Baaghi TV

Category: بلاگ

  • باب دوستی تک پہنچنے والے طالبان. تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    باب دوستی تک پہنچنے والے طالبان. تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    امریکہ جس طرح افغانستان سے اپنا بوریا بستر گول کر کرتا جا رہا ہے اس طرح افغانستان طالبان کے قبضے میں تیزی سے آرہا ہے. خطے کے تمام ممالک اس پیش رفت سے پریشان ہیں. طالبان مختلف ممالک سے لگنے والی سرحدی علاقوں پر قبضہ اور اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے جا رہے ہیں. ایران سے لگنے والی سرحد کاروباری راستے ” اسلام قلعہ ” ترکمانستان سے لگنے والی سرحدی علاقے پر کنٹرول کے بعد پاک-افغان سرحد پر کاروباری راستے ” باب دوستی ” پر بھی قبضہ کرلیا ہے اور آنے جانے کا وہ اہم راستہ بند ہوگیا ہے. بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی انتظامیہ پاکستان سرحدی شہر چمن کے ساتھ لگنے والے افغان علاقے ویش منڈی پر طالبان کی موجودگی کی آگاہی دے دی گئی ہے اور پاکستان کے اس پار افغان علاقے میں طالبان کے جھنڈے نظر آرہے ہیں…

    افغانستان سے امریکہ کے بھاگ جانے کے فیصلے اور اس پر عمل کرنے کے بعد غیریقینی کی دھند نے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے. افغانستان کے بڑے بڑے علاقوں پر طالبان کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی ہے. کابل انتظامیہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتی جا رہی ہے. افغان طالبان نے مذاکرات میں عالمی طاقتوں کو انسانی حقوق, اور خطے کے دوسرے ممالک میں مداخلت نہ کرنے سمیت جتنی خاطریاں کروائی تھیں وہ بہتی ہوئی نظر آرہی ہے. افغان سرکاری فوج کے جوان جان بچا کر بھاگ گئے. کئی افغانستان سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے ترکمانستان میں پناہ لے لی ہے. اور جو ہتھیار ڈال رہے ہیں انکو جنگی قیدیوں کی حیثیت دے کر عالمی اصولوں اور معاہدوں پر عمل کرنے کی بجائے ان کو مارا جا رہا ہے. طالبان کی اس وقت جنگ افغان سرکاری فورسز کے ساتھ چل رہی ہے تاکہ پورے ملک پر کنٹرول حاصل کیا جائے. پر دوسرا مرحلہ ان قوّتوں سے ٹکراؤ کا ہے جو افغانستان میں اختیار اور اقتدار کے خواہشمند ہیں مطلب کہ وہ ” وار لارڈز ” بھی لڑنے کی تیاری میں ہیں جنہوں نے 90ع میں مخالفین کی گردنیں کٹوا کر ان سے فٹبال کھیلے یاں کٹی گردنوں میں سوراخ کر کے ان میں موم بتیاں جلا کر جیت کا جشن منایا. اس ساری صورتحال کا جس ملک پر زیادہ اثر پڑے گا وہ ملک پاکستان ہے. ویسے بھی افغانی پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے رہے ہیں اور پاکستان بھی افغان پناہگیروں کی 40 سال سے زائد عرصے سے مہمان نوازی کا رکارڈ قائم کر چکا ہے ان کی اس ملک میں آبادکاری کی سرکاری سطح پر بالواسطہ یا بلاواسطہ صحولتکاری ہوتی رہی ہے. صورتحال زیادہ خراب ہوئی تو نہ صرف پاکستان پر افغان پناہگیروں کا وزن بڑھے گا بلکہ پاکستان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ افغانی پناہگیروں کے شکل میں دہشتگرد بھی آ سکتے ہیں جو ایک حقیقت ہے. پاکستان حکمران یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ طالبان کو پاور ملنے سے پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان مضبوط ہوگی. زبانی باتیں ہو رہی ہیں ان خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو غیر سنجیدگی ہی نظر آرہی ہے. پاکستان میں دہشتگردوں کی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں جس کا ایک ثبوت دو دن پہلے صوبے خیبر پختون خواہ کے ضلع کرم میں دہشتگردوں سے مقابلہ ہے جس میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے ہیں. ہمارے حکمرانوں نے اگر سنجیدگی سے کام نہ کیا تو عالمی قوتیں جن کے اس خطے میں مفاد ہیں اور دہشتگرد اس ملک کو میدان جنگ بنا سکتے ہیں. اس وقت ہی پاکستان کے تفریحی مقامات مری اور دوسری کئی جگہوں پر طالبان کے حق میں نعرے اور ان کے حق میں سرگرمیاں رپورٹ کی گئی ہیں.

    پاکستان خطے میں ہونے والی تبدیلیوں, افغانستان میں ہونے والی نئی پیش رفت اور عالمی طاقتوں کی مفادات کی جنگ سے لاتعلق نہیں رہ سکتا. ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ساری صورتحال کو عقابی نظر سے دیکھا جائے اور ساتھ ساتھ ایسے اقدامات نہ اٹھائے جائیں جو پاکستان اس ساری تبدیلی اور ٹکراؤ کا تختۂ مشق بن جائے. افغانی پناہگیروں کا وزن اٹھانے کا مقصد ہوگا کہ اس ملک میں نئی جنگ اور خطرے کو اس ملک میں راستہ دینا. اس لئے پرامن افغانستان پاکستان سمیت پورے خطے کے حق میں بہتر ہے اس لئے افغانستان معاملے کی سیاسی حل کی کوششیں کرنی چاہئیں

  • بجلی بنانے والا” ٹوائلٹ” جسے استعمال کرنے پر معاوضہ بھی ملے گا

    بجلی بنانے والا” ٹوائلٹ” جسے استعمال کرنے پر معاوضہ بھی ملے گا

    جنوبی کوریا میں بجلی بنانے والا ایسا بیت الخلا تیار کیا گیا ہے جسے استعمال کرنے پر کرپٹو کرنسی بھی ملے گی۔

    باغی ٹی وی:"رائٹرز” کے مطابق جنوبی کوریا میں السان نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی (یو این آئی ایس ٹی) کے شہری اور ماحولیاتی انجینئرنگ کے پروفیسر چو جا وون نےچو جائی ویون نے اپنے اسٹوڈنٹس کے ساتھ مل کر ماحول دوست ٹوائلٹ ڈیزائن کیا ہے بائیوگاس اور کھاد تیار کرنے کے لئے اخراج کو استعمال کرتا ہے۔

    تیار کردہ بیت الخلا کو “بی وی” کا نام دیا گیا ہے اور یہ ایک خاص طرح کے ٹینک کے ساتھ منسلک ہے جس میں انسانی فضلے سے میتھین گیس اور کھاد بنانے والے جراثیم بھی بند کیے گئے ہیں۔

    انسانی فضلہ ایک ویکیوم پمپ کے ذریعے فلش کیا جاتا ہے جس کے لیے پانی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ فضلہ ٹوائلٹ سے ٹینک میں پہنچتا ہے اور جرثومے اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔

    پروفیسر چو جائی ویون کہتے ہیں کہ ایک انسان یومیہ اوسطاً 500 گرام فضلہ خارج کرتا ہے جس سے 50 لیٹر میتھین گیس بنائی جاسکتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ میتھین گیس کی یہ مقدار اتنی ہے کہ اس سے لگ بھگ 0.5 کلوواٹ گھنٹہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جو ایک برقی کار کو 1.2 کلومیٹر تک لے جانے کےلیے کافی ہے۔

    پروفیسر چو جائی ویون نے ’’جی گول‘‘ کے نام سے ایک کرپٹو کرنسی بھی متعارف کروائی ہےجو ٹوائلٹ استعمال کرنے والے کو معاوضے کے طور پر دی جائے گی۔

    چو کےمطابق ماحول دوست دوستانہ ٹوائلٹ استعمال کرنے والا ہر فرد ایک دن میں 10 جی گول حاصل کرسکتا ہے طلباء اس کرنسی کا استعمال کیمپس میں سامان خریدنے کے لئے کر سکتے ہیں ، تازہ بریڈ کافی سے لے کر انسٹنٹ کپ نوڈلز ، پھلوں اور کتابیب تک خرید سکتے ہیں۔طلباء اپنی مصنوعات کو اپنی دکان پر اٹھا سکتے ہیں اور جی کول کے ساتھ ادائیگی کے لئے کیو آر کوڈ اسکین کرسکتے ہیں۔

    جی گول مارکیٹ میں پوسٹ گریجویٹ طالب علم ہی ھوئی جن نے کہا ، "میں نے کبھی سوچا تھا کہ یہ گندا ہے ، لیکن اب یہ میرے لئے بہت اہمیت کا خزانہ ہے۔”

    واٹس ایپ کا بھارت میں کریک ڈاؤن،20 لاکھ بھارتی اکاؤنٹس بند کر دیئے

  • ‏عدل و انصاف کا حصول ناگزیر .تحریر۔: زمان خان

    ‏عدل و انصاف کا حصول ناگزیر .تحریر۔: زمان خان

    کیا آپ جانتے ہیں
    جو ترازو عدالت کے باہر لٹک رہی ہوتی ہے وہ انصاف کی قیمت اپنے اپنے وزن کے مطابق طے کرنے کے لیئے ہوتی ہے۔
    عوام تو بھولی بادشاہ، عدل کے وہ پلڑے سمجھ بیٹھی جو انصاف دیا کرتے ہیں۔
    بھلا کیا یہ ممکن ہے کہ جھوٹ بیچنے، کمانے اور کھانے والے کرپٹ ترین وکلاء جن پر سیاستدانوں کی نظر کرم نے جج کا تمغہ عطا کیا ہو وہ نیک اور صالح لوگ عوام کو انصاف دے سکیں؟
    جو جتنا بڑا چور، غنڈہ اتنا ہی اثرو رسوخ والا وکیل!
    جس کے نام سے جج کی بھی ٹانگیں کانپتی ہوں!
    یہ کہاں ہوتا ہے؟
    جی ہاں یہ سب ملک خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوتا ہے
    آخر یہ سب کب تک چلے گا؟ کب تک ہمارے ملک کی اعلی عدلیہ کا وقار اسی طرح مجروح کرتے رہیں گے؟
    کیوں انصاف کرنے والا بلا خوف و خطر فیصلہ سنانے کی ہمت نہیں رکھتا؟
    کیوں ایک غریب پھانسی کے پھندے تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے اور ایک سیاسی گدھ کے تمام گناہ یا تو معاف کر دیئے جاتے ہیں یاتو سیاسی مصلحتوں کا شکار کر دیئے جاتے ہیں۔
    کیوں سیاسی مقدموں کا فیصلہ نہیں ہوتا؟

    اگر ہو بھی تو لولا لنگڑا
    آخر کیوں
    ایان علی کیس رزلٹ صفر
    ارسلان افتخار کیس رزلٹ صفر
    ڈاکٹر عاصم کیس رزلٹ صفر
    سستی روٹی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    احد چیمہ صرف ریمانڈ رزلٹ صفر
    بینظیر ایئر پورٹ کرپشن کیس رزلٹ صفر
    رئیسانی حرام کمائی گھر سے برآمد رزلٹ صفر
    شرجیل میمن کرپشن کیس رزلٹ صفر
    صاف پانی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    ماڈل ٹاون کیس رزلٹ صف
    شہد کی بوتل کیس رزلٹ صفر
    مجید MPA اہلکار قتل کیس رزلٹ صفر
    بلدیہ ٹاون کیس رزلٹ صفر
    سانحہ ساہیوال کیس رزلٹ صفر
    شاہ رخ جتوئی کیس رزلٹ صفر
    پرویز رشید غداری کیس رزلٹ صفر
    راجہ رینٹل کیس رزلٹ صفر
    حسین حقانی کیس رزلٹ صفر
    فائز عیسی کیس رزلٹ صفر

    کیا کبھی نیک اور دیندار لوگ جو آخرت اور یوم حساب کا خوف رکھتے ہوں انصاف کی کرسی پر بیٹیں گے؟
    کیا کبھی قرآن و سنت کے مطابق نظام عدل قائم کیا جاسکے گا؟
    کیا انگریز کا دیے ہوئے نظام عدل میں اسلامی اقدار اور قرآن و سنت کے مطابق ترامیم کر کے عملاً رائج کیا جا سکے گا؟
    کیا نظام عدل کے بنیادی اصول جو کہ اصل میں ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں۔۔۔ ایمانداری، نیک نامی، دیانتداری، امانتداری نہیں ہونے چاہئیے؟

    کیا ہمارا معاشرہ ان تمام بنیادی اسلامی اقدار اور رہنما اصولوں سے بہت دور نہیں نکل آیا؟

    کیا یہ تمام خوبیاں ہمیں اپنے نظام میں کہیں نظر آتی ہیں؟
    تو پھر کیوں نا ملک بھر کے غیر سیاسی اور نیک نامی علماء کرام کی زیر نگرانی چلنے والے مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے قابل نوجوانوں کو قانون کے شبعہ میں لایا جائے؟
    دین جن کے سینوں میں ہو گا
    جنہیں کم از کم خوف خدا تو ہو گا
    جنہیں سچ اور جھوٹ کی تمیز تو گی
    جنہیں ناانصافی کرنے اور جھوٹ کا ساتھ دینے پر اللہ کا خوف تو آئے گا
    جنہیں رشوت کے عوض انصاف بیچنے پر عذاب الہی تو یاد ہوگا اور خوف خدا سے انکے ہاتھ تو کانپیں گے

    کیونکہ عدل و انصاف ہی وہ پیمانہ ہے جس کی بدولت انسانیت زندہ ہے
    اگر معاشرہ عدل وانصاف سے عاری ہو تو وہ معاشرہ ظلم و جبر کی آماجگاہ تو ضرور بن سکتا ہے مگر صالح معاشرہ نہیں بن سکتا۔
    عدل و انصاف کا جذبہ ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے
    یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اخلاقی و معاشرتی احکام کے ساتھ عدل و انصاف کو بیان فرمایا ہے
    ارشاد باری تعالی ہے
    ” اللہ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے”

    تحریر۔: زمان خان
    ‎@Zaman_Lalaa

  • ‏حکومت بوکھلاہٹ کا شکار .تحریر :فاطمہ بلوچ

    ‏حکومت بوکھلاہٹ کا شکار .تحریر :فاطمہ بلوچ

    سیاسی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان جو چند سالوں میں میں بڑی جماعت ابھری اس کے بانی حضور امیرالمجاہدین امام خادم حسین رضوی نے 2017 میں اس اس پارٹی کو بنایا جو دیکھتے دیکھتے عروج پر چلی گئی اور آج پاکستان کی بڑی طاقت بن چکی ہے تحریک لبیک پاکستان جہاں اسلام کی ترجمانی کرتی ہے لوگوں کو دین اسلام کی دعوت دیتی ہے وہی مختلف مواقع پر جب ناموس رسالت ﷺ ختم نبوت ﷺ پر حملے ہوئے اپنے گھروں سے نکلے ن لیگ کے دور میں تحریک لبیک ناموس رسالت ﷺ پر پہرا دیتی رہی لیکن جو ظلم ن لیگ کے دور میں قائدین تحریک لبیک اور کارکنان پر ہوا اس سے کئی گناہ زیادہ ظلم پی ٹی آئی حکومت میں ہو جو ریاست مدینہ کا نعرہ لگاتی ہیں فرانس کے سرکاری سطح پر رسول اللّٰہ ﷺ کی گستاخی ہے یہ کوئی نارمل بات نہیں سرکاری سطح پر گستاخی ہو اور حکومت پاکستان خاموشی تماشائی بنی رہے یہ بہت بڑی بات ہے یہاں معلوم ہوتا ہے حکومت نے انگریزوں کی غلامی قبول کی ہوئی یے بہرحال تحریک لبیک نے حکومت سے مطالبہ کیا فرانس کا سفیر نکالا جائے لیکن حکومت ٹال مٹول سے کام لیتی رہی تحریک لبیک نے مارچ کا اعلان کیا تو حکومت نے کچھ دیر پہلے تحریک لبیک کے امیر علامہ سعد حسین رضوی صاحب کو گرفتار کرلیا ملکی کریک ڈاؤن شروع ہوگیا

    پاکستان کے مختلف شہروں میں لبیک والوں نے دھرنے دیئے حکومت نے سر توڑ کوشش کی مظالم کے پہاڑ توڑے گئے عشقان رسول ﷺ پر بہرحال جب حکومت کامیاب نہ ہوئی معاہدہ کرلیا گیا جس کو بعد میں توڑ دیا گیا یعنی وعدہ خلافی حکومت کیونکہ تحریک لبیک سے خوف زدہ ہوچکی تھی کہی ان کی حکومت نہ چلی جائے یا فرانس ناراض ہوگیا تو انکی غلامی کو خطرہ ہوگا اسی وجہ سے حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگادی جو کہ ابھی مکمل لگی نہیں کیونکہ یہ حکومت نے اپنے تحت کیا جو کہ ایک سیاسی جماعت کا دوسری سیاسی جماعت کو کلعدم کردینا کہی درست نہیں یہ صرف تخت کا کمال ہے کیونکہ وہ حکومت میں جو ہے پاور تو استعمال کریں گی لیکن طاقتیں ساری اللّٰہ کی ہیں پاکستان کی ایک بڑی مقبول ترین جماعت جس کے کروڑوں کارکنان ہیں اس پر پابندی کیسے لگ سکتی ہے ؟؟ جس قانون کے تحت حکومت نے پابندی لگائی وہ تو یہ کہتا ہے اگر کوئی گروہ ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے بغاوت کریں فوج سے لڑے بم دھماکے کرے اسکو کلعدم کیا جاسکتا یے

    اب بات یہ ہے تحریک لبیک کے پاس تو ایک پٹاخہ برآمد نہیں ہوا نہ یہ کسی ایسی ایکٹویٹی میں پائی گئی یہ تو واحد جماعت ہے جو الیکشن کمیشن سے کلئیر ہے جن کی حکومت ہے وہ خود الیکشن کمیشن سے کلئیر نہیں دوسری جماعتیں اپنے مخالف حکومت کے دور میں مظاہرے کرتی رہی ہیں جیسے پی ٹی آئی کا 126 دھرنا سول نافرمانی ہے ٹی وی پر حملہ ایسے سب جماعتیں ملکی املاک کو نقصان پہنچا چکی ہیں لیکن انکو آج کلعدم نہیں کیا گیا ؟؟؟ اصل میں تحریک لبیک حکومت کیلئے خطرہ بن چکی ہے کیونکہ حکومت بے نقاب ہورہی ہے روزانہ حکومت کی اسلام مخالف پالیساں واضع ہورہی ہیں اب بات حکومت نے ایک بڑی جماعت کو کلعدم کردیا لیکن یہ ایک لمبا پروسس ہے الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں باقاعدہ اسکا ہونا باقی ہے ایسے کسی جماعت پر پابندی نہیں لگ سکتی یہ تو حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اس وجہ سے اندھا دھندہ دیوار سے ٹکرے مار رہی ہیں بہرحال یہ پاکستانی قوم کیلئے لحمہ فکریہ ہے یہ حکومت اتنی بڑی جماعت کو پابندیاں لگا سکتی ہے تو یہ ملک کو کچھ بھی نقصان دہ سکتی ہیں

  • ففتھ جنریشن وار کے سپاہی . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    ففتھ جنریشن وار کے سپاہی . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    وطن سے محبت ہر پاکستانی کے دل میں ہے وطن کی خاطر جان مال نچھاور کرنے والوں کی ایک طویل داستان ہے جس پر لکھنا شروع کیا جائے تو الفاظ ختم ہو جائے گے حب الوطنی نہیں خیر میرا موضوع آج کچھ ہٹ کر ہے وطن سے محبت میں کچھ لوگ وردی میں ملبوس ہوکر اس کے دفاع کے لئے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر اس کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں دن رات کوشاں رہتے ہیں کچھ سرحدوں پر کچھ وطن کے اندر کچھ نظر نہیں آکر مختلف انداز میں ملک سے محبت اور اس کا دفاع کیا جاتا ہے مگر کچھ سالوں سے ایک نیا طریقہ جسے ہم سوشل میڈیا جنریشن وار کے طور پر جانتے ہیں شروع ہوا جس کے بارے میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد نا واقف تھی اس وار کے مرکزی لیڈ ہیرو کو میں جناب آصف غفور کے طور پر جانتا ہوں جنہوں نے پاکستان کے سوشل میڈیا پر صرف یہاں وہاں کے ٹائم پاس کرنے والے ایکٹیوسٹوں کو ایک نظریہ اور لائن کھینچ کر دی کے کس طرح دشمن سوشل میڈیا کے زریعے ہمارے ذہنوں کو ملک کے خلاف استعمال کرکے اپنے ملک اور اداروں کے خلاف کرنا چاہتے ہیں

    آصف غفور صاحب کی کھینچی گئی وہ لائن جس سے لاکھوں پاکستانی سوشل میڈیا جنریشن وار کے سپاہی کے طور پر سامنے آئے اور ملک کی خاطر جھوٹا پروپیگینڈا کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے کا سلسلہ جو آصف غفور صاحب نے شروع کیا تھا وہ مستقل جاری وساری ہے نوجوان نسل سوشل میڈیا جنریشن وار کو بہتر انداز میں لڑ رہا ہے ملک دشمنوں کو ہمیشہ ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے نوجوانوں نسل آصف غفور صاحب کی شکر گزار ہیں کے جن کی بدولت آج ملک کے دفاع میں وہ گھر بیٹھ کر کالجوں دفتروں سے بھی ملک کی خدمت کا موقع حاصل کررہی ہے اور ملک کے دشمنوں کی کسی بھی چال کو کسی بھی صورت کامیاب نہیں بننے دیگی پاکستان کا بچہ بچہ پاکستان ذندہ باد کے نعروں کو اپنے آخری خون کے قطرے تک لگاتار لگاتا رہے گا افواج پاکستان کی قربانیوں کو ملک کے کونے کونے تک پھیلانے کا سبب بھی بنے گا انشاء اللہ

  • انشاءاللہ پاک انگلینڈ ٹی ٹوئنٹی ون سیریز جیتنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے      بابر اعظم

    انشاءاللہ پاک انگلینڈ ٹی ٹوئنٹی ون سیریز جیتنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے بابر اعظم

    پاکستان کے قومی کرکٹر اور کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ابتدائی چند گیندیں احتیاط سے کھیلیں گے-

    باغی ٹی وی :پاک انگلینڈ ٹی ٹوئنٹی ون سیریز کے میچ میں محمد رضوان کے ساتھ پارٹنر شپ پر 150 رنز بنانے پر بابر اعظم نے کہا کہ اننگز کے آغاز میں محمد رضوان کے لیے مشکل ہوئی تو خود چارج لیا تاکہ پریشر نہ آئے،شروع میں ہر اوور میں دس یا آٹھ رنز بنانے کی حکمت عملی پر کاربند تھے-

    بابر اعظم کا کہنا تھا کی شروع میں ڈیوڈ ویلے کو پچ سے مدد مل رہی تھی انشاءاللہ سیریز جیتنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے-

    قومی کرکٹر محمد رضوان کا کہنا تھا کہ ہم دونوں کی کامیابی میں سب سے اہم بات ہماری کریز پر مشاورت ہوتی ہے دوسرے اینڈ پر کھڑے ہوکر آپس میں مشاورت کرتے رہتے ہیں-

    محمد رضوان نے کہا کہ میری رننگ بہتر بنانے میں بابر اعظم کا کردار اہم ہے میں تو کیرئیر کے آغاز میں بہت مرتبہ رن آؤٹ ہوا مگر کپتان کے ساتھ کریز پر رننگ شاندار رہتی ہے-

    انہوں نے کہا کہ پارکنسن آیا تو کپتان نے سیدھے بیٹ سے کھیلنے کا مشورہ دیا اب ہمارا مومنٹم بن گیا ہے، سیریز جیت سکتے ہیں-

  • واٹس ایپ کا بھارت میں کریک ڈاؤن،20 لاکھ بھارتی اکاؤنٹس بند کر دیئے

    واٹس ایپ کا بھارت میں کریک ڈاؤن،20 لاکھ بھارتی اکاؤنٹس بند کر دیئے

    کیلی فورنیا ،سلیکون ویلی: فیس بۃک کی زیر ملکیت سماجی رابطے کی ویب سائٹ واٹس ایپ نے بھارت کے 20 لاکھ اکاؤنٹس بند کر دیئے۔

    باغی ٹی وی :واٹس ایپ جعلی خبروں اور غلط معلومات کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہا ہے تاہم اپنی اسی مہم کے مدنظر واٹس ایپ نے نقصان دہ اور غلط معلومات دینے پر بھارتی صارفین کے 20 لاکھ اکاؤنٹس بند کیے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے نئے انفارمیشن ٹیکنالوجی قوانین کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے ایک ماہ میں ان 20 لاکھ اکاؤنٹس کو بند کیا جن کے ذریعے غلط اور نقصان دہ معلومات شیئر کی گئی تھیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ناقص معلومات پر اکاؤنٹس بلاک نہیں کیے جاتے بلکہ ٹھوس وجوہات پر کارروائی کی جاتی ہے ان صارفین نے رواں سال 15 مئی سے 15 جون تک واٹس ایپ کے قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔

    کمپنی کا کہنا تھا کہ نقصان دہ اور غیر مطلوبہ پیغامات کے پھیلاؤ کو روکنا اہم ٹارگٹ ہے اور کمپنی ہر ماہ 80 لاکھ اکاؤنٹس کو بلاک کرتی ہے۔

    واضح رہے کہ معروف میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ کے بھارت میں 400 ملین سے زائد صارفین ہیں اور واٹس ایپ نے بھارت کے نئے متنازع سوشل میڈیا قوانین کے تحت پہلی رپورٹ جاری کی ہے۔

  • ہمارا معاشرہ .تحریر:فرح  خان

    ہمارا معاشرہ .تحریر:فرح خان

    ہمارا ملک بہت سے مسائل میں گھرا ہوا ہے جن میں ناقص نظام تعلیم، بیروزگاری اور غربت جیسے مسائل سر فہرست ہیں۔ تعلیم وہ واحد مسئلہ ہے جس کے زریعے ہم معاشرے میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو درست کرسکتے ہیں۔

    اگر ہم نے اپنے معاشرے کو درست سمت میں لانا ہے تو ہمیں نظام تعلیم کو بہتر کرنا ہوگا غربت اور بیروزگاری پر قابو پانا ہوگا کیونکہ غربت اور بیروزگاری ایسے مسائل ہیں جن سے مزید بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔

    بیروزگاری کی وجہ سے بہت سے نوجوان منشیات کی فروخت، چوری اور ڈکیتی جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں جس سے معاشرہ خراب ہوتا ہے۔

    اگر آپ اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لینے کے لیے گھر سے باہر نکلیں تو اندازہ ہوتا ہے ہماری نوجوان نسل کتنے گندے گندے الفاظ اپنی گفتگو میں استعمال کرتی ہے جسے سن کر شرم آتی ہے لیکن وہ لوگ ایسے لفظ کہتے ہوئے زرا بھی نہیں شرماتے جیسے انہوں نے کچھ کہا ہی نہ ہو لیکن جانے انجانے میں وہ لوگ اپنے گناہوں کی گٹھری کو بھاری کر رہے ہوتے ہیں۔

    منشیات کا استعمال نوجوان نسل میں ایک معمول بن گیا ہے چرس اور شراب ہر جگہ فروخت ہورہی ہوتی ہے لیکن اس منشیات مافیا کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی جاتی یہ مافیا ہماری جوانوں کی رگوں میں زہر گھول رہی ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔ نشے کے عادی لوگوں کو جب اپنا مطلوبہ نشہ چاہیے ہوتا ہے اور انکے پاس منشیات خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے تو وہ لوگ چوری ڈکیتی کرنے لگتے ہیں یا اپنے گھروں سے سامان چوری کرکے باہر بیچ کر اپنے لیے منشیات خریدتے ہیں۔

    والدین اپنی اولاد کے سب سے بڑے زمہ دار ہیں اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کریں تاکہ وہ معاشرے میں اچھے فرد کی طرح جانے جائیں تاکہ وہ اپنے ساتھ اپنے ملک کا نام روشن کر سکیں کیونکہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں انہیں ضائع نہ ہونے دیں۔

  • دیامر میں خواتین کی تعلیمی پسماندگی کی وجوہات ۔تحریر: روشن دین دیامری

    دیامر میں خواتین کی تعلیمی پسماندگی کی وجوہات ۔تحریر: روشن دین دیامری

    کہتے ہیں اگرایک مرد پڑھا لکھا ہوتو ایک فرد پڑھا لکھا مانا جاتا لیکن جب ایک عورت پڑھی لکھی ہوتو ایک معاشرہ پڑھا لکھا بنا دیتے ہے ۔گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں خواتین کے تعلیم پہ ایک عرصہ تک پابندی لگائی گی تھی جب کوئی سکول بنایا جاتا تو شر پسند عناصر اس کو بارود سے اڑادیتےتھے اکثر بیشتر والدین اپنے بچوں کو تعلیم دینا پسند ہی نہیں کرتے تھے اس کے وجہ یا تو مجبوری تھی حالت سے تنگ اکے یا قبائلی ذہنیت تھی۔ ہمارا ہاں اکثر جن کو پڑھایا جاتا تھا بھی تو ساتویں یا اٹھاوی پاس کرلیتے تو شادی کروادی جاتی تھی۔یہ صورتحال چند علاقوں کے علاوہ اج بھی جاری و ساری ہے۔ دیامر کے شہر چلاس میں تو خواتین کو تعلیمی سہولیات ہیں اس کے علاوہ دیامر کی تقریبا دو تحصیلوں داریل تانگیر اور تحصیل چلاس کے سات نالہ جات میں اج بھی وہی پرانا رواج جاری ہے۔

    خواتین کو تعلیم دینے سے مراد ان کے ہاں بے دینی پھیلانے کی لی جاتی ہے ۔اکثر رشتہ دار جب کسی ایسی گھر ائیں جہاں کوئی بچی سکول جاتی ہوتو انہیں نصیحت کی جاتی ہے اس کو مذید نا پڑھائیں ۔اس کی شادی کی عمر ہوگی شادی کروا دیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ میرے پاس ایسے سیکڑوں واقعات ہیں جن کو لکھنے بیٹھ جاو تو بیسوں کالم لکھے جا سکتے ہیں۔(ایک واقع ابھی کے دو ہزار اکیس کا بتاتا چلو میں گاوں سے اسلام اباد ارہا تھا تو میرے اگلی سیٹ پہ ایک ہمارے جاننے والی اپنے بچی کے ساتھ سفر کر رہے تھے ۔چونکہ ان علاقوں میں خواتین کے تعلیم نہی تو میں نے سلام دعا کے بعد پوچھا پوچھا انکل سس (بہن) بیمار ہے کیا ۔ہمارے لوگ خواتین کو شہروں میں صرف انتہائی بیماری کی صورت میں لے کر اتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا نہی بیٹھا یہ مدرسہ پڑھتی یے۔ اس کو مدرسہ چھوڑنے ایا ہوں خیر ہمارے گاوں سے اسلام اباد کا سفر تقریبا تیرا چودہ گھنٹوں کا ہے تو میرے ان سے باتیں چلتی رہی مجھے جب بھی کوئی ملتا ہے تو میں خواتین کے تعلیم کی ترغیب دیتا ہوں ۔خیر ہم لوگ اسلام انے تک شاہد اس نے مجھے سمجھ گیا ہوگا انہوں نے کہاکسی کو بتانا نہیں یہ کالج میں پڑھتی ہے اس کو پڑھنے کا شوق ہے اس نے مجھ سے واعدہ کیا اگر یہ ایف ایس سی کے بعد ڈاکٹر نہ بن سکی تو اگے پڑھنے کی ضد نہی کرے گی اس کے خواہش کے لے میں نے یہ بہانہ بنایا ہے ۔)

    اس لے میں کوشش کرونگا اس کو مختصر کر کے لکھوں۔ اس ساری صورت حال میں ریاست کا بھی بڑھا رول رہا ریاست نے ان علاقوں کو جان بجھ کے ان پڑھ رکھا اور ان کو شعور نہیں دیا گیا ۔ایک طرف گلگت بلتستان کا لٹریسی ریٹ پاکستان میں سب سے ذیادہ اور دوسرے طرف ایک ضلع ایسا جہاں خواتین کی تعلیم با مشکل چھے فیصد ہے ۔تعلیم کا فقدان کی وجہ سے ان علاقوں میں قتل غارت عام رہا ہے لوگوں میں دشمنی اس قدر بڑھ گی تھی کے مجھے یاد جب ہم سکول میں تھے تو ہم اس بات بہث کرتے تھے کس کس خاندان میں دشمنیاں نہیں ہیں تو ہمیں کوئی ایسی فیملی نہیں ملتی جو دشمن داری سے خالی ہوتی ۔ہمارے ہاں اسلحہ کا اس قدر رواج تھا کے ہم بندوقیں گن گن کے ایک دوسرے کو نیچے دیکھاتے تھے۔ باوجود اس کے کبھی حکومت کے طرف سے کوئی پالیسی واضع نہیں رہی ۔ہمارے ان علاقوں سے افغانستان کشمیر میں بیسیوں جوان شہید ہوگے ہیں۔ اور گذشتہ دو دہائی سے کچھ پالیسیاں بدل گے جسے مشرف کے دور میں ان علاقوں کے طرف توجہ دی گی کچھ کالج سکول بنائے گئے۔
    جاری ہے۔

  • سی پیک اور مستقبل کا بلوچستان. تحریر: انجینئر سعد کلیم

    سی پیک اور مستقبل کا بلوچستان. تحریر: انجینئر سعد کلیم

    چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹینٹ جنرل(ریٹائرڈ)عاصم سلیم باجوہ کی کاوشوں سے سی پیک اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جس میں صنعتی اور زرعی تعاون ،گوادر کی ترقی اور سماجی و اقتصادی ترقی پر فوکس کیا جا رہا ہے جس کے دور رس مثبت نتائج حاصل ہونگے اورمعاشی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔

    چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹینٹ جنرل (ریٹائرڈ)عاصم سلیم باجوہ اس منصوبے کو بھر پور انداز میں آگے بڑھانے کے لیے انتہائی پر عزم ہیں ۔سی پیک کے دوسرے مرحلے میں نہ صرف اس منصوبے  کے دائرہ کار بلکہ رفتار کو بھی تیز کیا گیا ہے

    گوادر میں پانی کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے اور اس سال ہسپتال اور ٹریننگ ووکیشنل سنٹر پر کام شروع ہو گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ روڈ نیٹ ورک کی بھی تعمیر پر کام زور و شور سے جاری ہے کہا جارہا ہے سی پیک کےتحت روڈ نیٹ ورک کی تعمیر سے بلوچستان کے عوام کی 72 سالہ پرانی شکایات کو دور کرنے میں کافی مدد ملے گی۔

    ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ گوادر بندرگاہ کو ملانے کے لئے بلوچستان میں سڑکوں کا جال بچھانا حکومت وقت کی اولین ترجیح ہے۔بسمہ خضدار روڈ پر 70 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے ،یہ رواں سال کے آخر تک مکمل ہوجائے گا یاد رہے یہ روڈ گوادر بندرگاہ کو ملک کے دوسرے حصوں سے جوڑ دے گا۔.

    چیئرمین سی پیک اتھارٹی جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کی کوششوں کی وجہ سے گوادر بندرگاہ کو ملک کے دوسرے علاقوں سے جوڑنےکے لئے بھر پور طریقے سے کام جاری ہے جو معاشی سرگرمیاں پیدا کرے گا اور بلوچستان کے مقامی لوگوں کے لئے روز گار کے مواقع پیدا کرے گا۔

    بلوچستان کے 9 ترقی یافتہ اضلاع میں 31 سے زیادہ ڈیم تعمیر کیے جائیں گے 15 ڈیموں پر تعمیراتی کام پہلے ہی شروع ہوچکا ہے اور 16 نئے ڈیموں پر کام جلد ہی شروع ہوجائے گا اس کے ساتھ گوادر ائیرپورٹ پر بھی برق رفتاری سے کام جاری ہےجہاں بڑے کارگو ہوائی جہاز کی لینڈنگ کی بھی گنجائش ہوگی اور تیز ترین بندرگاہ کے آپریشن کے لئے جدید ترین مواصلاتی سہولیات سے بھی آراستہ کیا جائیگا

    بحثیت فرزند بلوچستان میں یہ بات دعوے سے کہ سکتا ہوں آج پورا بلوچستان بلخصوص بلوچستان کے نوجوان چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم کی کاوشوں کو دیکھتے ہوے پر امید ہیں کہ بہت جلد گوادر بندرگاہ صوبے میں معاشی انقلاب اور معاشرتی خوشحالی لائے گی اور دور دراز علاقوں کو ملک کے دوسرے ترقی یافتہ علاقوں کے مساوی بنانے کے لئے مدد گار ثابت ہوگی اور انے والا کل پاکستان کے حوالے سے بلوچستان کا کل ہوگا