Baaghi TV

Category: بلاگ

  • برانڈڈ چیزوں کی خواہش .تحریر: حنا

    برانڈڈ چیزوں کی خواہش .تحریر: حنا

    ایک ڈیڑھ سال پہلے ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ ایک بہت بڑے اور نامی گرامی ہوٹل میں 11 مردوں نے اجتماعی زیادتی کر ڈالی تھی ۔۔اس وقت مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔۔ان گیارہ درندوں کو عبرت ناک موت دینے کو دل چاہ رہا تھا ۔۔۔۔لیکن اب بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ ایک بہت بڑے ہوٹل میں وہ لوگ لڑکی کو بنا اسکی مرضی کے لے کر پہنچ کیسے گئے؟؟؟
    فرض کر لیتے ہیں کہ اسے ایک ہوٹل میں بلایا گیا تھا۔ یعنی وہ اپنی مرضی سے گئی تھی ۔۔۔۔

    کیا بنا مرضی کے کسی ہوٹل میں لے جائی جا سکتی ہے ؟؟اور وہ بھی ایسی صورت میں کہ ایک بندے نے روم بک کیا ہو ۔۔۔۔ایک بہت بڑے ہوٹل میں ایک لڑکی کے ساتھ 11 بندے زیادتی کر رہے ہیں اور ساتھ والے کمرے میں آواز تک نہیں جا رہی ؟ عجب نہیں لگے گا ؟ ایک لڑکی جو دو دن سے گھر سے غائب ہے۔ اور بننا بھی ماڈل چاہتی ہے تو کیا اس کے گھر والوں کو علم نہیں ہوگا کہ ہماری بیٹی اسی سلسلے میں کسی سے ملنے گئی ہے ؟۔۔اسی طرح ایک اور واقعہ کچھ عرصہ پہلے کہ لڑکی کا ایک کلاس فیلو ساتھ چکر تھا ۔۔لڑکے کے ساتھ چکر میں گھر والوں کو چکر دیتے دیتے ایسا چکرائ کہ پتہ چلا پریگنٹ ینعی حاملہ ہو گئ ۔۔حاملہ ہووی ۔۔دن بدن حالت بگڑی ۔۔وہی لڑکا جس کے ساتھ چکر تھا وہ ہسپتال میں لاوارث چھوڑ کر فرار ۔۔۔۔پھر خبر ملی لڑکی مر گئ ۔۔۔۔۔۔ایسے ہی بے شمار واقعات آئے روز ہماری نظروں سے گزرتے ہیں ۔کہیں لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگنے والی عثمان مرزا جیسے حیوانوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہے تو کہیں گھر سے بھاگنے کے چکر میں اپنے ہی گاوں کے وڈیروں کی ضد پہ غیرت کے نام پہ موت کے گاٹ اتار دی جاتی ہے ۔۔سمجھ نہیں آتی ۔۔آج کی لڑکیوں نے خود ہی اپنی عزتوں کا تماشہ کیوں بنایا ہوا ہے ۔۔۔کہیں کوی ٹک ٹاک پہ چار لڑکوں کے ساتھ ناچ رہی ہے ۔۔تو کہیں کوی یوٹیوب انسٹا پر اپنی خوبصورتی کی نمائش لگا کر بیٹھی ہے ۔۔اور پھر چند لوگوں کے واحیات کمنٹس کو بھی ہنس ہنس کر جواب دے رہی ہوتی ہے ۔۔تو کہیں پیزہ برگر آئس کریم کھلانے کا وعدہ کرنے والے کے ساتھ ماں کو نیند کی گولیاں دے کر راتیں ہوٹلوں میں گزار رہی ہوتی ہے پہلے پہل سنا جاتا تھا کہ جسم فروشی کا دھندہ گرلز ہاسٹل اور یونیورسٹیوں میں بڑی خاموشی سے ہوتا ہے۔ لیکن میری معلومات کے مطابق اب یہ یونیورسٹی سے نکل کر کالج اور سیکنڈری سکولوں تک پہنچ چکا ہے۔۔۔

    اور کچھ کو لگتا ہے۔اس کے پیچھے باقاعدہ نیٹ ورک ہوتا۔ یہ شروع ہوتا ہے احساس محرومی سے اور مقابلے کے رجحان سے۔ یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے ہر دوسری لڑکی کے پاس سمارٹ فون موجود ہے اور وہ سمارٹ فون کہاں سے آتا ہے یہ کوئی نہیں سمجھنا چاہے گا۔ گھر بیٹھے بیٹھے اس سمارٹ فون میں ایزی لوڈ کہاں کہاں سے آجاتا ہے یہ کوئی سمجھنا نہیں چاہے گا۔۔روز 50 روپے خرچہ لے جانے والی لڑکی کے پاس مہنگے موبائل، کپڑے، پرفیوم کہاں سے آگئے۔ یہ بھی ایک جسم فروشی ہے

    اب ہوتا کیا ہے۔ ہر سکول ، کالج اور یونیورسٹی میں امیر لوگوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور غریب لوگوں کے بھی۔ جب لڑکی اپنی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی لڑکی کے پاس مہنگا ترین موبائل دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ یہی موبائل میرے پاس بھی ہو۔
    جب وہ ہر روز اپنی سہیلی کو نئے اور مہنگے کپڑے پہنے دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی اسی طرح کے کپڑے پہنے۔ جب وہی لڑکی مہنگے کاسمیٹکس اور پرفیوم اپنی سہیلی کے چہرے پر تھوپے دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی ان چیزوں کو استعمال کرے۔ جب وہ اپنی سہیلی کے بوائے فرینڈ کو اپنی سہیلی کے ساتھ روز یا ہر دوسرے دن میکدونلڈ میں برگر کھانے جاتا دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی ہر روز کسی کے ساتھ برگر کھانے جائے۔

    کوئی اسکا بھی ایسے ہی نخرے اٹھانے والا دوست ہو۔ یہاں سے اپنی مرضی سے جسم فروشی کی سوچ کا بیج بونا شروع ہو جاتاہے۔ اور کمال منافقت یہ ہے کہ نہ لڑکی اسے جسم فروشی ماننے کو تیار ہوتی ہے نہ لڑکا سمجھتا ہے کہ وہ جسم خرید رہا ہے۔ بلکہ دونوں اسے پیار اور گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کا نام دیتے ہیں۔ اب یہ مجھے بتانے کی شاید ضرورت نہیں کہ ایک ہی لڑکی یا لڑکے کے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ اکثر بدلتے بھی رہتے ہیں۔ غریب لڑکی چاہے گی کہ اسکا بوائے فرینڈ گاڑی والا ہو آئے روز اسے مہنگے گفٹ دے ۔۔۔جو وہ اپنی امیر سہیلی کے مقابلے میں استعمال کر سکے ۔۔حسد ۔۔حسد ہر برائ کی جڑ ہے ۔۔۔حسد کی آگ میں جلنے والے لوگ پھر یہ نہیں دیکھتے کہ وہ حد کی بھی حد پار کررہے ہیں ۔۔۔وہ نہیں دیکھتے کہ گھر میں بوڑھے والدین ان کی فیسیں کیسے جمع کرتے ہیں ۔۔وہ یہ نہیں دیکھتے ۔۔کہ گھر میں بیٹھی جوان بہنیں شادی کی عمر کو ہے ۔۔۔۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ کل ان کا کیا کہیں ان کی بہنوں کے آگے نہ آجائے ۔۔وہ بس چلتے جاتے ہیں اندھا دھند ۔۔۔۔۔اور ٹھوکڑ لگنے پر بھی معافی مانگنے کی بجاے حرام موت لینا پسند کرتے ہیں ۔۔۔

    طوائف اگر اپنا جسم پیچ کے اپنے بچوں کیلئے روٹی خریدے تو وہ جسم فروشی ہوئی۔ اور ایک سٹوڈنٹ اگر آئے روز اپنا پارٹنر بدلے۔ روز پیسے لے۔ ایزی لوڈ مانگے۔ موبائل گفٹ لے ۔مہنگے قیمتی سوٹ لے ، پرفیوم لے تو یہ جسم فروشی نہیں۔ ایسا کیوں ؟ یہ دوہرا معیار صرف ہمارے معاشرے میں ہی کیوں؟
    میں یہاں مرد ذات کو ڈیفینڈ نہیں کر رہی صرف یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ حضور تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے…….
    خدارا لڑکیوں اپنی عزت کو سمجھو۔۔۔۔۔یہ دنیا محض فانی ہے ۔۔۔۔۔۔مہنگی اور برانڈڈ چیزوں سے نہیں عزت سے زندگی گزارو۔۔۔۔

    ۔

  • ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات، بلوچستان میں قیام امن کے لئے اہم پیشرفت .تحریر: خدیجہ رفیع

    ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات، بلوچستان میں قیام امن کے لئے اہم پیشرفت .تحریر: خدیجہ رفیع

    وزیراعظم عمران خان نے حالیہ دورہ بلوچستان میں واضح اعلان کیا کہ ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے گا اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان نے جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی کو معاون خصوصی مقرر کر دیا ہے۔اور وہ وزیراعظم کے بلوچستان کے لئے مفاہمت و ہم آہنگی کے امور پر معاون خصوصی مقرر کئے گئے ہیں۔
    جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت کی طرف سے سید ظہور احمد آغا کو بلوچستان کا گورنر مقرر کیا گیا ہے، نئے گورنر آغا ظہور نے بھی ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ناراض بلوچوں کو مذاکرات کا حصہ بننا چاہئے۔ شاہ زین بگٹی کی اہم عہدے پر تعیناتی وزیر اعظم عمران خان کے ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات کے بیان کے بعد ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے جس کے مطابق حکومتی اتحادی جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی وفاقی کابینہ کا حصہ بنے ہیں۔ شاہ زین بگٹی ناراض بلوچوں سے رابطہ کریں گے۔ شاہ زین بگٹی کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہوگا۔ دو روزقبل وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ میں طلبا اور بلوچ عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ناراض بلوچوں کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں غورو خوض کر رہے ہیں۔ ناراض ہونے والوں کو شاید دوسرے رنج ہوں اور وہ دوسرے ملکوں کے لئے استعمال بھی ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں بلوچستان کی طرف وہ توجہ نہیں دی گئی جو بلوچستان کے مسائل اور محرومیوں کے ازالہ کی متقاضی تھی۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ انمول اور قیمتی معدنیات کے ساتھ بلوچستان میں سونے تک کی کانیں ہیں۔ بلوچستان سے نکلنے والی گیس دیگر صوبوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ پٹرول کے ذخائر بھی زیر زمین موجود ہیں اور پھر وفاق کی طرف سے بھی ہر دور میں بلوچستان کی ترقی کے لئے وسیع القلبی کا مظاہرہ دیکھا گیاہے مگر بلوچستان پسماندگی، غربت، مسائل اور مشکلات سے نہ نکل سکا۔ ماضی میں آغاز حقوق بلوچستان پیکج دیا گیا۔ پر امن مفاہمتی پالیسی کا اجرا ہوا۔ پاک فوج کی طرف کیڈٹ کالجز اور تعلیم و روزگار کے منصوبے شروع کئے گئے۔ بلوچستان کے لئے جس قدر بڑے بڑے مالی پیکجز سامنے آئے ان پر ان کی روح کے مطابق عمل ہو جاتا تو بلوچستان کی محرومیاں اور پسماندگی مکمل نہیں تو کافی حد تک ختم ہو جاتی۔ سارے پیکجز اور مراعات صوبے کے منتخب عوامی نمائندوں ، وڈیروں اور افسر شاہی کے توسط سے دی گئی تھیں۔ آج آمدن سے زائد اثاثوں میں لوگ ملوث و ماخوذ پائے جا رہے ہیں تو سمجھ آتی ہے کہ بلوچستان کا حق کس نے مارا۔

    کسی صوبے کے لوگ جتنی بھی مشکلات و مصائب سے دو چار کیوں نہ ہوں اس کا مطلب ہتھیار اٹھا کر ریاست کو چیلنج کرنا نہیں ہے۔ بلوچستان میں محرومیوں کے نام پر علیحدگی پسند گروپ وجود میں آئے۔ ان کے پاس بھاری اسلحہ و بارود بھی ہے، ناموں سے بھی ان کے کردار اور عزائم کی بو آتی ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، بلوچ ری پبلکن آرمی ۔ ان گروپوں کی قیادت ملک سے باہر پاکستان دشمن قوتوں کے وسائل پر پل رہی ہے۔ محرومی و پسماندگی کا شکوہ کرنیوالا ہر بلوچ ہتھیار بند نہیں ہے لیکن مذکورہ تنظیموں کے شدت پسندوں کے بہکاوے میں آنے والے کچھ لوگ ضرور ہو سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ بات چیت میں تاخیر اور دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والوں کی معافی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے لئے اسی صورت گنجائش نکل سکتی ہے کہ وہ پاکستان واپس آئیں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کریں ماضی میں بھی دہشت گرد اور کالعدم گروپوں کے لئے کام کرنے والوں کو معافی دی گئی تھی۔ سینکڑوں افراد سرنڈر کر کے قومی دھارے میں آئے۔ایک دور میں وزیراعلی بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے جلاوطن رہنمائوں سے مذاکرات کے لئے بیرون ملک دورے بھی کئے تھے۔ پاکستان کو مطلوب علیحدگی و شدت پسندوں کے سرغنہ بھارت ، اسرائیل اور یورپ میں بیٹھے ہوئے ہیں ان سب کو ایک بار وسیع تر مفاہمت کے جذبے کے تحت قومی دھارے میں آنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لئے شاہ زین بگٹی بہترین انتخاب ہیں۔

    بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے بگٹی خاندان کا مجموعی طور پر اہم کردار رہا ہے۔ شاہ زین بگٹی اور ان کے والد طلال بگٹی نے ہمیشہ ہم آہنگی اور یگانگت کی بات کی۔ لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچستان کی محرومیوں پر شاہ زین کھل کر بات کرتے رہے ہیں مگر کبھی ہتھیار اٹھانے کی بات کی نہ ایسے لوگوں کے پلڑے میں وزن ڈالا۔ بلوچ ہونے کے ناطے ان کے بڑے قبائل کے ساتھ مراسم کا ہونا قدرتی بات ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے ان کو جو مشن سونپا گیا ہے وہ اپنے تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے اس میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

    آج کل علاقائی حالات بھی موافق ہیں۔ امریکہ افغانستان سے انخلا کر رہا ہے اور بھارت دم دبا کر افغانستان سے بھاگ رہا ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کے لئے افغانستان میں موجود نیٹ ورک کمزور پڑ گیا ہے۔ بھارت کو پاکستان میں دہشتگردی کے لئے دیگر ذرائع کی تلاش ہو گی۔ اس وقت تک پاکستان کو امن کی بحالی کے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی۔ افغانستان سے باڑ کی تنصیب سے دہشتگردی کے داخلے راستے مسدود ہو چکے ہیں۔ بلوچستان میں بھارت کے لئے کام کونیوالوں کو قومی دھارے میں لانا آسان ہے جو بھارت کی نمک خواری پر بضد رہیں۔ ان کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اب جبکہ ان کی کمک منقطع ہو چکی ہیں مزید آسان ہے۔

  • آلودہ پانی دہشت گردی سے بھی خطرناک .تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    آلودہ پانی دہشت گردی سے بھی خطرناک .تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    اللہ رب العزت نے انسانوں بلکہ کائنات کی تمام مخلوق کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے "اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہ کر سکو گے”۔نعمتوں کا احسا س و لذت اس کی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے۔ پانی کے بغیر زندگی ممکن ہی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتاہے ” اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے” قرآن میں ایک اور جگہ فرمایا”اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے”۔زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کاانحصارپانی پرہے۔

    پاکستان پانی کی کھپت کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے جبکہ اس کی آبادی عالمی سطح پر پانچویں نمبر پر ہے پانی کی شدید قلت کا شکار ممالک کی فہرست میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو تیسرے نمبر پر رکھاہے جبکہ دیگر عالمی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ سن 2025 تک یہ ملک مکمل طور پر خشک سالی کاشکار ہوجائے گا۔اس وقت پاکستان کی بیشتر آبادی کو پینے کاصاف پانی میسر نہیں ہے تاہم کسی بھی حکومت نے اس چیلنج یا تلخ حقیقت کا نوٹس نہیں لیا اورعوام کی اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے میں ناکامی نے زندگیوں اور صحت کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق دوتہائی پاکستانی عوام پینے کے صاف پانی سے محروم ہے ، جس کی وجہ سے عوام میں موذی بیماریاں پھیلنے کے خطرات اور بڑھ گئے ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ افراد جن میں سے آدھے بچے ہوتے ہیںپانی سے پیدا ہونے والی خطرناک بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیںیہ نہ تو دہشت گردی ہے اور نہ ہی قدرتی آفات ہیں بلکہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں اموات کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق آلودہ پانی کے استعمال سے ہر سال ملک بھر میں 40 فیصد اموات ہوتی ہیں۔ صنعتی فضلہ ، تباہ شدہ سیوریج سسٹم اورسیوریج کے آلودہ پانی سے فصلات اورسزیوں کی کاشت اور منصوبہ بندی کے بغیرشہروں کے پھیلائونے پچھلے کئی سالوں سے خاص طور پر بڑے شہروں میں پانی کے معیار اور مقدار کو گھٹا دیا ہے، ملک کے بیشتردور دراز علاقوں خاص طورپرسندھ اوربلوچستان میں لوگوں کو پینے کا پانی لانے کے لئے کئی میل سفر کرنا پڑتا ہے۔پہاڑی اور صحرا ئی علاقوں میں رہائش پذیرعوام پانی کے لئے بارش پر انحصار کرتے ہیں ، انسان اور جانور ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ وزارت صحت اور یونیسف کے اعدادوشمار کے مطابق ہرسال پاکستان میں100000 سے زائدافرادآلودہ پانی پینے کی وجہ سے مختلف بیماریوں کاشکارہوکرہلاک ہوجاتے ہیں،

    ہر سال 10 سال سے کم عمر کے 50000 سے زائد بچے ہیضہ ، اسہال ، پیچش ، ہیپاٹائٹس اور ٹائیفائڈ جیسی پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے مر جاتے ہیں۔ماہرین کاکہنا ہے کہ پانی میںبڑی مقدارمیں آرسینک کی موجودگی کی وجہ سے شوگر ، جلد ، گردے ، دل کی بیماریوں ، ہائی بلڈ پریشر ، پیدائشی نقائص اور متعددقسم کے کینسر کا باعث بھی ہے۔ صفائی کے ناقص نظام ،بروقت پانی کی ٹریٹمنٹ اور نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے پینے کے پانی کا معیار خراب ہوتا جارہاہے۔ پینے کے پانی میں زہریلے کیمیکلز اور بیکٹیریا کی موجودگی انسانی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ آلودہ پانی پینے کی وجہ سے لوگ پیٹ کی بہت سی خطرناک بیماریوں میں مبتلاہیں دوسری طرف حکومت نے پہلے سے موجود پینے کے صاف پانی سے متعلق پلانٹس کی بحالی پرکوئی توجہ نہیں دی،اور مناسب کام کرنے اور سنبھالنے کے لئے عملی طورپر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ،پاکستان کے شہری علاقوں میں پینے کے صاف پانی اور پینے کے لئے موزوں ہونے کو یقینی بنانے کیلئے ٹریٹمنٹ پلانٹوں سے نمونے لینے کاکوئی مناسب نظام نہیںہے۔ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلا ئوکو روکنے اورمعیار کوبرقراررکھنے کیلئے سال میںدوبار پانی کے نمونے لیکرانہیں ٹیسٹ کرنے کی روایت پاکستان میں موجود نہیں ہے کیونکہ افسرشاہی اپنی لالچ اورخودغرضی کی وجہ سے واٹرمافیاء سے ملاہواہے جن کی وجہ سے بروقت ٹیسٹنگ کانظام ناکام ہوچکاہے،پیتھوجینز کو مارنے اورپانی کی کلورینیشن کاعمل نہ ہونے کے برابر ہے۔پاکستان میں پینے کے پانی کے معیار کے تجزیہ کے لئے جدید ترین اور قابل اعتماد آلات اور تربیت یافتہ سٹاف کی بہت کمی ہے جس پر کسی بھی حکومت نے آج تک توجہ نہیں دی۔پاکستان میں ایسی صنعتیں بہت کم ہیں جنہوں نے گندے پانی کو صاف کرکے قابل استعمال بنانے کیلئے WaterTreatmentپلانٹ لگائے ہوں ۔ حکومت کو چاہئے کہ 1997 کے ایکٹ کے تحت NEQS کے مطابق ان کے صنعتی آلودگی سے نمٹنے کے لئے سخت کارروائی کرے۔ اگر کوئی صنعت قواعد کی خلاف ورزی کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو اسے بھاری جرمانے اور قید کی سزا بھی دی جانی چاہئے۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں معصوم شہریوں کی ہلاکت کی خبریں تومین سٹریم میڈیا اورسوشل میڈیا پر زورشورسے چلائی جاتی ہیں ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں عوام کوانتہائی خوفزدہ کیاجاتاہے(ہم یہ نہیں کہتے کہ دہشت گردوں سے متعلق خبریں عوام کے سامنے نہ لائیں)حالانکہ ان دہشت گردوں کے حملوں کے نتیجے میں بہت سی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوجاتی ہیںاورمالی نقصان بھی کہیں زیادہ ہوتاہے،دہشت گردی کے برعکس پاکستان میں آلودہ پانی پینے سے پیداہونے والی بیماریوں سے ایک لاکھ سے زائدلوگوں کی ہلاکت دہشت گردی سے زیادہ خطرناک نہیں ہے؟ جبکہ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ 2025 ء تک پاکستان مکمل طور پرخشک سالی کاشکارہوکرخانہ جنگی کی طرف جاسکتا ہے، اگرحکومت ملک کوتباہی اورانتشار سے بچاناچاہتی ہے تو صورتحال کاازسرنوع جائزہ لیناچاہئے ،پانی کے نظام میں بہتری ، صفائی ستھرائی اوربنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے ابھی سے کام شروع کردے ورنہ آلودہ پانی کااژدہا دہشت گردی کی لعنت سے بھی زیادہ خطرناک پھن پھیلائے کھڑاہے۔

  • ہر لب پہ ابتسام ہے.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    ہر لب پہ ابتسام ہے.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    علامہ احسان الٰہی ظہیر اس صدی کے عظیم مبلغ گزرے ہیں, اللہ نے آپ کو بیش بہا صلاحیتوں سے نوازا تھا. مسلک اہلحدیث کی وہ جان تھے. لیکن 1986 ء میں قلعہ لچھمن سنگھ لاہور میں دوران جلسہ آپ کو بم دھماکے میں شہید کردیا گیا. آپ کی شہادت کے بعد اہلحدیث ہی نہیں بلکہ پاکستان کی تمام دینی جماعتیں ایک ہیرے سے محروم ہوگئیں. وہ ہیرا جب گرجتا تھا تو پنڈال میں خاموشی چھا جاتی تھی. آج اللہ نے علامہ احسان الٰہی ظہیر کے صاحبزادوں کو بھی بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ہے. علامہ صاحب کے بڑے صاحبزادے ابتسام الٰہی ظہیر صاحب روزنامہ دنیا سے بطور کالم نگار منسلک ہیں, عالم ہیں اور مجھے حیرانگی اس وقت ہوئی جب مجھے معلوم ہوا ابتسام الٰہی ظہیر نے 1997ء میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ صحافت کے لیکچرر کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں انہوں نے پوسٹ گریجویٹ سطح پر شعبہ صحافت میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں لیکچر دیے۔ سیاست میں بھی بھی حصہ لیتے ہیں گذشتہ انتخابات میں ایم ایم اے کے امیدوار کی حیثیت سے قصور سے حصہ بھی لیا اور کثیر تعداد میں ووٹ حاصل کئے. لاہور کی جامع مسجد لارنس روڈ جو ان کے والد صاحب نے تعمیر کروائی اس کے خطیب بھی ہیں. ابتسام الٰہی ظہیر سے متعلق سوشل میڈیا پر گذشتہ کئی دنوں سے غیر اخلاقی تعصب پر مبنی مواد شئیر کیا جارہا ہے.

    واقعہ کچھ یوں ہے سوشل میڈیا پر اذان الہی نامی شخص نے اہل بیت کی شان میں گستاخی کی, کچھ شرپسند عناصر نے اذان الہی کو ابتسام الٰہی ظہیر صاحب کا بھتیجا قرار دے کر توپوں کا رخ ان کی طرف موڑ دیا. ابتسام الٰہی ظہیر صاحب کے خلاف ہر طرف طوفان بدتمیزی بپا کیا گیا. انہیں قتل کی دھمکیاں دی گئیں. ان کے خلاف سوشل میڈیا پر بھرپور کمپین چلائی گئی. انہوں نے واضح طور پر تردید کی کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور میں خود اس کی سزا کا مطالبہ کرتا ہوں. میرے خیال کے مطابق ابتسام الٰہی ظہیر صاحب چند دنوں سے سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھے اور دین دشمن لوگوں کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی تھی انہوں نے یہ حربہ آزمایا. دوسری طرف آپ کو بھارت کے اس یوٹیوبر میجر کی ویڈیو یاد ہوگی جس میں وہ کہہ رہا تھا ہم پیسے دے کر پاکستان میں مسالک کو آپس میں لڑاتے ہیں اس واقعے کے پیچھے بھی مجھے اسی طرح کی کوئی کہانی لگ رہی ہے .پہلے شیعہ و سنی اور دیوبندیوں کو آپس میں لڑایا گیا اب انہوں نے اس کام کے لیے اہلحدیث عالم کا انتخاب کیا. حرمت رسول ﷺ کا مسئلہ ہو,صحابہ و اہلیت کا مسئلہ ہو, یہاں تک کے پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ ہو میں نے انہیں صف اول میں پایا. ایسا شخص کیسے اہل بیت کی گستاخی کا سوچ سکتا ہے جس کے خود شب روز منبر رسول ﷺ پر گذرتے ہوں..

    میں ایک نشست میں تھا وہاں سب ابتسام الٰہی ظہیر صاحب سے اظہار یکجہتی کے لئے جمع تھے سب کی آنکھوں میں میں ایک تڑپ دیکھ رہا تھا. سب اپنے اس رہنماء کو کھونا نہیں چاہتے ,ان کی حفاظت کے لئے پرعزم تھے.راولپنڈی ,لاہور, گوجرانوالہ میں حافظ صاحب سے اظہار یکجہتی کے لئے پروگرام منعقد کئے گئے. آج ملک و دین کے دشمنوں نے حافظ ابتسام الٰہی ظہیر کی آواز کو دبانا چاہا لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ آج ہر لب پہ ابتسام ہے… پاکستان کی حکومت اور ادارے ابتسام الہی ظہیر صاحب کو تحفظ فراہم کریں تاکہ وہ کسی بھی سازش کا شکار نہ بن سکیں.

  • وزیراعظم عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ،تحریر:عامر بیگ

    وزیراعظم عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ،تحریر:عامر بیگ

    ایک وقت تھا جب پاکستانی حکمرانوں کو امریکی صدر ائیرپورٹ پر استقبال کے لیے آتے تھے۔ جی بالکل ، صدر پاکستان ایوب خان کو امریکی صدر ایئرپورٹ پر ویلکم کرنے آئے تھے۔ پاکستان ساٹھ کی دہائی میں تیزی سے ترقی کررہا تھا۔
    مگر پھر ریاست میں کچھ ایسے واقعات ہوئے۔ جس سے ملک دو لخت ہو گیا۔
    اور بات ضیاء الحق کے مارشل لا تک آن پہنچی۔ اس وقت سوویت یونین افغانستان تک پہنچ چکا تھا۔ اور امریکہ بہادر کو اسے روکنا تھا۔ لہذا حسب ضرورت پاکستان کی یاد آ گئی۔ قصہ مختصر پاکستان کی مدد سے افغانستان میں سوویت یونین کو توڑ دیا گیا۔ اور امریکہ بہادر نے پاکستان کو چھوڑ کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے واپس اپنے ملک چلا گیا۔ اس کے بعد ہمیں کرپٹ اور نااہل حکمران ملے۔ جن کی دن رات کرپشن اور نااہلی کے میدان میں کی گئی محنت کیوجہ سے پاکستان ستر سال پیچھے چلا گیا۔ یہ کرپٹ حکمران آپس میں گٹھ جوڑ کر کے ملک لوٹتے رہے۔ اور عوام کو چند دکھاوے کے منصوبے دکھا کر بے وقوف بھی بناتے رہے۔ دو سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگاتی تھیں۔ مگر شام کو سب نام نہاد ملکی مفاد میں چپ ہو جاتی تھی۔ ایسے ہی چلتا رہا۔ پھر اکیسویں صدی کا آغاز تھا۔ اور موبائل انٹرنیٹ عام ہونا شروع ہوا۔ تو عمران خان نے سیاست میں آنے سے پہلے ہی پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقبول تھا۔ برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ دوستی کیوجہ سے فلاحی کاموں میں کافی مقبولیت مل چکی تھی۔ اور عمران خان کی دیانتداری اور ایمانداری کے چرچے پاکستان کے ساتھ ساتھ یورپ تک پہنچ گئے۔ جس کیوجہ سے نوازشریف نے عمران خان کی مقبولیت دیکھتے ہوئے اپنی جماعت جوائن کرنے کی آفر بھی کردی۔ جس کی ویڈیو یوٹیوب پر بھی موجود ہے۔

    ایسے میں الیکشن دو ہزار اٹھارہ آ گیا۔ اور عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں پہلے نمبر پر آئی۔ اور عمران خان وزارت عظمیٰ کے منصب پر بیٹھ گئے۔ اب حالات یہ تھے کہ وزیراعظم عمران خان کو جب ملکی خزانوں کا بتایا گیا تو ہوشربا انکشافات سامنے آگئے۔ ملکی خزانہ خالی ہے۔ گردشی قرضے کا انبار سر پر ہے۔ اور ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ کی تلوار پاکستان کے سر پر لٹک رہی تھی۔ ایسے کڑے وقت میں اقتدار پھولوں کی سیج کی بجائے گرم گرم آلو کی مانند لگنے لگا۔ مگر عمران خان ہمیشہ سے ایک بات کرتے ہیں ۔ سے اللہ تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ سب سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کے دوران کو ہمت اور استقامت کا دامن پکڑنے کی تلقین کرتے ہوئی ساری صورتحال بتادی۔ پھر وزیراعظم عمران خان نے اخراجات کم سے کم کرنے کا آغاز اپنی ذات سے کیا۔ اور وزیراعظم ہاؤس کا خرچے میں کروڑوں روپے کا کٹ لگا کر خاتم النبیین جناب رسول محترم کی سنت پر عمل کیا۔

    اس کے بعد دوست ممالک پاکستان کی مدد کو آئے۔ اور پاکستان کی تاریخ میں کافی دیر کے بعد حکومت اور فوج ایک پیج پر آگئے۔ پاکستانی قوم کے ہمت اور حوصلے اور وزیر اعظم عمران خان کی محنت شاقہ کی بدولت پاکستان کی معیشت رفتہ رفتہ ٹریک پر آگئی۔ اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی مقبولیت یہ ہے کہ دنیا کے کافی حکمران وزیراعظم عمران خان کی دیانتداری سے متاثر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو نہ صرف ملک اور خطے میں بلکہ اب عالمی لیڈر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ دورہ ازبکستان کے موقع پر بین الاقوامی لیڈرز کے فوٹو سیشن میں مرکزی اور نمایاں جگہ وزیراعظم عمران خان کو ملتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے ماحول دوست اقدامات کو پوری دنیا میں مقبولیت مل رہی ہے۔ کرونا عالمی وبا کے دوران وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر ترقی پزیر ممالک کا قرضہ تک فریز کردیا جاتا ہے۔ روسی صدر کے دورہ پاکستان کی خبریں آج کل زیر گردش ہیں۔ امید ہے اسی سال روسی صدر پاکستان تشریف لائیں گے۔ اسکے بعد چینی صدر کی آمد کا بھی روشن امکان موجود ہے۔ پاکستان کو خطے میں اہم پوزیشن حاصل ہوچکی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان سے پوری دنیا کے لیڈرز روابط بنانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نہ صرف پاکستان کی معیشت کو بہتر کررہے ہیں۔ بلکہ یورپ پر جناب خاتم النبیین رسول محترم کی عزت و احترام بھی باور کروا رہے ہیں۔ کئی ممالک کو یہ بات بتادی ہے۔ کہ پیارے نبی کی توہین کر کے آپ مسلمانوں کی سب سے محبوب چیز پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی کشمیر پر جارحانہ پالیسی انڈیا کو بیک فٹ پر لے آئی ہے۔ انڈیا اب کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کرنے کی کوششوں میں مگن ہے۔
    وزیراعظم عمران خان نے کمال مہارت سے خارجہ ، داخلہ ، سیاحت اور دیگر میدانوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی آدھی آبادی صوبہ پنجاب ، صوبہ خیبرپختونخوا کے تمام شہریوں کو سو فیصد صحت کارڈ اس سال کے آخر تک مل جائیں گے۔ جس کی وجہ سے ساڑھے سات لاکھ روپے تک سالانہ ہیلتھ انشورنس ملنے سے عوام کو بھرپور فائیدہ ملے گا۔ زراعت کے شعبے میں زبردست کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ بہت عرصے بعد گندم ، چاول ، مکئی اور گنے کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کو مہنگائی کا چیلنج ابھی بھی درپیش ہے۔ مگر جس چیز کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مافیا مل کر چیزیں مہنگی کر کے حکومتی کوششوں کو ناکام کرنے میں مصروف ہوجاتا ہے۔ مگر آہستہ آہستہ چیزیں درست ٹریک پر آ رہی ہیں۔ دس سال کے بعد پہلی دفعہ کرنٹ اکاونٹ سرپلس میں آ چکا ہے۔ سی پیک فیز ٹو برق رفتاری حاصل کر چکا ہے۔ کم و بیش تیس سال کے بعد بڑے ڈیمز وزیراعظم عمران خان کی ذاتی محنت اور توجہ سے ہی بن رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے 2018-2028 کو ڈیمز کی دہائی قرار دیا ہے۔ ڈیمز بننے کے بعد پاکستان میں سستی اور وافر بجلی مہیا ہوگی۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے اقدامات وزیراعظم عمران خان کی حکومت کررہی ہے۔ جس کے لیے پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ مگر فی الوقت اتنا ہی کافی ہے۔ اس کے بعد مزید باتیں آپ کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

  • وزیراعظم عمران خان آج باغ آزادکشمیر کا دورہ کریں گے

    وزیراعظم عمران خان آج باغ آزادکشمیر کا دورہ کریں گے

    وزیراعظم عمران خان آج باغ آزادکشمیر کا دورہ کریں گے،اور آج سے آزادکشمیر الیکشن مہم میں حصہ لیں گے-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان ازبکستان کا دورہ مکمل کر کے وطن واپس پہنچ گئے ہیں اور آج یعنی ہفتے کو آزاد کشمیر کے شہر باغ کا دورہ کریں گے اور انتخابات کی مہم میں حصہ لیں گے۔

    وزیراعظم باغ کے بعد بھمبر، میرپور اور مظفر آباد میں بھی جلسوں سے خطاب کریں گے۔

  • ہائے رے تبدیلی ، تیرا ککھ نہ روے ۔۔۔تحریر:نوید شیخ

    ہائے رے تبدیلی ، تیرا ککھ نہ روے ۔۔۔تحریر:نوید شیخ

    یوں لگ رہا ہے کہ حکومت نے عوام سے انتقام لینا شروع کردیا ہے کہ انھوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ کیوں ڈالا ہے ۔

    ۔ وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں جو اضافہ کرنا تھا کر دیا مگر جس ڈھٹائی سے وزیروں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ابھی تو ہم نے عوام کا بہت خیال کر لیا ہے ۔ خطے کے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں پیڑول کی قیمت بہت کم ہے ۔ اسلیے شکر منائیں ۔ اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔

    ۔ ان وزیروں کو میں آئینہ دیکھا دوں اور پوچھنے کی جسارت کروں کہ خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں
    per capita income
    کیا ہے۔ زچی اور بچہ اموات کی
    ratio
    کیا ہے ۔ پاکستان میں
    average life expentancy ratio
    کیا ہے ۔ پاکستان کرپشن میں خطے کے ممالک میں کس نمبر پر ہے ۔ کاروبار کرنے کے حوالے سے پاکستان کے حالات کتنے اچھے ہیں ۔ ہماری جی ڈی پی خطے کو چھوڑیں جنگ زدہ افغانستان کے مقابلے میں کیا ہے ۔ ان سب چیزوں کا
    comparison
    بھی ہم کو خطے کے ممالک کے حوالے سے بتادیں تو ان کے پاک دامنی پر میں ایمان لے آؤں ۔ دراصل جھوٹ کا نہ سر ہوتا ہے نہ پاؤں ۔ بجٹ میں تمام اعلانات ، بیانات بلکہ پورا کا پورا بجٹ ہی ایک جھوٹ کا پلندہ تھا ۔ اب بھی معیشت آئی ایم ایف کے کہنے پر چلائی جا رہی ہے ۔ یہ پیڑول اور دیگر اشیاء کی چیزوں کی قیمتیں بڑھا کر حکومت نے عوام کو آئی ایم ایف کی جانب سے عید سے پہلے عیدی دے دی ہے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد سے پیٹرول آج تک اتنا مہنگا نہیں ہوا ۔ جتنا آج ہوگیا ہے یہ بھی اس حکومت کا کریڈٹ ہے ۔

    ۔ صرف پٹرولیم مصنوعات ہی نہیں ایل پی جی کی قیمت میں بھی
    5
    روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد سرکاری قیمت
    160
    فی کلو سے تجاوز کر گئی۔

    ۔ سب سے زیادہ مشیر اور وزیر خزانہ تو اس حکومت کے پاس ہی ہے وہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ پٹرول اور ایل پی جی کی قیمت بڑھے تو عام آدمی کو فرق پڑتا ہے یا نہیں ۔ ابھی جو عید پر پردیسوں نے اپنے گھروں کو جانا ہے ان کو اس کا کتنا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ اور صرف پیٹرول مہنگا ہونے سے مہنگائی کا ایک نیا ریلا آئے گا وہ کس کس کو متاثر کرے گا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔

    ۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کو ٹرانسپورٹ یا کنوینس الاؤنس ملتا ہے۔ تھوڑا اوپر کا گریڈ ہو تو گاڑی یا پٹرول بھی ملتا ہے۔

    ۔ پولیس مدعی سے پٹرول کے پیسے لے لیتی ہے۔ چاک و چوبند دستوں نے کبھی پلے سے پٹرول ڈلوانا نہیں ہے۔ باقی وزیر مشیر تو اس عوام کو ویسے ہی جہیز میں ملے ہیں ۔ انکے پیڑول ، بجلی ، گیس کے بل اور عیاشیوں کا خرچہ بھی عوام نے برداشت کرنا ہے ۔ لہذا یہ جو باقی بچے کھچے اٹھارہ بیس کڑور عام آدمی ہیں ان کا اللہ مالک ہے۔ ان کی گدھا گاڑیوں کو پٹرول چاہیے بھی نہیں ہوتا۔

    ۔ عمران خان کی حکومت نے آتے ہی عزم ظاہر کیا تھا کہ یہ لوگ پانچ ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کریں گے۔ پر یہ جھوٹے وعدے اور دعوی ہی ثابت ہوئے ۔

    ۔ آج سینیٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مالی سال کی پہلی تین سہ ماہی میں 147 ارب روپےکی ٹیکس چوری ہوئی ہے ۔ ۔ دوسری جانب کسی اور نہیں اس عوامی حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر 3 بنیادی اشیا مہنگی کرنے کی منظوری دیدی ہے ۔ چینی کی فی کلو قیمت میں 17 روپے کا اضافہ کردیا۔ اب یوٹیلیٹی اسٹور ز پر چینی 68 کے بجائے 85 روپے کلو دستیاب ہوگی۔ 20 کلو آٹے کا تھیلا مزید 150 روپے مہنگا کردیا گیا۔ یوں 20 کلو آٹا کا تھیلا 950 روپے کا ہوگیا ہے ۔ ۔ گھی کی قیمت میں بھی 90 روپے اضافہ کر دیا گیاہے ، ایک کلو گھی کا پیکٹ اب 170 کی بجائے 260 روپے فی کلو میں دستیاب ہو گا ۔

    ۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ یوٹیلی اسٹورز پر غریب اور سفید پوش بندہ ہی جاتا ہے ۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ حکومت کو غریبوں کی کتنی فکر ہے ۔

    ۔ پھل ، سبزیوں ، فروٹ ، بجلی اور گیس کے بلوں کا کیا رونا یہاں تو آٹا ، گھی اور چینی عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے ۔ دراصل عوام نے سر پکڑ لیے ہیں ۔ کہتے ہیں ایسے نئے پاکستان سے تو پرانا پاکستان ہی بہتر تھا۔

    ۔ اس کارکردگی کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل کام نہیں کہ کیوں اس حکومت کے وزیروں کو گندے انڈے اور ٹماٹر پڑ رہے ہیں ۔

    ۔ پر اس کے ردعمل میں جو کل علی امین گنڈا پور نے بیچ چوراہے کھڑے ہوکر سنجے دت اسٹائل میں فائرنگ کی ہے ۔ وہ اس ملک ، وہ قانون اور اس حکومت کو ووٹ دینے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے ۔

    ۔ مجھے لگتا ہے آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کو گاجر مولی سمجھ لیا ہے، جسے چاہے کاٹو یا بغیر کاٹے کھا جاؤ۔ اب تازہ ترین خبر یہ آئی ہے آئی ایم ایف نے بجلی ساڑھے تین روپے کے قریب مہنگی کرنے کی فرمائش کر دی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے لائف لائن صارفین کو تین سو یونٹ کی بجائے دو سو یونٹ پر سبسڈی دی جائے۔

    ۔ سنا ہے ہمارے معاشی مینجروں نے اس پر غور شروع کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے صرف آئی ایم ایف کی ہدایات کو دیکھنا ہوتا ہے، عوام کی پروا نہیں ہوتی۔

    ۔ آئی ایم ایف عوام کو پیستی اور خواص کو نوازتی ہے، کیونکہ خواص کے پاس پیسہ ہو تو اس کا فائدہ سرمایہ دارانہ نظام کو پہنچتا ہے۔ عوام کے پاس ہو تو سرمایہ دارانہ نظام کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

    ۔ کبھی آپ نے سنا ہو آئی ایم ایف نے حکومت پر دباؤ ڈالا ہے وہ سرمایہ داروں پر ٹیکس دوگنا کرے، یا کبھی یہ کہا ہو بالواسطہ ٹیکسوں کی بجائے بلاواسطہ ٹیکسوں کو بڑھایا جائے۔

    ۔ وہ ہمیشہ بجلی، گیس، پٹرول، آٹا، گھی جیسی بنیادی اشیاء کو مہنگی کرنے کی فرمائش کرتا ہے، ان پر حکومت اگر کوئی سبسڈی دے رہی ہے تو اسے ختم کرنے کے لئے دباؤ ڈالتا ہے۔

    ۔ اس کا کیا مقصد ہے۔ اگر آئی ایم ایف کو صرف اپنے قرضے کی واپسی سے غرض ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کہیں ڈوب نہ جائے تو اسے ٹیکس جمع کرنے پر زور دینا چاہئے اور ان طبقوں پر ٹیکس لگانے کی شرط رکھنی چاہئے جو صاحبِ استطاعت ہیں، سرمایہ دار ہیں، بڑے بڑے بنگلوں میں رہتے ہیں اربوں روپے کماتے ہیں مگر نہیں آئی ایم ایف ایسا نہیں کرے گا، اس کی نظر معاشرے کے عام فرد پر ہو گی، شیدے، میدے، گامے اور ماجھے ساجھے کے جسم سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنا اس کا مشن ٹھہرے گا۔ یہی وجہ ہے ہمارے ہاں جو بھی بجٹ بنتا ہے،وہ امیروں کا بجٹ ہوتا ہے۔

    ۔ نام تو غریبوں کا لیا جاتا ہے لیکن اس میں سرکاری مراعات امیروں کے لئے ہوتی ہیں۔ بجٹ میں پہلے ہی عام آدمی کا بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے کچومر نکال دیا گیا ہے۔ اب آئی ایم ایف کی فرمائشوں کے سامنے حکومت ہاتھ جوڑے کھڑی نظر آتی ہے۔

    ۔ جس طرح کوئی اپنی کمر کا تل نہیں دیکھ سکتا اسی طرح حکمران بھی اپنے کیے ہوئے اکثر فیصلوں کے نتائج سے لا علم ہوتے ہیں۔ وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ آنے والے وقت میں یہ فیصلے کیا نتائج دیں گے اور ان کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ انہیں اس بات کا بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے ارد گرد اور آگے پیچھے پھرنے والے وزیر اور مشیر گورننس کے نام پر کیا کچھ کرتے پھر رہے ہیں۔ مشورے دینے اور فیصلے کروانے والے اکثر تتر بترہو جاتے ہیں اور کچھ اپنی اگلی منزلوں کی طرف رواں دواں نظر آتے ہیں۔

    ۔ عمران خان پہلے ہی اعتراف کر چکے ہیں کہ اُن سے غلط فیصلے ہو جاتے ہیں ۔ اسی لیے بیشتر معاملات میں حکومت کو روزِ اول ہی سے سبکی اور جگ ہنسائی کا سامنا ہے۔ جبکہ بعض مشیر اور سرکاری بابو کمالِ مہارت سے اہم ترین اور حساس نوعیت کے معاملات پر وزیراعظم عمران خان کواپنے گرد گھما رہے ہیں۔

    ۔ اب آپ دیکھیں نہ راولپنڈی رنگ روڈ کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہے۔ جس میں زلفی بخاری اور غلام سرور خان کو کلین چیٹ دے دی گئی ہے ۔

    ۔ مزے کی بات ہے کہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ منصوبے کی الائنمنٹ میں تبدیلی اور لینڈ ایکوزیشن کے معاملات میں بے ضابطگیاں بھی ثابت ہوچکی ہیں۔
    اب پتہ نہیں کون سے فرشتے یا جن تھے جنہوں نے یہ واردات ڈالی تھی ۔ اور یہ آٹا ، چینی ،پیڑول اور دیگر اسکینڈلز کی طرح ایک نیا معمہ بن گیا ہے۔ کہ کرپشن ہوئی مگر معلوم نہیں کس نے کی ۔ اور اب اتنے بڑے معاملے میں دو بے وقعت افسران کو ہی بلَی کا بکرا بنا کر معاملات کو سمیٹا جارہا ہے ۔

    ۔ آخر میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ اب تو یہی خواہش رہ گئی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان امریکہ کی طرح آئی ایم ایف کو بھی انکار کر دیں صاف کہہ دیں اس سے آگے کچھ نہیں ہو سکتا۔

  • میری گپ میری مرضی اور سوشل میڈیا: تحریر عینی سحر

    میری گپ میری مرضی اور سوشل میڈیا: تحریر عینی سحر

    آجکل کے اس سوشل میڈیا کے دورمیں تقریبا” ہر کوئی سرگرم ہوئے بنا نہیں رہ سکتا _ نئے دور کے نئے تقاضے،ہم بھی اٹھتے بیٹھتے سوشل میڈیا پر جھانک کر دیکھ لیتے ہیں کے کیا ہورہا ہے _ یونہی ٹہلتے ہوۓ ایک ایسی گردش کرتی ٹویٹ نظر آئ جسمیں کسی صاحب نے ایک خوبصورت بچے کی تصویر پوسٹ کرتے ہوۓ لکھا کے انکے ہاں اللہ نے بیٹا دیا ہے کوئی اچھا سا نام تجویز کریں _ اب اس بچے کی معصومیت اور اس صاحب کی خوش قسمتی پر ہر کوئی خوشی سے بیتاب ری ٹویٹ کیساتھ پوسٹ کو پسند کررہا تھا یہی نہیں ٹویٹ کے نیچے بھی مبارکباد کے کمنٹس کیساتھ کچھ فراخ دل لوگوں نے مٹھائی کی تصویر بھی پوسٹ کرکے اس موصوف کی خوشی کو دوبالا کرنے میں کسر نہ چھوڑی _ ایسے میں میرا دل بھی اس بچے کو دیکھ کر پگھلا تو جھٹ سے لائیک دے کر مبارک باد دے دی _ ٹویٹ تھی کے تھمتی نہ تھی اور ٹویٹر پر خوب گردش کئے جارہی تھی

    لیکن جب ٹویٹر پر مزید چکر لگاۓ تو کرشمہ دیکھنے کو ملا کے وہی بچہ انہی کپڑوں میں تین چار اور لوگوں کے گھر بھی پیدا ہوا ہے اور وہ بھی اسی رفتار سے بیٹا ہونے کا اعلان کرکے مبارکبادیں اور لائیک ری ٹویٹ سمیٹ رہے ہیں _
    بات یہی رکتی تو صبر آجاتا لیکن فیس بک پر جھانکا تو اس بچے کو مزید چند لوگوں کی پوسٹ میں پیدا ہوکر مشہور ہوتے دیکھا اسکو اپنا بیٹا کہہ کر لایکس کمنٹس وہ لے رہے تھے جنہوں نے خود ابھی دسویں کلاس میں امتحان دینا تھا _ یہ ہی تو سوشل میڈیا کا لطف ہے
    یہاں ایک سے بڑھ کر ایک گپ مل سکتی ہے

    ابھی اس جھٹکے سے سنبھلے نہ تھے کے کسی دوشیزہ کی غمناک پوسٹ نے ٹویٹری آبادی کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا کے محترمہ نے اپنے ہاتھ کی فوٹو شئر کی جس پر ڈرپ لگی تھی کے وہ بیمار ہیں اور دعا کریں _ وللہ ٹویٹری شہزادے اسطرح پریشانی سے مرے جارہے تھے جیسے اسے کچھ ہوا تو وہ مر جائیں گے _ ایک سے بڑھ کر ایک بازو لمبی کرکرے دعا دے رہا تھا _ کچھ نے تو آگے بڑھ کر کمانڈ سنبھال لی اور اضافی ٹویٹ کرکرکے اعلان کرنے لگے کے فلاں کی طبیعت خراب ہے دعا کریں _ یہ وہ ہمدرد نونہال ہیں جنکی اپنی اماں جان بیمار ہوں تو انہیں پرواہ نہ ہو لیکن کسی متوقع حسینہ کیلئے یوں فرمانبردار بن کر دعائیں دیتے اور آسمان سے تارے توڑ لانے کے دعوے کرتے ہیں جیسے ان سے بڑا ہمدرد کوئی نہ ہو _ آخر کو یہ سوشل میڈیا کے ہیرو ہیں

    اب چونکے بقر عید کی آمد آمد ہے لہٰذا ایک دوشیزہ نے بکرے کیساتھ اپنی آدھی تصویر پوسٹ کرکے پوچھا بکرا کیسا ہے ؟بکرے کے نام پر سب اس دوشیزہ کی آدھی تصویر پر مرے جارہے تھے اور واہ واہ کرتے نہ تھکتے تھے ایسے میں ایک صاحب نے جھنجھلاتے ہوۓ کمنٹ کرکے پوچھا یہی بکرا اور یہ تصویر گزشتہ دو سال سے سوشل میڈیا پر کئی پوسٹوں میں گھمائ جارہی ہے آخر لوگ باز کیوں نہیں آتے ؟

    ایک صاحب نے فادر ڈے پر پوسٹ کرتے ہوۓ لکھا شکریہ ڈیڈی آپ نے مجھے سب کچھ دیا گھر میں پیسے کی چہل پہل بیرون ملک کی سیریں بنگلے ، بینک پلنس اور گھر میں دو تین گاڑیاں ہر وقت کھڑی رہتیں _ اصل میں اس پوسٹ میں شاعر کی مراد یہ تھی کے وہ تگڑی اسامی ہے اگر کوئی حسینہ متاثر ہوکر اس پر نظر کرم کر دے تو مہربانی ہوگی

    اللہ اللہ سوشل میڈیا پر جو لطیفےاور کامیڈی دیکھنے کو ملتی ہے اسکا بدل ڈراموں میں بھی نہیں _
    اس کامیڈی میں سیاستدان بھی حصہ ڈالتے ہیں جیسا کے نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے والد کی فوٹو لندن سے اٹھا کر کشمیر کے پل پر لگا کر خوب شغل لگایا

    یہ اسی سوشل میڈیا کا کمال ہے یہاں ایک سے بڑھ کر ایک گپ پڑھنے کو ملے گی کیوں نہ ہو یہاں اکثر جوروش دیکھنے کو ملتی ہے وہ یہی ہے میری گپ میری مرضی

  • حب الوطنی. تحریر: فرمان اللہ

    حب الوطنی. تحریر: فرمان اللہ

    وطن سے محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو کبھی کم نہیں ہوتا بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اِس محبت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے لیکن حقیقی معنوں میں حب الوطنی ہے کیا؟

    وطن ماں دھرتی ہے جس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے اور اِس پر جان قربان کرنا شہادت کا ردجہ رکھتا ہے لیکن اِس کے ساتھ ساتھ وطن کے بیان کردہ اصولوں پر عمل کرنا بھی حب الوطنی ہے۔ قانون کی پاسداری کرنا اور اِس کی بہتری اور ترقی کے لیے عملی طور پر اپنا کردار ادا کرنا بھی حب الوطنی کی اعلی مثال ہے۔

    میں اس بات کو شامل کرتا چلوں کہ اوورسیز پاکستانیوں میں سب سے زیادہ حب الوطنی پائی جاتی ہے جس کا شاہد میں خود ہوں۔ سارا دن محنت مزدوری کر کے جب واپس گھر پہنچتے ہیں تو سب سے پہلے ٹی وی لگا کر وطن کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور اِس کے ساتھ ساتھ اوورسیز پاکستانیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بینکنگ چینل کے زریعے پیسہ بھیج کر پاکستانی معیشت کو بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور یہی ان کی حب الوطنی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

    ایسی کئی مثالیں دے کر میں حب الوطنی کو تفصیل میں بیان کر سکتا ہے لیکن شاید میری تحریر بہت لمبی ہو جائے اسی لیے آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ اگر عوام ملکر حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایماندار سیاست دانوں کا انتخاب کرے اور قانون پر پورا پورا عمل کرے تو یقیناً اُن کی یہ حب الوطنی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے

  • پاکستانیت۔۔۔۔۔۔تحریر:محمد ثقلین

    پاکستانیت۔۔۔۔۔۔تحریر:محمد ثقلین

    پاکستان سے محبت،اس کی زبان و ثقافت اوراقدار کو اپنانا،اور اس کی تعمیرو ترقی میں عملی طور پر اپنا کردار ادا کرنا پاکستانیت ھے پاکستان ہمارا وطن ہے
    وطن ایک گھر کی مانند ہوتا ہے جس میں ہر شخص اپنے گھر اپنے خاندان اپنے دوست و احباب کے ساتھ خوشی سے زندگی گزارتا ہے ایک انسان کے لیے اس کے وطن کی اہمیت ماں باپ ،بھائی بہن سے بڑھ کر ہوتی ہے جس کا نظارہ سرحدوں پران جاں بازجوانوں کی شکل پرکیا جاسکتا ہے جو ملک کی حفاظت وصیانت کے لیے اپنے گھر بار کی پرواہ کیے بغیر پوری مستعدی کے ساتھ رات ودن ایک کیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں ہمارے شہیدوں نے ہمیں ایک ہی درس دیا ہے کہ اپنے گھر اپنی اولاد اپنی دولت سے بڑھ کر اس ملک کی حفاظت کرنی ہے اپنے کلچر کو فروغ دینا ہے اپنی زبان کو فروغ دینا ہے آج تک پاکستان میں انگلش کلچر کو فروغ دیا گیا یہاں پر انگلش لباس کو اہمیت دی گئی جس شخص کو انگریزی بولنا آتی ہے وہی پڑھا لکھا ہے اس بات کو فروغ دیا گیا ہماری زبان ہمارے لباس کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی یہاں تک ہمارے وزراء اعظم بھی انگلش لباس پہنا کرتے ہیں اپنی ساری تقاریر انگریزی میں کرتے ہیں اگر ہمیں اپنا سافٹ امیج بہتر بنانا ہے تو ہمیں پاکستانیت کو فروغ دینا ہو گا اپنی ثقافت اپنے کلچر اپنی روایات کو فروغ دینا ہو گا

    وزیر اعظم عمران خان صاحب جو کہ رہے بھی انگلش ممالک میں لیکن انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم بننے کے بعد پاکستانی کلچر کو فروغ دیا پاکستانی لباس کو فروغ دیا اگر وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کے باہر کے سارے دورے دیکھے جائے تو ہمیں ہمارا قومی لباس دیکھائی دے گا وزیراعظم کا قومی لباس اور زبان اردو میں تقاریر کرنا خوش آئند ھے۔مگر پاکستانیت کے فروغ کے لئے محض اتنا کافی نہیں ھے ہمارے سلیبس میں اردو کو فروغ دینا ہو گا ہمارے تعلیمی نظام میں انگلش تاریخ دانوں کی جگہ اسلامی تاریخ دانوں کی تاریخ ڈالنی ہو گی ہمیں ہماری قوم کے بچے بچے کو اپنی تاریخ سے آگاہ کرنا ہو گا بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے ملک میں بچہ بچہ
    ” Jafri chosr ”
    کو جانتا ہے لیکن مولوی عبد الحق اور سرسید احمد خان کو نہیں جانتے کیونکہ ہماری رگوں میں انگلش کلچر کو بھر دیا گیا ہے کہا جاتا ہے جو قوم اپنی تاریخ کو بھول جائیں وہ قوم زوال کا شکار ہو جاتی ہے ہمارے ٹی وی ڈراموں کو بدل دیا گیا ہمارے فنکاروں نے قوم کو ہمارے کلچر سے ہٹا کر فحاشی پر لگا دیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جہاں صبح کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہونا چاہیے تھا وہاں صبح ڈانس موسیقی شوز دیکھائیں جا رہے ہیں ہماری اداکارہ کے لباس انتہائی نازیبا ہوتے ہیں جو ہمارے معاشرے پر اثرات چھوڑتے ہیں ہمارے کالجوں ہماری یونیورسٹیوں میں انگلش بولنے پر زور دیا جا رہا ہے ہمیں انگریزی کلچر کا عادی بنایا جا رہا ہے ہمیں ہماری زبان کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کرنا ہو گا عدالت عظمی کے فیصلوں کی رو سے اردو کو قومی کے ساتھ دفتری زبان کے طور پر رائج کرنا ھوگا۔علاقائی زبانوں کو بھی ترقی اور فروغ دینا ھو گا۔دفاتر اور عدالتوں کی دستاویز عام آدمی کے لئے ھوتی ہیں مگر انگریزی زبان میں۔جس سے اس کا دور سے بھی واسطہ نہیں۔کیا ملکی نظام عام آدمی کے لئے نہیں ھوتا؟انگریزی علمی ترقی کے لئے بلا شبہ ضروری ھے ۔مگر مخصوص اشرافیہ نے اسی کے سہارے بیوروکریسی اور اہم اداروں پر قبضہ کر رکھا ھےاور ایک طبقاتی تضاد سو سائٹی میں بڑھتا جا رھا ھے۔اس کا سد باب بھی بہت ضروری ھے۔قومی زبان بولنے سے زیادہ حقیقی معنوں میں اداروں میں رائج کرنے سے پاکستانیت فروغ پائے گی۔