Baaghi TV

Category: بلاگ

  • موجودہ زمانے کی دنیائے کرکٹ کے پانچ بڑے بلے بازوں کا موازنہ .  تحریر: انس حفیظ

    موجودہ زمانے کی دنیائے کرکٹ کے پانچ بڑے بلے بازوں کا موازنہ . تحریر: انس حفیظ

    کسی بھی بلے بازکی کلاس اورکارکردگی کو ناپنے کے بہت سے پیمانے ہوسکتے ہیں لیکن میں تین چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ رنزکی تعداد یعنی اوسط، رنزبنانے کی رفتار یعنی سٹرائیک ریٹ اوربنائے گئے رنزکا ٹیم کی جیت میں کردار۔

    موجودہ زمانے میں پانچ کرکٹرزایسے ہیں جنہیں دنیائے کرکٹ کے شائقین تینوں فارمیٹس کے بڑے بلے باز سمجھتے ہیں۔ ان میں ویرات کوہلی، بابر اعظم، سٹیو سمتھ، کین ولیمسن اور جوئے روٹ شامل ہیں. اگر ہم ان تینوں بلے بازوں کے اعداوشمار پرغور کریں تو تینوں فارمیٹس کی اوسط میں ویرات کوہلی سب سے آگے ہیں۔ ان کی مجموعی اوسط 164 ہے۔ بابراعظم 153، سٹو سمتھ 132، کین ولیمسن 132 جبکہ جوئے روٹ 130 کی اوسط رکھتے ہیں۔

    ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کے مجموعی سٹرائیک ریٹ میں ویرات کوہلی کا سٹرائیک ریٹ 232 ہے۔ بابراعظم دوسرے (221)، سٹو سمتھ تیسرے (218)، کین ولیمسن چوتھے(207) جبکہ جوئے روٹ پانچویں(206) نمبرپرہیں۔ سب سے آخری معیار جیتے ہوئے میچزمیں کارکردگی ہے۔ بابراعظم کی تمام فارمیٹس میں مجموعی طورپران میچزمیں اوسط 69 کی رہی جن میں پاکستان کو جیت ملی۔ ویرات کوہلی دوسرے (68) جوئے روٹ تیسرے (63) سٹیو سمتھ چوتھے (62) اورکین ولیمسن پانچویں (61) نمبرپرہیں۔

    ان اعداوشمارسے جو تصویرنظرآتی ہے اس کے مطابق ویرات کوہلی بے شک دنیا کا بہترین بلے باز ہے۔ بابراعظم کوہلی کے کافی قریب پہنچ چکا ہے مگر ابھی کچھ باکسز ٹک کرنے باقی ہیں جیسے چیزکرتے وقت سٹیل جیسے نروزکا مظاہرہ کرنا وغیرہ۔ ولیمسن، سمتھ اور روٹ بھی بڑے بلے باز ہیں اور بابرسے زیادہ تجربہ کارہیں زیادہ دفعہ اپنی ٹیموں کوجتوا چکے مگراعدادوشمارکی تصویربابرکوان سے بہتربتاتی ہے۔ بابراعظم کو ان تمام بلے بازوں پرجوایڈوانٹیج حاصل ہے وہ یہ ہے کہ یہ تمام بلے بازاپنی "پیک” گزارچکے ہیں جبکہ بابر کی پیک آنا ابھی باقی ہے اورموجودہ آئی سی سی رینکنگ بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ باقی بلے بازکارکردگی کی سیڑھی پرنیچے کی طرف جبکہ بابراوپر کی طرف رواں دواں ہے اور ون ڈے کا نمبر1 بلے باز بھی بن چُکا ہے۔

  • انسان نما بھیڑیے . تحریر : سہیل احمد چوہدری

    انسان نما بھیڑیے . تحریر : سہیل احمد چوہدری

    کووڈ -19 نام تو ابھی یاد ہی ہوگا جس نے ساری دنیا میں ہلچل مچا دی. زندگی جیسی بھی سہی گزر رہی تھی. ہر کوئی اپنی چال چل رہا تھا. اپنی خواہش اوراستطاعت کے مطابق زندگی کے پلان بنا رہا تھا.یہ ہوگا تو وہ ہوگا ایسے کریں گے ویسے کریں گےوغیرہ وغیرہ.

    پریقینا ہم یہ شاید بھول چکے رھے کہ "سامان سو سال کا پل کی خبر نہیں” کیونکہ ہوگا وہی جو اسکی چاہت ہے. اچانک ایک بات نکلی اور آہستہ آہستہ پوری دنیا میں اس کے چرچے ہونے لگے. توجہ کا مرکز چین نکلا. چین کے شہر ووہان جو کہ تجارتی مرکز تصور کیا جاتا ہے.کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی.جس کی جتنی سمجھ تھی اس نے اس کا چورن سوشل میڈیا پر بیچا.

    بات کچھ یوں ہے کہ امریکہ اورچائنہ کی عالمی طاقت ہونے پر سوال اٹھنے لگے. کبھیG-5 پر ملینڈا ایڈ کمپنی کو رگڑا گیا. کبھی چائنہ میں چمگادڑوں.بندروں. سانپوں. کتوں کے کھانے پرمورد الزام ٹھہرائے گئے. رہے سہے چائنہ نے جو اقدامات ووہان شہرمیں کئے وہ سب آپ جانتے ییں. پھراسی فضاء نے یورپ کا رخ کیا اور اپنی لپیٹ میں کے لیا. فکر اس بات کی ہے جن کو ہم کافر کہتے ہیں پھر ہم انسانیت کے لحاظ سے انکی تعریف کیوں کرتے ییں؟ وہاں وباء کے دوران روزمرہ زندگی کی ہرشے کو سستا کیا گیا اورنظم ضبط کو ہمیشہ ملحوظ خاطررکھا گیا.

    اب آتے ہیں اپنے پیارے ملک پاکستان میں بحثیت ملازم کام کی وجہ سے مارکیٹ کے لوگوں کے ساتھ کافی میل جول یے. اس لیے سچ لکھنے پربضد ہوں. جیسےںی کورونا 2020 کے اوائل میں اپنا سراٹھانے لگا تو کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی. کاروباری حضرات نے وباء کے دوران سر میں چمپی لگا کر سوچنا شروع کیا کہ اس وباء پر کیسے کاروبار کیا جائے. ملک پہلے ہی قرض کے بوجھ تلے ڈوبا ہوا تھا اوپر سے ڈالرکی اڑتی اڑان کم تھی جو یورپ میں وباء کی تباہ کاریوں کی بدولت مزید پریشانیاں پی ٹی آئی کی حکومت کے آڑے آئیں. ڈبلیوایچ اوکی خدمات لی گئیں.مختلف ٹیٹو پاٹیاں اورلفظوں کے ہیر پھیرپرخطاب وارد ہوئے. احساس پروگرام.ہیلتھ کارڈ.راشن کارڈ.موضوع بحث رہے.

    ملکی مافیا چاہے کسی شعبہ زندگی سے تعلق ہو حکومت کے آگے تن کرکھڑی ہوگئی. پٹرول مافیا. چینی مافیا. مہنگائی کے چکرمیں بیچاری غریب عوام دردرکی ٹھوکریں کھانے پرمجبورہوئی. پردوسری طرف حکومت کے لگائے لاک ڈاون اور وقت کی بندش اور تجاوزات ہٹانے پر بےچارہ غریب مرتا ناں تو کیا کرتا. بڑے بڑے پرائیویٹ اداروں کو ملازمین کو منٹوں میں نوکری سے فارغ کرتے دیکھا. خالی ہاتھ گھروں میں بھیج دیا گیا. 2020 میں اسکول بںد ہونے پر 20 فیصد فیس میں کمی وہ بھی عدالت کے نوٹس لینے پرجو 2021 میں شاید عدالت کو اپنی غلطی کا احساس ہونے پریاد آگیا.
    حیرت ہے مافیا ڈھونڈنے والوں کو اسکول کیوں بھول جاتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے کورونا صرف غریبوں کیلیے آیا کیونکہ ماسک سے لے کر ادویات اور کپڑے والوں کو شاید استثنی حاصل رہا. رہے سہے 2020 گزرگیا پر شاید ہم نے سیکھا کچھ نہیں.

    اب آتے ہیں اصل مدعا پر2021 میں تیسری لہر آئی تو لوگوں نے حکومت کے ایس او پیز کے مطابق 20 % عمل کیااور اس کو محض ایک ڈرامہ اورسازش سمجھا. آہستہ آہستہ جب کورونا نے ہسپتالوں کی ایمرجنسیز اور گھروں کا رخ کیا تو لوگ کو 30 % یقین ہونے لگا
    خیر ایک سال کی تحقیق کے بعد یہ رزلٹ آیا کہ کورونا کے مریض کو فوری طورپرجس چیز سے بچانا ہے وہ ہے اس کا Clotting Factor
    D-Dimer جس کاپرائیویٹ لیبارٹری میں ٹیسٹ تقریبا 2000 کا اور دوسرے فیکٹر ڈال کر 6500 ٹوٹل خرچا. کورونا کے مریض کا خون گاڑھا ہوجاتا یے جس کی وجہ سے خون کی نالیوں میں انجماد کی وجہ ہے ہارٹ اٹیک پربندہ فارغ.

    اب مسئلہ یہ تھا کہ اس ضمن میں جو دوائی موجود ہے وہ hyprin .Clexin انجیکشن یاں آخرمیں لوپرن یاں اسکارڈ رہ جاتی ہے.ہوا یوں کہ مافیا پھرسرگرم رہا اوردیکھا کہ کووڈ کے مریضوں کیلیے یی ادویات بہت ضروری بلکہ لائف سیونگ ڈرگزبن گئیں تو انھوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنا کاروبار کوچارچاند لگانے کیلیے بلیک کا گنوونا دھندہ شروع کیا اوراپنے پاس اسٹاک جمع کرلیا. لوگ دوا کے ناں ملنے سے مرنا شروع ہو گئے. رہی بات دوا ساز کمپنی کی تو دوا کا ناں ملنا صرف یہ تھا کہ 2020 میں دوا ساز کنپنی دوا کی قیمت بڑھا چکی تھی .اس پر وقت مقرر کیا جاتا ہے خیر انہوں نے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا اور حکومت سے دوا کا ریٹ بڑھانے پر بات کی پر حکومت کے ساتھ ان کے مزاکرات ناکام ہوگئے.

    جیسا کہ ہم خوف اورمجبوری کی بناء پرلوگوں کو لوٹتے ہیں اور یہی سچ ہے. جب ان انجیکشن کا پتا کیا گیا تو جنہوں نے بلیک کیا تھا ان کو ناں تو کوئی پکڑنے والا اورناں کاروائی کرنے والاہے. انہوں نے لوگوں کے پیاروں کے پیار میں بچھڑنے کی مجبوری میں خوب پیسا کمایا.
    میرا گلہ صرف یہ ہے کہ کیا ہم نے یاں ہمارے کسی پیارے عزیز نے کیا کبھی بیمارنہیں ہونا، کیا وہ اس انجیکشن کو بلیک میں بیچ کر اپنے پیاروں کو ہر بیماری سے محفوظ رکھ پائیں گے.

    خدارا انسان بنیں، کیونکہ حقوق العباد پر معافی شاید وہ بھی ناں دے، کیونکہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کی جان بچائی.
    "” جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا”
    ذرہ سوچیئے……

    @iSohailCh

  • پولیس محافظ یا ڈاکو . تحریر: شاہ زیب

    پولیس محافظ یا ڈاکو . تحریر: شاہ زیب

    بنی نوعِ انسان غیرمتمدن زندگی سے بتدریج تمدن پذیرہوئی ہے. نیکی و بدی، اچھائی وبرائی، مثبت و منفی ہمیشہ ساتھ ساتھ متوازی چلتے ہیں
    اسی طرح انسانی رویوں میں تضاد فطری بات ہے. معاشرے کو نظم و ضبط کا پابند بنانے اوربگاڑ سے روکنے کے لئے اخلاقی تعلیمات کے ساتھ ساتھ قانون پرعمل درآمد کروانے کے اداروں کی ضرورت پیدا ہوئی اور پولیس جیسا محکمہ وجود میں آیا. ترقی یافتہ ممالک میں پولیس کا آپ کے آس پاس ہونا تحفظ کا احساس فراہم کرتا ہے. کسی بھی جرم یا بدنظمی کی شکایت کے لئے پولیس کے پاس جانا نہایت آسان اور حوصلہ افزاء ہے. ان ممالک میں پولیس قانونی کارروائی اور سزا دینےوالے ادارے سے زیادہ معاشرے کی ایک مثبت اور اکائی اور چھتری تصور کی جاتی ہے.

    اب آتے ہیں اپنے محبوب وطن کی طرف جہاں پولیس کا نام ہی دہشت کی علامت ہے. بدعنوانی, رشوت, کرپشن, ناانصافی, جرم اور مجرم کی پشت پناہی جیسے مکروہ کام ہماری پولیس کا "طرۂِ امتیاز ” تصورکئے جاتے ہیں. ہمارے ہاں مشہور ہے کہ پولیس کی دوستی اچھی نہ دشمنی. پولیس میں رپورٹ درج کروانے کے لئے پیسے کے ساتھ ساتھ کوئی تگڑی سفارش درکار ہوتی ہے, رپورٹ درج ہونے کے بعد کارروائی کے لئے آپکی جیب چلتی رہے گی تو پولیس وین کا پہیہ اور تفتیشی کا قلم چلتا رہے گا ورنہ سائل کے جوتے گِھس کر پھٹ جائیں گے, کندھے جھک جائیں گے بھاگ بھاگ کر لیکن اس کیس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا. جُوا خانے، شراب فروشی و منشیات فروشی کے اڈے اورقحبہ خانے منتھلی کی مد میں ایک بڑی رقم متعلقہ تھانے کو دیتے ہیں اور قانون کے محافظوں کی چھتر چھایا میں بے فکرہوکر اپنے دھندے چلاتے ہیں. قانون انکے دروازوں کے باہر اونگھ رہا ہوتا ہے.

    سیاستدانوں کی وابستگیاں ایک الگ فیکٹر ہے، سیاستدان اپنا دبدبہ اور رسوخ برقرار رکھنے کے لئے اپنی مرضی کے افسران اپنے علاقوں میں تعینات کرواتے ہیں. مجرم اور ظالم پولیس کی فطرت کو سمجھتے ہیں اس لئے افسران کی "خدمت” کردی جاتی ہے. جبکہ غریب اور کم اثرورسوخ والا شہری عتاب کا شکارہوجاتا ہے.

    اگرپاکستانی معاشرے کو بہتراورجرائم سے پاک محفوظ معاشرہ بنانا ہے تو پولیس ماڈل میں اصلاحات اورسخت تبدیلیاں لانا ہونگی، پولیس کو غیر سیاسی کیا جانا ضروری ہے، درج شدہ کیسزپرکارروائی کے لئے ایک مخصوص مدت مقررکرنی چاہئے اورکارروائی نہ ہونے یا مناسب نہ ہونے پر تفتیشی افسران اور تھانہ انچارج کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا ضروری ہے ورنہ یہ معاشرہ انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہے گا.

    @shahzeb___

  • اگرعمران خان ہارگیا تو؟ . تحریر: محمد حیات

    اگرعمران خان ہارگیا تو؟ . تحریر: محمد حیات

    میں پاکستان کے گلے سڑے نظام اوراس نظام سے فائدہ اٹھانے والے درندوں کو دیکھتا تھا تو دل بہت جلتا تھا کیسے یہ لوگ پاکستان کو دونوں ہاتھ سے لوٹ رہے ہیں. ہمارا کوئی ادارہ ایسا نہیں تھا جو جوابدہ ہو ہرکوئی ببرشیربنا ہوا سب کا ایک ہی کام پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا ہمارے نوجوان جو قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں وہ ان نام نہاد حکمرانوں کی شخصیت پرستی میں یہ تک بھول چکے تھے کہ اللّٰہ نے انہیں بھی ایک شخصیت دی ہے جس میں سوچنے والا دماغ ہے جو تفکروتدبراورعقل وشعورکی صلاحیت رکھتا ہے۔ میرا دل بہت کڑتا تھا مجھے لگتا تھا کچھ تبدیل نہیں ہوگا ہماری نسلیں ان چوروں ڈاکووں کی عمربھرغلامی کریں گی۔

    اس مایوسی کے عالم میں میری نظر ایک کھلاڑی پرپڑی جس نے اس کرپٹ نظام کے خلاف آواز اٹھائی اسے اقتدار کی کرسی کی لالچ ہے نہ حاکمیت کا شوق، وہ ایک درویش انسان ہے جس کا اوڑھنا بچھونا صرف پاکستان اور پاکستانی ہیں جس نے ہمیں شعوردیا پُل اور سڑکیں بنانے سے زیادہ اِہم ہوتا ہے، کہ قوم بنائی جاۓ اورانسانیت کی خدمت کی جاۓ انسانوں کی بقاء کے وژن پرکام کیا جاۓ خیبر پختونخوا کو ہی دیکھ لیں میرے لیے وہ آج آئیڈیل صوبہ ہے پچھلے دورحکومت دیکھیں اورماشاءاللہ اب دیکھیں جہاں صحت کی سہولت اب مفت ہے جہاں مذہب، ذات اورسیاسی وابستگی کی پرواہ کئے بغیرہرخیبرپختونخوا کے شہری کو دس لاکھ روپے ہیلتھ انشورنس فراہمی دی جا رہی ہے الحمدللہ‏صوبہ خیبر پختونخوا میں میرے کپتان کی زیرنگرانی تیزی سے ترقی کا سفرجاری و ساری ہے۔

    ہر کام کو کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے پہلے مجھے لگتا تھا عمران خان پنجاب میں آئیں گے تو وہی سسٹم یہاں بھی دہرایا جائے گا اور حالات بہتر ہوجائیں گے لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا اسکی بنیادی وجہ خیبرپختونخوا کے عوام کا کلچر، مزاج، سوسائٹی مختلف ہے جب کہ پنجاب کا مزاج اورطرح کا ہے۔ یہاں کی پولیس، پٹواری، ہسپتال، محکمہ جات پہلے سے امپروو کرنے کے بجائے تنزلی کا شکار ہوئے۔
    کیونکہ یہاں کی عوام میں محکومیت والا عنصر موجود ہے اس سب کے باوجود، عمران خان بڑے اداروں کی بنیادوں کو مضبوط کر رہا ہے، جس کا نتیجہ آنے والی دنوں میں سامنے آئے گا۔

    میرا قائد عمران خان اس وقت پوری قوم کی جنگ لڑرہا ہے۔ اس وقت ملک کے سارے چوراچکے ڈاکو لٹیرے جیب کترے لفافے ایک ہوکر اس شخص کو ناکام بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں پرعوام بیوقوف نہیں سب نظرآرہا ہے کی پی کی ہو سندھ یا پھرپنجاب سب کی کوشش صرف یہی ہے کہ عمران خان کا راستہ روکا جائے. کیونکہ سب پارٹیز کے مفادات تو ایک ہی ہیں. سب کو پتا ہے عمران خان نے پاکستان کو نقصان پہنچانے والوں کو نہیں چھوڑنا ہے لیکن خدا نخواستہ یہ کرپٹ مافیا اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگئے یا یہ کہیں کہ اگر عمران خان صاحب نے سیاست سے کنارہ کشی کر لی تو کیا ہو گا۔۔؟؟

    اسکی ذات کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر پھر کوئی اور انسان آپکی آواز نہیں بنے گا کیونکہ اس کرپٹ نظام کے خلاف آواز اٹھانا صرف عمران خان کا نہیں اس کی قوم کا بھی کام ہے۔ چلیں آئیں آج پھر ہم عہد کریں کہ ہم عمران خان صاحب کو گرنے نہیں دینگے کیوں کہ نقصان ہمارا ہوگا اللہ تعالی ہمارے لیڈر عمران خان صاحب اور پاکستان کی حفاظت فرمائے. آمین ثم آمین۔

    پاکستان زندہ باد
    عمران خان زندہ باد

    Twitter handle @HayatShilmani

  • اسلام میں عید قربان کی اہمیت . ‏تحریر:عائشہ شاہد

    اسلام میں عید قربان کی اہمیت . ‏تحریر:عائشہ شاہد

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی والے دن اللہ تعالی کے نزدیک آدمی کا کوئی بھی عمل قربانی کا خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں، قیامت کے دن قربانی کا جانوراپنے بالوں، سینگوں اور کُھروں کو لے کر آئے گا، قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے سے اللہ تعالی کے ہاں قبولیت کے مقام کو پا لیتا ہے، اس لئے تم خوشی خوشی قربانی کیا کرو۔ (سنن ترمذی)

    حضرت سیدنا علی المرتضیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے لوگو ! تم قربانی کرو،اوران قربانیوں کے خون پر اجروثواب کی امید رکھو،اس لئے کہ (ان کا ) خون اگرچہ زمین پر گرتا ہے لیکن وہ اللہ تعالی کی حفظ وامان میم چلا جاتا ہے.

    ہمیں بڑھ چڑھ کرثواب لینا چاہیے ایک قربانی کرنے سے ہزاروں لاکھوں نیکیاں مل اورکیا چاہیے. دنبے اوربھیڑکے بدن پرکتنے لاتعداد بال ہوتے ہیں؟؟

    اگر کوئی صبح سے شام تک گنتی کریں تو بھی نہ گن سکے ہمارے پندرہ بیس ہزارکے مقابلے میں کتنی بے حساب نیکیاں ملیں گی؟ ہمیں اس قدر اجروثواب کو دیکھ کر خوب بڑھ چڑھ کر قربانی کرنی چاہیئے۔واجب تو واجب ہے ہی اگروسعت ہوتو نفلی قربانی بھی کرنی چاہیئے۔ یعنی اگر اللہ جل شانہُ نے مالی فراخی عطا فرمائی ہے.

    محسن اعظم محسن انسانیت، ،نور مجسم،رحمت عالم ﷺ آقائے دو جہاں کی جانب سے اور آپ ﷺ کے اصحابؓ و اہلبیتؓ کی طرف سے بھی قربانی کیجیئے۔ صرف جانور ہی قربان نہ کریں اس عید پر اپنی ضد، انا، حسد، بدگمانی کو بھی قربان کیجیئیے، دل صاف کیجیئے تاکہ قربانیاں قبول ہوسکیں. جس طرح درخت کی قیمت اس کے پھل کے حساب سے ہوتی ہے اسی طرح انسان کی قیمت اس کے عمل اورکردار کے حساب سے ہوتی ہے. شکریہ

    @BinteChinte

  • وطن عزیزکی حالت اورعوام کی اندھی تقلید . تحریر: علی حسن

    وطن عزیزکی حالت اورعوام کی اندھی تقلید . تحریر: علی حسن

    پاکستان کی صورتحال ہرکسی پرعیاں ہے، ملک کو لوٹنے والے سیاست دان جو کروڑوں روپے الیکشن میں لگا کر حکومت میں آتے ہیں وہ عوام کی خدمت کرنے نہیں آتے بلکہ وہ لوٹ مارکے زریعے سود سمیت اپنا سارا پیسا واپس وصول کرلیتے ہیں. اس ساری صورتحال کی اصل ذمہ دارعوام ہے جو آج تک اپنے حکمران کا سہی انتخاب نہیں کرسکی. پاکستان کا آئین جس پرسارے ملک کا دارومدارہوتا ہے، جس کے تحت ملک کا قانون ہوتا ہے. اسی آئین کی رو سے ہمارے ملک کا حکمران کس طرح کا ہونا چاہیے یہ بہت ساری عوام جانتی ہی نہیں.

    اپنے حکمران کا سہی انتخاب بہت ضروری ہے.
    پاکستان کی عوام میں بہت بڑی خامی یہ کہ یہ قانون کے بارے میں کچھ نہیں جانتے.
    پاکستان کا آئین کیا ہے کسی کو کچھ نہیں پتا.
    یہ تعلیم کا فقدان اندھی تقلید کا باعث ہے.

    پاکستان کے نظام تعلیم میں آئین پاکستان کی تعلیم لازمی شامل کرنی چاہیے تاکہ نئ نسل کو اپنے ملک کے قوانین کے بارے میں آگاہی حاصل ہو.عوام میں شعور کا فقدان اس قدر ہے کہ ہر کوئی انہیں اپنی باتوں میں لگا سکتا ہے آج تک کسی بھی حکومت نے عوام کی عزت کی بالادستی کی بات نہیں کی. اور ستم ظریفی یہ کہ ہمارے حکمران اسلامی اقدار پر بھی حملے کر چکے اس کے باوجود عوام ان کو ووٹ دیتے ہیں. کوئی اپنی گلی کے لیے ووٹ دے رہا ہے، کوئی نالیوں کے لیے اورکچھ لوگ تو کہتے ہیں یہ حکمران کچھ بھی نا کرے پھر بھی ووٹ اسی کو دینا ہے. اس قدر اندھی تقلید سے ملک کا نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا.

    سیاست میں عوام کا کیا کردار ہونا چاہیے؟

    ہم مسلمان ہیں ہمارا سب سے اہم فریضہ اسلام کی سر بلندی ہے عوام کو یہ لازمی دیکھنا ہو گا کہ ہم جس کو ووٹ دے رہے ہیں، ہم جس کو اسلامی ریاست کا سربراہ تسلیم کر رہے ہیں کیا وہ اسلامی تعلیمات پرکم از کم اتنا عبوررکھتا ہے وہ ملک کے ہرشعبے کواللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود میں رہ کر چلاسکے گا. اس کے بعد کیا وہ عوامی مسائل کو جانتا ہے کہ عوام کن مسائل سے دوچار ہے.

    کیا وہ عام آدمی کو عزت دلا سکتا ہے جس کے ووٹوں پر وہ حکمرانی کرے گا؟
    کیا وہ اتنا مضبوط ہے کہ ریاست کا بوجھ اٹھا سکے؟

    آج کل عوام کو بےوقوف بنانے کے لیے لبرل قسم کے لوگ بہت سر گرم ہیں جن کہنا ہے کہ اسلام اور سیاست الگ الگ ہیں.
    ایسا بلکل بھی نہیں ہے اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں دنیا کے ہر شعبے کے لیے راہنمائی موجود ہے.
    اس میں عدل کرنے کے احکامات موجود ہیں، اس میں حکومت کرنے کا طریقہ کار موجود ہے، اس میں تجارت کے اصول موجود ہیں حتیٰ کہ اس میں تمام شعبہ زندگی کے لیے راہنمائی موجود ہے. اسی لیے بحیثیت محب اسلام اور محب وطن ہمیں اسلام کا علم رکھنے والے حکمران کا انتخاب کرنا ہوگا. اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا خالق اور مالک ہے دنیا کے تمام خزانے اللہ کے ہیں جب ہم اسلام کو ترجیحات میں سر فہرست رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے ہر کام آسان فرمائے گا. یہی ہماراعقیدہ ہونا چاہیے. اچھے حکمران کا انتخاب کرنے کے بعد بھی ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہوگی.

    عوام کو اپنی طاقت کا علم ہونا چاہیے جس طرح عوام اپنے ووٹوں کی طاقت سے حکمران بناتے ہیں ویسے ہی عوام حکمران کے غلط کاموں پر اسے طاقت کی کرسی سے اٹھا بھی سکتے ہیں. آج کل لوگ اپنی سیاسی جماعت سے اس قدر لگاو رکھتے ہیں کہ ان کے ہر اچھے اور برے کام کا دفاع کرتے ہیں. یہ بہت بڑا ظلم کرتے ہیں. کوئی بھی حکمران ہو چاہے ہمارا حمایت یافتہ ہو یا کوئی اور اگرغلط کام کرنے پر بضد ہے تو اس کے خلاف کھڑے ہو جائیں تاکہ ہرآنے والے کو پتا ہو کہ ہمارا کوئی غلط کام برداشت نہیں کیا جائے گا. خدارا غلط کو غلط کہنا سیکھ لیں ورنہ ہم کبھی بھی اپنی عزت نہیں کروا سکیں گے. حکمران عوام کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ان کو پتا ہے ہمارے ہر غلط کام کا دفاع کرنے والے لوگ موجود ہیں. اسلام میں حکمرانی عیاشیوں کا نام نہیں بلکہ خدمت خلق کا نام ہے.

    اللہ تعالیٰ ساری عوام کو شعور عطاء فرمائے تاکہ ہم بحیثیت قوم اپنے فرائض ادا کریں اورحکمرانوں کا بہترانتخاب کرسکیں.
    فی امان اللہ.

  • جہیز لعنت نہیں رشتوں کا قاتل ہے .تحریر ماشا نور

    جہیز لعنت نہیں رشتوں کا قاتل ہے .تحریر ماشا نور

    جہیز سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہمیں بس اپکی بیٹی پسند ہے ہمارے گھر میں اللہ کا دیا سب کچھ ہے ” یہ وہ جمعلے ہیں تو تقریباً 70 فیصد رشتہ دیکھنے آنے والے لوگ اپنے منہ سے کہتے بات نکاح تک پہنچ جاتی تب انکی اصلیت کے دروازے کھلنے شروع ہوتے آپ جو دینگے اپنی بیٹی کو دینگے آخر اسکے ہی تو کام آئے گا چائیے پھر جہیز دیں یا موٹی رقم دونوں صورتوں میں آپکی بیٹی کا ہوگا ” اچھے کھاتے پیتے گھرانوں کے لوگ بھی جہیز کی مانگ کرتے ہیں بس طریقہ واردات الگ ہوتا ہے ہمارا بیٹا شادی کے بعد باہر جاے گا آپکی بیٹی بھی ساتھ جاے گی انکے کام آئے گا پیسہ، بڑی بڑی شاندار شادیوں میں اربوں روپیہ خرچ کرنے والے اداکار سیاستدان کہتے ہیں جہیز لعنت ہے ون ڈش پر عدالتی فیصلے آئے دن سنائی دیتے ہیں مگر یہ سب صرف کہنے کی باتیں ہے ایک غریب بات ساری زندگی یہی جمع جوڑ کرتا رہتا ہے کہ بیٹی کو بیاہ کر اسکے گھر کا کرنا ہے جیسے تیسے جہیز جمع کربھی لیں تو عین موقع پر سسرال والے گاڑی کی ڈیمانڈ کرتے بیٹی سسرال میں وہ مقام نا حاصل کر پاتی جو ٹرک بھر کر جہیز لانے والی بڑی بہو کو حاصل تھا روز روز طعنے مار پیٹ جھگڑے ذہنی اذیت لڑکی کا مقدر بن جاتی، باپ بیچارہ قرضوں کے بوجھ تلے دب کر دوسری بیٹی کو اسکے گھر کا کرنا ہے سوچ سوچ کر روز مرتا ہے،
    کچھ عرصہ قبل انڈیا میں ایک عائشہ نامی لڑکی نے تالاب میں کود کر اپنی جان دے دی وجہ جہیز سسرال والے اسکو قبول نہیں کررہے تھے شوہر روزانا پیسوں کی مانگ کرتا آخر عائشہ نے ماں باپ کی مجبوری بےبسی کو دیکھتے ہوئے موت کو گلے لگا لیا ایسی کتنی ہی لڑکیاں ہیں جو سسرال والوں کے تشدد سے تنگ آکر خود کو ختم کرلیتی ہیں یا اکثر جہیز نا ہونے پر گھروں میں بیٹھی ہیں آخر کب اس سوچ کو ختم کیا جاے گا، ہم بہو نہیں بیٹی بناکر لےجارے ہیں عورت کے نصیب سے آدمی بنتا ہے کیوں یہ بات مردوں کو سمجھ نہیں آتی

    لڑکی والے جہاں اپنی بیٹی کا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے اچھی نوکری گھر کاروباری رشتہ ڈھونڈتے تو وہی لڑکے والے بھی خوبصورت ،کم عمر ،جہیز لانے والی لڑکی کی ڈیمانڈ کرتے ہیں ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کے ہمارے گھروں میں بھی بیٹیاں بیٹھی ہیں آج دوسرے کی بیٹی پر ظلم کریں گے کل خود کی بہن بیٹی کے ساتھ ہوگا چار برتن دو کپڑوں کے ساتھ بیٹی کو بیانے کے خواب کب حقیقت ہونگے ہمیں خود یہ روایات توڑنی ہونگی جہیز لعنت نہیں جہیز رشتوں کا قاتل ہے پڑھے لکھے نوجوان اس بلا سے کنارہ اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر خاندانی روایات کو ختم کرنا جیسے گناہ عظیم ہے کہیں سے کوئی تو اس کی شروعات کرے لڑکوں کو چائیے اپنے والدین کو اعتماد میں لیں اپنی کمائی پر بنانے کا جذبہ دکھائیں انھیں ہوسکتا ہے تب یہ سلسلہ اک نیا رخ اختیار کرے اور بہت سی لڑکیاں اپنے گھروں کی ہوجاہیں جو غربت کے باعث بالوں میں چاندی لیے گھروں میں زندگی گزار رہی ہیں قدم بڑھائیے آپ ہی وہ پہلے انسان ہوسکتے ہیں

  • عدل و انصاف کا حصول ناگزیر . تحریر: زمان خان

    عدل و انصاف کا حصول ناگزیر . تحریر: زمان خان

    کیا آپ جانتے ہیں
    جو ترازوعدالت کے باہر لٹک رہی ہوتی ہے وہ انصاف کی قیمت اپنے اپنے وزن کے مطابق طے کرنے کے لیئے ہوتی ہے۔ عوام تو بھولی بادشاہ، عدل کے وہ پلڑے سمجھ بیٹھی جو انصاف دیا کرتے ہیں۔ بھلا کیا یہ ممکن ہے کہ جھوٹ بیچنے، کمانے اور کھانے والے کرپٹ ترین وکلاء جن پر سیاستدانوں کی نظر کرم نے جج کا تمغہ عطا کیا ہو وہ نیک اورصالح لوگ عوام کو انصاف دے سکیں؟
    جو جتنا بڑا چور،غنڈہ اتنا ہی اثرو رسوخ والا وکیل!
    جس کے نام سے جج کی بھی ٹانگیں کانپتی ہوں!
    یہ کہاں ہوتا ہے؟
    جی ہاں یہ سب ملک خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوتا ہے.
    آخریہ سب کب تک چلے گا؟
    آخریہ حرام کی نرسری میں پیدا ہونے والے کب تک ہمارے ملک کی اعلی عدلیہ کا وقاراسی طرح مجروح کرتے رہیں گے؟
    کیوں انصاف کرنے والا بلا خوف و خطر فیصلہ سنانے کی ہمت نہیں رکھتا؟
    کیوں ایک غریب پھانسی کے پھندے تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے اور ایک سیاسی گدھ کے تمام گناہ یا تو معاف کر دیئے جاتے ہیں یاتو سیاسی مصلحتوں کا شکار کر دیئے جاتے ہیں۔
    کیوں سیاسی مقدموں کا فیصلہ نہیں ہوتا؟
    اگرہوبھی تو لولا لنگڑا
    آخرکیوں
    ایان علی کیس رزلٹ صفر
    ارسلان افتخار کیس رزلٹ صفر
    ڈاکٹرعاصم کیس رزلٹ صفر
    سستی روٹی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    احد چیمہ صرف ریمانڈ رزلٹ صفر
    بینظیرایئرپورٹ کرپشن کیس رزلٹ صفر
    رئیسانی حرام کمائی گھرسے برآمد رزلٹ صفر
    شرجیل میمن کرپشن کیس رزلٹ صفر
    صاف پانی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    ماڈل ٹاون کیس رزلٹ صف
    شہد کی بوتل کیس رزلٹ صفر
    مجید MPA اہلکار قتل کیس رزلٹ صفر
    بلدیہ ٹاون کیس رزلٹ صفر
    سانحہ ساہیوال کیس رزلٹ صفر
    شاہ رخ جتوئی کیس رزلٹ صفر
    پرویز رشید غداری کیس رزلٹ صفر
    راجہ رینٹل کیس رزلٹ صفر
    حسین حقانی کیس رزلٹ صفر
    فائز عیسی کیس رزلٹ صفر

    کیا کبھی نیک اوردیندار لوگ جو آخرت اور یوم حساب کا خوف رکھتے ہوں انصاف کی کرسی پربیٹھیں گے؟
    کیا کبھی قرآن و سنت کے مطابق نظام عدل قائم کیا جاسکے گا؟
    کیا انگریزکا دیے ہوئے نظام عدل میں اسلامی اقداراورقرآن و سنت کے مطابق ترامیم کر کے عملاً رائج کیا جا سکے گا؟
    کیا نظام عدل کے بنیادی اصول جو کہ اصل میں ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں ایمانداری، نیک نامی، دیانتداری، امانتداری نہیں ہونے چاہئیے؟

    کیا ہمارا معاشرہ ان تمام بنیادی اسلامی اقدار اور رہنما اصولوں سے بہت دور نہیں نکل آیا؟

    کیا یہ تمام خوبیاں ہمیں اپنے نظام میں کہیں نظر آتی ہیں؟
    تو پھر کیوں نا ملک بھر کے غیر سیاسی اور نیک نامی علماء کرام کی زیر نگرانی چلنے والے مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے قابل نوجوانوں کو قانون کے شبعہ میں لایا جائے؟
    دین جن کے سینوں میں ہو گا
    جنہیں کم ازکم خوف خدا تو ہو گا
    جنہیں سچ اورجھوٹ کی تمیزتو ہوگی
    جنہیں ناانصافی کرنے اورجھوٹ کا ساتھ دینے پراللہ کا خوف تو آئے گا
    جنہیں رشوت کے عوض انصاف بیچنے پرعذاب الہی تو یاد ہوگا اورخوف خدا سے انکے ہاتھ توکانپیں گے

    کیونکہ عدل وانصاف ہی وہ پیمانہ ہے جس کی بدولت انسانیت زندہ ہے
    اگر معاشرہ عدل وانصاف سے عاری ہو تو وہ معاشرہ ظلم و جبر کی آماجگاہ تو ضروربن سکتا ہے مگر صالح معاشرہ نہیں بن سکتا۔
    عدل وانصاف کا جذبہ ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے.
    یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اخلاقی و معاشرتی احکام کے ساتھ عدل و انصاف کو بیان فرمایا ہے.
    ارشاد باری تعالی ہے.
    ” اللہ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے”

    ‎@Zaman_Lalaa

  • وزیروں کو ٹماٹر اور انڈے کیوں پڑ رہے ہیں.،تحریر: نوید شیخ

    وزیروں کو ٹماٹر اور انڈے کیوں پڑ رہے ہیں.،تحریر: نوید شیخ

    قومی سیاست کا بڑا المیہ محاذ آرائی اور بداعتمادی ہے ، جب ایک سیاسی فریق دوسرے کو قبول کرنے کے بجائے سیاسی تعصب، نفرت ، الزام تراشی اور منفی طرزعمل کا مظاہرہ کرے تو اس کا نتیجہ انتشار کی صورت میں ہی پیدا ہوگا۔

    ۔ آج پھر آزاد کشمیرمیں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے مریم نوازنے خوب تنقید کے نشتر چلائے ہیں اور کہا ہے کہ کشمیر بیچنے کی سازش امریکہ میں بیٹھ کر رچائی گئی ، کشمیر بھارت کی جھولی میں ڈال کر 2 منٹ خاموشی کا کہتے ہیں۔ یہ جیت کر کشمیر کے پہاڑ بھی آئی ایم ایف کو بیچ دیں گے ۔ پلندری میں تو عمران خان پر یہ بھی الزام لگا دیا کہ وہ آزاد کشمیر کو ایک نیا صوبہ بنانا چاہیتے ہیں ۔ پھر عمران خان کو دھمکی دی کہ سن لیں ان کا یوم حساب قریب ہے ، آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام ان سے حساب لیں گے۔ ۔ میری نظر میں گندی زبان والے لیڈر اور حکومتی وزیر کشمیر پہنچے ہوئے ہیں اور کشمیر کا ماحول خراب کررہے ہیں۔ کیونکہ زبان درازی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ۔ ایسا لگتا ہے کہ آزادجموں وکشمیر انتخابی مہم ’جگت بازی‘ اور ’گالم گلوچ‘ کے آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

    ۔ کیونکہ ہر مسئلے کی زمہ دار حکومت ہوتی ہے تو شروع حکومت سے ہی کرتے ہیں ۔ علی امین گنڈاپور الیکشن مہم کے آغاز میں ہی تنازعات کی زد میں آگئے تھے جب ان کی مبینہ طور پر پیسے بانٹنے کی ویڈیو منظر عام پر آئی۔ اس کے بعد وزیر موصوف اپنی تقریر میں نامناسب الفاظ کے استعمال پر بھی خبروں کی زینت بنے رہے۔ پھر ان کی جانب سے
    500
    ارب روپے کے فنڈز کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے، جو پی ٹی آئی الیکشن جیتنے کی صورت میں وہاں کی حکومت کو دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    ۔ آزاد کشمیر میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے سابق وزیراعظم ذوالقفار علی بھٹوکو غدار اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ڈاکو قرار دیا۔

    ۔ یوں یہ بدزبانی کشمیرسے پارلیمنٹ تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ روز سینیٹ میں جو زبان استعمال ہوئی جو ہنگامہ ہوا ، جو الزامات لگے وہ باعث شرمندگی ہیں ۔
    علی امین گنڈا پور کی جانب سے بھٹو کو غدار کہنا ایک نیا پنڈورا بکس کھولنے کے مترادف ہے ۔

    ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت تصادم کی نئی راہ کھول رہی ہے ۔ سینیٹ میں اپوزیشن بینچز سے جو نعرے لگے وہ بھی اس مقدس ایوان کی بے حرمتی ہے اور حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ۔

    ۔ اپوزیشن کی بات کریں تو عمران خان کو بزدل کہا جارہا ہے ۔ ن لیگ تو آزاد کشمیر کے اندر بھی دھاندلی کا عندیہ دے کر۔ ان الیکشنوں کو بھی متنازعہ کرنے پر لگی ہے ۔

    ۔ مریم نواز بھرپور انتخابی مہم تو چلا رہی ہیں۔ مگر جیت کے چانسز کم دیکھائی دیتے ہیں ۔ جو کچھ وہ روزانہ ارشاد فرما رہی ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عمران خاں نے کشمیر کو بیچ ڈالا۔ صرف ان کی جماعت ہی طوفان میں ہچکولے کھاتے کشمیریوں کو ساحل سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کے لیے ان کے امیدوار فاروق حیدر نے فرمایا کہ مریم ہی کشمیر کو آزاد کرائیں گی۔

    ۔ جبکہ مظفر آباد کو فتح کرنے کے لیے عمران خان کی حکمتِ عملی وہی پرانی ہے، جو نون لیگ اور پیپلزپارٹی کی تھی۔ کہ برادریوں کی حمایت رکھنے والے کروڑ پتیوں کو ٹکٹ جاری کیے جائیں۔ وہ کر بھی ایسا ہی رہی ہے ۔

    ۔ اب اس تمام دھما چوکڑی میں عمران خاں کشمیر کا رخ کرنے والے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ
    ۔ کیا وہ بھی بلاول اور مریم کی روش اختیار کریں گے؟ انہی پہ گولہ باری کریں گے۔ اگر وہ اس بچگانہ کھیل کا حصہ ہو گئے تو مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ کون لڑے گا؟
    ۔ ٹارچر سیل میں پڑے ہزاروں نوجوانوں اور کمسن بچوں کا، جن کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ کہاں ہیں اوران پہ کیا بیت رہی ہے۔

    ۔ ہماری سیاست کا المیہ یہ ہے کہ
    ۔ انتخابات کہیں بھی ہوں؟
    ۔ حکومت کوئی بھی ہو؟
    ۔ اپوزیشن کتنی ہی نالائق کیوں نہ ہو؟

    ۔ سیاسی جماعتیں کتنی ہی پارسا، قابل اور جمہوریت پسند کیوں نہ ہوں انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے پر تنقید کرنا، ایک دوسرے پر مختلف طرح کے الزامات عائد کرنا اور تابڑتوڑ حملے کرنا ہمارے سیاسی کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔

    ۔ لیکن اس بار آزاد کشمیر کے انتخابات میں حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف سے لے کر اپوزیشن کی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت تک جو الزامات ایک دوسرے پر لگائے جا رہے ہیں اور جس گھن گرج کے ساتھ مخالفین کو کشمیر فروش ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔

    ۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں کو آج بھی اپنی تاریخ اور تحریک کا اچھی طرح علم ہے۔ تاہم آج پاکستان سے ووٹ مانگنے کے لئے آزادکشمیر جانے والے لیڈر کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر سمجھانے اور آزادی حاصل کرنے کے گر بتانے سے زیادہ پاکستان میں اپنے مخالفین کو غدار ، ملک دشمن، چور، ڈاکو، کرپٹ وغیرہ ثابت کرنے پر اپنی توانائیاں صرف کررہے ہیں۔

    ۔ 25
    جولائی کو ہونے والے الیکشن میں کون جیتے گا اور کون ہارے گا؟
    اس بارے کچھ کہنا مشکل ہے ۔ تاہم تحریک انصاف جس نے پچھلے الیکشن میں صرف دو سیٹیں جیتی تھیں، اب
    ۔۔۔ تبدیلی فارمولہ ۔۔۔
    کی رو سے سب سے مقبول پارٹی ہے۔

    ۔ پی ٹی آئی نے عوامی رابطہ مہم پراب تک اتنا زور نہیں لگایا جتنا دوسری پارٹیوں کے ارکان اسمبلی اور الیکٹ ایبلز کو توڑنے میں لگایا ہے ۔

    ۔ اچھا یہ بھی ایک تاثر ہے کہ ن لیگ کے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے حقیقتاً آزادکشمیر کو مالی خود مختاری دلانے سمیت کئی اچھے کام کئے ہیں جن کے زور پر وہ پی ٹی آئی کو جھٹکا دے سکتے ہیں ۔ پیپلزپارٹی میں بھی کئی تجربہ کار لوگ موجود ہیں جو اپنی سیٹیں جیت سکتے ہیں مگر پانسہ پلٹنے کے لئے اسے مزید محنت کرنا ہوگی۔

    ۔ دوسری جانب حکومت کا ایک مشن شہباز شریف ہے ۔ اس حوالے سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر حکومت کا خصوصی ٹارگٹ ہیں ۔ جبکہ حکومتی حلقوں میں چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ ان کے خلاف شواہد اتنے مضبوط ہیں کہ وہ نااہلی سے بچ نہیں سکیں گے ۔ مسلم لیگ( ن) کا کہنا ہے کہ حکمران اپنی عدم کارکردگی کی وجہ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ۔ شہباز شریف چونکہ حکومت کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں اس لئے انہیں خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔

    ۔ دیکھا جائے تو اس وقت سب سے بڑا مسئلہ احتساب ہے۔ آزادانہ اور شفاف احتساب نہ ہونے کے باعث اول تو یہ عمل آگے نہیں بڑھ رہا اور دوسری طرف یہ تاثر عام ہوتا نظر آتا ہے کہ احتساب صرف سیاستدانوں ، خصوصاً اپوزیشن تک محدود ہے۔ دیکھا جائے تو نیب نے احتساب کے لفظ کو ایک لطیفہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔

    ۔ اب اس ساری مارا ماری اور الزامات کی جنگ میں انتخابی اصلاحات کا معاملہ سیاسی طور پر خاصا ٹیڑھا ہوگیا ہے ۔ پہلے کچھ اُمید پیدا ہوچلی تھی کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں اپنے اختلافات کم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پر اب روز بروز تلخیاں بڑھتی جا رہی ہیں ۔

    ۔ ابھی تک جماعت ِاسلامی کے سوا تمام اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی انتخابی اصلاحات کی بیشتر تجاویز کو مستردکیا ہے۔ وہ نہ الیکٹرانک مشین کے ذریعے ووٹنگ کے حق میں ہیں اور نہ بیرون ملک رہائش پذیر پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے پر راضی ہیں ۔
    کیونکہ تقریبا اسّی لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کی بھاری اکثریت حکومتی جماعت تحریک انصاف کی حامی سمجھی جاتی ہے۔ یوں دس پندرہ لاکھ اوورسیز نے بھی اگلے عام انتخابات میں ووٹ ڈال دیا توتیس سے چالیس انتخابی حلقوں میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو فائدہ ہوگا۔

    ۔ دوسری طرف آصف زرداری کی پیپلز پارٹی کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین قابل ِقبول نہیں۔ حکومت کی مجوزہ ترمیم کے تحت ووٹر فہرستیں بنانے کا اختیار الیکشن کمیشن کی بجائے نادرا کو مل جائے گا۔۔ اپوزیشن اور الیکشن کمیشن اسکی مخالفت کررہے ہیں۔ انکا خیال ہے کہ اس اقدام سے الیکشن کمیشن بے اختیار ہوجائے گا۔

    ۔ یوں انتخابی اصلاحات کا معاملہ بہت اہم ہے کیونکہ صاف ستھرے الیکشن پر جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔ بدقسمتی سے ہر الیکشن کے بعد ہارنے والی جماعتیں انتخابی عمل میں شدید دھاندلی کی شکایت کرتی ہیں۔ کبھی ووٹنگ سے پہلے دھاندلی کرنے کا شور مچتا ہے۔ کبھی ووٹنگ کے بعدپولنگ اسٹیشن پر گنتی اورریٹرننگ افسر کے دفتر میں نتائج مرتب کرنے میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

    ۔ ہمارا سیاسی کلچر ایسا گلا سڑا ہے کہ کوئی طریقہ اختیار کرلیا جائے شکست کھانے والا اپنی ہار تسلیم نہیں کرتا۔ پاکستان میں مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ الیکشن صاف ستھرے اور منصفانہ ہوں بلکہ دشواری یہ ہے کہ اس ملک کے سیاستدان ہر صورت حکومت میں رہنا چاہتے ہیں۔۔ ہمارے سیاستدان جاگیردارانہ اور قبائلی مزاج کے حامل ہیں ۔ انکا خیال ہے کہ چودھراہٹ اور سرداری ہمیشہ ان کے پاس رہنی چاہیے۔ الیکشن تو محض رسمی کاروائی ہے۔۔ یہ بھی درست ہے کہ عملی سیاست سمجھوتوں اور کچھ لو، کچھ دو کے اُصولوں پر چلتی ہے۔ تحریک انصاف کو قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کیلیے اپنی انتخابی تجاویز میں لچک پیدا کرنا ہوگی۔ اسی طرح اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت کی ہر بات کو رَد کرکے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتیں۔ تمام فریقوں کو ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کرنا ہوگی۔ ضروری نہیں کہ الیکشن کے عمل میں بہتری کی تمام کوششیں ایک ہی قانونی ترمیم کے ذریعے نافذ ہوجائیں۔

  • افغانستان کو چھوڑنا غلطی ہے نتیجہ سنگین ہوگا جارج بش …تحریر عینی سحر

    افغانستان کو چھوڑنا غلطی ہے نتیجہ سنگین ہوگا جارج بش …تحریر عینی سحر

    امریکہ کے سابق صدر جارج بش نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کے انھیں بہت تشویش ہے امریکی اور نیٹو کی فوج کا افغانستان سے انخلا غلطی ہے اور اسکا نتیجہ ناقابل یقین حد تک برا ہوگا افغانستان کے لوگ وہاں کے بے رحم لوگوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دئیے گۓ ہیں جو انھیں بے رحمی سے ذبح کرینگے انہوں نے کہا یہ سوچ کر انکا دل ٹوٹنا ہے جارج بش کا یہ بیان امرکی صدر جو بایڈن کے امریکی فوجوں نے افغانستان سے انخلا کے بیان
    کے ایک ہفتے کے بعد آیا جس میں انہوں نے فیصلے پر کڑی تنقید کی اور اسے واضح طور پر ایک غلطی قرار دیا_
    امرکی سابق صدر بش اس فیصلے کے بالکل حق میں نہیں اور سمجھتے ہیں کے اس فیصلے سے افغانستان کی خواتین کے حقوق کا استحصال ہوگا اور ان سے دوسرے درجے کے شہری کی حثیت جیسا سلوک ہوگا

    اس سے قبل مئی میں سابق صدر بش نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا وو نہیں سمجھتے یہ درست فیصلہ ہےافغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا سے خطے میں خلا پیدا ہوگا جو کے بھرا نہ جاسکے گا یہ سب کرنا ضروری نہیں تھا امریکی چلے جائیں گے تو وہاں کے لوگ خواتین کو دوسرے درجے کے شہری سمجھیں گے اور ان سے ناروا سلوک کرینگے جو قربانیاں ہماری فوج اور انٹیلیجنس نے دی ہیں وہ سب بھلا دی جائیں گیں
    انہوں نے کہا یہ سب غیر ضروری تھا اب دعا یہ ہے کے یہ فیصلہ درست ثابت ہو

    صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے فوجی انخلا کی متوقع تاریخ جو کے ستمبر کی ہے اس سے قبل اکتیس اگست تک تمام امریکی فوجی واپس آچکے ہونگے

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکٹری جین میکاسی کا ہفتہ پہلے یہ بیان آیا کے یہ نہیں کہا جاسکتا کے ‘مشن اکامپلش ‘ کالمحہ آگیا ہو بیس سالہ کی اس جبگ کو عسکری لحاظ سے جیتا نہیں گیا جب جو بائیڈن سے پوچھا گیا کیا مشن اکامپلش ہوا انہوں نے کہا نہیں لیکن اتنا ہدف حاصل ہواکے انہوں نے القاعدہ کے مستقبل کے حملوں کو روک دیا اور اسامہ بن لادن کو ہلاک کر کے کسی حد تک کا مشن اکامپلش کیا

    جو بائیڈن نے کہا یہ افغانستان کے لوگوں کا حق ہے وہ جیسے چاہیں ویسے اپنا ملک چلائیں انکی حکومت کی ذمہ داری ہے کے خودمختاری کی حفاظت کریں انہوں نے کہا ہم افغان فوج کو فضائی ، اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر خاص طور پر خواتین کے حقوق کیلئے مدد جاری رکھیں گے لیکن پھر انہوں نے اس حوالے سے کے وہ یہ سب کیسے کریں گے جب وہ وہاں ایک بھی امریکی فوجی چھوڑنا نہیں چاہتے تواس پر انہوں نے سوال پوچھاآخر ہم امریکہ کے اور کتنے بیٹے اور بیٹیوں کو خطرے میں ڈالیں گے ؟
    ان سے سوال پوچھا گیا کیا اب طالبان قبضہ نہیں کرینگے ؟ تو جو بائیڈن نے دو ٹوک کہا نہیں کیوں کے اب افغانستان محفوظ ہاتھوں میں ہے اب وہاں محض پچھتر ہزار طالبان کیخلاف تین لاکھ تربیت یافتہ مسلح افغان فوج ہے .
    انہوں نے اپنی دلیل دیتے ہوۓ کہا آخر کب تک آپ اپنی فوج کو وہاں رکھیں گے لیکن اب میں امریکہ کی ایک اور نسل وہاں جنگ میں نہیں جھونکوں گا

    یاد رہے افغانستان کی جنگ امریکہ کی سب سے لمبی جنگ رہی جسمیں چوبیس سو ہلاکتیں اور اکیس ہزار زخمی ہوۓ
    اس بیس سالہ قیام میں امریکہ نے افغانستان کی تین لاکھ فوج کو طالبان سے مقابلے کی تربیت دی لیکن اس ساری تربیت کے باوجود طالبان اب تک پچاس ڈسٹرکٹ پر قبضہ کر چکے ہیں

    یہی وہ نکتہ تھا جو پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں واضح کیا تھا کے کسی کیلئے بھی افغانستان میں جنگ جیتنا ممکن نہیں