Baaghi TV

Category: بلاگ

  • افغان امن عمل.تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    افغان امن عمل.تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    ‎سال 1988 میں ایک کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ افغانستان میں غیرملکی افواج کی موجودگی برداشت نہیں کی جائے گی اور غیر ملکی افواج کے انخلاء کی حمایت کی جائے گی، اس میٹنگ میں امریکہ پیش پیش تھا اور یہ قرارداد روس کے خلاف تھی کیونکہ انکی افواج افغانستان میں موجود تھی۔۔۔‏ٹھیک 31 سال بعد 2019 میں یہ اعلان کیا گیا افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی برداشت نہیں کی جائے گی اور غیر ملکی افواج کی انخلاء کی حمایت کی جائے گی، اس میٹنگ میں روس پیش پیش تھا اور یہ قرارداد امریکہ کےخلاف تھی، تاریخ نے 30 سال بعد ایک دفعہ پھر خود کو دوہرایا _ اور تقریبا وہی کچھ ہوا جو 30 سال پہلے ہوا، امریکی فوج کا جلد بازی میں افغانستان سے انخلاء ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اربوں ڈالرز لگانے کے باوجود 20 سالہ جنگ ہار گیا

    یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان دو مختلف تنظیمیں ہیں، طالبان کا آغاز جہاد اور اسلامی نظام کے قیام کے اعلان سے ہوا جبکہ تحریک طالبان پاکستان بھارت اور غیرملکی ایجنسیوں کی آلہ کار ہے، گزشتہ کئی سال سے افغانستان میں موجود بھارتی سفارتخانے پاکستان کے خلاف منظم سازشوں میں ملوث رہے ہیں، ہر دہشتگردی کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے تھے، امریکی انخلاء کے بعد بھارت کی سرمایہ کاری بھی ڈوب گئی

    امریکی اںخلاء کے بعد طالبان تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں جبکہ افغان حکومت شدید دباؤ کا شکار ہے اور اسی دباؤ کی وجہ سے آئے دن اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جارہا ہے حالانکہ پاکستان کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھارہا ہے، طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے پاکستان نے ہر ممکن تعاون فراہم کیا، افغانستان میں کاروائیوں کے لیے فضائی اڈوں کی امریکی خواہش کو پاکستان نے Absolutely Not جیسے واضح الفاظ کے ساتھ مسترد کیا اور افغانستان کو باور کرایا کہ ہم اپنی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اسلئے آپ بھی سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہونے والے دہشتگردوں کا راستہ روکیں

    افغان حکومت اور طالبان کا موجودہ تنازعہ انکا اندرونی معاملہ ہے لیکن پاکستان ہر سطح پر معاونت کی پیشکش کا اظہار کرچکا ہے کیونکہ پرامن افغانستان ہی پرامن خطے کی ضمانت ہے، روس، چین، ایران اور پاکستان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قابل عمل معاہدے کی کوشش میں ہیں، جبکہ بھارت نے گزشتہ ہفتے اسلحے سے بھرے جہاز افغانستان پہنچا کر یہ واضح کردیا ہے کہ وہ افغان طالبان کے خلاف افغان حکومت کا ہر ممکن ساتھ دے گا چاہے اسکے لئے امن کو داؤ پر لگانا پڑے

    اچھی بات یہ ہے کہ امریکی انخلاء کے پیش نظر پاکستان نے کافی حد تک تیاری مکمل کرلی تھی، 2600 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے کا کام تکمیل کے مراحل میں ہے، باڑ لگاتے وقت پاک فوج نے شہادتوں کے نذرانے دئیے لیکن اس کٹھن کام کی رفتار میں کمی نہ آنے دی، موجودہ حالات میں مزید افغان مہاجرین کی آمد متوقع ہے جنہیں سرحد کے قریب ہی ٹھہرایا جائے گا، جبکہ آئندہ ہفتے اسلام آباد میں افغان امن کانفرنس بھی منعقد ہونے جارہی ہے، انتظار کرنا ہوگا کہ افغان حکومت ماضی کی طرح الزامات لگاتی رہے گی یا پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہے گی

  • امریکی اڈے اور پاکستان کی افغان پالیسی.تحریر:احمد فراز گبول

    امریکی اڈے اور پاکستان کی افغان پالیسی.تحریر:احمد فراز گبول

    گزشتہ کچھ روز سے مختلف سوشل پلیٹ فارمز پر ایک ایشو کو لے کر بہت زیادہ گفت و شنید دیکھنے میں آ رہی ہے اور پاکستانی عوام بھی ایک شش و پنج میں مبتلا ہے کہ کیا واقعی پاکستان نے امریکہ کو ملٹری بیس فراہم کر دیئے ہیں یا نہیں؟ یہ ٹاپک پینٹاگون سے لے کر پاکستان کے پسماندہ علاقوں کے چائے کے ڈھابوں تک برابر زیرِ بحث ہے۔ آئیے آج اس معاملے کے کچھ حقائق کی کھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔
    جب سے امریکی انخلا کی خبریں آنی شروع ہوئیں ساتھ ہی افغان طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے 34 میں سے 26 صوبوں میں اس وقت جنگ جاری ہے گزشتہ دو دنوں میں افغان طالبان کا نشانہ بننے والے افغان سیکیورٹی فورسز کے مقتولین کی تعداد 150 سے بڑھ چکی ہے۔ اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ کیا واقعی یہ اعدادوشمار شمار درست ہیں یا امریکہ کو ہوائی اڈوں کی فراہمی کے لئے حالات کو سازگار بنانے کے لئے گراؤنڈ ورک کیا جا رہا ہے
    گزشتہ دنوں امریکہ کے انڈو پیسفک افیئرز کے نائب دفاعی سیکریٹری نے کہا تھا کہ پاکستان امریکہ کو اپنی سرزمین پر اڈے دینے کو تیار ہے، تاکہ انخلا کے بعد امریکہ خطے پر اپنی نظر رکھ سکے اور افغانستان میں امن کو یقینی بنا سکے۔ جبکہ دوسری جانب وزیرِ خارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی نے اس عمل کی ناصرف سختی سے تردید کی ہے بلکہ واضح بھی کر دیا ہے کہ پاکستان امریکہ کو اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں دے گا۔
    ماضی میں دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں شامل ہو کر پاکستان نے بہت زیادہ نقصان اٹھایا۔ ہماری معیشت تباہ ہوئی، بے شمار جانی نقصان ہوا، پاکستان خود دہشتگردوں کا ہدف بن گیا اور دنیا بھر میں پاکستان کو دہشتگرد ریاست ڈیکلیئر کرنے کے لئے انڈین لابی نے زمین آسمان کے قلابے ملا دیئے۔ اس کے علاوہ منشیات اور کلاشنکوف کلچر رائج ہوا جس کے نتائج پاکستان آج بھی بھگت رہا ہے۔ اگر دنیا میں کسی ملک نے دہشتگردی کے خلاف حقیقی قربانیاں دی ہیں تو وہ پاکستان ہے لیکن اس کے باوجود بھی "ڈو مور” اور "دہشتگرد” جیسے خطابات بھی پاکستان کو دیئے گئے۔ لیکن اب پاکستان کی موجودہ قیادت یہ غلطی دہرانے کے لئے تیار نظر نہیں آ رہی۔ جس کے پیچھے اور بھی بہت سارے عناصر ہیں۔
    اگر ہم کچھ اندرونی معاملات پر نظر دوڑائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت معاشی اور تجارتی حوالے سے دنیا کے تین ملک آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ امریکہ، روس اور چین۔ جن میں سے دو ملک ایشیائی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی امریکہ ایشیا پر کسی نہ کسی طرح اپنا تسلط جمائے ہوئے ہیں جو کہ باقی ایشیائی ممالک کے لئے تجارتی مسائل کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی ایشو بھی ہے۔ فرض کریں اگر امریکہ کا افغانستان سے مکمل انخلا ہو جاتا ہے تو خطے میں امریکہ کی موجودگی ختم ہو جائے گی اور دنیا پر اپنی چودھراہٹ قائم کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں اپنی لابی افغانستان میں بیٹھ کر کنٹرول کر رہا تھا جو کہ روس اور چین کے لئے بھی مسئلہ تھا۔ لیکن اب امریکی انخلا کے بعد روس اور چین کے لئے میدان صاف ہو جائے گا، جو کہ امریکہ نہیں چاہتا اس لئے پاکستان کے انکار کے بعد امریکہ نے ازبکستان اور تاجکستان سے بھی زمینی اور فضائی رسائی کی ڈیل کرنا چاہی جو کہ چین کے پریشر کی وجہ سے ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے۔ کیونکہ ان ممالک کی سرحدیں چین کے قریب ہیں۔ روس اور چین کے علاوہ افغان طالبان بھی خبردار کر رہے ہیں کہ کوئی ہمسایہ ملک امریکہ کو اڈے دینے کی غلطی نا کرے۔

    کچھ عرصہ پہلے روس کی طرف سے پاکستان کو "بلینک چیک” کی آفر بھی اسی حوالے سے تھی تاکہ پاکستان امریکہ کی مزید مدد نہ کرے اور خطے کو امریکہ سے خالی کیا جا سکے۔
    اگر ہم پاکستان کے حالات دیکھیں تو پاکستان نے "منٹھار بس تھیوری” چھوڑ کر ایک مناسب اور مضبوط حکمت عملی اپنا لی ہے۔ اب بجائے کسی لابی کا حصہ بننے کے پاکستان اپنی خودمختاری کو منوا رہا ہے۔ پاکستان اب جی حضوری کی بجائے جارحانہ حکمت عملی پر گامزن ہے اور ساتھ پاکستان اب چین کا معاشی شراکت دار بھی بن چکا ہے۔ کوئی بھی کاروباری انسان جھگڑوں کا شوقین نہیں ہوتا اس لئے اب پاکستان نے بھی بجائے جنگ کے معاشی سوچ اپنا لی ہے۔ سی پیک و بیلٹ اینڈ روڈ اور افغان جنگ ایک ساتھ نہیں چل سکتے اس لئے پاکستان نے وہی فیصلہ کرنا تھا جو اپنے مفادات کا دفاع کرے لہٰذا پاکستان نے جنگی راستہ چھوڑ کر معاشی راستہ اپنایا۔
    امریکی انخلا اور عدم موجودگی کا سب سے بڑا فائدہ چین کو ہو گا۔ چینی سرمایہ کار افغانستان کے ذریعے ایران اور مشرق وسطیٰ تک رسائی حاصل کر لیں گے۔ ساتھ ہی وسط ایشیائی ممالک اور افغانستان بھی سی پیک تک آسان رسائی حاصل کر سکیں گے۔ جبکہ دوسری طرف روسی اسلحے کی انڈسٹری کے بھی چمکنے کے امکانات ہیں۔ کیونکہ یورپ کے بعد پورے ایشیا میں صرف افغانستان ہی امریکہ کا دفتر بنا ہوا تھا جس کی وجہ سے امریکہ اپنی چودھراہٹ کے ساتھ ساتھ دکانداری بھی چمکا رہا تھا جو کہ اب کھٹائی میں پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
    موجودہ حالات اور روس کی پاکستان کے ساتھ بڑھتی دلچسپی کے پیشِ نظر یہی نظر آ رہا ہے کہ افغانستان سے امریکہ کو نکالنا بھی روس اور چین کا پلان تھا جو پاکستان کے ذریعے مکمل ہوا اور مستقبل میں بھی امریکہ کو اس خطے میں کوئی اڈہ یا ٹھکانہ نہیں ملے گا۔ آنے والا دور اسلحے اور بارود کا نہیں بلکہ ایک مستحکم اور معاشی پاکستان کا دور ہے، سی پیک کا دور ہے اور گوادر کے عروج کا زمانہ ہے۔ لہٰذا یہ اڈوں اور جنگوں کے قصے اب نہیں دہرائے جائیں گے۔
    نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
    زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
    اللہ پاک وطنِ عزیز کو سلامت رکھے۔ پاکستان زندہ باد

  • پردے کی اہمیت.تحریر شمس الدین

    پردے کی اہمیت.تحریر شمس الدین

    اسلام میں پردے کے لحاظ سے عورتوں کے لیے پردے کا خاص حکم ہے. قرآن مجید میں پردے کے بارے میں آیتیں بھی نازل ہوئی ہیں….

    اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے،
    اور آپ مومن عورتوں كو كہہ ديجئے كہ وہ بھى اپنى نگاہيں نيچى ركھيں اور اپنى شرمگاہوں كى حفاظت كريں، اور اپنى زينت كو ظاہر نہ كريں، سوائے اسكے جو ظاہر ہے، اوراپنے گريبانوں پر اپنى اوڑھنياں ڈالے رہيں، اور اپنى آرائش كو كسى كے سامنے ظاہر نہ كريں، سوائے اپنے خاوندوں كے، يا اپنے والد كے، يا اپنے سسر كے، يا اپنے بيٹوں كے، يا اپنے خاوند كے بيٹوں كے، يا اپنے بھائيوں كے، يا اپنے بھتيجوں كے، يا اپنے بھانجوں كے، يا اپنے ميل جول كى عورتوں كے، يا غلاموں كے، يا ايسے نوكر چاكر مردوں كے جو شہوت والے نہ ہوں، يا ايسے بچوں كے جو عورتوں كے پردے كى باتوں سے مطلع نہيں، اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار كر نہ چليں كہ انكى پوشيدہ زينت معلوم ہو جائے، اے مسلمانو! تم سب كے سب اللہ كى جانب توبہ كرو، تا كہ تم نجات پا جاؤ النور ( 31 ).

    اس طرح ایک اور آیت میں ہے،
    بڑى بوڑھى عورتيں جنہيں نكاح كى اميد ( اور خواہش ہى ) نہ رہى ہو وہ اگر اپنى چادر اتار ركھيں تو ان پر كوئى گناہ نہيں، بشرطيكہ وہ اپنا بناؤ سنگھار ظاہر كرنے والياں نہ ہوں، تاہم اگر ان سے بھى ا حتياط ركھيں تو ان كے ليے بہت بہتر اور افضل ہے، اور اللہ تعالى سنتا اور جانتا ہے النور ( 60 ).

    ایک اور آیت ہے،
    اے ايمان والو! جب تك تمہيں اجازت نہ دى جائے تم نبى كے گھروں ميں كھانے كے ليے نہ جايا كرو، ايسے وقت ميں كہ پكنے كا انتظار كرتے رہو، بلكہ جب تمہيں بلايا جائے تو جاؤ، اور جب كھا كر فارغ ہو چكو تو نكل كھڑے ہو، اور وہيں باتوں ميں مشغول نہ ہو جايا كرو، نبى كو تمہارى اس بات سے تكليف ہوتى ہے، تو وہ لحاظ كر جاتے ہيں، اور اللہ تعالى ( بيان ) حق ميں كسى كا لحاظ نہيں كرتا، جب تم نبى كى بيويوں سے كوئى چيز طلب كرو تو پردے كے پيچھے سے طلب كرو، ، تمہارے اور ان كے دلوں كے ليے كامل پاكيزگى يہى ہے، نہ تمہيں يہ جائز ہے كہ تم رسول اللہ ( صلى اللہ عليہ وسلم ) كو تكليف دو، اور نہ تمہيں يہ حلال ہے كہ آپ كے بعد كسى وقت بھى آپ كى بيويوں سے نكاح كرو، ( ياد ركھو ) اللہ كے نزديك يہ بہت بڑا گناہ ہے الاحزاب ( 53 ).
    قرآن پاک میں ایک اور جگہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیںاور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے بہن، بھائیوں اور بچوں کے۔

    خواتین کو مستورات بھی کہا جاتا ہے اور مستور کا مطلب ہے چھپا ہوا، عورت کے پردہ کے حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ’’حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے کیوں کہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لئے موقع تلاش کرتا ہے‘‘ جامع ترمذی،جلد نمبر اول ، حدیث نمبر 1181۔ عورت کے پر دہ کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ اس کے لئے عبادت بھی پردہ کے بغیر اور بے پردہ جگہ پر کرنا منع فرمایا گیا ہے۔

  • نہ یہ عمران کا پاکستان نہ یہ نواز کا پاکستان نہ یہ زرداری کا پاکستان،تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    نہ یہ عمران کا پاکستان نہ یہ نواز کا پاکستان نہ یہ زرداری کا پاکستان،تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    نہ یہ عمران کا پاکستان نہ یہ نواز کا پاکستان نہ یہ زرداری کا پاکستان

    نہ یہ عمران کا پاکستان ہے
    ۔۔۔۔نہ یہ نواز کا پاکستان ۔
    ۔نہ یہ زرداری کا پاکستان ۔
    ۔۔ یہ ہے قاٸد پاکستان ۔
    ۔یہ ہے اقبال رح کا پاکستان ۔۔
    ۔یہ ہے اس کسان کا پاکستان۔۔۔
    یہ ہے اس مزدور کا پاکستان ۔۔۔۔
    یے ہے اقبال کہ شاھین کا پاکستان ۔
    ۔یہ ہے میرا پاکستان ۔۔۔
    ۔یہ ہے تیرا پاکستان ۔۔۔۔۔

    نہ ہم عمران کہ ہیں ٹاٸگر
    ۔۔۔۔۔نہ ہم ہیں نواز کے شیر ۔۔۔۔
    نہ ہم ہیں زرداری کے سپاھی ۔۔۔۔۔نہ ہم ہیں بھٹو کے جیالے ۔۔۔
    نہ ہم جمعت والے ۔۔۔
    ۔نہ ہم جماعت والے ۔۔۔۔۔۔

    ہم آج کے دور کہ اقبال ہیں
    ۔۔۔ہم پاکستان ہیں ۔۔۔۔۔۔

    اپنے صوبون سے محبت کرو ۔۔۔پر پاکستان کی قیمت پر نہیں ۔۔۔۔
    اپنی قومیت سے محبت کرو ۔۔
    ۔پر پاکستان کی قیمت پر نہیں ۔۔۔
    اپنے پارٹی سے محبت کرو
    ۔۔۔۔پر پاکستان کی
    قیمت پر نہیں۔۔۔۔
    ہاں!!!
    اپنے پسندیدہ پارٹی کو سپورٹ کرو ۔۔
    ۔پر ہرگز لاحق نہیں ۔۔۔
    ۔اگر وہ غلط ہے تو اسے غلط کہو۔۔۔
    ہاں اپنے قاٸد سے محبت کرو ۔۔۔
    ۔پر پاکستان کی قیمت پر نہیں ۔۔۔

    تم فخر سے کہتے ہو عمران کا ٹاٸگر ہوں ۔۔۔
    نواز کا شیر ہوں ۔۔
    زرداری کا سپاھی ہوں ۔۔
    بھٹو کا میں جیالا ہوں ۔۔
    جعمیت والا ہوں میں ۔۔۔۔
    جماعت والا ہوں ۔۔۔۔۔۔

    تم کیوں نہیں کہتے کہ پاکستانی ہوں ۔
    ہاں ہم پاکستان ہیں ۔۔۔۔۔ہم اقبال رح ہیں ۔
    ۔ہم ہی ہیں پاکستان
    ۔۔۔ہم ہی ہیں پاکستان ۔۔
    ۔۔ہم ہی ہیں پاکستان ۔۔۔۔۔!!!

    پاکستان زندہ باد۔۔۔
    پاکستان پائندہ باد

    حنظلہ ملک

  • اصلاح انتہائی ضروری.تحریر محمد وقاص شریف

    اصلاح انتہائی ضروری.تحریر محمد وقاص شریف

    معاشرہ کسی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، جس کی قوت اور درستی پر قوم کے وجود استحکام اور بقاء کا انحصار ہے معاشرہ کے بناؤ اور بگاڑ سے قوم براہ راست متاثر ہوتی ہے. معاشرہ اصلاح پذیر ہو تو اس سے ایک قومی، صحت مند اور با صلاحیت قوم وجود میں آتی ہے اور اگر معاشرہ بگڑا ہوا ہو تو اس کا فساد قوم کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔
    معاشرے کا کردار بننے یا بگڑنے کا عمل فی الفور مکمل نہیں ہو جاتا، بلکہ اس میں طویل مدت صرف ہوتی ہے۔ بگاڑ کی راہ پر چلنے والے معاشرہ میں اچھی اقدار ایک ایک کرکے منہدم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ نیک و بد کے بارے میں شدید احساس رکھنے والے لوگ تو اس خرابی کو جلد بھانپ جاتے ہیں، لیکن عام لوگوں پر یہ مدتوں کے بعد کھلتی ہے۔ اسی طرح معاشرہ کی اصلاح کا کام بھی ہے۔ جس طرح ایک بنیاد اٹھا کر اس پر ایک ایک اینٹ جوڑنے سے دیوار مکمل ہوتی ہے۔ اسی طرح اصلاح کا کام بھی ایک تعمیر کی منصوبہ بندی چاہتا ہے۔ جب یہ کام منصوبہ بندی کے بغیر کیا جائے تو اس کی کامیابی محل نظر ہوتی ہے۔

    قرآن مجید نے قوموں کے عروج و زوال کی جو تاریخ بیان کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قومیں جب بھی خدا اور آخرت کے تصور سے بے نیاز ہوتی ہیں یا ان کا یہ تصور ناقص ہوا ہے اور ان میں اخلاقی مفاسد سرایت کر گئے ہیں تو اگر قوم میں اصلاح احوال کا جذبہ پیدا نہیں ہوا تو وہ ہمیشہ برباد ہو گئی ہے۔ اس کی تباہی میں اس سوال کو کبھی کوئی اہمیت نہیں رہی کہ اس کے فساد کی نوعیت کیا ہے، بلکہ ہر برا عمل، خواہ اس کی نوعیت اس تکبر کی رہی ہو جو عاد اور ثمود میں تھا، اس اخلاقی گراوٹ کی رہی ہو جو قوم لوط میں پائی جاتی تھی یا اس تاجرانہ بدمعاملگی اور بد دیانتی کی ہو جس کا مظاہرہ قوم شعیب نے کیا، جب بھی وہ معاشرہ کا اجتماعی کردار بن گیا تو اس کی موت کا پیغام لے آیا۔ قرآن مجید کے اس فلسفہ کی رو سے ایک قوم کے برمندہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ معاشرہ کے اندر خدا کا خوف اور اس کے ساتھ صحیح بنیادوں پر تعلق پایا جائے۔ دلوں میں آخرت کے محاسبہ کا اندیشہ موجود ہو اور کسی بھی قسم کے فساد اعمال کو معاشرہ پر مسلط ہونے کا موقع نہ دیا جائے۔ یہ مقصد ظاہر ہے کہ صرف اس صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب قوم کے اندر اصلاح معاشرہ کے لیے ایک مسلسل جدوجہد کی جاتی رہے۔ اور کسی بھی فساد کے معاملے میں چشم پوشی سے کام لے کر اسے قوم کے اجتماعی وجود میں راہ پانے کا موقع نہ دیا جائے.

  • والدین  کی عظمت ۔ خدمت اور احساس .تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    والدین کی عظمت ۔ خدمت اور احساس .تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    میں نے جب جب بھی والدین کی عظمت، خدمت اور اُن کے احساس کے حوالے سے لکھا، مجھے اولاد کی طرف سے ڈھیروں ڈھیر شکوے، شکایتیں، دل شکن زیادتیوں کی رودادیں سُننے کو ملتی ہیں۔ میں بھی ظاہر ہے کہ آپ سب کا ہی ایک حصّہ ہوں، اسی معاشرے کا فرد ہوں، جس میں آپ زندگی گزار رہے ہیں، سو میں بھی اس طرح کے کئی سارے معاملات دیکھتا ہوں۔ اس حقیقت سے مُجھے کوئی انکار نہیں کہ برِّصغیری معاشرہ بالعموم بچّوں اور بالخصوص بیٹوں اور بہوءوں کیلئے ایک شدّید قسم کا استحصالی معاشرہ ہے۔ بیٹوں میں سے جو حسّاس ہو، احساسِ ذمہ داری کا مالک ہو، محنتی ہو اور تھوڑا سا اپنی شدّید محنت کے باعث باوسائل ہو، وہ ساری زندگی ایک نادیدہ چکّی میں پستا رہتا ہے اور اُسے اس چکّی کے پاٹوں میں پیسنے والے اُس کے والدین ہوتے ہیں، الّا ماشاءاللّٰہ۔ اور بہوءوں اور بیٹیوں کے ساتھ معاملات میں واضح منافقت اور دوہرا معیار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اب سوال۔یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب والدین زیادتی کر رہے ہوں تو اولاد کیا کرے؟؟ یہ سوال بہت بار مُجھ سے پوچھا گیا اور میں خود بھی بہت عرصے سے اس پہ لکھنا چاہ رہا تھا

    قرآنِ حکیم میں جا بجا ربِّ کائنات نے شرک کی ممانعت کے فی الفور بعد والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حُکم دیا ہے، احسان یعنی نیکی، بھلائی، خیر خواہی۔ یعنی رب کو رب تسلیم۔کرنے کے بعد سب سے اہم کام والدین کے ساتھ بھلائی ہے۔ آج اگر والدین کے حقوق کا احساس دلانے کیلئے اولاد کو والدین کی قربانیاں گنوائی جائیں تو کہا جاتا ہے کہ آپ نے اپنی خواہش سے یہ سب کیا، ہم پہ احسان نہیں کیا!!! جب کہ قرآنِ مجید نے ربِّ کائنات نے خود ماں کے احسانات گنوائے ہیں "اور ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حُکم دیا ہے، اُس کی ماں نے اُس کو بڑی مشقّت سے جنا اور اُس کو پیٹ میں رکھنا اور دودھ چھڑوانا تیس ماہ میں پورا ہوتا ہے”۔ اگر صرف اس ضمن میں قرآنی آیات ہی لکھنا شروع کر دوں تو ایک طویل تحریر مرتّب ہو جائے، احادیث اُس کے علاوہ ہیں اور والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری کی بےےے تحاشہ تاکید قرآن اور حدیث شریف میں ملتی ہے۔ اب پھر وہی سوال کہ والدین زیادتی کریں تو کیا کیا جائے۔۔

    پہلے بیٹوں سے بات کروں گا۔ دیکھیں حضراتِ محترم۔۔ سب سے پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھیں کہ آپ کے والدین بھی آپ۔کی طرح انسان ہیں۔ اُن سے فرشتوں والے معاملات کی توقّع رکھنا عبث ہے۔ آپ یہ سمجھیں کہ وہ ہر لمحہ، ہر وقت انصاف کا ترازو لے کے پھرتے رہیں گے کہ مُجھ سے زیادتی نہ سرزد ہو جائے تو یہ سعادت بہت کم والدین کے حصّے کے آتی ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں خود اپنا احتساب کر کے، اولاد کے ساتھ اپنے معاملات چلائیں۔ والدین کی اکثرہّت ایسا نہیں سوچتی۔ اگر تو آپ باوسائل ہیں اور اپنے بیوی بچّوں کے معاملات بحُسن و خوبی چلانے کے ساتھ باقی بھائیوں سے زیادہ آپ پہ ذمہ داری کا بوجھ ڈالا جاتا ہے اور آپ وہ بآسانی اُٹھانے کے قابل۔ہوں، معاشی طور پر، پھر کہوں گا کہ اپنے بیوی بچّوں کے معاملات بحُسن و خوبی ادا کرنے کے بعد، تو میرا خیال ہے کہ اس معاملے میں آپ اگر اعلٰی ظرفی کا مظاہرہ کریں گے تو آپ پہ اللّٰہ کی رحمت ضرور نازل ہو گی۔ لیکن اگر معاملات ایسے ہوں کہ جہاں۔آپ کو اپنے بیوی بچّوں کے لالے پڑے ہوں اور والدین غیر اخلاقی بوجھ ڈالیں تب آپ پہ سب سے پہلے اپنے بیوی بچّوں کے معاملات ادا کرنا فرض ہے۔ فرض کریں کہ آپ والدین کی کسی حقیقی زیادتی کے باعث اُن سے اپنے معاملات الگ کر چُکے ہیں، گھر کے اندر ہی یا گھر سے باہر کسی اور جگہ، تو کیا آپ کو والدین کو مُردہ تصوّر کر لینا چاہیئے؟؟ آپ سال سال بھر اُن سے ملیں نہ، بیوی بچّوں کو اُن سے نہ ملوائیں، اُن کی کسی ضرورت پہ نظر نہ رکھیں، کیا یہ ردِّ عمل ہونا چاہیئے؟؟ ہر گز نہیں!! آپ اُن سے الگ ہو کے دُنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں، آپ کی بنیاد، دنیا اور آخرت کی بھلائی صرف ان دو انسانوں۔کے ساتھ منسلک ہے، جو آپ کے والدین ہیں۔ یاد رکھیں کہ اگر والدین زندگی کے کسی موڑ پہ اولاد کے ساتھ زیادتی کرتے بھی ہیں تو وہ اپنی زیادتیوں، ظلم اور ناانصافیوں کیلئے ربِّ کائنات کی بارگاہ میں از خود ذمہ دار اور جوابدہ ہیں، اُن کی زیادتی آپ کی زیادتی کیلئے کبھی جواز نہیں بن سکتی. آپ اپنے حقوق کا تحفّظ کر چُکنے کے بعد اُن کے ساتھ ہر طرح سے حُسنِ سلوک کرنے کے پابند ہیں۔ وہ ناراض ہیں تو اُنہیں منائیں، بےشک آپ اُس معاملے میں واقعتاً مظلوم ہوں، تب بھی، جہاں تک ممکن ہو اُن کی ضروریات کا ازخود خیال رکھیں اور دو گھروں میں رہ کے بھی، احساس زندہ ہو تو والدین کی خدمت کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ قرآنِ حکیم۔میں مُشرک والدین کی شرک میں اطاعت سے منع فرمانے کے بعد ربِّ کائنا ت نے دُنیاوی معاملات میں اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حُکم دیا ہے۔ مُراد یہ کہ اُن۔کے وہ احکامات جن سے دین۔کے کسی بھی حُکم کی روح مجروح ہوتی ہو، وہاں اطاعت ساقط ہو جاتی ہے لیکن خدمت اس کے باوجود بھی فرض ہی رہتی ہے۔

    اب آتا ہوں بہوءوں کی طرف۔۔! آپ کو دورِ جدید کی علم۔کی فراوانی نے یہ تو بتا دیا ہے کہ ساس سُسر کی خدمت کرنا آپ پہ شرعاً فرض نہیں لیکن کسی نے آپ کو یہ نہیں بتایا کہ اسلامی قانون اور فقہ کے مطابق اخلاقی فرض شرعی فرض پہ مقدّم ہوتا ہے۔ اس کی مثال علماء کُچھ یوں دیتے ہیں کہ سوءر ایک نجس العین جانور ہے، اس کو چھونا بھی ناپاکی کا باعث بنتا ہے۔ شرعاً اس کو چھونے کی سختی سے ممانعت ہے، لیکن فرض کریں کہ آپ کہیں جا رہے ہوں اور آپ کے رستے میں ایک سوءر زخمی حالت میں موجود ہے تو اُس کی زندگی بچانے کی تگ و دو کرنا آپ کا اخلاقی فرض بن جاتا ہے، یہاں اُسے چھونے کی شرعی ممانعت ساقط ہو جائے گی اور آپ کا اخلاقی فریضہ مقدّم ہو جائے گا اور آپ اُسے اُٹھا کے طبّی امداد دینے کیلئے لے کے جائیں گے۔ تو آپ کا کیا خیال ہے کہ جن والدین کی مشقّتّوں اور رہاضتوں کا ثمر، اُن کا بیٹا آپ کی زندگی میں ہر لمحہ آسانیاں پیدا کر رہا ہے، اُن کی خدمت سے بڑا بھی کوئی اخلاقی فریضہ ہو گا؟؟ چھوٹی موٹی زیادتیوں سے ویسے ہی صرفِ نظر کر دیا کریں، جیسے شادی سے پہلے اپنی امّی کی ڈانٹ ڈپٹ اور ابّو جی کی کسی وقت کی سختی برداشت کیا کرتی تھیں۔ اگر زیادتی حد سے سوا ہو جائے تو اپنا تحفُظ ضرور کریں، اُن سے ایک فاصلہ پیدا کر لیں۔ الگ گرہستی رکھنا آپ کا حق اور آپ کے شوہر کا فرض ہے، لیکن اپنا الگ سے گھر بسانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ والدین سے قطع تعلّق کر لیا جائے، اُن کے ساتھ دل۔میں احساس، اور مروّت کا رشتہ کم از کم قائم رکھیں۔ وہ اپنی زیادتیوں کیلئے رب کی بارگاہ میں خود جوابدہ ہیں، اُن کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے بارے میں آپ سے بہر صورت سوال کیا جائے گا۔ وما علینا الّا لبلٰغ۔۔

  • راستہ اور منزل .تحریر: بختاور گیلانی

    راستہ اور منزل .تحریر: بختاور گیلانی

    انسان کو جب اس دنیا میں بھیجا گیا تو ایک مقصد کے ساتھ بھیجا گیا اور جب سے انسان اس دنیا میں آیا تو وہ اس مقصد کے حصول کے لیے محنت کرنے لگا ا اور جب اس نے اس مقصد کو سمجھنا شروع کیا اس کی جستجو کرنا شروع کی تو اس نے اس مقصد کے ساتھ ہی اپنی منزل کی راہوں کو سمجھنا شروع کر دیا ان سے مقصد کے حصول کے لیے محنت لگن اور جستجو رکھنے لگا تو وہ ایک راہ پر نکل پڑا تاکہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔
    اور کچھ ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے جب اپنی منزل کی جستجو رکھنا شروع کی مگر وہ صرف اس ڈر سے راستے پر نہ نکل  سکے کہ کہیں وہ اپنے راستے سے بھٹک نہ جائیں تو بس اس خوف نے ان کو ان کے راستے سے دور رکھا اور ان کو انکی منزل تک پہنچنے نہ دیا ۔

    جو یقین کی راہ پر چل پڑے
    انہیں منزلوں نے پناہ دی
    جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا
    وہ قدم قدم پر بہک گئے

    جب انسان منزل پر پہنچنے کے لیے سفر پر نکلتا ہے تو یقیناً وہ یقین مستحکم کے ساتھ سفر پر نکلتا ہے
    کون کہتا ہے کہ خواب حقیقت نہیں بنتے تو یاد ہوگا علامہ اقبال کا خواب  جو کہ حقیقت میں تبدیل ہوا اس کے لیے محنت لگن اور  جستجوشامل تھی۔
    جس طرح علامہ اقبال کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے لئے قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی انتھک محنت کی ہے تو پھر انہوں نے اپنی منزل حاصل کرلی قائد اعظم محمد علی جناح نے اور مستحکم کے ساتھ راستے پر سفر کیا اور اپنی منزل کی طرف گامزن ہے اور آخر کار اپنی منزل کا حصول ممکن بنایا۔

    منزل تک پہنچنے کے لیے یقین مستحکم اور جستجو کا ہونا لازم ہے ۔ ب انسان ارادہ کر لے تو کوئی طوفان اس کے ارادے کو ہرا نہیں سکتا ہے ۔پس جستجو کا ہونا لازم ہے

    لیکن یہ بات سمجھ لیں کہ تعبیروں کے سفر میں کٹھن رستوں کا آنا طے ہے۔ پریشانیوں کا ہمیں گھیر لینا بھی کوئی انوکھی بات نہیں۔ یاد رہے! خوابوں کے جزیروں میں بسنے والے مشکلات سے فرار حاصل کرنے کی بجائے ان کا سامنا کرتے ہیں اور وہ کبھی اتنے پست حوصلہ نہیں ہوتے ہیں کہ کٹھن راستوں اور تنگ گھاٹیوں کو عبور نہ کر پائیں۔ اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرنے والوں کو منزل پر پہنچنے سے پہلے ناچار ہو کر بیٹھنا نہیں آتا۔

    منزل کی جستجو میں
    کیوں پھر رہا ہے راہی!
    اتنا عظیم ہوجا کہ منزل تجھے پکارے .

  • اسلام اوردنیا کے دوسرے مذاہب میں فرق . تحریر: سید عمیرشیرازی

    اسلام اوردنیا کے دوسرے مذاہب میں فرق . تحریر: سید عمیرشیرازی

    بات اگرکی جائے اسلام غالب آنے سے پہلے کی تو دنیا کا ایک الگ رنگ دیکھنے کو ملے گا جب اسلام کا غلبہ نہیں تھا تو دوسرے مذاہب میں انسان کو انسان نہیں سمجھا جاتا تھا بالخصوص خواتین کوتو کوئی اہمیت نہیں ملتی تھی عورت کو استعمال کرنے والی مشین سمجھتے تھے یہی نہیں بلکے عورت کے حقوق بھی انکو حاصل نہ تھے ایسے میں دین محمدی کا عروج آیا اورپوری دنیا پراسلام نے غلبہ حاصل کیا۔

    اسلام کے آتے ہی شریعت محمدی نافذ ہوئی دیکھتے ہی دیکھتے دوسرے مذاہب کے لوگ جن میں کفارومشرکین جوک درجوک اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے اورآتے بھی کیوں نا اسلام ہے ہی رواداری، تقوی والا مذہب جس میں غیرمسلم کو بھی انکے حقوق حاصل تھے اسلام ہمیشہ پیارمحبت کا درس دینے والا مذہب ہے اوراسکی کھولی مثال فتح مکہ کا واقعہ ہے میں اس کی ڈیٹیل میں نہیں جاؤں گا لیکن اتنا ضرور کہوں گا اسلام جیسا امن والا مذہب پوری دنیا میں نہیں ہے.

    یہود و نصاریٰ آج پوری دنیا میں اسلام مخالف مہم چلاتے ہیں کبھی گستاخانہ خاکوں کی شکل میں تو کبھی کوئی فلم کی شکل میں مسلمانوں کو تکلیف دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انہیں یہ نہیں معلوم ہم اس مذہب کے پیروکار ہیں جس میں ہمارے پیارے نبی محمد عربی امام الانبیاءؑ خاتم المرسلین سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دینی محنت دعوت و تبلیغ شامل ہے اللہ پاک سے دعا ہے ہم روزے قیامت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت و زیارت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    آمین ثم آمین.

    @SyedUmair95

  • قومی اسمبلی میں گالی گلوچ اور ہنگامہ. تحریر:اے کے انور خان

    قومی اسمبلی میں گالی گلوچ اور ہنگامہ. تحریر:اے کے انور خان

    ( AK Anwar Khan )
    گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں جو ہنگامہ دیکھنے کو مِلا ،اسے دیکھ کر دل خون کے آنسو بہانے لگا ۔ یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہ ممبرانِ اسمبلی ہیں جن کو پاکستانی عوام نے ووٹ دے کر اسمبلی میں بھیجا ہے تاکہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے قانون سازی کر سکیں اور یہ وہ ممبرانِ اسمبلی ہیں جن کے ایک دن کے ایک دن کے اجلاس کا خرچہ پانچ کروڑ روپے ہے اور جن کے تنخواہوں اور مراعات کے نتیجہ میں اس غریب قوم کے ہر ماہ کروڑوں روپے خرچ ہو تے ہیں ۔ افسوس صد افسوس ۔۔!! اس طرح تو ہمارے گلی کے کتّے بھی نہیں لڑتے یا بھونکتے جس طرح یہ معزز ممبران اسمبلی ایک دوسرے کو گالی دے رہے تھے، برا بھلا کہہ رہے تھے اور ایک دوسرے پر کتابیں اور کاپیاں پھینک رہے تھے ۔ وطنِ عزیز میں اگر اسی طرح کے ممبرانِ اسمبلی ہیں تو عوام ان کی خاک عزّت کریں گے ؟ آخر عوام کو اس کا فائدہ کیا ہے ِ ان کی کارکردگی کیا ہے ؟ عوام کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں ۔ممبرانِ اسمبلی اقتدار اور اختیار کے نشے میں مست و مدہوش ہو کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں ۔ بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قومی اسمبلی کا ایوان ایک ایسا کلب ہو جہاں آسودہ حال افراد تھوڑی دیر کے لئے تفریحِ طبع کے لئے آتے ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ دھینگا مشتی کر کے پھر عیاشی کے لئے حکومت کے مہیا کردہ رہائشی فلیٹس میں چلے جاتے ہیں ۔ ان کو ملک کے کمزور ترین معیشت کی فکر، نہ اغیار کے سازشوں کا غم ، معیشت سے لے کر امورِ خارجہ تک کسی بھی مسئلہ پر انہوں نے اج تک سنجیدگی سے بحث تک نہیں کی ۔ پارلیمان موجود ہے مگر قانون سازی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ہو رہی ہے ۔
    ان ممبرانِ اسمبلی پر غریب قوم کے اٹھنے والے اخراجات دیکھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔بنیادی تنخواہ کے علاوہ اعزازیہ، آفس مینٹیننس الاؤنس ‘ ٹیلی فون الاؤنس‘ ایڈہاک ریلیف، سفری واوچرز، ڈیلی الاؤنس، ہاؤسنگ الاؤنس الغرض الاؤنسز اور مراعات کی برسات ہے جو ان ممبران اسمبلی پر برس رہی ہے ۔ اس کے علاوہ جو شخص ایک دفعہ قومی اسمبلی کا ممبر بن جائے ،وہ تا حیات نہ صرف گریڈ بائیس آفیسر
    کے برابر میڈیکل الاؤنس کے حقدار ہوتے ہیں بلکہ تمام موجودہ و سابقہ ارکانِ اسمبلی بلیو پاسپورٹ رکھنے کے بھی حقدار ہیں۔

    قوم کے فلاح و بہبود کے لئے قانون سای کے وقت ان کے اختلافات عروج پر ہوتے ہیں مگر اپنے فائدے کے لئے قانون سازی کے وقت یہ تمام اختلافات بھلا کر یک جان ہو جاتے ہیں ۔ باہر ممالک کے سر براہان یا نمائندے جب پاکستان آکر ہمارے حکمرانوں اور پارلیمان پر اٹھنے والے اخراجات دیکھتے ہیں تو وہ انگشت بدانداں رہ جاتے ہیں کہ ایک غریب ملک کے حکمران کس طرح اتنے بھاری اخراجات کے متحمل ہو سکتے ہیں ۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک ہمارے اخراجات دیکھ کر ہم پر ہر گز رحم نہیں کھاتے کیونکہ ہمارے حکمرانوں پر اٹھنے والے اخراجات کسی غریب قوم کے نہیں ہو سکتے ۔

    پارلیمان کی بالا دستی اور ارکانِ اسمبلی کا احترام سر آنکھوں پر ‘ مگر ان کی کارکردگی اور آپس میں دست و گریباں ہونا عوام کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔ اگر انہوں نے یہی روّش جاری رکھی تو لا محالہ عوام کی نظریں پھر فوج کی طرف اٹھیں گی۔ جو ملک کے لئے اچھا شگون نہیں ۔

    باایں وجہ تمام ارکانِ اسمبلی سے میری گزارش ہے کہ خدا را ! ہوش کے ناخن لیں اور ایوان کو تماشہ گاہ نہ بنائیں،د نیا کے دیگر ممالک کو جگ ہنسائی کا مو قعہ فراہم نہ کریں ۔ عوام نے جس مقصدکے لئے آپ کو پارلیمان میں بھیجا ہے اس مقصد کوسامنے رکھ کر اجلاس میں جائیں اور اپنے فرائض ِمنصبی کو پورا کرنے کے لئے پورے ایمانداری کے ساتھ نبھانے کی کو شش کریں ۔ عوام کا خون تو چوس ہی رہے ہو مگر اس خون کے بدلے تھوڑی سی قیمت بھی تو ادا کرنے کی زحمت گوارا کر لیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔

  • ‏ہمیں سزا قبول کرنے کی عادت ڈالنا پڑے گی:تحریر: عرفان محمود گوندل

    ‏ہمیں سزا قبول کرنے کی عادت ڈالنا پڑے گی:تحریر: عرفان محمود گوندل

    گزشتہ کچھ دنوں سے اسلام آباد میں ویڈیو سکینڈل کے حوالے سے سوشل میڈیا پہ کافی گفتگو جاری ہے ۔
    ابھی تک کی اپ ڈیٹس کے مطابق معاشرے کے بہت سے طبقات خفیہ طور پر اس گناہ پر مٹی ڈالنے اور مجرمین کو سزا سے بچانے کی سر توڑ کوشش کررہے ہیں ۔ ہر طرح کے جوڑ توڑ جاری ہیں ۔۔
    معاشرے قوانین پر عمل کرنے سے پھلتے پھولتے ہیں ۔۔ نبی پاکؐ کی حدیث اور واقع موجود ہے کہ چوری کے مجرم کے لئے سفارش آگئی تو آپؐ نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی یہ جرم کرتی تو یہی سزا دیتا۔
    سزا کسی بھی معاشرے میں جرائم کو روکنے کا راستہ ہوتا ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں صورت حال اس کے الٹ ہوتی ہے ۔۔ ہم لوگ سزا سے بچانے کی کوشش شروع کردیتے ہیں ۔
    پچھلے کچھ عرصے میں ملتان کا ایک ایسا ہی زنا کا واقعہ زیر بحث ہے۔
    جس میں بیٹی نے باپ پر زنا کا الزام لگایا اور بعد میں مکر گئی ۔۔
    اور کچھ دن پہلے کا ‎#مولوی_سکینڈل بھی آپ کے سامنے ہے ۔
    میری ایک وکیل دوست سے بات ہوئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ زنا اور تشدد کے کیس میں سوائے قصور والے کیس کے یا ایک دو اور کیسز میں کسی مجرم کو سزا نہیں ہوئی صلح ہوجاتی ہے ۔۔
    میں نے اپنے علم کے مطابق پھر سوال کیا کہ زنا گناہِ کبیرہ ہے جس کی صلح کا کوئی تصور نہیں ہے یعنی سزا ہی ملنی ہے تو پھر صلح کیسے ہوتی ہے ؟
    وکیل نے کہا جو فریق مجرم قرار دیا جائے وہ مدعی کو پیسے کا لالچ دے کر اس بات پہ آمادہ کرتا ہے کہ مدعی اپنے پہلے بیان سے مکر جائے اور عدالت میں یہ بیان دے کہ اندھیرے کی وجہ سے میں نے غلط بندے پہ الزام لگایا یہ وہ شخص یا عورت نہیں ہے ۔۔
    جبکہ بیک ڈور چینل میں کچھ ” قوتیں ” صلح کی گواہ بن جاتی ہیں ۔ اس طرح ایک جرم پہ پردہ ڈال دیا جاتا ہے ۔۔
    مدعی کو پیسے مل جاتے ہیں اور مجرم سزا سے بچ جاتا ہے ۔
    مجرم کو شہہ ملتی ہے ۔ ایسے لوگ جو اس طرح کی نیت کررہے ہوتے ہیں وہ بھی حوصلہ پاتے ہیں اور اس طرح کے جرائم میں اس لئے شامل ہوجاتے ہیں کہ صلح کرنے کا راستہ موجود ہے ۔۔
    اس طرح پورا معاشرہ آہستہ آہستہ گناہ کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے ۔۔
    ہمارے پاکستان میں یہ روایت بن چکی ہے ۔۔ کہ جیسے ہی کسی سے جرم سرزد ہوتا ہے اس کے لواحقین دھوتیاں اور تھِگڑیاں سنبھال کے بڑے بڑے سیاسی ڈیروں کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں کہ کسی طرح جرم کی سزا نہ ہو ۔ ۔
    ہمارا معاشرہ ہر صورت مجرم کو پناہ دینے کا عادی ہوچکا ہے ۔۔ اس کے پیچھے محرکات کیا ہوتے ہیں ان میں کچھ تو واضح ہیں
    سرکاری افسر ہمیشہ اس طرح کی ” مرغی ” کو ذبحہ کرتے ہیں جو کسی جرم میں پھنس چکی ہو۔۔

    ہم لوگ تو وہ ہیں کہ سڑک پہ چالان ہوجائے تو بجائے اپنا جرم تسلیم کرنے کے ہم کسی بڑے کو فون ملا کے سفارش کرواتے ہیں ۔
    بعض دفعہ یوں لگتا ہے جیسے ہمارے معاشرے میں مجرم ہے ہی کوئی نہیں ۔۔ یہاں سارے فرشتے ہی رہتے ہیں یہاں کے سارے لوگ سچے ہیں ، یہاں کے سارے لوگ جو کچھ کہتے ہیں وہی درست ہوتا ہے یہاں تک قانون غلط ہوجاتا ہے ، شراب کی بوتل شہد کی بوتل میں تبدیل ہو جاتی ہے لیکن ہم اپنا جھوٹ تسلیم نہیں کرتے ۔۔
    جب ایک معاشرہ ایسا ہوگا جس میں جرم ہوگا لیکن سزا نہیں ہوگی بلکہ مجرم جب جیل سے بھاری رشوت کے عوض جیل سے رہا ہوتا ہے تو اس پہ گل پاشی کی جاتی ہے اسے پھولوں کے ہاروں سے لاد دیا جاتا ہے وہ وکٹری کا نشان بنا کے بڑی گاڑی میں کھڑا ہو کے عوام سے داد وصول کرتا ہے اور ہمارے قانون کا مذاق اڑاتا ہے ، آیان علی جیسیاں ہمارے قانون کو انگلی دکھاتی ہیں۔ نواز شریف اور الطاف حسین جیسے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر باہر کے ملکوں میں بیٹھ کے عیاشی کرتے ہیں ۔۔
    ہونا اسلام آباد ویڈیو سکینڈل میں بھی ایسے ہی ہے ۔۔ جیسا کہ وکلا کہہ رہے ہیں کہ انجام صلح ہی ہونی ہے ۔ صرف ریٹ کا مسلہ ہے
    یہ صرف اسی کیس میں نہیں بلکہ ہر کیس کا حال ہے ۔۔۔ جو بھی جرم ہوتا ہے اس میں انجام کار صلح ہوتی یا مجرم کو بچانے کے لئے ہر طرح کے سیاسی سماجی اثرو رسوخ کو استعمال کیا جاتا ہے ۔
    چلیں ہم بھی دیکھتے ہیں کہ کیا انجام ہوتا ہے ۔۔