Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: محمد رمضان نوشاہی، گوجرانوالہ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: محمد رمضان نوشاہی، گوجرانوالہ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا
    تحریر: محمد رمضان نوشاہی، گوجرانوالہ
    تمباکو نوشی صحت عامہ کے لیے ایک عالمی چیلنج ہے، جو خاص طور پر ترقی پذیر اور غریب ممالک کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 50 لاکھ افراد تمباکو سے منسلک بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس وقت ایک ارب سے زائد افراد تمباکو کی لت کا شکار ہیں، جن میں 25 فیصد خواتین بھی شامل ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ دنیا بھر میں آٹھ جان لیوا امراض میں سے چھ کا تعلق براہ راست سگریٹ نوشی سے ہے، جن میں عارضہ قلب، دمہ، ٹی بی، اور پھیپھڑوں کا کینسر جیسے موذی امراض سرفہرست ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق، روزانہ 11 ہزار افراد تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر اس وبا کے خلاف موثر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو 2030 تک یہ تعداد بڑھ کر ایک کروڑ سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ اعدادوشمار ایک خطرناک حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ تمباکو نوشی نہ صرف انسانی جانوں کے لیے زہر قاتل ہے بلکہ معاشرتی اور معاشی ڈھانچے کو بھی تباہ کر رہی ہے۔

    سگریٹ نوشی کی لت چھوڑنا ایک مشکل عمل ہے۔ ایک لطیفے میں اس کی شدت کو کچھ یوں بیان کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنے تمباکو نوش دوست سے فخر سے کہا، "تم سے ایک بار سگریٹ نہیں چھوڑی جاتی، جبکہ میں نے تو کئی بار چھوڑی!” یہ محض ایک لطیفہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق، 90 فیصد تمباکو نوش اسے چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ناکامی ان کا مقدر بنتی ہے۔ اس کی وجہ نکوٹین کی شدید لت ہے، جو دماغ کو اس قدر جکڑ لیتی ہے کہ چھوڑنے کی خواہش رکھنے والے بھی بار بار ناکام ہو جاتے ہیں۔ اگر حکومتیں اس وبا کے خلاف سنجیدہ اقدامات اٹھائیں، تو لاکھوں زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ سگریٹ نوشی نہ صرف صحت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ مالی طور پر بھی افراد اور خاندانوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ ایک عام پاکستانی گھرانے کا بجٹ، جو پہلے ہی محدود ہوتا ہے، سگریٹ کی خریداری پر خرچ ہونے سے مزید دباؤ کا شکار ہوتا ہے۔ غریب طبقہ، جو روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے، اس لت کی وجہ سے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ضائع کر دیتا ہے۔

    حکومت اگر سگریٹ پر دوگنا ٹیکس عائد کر دے تو اس وبا پر قابو پانے میں خاطر خواہ مدد مل سکتی ہے۔ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی ایک تحقیق کے مطابق، جن افراد کو سگریٹ چھوڑنے کے لیے مالی ترغیبات دی گئیں، ان میں سے بڑی تعداد نے ایک سال کے اندر یہ لت ترک کر دی۔ ٹیکس بڑھانے سے سگریٹ کی قیمت غریب طبقے کی پہنچ سے باہر ہو جائے گی، جس سے نہ صرف اس کی کھپت کم ہوگی بلکہ صحت پر خرچ ہونے والے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں صحت کے شعبے کو پہلے ہی وسائل کی کمی کا سامنا ہے، تمباکو سے متعلق بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اگر سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگایا جائے تو نہ صرف صحت کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کے فوائد صرف صحت تک محدود نہیں ہیں۔ یہ معاشی اور معاشرتی استحکام کے لیے بھی اہم ہے۔ غریب طبقہ، جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ سگریٹ پر خرچ کرتا ہے، اس ٹیکس کے نتیجے میں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرے گا۔ مثال کے طور پر، ایک غریب مزدور جو روزانہ 100 روپے سگریٹ پر خرچ کرتا ہے، سالانہ تقریباً 36,500 روپے ضائع کر دیتا ہے۔ اگر سگریٹ کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو وہ اس رقم کو اپنے بچوں کی تعلیم، گھریلو ضروریات، یا صحت پر خرچ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے حکومت شعور بیدار کرنے کی مہمات چلا سکتی ہے، جن میں عوام کو تمباکو کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔ ایسی مہمات خاص طور پر نوجوانوں کو نشانہ بنائیں، جو فیشن یا سماجی دباؤ کے باعث سگریٹ نوشی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

    تمباکو نوشی کے خلاف جنگ صرف ٹیکس بڑھانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں، مساجد، اور میڈیا کے ذریعے شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں مساجد کا کردار خاص طور پر اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ خطبہ جمعہ کے دوران علماء عوام کو سگریٹ کے شرعی اور صحت کے نقصانات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح، اسکولوں اور کالجوں میں نصاب کا حصہ بناتے ہوئے طلبہ کو تمباکو کے خطرات سے روشناس کرایا جائے۔ میڈیا پر نشر ہونے والے اشتہارات میں سگریٹ نوشی کے خوفناک نتائج کو دکھایا جائے، جیسے کہ پھیپھڑوں کے کینسر یا دل کے دورے کے مناظر۔ یہ تصاویر لوگوں کے ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں اور انہیں اس لت سے دور رہنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

    سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے غیر قانونی تجارت کو فروغ ملے گا۔ یہ ایک جائز خدشہ ہے، کیونکہ پاکستان میں پہلے ہی اسمگل شدہ سگریٹ کی مارکیٹ موجود ہے۔ تاہم، اس کا حل سخت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ سرحدی علاقوں میں چیکنگ کو سخت کیا جائے اور غیر قانونی سگریٹ کی فروخت پر سخت سزائیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ، تمباکو کی صنعت سے وابستہ افراد کے لیے متبادل روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ ان کی معاشی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر، تمباکو کی کاشت کے بجائے کسانوں کو دیگر منافع بخش فصلوں کی طرف راغب کرنے کے لیے سبسڈی دی جا سکتی ہے۔

    تمباکو نوشی سے انکار زندگی سے پیار کا عکاس ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا:

    نشے کی لذتوں نے ہم کو کہیں کا نہ چھوڑا
    زندگی کو برباد کر دیا، موت کو قریب کر دیا

    یہ شعر تمباکو نوشی کے تباہ کن اثرات کی صحیح تصویر کشی کرتا ہے۔ سگریٹ نہ صرف جسم کو کھوکھلا کرتی ہے بلکہ خاندانوں کو معاشی طور پر کمزور اور معاشرے کو تقسیم کرتی ہے۔ اگر ہم ایک صحت مند اور خوشحال پاکستان چاہتے ہیں تو ہر سطح پر اس وبا کے خلاف جنگ لڑنا ہوگی۔ سگریٹ پر بھاری ٹیکس عائد کرنا اس جنگ کا ایک اہم ہتھیار ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف غریب کی پہنچ سے سگریٹ کو دور کرے گا بلکہ صحت عامہ کے تحفظ اور معاشی استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔

    آخر میں، یہ بات واضح ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف جنگ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد، خاندان، اور ادارے کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانا اس سمت میں ایک اہم قدم ہے، لیکن اس کے ساتھ شعور بیدار کرنے، سخت قوانین نافذ کرنے، اور متبادل معاشی مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم مل کر اس وبا کا مقابلہ کریں تو نہ صرف لاکھوں زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ ایک صحت مند اور خوشحال معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: عائشہ اسحاق

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: عائشہ اسحاق

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا
    تحریر: عائشہ اسحاق
    سگریٹ پر ٹیکس بڑھا کر اسے غریب کی پہنچ سے دور کرنے کا مقصد لوگوں میں سگریٹ نوشی کی عادت کو ترک کروانا ہے تو یہ طریقہ نہایت نامناسب ہے کیونکہ ٹیکس میں اضافہ غریب سے سگریٹس تو واقعی دور کر سکتا ہے مگر یہ طریقہ غریب کو سمگلنگ شدہ ناقص گھٹیا درجے کا سستا سگریٹ پینے پر مجبور کر دیتا ہے ۔
    یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کے خلاف مختلف پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں سگریٹ پر ٹیکس کی شرح بڑھانے سے غریب کا فائدہ نہیں بلکہ مزید نقصان ہوتا ہے۔ 2024 کے اختتام پر پیش کی جانے والی مالی رپورٹ کو دیکھیں تو 63 فیصد تک غیر قانونی سگریٹ کا کاروبار عروج پر رہا۔ ماہر ٹیکس امور کے مطابق 2021 میں قانونی طور پر سگریٹ کا کاروبار 80 فیصد اور غیر قانونی سیگرٹس کا کاروبار 20 فیصد تھا جو کہ 2024 میں سگریٹ پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ ہونے کی باعث سمگلنگ شدہ غیر قانونی سگریٹ 63 فیصد تک جا پہنچا۔

    سگریٹ نوشی ایک ایسی لت ہے جو امیروں اور غریبوں میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے مگر ٹیکس میں اضافے کی وجہ سے جب سیگرٹ کے پیکٹ کہ قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو امیر ادمی کے لیے اسے خریدنا کچھ مشکل نہیں ہوتا مگر اس کے برعکس غریب سیگرٹ نوشی کے عادی افراد قانونی طور پر رجسٹرڈ کمپنیوں اور برانڈز کے سگریٹ کو خریدنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ایسے افراد سمگلنگ شدہ اور لوکل کمپنیوں کی طرف سے تیار کیے جانے والے سگریٹ سستے داموں خرید لیتے ہیں۔ ان سیگرٹس میں کوئی نہیں جانتا کہ اجزا کس طرح کے استعمال کیے جاتے ہیں تمباکو کون سا استعمال کیا جاتا ہے لہذا یہ رجسٹرڈ برانڈز کے سگریٹ کی نسبت کہیں زیادہ مضر صحت ثابت ہوتے ہیں۔

    اول تو ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں سیگرٹ کی خرید و فروخت پر مکمل طور پر پابندی عائد ہونی چاہیے کیونکہ سگریٹ نوشی ایک ہلکا نشہ ہے اور یہ عمل اہستہ اہستہ انسان کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں ہمارے مذہب دین اسلام میں کسی قسم کا بھی نشہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔ یہ ایک مکروہ عمل ہے اور پھر یہ حقیقت واضح ہے کہ سگرٹ امراض کلب پھیپھڑوں کے امراض کینسر اور سرطان جیسی مہلک بیماریوں کے علاوہ دیگر کئی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ لہذا یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان میں سگریٹ بنانے، خریدنے اور بیچنے پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔

    لیکن اگر حکومت پاکستان ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کرتی اور ٹیکس بڑھا کر سیکرٹ کے استعمال میں کمی واقعہ کرنے کی خواہاں ہے تو میری ذاتی طور پر رائے ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس کی شرح میں کمی واقع کر دی جانی چاہیے تاکہ سمگلنگ جیسے گنھوونے دھندے کو مات ہو سکے۔
    کسٹمز انٹیلیجنس نے رواں سال مختلف کاروائیوں میں نان کسٹم پیڈ سیگرٹ کے تقریبا چار لاکھ سے زائد پیکٹ پکڑے۔ غیر قانونی سگریٹس کی خرید و فروخت سے 300 ارب سے زائد ٹیکس چوری ہوا۔ لہذا یہ کہنا غلط نہیں کہ غیر قانونی سمگلنگ شدہ سگریٹ انسانی صحت کے ساتھ ساتھ ملکی مالی نقصان کا بھی باعث بنتے ہیں۔

    ارٹیکل 6 کے تحت سیگرٹس بنانے والی تمام کمپنیوں اور ڈسٹری بیوٹرز کی بھی رجسٹریشن کرنی چاہیے پاکستان میں دکانداروں کی کوئی رجسٹریشن نہیں ہوتی جس کی وجہ سے یہ بات معلوم نہیں ہو پاتی کہ کون پیڈ سگرٹ فروخت کر رہا ہے اور کون نان پیڈ فروخت کرتا ہے۔ ڈسٹری بیوٹرز کا رجسٹرڈ نہ ہونا لوکل کمپنیوں اور سمگلرز کی چاندی چمکانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ یہ عمل لوگوں کی خاص کر نوجوانوں کی صحت اور ان کی زندگیاں برباد کر رہا ہے۔ اس معاملے میں مختصرا یہی کہا جا سکتا ہے کہ محض ٹیکس بڑھا کر سگریٹ کو غریبوں کی پہنچ سے دور کرنا کوئی مثبت حکمت عملی نہیں یا تو پاکستان میں سگریٹ کی خرید و فروخت پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی جائے یا پھر لوکل کمپنیوں اور غیر قانونی سگریٹ کی خرید و فروخت پر روک تھام کے لیے سیگرٹس کے تمام مینوفیکچرز اور ڈسٹری بیوٹرز حتی کہ تمام دکانداروں کی بھی رجسٹریشن ہونی چاہیے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: اقصیٰ جبار

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: اقصیٰ جبار

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا
    تحریر: اقصیٰ جبار
    تمباکو نوشی وہ زہر ہے جو مہذب پیکٹ میں چھپا ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ زندگی کو نگل لیتا ہے۔”
    سگریٹ کا ہر کش بظاہر ہلکا سا لگتا ہے، مگر اس کا دھواں جسم کی رگ رگ میں بیماری، بربادی اور بےحسی گھول دیتا ہے۔ تمباکو نوشی اب صرف ایک فرد کی عادت نہیں، بلکہ معاشرے کا ناسور بنتی جا رہی ہے ، خاص طور پر ان طبقات میں، جو لاعلمی، غربت اور تھکن کا شکار ہیں۔

    جب سگریٹ سستی ہو تو یہ زہر عام ہوتا ہے، جب مہنگی ہو تو رکاؤٹ بنتی ہے۔ ایک مزدور، جو روز دو وقت کی روٹی کے لیے مشقت کرتا ہے، اگر سگریٹ آسانی سے خرید سکتا ہے تو وہ اپنے بچوں کی روٹی، تعلیم اور علاج کو اس دھویں میں جھونک رہا ہے۔ لیکن جب یہی سگریٹ مہنگی ہو، جب اس پر ٹیکس ہو، تو وہ اپنی ترجیحات بدلنے پر مجبور ہوتا ہے — اور یہی "مجبوری” ایک نئی زندگی کا آغاز بن سکتی ہے۔

    بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ٹیکس سے غریب متاثر ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ سستا زہر ہی اصل بربادی ہے۔ اگر سگریٹ کی قیمت اس قدر ہو کہ ایک عام فرد اسے خریدنے سے پہلے دس بار سوچے، تو یہ سوچ ہی اس کے بچاؤ کی پہلی سیڑھی ہے۔ جو شخص چند لمحوں کی تسکین کے لیے اپنی صحت دائو پر لگا دیتا ہے، اس کے لیے قیمت بڑھانا شاید واحد عملی روک ہو۔

    ٹیکس ایک معاشی اصطلاح سہی، مگر اس کا اطلاق اگر انسانی فلاح کے لیے ہو تو یہ محض "رقم” نہیں، بلکہ "رحمت” بن جاتی ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس، دراصل آئندہ نسل کو بیماری سے، ماؤں کو غم سے، اور گھروں کو ویرانی سے بچانے کی ایک مؤثر تدبیر ہے۔

    یہ تحریر صرف مخالفت برائے مخالفت نہیں، بلکہ شعور برائے بیداری ہے۔ اگر ہم ایک ایسی عادت پر خاموش رہیں جو روز سینکڑوں زندگیوں کو نگل رہی ہے، تو ہمارا سکوت بھی جرم بن جائے گا۔

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا، تو ہو سکتا ہے:
    کوئی باپ اپنے بیٹے کی کتاب خرید لے،
    کوئی مزدور دوا خرید لے،
    یا شاید کوئی نوجوان زندگی کو سنجیدہ لینا سیکھ لے۔

    اگر ٹیکس سے کوئی سگریٹ چھوڑ دے، تو یہ ٹیکس نہیں… نجات کی کنجی ہے۔

  • تمباکو کی لعنت: میرپورخاص کی ہول سیل مارکیٹوں سے عالمی نقصانات تک.تحریر: سید شاہزیب شاہ

    تمباکو کی لعنت: میرپورخاص کی ہول سیل مارکیٹوں سے عالمی نقصانات تک.تحریر: سید شاہزیب شاہ

    تمباکو کی لعنت: میرپورخاص کی ہول سیل مارکیٹوں سے عالمی نقصانات تک
    تحریر: سید شاہزیب شاہ
    تمباکو نوشی نہ صرف ایک انفرادی صحت کا مسئلہ ہے بلکہ یہ ایک قومی بحران بن چکا ہے، جس کا دائرہ اثر مقامی بازاروں سے نکل کر عالمی سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کا ہر شہری روز مرہ کی زندگی میں اس تباہ کن عادت کے اثرات کو کسی نہ کسی شکل میں بھگت رہا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر خاطر خواہ اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    میرپورخاص، سندھ کا ایک مشہور شہر، جہاں تمباکو کی ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹیں دن بہ دن فروغ پا رہی ہیں۔ ہلال مارکیٹ جو کہ تمباکو کی خرید و فروخت کا مرکزی مرکز بن چکی ہے، نہ صرف ہول سیل ڈیلروں کا گڑھ ہے بلکہ اس کے اطراف کی چھوٹی بڑی مارکیٹوں میں بھی تمباکو کی مصنوعات آسانی سے دستیاب ہیں۔ یہی نہیں، پان کے کیبن، جنرل اسٹورز اور عام دکانیں تک اس زہر کو بیچنے میں مصروف ہیں، گویا ہر موڑ پر ایک "قتل گاہ” بنی ہوئی ہے – خاموش، مگر مسلسل۔

    یہ صورت حال اس وقت اور زیادہ افسوسناک ہو جاتی ہے جب ہم عالمی ادارہ صحت (WHO) کی حالیہ رپورٹ پر نظر ڈالتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال سگریٹ نوشی کے باعث 1,64,000 افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے بکھرنے کی داستان ہے، بچوں کے یتیم ہونے کی حقیقت ہے، اور بیواہوں کی آہوں کا عکس ہے۔

    مزید برآں تمباکو نوشی سے قومی خزانے کو سالانہ 700 ارب روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس مالی نقصان کو اگر تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں میں لگایا جائے تو پاکستان کئی حوالوں سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم اپنی ترجیحات میں تمباکو مافیا کو شکست دینے سے قاصر ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے اس المیے پر قابو پانے کے لیے حکومتِ پاکستان کو سفارش کی ہے کہ تمباکو پر بھاری ٹیکس عائد کیا جائے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ اس کے استعمال کو کم کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ ایک طرف یہ عوام کو اس مہلک عادت سے روکنے میں مدد دے گا، تو دوسری طرف اس سے حاصل شدہ محصولات کو صحت اور سماجی بہبود کے منصوبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    مگر سوال یہ ہے کہ کیا حکومت واقعی سنجیدہ ہے؟ کیا ہلال مارکیٹ جیسے مراکز پر چھاپے مار کر، تمباکو کی غیر قانونی فروخت پر قابو پایا جا سکتا ہے؟ کیا پان کے کیبنز پر کم عمر بچوں کو تمباکو بیچنے پر پابندی واقعی نافذ کی جا سکتی ہے؟ اگر حکومت ان سوالات کے جواب میں عملی اقدامات نہیں کرتی تو اس کا مطلب یہی لیا جائے گا کہ تمباکو مافیا حکومت کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ صرف اعلانات اور رپورٹوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔ میڈیا، سول سوسائٹی، تعلیمی ادارے، اور والدین سب کو مل کر اس معاشرتی بیماری کے خلاف جہاد کرنا ہوگا۔ ہم سب کو مل کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں ایک صحت مند، صاف اور محفوظ پاکستان چاہیے — جہاں زندگی تمباکو کے دھوئیں میں نہ لپٹی ہو۔

  • سگریٹ پر ٹیکس، غریب کی پہنچ سے دوری.تحریر :طارق نویدسندھو

    سگریٹ پر ٹیکس، غریب کی پہنچ سے دوری.تحریر :طارق نویدسندھو

    سگریٹ پر ٹیکس، غریب کی پہنچ سے دوری
    تحریر: طارق نوید سندھو، ڈسٹرکٹ رپورٹر باغی ٹی وی قصور

    پاکستان میں تمباکو نوشی کا رجحان آئے روز بڑھتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل اس کے نشانے پر ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ اگر بروقت تمباکو نوشی کے تدارک کے لیے مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ہماری نوجوان نسل کو دنوں میں تباہی کی طرف دھکیل دے گی۔ تمباکو بنانے اور ٹیکس چوری کے پیش نظر تمباکو پر ٹیکس اور ضوابط میں فوری اور مؤثر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

    حالات اس چیز کا تقاضا کرتے ہیں کہ نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے بڑھتے رجحان کو روکنے کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔ تمباکو پر عائد ٹیکس کا پیچیدہ نظام، صنعتکار نرخوں میں غیر متناسب رد و بدل، برانڈ کی تنوع سازی، قیمتوں کی مصنوعی بلندی اور صارفین کو کم قیمت مصنوعات جیسے مختلف حربوں سے تمباکو کے صنعت کار نہ صرف ٹیکس سے بچ نکلتے ہیں بلکہ نوجوانوں میں تمباکو کی لت کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

    ای سگریٹس اور نکوٹین پاؤچز جیسے نئے رجحانات پر قواعد و ضوابط کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ بچوں میں نکوٹین کے استعمال کا مسئلہ اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتا ہے جب وہ غیر منظم مصنوعات اور اشتہارات سے متاثر ہوتے ہیں۔ تمباکو کی صنعت نہ صرف اعداد و شمار میں ہیر پھیر کرتی ہے بلکہ بجٹ سے قبل ذرائع ابلاغ میں جھوٹے بیانیے پھیلانے کی مہم بھی چلاتی ہے۔ ہمیں اس کا مقابلہ ٹھوس اور سائنسی شواہد کے ساتھ کرنا ہو گا۔

    تمباکو نوشی نوجوانوں کو نشے جیسی لعنت کی طرف دھکیلنے میں معاون ہو رہی ہے لہٰذا جلد اس کی روک تھام ضروری ہے۔ لیکن اس کی روک تھام کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا نظر آتا ہے۔ حقائق کسی اور طرف اشارہ کرتے ہیں۔ آپ تمباکو نوشی کے تدارک کے لیے عملی قدم اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ آپ کے پیچھے ایسے ایسے مافیاز لگ جائیں گے کہ آپ جلد ہی اس سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ تمباکو اور منشیات سے پاک معاشرے ہمارا صرف خواب ہو سکتا ہے جس کی تکمیل ممکن نظر نہیں آتی۔

    تمباکو نوشی ٹی بی، معدے کے مسائل، ہارٹ اٹیک اور بے شمار اور بیماریوں کا باعث بن رہی ہے۔ میرے ایک پروفیسر دوست بتانے لگے کہ ان کے والد کے بائی پاس پر وہ ہسپتال میں ڈاکٹر سے پوچھنے لگے کہ مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ یہاں دل کے تمام مریض دبلے پتلے ہیں۔ کیا موٹے لوگوں میں یہ بیماری موجود نہیں ہے؟ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ "انھیں یہاں پہنچنے کا موقع نہیں مل پاتا۔”

    اب ہم بھی حالات کے ایسے دھارے پر آن کھڑے ہوئے ہیں کہ اگر تمباکو نوشی اور منشیات جیسی لعنت پر فوری قابو نہ پایا جا سکا تو شاید ہمارے معاشرے کے نوجوانوں کو بھی ہسپتال پہنچنے کا موقع نہ مل سکے۔

  • جدید نشہ ،تحریر: عبدالصمد مظفر، لاہور

    جدید نشہ ،تحریر: عبدالصمد مظفر، لاہور

    جدید نشہ
    تحریر: عبدالصمد مظفر، لاہور

    دروازے پر دستک ہوتی ہے۔
    اماں نے آواز دی:
    "کون ہے بھئی؟”

    باہر سے آواز آتی ہے:
    "بابو جی گھر پر ہیں کیا۔۔۔ میں اسکول سے آیا ہوں۔”

    اماں نے دوپٹہ سر پر دوبارہ رکھا اور بولیں:
    "ارے میاں۔۔۔ اندر آ جاؤ۔۔۔ جتنی دیر میں میں دروازے پر آؤں گی، تم پوری بات بتا دو گے۔”

    جمال، جو کہ اسکول کا چوکی دار ہے، گھر میں داخل ہوتا ہے اور سلام دعا کے بعد اماں سے کہتا ہے:
    "ماں جی۔۔۔ بابو جی کہاں ہیں؟ اپنے چھوٹے باؤ جی کی شکایت لایا ہوں۔”

    اماں جی نے یہ بات سنی تو رونے لگ گئیں اور اپنے بیٹے کو کوسنے لگیں:
    "کم بخت نے اپنی اولاد کو سر پر چڑھا رکھا ہے، کوئی پوچھ گچھ نہیں۔ آخر یہ دن آنا ہی تھا۔ میں منع کروں تو سب برا مناتے ہیں۔ خیر، آپ بتاؤ کہ کیا شکایت لائے ہو؟”

    چوکی دار نے کہا:
    "پرنسپل نے آج کلاس میں چھوٹے باؤ جی کو دوستوں کے ساتھ نشہ کرتے دیکھا ہے۔۔۔”

    یہ بات سنی تو اماں جی نے شور مچانا شروع کر دیا۔

    چوکی دار نے کہا:
    "آپ شور نہ کریں اور باؤ جی کو اسکول بھیجیں۔۔۔”

    اماں جی نے چادر سر پر لی اور باؤ جی کو ڈھونڈنے چل پڑیں۔
    ایک دکان پر باؤ جی مل گئے تو اماں جی نے انہیں آواز دی اور پاس بلا کر ساری بات بتا دی۔

    باؤ جی نے اماں جی کو ساتھ لیا اور اسکول پہنچ گئے،
    جہاں چار بچوں کو پرنسپل نے دفتر میں بٹھا رکھا تھا۔

    باؤ جی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور چھوٹے باؤ جی کو گردن سے پکڑ کر دو تھپڑ لگا دیے۔

    پرنسپل نے انہیں منع کیا اور کہا:
    "والدین نے ساری ذمہ داری اسکول پر ڈال دی ہے، کچھ اپنی ذمہ داری کو بھی نبھائیں۔
    آپ کا بچہ کلاس میں ایک جدید طرز کا نشہ پی رہا تھا۔
    جو بظاہر خوشبو دار اور خوش ذائقہ محسوس ہوتا ہے،
    لیکن اس کا ایک کش کئی سگریٹ پینے کے برابر ہے۔
    شروع میں یہ کچھ نہیں کہتا لیکن اندر ہی اندر پھیپھڑوں کا ستیاناس کر دیتا ہے۔
    پورا جسم مفلوج ہونے کا سو فیصد یقین ہوتا ہے۔
    یہ نشہ اب فیشن بن چکا ہے اور عام ہو گیا ہے۔
    یہی نشہ بعد میں سگریٹ، چرس اور ہیروئن تک لے جاتا ہے۔
    یہ نشہ نوجوان نسل کے ساتھ ساتھ چھوٹے بچوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے،
    کیونکہ وہ یہ اچھوتی چیز دیکھ کر اس کی جانب توجہ کریں گے اور کہیں چھپ کر اس کو استعمال بھی کریں گے۔

    خدارا اپنے بچوں کو اس سے بچائیں۔ اس سے پہلے کہ پچھتاوا ہو۔۔۔ کیونکہ بعد میں صرف پچھتاوا ہی بچے گا۔”

    باؤ جی نے چھوٹے باؤ جی کی طرف دیکھا اور پوچھا:
    "یہ کہاں سے لائے ہو؟”

    اس نے بتایا:
    "آن لائن منگوایا تھا۔۔۔”

    پرنسپل نے کہا:
    "آپ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں، ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔
    یہ نشہ ذائقہ دار تو ہے لیکن اس کا نقصان بہت سنگین ہے۔
    ویسے بھی ہمارا مذہب ہر طرح کے نشے پر سختی سے منع کرتا ہے۔”

    اماں جی اس وقت خاموش تھیں،
    کیونکہ انہوں نے گھر جا کر جو خاطر تواضع کرنی تھی
    اس کا مکمل خاکہ وہ سوچ بیٹھی تھیں۔

  • سگریٹ پر ٹیکس: غریب کی پہنچ سے دوری اور معاشرتی ذمہ داری کی اصل روح،تحریر:مدیحہ کنول

    سگریٹ پر ٹیکس: غریب کی پہنچ سے دوری اور معاشرتی ذمہ داری کی اصل روح،تحریر:مدیحہ کنول

    سگریٹ پر ٹیکس: غریب کی پہنچ سے دوری اور معاشرتی ذمہ داری کی اصل روح
    تحریر:مدیحہ کنول
    سگریٹ پر ٹیکس کا اضافہ، بظاہر تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کا ایک مؤثر حربہ نظر آتا ہے، مگر کیا ہم نے کبھی اس کے دوسرے رخ اور گہرے سماجی اثرات، خاص طور پر غریب طبقے پر پڑنے والے مضمرات پر غور کیا ہے؟ جب سگریٹ مہنگا ہوگا تو یقیناً وہ غریب کی دسترس سے دور ہو جائے گا، مگر کیا یہ حقیقی معنوں میں تمباکو نوشی کے خاتمے کی ضمانت ہے یا صرف ایک نئی اور گمبھیر مشکل کا آغاز؟

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ غریب طبقہ اکثر شدید ذہنی دباؤ، بے روزگاری، اور نامساعد معاشی حالات سے نبرد آزما رہتا ہے۔ ایسے میں سگریٹ، جو بعض اوقات ایک سستی "تفریح” یا "عارضی سکون” کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ اگر اس پر بے تحاشا ٹیکس لگا دیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ دیر کے لیے اس سے دور ہوں، مگر اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ غیر معیاری، مضر صحت اور سستے متبادلات کی طرف راغب ہو جائیں گے۔

    یہ عمل نہ صرف ان کی صحت کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوگا بلکہ اسمگلنگ اور کالا بازاری جیسے غیر قانونی دھندوں کو بھی فروغ دے سکتا ہے، جو معاشرے میں مزید بگاڑ کا سبب بنے گا۔

    حکومت اور معاشرے کی اصل ذمہ داری صرف سگریٹ کو مہنگا کرنا نہیں، بلکہ غریب طبقے کو تمباکو نوشی کی وجوہات سے نجات دلانا ہے۔ اس کے لیے انہیں بہتر صحت کی سہولیات، ذہنی صحت کے مشاورتی پروگرامز، متبادل روزگار کے مواقع، اور صحتمندانہ تفریح کی سستی و قابلِ رسائی سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔ ہمیں پہلے مسئلہ کی جڑ پر ضرب لگانا ہوگی۔

    سگریٹ مہنگا کرنے کی بجائے، اس کے نقصانات سے آگاہی کے جامع اور مؤثر پروگرام چلائے جائیں اور ترک کرنے کے لیے باقاعدہ بحالی مراکز قائم کیے جائیں جو غریبوں کی بآسانی رسائی میں ہوں۔ فرض کیجیے، ایک مزدور جو دن بھر کی مشقت کے بعد سگریٹ سے لمحاتی سکون حاصل کرتا ہے، اگر وہ اس سے محروم ہو جائے، تو اس کی نفسیاتی حالت مزید بگڑ سکتی ہے۔

    اصل بہتری سگریٹ کی قیمت بڑھانے سے نہیں، بلکہ شعور بیدار کرنے، صحت مند متبادل فراہم کرنے اور غریب کے بنیادی سماجی و معاشی مسائل حل کرنے سے آئے گی۔ صرف قیمتوں میں اضافہ کر کے ہم مسئلے کی جڑ کو نہیں کاٹ سکتے، بلکہ اسے ایک نئی شکل میں ابھرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں، جو طویل مدت میں معاشرے کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو گا۔ ہمیں رحمدلانہ مگر دور اندیشانہ حل کی جانب بڑھنا ہو گا۔

  • سگریٹ کا پیکٹ، غریب کی جیب میں زہر، قوم کی صحت پر حملہ.تحریر: لائبہ

    سگریٹ کا پیکٹ، غریب کی جیب میں زہر، قوم کی صحت پر حملہ.تحریر: لائبہ

    سگریٹ کا پیکٹ، غریب کی جیب میں زہر، قوم کی صحت پر حملہ
    تحریر: لائبہ
    آج کل جب ہم باہر نکلتے ہیں تو ہر دوسرے مرد، بچے یا بوڑھے کے ہاتھ میں سگریٹ دیکھتے ہیں۔ کچھ عادت سے مجبور ہو کر پیتے ہیں، کچھ غم کو بھلانے کے لیے، کچھ خوشی میں اور کچھ صرف لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے۔ عورتیں اور بچیاں بھی آہستہ آہستہ اس طرف آ رہی ہیں۔

    سگریٹ پینا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے، خاص طور پر اگر نوجوان نسل کو دیکھا جائے تو، اور کمانے والے غریب طبقے کے لیے تو یہ ایک زہر ہے … پودے خاندان کو تباہ کرنے والی چیز ہے سگریٹ …!!

    جن گھروں میں کمانے والا ایک ہے اور پورے گھر کا نظام اُس کی کمائی اور صحت پر انحصار کرتا ہے، اگر وہی شخص سگرٹ نوشی میں خود کو اور اپنے پیسوں کو برباد کرے گا تو ایک اچھا معاشرہ کیسے بن پائے گا؟ ایک خاندان کیسے چل پائے گا؟ معصوم بیٹیوں اور بیٹوں کی تربیت و تعلیم کیسے ہو پائے گی…؟؟؟؟

    اگر ……. اس مسئلے کا ایک حل سوچا جائے کہ:

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا۔!!!

    تو کیا واقعی ہمیں مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی؟

    حکومت سگریٹ پر ٹیکس لگا کر لوگوں کو سگریٹ سے دور رکھنے کی کوشش تو کرتی ہے، لیکن شاید اس پر عمل نہیں ہو پاتا یا زیادہ دیر اس کا اثر نہیں رہتا۔۔۔!!!

    اب یہاں کچھ سوال ہم سب کے ذہن میں آتے ہیں کہ:

    سگریٹ پر ٹیکس لگانے سے کیا واقعی غریبوں پر، ان کی صحت پر اور ان کے ذہن پر کوئی اثر پڑے گا؟

    کیا ان کے لئے سگرٹ سے دور رہنا بہت مشکل کام ہوگا؟

    کیا واقعی غریب لوگوں کو صحت مند اور خوشگوار زندگی گزارنے میں مدد ملے گی۔۔۔؟

    اگر ہم اس پر بات کریں تو حکومت کو چاہیے کہ سگریٹ خریدنے پر بھاری ٹیکس لگایا جائے، شہریوں پر فائن لگائے جائیں، ان کو سزائیں دی جائیں۔

    جس سے کافی مقدار میں ہمیں رقم موصول ہوگی، جس سے ہم بہت سے کام کر سکیں گے، بہت سے غریب شہریوں کی مدد ہو سکے گی، غریب بچوں کی تعلیم کا خرچہ اٹھایا جا سکتا ہے، بیوہ عورتوں کو ماہانہ خرچہ دیا جا سکتا ہے، اور وہ لوگ جن کے خاندان پہلے سے ہی سگریٹ نوشی کی وجہ سے مشکل میں ہیں یا جن کے کمانے والے اس سگرٹ نوشی کی وجہ سے ہی دنیا سے چل بسے ہیں، ان خاندانوں کی مدد بھی ہو سکتی ہے۔

    اگر ہم ٹیکس کی بات کریں تو اس کا مقصد صرف شہریوں کو سگریٹ کے نقصانات سے بچانا ہے۔ یوں جب ٹیکس لگے گا تو بہت سے غریب سگریٹ خریدنا کم کر دیں گے۔

    اس سے نہ صرف ان کے پیسے بچیں گے بلکہ ان کی صحت بھی بہتر ہو جائے گی اور وقت کے ساتھ ساتھ شاید یہ عادت بھی ختم ہو جائے۔

    جو عقلمند شہری ہیں وہ یہ ضرور سوچیں گے کہ اگر سگریٹ زندگی میں نہیں ہے تب بھی ان کی زندگی چل رہی ہے اور وہ اس عادت کو خود پر حاوی ہونے نہیں دیں گے بلکہ اس کو چھوڑ دیں گے۔

    ٹیکس لگانے کے ساتھ ساتھ ہمیں شہریوں کے دماغ میں یہ بات بھی ڈالنی پڑے گی کہ اس کے نقصان بہت زیادہ ہیں۔ شہریوں کو ٹی وی پر دکھائی جانے والے اشتہارات، دیواروں پر لگے اشتہارات کے ذریعے سمجھانا بھی ضروری ہوگا۔

    ان کو یہ بھی دکھانا ہوگا کہ سالانہ سگریٹ نوشی سے کتنی اموات ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے خاندانوں کو بھی ضرورت ہے کہ وہ بھی ان کے دماغوں میں یہ بات ڈالیں۔

    کچھ عرصے میں ہمیں نہ صرف ان کی صحت بلکہ معاشرتی اور معاشی حالات میں بھی تبدیلی نظر آئے گی۔ اور انہی لوگوں میں ایسے بہت سے لوگ ہوں گے جو واقعی اپنی غلطی کو تسلیم کریں گے۔ یہاں ہماری سوسائٹی کا کام ہے کہ ایسے لوگوں کی تعریف کی جائے، ان کو ایپریشیٹ کیا جائے تاکہ وہ خوشی محسوس کریں اپنے اس قدم پر۔ اور یقینا ایسے ہی لوگ باقی لوگوں کی بھی مدد کریں گے اس عادت کو چھوڑنے میں۔

    ایسے بہت سے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور ان کو خود پر یقین ہوگا کہ واقعی وہ کسی بری عادت کو چھوڑ بھی سکتے ہیں۔

    ٹیکس لگانا ایک بہت اچھا قدم ہوگا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذہن میں تبدیلی لانا بھی ضروری ہے کیونکہ تبدیلی انسان کے اندر ہوتی ہے۔ جب تک ہم اسے باہر نہیں لاتے، کوئی بھی نہیں لا سکتا۔ ذہنی طور پر سب کو تیار کرنا بھی بہت ضروری ہے۔

    ایک اچھی سوچ اور قدم بہت سی تبدیلیاں لا سکتا ہے…

    ہم یہ سب ذمہ داریاں ایک ساتھ پوری کریں گے تبھی ایک صحت مند، اچھا اور خوشگوار معاشرہ بنا پائیں گے، اپنے خاندانوں کو اچھی زندگی دے پائیں گے، اور اپنے ملک کی مدد کر سکیں گے، ریونیو جنریٹ کر سکیں گے، قرض اتار سکیں گے۔

    پاکستان زندہ باد

  • سگریٹ پر ٹیکس ، بوجھ یا بچاؤ؟تحریر: سعد فاروق

    سگریٹ پر ٹیکس ، بوجھ یا بچاؤ؟تحریر: سعد فاروق

    سگریٹ پر ٹیکس ، بوجھ یا بچاؤ؟
    تحریر: سعد فاروق
    ہمارے ہاں ایک عجیب مزاج پروان چڑھ چکا ہے ، حکومت کوئی بھی اقدام کرے، اس کی نیت اور افادیت کو فوراً شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ خاص طور پر جب بات سگریٹ جیسے "عوامی نشے” پر ٹیکس کی ہو، تو ایک مخصوص حلقہ چیخ اٹھتا ہے: "غریب کے منہ سے آخری خوشی بھی چھین لی گئی!” لیکن سوال یہ ہے: کیا واقعی سگریٹ پر ٹیکس غریب پر ظلم ہے؟ یا یہ ایک ایسا تلخ مگر ناگزیر فیصلہ ہے جو لاکھوں زندگیاں بچا سکتا ہے؟

    تمباکو نوشی کو ایک "معمولی لت” سمجھنے والا طبقہ شاید اس کے اصل چہرے سے ناواقف ہے۔ یہ صرف ایک سگریٹ نہیں، بلکہ زہر میں بجھا ہوا تیر ہے جو ہر کش کے ساتھ جسم کے کسی نہ کسی عضو کو زخمی کرتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق، دنیا بھر میں ہر 6 سیکنڈ میں ایک انسان تمباکو سے جڑی بیماری کے سبب جان کی بازی ہار جاتا ہے۔ پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد اموات تمباکو نوشی سے وابستہ امراض جیسے پھیپھڑوں کے سرطان، دل کی بیماریوں، سانس کی تکالیف اور فالج کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

    یہ صرف تمباکو نوش بننے والے فرد ہی کا نقصان نہیں، بلکہ اس کے خاندان، دوست احباب، اور بالخصوص غیرتمباکو نوش افراد بھی اس زہریلے دھوئیں کے نتیجے میں "ثانوی تمباکو نوشی” (Passive Smoking) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال 40 ہزار سے زائد بچے اور خواتین اس ثانوی دھوئیں کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

    اکثر کہا جاتا ہے کہ سگریٹ کی صنعت حکومت کو ریونیو دیتی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی سے جڑے طبی اخراجات اور معاشی نقصان کا سالانہ تخمینہ تقریباً 615 ارب روپے ہے، جب کہ حکومت کو اس صنعت سے صرف 200 ارب روپے کے لگ بھگ ٹیکس حاصل ہوتا ہے۔ یعنی ہم تین گنا نقصان اٹھا کر ایک گنا آمدنی لے رہے ہیں۔

    بین الاقوامی سطح پر تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے جو سب سے مؤثر طریقہ تسلیم کیا گیا ہے، وہ سگریٹ کی قیمت میں اضافہ ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق سگریٹ کی قیمت میں 10 فیصد اضافے سے تمباکو نوشی کی شرح میں کم از کم 4 فیصد کمی آتی ہے — اور غریب طبقے میں یہ شرح اور بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلپائن، ترکی، تھائی لینڈ، اور برطانیہ جیسے ممالک نے سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگا کر کروڑوں زندگیاں بچائی ہیں۔

    پاکستان میں 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں سے کم از کم 20 فیصد تمباکو نوش ہیں۔ ان میں بڑی تعداد نوجوانوں اور کم آمدنی والے مزدوروں کی ہے۔ یہ افراد نہ صرف اپنی صحت، بلکہ اپنے خاندان کی کفالت اور بچوں کی تعلیم و خوراک کو بھی نظر انداز کرتے ہیں۔ ایک دیہاڑی دار اگر روزانہ ایک ڈبیا سگریٹ پی رہا ہے تو وہ مہینے میں 3,000 روپے صرف دھواں خریدنے پر لگا رہا ہے — اتنی رقم میں بچوں کی فیس، راشن، یا دوائی آ سکتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس لگانا دراصل صحت پر سرمایہ کاری ہے۔ اس اقدام سے صرف صحت عامہ نہیں بچتی، بلکہ معاشی بوجھ بھی کم ہوتا ہے، اور غریب طبقے کو ایک صحت مند زندگی گزارنے کا موقع ملتا ہے۔

    یہ بھی سچ ہے کہ صرف ٹیکس لگا دینا کافی نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ:

    تمباکو نوشی کے خلاف وسیع تر آگاہی مہم شروع کرے، خاص طور پر تعلیمی اداروں، اسپتالوں، اور پبلک ٹرانسپورٹ پر۔

    نشہ چھڑانے کے مراکز قائم کرے جہاں مفت یا سبسڈی کے ساتھ علاج ممکن ہو۔

    بچوں اور خواتین کو ثانوی دھوئیں سے بچانے کے لیے سخت قوانین بنائے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنائے۔

    صحت کے شعبے میں ٹیکس آمدنی کو شفاف انداز میں استعمال کیا جائے تاکہ عوام کو یہ یقین ہو کہ ان کی قربانی کا فائدہ انہی کو واپس مل رہا ہے۔

    اسلامی تعلیمات بھی ہمیں اپنی جان کی حفاظت کا درس دیتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "لا ضرر و لا ضرار” (نہ خود نقصان پہنچاؤ، نہ کسی اور کو)۔ جب ایک سگریٹ پینے والا فرد خود بھی متاثر ہو اور دوسروں کو بھی نقصان پہنچائے، تو اس پر روک ٹوک نہ کرنا دراصل بے حسی ہے۔

    ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنی عوام کی صحت کی حفاظت کرے، چاہے اس کے لیے سخت فیصلے کیوں نہ کرنے پڑیں۔ سگریٹ پر ٹیکس محض مالی اقدام نہیں، یہ ایک اخلاقی، طبی اور معاشرتی ضرورت ہے — ایک ایسا قدم جس کا فائدہ نسلوں تک پہنچے گا۔

    اگر اس اقدام سے چند نوجوان سگریٹ پکڑنے سے رک جائیں، اگر چند مائیں اپنے شوہروں کو نشہ چھوڑتے دیکھیں، اگر چند بچے ثانوی دھوئیں سے محفوظ رہیں — تو یہ ٹیکس ان کے لیے ایک بوجھ نہیں بلکہ زندگی کا ایک نیا آغاز ہے۔

    سگریٹ کی قیمت اگر بڑھ بھی جائے، تو یہ بہت کم قیمت ہے اُس سانس کے مقابلے میں جو بچ سکتی ہے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا،تحریر:عبداللطیف

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا،تحریر:عبداللطیف

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا
    تحریر:عبداللطیف
    ہر سال 31 مئی کو دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں تمباکو کے نقصانات سے متعلق شعور بیدار کیا جا سکے۔ یہ دن ایک
    موقع ہے جب ہم اجتماعی طور پر یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ تمباکو سے نجات صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بھلائی کا ذریعہ ہے۔

    اس سال ایک اہم سوال یہ ہےکہ "کیا سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگانا درست ہے؟ کیا یہ غریب عوام پر بوجھ بنے گا یا ان کی صحت کے تحفظ کا ذریعہ بنے گا؟”

    بظاہر یہ اعتراض درست معلوم ہوتا ہے کہ ٹیکس بڑھنے سے سگریٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا، جو غریب طبقے کی پہنچ سے اسے دور کر دے گا۔ لیکن یہی بات دراصل اس پالیسی کی کامیابی کی دلیل ہے۔ جب کوئی چیز مہنگی ہو جائے تو اس کا استعمال قدرتی طور پر کم ہو جاتا ہے، خاص طور پر نچلے طبقے میں، جو عموماً تمباکو نوشی سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

    تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے سے نہ صرف تمباکو نوش افراد کی تعداد میں کمی آتی ہے، بلکہ نوجوانوں میں اس کی شروعات روکنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ ٹیکس صحت کو بہتر بنانے کا ایک مؤثر ہتھیار ہے، جو کہ طویل المدت میں غریب عوام کو بیماریوں، علاج کے اخراجات اور وقت سے پہلے موت سے بچاتا ہے۔

    یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ حکومت کو جو آمدنی تمباکو ٹیکس سے حاصل ہوتی ہے، اسے اگر صحت کے شعبے، تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہمات اور علاج کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ پوری قوم کے لیے ایک سرمایہ ثابت ہو سکتی ہے۔

    لہٰذا، "سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا” یہ اعتراض نہیں، بلکہ تمباکو نوشی کی روک تھام کی ایک کامیاب حکمتِ عملی ہے۔ اگر ہم واقعی غریبوں کی فکر کرتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی صحت کے محافظ بنیں، نہ کہ سگریٹ تک ان کی آسان رسائی کے وکیل۔

    آئیے! اس عالمی دن پر یہ عہد کریں کہ ہم صحت کو ترجیح دیں گے، اور ایسی پالیسیوں کی حمایت کریں گے جو آنے والی نسلوں کو تمباکو کے زہر سے بچا سکیں۔