Baaghi TV

Category: بلاگ

  • فلسطینی اور صہیونی ریاست.تحریر: سدرہ سجاد

    فلسطینی اور صہیونی ریاست.تحریر: سدرہ سجاد

    اسرائیل کا قیام صریحاً ایک ناجائز اور زیادتی پر مبنی عالمی پردھان منتریوں کا مکروہ فعل ہے، یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی ہمارے مکان کے ایک حصے پر زبردستی قبضہ جمالے اور پھر کہے کہ مجھے اپنا پڑوسی مان لو اور میرے حقوق ادا کرو۔ اسرائیل کا قیام ایک ناجائز پیدائش بنی جو بانی جس کو پاکستان کے قیام تک نا تسلیم کرنے کی قائد اعظم محمد علی جناح کی خارجہ پالیسی رہی ہے جو آج تک قائم ہے۔ پہلی عالمی جنگ جس میں خلافت اسلام کو نشانہ بنایا گیا اور تھیوڈر ہیزل نے یہودیوں کے لیے فلسطینی زمین دینے پر خلیفہ عبدلحمید ثانی رحمۃ اللہ کو انعامات کی پیشکش کی مگر عثمانی خون نے زوال کو تسلیم کرلیا مگر یہ ذلت قبول نہ کی۔ اسرائیل کا قیام نہ صرف مسلمانوں بلکل عالمی امن کے لیے رستہ زخم ہے، دہشت گردی کے مراکز اور معیشت کے تمام زخائر اسرائیل کے شکنجے میں ہیں اور عالمی میڈیا اسرائیل کی لونڈی کا کردار ادا کررہی ہیں کہ جھوٹی خبریں اور افواہیں اس سرعت کے ساتھ پھیلا رہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
    فلسطینیوں کو اللہ حکمت دے کہ وہ آج تک اسرائیل کی بربریت کے سامانے چٹان بن کھڑے ہیں فلسطینیوں کی چوتھی نسل ہے جو یہود کا مقابلہ ایمان کیساتھ کررہی ہیں۔ ہر 2، 3 سال بعد اسرائیل اپنے ذاتی اور ریاستی مفادات کی تکمیل کے لیے مظلوم فلسطینیوں کے گھر اور زندگیوں پر میزائل اور دھماکے داغتے ہیں لیکن آج تک فلسطینیوں نے اپنے ایمان پر سودا نہیں کیا اور ہمت اور استقامت کیساتھ قبلہ اول کی حفاظت پر معمور ہیں۔ فلسطینیوں کا امت مسلمہ پر خاص احسان ہے کہ وہ عالمی امن کے دشمنوں کیساتھ طویل اور تاریخ ساز جنگ کررہے ہیں۔ قبلہ اول کی اس ے لوث محبت کے بارے خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

    بہت قریب ہے کہ ایک شخص کے پاس اس کے گھوڑے کی رسی کے برابر ایسی زمین کا ہونا جہاں سے اس کی نظر بیت المقدس پر پڑتی ہو ؛ اس کیلیے تمام دنیا سے بہتر ہو گا۔ (مستدرك الحاكم)
    حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ جیسا ادارہ بھی کئی نشتیں کرچکنے کے باوجود بھی ابھی تک کوئی واضح پالیسی نا بنا سکا، 1948 سے 1967 تک اور اب حال ہی میں اقوام متحدہ کی افواج کے باوجود اسرائیل امن معاہدہ توڑ فلسطینی آبادی میں گھس گیا اور مسجد الاقصیٰ میں فساد کرنے لگا۔ نا عالمی طاقتوں نے اس پر غور کیا اور نا اسرائیل نے کوئی عالمی معاہدوں پر عمل کیا۔

    @de10thless

  • "ہم کہاں ہیں”.تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    "ہم کہاں ہیں”.تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    ہر ملک میں اس کی ترقی و خوشحالی میں نوجوان نسل کا اہم کردار ہوتا ہے۔ چاہے وہ ملک کتنا ہی پسماندہ ہو مگر اس کا نوجوان نسل کے عزم و ولولے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگر اس وقت ہمارے ملک میں دیکھا جائے تو اس نوجوان نسل کے نہ ہی Emotional وقت کا اچھی طرح معلوم ہے اور نہ ہی Determination کا۔ نہ جانے کس وقت جزبہ ایمانی جاگ اٹھتا ہے اور پھر نہ جانے کہاں چلا جاتا ہے۔
    یہ پورے معاشرے کا حال ہے اس میں بذات خود میں بھی شریک ہوں۔ اگر یہی حال تمام مسلم ممالک کا کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ ان کے پاس تمام تر وہ وسائل موجود ہیں جس سے ایک ترقی یافتہ اور طاقتور مملکت بنائی جا سکتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے پاس وہ تمام حقائق،سچی داستانیں اور ایسے تمام علوم موجود ہیں جس سے ایک سدیوں سوہی ہوئی قوم کو ازسرِنو جگایا جا سکتا ہے۔

    مگر افسوس اس وقت بھی ان پر جہالت کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔سورج کے ہونے کے باوجود اس سے فاہدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ ابر رحمت کو بھی ابر زحمت میں بدلا جا رہا ہے۔ مزاحیہ بات یہ ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی ان کی تمام چیزوں سے غیر فاہدہ اٹھا رہے ہیں اور یہ بڑے خوش ہیں۔ ان کو بتانے میں فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے علوم چرا کر غیر اتنی ترقی کر گئے اور ہم وہی کے وہی رہے۔
    آخر کیا وجہ ہے کہ ہم پیچھے ہیں۔ ہمارے پاس ایک شاندار ماضی کی داستانیں ہیں۔ ہمارے پاس ہر شعبے میں ترقی کرنے کی مثالیں ہیں مگر ہم غیر ترقی یافتہ ہیں۔ ان تمام حالات میں اگر دیکھا جائے تو کسی پر کوئی زمہ داری عائد نہیں ہوتی فقط ہر اس شخص پر جو ایسے معاشرے میں جی رہا ہے۔جسے معلوم ہے کہ میرا بھی سب کچھ یہی ملت یہی ملک ہے اور میری آنے والی نسلوں کا بھی تاقیامت۔
    اس وقت اس شخص کو ہی چاہئے کہ اس گلستاں کی ہریالی میں اپنا کردار ادا کرے۔ علامہ اقبال ہو یا قائداعظم کب تک ہم ان کے تاریخ پیدائش اور وفات پر محض ان کے گن گاہیں گے؟ ان کی بات و سیرت کو کب تک نہیں اپناہیں گے؟ اگر یہی حال رہا تو ہم ان پر واہ واہ کر کے اس زمہداری سے بچنا چاہتے ہیں جو ہم پر ان کی طرف سےعائد ہوتی ہے۔ اگر علامہ اقبال نے کلام لکھا تو کن کے لیے لکھا۔
    کیا ان کا پیغام وقت اس دور میں موجود لوگوں کے لیے تھا یہ ہم پر بھی کچھ زمہداری عائد ہوتی ہے؟ وہ کن کو خواب غفلت سے جگانے کے لیے تھا کہ تمہارے دشمن تمہیں دن بدن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور تم ہو جو تقسیم ہو۔ انہوں نے ہمیں ایک ہونے کا درس دیا۔ جیسا کہ امام علی علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے کہ
    "تم حق پر ہونے کے باوجود بکھرے ہوئے ہو اور وہ باطل پر ہو کے بھی متحد ہیں۔

    اسی طرح ملک بنانے میں بھی مقاصد چھپے ہوئے تھے۔ جن میں تمام مسلمانوں کی دنیا میں عظمت و خوشحالی اور سب سے اہم بات ایک ہونا شامل تھا۔ ہم کبھی بھی ان باتوں کو فراموش نہیں کر سکتے۔ آج اگر اس دور میں ہمارے اندر مسلمانوں کی خوشحالی و ترقی کی آرزو و کوشش نہیں تو ہم بالکل ہی پستی کی گہرائی میں ہیں۔ ہمیں اس بات کو بخوبی جاننا ہو گا کہ دشمن کس طرح ہمارے لیے باہر بیٹھا چالیں اور ہماری تباہی کے پروگرام بنا رہا ہے چاہے وہ بھارت،امریکہ،اسرائیل یا پھر کسی دوسرے ملک کی شکل میں ہو۔

    ان تمام Challenges سے مقابلے کے لیے بیداری ہے اور وہ بیداری آج کے ہر پاکستانی میں ہونا لازم ہے۔ کیونکہ ہم وہ قوم ہیں جو نہ ہی غلام بن کر جینا پسند کرتی ہے اور نہ ہی اپنے دوسرے بھائیوں کو اس حال میں دیکھنا۔ اب دشمن کو ہمارے علاقوں سے کوئی سروکار نہیں ہے اسے ہمارے ذہن چاہئیے اور ذہن بھی صرف اس طریقے سے بچ سکتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ سے بڑی مضبوطی کے ساتھ جڑے رہیں۔
    ہم اسلام کو صرف عبادات تک نہیں بلکہ اپنے معاشرے میں ہر کردار و گفتار پر نافذ کریں۔ آج دشمن نے معاشرے میں طرح طرح کی براہیاں پھیلا دی ہیں۔جن کا شکار دن بدن ہم ہی ہو رہے ہیں۔ اس کا مقصد ہمیں ان براہیوں میں الجھا کر تباہ و برباد کرنا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے سامنے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور ہم خاموش ہیں۔
    کیونکہ بقول علی شریعتی کہ
    "زمین مسجد خدا ہے اور تم دیکھ رہے ہو کہ نہیں ہے۔”
    شاید ہم پستی کی جانب رواں دواں ہیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہم اس پر خوش ہیں۔
    @Haider_Arbaz_01

  • سی پیک اور پاکستان. تحریر  : ولید عاشق

    سی پیک اور پاکستان. تحریر : ولید عاشق

    ( @iWaleedRaja )

    سی پیک پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے،پاکستان دشمن بول رہے ہے عمران خان نے سی پیک بیچ دیا.

    ‏پاک چین اقتصادی راہداری ملکی معاشی ترقی میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے- نوجوان سی پیک کے معاشی فوائد سے استفادے کیلئے خود کو تیار کریں،

    پاکستان اور چین کے مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان بہتر تعلقات کو استوار کے علاوہ سی پیک منصوبہ جیسے میگاپروجیکٹ کو موثر انداز میں سمجھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے،

    عمران خان نے نہ صرف نواز شریف کے دور میں روکے گئے سی پیک کی سڑکیں مکمل کیں بلکہ اس کے دوسرے فیز پر فوراً کام شروع ہورہا ہے جس میں کم از کم 5 ارب ڈالر کے بجلی بنانے کے منصوبے لگائے جارہے ہیں۔
    جو کہتے ہیں ایران کو بیچ دیا تو ایران کے پاس نہ راستہ ہے نہ گنجائش۔ چین کو تیل کی ضرورت ہے۔ اس نے ایران سے اگلے 25 سال تک 400 ارب ڈالر کا تیل لینے کا معاہدہ کیا ہے۔ امید ہے یہ تیل پاکستان کے راستے سے ہوکر جائیگا سمجھیں پاکستان کی لاٹری نکلے گی۔
    سی پیک کے تحت پاکستان میں توانائی سمیت دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، چینی وزار ت خارجہ
    چینی وزار ت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے کہا ہے کہ سی پیک ایک پٹی ایک شاہراہ کا ایک اہم منصوبہ ہے جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت پاکستان میں اب تک توانائی سمیت دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔
    بیجنگ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ سی پیک سے جہاں پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی ہوئی وہیں اس منصوبے کے تحت علاقائی روابط کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پٹی ایک شاہراہ کا منصوبہ چین کا ہے جس سے نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا مستفید ہو گی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ دنیا کے تقریبا 140 ممالک نے ایک پٹی ایک شاہراہ اقدام کے تعاون کے معاہدے پر چین کے ساتھ دستخط کئے ہیں جبکہ چین اور ایک پٹی ایک شاہراہ اقدام سے وابستہ ممالک کے مابین تجارتی حجم کی مجموعی مالیت 9.2 کھرب امریکی ڈالرز تک پہنچ چکی ہے ۔
    ‏سی پیک منصوبے سے ملکی معشیت میں بہتری آئے گی اور پاکستان میں غربت کا خاتمہ ہو گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے 7 لاکھ پاکستانیوں کو روزگار ملے گا جبکہ اس وقت  80 ہزار سے زائد پاکستانی سی پیک کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ‎پاک چین اقتصادی راہداری ،ترقی کے سفر کا وہ خواب ہے جس کی تعبیر کا حصول ہر پاکستانی کی خواہش ہے،پاکستانی حکومت اور عوام اپنے بہترین دوست چین کو ساتھ اس منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں ،اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم قدم ہو کر اس منزل تک پہنچنے کا پورا یقین ہے.

  • یوم عرفہ کا روزہ دوسالوں کے گناہوں کی معافی  ! تحریر:محمد آصف شفیق

    یوم عرفہ کا روزہ دوسالوں کے گناہوں کی معافی ! تحریر:محمد آصف شفیق

    یہود میں سے ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اے امیرالمومنین اگر ہم پر یہ آیت نازل ہوتی کہاَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ۔ آج میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا اور میں نے تو اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور میں نے تمہارے لئے دین اسلام پسند کیا تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ کس دن یہ آیت نازل ہوئی ہے، یہ جمعہ کا دن یوم عرفہ میں نازل ہوئی ہے
    نو(۹)ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ‘‘کہنے کی فقہاء نے تین وجوہات بیان کی ہیں
    ۱۔ حضرت ابراہیم کو آٹھ(۸) ذی الحجہ کی رات خواب میں نظر آیا کہ وہ اپنے بیٹے کوذبح کر رہے ہیں تو ان کو اس خواب کے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے یا نہ ہونےمیں کچھ تردد ہوا،پھرنو(۹)ذی الحجہ کو دوبارہ یہی خواب نظرآیا تو ان کو یقین ہو گیا کہ یہ خواب اللہ تعالی کی طرف سےہی ہے چونکہ حضرت ابراہیم کویہ معرفت اور یقین نو(۹)ذی الحجہ کو حاصل ہوا تھا اسی وجہ سے نو(۹) ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ‘‘ کہتے ہیں۔
    ۲۔ نو ذی الحجہ کو حضرت جبرائیلؑ نے حضرت ابراہیم ؑکوتمام مناسکِ حج سکھلائے تھے مناسکِ حج کی معرفت کی مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ‘‘ کہتے ہیں۔
    ۳۔ نو(۹) ذی الحجہ کو حج کرنے والے حضرات چونکہ میدانِ عرفات میں وقوف کیلئے جاتے ہیں،تو اس مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ بھی کہہ دیتے ہیں۔
    یوم عرفہ کے دن کی فضیلت ان احادیث مبارکہ میں کچھ یوں بیان ہوئی ہے
    حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ رکھنے سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف فرما دے گا۔(جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 733 )
    حضرت جابر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے (یعنی رحمت اور احسان و کریم کے ساتھ قریب ہوتا ہے) اور پھر فرشتوں کے سامنے حاجیوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ذرا میرے بندوں کی طرف تو دیکھو، یہ میرے پاس پراگندہ بال، گرد آلود اور لبیک و ذکر کے ساتھ آوزایں بلند کرتے ہوئے دور، دور سے آئے ہیں، میں تمہیں اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا، (یہ سن کر) فرشتے کہتے ہیں کہ پروردگار ان میں فلاں شخص وہ بھی ہے جس کی طرف گناہ کی نسبت کی جاتی ہے اور فلاں شخص اور فلاں عورت بھی ہے جو گنہ گار ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے انہیں بھی بخش دیا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ ایسا کوئی دن نہیں ہے جس میں یوم عرفہ کی برابر لوگوں کو آگ سے نجات و رستگاری کا پروانہ عطا کیا جاتا ہو۔ (شرح السنہ)( مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 1145 )
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً یا مرفوعاً مروی ہے کہ و شاہد و مشہود میں شاہد سے مراد یوم عرفہ ہے اور مشہود سے مراد قیامت کا دن ہے۔(مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 811)

    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سورت فجر میں دس دنوں سے مراد ذی الحجہ کے پہلے دس دن ہیں وتر سے مراد یوم عرفہ ہے اور شفع سے مراد دس ذی الحجہ ہے۔(مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 391)
    حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ (نو ذی الحجہ ) کے روزے کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو سال کا کفارہ بنتا ہے پھر کسی نے یوم عاشوراء کے روزے کے متعلق پوچھا تو فرمایا یہ ایک سال کا کفارہ بنتا ہے۔(مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2553 )
    حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یوم عرفہ کے روزے کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے بارگاہ الٰہی سے امید ہے کہ اس سے گذشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے سائل نے یوم عاشوراء کے روزے کا حکم پوچھا تو فرمایا مجھے بارگاہ الٰہی سے امید ہے کہ اس سے گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔(مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2646)
    اللہ رب العالمین ہمیں عرفہ کے مبارک دن کی اہمیت کو سمجھنے اور اس دن اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کیلئے اور اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے روزہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں
    آمین یا رب العالمین
    محمد آصف شفیق
    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • عوام اور سیاستدان!!.تحریر: موسی حبیب راجہ

    عوام اور سیاستدان!!.تحریر: موسی حبیب راجہ

    کسی بھی ملک کے انتظامی نظام کو چلانے کیلئے ایک جمہوری حکومت کی ضرورت ہوتی ہے دنیا کے ہر ملک میں آج تک ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ عوام اپنے پسندیدہ نمائندوں کو منتخب کرتی ہے اور ان کو ایوانوں تک پہنچاتی ہے…

    یہ حق عوام کا ہی ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ ترین عوامی نمائندگان کو منتخب کریں۔ پاکستان کو آزاد ہوئے تقریبا 74 سال گزر چکے ہیں پاکستان کی آزادی کے بعد ایک حکومت تشکیل دی گئی تاکہ اس ملک کا نظام موثر طریقے سے چلایا جا سکے اور آج تک یہی ہوتا آرہا ہے الیکشن کے آغاز میں ہر سیاسی جماعت ایک لائحہ عمل تیار کرتی ہیں جس کے مطابق وہ عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کرنے کا وعدہ کرتی ہیں۔ الیکشن سے پہلے کے حالات دیکھیں تو ووٹروں کو بہت عزت دی جاتی ہے، وعدے کیے جاتے ہیں، خواب دکھائے جاتے ہیں پھر جب الیکشن کے بعد کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت میں آتی ہے تو عوام سے کئے گئے وعدے خواب ہو جاتے ہیں۔۔

    پھر ایوانوں میں بیٹھے نمائندہ عوام کو بھول کر اپنی سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ عوام کی خواہشات کی تکمیل کرنے والے اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہو جاتے ہیں اور ایسا تقریبا 35 سالوں سے ہوتا آرہا ہے کہ دو سیاسی جماعتیں جو زیادہ تر حکومت کا حصہ نہیں حکومت کے آنے کے بعد انہوں نے عوام سے کیے گئے وعدے ہوا میں اڑا دیئے…

    آج بھی آپ کو ان سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جائیدادیں اندرونی اور بیرونی ممالک میں ملیں گی اور اس کی وجہ کیا ہے کہ نظام کا قصور ہے یا کہ سیاسی نمائندوں کا قرآن پاک میں بھی یہ واضح ارشاد ہے کہ جو قوم اپنی حالت نہیں بدلتی خدا ان کی حالت نہیں بدلتا کیا ہم ساری کرپشن کا قصور صرف سیاستدانوں کو ٹھرائیں گے کیا ہم خود بخثیت عوام کرپشن کا حصہ نہیں ہیں۔

    آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اتنا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی خاموش ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم خود ان برائیوں میں ملوث ہیں جن برائیوں میں ہم سیاستدانوں کو دیکھ رہے ہیں سب سے بڑی ضرورت ہمیں اپنے من کو اپنے آپ کو تبدیل کرنے کے ضرورت ہے تبدیلی سیاستدانوں سے نہیں عوام سے آتی ہے پہلے ہم سب کو اپنا آپ درست کرنے کی ضرورت ہے…
    @RajaMusaHabib

  • گاڑیوں کی قیمتوں کی پرواز ویسی.تحریر.ام سلمیٰ

    گاڑیوں کی قیمتوں کی پرواز ویسی.تحریر.ام سلمیٰ

    وفاقی وزیر صنعت خسرو بختیار نے 7 جولائی بروز بدھ کہا ہے کہ مالی سال 2022 کے بجٹ میں گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں کمی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کے کاروں کی نئی کم قیمتوں کو کچھ دنوں میں لاگو کیا جانے کہ اعلان کیا جاۓ گا۔جو کے اب تک صحیح طرح لاگو نہ ہوسکی کیوں کے گاڑیوں کی کمپنیوں نے گاڑیوں پر اؤن بڑھا کر پرانی قیمت ہی وصول کر رہی ہیں اب تک کی تازہ اطلاع کے مطابق.

    نئی آٹو پالیسی کے پہلوؤں کے بارے میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صنعت نے متعدد قسموں سے تعلق رکھنے والی متعدد کاروں کا نام لیا اور قیمتوں میں ہونے والی کمی کا اعلان کیا.

    انہوں نے کہا ، "ان تمام کاروں کے لئے نئی قیمتوں کا نفاذ ایک دو دن میں ہو جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں جلد ہی ایک نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ اس سے آٹوموبائل سیکٹر میں مانگ میں اچانک اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ کاروں کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔ "میں یہ خوشخبری بھی دینا چاہتا ہوں کہ جیسے ہی ہم کاروں کی پیداوار میں اضافہ کریں گے اس سال اس [آٹوموبائل] سیکٹر میں تقریبا 300،000 نئی ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔”

    خسرو بختیار نے کہا کہ اس سال آٹوموبائل کی پیداوار کو 300،000 کاروں تک بڑھانے اور مراعات اور دیگر اقدامات کے ذریعہ اپنی طلب کو بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

    "اس آٹوموبائل شعبے کے لئے سب بنیادی مقصد یہ ہے کہ قیمتیں کم ہونے پر طلب میں اضافہ ہو
    لیکن کہیں بھی قیمتیں کم ہوتی نہں دکھائی دے رہی گاڑیوں کی کمپنیاں وہی قیمت دوسرے طریقے اپنا کر حاصل کر رہی ہیں جب کے سرکاری اعلان کے مطابق اون بھی ایک مقرر کردہ حد کے مطابق لیا جہ سکتا ہے لیکن کمپنیاں ابھی تک اپنے خود کے مقرر کردہ طریقے سے اون وصول کر رہی ہے گاڑی کی قیمت میں کمی کے بعد گاڑیوں کی کمپنیوں نے فوری اون میں اضافہ کر دیا ہے اور قیمت اون ملا کر اب بھی وہی وصول کی جہ رہی ہے جو بجٹ سے پہلے تھی۔

    جب کے حکومت نے چھوٹی کاروں پر سیلز ٹیکس میں کمی کے ساتھ کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) اور اضافی کسٹم ڈیوٹی (اے سی ڈی) کو بھی ختم کردیا ہے۔” خسرو بختیار نے اور بتایا تھا کے

    حکومت ان اقدامات کا مقصد صارفین کو کچھ ریلیف فراہم کرنا تھا ، لیکن اب تک قیمتیں برقرار ہیں پچھلی سطح پر.

    وفاقی وزیر نے یہ بھی وضاحت کی تھی کہ کار تیار کرنے والی کمپنیاں صارفین کو 60 دن سے زیادہ گاڑی کی فراہمی کی کمپنی کی طرف سے تاخیر کرنے پر صارفین کو جرمانے کی ادائیگی بھی کریں گی اور صارفین اپنی گاڑی کے موجودہ مینوفیکچرنگ اسٹیج کو آن لائن چیک کرسکیں گے۔

    اب حکومت کی توجہ کار کے معیار کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے ، جیسے جدید حفاظتی خصوصیات کا تعارف تاکہ گاڑیوں کی بر آمد کا سلسلہ بھی شروع کیا جا سکے۔ترقی کو مستحکم رکھنے کے لئے اور قیمتوں کو کم رکھنے کے لئے ملک کی انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ اڈے میں اضافہ کرنا ضروری ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اب لوکلائزیشن پر توجہ دے ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی میں بھی لوکلائزیشن پر توجہ دی گئی ہے۔
    ڈیوٹی ، ٹیکس میں کمی کے باوجود کار ساز لوگ قیمتوں میں ریلیف میں تاخیر کررہے ہیں حکومت اس مسئلے پر فوری توجہ دے تاکہ بجت میں دیا گیا ریلیف عوام تک صحیح معنی میں پنہچ سکے۔
    @umesalma_

  • نشے کا بڑھتا رجحان. تحریر: سحر عارف

    نشے کا بڑھتا رجحان. تحریر: سحر عارف

    اسلام بہت خوبصورت دین ہے جس نے انسان کو حلال اور حرام چیزوں سے باخوبی آگاہ کیا ہے اور اسلام نے حرام اور حلال چیزوں کے حوالے سے کچھ حدود رکھی ہیں اور بتایا ہے کہ حرام چیزوں سے بچا جائے یہ انسان کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کردیتی ہیں۔ حرام چیزوں کے استعمال سے انسان نہ دنیا کا رہتا ہے نہ آخرت کا رہتا یے۔ ٹھیک اسی طرح نشہ بھی حرام ہے۔ ہر وہ چیز جو انسان کو مدہوش کردے، اسے اس کے رب سے دور کردے، جو انسان کے دماغ کو ماؤف کردے اور اس کے پورے جسم میں نشہ پیدا کردے جس کی وجہ سے وہ اپنے رشتے اور معاشرے کو بھول جائے اور انقصان پہنچائے حرام ہے۔ اور آج پوری دنیا میں نشہ عام چیز ہوگیا ہے۔ جہاں پوری دنیا نشے کی لت میں جکڑ چکی ہے وہیں یہ لعنت پاکستان کی نوجوان نسل کو تباہ و برباد کررہی ہے۔ افسوس کے ایک اسلامی ملک جس کا تو دین یہ کہتا ہے کہ نشہ حرام ہے وہاں اس حرام چیز کی مقدار اور اس کے چاہنے والے اور اس سے اثرانداز ہونے والے افراد کی تعداد میں روز کے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پہلے تو منشیات فروش اپنا کام کچھ مختص کیے گئے مقامات پر کرتے تھے پر اب تو یہ غلیظ دھندہ سرعام ہورہا ہے اور یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس ملک کے ادارے اور وہ تمام لوگ کہاں سو رہے ہیں جن پر منشیات کی روک تھام حکومت پاکستان کی طرف سے فرض کی گئ ہے؟ پاکستان میں سب سے زیادہ نشے سے اس ملک کی نوجوان نسل برباد ہورہی ہے۔ کسی بھی ملک کے نوجوان اس ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں اور آج افسوس ہے کہ اس ملک کا اثاثہ بربادی کی طرف گامزن ہوتا چلا جارہا ہے۔ نوجوانوں میں نشہ کرنے کے کئ طریقے سامنے آئے ہیں جن میں سگریٹ، شراب، آیوڈکس، گٹکا، نشہ آور دوائیں اور ہیروئن وغیرہ شامل ہیں اور ان میں سب سے زیادہ تعداد سرنج سے نشہ کرنے والے افراد کی ہے اور اس طریقے سے نشہ کرنے کی وجہ سے ایچ آئی وی ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق ایسے نشے سے متاثر افراد ایک دوسرے کی سرنجیں استعمال کرتے ہیں جس وجہ سے وہ ان بیماریوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔

    جہاں نشہ معاشرے کو اپنی جکڑ میں لے رہا ہے وہاں پہ تعلیمی ادارے بھی خاصے متاثر ہوئے ہیں۔ وہ ادارے جن کو تعلیم کے حصول کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ نوجوان وہاں سے پڑھ لکھ کر ملک کی ترقی میں اپنا حصّہ ڈال سکیں اب وہ بھی منشیات فروشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے الیکٹرونک میڈیا پہ اس حوالے سے کافی ہلچل مچی ہوئی ہے کہ اب تعلیم اداروں میں کچھ طالب علم اپنے اساتذہ کے ساتھ مل کر منشیات کی خریدوفروخت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے ڈی ڈبلیو کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھتے ہوئے بتایا کہ ” میں نے آئس نامی نشہ آور مادے کا استعمال کافی کیا اور اس وجہ سے اپنی تعلیم کے دو سال بھی ضائع کردیے، پہلے میں صرف دوستوں کے ساتھ مل کر تفریح کے لیے اس کا استعمال کرتا تھا پر پھر مجھے اس سے سکون ملنے لگا۔ اس نشے سے میرے دل و دماغ کو بہت زیادہ سکون اور عجیب و غریب سرور ملتا تھا تو مجھے اس کی عادت ہوگئی، عادت اتنی بڑھی کے اس کہ میرے لیے اس کے بغیر رہنا ناممکن ہوگیا اس کو حاصل کرنے کے لیے میں گھر میں چوریاں کرنے لگا بار بار ایسا کرنے پر ایک بار میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا تو والدین کو اس ساری صورتحال کا علم ہوا اور پھر انھوں نے مجھے ایک ایسے مرکز میں داخل کروایا جہاں نشے سے متاثر افراد کا علاج کیا جاتا ہے اور اب میں کافی حد تک اپنی پرانی زندگی میں واپس آگیا ہوں”۔ سن 2015 میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو منشیات کے حوالے سے یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ پاکستان میں کل 70 لاکھ سے زائد افراد نشہ آور ادویات کے عادی ہیں جن میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی شامل ہیں۔ منشیات فروش ملک کے دشمن ہیں جو منشیات کی مدد سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ نشے سے متاثر افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کی کچھ اور اہم وجوہات بھی ہیں جن میں سب سے پہلے تو ہمارے ان اداروں کی غفلت ہے جو منشیات کی روک تھام کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ پھر کچھ حصّہ ملک میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری کا بھی ہے۔ جب ملک میں بےروزگاری بڑھتی ہے اور نوجوانوں کو کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں ملتا تو پھر وہ منشیات فروشوں کے شکنجے میں آجاتے اور ان کے ساتھ مل کر اس کام میں اپنا حصّہ ڈالتے ہیں اور پھر وہ افراد جو زندگی کے ان مشکل حالات سے گھبرا جاتے ہیں اور ہار مان لیتے ہیں، طرح طرح کی ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں تو وہ سکون کی تلاش کے لیے نشے کا استعمال شروع کرنے لگتے ہیں۔ بحیثیت انسان ہمیں چاہیے کہ ہم اس غیر قانونی اور حرام چیز کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس کی روک تھام میں حکومت کا ساتھ دیں اور ایسے لوگوں کا سہارا بنتے ہوئے ان کا بھی ساتھ دیں جو نشے کی وجہ سے اپنی زندگیاں برباد کر کے ہیں تاکہ وہ واپس اپنی پہلے والی زندگیوں میں آنے کی کوشش کریں اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ نوکریوں کا اہتمام کرے تاکہ پڑھے لکھے نوجوان اس سے مستفید ہوسکیں اور نشے جیسی لعنت سے بچ سکیں اور پاکستان کی آنے والی نسلیں ایک صاف و شفاف اور ابھرتا ہوا ملک دیکھیں جو نشے کی لعنت اور منشیات فروشوں کے ناپاک وجودں سے پاک ہو۔

  • باشعور قوم . تحریر:تحریر چوہدری عطا نت محمد

    باشعور قوم . تحریر:تحریر چوہدری عطا نت محمد

    بڑی قومیں ہمیشہ جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں سب سے پہلی ترجیح اپنی سرحدوں اور آزادی کی حفاظت ہوتی ہے اس کے بعد اجتماعی طور پر پورا معاشرہ اپنے آپ کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے جہاں ہر فرد انفرادی طور پر اپنا فرض سمجھ کر اپنے حصے کا کام پورا کرتا ہے۔

    دنیا میں کیا ہو رہا ہے کس ملک کی فوجیں کونسی جنگ لڑ رہی ہیں یہ کام دیکھنا سرکار کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں رہنے والے ہر فرد نے یہ ذمہ داری بھی خود لے رکھی ہے جہاں اس ملک کے اندر تقریبا دو دہائیوں پر مسلط جنگ نے ہزاروں بے گناہوں کے خون سے سر سبز و شاداب سرزمین کو رنگین کر دیا ہے۔

    آج اسی سوچ اور نظریہ کو پروان چڑھانے والے کسی دوسری سرزمین پر ہمارے محسن ٹھہرے ہیں جہاں انسانیت اور احساس مر چکا ہے اقتدار کی اس جنگ میں کوئی بھی باشعور قوم جذباتی فیصلے نہیں کر سکتی جہاں مذہب کے نام کو استعمال کر کے انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا جاتا ہے اپنے مفادات اور ملکی سلامتی کے لیے جس نظریے کو دفن کرنے کے لیے ہم نے پوری دنیا میں بدنامی حاصل کی 70 ہزار سے زائد افراد کی قربانی دی لاکھوں افراد نے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کی ہے کاروبار اور اولاد کی قربانیاں دی ہیں آج کسی دوسری سرزمین پر صرف اپنی ضد اور انا کی تسکین کے لئے اسی نظریے کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔

    وہ سوچ جس نے پوری دنیا میں اسلام کو بدنام کرنے کے لئے ہر طرح سے اپنا کام دکھایا ہے میری قوم اس جنگ میں آج فریق بن چکی ہے جہاں دونوں طرف سے اللہ اکبر کا نعرہ لگتا ہے جہاں دونوں طرف سے اسلام کو سچا مذہب مانا جاتا ہے جہاں دونوں اطراف سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی مانا جاتا ہے جہاں دونوں افواج اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتی ہیں۔

    وہاں حق اور باطل کا فیصلہ ہم اتنی آسانی سے کیسے کر سکتے ہیں اس اقتدار کی جنگ میں ہر باشعور قوم اس ملک کی منتخب جمہوری حکومت کا ساتھ دے گی جو عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئی ہے اگر عوامی اعتماد کھو چکی ہے تو جمہوری راستے کا استعمال کر کے ایوان تک پہنچا جا سکتا ہے لیکن طاقت اور بدمعاشی سے کسی بھی جمہوری ملک کے اندر یا آزاد قوم کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا اس دوہرے معیار سے نکلیں اور دوسروں کے بارے بھی اتنا ہی بہتر سوچیں جو آپ اپنے گھر اپنے ملک اپنی سرزمین کے بارے میں جذبات رکھتے ہیں۔

    اللہ پاک ہم سب کو آچھی سوچ اور ایک قوم بن کر رہنے کی توفیق دیں

    آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • علما حق ہمارے سروں کے تاج .تحریر : راجہ ارشد

    علما حق ہمارے سروں کے تاج .تحریر : راجہ ارشد

    الحمداللہ ہم مسلمان ہیں
    اللہ تعالٰی کو ایک ماننے والے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی مانتے ہیں دنیا میں رہنے کے لیے زندگی گزارنے کے لئے اصول و ضوابط اور حدود مقرر کر دی گئی ہیں،

    ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان ہم سیدھے اور غلط راستے کا انتخاب خود کرنے کی بجائے دوسروں پر انحصار کرتے ہیں اور یہی بنیادی وجہ مذہبی انتشار اور تفرقہ بازی کا سبب بنتی ہے بغیر تحقیق کے اور سمجھے بغیر نام نہاد مُلائوں کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چلتے ہیں جس سے معاشرے میں نفرت پیدا ہو رہی ہے خود کو عالم کہنے والے ایسے افراد مفاد پرست ہوتے ہیں جن کے پیچھے مقاصد عوام کو تقسیم کرنا اور مذہب کے نام پر عوام کے جذبات سے کھیلنا ہوتا ہے۔

    یہی وہ لوگ ہیں جو کبھی قبضہ مافیا کے ساتھ مل کر سرکاری زمینوں پر قبضے کر کے مقاصد حاصل کرتے ہیں کبھی بچوں کے ساتھ زیادتی میں شامل ہوتے تو کبھی کفر کے فتوے لگا کر بے نقاب ہو رہے ہیں مذہب کو اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے ممبر پر بیٹھ کر جنت اور جہنم کے فیصلے کرنے والے یہی وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالٰی کی محبت پیدا کرنے اور اس کی بیشمار رحمتوں کے بارے میں بتانے کی بجائے خوف پیدا کر دیتے ہیں۔

    جذباتی بلیک میل کر کے افراد کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلنے والے ایسے چند مفاد پرست مولوی درحقیقت خود بھی دین کی سمجھ نہیں رکھتے علما حق ہمارے سروں کے تاج انبیاء کے وارث ہیں جو آج بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے دین کو لوگوں سے بیان کرتے آ رہے ہیں لیکن مذہبی انتشار پھیلانے والے نام نہاد مُلائوں نے اس قوم کو صدیوں پیچھے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے سیاسی مفادات کے لیے ایک ہو جانے والے دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلمان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے حلال حرام کی تمیز کیئے بغیر مال کھانے والے کس طرح سیدھے راستے پر لوگوں کو لے کر جا سکتے ہیں۔

    مدرسوں کے اندر ریپ ہو رہے ہیں منہ پر سنت رسول رکھنے والوں سے آج شریف والدین کو خوف آنے لگتا ہے کوشش کریں اپنے بچوں کے محافظ خود بنیں اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات خود دیں یا ایسے علما کا انتخاب کریں جو اعلی کردار کے مالک ہوں جن کا ظاہر اور باطن صاف ہو جو صرف اسلام کی تبلیغ کرتے اور اس پر خود بھی عمل کرتے ہوں جن کے اعمال ان کی صداقت کی گواہی دیتے ہوں جن کے عمل ان کی پاکیزگی کی ضمانت ہوں خود کو اس قابل بنائیں کہ آپ خود نمازیں پڑھا سکیں نکاح اور جنازے پڑھا لیں ضروری نہیں آپ کسی کے محتاج ہوں علماء حق کی عزت کرنا ہمارا فرض ہے۔

    لیکن معاشرے میں اس ظلم کے خلاف جہاد جاری رکھیں جس سے بچوں کو درباروں مدارس کے اندر بیوقوف بنا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے جنت حاصل کرنا مشکل نہیں ہے جتنا ان مفاد پرستوں نے اس دور میں مشکل بنا دیا ہے اللہ پاک ہم سب کا ہمارے بچوں کا حامی و ناصر ہو آمین

    @RajaArshad56

  • پالیشیے لفظ کا وجود . تحریر : بلال ناصرکھرل

    پالیشیے لفظ کا وجود . تحریر : بلال ناصرکھرل

    ہماری زندگی میں بہت سے لوگ آتے ہیں، اکثر ہمارے خاندان میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہے جو مکھن لگاتے ہے، جن کو اکثر لوگ پالیشیا کہتے ہے ان لوگوں کا ہماری زندگی میں بہت بڑا کردارہوتا ہے اچھا بھی اوربرا تو بہت ، اکثر اوقات یہ پالیشیے ہمارے ڈیروں میں اور بڑوں کے آگے پیچھے بہت ہے خاص کرجو لوگ پولیٹکس میں ہے ان کا کام ہرغلط کام میں حصہ داری ہوتا، وہ کام ان پولیٹیشن کو پتہ بھی نئ ہوتے جو یہ لوگ سرانجام دیتے، ہرادارے میں اِن لوگوں کے کارِے خاص ہوتے جن سے یہ ہر طرح کا کام نکلواتے،
    بلیک میلنگ سے لے کر رشوت تک اِن کا ہاتھ ہوتا، اِن کی پہچان اُس پولیٹیشن سے بھی زیادہ ہوتی،

    جیسے کہ ہمارے گاؤں کا ایک فیقہ مارسی سے آج میاں رفیق اس کا بھی اِس (پالیشیے ) لفظ سے بہت قریب کا تعلق ! فیقہ ایک گاؤں میں چوہدریوں کا چھوٹا موٹا کام کرتا اُسی کام میں وہ ضلع کے پولیٹیشن کا سکیورٹی گارڈ بن گیا اِسی طرح سے وہ لوگوں سے رشوتے لے کے آج اور کل اور اپنی رِشوت خوری کی ترقی میں مبتلا ہو گیا پھر وہ سٹی جا بسا اورمکھن اس نے بڑے افسران کے لئے تیار کیا اور انکو لگاتا گیا وہ میاں رفیق کالونیوں کا مالک بن گیا ، اُس نے بہت سے جلسوں میں اپنے مالکان کے لیے لیترکھائیں لیکن آج تک اس نے پالیش نئ چھوڑی !!

    یہ سب کہنے کا مطلب آج کا ہر انسان اِن جیسوں کو دیکھ کے پالش کا عادی ہو چکا ہے اپنے مطلب کے تحت حق پے لڑنے کی بجائے ہم پالش کو زیادہ ترجیح دیتے اور سوچتے یہ کام وہ ہمارا جلدی کروا لے گے لیکن ایسا بلکل بھی نہیں ہوتا بس آپ کی امید ہوتی کہ اِس بندے کی پہچان یا رتبہ زیادہ لیکن اِس بات کی حقیقت میں کوئی سچائی نئ ہوتی اگر آپ لوگ حق پے ڈٹ جائیں تو اُس انسان سے کہی درجے اچھا اپنا کام کروا سکتے اور ہمارا ملک بہتری کہ طرف آسکتا رشوت کا خاتمہ ہو سکتا بس آپ لوگ اپنے اندر ہمت پیدا کرے ہمارا آج کا نوجوان بھی ان جیسوں کو دیکھ کے کسی نا کسی کے پیچھے لگا ہوا اپنی پہچان کھو بیٹھا، آپ اپنے اوپر مسلط کیے گئے بڑے بڑے پولیٹیشن کی زندگی دیکھ لے وہ اِس لفظ سے ہو کہ گزرے ، کچھ میٹر ریڈر تھے اور کچھ معمولی کلرک اور آج وہ ہمارے ملک اعلی کار بنے ہوئے ، انکی زندگی اس مقام تک لانے میں انکا ہاتھ نئ جتنا آپ لوگوں کا کیونکہ آپ لوگ اِن جیسوں کو اپنے اوپر مسلط کرتے ہو جب وہ حکمران بن جاتے وہ دوسرے بڑے ممالک کی(پالش)شروع کر دیتے اور جب سے ہمارا ملک بنا اورآج تک دیکھ لے پالیشیے لفظ کا بہت ہی اہم کردار رہا ہے ہماری سب کی زندگی میں!!
    ہمارے ملک کی اللہ حفاظت کریں

    پاکستان زندہ آباد

    @kharal