنٹ مینشن ہوا ہو اور اس لنک کا ہونا بھی ضروری ہے۔

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

    یہ مخصوص کٹیگری والے شرائط تو بہت آسان ہے مگر سب سے مشکل شرط جو ہے وہ نمبر 5 ہے کیونکہ ہم سب لوگ یا تو کسی ٹرینڈ کی وجہ سے یا زیادہ فولونگ/ان فولونگ کی وجہ سے اسکی زد میں آجاتے ہیں اب اگر آپ نے اپنے اکاؤنٹ کی ویرفکشن کرانی ہو تو پہلے بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ہےاس کے بعد مخصوص کٹیگری کے شرائط پہ بھی پورا اترنا ہے۔
    اکاؤنٹ ویرفکیشن ڈیپارٹمنٹ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ٹویٹر جلدی ہی تین اور کٹیگریز کا اضافہ کرنے والا ہے جن میں سب سے پہلے سائنٹسٹ پھر مذہبی رہنما اور اس کے بعد ٹیچرز تو ان حضرات کے لئے اچھی بات ہے جو موجودہ کٹیگریز پہ پورا نہیں اترتے۔
    اب یہ آپ کے اوپر منحصر ہے کس طرح آپ ٹویٹر کے بنیادی شرائط پہ پورا اترتے اور بلیو ٹک کا حقدار بن جاتے۔

    پیسوں کی ضرورت نہیں، خوشحال ہوں،جوڑے سے معافی مانگ لی تھی،عثمان مرزا کا عدالت میں بیان

  • ‏ہماری کرکٹ بدحالی کا شکار کیوں ،تحریر عبید الله

    ‏ہماری کرکٹ بدحالی کا شکار کیوں ،تحریر عبید الله

    پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف 3-0 سے ہارنے کی وجہ سے دل ابھی تک صدمے سے باہر نہیں آیا تب سے یہی سوچ رہا ہوں آخر کیا محرکات ہیں جو ہماری کرکٹ اتنی زوال کا شکار ہے
    ایک وقت تھا کہ پاکستان کے بارے میں کہا جاتا تھا یہاں کی مٹی کرکٹر اگلتی ہے اس مٹی نے کیسے کیسے ہیرے پیدا کیے عمران خان، جاوید میانداد، انضمام الحق، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، عبدالرزاق،
    شاہد خان آفریدی، سعید انور، عامر سہیل، عبدالقادر، عاقب جاوہد.
    لیکن اب تو لگتا ہے قومی کرکٹ ٹیم کو پسند ناپسند کے بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے کیسے کیسے ہیرے ضائع کر دیے جیسا کہ عمران نذیر، عبدالرزاق، حسن رضا، محمد آصف، محمد عامر، عمر گل، وہاب ریاض، محمد شبیر، سعید اجمل.
    اسی طرح بہت سے کرکٹر سفارش، یا پیسا نہ ہونے کی وجہ سے آگے نہیں آ پاتے۔

    ایسے ہی ایک کرکٹر عبید اللہ جنکا تعلق پشاور سے اور (پدائش 4 جون 1992) ہیں

    انہوں نے اپنی فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز اکتوبر 2016 کو قائد اعظم ٹرافی میں پاکستان ایئر لائنز کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا
    انہوں نے 19 نومبر 2017-18 کے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں پشاور کی طرف سے نمائندگی کی۔ انیس نومبر، 2017 کو راولپنڈی میں کراچی کے مخالف جبکہ پشاور کی نمائندگی کرتے ہوے 72 سکور کیا اور 23 نومبر 2017 کو راولپنڈی میں پشاور کی نمائندگی کرتے ہوئے فیصل آباد کے خلاف سینچری پلس 114 سکور کیا.

    سٹرائیک ریٹ 92.30 رہا جبکہ ایوریج 18.00 رہی. اگر پی سی بی نے اس پسند ناپسند کے نظام کو نہ بدلا تو آنے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں حال انگلینڈ کے خلاف سیریز سے بھی برا ہوگا
    اس لیے پی سی بی کو چاہیے کہ کھلاڑیوں کا میرٹ پر انتخاب کریں نہ کہ ذاتی پسند کی بنیاد پر.
    سوشل ٹویٹر اکاؤنٹ
    ‎@ObaidVirk_717

  • عورت اور گالی! . تحریر: حسن ریاض آہیر

    عورت اور گالی! . تحریر: حسن ریاض آہیر

    ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ گالی دیے بغیر اپنی بات مکمل نہیں کر سکتے۔ وہ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی بات میں گالی دینے سے انکی بات کا وزن بڑھ جائے گا یا بات سننے والے پراس طرح سے رعب پڑے گا یا اس سے متاثر ہو گا۔ کچھ لوگوں کی تو عادت بن چکی ہے اور کچھ لوگ اس فعل کو فخریہ اپنی مشہوری کے طور پر بیان کر رہے ہوتے ہیں کہ فلاں کو بھئی بڑی گالیاں دی میں نے۔

    ہماری گالیوں میں آخرکون ہوتا ہے ؟ اس کا جواب ہے ” عورت ” ۔

    جی ہاں ہماری گالیوں میں عورت ہوتی ہے۔ آخر وہ عورت کون ہے ؟

    وہ عورت جو تمہیں پیدا کرتی ہے، تمہاری پرورش کرتی ہے اورتمہیں بولنا سکھاتی ہے۔ لیکن تمہاری گالیوں میں پھر بھی اسی کا نام ہوتا ہے۔ بہو کی صورت میں ہوگی۔ پڑھا لکھا انسان ہو یا ان پڑھ یہ بد فعلی اکثرمیں موجود ہوتی ہے۔ آج کل سوشل میڈیا کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، کہیں کسی موقع پرکسی بات پراختلاف ہو جائے یا تلخ جملوں کا تبادلہ ہوجائے تو آپ کو وہاں کھلے عام گالیاں بکتے لوگ نظرآئیں گے۔ حتیٰ کہ ہمارے حکمران جو ٹی وی شوزاور پارلیمنٹ میں موجو ہوتے ہیں جو ہماری نمایندگی کررہے ہیں وہ بھی اس برے عمل کا شکارنظرآتے ہیں۔

    اللّٰہ پاک نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا اور ہمیں سمجھ بوجھ عطا کی۔ ہمیں صبرکرنے کا حکم دیا۔ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے اورہمارے پاس قرآنِ کریم ہے جو ہمیں سیدھے راستے پرچلنے کا صحیح راہ دکھاتا ہے توہم کیوں غفلت میں سب بھولائے بیٹھے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں اوراسلام ایک مہذب دین ہے اسلیئے اس نےگالی کو سنگین جرم اورگناہ کبیرہ قراردیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کریں تو یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ اسلام میں تو ایک غیرمسلم کو بھی گالی دینا جائزنہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں گالم گلوچ کو بطورہتھیار اورآخری حربہ استعمال کیا جاتا ہے جو تعلیمات دین، اسلام اور تعلیمات محمدی ﷺ کی سراسرمنافی ہے۔

    قرآن مجید میں عورت کی اہمیت اورمقام کے بارے میں کئی ایک آیات موجود ہیں۔ اسلام کی آمد سے قبل عورت بہت مظلوم اورمعاشرتی و سماجی عزت واحترام سے محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اورقابل نفرت تصورکیا جاتا تھا۔ اہل عرب کا عورت کے ساتھ بدترین رویہ تھا۔ قرآن حکیم نے واضح کیا کہ زمانۂ جاہلیت میں عورت کا مرتبہ ناپسندیدہ تھا وہ مظلوم اورستائی ہوئی تھی اورہرقسم کی بڑائی اورفضیلت مردوں کے لئے تھی۔ اس میں عورتوں کا حصہ نہ تھا حتی کہ عام معاملات زندگی میں بھی مرد اچھی چیزیں خود رکھ لیتے اوربیکارچیزیں عورتوں کو دیتے۔

    لیکن دین اسلام کے بعد یہ سب بدل گیا اورہمیں یہ بتایا گیا کہ عورت مقدس ہے، قابل احترام اورقابل عزت ہے۔ ہمیں نا صرف اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ہے بلکہ وہ تمام حقوق بھی پورے کرنے ہیں جو ہمیں قرآن کریم میں بتائے گئے ہیں. ہمیں خود کو بدلنا ہوگا، ہمیں اس معاشرے کو بدلنا ہوگا۔ میٹھا بولیں، پیارسے بات کریں، کوئی انسان آپ سے بات تلخ کریں تو صبرکریں۔ اکثرکچھ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں نے ایسا بولا تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا۔ اصل برداشت ہی صبرکرنا ہے۔

    اللّٰہ پاک ہمیں اس بد فعلی اور گندی زبان استعمال کرنے سے اورشیطان کو خود پرہاوی ہونے سے بچائیں۔ اللّٰہ پاک ہمیں اس معاشرے کو اچھائی کی طرف راغب کرنے اور بدلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !

    @HRA_07

  • ایک بار پھر ایک حوا کی بیٹی غائب.تحریر: احمد لیاقت

    ایک بار پھر ایک حوا کی بیٹی غائب.تحریر: احمد لیاقت

    ایک بار پھر ایک حوا کی بیٹی غائب.تحریر: احمد لیاقت

    یہ خاتون ہمارے ایک بہت اچھے پسرور کے رہائشی بھائی کی ہمشیرہ ہیں جو کہ 11 جولاٸی 2021 کو ساڑھے تین بجے کی ٹرین میں لاھور سے کراچی جانے کے لیے اپنی 10 سالہ بیٹی کے ساتھ روانہ ھوٸیں ۔ جنہوں نے 12 جولاٸی دن 2 بجے کراچی پہنچنا تھا۔لیکن نہیں پہنچیں اور موباٸل فون بھی 11 جولاٸی رات 9 بجے سے بند ھے

    یہ وہی حوا کی بیٹی ہے جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئیں جس کے کانوں میں اذان دی گئی اور جسکو دین کا شرف حاصل ہوا جو ایک باپ کی عزت اور بھائی کی غیرت بنی ۔ حوا کی بیٹیاں کب تک غیر محفوظ رہیں گئیں دل خون کے انسو روتا ہے اس غریب اور بے سہارا کی آواز بنیں

    جو بچے غائب ہوئے ان کے ساتھ ظلم زیادتی کے بعد ان کو پھینک دیتے ہیں حکومت وقت کب تک دیکھتے رہیں گے اس طرح کے واقعات جب مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا نہیں دی جاتی تب تک ایسے حوا کی بیٹیاں غائب ہوتی رہیں گی

    افسوس پاکستان کے اسکے گندے اور ناقص قانون کا یہ حال ھے کہ نہ لاھور پولیس اور نہ ھی کراچی پولیس یہ کیس لینے کو تیار ھے۔ اُ لٹا کہتے یںں جو کرنا ھے خود کریں ہم کچھ نہیں کر سکتے

    برائے مہربانی بحیثیت مسلمان اگر کوٸی کسی طرح بھی انکی خبر دے سکے تو لازمی نیچے دیئے گے نمبرز پر رابطہ کریں ‏‎جب تک سرے عام پھانسی کا قانوں لاگو نہیں ھو گا تب تک یہ درندے ایسے ہی معصوم پھولوں کی زندگیاں ختم کرتے رہیں گی اگر قوم میں شعور ہے تو ایک تحریک چلاٸیں گورنمنٹ سے پھانسی کا قانوں ایمپلیمینٹ کرواٸیں ورنہ یہ معصوم بچے آج کسی اور کے تو کل ہمارے بھی ہوسکتے ہیں۔

    اللہ پاک ان ماں بیٹیوں سمیت ہر مسافر کو محفوظ رکھے آمین۔ برائے رابطہ لواحقین فون نمبرز

    0336-7350956
    0342-2018177
    0347 1285917

  • واٹر کولر اور قربانی .تحریر ماریہ بلوچ

    واٹر کولر اور قربانی .تحریر ماریہ بلوچ

    ہر سال عید قربان پہ ایک خاص طبقہ اس طرح کے ایشوز لے کر آتا ہے اور دلائل ایسے ہوتے ہیں کہ اکثر لوگ قائل ہو جاتے ہیں واٹر کولر نصب کرنا کسی غریب کی بچی کی شادی کرنا وغیرہ ۔ ایسے کام بلاشبہ نیکی کے کام ہیں جن سے انکار نہیں اور عام فہم عوام قربانی اور ان نیک کاموں میں موازنہ کر کے ہاں میں ہاں ملانے لگتی ہے ۔
    قربانی ایک فریضہ ہے جو کہ سال بھر میں صرف ایک بار مخصوص ایام کے لیے ہے جبکہ واٹر کولر شادی کرنا غریبوں کو کھانا کھلانا وغیرہ فلاحی کام ہیں جن کو اسلام نے صدقات کے زمرے میں رکھا ہے اور صدقات بھی اللہ کو بہت محبوب ہیں اسکے قرب کا ذریعہ ہیں۔
    سوچنے کی بات یہ ہے اللہ نے قربانی کو اتنی اہمیت کیوں دی ؟ سنت ابراہیمی کو دین محمدیﷺ کی شریعت میں کیوں لاگو کیا؟؟ کوئ اور چیز یا کام بھی اسکی جگہ مختص کیا جا سکتا تھا مگر اللہ نے کیوں نہیں کیا؟؟؟؟

    جب انسان اس نہج پر سوچتا ہے تو وہ باقی چیزوں میں کنفیوز نہیں ہو پاتا۔۔
    عید قربان دراصل غربا کی عید ہے ۔ وہ غریب جو سال بھر مویشی پالتے ہیں اچھی قیمت وصول کر پاتے ہیں۔
    چارا بیچنے والے ،قصاب، جانور لاد کر لے جانے والے گاڑیوں کے مالکان، منڈیوں میں جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے مزدور یہ سب لوگ صدقات نہیں بلکہ محنت کر کے اسکا اچھا صلہ وصول کر پاتے ہیں ۔ انکی عزت نفس بحال رہتی ہے۔

    قربانی کا گوشت صرف اقربا ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی کھانا نصیب ہوتا ہے جو سال بھر شاید دور سے حسرت بھری نگاہوں میں ہی دیکھ پاتے ہیں ۔ انکو یہ گوشت صدقہ نہیں ہدیہ کیا جاتا ہے. جیسے اپنے عزواقربا کو دیا جاتا ہے اور بالکل جیسے قربانی کرنے والا خود باعزت طریقے سے کھاتا ہے۔
    اس اتنی بڑی نیکی کو ایک واٹر کولر سے موازنہ کرنا بالکل ناانصافی ہے ۔۔ فلاحی کاموں کے لیے اللہ نے آپکو پورا سال اور توفیق دے رکھی ہے دل کھول کر خرچ کیجئے مگر جہاں حکم الہی قربانی مانگے وہاں اسکی تعمیل صرف قربانی ہی ہو گی کوئ دوسرا عمل اسکی جگہ نہیں لے سکتا۔۔

    تحریر ماریہ بلوچ
    @Shezm__

  • آذان  .تحریر:ماریہ مغل

    آذان .تحریر:ماریہ مغل

    آپ نے کبھی آذان پہ غور کیا ہے اللہ تعالی کیا کہتے ہیں۔۔
    حی الصلوۃ
    کہ آو نمار کی طرف ۔۔
    جیسے ایک ماں اپنے بچے کو بلاتی ہے جو اس دور جا رہا ہو ۔۔
    پھر ایک۔بار مزید اللہ کیا کہتے ہیں
    حی الصلوۃ ۔۔
    کہ آ جاو ناں نماز کی طرف ۔۔
    ایسے میں جو اچھے اور تابع دار ہوتے ہیں وہ دوسرے بلاوے پہ ہی بھاگے بھاگے جاتے ہیں اپنے رب کی بارگاہ میں کہ اللہ ہم حاضر ہے مگر جو بچے ضدی ہوتے ہیں ان کو اپنی طرف بلانے کے لئے لالچ دینا پڑتا ہے ان کو ان کی پسندیدہ چیز یں دیکھا کہ کر ان کو متوجہ کرنا پڑتا ہے

    تو اللہ کیا کہتے ہیں کہ
    حی الفلاح ۔۔
    آ جاو فلاح کی طرف ۔۔
    یعنی آ جاو اور سمیٹ لو سارے خزانے ۔۔اب انسان اللہ کے خزانوں کو نہیں سمجھتا ۔۔اس نے خواہشات کے نام پہ چھوٹے چھوٹے پتھر رکھے ہوتے ہیں جو انسان کہ عظمت کے سامنے تو بہت چھوٹے ہیں ۔اب سوچیئے ذرا ایک بچے کو چاکلیٹ دیکھائی جائے تو وہ فورا آپ کا دوست بن جاتا ہے مگر انسان کتنا ناشکرا اور بے قدرا ہے ناں ۔۔رب اسے دونوں جہانوں کہ کامیابیاں دیتا ہے سجدے میں ۔مگر وہ حجتیں پیش کرتا رہتا ہے کبھی خود اور کبھی لوگوں کو ۔۔تو آج سے اپنے رب سے تجدید وفا کریں اپنی محبت اور آزان کی پہلی آواز پہ کہیں کہ اللہ میں لوٹ آیا ہوں یقین مانو تمہارا رب تمہیں بڑی محبت اور مان سے بلاتا ہے۔
    @l_m_Mairi
    ماریہ مغل

  • ‏اسلامی معاشرہ اور جدیدیت . تحریر: عزیز بونیری

    ‏اسلامی معاشرہ اور جدیدیت . تحریر: عزیز بونیری

    انسان نے یقینا ہردورمیں کوشش کی ہے کہ اس کی اجتماعی معاشرتی زندگی مستحکم رہے۔ جب حیاتِ انسانی کے ارتقا پرنظر ڈالیں تو ہمیں اِس کا رخ اجتماعیت کی طرف ہی نظرآتا ہے۔ تاریخ انسانی نے مختلف معاشرے تشکیل دیئے اورگردشِ زمانہ نے مختلف معاشروں کو پیوند خاک بھی کیا جب وہ اجتماعی طورپرفطرت کے خلاف چلیں، جب وہ قانون قدرت کوتوڑکراس کی نافرمان و گستاخ بنی اورخدا کے متعین کردہ اصولوں سے انحراف کیا ۔ بنی نوع انسان کو انفرادی بدعملی کی سزا دنیا میں نہیں ملتی اس کا حساب کتاب آخرت میں ہے مگر جب قومیں اجتماعی طورپربدعمل ہوجائیں تو اس کی سزاء دنیا ہی میں مل جایا کرتی ہے۔ جب قوموں میں بد عملی، بد خلقی، غفلت، بے راہ روی اجتماعی طورپرگھرکرجاتی ہے تو تباہی وبربادی اس کا مقدربن جاتی ہے اورتاریخ نے ایسے کئی مناظردیکھے بھی ہیں۔ قرآن کریم نے بھی مختلف قوموں کی تباہی کا ذِکر کیا ہے جن میں اخلاقی خرابیاں اجتماعی طورپرگھرکرگئی تھیں۔

    ہم تاریخ کے سبھی ادوار کھنگال کراس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی انسان کی معاشرتی زندگی میں بگاڑغالب رہا اوراصلاح کے بہت کم آثار دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اسی مجموعی بگاڑ کے نتیجہ میں قومیں زوال پذیرہوئیں اوراپنے انجام کو پہنچیں۔ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ھیں توہم دیکھتے ہیں کہ قدرت قوموں کے عروج وزوال اور تباہی و بربادی کے قوانین کے اطلاق میں قوموں کے درمیان فرق نہیں کرتی، جو قوانین یہود و نصاریٰ کیلئے ہیں وہی امتِ مسلمہ کیلئے ہیں، جو اصول اہل باطل کیلئے ہیں وہی اہل حق کیلئے ہیں، جو ضابطے اہل کفر کیلئے ہیں وہی اہل ایمان کیلئے ہیں۔

    اس وقت ملت اسلامیہ کئی بڑے بڑے فتنوں اورصدموں میں گھری ہے۔ ہربڑا فتنہ چاہے وہ ملکی سطح پرہو یا عالمی سطح پر، سقوطِ بغداد ہو یا سقوطِ اندلس یا خلافت ِعثمانیہ کا خاتمہ ہویا مسئلہ فلسطین اورکشمیرکا، مشرقی تیمورہو یاچیچنیا، بوسینیا، کوسوؤ، سرب اوربرمی مسلمانوں کی نسل کشی ہو یا افغانستان وعراق، شام، لیبیا کی مسماری یا ہندوستان میں اٹھتے مسلم کش فسادات ہوں، یہ سب امتِ مسلمہ کی جدید معاشرتی، سائینسی اوراخلاقی نظام سے دوری کا نتیجہ ھے۔

    یہ سوال بارباراٹھایا جاتا ھے، کیا مسلمان کبھی 21 ویں صدی میں اصلاح اورجدیدیت اختیارکرسکیں گے اوراس میں شامل ہوسکیں گے؟

    اس کے باوجود ذیلی متن تقریبا ہمیشہ یہ ہے کہ جدیدیت کے مغربی نمونہ جس نے پروٹسٹنٹ اصلاح کے بعد تیارکیا تھا، جس نے سیکولرازم کو مضبوطی سے قبول کیا تھا اورمذہب کی پسماندگی قابل تقلید ہے. مسلمان کے پاس خود کو اسے اپنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔سولہویں صدی میں یورپ میں، کلیساؤں نے اکثر مقامی بادشاہوں اورحکمرانوں سے اتحاد کرتے ہوئے کافی دولت اورسیاسی طاقت حاصل کی تھی۔ جدید سائینس کو اپنے راستے میں رکاوٹ بننے نہیں دیا۔ لیکن مسلمان اپنی منفرد مذہبی تاریخ کی وجہ سے جدید دنیا کے بدلے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی کوششوں میں اپنے مذہب کو بطوراتحادی دیکھتے رہتے ہیں۔ اسلامی معاشرے کے علماء نے جدید سائینس کے تقاضوں سے روگردانی کرتے ھوئے جدیدیت کے بیشترایجادات کو اسلام کے منافی قراردے دیا۔ اس وجہ سے تمام امت مسلمہ آج کے جدیدیت میں پیچھے رہ گئے۔

    ایک کامیاب معاشرہ لاشعوری طورپرارتقاء کے عمل سے گزرتے ھوئے جدیدیت کو اپنے دامن میں سماتا ھے۔ جب بھی کوئی معاشرہ جمود کا شکارھوا ھے وہ تاریخ کے اوراق سے بھی مٹ جاتا ھے۔ اسلامی معاشرے کو اپنے اندر کے فرسودہ بیڑیوں سے آزاد کرنا ھوگا۔ جنہوں نے اسلام، سائینس، اقتصاد، ثقافت غرضیکہ ھرچیزکو جمود کے دھانے پرلا کھڑا کیا ھے۔ ایک اسلامی معاشرہ تب ھی کامیابی کا ضامن ھو سکتا ھے، جب وہ جدید سائنس کے جدید تقاضوں کو قبول کرتا ھے۔ جب وہ سیاسیات، اقتصادیات اورعمرانیات کو جدید تقاضوں کے ساتھ تسلیم کرتا ھو۔

    @azizbuneri58

  • "ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار” تحریر:اقصیٰ احمد خان

    "ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار” تحریر:اقصیٰ احمد خان

    عورت معاشرے کی بنیادی اکائی ہے کائنات کی رنگارنگی اور تنوع میں عورت کا کلیدی کردار ہےاسی اہمیت کے پیش نظر قرآن نے جا بجا عورت کی عظمت اور اہمیت کو اجاگر کیا ہےاور عورت کے وجود کو معاشرے کی تشکیل ،تعمیر اور بقا کا ضامن قرار دیا ہے عورت کی اہمیت کسی لحاظ سے بھی مرد سے کم نہیں۔ ایک مرد علم حاصل کر کے زیادہ سے زیادہ اپنے گھر کے لیے فائدہ دے سکتا ہے جبکہ عورت کی تعلیم کے اثرات گھر اور گھرانے سے بڑھ کر شہر اور معاشرے تک پھیل جاتے ہیں ۔ایک بہترین عورت ہی انسانی تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔جب عورت اپنی ذات کی اصلاح کرے اور اسلامی تعلیمات سے آگاہی حاصل کرے تو معاشرے کو ترقی سے ہمکنار کرسکتی ہے۔

    باوقار اور اثر انگیز خاندا ن کی تشکیل اور تعمیر میں عورت مختلف روپ میں مثبت کردار ادا کر تی ہے۔

    عورت اجتماعی اور معاشرتی ترقی میں فقید المثال کارنامہ انجام دے سکتی ہے

    اسلام نے واقعی عورتوں کو بہت حقوق دیے ہیں۔ عورت کو بہترین مقام دیا ہے۔ عورت کے لئے جو حقوق اسلام نے دیے ہیں اور جو شرائط اسلام نے بتائی ہے وہ وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوسکتیں۔ عورت کو اختیار ہے کہ وہ اپنے آپ کو معاشرے کی تعمیر میں استعمال کرے لیکن حدود کے ساتھ۔۔۔عورت کا ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مرد کے ساتھ معاشی طور پر بوجھ اٹھاسکتی ہے۔ لیکن ہمارے آج کے مولویوں نے اور مرد حضرات نے اپنی انا کو اونچا رکھنے کے لئے اسلام کو ہتھیار بناکر بدنام کیا ہوا ہے ۔ ایجوکیشن اور ہیلتھ دو شعبے ایسے ہیں جو مسلمان عورت کے لئے موزوں ترین ہیں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مرد سے عورت کی تخلیق ذرا مختلف بنائی ہے۔ ان دو شعبوں میں مسلم عورتوں کا کردار مسلمہ ہے۔ مسلم سماج میں عورتیں بہتر کردار ادا کررہی ہیں، تاہم ابھی بھی کافی رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے قومی تشکیل میں ان کا کردار کم ہے۔ عورتوں کو ابھی بھی سیکنڈ گریڈ شہری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن گزشتہ ایک عشرے میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔
    آج اگر ہم اپنی خواتین کو دیکھتے ہیں تو وہ نہ صرف گھر میں بلکہ خاندان میں اپنے آپ سے منسلک ہر رشتے کو بڑی خوبصورتی سے نبھا رہی ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں خواہ وہ سیاسی ، ادبی ، کاروباری ، صحت ، تعلیم ، کھیل جیسا کوئی بھی شعبہ ہو، ہماری خواتین نہ صرف اپنا بلکہ اپنے ملک کا بھی نام روشن کررہی ہیں۔

    تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک معاشرے کی خواتین کی شمولیت نہ ہو۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ہرکامیاب مرد کے پیچھے ایک عور ت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے اسی طرح ہر کامیاب معاشرے کے پیچھے خواتین کی محنت اور کردار ضرور ہوتا ہے۔

    آج پاکستان کی خواتین میدانوں میں، فضاﺅں میںاور خلاﺅں میں ہر جگہ کامیابی کے جھنڈے گاڑتی پھر رہی ہیں۔ بے شک یہ ان خاندانوں کی خواتین ہیں جہاں انہیں عزت دی گئی، جن کو انسان تسلیم کیا گیا۔ چاہے ان کا تعلق پسماندہ ماحول سے ہو یا شہر کے گھٹن زدہ ماحول سے ، انہیں جینے کا پورا پورا حق دیا گیا۔ ماں باپ نے انہیں اعتماد اور شعور دیا، اس لئے وہ کسی پر بوجھ نہیں،وہ طاقتور ہیں۔ اس لئے وہ توانا سوچ کی مالک بھی ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان کی خواتین خوش قسمت ہیں ۔یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ وہی معاشرہ مضبوط ہوتا ہے جس معاشرے کی عورت مضبوط ہوتی ہے۔

    اقصیٰ احمد خان
    کراچی
    @ShinyAqsa

  • پنجاب حکومت کا عوام دوست بجٹ . تحریر:شعیب قدیر ملک

    پنجاب حکومت کا عوام دوست بجٹ . تحریر:شعیب قدیر ملک

    وزیر اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ایسے وقت میں عوام دوست بجٹ پیش کرکے مخالفین کے منہ بند کردیئے ہیں جب ملک میں کرونا کی عالمی وبا نے معاشی طور پر ایک عام آدمی سے اس کی قوت استطا عت چھین لی ہے بزدار حکومت کی طرف سے یہ بجٹ 2,653ارب روپے کا بجٹ تھا گو اپوزیشن نے حسب روایت لفظوں کی گولہ باری اور الزام تراشی میں کوئی کسراُٹھا نہ رکھی لیکن یہ ایک حقیقت پسندانہ اور متوازن بجٹ تھا جس میں کسی بھی شعبے پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا بلکہ 23شعبوں کو ٹیکس میں ریلیف دیا گیا جنوبی پنجاب کے عوام جن کے ذہن میں ایک تصور نے جنم لیا کہ وہ تخت لاہور کے قیدی ہیں اور ان کی قسمت کے فیصلے بھی تخت لاہور ہی کرتا ہے عثمان بزدار کی حکومت میں اس تصور کو یکسر ختم کردیا اور جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے ایک بھاری رقم جو 189ارب روپے ہے علیحدہ بجٹ کی شکل میں مختص کردی گئی عوام کی مالی مشکلات تو کسی دور میں بھی کم کرنے کی کاوش نہیں کی گئی، اس سے بڑی اور قباحت کیا ہوسکتی ہے کہ جانے والی حکومت کی ناقص حکمرانی کے باعث 56ارب روپے کے واجب الادا چیکس تھے جس کے ساتھ 41ارب روپے کے اوور ڈرافٹس اور اعلیٰ خدمت کا دھنڈورا پیٹنے والوں نے 8000سے زائد نامکمل سکیمیں آنے والی حکومت کیلئے چھوڑیں زراعت کیلئے ایسی پالیسیاں بنائی گئیں جنہوں نے ایک ایسے شعبے کی تباہی کی بنیاد رکھی جسے وطن عزیز میں سب سے بڑی صنعت قرار دیا جاسکتا ہے اور پاکستان کے 79فیصد افراد کا معاشی انحصار اس شعبے کے ساتھ وابستہ ہے اس شعبے کیلئے پالیسیاں بنانے والے ایسے افراد تھے جن کا زراعت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا اسی طرح سابقہ ادوار میں تعلیم کے شعبہ میں بھی ایسی پالیسیاں متعارف کرائی گئیں جس سے عام فرد وطن پر تعلیم کے دروازے بند ہو گئے کووڈ 19کی وبا نے بھی وطن عزیز میں اپنے خونی پنجے گاڑھ لئے کوئی اور حکومت ہوتی تو شاید حالات اس کے کنٹرول میں نہ رہتے مگر موجودہ حکومت نے اپنی بہترین حکمت عملی کے باعث پاکستان کو ان تین ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا جنہوں نے کووڈ پر قابو پانے میں پہلے تین ممالک کا اعزاز پایا اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے 106ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا جس میں کاروباری طبقہ کیلئے روزگار کی بحالی کیلئے 56ارب روپے کا تاریخی ٹیکس ریلیف دیا گیا اور یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تعلیم اور صحت کیلے 205ارب 50کروڑ کی کثیر رقم مختص کی گئی ہے سابقہ ادوار میں ترقیاتی کاموں کا ڈھنڈورا پیٹا گیا لیکن موجودہ دور میں حالیہ بجٹ میں ان کاموں کیلئے 66فیصد زائد رقم کا ضافہ کیا گیا ہے پانچ شعبہ جات جو انتہائی اہم ہیں جن میں صنعت، زراعت،لائیو سٹاک،ٹورازم،جنگلات کے شعبہ جات شامل ہیں کیلئے پہلی بار 57ارب 90کروڑ کی رقم مختص کی گئی یہ اعجاز بھی عثمان بزدار کی حکومت کو ہی جاتا ہے صحت کا شعبہ ہمیشہ سے نظر انداز ہوتا رہا ہے لیکن جنوبی پنجاب خاص طور پر جہاں عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں پنجاب کی 11کروڑ آبادی کی ہیلتھ انشورنس ایک طرف صرف ڈیرہ غازیخان ڈویژن کیلئے ہر وہ فرد جو شناختی کارڈ کا حامل ہے کیلئے ”صحت انصاف“کارڈ کی سہولت رکھی گئی اور ساہیوال و ڈیرہ غازیخان میں قومی شناختی کارڈ کوہی صحت انصاف کارڈ کا درجہ دے دیا گیا جنوبی پنجاب جہاں انسانیت بنیادی سہولیات کیلئے ترستی ہے حالیہ بجٹ میں جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے اور انسانی ترقی پر خرچ کرنے کیلئے کثیر رقم مختص کی گئی، صحت تعلیم اور انفراسٹرکچر کے میدان میں بزدار حکومت انقلاب برپا کرنے جا رہی ہے، پہلی مرتبہ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا خاتمہ ہو رہا ہے۔اگر ہم دیکھیں تو اپوزیشن نے حکومت کے عوام دوست اقدامات پر بھی واویلہ پر ہی اکتفا کیا

    نااہل اپوزیشن کی راہیں جدا جدا ہوچکیہیں اسمبلی میں بھی یہ متفق نہ ہوسکے، ان کو صرف اپنی لوٹ مار اور چوری چکاری بچانے کی فکر رہی، وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدانے پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر میں عوامی نمائندوں اور عوام کے سامنے بدلتے ترقی کرتے پھلتے پھولتے پنجاب کا نقشہ فارمولا اور روڈ میپ پیش کیا گگیا اس سے بڑی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ڈگری یافتہ ایک نسل روزگار کیلئے سرکاری دفاترز کی دہلیز پر دھکے کھا رہی ہے سردار عثمان بزدار کا تعلق چونکہ جنوبی پنجاب سے تھا اس لئے انہوں نے جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کی محرومی کا احساس کیا اور صوبائی ملازمتوں میں 32 فیصد کوٹہ مختص کیا۔ میانوالی اوربھکر کو شامل کرنے پرکوٹہ 35 فیصد کردیا جائے گا۔یہ سردار عثمان بزدار کا عہداورعزم تھاکہ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کے ازالے کو مشن بنا لیا۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ سابق حکمرانوں نے محروم علاقوں کی پسماندگی دور کرنے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ لاہور میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والے دور دراز علاقوں کے مسائل سے یکسر لا علم رہے جب کہ عثمان بزدار نے لاہور میں بیٹھ کر پسماندہ علاقوں کی نمائندگی کی۔وہ ہر ضلع اورہر تحصیل میں جاکرمسائل اورضروریات کا جائزہ لیتے رہے۔ انہوں نے دیگر علاقوں کی طرح پسماندہ علاقوں میں بھی فلاح عامہ کی سکیموں پر کام مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ حالیہ بجٹ سے ایک بات ثابت ہوئی کہ پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب کی 71 سالہ محرومیوں کے خاتمہ کیلئے وسائل کا رخ جنوبی پنجاب کیطرف موڑ ا جس سے پسماندگی کا خاتمہ اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کی کاوش سے جنوبی پنجاب میں ترقی کی نئی راہیں ہموارہونے لگی ہیں۔ جہاں تک جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بہاولپور کا معاملہ ہے تو سیکٹریٹ وہی بنے گا،سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے اورالزامات برائے الزامات کی سیاست میں عوامی خدمت نہیں بلکہ عوام کی خاطر کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کو وطیرہ بنایا گیا۔ پراپیگنڈا کرنے والے عناصرہمیشہ مخصوص ایجنڈا لیکر چلتے رہے۔ ماضی میں جنوبی پنجاب سمیت صوبے کے بڑے حصے کو ترقیاتی منصوبوں تک سے محروم رکھا گیا۔سابق حکمرانوں نے جنوبی پنجاب کے لئے مختص فنڈز کو بھی ذاتی پسند کے منصوبوں پر خرچ کیا اور گزشتہ 7برس کے دوران جنوبی پنجاب کو265 ارب روپے کی رقم سے محروم کیا گیا اور جنوبی پنجاب کے عوام کے لئے ترقی وخوشحالی کے منصوبے صرف کھوکھلے نعرے ہی رہے۔موجودہ حکومت پنجاب پورے صوبے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم نا اپنا عزم سمجھتی ہے۔در اصل جنوبی پنجاب کے عوام سے ماضی میں کی گئی زیادتیوں کے ازالے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ پنجاب حکومت نے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کی قسمت بدلنے کیلئے حالیہ بجٹ میں بڑے اقدامات اٹھا ئے اور یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ ترقیاتی بجٹ میں 66 فیصد تاریخی اضافہ کیا گیا۔پنجاب کے بجٹ کی شفافیت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔صحت کی سہولیات کی فراہمی بھی موجودہ پنجاب حکومت کی اولین ترجیح رہی۔ ہر ضلع کا علیحدہ ڈویلپمنٹ پیکیج بنانا وزیر اعلیٰ کا بہترین اقدام ٹھہرا۔پی ٹی آئی حکومت نے جنوبی پنجاب کے ہر ضلع کو 35 ارب روپے کا ریکارڈ بجٹ دیکر مثالی بجٹ پیش کیا جس پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار مبارکباد کے مستحق ہیں۔علاقہ بھر میں بجلی کی ترسیل،پینے کے پانی کی فراہمی،ہاکڑہ نہر کی توسیع،ریسکیو 1122 سمیت مختلف شاہرات کے منصوبے منظور ہوئے۔ عوام باشعور ہیں بہتر سمجھتے ہیں کہ اب کسی اور کے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگوانے کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔ نامساعد حالات کے باوجود 350ارب روپے سے زائدرقم ترقیاتی کاموں کے لیے جنوبی پنجاب کے لیے فنڈز کا مختص کرنا ترقی کی نوید نہیں تو اور کیا ہے۔پسماندہ ضلع لیہ کے لیے اربوں روپے کی مالیت سے ایم ایم روڈ دورویہ تعمیر،دوسوبستر پر مشتمل چار ارب روپے کی لاگت سے زچہ بچہ ہسپتال و نرسنگ سکول کی تعمیر،50کروڑ روپے کی لاگت سے سیوریج سکیموں کی اپ گریڈیشن،گریٹر تھل کینال فیز llتحصیل چوبارہ کے لیے ساڑھے نو ارب روپے مختص کرنے،حفاظتی و سپربندوں کی تعمیر،ریگولیٹری کے کام کی تکمیل کے لیے فنڈز مختص کرنے،رورل ایریا کی سٹرکات کی درستی کے لیے دس کروڑ روپے،شلٹر ہوم کی تعمیر،سپورٹس کے لیے فنڈز مختص کرنے کے علاوہ 40کروڑ روپے کی لاگت سے لیہ تاجمن شاہ کارپٹ روڈ کی تعمیر،ضلع بھر میں کالجز،سکولوں کی اپ گریڈیشن کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز کا مختص کیا جانے سے ضلع لیہ کی عوام کی حالات بدلنے،بے روزگاری کے خاتمہ اور روزگار کے مواقع کے لیے ضلع لیہ کی عوام کے لیے یہ بجٹ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔