Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ‏مسلمانوں کی اصل تاریخ . تحریر:عرفان محمود گوندل

    ‏مسلمانوں کی اصل تاریخ . تحریر:عرفان محمود گوندل

    مسلم سائنسدانوں کا حشر جو خود مسلمانوں نے کیا۔

    یعقوب الکندی
    فلسفے، طبیعات، ریاضی، طب، موسیقی، کیمیا فلکیات کا ماہر تھا۔ الکندی کی فکر کے مخالف خلیفہ کو اقتدار ملا تو مُلّا کو خوش کرنے کی خاطر الکندی کا کتب خانہ ضبط کر کے اس کو ساٹھ برس کی عمر میں سرعام کوڑے مارے گئے اور تماش بین عوام قہقہہ لگاتے تھے۔

    ابن رشد
    یورپ کی نشاۃ ثانیہ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے اندلس کے مشہورعالم ابن رشد کو بے دین قراردے کراس کی کتابیں نذرآتش کر دی گئیں۔ ایک روایت کے مطابق اسے جامع مسجد کے ستون سے باندھا گیا اور نمازیوں نےاس کے منہ پر تھوکا۔ اس عظیم عالم نے زندگی کے آخری دن ذلت و گمنامی میں بسر کیے

    ابن سینا
    جدید طب کے بانی ابن سینا کو بھی گمراہی کا مرتکب اور مرتد قرار دیا گیا۔ مختلف حکمران اس کے تعاقب میں رہے اوروہ جان بچا کر چھپتا پھرتا رہا۔ اس نے اپنی وہ کتاب جو چھ سو سال تک مشرق اور مغرب کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی گئی، یعنی القانون فی الطب، حالت روپوشی میں لکھی۔

    زکریاالرازی
    عظیم فلسفی، کیمیا دان، فلکیات دان کو جھوٹا اور کافر قرار دیا گیا حاکم وقت نے حکم دیا کہ اس کی کتاب اس وقت تک اس کےسر پر ماری جائے جب تک یا تو کتاب نہیں پھٹ جاتی یا رازی کا سر اس طرح بار بار کتابیں سرپہ مارے جانے کی وجہ سے وہ اندھا ہو گیا اور باقی زندگی کبھی نہ دیکھ سکا۔

    خلافت عثمانیہ کے ٹوٹنے کی بہت سی وجوہات تھیں لیکن جو سب سے بڑی وجہ تھی وہ یہ تھی کہ کچھ مولویوں نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ توپ کے گولوں میں حرام میٹریل استعمال ہوتا ہے لہذا اس میٹریل کو بنانا تو دور کی بات اس کے قریب جانا بھی گناہ کبیرہ ہے ۔
    سرسید احمد خان نے دیکھا کہ برصغیر میں ہندو تعلیمی میدان میں باقی سب قوموں سے آگے بڑھتے جارہے ہیں، ہر اسکول اور کالج میں
    ہندو اورمسلمان طالب علموں کا تناسب دس اور ایک کا ہے اور اگر کہیں پر دو چار مسلمان طلبا ہیں تو وہ بھی انگریزی کے قاعدے کو ہاتھ لگاتے ہوئے ڈرتے ہیں، دوسرے لفظوں میں ان دنوں والدین اور مولوی حضرات انگریزی زبان اور کتاب کو ہاتھ لگانا مکروہ قرار دے رہے تھے۔ ایسی صورتحال پر سر سید احمد خان کا ماتھا ٹھنکا اور انھوں نے مسلمان طلبا کو انگریزی تعلیم حاصل کرنے پر آمادہ کرنے کی مہم چلائی جس کے نتیجے میں ان پر انگریز کا پٹھو اور کافرہونے کے فتوے لگادیے گئے۔

    کبھی کبھی سوچتا ہوں ہم اپنے بچوں کو سچ کیوں نہیں پڑھاتے ۔۔۔ ؟
    مسلمانوں جیسے جیسے غدار پچھلے ہزار سال میں پیدا ہوئے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی ۔
    جس طرح مسلمانوں نے اپنے طاقت کو زوال میں تبدیل کیا اور جیسے اپنے آپ کو تباہ کیا ۔
    آنے والی صدیوں میں لوگ حیرت کا اظہار کریں گے کہ ان مسلمانوں کا دین انہیں کیا کہتا تھا اور یہ کرتے کیا تھے ۔

    بدقسمتی سے ہم مسلمان خود اپنے اکابرین کے اس بیش بہا خزانے سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ یہ سلسلہ اب بھی اگر اسی طرح جاری رہا تو آنے والی دہائیوں اور صدیوں میں مسلم امہ اقوام عالم سے مزید پیچھے رہ جائے گی۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ خواب غفلت سے نکلا جائے
    اور  اگر آگے بڑھنا ہے تو ایک قومی ایمرجنسی لگانی ہوگی تاکہ ہماری قوم اپنا سارا زور تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کی طرف لگائیں تاکہ غربت کے شکنجے سے آزاد ہوسکیں۔

    @A_IG68

  • ‏بانی پاکستان تیرا احسان ہے . تحریر: سیدماجد حسین شاہ

    ‏بانی پاکستان تیرا احسان ہے . تحریر: سیدماجد حسین شاہ

    پاکستان کے بانی محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں واقع وزیرمینشن کے نام سے مشہورمکان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام پونجا جناح تھا ، اور والدہ مٹھی بائی تھیں ، وہ ایک مرچنٹ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ایک عظیم سیاست دان اور اپنے وقت کے ایک مشہور وکیل بھی تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ابتدائی تعلیم سندھ مدرستہ الاسلام میں حاصل کی، میٹرک کا امتحان جامعہ ممبئی سے پاس کیا اور بعدازاں اعلی تعلیم کے حصول کی خاطر لندن روانہ ہوگئے۔ محمد علی جناح نے 1895 میں لندن کی یونیورسٹی سے 19 برس کی عمر میں قانون کی ڈگری حاصل کرکے کم عمر ترین ہندوستانی قانون دان کا اعزاز حاصل کیا اور کچھ ہی عرصے بعد ہندوستان واپس آکر باقاعدہ طور پر وکالت کا آغاز کیا جہاں ان کا شمار نامور وکلا میں کیا جانے لگا۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے بہت جدوجہد کی اور اپنی غیر معمولی کاوشوں کی بدولت انہیں مولانا مظہرالدین نے "قائداعظم” کے لقب سے نوازا۔

    بیس سال کی عمر میں آپ نے بمبئی ہائی کورٹ میں داخلہ لیا جب وہ برٹش انڈیا واپس آئے تو بار میں داخل ہونے والے وہ سب سے کم عمر شخص تھے ، جہاں انہوں نے قوم کے سیاسی امور میں دلچسپی لینا شروع کی اور اگلے تین سالوں میں مشہور ہوگئے۔ بمبئی کے ایڈووکیٹ جنرل نے انہیں اپنے بار کے لئے کام کرنے کی دعوت دی اور چھ ماہ کے بعد 1500 روپے ماہانہ تنخواہ کی پیش کش کی ، جو اس وقت بہت بڑی رقم تھی لیکن انہوں نے نرمی سے اس پیش کش سے انکار کردیا اور کہا کہ اس نے روزانہ 1500 کمانے کا منصوبہ بنایا ہے اور اسے ثابت کردیا کہ اس کی بے عیب کوششوں سے مستقبل میں ممکن ہے۔ لیکن نئی ریاست پاکستان کے بطور گورنر جنرل ، انہوں نے اپنی ماہانہ تنخواہ کے طور پر 1 روپیہ مقرر کیا۔ وہ عدل پسند آدمی اور سمجھدار شخصیت تھے۔

    جناح نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے 1906 میں کیا ، پھر سات سال بعد ، وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے کانگریس اور مسلم لیگ کو ایک ساتھ کام کرنے کے لیے بہت جدوجہد کی لیکن ایک ہی وقت میں ، انہوں نے برصغیر میں نسلی مذہب کی ثقافت کو پایا اور محسوس کیا کہ برصغیر کے مسلمان انگریزوں کے تحت اپنے ثقافتی اور معاشرتی حقوق کی قربانی دے رہے ہیں۔پھر انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے اپنی کوششیں شروع کیں اور ایک آزاد ریاست بنانے کا منصوبہ بنایا جہاں مسلمان آزادی کا سانس محسوس کرسکیں۔ سب سے بڑی طاقت اس آزادی میں تمام مسلمان تنظیموں کا اتحاد تھا ، اور یہ قائد اعظم کی قیادت ہے جو برصغیر کے تمام مسلمانوں کو ایک علیحدہ مملکت رکھنے کے اسی ایجنڈے پر متحد کیا۔ پاکستان کا قیام ہزاروں آزادی پسندوں کے خون کے ساتھ ساتھ جناح کی قیادت کا نتیجہ ہے ، پاکستان ان کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا تھا۔

    وہ حق اور سچ کے سب سے بڑے ترجمان تھے، وہ ہمیشہ مخالفین کے سامنے چٹان کی طرح کھڑا ہو جا تےتھے اور کبھی کسی بات کو ناممکن نہیں سمجھتے تھے ۔ گاندھی نے ان اصولوں کے عزم کے سبب انہیں "ناممکن آدمی” کہا۔ جناح نے کہا: "فیصلہ سنانے سے پہلے سو بار سوچو ، لیکن ایک بار فیصلہ سنانے کے بعداس پر ڈٹ جاو ، اس فیصلے کے ساتھ ایک مضبوط آدمی کی طرح کھڑے ہو جاؤ
    1930 میں وہ برصغیر کے تمام مسلمانوں کا غیر متنازعہ رہنما بن گئےاور مسلم لیگ کی قیادت کرنا شروع کردی۔ 1940 میں، مسلم لیگ نے مینار پاکستان لاہور میں قرارداد پاکستان کا مسودہ تیار کیا ، جو جنگ آزادی میں ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ثابت ہوا ہے۔ قرارداد پاکستان منظور ہونے کے بعد ، آپ نے دن رات محنت کی اور اپنی صحت کے بارے میں بھی فکر مند نہیں رہےجو دن بدن گرتی جارہی تھی ، لیکن آپ نے نے اسے خفیہ رکھا اور کبھی کسی کے سامنے اس کا انکشاف نہیں ہوں دیا ، ان کی قربانی اپنے مفاد کے لئے نہیں بلکہ پوری مسلم قوم کیلئے تھی۔ ان کی دانشمندانہ قیادت اور بھرپور کوشش کی وجہ سے ہی پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا۔ وہ کئی سالوں سے تپ دق کے ساتھ برسرپیکار رہے لیکن اسے کبھی بھی اپنی کمزوری نہیں بنایا.

    قائداعظم محمد علی جناح ہمیشہ تنازعہ کشمیر کے پر امن حل کے خواہاں تھے لیکن انھوں نے کشمیر کو ہندوستانی چنگل سے آزاد کروانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کا عزم بھی کیا تھا، قائداعظم کے کشمیر کے تین دورں سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں کشمیر اور اس کی سیاست میں گہری دلچسپی تھی، قائداعظم اصولوں والے آدمی تھے۔ وہ پاکستان کے مشن پر اپنی ذمہ داری اور مستحکم یقین کے پیش نظر کامیاب ہوئے اور آج ہمیں بھی اسی عزم اور حوصلےکی ضرورت ہے۔ قائد کے وژن سے انحراف پاکستان کے استحکام کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوگا۔ اگر کشمیر کو پاکستان کا حصہ نہ بنایا گیا تو مستقبل میں ملک کو شدید چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر کی صورتحال نے قائداعظم محمد جناح کے ہر لفظ کو درست ثابت کیا۔ ایک سیاسی طور پرمتحد، معاشرتی طور پر ہم آہنگ اور معاشی طور پر خوشحال پاکستان غیر قانونی بھارتی محکومیت سے کشمیر کی آزادی کی راہ ہموار کرے گا۔ قائد اعظم کی کشمیریوں کے ساتھ وابستگی کی تکمیل ہوگی.

    فرمان قائداعظم ہےحب الوطنی لوگوں کو ملک و قوم کے مفاد کو محفوظ رکھنے کی طاقت اور ہمت دیتی ہے۔ حب الوطنی کے لئے ملک کی خودمختاری ، سالمیت اور وقار اعلیٰ ترین اقدار ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ محب وطن ان اقدار کے تحفظ کے لئے قربانی پیش کرتے ہیں دو قومی نظریے قیام پاکستان کی اساس ہے۔ دو قومی نظریہ نےبرصغیر کے دو بڑی برادریوں ، ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین ثقافتی ، سیاسی ، مذہبی ، معاشی اور معاشرتی عدم مساوات ہیں۔
    قائداعظم کے حوالے
    1-میں صحیح فیصلہ لینے میں یقین نہیں رکھتا ، میں فیصلہ لاتا ہوں اور اسے درست کرتا ہوں۔”
    محمد علی جناح
    2-فیصلہ لینے سے پہلے سو بار سوچو ، لیکن ایک بار جب فیصلہ کرلیا جاتا ہے تو ایک مضبوط آدمی کی طرح اس کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔
    – محمد علی جناح
    3-دنیا میں دو طاقتیں ہیں۔ ایک تلوار ہے اور دوسرا قلم۔ دونوں کے مابین زبردست مقابلہ اور دشمنی ہے۔ ان دونوں کی نسبت خواتین کی ایک تیسری طاقت مضبوط ہے۔
    – محمد علی جناح
    3-بہترین کی توقع کرو ، بدترین کے لیے تیار رہو۔
    – محمد علی جناح
    4-جمہوریت مسلمانوں کے خون میں ہے ، جو انسانیت کی مکمل مساوات پر نگاہ رکھتے ہیں ، اور بھائی چارے ، مساوات اور آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔
    – محمد علی جناح
    5-کوئی بھی قوم عظمت کے عروج تک نہیں پہنچ سکتی جب تک کہ آپ کی خواتین آپ کے شانہ بشانہ نہ ہوں۔ ہم بری رسم و رواج کا شکار ہیں۔ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے کہ ہماری خواتین گھروں کی چار دیواری کے اندر قیدی بن کر بند رہیں۔ اس قابل فریب حالت کے لئے کہیں بھی اجازت نہیں ہے جس میں ہماری خواتین کو رہنا پڑے۔
    محمد علی جناح اس کے علاوہ ان کی اور بھی کوٹیشنز ہیں آپ بہت ہی ایماندارشفیق اور سادہ انسان تھے
    11 ستمبر 1948 کو آپ کی موت ہوگئی ، جب آپ نے کہا ، “اسٹیٹسمین ایک قاتل کی سرپرستی سے مر گیا تھا۔ اسٹیٹسمین کا پاکستان سے تعزیت کے بعد ہی انتقال ہوگیا۔ ایک ایسا شخص جس میں اسٹیٹسمین ، جس نے پاکستان کے درپے ہونے کی جنگ لڑی تھی ، وہ مخالف دشمن پیدا کرنے اور ناقابل قبول ریاست میں ہلچل تک محدود تھا اور زیادہ تر غلط فہمی ہونے کا یقین رکھتا تھا۔
    شکریہ قائداعظم اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے آمین
    پاکستان زندہ باد

    ‎@SHAHKK14

  • لبیک اللہم لبیک

    لبیک اللہم لبیک

    آج سے تقریبا ساڑھے چارہزارسال قبل جب حضرت ابراہیم اورآپ کے فرمانبرداربیٹے حضرت اسماعیل نے اللہ تعالی کے حکم سے خانہ کعبہ کی تعمیرمکمل فرمائی تو اللہ نے حضرت ابراہیم سے ارشاد فرمایا: اورلوگوں میں حج کی نداعام کر دیں۔( آیت 27) حضرت ابراہیم نے عرض کیا کہ اے اللہ میری آواز سب لوگوں تک کیسے پہنچے گی؟ ارشاد باری تعالی ہوا کہ تم تعمیل کرو آواز پہنچانا ہمارا کام ہے۔ حضرت ابراہیم نے پہاڑ پر چڑھ کر اعلان فرمایا اے لوگوں! اللہ تعالی کے گھر کے حج کے لئے آو۔ ان کی آواز کو اللہ تعالی نے زمین و آسمان کے درمیان تمام مخلوق تک پہنچادیا یہاں تک کہ یہ آواز باپ کی پشت اور ماں کے پیٹ تک بھی۔ مزید روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم کی آواز اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ سے ابد تک آنے والی نسل کی ارواح تک پہنچا دیا۔ جس نے اس آواز پر لبیک کہ اس کے مقدر میں جب لکھ دیا گیا۔

    اس دورابرا ہیمی سے لیکر آج تک بے شمار لوگوں کو اللہ نے حج کی سعادت عطا فرمائی اور وہ اللہ کے گھر کی زیارت کر چکے ہیں۔ آج بھی جب کوئی حاجی حج کی نیت کرتا ہے تو احرام باندھتے ہی تلبیہ پڑھنا شروع کردیتا ہے۔
    لَبَّيْكَ ٱللَّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ ٱلْحَمْدَ وَٱلنِّعْمَةَ لَكَ وَٱلْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ
    ترجمہ: میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، سب تریفیں تیرے ہی لئے ہیں، اور تیرا کوئی شریک نہیں۔

    مندرجہ بالاتلبیہ پرغور وفکر کیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ساڑھے چار ہزار سال قبل حضرت ابراہیم کے بلاوے کا جواب ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ اللہ میں تو ہرگز اس قابل نہیں کہ اپنے گناہوں کے بوجھ سمیت تیرے دربار میں حاضر ہو سکوں بس یہ تیرا کرم ہے کہ تو نے مجھے بلالیا۔

    اے اللہ ہم میں کتنے ایسے ہیں جو حاضری کے لئے تڑپتے ہیں لیکن وسائل کی کمی تیرے در تک پہنچنے نہیں دیتی اور وہ بھی ہیں جن کے پاس وسائل تو بہت ہیں لیکن تو نے ان کے نصیب میں حاضری نہیں ۔ ان ہزاروں اور لاکھوں میں میرے رب تو نے مجھے حاضری کے قابل سمجھامیں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں۔

    اے اللہ یہ حج صرف تیری اطاعت اور فرمانبرداری کا نام ہے۔ تیرے حکم پر میں نے اپنے گھر کو چھوڑا، اپنے وطن سے دور نکل آیا اپنی پوشاک اتار کر صرف دو چادروں کو اپنا لباس بنا لیا .

    اے اللہ میں جانتا ہوں کہ تو اپنے مجبوب بندوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ اتنی کہ ان کی اداؤں اور نشانیوں کو ہمیشہ کے لئے محفوظ فرمادیتا ہے۔ تونے حضرت بی بی حاجرہ کے صفہ اور مردہ کے در میان دوڑنے کو اتنا پسند فرمایا کہ اس عمل کو حج کا لازمی جز بنا ڈالا۔ تو نے حضرت ابراہیم کے قدموں کے نشان کو سجد ے کا مقام اور ان کی قربانی کو مسلمانوں کے لئے تا قیامت واجب بنادیا اور تو نے اپنے پیارے محبوب محمد کے حج کی ہر ہر ادا کو حج کے معمولات کا حصہ بنادیا۔ اے اللہ مجھے بھی اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔
    یا اللہ! ہم سب کو اپنے گھر کی حاضری نصیب فرما ئے.آمین

    @The_Pindiwal

  • ‎ انسانی حیات پر منڈلاتے خطرات .تحریر :محمد محسن خان

    ‎ انسانی حیات پر منڈلاتے خطرات .تحریر :محمد محسن خان

    ‎دنیا کو ایک وبائی وائرس کرونا لاحق ہے ، جسے حکومتوں کی طرف سے سیاسی الزام تراشیوں کے پس منظر میں مجرمانہ نااہلی کی وجہ سے نہیں روکا گیا ہے۔ یہ کہ دولت مند ممالک میں ان حکومتوں نے عالمی ادارہ صحت اور سائنسی تنظیموں کے ذریعہ جاری کیے گئے بنیادی سائنسی پروٹوکول کو سنجیدہ انداز میں ایک طرف رکھ دیا ۔ بنیادی طریقہ کار جیسے جانچ ، رابطے کا سراغ لگانا ، اور تنہائی کے ذریعہ وائرس کے نظم و نسق کی طرف توجہ دینے سے پہلوتہی برتی گئی اور اگر یہ کافی نہیں رہا تو پھر عارضی طور پر اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانابے وقوفی ہے۔ یہ اتنا ہی تکلیف دہ ہے کہ ان امیر ممالک نے "عوام کی ویکسین” بنانے کی پالیسی کے بجائے ویکسین امیدواروں کو ذخیرہ کرکے "ویکسین نیشنلزم” کی پالیسی اپنائی۔ انسانیت کی خاطر ،دانشورانہ املاک کے قواعد کو معطل کرنا اور تمام لوگوں کے لئے عالمی سطح پر ویکسین تیار کرنے کا طریقہ کار تیار کرنا دانشمندانہ فیصلہ ہوتا۔اگرچہ وبائی مرض انسانی دماغوں پر مسلط ایک بنیادی مسئلہ رہے ہیں، لیکن دوسرے بڑے ہمارے پیدا کئے ہوئے مسائل مستقبل کی نسلوں اور زمین کی لمبی عمر کو خطرہ بناتے ہیں:

    ‎جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جنوری 2020 میں ، جوہر سائنس دانوں کے بلیٹن نے ڈومس ڈے گھڑی کو آدھی رات کو 100 سیکنڈ تک طے کیا ، جو آرام کے قریب تھا۔ 1945 میں پہلے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے دو سال بعد بنائی گئی اس گھڑی کا ہر سال تشخیص بلیٹن کے سائنس اور سیکیورٹی بورڈ کے ذریعہ کیا جاتا ہے ، جو فیصلہ کرتے ہیں کہ منٹ کو منتقل کرنا ہے یا اسے اپنی جگہ پر رکھنا ہے۔ جب وہ دوبارہ گھڑی طے کرتے ہیں تو ، یہ فنا کے قریب ہوسکتا ہے۔ پہلے سے ہی محدود اسلحہ کنٹرول معاہدوں کو ختم کیا جا رہا ہے کیونکہ بڑی طاقتیں 13500 جوہری ہتھیاروں پر قابض ہیں (جن میں 90 فیصد سے زیادہ صرف روس اور امریکہ کے پاس ہے)۔ ان ہتھیاروں کی پیداوار آسانی سے اس سیارے کو اور بھی غیر آباد بنا سکتی ہے۔ امریکہ کی بحریہ نے پہلے ہی کم پیداوار والے تاکتیکی W76-2 نیوکلیائی وار ہیڈ تعینات کردیئے ہیں۔جوہری تخفیف اسلحے کی طرف فوری اقدامات کو دنیا کے ایجنڈے پر مجبور کرنا ہوگا۔ ہر سال 6 اگست کو منائے جانے والے یوم ہیروشیما کو غور و فکر اور احتجاج کا ایک اور مضبوط دن بننا چاہئے

    مشائع ہونے والا ایک سائنسی مقالہ حیران کن سرخی کے ساتھ آیا: "21 ویں صدی کے وسط تک بیشتر اٹول غیر آباد ہوجائیں گے کیونکہ سطح کی سطح میں اضافے نے لہر سے چلنے والے سیلاب کو بڑھاوا دیا ہے۔” مصنفین نے پایا کہ سیچلس سے جزیرے مارشل تک اٹول ختم ہونے کے قابل ہیں۔ اقوام متحدہ کی 2019 کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 10 لاکھ جانوروں اور پودوں کی نسلوں کو معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ اس میں تباہ کن جنگل کی آگ اور مرجان کی چٹانوں کی شدید گرمی شامل کریں اور یہ بات واضح ہے کہ ہمیں اب آب و ہوا کی تباہی کی کوئلے کی کان میں کنری ہونے کی وجہ سے کسی چیز یا کسی اور چیز کے بارے میں جکڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خطرہ مستقبل میں نہیں ، بلکہ حال میں ہے۔ریو ڈی جنیرو میں 1992 میں اقوام متحدہ کے ماحولیات اور ترقی سے متعلق کانفرنس میں قائم کی جانے والی "مشترکہ لیکن امتیازی ذمہ داریوں” کے نقطہ نظر پر عمل پیرا ہونے کے لئے ، جو فوسل ایندھن سے مکمل طور پر تبدیل ہونے میں پوری طرح ناکام ہونے والی بڑی طاقتوں کے لئے ضروری ہے۔ یہ بتا رہا ہے کہ جمیکا اور منگولیا جیسے ممالک نے 2020 کے اختتام سے قبل اقوام متحدہ میں اپنے آب و ہوا کے منصوبوں کی تازہ کاری کی۔ جیسا کہ پیرس معاہدے کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے ، حالانکہ یہ ممالک عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کا ایک چھوٹا سا حصہ تیار کرتے ہیں۔ اس فنڈز میں جو ترقی پذیر ممالک کو ان کے عمل میں حصہ لینے کے لئے مصروف عمل تھے وہ عملی طور پر خشک ہوچکے ہیں جبکہ بیرونی قرضوں کا غبار ختم ہوگیا ہے۔ اس سے "بین الاقوامی برادری” کی بنیادی سنجیدگی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔یہ بتا رہا ہے کہ جمیکا اور منگولیا جیسے ممالک نے 2020 کے اختتام سے قبل اقوام متحدہ میں اپنے آب و ہوا کے منصوبوں کی تازہ کاری کی۔ جیسا کہ پیرس معاہدے کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے ، حالانکہ یہ ممالک عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کا ایک چھوٹا سا حصہ تیار کرتے ہیں۔ اس فنڈز میں جو ترقی پذیر ممالک کو ان کے عمل میں حصہ لینے کے لئے مصروف عمل تھے وہ عملی طور پر خشک ہوچکے ہیں جبکہ بیرونی قرضوں کا غبار ختم ہوگیا ہے۔ اس سے "بین الاقوامی برادری” کی بنیادی سنجیدگی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔یہ بتا رہا ہے کہ جمیکا اور منگولیا جیسے ممالک نے 2020 کے اختتام سے قبل اقوام متحدہ میں اپنے آب و ہوا کے منصوبوں کی تازہ کاری کی۔ جیسا کہ پیرس معاہدے کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے ، حالانکہ یہ ممالک عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کا ایک چھوٹا سا حصہ تیار کرتے ہیں۔ اس فنڈز میں جو ترقی پذیر ممالک کو ان کے عمل میں حصہ لینے کے لئے مصروف عمل تھے وہ عملی طور پر خشک ہوچکے ہیں جبکہ بیرونی قرضوں کا غبار ختم ہوگیا ہے۔ اس سے "بین الاقوامی برادری” کی بنیادی سنجیدگی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔
    ‎شمالی امریکہ اور یورپ کے ممالک اپنا عوامی کام سرانجام دے چکے ہیں کیونکہ ریاست کو منافع بخش افراد کے حوالے کردیا گیا ہے اور نجی معاشرے کو سول سوسائٹی نے متناسب کردیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے ان حصوں میں معاشرتی تغیر پذیر کے راستوں کو انتہائی سنجیدگی سے رکاوٹ بنایا گیا ہے۔ خوفناک معاشرتی عدم مساوات مزدور طبقے کی نسبت سے سیاسی کمزوری کا نتیجہ ہے۔ یہی کمزوری ہے جو ارب پتی افراد کو ایسی پالیسیاں متعین کرنے کے قابل بناتا ہے جس کی وجہ سے بھوک کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ ممالک کو ان کے حلقہ بندیوں میں لکھے ہوئے الفاظ سے نہیں بلکہ ان کے سالانہ بجٹ کے ذریعے فیصلہ کیا جانا چاہئے۔ مثال کے طور پر ، امریکہ اپنی جنگی مشین پرتقریباً ایک کھرب ڈالر (اگر آپ تخمینہ والے انٹلیجنس بجٹ کو شامل کرتے ہیں) خرچ کرتے ہیں ، جبکہ اس کا تھوڑا سا حصہ عوام کی بھلائی پر خرچ کرتا ہے (جیسے صحت کی دیکھ بھال پر ، وبائی امور کے دوران واضح چیز)۔مغربی ممالک کی خارجہ پالیسیاں ہتھیاروں کے سودوں سے خوب چکنا چور ہیں: متحدہ عرب امارات اور مراکش نے اس شرط پر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر اتفاق کیا کہ وہ بالترتیب 23 ارب اور 1 بلین ڈالر کے امریکی ساختہ اسلحہ یا طیارے خرید سکتے ہیں۔ فلسطینیوں ، سحروی اور یمنی عوام کے حقوق کو ان سودوں میں شامل نہیں کیا گیا۔ کیوباڈ ، ایران ، اور وینزویلا سمیت 30 ممالک کے خلاف امریکہ کی جانب سے غیر قانونی پابندیوں کا استعمال ، کوویڈ ۔19 صحت عامہ کے بحران کے باوجود بھی زندگی کا معمول بن گیا ہے۔ یہ سیاسی نظام کی ناکامی ہے جب سرمایہ دارانہ بلاک میں انسانی آبادی اپنی حکومتوں کو مجبور نہیں کرسکتی – جو کہ صرف نام کے ہی جمہوری ہیں – اس ہنگامی صورتحال کے بارے میں عالمی تناظر اپنانے کے لئے۔بھوک کی بڑھتی ہوئی شرح سے پتا چلتا ہے کہ بقا کی جدوجہد کرہ ارض پر موجود اربوں لوگوں کے لئے افق ہے (یہ سب کچھ جبکہ چین مطلق غربت کا خاتمہ کرنے اور بڑے پیمانے پر بھوک کو ختم کرنے کے قابل ہے)۔
    ‎جوہری تباہی اور آب و ہوا کی تباہی سے ناپید ہونا سیارے کے لئے دو خطرات ہیں۔ دریں اثنا ، پچھلی نسل نے جو نوعمری حملہ کیا ہے اس کے شکار افراد کے ل their ، ان کے محض وجود کو برقرار رکھنے کے قلیل مدتی مسائل ہمارے بچوں اور پوتے پوتوں کی قسمت کے بارے میں بنیادی سوالات کی جگہ لے لیتے ہیں۔

    ‎اس پیمانے کے عالمی مسائل کے لئے عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔ 1960 کی دہائی میں تیسری دنیا کی ریاستوں کے دباؤ پر ، بڑی طاقتوں نے 1968 کے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر اتفاق کیا ، اگرچہ انہوں نے 1974 کے نئے بین الاقوامی معاشی آرڈر کے قیام سے متعلق گہرے اہم اعلان کو مسترد کردیا۔ بین الاقوامی سطح پر ایسے طبقاتی ایجنڈے کو چلانے کے لئے دستیاب قوتیں اب نہیں ہیں۔ مغرب کے ممالک خصوصا، ترقی پذیر دنیا کی بڑی ریاستوں (جیسے برازیل ، ہندوستان ، انڈونیشیا ، اور جنوبی افریقہ) میں سیاسی حرکیات حکومتوں کے کردار کو تبدیل کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ معدومیت کے خطرات کی طرف فوری اور فوری توجہ دینے کے لئے ایک مضبوط بین الاقوامییت ضروری ہے: جوہری جنگ ، آب و ہوا کی تباہی کے ذریعہ ، اور معاشرتی خاتمے کے ذریعہ ناپید ہوجانا۔آگے کے کام مشکل ہیں ، اور ان کو موخر نہیں کیا جاسکتا اور یہی آج کاسچ ہے

    تحریر محمد محسن خان

  • لڑکی جب کسی سے محبّت کرتی ہے تو اپنے گھر والوں کو کیوں نہیں بتاتی . تحریر : فوزیہ چوہدری

    لڑکی جب کسی سے محبّت کرتی ہے تو اپنے گھر والوں کو کیوں نہیں بتاتی . تحریر : فوزیہ چوہدری

    کہتے ہیں لڑکی محبت میں بے وفا ہوتی ہے
    لیکن میں کہتی ہوں نہیں لڑکی بے وفا نہیں ہوتی

    جب لڑکی کسی لڑکے سے محبت کرتی ہے تو وہ یہ ہی چاہتی ہے کے اس کی محبّت کو نکاح کا نام ملے جس سے محبّت کرتی ہے وہ محرم بن جائے لیکن لڑکی بہت دور تک سوچتی ہے
    وہ یہ سوچتی ہے کہ کیسے اس کی محبت ملے گی کیسے اس کا نکاح ہوگا لڑکی بہت ہمت والی ہوتی ہے لیکن اپنے گھر والوں کو بتانے سے ڈرتی ہے کہ کہی کچھ غلط نہ ہو جاۓ گھر والے اس کے کردارپرشک نہ کرے ماں باپ اس پر پابندیاں نہ لگادیں جس سے وہ محبت کرتی ہے اس کو کچھ نہ کردیں لوگوں کی باتوں سے ڈرتی ہے رشتے داروں کے طنے سے ڈرتی ہے لیکن اپنی محبت کو چھوڑتی نہیں.

    کچھ لڑکیاں اس ڈرکی وجہ سے گھر سے بھاگ جاتی ہے زمانے میں بدنام ہوجاتی ہے اورجو لڑکیاں کچھ نہیں کرسکتی وہ خاموش ہوکراپنی محبت کوقربان کرکے زندگی بھر کا دکھ تکلیف لے لیتی ہیں

    اب رہا سوال محبّت کا ؟؟؟ اگر کسی لڑکی کو محبّت ہے تو وہ اپنے ماں باپ سے بات کرے ان کو بتا دے کہ میں کسی کو پسند کرتی ہوں ماں باپ کو بھی چاہیے کہ وہ بھی لڑکی کی بات سن لیں دیکھ لیں وہ رشتہ کیا وہ صحیح ہے یا غلط ہے وہ فیصلہ ماں باپ نے کرنا ہوتا ہے
    کیوں کے ماں باپ اپنے بچوں کا غلط نہیں سوچ سکتے اور وہ لڑکیوں کو بھی چاہیے کہ اپنے ماں باپ کی عزت کی قدر کریں دو دن کی محبت کے لیے گھر سے بھاگنا اچھی بات نہیں کیونکہ والدین کی محبت سب سے پہلے ہے اگر آپ کو کوئی لڑکا پسند ہے تو اپنے ماں باپ سے بات کریں ان کو بتادیں کے میرے لیے صحیح ہے باقی جو فیصلہ ماں باپ کریں تو وہ مان لیں کم سے کم آپ کو اس بات کا دکھ تو نہیں ہو گا کہ آپ نے اپنے ماں باپ سے بات نہیں کی.

    باقی قسمت پر چھوڑ دیں اور اللہ پاک سے دعا کریں اگر کوئی آپ سے سچی محبت کر تا ہے تو اس کی قدر کریں کیوں کہ سچی محبّت کرنے والے بار بار زندگی میں نہیں.

    یہ میرے دل کی تھوڑی سی بات ہے جو کہہ دی اب پتا نہیں کسی کو اچھی لگتی ہے یا نہیں اگربات بری لگی ہو تو معافی چاہتی ہوں.

    @iam_FoziaCh

  • تعلیمی ادارے یا فحاشی کے اڈے ،تحریر: فروا نزیر

    تعلیمی ادارے یا فحاشی کے اڈے ،تحریر: فروا نزیر

    Twitter id: @InvisibleFari_

    بظاہر ہم ایک اسلامی ریاستِ مدینہ میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں اس ملک کو حاصل کرنے کا مقصد یہی تھا کہ ہم اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گزاریں
    کیا ہم واقعی اسلامک تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزار رہے ہیں…؟؟
    چلئیں ایک مثال سے واضح کرتے ہیں اس بات کو..
    گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے تہلکہ مچادیا جس میں ایک تعلیمی ادارے میں کچھ نازیبا گانے لگا کر لڑکیاں ناچ گانا کرتی دکھائی گئیں…
    اوّل تو اسے ایک فیسٹیول کا نام دیا گیا جس می یہ سب بہت عام ہے لیکن میرے نزدیک وہ فیسٹیول کم اور ناچ گانا زیادہ لگ رہا تھا
    دوسرا یہ کہ اگر ایک تعلیمی ادارے کی یہ سرگرمیاں اسطرح کی ہوں گی تو ہمارا معاشرہ اس سے کیا سیکھے گا..؟
    اس طرح کی تقریبات منعقد کرنے سے ہماری نوجوان نسل کیا سیکھے گی؟ اپنی اولاد کو کیا سکھائے گے؟ کیسے اچھی تربیت کریں گے..؟؟

    کہتے ہیں ایک پڑھی لکھی عورت پورا گھر سنوار سکتی ہے لیکن اگر یہی عورت تنگ لباس زیب تن کر کے یونیورسٹی میں جائے گی
    تمام لڑکوں کے سامنے اپنے جسم کی نمائش کریں گی تو کیا ہمارا معاشرہ اسلامی کہلائے گا..؟؟
    خاص طور پر ایک تعلیمی ادارے میں اس طرح کی فحاش قسم کی چیزیں بند کرنی چاہیے
    تعلیم حاصل کرنے کیلیے دوسری غیر نصانی سرگرمیاں بہت ضروری ہیں مگر یہ ناچ گانا ہمارے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ یہ ہمیں تباہی کی طرف گامزن کر رہا ہے…
    اس تمام واقع کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی اور پھر ٹویٹر پر کچھ ٹرینڈز کیے گئے اور اس معاملے کو دبا دیا گیا. کسی نیوز چینل نے اس پر کوئی کالم کوئی خبر میڈیا پر لانے کی کوشش نہیں کی..
    میرا مقصد کسی تعلیمی ادارے کا نام ظاہر کر کے اسکی ساخت کو خراب کرنا نہیں یے بلکہ مجھے اپنے ملک کے جوان نسل کے زوال کا اندیشہ ہے..

    مجھے ڈر ہے جو خواب ہمارے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے دیکھا، نوجوانوں کو شاہین کے نام سے پکارا گیا کہیں یہ سب خاک میں نہ مل جائے.
    ان تمام چیزوں کو بیان کرنے کاصرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے پاکستان کی جوان نسل کی اچھی تربیت کی جاأے
    ہماری تاریخ اٹھا کر دیکھ لی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری نسلیں تباہ اسی وقت ہوئی جب وہ غفلت میں پڑ گیئں..

    میں گورنمنٹ آف پاکستان سے اس پینل کے زریعے گزارش کرتی ہو کہ پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے.
    ہمارے وزیر تعلیم کو خاص طور پر سلیبس میں رد وبدل کے علاوہ ان چیزوں پر خاص طور پر دھیان دینا ہو گا

    اللہ پاک ہم سبکو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین ثمہ آمین

  • ساڈا حق ایتھے رکھ .تحریر .سیدہ ام حبیبہ

    ساڈا حق ایتھے رکھ .تحریر .سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم یہ جملہ کہنے کو تو ایک فلم کے گانے کا مصرعہ ہے مگر ہم پاکستانیوں کی ضرورت اور ضرورت بھی ایسی کہ جسکے پورا نہ ہونے کے بعد مرگ مفاجات کا سامنا یقینی ہے.
    ہم پاکستان کے شہری محرومیوں کے ڈھیر تلے دبے ٹیڑھی کمر کے ساتھ جوان ہوتے ہیں.اور جگاڑ کرتے کرتے منوں مٹی تلے جا سوتے ہیں.
    کیا وجہ ہے کہ ہم اس ڈھیر سے ابھر نہیں پاتے؟
    ہم اپنے حقوق سے نا آشنا ہونے کی پاداش میں یہ سزا پا رہے ہیں.
    ہم نے کبھی اپنے حقوق کا ادراک کرنے کی سعی کی ہی نہیں.
    مثال کے طور پہ ہمارے ووٹ کی قیمت سڑک بنوانا گلی بنانا یا نالی بنوانا طے کی جاتی ہے.جو کہ حکومت کا فرض اور ہمارا حق ہے.

    اسی طرح تعلیم و صحت ، کھیل، کاروبار ملازمت کی فراہمی حکومت کا فرض اور ہمارا حق ہے.
    ہم وہ محروم قوم ہیں جن سے انکے میٹھے پھل تک چھین کر زرمبادلہ کی آڑ میں بیرون ملک بھجوا دیے جاتے ہیں.
    اگر سوچا جائے تو ہمارے پھل منگوانے والے ممالک اپنی عوام کو بہترین کھلانے کے تگ و دو میں ہیں .
    اس محرومی کی وجہ حکومتوں کو ٹھہرانا ایسا ہی ہے جیسا کہ آنکھیں بند کر کے چلتے ہوئے دیوار سے ٹکرانا اور الزام دیوار کو دینا.
    حقوق سے آگاہی کے ساتھ ایک کام جو ہم سب کو قومی فریضہ سمجھ کر کرنا ہوگا
    ہمیں ڈٹ جانا ہوگا اپنے حق کے لیے

    ووٹ کے بدلے چالیس سالوں سے صرف نالیاں گلیاں ہی نہیں.تعلیم صحت کاروبار روزگار بھی چاہیے.
    نمائندے ایوانوں میں ہمارے مسائل حل کرنے بیٹھتے ہیں لاکھوں کا خرچ کر کے ایک اجلاس کرتے اور ایک دوسرے پہ جگتیں کس کے قیمتی کاغذ پھاڑ کر لاکھوں کا نقصان کر آتے.
    اب جب اجلاس میں ایسا ہو تو گریبانوں تک ہاتھ پہنچیں بھئ جس کام کے لیے ایوانوں میں خرچ کیا وہ کیا ہوا.قانون سازی کی ؟ نہیں تو جو ہمارا پیسہ خرچ ہوا اسکا حساب دو.
    اب گلی گلی نگر نگر یہ نعرہ گونجنا چاہیے کہ
    ساڈا حق ایتھے رکھ

  • ابلیس کون؟ .  تحریر: محمد توقیرعباس

    ابلیس کون؟ . تحریر: محمد توقیرعباس

    ابلیس کا اصلی نام "عزازیل” ہے۔ ابلیس کی کنیت "ابو قیتر” (تکبر کا باپ) ہے۔ ابلیس کے لفظی معنی ” انتہائی مایوس کے ہیں۔ اصلاحاً ابلیس اس جن کا نام ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کر کے حضرت آدم علیہ السلام کیلئے مطیع اور مسخر ہونے سے انکار کر دیا۔

    ابلیس کے والد کا نام "چلیپا” اور اس کی کنیت ابو الغوی تھی۔ چلیپا کا چہرہ ببر شیر جیسا تھا وہ نہایت قدآور اور بہادر تھا۔ اس کی قوم اسے "شاشین” کے نام سے مخاطب کرتی تھی جس کے معنی دل دہلا دینے کے ہیں۔

    ابلیس کی والدہ کا نام "تبلیث” یا "نبلیث” تھا۔ تبلیث کا چہرہ بھیڑیئے کی مانند تھا اور وہ بھی اپنے شوہر چلیپا کی طرح نہایت دلیر اور طاقتور تھی اس حد تک کہ قوم کے بچے بچے کی زبان پر تھا کہ تبلیث کے ہوتے ہوئے دنیا کی کوئی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی۔

    ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام "طارانوس” کہا جاتا ہے۔ طارانوس ابلیس سے ایک لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پہ موجود تھا۔ طارانوس کی نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان پہ موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نہ بیماری لگتی تھی البتہ یہ چونکہ آتشی مخلوق تھی تو سرکشی بدرجہ اتم موجود تھی۔ اس جنوں کی نسل کو پہلی موت فرشتوں کے ہاتھوں پیدائش کے 36000 سال بعد آئی جس کی وجہ سرکشی تھی یہاں پہلی بار موت کی ابتدا ہوئی اس سے پہلے موت نہیں ہوتی تھی۔ بعد میں "چلپانیس” نامی ایک نیک جن کو جنات کی ہدایت کا ذمہ سونپا گیا اور وہ ہی شاہ جنات قرار پائے اس کے بعد "ہاموس” کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ ہاموس کے دور میں ہی "چلیپا” اور "تبلیث” کی پیدائش ہوئی۔ یہ دونوں اپنے وقت کے بے حد بہادر جنات تھے اور ان کی قوم نے چلیپا کو شاشین کا لقب اس کے شیر کے جیسے سر کی وجہ سے دیا۔ ان دونوں جنات کی وجہ سے ساری قوم کہنے لگ گئی کہ ہمیں اس وقت تک کوئی نہیں ہرا سکتا جب تک شاشین اور تبلیث ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ان دونوں کی وجہ سے قوم کے جنات آسمان تک رسائی کرنے لگے اور تیسرے آسمان پر جا کر شرارت کر آتے تھے۔ ایسے میں حکم الٰہی سے فرشتوں نے ان پر حملہ کیا اور عبرتناک شکست دی۔ اسی دوران جب "عزرائیل علیہ السلام” کو ابلیس نے دیکھا تو سجدہ میں گر گیا۔

    ابلیس شروع سے ہی ایک نڈراورذہین بچہ تھا اس میں باپ کی بہادری اور ماں کی مکاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اس نے ملائکہ کے ساتھ جا کر توبہ کا باقاعدہ اعلان کیا اور پھر فرشتوں سے فیض علم حاصل کرنے لگا۔ علم حاصل کرنے اور ریاضت کا یہ عالم تھا کہ پہلے آسمان پہ "عابد”، پھر دوسرے آسمان پر "زاہد”، تیسرے آسمان پر "بلال”، چوتھے آسمان پر "والی”، پانچویں آسمان پر "تقی” اور چھٹے آسمان پر "کبازان” کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ فرشتوں کو سکھاتا تھا۔ ساتویں آسمان پہ ابلیس بقع نور میں رہا۔ ہفت افلاک کے سب ملائکہ کا معلم قرار دیا گیا یہاں تک پہنچ کر ابلیس نے اپنی عاجزی اور ریاضت کی انتہا کردی۔

    کم و بیش ابلیس نے چودہ ہزار سال عرش کا طواف کیا یہاں اس نے فرشتوں میں استاد/سرادر "عزازیل” کے نام سے شہرت پائی کم و بیش تیس ہزار سال مقربین فرشتوں کا استاد رہا۔ ابلیس کے درس و وعظ کی میعاد کم و بیش بیس ہزار سال ہے۔ فرشتوں کے ساتھ قیام کی مدت کم و بیش اسی ہزار سال ہے۔

    ابلیس کو حکم ہوا کہ داروغہ جنت "رضوان” کی معاونت کرو اور اہل جنت فرشتوں کو اپنے علم و فضل سے بہرہ ور کرو یوں ابلیس کو جنت میں داخلے کا پروانہ مل گیا اور جنت میں بھی اپنے علم سے داروغہ جنت رضوان کو سیراب کیا اور یوں جنت رضوان کی کنجیاں ابلیس کے پاس رہیں۔ روایات کے مطابق ابلیس 40 ہزار سال تک یہ فرض خزانچی انجام دیتا رہا۔ یہی وہ مقام اعلیٰ ترین جنت رضوان ہی تھا جہاں ابلیس نے پہلی بار بادشاہت کے خواب دیکھنے شروع کیے۔ اس وقت ابلیس کے پاس ہفت اقلیم، افلاک، جنت و دوزخ سب کا اختیار تھا اور اس نے چپے چپے پہ سجدے کیے تھے۔ مگر یہاں پہ ابلیس عاجزی سے پہلی بار بھٹکا اور خود کو بادشاہ بنانے اور رب بن جانے کے خواب دیکھنا شروع کیے۔ کئی ملائکہ کے سامنے ربوبیت کی بابت بات بھی کی مگر ملائکہ کے انکار کے سبب چپ ہو گیا اور یوں نظام چلتا رہا مگر اس سب سے اللہ تعالیٰ کی ذات بے خبر نہ تھی۔

    پھر آدم علیہ السلام کی تخلیق کا مرحلہ آیا جیسے قرآن مجید میں واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ابلیس آدم علیہ السلام کو جزو جزو مرحلہ وار مختلف اقسام کی مٹی سے تخلیق ہوتا دیکھتا رہا اور چپ رہا مگر جیسے ہی اسے یہ معلوم ہوا کہ یہ آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا نائب ہے تو اس نے واویلا کیا عبادات اور اطاعت کا واسطہ دیا پھر طنز کیا کہ مجھ جتنی عبادت کس نے کی ہے اور آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکاری ہوا۔

    تب اللہ تعالیٰ نے کہا نکل جا شیطان مردود۔لعنتی قرار پانے کے بعد ابلیس نے اپنی عبادات اور ریاضت کا رب کریم سے عوض مانگا جس پر اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ایک وقت معلوم تک مہلت فراہم کی۔ جس پر ابلیس نے اولادِ آدم کو صراطِ مستقیم سے بھٹکا کر اپنا پیروکار بنانے کا دعویٰ کیا جس پر رب کریم نے فرمایا کہ جو متقی اور پرہیزگار ہوں گے تو ان کو گمراہ نہیں کر پائے گا۔

    ابلیس کے اس لعنتی کام میں اس کے پانچ ساتھی ہیں۔

    1۔ ثبر » اس کے اختیار میں مصیبتوں کا کاروبار ہے جس میں لوگ ہائے واویلا کرتے ہیں گریبان پھاڑتے ہیں منہ پہ طمانچے مارتے ہیں اور جاہلیت کے نعرے لگاتے ہیں۔
    2۔ اعور » یہ لوگوں کو بدی کا مرتکب کرتا ہے اور بدی کو لوگوں پہ اچھا اور پسندیدہ کر کے دکھاتا ہے۔
    3۔ مسوّط » یہ کزب، جھوٹ اور دروغ پہ مامور ہے جسے لوگ کان لگا کر سنیں۔ یہ انسانوں کی شکل اپنا کر ان سے ملتا ہے اور انھیں فساد برپا کرنے کی جھوٹی خبریں سناتا ہے۔
    4۔ داسم » یہ آدمی کے ساتھ گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر والوں کے عیب دکھاتا ہے اور آدمی کو گھر والوں پہ غضبناک کرتا ہے۔
    5۔ زکنیور » یہ بازاروں کا مختار ہے بازاروں میں آ کر یہ بددیانتی کے جھنڈے گاڑتا ہے۔ بازاروں میں برائیوں اور فحاشی پہ ورغلاتا ہے۔

    ابلیس کا آدم علیہ السلام کو سجدے سے انکار کا جزبہ حسد تھا کہ جس نے اسے مجبور کیا کہ میری جگہ آدم (خاک) کو کیوں ملی۔ یہ اس کا جزبہ تکبر اور غرور تھا کہ میں اعلیٰ ہوں اور اس ایک سجدے کے انکار کی بات نہیں تھی بات اطاعت سے سرکشی کی تھی، شرک کی تھی۔ ابلیس نے دل میں خود کو "رب” مان لیا تھا۔ اسی شرک عظیم کی بدولت ابلیس تا قیامت رسوا و لعنتی ٹھہرا اور اولادِ آدم کو بھٹکانے کیلئے آزاد قرار پایا۔

    حاصل نتیجہ یہ ٹھہرہ کہ رب کریم کو انسان کی عبادات عاجزی علم و دانش سے کچھ غرص نہ ہے۔ رب کریم صرف دیکھتا ہے کہ دل میں اطاعت و فرمانبرداری کتنی ہے۔ اسی بنیاد پہ تقویٰ اور پرہیزگاری کے درجے قرار پاتے ہیں۔

    منابع و ماخذ: صحیح بخاری باب الفتن و اشراط، صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ، سنن ابی داؤد،کتاب شرح سیوطی، تفسیر کبیر امام رازی، مستدرک حاکم، کتاب حکم، نہج البلاغہ سید رضی، شرح نہج البلاغہ ابن حدید، کتاب غرر الحکم ابن ہشام، کتاب توحید شیخ صدوق

    @MTaukirAbbas

  • عید قربان اورانسان . تحریر : شانزے علی

    عید قربان اورانسان . تحریر : شانزے علی

    عید کا تہوار قریب تر ھے، ہرطرف گہما گہمی کا عالم ھے،بچے بوڑھے اورجوان سر گرم نظرآ رھے ھیں گائے، بیل، بکرے، بھیڑ، اونٹ جگہ جگہ بندھے ھوئے ھیں بچوں کا شور، بڑوں کی آوازیں اس پر جانوروں کی دوڑ اور نوجوانوں کی شرطیں۔ زبردستی چارہ کھلانے اورپانی پلانے کاجنون۔ اک عجب سا منظر ھے شاید جانور بھی سوچ رہا ھے جانور کون ھے؟؟

    میرے گھر کی تیسری منزل سے کئی روز سے میں یہ مناظر دیکھتی ھوں اونٹوں کی نکیل ان کی ناک سے جڑی ھوتی ھے۔ بچے اس رسی کو بے دردی سے کھینچتے ھوئے اونٹ کو زبردستی بھاگنے پرمجبور کرتے ھیں۔ جب وہ رکتا نہیں ھے تو نکیل کو جھٹکا دے کر روکنے کی کوشش کرتے ھیں۔

    کیا وہ جاندار نہیں؟ کیا اسے درد نہیں ھوتا؟ کیا قربانی سے پہلے وہ آپکا کھلونا ھے؟؟
    دوسری جانب گلی میں ایک بیل ھے جو دو بار رسہ تڑوا کربھاگ چکاھے اورکل اس کی گردن پر رسہ کھینچنے کی وجہ سے زخم ھوگیا ھے۔

    کسی نے وجہ جانی یا سوچا؟
    جب جانور کے کھیتوں یا کسی فارم ہاؤس یا ڈیری فارم سے لایا جاتا ھے نازوں سے رکھا جاتا ھے۔وقت پر کھلایا پلایا اور نہلایا جاتا ھے۔
    یہاں گرمی ،غلاظتوں کا ڈھیر اس پر شور اسے تکلیف دیتے ھیں۔ پھر وہ بھاگتا ھے اور انسان عید کے گوشت کے پیچھے بھاگتا ھے۔

    کیا قربانی گوشت کا نام ھے؟
    وہ گوشت جسے بس ذبح کرو،فریز کرو،مہینوں جمع رکھو،رشتے داروں میں شاپر بھر بھر بانٹو جو خود بھی قربانی کرتے ھیں؟؟
    باربی کیوبناؤ؟ پارٹیاں اڑاؤ؟

    ذرا سوچئے!!کیا آپ کو عید قربان کا معنی و مفہوم معلوم ھے؟؟ اسی کی مخلوق کو درد اور تکلیف میں ڈال کر اپنا اور اپنے بچوں کا نفس خوش کر کے کیا قربان کر رھے ھیں آپ گوشت یا اپنی پیار سے پالی ھوئی چیز راہ خدا میں رضائے خدا کے لئے ؟

    @RjShanzayAli_

  • پاکستان کے خلاف الزامات ، سازشیں اور پراپیگنڈہ ۔۔۔ حقیقت کیا ؟ تحریر: نوید شیخ

    پاکستان کے خلاف الزامات ، سازشیں اور پراپیگنڈہ ۔۔۔ حقیقت کیا ؟ تحریر: نوید شیخ

    گزشتہ دنوں پاکستان میں دو ایسے واقعات ہوئے ہیں جن کا تعلق تو اس خطے کی بدلتی صورتحال سے ہے مگر یہ ہوئے پاکستان میں ہیں ۔

    ۔ سب سے پہلے ایک داسو میں حملہ ہوتا ہے۔ جس میں متعدد چینی ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ جس کے بعد یقینی بات ہے کہ چین کی جانب سے بیانات بھی آنے تھے ۔ بہت ہی سخت بیانات آئے ۔ پریشر بھی آیا ۔ یہاں تک کہ چین کی ایک خصوصی انوسٹی گیشن ٹیم بھی پاکستان میں آئی ۔ اس حوالے سے حکومت کے ہاتھ پاؤں بھی پھولے دیکھائی دیے ۔ یہاں تک کہ شاہ محمود قریشی خصوصی طور پر چین گئے اور چینی قیادت کو اعتماد میں لیا ۔

    ۔ پھر چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے چیف ایڈیٹر نے کہا کہ اگر پاکستان داسو ڈیم پر کام کرنے والے چینی ماہرین پر حملہ کرنے والے مجرموں کو نہیں پکڑ سکتا تو چین اپنی سپیشل فورسز کے ذریعے یہ کام کرسکتا ہے۔

    ۔ پھر یہ خبریں بھی آئیں کہ داسو ڈیم بنانے والی چینی کمپنی نے پاکستانی ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور کام بند کر دیا گیا ہے ۔ جس کے بعد یہ چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں کہ دشمن پاکستان اور چین کے درمیان دراڑ ڈالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ پھر واپڈا کے اعلی حکام سمیت حکومت پاکستان نے قائل کیا تو یہ نوٹس واپس لے لیا گیا ۔ اب داسو واقعے کے بعد سول انتظامیہ، واپڈا اور چینی کمپنی نے باہمی مشاورت سے تعمیراتی کام چند دنوں کے لیے معطل کردیا ہے ۔ کام بند کرنے کا مقصد حفاظتی اقدامات کو ازسرنو منظم کرنا بتایا گیا ہے ۔

    ۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھاگتے دوڑتے بھی دیکھائی دیے ۔ متعدد پریس کانفرنسیں بھی کیں ۔ یہ بھی اعادہ کیا کہ جلد ملزموں کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے گا ۔

    ۔ اس حوالے سے گزشتہ روز کی بریفننگ میں بتایا کہ پاکستانی آرمی اور دیگر ایجنسیز کے 15اہلکار تحقیقات کیلئے ہیلی کاپٹر پر داسو پہنچے ۔ یہ بھی کہا کہ سی پیک اور ڈیم کے پراجیکٹس پر کوئی حرف نہیں آنے دیا جائے گا، چین کی حکومت جانتی ہے کہ ہم اپنی قوت سے زیادہ اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں ۔ مزید یہ بتایا کہ ہم نے چین سے کہا ہے کہ وہ دفتر خارجہ سے مل کر کام کریں ۔۔ اب اس حوالے سے ابھی تک تو کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی ہے مگر یہ واضح ہے کہ پاکستان پر چین کی جانب سے اس حوالے پریشر بہت ہے ۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے سی پیک کو ذرا بریکس لگ گئی ہیں ۔ اس حوالے سے بھی چین پاکستان کو تنقیدی نظر سے دیکھ رہا ہے ۔ پھر اگر بین الاقوامی امور کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کے بڑے دور رس اثرات ہوسکتے ہیں ۔ پاکستان کے چین کے ساتھ معاملات تو شاید دوبارہ ٹریک پر آجائیں ۔ مگر یہ واضح ہے کہ اس میں ملوث کرداروں اور ممالک کو آنے والوں دنوں میں اہم پیغام اور موثر جواب ضرور دیا جائے گا ۔ اب یہ پاکستان کی جانب سے ہوتا ہے یا چین کی جانب سے مگر یہ ہوگا ضرور ۔ اگر سیاسی طور پر دیکھاجائے تو اندرونی طور پر بھی حکومت پر پریشر بڑھ رہا ہے کیونکہ مسلم لیگ(ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ داسو حادثے نے ہمیں شرمندہ کردیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کو اس واقعے پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔
    چینی ورکرز کے حوالے سے پاکستان میں پہلے بھی کئی واقعات ہوتے رہے ہیں مگر موجودہ صورتحال میں ایسا دیکھائی دے رہا ہے کہ اب پاکستان پر امریکہ کے بعد چین کی جانب سے
    do moreکا پریشر بڑھے گا ۔ کیونکہ یہ دیکھنا شروع ہوگیا ہے کہ جیسے جیسے افغانستان میں خانہ جنگی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس کے اثرات پاکستان پر بھی آئیں گے اور جو پاکستان کے دشمن ہیں ، چین کے دشمن ہیں ۔ سی پیک کے دشمن ہیں وہ اس موقع کو استعمال کرنے کی بھر پور کوشش کر یں گے ۔

    ۔ دوسرا ایک اور بہت اہم واقعہ ہوا ہے جس پر وزیر اعظم عمران خان نے بھی نوٹس لے لیا ہے ۔ اور حکم دیا ہے کہ 48گھنٹوں میں ملزمان کو پکڑا جائے ۔ کیونکہ دن دیہاڑے کہیں اور نہیں پاکستان کے دارلخلافہ اسلام آباد سے افغان سفیر کی بیٹی اغواء ہو جاتی ہے پھر حیران کن طور زخمی حالت میں ملزمان اس کو پھینک کر چلے جاتے ہیں ۔ ۔ اس کی تفصیل میں آپکو بتاوں تو کہ اسلام آباد کے ایف سیون مرکز کی جناح سپر مارکیٹ سے افغانستان کے سفیر نجیب اللہ خیل کی 26 سالہ بیٹی سلسلہ علی خیل کو دن ڈیڑھ بجے اغواءکیا گیا اور شام کو 7 بجے زخمی حالت میں بلیو ایریا تہذیب بیکری کے پاس پھینک دیا گیا۔ ۔ یعنی ساڑھے پانچ گھنٹے وہ اغواءکاروں کے پاس رہیں اور اس دوران ان پر تشدد کیا گیا اور تشدد کر کے انہیں بلیو ایریا میں پھینک دیا گیا۔۔ اس کے بعد افغان سفیر کی بیٹی کو زخمی حالت میں پمز ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے ۔ اس معاملے کی کوہسار پولیس سمیت دیگر ادارے بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    ۔ پہلے پہل یہ خبر پاکستان کے کسی چینل میں نہیں چلائی گئی اس کی وجہ خطے کے کشیدہ حالات ہیں اور سب کو معلوم تھا کہ اس خبر کے بڑے گمبھیر نتائج ہو سکتے تھے۔ پھر جب افغان حکومت اور انٹرنیشنل میڈیا کی جانب سے اس اسٹوری کی بھرپور کوریج ہوئی اور بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف پراپیگنڈہ شروع ہوا تو مجبوراً ہمارے وزیروں ایکشن لینا پڑا اور میڈیا کو بھی یہ اسٹوری چلانا پڑی ۔

    ۔ اس معاملے پربھی اب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا موقف آگیا ہے ۔ اس حوالے سے بڑے اہم سوالات بھی انھوں نے اٹھائے ہیں کہ افغان سفیر کی بیٹی نے خود ٹیکسی بک کی تھی۔ اس سے پہلے کسی سفیر کے اہلخانہ کے یوں پرائیویٹ ٹیکسی ہائر کرنے کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ پہلے کہا گیا کہ ٹیکسی موبائل فون سے بک کرائی گئی لیکن پھر کہا گیا کہ فون گھر پر تھا، ایک موقف یہ بھی آیا کہ مبینہ اغوا کار موبائل فون اپنے ساتھ لے گیا۔ افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے واقعے میں دو ٹیکسیوں کا ذکر ہے۔ ایک ٹیکسی وہ ہے جس میں تشدد کیا گیا جب کہ دوسری وہ ٹیکسی ہے جس نے افغان سفیر کی بیٹی کی مدد کی۔ اس ٹیکسی ڈرائیور کو 500 روپے انعام بھی دیا گیا۔

    ۔ شیخ رشید نے یہ بھی کہا ہے کہ کیمرہ اور ویڈیوز کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی گھر سے پیدل نکلیں ، مارکیٹ میں آئیں وہاں سے ٹیکسی لے کر شاپنگ کیلئے کھڈا مارکیٹ میں اتریں ، کھڈا مارکیٹ سے ایک اور ٹیکسی لی ۔ ہماری فوٹیج کے مطابق یہ راولپنڈی گئیں ،راولپنڈی کے شاپنگ مال اتریں ، ان کے اترنے کی فوٹیج موجود ہیں ، اس کے بعد یہ تیسری ٹیکسی پر دامن کوہ اتریں ،یہ راولپنڈی سے دامن کوہ کیسے پہنچیں اس پر کام ہو رہا ہے ، یہ ایف سکس سے گھر جا سکتی تھیں لیکن انہوں نے ایف نائن جانے کو اہمیت دی ۔ ۔ شیخ رشید نے یہ بھی بتایا کہ دوسرے ٹیکسی ڈرائیور کو ٹریس کرلیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، مزید کارروائی افغان سفیر کی بیٹی کے تحریری بیان پر کی جائے گی۔ ان کے مطابق فی الحال اس واقعے کا کوئی دوسرا پہلو نظر نہیں آتا۔

    ۔ اب یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ جب یہ لڑکی بازیاب ہوئی تو اس کے دوپٹے کے ساتھ ایک ٹیشو پیپر اور پچاس روپے کا نوٹ بندھا ہوا تھا جس پر لکھا تھا کہ ۔۔۔ اگلی باری تمہاری ہے ۔۔۔

    ۔ اب یہ ایک کھلی دھمکی ہے اگر آنے والے دنوں میں اس حوالے سے افغان سفیر کو کچھ ہوتا ہے یا کسی اور کو کچھ ہوتا ہے ۔ تو پاکستان کے لیے شدید مسائل ہوسکتے ہیں ۔ ہم پر انگلیاں اٹھ سکتی ہیں ۔ کیونکہ اس وقت پاکستان کے خلاف بین الاقوامی طور پر خوب پراپیگنڈا ہو رہا ہے ۔ کہ ہمارے ہسپتالوں میں زخمی طالبان کا علاج ہو رہا ہے۔ افغان حکومت کبھی ہماری ایئر فورس پر الزام لگاتی ہے تو کبھی ہم پر کہ پاکستان سے افغانستان میں جنگجو جارہے ہیں ۔

    ۔ بھارت اس خبر کو لے کر ہمیشہ کی طرح ہمارے خلاف منفی پروپیگنڈا کررہا ہے ۔ اس واقعے پر بھی بھارت نے پرانی فوٹیج لگا کر پروپیگنڈا کیا اور عالمی میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ۔ یہاں تک کہ ایک fakeتصویر کو افغان سفیر کی بیٹی بنا کر پیش کیاگیا ۔ اور اس معاملے کو دیکھتے ہوئے افغان سفیر خود میدان میں آئے اور انہوں نے تصحیح کرتے ہوئے اپنی بیٹی کی درست تصویر شیئر کی اور سا تھ پیغام بھی جاری کیا۔ کہ کسی اور کی تصویر سوشل میڈیا پر غلط پوسٹ کی گئی تھی ، حالانکہ میں اسے بالکل بھی نہیں جانتا ہوں۔

    ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس خطے اور ہماری اہمیت بڑ ھ چکی ہے ۔ جو مجھے سمجھ آتا ہے کہ ان واقعات کو سرانجام دینے والوں کا مقاصد یہ ہی دیکھائی دیتا ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد پاکستان بھی محفوظ نہیں رہا ہے ۔
    اس حوالے سے جو کرنے کا والے کام ہیں کہ سب سے پہلے تو تمام غیرملکیوں پر نظر رکھی جائے ۔ اپنی اندرونی سیکورٹی کو مزید مضبوط بنایا جائے ۔ جتنے بھی ہائی پروفال لوگ ہیں ان کی سیکورٹی میں اضافہ کیا جائے ۔ کیونکہ جو دشمن ہے اس مقاصد صاف دیکھائی دے رہاہے کہ وہ اس بدلتی صورتحال میں پاکستان کو بدنام کرناچاہتا ہے ۔ اور یقینی طور پر وہ ایسی چیزوں کو ٹارگٹ کرے گا جس سے بڑی خبر بنے اور انٹرنیشل میڈیا اس کو اٹھائے ۔ حکومت اور وزیروں کو بھی چاہیے کہ damage controlکرنے سے بہتر ہے کہ damage ہونے ہی نہ دیا جائے ۔ ۔ اب اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ افغانستان کی وجہ سے صرف پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے تو یہ بھی غلط ہے اور صرف تصویر کا ایک رخ ہے ۔ ۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ایران اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے علاوہ روس اور چین نے بھی افغانستان میں بگڑتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر آپس میں صلاح مشورے شروع کر دیئے ہیں۔

    ۔ تاجکستان کے بعد ایران نے بھی افغان جنگ کے ممکنہ اثرات کو اپنے اپنے ملکوں میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے سرحدوں پر فوجیں جمع کر دی ہیں۔ پاکستان پہلے ہی سرحد بندی کر چکا ہے ۔ باڑ لگا چکا ہے ۔ روس کا ماننا ہے اور وہ کہہ بھی رہا ہے کہ افغانستان کی وجہ سے پڑوسی ممالک میں عدم استحکام پھیل جانے کا حقیقی خطرہ موجود ہے ۔ اس لیے اب چین، روس، ایران اور وسط ایشیائی ریاستوں کے ہاں دوبارہ خدشات جنم لینے لگے ہیں ۔ دوسری طرف امریکہ اور مغربی اتحادی اپنی ناکامی یا پھر خانہ جنگی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے جارہے ہیں۔ ادھر افغان حکومت امریکہ کی بے وفائی کے تذکرے کی ہمت یا اپنی ناکامیوں کے اعتراف کی بجائے سب الزام پاکستان کو دے رہی ہے۔ پاکستان، روس، ایران اور چین اس الجھن کا شکار ہوئے ہیں کہ وہ اس مرحلے پر طالبان کو ناراض کرنے کا رسک لیں یا پھر ان کی ضد کے آگے سرنڈر کر دیں۔ کہ وہ افغانستان کو پھر سے امارات اسلامی افغانستان بنادیں ۔ ایک اور چیلنج اس خطے کے تمام ممالک کے لیے یہ بھی ہے کہ سوویت یونین کی طرح امریکہ بکھر گیا ہے اور نہ اقتصادی لحاظ سے دیوالیہ ہو گیا ہے۔ اس کی فوج افغانستان سے نکل رہی ہے لیکن امریکہ نہیں نکل رہا۔ افغانستان کو چلانے کے لئے پیسہ اب بھی امریکہ ہی دے گا۔ سوویت یونین کی طرح وہ لاتعلق نہیں ہوگا بلکہ کچھ فاصلے پر خلیج میں اس کے بیس سے زائد فوجی اڈے موجود ہیں۔

    ۔ یعنی امریکہ فوج نکال کر بھی خطے کی مینجمنٹ کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ اب اس کا بنیادی ہدف چین ہے۔ وہ افغانستان سے فوج کو نکال کر اسے چین اور روس کے لئے درد سر بنانا چاہے گا۔

    ۔ ساری پیش رفت ایسے انداز میں ہو رہی ہے کہ جس سے شک جنم لے رہا ہے کہ خود امریکہ کی خواہش ہے کہ طالبان افغانستان پر قابض ہو جائیں یا پھر یہاں پر بدترین خانہ جنگی ہو جائے۔ جنوب کی بجائے چین اور وسط ایشیائی ریاستوں سے متصل صوبوں میں کئی اضلاع پر بغیر مزاحمت کے طالبان کے کنٹرول نے اس تھیوری کو مزید تقویت بخشی ہے ۔ ۔ یوں جیسے جیسے امریکی فوجی انخلا اپنے اختتام تک پہنچ رہا ہے۔ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کوششوں کا فوکس اب علاقائی ملکوں کی طرف شفت ہو رہا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں جنگ کے شعلے تیز ہوئے تو ان کی حدت سب سے زیادہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک میں ہی محسوس ہو گی۔

    ۔ تو میری نظر میں صرف پاکستان ہی نہیں ۔ ایران ۔ روس ، چین اور سینڑل ایشیاء بھی خطرات سے دوچار ہے ۔ کیونکہ belt and road intiative اور سی پیک ان تمام ممالک سے لنک ہونا ہے ۔ جو امریکہ اور مغرب کو کھٹکھتا ہے ۔