ہم کہنے کو تو ایک آزاد ریاست پاکستان میں رہتے ہیں لیکن کیا ہم واقعی آزاد ہیں یہ سوال ہمیشہ سے میرے ذہن کو مطمئن نہیں کرتا اگر ہم آزاد ہیں تو پھر یہ آزادی نظر کیوں نہیں آتی حقیقت تو یہ ہے کے ہم کبھی آزاد ہوئے ہی نہیں آزادی وہاں ہوتی ہیں جہاں سوال اٹھانے کی اجازت ہو جہاں اپنے موقف اور نظریہ کو رکھنے کا موقعہ ہو جہاں آپ کے موقف کو سنا جائے لیکن پاکستان میں آپ سوال اٹھائے گے تو آپ کو ہر وقت اس بات کا خوف ہو گا کے نہ جانے کب کوئ گولی آئے اور مجھے قبرستان کا راستہ دیکھا دے یا آپ کی فیملی کا مستقبل خطرے میں ہو آپ اپنے نظریات صرف اس وجہ سے بیان نا کریں کے آپ پرسیکولرزم لبرلزم انتہا پسند کے فتوے نا لگا دیے جائے آپ کا جینا مشکل کر دیا جائے اور آپ کی رائے اورموقف کو سنا تک نا جائے مگر افسوس موقف تو وہاں سنا جاتا یا رائے کی آزادی ہو مکالمہ تو اس قوم سے پہلے ہی چھین لیا گیا اب آپ کا موقف آپ کی رائے وہی ہونی چاہیے جو ریاست کی ہے نہیں تو آپ غدار ملک دشمن کہلائے گے اس کے بعد ہمارے ہاں مذہب کو سیاست میں جس طرح سے استعمال کیا گیا اس نے آزادی کو مزید ختم کر دیے اب تو کوئ شخص مذہبی فکر میں موجود خرابی پر بھی اس ڈر سے بات نہیں کرتا کے اسے کافر اور گستاخ قرار دے کر دن دہاڑے مر دیا جائے گا تاریخ کو بھی مسخ کرنے میں ہم نے کوئ کسر نا چھوڑی اور خود کو تیس مار خان سمجھنے لگے ہیں کے دیکھو جو بیان کیا جا رہا ہے اس کو مانا جا رہا ہے اس سے آپ شاید اپنی آنکھوں میں تو دھول جھونک سکتے ہیں مگر تاریخ کو مسخ کرنے سے تاریخ کا کچھ نہیں ہو گا وہ آپ کو مسخ کر دے گی حقیقت تو یہ ہے کے پہلے ہم انگریز کے جسمانی غلام تھے ہماری سوچ فکر اور نظریے آزاد تھے مگر اب جسمانی غلام تو نا رہے مگر نظریات و افکار میں ہم پہلے سے زیادہ غلام بن گے اور بنتے جائیں گے جب تک سوال نہیں اٹھائیں گے.
Category: بلاگ
-

محبت اورہمارا معاشرہ . تحریر : صالح_ساحل
اس کائنات میں سب سے خوبصورت جذبہ محبت ہے محبت کس حد کی پابند نہیں پھر چاہیے یہ درختوں سے ہو پرندوں سے ہو انسانوں سے وہ یا مرد اور عورت کے درمیان ہو مگر ہمارے معاشرہ محبت کے قصے کہانی بڑھے شوق سے پسند کرتا ہے ان کہانیوں داستانوں میں محبت کے مخالفین کو برا کہتا ہے مثال کے طور پر آپ ہیرے رانجھے کی کہانی اٹھا کے پڑھ لے بچپن سے جہاں سنی سب قیدو نامی کراردر کے سخت مخالف مگر جب یہ محبت ہمارے گھر میں لڑکا یا لڑکی کرے تو ہم خود قیدو بند جاتے ہیں تب مجھے یہ سمجھ آتی ہے کے ہمارہ معاشرہ دوہرہ معیار رکھتا ہے.
اب چلیں آگے تو یہ کہانی اور اور اس جیسی ہر کہانی تو پرانی ہوئ نئے دور کی بات کرتے ہیں ہر آدمی کے پاس موبائل ہے جن کے پاس موبائل نہیں ان کے پاس ٹی وی لازمی ہو گا فلموں اور ڈرموں میں ہمیشہ لوگ محبت کے مخالف کو ویلن قرار دیتے ہیں اور ان کے جذبات دیکھنے والے ہوتے ہیں کے ان کا بس نہیں چلتا کے ڈرامہ یا فلم کے درمیان اٹھ کر ایک دوسرے کو ملا دیں مگر جب یہ محبت جن ان کے آس پاس کوئ کرتا ہے تو اس ویلن کا کردار خود ادا کرتے ہیں مگر جب اپنا معاملہ ہو تو ان کو سہی لگتا ہے دوسرے کے بارے میں غلط آخر یہ معاشرہ ڈبل سٹینڈرڈ کے ساتھ منافق بھی ہے اگر آج کسی لڑکے یا لڑکی کو یہ ڈر نا ہو کے اس کے اظہار محبت پر گھر والے اس کے مخالف نہیں ہوں گے تو وہ کبھی غلط قدم نا اٹھے مگر بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے ہر شخص اپنے لیے تو رانجھا اور دوسروں کے لیے قیدو کا کردار ادا کرتا ہے تو ایسے معاشرے کو چاہیے اپنا نام منافق معاشرہ رکھ لے.
-

امت مسلمہ میں قربانی کا جذبہ . تحریر : رانا احسان اللّٰہ
اشرف المخلوقات کی قربانی حضرت آدم علیہ السلام کے دور سے ان کی اولاد سے شروع ہوئی اور چلی آرہی ہے لیکن جانور زبح کرنے کے احکام حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نبوت کے دور میں شروع ہوئے اور اللہ کے حکم کی تعمیل کی گئی۔ جانور کی قربانی لازم نہیں 50 لاکھ یا 30 لاکھ بیل خرید کر ہی کی جائے اور ذبح کیا جائے اور ذبح کرنے سے پہلے بیل کو دکھاوے کے طور پر محلے اور بازار میں ہرگز نہ گھمایا جائے بلکہ پر خلوص نیت سے خالص اللّٰہ تعالٰی کے لیے قربانی کی جائے بے شک یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ پانچ ہزار والے دھمبے یا بکرے کی قربانی قبول ہو گی یا بازاروں میں دکھاوا کرنے والے 50 لاکھ یا تیس لاکھ کے بیل کی قربانی قبول ہوتی ہے اصل قبولیت تو نیت خالص ہی کی ہے ابراہیم علیہ السلام کو اللّٰہ تعالٰی نے کم و بیش 84 سال کی عمر میں بیٹا عطا کیا اولاد کے لیے دعا مانگتے مانگتے 60 سال پھر 65 سال گزر گئے اور پھر تھوڑا عرصہ بعد اللّٰہ سبحان تعالٰی کا حکم آیا جاؤ اسے چھوڑ کر آؤ ابراہیم علیہ السلام بولے کہاں چھوڑ کے آؤں تو پھر فرشتہ جبریل علیہ السلام انسانی شکل میں اونٹنی پہ بیٹھ کر آئے دوسری اونٹنی پہ ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت حاجرہ اور بیٹا اسمعیل علیہ السلام سوار تھے اور ساتھ ابراہیم علیہ السلام فلسطین سے لمبا سفر طے کر کے چلتے چلتے مکہ معظمہ کے کالے پہاڑوں میں پہنچ گئے مکہ معظمہ کے پہاڑوں میں نہ پانی ہے نہ کوئی درختوں کا سایہ۔ حکم آیا یہاں چھوڑ دو ابراہیم علیہ السلام جو آگ میں بھی نہیں گھبرائے عرض کی یہاں کیسے چھوڑ دوں یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے تو جبریل نے فرمایا اللہ سبحان و تعالٰی کی یہی منشا ہے۔ کہ آپ کو یہیں چھوڑ دیا جائے.
تو انہیں وہیں چھوڑا اور ابراہیم علیہ السلام وآپس چل دیے بی بی حاجرہ پریشان ہو گئیں آپ یہاں چھوڑ کے کیوں جا رہے ہیں تین میل تک ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چلتی رہیں انہیں جواب نہیں ملا پھر ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا حکم ہے کہ ہم فلسطین سے مکہ تک عظیم قربانی پیش کرنے آئے پھر جب اسمعیل علیہ السلام تھوڑا بڑے ہوئے تو انہیں ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا بیٹا اللہ سبحان و تعالیٰ کا حکم ہے کہ آپ کو اللہ کی راہ میں قربان کردوں.
یٹا بولا بابا پھر کر دیں زبح ابراہیم علیہ السلام بولے بیٹا آپ کو خبر ہے میں کیا کہہ رہا ہوں
بیٹا بولا مجھے زبح ہونا ہے اور آپ کے بدلے میں مجھے اللّٰہ تعالٰی ملے گا دنیا کے بدلے مجھے جنت ملے گی اسمعیل علیہ السلام نے فرمایا یہ میرا کرتا میری اماں کو دے دینا ابراہیم علیہ السلام نے اسمعیل علیہ السلام کے ہاتھ پاؤں باندھے اور الٹا لٹا دیا ابراہیم علیہ السلام نے سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا اے اللہ مجھ سے ناراض ہو گیا ہے کیا اسمعیل علیہ السلام کی محبت نے میرے دل میں پکڑ لی ہے اے اللہ میرے دل میں تیرے سوا کچھ نہیں ہے اگر میرا کوئی امتحان ہے تو پاس کر دے انہوں نے چھری چلا دی
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسمعیل علیہ السلام کی جگہ چھترے کو ڈال دیا جب ابراہیم علیہ السلام نے آنکھ کھولی تو آگے چھترا زبح پڑا تھا۔
ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید قربان کے موقع پر دو چھترے زبح کرتے تھے نہ بکرے نہ گائے بلکہ چھترے کرتے۔ ایک اپنی طرف سے ایک اپنی امت کی طرف سے سبحان اللہ حج کے موقع پر آپ نے 63 اونٹ زبح کیے تھے۔ایک اونٹ میں سات آدمیوں کا حصہ ہوتا ہے مالداروں کے لیے اک بڑا پیغام ہے۔ ہمارے ملک میں عجب کہانی ہے بیل لے کر 20 لاکھ کا یہ فخر ہے ریاہ ہے بناوٹ ہے دکھاوا ہے مالداروں سے درخواست ہے کہ آپ بیس لاکھ یا پچاس لاکھ کے بکرے خریدیں تاکہ بہت سے غریبوں میں زیادہ سے زیادہ گوشت تقسیم ہو سکے
اب تو مالداروں میں مقابلہ بازی شروع ہو چکی ہے صرف دکھاوے کے لیے تیس لاکھ یا پچاس کے بیل خریدے جا رہے ہیں مالداروں کو چاہیے غریبوں کو زیادہ سے زیادہ فائدے پہنچائیں
قربانی کے جانور کے جتنے بال ہوتے ہیں اتنی ہی نیکیاں متی ہیں دعا ہے اللہ سبحان و تعالیٰ ہمیں ایثار کے جزبے کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین@Rana241_7
-

دورحاضر کی جنگی حکمت عملی . تحریر: چوہدری یاسف نذیر
اٹھارہویں صدی میں جنگ کا پہلا طریقہ یہ سامنے آیا کہ کسی ملک کی فوج اور ہتھیاروں کا رخ دوسرے ملک کی جانب موڑ دیا جاتا تھا اور یوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ ہوتا تھا۔اُنیسویں صدی میں جنگ کا دوسرا طریقہ متعارف ہوا جس میں صف بندی کر کے حملہ نہیں کیا جاتا تھا بلکہ منتشر اور بیک وقت کئی مقامات سے حملہ آور ہوا جانے لگا۔ دوسری قسم کی جنگ میں افرادی قوت کی بجائے ہتھیاروں پر زیادہ زور رہا۔ بیسوی صدی میں جنگ کا تیسرا طریقہ متعارف ہوا جو چار طریقوں کا مجموعہ تھا۔ اِس میں حملہ کرنے کی رفتار‘ حملہ کرتے ہوئے خود کو مخفی رکھنا‘ اچانک حملہ آورہونا اورکسی ملک کے دفاعی نظام میں موجود خامیوں کی تلاش کر کے اُس کی پشت سے حملہ کرنا تھا۔ اِس قسم کی جنگی حکمت عملی میں ٹینک‘ بھاری توپ خانہ اور جنگی ہوائی جہاز استعمال کئے گئے۔انسانی تاریخ میں باالخصوص اگر 300 برس کا مطالعہ کیا جائے تو اِس میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں جنگ کے اِنہی تین طریقوں کا استعمال کیا گیا.
لیکن اِن تین سو سالہ جنگی تاریخ میں ممالک کے درمیان جنگ کا میدان بدل گیاہے اوراب فوجیوں کا ایک دوسرے کے سامنے صف آراہونا ضروری بھی نہیں ہے۔ چلتے چلتے ہم اکیسویں صدی میں آ پہنچے ہیں اور یہاں جنگیں ممالک کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کی صورت میں لڑی جاتی ہیں۔ آج کی جنگوں کا ایک ہتھیار ’انفارمیشن ‘ بھی ہے۔ امریکہ کے ایک اعلیٰ فوجی اہلکار جنرل (ریٹائرڈ) سٹینلے میک کرسٹل نے ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”عصر حاضر کی دفاعی حکمت عملی اور کسی ملک پر حملے میں وہاں کے سوشل میڈیا کا استعمال بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا جنگیں آج سچ جاننے اور سچ کی کھوج کے لئے لڑی جائیں گی اور جہاں معلومات اور غلط معلومات کی کھوج کے لئے جنگیں ہوں وہاں جنگ کا میدان اور جغرافیائی حدود و قیود بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔آج کی جنگ کسی میدان میں نہیں لڑی جاتی بلکہ یہ اعصاب اور ذہنوں پر مسلط کر دی جاتی ہے۔ کسی ملک پر حملہ آور ہونے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کی سوچ پر تسلط حاصل کر لیا جائے اور انہیں وہی سچ لگے جو بتایا جائے اور اُنہیں وہی جھوٹ لگے جو بتایا جائے یعنی اُن کے اپنے فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت ختم ہو جائے اور وہ سوچنے سمجھنے میں اِس حد تک محتاج ہو جائیں کہ اُن کے لئے قابل یقین حکمت عملی یہی ہو جو اُن تک سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچ رہی ہو۔ آج کی حقیقت کا رخ یہ ہے کہ سوشل میڈیا جنگ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں اورممالک کے لئے جہاں یہ بات ضروری ہے کہ وہ خود کو دشمن کی دفاعی صلاحیت سے باخبر رکھیں اوراُس کے ہتھیاروں کو توڑ بناتے رہیں وہیں غلط معلومات پھیلانے کا بھی سدباب کیا جائے ۔کسی ملک کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے آغاز کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور یہ مقررہ وقت سے شروع ہونے کے بعد اختتام تک وقت کے حساب کتاب کے ساتھ جاری رہتی ہے کہ کوئی جنگ کتنے منٹ اور کتنے سیکنڈ جاری رہی اور اِس دورانئے کے دوران کتنا جانی و مالی نقصان یا اخراجات ہوئے۔
موجودہ دور کی ’ہائبرڈ جنگ‘ ایسی ہے کہ یہ دن رات جاری رہتی ہے۔ اِس کا دورانیہ لامحدود ہے اور اِس کا کوئی مقررہ وقت بھی نہیں کہ یہ کب شروع اور کب ختم ہوگی بلکہ اِسے مسلسل جاری رکھا جاتا ہے کیونکہ اِس کا ہدف انسانوں کے اعصاب اور سوچ ہوتی ہے۔ یہ جنگ انٹرنیٹ کے ذریعے ’آن لائن‘ لڑی جا رہی ہے۔ انسانی تاریخ میں جنگوں نے افرادی قوت و ہتھیاروں سے ذہنی و نفسیاتی شکل اختیار کرنے میں 300 سال کا وقت لیا ہے۔ اِسی طرح مشینوں سے انفارمیشن پر مبنی جنگ شروع ہونے میں 10برس کا عرصہ لگا ہے۔ آج کی جنگ مصنوعی ذہانت کے ذریعے لڑی جا رہی ہے ۔ انسانی معاشروں میں جنگیں جاری رہتی ہیں یا پھر جنگوں کی تیاری جاری رہتی ہے لیکن اِن کے ہتھیار‘ طریقہ کار اور انداز بدلتے رہتے ہیں۔ آج ”سوشل میڈیا‘ ‘کا دور ہے۔ آج کے دور کی جنگ چوبیس گھنٹے جاری ہے۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا کسی بھی ملک میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے ویسے ہی پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کا اہم کردار ہے۔ ہماری نوجوان نسل کی بہت زیادہ تعداد سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال کرتی ہے جبکہ ہمارا کردار ریاست کو مظبوط کرنے ، اسلام اور پاکستان کا مثبت امیج دنیا کے سامنے لانے، پاکستان کے خلاف جاری پروپگنڈا کو کاونٹر کرنے، حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی ،اداروں میں خرابیوں اور پاکستان کے مسائل کو آجاگر کرنے میں ہونا چاہیے
حکومت پاکستان کو چاہیے کے سوشل میڈیا کا استعمال اور اس دور میں اسکی ضرورت کو مدنظررکھتے ہوے عوام میں شعور بیدار کرے، عوام کو پاکستان کا بیانیہ سامنے لانے پرراغب کیا جائے۔ سوشل میڈیا صارفین کی پزیرائی، انکے مسائل پر اٹھائی جانے والی آواز پر ایکشن، لوگوں کو اس طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کریگا۔ اگر حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کے حوالے سے کانفرس وغیرہ ہوتی رہیں تو لوگوں کو مثبت کام کی طرف لانے میں آسانی ہوگی
ہائبرڈ وار فئیر کا شکار ہونے سے بچنے کا بہترین طریقہ ہمیں ملکی مفادات کو پہلے رکھنا ہو گا۔پاکستان کے دشمن پاکستان کو زیر کرنے کے لئے کروڑوں ڈالرز ہر سال اسی پر خرچ کرتے ہیں۔ کئی محب وطن پاکستانئ سوشل میڈیا پر منہ توڑ جواب دے رہے ہیں جس کے بہترین نتائج ہمارے ملک کو ملے ہیں۔ماضی قریب میں اسکی مثال ابھی نندن کی گرفتاری ہے جب 27 فروری 2019 کو سوشل میڈیا پر بیانیئے کی جنگ کامیابی سے لڑی گئی

Chaudhry Yasif Nazir
Chaudhry Yasif Nazir is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter account
-

شرم و حیا . تحریر: ہیر ملک
نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ… اَمّا بَعْد…
آج کچھ بات کرتے ہیں شرم و حیا اور دینِ اسلام میں اس کی اہمیت پر.
حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ "حیا ایمان میں سے ہے اورایمان جنت میں ہے. بے حیائی بدی میں سے ہے اور بدی جہنمی ہے.” (ترمذی شریف)
یعنی اہلِ ایمان جنتی اور بے حیا جہنمی ہیں.شرم و حیا عورت کا زیور اور مرد کی زینت ہے. شرم و حیا دونوں ہم معنی الفاظ ہیں جن کا مطلب ہے کہ جس کام میں انسان کو کوئی گُناہ یا بے ادبی معلوم ہو اُس سے پرہیز کرے.
انسان کا یہ فطری وصف ہے جس سے اِس کی بہت سی اخلاقی خوبیوں کی پرورش ہوتی ہے. شرم و حیا ایک ایسی خوبی ہے جو بہت سے گناہوں سے بچاتی ہے. عفت اور پاکبازی کا دامن اِسی کی بدولت ہر داغ سے پاک رہتا ہے.
حدیثِ قُدسی میں آیا ہے کہ "عزت اور جلال والے رب کو اِس بات سے حیا آتی ہے کہ جب اُس کا کوئی بندہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر کچھ مانگتا ہے اور وہ اُن ہاتھوں کو خالی لوٹا دے.” (مسند احمد)
حیا کا فطری وصف اگرچہ اپنی جگہ تعریف کے قابل ہے تاہم وہ کبھی کبھی انسان کے لیے اس وقت مُضر بھی ہو جاتا ہے جب اُس میں بُزدلی اور خوف کا عنصر شامل ہو جاتا ہے اور وہ بہت سے اجتماعی کام محض شرم و حیا کی وجہ سے نہیں کر سکتا. اِس لیے حیا کی حقیقت میں بُزدلی کا جو جُز شامل ہے شریعتِ مطہرہ نے اِس کی اصلاح کی ہے اور وہ یہ ہے کہ امرِ حق کے اظہار میں شرم و حیا دامن گیر نہ ہو. لیکن دوسروں کی مروت سے چُپ رہ جانا ایک قسم کی شرافت ہے جو ایک معنی میں تعریف کے قابل ہے. چنانچہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نہایت شرمیلا اور حیادار تھا. اِس وجہ سے نقصان اٹھاتا تھا. اُس کا بھائی، اُس پر ناراضگی کا اظہار کر رہا تھا. حضور ﷺ نے دیکھا تو فرمایا "اِس پر غُصہ نہ کرو کیونکہ حیا ایمان سے ہے.”
یہی شرم و حیا جو ایمان کا ایک جُز ہے شرعی حیا ہے. یعنی جس طرح ایمان کا مطلب یہ ہے کہ تمام فواحش و منکرات سے اجتناب کیا جائے اِسی طرح شرم و حیا بھی انسان کو اِن چیزوں سے روکتی ہے.
شرم و حیا انسان میں فطری ہوتا ہے اور اگر اِس کی مناسب تربیت کی جائے تو وہ قائم رہتا ہے اور اگر اِس کے خلاف صحبت مل جائے تو اِس کا ساتھ جاتا رہتا ہے. مثال کے طور پر مشرق کی عورت اور مرد میں شرم و حیا ہر معاملہ میں بدرجہ اتم موجود ہے اِس کے برعکس مغرب کی عورت و مرد شرم و حیا سے قطعاً عاری ہیں.
ایک بچہ جس کی تربیت شرم و حیا کے مطابق کی جائے وہ کسی کے اصرار پر بھی اپنے کپڑے اُتارنے کو تیار نہیں ہو گا. مثال کے طور پر کسی بھی بچے کے حساس سَتر کو برہنا کریں گے تو وہ بچہ اس کی مدافعت کرے گا اور کئی بچے تو ہاتھوں سے مزاحمت اور رو کر اس کی مدافعت کرتے ہیں.
رسول ﷲ ﷺ جب بچے تھے تو خانۂ کعبہ کی تعمیر کا کام ہو رہا تھا. آپ ﷺ اینٹیں اُٹھا اُٹھا کر لا رہے تھے. آپ ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ نے کہا کہ تم تہمد کھول کر کندھے پر رکھ لو کہ اینٹ کی رگڑ نہ لگ جائے. آپ ﷺ نے ایسا کیا تو آپ ﷺ پر بے ہوشی طاری ہو گئی. ہوش آیا تو زبان پر تھا "میرا تہمد”. حضرت عباسؓ نے تہمد باندھ دیا.
نبوت کے بعد بھی آپ ﷺ کا یہ حال تھا کہ صحابہؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرمیلے تھے.
حدیث شریف میں ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا: "الحَيَاءُ خَيرٌ كُلُّهٌ” یعنی حیا سراپأ خیر ہے.
یعنی حیا سراسر خیر ہے اور اس میں سو فیصد خوبیاں ہیں.شرم و حیا کی کئی اقسام ہیں. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "ایمان کی ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا ایمان کی ایک بہت بڑی شاخ ہے.” (بخاری شریف)
ان اقسام پراگر لکھا جائے تو ایک زندگی چاہیے. انسان کی زندگی کے ہر معاملہ میں شرم و حیا کا دخل ہے. مثلاً لڑکیاں لڑکوں کے ہجوم میں جاتے ہوئے گھبراتی (شرماتی) ہیں. اگر اُن کو کوئی چیز لینی ہے تو صرف شرم و حیا ہی اُن کا رستہ روکتی ہے. اس کے برعکس مردوں کے لیے شرم و حیا یہ ہے کہ وہ عورتوں کا ہجوم دیکھ کر راستہ سے ہٹ جاتے ہیں، نگاہیں جھکا لیتے ہیں یا پھر کام کی جگہ پر عورتوں کو پہلے کام کرنے دیں یا اُن کے لیے کام کرنے کے لیے جگہ بنائیں.
لین دین، رشتہ داری، ہمسائیگی، شہری، دوست، مُلکی دوست، غیر مُلکی دوست، حتی کہ اس کا دائرہ کار تمام انسانیت پر مُحیط ہے.
شرم و حیا ایک مسلمان، کافر کے ساتھ سلوک کرتے ہوئے بھی ملحوظِ خاطر رکھتا ہے. مثال کے طور پر رسولِ کریم ﷺ نے کُفارِ مکہ کے ساتھ ہر معاملہ میں شرم و حیا اور اخلاق کا دامن کبھی نہیں چھوڑا. یہ شرم و حیا ہی تھی کہ فتحِ مکہ کے بعد، عورتوں، بچوں اور ضعیفوں پر ہاتھ اُٹھانے سے سختی سے منع کیا گیا تھا. جس کے گھر کا دروازہ بند ہو اُس پر حملہ کرنے سے منع کیا گیا. اور شرم و حیا کی حد یہ تھی کہ اپنے عظیم دشمن ابو سفیان کے گھر پناہ لینے والے کو بھی معاف کیا.
حضور ﷺ نے زندگی کے ہر معاملے میں، ہر قوم اور ہر نسل کے ساتھ شرم اور حیا کا خیال رکھتے ہوئے سلوک کیا. اگر تمام مسلمان "خصوصاً” اور دوسرے انسان "عموماً” اس پر عمل کرنا شروع کر دیں تو اولادِ آدم ایک قوم بن کر اُبھرے گی.
یہ شرم و حیا کا عمل ہے جس کی وجہ سے ایک انسان دوسرے انسان سے محبت کرتا ہے. اُس کی مدد کرتا ہے. اُس سے روابط بڑھاتا ہے، رشتہ داریاں پیدا کرتا ہے، تجارت کرتا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ ملنا جُلنا بڑھاتا ہے.
شرم و حیا صرف ایمان ہی نہیں بلکہ مکمل دین ہے.
حدیثِ قُدسی میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ
"ہر دین کی (خاص) عادت ہوتی ہے اور اسلام کی عادت حیا ہے”. (مشکوٰۃ شریف)یہی انسانیت کی معراج ہے. اگر انسان میں فطرتاً شرم و حیا نہ ہوتی اور وہ اس کی حفاظت نہ کر پاتا تو دُنیا میں آج انسانیت نہ ہوتی بلکہ چنگیزی ہوتی.
جیسا کہ ایک اور حدیثِ قُدسی میں ارشاد کیا کہ”حیا اور ایمان دونوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی اٹھ جائے تو دوسرا بھی خود بخود اٹھ جاتا ہے”. (مشکوٰۃ شریف)ایک اور حدیث میں حیا کی فضیلت اس طرح بیان ہوئی کہ "بے حیائی جب بھی کسی چیز میں ہو گی تو اُسے عیب دار ہی بنائے گی. اور حیا جب بھی کسی چیز میں ہو گی تو اُسے مزین اور خوبصورت ہی کرے گی.” (ترمذی شریف)
انسان کو ﷲ کا شُکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے انسان کو مل کر رہنے کے لیے شرم و حیا جیسا عطیہ عطا فرمایا جس کی وجہ سے وہ آج اشرف المخلوقات ہے.
و آخر دعوانا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ…
@heermmalik
-

اپنے بچوں سے دوستی کریں . تحریر : شمس الدین
والدین کو چاہیے اپنے بچوں کی باتیں سنیں ان سے پیار کریں ان سے دوستی کریں. اپنے بچوں کا خاص خیال رکھیں ان کی ہر حرکت پر نظر رکھیں انہیں صاف بہتر ماحول دیں. سب سے پہلے اپنے بچوں کی اچھی پرورش کریں انہیں اچھا اخلاق سکھائیں بہتر سے بہتر تعلیم دیں. اپنے بچوں کو ٹائیم دیں ان کی کٹھی میٹھی باتیں سنیں.
جو والدین اپنے بچوں کو ٹائیم نہیں دیتے وہ بڑا نقصان اٹھاتے ہیں. ان کے بچے جب بڑے ہوتے ہیں وہ بد اخلاق تعلیم محروم بڑوں کا کہنا نہیں مانتے برے کاموں میں مبتلا ہوجاتے ہیں. پہر والدین کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں. اگر شروع سے ان بچوں کی اچھی تربیت ہو ان کو اچھا بہتر ماحول دیا جائے انہیں بہتر تعلیم دی جائے تو وہ بچے بڑے ہوکر اچھے بن سکتے ہیں. بڑوں کا ادب بھی کریں اچھا اخلاق اپنائیں گے.
معذرت سے کہنا پڑ رہا ہے کچھ والدین ایسے ہوتے ہیں جو بچوں کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے. میرا ان سے سوال ہے جب آپ کو اولاد نہیں چاہیے تھی تو ان کو پیدا کیوں کیا؟ جب ان کو اچھا ماحول نہیں دے سکتے اچھی تعلیم نہیں دے سکتے اچھا اخلاق نہیں سکھا سکتے تو پہر اولاد کو پیدا ہی کیوں کیا؟ اور ایسے بھی دیکھا ہے جب وہ بچے بڑے ہوتے ہیں والدین کا کہنا بلکل نہیں مانتے والدین سے اونچی آواز میں بات کرتے ہیں. تب ان والدین کو بھی احساس ہوتا ہے کے میرا بچہ کہنا نہیں مانتا اچھے طریقے سے بات نہیں کرتا. جب والدین شروع سے ہی اپنے بچوں کو آوارہ چھوڑ دیں گے تو نتیجہ یہی نکلے گا آپ کی اولاد بڑی ہوکر آپ کے سامنے کھڑی ہوگی آپ سے اونچی آواز میں باتیں کریگی ایک دن ایسا بھی آئیگا آپ کے بچے آپ دور بھی ہوجائیں گے.
ایسی نوبت آنے پہلے اگر آپ چاہتے ہیں کے آپ کی اولاد بڑی ہوکر بااخلاق بنیں آپ کا کہنا مانے بڑوں کا ادب کرے تو آپ کو اپنے بچوں کو ٹائیم دینا ہوگا ان کی باتوں کو سننا ہوگا ان سے دوستی کرنا ہوگی. ان کی چھوٹی موٹی باتیں سننا ہوگی جب آپ اپنے بچوں کو ٹائیم دیں گے ان سے پیار محبت سے باتیں کریں گے ان کے جائز مطالبات مانیں گے ان کی اچھی تربیت کریں گے ان کو بہتر ماحول دیں گے اچھی تعلیم دیں گے تو یقینن آپ کی اولاد بڑی ہوکر آپ کے نقش قدم پر چلے گی. بس آپ کو شروع میں تھوڑی محنت کرنی پڑیگی. جب آپ یہ تمام کوشش ایمانداری کے ساتھ نبھائیں گے تو انشاء اللہ آپ کو نتیجہ بھی بہتر ملے گا.
ہم امید کرتے ہیں تمام والدین اپنے بچوں کو ٹائیم دیں گے ان کی اچھی تربیت کریں گے. ان سے دوستی بھی کریں گے انہیں بہتر سے بہتر ماحول دیں گے. انہیں بہتر تعلیم دیں گے انہیں اچھا اخلاق سکھائیں گے.
@shamsp6
-

عدم برداشت . تحریر : معین الدین بخاری
ایک معاشرتی ناسورجس کا قلع قمع انتہائی ضروری عدم برداشت کے ناسورنے زندگی کے ہرشعبے کومتاثر کیا ہے مثلاً بیوی نے اس لیے خلع کا کیس دائرکردیا کہ اسکا شوہرکام سے تھکا ہوا آیا تھا اوراسے آج کے بجائے کل کو باہر لے جانے کہا، ایک کاروالا اس لیے رکشے والے سے لڑ پڑا کہ وہ اس کو اوورٹیک کر گیا اورایک خاتونِ خانہ نے اپنی ملازمہ کو اس لیے پیٹ دیا کہ وہ اپنا دو سالہ بچہ ساتھ لائی تھی جس نے الٹی کر دی غرض زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں رہا کہ جہاں عدم برداشت کا واقعہ رونما نہ ہوا ہو.
لیوی ایڈل مین Levi Adelman نے اپنی سائیکالوجیکل ریسرچ میں لکھا ہے کہ عدم برداشت کی تین قسمیں ہیں. ایک متعصبانہ عدم برداشت دوسری بدیہی عدم برداشت اسے ہم خود ساختہ عدم برداشت یا کسی کے بارے میں بغیرکسی وجہ کے بدگمانی پیداکرلینا بھی کہ سکتے ہیں اور تیسری قسم Deliberately Intolerance یعنی جان بوجھ کر کسی کو برداشت نہ کرنا یا کسی کے بارے میں بغض رکھنا کہہ سکتے ہیں.
بہرحال عدم برداشت چاہے کسی بھی قسم کی ہو، معاشرے میں بگاراور پر تشدد واقعات کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے. اگر کھانے میں نمک کم یا زیادہ ہو جائے تو شوہر بیوی کی 99 اچھائیاں بھلا کر اسے تنقید یا تشدد کا نشانہ بنا دیتا ہے اور بیوی بھی معمولی سی بات پر خلع کا مطالبہ کر دیتی ہے جس سے نہ صرف ایک خاندان بلکہ اس سے جڑے درجنوں افراد اذیت کا شکار ہوجاتے ہیں.
اس طرح سے عدم برداشت نے ہمارے معاشرے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے. لیکن اگر دیکھا جائے تو کسی بھی ناگوار بات پر کچھ لمحہ کا صبر ہمیں اس اذیت اور شرمندگی سے بچا سکتا ہے. ہمیں ایک دوسرے کو اس لیے برداشت کرنا ہے کہ سب ہی ہماری طرح انسان ہیں جنہیں اپنی زندگی گزارنے کا حق اللہ تعالیٰ سے ملا ہے چاہے وہ رکشہ ڈرائیور یے، ہمارے گھر کام کرنے والی خاتون ہے یا پھر کوئی غریب معصوم بچہ، سب کو ایک ہی رب العالمين نے پیدا فرمایا اور ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بھی بنا دیا.
بحیثیت مسلمان اس معاشرتی بگاڑ کو سدھارنے کا نسخہ یہی ہے کہ ہم ہمہ وقت صبر اور شکر کا دامن مضبوطی سے پکڑے رکھیں. مثال کے طور پر اگر بیوی کھانے میں نمک ڈالنا بھول گئی ہے تو یہ سوچ لیں کہ وہ بھی انسان ہے اور انسان غلطی سے مبرا نہیں ہے. مفہوم حدیث ہے کہ صبر اور شکر کرنے والے جنتی ہیں. (کشاف، ص 572 ج اول قاہرہ 1325 ھ)
آخر میں یہی کہوں گا کہ معاشرے افراد سے بنتا ہے اور اسکی اصلاح یا بگاڑ کا انحصار بھی افراد کے رویہ پر ہوتا ہے اس لیے ہم میں سے ہر فرد (عورت، مرد) کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ معاشرے کی اصلاح میں حصہ لیں گے یا بگاڑ میں.
معین الدین بخاری
ٹویٹر آئی ڈی @BukhariM9 -

صبر اور شکر۔تحریر: کنزہ صادق
ایمان کے دو حصے جنکا نام صبر اور شکر ہے۔ اور یہ دونوں ہی اللہ تعالٰی کو نہایت پسند ہیں۔
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے صبر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :أُوْلَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَO
’’یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دوبار دیا جائے گا اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ برائی کو بھلائی کے ذریعے دفع کرتے ہیں اور اس عطا میں سے جو ہم نے انہیں بخشی خرچ کرتے ہیں۔‘‘
القصص، 28 : 54
عربی لغت میں صبر کے لفظی معنی ہیں برداشت کرنا اور دوسری طرف شکر کے معنی ہیں اظہارِ احسان مندی۔
مسلمان کی پوری زندگی صبر اور شکر کے دائرے میں آتی ہے
شکر اخلاق، اعمال اور عبادات کا بنیادی جزو ہے۔ شکر کے بغیر تمام اعمال و عبادات بے معنی ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں شکر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :
کی
مَّا يَفْعَلُ اللّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ وَكَانَ اللّهُ شَاكِرًا عَلِيمًاO’’اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ، اور اللہ (ہر حق کا) قدر شناس ہے (ہر عمل کا) خوب جاننے والا ہےo‘‘
النساء، 4 : 147
ہمارے پیارے نبی اللہ پاک کا شکر ادا کیا کرتے تھے دن رات اللہ کا شکر ادا کرتے تھے
چرند پرند بھی اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور شکر ادا کرتے ہیں انسان کو چاہیے کہ وہ بھی ہر حال میں اپنے رب کا شکر ادا کرئے اپنی ہر سانس پہ اللہ کا احسان مند ہو الحمدللہ ہم سانس لیتے ہیں چلتے پھرتے ہیں ہمارے ہاتھ پاوں سلامت ہیں ہم دیکھ سکتے ہیں اپنے رب کی نعمتوں کا احسان مند ہونا ضروری ہے
شکر کے متعلق ایک حدیث ہے کہ
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو کثرت سے قیام فرماتے اور عبادتِ الٰہی میں مشغول رہتے۔ کثرتِ قیام کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک پاؤں سوج جاتے۔ آپ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم ! آپ تو اللہ تعالیٰ کے محبوب اور برگزیدہ بندے ہیں پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا.
’’کہا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں۔‘‘
جب آقا دو جہان کے شکر کا یہ عالم تھا جنکے لیے دنیا بنائی گئ تو ہمیں تو ہر حال میں رب کے آگے جھکنا چاہیے
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ آزمائش جتنی سخت ہوتی ہے اسکا بدلہ بھی اتنا ہی بڑا ملتا ہے اللہ پاک جب کسی قوم سے محبت فرماتے ہیں تو اسے آزمائش میں ڈال دیتے ہیں پھر جب وہ اس آزمائش پہ راضی رہا (یعنی صبر سے کام لیا) تو اللہ پاک بھی اس سے راضی ہوجاتے ہیں اور جو اس پر ناراض ہوا تو اللہ پاک بھی اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔
(سنن الترمذی 2396)
ہماری روزمرہ کی زندگی میں یہ دونوں چیزیں آجائیں تو زندگی گزارنا بھی آسان ہے گھریلو معاملات بھی آسان ہو جائیں سادہ سی بات ہے کہ اگر گھر میں لڑائی جھگڑے کا ماحول ہے آپ 2 منٹ صبر سے کام لیں تو آدھا مسلہ تو اسی طرح ختم ہوجاتا ہے
اسی طرح گھریلو خواتین کم خرچے میں گھر چلائیں اور اسی پر شکر ادا کریں تو بھی زندگی کے آدھے مسائل کا خاتمہ ہوجائے یہاں یہ مثال دینا اس لیے بھی ضروری تھا کہ آج کل معاشرے میں یہی دو مسلے سب سے زیادہ ہیں برداشت کی کمی کتنے گھر اجاڑ چکی ہے اور تنگدستی کتنے ہی مسائل کو جنم دیتی ہے لہذا ہم سب اللہ اور اسکے رسول کے بتائے ہوئے رستے پہ چلیں تو زندگی بھی سنور جائے اور آخرت بھی۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
-

اشتہاری مہم اب خلا میں ہو گی .تحریر:صوفیہ صدیقی
آسمان سے پریاں اترتی نظر آئیں یا نہ آئے۔ اب وہ وقت دور نہیں ہے جب تمام ماڈلز اور اشتہارات آپ کو آسمان پہ نظر آئیں گے۔
حال ہی میں آپس ایکس ( Space X) نے اعلان کیا ہے کہ وہ آسمان میں ستاروں کی جگہ لوگوں کو اشتہارات دکھائیں گے۔ یعنی ان خلائی کمپنیوں کو لگتا ہے کہ خلا میں موجود خالی جگہ کو اشتہار کے بطور استعمال کرنا،عوام کے لیے ایک دلچسپ کام ہو گا۔ ایسا خیال آج کل space X کمپنی کے مالک ایلون مسک کا بھی ہے جو خلا میں پہلا بل بورڈ لانچ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ تاہم ، ماہرین فلکیات اور ماہرین ماحولیات اس خیال کو مسترد کر رہے ہیں۔
دیکھتے ہے یہ بازی کون جیتتا ہے۔ لیکن اس منصوبے کا آغاز اور کاروباری افراد اسپیس ڈسپلے کے لئے تین طرح کے اشتہارات کا تصور کررہے ہیں۔ پہلہ واضح اشتہار ، دوسرا تفریح کے لیے اور تیسرا ہنگامی صورتحال میں انتباہ کے طور پر۔
اس سال کے شروع میں سپیس X کے بانی ، ایلون مسک نے ایک کینیڈین ادارے جیمومیٹرک انرجی کارپوریشن کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس میں دونوں کمپنیاں مل کر یک "خلائی آرٹ” کو لانچ کریں گے اور اپنے خلائی اشتہار کے خواب کو حقیقت تبدیل کریں گے۔۔خلائی ٹکنالوجی میں ترقی کے ساتھ ، جی ای سی جیسی کمپنیوں نے خلا میں چھوٹے بل بورڈ لانے کے لئے اپنا کیوب سیٹیں تیار کر لیا یے۔
یہ اشتہارات انتہائی مہنگے اور ان کی قیمتوں کا تعین ٹوکن کی مارکیٹ ویلیو کے ذریعہ کیا جائے گا۔ جس کو کیوب سیٹ پر پکسلز استعمال کرنے کے حقوق میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
خلا کی تشہیر کا خیال تخلیقی ہوسکتا ہے اور اشتہاری کمپنیوں کو مالیاتی فوائد بھی دے سکتا ہے۔ ان خلائی اشتہارات کی لانچ کی توقع 2022 سے پہلے نہیں کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ
سپیس ایکس، سپر باؤل اور فارمولا ون گرانڈ، پہلے بھی تشہیر ایسے منصوبے بنا رہے ہیں ، فی الحال ، اسپیس X خلا میں تھوڑا سا بوجھ لے رہا ہے کیونکہ بہت سارے معاملات ابھی حل ہونے کے منتظر ہیں۔جبکہ ، ماہرین فلکیات اور خلائی وکیلوں کا ردعمل عالمی سطح پر منفی ہے۔ ماہرین فلکیات پہلے ہی خلا میں بڑھتی ہوئی انسانی مداخلت کے بارے میں پریشان ہیں جو مشاہدات کو مزید دشوار بنا رہا ہے۔
کئی خلائی وکیل اس طرح کے امکان کے خلاف ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ غیر فطری ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ ہر قدرتی اراضی کا استحصال نہیں کرنا چاہئے ۔
روسں اپنے ایک ذیلی ادارہ پیپیسکو سیٹلائٹ کے ذریعہ انرجی ڈرنک کی تشہیر کے لئے اسٹارٹ راکٹ نامی مقامی اسٹارٹ اپ کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ لیکن عوامی تنقید کے بعد ، کمپنی نے خلا میں اپنی مصنوعات کی تشہیر کرنے کے اپنے منصوبوں کو روک دیا ہے۔ویسے تو انسان کا خلا سے تشہیر کا تصور نیا نہیں ہے ، شاید چاند پہ موجود ہے بڑھیا، پریاں اور خلائی مخلوق کا تصور ان کی بنیاد بنا یے۔ایسے منصوبے ہمیشہ تنقید کا حصہ رہے ہیں ۔
امریکی وفاقی قانون میں کہا گیا ہے کہ "بیرونی خلا میں تشہیر کرنا جو زمین سے ننگی آنکھ کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے وہ باطنی خلائی اشتہار کا فعل ہے” لہذا یہ غیر قانونی ہے۔ اس منصوبے کا مستقبل واضح نہیں ہے ۔
اتنی ساری معلومات کے بعد آپ کو کیا لگتا ہے کہ کیا واقعی انسان خلاؤں پر اشتہار چلانے کے قابل ہو جائے گا یا قدرت اس مداخلت کو برداشت نہیں کرے گی ۔
انسان کااسمانوں تک پہنچنے کا خواب اور چاند، ستاروں اور سیاروں کو مسخر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ انسانی مداخلت کا یہ سلسلہ اب رکنے والا نہیں بلکہ انسانی پیش قدمیاں جاری رہے گی۔ لیکن شاید ان کےحقیقت ہونے تک ہم خود کوئی تارا بن جائیں۔
آخر میں بس اتنا ہی کہ جلد ہی آپ اور ہم ہواؤں میں اڑنے پھرتے اشتہارات دیکھے گے۔ -

وطن سے محبت .تحریر:سدرہ
وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان اور بلکہ ہر ذی روح میں پایا جاتا ہے جس زمین پر انسان پیدا ہوتا ہے اپنی زندگی گزارتا ہے ۔۔ جہاں اس کے رشتہ دار ہوتے ہیں ۔۔ خاندان کے باقی افراد ہوتے ہیں وہ زمین اس کا گھر ہوتی ہے ۔۔ وہاں کی گلیوں،وہاں کے درودیوار وہاں کی گھاٹیوں پہاڑوں اور چٹانوں سے انسان کو قدرتی طور پر لگاؤ ہوتا ہے اور اس کی ایک ایک چیز سے یادیں جڑی ہوتی ہیں
کسی بھی تارک وطن کے لیے بیرون ملک جانا اور کمانا بہت مشکل ہے کیونکہ وجہ صرف یہی ہے کہ ملک سے محبت ایک فطری عمل ہے ۔۔۔ اسی لیے جو لوگ ملک سے غداری کرتے ہیں انہیں کبھی بھی اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جاتا جو لوگ ملک کے لئے لازوال قربانیاں دیتے ہیں انہیں ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے
وطن سے محبت کے اس فطری جذبے کا اسلام نا صرف احترام کرتا ہے بلکہ ایک ایسا پر امن ماحول فراہم کرتا ہے جس میں رہ کر انسان اپنے ملک کی اچھے سے خدمت کر سکے اسلام ہر اس کا حکم دیتا ہے جس سے امن کو فروغ ملے اور ہم وطنوں کے درمیان تعلق مضبوط ہو
وطن سے محبت کا جذبہ صرف جذبات تک نہیں محدود ہونا چاہیے بلکہ گفتار اور کردار میں بھی لازمی ہو ۔۔ سب سے پہلے وطن کی سلامتی کے لیے اللہ تعالٰی سے دعا کرنی چاہیے کیونکہ دعا میں دل کی سچائی کا مظاہرہ ہوتا ہے اس میں جھوٹ اور نمائش نہیں ہوتی بلکہ اللہ پاک سے براہ راست تعلق ہوتا ہے
وطن کی سلامتی اس امر میں ہے کے ملک کو کرپشن اور بدعنوانیوں سے پاک رکھا جائے، لوگوں کے جان و مال اور عزت کی حفاظت کی جائے معاشرتی برائیوں کا خاتمہ کیا جائے اور امن کو فروغ دیا جائے ۔۔ اب ہمیں اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ہم نے اب تک کیا کیا؟؟ ملک کی ترقی میں اپنا کتنا کردار ادا کیا؟؟ عوامی بہبود اور آگاہی مہم کے لیے کتنا کردار ادا کیا ۔۔ ؟؟؟ آج ہمارا فرض بنتا ہے کے مثبت سوچتے ہوئے اس مک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریںدعا ہے اللہ پاک پاکستان کا حامی و ناصر ہو ۔۔ آمین
سدرہ
