Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سوشل میڈیا کے مضر اثرات. تحریر: فروا نذیر

    سوشل میڈیا کے مضر اثرات. تحریر: فروا نذیر

    سوشل میڈیا کا مطلب ہے کہ.جو انسان اہنی آواز کو پہنچانا چاہتا ہو پبلک تک وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہے..

    لیکن جیسے جیسے دنیاکے لوگ ترقی کر رہے ہیں اسی طرح ہر چیز میں مثبت اور منفی اثرات آگئے ہیں

    جہاں پہلے صرف بڑے لوگ موبائل اور سوشل.میڈیا کا استعمال.کرتے تھے آج بچے بچے کے پاس یہ چیزیں ہیں اور انکو منع نہیں کیا جا رہا…
    یہ کیسا معاشرہ آگیا یے…؟

    یہ سب معاشرے میں انتشار پیدا کررہا ہے
    لوگ ناسمجھ ہو رہے ہیں زندگی کو مشکل بنایا جارہا ہے دو قدم پاس لوگوں کی خبر نہیں ہوتی.. کیا فائدہ پغر اس طرح کی ٹیکنالوجی کا اس طرح کی ترقی کا جہاں معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہی نہ ہو..

    – سوشل میڈیا کس کس لیول کے انسان کے اوپر مضر اثرات مرتب کر رہا ہے
    جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں

    • بچوں پر
    • یوتھ جنریشن پر
    • سٹوڈنٹس پر
    •نوجوان خواتین پر
    •شادی شدہ خواتین پر
    •بڑی عمر کے لوگوں پر

    – سوشل میڈیا بچوں پر بری طرح اثر کرتا ہے سب سے پہلے تو والدین کا موبائل دینا سب سے بڑی غلطی ہے جو ہر بچے کو پڑھائی سے غلط چیزوں کی طرف لے جاتی ہے جس کا نتیجہ بعد میں پتا چلتا ہے جب وہ نافرمان ہوتے ہیں بات نہیں مانتے وغیرہ

    – سوشل میڈیا کے جہاں فائدے ہیں وہی نقصانات ہیں جہاں یوتھ کیلیے سوشل.میڈیا فائدہ مند ہے کہ آواز اٹھا سکے وہی بہت سے نقصان ہیں
    یوتھ ابھی جوان ہو رہی ہوتی ہے کوئی تھوڑے سے مسئلے پر یہ انا پر لے جاتے ہیں جس سے بہت سے اختلافات انتشار آتے ہیں جو کہ ایک انسان کیلیے مؤثر نہیں ہیں
    اور اس سے یہ نقصان کہ بہت سی خقد کشی کے کیسز آئے کسی کو کوئی سزا ہوئی وغیرہ

    اب آتے ہیں سٹوڈنٹس پر.. سٹوڈنٹس کیلیے تو سوشل میڈیا بالکل بھی اچھی نہیں ہے جب کوئی ایک نوجوان غلط کام میں جائے تو باقی سب دیکھا دیکھی وہی لگ جاتے ہیں
    تو پڑھائی سے دور ہو جاتے جو سب سے بڑا نقصان ہے..
    سٹوڈنٹس کوپڑھنا چاہیے لیکن وہ دوسرے کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں.سٹڈی کا ریٹ کم ہوتا جا رہا ہے جس کی سب سےبڑی وجہ سوشل.میڈیا ہے

    ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی آمد سے پہلے عورت بے نام تھی معاشرے میں عزت نہیں دی جاتی تھی لیکن حضرت محمد(صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم) کے آتے ہی عورت کو بلند مقام دیا گیا..
    جیسے کہ نبی پاک نے فرمایا:
    لوگوں کی نسل بیٹے سے چلتی ہے میری نسل عورت سے یعنی حضرت فاطمہ(رضی اللہ تعالٰہ عنہ) سے چلے گی

    عورت کو بلند مرتبہ ملا..
    لیکن معاشرے بدلنے کے ساتھ ساتھ عورت میں جو تبدیلیاں آتی گئی سوشل میڈیا کو صہحیح استعمال.کی جگہ غلط استعمال کرنے لگی جسکا نقصان بھی عورت ہی اٹھاتی ہے وہ گھر والوں سے دور ہوتی اور اردگرد سے بے خبر رہتی یے..

    اور ایک شادی شدہ خواتین اگر سوشل میڈیا کو غلط استعمال.کرے تو اس کے اثرات اس کی اہنی فیملی پر ہوتے ہیں جس کا الزام وہ دوسروں کو دیتی یے گھر پر توجہ کم دیتی ہے بچے فرمانبردار نہیں ہوتے اور گھر کھنڈر کی طرح بن جاتا ہے اور اسج طرح گھر برباد ہوتے ہیں

    ~ اینڈ پر یہ کہنا چاہوں گی:
    ” سوشل میڈیا کو استعمال کر لیکن ایک حد تک جس طرح ہم کھانا کھاتے ہیں
    ایک حد تک اسی طرح
    سوشل میڈیا کو ایک لمٹ میں رہ کر استعمال کرنا چاہیے تاکہ ہم سب اختلافات سے بچ سکیں اور کام پر توجہ دے سکیں

    > بس ہم سب کو عمل کرنے کی ضرورت ہے
    کیونکہ عمل سے زندگی بنتی یے
    عمل کرنا بے حد ضروری یے
    تو اب لازمی کوشش کریں اس پر عمل کرنے کی.

  • قربانی کی فضیلت و اہمیت.تحریر  چوہدری عطا محمد

    قربانی کی فضیلت و اہمیت.تحریر چوہدری عطا محمد

    تاریخ ِاور مذاہب کے مطالعے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ جتنی قدیم ہے، قربانی کی تاریخ بھی تقریباً اتنی ہی قدیم ہے،

    ہم جو ہر عیدقرباں پر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں، یہ حضرت ابراہیم و اسمٰعیل علیہما السلام کی قربانی کی یاد گار ہے۔ اسی قربانی کی یادگار میں اہلِ ایمان ہر سال جانوروں کے قربانی کرتے ہیں

    قربانی کی فضیلت و اہمیت

    حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ رسول اکر م ﷺ نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور ہر سال پابندی سے قربانی فرماتے تھے۔(مشکوٰۃ)

    حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے
    حضور اقدسﷺ نے فرمایا: بقرعید کے دن قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر کوئی عمل اللہ کے نزدیک محبوب نہیں ہے اور بلاشبہ قربانی کرنے ولا قیامت کے دن اپنی قربانی کے سینگوں، بالوں اور کھروں کو لے کر آئے گا (یعنی یہ حقیر اشیاء بھی اپنے وزن اور تعداد کے اعتبار سے ثواب میں اضافہ ور اضافہ کا سبب بنیں گی اور (یہ بھی) فرمایا کہ بلاشبہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک درجہ قبولیت حاصل کرلیتا ہے ،لہٰذا خوب خوش دلی سے قربانی کرو۔ (مشکوٰۃ)

    حضرت زیدبن ارقمؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسولﷺ یہ قربانیاں کیا ہیں؟آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، صحابہؓ نے عرض کیا، ہمارے لیے اس میں کیا ثواب اور اجر ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا، اگر اون والا جانور ہو (یعنی دنبہ ہو جس کے بال بہت ہوتے ہیں) اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اس کے بھی ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ (مشکوٰۃ)مذکورہ احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا

    عیدالاضحی کے دن قربانی کرنا، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل ہے، پس جو عمل محبوب حقیقی کو محبوب ہو، اسے کس قدر محبت اور اہتمام سے کرنا چاہیے، اس دن قربانی کرنا ہمیں اللہ سے کتنا قریب لے جائے گا اور ہم پر سے کتنی مصیبتیں ٹل جائیں گی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے،
    اگر حالات حاضرہ کا زکر کیا جاۓ یعنی موجودہ دور کی بات کی جاۓ تو اس کے بالکل بر خلاف کہنے والے یہ کہہ رہے ہیں کہ ! قربانی کیا ہے یہ قربانی (معاذ اللہ) خوا مخواہ رکھ دی گی ہے، لاکھوں روپیہ جانوروں کے خون بہانے کی شکل میں لگا دیا جاتا ہے اور بڑے بڑے جانور اونٹ بیل اور بچھڑے گھر کے دروازے کے باہر نمائش کے لئے باندھ دئیے جاتے ہیں یہ عمل معاشی اعتبار سے نقصان دہ ہے، جانوروں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے لہٰذا قربانی کرنے کے بجائے یہ کرنا چاہیے کہ جو لوگ غربت کے ہاتھوں بھوک اور افلاس کی زندگی بسر کر رہے ہیں ہیں، قربانی کے گوشت تقسیم کرنےکے بجائے وہ روپیہ پیسہ غریب کو دیا جائے، تاکہ اس کی ضروریات پوری ہوجائیں۔ یہ پروپیگنڈا اتنی کثرت اور اس۔ طرح کی مثالیں دے کر کیا جاتا ہے کہہ کچھ لوگ اس پر سوچنے اور عمل کرنے کے لئے بھی تیار ہوجاتے ہیں اب عید قربان کے نزدیک لوگ علماء حضرات سے پوچھتے نظر آتے ہیں کہ اگر ہم قربانی نہ کریں اور وہ رقم غریبوں میں تقسیم کردیں تو اس میں کیا حرج ہے؟یہ خودساختہ فلسفہ قرآن و سنت اور اسلامی تعلیمات کے صریح خلاف ہے۔اسلامی شریعت کے مطابق جیسا کہہ اوپر حدیث مبارکہ کا بھی زکر کیا ہے کہہ قربانی کے تین دنوں میں قربانی سے بڑھ کر اللہ کے نزدیک کوئی عمل محبوب اور پسندیدہ نہیں۔

    قربانی سے ہمیں کیا درس ملتا ہے

    قربانی ہمیں صبر وتحمل، برداشت اور ایثار کا سبق دیتی ہے، ہمیں ایک دوسرے سے محبتوں کو بڑھانا چاہیے اور صبرو استقامت کے جذبے کو عام کرنا چاہیے۔ اور اپنے ہمسایوں عزیزو اقارب اور آس پاس رئنے والوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے اور ان کے حقوق کا خیال رکھنے کا درس دیتی ہے ۔

    جو لوگ بھی صاحب استطاعت ہیں وہ اس کا خیال کریں کہ گائے اور اونٹ میں سات حصے جبکہ بکرا، دنبہ وغیرہ ایک حصہ ہے۔

    قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں، ایک اپنا، ایک رشتہ داروں کا اور تیسرا غرباء اور مساکین میں تقسیم کردیں۔اور اس بات کا خوب خیال رکھا جاۓ کہہ زیادہ سے زیادہ گوشت ان گھروں تک پہنچے جن کے گھر سارا سال بہت کم گوشت پکتا ہے یا جو لوگ اپنی غربت اور مفلسی کے ہاتھوں گوشت جیسی نعمت سے اکثر اوقات محروم رئیتے ہیں۔
    قربانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہہ سال کے ایک دن نہیں ہر روز ہمیں اپنی کمائی میں سے اپنی حیثیت کے مطابق کسی مستحق کی کسی نہ کسی ضرورت کو پورا کو پورا کرتے رہنا چائیے۔

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو قربانی کے عمل سے سنت طریقہ سے گزرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • قربانی کے احکام و مسائل.تحریر: قاری محمد صدیق الازھری

    قربانی کے احکام و مسائل.تحریر: قاری محمد صدیق الازھری

    الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على اشرف المرسلين وخاتم النبيين ورحمه الله للعالمين سيدنا محمد وعلى اله وصحبه اجمعين . اما بعد : فان الله تبارك وتعالى امر عباده بعبادته وحده لا شريك له قال الله في كتابه : اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ(۱)فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ(۲)اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠(۳)

    اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی سورة الفجر آیت نمبر ۲ میں ذی الحجہ کی دس راتوں کی قسم کھائی ہے (وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ) جس سے معلوم ہوا کہ ماہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ اسلام میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ حج کا اہم رکن: وقوفِ عرفہ اسی عشرہ میں ادا کیا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم کو حاصل کرنے کا دن ہے۔ غرض رمضان کے بعد ان ایام میں اخروی کامیابی حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ لہٰذا ان میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کریں، اللہ کا ذکر کریں، روزہ رکھیں، قربانی کریں۔ اس ماہ مقدس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو۔ (صحیح بخاری ) اس ماہ مقدس میں مسلمان حج بیت الله ادا کرنے کے ساتھ ساتھ قربانی جیسے عظیم فریضے سے بھی فیضیاب ہوتے ہیں جس کے متعلق الله تعالٰی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَلِکِلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسِکًا لِیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَی مَا رَزَقَہُمْ مِنْ بَہِیْمَةِ الْاَنْعَامِ (سورة الحج ۳۴) ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی؛ تاکہ وہ چوپایوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے۔ ایک اور آیت میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ ” قربانى ابراہیم عليہ السلام اور محمد ﷺ دونوں كى سنت ہے اور اللہ تعالىٰ نے قرآن ميں ان دونوں انبيا كى سنت اپنانے اور اتباع كرنے كى تلقين فرمائى ہے-(آلِ عمران:31) "۔ قربانی کا ثواب بہت بڑا ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اﷲ تعالیٰ کو پسند نہیں، ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے اور قربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اﷲ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ)

    آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’ قربانی کے جانور کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ، ہر ہر بال کے بدلے ایک ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔‘‘

    آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ قربانی تمہارے باپ ( ابراہیمؑ) کی سنت ہے۔ صحابیؓ نے پوچھا: ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ ایک بال کے عوض ایک نیکی ہے۔ ‘‘ اُون کے متعلق فرمایا: ’’ اس کے ایک بال کے عوض بھی ایک نیکی ہے۔‘‘

    شریعت كے وہ چند مسائل جو ہمارى توجہ كسى نہ كسى تاريخى واقعہ كى طرف مبذول كرواتے ہيں ان ميں سے ايک قربانى بھى ہے- ايسے مسائل سے مقصود محض انہيں مقررہ وقت پر كر لينا ہى كافى نہيں ہے بلكہ ان تاريخى واقعات پر گہرى نگاہ ڈالتے ہوئے اس جذبہ عبادت اور قربانى كى ناقابل فراموش حقيقت كو سمجھ كر اپنانے كى كوشش كرنا بھى ضرورى ہے جس كے باعث يہ مسائل ہمارى اسلامى روايات ميں اہم حيثيت اختيار كر گئے ہیں۔ جيسا كہ حاجيوں كے ليے صفا مروہ كى سعى كرنا محض ايک دوڑ نہيں ہے بلكہ يہ اس تاريخى واقعہ كى غماز ہے جس ميں ايک طرف ننھا سا بچہ شدتِ پياس كے باعث زمين پر ايڑياں مارتا نظر آتا ہے اور دوسرى طرف حضرت ہاجِرَ عليها السلام پانى كى تلاش ميں صفا مروہ كى پہاڑيوں كے چكر لگاتى نظر آتى ہيں كہ جنہيں ابراہیم عليہ السلام اللہ تعالىٰ كے حكم پر اپنى تمام تر محبتيں قربان كر كے مكہ كى بے آب وگياہ زمين ميں تنہا چھوڑ گئے تھے۔ قربانى كا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ عيد ِقربان كے دن جانور ذبح كرنا، كچھ گوشت تقسيم كر دينا،كچھ كھا لينا اور پھر خود كو شريعت كے ہر حكم سے آزاد تصور كرنا اور قربانى كے مقصد يا غرض وغايت پر سنجيدگى سے غوروفكر نہ كرنا، كسى طور كافى نہيں ہے بلكہ يہ بھى ضرورى ہے كہ جانور قربان كرنے كے ساتھ ساتھ ابراہیم علیہ السلام كى مثالى اطاعت وفرمانبردارى اور اثر آفريں عقیدت واِردات كو بهى پيش نظر ركها جائے كہ جس كى وجہ سے انہوں نے اللہ تعالى كے حكم پر اپنا كم سن خوبصورت بيٹا بھى قربان كرنے سے دريغ نہ كيا-

    اگرچہ چھرى ذبح نہ كرسكى اور پھر حكم الٰہى كے مطابق مينڈها ذبح كر ديا گيا ليكن وہ اللہ تعالى سے كيسى محبت ہوگى اور اللہ تعالى كے ليے ہر چيز قربان كر دينے كا كيسا جذبہ ہوگا كہ جس كى بدولت وہ اس مشكل ترين عمل سے بھى پیچھے نہ ہٹے، پهر اللہ تعالى نے بهى اس محبت واطاعت كا صلہ يوں ديا كہ اس عمل كو تمام مسلمانوں كے ليے مسنون قرار دے كر قيامت تک كے ليے ابراہیم علیہ السلام كى سنت كو جارى وسارى كر ديا۔ ہم سے بھى اسلام صرف جانوروں كى قربانى نہيں چاہتا بلكہ اس جذبہ اطاعت اور خشيت ِالٰہى كو بھى اُجاگر كرنا چاہتا ہے جس كے ذريعے ہم اپنى ہر چيز بوقت ِضرورت اللہ تعالى كى خاطر قربان كردينے كے ليے تيار ہوجائيں۔ اور يقينا آج اسلام كو جانوروں كى قربانيوں سے كہيں زيادہ ہمارى محبوب ترين اشيا يعنى مال، اولاد اور جان كى قربانيوں كى ضرورت ہے۔ لہٰذا ہميں چاہيے كہ اس عمل كو محض ايک تہوار ورسم سمجهتے ہوئے تفاخر اور رياء ونمود كا ذريعہ ہى نہ بنا ڈاليں كہ جس كے باعث ہميں دنيا ميں تو اسلامى شعائر و روايات اپنانے كا اعزاز مل جائے ليكن ہمارى عقبىٰ تباہ وبرباد ہو كر رہ جائے بلكہ ہميں چاہيے كہ اس عمل كے پيچهے چھپى اُس عظيم قربانى كو مدنظر ركهتے ہوئے اپنے ايمانوں كو اس قابل بنائيں جو ہميں دنياوى لہو ولعب اور مصنوعى عيش ونشاط سے نكال كر اپنى زندگى كا ہر لمحہ اور ہر گوشہ رضاے الٰہى كى خاطر قربان كر دينے كے ليے تيار كر دے۔
    سورۂ کوثر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا کہ جس طرح نماز اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوسکتی اسی طرح قربانی بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوسکتی ۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:’’ آپ کہہ دیجئے! کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔‘‘(سورۂ انعام) ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم نے ارشاد فرمایا : ’’بنی آدم کا کوئی عمل بقر عید کے دن اللہ تعالیٰ کو (قربانی کا) خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ، اور بے شک (قربانی کا) خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہو جاتا ہے ۔ تو تم اپنا دل اس کے ذریعہ سے خوش کیا کرو!۔ (ترمذی و ابن ماجہ)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا : ’’یا رسول اللہؐ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ‘’ اور فرمایا: ’’استطاعت کے باوجود جو شخص قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کا رُخ بھی نہ کرے ! ان تین دنوں میں قربانی سے بڑھ کر کوئی دوسرا نیک عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ نہیں ہے‘‘۔(مسند احمد ، ابن ماجہ، الترغیب والترہیب)ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جس شخص نے دل کی خوشی اور ثواب طلب کرنے کے لئے قربانی کی تو وہ قربانی اس شخص کے واسطے دوزخ کی آگ سے آڑ ہو جائے گی‘‘۔(الترغیب والترہیب)
    قربانی کے متعلق چند احکامات جو احادیث مبارکہ میں قابل ذکر ہیں وہ درج ذیل ہیں:
    ۱-جس شخص کے پاس رہائشی مکان، کھانے پینے کا سامان، استعمال کے کپڑوں، اور روز مرہ استعمال کی دوسری چیزوں کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کا نقد روپیہ ، مالِ تجارت یا دیگر سامان ہو ، اس پر قربانی کرنا واجب ہے۔(فتاویٰ شامی: ۶/۳۱)
    ۳-جس شخص پر صدقۂ فطر واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے۔ (فتاوی عالمگیری: ۵/۲۹۲)
    ۴-اگر کسی شخص نے مرنے سے پہلے قربانی کرنے کی وصیت کی ہو اور اتنا مال چھوڑا ہو کہ اس کے تہائی مال سے قربانی کی جاسکے تو اس کی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری: ۵/ ۲۰۶)
    جس شخص پر صدقۂ فطر واجب ہے اُس پر بقرۂ عید کے دنوں میں قربانی بھی واجب ہے۔(در مختار:۵؍۳۰۴) فقیر اورمسافر پر قربانی واجب نہیں۔(شرح البدایہ: ۴؍۴۴۳)
    قربانی کے لئے بہیمۃ الانعام یعنی اونٹ،گائے، بھیڑ، وبکری کا ہونا شرط ہے۔ قربانی کے جانوروں کے متعلق آپ مزید (سورۃالانعام:آیات:۱۴۲،۱۴۳،۱۴۴) کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح قربانی کے جانوروں کا مسنہ(یعنی دوندا) ہونا شرط ہے۔ مسنہ جانور اس کو کہتے ہیں جس کے اگلے دو (دودھ کے) دانت گرگئے ہوں اور اگر دوندے جانور دستیاب ہوں تو قربانی کیلئے دو دانتیں جانور کا انتخاب لازم ہے۔ ہاں مجبوری کی حالت میں (یعنی مسنہ جانور مارکیٹ میں نہ مل سکے یا اس کی استطاعت نہیں ہے تو) ایک سالہ دنبہ یا مینڈھا ذبح کیا جاسکتا ہے۔لیکن یاد رہے یہ صرف مجبوری کی حالت میں ہے اور اس میں بھی صرف بھیڑ کی جنس کا جزعہ قربانی میں کفایت کریگا، بکری وغیرہ کی جنس کا جزعہ کفایت نہیں کریگا۔(صحیح مسلم)

    قربانی ایک اہم عبادت اور اسلام کا شعار ہے اور یہ وہ عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے۔اسی لیے صحت مند اور بے عیب جانور کی قربانی دینی چاہیے۔اور ان عیوب کو جاننا ہمارے لیے ضروری ہے جن سے قربانی نہیں ہوتی۔
    جس طرح تقویٰ اور خالص رضائے الٰہی قربانی کی قبولیت کی اہم شرط ہے، اسی طرح جانور کا ان عیوب سے پاک ہونا بھی ضروری ہے جسے نبی کریم ﷺ نے قربانی کی قبولیت میں مانع قرار دیا ہے۔

    1) ان عیوب کی تفصیل جن کی وجہ سے قربانی درست نہیں ہوتی درج ذیل ہے:
    سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أربع لا تجوز في الأضاحي:العوراء بين عورها، والمريضة بين مرضها، والعرجاء بين ظلعها، والكسير التي لا تنقى.»
    ‘‘چار قسم کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے:
    1.ایسا کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو ۔
    2.ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو ۔
    3.ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑاپن ظاہر ہو۔
    4.انتہائی کمزور اور لاغر جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔’’
    5. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کی قربانی کرنے سے منع فرمایا جن کے سینگ ٹوٹے اور کان پھٹے ہوئے ہوں۔
    6. جس کا کان نصف یا نصف سے زیادہ کٹا ہوا ہو۔
    7. اندھا اور ٹانگ کٹا جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔

    ان تمام مسائل کا خاص خیال رکھیں اور اپنی عید کی خوشیوں میں غرباء و مساکین کو بھی شامل کریں۔ بارگاہ ایزدی میں دعا ہے کہ خدا تعالیٰ تمام مسلمانوں کو قربانی کی عبادت صحیح اصولوں کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

  • تعلیمی اداروں میں کلرک مافیا کا راج اورکرپشن کا زور . ‏تحریر: محمد دانش

    تعلیمی اداروں میں کلرک مافیا کا راج اورکرپشن کا زور . ‏تحریر: محمد دانش

    ‏کسی بھی تعلیمی ادارے کو چلانے کے لئے اساتذہ کے ‏ساتھ ساتھ کلیکریکل سٹاف کی ضرورت بھی ناگزیر ہے استاذہ کو ادارے میں اپنی سیلری ایشو کروانے کے لئے، اپنی چھٹی کو منظور کروانے کے لئے، اپنے الاوئنسز کو لگوانے کے لئے اور بہت سارے کاموں کے لئے کلیریکل سٹاف کی ضرورت پڑتی ہے. ‏لیکن اب تک جتنا بھی مشاہدہ کیا گیا ہے یہ ہی دیکھا گیا ہے کہ کلریکل سسٹم اتنا مضبوطی سے کرپشن میں اپنی جڑیں پھیلا چکا ہے کہ کوئی بھی ان کے خلاف  کچھ نہیں کرسکتا ہے.

    جب کوئی استاد اپنی اعلی ڈکری اور ٹیسٹ انٹرویو پاس کرنے کے بعد اس ادارے میں خوشی خوشی سلیکٹ ہوکرآتا ہے تو اس کی خوشی اس وقت بھاپ بن کراڑجاتی ہے جب اسے اپنے چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے کلرک حضرات کی منت کرنی پڑتی ہیں اورزرا سا معمولی سا کام بھی کروانا ہو تو جب تک آپ خرچہ پانی جو کہ رشوت کا ایک متبادل نام ہے نہیں دیتا اس کا کام نہیں ہوسکتا ہے.

    وہ انسان جو ساری زندگی اس رشوت سسٹم سے دوررہا ہو اپنا ہرکام ایمانداری سے کرتا ہو کبھی رشوت کانام بھی نہ لیتا ہو اس کو بھی اس ادارے کو جوائن کرنے کے بعد اپنے جائز کاموں کروانے کے لئےکلرکوں کو پیسے دینے پڑتے ہیں اور ایسا  بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی ایماندار کلرک ادارے میں موجود ہو لیکن  وہ بھی آپکا کام چاہ کر بھی بنا پیسے دیئے نہیں کرواسکتا کیونکہ یہ لوگ ایک دوسرے سے اتنے انٹرلنکڈ ہوتے ہیں کہ آپ کا کام نہیں ہونے دیتےاگر آپ پیسے نہیں دیتے توجان بوجھ کرآپکی فائل یا آپکا بل ادھرادھرکردیتے ہیں یا آپکو مختلف جگہوں کے چکرلگواتے ہیں.

    ‏اس کی مثال اس طرح لے سکتے ہیں کہ جب ایک نیا استاد ادارے کو جوائن کرتا ہے تو اس کو جوائن کے بعد اپنی سیلری سٹارٹ کروانی ہوتی ہے جو کہ ادارے کے ایڈمنسٹریٹرسٹاف کی زمہ داری ہوتی ہے اورحکومت نے ان کو رکھا بھی سٹوڈنٹس اوراساتذہ کے ان اکاؤنٹ ایشوزکو حل کرنے لئے ہی ہے لیکن یہ لوگ آپکو بل بنا کرنہیں دیں گے اورکہیں گے یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہوتی۔ آپ پریشان ہوں گے کہ بل کیسے بنے گا تو پہلے سے موجود لوگ آپکو بتائیں گے کہ آپ خرچے کے نام پہ پیسے دیں تو بل بھی بن جائے گا ورآپکی سیلری بھی سٹارٹ ہو جائے گی اگر آپ بہت ایماندار ہوں گے اور چاہیں گے کہ پیسے نہ دینے پڑیں تب یہ لوگ اس طرح سے حالات بنا دیتے ہیں کہ آپکی فائل اکاونٹ آفس تک نہ پہنچ سکے اور اگر پہنچ جائے تو اکاونٹ آفس والے آپکو بلاوجہ چکرلگوائیں گے اور آخرکارتنگ آکرانسان مجبورہوجاتا ہے اور اپنے جائز کام کے لئے بھی اپنی حق حلال کی کمائی سے پیسے دینے پڑ جاتے ہیں اور وہ گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے
    ‏کیونکہ ایک حدیث کے مطابق
    ‏”رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں ”

    ‏اسی طرح طالب علموں کو جب بھی ایڈمیشن سے متلقعہ کوئی ایشو ہوتا ہے توطالب علم کو اسی طرح اتنا ڈرا دیا جاتا ہے کہ آپکا ایڈمیشن فارم میں یہ غلطی ہے آپکو یونیورسٹی یا بورڈ میں جانا پڑے گا اورآپکا سال ضائع ہو سکتا ہے آپکا ایڈمیشن نہیں ہوگا یا ایڈمیشن کی تاریخ گزرگئی ہے اورطالب علم خاص طور وہ لوگ جو گاؤں یا قصبے سے تعلیمی حصول کے  لئےآتے ہیں ان سب سے گھبرا جاتے ہیں اوراس پوائنٹ پہ آکرکلرک حضرات اپنا داؤ کھیلتے ہیں اورہمدرد بن کر کہتے ہیں کہ آپ ہمیں اتنی اماؤنٹ دے دیں ہم آپکا کام کروا دیں گے اورطالب علم بیچارے ان کو اپنا خیرخواہ مان کر پیسے دے دیتے ہیں اوراس طرح ان کی جیب بھر جاتی ہے اورتب جا کرطالب علموں کا کام ہوتا ہے اوروہ بیچارے سکون کا سانس لیتے ہیں اوروہ ایشو جو بنا پیسے کے حل ہوجانا چاہیے تھا ڈھیرسارے پیسوں کے عوض ہوتا ہے
    ‏اب یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ اگراس حد تک یہ لوگ تنگ کرتے ہیں ضرورت اس امرکی ہے کہ یہ سب معلومات اعلی حکام اورسربراہوں کے علم میں ہونی چاہیے کیونکہ اساتذہ اورطالب علم کے مسائل کو حل کرنا انکی زمہ داری میں شامل ہے.

    ‏لیکن افسوس تو اسی بات پہ ہے کہ ادارے کے سربراہ اوراعلی حکام سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بنے ہوتے ہیں کیونکہ وہ وہ خود بھی ان کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوتے ہیں ‏اوراگر کبھی ان تک ان لوگوں کی شکایات پہنچائی جائیں تو آگے سے ہمیں ہدایت کرتے ہیں کہ آپ کلرکوں کو پیسے دے کراپنا کام کروالیں اب اگراعلی حکام بھی اس مافیہ کا حصہ ہوں تو اساتذہ اورطالب علم اپنے مسائل کے حل کے لئے کونسے حکام بالا تک رسائی حاصل کریں ؟

    ‏ایک اوراہم بات خاص طورپہ خواتین کے تعلیمی اداروں میں بہت اہمیت کی حامل ہے کہ والدین بہت بھروسہ کرکے اپنی بچیوں کو ان تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ اعلی تعلیم سے مستفید ہوسکیں جبکہ طالبات اپنے کچھ تعلیمی معاملات جنکا تعلق کلیریکل سٹاف سے ہوتا ہے انکو حل کروانے کے لئے کلرک حضرات کے پاس جانا پڑتا ہے جس کا وہ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبات کو ہراساں کرتے ہیں اور انکے پرسنل نمبر، سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انکا پرسنل بائیو ڈیٹا آفس میں موجود ہونے کی وجہ سے اس تک انکی رسائی حاصل ہوتی ہے جسکا وہ غلط استعمال کرتے ہیں جو کہ غیراخلاقی فعل ہے وہ ادارہ جو تعلیم دینے کے لئے ہوتا ہے وہاں بہت ساری طالبات اس غلط روئیےکی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں.

    ‏مزید یہ کہ ‏اداروں کے بہتر تعلیمی نتائج کے لئے اساتذہ دن رات محنت ‏کرت ہیں ‏اور وہ طالب علم جو پورا سال کبھی بھی ادارے میں نہیں آتے ‏تو اصولی طورپہ تو ان کا داخلہ نہیں بھیجا جانا چاہئے تاکہ ان طالب علم کو اس بات کا احساس ہو کہ ادارے میں غیر حاضررہ کر آپ تعلیمی امتحان کا حصہ نہی بن سکتے اوراس مقصد کے لئے استاد ایسےطالب علموں کی نشاندہی کرکے ادارے کے سربراہ کے علم میں لاتا ہے جہاں سے یہ نام کلیریکل حضرات کو پہنچائے جاتے ہیں تاکہ وہ ان طالب علموں کے ناموں کو ادارے سے خارج کردیا جائے اوراس بات سے استاد بھی مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس نے سب طالب علموں کے ساتھ انصاف کیا ہے لیکن جب طالب علموں کی رولنمبر سلپ آتی ہیں ان طالب علموں کے نام بھی موجود ہوتے ہیںاقر یہ چیزاستاتذہ کے لئے یہ چیز انتہائی حیران کن ثابت ہوتی ہے کہ جن طالب علموں کے نام انہوں نے لسٹ سے خارج کرنے کے لئے دیے تھے وہ کس ترہاں شامل لسٹ ہوئے ۔

    پھرتحقیق کرنے پرپتہ چلتا ہے کلرک نے رشوت لے کر‏ادارے کے استاتذہ کو دھوکے میں رکھا اور ایڈمیشن بجھیج دیے اب اگرآپ احتجاج کریں بھی تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ طالب علم شامل لسٹ ہو چکا ہوتا ہے اورایگزام میں بھی حاضرہوچکا ہوتا ہے اس ترہاں امتحان دینے پر نتیجہ فیل ہونے کی صورت میں آتا ہے اوراسکا خمیازہ اساتذہ اورادارہ کو بھگتنا پڑتا ہے اسکا ایک اورغلط نتیجہ اس صورت میں بھی نکلتا ہے کہ جو طالب علم پورا سال حاضررہ کرامتحان کا حصہ بنتے ہیں انکی دل آزاری ہوتی ہے اور وہ ادارہ کی انتظامیہ کہ اس رویہ سے بہت مایوس ہوتے ہیں۔

    ‏ان تمام معملات کومد نظررکھتے ہوئے میں اس نتیجہ پے پہنچا ہوں کہ ہمارے تعلیمی اداروں کا کلریکل سٹاف یا تو خواتین کی صورت میں ہو یا پھران کے خیلاف سخت سے سخت ایکشن ہو تاکہ اپنے تعلیمی اداروں کو کرپشن جیسی امراض سے پاک کیا جا سکے.
    ‏پاکستان پائندہ باد

    ‏⁦‪@iEngrDani

  • پھر کہتے ہیں تبدیلی کہاں سے؟تحریر: راجہ ارشد

    پھر کہتے ہیں تبدیلی کہاں سے؟تحریر: راجہ ارشد

    اے پاک وطن تیری کہانی سب سے اونچی، اونچی تیری شان
    ‎ تیرے آگے ہم سر جھکا کر اور بڑھائیں ہم تیری شان
    ‎ تیری حفاظت مقصد ہمارا
    ‎ ہمارا ایمان صرف پاکستان

    ‏اشرف غنی جو ہمیشہ بھارت کے ایجنڈے پہ چلتے ہوئے پاکستان پہ جھوٹے الزام لگاتا تھا۔
    لیکن! اس بار وزیر اعظم عمران خان نے ساری دنیا کے سامنے اسے چپیڑیں مار دیں۔

    بلاشبہ! ایسے کھل کر جواب صرف وزیراعظم عمران خان ہی دے سکتا تھا۔
    پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور بلاشبہ اللہ نے اسے بلندوبالا ہی رکھنا ہے ۔اللہ نے ہماری قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے ایک رہنما اتارا جو صرف اور صرف اس ملک کی بقا کا جذبہ رکھتا ہے ۔ وہ انقلابی بھی ہے اور ایک لشکر کا سپاہ سالار بھی ہے جس کا نعرہ ہے تبدیلی جو اپنی انتھک محنت کے باوجود بھی تنقید برائے تنقید کا شکار ہے ۔ سازشوں کا جال ان کے قدموں میں بچھایا جا رہا ہے لیکن خدا سلامت رکھے ان کی استقامت کو کہ ان کا حوصلہ بلند ہے اور وہ ملک کی تقدیر بدلنے کیلئے کوشاں ہیں ۔
     
     یہ تبدیلی مخالف شور ، میرا تبدیلی پہ ایمان کو مزید مضبوط کر رہا ہے ۔ جب کوئی اچھا اور نیک کام ہونے جا رہا ہو اور باطل قوتیں اس سے ٹکرائیں تو سمجھ لیں کہ کامیابی بہت قریب ہے لہٰذا تبدیلی آچکی ہے ، تبدیلی آ بھی رہی ہے اور تبدیلی مزید بھی آتی رہے گی ، کوئی روک سکتا ہے تو روکے ۔

     ایک سوال جو بارہا میری سماعتوں سے ٹکرایا ہے کہ تبدیلی سرکار نے کیا کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب تو بہت سی صورتوں میں موجود ہے لیکن وہی شور و غل برپا کرنے والی مفاد پرست قوتیں اس جواب کو چھپانے کی سازش میں محوِ عمل ہیں، لیکن ہمیشہ یاد رکھیں کے باطل کے سمندر میں حق اکیلا بھی ہو تو ابھر کر نکلتا ہے ، اسے جتنا بھی دبانے کی کوشش کی جائے اتنا ہی وہ سامنے آ کر للکارتا ہے ۔

    تبدیلی کے متعلق سوالات کے جوابات چاہیے تو پچھلی دہائیوں اور دورِ حاضر کا غیر جانبدارانہ موازنہ کریں ، حقیقت آشکار ہو جائے گی بس اپنی نظر کا زاویہ بدل کر دیکھیں ۔

    جو مضبوط خارجہ پالیسی پاکستان کی آج ہے وہ ماضی میں کبھی نہ تھی ۔ بین الاقوامی سطح پر ایک ملک کی عزت اس کی خارجہ پالیسی پر انحصار کرتی ہے ۔ صد شکر خدا جس نے پاکستان کو ایک غیور اور نڈر وزیرِ خارجہ سے نوازا ، جن کی یو این یو میں پہلی تقریر نے اقوامِ عالم کو جگایا کہ ہم پاکستانی دہشتگرد نہیں ہیں ، ہم تو امن کے سفیر ہیں ۔ حقیقی دہشتگرد تو بھارت  ہے جو نہتے کشمیریوں کے خون کا دشمن بن چکا ہے ۔ اس سے پہلے یو این او میں بھارت کا بے رحم چہرہ کسی نے بے نقاب نہیں کیا ۔ اس تقریر کا نتیجہ یہ ہوا کہ اقوامِ عالم حرکت میں آیا اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی اداروں نے بھارت مخالف رپورٹس پیش کی۔ ابھی حال میں ہی برطانیہ کے ہاوس آف کامنز میں ہونے والی کشمیر کانفرنس اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ آج پاکستان کو امریکہ جیسے مغرور ملک نے امن کا سفیر مانتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کرنے کیلئے مدد مانگی جبکہ پچھلی حکومتوں کے دور میں امریکہ کی طرف سے صرف ڈرون حملے ہوتے تھے یا پھر ڈو مور کا مطالبہ ۔

    کرتارپور رہداری کی تعمیر نے پاکستان کو دنيا کے سامنے ایک پرامن قوم کے طور پر پہچان دی ۔ یاد رکھیں کہ ایک انسان بھوک سے مر جاتا ہے لیکن عزت کے بغیر جیتے جی مر جاتا ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عزت کی بحالی نے ہمیں نئی زندگی بخشی ہے جو ایک غیور قوم کا اثاثہ ہوتی ہے ۔

    دھرتی اگر ماں ہوتی ہے تو وہ اپنے بچوں کو بے سروسامانی کی حالت میں سڑک کنارے پڑا نہیں دیکھ سکتی ۔ آج تحریکِ انصاف کی حکومت نے پناہ گاہوں کے قیام کو یقینی بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دھرتی واقعی ہی ماں ہوتی ہے ۔

    تاریخ گواہ ہے کہ گزشتہ حکومتوں نے جب بھی اقتدار سنبھالا ، بےدردی سے اس ملک کو لوٹا، لیکن موجودہ حکومت کرپشن کے خاتمے کی جنگ لڑ رہی ہے جس کی وجہ سے اس حکومت کا سکون غارت کیا جا رہا ہے ۔ لیکن یہ پھر بھی پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنے کے عزم پہ قائم و دائم ہیں ۔ آج کے پاکستان میں حکمران احتساب کے عمل سے آذاد نہیں ہیں ، اس سے بڑی تبدیلی اور کیا ہوسکتی ہے ؟

    کلین گرین پاکستان ، پاکستان سٹیزن پورٹل ، پاکستان بناو سرٹیفکیٹ سکیم، اسلامی ممالک سے بردارانہ تعلقات ، آئی ایم ایف کی سخت شرائط ماننے سے انکار ، سیاست سے پاک آذاد ادارے ، یورپی یونین کے پاکستان کے قوانین میں ردوبدل سے متعلق مطالبات ماننے سے انکار ، یہ سب وہ کام ہیں جو تحریک انصاف کی حکومت نے اس مختصر سے عرصے میں سرانجام دئيے جو ماضی کی تجربہ کار حکومتیں نہ کرسکی تھیں ۔ واقعتاً قیادت دیانتدار ہو تو عزت اور کامیابی قوم کا مقدر بن جایا کرتی ہیں ۔

    میرا قلم آج تحریک انصاف کی کارکردگی پہ رطب السان اس لیے ہو رہا ہے کہ میرے مستقبل کی آنکھیں کھلی ہیں ۔ میرا  لاشعور گواہی دیتا ہے کہ اس قوم کی تقدیر میں ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ باطل کے تمام قلم ٹوٹ جائیں گے اور ہر طرف حق حق کی پکار ہوگی ، بین الاقوامی سطح پر ہم ایک خود مختار اور باعزت قوم کے طور پر جانے جائیں گے ، معاشیات بھی عروج پہ ہو گی اور پاکستان سے مہنگائی کا خاتمہ بھی ہو گا ، امیر ، امیر تر اور غریب مزید غریب نہیں ہوگا ، حکمران عوام کو اپنے اثاثہ جات کے جوابدہ ہوں گے  ۔ علم کا بول بالا ہوگا اور ادب ہمارا پیرہن ہوگا (انشاءاللہ )۔
                                                    تبدیلی کی چنگاری اب آلاو بن چکی ہے ، جسے کوئی نہیں بجھا سکتا ، جو چاہے سازش کرے ، یہ ملک تبدیل ہو کر رہے گا ، کوئی روکنا چاہے تو روکے ، لیکن تبدیلی کا یہ طوفان اب نہیں رکنے والا ۔ ہم نے طے کرلیا ہے کہ اپنے خون کا نذرانہ بھی دینا پڑا تو ہم اس نئے پاکستان کی بنیاد کو ہلنے نہيں دیں گے ۔

    جو سازشی عناصر سادہ لوح پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے میں محوِ عمل ہیں وہ خبردار ہو جائیں کہ یہ محب الوطن قوم ہے یہ ذیادہ دیر تک غفلت کی نیند نہیں سو سکتی اور جس دن یہ قوم مکمل طور پر جاگ اٹھے گی ، باطل کو دنیا بھر میں کوئی پناہ نہیں ملے گی ۔
                                      خراجِ تحسین ہے تبدیلی کے اس پورے لشکر کیلئے جو کہ پاکستان کو مستحکم دیکھنے کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے ۔ اللہ آپ کی کاوشوں کو کبھی رائیگاں نہیں کرے گا۔ دعاگو ہوں کہ اللہ ہماری قیادت کو خلفائے راشدین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے (آمین )

  • "جذبہ ایمانی”تحریر.زوہیب خٹک

    "جذبہ ایمانی”تحریر.زوہیب خٹک

    تاریخِ انسانی میں ہمشیہ حق و باطل کی جنگ رہی ہے ۔

    مسلمان ہمیشہ آزمائشیں دیکھتے رہے وجہہِ کائنات سرورِ کونین میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے غربت کی زندگی گزاری صحابہ کرام جو مالدار تھے وہ بھی اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں وقف کر کہ فقیری کی زندگی جئیے ۔ مسلمانوں نے کبھی عیاشی کی زندگی نہیں گزاری کبھی تخت و تاج محلات مسلمانوں کی خواہش نہیں رہی ۔پیوند لگے کپڑوں کے ساتھ روم اور فارس کے عظیم تخت اکھاڑ پھینکنے۔ یہ جزبہ ایمانی ہی تھا کہ آدھی دنیا کے حکمران حضرتِ عمر رضی اللہ عنہہ بیت المال سے وظیفہ لیتے تھے۔ لیکن جب زلزلے سے زمین کانپی تو پاؤں کی ٹھوکر سے زمین کو رک جانے کا حکم دیا اور پوچھا کیا تجھ پر عمر عدل نہیں کرتا ۔؟؟

    یہ جزبہ ایمانی ہی تھا کہ تین سو تیرا ہزار کے مقابلے میں لڑ کر فتح یاب ہوتے یہ جزبہ ایمانی ہی تھا جس نے قیصر و قصریٰ کا غرور خاک میں ملایا یہ جزبہ ایمانی ہی تھا جس کی بدولت سلطان صلاح الدین ایوبی نے پورے یورپ سے اکیلے ٹکر لی اور فتح کے جھنڈے گاڑے یہ جزبہ ایمانی ہی تھا کہ سترہ سالہ محمد بن قاسم سندھ فتح کر گیا یہ جزبہ ایمانی ہی تھا جی ہاں یہ جزبہ ایمانی ہی ہے کہ سکندرِ اعظم برطانیہ روس اور امریکہ جیسی طاقتیں نیٹو افواج سمیت افغانستان کی سر زمین پر نیست و نابود ہوگئیں ۔۔ کیا خوب کہا ہے علامہ اقبال نے کافر ہو تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی ۔۔
    جزبہ ایمانی جب تک ہماری میراث رہے گی دنیا کی کوئی طاقت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی لیکن اگر یہ جزبہ ایمانی نا رہا تو پھر جدید اسلحہ جدید میزائل سسٹم بڑی سے بڑی فوج بھی راکھ کا ڈھیر ثابت ہوگی۔ یاد رکھیں جنگیں ہتھیاروں سے ضرور لڑی جاتی ہونگی پر جنگیں جزبوں سے جیتی جاتی ہیں اور بے شک جزبہ پھر ایمان کا ہو تو آج بھی دنیاوی عالمی طاقتیں اس جذبے کے سامنے ڈھیر ہو جائیں گی۔

    اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نا کر
    خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی

  • کراچی میں کچرے کا مسئلہ.تحریر:ام سلمیٰ

    کراچی میں کچرے کا مسئلہ.تحریر:ام سلمیٰ

    سیاست کے بجائے عمل کی ضرورت

    کراچی میں کچرے اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کے انتظام کی پریشانی کوئی نئی بات نہیں ہے ، اس شہر میں پندرہ ملین سے زیادہ رہائشیوں نے پچھلے سال تقریبا 16 16،000 ٹن کوڑا کرکٹ پیدا کیا تھا۔ اس میں سے بیشتر اس نے شہر میں دو بڑے لینڈ فلز بنائے ہیں لیکن 30 فیصد سڑکوں پر رہتا ہے۔ اب آپ اندازہ لگائیں 30 فیصد اگر سڑکوں پر رہتا ہے تو شہر کی کیا حالات ہوگئی؟
    بارشوں کے موسم میں کچرا کے مسئلے کو نظرانداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے ، کیونکہ یہ سب جمع ہوکر سطح پر آجاتا ہے ، اور شہر میں سیلاب کی طرح سڑک کے اوپر تیرتا ہوا نظر آتا ہے. وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں کے لیے یہ انتہائی توجوں طلب مسئلہ ہے۔ گورنر سندھ بھی یہ دعویٰ کرتے ہوئے نظر آئے کے وہ دو ہفتوں میں کراچی کو صاف کرسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے شہر کے باشندوں سے مدد کی درخواست کی جہاں وہ مدد کرسکیں اور ایف ڈبلیو او اور پاکستان آرمی سے مدد کی درخواست کی۔ لیکن پھر انکو عملی میدان میں قدم رکھنے کے بعد یہ بات سمجھ آی کے شہر سے 10 سال سے زیادہ کوڑا کرکٹ ہٹانا دو ہفتوں کی نوکری نہیں ہے اس معاملے پر صوبائی حکومتِ اور ایم کیو ایم سے صوبہ چلانے کے مابین پھوٹ بھی پڑ گئی لیکن معاملے کا کوئی صحیح حل نہ نکلا۔ اور اب تک اس شہر کے صفائی کے معاملات میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہں ہوئی.

    پچھلے برسوں میں لگاتار طویل عرصے سے آنے والی پی پی پی حکومت نے اس کو کوئی ایسا مسئلہ نہیں سمجھا جس کے لئے ان کی توجہ کی ضرورت ہے۔ اس پر ابھی جھگڑا کرنے کے بجائے ، تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر پہلے کوڑے کو ہٹانے کے لئے مطلوبہ فنڈز اور افرادی قوت حاصل کرنے اور جو افرادی قوت موجود ہے اس سے صحیح طرح کام لینے کے لئے مل کر کام کرنا پڑے گا اور پھر مناسب اور موثر ضائع کرنے کے لئے مناسب فضلہ کے انتظام کے انفراسٹرکچر کی تشکیل کی جائے گی تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں دوبارہ ڈھیر نہ ہو۔

  • اخلاص بہت بڑی نعمت ہے. تحریر:ماریہ مغل

    اخلاص بہت بڑی نعمت ہے. تحریر:ماریہ مغل

    لکھنو بازار میں ایک غریب درزی کی دکان تھی جو ہر جنازے کے لۓ دکان بند کرتے تھے…
    لوگوں نے کہا کہ اس سے آپ کے کاروبار کا نقصان ہوگا،
    کہنے لگا کہ علماء سے سنا ہے کہ جو کسی مسلمان کے جنازے پر جاتا ھے کل اس کے جنازے پر لوگوں کا ہجوم ہوگا…
    میں غریب ہوں نہ زیادہ لوگ مجھے جانتے ہیں تو میرے جنازے پر کون آۓ گا…
    اس لیے ایک تو مسلمان کا حق سمجھ کر پڑھتا ہوں اور دوسرا یہ کہ شاید اس سے ہی اللہ پاک راضی ہو جائیں
    اللہ پاک کی شان دیکھیں کہ 1902ء میں مولانا عبدالحئ لکھنوی صاحب کا انتقال ہوا…

    ریڈیو پر بتلایا گیا، اخبارات میں جنازے کی خبر آگئی.. جنازے کے وقت لاکھوں کا مجمع تھا. پھر بھی بہت سے لوگ انکا جنازہ پڑھے سے محروم رہ گئے
    جب جنازہ گاہ میں ان کا جنازہ ختم ہوا تو اسی وقت جنازہ گاہ میں ایک دوسرا جنازہ داخل ہوا. اور اعلان ہوا کہ ایک اور عاجز مسلمان کا بھی جنازہ پڑھ کر جائیں…
    یہ دوسرا جنازہ اس درزی کا تھا… مولانا کے جنازے کے سب لوگ ، بڑے بڑے اللہ والے ، علماء کرام سب نے اس درزی کا جنازہ پڑھا اور پہلے جنازے سے جو لوگ رہ گئے تھے وہ بھی اس میں شامل ہوگئے ۔ اس غریب کا جنازہ تو مولانا کے جنازہ سے بھی بڑھ کر نکلا
    اللہ پاک نے اس درزی کی بات پوری کرکے اس کی لاج رکھی..۔
    اللّٰہ ﮬﻢ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿں ﺁﺳﺎﻧﯿﺎﮞ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﮰ ﺁﻣﯿﻦ💕
    @l_m_Mairi
    ماریہ مغل

  • محبت اور نکاح. تحریر: کنزہ صدیق

    محبت اور نکاح. تحریر: کنزہ صدیق

    محبت ایک بہترین تعلق ہے اور یہ تعلق جب نکاح جیسے پاک بندھن میں بندھ جاتا ہے تو یہ دنیا کا بہترین رشتہ کہلاتا ہے
    اللہ پاک نےاس رشتے بےشمار برکت رکھی ہے نکاح کے متعلق بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے
    حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    تین طرح کے لوگ ہیں جنکی مدد اللہ پر حق اور واجب ہے
    1: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا
    2:ایسا نکاح کرنے والا جو نکاح کے ذریعے پاکدامنی کی زندگی گزارنا چاہتا ہو
    3: وہ مکاتب جو مکاتبت کی رقم ادا کرکے آذاد ہوجانے کی کوشش کررہا ہو (سنن نسائی#3122
    اب بات آجاتی ہے کہ پسند کا نکاح اور بناء پوچھے بناء سمجھائے زبردستی نکاح۔۔
    ہمارے معاشرے میں یہ عجیب منطق ہے کہ اگر لڑکی اپنی پسند کا رشتہ بتاتی ہے تو وہ بےحیا یا بولڈ سمجھی جاتی ہے جبکہ بعض اوقات لڑکوں کے معاملے میں بھی کچھ اسی طرح ہوتا ہے والدین بچوں سے اس بات پہ خفا ہوجاتے ہیں کہ یہ زندگی کے بڑے فیصلے ہیں تو اس لیے یہ فیصلے بڑوں کو ہی کرنے چاہیے
    لیکن والدین کے لیے یہ سمجھنے کی بات ہے کہ ہمارا دین بھی اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر لڑکا یا لڑکی اپنی پسند کا اظہار کریں تو اس کی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے
    اسی متعلق اس حدیث ہے جسکا مفہوم یہ ہے کہ بچوں کا رشتہ کرتے ہوئے انکی مرضی لازمی جان لینا چاہیے اگر وہ اپنی پسند کا اظہار کرئے تو اسے بےحیا نہ سمجھا جائے

    نکاح کے بعد اللہ پاک کی طرف سے میاں بیوی میں عجیب سی محبت پیدا ہوجاتی ہے یہ نکاح ہی کی برکت سے ہوتا ہے
    میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ آپس کی اس محبت کو ہمیشہ قائم رکھیں جیسا کہ ہمارا دین محبت کا درس دیتا ہے
    حضور پاک اماں عائشہ سے بے تحاشہ محبت کرتے تھے
    آپ ﷺ کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کا عالم یہ تھا کہ آپ ﷺ ان کے پس خوردہ کو بھی پسند فرماتے تھے اور جہاں سے آپ رضی اللہ عنہا ہڈی سے گوشت کھاتیں سرکار ﷺ وہیں سے گوشت تناول فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں ہڈی سے دانتوں سے گوشت کھاتی تھی حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی اور وہ ہڈی حضور ﷺ کوپیش کردیتی تو آپ ﷺ اپنا دہن مبارک اسی جگہ رکھتے جس جگہ میں نے رکھا تھا اور میں (پیالے میں ) پانی پی کر حضور ﷺ کو پیالہ دیتی تو آ پ ﷺ اسی جگہ اپنا لب مبارک رکھتے جہاں سے میں نے پیا ہوتا
    اسطرح کا محبت بھرا انداز ہمیں گھریلو ناچاقیوں اور نفرتوں کے ستون کو ڈھانے اور ان سے چھٹکارا پانے کے دائمی اصول بتاتا ہے جن پر عمل کرکے زوجین اپنے درمیان نفرتوں اور کدورتوں کے بیج نکال کر محبت و الفت کے بیچ بوسکتے ہیں اور گھر کو امن کا گہوارہ بناسکتے ہیں۔
    اللہ حامی و ناصر ہو۔

  • اپنا مقام پیدا کر.تحریر : ملک عمان سرفراز

    اپنا مقام پیدا کر.تحریر : ملک عمان سرفراز

    انسان کو  اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے کیونکہ انسان
    اور باقی تمام مخلوقات  میں واضح فرق فہم و فراست کا ہے۔
    دنیا میں کم و بیش 18 ہزار مخلوقات ہیں ان میں سے انسان کو سب سے افضل بنایا گیا ہے انسان کو اشرف المخلوقات (سب مخلوقات میں سب سے اعلی) کہا گیا ہے۔ انسان کو دنیا میں بھیج کر اللہ پاک نے فرشتوں سے کہا میں نے روح زمین پے اپنا خلیفہ بھیجا ہے اور پھر اللہ پاک نے فرشتوں سے انسان کو سجدہ کرایا۔ وہ انسان آج اللہ پاک کے ہر حکم ہر بات کا انکار کر رہا ہے  جو انسان ایک سانس کا بھی محتاج ہے ایک سانس اندر لے تو اس کو یقین نہیں وہ باہر نکال سکے گا یا نہیں
    یوں تو  جانوروں کو دیکھا جائے تو وہ بھی کھاتے ہیں ، پیتے ہیں اور سوتے ہیں  مگر فرق  شعور کا ہے وہ شعور  جو انسان کے پاس  موجود ہے

    انسان انسانیت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوجاتا ہے جب وہ اس شور کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو پہچانتا ہے اپنے مرتبے کو پہچانتا ہے
    اگر انسان اپنی زندگی کھانے پینے اور سونے کا کام کرنے پر گزار دے تو انسان اور جانور میں فرق کیسا ؟؟

    جب انسان کس چیز کی جستجو رکھتا ہے جس کی لگن ہے تو وہ اس کام کو ہر طریقے سے بھرپور طریقے سے مکمل طور پر سر انجام دینا چاہتا ہے اور پھر وہ کام اس کا عشق بن جاتا ہے جس طرح علامہ اقبال نے فرمایا

    دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر !​
    نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر​

    خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو​
    سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر​

    اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں​
    سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر​
    اس وقت  ضرورت ہے اپنے آپ کو پہچاننے کی کہ ہمیں کیوں کب اور کس لئے اس دنیا میں بھیجا گیا آخر ہمارے  آنے کا مقصد کیا ہے جب انسان سب سمجھ لیتا ہے تو انسانیت کے بلند مرتبے پر فائز ہو جاتا ہے

    انسان جتنی مرضی ترقی کر لے آسماں کو چھو لے یا پانی کی گہرائی تک پہنچ جائے جب تک وہ اپنے آپ کو نہیں پہچانے گا اپنے مقام کو نہیں سمجھے گا ۔اس کی سب ترقی بے کار ہے

    ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں جو چیز کی جستجو ہے ہمیں اپنی اس جستجو کے حصول میں خود کو اتنا مگن رکھنا ہےکہ ہمارا اپنا ایک مقام بن جائے