Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سباکا سے سگ کا سفر .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    سباکا سے سگ کا سفر .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    گو سگ دنیا ہوں پر تنہا خوری مجھ میں نہیں
    ٹکڑا ٹکڑا بانٹ کھایا جو میسر ہو گیا
    امان علی سحر لکھنوی کے اس شعر میں مجھے دل چسپی لفظ "سگ” سے ہے ۔ سگ فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب کتا ہے ۔ لفظ سگ اردو میں بھی مستعمل ہے اور مجازی طور پر رزیل آدمی ، بدکردار و بداطوار کو سگ بولتے ہیں ۔ روسی زبان کا لفظ سباکا (Sabaka) بھی یہی معنی دیتا ہے ۔ اردو زبان کے لفظ "کتا” کو پراکرتی زبان سے لیا گیا ہے ۔ اب اگر اسی روسی لفظ کو لے کر چلیں تو کچھ کتابیں بتاتی ہیں کہ کتے کو سپاک (Spak) کہا جاتا تھا اسی سے سپاکا ہوا جس کا مفہوم "کتے جیسا” ہوتا ہے ۔ یہ آذربائیجان کے قریبی علاقے میں بولی جانے فارسی کی پیش رو زبان تھی ۔ قدیمی اوستا میں آکر یہ لفظ سپان (Span) بن گیا ۔ سنسکرت میں آیا تو ہلکی سی تبدیلی نے شوان (Shvan) کردیا ۔ پشتو زبان الفاظ میں صوتی تبدیلیوں کی وجہ سے اچھی خاصی مشہور ہے ۔ اسی لیے پشتو والوں نے درمیانی راستہ نکالا اور آخری حرف صحیح گرا کر اسے سپے( Spe) کردیا ۔ پشتو کی بہن فارسی نے "سپاک” لے تو لیا لیکن اس میں تبدیلی کرکے حرف "پ” کو گرا کر "سک” یا "سگ” کردیا ۔ بعض ماہرین کے مطابق وسط ایشیا سے ہندوستان پر حملہ آور ہونے والے ساکا قبائل کی اجتماعی شناخت کتا تھی ۔ اب اگر لفظ ساکا اور سباکا کو دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ دونوں ایک ہی تھے بس گزرتے وقت نے اسے سباکا کردیا ۔

    پشتون بھائی حیران ہوں گے کہ ان کے سپے کو کہاں سے کہاں لا کھڑا کیا ہے ۔ اب ذرا سنسکرت کے لفظ شوان پر نظر ماریں اور فرانسیسی زبان کے لفظ شی این (Chien) کو پرکھیں تو عقدہ کھلتا ہے کہ یہ دونوں کس قدر مشابہت رکھتے ہیں لیکن یہ مشابہت اتفاقیہ ہوسکتی ہے کیونکہ یہ لاطینی لفظ Canis سے نکلا ہے جو آگے چل کر Kuon سے نکلا ہے ۔انگریزی کے لفظ Cynic کا مطلب ہے کتے کی مانند ۔ شیخ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں "سَگ اَصْحابِ کَہْف روزے چَنْد پئے نیکاں گِرِفْت و مُرْدَم شُد” اصحابِ کہف کا کُتّا چند دن نیکوں کے پیچھے چلا اور وہ آدمی ہوگیا یعنی نیکوں کی صحبت میں برا آدمی بھی نیک ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح سگ آستاں ہے جس کا مطلب در کا کتا ہے ، سگ بازاری آوارہ کتے کو کہتے ہیں اور فارسی کا ہی ایک فقرہ ہے سگ باش برادر خرد مباش یعنی بڑے بھائی کے مقابلے میں چھوٹی بھائی کی توقیر نہیں ہوتی ۔ ہم کتے کے پلے کو کتورا کہتے ہیں اور عام تاثر یہی ہے کہ یہ لفظ کتے سے نکلا ہے ۔ ویسے ایک خیال یہ بھی آتا ہے کہ لاطینی میں پلے کو Catulus کہتے ہیں ۔جسے Canis سے لیا گیا ہے ۔ یہاں انگریزی زبان کا ایک اور معمہ سامنے آکھڑا ہوتا ہے کہ صاحب بصیرت شخص کے لیے لفظ Sagacious مستعمل ہے اور یہ لفظ یونانی مادے Sagax سے ہے اور اس کا مطلب ہے کتے کی قوت شامہ ۔ اس کی صوتی کیفیت فارسی کے لفظ سگ کے کس قدر قریب ہے ۔ اب پھر بات جہاں سے چلی تھی وہی آگئی ہے یہ تو وہی بات ہوگئی کہ کتے کی دم بارہ برس زمین میں گاڑی ٹیڑھی ہی نکلی۔
    آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ آج کون سا لفظ شروع کرکے بیٹھ گئے ہیں ۔ اس موضوع کو اس لیے چنا کہ رحیم یار خان میں ایک ہی روز میں آوارہ کتوں نے 18 افراد کو کاٹ لیا ۔ یوں 4 دنوں میں سگ گزیدہ 70 کے قریب افراد کو شیخ زائد ہسپتال میں لایا گیا ۔کتوں کو کنٹرول کرنا علاقائی انتظامیہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس معاملے میں تجربہ کار بھی ہے اور وسائل میں خودمختار بھی ۔ ضلعی انتظامیہ کا کام ان پر چھوڑئیے کہ وہ خود ہی تنگ آکر ان کو پکڑ لے گی ۔ حضرت غالب کہتے ہیں کہ

    پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسؔد
    ڈرتا ہوں آئنے سے کہ مردم گزیدہ ہوں
    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس لفظ گزیدہ سے کیا مراد ہے؟ تو اس کا مطلب ہوگا کہ ڈسا ہوا عموماً مرکبات کے جزوِ دوم کے طور پر مستعمل ہوتا ہے ۔

  • چلئے کے چلتی کا نام گاڑی : تحریر عینی سحر

    چلئے کے چلتی کا نام گاڑی : تحریر عینی سحر

    رکئے مت چلتے رہیں ماہرین کیمطابق چلنا صحت کیلئے بے حد مفید ہے یہ جو دل ہے اسمیں جسکو مرضی بسائیں لیکن اسکو چلنے کی ورزش سے چاک وچوبند رکھیں تاکے کسی پر مٹنے سے پہلے خود ہی نہ مٹ جاۓ_ کاہلی چاہے جتنی بھی ہو جم جانے کا وقت نہ ہو تو بھی چلنے کی زحمت کرتے رہئے اس سے بڑھتی ہوئی توند کو افاقہ ہوگا بڑھتے ہوۓ وزن میں لاپرواہ رہنے کی بجاۓ دن میں چند گھنٹے چل لینا آپکے بڑھتے ہوۓ وزن کو تھوڑا بریک لگا لے گا_ اگر اماں بازار سے دہی لانے کو کہہ دیں تو اس پر موٹر سائیکل پر فراٹے بھرنے سے بہتر ہے تھوڑا سا پیدل چل لیاجاۓ اور فضا کو موٹر بائیک کے دھوئیں سے بچا لیا جاۓ

    چلنے سے وزن کم کرنے کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں کے ہوسکتا ہے رشتوں والی مائی کو آپکا رشتہ تلاش کرنے میں آسانی ہو ورنہ موٹاپے کے شکار خواتین اور حضرات کیلئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں

    صحتمند خوراک اور روزانہ کا پیدل چلنا آپکے بلڈ پریشر کو بھی کنٹرول میں رکھتا ہے بیچارابلڈ پریشر جو آجکل کے میڈیا کے ڈراموں ، آلو پیاز مرغی کے گوشت کے بھاؤ کو دیکھ کر بہت بلند ہو جاتا ہے چلنے سے اسکے قابو میں رہنے کا امکان ہے البتہ جتنا مرضی چل لیں آلو پیاز اور مرغی کا بھاؤ قابو میں نہیں آنے والا

    جو کیلوریز موبائل فون اور کمپیوٹر پر جانو مانو کو میسج کرکر کے وزن میں کاہلی سے بڑھتی ہیں اسطرح کی فضول کی کیلوریز چلنے سے جلنا شروں ہوتی ہیں اور جسم کو چاک و چوبند رکھتی ہیں

    ماہرین کہتے ہیں کم از کم چلنے کی ورزش ضرور کریں کیوں کے چلنے سے آپکا موڈ بہتر ہوگا اور بسورتی شکل کو افاقہ ہوگا کیوں کے آپکا مزاج بھی خوشگوار ہوگا جس سے آپکا حلقہ احباب بھی وسعت اختیار کریگا ہوسکتا ہے اس خوشگواری میں کچھ خوش اخلاقی بھی سرایت کرجاۓ اور آپ ہر وقت کی چڑچڑاہٹ سے نجات پائیں

    چلنے کا ایک فائدہ یہ بھی بتایا جارہا ہے کے اس سے آپکی یادداشت بہتر ہو سکتی ہے _ ایسے میں آپکو گھر کے بل اور محلے کی خالہ کو کمیٹی کے پیسے وقت پر دیتے میں مدد ملے گی

    یادداشت کی بہتری سے سبق بھی یاد رہے گا اور امتحان میں نقل کرنے کی محتاجی نہیں ہوگی _ اور امتحان کا نتیجہ آنے کے دنوں میں جو پریشانی کے دورے پڑتے ہیں ان سے نجات ملے گی _

    چلنے کا ایک فائدہ یہ بھی بتایا جاتا ہے کے اس سے آپکے اعصاب مضبوط ہونگے _ جو آپکو اماں اور ابا جی سے پڑنے والی جھڑکیوں پر مضبوط بناتے ہوۓ صبر عطا کریگی.
    اسلئے چلتے رہئے اس کو اپنا معمول بنا کر خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر صحتمند رکھئے کیوں کے چلتی کا نام گاڑی ہے

  • ‏”تعلیم” .تحریر:سعدیہ ناز

    ‏”تعلیم” .تحریر:سعدیہ ناز

    کیا کبھی ہم نے لفظ تعلیم پر غور کیا ہے؟ تعلیم ہے کیا؟ اور جو ہم تعلیم لے رہے ہیں وہ کیا ہے؟ شاید ہم نے کبھی اس چیز پر غور ہی نہیں کیا، یا ہمیں اس چیز کی ضرورت ہی نہیں پڑی.
    تعلیم کی بنیادی معنی ہے "علم حاصل کرنا” اور علم حاصل کرنے کا مطلب شعور کا آ جانا اور جب شعور آ جاتا ہے تو ہم ہر چیز سے واقف ہو جاتے ہیں،ہمیں اچھے اور برے کا مطلب سمجھ آ جاتا ہے،ہمارے دل میں انسانیت جاگ جاتی ہے،ہمیں لوگوں کی مدد کرنا سمجھ آ جاتا ہے اور سب سے بڑی چیز ہم ایک اچھے انسان بن جاتے ہیں جس کی ہمارے معاشرے کو بہت ضرورت ہے،وہ اچھا انسان جو لوگوں کے کام بنا مطلب اور بنا رشوت کے کرے،وہ اچھا انسان جو محنت سے ایمانداری سے اپنا کام کرے اپنے ملک کا نام روشن کرے اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے..آپ نے دیکھا ہوگا تعلیم سے ہم کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے، میرا مقصد اصل میں یہ سمجھانا تھا کہ اگر ہم علم حاصل کرنے کی وجہ سے تعلیم لیں گے تو اس کے کتنے فوائد ہیں اور اس سے ہم کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں.

    سب سے پہلے ضروری چیز جو ہم تعلیم لے رہے ہیں وہ کیا ہے؟ اگر میں یہ کہوں کے وہ ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے تو بلکل بھی غلط نہیں ہوگا کیوں کہ ہم جو آج کل تعلیم لے رہے ہیں وہ فقط "ڈگری” ہے ۔اگر ہم لفظ ڈگری پر چلے گئے تو اس کے بھی بہت زیادہ مطلب نکل آئیں گے بہرحال ہم اس پر نہیں جا رہے لیکن ہمیں ڈگری اور تعلیم میں فرق جاننا بھی بہت ضروری ہے۔
    یہ 2021 چل رہا ہے آج کل بچے جو اسکول جاتے ہیں وہ تعلیم نہیں بلکہ ایک ڈگری لینے جاتے ہیں ایک فرسٹ کلاس کی ڈگری.اس چیز میں بچوں کا کوئی قصور نہیں بچے تو جو اسکول ،گھر اور معاشرے میں سُنیں گے ،دیکھیں گے تو وہ وہی کریں گے۔اگر ہم گھر کی مثال لیں تو والدین اپنے بچوں کو کہتے ہیں بیٹا/بیٹی تم نے کلاس میں فرسٹ آنا ہے اور فرسٹ کلاس کی ڈگری لینی ہے،تمہارا فلاں کے ساتھ مقابلہ ہے دیکھتے ہیں تم کیا پوزیشن لیتے ہو تم نے بس نمبر ون کی ڈگری لینی ہے جیسے ہم اپنے آس پاس، پڑوس، رشتےداروں کو بتائیں ہمارے بچے بہت قابل اور ذہین ہیں پہلے نمبر کی پوزیشن اور ڈگری لے کر آئیں ہیں۔اور یہی چیز اسکول میں استاد کرتے ہیں مقابلہ کراتے ہیں پوزیشن کا ۔اب آپ خود سوچیں جب بچہ اسکول اور گھر میں یہ سب سُنے گا تو وہ تعلیم نہیں بلکہ نمبر ون کی ڈگری حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔اور اس سب میں تعلیم جو بنیادی چیز ہے وہ چلی گئی پیچھے .

    اور جب یہ ڈگری والے لوگ نمبر ون ہائے فائے نوکری کرنے لگتے ہیں تب وہ اپنے دل میں ایک چیز رکھتے ہیں وہ یہ کہ”ہم نے اتنے پیسے بھر کے اچھے ڈگری لی ہے تو اب ہمیں وہ سارے پیسے دوسرے لوگوں سے وصول کرنے ہیں۔اب اس کی مثال ایک ڈاکٹر کی لیں جو پیسے بھر کر ایک اعلیٰ ڈگری لے کر آیا ہے ،تو وہ کہے گا مجھے یہ پیسے اپنے مریضوں سے علاج کی صورت میں وصول کرنے ہیں۔ایسی بہت ساری مثالیں ہیں ہمارے معاشرے میں ڈگری یا فتہ لوگوں کی جو پڑھ کر ڈگری تو لے لیتے ہیں لیکن افسوس وہ علم جو بنیادی چیز ہے اسے حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں.

    اگر ہم چاہتے ہیں ہماری آنے والی نسل اچھے انسان،اچھے شہری ،اچھے پاکستانی بنے تو ہمیں چاہیے ہم انہیں وہ علم دیں جو ان کے بھی کام آئیں اور دوسرے لوگوں کے بھی۔ جسے حاصل کر کے انہیں سب سے پہلے خود کی اچھے سے پہچان ہو پھر اپنے آس پاس کے لوگوں کی.اور اس چیز کے لیے ضروری ہے ہمارے والدین،بزرگ اور ہمارے استاد جو بچوں کو صرف علم لینا سکھائیں اور علم حاصل کر کے ایک اچھا شہری بننا سکھائیں جس کے دل میں انسانیت اور ہمدردی ہو لوگوں کے لیے.

    "ہمارے معاشرے اور ملک کو علم والے لوگوں کی ضرورت ہے”

  • مہنگائی۔  تحریر: محمد ابراہیم

    مہنگائی۔ تحریر: محمد ابراہیم

    مہنگائی۔ تحریر: محمد ابراہیم
    زیادہ سے زیادہ سال میں مہینہ ڈیڑھ مہینہ ایسا ہوتا ہے کہ ھماری بجلی کے طلب 25ہزار میگا واٹ تک آتی ہے ۔

    جو یہ کرکے گئے 2028 تک انہوں نے مزید 30ہزار میگا واٹ بجلی معاہدوں میں add کرلی، مطلب 25+30 ہزار ٹوٹل 55ہزار میگا واٹ ، مثلاً

    سال بھر میں 25 ہزار میگا واٹ بھی صرف زیادہ سے زیادہ دو مہینے ملک کی ضرورت ہوتی ہے سردیوں میں یہ کھپت 16ہزار میگا واٹ سے بھی کم لیکن 2028 کے معاہدوں تک مُسلم لیگ ن نے 55ہزار میگا واٹ کے معاہدے کیئے اب آپ چاہے 20 ہزار بجلی استمال کریں لیکن پیسہ قوم نے 2028 تک 55 ہزار میگا واٹ کا ھی ادا کرنا ہے ۔

    اب یہ پیسے ہیں کتنے ؟؟

    جب 2013 میں نواز شریف کی حکومت آئی تو اُس وقت قوم معاہدوں کے مطابق سالانہ 180 ارب ادا کررہی تھی ۔

    اُسکے بعد 2018 میں جب تحریک انصاف کی حکومتِ آئی تو معاہدوں مطابق 450 ارب ادا کرنے تھے ۔

    اب اِس وقت اُسی سودوں کے مطابق 700 ارب سالانہ ہے اور 2023 تک یہ رقم 1100 ارب تک پہنچ جائے گی ۔

    اور 2028 تک یہی معاہدوں کی وجہ سے سالانہ رقم 6 ہزار ارب سے بھی تجاوز کر جائے گی ۔

    مطلب اگر 2028 تک پاکستان کی بجلی کی ضرورت 20 ہزار میگا واٹ بھی ہوئی تو پیسے ہم نے 55ہزار میگا واٹ کے ہی دینے ہیں ۔

    اور یہ ساری بجلی مہنگے آئل ، گیس ، کوئلے سے پیدا ہورہی ہے ،

    •آئل مہنگا امپورٹ ہونے سے بجلی مہنگی
    •ایل این جی سے بجلی پیدوار ایک نقصان جبکہ ٹرمینل کا کارگو کھڑا ہونے سے اُسکے چارجز الگ ۔
    •کوئلے کی بجلی بھی وُہ کہ پاکستان کا کوئلہ چھوڑ کر باہر سے امپورٹ کوئلہ پہلے کراچی پورٹ پر آتا ہے پھر کراچی سے ساہیوال تک پہنچتے ڈیڑھ روپیہ فی ٹیرف کا خرچہ ٹرانسپورٹ کی صورت بڑھ جاتا ہے ۔

    جبکہ اِسی دوران ہم ہوا، پانی ، اپنے کوئلے سے بجلی پیدا کرسکتے تھے ۔

    لیکن نواز شریف حکومت نے اپنے فرنٹ مینوں کے زریعے کّک بیکس کی خاطر سب کچھ کیا اور قوم کی پسلیوں سے پیسہ نکال لیا ۔

    اِس سال پاکستان کا ٹوٹل بجٹ 8ہزار ارب خسارے کے ساتھ تھا ۔

    2028 تک 6ہزار ارب روپیہ بجلی کی کمپنیوں کو فالتو دینا پڑے گا ۔

    اندازہ کرلیں شریفوں نے جو اِس قوم کے ساتھ کیا جو شاید فرعون نے اپنی رعایا کے ساتھ بھی نہ کیا ہو
    Twitter handle, @IbrahimDgk1

  • عمران خان عظیم مسلم رہنما .تحریر :فضیلت اجالہ

    عمران خان عظیم مسلم رہنما .تحریر :فضیلت اجالہ

    عمران خان مسلم سیاست کا ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے جس نے 22 سال طویل سیاسی جدوجہد کے بعد 18 اگست 2018 کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 22 ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لیا۔
    کرکٹ ہو یا سیاست ، عمران خان نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور نہ ہی اپنے ملک کی شبیہہ کو داغدار کیا۔
    خواہ وہ شوکت خانم ہسپتال ہو یا وزارت کی کرسی ، عمران خان کا مقصد صرف انسانیت کی خدمت کرنا ہے۔
    عمران خان دنیا سیاست میں ایسا عظیم پاکستانی لیڈر ہے جس کے نام،کام اور شہرت کے چرچے صرف ایشیاء میں ہی نہی بلکہ یورپی ممالک میں بھی زبان زد عام ہیں ۔
    عمران خان کے عظیم نظریے اور شاندار قیادت کی بدولت پاکستان اپنی کھوئی ہوئی شناخت واپس حاصل کرنے کی شاہراہ پر گامزن ہے
    ۔قائداعظم کے بعد ، عمران خان پاکستانی تاریخ کے واحد رہنما ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی اور امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔
    عمران خان نے اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور کشمیر کے بارے میں غیر متزلزل موقف اختیار کرتے ہوئے اتنی خوبصورتی سے کشمیر کامقدمہ لڑا کہ آپ کے الفاظ کی گونج پوری دنیا نے سنی ۔عمران خان نے جس طرح یورپ کی سرزمین پہ کھڑے ہو کہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کہ لاالہ اللہ کہا وہ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا ۔

    عمران خان نے مسلمانوں کے قائد ہونے اور سچا عاشق رسول صل اللہ علیہ وسلم ہونے کا حق ادا کیا۔ یورپی ممالک کو حضور اکرم) کے حرمت کی اہمیت سے آگاہ کیا۔
    ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کیا اور بھارتی ظلم و بربریت پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی ۔ سابقہ ​​حکومتوں کے برعکس عمران خان نے بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا، انہوں نے نہ صرف مودی کے سفاک چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ، بلکہ بھارتی مسلح افواج کے ذریعہ کشمیریوں کی نسل کشی کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اقوام متحدہ کو اس کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا۔عمران خان کے علاوہ یہ جراءت ماضی کے کسی حکمران نے نہی کی ۔ انہوں نے فرانس کے توہین آمیز خاکوں کے خلاف بات کی اور دنیا کو بتایا کہ نبی اکرم مسلمانوں کے دلوں میں رہتے ہیں۔اور دنیا کو صاف الفاظ میں یہ واضح کیا کہ دنیا ادھ کی اُدھر ہو جائے ہم ناموس رسالت قوانین پر کوئ سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    عمران خان نے تمام مسلم رہنماؤں کو ناموس رسالت کے سلسلے میں خطوط لکھے اور انہیں دعوت دی کہ وہ مل کر توہین رسالت اور اسلامو فوبیا کے خلاف آواز بلند کریں۔طویل عرصہ گزرنے کے بعد ، پاکستان کو ایک عظیم قائد ملا ہے جس کا سیاست میں آنے کا مقصد ذاتی مفاد نہیں بلکہ ریاست مدینہ کی تشکیل ہے۔ جس نے لندن میں جائیدادیں نہیں بنائی ، جس پر بدعنوانی کا الزام نہیں جس کے بیرون ممالک خفیہ اثاثے نہیں ہیں۔
    خان وہ لیڈر ہے جسے پاکستان کی معزز عدالت نے ایماندار اور قابل اعتماد قرار دیا ہے۔

    ۔ 27 فروری 2020 کو عمران خان نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو بھارت کو واپس کر کے دنیا کو امن کا ایک مثبت پیغام دیا ۔انھوں نے دنیا کو بتایا کہ ہم اسلام کے پیرو کار ہیں اور ہمارا مزہب ہمیں امن اور محبت کا درس دیتا ہے ، ہم امن کے شریک ہوں گے اور کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے .
    عمران خان کے ماحول دوست اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ یہ عمران خان کی بے لوث قیادت اور عظیم نظریہ تھا جس کی بدولت پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار 5 جون 2021 کو عالمی یوم ماحولیات کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

    وزیر اعظم عمران خان اور ان کی بہترین پالیسیوں کی بدولت ، پاکستان نے جس طریقے سے کورونا وائرس پر قابو پالیا ہے ، اس کی بین الاقوامی سطح پر تعریف کی جارہی ہے،اور عمران خان کی پالیسیوں کو اپنایا جا رہا ہے
    کوویڈ ۔19 کے باوجود پاکستان نے اکانومی میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔خارجہ پالیسی میں عمران خان کی حکومت کے تحت پاکستان نے عمدہ پیشرفت کی ہے ، اس کے نتیجے میں ، دوسرے ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور بہت سے ممالک نے پاکستان کی طرف دو طرفہ تجارت کا ہاتھ بڑھانا عمران خان کی با صلا حیت قیادت پر اظہار اطمینان ہے
    جو لوگ عمران خان کو سلیکٹڈ کہتے ہیں وہ یہ بات جان لیں کہ عمران خان کو اللہ رب العزت نے اس ملک کے لئے منتخب کیا ہے ، اور عمران خان اپنے عوام کو نا کبھی کسی کے سامنے جھکنے دیں گے اور نا ہی اپنی عوام کو مایوس کریں گے ۔
    عمران خان امید کی کرن ہے۔

  • زندگی ، خوشی اور غم کا میل جول .تحریر: کاوش

    زندگی ، خوشی اور غم کا میل جول .تحریر: کاوش

    سردی کا موسم تھا اور ایک بوڑھا آدمی گھر پر اکیلا تھا اسے چائے کی طلب ہو رہی تھی اس کی بیوی اور بیٹا دونوں مارکیٹ گئے تھے اس نے سوچا ان کے آنے کا انتظار کرنے کی بجائے کیوں نہ اٹھ کر خود ہی چائے بنا لی جائے ابھی اس نے چائے بنانا شروع ہی کی تھی کہ فون کی گھنٹی بجنے لگی اس کے بیٹے کا فون تھا وہ اسے بتا رہا تھا کہ بیس منٹ میں وہ لوگ گھر پہنچ جائیں گے اور یہ کہ کیا آپ کے لیے کچھ لے کر آئیں باتوں کے دوران اس آدمی کو خیال ہی نہ رہا اور اس نے بے دھیانی میں چینی کے چار چمچ چائے میں ڈال دیئے جب اس نے چائے کا سیپ لیا تو میٹھا بہت ہی زیادہ تھا اتنی میٹھی چائے پینا بہت ہی مشکل تھا بوڑھا آدمی سوچ میں پڑگیا کہ اب وہ کیا کرے چائے میں ڈالی ہوئی ہے ایکسٹرا چینی کو باہر واپس کیسے نکالے کیا وہ ایسا طریقہ ہو جس کی مدد سے تین چمچ چینی چائے سے باہر نکال پائے اور چائے کا ذائقہ ایک دم فرسٹ کلاس ہو جائے لیکن دوستوں یہ ناممکن تھا

    زندگی میں کچھ چیزوں کی واپسی نہیں ہوتی ان کو ہم undo نہیں کر سکتے جیسے جو پانی ایک بار بہ جائے وہ واپس نہیں آتا جو تیر کمان سے نکل جو بات منہ سے نکل جائے جو وقت ایک بار گزر جائے وہ کبھی دوبارہ نہیں آتا ایسے ہی کچھ چیزیں جو زندگی میں ایک بار ہو جائیں وہ بس ہوجاتی ہیں ان کو واپس نہیں کیا جاسکتا زندگی میں کوئی undo button نہیں ہوتا چائے میں ڈالی ہوئی ایکسٹرا چینی کو باہر نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا لیکن پھر بھی اس مسئلے کو حل کرنے کا ایک طریقہ تھا چائے میں چینی کم کرنے کا اس کو پینے کے قابل بنانے کا ایک ہی طریقہ تھا وہ یہ کہ اس چائے میں دو کپ اور دودھ ڈال دیا جائے اور اس بوڑھے آدمی نے ایسا ہی کیا اور اب اس کے پاس چائے کے ایک کپ کی بجائے تین کپ تھے جو اپنی بیوی اور بیٹے کو دے سکتا تھا دوستو زندگی بھی بالکل ایسی ہی ہے زندگی میں بعض دفعہ کچھ ایسی غلطیاں کچھ ایسی غلط چیزیں کچھ ایسی واقعات کو ہی جاتے ہیں انجانے میں ہو جاتے ہیں جو ہمیں تکلیف دیتے ہیں جن کا ہمیں افسوس رہتا ہے 😊 جن کو ہم بدلنا چاہتے ہیں ہماری کچھ غلط چوائسز کچھ غلط فیصلے غلط انویسٹمنٹ کچھ ایسے غلط الفاظ جو ہم بول جاتے ہیں جو ہمارے منہ سے نکل جاتے ہیں اور ہم انہیں واپس نہیں لے سکتے undo نہیں کر سکتے ایسا نہیں کہ ہم کوشش نہیں کرتے ہم اپنی پوری کوشش کرتے ہیں چیزوں کو بہتر کرنے پر کام کرتے ہیں لیکن جن چیزوں کو ہم بدل نہیں سکتے انہیں ریورس نہیں کر سکتے undo نہیں کر سکتے تو انہیں بدلنے کی ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے رہنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے چائے میں ڈالی ہوئی ایکسٹرا چینی کو باہر نکالنے کی کوشش کرنا جو ہم کبھی نہیں کر پائیں گے

    غلط چیزوں کو ٹھیک کرنے یا ریورس کرنے پر ٹائم ضائع کرنے کی بجائے ان پر ہی فوکس کرنے کی بجائے زندگی میں کچھ نئی کچھ اچھی چیزیں ایڈ کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں غموں کو مٹانے یا دکھوں کو ختم کرنے پر پر فوکس کرنے کی بجاۓ زندگی میں خوشیاں ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیوں کہ وہ خوشیاں آٹومیٹکلی غم کو ختم کردینگی غم ان کے سامنے چھوٹا بھی پڑ جائے گا جب کچھ مسائل کچھ پرابلم ہماری زندگی میں ایسی ہو جو ان کو کنٹرول نہیں کر پاتے جن کو حل نہیں کر پاتے انہیں حل کرنے کی کوشش چھوڑ دینی چاہیے اور زندگی میں کچھ ویلیو ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے مثبت ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے چائے میں سے اگر چینی نکالنی ہے تو اس میں تھوڑا
    سا دودھ ملانا چاہیے اگر آپ کے بچے کا کھلونا کسی نے توڑ دیا ہے اور کوشش کرنے پر بھی آپ اس کا جوڑ نہیں پا رہے اور بہت اداس ہے دکھی ہے تو کھلونا جوڑنے کی کوشش کرتے رہنے کی بجائے اسے کہیں گھمانے لے جائیں اس کو خوشیاں وہ خود ہی کھلونا بھول جائے گا

    @Kashii_Back

  • ریپ کا لباس سے تعلق ؟ تحریر: درخشاں رمضان

    ریپ کا لباس سے تعلق ؟ تحریر: درخشاں رمضان

    سوشل میڈیا پر لوگ ہر قسم کے تبصرے کرتے ہیں جن میں سے کچھ یہ کہہ رہے ہوتے کہ عورت کا لباس کا یا اکیلے نکلنے کا ریپ سے تعلق نہیں جب کہ دوسری طرف کچھ لوگ اس کو ریپ کی وجہ بتاتے ہیں

    تمام باتوں پر اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معاشرے میں زیادتی کا تعلق عورت کے لباس سے ہو یا نہ ہو لیکن یہ intentional relation invitation ضرور ہے یہ راستہ ہم نے خود ہی چنا ہے ایک مثال سے سمجھاتی ہوں

    اگر آپ کے سر میں درد ہو اور ڈاکٹر آپ کو دوائی دے اور آپ ڈاکٹر کو کہیں کہ نہیں میں اپنی بیماری خود ڈھونڈ کر دوا استعمال کروں گاآپ ایسا کرلیتےہیں لیکن آرام آنے کی بجائے سر درد مزید بڑھ جاتا ہے تو اس میں آپ کس کو قصور وار ٹھہرائیں گے خود کو یا ڈاکٹر کو

    اسی طرح اللہ نے ہمیں قرآن دیا ایک بہترین نظام دیا ہمیں شرعی سزاوں کا بتایا اور کہا اسے فالو کرو نافذ کرو کامیاب رہو گئے لیکن کیا ہم نے وہ راستہ اپنایا؟ وہ نظام نافذ کیا؟
    فحاشی اور بے حیائی بڑھتی جارہی ہے عورتوں کو اپنی عزت کا احساس نہیں ماں باپ اولاد سے بے خبر ہیں وقت پر شادیاں نہیں کرتے یہ سب کہیں نہ کہیں وجہ ہے زیادتی کی

    آپؐ نے کتنی قربانیاں دیں کتنےصحابہ کرام شہید ہوئے انہوں نے نظام قائم کیالیکن ہم کیا اس نظام قائم کر پائے ہم اپنے ہاتھوں سے معاشرے کو جہنم بنا رہے ہیں

    ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں مجرم گرفتار ہوجائیں تو کچھ دن بعد باہر ہوتے ہیں قانون عدالتی نظام کمزور ہونے کی وجہ سے مجرم میں خوف ختم ہوگیا ہے طاقتور مافیا پشت پناہی کرتا ہے اور یہی مافیا اللہ کا نظام قائم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اسلامی سزاوں کے نفاظ کی مخالفت یورپ کی خوشنودی ہے

    آپ ایک منٹ کے زرا سوچیں زناکار زمین میں آدھا دھنسا ہوا اور ہر طرف سے پتھر ہی پتھر برس رہے ہوں کوئی پتھر سر پر لگے اور کوئی آنکھ پر یہ سوچ کر ہی ہمیں خوف آنے لگتا
    تو اگر یہ سزا نافذ کر دی جائے اور ایک بار کسی کو دے دی جائے سرعام تو کیا لوگوں کی روح نہیں کانپیں گی کسی بھی لڑکی کا ریپ تو کیا آنکھیں اٹھانے سے بھی اجتناب کریں گے یہ واحد حل ہے لڑکیوں کے تحفظ کا جو کہ ریاست دے سکتی ہے اس کے علاوہ حجاب کو لڑکی کے لیے لازمی قرار دیا جائے نکاح کو آسان بنایا جائے فحاشی سے بھرپور ڈراموں اور فلموں پر پابندی لگا دی جائے

    والدین اپنے بچوں کی جسمانی تربیت کے ساتھ ذہنی تربیت کریں تو ہی اس سے نجات پائی جاسکتی ہےجب تک ہم شریعت پر عمل نہیں کریں گے شریعت کے مطابق سزائیں نافذ نہیں کریں گے اللہ کا نظام نہیں لائیں گے ہم زلیل ہوتے رہیں گے

    اللہ پاک سب کی عزتوں کی حفاظت فرمائے

    آمین

    ‎@DarakhshanR786

  • گالم گلوچ سے ہوائی  فائرنگ تک .تحریر: آیاز محمد

    گالم گلوچ سے ہوائی فائرنگ تک .تحریر: آیاز محمد

    ہم ایسے نوجوان جن کو سیاست کا شوق اور سیاسی قیادتوں بارے حال احوال جاننے کا چسکہ پڑ گیا ہے ، بہت مشکل اور کنفیوژ ہیں۔اخبارات ہو ،رسائل ہو،سوشل میڈیا ہو یا دوستوں کی مجلس ،موضوع اگر سیاست ہو تو لازما اخلاقی حدود کو پامال کیا جاتا ہے اور تو اور قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہو ،کسی اہم موضوع پر بحث ہورہی ہو اور ایسے میں آپ کا شوق اور چسکہ اسمبلی کی آن لائیو ٹرانسمیشن دیکھنے پر مجبور کرے ،آپ ٹی ون آن کریں تو ایسی ہلٹر بازی ، الزام تراشی اور بھونڈے انداز میں گفتگو کی جارہی ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ ۔پاکستانی ڈرامے مفت میں بدنام ہیں کہ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھے جاسکتے ۔اپنا خیال تو ہے کہ قومی اسمبلی ،سینٹ اور دیگر صوبائی اسمبلیوں میں جو گفتگو کی جاتی ہے وہ بھی کسی صورت مہذب ماحول میں سنی نہیں جا سکتی ۔
    ایک زمانہ تھا کہ کہا جاتا تھا کہ مہذب لوگوں کا سیاست سے کیا لینا دینا، وجہ شاید یہی تھی کہ سیاست میں دلیل اور موقف کی طاقت کی بجائے ترش روئی ،سخت انداز گفتگو اور کرخت لہجہ کی طاقت مانی جاتی ہے ۔ دوسروں پر الزام تراشی بھلے خود آپ میں کوئی صلاحیت نہ ہو۔آج کے پڑھے لکھے اور آکسفورڈ سے فیض یافتہ وزیر اعظم ہی کو لے لیں کہ دس منٹ بھی کسی ایسے موضوع پر بات نہیں کرسکتے جہاں دوسروں پر الزام اور تنقید نہ ہو۔کہاں آئیڈیلزم کی باتیں اور کہاں یہ طرز گفتگو، بہر حال آج کا نوجوان بھی سمجھتا ہے کہ مہذب لوگوں کا سیاست سے کیا کام ؟

    اس انداز سیاست کا سب سے برا اثر ہماری نجی زندگی پر پڑا ہے ۔زندگی میں کچھ لمحات بہت حسین ہوتے ہیں ،یاد گار ہوتے ہیں ،سیاسی افراتفری اور شدت پسندی نے ان لمحات پر بھی گہرا اثر چھوڑا ہے ۔
    مثلا میں یونیورسٹی کا طالب علم ہوں ۔ایک نارمل صلاحیت والا طالب علم جو کالج اور یونیورسٹی دور میں کہ ایک طالب علم تعلیم حاصل کرنے کی لذت میں سرشار رہنا چاہتا ہے اور تعلیم کے بعد بچا کچھا وقت قہقہوں ،کھیل کود اور دوستوں کی مجلس میں گذارنا چاہتا ہے ۔صحت مند اور مثبت مباحث کا حصہ بننا چاہتا ہے ۔لیکن جب کبھی یونیورسٹی سطح پر کسی ایسی ایکٹویٹی کے انعقاد کی بات آئی ،تو یہی سوال اٹھا کہ شرکاء مجلس کون ہو ؟ وہی پارٹی بازی کہ فلاں پارٹی کی لوگ ہو اور فلاں کے نہیں ،پھر جیسے تیسے کرکے مجلس منعقد بھی ہوتی ہے تو وہی الزامات کہ تمھارے لیڈر نے یہ کیا اور میرے لیڈر نے یہ ۔۔یوں کسی مثبت بحث کے بغیر مجلس ختم ۔

    میں پشتون دیہاتی ماحول میں پلا بڑھا ہوں،ہمارے ماحول میں مسجد اور حجرہ بڑی اہمیت رکھتی ہے ۔ محلے محلے ججروں کا رواج صدیوں پرانا ہے ۔محلے کے جوان ،بوڑھے ادھیڑ عمر مغرب یا عشاء کے بعد ان حجروں میں آتے ہیں ،گپ شپ کی مجلس لگتی ہے ،بزرگ اپنے تجربوں سے آگاہ کرتے ہیں ،نوجوان اپنی تعلیم پر گفتگو کرتے ہیں ،ملازم پیشہ اپنی دلچسپی کے موضوعات پر بات چیت کرتے ہیں ،تاجر اور کسان اپنی اپنی بات کرتے ہیں ۔بنیادی طور حجروں کا یہ ماحول سکول یونیورسٹی کی طرح روایتی تعلیمی ماحول تو نہیں ہوتا لیکن ان حجروں کا مستقل حاضر باش عملی زندگی میں بہت کچھ سیکھ چکا ہوتا ہے۔لیکن یہ تب کی باتیں ہیں جب ان حجروں میں منافرت نہیں تھی ،سیاست نہیں تھی ،اب تو یہ حجرے کم اور صوبائی اسمبلی کے اجلاس ایسے مناظر زیادہ پیش کرتے ہیں۔ایک ہی خاندان ، ایک ہی گھر میں بھائی بھائی کے تعلقات پر اس طرز سیاست نے گہرا منفی اثر چھوڑا ہے ۔

    اب ذرا مسجد کی حالت کو دیکھیں ۔ کل کی خبر ہے کشمیر میں انتخابات ہورہے ہیں ۔علی امین نے گنڈا پور نے فائرنگ کردی ۔مریم نواز نے یہ کہہ دیا ،مراد سعید نے فلاں پر الزام لگادیا ،بلاول بھٹو نے عمران خان کو کشمیر فروش کہہ دیا اس حد تک تو سب برداشت ہے اور اب تو عادت بن چکی ہے ۔ لیکن گذشتہ کل کشمیر کے شہر راولا کوٹ کی خبر ہے۔جو ایک دوست نے واٹس اپ پر شئیر کی ہے “مرکزی جامع مسجد راولاکوٹ پی ٹی آئی کے حق میں تقریر کرنے پر نمازیوں کا رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے پیچھے نماز جمعہ پڑھنے سے انکار کر دیا مسجد میں شور شرابہ اور ھنگامہ آرائی اور مولانا عبدالخبیر آزاد نماز جمعہ چھوڑ کر فرار ھوگی ت ، بمشکل جان بچا کر بھاگ نکلے بعد میں ھنگامہ آرائی رکنے پر کچھ لوگوں نے نماز جمعہ دوسرے مولوی صاحب کے پیچھے ادا کی اور کچھ لوگ بغیر جمعہ کی نماز ادا کئے مسجد سے چلے گئے یہ اپنی نوعیت عجیب اور پہلا واقعہ راولاکوٹ کی کسی مسجد میں پیش آیا جس پر افسوس کا اظہار کیا جاتا ھے اور مذمت بھی کی جاتی ھےواقعہ کی تفصیلات سے آگاہی کے لئے راولاکوٹ کے آج بروز ہفتہ کے اخبار پرل ویو اور دیگر ملاحظہ کریں یا مسجد میں موجود مقامی نمازیوں سے رابطہ کریں”
    حقیقت یہ ہے کہ اسمبلی میں گالم گلوچ ، اب سر عام فائرنگ اور اب مسجدوں میں یہ سیاست بازی ہمارے معاشرے کی اخلاقی کمزوری کی علامات ہیں ،معاشی کمزوری کے اتنے نقصانات نہیں ، دفاعی کمزوری کے بھی اتنے دیرپا نقصانات نہیں ہونگے ۔لیکن اخلاقی کمزوری معاشروں کے وجود کو ختم کردیتی ہے ۔ہمارے سیاستدانوں کو سوچنا ہوگا کہ کہیں وہ ملک کو معاشی اور دفاعی لحاظ سے کمزور کرنے کے بعد دانستہ یا نادانستہ اخلاقی کمزوری کے جرم کے مرتکب تو نہیں ہورہے ؟

  • ‏پاک بھارت ٹاکرا ایک بار پھر سے . تحریر: محمد وقاص عمر

    ‏پاک بھارت ٹاکرا ایک بار پھر سے . تحریر: محمد وقاص عمر

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا میلہ سجنے جا رہا ہے ۔ترجمان آئی سی سی کے مطابق سپربارہ ٹیموں کے گروپ ٹو میں پاکستان اورانڈیا کے ساتھ افغانستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں بھی شرکت کریں گی۔ سپر12 کے گروپ ون میں ساؤتھ افریقاآسٹریلیا، انگلینڈ، آسٹریلیااورویسٹ انڈیزکی ٹیمیںمد مقابل ہوں گی۔گروپ ون اورٹو میں مزید دوکوالیفائرٹیمیں بھی ہوں گی۔ اسی کے ساتھ راؤنڈ ون کے گروپ اے میں سری لنکا آئرلینڈ، نیدرلینڈزاورنمیبیا کھیلیں گی۔ راونڈ ون کے گروپ بی میں بنگلہ دیش، اسکاٹ لینڈ، پاپوا نیوگنی اورعمان جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021کے گروپس کا اعلان کردیا گیا۔ روایتی حریف پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ ٹو میں شامل کیا گیا ہے۔ آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 17 اکتوبرسے عمان اور یو اے ای شروع ہوگا۔آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی میزبانی انڈیا کر گا۔پہلے آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ انڈیا میں ہی شیڈیول تھا مگر بھارت میں کرونا کی خراب صورتحال کی وجہ سے اسے یو اے ای اور عمان میں شفٹ کر دیا گیا۔

    پاک بھارت مقابلہ دیکھنے کے لیے دونوں ملکوں بلکہ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔پاکستان اور انڈیا کے درمیان کوئی سریز نے ہونے ہونے کی وجہ سے ہمیں یہ موقع صرف بڑے ایونٹس میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔پچھلی بار جب دونوں حریف ٹیمیں مدمقابل ہوئی تھیں تو پاکستان نے انڈیا کو چمپین ٹرافی کے فائنل میں شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا تھا۔

    ایک اندازے کے مطابق جب پاکستان اور انڈیا کا چمپین ٹرافی کے فائنل میں جوڑ پڑا تو تقریبا 400 ملین افراد نے اس مقابلے کو دیکھا۔اس بات سے آپ اندازا لگا سکتے ہیں پاک بھارت ٹاکرا دیکھنے کے لیے شائقین کرکٹ کتنے بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔خیر اب انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں کیونکہ 17 اکتوبر سے آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ شروع ہونے جا رہے ہے اور پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ میں شامل کیا گیا ہے۔

  • کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید تمغہ بسالت/ ستارہ بسالت  تحریر: ایمان ملک

    کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید تمغہ بسالت/ ستارہ بسالت تحریر: ایمان ملک

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جہاں ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی قیمتی جانیں گنوائیں وہیں اس جنگ کے نتیجے میں متعدد سیاہ ترین واقعات بھی ہماری یاداشتوں کا حصہ بنے جو ہرگز کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ مگران سب سیاہ ترین واقعات میں جو امتیازی مقام جولائی سنہ2007ء کے سانحے کو حاصل ہے اس کی نظیر دیگر اقوام کی تاریخ میں شاید ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔ جب سنہ 2007ء میں پاکستان کے دارلحکومت، اسلام آباد کے وسط میں واقع ایک مسجد(لال مسجد) دہشت اور خوف کی علامت بن کر سامنے آئی۔ وہ مسجد جسے امن کا گہوارہ اور خیر کا وسیلہ ہونا چاہیئے تھا اُس نے ریاستی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر اپنی ذاتی شرعی عدالت قائم کرنے کا اعلان کردیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے کی صورت میں خود کُش حملوں کی دھمکی بھی دی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تین چینی خواتین اور دیگر افراد کو قابلِ اعتراض بیوٹی پالر چلانے کے الزام میں لال مسجد اور جامعہ حفضہ کے طلبہ و طالبات نے گرفتار کر لیا۔ علاوہ ازیں، اسلام آباد کی رہائشی ایک خاتون پر فحاشی کا اڈا چلانے کا بہتان لگا کر اسے نہ صرف اغواء کیا گیا بلکہ اس پر ڈنڈوں سے تشدد بھی کیا گیا۔ اسی اثناء میں 4 پولیس کے اہلکاروں کا اسلحہ چھین کر انہیں یرغمال بھی بنایا گیا۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں تھما بلکہ مولونا غازی عبدالرشید(مولانا عبدالعزیز کے چھوٹے بھائی) کی جانب سے قائد اعظم یونیورسٹی کی طالبات کے چہروں پر تیزاب پھینکنے اورمولانا عبدالعزیزکی جانب سے ایک فیشن میگزین کے منتظمین کو سزائے موت کا حکم سنانے جیسے گھناؤنے اقدامات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں جس نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار مجروح کیا۔ حتٰکہ ان کے قہر سے معصوم بچوں کی لائبریری اور دیگر سرکاری املاک بھی محفوظ نہ رہ سکیں۔

    ایسی گھمبیر صورتحال کا مقابلہ کرنا پاکستان کے لئے ہرگز کسی کڑی آزمائیش سے کم نہ تھا۔ ایک طرف ریاست کی عمل داری کی بحالی کا سوال تھا تو دوسری طرف معاشرے کے ان غریب اور مسکین بچوں کی جانوں کی فکر جو اس مسجد کے انتہا پسند نظریات اور ذاتی ایجنڈے کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مدارس ان ہزاروں ناداراورمفلس بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھا رہے ہیں جن کی ضروریات ان کے غریب والدین پورے نہیں کر سکتے اور یہی وجہ تھی کہ لال مسجد اور جامعہ حفضہ و جامعہ فریدیہ کے طلبہ و طالبات نے اپنے مدرسے کے منتظمین کے حکم پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے بندوقیں اٹھا لیں۔
    لال مسجد کی میڈیا کوریج کے دوران ایسے مناظر بھی عکس بند ہوئے جب یہ نوجوان اپنے منہ ڈھانپے اور گیس ماسک پہنے ہوئے دکھائی دیئے۔ جو کہ حیرت انگیز بات تھی کیونکہ اس قسم کے ماسکزسے ایک آدھ گھنٹے میں عادی ہونا کسی بھی انسان کے لئے ہرگز ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے مہینوں پر محیط ایک مکمل تربیت درکار ہوتی ہے ورنہ انسان کو قے ہونے لگتی ہے۔ ان نوجوانوں کی ماہرانہ جنگی صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ اُن میں سے ایک نے تواچھے خاصے فاصلے سے ایک رینجر کے اہلکار کے سر پر نشانہ لے کر اُسے شہید کر دیا۔
    بہرحال پاکستان نے پُرامن طریقے سے ان معاملات سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کی اوراس ضمن میں سیاستدانوں، سماجی کارکنوں حتٰکہ اس وقت کے امامِ کعبہ کی بھی خدمات حاصل کیں۔تاکہ کسی طرح یہ نوجوان طلبہ اور طالبات ہتھیار ڈال دیں اور پُر امن طریقے سے یہ معاملہ اختتام پزیرہوجائے۔ بہت سی طالبات نے تشدد کا راستہ ترک بھی کیا اوران کے ہی بھیس میں لال مسجد اور مدرسے کے منتظمین مولانا عبدالعزیز اور اُمِ حسان نے بھی مسجد میں اپنے دیگر طلبہ کوتنہا چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کرنا چاہی مگر وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آگئے۔ پاکستان نے مولانا عبدالرشید کو بھی اپنے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈالنے اور انہیں ان کے آبائی علاقے میں محفوظ ٹھکانہ دینے کی شرط پر ہر ممکن آمادہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے اور انہوں نے مزاحمت کے راستے کو ترجیح دی۔
    بالاآخر 10 جولائی سنہ 2007ء کو علی الصبح پاک فوج کے اسپیشل سروس گروپ(ایس ایس جی) کےاعلیٰ تربیت یافتہ کمانڈوز پر مشتمل دستہ تشکیل دیا گیا تا کہ آپریشن کیا جا سکے۔ مگر اس دوران بھی حکومتِ پاکستان کی ہر ممکن کوشش تھی کہ کسی طرح بنا آپریشن کے معاملات طے پا جائیں۔ عموماً اس طرز کے آپریشنز کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب عسکری اعتبار سے آپریشنز کی کامیابی کے لئے نہایت سودمند سمجھا جاتا ہے۔ مگر حکومتِ پاکستان نے اس وقت کوبھی صرف اس لئے ضائع کیا کیونکہ وہ تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مگر بد قسمتی سے اس سب کے باوجود حکومتِ پاکستان کی کوششیں کارگر ثابت نہ ہو سکیں۔ اور بالاآخر ریاست کے پاس بذریعہ ملٹری آپریشن(آپریشن سائیلینس) ملک کی تاریخ کے اس سیاہ ترین باب کوبند کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
    اس ملڑی آپریشن میں حصہ لینے والے پاکستان کے بیٹوں میں سے ایک نام کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید تمغہ بسالت، ستارہ بسالت کا بھی ہے جو آج بھی ایس ایس جی کے چند بہترین کمانڈوز میں شمار ہوتے ہیں۔ بہاولپور سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان آفیسر کی پاکستان کے لئے دی جانی والی خدمات کا سلسلہ اتنا طویل ہے کہ یہاں اس کا صرف مختصراً ذکر کرنا ہی ممکن ہوگا۔

    کیپٹن سلمان نوعمری ہی سے پاک فوج کے دلدادہ تھے اسی لئے وہ بحیثیت کمیشنڈ آفیسر پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے تھے مگر ان کے والدین انہیں ڈاکٹر بنانے پر مصر تھے۔ کیپٹن سلمان نے اپنی ہمشیرہ کی معاونت سے بڑی مشکلوں سے اپنے والدین کی منت سماجت کر کے انہیں منایا۔ اور اس طرح انہیں103پی ایم اے لانگ کورس کے ہمراہ پاک فوج میں شمولیت اختیارکرنے کاموقع ملا۔
    کیپٹن سلمان نے پاک فوج میں اپنی افتادِ طبع کے مطابق ایس ایس جی گروپ کا انتخاب کیا اور بعد ازاں وہ اس کی ایک اینٹی ٹیررسٹ کمپنی’ قرار کمپنی’ سے منسلک ہو گئے۔ پاکستان کے اس جری سپوت نے سنہ 2004ء کے دوران جنوبی وزیرستان میں بھی انسدادِ دہشت گردی کے ضمن میں ‘آپریشن المیزان’ کے دوران اپنی خدمات سرانجام دیں، جب ہمارے قبائلی علاقہ جات دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا گڑھ سمجھے جاتے تھے۔ کیپٹن سلمان کو قبائلی علاقہ جات میں ان کی گراں قدر خدمات سرانجام دینے کے عوض صدر جنرل مشرف کی جانب سے تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔ اس کے بعد بھی انہیں مزید ایک بار تمغہ بسالت کے لئے نامزد کیا گیا مگر انہوں نے یہ کہ کر اُسے لینے سے انکار کر دیا کے باقی سپاہیوں کا بھی حق ہے لہٰذا یہ اعزازدیگر افسران میں سے کسی کودے دیا جائے۔

    اپنے مزاج سے اپنے افسران اور دیگر ساتھیوں کے دلوں کو گھر کرنے والے کیپٹن سلمان شہید کے جونیئر آفیسر کیپٹن بلال ظفر شہید اس قدر ان کے مداح تھے کہ وہ ہمیشہ اپنی جیب میں کیپٹن سلمان کی تصویر رکھتے تھے کیونکہ وہ ان کے لئے ایک استاد کا درجہ رکھتے تھے۔
    کیپٹن سلمان کی شادی کے موقع پر(لال مسجد آپریشن سے 8 ماہ قبل) ان کی ہمشیرہ نے ان کی شہادت سے متعلق خواب دیکھا جس سے وہ قلبی اضطراب میں مبتلا ہو گئیں۔ ایسے ہی متعدد خواب کیپٹن سلمان کی شہادت سے قبل کیپٹن سلمان نے خود اور خاندان کے دیگر افراد نے بھی دیکھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے خوابوں کو اس وقت مقبولیت بخشی جب وہ آپریشن سائیلینس کے لئے لال مسجد میں اپنے دیگر ساتھیوں سمیت داخل ہوئے۔ کسی نے بھی یہ گمان نہیں کیا تھا کہ محض عام سے مدرسے کے طلبہ سے انہیں اس قدد مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس مدرسے کے نام نہاد طلبہ کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کے خلاف راکٹ لانچرز،ہینڈ گرینیڈز اورمشین گنز کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ غرض یہ کہ پوری لال مسجد اور جامعہ حفظہ(خواتین کے مدرسے) کا احاطہ بوبی ٹرایپ تھا اور بیشتر جگہوں پر بارودی سرنگوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ اس طرح حربی حکمت عملی کے اعتبار سے پورے علاقے کو تیار کرنا محض مدرسے کے عام سے طلبہ کی بس کی بات نہیں لگتی۔ وہاں یقیناً تربیت یافتہ دہشت گرد موجود تھے اسی لئے جامعہ حفضہ کی صرف سیڑھیوں پرہی ایس ایس جی کے چار جوانوں کا شہید ہو جانا ہرگز اچنبھے کی بات نہیں۔
    کیپٹن سلمان کے ساتھ اس وقت آپریشن میں موجود ایک لانس نائیک کے مطابق کیپٹن سلمان نے ہی انہیں پیچھے دھکیل کر ان کی جان بچائی جب ایک گرینیڈ ان کے پاؤں کے قریب آکر گرا۔ کیپٹن سلمان کے دیگر ساتھیوں اوراس آپریشن میں شریک ان کے دوستوں کے مطابق کیپٹن سلمان بہت محتاط تھےاورانہوں نے ہرممکن کوشش کی شرپسند خود ہتھیار ڈال دیں مگر ان کی کوششیں بے کار ثابت ہوئیں۔

    اِدھر کیپٹن سلمان کے چھوٹے بھائی نے خواب دیکھا کہ کیپٹن سلمان انہیں خدا حافظ بول رہے ہیں۔ اور کیپٹن سلمان کی ہمشیرہ نے شہادت کے کلمات، اور اپنے بھائی کی شہادت کے اعلانات ہوتے ہوئے دیکھے۔ اُدھر کیپٹن سلمان اپنے وطن کی حفاظت کے عہد کو نبھاتے ہوئے اپنی آخری سانسیں بھی اس وطن پر نچھاور کر گئے۔ ایس ایس جی کے اس بہادر بیٹے کو آٹھ گولیاں لگیں جن میں سے ایک ان کےسر سے گزرتی ہوئی ان کی گردن میں لگی اور کیپٹن سلمان کو شہادت کے اعلیٰ ترین رتبے پر فائز کر گئی۔ اور یوں عظمت و ہمت کی یہ داستان سنہری حروف کے ساتھ عسکری تاریخ میں محفوظ ہو گئی۔ کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید کو بعد از شہادت ان کی ملکی دفاع سے متعلق لازوال خدمات کے اعتراف میں ستارہ بسالت سے نوازا گیا۔ اس طرح ابھی تک وہ واحد شہید آفیسر ہیں جو تمغہ بسالت اور ستارہ بسالت دونوں اعزاز پانے کا شرف رکھتے ہیں۔
    لہٰذامذکورہ بالا حقائق کے پیشِ نظر اس امر کا ادراک کرنا ہرگز دشوار نہیں کہ ریاستِ پاکستان نے بذریعہ مزاکرات ان معاملات کو طے کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ایک ہاتھ سے نہیں۔ آج اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ لال مسجد آپریشن میں ناحق لوگوں کو مارا گیا کوئی یہ نہیں سوچتا کہ پاک فوج کے 10 تربیت یافتہ کمانڈوز کو کس نے شہید کیا؟ درجنوں کمانڈوز زخمی ہوئےاورمتعدد کی ٹانگیں لال مسجد اور جامعہ حفضہ میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نزر ہو گئیں۔ کیا یہ سب پاکستان کے بیٹے نہیں ہیں؟ جو اپنے لواحقین کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑکرملکی دفاع کے لئے ہمہ وقت قربان ہونے کو تیار کھڑے رہتے ہیں۔ اوراس سے بھی زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ آج بھی پاکستان کے ان قومی ہیروز کے اہلِ خانہ خوف کے سائے میں اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے مجرم پاکستان کے دارلحکومت میں آج بھی دندناتے پھرتے ہیں۔
    ایمان ملک