Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم. ملک منیب محمود

    تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم. ملک منیب محمود

    علم کی اہمیّت و افادیت اپنی جگہ مسلم ہے آج کے اس عہد میں تعلیم اتنی ہی ضروری ہے جتنا کے زندگی کے لیے سانس کی آمدورفت۔ ایک بچہ کے لئے ماں کی گود سب سے پہلا مدرسہ ہوتا ہے ایک نومولود جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ بالکل معصوم اور فرشتے کی طرح گناہوں سے پاک ہوتا ہے تمام دنیاوی امور اور مسائل سے آزاد ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے وہ اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنی طفلانہ زندگی کا آغاز کرتا ہے ہر شے لا شعوری طور پر اس کے سامنے آئی ہے بچہ جب اپنی ماں کی گود سے اترتا ہے تو وہ اپنے گھر کی زمین پر قدم رکھتا ہے گویا اسے یہی احساس ہو جاتا ہے کہ اس کے اطراف کا ماحول کیا ہے کہ اپنے اطراف کے ماحول سے مانوس ہوتا چلا جاتا ہے اور ان چیزوں کو قبول کرتا ہے جو اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی ہیں۔

    سماجی نقطہ نظر سے ایک بچے کا سماج اس کا گھر ہوتا ہے اور بچہ اپنے اس ماحول کے تمام طور طریقوں سے مطابقت کرنا سیکھتا ہے یا والدین اسے سکھاتے ہیں اس میں مرکزی کردار ماں کا ہوتا ہے اس لئے کہ باپ تو تلاش معاش میں گھر سے باہر ہوتا ہے اگر ماں تعلیم یافتہ ہے تو سب سے پہلے بچے کو لکھنا پڑھنا سیکھاتی ہے لیکن ماں اگر ان پڑھ ہے تو وہ اس کی چنداں فکر نہیں کرتی لہذا بچہ اس سے آزاد اور کھیل کود میں مگن رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ اسکول میں داخل ہوتا ہے تو اس میں وہ دلچسپی یار محبت مفقود ہوتی ہے جو تعلیم یافتہ ماحول سے آنے والے بچوں میں ہوتی ہے ۔

    ماں کی گود کے بعد اور اسکول میں داخلے سے پہلے ایک بچے کا جو مکتب ثانی ہوتا ہے وہ اس کا گھر اور آس پاس کا ماحول ہوتا ہے
    گھر کے باہر کا ماحول بھی بچے کو اتنا ہی متاثر کرتا ہے جتنا کے اندر کا عموما بچے گھر کے باہر نازیبا کلمات اور گالی گلوچ سیکھتے ہیں اور اس کا ردعمل کم یا زیادہ گرمیں بھی نظر آتا ہے بہن بھائی کی لڑائی میں ان کی زبان سے کلمات نہ چاہتے ہوئے بھی ادا ہوتے ہیں یہ بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ بیرونی ماحول سے اپنے ہم عمر بچوں سے سننے والی باتیں وہ جلدی قبول کرتے ہیں مشترکہ خاندانوں میں بچے زیادہ نفساتی اور حساس ہوتے ہیں مشترکہ خاندانوں میں افراد کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب توتو میں میں عام بات ہوتی ہے اور دو افراد کے بیچ ردعمل کو جب دیکھتے ہیں تو اس کا اثر قبول کر لیتے ہیں اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ اکثر بچے اپنے گھر کے باہر لڑائی جھگڑے میں پیش پیش رہتے ہیں اگر مشترکہ خاندانوں میں بچوں کے سامنے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائے تو بچے اسی رو میں بہنا شروع کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں آگے چل کر خاندان کے دوسرے افراد متاثر ہو سکتے ہیں تجربات اور مشاہدات یہ ثابت کرتے ہیں کہ بچوں کا ذہن و دماغ ایک کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے بچپن میں جو باتیں یا عادتیں انہیں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں وہ ان کے دماغ میں ثبت ہو جاتی ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ ان میں پختہ بھی ہو جاتی ہیں

    ہمیں اپنے معاشرے کو صحت مند بنانے کے لیے اس قول کو اہمیت دے کر ایک بچے کو آنے والے کل کا ایک بہترین انسان بنانا ہوگا تاکہ وہ ایک اچھا اور سمجھدار انسان بن سکے جس طرح ایک سمجھدار انسان ایک چھوٹے سے بچے سے بہت ساری باتیں سیکھتا ہے بعینہ ایک بچہ بھی اپنے بڑے بزرگوں سے بہت ساری نہیں بلکہ تمام باتیں سیکھتا اور قبول کرتا ہے
    بچے فطرتا نقال ہوتے ہیں اس لئے گھر کے افراد کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جو بھی حرکات و سکنات ان سے سرزد ہوں گی بچہ اسے فورا قبول کرلے گا اس لئے بچوں کے سامنے لغویات اور فضولیات سے پرہیز کرنا والدین اور دیگر بڑوں کی اخلاقی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری بھی اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم ان بچوں کے ساتھ انصاف کرتے ہیں ان ایک صالح صاف ستھرے ماحول کی تشکیل کے لیے فضا سازگار کرتے ہیں

    بچے مستقبل کا سرمایہ ہیں اس لئے یہ بات نہایت ہی اہم ہے کہ ان کی پرورش کیلئے گھر کا ماحول خوشگوار اور صحت مند رکھیں کیوں کہ ایک بچہ اپنے گھر میں والدین کے ساتھ ساتھ گھر کے دیگر افراد کے ساتھ بھی وقت گزرتا ہے ایک نیک اور سوال بچہ جب گھر کے باہر قدم رکھتا ہے تو سماج میں مختلف لوگوں سے اس کا واسطہ پڑتا ہے متعلقہ افراد بچے کی عادات و اطوار اور کردار و گفتار سے اندازہ کر لیتے ہیں کہ اس بچے کے گھر کا ماحول کس طرح کا ہے

    ماحول دینی ہو تو اس کا اثر بچے کے ذہن کو متاثر ضرور کرتا ہے ورنہ عموما نئی نسل اپنے مذہب اور دین سے کوسوں دور نظر آتی ہے اس کمی کے لئے بھی والے اور گھر کے افراد کی ذمہ دار ٹھہراۓ جائیں گے بچے قدرتی طور پر معصوم ہوتے ہیں اور ان کی اس معصومیت میں آنے والے کل کا مستقبل پوشیدہ ہوتا ہے بالخصوص ایک ماں کی گود میں بچے کی تقدیر بدلتی ہے جو کہ اس مصرعے کی عماز ہے
    تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم

    Written by” Malik Muneeb Mehmood”
    ملک منیب محمود

  • کشمیر کا سفیر کون ؟ نواز یا عمران ؟ نام : عامر بیگ

    کشمیر کا سفیر کون ؟ نواز یا عمران ؟ نام : عامر بیگ

    ج کل مریم صفدر اعوان آزاد کشمیر کی الیکشن کیمپین میں نوازشریف کو کشمیر کا بیٹا ثابت کررہی ہیں۔
    دوسری جانب پی ٹی آئی کے لوگ عمران خان کو کشمیر کا سفیر قرار دے رہے ہیں۔
    آئیے ماضی کے جھروکوں میں دیکھتے ہیں کہ کشمیریوں کے ساتھ درست مخلص کون ہے۔
    سب سے پہلے بات کرتے ہیں
    سابق وزیر اعظم نواز شریف
    کی جو تین دفعہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر براجمان رہے۔
    مگر کمال کی بات ہے۔ تینوں دفعہ ہی کشمیریوں کا کوئی خاص فائیدہ نہیں کر پائے۔ بلکہ نوازشریف
    تو کشمیر کو صرف الیکشن کی حد تک ہی یاد رکھتے تھے۔
    جب ووٹ لینے ہوتے تو کشمیر کو چل پڑتے۔ اور اس کے بعد کشمیر کو بھول جاتے تھے۔
    آجکل مریم صفدر اعوان نوازشریف کو کشمیر کا سچا دوست قرار دے رہی ہیں۔ محترمہ مریم صفدر اعوان کی باتوں پر کتنا یقین کرنا چاہیے یہ تو مریم صفدر اعوان کے اس بیان کہ "میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں ہے” سے ہی واضح ہے۔
    پھر اس کے کچھ ہی عرصے بعد مریم صفدر کے اثاثے ایک ارب روپے سے زیادہ کے نکلتے ہیں۔ مریم صفدر اعوان کی بیٹی کی شادی پر نریندر مودی کی آمد ہوتی ہے۔ اور
    مودی جو مسلمانوں اور پاکستان کا ازلی دشمن ہے
    اس کی جاتی عمرہ آمد پر خوشی کے شادیانے بجائے جاتے ہیں۔
    یہاں تک کہ شریف خاندان کی انڈین تاجر سجن جندال جو کہ را کا فنانسر ہے کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں۔ ان خفیہ ملاقاتوں کی ضرورت شریف خاندان کو کیوں ہے ؟ اس کا اندازہ شریف خاندان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کو بخوبی ہے۔
    اس کے علاوہ نوازشریف کشمیریوں کے خون سے بے وفائی کرتا ہے۔ اور تاریخ میں پہلی دفعہ حریت رہنماؤں کو ناراض کرتا ہے۔ جس کے ردعمل میں بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی 2015 میں نوازشریف کی بے وفائی کی وجہ سے پاکستانی سفارت خانے کی عید ملن دعوت میں احتجاج کے طور پر شرکت نہیں کرتے۔
    اور نوازشریف کی بھارت نوازی اس حد تک ہوچکی ہے۔ کہ
    حضرت نوازشریف نے آج تک
    کلبھوشن یادیو بھارتی دہشت گرد کا نام لے کر آج تک انڈیا سے رسمی احتجاج تک نہیں کیا۔
    جبکہ اب بات کرتے ہیں کشمیر کے حقیقی سفیر جناب وزیراعظم عمران خان کی۔ جس نے ابھی حال ہی میں دورہ ازبکستان میں بھارتی حکومت کے غیر قانونی ، کشمیر میں ریاستی ظلم و بربریت کی وجہ سے
    بھارتی وزیر خارجہ سے ہاتھ تک نہیں ملایا۔

    اقوام متحدہ سے لے کر غیر ملکی سفیروں کو کشمیر پر بھارتی ظلم کو بے نقاب کیا۔
    وزیراعظم عمران خان کے جارحانہ اقدامات کی وجہ سے مودی حکومت بیک فٹ پر جا چکی ہے۔
    اور کشمیر کا پرانا سٹیٹس بحال کرنے پر غور کر رہی ہے۔
    وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کی وجہ سے ستر سال بعد مسئلہ کشمیر دوبارہ زندہ ہوا۔
    وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کے ایشو پر دوست ممالک کو بھارتی ظلم سے آگاہ کرتے ہوئے بھارت کو انڈر پریشر رکھا۔
    وزیراعظم عمران خان نے اب آزاد کشمیر کی سیاحت کو
    پروان چڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جس سے آزاد کشمیر کی عوام کے روزگار میں اضافہ بھی ہوگا۔ اورعوام کو اچھی تفریح بھی میسر ہوگی۔
    پورے آزاد کشمیر کو جنوری تک ہیلتھ کارڈ دینے کا اعلان بھی ہو چکا ہے۔
    یہ اتنا زبردست قدم ہے جس کا عوام کو ہر گزرتے دن
    کے ساتھ ساتھ معلوم ہوتاجائے گا۔ ہر خاندان کو
    سات لاکھ روپے سے زائد سالانہ ہیلتھ انشورنس میسر ہوگی۔
    جس سے غریب عوام اور مڈل کلاس لوگوں کی زندگیاں آسان ہوں گی۔ اور عوام کو میڈیکل کی بہتر سہولیات ملیں گی۔
    مریم صفدر اعوان آزاد کشمیر کے پینتیس سے زائد حلقوں میں سے صرف ایک درجن کے قریب کشمیر کے الیکشن میں امیدوار کھڑے کرکے ایک ناکام الیکشن کیمپین چلا رہی ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے تمام حلقوں میں اپنے وننگ ہارسز کھڑے کیے ہیں۔ اب فیصلہ آزاد کشمیر کی عوام کو کرنا ہے کہ پچیس جولائی کو بلے کے نشان پر مہر لگا کر حقیقی اور خوشگوار تبدیلی لانی ہے یا پھر وہی پرانا اور بانجھ سٹیٹس کو کا سسٹم ہی برقرار رکھنا ہے۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے چند عرصہ پہلے ہونے والے گلگت بلتستان کے الیکشن میں کیے گئے وعدے فتح کو فوراً بعد عملدرآمد شروع کردیا ہے۔
    جس سے آنے والے سالوں میں تعمیر و ترقی کے نئے راستے کھلنے کا روشن امکان ہے۔

  • قربانی واجب ہونے کی شرائط . تحریر : عنصر اعوان

    قربانی واجب ہونے کی شرائط . تحریر : عنصر اعوان

    قربانی کا فریضہ عید الاضحی کے دن حضرت ابراہیم ؑ کی اس عظیم ترین اطاعت خدا وندی کی مثال کی یاد گار کے طور پر ادا کیا جاتا ہے جس کے تحت خلیل اﷲ (اﷲ کے دوست) لقب پانے والے اس حق و صداقت کے علمبر دار پیغمبر ؑ نے اپنی ہزاروں دعائوں اور تمنائوں کے بعد پیدا ہونے والے پیارے بیٹے کو حکم خداوندی سے اﷲ کی راہ میں قربان کرنے کا ارداہ کر لیا تھا۔ قربانی کا مطلب ہے اﷲ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنا جب کہ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب عبادت کی نیت سے ایک خاص وقت میں حلال جانور کو اﷲ کی راہ میں قربان کرنا یا ذبح کرنا ہے۔یہ خاص وقت10ذی الحج کی صبح یعنی اشراق سے شروع ہوتا ہے اور 12ذی الحج کی عصر تک رہتا ہے۔ نماز عید سے قبل قربانی نہیں ہوتی ۔ اس کیلئے افضل تاریخ 10 ذی الحج ہی ہے۔

    واضح رہے کہ قربانی ہراُس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان، مرد اورعورت پرواجب ہے جو نصاب کا مالک ہے ، یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا سامان ہے، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، یعنی ساڑھے سات تولہ سونا (87.4875گرام ) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.4125گرام ) یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو ، یا رہائش کے مکان سے زائد مکانات یا جائیدادیں وغیرہ ہوں، یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان ہو ، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا مالِ تجارت، شیئرز وغیرہ ہوں تو اس پر ایک حصہ قربانی کرنا لازم ہے ۔ (تجارتی سامان خواہ کوئی بھی چیز ہو، اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اس کے مالک پر بھی قربانی واجب ہوگی ۔)

    نیز قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال ، رقم ، یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں، ذوالحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے مالک ہوجائے تو اس پر قربانی واجب ہے، چنانچہ اگر قربانی کے تین دنوں میں سے آخری دن (۱۲ذی الحجہ) کو بھی کسی صورت سے نصاب کے برابر مال یا ضرورت سے زائد سامان کا مالک ہوجائے تب بھی اس پر قربانی واجب ہے ۔ بنا بریں جس کے پاس رہائشی مکان کے علاوہ زائد مکانات موجود ہیں ، ضروری مکان کے لیے پلاٹ کے علاوہ دیگر پلاٹ ہیں ، ضروری سواری کے علاوہ دوسری گاڑیاں ہیں، خواہ یہ سب تجارت کے لیے ہو یا نہ ہو ، بہر حال ایسا شخص قربانی کے حق میں صاحبِ نصاب ہے ، اور اس پر قربانی کرنا شرعاً واجب ہے ۔

    نیزواضح رہے کہ ایسا شخص گھر میں ایک ہو یا ایک سے زائد ، درج بالا شرائط کی موجودگی کی وجہ سے اگر ایک گھر میں متعدد صاحبِ نصاب لوگ پائے جاتے ہوں تو سب پر علیحدہ علیحدہ قربانی کرنا واجب ہے ، اور ایسی صورت میں از روئے شرع ایک ہی قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہوگی۔

    @A_Awan11

  • ایبٹ آباد میں قبضہ مافیا کا راج . تحریر : علی معصوم

    ایبٹ آباد میں قبضہ مافیا کا راج . تحریر : علی معصوم

    پاکستان کا سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ امیرترین شہرایبٹ آباد ہے۔ ایبٹ آباد پاکستان کو اللّه کی طرف سے ایک ایسا انعام ہے جہاں صرف سیاحت کو فروغ دے کرپاکستان قرضوں کی دلدل سے آسانی سے نکل کرسکتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان کے اس خوبصورت شہر پے قبضہ مافیا کا راج ہے۔ ایبٹ آباد کے کمیشنر ڈی سی سے لے کر ایک عام سپاہی، کلرک اورمحکمہ مال کے اندر موجود مالی اور سیپر تک سب کے سب پراپرٹی ڈیلر بن چکے ہیں۔

    غریب لوگو کی جاهیداديں جیلی کاغذات اور انتقال کے ساتھ فروخت کی جا رہی ہیں لوگو کو انجان رکھ کے ان کے شجرہ مکمل طور پر تبدیل کر کے جیلی کاغذات سے ذمینوں پے قبضے کیے جا رہے ہیں جن میں پٹواری، سیاست دان، محکمہ مال، اور کمشنر، ڈی سی سے سپاہی تک اکثریت لوگ موجود ہیں۔

    قانون کے رکھوالے بھی اس گیم میں شامل ہیں اگر اس قبضہ مافیا کو روکا نا گیا تو ایبٹ آباد جیسا خوبصورت شہر تباہ ہو جاہے گا۔ جو بھی شخص پٹوار خانے کی طرف جاہے گا اور اپنی زمین پے قبضہ مافیا کو دیکھے گا تو لوگو کے درمیان خون ریز لڑاہیاں ہونگی حالات اس قدر خراب ہو سکتے ہیں کے جو کسی نے سوچا بھی نا ہو گا کیونکے ایبٹ آباد میں حویلياں شہر سے لے کر ناران کاغان تک ہر جگہ قبضہ مافیا کا راج ہے لیکن سب سے زیادہ قبضہ مافیا ایبٹ آباد شہر کے اندر ہے جہاں پٹواری، اور کمیشنر سے لے ایک عام سپاہی تک اور محکمہ مال کا عملہ مکمل طور پر پراپرٹی ڈیلر بنا ہوا ہے۔ چونکے ایبٹ آباد شہر پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کی وجہ سے سیکورٹی رسک ہے اس لیے اگر یہاں کے لوگو کو اس مافیا کے بارے میں علم ہو گیا تو یہاں خون ریز جنگیں ہو گی حالات حد سے زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔

    میری حکومت پاکستان اور قانون نافذ کرنے وال اداروں سے گزارش ہے اس مافیا کو روکے۔ ایبٹ آباد میں موجود پٹواری کی تنخواہ 20 سے 25 ہزار ہے لیکن وه کروڑوں کے مالک بن چکے ہیں کیسے ؟؟؟ پٹواری اور محکمہ مال کے اندر موجود ہر شخص کی بے نامی پراپرٹی ہے یہ سب کہاں سے ہو رہا ہے؟؟؟ ان کا احتساب کرے انہیں چیک کریں کیونکے فلحال ایبٹ آباد کے لوگ اس بات سے نا واقف ہیں کے کیسے یہ سب مل کے لوگو کا شجرہ نسب تک تبدیل کر رہے ہیں اگر ان لوگو کو یہ سب معلوم پڑ گیا تو یہاں بھی اکثریت پٹھان قوم ہے حالات اتنے خراب ہو سکتے ہیں جس کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا اور اگر یہاں حالات خراب ہو گےتو اس سب کی ذمہ دارحکومت ہوگی۔

    @AM03100

  • سیاست وہ کھیل ہے جہاں صدیوں میں کوئی "قائد اعظم "پیدا ہوتا ہے . تحریر : محمد حنظلہ شاہد

    سیاست وہ کھیل ہے جہاں صدیوں میں کوئی "قائد اعظم "پیدا ہوتا ہے . تحریر : محمد حنظلہ شاہد

    آج کل ایک پیغام پورے ارد گرد منتقل ہو رہا ہے، جس میں محمد علی جناح (قائداعظم) اورعمران خان کے درمیان ایک مقابلے ہے. جیسا کہ محمد علی جناح اعلی تعلیم کے لئے انگلینڈ گئے اوراس کے بعد وہ مل کربھارت واپس چلے گئے اور وہاں اپنی پسندیدہ وکالت حاصل کی. اسی طرح عمران خان کے ساتھ معاملہ تھا وہ اپنی اعلی تعلیم کے لئے بھی انگلینڈ گئے اوراس کی تکمیل کے بعد، انہوں نے پاکستان کو ترجیح دی. وہ واپس آیا اورایک کرکٹر کے طورپراپنا کیریئرشروع کردیا. اس کے بعد محمد علی جناح مسلم کو ایک غیرمسلم لڑکی کوتبدیل کر دیا اوراس سے شادی کی. لیکن بدقسمتی سے شادی طویل عرصہ تک نہیں ہوسکی تھی.عمران خان کو بھی اسی حالت کا سامنا کرنا پڑا تھا. جب ایم علی جناح نے اپنی پیشہ ورانہ کیریئر یا شاید ان کی عملی زندگی شروع کی تو اس نے اپنی راہ میں بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. اسی طرح عمران خان کو بھی بہت مشکلات اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا. ایک وقت آیا جب محمد علی جناح اتنے سنجیدہ ہوگئے کہ وہ متحدہ بھارت چھوڑ کربرطانیہ چلے گئے لیکن علامہ اقبال نے مجبور کیا کہ وہ اپنے ملک واپس آ جائیں. اسی طرح عمران خان نے اسی طرح کے تخفیف کو محسوس کیا اوراپنے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا لیکن ضیاالحق کی وجہ سے ٹیم واپس آ کر ملک کو ورلڈ کپ سے نوازا.

    جب محمد علی جناح نے یہ محسوس کیا کہ ہندوؤں اور برادریوں کے ذیلی براعظم کے مسلمانوں کے ساتھ ایک تبعیض علاج تھا اور وہ وہاں مناسب انصاف حاصل نہیں کرسکتے تھے، اس نے تمام بھارتی نیشنل کانگریس کواچھی طرح سے بیدارکیا اوراس سے منسلک کیا مسلم لیگ اس کے بعد انہوں نے علیحدگی کے تمام مسلمانوں کوعلیحدہ ریاست کے حصول کے لئے متحد کیا، ایک ریاست جہاں جہاں تمام مسلمانوں اوردیگراقلیتیں آزادانہ طور پر ان کی زندگی رہ سکتی تھیں. ذات، رنگ، تخلیق یا حیثیت کے امتیازی سلوک کے باوجود، زیادہ تر مسلمانوں نے پاکستان کی کامیابی کے لئے محمد علی جناح کی مدد کی.

    اس وقت کوئی سندھی، پنجابی یا بلوچی نہیں تھا، ہر ایک کا واحد مقصد تھا اور یہ ایک آزاد ریاست تھا جہاں تمام مذہب سے تعلق رکھنے والے تمام افراد ان کی خاص اصولوں کے مطابق کسی بھی مداخلت کے بغیرزندہ رہ سکتے تھے. لہذا مسلمانوں کو ایک علیحدہ ریاست حاصل کرنے میں کامیابی ملی تھی اوربرطانیہ باقی مطالبات کی منظوری کے لۓ دوسرے ممالک کے ساتھ چھوڑ گئے تھے. لیکن بدقسمتی سے، محمد علی جناح کے بعد، کوئی دوسرے رہنما نہیں ہے جو کسی خاص مقصد یا خاص مقصد کے تحت مسلمانوں کو متحد کرسکتے ہیں. اگر ایسا رہنما تھا تو، مشرقی بنگال کبھی کبھی بنگلہ دیش نہ بنیں گے، وہاں بلوچستان میں جانے والی کوئی الگ ریاست تحریک نہیں ہوگی، شیعوں اور سنن کے درمیان کوئی تنازع نہیں ہوگا، اور وہاں نہیں لسانی بنیاد پر مسائل ہیں. ظاہر ہے سب لوگ اس ملک کو اپنا پاکستان یا سامراجی ریاست بنانا چاہتے ہیں، جو یہ نہیں ہے اور یہ نہیں ہوسکتا. محمد علی جناح نے اس اسلامی جمہوریہ ریاست کی بنیاد رکھی ہے. آج، ہمیں دوبارہ اس ریاست کو مضبوط کرنا ہوگا.

    جب عمران خان نے انتخابی مہموں کے دوران ایک تاریخی عوامی اجلاس کی صدارت کی تو انہوں نے پاکستان کو ایک اسلامی ریاست دوبارہ بنانے کا نعرہ اٹھایا. پاکستان کو اسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے اب 1947 میں سامنا ہوا تھا. ہم اب بھی غلامی کی زنجیروں میں پابند ہیں، چاہے امریکہ یہ ہے کہ ہم اس سے پہلے یا سامراجی نظام کو روکتے ہیں. عمران خان دراصل الیکٹرانکس کو منتخب کرنے میں یقین رکھتے ہیں اور پارلیمنٹ میں ہونے والے خلافت کے نظام کے بارے میں لاتے ہیں. اگر عمران خان تمام مسلمانوں اور اقلیتوں کو ایک ایسی قوم کے طور پر اسلامی ریاست کی ایک چھت کے تحت جمع کرے، جہاں ذات، تخلیق، حیثیت اور فخر کی کوئی تبعیض نہیں ہوگی، جہاں کوئی بھی سندھی یا بلوچی نہیں ہے، نہ ہی کوئی سیکولر. ہر ایک کا وہی مقصد ہوگا جسے پاکستان کی خوشحالی اور ترقی ہے. اگر ایسا ہوتا ہے تو، عمران خان اگلے رہیں گے

    @Hanzi87

  • اشرف غنی کی ہرزہ سرائی . تحریر: محمدزمان

    اشرف غنی کی ہرزہ سرائی . تحریر: محمدزمان

    نائن الیون کے بعد امریکہ اوراتحادیوں کی یورش کے باعث افغانستان بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے۔ امریکہ طالبان براہِ راست مذاکرات امن معاہدے پرختم ہوئے توافغانستان میں امن کی امید پیدا ہوئی۔ خطے کا امن افغانستان کے امن سے وابستہ ہونے کے ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا دارومداربھی شورش زدہ پڑوسی ملک میں امن کے قیام پرہے مگراب حالات کسی اورطرف کروٹ لیتے نظر آرہے ہیں افغانستان میں امن کی بحالی کے امکانات معدوم ہونے لگے ہیں۔ امریکہ اورطالبان کے مابین امن معاہدہ 29 فروری 2020 کو ہوا جس کی افغان انتظامیہ کی طرف سے شدید مخالفت کی گئی تھی۔ افغان قومی سلامتی کے مشیر حمدللہ محب امریکہ طالبان مذاکرات اور بعد ازاں امن معاہدے کے خلاف زہراگلتے رہے۔ امریکہ اورطالبان کو مذاکرات پرپاکستان نے آمادہ کیا تھا جبکہ حمداللہ محب پاکستان کیخلاف آج بھی بدزبانی کررہے ہیں۔ امن معاہدے پرعمل کیلئے افغان حکمرانوں کا تعاون ضروری تھا۔ وہ تو نہ صرف معاہدے کی شدید مخالفت کرتے رہے بلکہ معاہدے کوسبوتاژکرنے کیلئے ہرحربہ آزماتے اورسازشیں بھی کرتے رہے۔

    امریکہ کا آج بھی افغانستان میں واضح عمل دخل ہے۔ امن معاہدے پرعمل کواسی نے یقینی بنایا ہوتا تو آج حالات اس انارکی کونہ پہنچتے۔ طالبان تعاون پرتیارتھے۔ ایک سیاسی سیٹ اپ آسانی سے تشکیل پاسکتا تھا۔ اب حالات پرقابو پانا مشکل نظرآتا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ 95 فیصد انخلا مکمل ہوچکا ہے۔ 100 فیصد مکمل ہونے پرافغانستان میں کیا صورتحال ہو گی اس کا اندازہ وہاں برپا شورش سے کیا جاسکتا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے افغانستان کے بیشترعلاقوں کے بعد چمن سے متصل باب دوستی کا کنٹرول بھی سنبھال لیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد سیل کردی گئی اورسکیورٹی فورسزکی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ گزشتہ رات طالبان نے افغانستان کے سرحدی شہر سپن بولدک پاک افغان سرحد کے قریب حملہ کیا تھا۔ افغان فورسز کے پیچھے ہٹنے کے بعد درجنوں طالبان پاک افغان سرحد کے باب دوستی پرپہنچے اورمرکزی دروازے پراپنا پرچم لہرا دیا۔

    ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں بھی اس کی تصدیق کردی گئی ہے طالبان کے مقبوضات میں اضافہ ہورہا ہے۔ 85 فیصد علاقوں پروہ پہلے ہی قبضہ کرچکے ہیں۔ ادھرصدراشرف غنی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ طالبان کی کمرجلد توڑدی جائیگی، ان سے زیرقبضہ علاقے واپس لے لیں گے۔ اشرف غنی کی فوج کی حکمت عملی اتنی ہی کامیاب ہوتی تو آج طالبان وسیع علاقوں اورشہروں پر قبضہ نہ کرلیتے۔ حالات اب جس طرف جارہے ہیں اس کا اندازہ برطانوی وزیر دفاع کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔

    بین ویلس نے کہا ہے کہ طالبان نے حکومت بنائی تو انکے ساتھ تعاون کیلئے تیارہیں۔ افغان انتظامیہ کی طرف سے بھارت کے ساتھ رابطوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ بھارتی فضائیہ کی مدد لی جا رہی ہے۔ اگرامریکہ اشرف غنی حکومت کا تحفظ نہیں کرسکا تو بھارت کس باغ کی مولی ہے۔ اچھا ہے بھارتی فوج اشرف غنی کی مدد کو آئے اورافغانستان میں اپنا قبرستان بنوائے۔ بھارت افغانستان کی موجودہ صورتحال میں کودتا ہے توخطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگی۔ بھارت افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال کرتا رہا ہے جس میں اب کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔ افغان انتظامیہ سے چھینی گئی پوسٹوں سے طالبان کو3 ارب روپے کی پاکستانی کرنسی ملی ہے۔ یہ رقم پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال کی جا رہی تھی۔ بھارت کتے کی دم کی طرح ہے جو کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی۔ وہ لاتوں کا بھوت ہے۔ اس کو مشرقی بارڈر پرحملوں کا منہ توڑجواب دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے اندربھی اسکے گیدڑ جاسوس اورایجنٹ دھرلیے جاتے ہیں۔

    اسکے باوجود پیسے کے زور پر اسکی بزدلانہ کارروائیاں جاری رہتی ہیں۔ گزشتہ روز داسوڈیم کی بس نالے میں گرنے سے 9 چینی ورکرز سمیت 13 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ اس حادثے میں دہشتگردی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا جس میں بھارت ملوث ہوسکتا ہے۔ وہ پہلے بھی ایسی بھیانک کارروائیاں پاک چین تعلقات کو متاثراورسی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے کرچکا ہے اشرف غنی اقتداربچانے کیلئے اِدھرادھرہاتھ پائوں مارنے کے بجائے حقائق کا ادراک کریں۔ رواں ہفتے دوحہ میں طالبان افغان وفد سے ملاقات کیلئے آمادہ ہیں۔ افغان مسئلے کے حل کا یہی ایک پرامن موقع ہے جس کا افغان انتظامیہ فائدہ اٹھا کرافغانستان میں مزید خونریزی کو روک سکتی ہے اوریہ اسکی طرف سے امن معاہدے کی مخالفت کا کفارہ بھی ہوسکتا ہے۔ افغانستان کی موجودہ حکومت اوربھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی کا سب سے بڑا مقصد اورہدف پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا، ہمارے امن کو تباہ کرنا اوردنیا میں پاکستان کے تاثرکوخراب کرنا ہے۔

    بھارت اشرف غنی کی حکومت کے ذریعے سرکاری ذرائع استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کی مالی مدد کر رہا ہے، اشرف غنی سے اپنا گھر سنبھالا نہیں جاتا، انہیں اقتدارختم ہوتا نظرآ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ افغان صدر نے بے بنیاد اورجھوٹے الزامات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اشرف غنی کی طاقت ہرروزکم ہوتی جا رہی ہے، طالبان نے ملک کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ناصرف اشرف غنی کو اقتدار چھن جانے کا غم کھا رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی موجودہ حکومت کے بھارتی حکومت کے ساتھ رابطے اور تعلقات بھی بے نقاب ہو رہے ہیں، دنیا کو پتہ چل رہا ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی سازشیں کر رہا ہے۔ چند روز قبل ہی این ڈی ایس کے ایک کرنل کے کمپاونڈ سے تین ارب روپے برآمد ہوئے ہیں، بھارتی قونضل خانے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بن چکے ہیں، افغان سرزمین دہشت گردوں کی سرپرستی اور مالی معاونت کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ اشرف غنی اپنے معاملات کو درست کرنے کے بجائے پاکستان پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں۔ اس طرح نہ تو وہ اپنی ناکامی چھپا سکتے ہیں، نہ ہی ان کا اقتدار بچے گا اور نہ ہی وہ دنیا کو دھوکا دے سکتے ہیں۔

    افغان صدر اشرف غنی نے وسطی و جنوبی ایشیائی رابطہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ "پاکستان سے دس ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ہیں اگر بات چیت نا ہوئی تو ہم طالبان کا مقابلہ کریں گے۔ یہ امن کیلئے آخری موقع ہے”۔ اشرف غنی کا یہ بیان ایک شکست خوردہ شخص کی سوچ ہے۔ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان نے دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، پاکستان نے ستر ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، کھربوں ڈالر کا مالی نقصان برداشت کیا ہے، ایک پوری نسل دہشت گردی کی نذر ہوئی ہے، پاکستان کا افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، طالبان مذاکرات کی میز پر آئے ہیں تو اس بات چیت میں پاکستان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ دنیا اس معاملے میں پاکستان کے کرداراور کاوشوں سے ناواقف نہیں ہے۔ اشرف غنی بھارتی شہ پر نریندرا مودی کا بیانیہ پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اشرف غنی میں ہمت ہے یا وہ اتنی اہلیت رکھتے ہیں تو طالبان سے بات چیت کریں اگر بات چیت نہیں کر سکتے تو مقابلہ کریں، دنیا بھرمیں طالبان کو تسلیم کرنے کی سوچ تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ پاکستان میں امن کانفرنس کا انعقاد ہو رہا تھا اشرف غنی کے الزامات کے بعد کانفرنس کا ملتوی ہونا امن کی کوششوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔

    اشرف غنی کے لیے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کا یہ بہترین موقع تھا، افغان صدر امن کے دشمن کے طور پرسامنے آئے ہیں۔ افغان کانفرنس ملتوی ہونے سے صرف پاکستان کا نقصان نہیں ہے بلکہ اس کانفرنس کے ملتوی ہونے سے خطے کے امن کو نقصان پہنچے گا۔ امریکہ، افغانستان کی موجودہ حکومت اور بھارت مل کر افغانستان میں مقبول عوامی قیادت کا راستہ روک کر دہائیوں سے جنگ لڑنے والے ملک کے عوام کو ایک نئی جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں وزیراعظم پاکستان افغان صدر کے بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اشرف غنی کی طرف سے پاکستان پر الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ افغانستان کی صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا شدید ناانصافی ہے۔

    افغانستان میں امن کے لیے سب سے زیادہ کوششیں اور قربانیاں پاکستان کی ہیں۔ وہیں بھارتی صحافی نے بھی وزیراعظم عمران خان سے امن اوردہشت گردی کے حوالے سے طنزیہ سوال کیا تو وزیراعظم عمران خان نے اسے بھی ایسا جواب دیا ہے کہ نریندرا مودی برسوں اسے یاد رکھیں گے۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بھارت کو کب سے مہذب ہمسائے کی طرح رہنے کا کہہ رہے ہیں لیکن کیا کریں آر ایس ایس کا نظریہ راستے میں رکاوٹ ہے۔ اشرف غنی کا بیان اور بھارتی صحافی کا سوال ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے بھی افغان صدر کی طرف سے پاکستان پرعائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ "پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات درست نہیں۔ پاکستان کی طرف سے کوئی دراندازی نہیں ہو رہی درحقیقت افغانستان کی طرف سے دراندازی ہو رہی ہے۔پاکستان افغانستان میں کسی دھڑے کی حمایت نہیں کر رہا۔ پاکستان امن کا خواشمند ہے۔پرامن اور مستحکم افغانستان ہی پاکستان اور دیگر ممالک کے مفاد میں ہے۔”یہ کھیل اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ دنیا میں امن صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ پاکستان نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مثبت کردار ادا کرتے ہوئے خطے کو پرامن بنانے کے کام کیا ہے لیکن خطے میں بھارت کے عزائم کو نقصان پہنچتا ہے۔ طالبان کی طاقت بڑھنے سے افغانستان میں ڈمی حکومت ختم ہو جائے گی بھارت کا اثرو رسوخ کم ہو گا، جنگی جنون میں مبتلا بھارت اسلحے اور سازشوں کے زور پر پاکستان کو دیوار سے لگاتے ہوئے بالادستی قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا، وہاں طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت نے نریندرا مودی کا یہ خواب چکنا چور کر دیا ہے۔

    سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آ رہی ہے، طالبان قیادت نے پاکستان کے خلاف کسی سازش کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے خطے میں امن عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ان حالات میں اشرف غنی کے پاس الزام تراشیوں کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔ بھارت پہلے سے موجود بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے نئے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ دہشت گردوں کی سرپرستی اور مالی معاونت کے ثبوت دنیا کے سامنے ہیں ایک طرف امن پسند پاکستان ہے تو دوسری طرف توسیع پسندانہ عزائم کا حامل اور دہشتگردوں کا سرپرست بھارت ہے دنیا خود فیصلہ کرے کہ اس نے امن دوستوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے یا پھر دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والوں کا ساتھ دینا ہے۔ اشرف غنی بھارتی اشارے پر طالبان کی امن پسند کوششوں کو متنازع بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ان شااللہ پاکستان کے دشمن ناکام ہوں گے۔ افغان امن کانفرنس کی مخالف قوتیں وقتی طور پر تو کامیاب ہوئی ہیں۔ تمام ممالک کو اپنے اردگرد نظر رکھنے اور پہلے سے زیادہ
    متحرک رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ نے ایک نیا کھیل شروع کر دیا ہے۔

    @Zaman_740

  • صحافت اوربلیک میلنگ . تحریر : جام محمد ماجد

    صحافت اوربلیک میلنگ . تحریر : جام محمد ماجد

    صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے صحافت ایک ایسا مقدس پیشہ ہے جس کا مقصد معاشرے کی برائیوں کو روکنے اورمظلوموں کو انصاف دلانے میں ہرممکن حد تک مدد کرنا اورلاقانونیت اورعلاقای مسائل پرآوازاٹھانا ترجیح ہونی چاہیے تاکہ عام عوام کے مسائل حل ہونے اورمظلوم عوام کوانصاف ملنے کی راہ ہموارکی جاسکے بلا شبہ ہمارے ملک کی صحافی برادری میں جو جینوین صحافی ہیں انھیں اس مقصد میں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے حتی کے بعض اوقات جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملتی ہیں لیکن جو حق سچ کے متلاشی نڈرصحافی ہیں وہ اپنے مقصد پرڈٹے رهتے ہیں ان کے لئے ہی غالبا شاعرنے کہا ہے جوڈٹے ہوے ہیں محاذ پرمجھے ان صفوں میں تلاش کر.

    جیسا کے میرے کالم کا عنوان ہے میں بات کر رہا ہوں صحافت کا لبادہ اوڑھے ان صحافیوں کا جونام کے صحافی ہیں جنہوں نے اس مقدس پیشے کی تذلیل کر کے رکھ دی ہے جن کا مقصد بلیک میل کر کے اپنے کام نکلوانا ہے اوربدقسمتی سے پاکستان میں ایسے قلم فروش نام نہاد صحافیوں کی تعداد میں دن با دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جن کی وجہ سے لوگوں کا اس مقدس پیشے سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے
    میری تمام صحافتی تنظیموں اورحکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ ایسا طریقہ کار اپنایا جائے جس سے امان دارپڑھے لکھے اچھی شہرت کے حامل صحافیوں کی حوصلہ افزائی ہو اورقلم فروش بلیک میلرصحافیوں کی حوصلہ شکنی ہو.

    @Majidjampti

  • آپ حیران ہوں گے . تحریر:شفقت سجاد دشتی

    آپ حیران ہوں گے . تحریر:شفقت سجاد دشتی

    میٹرک کلاس کا پہلا امتحان برصغیر پاک وہند میں 1858ء میں ہوا اوربرطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ برصغیرکے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اسلئے ہمارے پاس ‘پاسنگ مارکس’ 65 ہیں تو برصغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں 2 سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کیلئے پاسنگ مارکس 33 کر دئیے گئے اورہم 2021ء میں بھی انہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کوتلاش کرنے میں مصروف ہیں.

    جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھایا جاتا ہے اور وہ ‘اخلاقیات’ اور’آداب’ ہیں، حضرت علیؓ نے فرمایا: ‘جس میں ادب نہیں، اس میں دین نہیں مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اورہمیں ابھی تک انکی یہ بات معلوم کیوں نہ ہوسکی بہرحال، اس پرعمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے ہمارے ایک دوست جاپان گئے اورایئرپورٹ پرپہنچ کرانہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اورپھرانکو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔

    یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز۔

    آپ یقین کیجئے استادوں کوعزت وہی قوم دیتی ہے جو تعلیم کوعزت دیتی ہے اوراپنی آنیوالی نسلوں سے پیارکرتی ہے جاپان میں معاشرتی علوم ‘پڑھایا’ نہیں جاتا کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہے اوروہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کیساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں، جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کیلئے بچے اوراساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے اسکول آنیکے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول، بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریں جو صرف نقل اورچھپائی پر مشتمل ہے، ہمارے بچے ‘پبلشرز’ بن چکے ہیں÷

    آپ تماشہ دیکھیں جوکتاب میں لکھا ہوتا ہے اساتذہ اسی کو بورڈ پرنقل کرتے ہیں، بچے دوبارہ اسی کو کاپی پرچھاپ دیتے ہیں، اساتذہ اسی نقل شدہ اورچھپے ہوئے مواد کوامتحان میں دیتے ہیں، خود ہی اہم سوالوں پرنشانات لگواتے ہیں اورخود ہی پیپربناتے ہیں اورخود ہی اسکو چیک کر کے خود ہی نمبر بھی دے دیتے ہیں، بچے کے پاس یا فیل ہونیکا فیصلہ بھی خود ہی صادر کر دیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اورقابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں، جنکے بچے فیل ہوجاتے ہیں وہ اس نتیجے پرافسوس کرتے رہتے ہیں اوراپنے بچے کو ‘کوڑھ مغز’ اور’کند ذہن’ کا طعنہ دیتے رہتے ہیں.

    آپ ایمانداری سے بتائیں اس سب کام میں بچے نے کیا سیکھا، سوائے نقل کرنے اورچھاپنے کے؟
    ہم پہلی سے لے کراوردسویں تک اپنے بچوں کو ‘سوشل اسٹڈیز’ پڑھاتے ہیں اورمعاشرے میں جو کچھ ہورہا ہے وہ یہ بتانے اورسمجھانے کیلئے کافی ہے کہ ہم نے کتنا ‘سوشل’ ہونا سیکھا ہے؟ سکول میں سارا وقت سائنس ‘رٹتے’ گزرتا ہے اورآپکو پورے ملک میں کوئی ‘سائنسدان’ نامی چیزنظرنہیں آئیگی کیونکہ بدقسمتی سے سائنس ‘سیکھنے’ کی اورخود تجربہ کرنے کی چیزہے اورہم اسے بھی ‘رٹّا’ اور ‘گھوٹا’ لگواتے ہیں.

    ہمارا خیال ہے پالیسی ساز، پرنسپل، اساتذہ اورتمام اسٹیک ہولڈر اس ‘گلے سڑے’ اور’بوسیدہ’ نظام تعلیم کو اٹھا کرپھینکیں بچوں کو’طوطا’ بنانے کے بجائے ‘قابل’ اور’باشعور’ بنانے کے بارے میں سوچیں.

    @balouch_shafqat

  • ہندوستان، حالات حاضرہ کی روشنی میں قسط نمبر(2) . تحریر : تحریر: محمد صابرمسعود

    ہندوستان، حالات حاضرہ کی روشنی میں قسط نمبر(2) . تحریر : تحریر: محمد صابرمسعود

    اسی ظلم و بربریت، اکثریتی مذہب کی شدت پسندی اورحکومتی تانا شاہی کا نشانہ اترپردیش میں واقع دادری کے محمد اخلاق کوبنایا گیا۔ 2014 میں محمد اخلاق کو اسکے فریزرمیں گائے کا گوشت ہونے کا جھوٹا الزام لگا کر ایک ہجوم نے قتل کردیا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فریزرتومحمد اخلاق کے گھر میں تھا تو ان شرپسند دشمنوں، آرایس ایس کے چڈھوں اوراکثریتی مذہب سے تعلق رکھنے والے غنڈوں کو اس بات کا کیسےعلم ہوا کہ موصوف کے فریزرمیں گائے کا گوشت موجود ہے؟ اس بات کا ان حضرات کے پاس کوئ جواب موجود نہیں ہے کیونکہ یہ ایک بے بنیاد الزام تھا لہذا معلوم ہوا کہ انکی خطا صرف اورصرف مسلمان ہونا تھی؟ اب اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انکوانصاف ملا؟ قاتلوں کوانکے ظلم و قتل کی پاداش میں جیل بند کیا گیا ؟ اگرنہیں توکیا فقط اس وجہ سے کہ قاتل ہندو تھے؟ تمام سوالات کے جوابات کا انتظارکریں.

    اسی مآب لنچنگ کا نشانہ اخباری رپورٹ کے مطابق سنہ 2020/ ستمبر میں بریلی میں 32 سالہ مسلم نوجوان باسط علی کو انتہا پسندوں، غلیظ و ناپاک سوچ رکھنے والے غنڈوں کے ایک ہجوم نے چوری کے شک میں بری طرح زدوکوب کیا، ان پرلوہا چوری کرنے کا جھوٹا الزام عائد کرکے ہندو شدت پسندوں بالفاظ دیگر بی جے پی و آرایس ایس کے لیٹرنگ جیسے چڈھے پہننے والے غنڈوں نے کئی گھنٹے تک درخت سے باندھ کررکھا اورجم کراس کی پٹائی کی، اس واقعے کی اطلاع جب پولس کو ملی اورپولس موقع واردات پرپہنچی تو ہجوم نے باسط کو پولس کے حوالے کردیا، اس واقعے کا دل کو دہلا دینے و بے چین کردینے والا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پروائرل ہوا، ویڈیو میں نظرآنے والا شخص باسط علی ہی ہے، ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جاسکتاہے کہ اس کے دونوں ہاتھوں کودرخت سے باندھ دیا گیا ہے، زدوکوب کے درمیان وہ چیختے و چلاتے ہوئے مدد و نصرت کی فریاد کررہا ہے لیکن موقع پرموجود لوگ اسکو سنی ان سنی کرکے اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں بلکہ کئی لوگ تومسکراتے ہوئے ہونٹوں سے موتیاں بکھیرتے ہوئے بھی نظرآرہے ہیں اورآپس میں بات چیت کررہے ہیں.

    اس دوران کچھ لوگ مظلوم و بے قصورباسط علی کے پاس آئے ضرورمگروہ بھی صرف اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے ویڈیو وتصاویرلیکر واپس لوٹ گئے، ایک رپورٹ کے مطابق پولس نے بتایا کہ پٹائی کرنے کے بعد کچھ لوگ باسط کو تھانہ لیکرآئے، یہاں وہ لوگ بھی پہنچے جن کے سامان چوری ہونے کےالزام میں اس کو زدوکوب کیا گیا تھا، پولس اسٹیشن میں ان لوگوں نے کہا کہ چونکہ ان کا سامان واپس مل گیاہے اورباسط ان کا پڑوسی ہے، لہذا وہ شکایت درج نہیں کرانا چاہتے، پولس اسٹیشن میں مبینہ سمجھوتے کے ایک گھنٹے بعد باسط نے چیختے و چلاتے ہوئے وہیں دم توڑ دیا اورزندگی کی جنگ ہارگیا، مقتول کی ماں نے میڈیا سے کہا تھا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ باسط کو کچھ لوگ پیٹ رہے ہیں، تومیں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو اسے بچانے کےلئے کہا لیکن وہ اتنا ڈرگیا تھا کہ اس نے خود کو ایک کمرے میں بند کرلیا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انکو انصاف ملا ؟ اور کیا یہ الزام درست تھا ؟

    تمام جوابات کا انتظار کریں

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    @sabirmasood_

  • ایچی سن کالج اورہمارے خواب . تحریر: صائم مصطفیٰ

    ایچی سن کالج اورہمارے خواب . تحریر: صائم مصطفیٰ

    جون ایلیا صاحب ہمارے دورکے بہت بڑے شاعر گزرے ہیں وہ ایک مزاحیہ بات کرتے تھے جو کسی حد تک ٹھیک بھی ہے خاص طورپر ان لوگوں کیلیے جو تاریخ میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں نہ کہ معاشرتی علوم میں ۔
    ‘پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت تھی’

    نیا پاکستان ایچی سن کے لونڈوں کی شرارت ہے ۔جن کو نہیں پتہ ان کو بتا دوں کہ ایچی سن لاہور کا ایک اعلیٰ شاندارشاہی قسم کا کالج ہے جو دوسوایکڑ کے رقبے پرمحیط ہے۔ 1886میں انگریزوں نے امرا، اشرافیہ، جاگیرداروں اوراعلی سرکاری طبقے کے لیے بنایا تھا اوراب تک یہ روایت چلی آرہی ہے۔ جہاں پرنصابی اورغیر نصابی سرگرمیاں بھرپورطریقے سے کروائی جاتی ہیں ۔ ایسا ملک جہاں پینےکا صاف پانی نہیں اورصحت کی بنیادی ترین سہولیات میسرنہیں وہاں ہم ایسے کالج کی بات کررہے ہیں جس کا نام ایچی سن کالج لاہور ہے ۔

    اس وقت حکومت میں شامل لوگوں کی بات کریں تواکثریت اسی کالج کے فارغ التحصیل ہیں ۔
    ہمارے وزیراعظم عمران خان، سابق وزیرخزانہ حفیظ شیخ شاہ محمود قریشی، پرویزخٹک، خسروبختیار، حاضر سپریم کورٹ کے چارجج ایچی سن کالج کے پڑھے ہوئے ہیں ۔ ماضی میں بہت سے اہم لوگ جو یہاں سے تعلیم حاصل کرکے اعلی عہدوں پربیٹھے رہے ہیں ان میں فاروق لغاری، اعتزاز احسن، فیروزخاں نون، ایازصادق، اکبربگٹی، فیصل صالح حیات، غلام مصطفی کھروغیرہ ۔

    کچھ مہینے پہلے ایک والدین نے اپنے بچے کو ایچی سن داخل کروانے کی درخواست دی اوردرخواست یہ کہہ کر رد کردی جاتی ہے کہ آپکی سالانہ آمدن اٹھارہ لاکھ روپے ہے اس لیے آپ ہمارے تعلیمی اخراجات اٹھانے کے قابل نہیں ہیں۔ مطلب ایک آدمی جسکی ماہانہ آمدن ڈیڑھ لاکھ روپے ہیں وہ اس کالج میں پڑھنے کا ایل نہیں ہے۔ ہمارے ہاں تین قسم کے لوگ حکمرانی کرنے کیلیے آتے ہیں۔

    ایک جاگیردار، دوسرےبیورکریٹ، تیسرےفوجی افسر۔

    وہ لوگ جو ہماری طرح کسی سرکاری سکول یا کالجزمیں پڑھتے ہیں اوربعد میں بیس ہزارکی نوکری کی خاطرساری زندگی داو پرلگا دیتے ہیں۔ ایک معمولی نوکری کیلیے دن رات ایک کرتے ہیں نیند قربان کرتے ہیں لیکن حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ اسکی وجہ یہ ہوتی ہے ہم کو وہ ماحول اورتعلیم کی آسائشیں حاصل نہیں ہوتی جوکسی جاگیرداریا اعلی سرکاری شخص کے بیٹے کو حاصل ہوتی ہیں ۔

    معذرت کے ساتھ ہمارے ملک کی تمام سرکاری جامعات میں اتنی قابلیت نہیں کہ وہ ہمیں ایچی سن یا لمزکے برابرلا کھڑا کرے۔ انہی نرسریوں سے یہ بڑے ہوکرباہرتعلیم حاصل کرتے ہیں اورواپس آکراعلی عہدوں پربراجمان ہوتے ہیں اورہم پرحکمرانی کرتے ہیں ۔

    اگرآپ کو یقین نہیں آتا تو خود دیکھ لیں کتنے لوگ ہیں جو ٹاٹ کے سکولوں سے پڑھ کرحکمران بنے ہوں، جوکسی مزدورکا بیٹا سینٹربنا ہو، کسی ریڑھی بان کی بیٹی آرمی میں اعلی عہدے پرہو، کسی مزارعے کے بیٹے نے سی ایس ایس ٹاپ کیا ہو۔ آپ کو یہ مثالیں کہیں نہیں ملیں گی۔ امیرکا بچہ امیرہی رہتا ہے اورغریب کا بچہ غریب ہی. ہمارے ملک میں دو طبقے پیدا ہوئے ہیں ایک وہ جنہوں نے غربت کھڑکی سے دورکہیں ناچتی دیکھی ہے دوسرے وہ جو گلے تک غربت کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔

    انہی کلاس کے لوگوں نے ملک کے اہم اداروں میں پنجے گاڑھے ہوئے ہیں وہ ملٹری ہو، عدلیہ ہو، بیورکریسی ہو یا سیاست ہو۔ ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہم ایچی سن، لمزیا آکسفورڈ کے پڑھے ہوئے نہیں ہیں۔ اس سے شاہد ہم بھی اپنے ٹوٹے بکھرے خوابوں کو جوڑ لیتے۔ میرے جیسے ہزاروں نوجوان جو اپنی پہچان چاہتے ہیں جو ملک و معاشرے کیلیے کچھ زیادہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ یہ خواب اپنے سینے میں دفنا کرمرجائیں گے۔

    @saimmustafa9