Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان عالمی طاقتوں کی مجبوری . تحریر: محمد عثمان

    پاکستان عالمی طاقتوں کی مجبوری . تحریر: محمد عثمان

    پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور پوری دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک ہے.
    ایٹمی ملک ہونا پاکستان کوجہاں ناقابل شکست و تسخیر بناتا ہے وہاں بے پناہ مسائل کا شکار بھی کرتا ہے.

    پاکستان معاشی لحاظ سے ایک کمزورملک ہے جس کی بدولت طاقتورممالک اس خطے کو اپنے مفادات کی خاطراستعمال کرتے ہیں.
    پچھلی دو دہائیاں اس بات کا غمازکرتی ہیں جس طرح امریکہ نے اپنے مفادات کی خاطر پاکستان کواستعمال کیا. صرف امریکہ ہی نہیں دیگرمغربی ممالک بھی پاکستان کی معاشی کمزوری کی بدولت اس کو مفادات کی جنگ میں گھیسٹتے ہیں. جہاں چائنہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا دم بھرتا ہے وہاں اپنے مفادات کے لیے پاکستان کو اچھے طریقے سے استعمال بھی کررہا ہے.

    تمام ایٹمی ملک سپرپاورکی دوڑمیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اوراپنی برتری ثابت کرنے کے لیے پاکستان جیسے کمزورملک کو استعمال کررہے ہیں. پاکستان بھی ان ترقی یافتہ ممالک کی طرح اس سپرپاورکی دوڑمیں شامل ہوگیا ہے. اگرچہ ناگفتہ بہ معاشی حالات ہیں مگرجیوگرافکل اورجیوپولیٹیکل صورتحال کے پیش نظراب منظر نامہ تبدیلی کی طرف گامزن ہوگیا ہے.

    پاکستان پہلے برطانیہ وامریکہ کا اتحادی شمارہوتا تھا جس کے لیے پاکستان نے بے پناہ قربانیاں بھی دیں اوراپنی معیشت بھی برباد کی مگر حاصل کچھ نہ ہوا. پرائی جنگ میں ساجھے داربن کراربوں ڈالرزکے infrastructure کا نقصان کیا لکھوں جانیں قربان کیں اوربدلے میں دہشتگردی کا لیبل لگوایا. اب پاکستان نے جو چائنہ کے ساتھ مل کر پاکستان چائنہ اکنامک کوریڈورشروع کیا ہے اس سے پوری دنیا میں منظرنامہ تبدیل ہو کررہ گیا ہے.

    عرب ممالک جو اسلامی بنیاد پرپاکستان کے دوست ممالک سمجھے جاتے ہیں اب نظربدل رہے ہیں کیونکہ اماراتی سمندری بالادستی ختم ہونے جا رہی ہے اس لیے انہیں بھی شدید تکلیف پہنچ رہی ہے. ازلی دشمن بھارت جس نے کبھی بھی کوئی موقع جانے نہیں دیا پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے خواہ وہ کوئی بھی پلیٹ فارم ہو. یہ الگ بات ہے کہ اسے ہربارمنہ کی کھانی پڑی ہے. اب پاکستان نے بھی اپنی strategy بدل لی ہے امریکہ بہادرکوabsolutely not کا میسج دے کر پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ ہم آپ کے محتاج نہیں اورنہ آپ کے ذرخرید غلام ہیں.

    جیو پولیٹیکل اورجیولاجیکل فیکڑ پردیکھیں تو افغانستان میں وقت سے پہلے امریکی انخلا اورپاکستان کا کرارا جواب دنیا کے منظر نامے پر نئی راہیں متعین کرنے کا اعلان ہے. پاکستان، چائنہ، روس، ترکی اورملائشیا نیا اتحاد ہونے جا رہا ہے. جس سے اسرائیل، بھارت اورامریکہ شدید شش و پنج میں مبتلا ہیں. امریکہ کی افغانستان سے وقت سے پہلے انخلا پربھارت نوحہ کناں ہے بھارت نے پاکستان کے خلاف افغانستان میں بہت زیادہ investment کر رکھی تھی اب وہ ساری ڈوبنے کے امکان روشن ہیں.

    طالبان کی افغانستان میں بڑھتی مقبولیت اورحکومت بنانے کے واضح اثرات دیکھ کر بھارت شدید خائف ہوکراسرائیل کی طرف بھاگا ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں روکے مگرامریکہ تو شاید بہانے کے انتطار میں تھا اوربگرام ائیر بیس کو رات کی تاریکی میں خاموشی سے خالی کر کے دم دبا کربھاگ رہا ہے یہ سب دیکھ کر بھارت شدید رنج اور پریشانی میں ایک ایک کر کے افغانستان میں اپنے کونصل خانے خالی کر رہا ہے.

    اس فیصلے پراسرائیلی حکومت امریکہ کو بھارتی نقصان باورکرانے کے لیے ایک کانفرنس کرنا چاہتی ہے. مگرایک امریکی اعلی عہدے دار کا ماننا ہے کہ اس میٹنگ میں پاکستان کا ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا بھارت کا کیوں کہ پاکستان اتنا ہی اہم ایٹمی ملک ہے جتنا بھارت اگرچہ پاکستان کی اکنامک پوزیشن بھارت کے مقابلے کم ہے لیکن دفاعی لحاظ سے اہمیت برابر ہے.

    سپرپاور کیلئے زیادہ سہولت ہے اگر جغرافیائی اعتبار سے محفوظ مقام پرہو دوسرے اہم قوت ہونے کیلئے معیشت اورعسکری قوت کے ساتھ ایک اور چیز ہے اوروہ ہے قدرتی جغرافیائی نقشہ جس پرپاکستان مکمل پورا اترتا ہے. بھارت پاکستان سے 6 گنا بڑا ہے. معیشت بھی اچھی ہے اورآبادی بھی بہت ہے لیکن جغرافیائی اعتبار سے وہ ایک بند مقام پر ہے اسے opening دستیاب ہی نہیں ہے. ایک طرف پاکستان دوسری طرف چین اور پھر ایک مشکل پہاڑی ملک نیپال غیراہم بھوٹان اوربنگلہ دیش جہاں سے محض مشرق بعید کے ایک دو ممالک تک رسائی ہے.

    بھارت جغرافیائی اعتبار سے کبھی بھی وہ اہمیت حاصل کر ہی نہیں سکتا جو پاکستان کو ہے. چائنہ اپنا ٹارگٹ فٹ کیے بیٹھا ہے آنے والی طالبان حکومت سے سب کچھ طے شدہ پروگرام کے تحت سٹریم لائن ہے طالبان بھی اب جبر و تشدد کو ترک کر کے عمدہ حکومت کے لیے پرامید ہیں. اگرطالبان سے معاملات طے پا جاتے ہیں تو روس پہلے ہی پاکستان کو blank check آفر کر چکا ہے کہ اب پاکستان کو دیکھنا ہے کہ اس کا مفاد کس جگہ پر کتنا اہم اورکتنا بڑا ہے.

    ترکی آنے والے وقتوں میں ایک بڑی معیشت ہے جو براہ راست پاکستان کے لیے خوش آئند ہے، ملائشیا پہلے ہی پاکستان میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے. اب اگر پاکستان چاہے تو ان تمام اتحاد کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرسکتا ہے مگر معاشی بد حالی اورکچھ غیرمعمولی نادیدہ قوتیں اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے کرپاکستان کو محکوم رکھیں گے. لیکن عالمی سیاسی منظر نامے پراورسنٹرل ایشائی ممالک میں طاقت کے توازن میں پاکستان غیر معمولی حیثیت حاصل کرچکا ہے. اب پاکستان کے بغیرسپرپاوربننا ناممکن ہے اس تناظرمیں اگردیکھا جائے تویہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان ہی اصل میں سپرپاورہے.

    ‎@one_pak_

  • کورونا وائرس کے اثرات اوربدلتے حالات . تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    کورونا وائرس کے اثرات اوربدلتے حالات . تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    COVID-19 کی وجہ سے جن حالات میں سے زندگی گزری ہرطرف ایک عجیب ڈرخوف اورکشمکش کی صورت حال دکھائی دی ہے.
    ایسا پہلے نہ کبھی کسی نے سنا نہ دیکھا کہ ایک ایسی بیماری جس نے یک لخت پوری دنیا کو لپیٹ میں لے کرحیران کردیا ہے.
    مارچ 2019 تک سب ٹھیک تھا زندگی اپنے پورے وجود کے ساتھ گنگناتی تھی دنیا کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کوئی ایسی وبا آۓ گی جو دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دے گی ہے.

    پھراچانک چائنہ میں ایک ایسی بیماری کا جنم ہوا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو ہلا کررکھ دیا بیماری جسے Covid-19 کا نام دیا گیا اس نے ہر ملک شہر، گاؤں، دیہات میں اپنے پنجے گاڑ لیے اورزندگی کو مکمل مفلوج کرکے رکھ دیا سکول کالجز، دفاتر، کاروباری اداروں کے ساتھ ساتھ تفریحی مقامات بھی بند کردیے گئے اور یوں لاک ڈاؤن میں مقید ہوکردنیا حقیقی معنوں میں مفلوج ہو کررہ گئی ہے.

    کاروباری لحاظ سے کرونا کی وبا سے ہونے والے نقصان پر قابو پانے کے لیے اقوامِ عالم متحرک ہوگیا ہے. یورپی یونین میں شامل ممالک کو گرانٹ اورآسان شرائط پرقرضے دینے کی تنظیم نے سات سوپچاس ارب یورو مختص کردیے بدا منی بھوک اورافلاس زدہ افریقی ممالک بھی باہمی تعاون کے منتظراورانکی بحالی کی کوششیں شروع کردی گئیں ہیں. مگر جنوبی ایشیا کی بدقسمتی ختم نہیں ہوسکی اور ہرگزرتے دن کے ساتھ کورونا کی تباہی کے ساتھ جنگ کے سائے گہرے ہو رہے ہیں. بھارت کومذہبی انتہا پسندی کا مرکز بنانے کے بعد مودی سرکار نے جارحانہ عزائم چھپانے کا تکلف بھی چھوڑ دیا ہے اورہمسایہ ممالک سے تعلقات بگاڑ کرخطے کی بالادستی حاصل کرنے کے بعد طاقتوراورسپرپاوربننا چاہتا ہے جو کہ ممکن نہیں ہے کیوں کہ پاکستان خطے میں امن کے لئے ہروقت کوشاں ہے اور چائنہ اس کے ساتھ کھڑا ہے لیکن بھارت کی شر پسندانہ سرگرمیوں کی بنا پر ہمسایہ ممالک بدظن ضرور ہوئے ہیں خاص کر افغانستان جہاں طالبان کے ساتھ اس کے رابطے مضبوط ہیں بھارت جن خبروں کی پہلے ہٹ دھرمی سے تردید کرتا رہا لیکن حالیہ دنوں میں اس نے کھلے عام اس بات کا اعتراف کیا ہے.

    پاکستان سے اپنی ازلی مخاصمت کی طویل تاریخ کے باوجود خطے کی بالادست قوت تو نہیں بن سکا مگر سارک تنظیم کو کمزور کرنے میں ضرورکامیاب ہوگیا ہے. حالانکہ بھارت کی جنونی حکومت اگر امن پسندی کا مظاہرہ کرتی تو نہ صرف یورپی ملکوں کی طرح سارک ممالک بھی ترقی کی منازل طے کر سکتے تھے. بلکہ سارک تنظیم دنیا کی مضبوط ترین تنظیم بن سکتی تھی. بھارت کی ہٹ دھرمی کا دنیا ادراک نہیں کرتی بھارت کے کرتوتوں پر چشم پوشی سے کام لیتی ہے. بالخصوص امریکہ جو کہ پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے لئے خوفناک تصادم کی راہ ہموارہوسکتی ہے.

    موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی بھی طرح کوئی بھی ملک معاشی لحاظ سے مزید بد امنی کا متحمل نہیں ہے اور بھارت میں کورونا کی تباہی مودی سرکارکی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے. بھارت کا نظام صحت کسی بھی ناگہانی صورت حال کے لائق نہیں ایسے میں بھارت کی پہلی ترجیح اسکی عوام کی فلاح و بہبود ہونی چاہئے نہ کہ جنگ جبکہ گذشتہ چند روز قبل بھارت سے کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی افسوسناک خبریں دیکھ کر پاکستانیوں کے دل بھی پگھلتے ہوئے نظر آئے دشمنی مقابلہ سب بھلا کرہرپاکستانی انسانیت کے لیے دعا گو دیکھا گیا ہے.

    پاکستانی حکومت اور فیصل ایدھی صاحب کی جانب سے خیرسگالی کےطورپرامدادی پیکج ایمبولینسز، آکسیجن بذریعہ کنٹینرز واگہ بارڈر بھیجی گئی عمومی طور پرسوشل میڈیا کے پلیٹ فارمزپردونوں ملکوں کے شہریوں کے درمیان ہرمعاملے پرنوک جھونک اورجنگی کیفیت رہتی ہے تاہم کورونا کے معاملے پرحالات مختلف نظرآئے اورپاکستانی صارفین انڈین شہریوں کی خیریت کے لیے فکرمند دکھائی دیے کیوں کہ ہمارے دین میں سب سے پہلے انسانیت کو ترجیح دی گئی ہے.
    دعا گو ہوں اللہ رب العزت امن سلامتی کے ساتھ تمام دنیا کے لئے خوشحالی کے اسباب پیدا کرے. آمین یارب العالمین.

    تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر
    @AmUsamaCh

  • قربانی . تحریر: صلاح الدین

    قربانی . تحریر: صلاح الدین

    عید الاضحی جذبہ قربانی اورایثارکی ایک عظیم مثال ہے کہ اسے اللہ پاک نے رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے اپنی رحمتوں کے حصول کا زریعہ بنا دیا ہے۔
    قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جب وہ اللہ پاک کی خوشنودی کی خاطراپنے لخت جگراپنے ہردلعزیزبیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کوقربان کرنے کے لیے تیار ہوگۓ تھے۔ اللہ پاک کوانکی نیت اس قدرپسند آئی کہ انہوں نے حضرت اسماعیل کی جگہ ایک دنبے کو رکھ دیا۔
    آج تمام عالم اسلام اسی سنت ابراہیمی کو پورا کرتے ہوۓ ہر سال عیدالاضحی پر اللہ کی راہ میں جانور قربان کرتے ہیں۔

    ہمیں قربانی کرتے ہوۓ اللہ پاک کی خوشنودی کو دیکھنا چاہیے کیونکہ قربانی صرف اللہ پاک کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ عیدالاضحی پر ہمارا جانور قربان کرنا اس جذبہ ایمانی کی یاد تازہ کرتا ہے کہ ہمیں اگراللہ پاک کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرنا آیا تو پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    قربانی کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے اندرعاجزی اورانکساری کا جذبہ ہونا چاہیے یہ دنیا کی جھوٹی شان و شوکت کچھ بھی نہیں ہے اللہ پاک کو غروروتکبرہرگزپسند نہیں ہے اللہ پاک انسان کی عاجزی کوپسند کرتا ہے جتنے عاجز ہونگے اتنے ہی اللہ پاک کے قریب ہونگے۔
    اللہ پاک کو آپ کی قربانی کا گوشت نہیں پہنچتا اللہ پاک کو صرف آپ کی نیت اوراخلاص پہنچتے ہیں۔ قربانی کرتے ہوۓ ہماری نیت صرف اللہ پاک کی رضا ہونی چاہیے کیونکہ اگر آپ نے اپنے رب کو راضی کرلیا توسمجھ لیں آپ نے دنیا اورآخرت کا سب سے بڑا خزانہ پالیا اور دنیا آخرت کی کامیابی صرف اللہ پاک کی رضا میں شامل ہے۔

    قربانی کرتے ہوۓ اپنے عزیز و اقارب اورآس پاس میں موجود لوگوں میں قربانی کا گوشت ضرورتقسیم کریں کیونکہ قربانی اللہ پاک کے لیے ہوتی ہے تو اس کے بندوں کو اگر نظراندازکریں گے تو اللہ پاک کے ہاں ایسی قربانی کسی کام کی نہیں ہے۔

    اللہ پاک اپنی بارگاہ میں ہم سب کی قربانی کوقبول فرماۓ، اللہ پاک ہمارے ملک و ملت پراپنا خصوصی کرم فرماۓ، ہمارے ملک کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرماۓ۔ آمین

    twitter id @Salahuddin_t2

  • محبت برابری کے اصول پہ نہیں ہوتی….!تحریر۔۔۔ محمد احمد

    محبت برابری کے اصول پہ نہیں ہوتی….!تحریر۔۔۔ محمد احمد

    ہر "کامیاب محبت ” کے پیچهے ایک فرد کی انا کا خون ہوتا ہے…!!
    محبت میں قربانی دینی پڑتی ہے…
    اپنی "انا” کی…
    اپنی "میں” کی…
    بعض اوقات شدید محبت بهی ناکام ہوجاتی ہے…!
    بیشک اس میں آپ اس محبت نامی دیوتا کو ہر چیز کی بلی چڑهاو دو…
    یہ حقیقت ہے کہ محبت کرنے والے بے شمار غلطیوں کو دہراتے ہیں، بالآخر یہ غلطیاں اس محبت کے تاج محل کو ریزہ ریزہ کر ڈالتی ہیں، اسی لئے لارڈ بائرن کہتا ہے کہ
    ’’جلد یا بدیر محبت اپنا انتقام خود بن جاتی ہے‘‘،یہ محبت کرنے والے نہ جانے کس مٹی کے بنے ہوتے ہیں، انہیں محبوب کی ہر ادا اچھی لگتی ہے، محبوب کا ہر غم اپنا غم لگتا ہے اور ہر داستان محبت کو کم و بیش اپنی ہی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں،

    محبت یک طرفہ ہوتی ہے…
    دو طرفہ نہیں…
    اور دو طرفہ تو معاہدے ہوتے ہیں…
    محبت نہیں…

    کسی شاعر نے محبت کی تعریف یوں بھی کی ہے کہ
    اک لفظ محبت کا ادنیٰ سا فسانہ ہے
    سمٹے تو دل عاشق، پھیلے تو زمانہ ہے

    اقبالؒ فرماتے ہیں کہ
    یقین محکم، عمل پیہم اور محبت فاتح عالم کے ساتھ زندگی کے عملی میدان میں کامیاب ہوا جا سکتا ہے اور یہی تینوں چیزیں اسلحے کا کام دیتی ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ یقین اور محبت کے ساتھ کشمیر فتح ہو سکتا ہے، اس کے لیے عمل اور جدوجہد شرط ہے۔

    کہتے ہیں بے آب و گیا تپتی دهوپ کے صحرا میں محبت ایک سرسبز و شادب بند قلعہ ہے…. جس کے دروازے….!!
    سوچنے والوں پہ نہیں کهولتے….!!!!!!

    تحریر۔۔۔ محمد احمد
    @EyeMKhokhar

  • راوی ریوراربن پراجیکٹ شہری زندگی میں ایک انقلابی قدم . تحریر: صہیب اسلم

    راوی ریوراربن پراجیکٹ شہری زندگی میں ایک انقلابی قدم . تحریر: صہیب اسلم

    انسان نے جب سے ہوش سنبھالا تب سے اپنی زندگی کو آسان بنانے کیلئے آسائش و سہولیات کا ہرممکن راستہ تلاش کیا۔

    کہا جاتا ہے کہ انسانی زندگی کا آغازجنگل سے شروع ہوا جہاں انسان نے اپنا پہلا گھربنایا پھر جیسے جیسے وسائل دستیاب ہوئے انسان بھی اپنی سہولیات میں اضافہ کرتا گیا۔ پھرایک وقت آیا جب قصبوں سے گاؤں آباد ہوئے اور پھر گاؤں کے بعد باقاعدہ شہری آبادکاری شروع ہوئی جہاں قصبوں اور گاؤں کی نسبت ضروریات زندگی کی تکمیل کیلئے زیادہ وسائل دستیاب ہوئے لیکن پھرایک وقت ایسا بھی آیا جب بڑے بڑے شہربھی انسانی آبادکاری کیلئے چھوٹے پڑ گئے جس کی سب سے بڑی وجہ بے ہنگم وبغیر کسی منصوبہ بندی کے آبادکاری ہے جہاں رہائشی دباؤ اس قدرشدید ہوگیا کہ انسانی ضروریات کو پورا کرنے والی بنیادی چیزیں بھی کم پڑگئیں۔

    بد قسمتی سے پاکستان بھی انہی ممالک میں سے ایک ہے جہاں سوائے وفاقی دارالحکومت اسلام اباد کے باقی تمام شہر بغیر کسی منصوبہ بندی کے بنائے گئے۔

    آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا دوسرا بڑا شہرلاہور ہے جو اس وقت شہری آبادکاری کے دباو کی وجہ سے بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہوتا جا رہا ہے اور اسی نقصان کو وقت سے پہلے بھانپتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ لاہور شہر کے ساتھ دریائے راوی پر ایک نئے شہر کو آباد کیا جائے جس کیلئے باقاعدہ ایک اتھارٹی قائم کی گئی جس کا نام راوی ریوراربن پراجیکٹ رکھا گیا جس کا مقصد دریائے راوی پر ایک ایسے شہرکو آباد کرنا ہے جہاں نہ صرف تمام بنیادی ضروریات کو پورا کیا جائے گا بلکہ لاہور پر آبادکاری کے بڑھتے شدید دباؤ کو بھی کم کیا جائے گا اورساتھ ہی لاہورشہرکی سب سے اہم اوربنیادی ضرورت صاف پانی کی کمی کو پورا کیا جاسکے گا.

    راوی ریوراربن پراجیکٹ اپنی نوعیت کا سب سے منفرد اورپاکستان کا پہلا شہرہوگا جسے نہ صرف باقاعدہ بہترین منصوبہ بندی کے ذریعے بنایا جا رہا ہے بلکہ لاہورشہرکی بنیادی ضرورت یعنی صاف پانی کی کمی کو بھی پورا کیا جائے گا۔

    راوی ریوراربن پراجیکٹ دریائے راوی کی دونوں اطراف شمال مشرق سے جنوب مغربی رقبے پرتعمیرکیا جا رہا ہے جس کیلئے پہلے 44 ہزارایکڑ رقبہ مختص کیا گیا تھا جسے بعد میں 44 ہزارسے بڑھا کرایک لاکھ ایکڑ کردیا گیا۔

    ریور راوی اربن پراجیکٹ پرتقریبا پانچ کھرب پاکستانی روپے خرچہ ہوگا جس کو بنانے کیلئے سب سے پہلے دریائے راوی پر46 کلومیٹر طویل جھیل بنائی جائے گی جس کے دونوں اطراف اس شہر کو بسایا جائے گا۔ اس جھیل پر6 بیراج تعمیرکئے جائیں گے اورساتھ ھی پانی کو صاف رکھنے کیلئے ویسٹ واٹرمینیجمنٹ سسٹم بھی بنایا جائے گا۔ اس جھیل میں نہ صرف بارش کے پانی کو اکٹھا کیا جائے گا بلکہ اسی جھیل سے لاہورشہرکا زیرزمین مسلسل خطرناک حد تک کم ہوتے پانی کی سطح کو بھی کنٹرول کیا جائے گا۔

    راوی ریوراربن پراجیکٹ کا 70 فیصد رقبہ جنگلات و سرسبز ہریالی پرمنحصر ہوگا جو نہ صرف راوی ریوراربن بلکہ لاہورکو بھی ماحولیاتی آلودگی جیسے گرد وغباراورسموگ سے پاک رکھے گا جبکہ 30 فیصد رقبہ رہائشی و صنعتی ہوگا جو بارہ مختلف سیکٹرز پر مشتمل ہوگا اور ہرسیکٹرایک باقاعدہ شہر ہوگا جہاں صحت عامہ، درس و تدریس، صنعت و تجارت اورکھیل و تفریح سمیت ایک ایسا انسان دوست ماحول ہو گا جو نہ آنے والی نسلوں کی تعمیرکرے گا بلکہ صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

    اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ اس سے 12 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو نوکریاں دستیاب ہوں گی اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والا 90 فیصد میٹیریل پاکستان میں ہی تیار کیا جاتا ہے جس سے پاکستان کی مقامی صنعتوں کو بے تحاشا فائدہ ہوگا۔

    اس منصوبے کو2014 میں تجویزکیا گیا تھا لیکن ماضی کے حکمرانوں نے اسے اپنی سیاست کی نظرکرتے ہوئے انسان دوست منصوبے کی فائلوں میں دفن کردیا لیکن وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے خواب ترقی یافتہ نیا پاکستان کی تکمیل میں جاری اس سفرمیں بڑے اور طویل المدتی منصوبوں میں یہ پہلا بارش کا قطرہ ثابت ہوگا جو آنے والے وقت میں ایک نئے ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھ رہا ہے۔

    @Salahuddin_t2

  • مولوی کی بیٹیاں . تحریر: حمیرا نذیر

    مولوی کی بیٹیاں . تحریر: حمیرا نذیر

    بیٹی نے کہا بابا عید میں پانچ دن رہ گئے ہیں ہم نے کچھ بھی خریداری نہیں کی
    مولوی صاحب نے کہا اچھا میرا پتر !!!
    ابھی بہت دن ہیں خرید لیں گے چاند رات سے ایک دن قبل سب کچھ لے لیں گے۔ مولوی صاحب یہ بات کررہے تھے کہ آذان سنائی دی مولوی صاحب جو آنکھیں بیٹی کو جھوٹی تسلی دینے پر شرمندگی سے جھکائے ہوئے تھے انکو موقع مل گیا اور مسجد کی طرف چل دئے۔
    عید سے ایک دن قبل جب مولوی صاحب ہر طرف سے ناامید ہوگئے کیونکہ مانگنے سے عزت نفس جاتی ہے اور قرض لینا نہیں کیونکہ واپسی کی کوئی صورت ممکن ہی نہیں اور خود سے کسی کو توفیق نہیں ہوئی کیونکہ مولوی صاحب کے بچوں کے کونسے دل ہوتے ہیں جو مچلتے ہوں انکے کونسے احساسات ہوتے ہیں وہ کونسا فیلنگ رکھتے ہیں انہوں نے کونسا باہر نکلنا ہے۔
    جب کوئی انتظام نہ ہوا تو سوچا آج جتنی منطق اور استقراء قیاس پڑھا ہے سب کو بروئے کار لاکر بیٹی کو قائل کروں گا کہ بیٹا بڑی عید پر کوئی کپڑے نہیں پہنتا یہ تو قربانی کی عید ہے لیکن دھڑکا تھا کہ بیٹی بھی تو مولوی کی ہے یہ کہہ دیا کہ قربانی بھی تو آپ نہیں کررہے
    خیر سارا علم مستحضر کرکے گھر گیا تو بیٹیاں ہاتھوں میں پرچیاں لیکر منتظر تھیں کہ باباجان نے آج کا وعدہ کیا ہے تو ہمیں مطلوبہ چیزیں لادیں گے

    جیسے مولوی صاحب کھنگورا مارتے داخل ہوئے تو مولون سمجھ چکی تھی کہ بیٹوں کے دل ٹوٹنے والے ہیں تو وہ جلدی سے گئی پیاز لے آئی کہ پیاز کاٹنے کے بہانے آنسو بہا لے گی
    کیونکہ ماں تو ماں ہوتی ہے اسکے آنسو اولاد کے لئے تو پلکوں کی منڈیر پر ہی بسیرا کرتے ہیں لیکن وہ بیٹیوں کے سامنے شوہر کو اور باپ بیٹیوں کو ٹوٹتا نہ دیکھ سکے
    مولوی صاحب بیٹھے تو چھوٹی آنے لگی کہ پرچی تھماووں مولوی صاحب نظریں جھکائے جرابیں اتارنے لگے اور ٹوپی لپیٹ کے رکھی جو کہ علامت ہوتی ہے کہ ااسکے بعد باہر نہیں جانا کہ اچانک چھوٹی کو بڑی بیٹی بازو سے پکڑتی ہے اور اسے اشارے سے روکتی ہے اسکے ہاتھ سے پرچی لیکر اپنی پرچی میں رکھ کر چپکے سے چٹائی کے نیچے چھپاتی ہے یہ سب مولوی صاحب کن اکھیوں سے دیکھ رہے تھے لیکن نہ دیکھنے کی کمال فنکاری کررہے تھے مولون کے آنسو پیاز کے بہانے سیل رواں بنے ہوئے تھے مولوی صاحب کا سارا علم زیرو ہوگیا اسے لگا جیسے وہ سب سے زیادہ جاہل اجڈ اور گنوار ہے اس سے پہلے کہ مولوی صاحب کچھ کہتے تو بیٹی بولی بابا جان کل ہم نے نئے کپڑے نہیں لینے کیونکہ بڑی عید تو قربانی کی عید ہے اور کل آپ نے چاچو کے دو بیڑے ( بچھڑے ) بھی تو کرنے ہیں اور ہم نے وہاں آپکو بیڑے کرتے دیکھنا ہے تو سارا دن تو قربانی میں لگ جائیں گے ہم کپڑے کس وقت پہنیں گے؟

    چھوٹی عید کے پڑے ہوئے ہیں وہی پہن لیں گے وہ سارے دلائل جیسے کاپی پیسٹ کئے ہوں اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ عالم فاضل اور سمجھدار بیٹی ہی لگی
    بیٹی کی یہ بات سن کر مولوی صاحب نے نظریں اٹھائی ایک نظر بیٹی کے چہرے پر ڈالی کچھ دیر کو گردن فخر سے تن گئی اپنی پگ کا شملہ اونچا بہت اونچا محسوس ہوا لیکن اگلے لمحے ہی بچیوں کی معصومانہ خواہشات کا یوں خود کشی کرنا اسکو توڑ گئی اسے اپنا آپ بے تحاشہ ناکام باپ جو عید پر بھی ضرورت کی خواہش نہ پوری کرسکا اس سے یہ برداشت نہ ہوا جلدی سے کمرے میں جاکر سونے کا کہہ کر بستر میں گھس گئے اور وہاں ہونٹ سی لیئے منہ کو بھینچا اور آنکھوں سے کہا تم آزاد ہو برس لو ورنہ غم کے اندر کے سونامی سے مر ہی جاو گئے ۔
    صبح اٹھ کر مولوی صاحب نماز کے لئے چلے گئے واپس آئے تو چھوٹی بیٹی نے دس بیس پچاس کے چند نوٹ پکڑے ہوئے تھے بولی بابا یہ پیسے ہیں آپ ایسے کریں کہ بھائی کو کپڑے لے دیں اس نے کل آپکے ساتھ مسجد جانا ہے اور وہ چھوٹا ہے گلی میں کھیلے گا تو سب کیا کہیں گے یہ ایک اور دھماکہ تھا

    لیکن بہن کا بھائی کے لئے پیار کیا ہوتا ہے سب سمجھا گیا۔
    ہمارے معاشرے میں اکثر مولوی حضرات کی زندگی اسی طرح کی کشمکش کی شکار ہے وہ شخص جو پورے محلے کو عید کی نماز پڑھاتا ہے خد اپنے اور اپنے بچوں کے لئے کپڑے بھی نہیں خرید سکتا۔ نہ ان لوگوں کی تنخواہ ہوری ہے نہ ہی آمدن کا زریعہ ایسے میں ہم لوگوں کو ہی ان کی مدد کرنی چاہیئے ہم 1500 روپے کا سوٹ 5000 روپے میں تو خرید لیتے ہیں مگر کسی غریب کی مدد نہ کرنے کے ہزاروں بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ بڑے پلازہ میں جا کر دو کوڑی کی چیز ہزاروں روپوں میں چپ چاپ خرید لیتے ہیں لیکن اگر کوئی غریب 100، 50 مانگ لے تو فلا سفر بن کر اسے لیکچر دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کی مدد سے ہی زندگی کا اصل مقصد حاصل کیا جا سکتا۔
    خدارا اپنی عید کی خوشیاں ان کے ساتھ ضرور شیئر کریں
    اللہ پاک آپ کی خیر فرمائے آمین یارب العلمین۔

  • علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب . تحریر: اقصیٰ یونس

    علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب . تحریر: اقصیٰ یونس

    Mعلم کی بدولت قوموں نے عروج پایا۔ علم نے آدمیت کو انسانیت کے رنگ میں ڈھالاورنہ آدمی کھانے پینے اور اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کو اپنا عروج سمجھتا تھا۔ زندگی گزارنے کا مقصد نفسانی خواہشات کی تکمیل کے سوا کچھ نہ تھا۔ انسان تہذیب وثقافت سے عاری تھا۔ نیکی اور بدی کی تمیز سے نابلد تھا۔ علم نے تہذیب سکھائی۔ اچھائی اور برائی کی تمیز سکھائی۔ علم کا مقصد سمجھ بوجھ اور فہم و فراست میں پاکی حاصل کرنا ہے۔

    کسی بھی ملک کی ترقی میں تعلیم کی اہمیت ناگزیر ہے۔ ہمیشہ وہی قومیں اپنا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئی جن کا تعلیمی نظام بہترین تھا ۔ تعلیم کیُ اہمیت سے انکا نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کا تعلیمی نظام معیار کے لحاظ سے 94 نمبر پر ہے – اور تعلیمی بجٹ کے لحاظ سے 126 نمبر پہ ہے – اس بات سے پاکستان کے تعلیمی نظام کی خستہ حالی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے-

    پاکستان میں تعلیم کی نگرانی وفاقی وزارت تعلیم اور صوبائی حکومتوں کے زیر نگرانی کی جاتی ہے جبکہ وفاقی حکومت زیادہ تر نصاب کی ترقی ، منظوری اور تحقیق و ترقی کی مالی اعانت میں معاونت کرتی ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 25-A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی معیار کی تعلیم فراہم کرے۔ "ریاست پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کو اس طریقے سے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی ”

    ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 226903 سکول ،41018384 طلبہ 1535461 اساتذہ ہیں ۔ ان میں 180846 سرکاری ادارے جبکہ 80057 نجی ادارے شامل ہیں ۔ یعنی ہر 26 طلبہ کیلئے ایک استاد موجود ہے جبکہ پرائمری سکول میں حالات اس سے بھی زیادہ خستہ حال ہیں اور وہاں 31 طلبہ کیلئے فقط ایک استاد موجود ہے۔

    پنجاب میں اس وقت سکولوں میں تقریباً نوے ہزار آسامیاں خالی ٹیچرز کی بھرتی کی منتظر ہیں اور پنجاب میں بچوں کی
    تعلیمی استحصال روزانہ کی بنیاد پر ہو رہا ہے موجودہ حکومت اور وزیر تعلیم کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔

    سرکاری اداروں کی زبو حالی اور تباہی کی ایک الگ داستان ہے، ایسے ادارے جہاں سہوتوں کے فقدان کی لمبی قطار ہے اور ڈیجیٹل پاکستان کا راگ الاپنے والے کسی ایک سرکاری سکول کا نام بتا دیں جہاں ڈیجیٹل طریقے اپناتے ہوئے بچوں میں علم کی شمع جلائی جاتی ہو۔ حال ہی میں ایک سرکاری سکول کے طالب علم سے بات کرنے کا موقع ملا اور یہ جان کر دل ہی بج گیا کہ وہاں کے اساتذہ بچوں کو انکے نام لینے کی بجائے گدھے ، الو, کالے ، موٹے جیسے القابات سے پکارتے ہیں ۔صرف یہی نہیں کچھ استاد ایسے بھی ہیں جو بچوں کو ان القابات کی بجائے گالیاں دے کر پکارتے ہیں ۔

    آج بھی اسلام آباد کے اچھے سکولوں میں جہاں 15 سالوں کی ملازمت کے بعد پرائمری ٹیچر بھی 1 لاکھ روپیہ تنخواہ وصول کرتے ہیں،مگر جن نو نہالوں کو پرائمری کی سطح پر تخلیقی تعلیم دینی چاہئے،کتابوں اور بستوں سے 5 سے10 سال کے بچے جھکے کندھوں کے ساتھ خوف اور دہشت کی علامت بن کر سکول جاتے ہیں۔صبح ماں اور باپ کی ڈانٹ ڈپٹ ،سکول داخل ہوتے ہی سکول ٹیچر کی اونچی اور خوفناک آواز ان کے حوصلے اور سیکھنے کے عظم کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔کم از کم پرائمری کے دوران بچوں کو تعلیم سے زیادہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے،مگر گھر اور درسگاہوں میں کہاں تربیت ہوتی ہے،وہاں آج بھی A-Apple اور B-Bat کے علاوہ کچھ نہیں رٹایا جاتا۔

    علامہ اقبال مغربی نظامِ تعلیم سے بہت نالاں تھے کیونکہ مغربی نظام تعلیم مادیت پرستی، عقل پرستی اور بے دینی و الحاد کا سبق دیتی ہے۔ اسی نظام تعلیم کی حقیقت کو علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں اس انداز سے پیش کیاکہ:
    اور یہ اہل کلیسا کا نظامِ تعلیم
    ایک سازش

    <Writer Aqsa Younas


     Aqsa Younas

    Aqsa Younas is a Freelance Journalist Content Writer, Blogger/Columnist and Social Media Activist. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes columns on political, international as well as social issues. To find out more about her work on her Twitter account

      

     


    https://twitter.com/AqsaRana890

  • بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کا دوسرا نکاح . تحریر: احمد لیاقت

    بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کا دوسرا نکاح . تحریر: احمد لیاقت

    مسلمانوں اورغیرمسلموں کے میل جول میں بہت سی ایسی رسمیں وجود میں آئی ہیں جن میں سے ایک رسم یہ بھی ہے کہ بیوہ عورت سے نکاح کو حقارت کی نظر سے لوگ دیکھتے ہیں ہرمسلمان اپنے آپ کو شریف اور دوسرے کو بیوقوف سمجھتا ہے جو لوگ اپنے آپ کو زیادہ شریف کہتے ہیں وہ اس بلا میں زیادہ گرفتار ہیں.
    لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسے پہلا نکاح ویسے دوسرا نکاح
    دونوں میں فرق سمجھنا بیوقوفی اورشرمناک جہالت ہے بغض عورتیں ایسی بھی ہیں جو دوسرے نکاح کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اس کو بات بات پرطعنے دے کر ذلیل کرتے ہیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات پیدا کیا ہے دوسرا نکاح کرنے والی عورتوں کو حقیر و ذلیل سمجھنا یا برا جاننا بڑا سخت گناہ ہے
    کسی کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے ہوسکتا ہے وہ انسان اللہ کے حبیب آپ سے زیادہ افضل ہو۔ کون نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جتنی بھی بیویاں تھیں حضرت عائشہ صدیقہ رض کے سوا کوئی کنواری نہ تھیں.
    یاد رکھو عورت ایک بیٹی ، ایک بہن ، ایک ماں بھی ہے اور بیوہ عورتوں سے نکاح کرنا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے
    حدیث شریف میں آتا ہے جو کوئی کسی چھوڑی ہوئی اورمردہ سنت کو زندہ اور جاری کرے اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا ہم سب کو چاہیے جو بھی بیہودہ رسمیں ہیں ان کو ختم کرنا چاہیے اور اللہ و رسول کی خوشنودی کیلئے بیوہ عورتوں کا نکاح ضرور ضرور کرائیں تاکہ اس بیچاری اوردکھیاری اللہ کے بندوں کو بربادی سے بچا کرسو شہیدوں کا ثواب حاصل کریں.

    سورہ نورمیں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ
    اورنکاح کردو اپنوں میں انکا جو بے نکاح ہوں اوراپنے لائق غلاموں اور کنیزوں کا۔

    دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اجاکر کرنے کی ہمت عطا فرماۓ. آمین.
    @JingoAlpha

  • قربانی اوراس کی اہمیت. تحریر: موسی حبیب راجہ

    قربانی اوراس کی اہمیت. تحریر: موسی حبیب راجہ

    حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے بیٹے (اسماعیل علیہ السلام )کو ذبح کررہے ہیں۔ نبی کا خواب سچا ہوا کرتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ جب باپ نے بیٹے کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہیں ذبح کرنے کا حکم دیا ہے تو فرمانبردار بیٹے اسماعیل علیہ السلام کا جواب تھا
    ابا جان! جو کچھ آپ کو حکم دیا جارہا ہے، اسے کرڈالئے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔
    (سورۂ الصٰفٰت ۱۰۲)

    صحیح بخاری میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ منقول ھے.
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے. ایک عورت آئی اور اس نے اپنا نفس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سپرد کر دیا کہ اس کی جہاں چاہیں شادی کر دیں. ایک غریب کنوارے صحابی وہاں موجود تھے. انھوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! اس کی شادی آپ مجھ سے کر دیجیئے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا : "تمھارے پاس اسے حق مہر دینے کے لیے کچھ ہے؟ ” اس نے کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں ھے.

    آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جاؤ اگر لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے تو لے آنا ھم وہی حق مہر بنا کر اس کا نکاح تجھ سے کر دیں گے. وہ صحابی اپنے گھر گیا مگر غربت کا عالم یہ تھا کہ گھر سے لوھے کی ایک انگوٹھی بھی نہ ملی. اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! میرے پاس ایک چادر ھے. اس میں سے آدھی میں حق مہر میں اسے دے دیتا ھوں اور آدھی خود رکھ لیتا ھوں.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :”وہ آدھی نہ آپ کے کسی کام آئے گی اور نہ اس کے کام آئے گی.”
    وہ خاموشی سے ایک طرف ہو کربیٹھ گیا. تھوڑی دیر بیٹھا رہا مگر اٹھ کر جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے بلایا اور پوچھا:”تمھیں قرآن میں سے کچھ یاد ھے؟” اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں.
    آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے ان سورتوں کے عوض تمھارا نکاح اس سے کر دیا ہے( یعنی وہ سورتیں تم اسے یاد کروا دینا )”
    ( صحیح البخاری :5121)

    اس حدیث سے اندازہ لگایا جاسکتا ھے کہ دور نبوت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غربت کا کیا عالم تھا. ایک صحابی کے پاس حق مہر دینے کے لیے جو کہ فرض تھا، ایک لوھے کی انگوٹھی بھی نہیں تھی چاندی اور سونا تو دور رہا.
    کتب احادیث میں ایسی غربت کے بیشمارواقعات ملتے ہیں.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ میں دس سال گزارے اورہرسال آپ نے قربانی کی حتی کہ ایک سال سو اونٹ نحر کیئے. آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دس سالوں میں کبھی یہ نہیں کہا کہ اس سال ھم قربانیاں نہیں کریں گے بلکہ قربانی کا پیسہ نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کی شادی پرخرچ کریں گے.

    اگرقربانی کے جانورذبح کرنے کی بجائے نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کی شادی پر پیسہ خرچ کرنا قربانی سے افضل ھوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ضرور اس کا حکم دیتے مگر آپ نے تو شادی کی استطاعت نہ رکھنے والوں سے فرمایا :

    "اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی استطاعت رکھتا ھے وہ شادی کر لے اور جو استطاعت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، اس لیئے کہ یہ روزہ اس کے لیئے( گناہ سے بچنے کی )ڈھال ثابت ھو گا.”
    ( صحیح البخاری :5066)

    جوں جوں قربانی کے ایام قریب آئیں گے، غریبوں کے بہت سے خیرخواہ ( لبرل ) اپنی بلوں سے نکلنا شروع ھو جائیں گے. ان کا مقصد غریبوں کی حمایت نہیں بلکہ شعائر اسلام کی تحقیر ھوتا ھے. ان کے دلوں میں شعائر اسلام کا بغض اور نفرت کوٹ کوٹ کر بھرا ھوتا ھے.

    قربانی ایک عظیم عمل ھے جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ھے. شکوک و شبہات سے بچیئے اور اللہ کے دیئے ھوئے مال میں سے اللہ کی راہ میں جانور ذبح کیجیئے. اسی میں خیر اور بھلائی ھے

    حضرت عبداللہ ابن عمرسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ دس سال مدینہ میں مقیم رہے اور ہرسال قربانی فرماتے تھے۔ (سنن ترمذی )

    حضور نبی کریم ﷺ کا ہر سال قربانی کرنا قربانی کی اہمیت ، فضیلت اور تاکید کیلئے کافی ہے۔۔

    حضرت انس سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ سیاہ اور سفید رنگت والے اور بڑے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی فرما کرتے تھے،اور اپنے پاؤں کو انکی گردن کے پاس رکھ لیا کرتے تھے اور اپنے دستِ مبارک سے ذبح فرماتے تھے
    (صحیح بخاری )
    Writer Details


    Musa Habib Raja is a Social Media Activist, Freelance Journalist Content Writer and Blogger. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes on political, international as well as social issues To find out more about him please visit his Twitter

     

    The rest of Musa Habib Raja Articles and Twitter Timeline


     

  • "بدعنوانی کا خاتمہ ضروری” .تحریر:اقصی احمد خان

    "بدعنوانی کا خاتمہ ضروری” .تحریر:اقصی احمد خان

    پاکستان کے بڑ ے مسائل میں سے بدعنوانی اور دہشت گردی سر فہرست ہیں۔
    دہشتگردی کے لئے تو پاکستان کی کوششیں انتہائی کامیاب ہیں اور الحمداللہ ہماری فوج نے دہشت گردی کے نیٹ ورک کی حیرانکن نتائج کے ساتھ کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ہماری ان کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے ۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہمارا فوج کا ادارہ عالمی سطح پر ایک کنسلٹیٹو کا درجہ رکھتاہے تو غلط نہیں ہوگا ۔آپ سب سے گزارش ہے کہ اس فورمپر، علم اور تجربہ کی بنیاد پر اپنی اپنی آراء سے مستفید فرمائیں۔ممکن ہے ہماری یہ چھوٹی سی کوشش اس ضمن میں مددگار ثابت ہو۔
    میں ایک طالب علم ہوں سو میری رائے کوئی حرفِ آخر نہیں بلکہ رائے بھی کیا بس کُچھ پریشان خیالیاں ہیں جو آپ احباب سے شئیر کر سکتی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے۔ یہاں شخصیات اور ادارے طاقتور ہیں اور قانون کمزور ایسے میں ہم اپنے اطراف جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کی صورتِ حال ہر قدم باآسانی دیکھ سکتے ہیں ۔ یہاں چونکہ خود قانون ہی بے آبرو ہے تو موقع اور مفاد پرست شخصیات اور اداروں میں عزت، خودداری، ملی غیرت اور خود احتسابی جیسی ضروری خصوصیات کیسے پیدا ہوں۔ آج کلمے کے نام پر حاصل کیے گئے اس ملک کی عملی شکل کُچھ یوں ہے کہ آپ شیطانیت کے راج میں ہونے والے کسی بھی بڑے سے بڑے روح فرسا جُرم کا تصور کر لیں وہ جُرم آپ کو پوری آب و تاب کے ساتھ ارضِ پاک میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی پر ملے گا۔ یہاں کسی بڑے سے بڑے سانحے کا بھی کوئی ذمہ دار نہیں ملتا۔ پاکستان دو لخت ہو گیا مگر ہمارے عملی اور نظریاتی سرحدوں کے محافظوں کی آن بان میں کوئی کمی نہ آئی بلکہ وہ خود کو اس ٹکڑے کے پہلے سے زیادہ اہم محافظ قرار دیتے ہیں۔ یہاں قانون ایک سنگین مذاق ہے۔ جب تک یہاں قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی ہم خود کو باوقار قوموں کی صف میں آخری درجے پر بھی نہیں لا سکتے۔
    نا اُمیدی کفر ہے سو اُمید کرتے ہیں کہ ایک دن عوام اپنے اجتماعی شعور کو حرکت میں لا کر اندھیروں سے روشنیوں کے سفر کی طرف ضرور گامزن ہوں گے۔ ہر الزام حکومت پر ڈال دینا انتہائی درجے کی بیوقوفی ہے ہمیں بطور قوم اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔

    ہوتی نہیں قبول دعا ترکِ عشق کی
    دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں

    انتخابی اصلاحات اہم ہیں۔ تو میرا اور آپ کا مشترکہ نعرہ کہ انتخابی اصلاحات تشکیل دی جائیں۔

    میرا تو سب سے پہلے اس بات سے اختلاف ہے کہ عوام مظلوم ہیں ۔ عوام خود ظالم ہیں۔ دوسروں پہ بھی ظلم کرتے ہیں اور خود پہ بھی ۔ رمضان کی آمد سے پیشتر ہی پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان چھونا شروع کر دیتی ہیں ۔ یہ قیمتیں حکومت یا ریاستی ادارے نہیں بڑھاتے ۔ ہم عوام بڑھاتے ہیں ۔ ایک کسان سے لے کر چھابڑی فروش تک اور گودام کے مالک سے لے کر گلی میں جا کے سبزی بیچنے والے تک ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ جتنا لُوٹا جا سکتا ہے لُو ٹ لو ۔اس لُوٹ مار میں ہم عوام خود سب سے آگے ہوتے ہیں۔
    اگر یہاں یہ کہا جائے کہ چونکہ قانون کی حکمرانی نہیں ہے اس لیے سب کچھ ہو رہا ہے تو آپ قانون کی حُکمرانی کر کے دیکھ لیں جن کے خون میں حرام کی کمائی کی ملاوٹ ہو چکی ہے وہ حرام کھانے سے کبھی باز نہیں آئیں گے ۔ پاکستان کا مستقبل عوام کے ہاتھ میں ہے ہمیں چاہئے کہ اب ہم اپنی عادتوں کو بدلیں اور پاکستان کو ایک فلاحی ریاست کے راستے پر گامزن کریں ۔

    اقصی احمد خان
    کراچی
    @ShinyAqsa