Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مرد مجاہد .  تحریر: سیف اللہ عمران

    مرد مجاہد . تحریر: سیف اللہ عمران

    تاریخ انسانی میں کئی عظیم انسان آئے کئی آئیں گے لیکن ان میں سے مرد مجاہد بہت ہی کم آئیں ہیں میرا موضوع اس دور کا مرد مجاہد وزیر اعظم پاکستان عمران خان ہے 5 اکتوبر 1952 کو شوکت خانم کی گود سے جنم لینے والے اس عظیم انسان نے جس میدان میں قدم رکھا اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطاء فرمائی عمران خان کی پہلی وجہ شہرت کرکٹ ہے عمران خان کا ڈیبیو 1971 میں ہوا پہلے میچ کے بعد آپ کو آپ کو ٹیم سے باہر کر دیا گیا لیکن عمران خان اور ہار مان لے یہ نا ممکن ہے عمران خان نے ٹیم سے باہر رہتے ہوئے انتہائی سخت محنت کی اورپہلے سے زیادہ اچھے آل راؤنڈربن کر ابھرے عمران خان شاندار کارکردگی کے باعث 1982 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے اس طرح عمران خان کے شاندارکپتانی کیریئرکا آغازہوا

    عمران خان پاکستان کی تاریخ کے سب سے کامیاب کپتان ہیں عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے عظیم ترین فتوحات حاصل کیں پاکستان نے پہلی دفعہ انڈیا کوانڈیا میں شکست دی پاکستان نے انگلینڈ کوانگلینڈ میں ہرایا اور اس طرح پاکستان کے اچھے دن شروع ہو گئے
    1987 ورلڈ کپ عمران خان کے لیے ایک اہم ایونٹ تھا کیوں کہ عمران خان کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان کر چکے تھے اور عالمی کپ جیتے بغیر یہ مشکل تھا پاکستان ٹیم شاہینوں کی طرح میدان میں اتری کئی فتوحات حاصل کیں لیکن بد قسمتی سے سیمی فائنل میں شکست ہوئی اورعمران خان نے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا

    لیکن پاکستانی عوام کی پرزوردرخواست پرعمران خان نے ریٹائرمنٹ واپس لے لی اور؛کرکٹ کے میدان میں ایک بار پھر قدم رکھ دیا اب پاکستان کی کرکٹ تاریخ کا سب سے تاریخی ایونٹ 1992 کا ورلڈ کپ آ چکا تھا لیکن قومی ٹیم کے دو اہم کھلاڑی سعید انوراور وقار یونس زخمی ہو کر ٹیم سے باہر ہو گئے اس وقت عمران خان نے حوصلہ نہ ہارا ٹیم کا مورال بلند کیا ابتدائی شکستوں کے با وجود ٹیم کی امید نہ ٹوٹنے دی کواٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز کی مضبوط ٹیم کو شکست دے سیمی فائنل میں پاکستان نے انضمام الحق کی شاندار اننگ کی بدولت نیوزی لینڈ کو زیر کیا اورپاکستان فائنل میں پہنچ گیا فائنل شروع ہوا عمران خان اپنی کارنرڈ ٹائیگر شرٹ کے ساتھ ٹاس کیلئے آۓ پاکستان ٹاس جیتا بیٹنگ کا آغازہواعمران خان ایک کھلاڑی آؤٹ ہوتے ہی کھیلنے آ گئے اورفاتحانہ اننگ کھیلی. میچ کا اختتام بھی عمران خان کی جانب سے لی گئی وکٹ سے ہوا یوں عمران خان کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امرہوگئے.

    ایک مقصد یہاں پورا ہوا اب اگلے کی باری تھی یہ مقصد شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر تھی عمران خان نے دنیا بھرمیں تحریک چلائی اور نہ صرف شوکت خانم ہسپتال بنایا بلکہ چلا کر بھی دکھایا اس کے بعد آتی ہے سیاست عمران خان نے 1996 میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا تحریک انصاف کے نام سے جماعت بنائی لیکن 1996 میں وہ اپنی نشست بھی نہ جیت سکے لیکن وہ عمران خان ہی کیا جو ہمت ہار جائے وہ مرد مجاہد دوبارہ کھڑا ہوا 2002 میں ایک نشست جیتی 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا 2013 میں آپ کی جماعت اپوزیشن آئی اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں آپ کی جماعت حکومت میں آئی عمران خان کی انتھک محنت سے آپ کی جماعت 2018 میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت بنی اور عمران خان نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا اب وہ اپنے مقصد”نیا پاکستان” کی تکمیل کی کوشش کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس مقصد میں بھی کامیابی عطاء فرمائے آمین

    @Patriot_Mani

  • سر زمین اقصیٰ روتی ہے!   تحریر  آٸمہ چودھری

    سر زمین اقصیٰ روتی ہے! تحریر آٸمہ چودھری

    انبیاء کی سر زمین فلسطین کو یہودی ریاست میں تبدیل کرنا مشرق وسطیٰ کے بحران کی بنیادی وجہ ہے۔ یہودیوں کے ان ناپاک عزاٸم کی ابتداء 1857ء میں تھیوڈر ہرزل کی تحریک پر پہلی صہیونی کانگرس میں ہوٸی۔ مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ یہاں کے مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف (عربی: الحرم القدسی الشریف) کہتے ہیں۔ یہ مشرق میں یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل قابض ہے۔ میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجاٸش کے ساتھ یہ دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2000ء میں الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔ مسجد اقصی کے نام کا اطلاق پورے حرم قدسی پر ہوتا تھا جس میں سب عمارتیں جن میں اہم ترین قبۃ الصخرۃ ہے جواسلامی طرز تعمیر کے شاندار نمونوں میں شامل ہے۔ تاہم آج کل یہ نام حرم کے جنوبی جانب والی بڑی مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔ یروشلم/بیت المقدس میں مسجد اقصی کے قریب موجود ایک تاریخی چٹان کے اوپر سنہری گنبد کا نام ہے۔ الصخرۃ (Dome of the Rock) کہا جاتا ہے۔ یہ اونچی عمارت پچھلی تیرہ صدیوں سے دنیا کی خوبصورت ترین عمارتوں ميں شمار ہو رہی ہے۔ اور حرم قدسی کا ایک حصہ کہلاتی ہے۔ یہاں کے رہنے والے (مسیحی اور یہودی) اسے (Dome of the Rock) کہتے ہیں۔ عربی زبان میں قبۃ کا مطلب گنبد اور الصخرۃ کا مطلب چٹان ہے۔
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معراج کے سفر کے دوران مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ پہنچے تھے اور یہاں تمام انبیا کی نماز کی امامت کروائی۔

    قرآن مجید کی سورہ بنی الاسرائیل میں اس کا ذکر اللہ پاک نے ان الفاظ میں فرمایا :

    ” پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے تا کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالٰی ہی خوب سننے اوردیکھنے والا ہے (سورہ الاسرائیل آیت نمبر 1)ایک حدیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں ، کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے۔

    حضرت عمر فاروق کے دور میں جب مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو حضرت عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا اور یہاں انہوں نے اپنے ہم راہیوں سمیت نماز ادا کی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ( بنی اسرائیل) کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔

    اس کا رقبہ 144000 مربع میٹر ہے۔احاطہ اقصیٰ کے چودہ دروازے ہیں۔ تاہم صلاح الدین ایوبی نے جب اس مسجد کو آزاد کروایا تو اس کے چاروں دروازوں کو بعض وجوہات کی بنا پر بند کروادیا, یایوں موجودہ دروازوں کی تعداد دس ہے۔

    ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان اگست 1969ء کو قبلۂ اول کو آگ لگا دی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرق کی جانب سے عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔اسی دوران محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہو گیا جسے سلطان صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اول کی آزادی کے لیے تقریبا 16 جنگیں لڑیں اور دوران جنگ وہ اس منبر کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تا کہ فتح ہونے کے بعد اس کو مسجد میں نصب کریں۔
    چونکہ یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اس عبادت گاہ کو گرا کر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں جب کے وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل یہ ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔
    عالم اسلام کی تاریخ کی ورق گردانی مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت اور اس کی بنیاد کے مکمل ، ٹھوس اور واضح ثبوت رکھتی ہے۔

    گزشتہ 73 برس اسرائیل وقتاً بوقتاً فلسطینیوں پر حملے کرتا آ رہا ہے، جس میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور لاکھوں نقل مکانی پر مجبور کیے گئے۔اسرائیلی کارروائیوں سے 7 سے 18 مئی 2021 کی سہ پہر تک 58 بچوں اور 34 خواتین سمیت 201 افراد جاں بحق ہوچکے تھے.رواں برس فلسطین تنازعے کے طور صیہونی ریاست اسرائیل نے مسلمانوں کے لیے اہم مہینے رمضان المبارک میں مقدس ترین رات ليلۃ القدر کے موقع پر فلسطینیوں پر مظالم اور حملوں کا آغاز کیا۔ عالمی ادارہ اقوام متحدہ سمیت دنیا کے تمام ادارے فلسطین کی سرزمین ہر ہونے والی دہشت گردی کو اسرائیل – فلسطین تنازعے کے طور پر رپورٹ کرتے ہیں، جبکہ پوری مسلم دنیا سمیت دنیا کے 135 سے زائد ممالک کو اس پر اعتراض رہتا ہے۔

    حال ہی میں ہونے والی اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ مسلمانوں کے خون سے سرخ ہو چکی ہے۔ اور ان بے ضمیر اسرائیلی افواج نے بربریت کی انتہا کر کے بالخصوص مسلمان فلسطینی بچوں کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کی نسل کشی کی طرف اقدام اٹھاۓ ہیں۔علاوہ ازیں غزہ شہر بمباری کے نتیجے میں بری طرح تباہ ہوا ہے۔
    اسی طرح اسرائیلی دہشت گردی مہذب دنیا اور اقوام عالم کی متحدہ قیام امن کی کاوشوں پر سیاہ دھبہ کی مانند ہے۔
    اسرائیلی ظلم و تعدی کے مقابلے اور مسجد اقصیٰ کے دفاع کی خاطر مسلمانوں کو مالی، جانی، اخلاقی اور سیاسی طور پر فلسطینی عوام کا ساتھ دینا ہو گا۔

  • خطے کوآگ وخون میں دھکیلنے کا مودی پلان . تحریر : فرمان اللہ

    خطے کوآگ وخون میں دھکیلنے کا مودی پلان . تحریر : فرمان اللہ

    مودی اجیت ڈوول اوراین ڈی ایس نے مل کر اس خطے کو آگ و خون میں دھکیلنے کا جو پلان بنایا ہے وہ بہت حطرناک ہے تاشقند کے اندر پاکستان کے سامنے بیٹھ کردس ہزارجنگجو افغانستان بھجنے کا الزام لگانا اور بھارت سے فوجی مدد لینے کا عندیہ دینا دراصل را اوراین ڈی ایس کا نیا پلان ہے جو وہ اگلے آنے والے دنوں میں رچانے جا رہے ہیں اس کے لیے یہ سارا اسٹیج تیار کیا جارہا ہے. مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس وقت بھارت نے افغانی ایما پر اپنے تین ہزار فوجی کابل میں پہنچا دیے ہیں جو بلکل فوجی وردیوں میں نہی ہیں.

    بلکہ ان کو افغانی وردیاں پہناٸی جاٸیں گی اورمصدقہ اطلاعات کے مطابق چھ ویڈیو بلکل تیارکرلی گٸی ہیں جن میں افغانی جو بھارتی پے رول پہ ہیں انہوں نے یہ ساری سٹوری ایڈٹ کرلی ہے جس کے مطابق ان ویڈیو میں عورتوں کو بڑے بے رحم طریقے سے مارا جاۓ گا ان کو سنگسار کیا جاۓ گا فوجیوں کے گلے کاٹے جاٸیں گے اور پھر وہ ایجنٹ خود کوطالبان بنا کر پیش کریں گے یوں طالبان کے خلاف بھارت بہت بڑی سازش رچنے جا رہا ہے کیونکہ طالبان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ عالمی قوانین کی پابندی کریں گے یوں برطانیہ یورپ طالبان کو تسلیم کرنے کے لیے تیارہیں.

    اس وقت ٹی ٹی پی پاکستان بلوچ ریجمنٹ اورداعش کے تمام سربراہ بھارت کے اندر موجود ہیں اور اجیت ڈوول کے زیراثرہرقسم کی دہشت گردی میں اس خطے کودھکیلنے کے لیے تیارکھڑے ہیں. اس لیے پاکستان مکمل طور پر ان کے ان کاٶنٹرکے لیے تیار ہے یہ پچھلے کٸی دنوں سے ہمارے فوجیوں پر حملے بہت زیادہ بڑھ گٸے ہیں جو ایک غیر معمولی بات ہے ۔ مگریہ سب اس سے بھی واقف ہیں کہ جہاں ان کی سچ حتم ہوتی ہے وہاں سے مارخور اپنا کام شروع کرتے ہیں ۔
    اللہ پاکستان کو قیامت تک قاٸم و داٸم رکھے ۔ آمین

    Femikhan_01

  • عمران خان کا دورہ ازبکستان اورامیرتیمورکی قبرپہ حاضری . تحریر: حسنین مغل

    عمران خان کا دورہ ازبکستان اورامیرتیمورکی قبرپہ حاضری . تحریر: حسنین مغل

    گزشتہ دنوں عمران خان ایشائی ممالک کی ایک تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے ازبکستان پہنچے کانفرنس کے بعد انہوں نے مشہور مسلمان فاتح ” امیر تیمور ” کی قبر پے حاضری دی اور دعا کی "امیر تیمور” تیمور ایک ترک منگول قبیلے برلاس سے تعلق رکھتا تھا چنگیز خان اورامیر تیموردونوں کا جد امجد تومنہ خان تھا. تیمورلنگ کا تعلق سمرقند سے تھا وہ سمرقند کے قریب ایک گاؤں ’’کیش‘‘ میں پیدا ہوا اس کے والدین معمولی درجے کے زمیندار تھے تیموردریائے جیحوں کے شمالی کنارے پرواقع شہرسبز(جس کو کش بھی کہتے ہیں) 1336ء میں پیدا ہوا۔ یہ علاقہ اس وقت چغتائی سلطنت میں شامل تھا جو زوال پزیرتھی چغتائی حکمران بے بس ہوچکے تھے اورہرجگہ منگول اور ترک سرداراقتدارحاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔

    تخت نشین ہونے کے بعد اس نے صاحب قران کا لقب اختیارکیا۔ (علوم نجوم کی رو سے صاحب قران وہ شخص کہلاتا ہے جس کی پیدائش کے وقت زہرہ اور مشتری یا زحل اورمشتری ایک ہی برج میں ہوں۔ ایسا شخص اقبال مند، بہادراورجری سمجھا جاتا ہے مجازاً اپنے دورکا عظیم ترین حکمران)۔

    تیمور نے اپنی زندگی میں بیالیس ملک فتح کیے۔ وہ دنیا کے چند نادر لوگوں میں بھی شامل ہوتا ہے۔ تیمور کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ ایک وقت میں اپنے دونوں ہاتھوں سے کام لے سکتا تھا وہ ایک ہاتھ میں تلوار اُٹھاتا تھا اور دوسرے ہاتھ میں کلہاڑا، اسلام کا یہ بہادرسپوت 18 فروری 1405ء کو انتقال کر گیا اس کی لاش سمرقند لاکر دفنائی گئی لڑائیوں میں زخم کھانے کی وجہ سے تیمورکا دایاں ہاتھ شیل ہوگیا تھا اوردائیں پاؤں میں لنگ تھا اس لیے مخالف مورخین اس کو حقارت سے تیمورلنگ لکھتے تھے۔

    @HasiPTI

  • ‏قومی غیرت اورخوداری . تحریر : عاصم صدیق

    ‏قومی غیرت اورخوداری . تحریر : عاصم صدیق

    محمد علی جناح کے بعد کوئی بھی ایسا حکمران نہیں آیا جو خودار اورغیورہو۔ لیکن پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اب پاکستان کا وزیراعظم عمدان احمد خان نیازی ہے جو امریکہ جیسے سپر پاور ملک کو بھی "نا” کرنا جانتا ہے ۔عمران خان نے نہ صرف امریکہ کو ” do more ” سے "No more ” سکھایا بلکہ سینا تان کر امریکہ کو کہا کہ اب پاکستان امریکہ کی جنگ میں شامل نہیں ہوگا اور کسی قسم کی ملٹری سہولت فراہم نہیں کرے گا اور صاف الفاظ میں امریکہ کو ہوائی اڈے رینے سے انکار کردیا ۔

    یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا اس سے پہلے کشمیر کے مسلئے پر بھی خان نے ثابت کیا کہ وہ ایک خوداراورغیرت رکھنے والا انسان ہے۔ اقوام متحدہ میں پوری دنیا کے سامنے جب خان نے للکاردی تو آدھی دنیا کئی دن تک حیران رہی کہ شائد اب پاکستان ایک خودارملک بن چکا ہے ،کیونکہ یہ وہی پاکستان تھا جہان امریکہ جب چاہتا کرتا تھا ۔ دڑون حملے کر کے ہمارے ہی پاکستانیوں کو موت کی نیند سلایا گیا لیکن ہمارے حکمران صرف تماشا دیکھتے رہے۔ ریمنڈ دیوس دن کی روشنی میں لوگوں کو کچل کر چلا جاتا ہے لیکن ہمارے حکمران تو سوئے ہوے تھے ۔

    ہمارے ایک وزیراعظم کے امریکہ ائیرپورٹ پرکپڑے اتارے جاتے لیکن ہماری غیرت تب بھی نا جاگ سکی، کیونکہ ان حکمرانوں کے زاتی مفادات آڑے آجاتے تھے جب بھی قومی غیرت پربات آتی تھی ۔ اللہ کا کرم ہے کہ اب عمران خان جیسا لیڈر تخت نشین ہے جس کے لیے سب سے برھ کر اس ملک و قوم کا وقار ہے ، خان کی نظر میں أسکی غیرت پاکستان کی غیرت سے جڑی ہوئی ہیں ۔ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا تو پہلی بار دیکھ رہے کہ کوئی حکمران برابری کی بات کرتا ہے ۔جب سے خان کی حکومت آئی ہے کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا ۔خان نے سب کے ساتھ ویسے ہی سلوک کیا جیسا وہ حقدار تھا ۔مودی کو اسی کی زبان میں بار بار سبق سکھا رہا ہے خان اور جب کبھی بھی عالمی فورم پر آمنا سامنا ہو جائے تو ان سے ہاتھ تک نہیں ملاتا خان کیونکہ پہلے دن سے ہی خان نے کہا ہے کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تب تک بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہونگے ۔

    خان کے اس انداز کی وجہ سے خان کی مقبولیت دنیا کے ہرکونے تک پہنچ رہی ہے یہی نہیں بلکہ خان کو ” The Muslim world of year ” کا خطاب مل چکا ہے ۔خان کے ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان کو اسکی کھوئی ہوئی عزت واپس مل رہی ہے ۔ایک قوم مہنگائی ،کرپشن تو برداشت کر سکتی ہیں لیکن کبھی بھی اپنی عزت اپنے وقاراور ملک کی خوداری پرآنچ نہیں آنے دیتی ۔

    دعا ہے کہ پاکستان کی عزت ،پاکستان کا وقار ،پاکستان کی خوداری ہمیشہ ہمارے زاتی مفادات سے اوپر رہے ۔
    اللہ اس ارض پاک کو ایک خودمختار قوم بنائے آمین ۔

    @AsimISF_

  • افغانستان پاکستان دشمنی کیلۓ بیس کیمپ . تحریر : ڈاکٹر راہی

    افغانستان پاکستان دشمنی کیلۓ بیس کیمپ . تحریر : ڈاکٹر راہی

    جب ہم یہ کہتے تھے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان مخالف دشمنوں کے لئے بیس کیمپ بن گئی ہے تو ہمارے لبرل اورقوم پرست دوست بھد اڑاتے تھے۔ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں سے لے کربلوچ علیحدگی پسندوں تک، ایران کے ایجنٹوں سے لے کر ہندوستانی دہشت گردوں تک سب ان کی چھتری تلے بیٹھے تھے۔ ہندوستان نے اربوں کی فائنانسنگ کابل اوردیگر شہروں میں کی تھی، کیونکہ پاکستان میں دراندازی
    کے لئے افغانستان سے بہتر کوئی رستہ ممکن ہی نہیں۔ غرض ہمارے گوناگوں دشمنوں نے وہاں پرڈیرے ڈال رکھے تھے۔

    یہاں پرایک اوربات بھی سامنے رہے پچھلے چند سالوں میں کے پی سمیت بلوچستان میں کثرت سے لوگ سامنے سے گم ہورہے تھے۔ ہرایرا غیرا نتھو خیرا پاکستانی حساس اداروں اورایجنسیوں پربلا امتیاز ذمہ داری ڈال رہا تھا۔ لاریب کہ ہمارے اداروں نے بھی اس جنگ کے دوران بہت زیادہ زیادتیاں کی ہیں۔ اسلام پسندوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا۔ ۔جس پرکسی درجہ میں بھی شک ہوا اورجو کسی قدربھی کسی قسم کی عسکریت یا تحریکیت میں شامل رہا تھا، اسے اٹھا کرہی چھوڑا کچھ چھوٹ بھی گئے، کچھ ہمیشہ کوغائب کردئے گئے۔ اس وقت ان کے اس عمل کا دفاع نہ مقصود یے، نہ ممکن ہے، تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ درست اورواقعیت پرمبنی ہے کہ ہرگم ہونے والے کو اغوا بھی نہیں کیاجاتا تھا بلکہ بہت سارے سرحد پارپناہ لیتے تھے اور وہاں سے پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہتے تھے۔

    یہ بات یوں چلی کہ آج ایک بلوچ علیحدگی پسند رہنما کا بیان سامنے آیا ہے جس میں اس نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود بلوچ پناہ گزینوں کی حفاظت کا بندوبست کرے۔ یہ پناہ گزین کون ہیں؟ یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ وہ غائب شدگان ہیں ،جن کا الزام ہماری پاکستانی ایجنسیوں پرلگایا جاتا تھا۔ اب معاملہ کھل رہا ہے کہ یہ حضرات افغانستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے شہزادگان عالیشان کا قبضہ وسیع ہوتا جائے گا، چیاو چیاؤ کرنے والوں کی یہ تعداد بڑھتی جائے گی۔ عالیشان کی یہ ایک کرامت کیا کم ہے کہ ان کے ابھرتے ہی پاکستان دشمن اپنے ٹھکانے ظاہرکرنے لگے ہیں۔ امید ہے کہ ہرگزرتے دن کیساتھ ان سب کا یوم حساب قریب آتا جائے گا۔

    @IamRahiii

  • گڑیا . تحریر: محسن زید

    گڑیا . تحریر: محسن زید

    وہ اپنا بدبودارجانوروں جیسا وجود لے کرگڑیا کے اوپرجھک رہا تھا اورگڑیا جیسے ایک لاش کی مانند آنکھوں میں پانی کا سمندر لئے چھت کو گھور رہی تھی منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی لیکن اندر دنیا جہاں کا شور تھا، نام تھا یاسمین ابا پیارسے گڑیا کہتے تھے، پھر گھر والے رشتہ دارمحلے والے سب گڑیا کہنے لگے، گڑیا تین بھائیوں اوردو بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی، باپ قدرت اللہ گاؤں کی ایک چھوٹی سی مسجد کا امام تھا ماں ایک سیدھی سادھی گھردارخاتون تھی قدرت اللہ کی بات ماں کیلئے فرض ہوا کرتی تھی، وقت گزرا گڑیا نے بھی باقی بہن بھائیوں کی طرح گاؤں میں موجود پرائمری سکول سے پانچویں پاس کی اورگھر داری میں مصروف ہوگئی،

    ابا کی بڑی خواہش تھی کہ وہ اپنی گڑیا کے ہاتھ پیلے ہوتے دیکھے، لیکن یہ خواہش پوری نہ ہو سکی قدرت اللہ عشاء کی نماز پڑھا کر واپس گھرآیا لیکن صبح فجر کی نماز کیلئے اٹھ نہ سکا، گڑیا کیلئے یہ دکھ آسمان کے پھٹ جانے سے کم نہیں تھا اسکا باپ ہی تو گھر میں ایک انسان تھا جو گڑیا سے پیار کرتا تھا اسکا ماتھا چومتا تھا، گڑیا بڑی ہورہی تھی جوانی کی دہلیز پر پہنچ کر بھی اس نے شرم و حیاء کو اپنائے رکھا اسکی خواہش تھی اسکا پیار اسکی محبت چاہت اسکے وجود اور روح کا مالک اسکا شوہر ہو بس،
    ایک دن گڑیا کی ماں نے بتایا کہ کل کوئی دور پرے کے رشتہ دار آرہے ہیں تمہیں دیکھنے گڑیا نہ چاہتے ہوئے بھی چپ رہی، وہ آئے اور رشتہ پکا ہوگیا ، گڑیا سن رہی تھی کہ وہ جلدی شادی کرنا چاہتے ہیں،

    خیربڑے بھائیوں اور ماں نے شادی کی تاریخ تہہ کردی، شادی ہوگئی گڑیا کے بھائیوں اورماں نے صرف ایک ہی بات سمجھائی کہ اب تمہارا وہی گھر ہے تمہارا شوہر تمہارا خدا ہے تمہاری ساس تمہاری ماں ہے تم کبھی زندہ انکو دکھ دے کراس گھرمیں واپس نہیں آنا وہ جو بھی کہیں جیسے بھی ہو اب تمہارا مرنا جینا وہی ہے، شادی وہی روائتی انداز میں ہوئی دن گزرتے گئے شادی کے چھ ماہ تک کوئی اولاد جیسی خوشی گڑیا کو نصیب نہ ہوئی تو ساس نے باتوں باتوں میں سنانا شروع کر دیا، نندوں نے بھی اپنی زبان کی مٹھاس دیکھانا شروع کر دی، گڑیا کہاں جائے کس سے کہے۔؟

    خیر ایک دن ساس نے صاف کہہ دیا بات سن کڑیے بہت ہوگیا اب ہمیں اولاد چاہیے ورنہ اپنے گھر والوں کو بُلا وہ تمہں لے جائیں ہمیں یہ بانجھ عورت نہیں چاہیے، گڑیا نے بھری آنکھوں کیساتھ اپنے شوہرکی طرف دیکھا جو منہ لٹکائے چارپائی پربیٹھا ماں کی ہاں میں ہاں ملا رہا تھا، صبح ہوتے ہی ساس بولی چل ساتھ والے گاؤں ایک بابا جی ہیں تمہیں لے کرجانا ہے وہاں بہت پہچے ہوئے ہیں گڑیا چپ کرکے اپنی ساس کے ساتھ چل پڑی، وہاں کافی عورتوں کے درمیان ایک کالے رنگ کا بدشکل اوربدبودار کپڑے پہنے ایک بابا بیٹھا تھا گڑیا اسے دیکھ کر ہی اندر سے ڈرگئی تھی لیکن کیا کرسکتی تھی،

    خیر جب لوگ چلے گئے بابا جی نے گڑیا کی طرف بڑی بھوکی سی نظروں سے دیکھتے ہوئے اسکی ساس سے پوچھا کیا مسئلہ ہے مائی،
    وہ بولی بابا جی یہ میری بہو ہے دو سال سے بچہ نہیں ہوا، بابا جی نے ہاتھ بلند کیا اور زور سے بولا بس یہی بات۔؟
    گڑیا سہم گئی بابا جی نے کہا چلو اٹھو لڑکی اس کمرے میں چلو، تم پر کوئی جادو ہے اسکا توڑ ضروری ہے،
    گڑیا نے سہمی نظروں سے ساس کی طرف دیکھا ، ساس نے فوراً ایسے انداز سے گڑیا کی طرف دیکھا کہ تم ابھی تک گئی کیوں نہیں،
    گڑیا ڈرتے ہوئے بھاری قدموں سے کمرے میں چلی گئی،

    بابا کمرے میں آیا اندر سے دروازہ لاک کیا گریا ڈر کے مارے کاپنے لگی بابا پاس آیا اپنے گندے دانت دیکھاتے ہوئے بولا تیرا بندہ ٹھیک نہیں ہے میں تمہیں اولاد دے سکتا ہوں یا پھرتیرے ساس تمہیں طلاق کروا دے گی تو تم ہوتی رہنا زلیل دنیا بھر میں، گڑیا جو سہمی ہوئی ایک کونے میں بیٹھی تھی اسکے کانوں میں غریب بھائی اور بوڑھی ماں کی آواز گونجنے لگی کہ کبھی واپس مت آنا وہ جو کہیں وہ کرنا ،
    گڑیا دنیا جہاں کے شورکے درمیان زندہ لاش کی مانند بیٹھی تھی جس نے کبھی اپنے مرد کے علاوہ کسی دوسرے مرد کو اپنا ہاتھ تک نظر آنے نہیں دیا تھا اسکا وجود ڈھیلا ہونے لگا وہ سیدھی زمیں پرلیٹ گئی۔

    @mohsin__zaid

  • مرد کو سمجھنے کی جتنی صلاحیت اللہ تعالیٰ نےعورت کو بخشی ہے، مرد کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی . تحریر: حنبل ریاض

    مرد کو سمجھنے کی جتنی صلاحیت اللہ تعالیٰ نےعورت کو بخشی ہے، مرد کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی . تحریر: حنبل ریاض

    مرد کے معاملے میں خود اللہ پاک نے عورت میں وہ (Sensor) لگایا ہے جو دھواں سونگھ کر آگ کی خبر دیتا ہے، MBA شوہردوست کو گھر لاتا ہے اور مڈل پاس بیوی اس کو دس منٹ میں بتا دیتی ہے کہ اس کی نظر ٹھیک نہیں، عورت میں مرد کے بارے میں اتنی Applications رکھی گئی ہیں کہ وہ اس کی نظر پڑھ سکتی ہے، اس کی چال پڑھ سکتی ہے، اس کے الفاظ پڑھ سکتی ہے، یہاں تک کہ وہ مرد کی مصنوعی اورحقیقی مسکراہٹ کے فرق کو دن اوررات کی طرح جانتی ہے۔

    جھوٹ پکڑنے والی مشین کو دھوکا دیا جاسکتا ہے، عورت کو دھوکا دینا نا ممکن ہے، وہ مروت سے چپ کر جائے تو اس کی مہربانی ہے، جھگڑا دفتر میں ہوتا ہے اور اس کی خبر وہ آپ کا مُکھڑا دیکھ کر دے دیتی ہے، آپ ٹریفک وارڈن سے لڑ کرمسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوں مگر وہ اچانک پیچھے سے آ کر کہتی ہے ” کس سے لڑ کر آئے ہیں ؟ ” اور آپ کا تراہ نکل جاتا ہے،  جس خدا نے عورت کو جسمانی طور پہ نازک بنایا ہے اس خدا نے نفسیاتی طور پراس کو بڑا قوی بنایا ہے۔

    پیغمبروں کی حفاظت عورت کو سونپی گئی، کتنے بڑے امتحان کے لئے بھولی بھالی مریم علیہ السلام کو چنا گیا موسی علیہ السلام کی ماں سے کیا کام لیا ؟ موسی علیہ السلام کی 9 سال کی بہن سے کیا کام لے لیا ؟ فرعون کی بیوی سے کیا کام لے لیا ؟ اورشیخِ مدین کی بیٹی نے باپ کے سامنے اجنبی موسی کا پورا Curriculum بیان کیا تھا یا نہیں ؟ 

    کیا وہ ان کو جانتی تھی ؟ اسے کیسے پتہ چل گیا کہ وہ مارشل آرٹس کے ماہر ہیں اورامین بھی ہیں حیاء والے بھی ہیں؟ جس اللہ نے عورت کو جسمانی طور پہ کمزور بنایا ہے اس اللہ نے ہی اسے نفسیاتی طور پر بہت مظبوط بھی بنایا ہے لہذا عورتوں کو ہر لحاظ سے کمزور سمجھنا یہ مردوں کی غلط فہمی ہے، اور ایک عورت کو وہی مقام دینا چاہئیے جو ایک مرد اپنے لئے حاصل کرنا چاہتا ہے، ان کی عزت ان کا احترام ایسا ہی ضروری ہے جیسے وہ اپنے لئے دوسروں سے سوچتا ہے.

    تحریر ۔۔ حنبل ریاض
    Twitter @Iamhunbli

  • میرا وطن. تحریر:عائشہ رسول

    میرا وطن. تحریر:عائشہ رسول

    وطن کی مٹی میں جو خوشبو ہے وہ پردیس کے پھولوں میں کہاں ہے. ہم وطن کو برابھلا کہتے ہیں جبکہ وطن نے ہمیں پہچان اور ایمان دیا ہے .میری روح میرے وطن
    پر قربان.
    اے میرے وطن! کوئی ہے جو مجھے امن و سلامتی دے مجھے انصاف دے عزت نفس دے میرے بھروسے پر پورا اترے .!

    اے میرے وطن!
    میرے حکمرانوں نے میری کشادہ مزاجی چھین لی ہے میں حوصلہ افزائی سے مرحوم کر دیا گیا ہوں میرے زہن کی تمام صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا گیا. میں خود پر رو نہیں سکتا.. میرے سوتے خشک ہوگئے ہیں۔ ظلم دیکھ دیکھ کر میری آنکھوں کا نور زائل ہوگیا ہے.
    اے میرے وطن! تیری کھیتاں صحراوں میں تبدیل ہو نے والی ہیں تو بوند بوند پانی کو ترس جائے گایہ آب فروش حکمران تیری رگوں سے خون نچوڑ لیں گے انکی بانجھ نسلیں ہمارا مستقبل تباہ کردیں گی.

    اے میرے وطن! میرے پاس میری پاس اپنی درد مندی کا علاج نہیں تیرا رزق کھاتے ہیں اور تیرے لیے انکی زبان پر دعا نہیں رعایا اور حاکم کا رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے… یہ وطن. سے محبت کی کمی کی وجہ سے ہے
    اے میرے وطن! عزت سے خود کشی بھی کر لوں تو میرے لیے باعثِ فخر ہے ؛
    بیگانے دیس میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کروں اور وصیت یہ ہو کہ مجھے وطن میں دفن کیا جائے .یہ کتنا بڑا اپنے نفس کے ساتھ دھوکا ہےوطن سے بغاوت ہے وطن کی نافرمانی ہے.

    اے وطن! میں زہنی غلام بن کر نہیں رہنا چاہتا. مجھے اجازت دے کی میں خود کشی کر لوں میں زندہ نہیں رہنا چاہتا جہاں میرے لیے امن و سلامتی اور انصاف نہیں. جہاں میرے پاس انصاف خریدنے کے لیے دولت نہیں میں اپنی عزت نفس بیچ کر بھی زندگی کو امن نہیں دے سکتا
    بتا اے وطن! میرا گناہ کیا ہے یہ کہ میرے آباؤاجداد نے اپنا خون دے کر تجھے حاصل کیا تھا اور آج میں اپنے ہی وطن میں لاوارث ہوں قانون مجھے تحفظ نہیں دے رہا
    کیا اب بھی میں غلام ہوں غلام زہنی غلام ہوں مجھے اپنے ہی وطن میں بے گناہ مارا جا رہا ہے میں اپنا عقیدہ چھپا رہا ہوں .مجھے عقیدت کے نام پر قتل کیا جا رہا ہے میرا وطن قتل گاہ بن گیا
    تحریر: عائشہ رسول
    Official Twitter handle
    @Ayesha__ra

  • افغان جنگ اور دنیا. تحریر: سدرہ

    افغان جنگ اور دنیا. تحریر: سدرہ

    ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں تو افغان جنگوں میں فتح ہمیشہ افغان قوم کا ہی مقدر بنی ہے۔ برطانیہ اور افغانستان کے مابین جنگ  1839ء سے 1842ء تک لڑی گئی، اس جنگ میں مجموعی طور پر افغانوں کی فتح ہوئی۔ 4500برطانوی اور  ہندوستانی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ ان کے ساتھیوں میں سے 12000لوگ بھی ہلاک ہوئے۔ روسی اور برطانوی گریٹ گیم میں یہ سب سے پہلی بڑی لڑائی تھی۔ پھر27 دسمبر 1979ء کی ایک تاریک شب، جب سوویت یونین نے افغانستان پر شب خون مارا تو ایک طویل مدتی جنگ کا آغاز ہوا۔اس جنگ میں بھی 15000 سوویت فوجی مارے گئے اور 35000 کے قریب زخمی ہوئے، جبکہ دو لاکھ مجاہدین اور دو ملین کے قریب عام شہری مارے گئے۔اس جنگ کی بڑی قیمت پاکستان نے بھی ادا کی۔ پاکستان نے بیس سال تک 2.8ملین مہاجرین کا بوجھ برداشت کیا۔ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد نے پاکستان کو دنیا میں مہاجرین کو پناہ دینے والے ملکوں میں سر فہرست لا کھڑا کیا۔

    اسی اثنا میں امریکہ بہادر نے انسانی حقوق کے نام پر سوویت حملے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا،پھر سوویت یونین کو جنگ میں شکست دینے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ 

    امریکہ سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا کو اپنی کامیابی سمجھ بیٹھا اور نائن الیون کے بعدافغانستان میں آبیٹھا۔ سوویت یونین کی بد ترین شکست نے یو ایس ایس آر کو  سولہ ملکوں میں تقسیم کر دیا، مگر اس شکست سے امریکہ نے سبق سیکھنے کی بجائے اس فتح کو ڈالرز میں تولا، جو شاید امریکہ کی سب سے بڑی غلطی تھی، کیو نکہ جنگ لڑنے کے لیے مال و زر سے زیادہ حوصلے، ہمت اور جذبہء حب الوطنی کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی سب سے بڑی مثال آئرش رپبلک آرمی، افغانستان اور ویتنام ہیں، جنہوں نے ترکش میں تیر نہ ہونے کے باوجود دنیا میں آزادی حاصل کرنے کے لیے نئی تاریخ رقم کر دی۔

    افغانستان خاک و خون کی گھاٹیاں عبور کر کے بالآخر جنگ کے اختتام کی طرف بڑھ ہی رہا تھاکہ اشرف غنی کی حکومت او ر طالبان کے درمیان ایک نئی جنگ نے جنم لے لیا۔ شنید تھی کہ امریکی انخلا کے فوراً بعد خانہ جنگی کا آغاز ہو سکتا ہے، جو کسی حد تک سچ ثابت ہو رہا ہے۔ طالبان افغانستان میں دوبارہ ایک بڑی قوت بن کر ابھرے ہیں۔وہ ملک کے زیادہ تر حصوں پر قابض ہونے کے ساتھ ساتھ کابل پر کسی بھی وقت چڑھائی کر کے موجودہ حکومت کے خاتمے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

    گزشتہ بیس برسوں کی امریکی جنگ میں بھارت نے امریکہ کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف شدید پروپیگنڈہ کیا۔ یہاں تک کہ افغانستان میں خود دہشت گردانہ کارروائیاں کروانے کے بعد الزام پاکستان پر لگایا جاتا رہا، جس کی مثالیں لاہور بم دھماکہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہیں،افغان قوم کے دل میں پاکستان کے خلاف نفرت کا بیج بویا گیا، مگر بھارت اپنی اس کاوش میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکا۔ بھارت کے خلاف پالیسیوں کا اعلان دراصل طالبان نے بھارتی سفارتخانے پر قابض ہو کر کیا کہ اب افغانستان میں بھارت کی دال نہیں گلے گی۔دوسری جانب بھارت نے رد عمل کے طور پر بھاری اسلحہ افغان حکومت کی مدد کے لیے حال ہی میں پہنچا دیا جو جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔

    بھارت کی یہ حرکت خطے میں غیر یقینی صورت حال پیدا کرنے کا موجب بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے اس عمل سے طالبان کے ساتھ بھی کھلی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اب یوں محسوس ہو رہا ہے کہ بھارت نے امریکہ اور سوویت کی شکست سے سبق حاصل نہیں کیا۔بھارت کی بے جا مداخلت تاریخی غلطی تصور کی جا سکتی ہے،اس سے بھارت کی سالمیت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں