Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عید قرباں اور ہمارے روئے . تحریر: آیاز محمد

    عید قرباں اور ہمارے روئے . تحریر: آیاز محمد

    عید قرباں قریب قریب ہے ۔اس موقع پر مسلمان قربانی کرکے ایک عبادت کی ادائیگی سے عہدہ برآں ہوتے ہیں ۔قربانی اپنے پس منظر میں ایک فلسفہ رکھتی ہے ۔ اس فلسفے کی روح کو باقی رکھتے ہوئے اگر یہ عبادت ادا کی جائے تو روح سرشاررہتی ہے۔لیکن اگر اسے ایک تہوار کے طور پر منایا جائے تو عبادت تو ادا ہوجائے گی ۔روح کو وہ تازگی اور سرشاری نصیب نہ ہوگی جو ایک عبادت کی ادائیگی کے بعد ہوتی ہے ۔روح پاک صاف ہو جاتی ہے ۔

    ماضی قریب میں جب ہم ابھی شعور کی منزلیں طے کر رہے تھے ، ہوتا یوں تھا کہ قربانی خریدی جاتی ،گاؤں دیہاتوں میں عموما بڑے جانوروں کی قربانی ہوتی تھی ،۔ بکروں اور دنبوں کا رواج کم کم تھا، لوگ عموما اپنی استطاعت کے مطابق جانور خریدتے ،ظاہر ہے ایک عبادت کی ادائیگی کی نیت سے خریدے تو اس پرکسی قسم کا فخر و غرور نہ ہوتا تھا ، ہاں اڑوس پڑوس میں دوسروں کے جانور دیکھنے کے لئے جانے کا رواج ضرور تھا۔ عید سے تین چار دن قبل سے جانور کی خدمت شروع ہوجاتی اور عید کے دن جانور کو ذبح کردیا جاتا،لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے ۔ اب مہنگے سے مہنگا جانور خریدا جاتا ہے ۔پھر گلی محلے میں بلکہ اب تو ڈیجیٹل زمانہ آگیا ہے ۔تو شہر شہر اور ملکوں ملکوں جانوروں کی پبلسٹی ہوتی ہے ،قیمتیں بتائی جاتی ہیں ،طرح طرح کے نخرے کئے جاتے ہیں ،یوں ایک عبادت جس کی بنیاد خالص عبادت پر تھی ، ریا کاری اور فخر کی نذر ہوگئی ، لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن اصلی مقصد کو بھلا دیا جاتا ہے ۔یوں عبادت تو ادا ہوجاتی ہے لیکن وہ روح کو وہ سرشاری نصیب نہیں ہوتی ۔

    اس طرز عمل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے جو لوگ اس نعمت سے محروم ہیں ،ان کا دل پسیج کے رہ جاتا ہے ۔بڑے تو اپنی مجبوریوں کو سمجھتے ہیں وہ کسی نہ کسی طرح خود کو سنھبال لیتے ہیں لیکن گھر میں بچے بھی ہوتے ہیں ان کی فرمائشیں شروع ہوجاتی ہیں اور والدین کو پھر اپنے بچوں کی فرمائشیں کسی نہ کسی طرح پوری کرنی پڑتی ہیں ۔

    پہلے ہوتا تھا کہ قربانی ہوتی ،سب گھر والے مل کر گوشت بناتے ،گوشت ہانڈی میں رکھ دیا جاتا اور باقی کا گوشت چھوٹے چھوٹے تھیلوں میں ڈال کر محلے داروں ،رشتہ داروں اور اس عبادت کی ادائیگی سے محروم لوگوں میں تقسیم ہوجاتا ،نہ فریج ہوتے تھے نہ لمبی خواہشیں نہ مہینوں مہینوں گوشت کو سنھبالے رکھنے کا رواج ، محلے میں گوشت تقسیم کرنے سے آپس کی محبتوں میں اضافہ ہوتا ، رشتہ داروں میں تقسیم کرنے سے رنجشوں ختم ہوتی ،اپنائیت کا اظہار ہوتا اور ناداروں میں گوشت تقسیم کرنے سے اس نعمت کا عملی شکر ادا ہوپاتا کہ اللہ پاک نے ہمیں نوازا اور ہم نے اللہ کی مخلوق میں تقسیم کیا ۔لیکن اب حالات بدل گئے ،اب گھر گھر فریج اورفریزر آگئے ہیں، سو جو گوشت مختلف لوگوں میں تقسیم کیا جاتا وہ اب فریج اور فریزر کے مختلف خانوں میں فریز کردیا جاتا ہے ۔ محبتیں باٹنے کا ایک موقع ہم نے اپنے ہاتھوں سے ہی گنوا دیا ہے ۔ اللہ کی مخلوق کی خدمت کا فریضہ ہم سے چھن گیا ہے، یوں عید تو وہی ہے جو سالہاں سال سے آتی رہتی ہے ، وہی کچھ کم کرتے ہیں جو سالہاں سال سے کرتے آرہے ہیں لیکن پہلے جو خوشی نصیب ہوتی تھی وہ اب نہ رہی ،وجہ ہمارے بدلتے روئے ہیں ۔

    گذشتہ روز جب علاقے کی مویشی منڈی جانے کا اتفاق ہوا تو قیمتوں کا سن کر پہلے تو اپنی قربانی ہوتی دکھائی دی ،آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں ، موٹے موٹے اور فربہ جانور ، وہی منظر سامنے نظر آیا جو عام طور سے رمضان میں نظر آتا ہے کہ کھانے پینے کی ہر چیز مہنگی لیکن دوسری طرف خریداروں کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ مفت کی چیز بٹ رہی ہے اور کسی نے اپنی طاقت نہ دکھائی تو محروم رہ جائے گا ، یہی صورتحال مویشی منڈی کی تھی، ایک آدھ جانوروں پر تو ایک قسم کی بولی لگنی شروع ہوگئی تھی ،وجہ ؟وجہ صرف اور اچھا جانور لے جاکر فخر کا اظہار ،نتیجہ یہ ہے کہ قیمتیں پہنچ سے دور ہوتی جاتی ہیں اور پھر ہم رونا روتے رہتے ہیں کہ مہنگائی زیادہ ہوگئی ہے ۔بنیادی طور مہنگائی کی ایک وجہ ہمارا رویہ بھی ہے ۔

    ہمارے دین کی سب سے اہم خاصیت یہ ہے کہ اسے معتدل دین قرار دیا گیا کہ ہر معاملے میں میانہ روی اختیار کریں ، لیکن ہمارے رویے ہر گز میانہ رو نہیں ، ہم دیکھا دیکھی ،مقابلے اور اپنی ناک اونچی رکھنے کے لئے ہر حد کو پار کرتے ہیں ، یہ انداز عبادات میں بھی پسندیدہ نہیں ، یہی وجہ ہے کہ ہم عبادات تو کرتے ہیں لیکن وہ عبادات روح سے خالی ہوتی ہے ۔ ہمیں اپنے ان رویوں پر غور کرنا ہوگا ۔عید قرباں کے موقع پر جہاں جانور کی قربانی کرتے ہیں وہی اپنے نفسانی خواہشات کی قربانی بھی کریں تو اس قربانی سے روح کو سرشاری ملے گی۔

    Twitter | @_SyedAyaz

  • جہیز ایک بوجھ۔۔ تحریر: نورالعین

    جہیز ایک بوجھ۔۔ تحریر: نورالعین

    "بھائی صاحب یہ جہیز کی لسٹ نوٹ کر لیں۔۔”
    یہ ایسے الفاظ تھے جو بوڑھے باپ کی آنکھوں میں آنسو لے آئے اس کے جھکے ہوئے کندھے مزید جھک گئے اس نے ایک نظر لسٹ کی طرف دیکھا اور ایک نظر سے اپنی بدقسمت بیٹی کی طرف دیکھا جس کی رخصتی کو جہیز کے ٹرک کے ساتھ مشروط کر دیا گیا تھا۔۔
    آپ کو کیا لگتا ہے آسان ہوتا ہے اپنی بیٹی کو انگلی پکڑ کے چلانے سے اس کی شادی تک کا سفر۔۔؟
    لیکن باپ اپنی بیٹی کے لئے خود کو بیچنے کے لئے بھی تیار ہو جاتے ہیں۔وہ وہ چیزیں بھی اپنی بیٹیوں کو جہیز میں دیتے ہیں جو خود ان کے گھر میں نہیں ہوتی۔۔
    جب میں چھوٹی تھی تب بھی محلے یا خاندان میں شادی کا نام سنتی تھی تو ساتھ لازمی یہ بات بھی سنائی دیتی تھی کہ فلاں کی بہو اتنا جہیز لائی۔
    تب بھی میں سوچتی تھی کہ باپ ساری عمر کی کمائی اپنی اولاد پر لگانے کے بعد بھی اپنے فرض سے فارغ نہیں ہو پاتا وہ نا صرف اپنی بیٹی کو جہیز کے بھرے ٹرک دیتا ہے بلکہ شادی کے بعد بھی سسرالیوں کے مطالبات کم نہیں ہوتے، پھر اپنی بیٹی کا گھر بچانے کے لئے اس بوڑھے باپ کو ان مطالبات کی لسٹ بھی پوری کرنی پڑتی ہے۔۔
    کیسا ظلم ہے نا یہ۔۔

    ہم ہرگز کسی کی زندگی میں ذیل اندازی نہیں کر سکتے لیکن ہم اپنی زندگیوں میں اس جہیز جیسی لعنت کو ضرور ختم کر سکتے ہیں۔۔
    پہلے ہمیں اپنے والدین کا ذہن بنانا چاہیے کہ جہیز ایک لعنت ہے۔۔
    کیونکہ جب تک مرد اپنی ذمہ داری کو نہیں سنبھالے گا تب تک کسی نا کسی وجہ سے ان کے گھر کا سکون برباد ہوتا رہے گا، گھر اجڑتے رہیں اور یہ لعنتیں ایسے ہی چلتی رہیں گی۔۔۔
    لیکن اس میں ایک اور پہلو بھی سامنے ہے کہ بعض اوقات لڑکے والے ڈیمانڈنگ نہیں ہوتے لیکن لڑکیاں اپنے والدین پر خود بوجھ ڈالتی ہیں۔تین لاکھ کا لہنگا، لاکھ کا میک اپ، برینڈڈ کپڑے، جیولری۔ تو میری گزارش ہے کہ لڑکیوں کو بھی اپنی خواہشات پر کنٹرول رکھنا چاہیے۔۔
    لڑکیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے والدین کی چادر کے مطابق پیر پھیلائیں۔
    میں نے بہت سے ایسے بھی لوگ دیکھیں ہیں جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن صرف اور صرف دکھاوے کی خاطر اپنی جمع پونجی شادیوں میں پانی کی طرح بہا دیتے ہیں۔۔
    تو میری تحریر کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ناں تو لڑکے اور اس کے گھر والے بیٹی کے باپ پر بوجھ ڈالیں ، اور ناں ہی بچیاں اپنے باپ کے بوڑھے کاندھوں پر اپنی بے جا خواہشات کا بوجھ ڈالیں۔۔

  • سی پیک کے بعد ایک اورانقلابی پروجیکٹ . تحریر: احمد حسن

    سی پیک کے بعد ایک اورانقلابی پروجیکٹ . تحریر: احمد حسن

    سی یپک کے بعد خطے کےلیے ایک اور تاریخی پروجیکٹ آنے والا ہے جس کو آج عمران خان نے خطے کےلیے انقلابی پروجیکٹ کا نام دیا۔

    یہ پروجیکٹ پاکستان افغانستان ازبکستان ریلوے منصوبہ ہے ۔ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان ریلوے کے درمیان اس منصوبے کیلئے573 کلو میٹر تک ریلوے ٹریک بچھایا جائے گا اور اس ریلوے منصوبے پر تقریبا 4 ارب 80 کروڑ ڈالرز لاگت آئے گی۔ یہ منصوبہ پاکستان کو براہ راست وسطی ایشیائی ریاستوں سے جوڑ دے گا جس کے بعد تیز ترین تجارت ہو گی ۔ تاجکستان اور ترکمانستان سمیت دیگر وسطی ایشیائی ممالک بھی مجوزہ ریلوے منصوبے میں شامل ہو سکیں گے۔

    اس منصوبے سے خطے میں پاکستان کا اثر ورسوخ بڑھے گا۔ افغانستان اس کا مرکزی کردار ہے لہذا پاکستان اور ازبکستان مل کر لائحہ عمل ترتیب دے رہے ہیں۔ اس منصوبے کے بعد افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں پاکستان ہر قسم کی اجارہ داری کو کاؤنٹر کر پائے گا۔ یہ سفارتی ، سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے ایک انقلابی پروجیکٹ ہے جس سے پاکستان کی ترقی کی رفتار تیز تر ہو جائے گی۔

    افغانستان اور ازبکستان کے درمیان 144 کلو میٹر کی سرحد ہے۔ خود ازبکستان کے اہم وسطی ایشیائی ریاستوں کرغیزستان ، تاجکستان اور ترکمانستان سے بارڈر لگتے ہیں۔ ازبکستان سے باقی وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ساتھ قزاقستان تک بھی تیز ترین رسائی ہو گی جو ان قریبی وسطی ایشیائی ریاستوں میں سب سے بڑی ریاست ہے اور اس سے روس تک رسائی ہو گی۔ قازقستان میں اس قدر قدرتی وسائل ہیں کہ ہر ملک اس سے تجارت کا خواہاں ہے ۔ آئل کے حساب سے دیکھا جائے تو قازقستان دنیا کا سب سے بڑا آئل ایکسپورٹر بن سکتا ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔

    یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کےلیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سی پیک کے بعد اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد ہم واضح کہہ سکیں گے کہ پاکستان خطے میں اپنی معاشی اجارہ داری قائم کر چکا ہے۔ دنیا کی پانچویں بڑی مارکیٹ یعنی پاکستان ایسے منصوبوں کی بدولت جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیائی ریاستوں کےلیے خصوصاً اور پورے ایشیا کےلیے مرکزی حثیت اختیار کر جائے گا ۔ معاشی برتری کے بعد پاکستان خارجہ سطح پہ بھی مضبوط ہو گا۔

    عمران خان نے حکومت میں آتے ہی اس اہم منصوبے کےلیے رابطے شروع کیے تھے اور پھر 11 دسمبر 2018 کو ازبکستان ، روس ، قازقستان ، افغانستان اور پاکستان کے مابین ، ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام اور مزار شریف -کابل – پشاور ریلوے کی تعمیر کے لئے مالیاتی کنسورشیم کے لئے ایک پروٹوکول پر دستخط کیے تھے ۔ اس کے بعد فزیبلٹی سٹڈی جاری رہی تاہم کسٹم،امیگریشن اور بارڈر اتھارٹیز کے معاملات میں کچھ مشکلات رہیں ۔ کرونا وائرس اور افغانستان کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر منصوبہ تاخیر کا شکار رہا ہے ۔ ان شاءاللہ اب اس پہ باقاعدہ کام شروع ہو جائے گا ۔ اس سال فروری میں اہم معاملات طے پا گئے ہیں۔ ان شاءاللہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان نہ صرف اپنے لیے بلکہ خطے کےلیے بھی ترقی کا مرکز بنے گا۔

    @IAhmadPatriot

  • پاکستان اورافغان امن . تحریر: فرزانہ جنت

    پاکستان اورافغان امن . تحریر: فرزانہ جنت

    افغانستان اورپاکستان خطے میں انتہائی اہمیت کے حامل دو اسلامی برادر ملک ہیں. پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اسلام ہمیں پر امن طریقے سے زندگی گزارنے کا درس دیتا یے. بحیثیت مسلمان یہ ہم پاکستانیوں کا مذہبی فریضہ ہے کہ خطے میں امن و امن کو برقرار رکھیں. اسی لئے پاکستان اپنے ملک اور باقی تمام اسلامی و غیر اسلامی ممالک میں امن چاہتا ہے.

    پاکستان ہمیشہ سے افغانستان کا خیر خواہ.رہا ہے. مستحکم اور خوشحال افغانستان اپنے اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے بھی مفاد میں یے. کیوں کہ افغانستان میں امن کا مطلب ہے پاکستان میں امن__ خطے میں امن و استحکام افغانستان میں دیرپا امن سے منسلک ہے
    ہمارے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ ایک پرامن افغانستان کا مطلب بالعموم ایک پرامن خطہ اور بالخصوص ایک پرامن پاکستان ہے ، اور کہا : "ہم ہمیشہ ‘افغان امن عمل’ کی حمایت کریں گے۔”

    پوری تاریخ میں ، پاکستان واحد طاقت رہی ہے جو واقعتا یہ سمجھتی ہے کہ افغانستان میں استحکام اور قیام امن ازحد ضروری ہے. پاکستان سے زیادہ کسی اور ملک نے افغانستان میں امن کی خواہش نہیں کی۔ پاکستان نے افغان امن عمل کی لئے لازوال قربانیاں دی ہیں. ہزاروں قیمتی انسانی جانوں کے ساتھ کھربوں روپے مالیت کا معاشی بوجھ برداشت کیا. معاشی و اقتصادی پابندیاں اس کے علاوہ ہیں. چالیس سال سے زائد عرصہ سے لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں قیام پذیر ہیں جن کی وجہ سے ملک کو منشیات، ناجائز اسلحے کی بہتات اور امن وامان کے حوالے سے سنگین مسائل نے لپیٹ میں لیے رکھا. ان تمام نہ مساعد حالات کو برداشت کیا گیا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ افغان امن کے بغیر خطے کی سلامتی اورپاکستان کے استحکام کوممکن نہیں بنایا جا سکتا۔ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لئے ٹھوس کردار ادا کیا اور افغان طالبان اور عالمی برادری کے درمیان کامیاب مذاکرات کی راہ ہموار کی۔ پاکستان کے اندرونی حالات چاہے پیچیدہ ہوں لیکن پاکستان کبھی دوسرے ملک کا برا نہیں سوچ سکتا ہے. یہ پاکستان کی ہی مخلصانہ کوششوں کا ثمر ہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان تاریخ ساز امن معاہدہ طے پایا.

    اس سب کے باوجود پاکستان پر الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ پاکستان امن کی راہ میں رکاوٹ ہے اور دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے. لیکن یہ صرف بےبنیاد الزامات ہیں . جن کی حقیقت کچھ بھی نہیں. حقیقت میں ، پاکستان نے افغانستان میں صرف اسٹریٹجک استحکام اور امن کی کوشش کی ہے۔ پاکستان پورے خطے میں استحکام چاہتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے ان شاء الله. ہمیشہ انکی مدد کرے گا

    @_J786

  • اردو زبان کا زوال . تحریر : طلحہ

    اردو زبان کا زوال . تحریر : طلحہ

    أردو زبان کا زوال کی جانب بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث ہماری روایات، معاشرتی اقدار، اخلاقیات، طور طریقے حتیٰ کہ چال چلن سب کچھ تبدیل گا جن ہوچکا، گویا یوں سمجھئے ہم نے غیر لوگوں کی زبانوں کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہم جس معاشرے کا حصہ بنتے جارہے یا بن چکے ہیں قوی امکان اورگہری أمید وابستہ کی جاسکتی ہے کہ ہمارا اردو زبان سے مکمل تعلق ختم ہو جائے گا، یا پھرہم اردو زبان کو فقط اپنی قومی زبان ہی کہہ سکیں گے اس بڑھ کر کچھ نہیں غیر قانونی اور غیر پسندیدہ زبانیں جس قدر ہمارے دماغ، ہمارے جسم میں پیوست ہوتی جارہی ہیں جس طرح ہمارے معاشرے کا لازمی جزو بنتی جارہی ہیں ہم بجائے ترقی کریں ہم دن بدن نیچے جارہے ہیں.

    کیونکہ جو قوم اپنی قومی زبان کو اپنے گھروں، اپنے معاشرتی اقدار و روایات، اپنی تعلیم، اپنے طور طریقے میں رائج نہیں کرسکتی وہ قوم مشکل ہی کیا کبھی بھی ترقی کا ہلکا سا مزہ بھی نہیں چکھ سکتی، ہماری قومی زبان اردو کی تباہی کے زمے دارانگریزوں کی نحوست تو ہے ہی ہم بھی قومی زبان کی تباہی اورپستی کے برابرکے قصور وارہیں أردو کی تنزلی کی صورتحال کا آپ اس ایک بات سے لگا لیں حال ہی میں گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران احمد خان نیازی نے ایک مراسلہ جاری کیا کہ آئندہ جو بھی قومی یا سرکاری تقریبات منعقد ہوں گی یا کوئی بھی سرکاری سیمنار منعقد کیا جائے گا اسکو أردو زبان میں رائج کیا جائے گا دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی مراسلے کو انگلش زبان میں شائع کیا گیا اس قدر اردو زبان کی پَستی کا اندازہ شائید ہی کبھی نہ ہو مطلب ہم مکمل بے حِس اور لاچار ہی یہاں پراس امرکا ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے.

    ہم انگلش کے نام پراس قدرغلام ہوچکے ہیں کہ انگریزی ہمارے معاشرے کا لازمی جزو بنتی جارہا ہے، غیر محسوس طریقے سے اورجس انداز سے أردو کا زوال شروع ہوا وہ اب تک جاری ہے نا جانے کب رکے، ہمارا تعلیمی لیول میں انگریزی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے پہلے پڑھائی کرنے والے کو طالب علم کہتے تھے اب سٹوڈنٹس بن گئے ہیں اردو کی بے بسی اور تنزلی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ طالب علم سے لے کر سٹوڈنٹس تک آتے آتے ہم اپنی قومی زبان کو مکمل بھول چکے ہیں.

    میرا وزیراعظم عمران احمد خان نیازی سے مطالبہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام سے لے کر ریاستی نظام اورمعمالات میں اردو زبان کو فوری رائج کریں تاکہ قوم اپنی اردو زبان کا ہر موقع پر استعمال کرتے ہوئے عظیم قوم بن سکے۔

    @Talha0fficial1

  • بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی کرنا . تحریر: شمس الدین

    بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی کرنا . تحریر: شمس الدین

    سگریٹ نوشی کرنا صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے. کچھ لوگ شروع شروع میں سگریٹ شوق کی خاطر یہ کسی پارٹی وغیرہ میں دھواں اڑانے کی خاطر پیتے ہیں. پہر آہستہ آہستہ ان لوگوں کو سگریٹ نوشی کی لت لگ جاتی ہے. ان کا شوق مجبوری بن جاتی ہے. پہر سگریٹ سے جان چھڑانہ انتہائی مشکل ہوجاتی ہے.

    سگریٹ کا نشہ بہت عام ہوچکا ہے سگریٹ بہت عام ہوچکا ہے ہر جگہ ہر شہر میں باآسانی مل جاتا ہے. جو لوگ سگریٹ کے عادی ہیں سگریٹ چھوڑنا ان کے لیے مشکل ہے لہٰذا ان لوگوں سے گذارش ہے کبھی بھی اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ مت پیئں. اس سے آپ کا بچہ بھی سگریٹ کی لت میں آجائیگا. جب آپ اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ پیئں گے تو وہ بچے بھی سگریٹ کے عادی بن جائیں گے. بچے تو بچے ہوتے ہیں ان کو پتا نہیں ہوتا کیا چیز درست ہے کیا غلط ہے کون سی چیز صحت کے لیے اچھی ہے کون سی متاثرکن.

    آپ اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ پیئں گے تو لازمی ہے اس کا اثر آپ کے بچوں پر پڑیگا. ظاہری بات ہے جب آپ کا بچہ آپ کو سگریٹ پیتے دیکھے گا تو کل آپ کا بچہ بھی سگریٹ پینے لگے گا. ایسا ہوتا ہے اولاد بھی اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتی ہے. والدین کو خاص کر باپ کو چاہیے کبھی بھی اپنی اولاد کے سامنے سگریٹ مت پیئے. اس طرح آپ کی نوجوان اولاد بری عادت میں مبتلا ہوسکتی ہے.

    تمام والدین سے گذارش ہے اپنی اولاد کے سامنے کبھی بھی سگریٹ نوشی مت کریں. آج نہیں تو کل آپ کا بچہ بھی سگریٹ کی بری عادت میں مبتلا ہوسکتا ہے. پہر ایسا نہ ہو آپ کا بچہ سگریٹ کی بری عادت پر چل پڑے اور جب آپ اسے منع کریں تو وہ آپ کا کہنا نہ مانے! ایسا ہوتا ہے جوان اولاد جب باپ کے سامنے کھڑی ہوتی ہے تو باپ کے لیے بھی مشکل ہوجاتی ہے کے اپنی اولاد کو کیسے درست راہ پر لیکر آئیں.

    اکثر دیکھا ہے جب باپ کسی نشے کا عادی ہوتا ہے اور وہ اپنے بچوں کے سامنے نشہ کرتا ہے تو اس کا اثر اس کے بچوں پر پڑتا ہے. پہر آہستہ آہستہ اس کے بچے بھی اسی نشے کی عادی بن جاتے ہیں. والدین کبھی نہیں چاہیں گے کے اس کی اولاد نشہ جیسی بری عادت میں مبتلا ہوجائے. والدین تو چاہتے ہیں اس کی اولاد ایسے برے کاموں سے دور رہیں. تو اس لیے یہ والدین کی ذمہ داری ہے کے وہ اپنی اولاد کو صحیح راستہ دکھائیں یا غلط یہ سب ان تمام والدین پر فرض ہوتا ہے.

    ہم امید کرتے ہیں وہ تمام والدین جو سگریٹ کی بری عادت میں مبتلا ہوچکے ہیں. وہ کبھی بھی اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ نہیں پیئں گے. میں ان تمام والدین کو ہاتھ جوڑ عرض کر رہا ہوں اپنا نہ صحیح اپنی اولاد کا خیال کریں اپنی اولاد کو بری عادتوں سے بچائیں. سب پہلے تو آپ خود اس بری عادت سے جان چھڑوائیں اگر آپ بہت دور نکل چکے ہیں آپ سے یہ بری عادت نہیں چھوٹ رہی تو کم از کم اپنی اولاد کو اس بری عادت سے دور رکھیں. اپنے بچوں کو بری عادتوں سے محفوظ رکھیں.

    @shamsp6

  • عید قربان اور انسان .تحریر : شانزے علی

    عید قربان اور انسان .تحریر : شانزے علی

    عید کا تہوار قریب تر ھے،ہر طرف گہما گہمی کا عالم ھے،بچے بوڑھے اور جوان سر گرم نظر آ رھے ھیں۔گائے ، بیل،بکرے،بھیڑ ،اونٹ جگہ جگہ بندھے ھوئے ھیں۔بچوں کا شور ،بڑوں کی آوازیں اس پر جانوروں کی دوڑ اور نوجوانوں کی شرطیں۔
    زبردستی چارہ کھلانے اور پانی پلانے کاجنون۔
    اک عجب سا منظر ھے شاید جانور بھی سوچ رہا ھے جانور کون ھے؟؟
    میرے گھر کی تیسری منزل سے کئی روز سے میں یہ مناظر دیکھتی ھوں اونٹوں کی نکیل ان کی ناک سے جڑی ھوتی ھے۔بچے اس رسی کو بے دردی سے کھینچتے ھوئے اونٹ کو زبردستی بھاگنے پر مجبور کرتے ھیں۔اور جب وہ رکتا نہیں ھے تو نکیل کو جھٹکا دے کر روکنے کی کوشش کرتے ھیں ۔
    کیا وہ جاندار نہیں؟کیا اسے درد نہیں ھوتا؟کیا قربانی سے پہلے وہ آپکا کھلونا ھے؟؟
    دوسری جانب گلی میں ایک بیل ھے جو دو بار رسہ تڑوا کر بھاگ چکاھے اور کل اس کی گردن پر رسہ کھینچنے کی وجہ سے زخم ھو گیا ھے۔
    کسی نے وجہ جانی یا سوچا؟
    جب جانور کے کھیتوں یا کسی فارم ہاؤس یا ڈیری فارم سے لایا جاتا ھے نازوں سے رکھا جاتا ھے۔وقت پر کھلایا پلایا اور نہلایا جاتا ھے۔
    یہاں گرمی ،غلاظتوں کا ڈھیر اس پر شور اسے تکلیف دیتے ھیں۔ پھر وہ بھاگتا ھے اور انسان عید کے گوشت کے پیچھے بھاگتا ھے۔

    کیا قربانی گوشت کا نام ھے؟
    وہ گوشت جسے بس ذبح کرو،فریز کرو،مہینوں جمع رکھو،رشتے داروں میں شاپر بھر بھر بانٹو جو خود بھی قربانی کرتے ھیں؟؟
    باربی کیو بناؤ؟؟پارٹیاں اڑاؤ؟
    ذرا سوچئے!!کیا آپ کو عید قربان کا معنی و مفہوم معلوم ھے؟؟ اسی کی مخلوق کو درد اور تکلیف میں ڈال کر اپنا اور اپنے بچوں کا نفس خوش کر کے کیا قربان کر رھے ھیں آپ گوشت یا اپنی پیار سے پالی ھوئی چیز راہ خدا میں رضائے خدا کے لئے ؟

  • کرکٹ کا عالمی چیمپئن 1992 . تحریر: انس حفیظ

    کرکٹ کا عالمی چیمپئن 1992 . تحریر: انس حفیظ

    کرکٹ کا عالمی چیمپئن 1992

    ایک تاریخ ساز لمحہ جسے دوہرانے کا خواب ہم ہر چار سال بعد دیکھتے ہیں مگر نامراد لوٹتے ہیں۔ 1992 کا عالمی کپ جیتنا بے شک پاکستانی تاریخ کے چند عظیم ترین اور قابل فخر کارناموں میں سے ایک ہے۔

    بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کا تکا لگا یہ بالکل غلط بات ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ورلڈکپ سے قبل پاکستانی ٹیم شدید انجری مسائل سے دو چار ہوئی دو ورلڈ کلاس کرکٹرز اور میچ ونرز سعید انور اور وقار یونس انجرڈ ہو کر ورلڈ کپ سے باہر ہو گئے عمران خان کو کندھے کا مسلہ تھا اور وہ باؤلنگ نہیں کروا پا رہا تھا۔ وسیم اکرم فارم میں نہیں تھا سلیم ملک بھی آؤٹ آف فارم تھا جاوید میانداد بھی کافی عرصے بعد ون ڈے ٹیم میں واپس آیا تھا۔

    یہ صورتحال یقینی طور پر انتہائی تشویشناک اور خطرناک تھی مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ تھا کہ پچھلے تین سال میں پاکستانی ٹیم دنیا کی دوسری کامیاب ترین ٹیم چل رہی تھی۔ اس عرصے میں صرف آسٹریلیا کا ریکارڈ پاکستان سے بہتر رہا تھا۔

    تو ایک انتہائی تگڑی اور شاندار مگر ٹوٹی اور بکھری ٹیم کو بس واپس جوڑنا تھا اعتماد دینا تھا اور یہ فریضہ عمران خان نے بخوبی سر انجام دیا۔ اس کے بعد کی تاریخ سب جانتے ہیں

    تحریر: انس حفیظ

  • شاید کہ کسی دل میں اتر جائے میری بات .تحریر۔ ہماعظیم

    شاید کہ کسی دل میں اتر جائے میری بات .تحریر۔ ہماعظیم

    ‏یہ تحریر ہر لڑکی کے لٸیے ہے۔۔کیونکہ اس نے کبھی نہ کبھی ماں بننا ہے۔ اور ایک نسل کی زمہ دار ہے ہر لڑکے کے لٸیے بھی کہ وہ ایک نسل کا محافظ ہوگا
    یہ بات زہن میں رہنی جب بچہ کوکھ میں ہوتا ہے تو بچے کی فطرت بنتی ہے۔۔اور فطرت کبھی نہیں بدلتی۔۔اور فطرت بناتی ہے ماں۔۔
    ماں ہر حرکت بچے میں منتقل ہوتی ہے۔۔ماں کا دیکھنا سننا کوٸی کام کرنا۔۔۔
    سو صرف نو ماہ عورت ‏اللہ کے لٸیے گزارو۔۔روزہ رکھے آنکھوں کا کانوں کا ہاتھوں کا منہ کا۔۔بےشک نیک ہو پاک ہو ۔۔مگر گانے دیکھے گی۔کوٸی فحش ویڈیو۔۔کوٸی فضول ڈرامہ یا فلم۔۔بچے پر کہیں نہ کہیں اثر پڑے گا۔۔ماں جھوٹ بولے گی۔۔غیبت کرے گی۔۔کوٸی چیز بنا پوچھے لے کر استعمال کر لے گی بچےپر اثر آۓ گا۔۔ماں کسی غلط ‏ارادے سے چل کے جاۓ گی۔۔پھر بعد میں سوچے گی میرا بچہ غلط رستے پر کیسے نکل گیا۔۔

    ایک ماں کا واقعہ ہے۔۔وہ ایک بزرگ کے اس پہنچی اور کہا۔۔میرے بچے نے آج چوری کی۔۔جب کہ میں نے اسکی تربیت ایسی نہیں کی۔۔۔
    بزرگ نے کہا تم یاد کرو تم نے حمل کے دوران کچھ ایسا کام کیا ہوگا جو تمہیں نہیں ‏کرنا چاہیٸے تھا۔۔وہ عورت سوچنے لگی۔پھر بولی ہاں میرے پڑوس میں ایک پھلدار درخت ہے۔۔حمل کے دوران ایک آنگن میں بیٹھی تھی کہ پھل کی کچھ ڈالیاں لٹک کر میرے گھر آرہیں تھی۔۔میرے دل نے چاہا میں کھا لوں۔۔اور بنا پوچھے میں نے اس میں سے کچھ کھا لیا۔۔۔
    بزرگ بولے بس تمہیں جب شیطان نے بہکا دیا

    اسی طرح جب شیخ عبدaلقادر جیلانی اس دنیا میں تشریف لاۓ تو انہیں چودہ سپارے مادر شکم سےحفظ تھے۔۔معلوم پڑاکہ والدہ حالت حمل میں قرآن کی تلاوت کیا کرتی تھیں۔۔
    ‏اب آپ اندازہ لگا لیں۔۔۔کتنا اثر ایک ماں کا اسکی اولاد پر۔۔ماں کو اگر کوٸی درجہ دیا گیا ہے تو یہی وجہ ہے وہ اپنا دل مارتی ہے۔چاہت ختم کر دیتی ہے اولاد کے لٸیے۔۔احساس میں صرف وہ درد ہوتا ہے جو اولاد کے لٸیے ہوتا ہے۔تو آج بھی خالید بن ولیدؒ۔قاسمؒ اور غزنویؒ پیدا ہو سکتے ہیں۔جو ماں قربانی ‏دے گی اس کے بچے وہ پیدا ہونگے دنیا اس پر قربان جاۓ گی
    فطرت کے بعد بنتی ہے عادت جو ماں کی گود اور ماں تربیت جب تک بچہ اس کی دسترس میں رہتا ہے باہر نہیں نکلتا۔دوست نہیں بناتا۔۔تب تک ماں کی محنت ہے کہ وہ بچے کو کون سے سانچے میں ڈھالتی ہے۔اچھے برے اور غلط صحیح کا کیا معیار اس کےدماغ ‏میں ڈالتی ہے۔اسے معاشرے کے لٸیے سود مند بناتی ہے یا پھر زمانے کے لٸیے ایک مشکل بنا دیتی ہے۔یہ ایک ماں ہاتھ میں ہے

    فطرت کے بعد آتی ہے عادت۔ یہ بھی ماں کا ہنر ہے بچہ جب تک گود میں ہے آپکی دسترس میں ہے۔آپ کی حرکات سکنات اپ کی باتیں ماں کا سمجھانا ماں اس کے سامنے اس کے ساتھ جو روٹین بناٸیں گی۔۔۔اس کے زہن میں نقش ہوتی جاۓ گی اور بڑھاپے تک اس کے ساتھ رہے گی۔
    جب بچہ گود سے نکل جاتا ہے باہر کی ہوا کھاتا ہے تو پھر وہ لوگوں کو دیکھتا سمجھتا ہے۔۔پھر امتحان شروع ہوتا ہےماں کی دی فطرت کا بناٸی گٸی عادت کا۔
    وہ پھر زمانے سے لڑنا سیکھتا ہے یہ دونوں چیزیں اس کا بازو اس کی طاقت بنتی ہیں۔وہ اپنا رستہ چنتا ہے صحیح یا غلط۔۔اگر اوپر کی لاٸینز کے مطابق ماں کوشش کر گٸی ہے تو براٸی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
    ماں کے بعد کردار ہے باپ کا کلیدی مضبوط کردار۔
    باپ کے عہدے پر فاٸز مطلب اپنی نسل کا زمہ دار ہونا
    جیسے عورت کا مرتبہ اسے ایسے نہیں ملتا۔۔وہ ماں بنتی بچے کی عادت اور فطرت میں جتنا اسکا ہاتھ ہے اتنا ہی باپ کا ہاتھ ہے۔۔۔
    والد کی کماٸی ۔والد کا رویہ۔اس بچے کے اوپر اثر انداز ہوتا ہے۔
    والد حلال کماٸی اسے ولی بنا دیتی ہے حرام نوالہ اسے معاشرے پر بوجھ بنا دیتا ہے۔ حرام کماٸی معاشرے میں ایک شیطان کا اضافہ کر سکتی ہے
    والد کا رویہ بچے کے لٸیے رول ماڈل ہے۔والد کا
    لہجہ اس کا لہجہ بناتا ہے۔آج باپ جو اپنے گھر والوں کے لٸیے ہے۔۔کل وہ بنے گا ۔
    لہزا ایک باپ ہونے کے ناطے اپنے اوپر ایسے توجہ دی جاۓ جیسے کسی کے آگے پیش ہونا ہے۔ایک باپ کو اپنا اخلاق اور رویہ ‏اپنے اقدار کو ایسے سنوارنا چاہٸیے کہ اس نے اللہ سے پہلے اپنی اولاد کے آگے پیش ہونا ہے۔۔پھر وہ اسے دیکھ کے آگے والوں کے آگے اور اللہ کے پیش ہونے کے قابل بنے گی

    شاید کہ کسی دل میں اتر جائے میری بات

    @DimpleGirl_PTi

  • اچھا ہم سفر روح کا ساتھی .تحریر: فرزانہ شریف

    اچھا ہم سفر روح کا ساتھی .تحریر: فرزانہ شریف

    کہتے ہیں اچھا ہم سفر قسمت سے ملتا ہےجب دو لوگوں کا نکاح ہوتا ہے اس میں ایک قسم کا عہد ہوتا ہے کہ ہر دکھ درد میں ساتھ نبھانا ہے کسی ایک پر کوئی تکلیف یاآزمائش آنے پر فصلی بٹیرے بن کر اڑ نہیں جانا بلکہ آخری سانس تک ساتھ نبھانا ہے یہ ہی خاندانی بیٹیوں کی پہچان ہوتی ہے
    اللہ سے دعا کرتی رہیں۔ وہ آپکو جسم کا ہی نہیں، روح کا ساتھی عطا کرے۔ جو آپکی عزت کرنے والا ہو، قدر کرے، محبت کرے۔ آپ دونوں ایک دوسرے کے حق میں بہترین، نفیس، آرام دہ لباس ثابت ہوں۔ مودت اور رحمت والا رشتہ ہو۔ ایک دوسرے کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون بنیں۔
    اللہ سے مانگیں ہر وہ چیز جو آپ اپنے شوہر میں دیکھنا چاہتی ہیں۔ وہ عرش کے خزانوں کا مالک ہے۔ سب کو سب کچھ عطا کر دینے پر بھی اس کے پاس کمی نہیں آتی وہ آپکے گمان کے مطابق آپکو اپنے فضل سے نواز دے تو شوہر کے دل کا سکون بننے کے لیے آپ ہر ممکن ہر حال میں ساتھ نبھانے کا دل میں پختہ ارادہ کرلیں غم و خوشی میں شوہر کی خوشی مقدم رکھیں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کی اس کے سر پر 24 گھنٹے سوار ہوجائیں تھوڑی سپیس بھی دیں کہ وہ اپنی مرضی سے سانس بھی لے سکیں اسی طرح شوہر کو بھی اپنی بیوی کو اپنی محبت کا مان دینا چاہئیے
    ممکن ہے کہ آپ شادی سے پہلے کسی اور کو پسند کرتے ہوں پہلی بات تو یہ ہے آپ نے اپنی پسند آخری حد تک حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے تھی اگر آپ ناکام ہوگے ہیں تواپنے دل ودماغ کو اس بات کے لیے راضی کرلیں کہ اب یہی عورت آپ کی محبتوں کی اصل حقدار ہے جو اپنے پیارے چھوڑ کر آپ کے پہلو میں موجود ہے۔ اس کے ساتھ شرارت کریں،اپنی محبت سے اسے تحفظ کا احساس دلائیں

    بالکل جیسے آپ کو صاف ستھری بیوی اچھی لگتی ہے، بیوی کا بھی حق ہے کہ آپ hygiene کا خیال رکھیں۔ اس کے پاس صاف ستھرے ہو کر جائیے۔ اپنے لمحات خوبصورت بنائیے۔ Make her feel loved, not used.
    آپ کے ساس سسر نے کئی سال پال پوس کر اپنی اولاد آپ کے حوالے کی ہے۔ ان کا احترام کریں۔ بیوی بھی آپ کے گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے رہے آپ اپنے بہین بھائیوں پر خرچ کریں تو منہ بسور کر نہ بیٹھ جائے بلکہ ہر معاملے میں آپ کی طاقت بنے نہ کہ کمزوری ہمیشہ اپنے شوہر کی وفادار بن کر رہیں اور وہ اپ کی وفادار رہیں۔
    اپنے شوہر کے لیے خود کو سنوار کر رکھیں اپنی پرسنیلٹی میں کانفیڈینس کے لئے اپنا مخصوص سٹائل۔بنائیں
    جیسےاپنے خاص انداز سے دوپٹہ اوڑھنا۔
    جو accessories پسند ہیں, انہیں سلیقے سے استعمال کریں جیسے ٹراؤزر کیساتھ کرتے پہننا؟یا شرٹ کے رنگوں کے حساب سے ٹراؤزر ۔اہم چیز یہ نوٹ رکھنی ہے آپ پر سوٹ کیا چیز کررہی ہے
    میک اپ کرنا یا نہ کرنا جس سٹائل میں بھی آپ خود کو کمفرٹیبل سمجھتے ہیں، اسے اپنا سگنیچر سٹائل بنالیں اور پورے کانفیڈینس کےساتھ اپنے ہم سفر کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلیں
    میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں
    اللہ سبحان و تعالی آپ کے رشتوں میں برکتیں دیں
    اللہ نبی ﷺ اور خدیجہؓ والا ساتھ نصیب کرے۔ آمین