Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عالمی ثقافتی ورثہ ٹیکسلا . تحریر : حسنین مغل

    عالمی ثقافتی ورثہ ٹیکسلا . تحریر : حسنین مغل

    راولپنڈی سے 22 میل دور، شمال مغرب کی جانب ایک قدیم شہر’ٹیکسلا‘ آباد تھا۔ 326 ق م میں سکندراعظم نے اس شہرپرقبضہ کیا اوریہاں پانچ دن ٹھہرا۔ یہیں راجا امبھی نے سکندر کی اطاعت قبول کی، جس کے بعد سکندرراجا پورس سے لڑنے کے لیے جہلم کے کنارے پہنچا۔ باخترکے یونانی حکمران دیمریس نے 190 ق م میں گندھارا کا علاقہ فتح کرکے ٹیکسلا کو اپنا پایۂ تخت بنایا۔ مہاراجا اشوک اعظم کے عہد میں بھی اس شہرکی رونقیں پورے عروج پرتھیں اوریہ بدھ مت تعلیم کا مرکز تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مشہورچینی سیاح ہیون سانگ یہاں آیا تھا۔ اس نے اپنے سفر نامے میں اس شہرکی عظمت وشوکت کا ذکرکیا ہے۔ یہاں گوتھک اسٹائل کا ایک عجائب گھر ہے، جس میں پانچویں صدی قبل مسیح کے گندھارا آرٹ کے نمونے، دس ہزارسکے ( جن میں بعض یونانی دورکے ہیں ) زیورات، ظروف اوردیگر نوادرات رکھے ہیں۔ ٹیکسلا میں زمانہ قبل ازمسیح کی عظیم باقیات یونیسکو کےعالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔

    مختلف نام ٹیکسلا کا قدیم شہردریائے سندھ اوردریائے جہلم کے درمیانی علاقے میں واقع ہے۔ سنسکرت میں یہ تکشاسلا اورمقامی طورپر تاکاسلہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یونانیوں اوررومیوں نے اسے ٹیکسلا کہا۔ یہ شہرزمانہ قدیم کے تین اہم تجارتی راستوں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ایک بڑا تجارتی مرکز تھا۔ جنوبی ہند، مغربی اور وسطی ایشیائی تجارتی راستے یہیں پرملتے تھے۔ قدیم جین مندرقدیم یورپی اقوام سکندراعظم کے ہندوستان پرحملے کرنے کے وقت سے ٹیکسلا کے نام سے واقف تھیں۔ چھٹی صدی قبل ازمسیح میں ٹیکسلا ایران کا ایک صوبہ تھا۔ بعد کی صدیوں میں یہ شہر کم از کم سات ادوار میں مختلف نسلوں کے شاہی خاندانوں کی حکمرانی میں رہا۔
    بازار جواب کھنڈرہیں ٹیکسلا کی قدیم تہذیب کی باقیات کی تلاش کے لیے پہلی مرتبہ کھدائی برطانوی نوآبادیاتی دورمیں آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا نے 1913ء میں شروع کی تھی، جو1934ء تک جاری رہی۔ پھر پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں بھی بہت سے مشہور یورپی اورپاکستانی ماہرین آثار قدیمہ یہاں کھدائی کرتے رہے۔ اس وقت جہاں خشک گھاس اورپتھر نظرآتے ہیں، وہاں صدیوں پہلے بھرے بازاروں میں انسانوں کی چہل پہل ہوا کرتی تھی۔

    اسٹوپے اورخانقاہیںوادی ٹیکسلا میں کھدائی کے نتیجے میں تقریبا دو درجن سے زیادہ اسٹوپے اورخانقاہیں دریافت ہوچکی ہیں۔ ان میں دھرما راجیکا، جولیاں، موہڑہ مرادو، پیلاں، گڑی، بھمالا، جنڈیال، جناں والی ڈھیری، بادل پور، بھلڑ توپ، کنالہ اورکلاوان نامی مقامات شامل ہیں۔
    قدیم ٹیکسلا کی یونیورسٹیقدیم ٹیکسلا شہر کے کھنڈرات کے آخرمیں شہزادہ کنالہ کے اسٹوپا کی جانب ایک مرکزی اورشاندارمقام ایسا بھی آتا ہے، جو پاکستان کے معروف ماہر آثار قدیمہ پروفیسر دانی کے بقول وہی جگہ ہے جہاں صدیوں پہلے ٹیکسلا کی مشہور یونیورسٹی قائم تھی۔
    شہزادہ کنالہ کا اسٹوپا ٹیکسلا کی قدیم یونیورسٹی سے کچھ دورشہزادہ کنالہ کا اسٹوپا ہے۔ اس اسٹوپے کے قریب کبھی ایک شاندارعمارت قائم تھی۔ اب وہاں صرف اس عمارت کی پتھریلی باقیات ہی رہ گئی ہیں۔ اس مقام اوراس کے قرب و جوار میں کھدائی سے بھی ماہرین کو بہت سے قدیم سکوں کے علاوہ مٹی اوردھات کے بنے برتن ملے تھے۔

    نازک لیکن تاحال محفوظماہرین آثارقدیمہ کو موہڑہ مرادو کے ایوان مجلس کے کمرہ نمبر نوسے ملنے والا اسٹوپا ، چونے مٹی کا بنا ہوا ہے لیکن صدیاں گزرجانے کے باوجود اب بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ اسی خانقاہ سے ماہرین کو چونے مٹی کے بنے ہوئے مجسمے بھی ملے ہیں۔ موہڑہ مرادو سے ملنے والے دیگر نوادرات میں کھانے پینے کے برتن، گھریلو استعمال کا سامان، مختلف اوزاراورتانبے کے برتن بھی شامل ہیں۔ ٹیکسلا میوزیمٹیکسلا میوزیم پاکستان کے خوبصورت ترین عجائب گھروں میں سے ایک ہے۔ ہری پور روڈ پر واقع اس میوزیم کا نقشہ لاہور کے میو اسکول آف آرٹس (موجودہ نیشنل کالج آف آرٹس) کے پرنسپل سلیوان نے تیار کیا تھا۔ اس کی بنیاد برٹش انڈیا کے وائسرائے لارڈ چیمسفورڈ نے رکھی تھی۔ اس میوزیم میں ٹیکسلا سے دریافت شدہ 700 سے زائد نوادرات محفوظ ہیں لیکن عجائب گھر کے اندر فوٹوگرافی کی اجازت نہیں ہے۔

    سِرکپسِرکپ شہرکی تاریخی باقیات ٹیکسلا میوزیم سے قریب دو کلومیٹرکے فاصلے پرہیں۔ دوسری صدی قبل ازمسیح میں باخترکے یونانی ٹیکسلا پر حملہ آور ہوئے تو موریہ سلطنت ختم کر کے انہوں نے اپنی حکومت قائم کی اورایک نیا شہرسِرکپ آباد کیا۔ یہ شہرشطرنج کی بساط کی طرزپرآباد کیا گیا تھا۔ سیدھی گلیوں اوربازار کے باعث اس کے کھنڈرات بھی بہت منفرد ہیں۔ یہ شہرایک ایسی فصیل کے اندرآباد تھا، جس میں چاردروازے تھے۔

    موہڑہ مرادوٹیکسلا میوزیم سے مشرق کی سمت قریب پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر خانقاہ موہڑہ مرادو واقع ہے۔ یہ بدھ مت عبادت گاہ، مرکزی اسٹوپا اورخانقاہ کی باقیات پرمشتمل ہے، جہاں پُجاریوں کے رہائشی کمرے، ان کا ایوان، باورچی خانہ، غسل خانہ اورگودام ہوا کرتے تھے۔ باقیات اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ اس دور میں بھی کتنے تعمیراتی نظم و ضبط سے کام لیا گیا تھا۔ دو ہزارسال پرانی باقیات وادی ٹیکسلا سے ملنے والی بدھ مت کی عبادت گاہوں کی زیادہ تر باقیات پہلی صدی عیسوی سے پانچویں صدی عیسوی تک کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ دھرما راجیکا اسٹوپا تیسری صدی عیسوی کے دورکا ہے، جسے 1980ء میں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔ ان میں سے بہت سے تاریخی مقامات آج بھی حیران کن حد تک اچھی اورواضح حالت میں موجود ہیں۔

    @HasiPTI

  • ‏ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت ذرخیز ہے ساقی . تحریر: محمد مبین اشرف

    ‏ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت ذرخیز ہے ساقی . تحریر: محمد مبین اشرف

    علامہ اقبال نہ یہ شعربہت پہلے اس قوم کے حالات و جذبات کو دیکھتے ہوئے شاید اسی لیے کہا تھا کہ اس قوم میں جذبات و احساسات اور شجاعت کی کمی نہیں ہے بلکہ اس قوم کو بس بیدار کرنے اور اسکے منصب کو یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات ہرکسی کی نظر کے سامنے ہیں۔ دنیا کے خیالات بھی ہم سب کے سامنے ہیں۔ کس طرح اسلاموفوبیا کے نام پرمسلمانوں کو کچلا جارہا ہے، مارا جارہا ہے انڈیا میں نفرت انتہا پرہے۔ مسلمانوں کو زلیل کیا جاتا ہے اورمسجدوں کوشہید کیا جاتا ہے غرض کے کسی نہ کسی طریقے سے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

    دنیا کے حالات ہمارے سامنے ہیں مگر ہم مسلمانوں کے حالات پرغورکریں تو وہ مسلمان جوکہ تعلیم کے میدان میں سب سے آگے تھے اور آج مسلمان کہاں پرموجود ہیں سوچنے کی بات ہے لیکن گھبرانے کی بات نہیں ہے علامہ اقبال کا یہ شعرموجودہ حالات کی عکاسی کرتا ہے مسلمان اگرمل جائے توایک مضبوط عمارت کی مانند ہے۔

    بے شک مسلمان غفلت میں سو رہے ہیں یہ دنیا بھی جانتی ہے کہ جب مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے تو مسلمانوں نے بڑی بڑی فتوحات حاصل کیں۔ علامہ اقبال کا یہ شعرذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی کی اس بات کی تشریخ کرتا ہے کہ اس مٹی کو نم کی ضرورت ہے اس قوم کو بیداری کی ضرورت ہے اور جب یہ قوم بیدار ہوگئی تو یہ مسلم امت مضبوط ترین قوم بن جائے گی۔

    1947ء میں پاکستان کا تصور قبول کیے جانے کے بعد قائداعظم سے کہا گیا: "Do you really believe it will become a nation. It will take fifty years.” جواب میں ارشاد کیا:”No a hundred years” قوموں کی تشکیل و تعمیرکا عمل یہی ہے۔ فروغِ علم سے اس عمل کو متواتر اورمہمیز کیا جاسکتا ہے۔ اللہ مہربان ہو تو قائد اعظم ایسے لیڈروں کی نمود سے، اپنی مثال سے جو ہجوم کی تربیت کریں۔ آخری بات یہ ہے کہ مایوسی زہرہے۔ نظراٹھا کردیکھو تو اس قوم میں ایثاراورحسنِ عمل کی مثالیں بھی بہت ملیں گی۔ اقبالؔ نے کہا تھا۔ دل توڑگئی ان کا دو صدیوں کی غلامی دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا شاعرکی باقی پیش گوئیاں پوری ہوئیں تو یہ بھی ہو کررہے گی۔ کریں گے اہلِ نظرتازہ بستیاں آباد مری نظر نہیں سوئے کوفہ و بغداد۔

    @Its_MuBii

  • صنفی امتیاز کا خاتمہ . تحریر: عابد خان اتوزئی

    صنفی امتیاز کا خاتمہ . تحریر: عابد خان اتوزئی

    دنیا کی تخلیق کے طریقہ کارپردنیا بھرمیں اختلافات پایا جاتا ہے۔ دنیا کے ہرکونے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا اپنا ایک نظریہ ہے، دنیا کی تخلیق کیسی ہوئی؟

    ہرکوئی اس ضمن میں اپنی رائے کودلا ئل کے ساتھ پیش کرکے خود کو درست ثابت کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ اس ضمن میں بے شمارکتابیں بھی موجود ہیں۔ اس پرسائنس اورمذہب بھی کئی جگہوں پرآمنے سا منے آچکے ہیں ۔یہی صورتحال کچھ معاشروں کے وجود کا بھی ہے۔معاشرے کا وجود مختلف معاشرے کے اقدارمختلف معاشرے کے اصول مختلف رسم ورواج مختلف حتیٰ کہ مقاصد بھی مختلف لیکن ایک چیزایسی بھی ہے کہ جس کے بارے میں دنیا کا ہرانسان متفق بھی ہے اوردرست بھی ہے وہ یہ کہ زمین کی پیدا ئش انسان کیلئے ہوئی ہے دنیا میں کہی بھی کسی سے بھی اگرپوچھا جائے کہ کیا دنیا انسان کے رہنے کیلئے بنائی گئی ہے اس کا جواب مثبت ہوگا۔ یہ حقیقت بھی ہے.

    دوسری بات جس میں لوگ بظاہراختلافات نہیں رکھتے وہ انسان کی برابری ہے، اگرسوال کیا جائے کہ آیا دنیا کے تمام انسان حقوق کے لحاظ سے برابرہیں؟ توفخریہ اندازمیں جواب ہاں میں ملے گا۔ یہی وہ نقاطہ ہے جہاں سے انسان کے نظریات اورمنافقت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے دنیا اورزمین کی پیدائش کے اختلافات کے پیچھے ہرایک کا اپنا ایک نظریہ کارفرما ہوتا ہے جو درست بھی ہوسکتا ہے اورغلط بھی لیکن جس چیز کے بارے میں بظاہر سب کے سب انسان متفق ہے یعنی زمین انسان رہنے کی جگہ اورسب انسان برابرہیں کے پیچھے دنیا کی کثیرتعداد کی چھپی ہوئی منافقت موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہرتیسرے اورچوتھے ملک میں ایک فساد برپا ہے، اس کے علاوہ ہرملک میں انسانوں کے مابین حقوق کے غیرمساوی تقسیم نے کہرام برپا کیا ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کوخود سے بہترتصورکرتا ہے اس کی نسبت اپنے آپ کو زیادہ مراعات کا حقدارسمجھتا ہے، اس نقطہ سے لوگوں کے حقوق کی حق تلفی کا باقاعدہ آغازہوتا ہے۔

    دنیا کے کسی بھی کونے میں بھی کسی بھی انسان کے مابین اختلافات اورجھگڑے کی بنیادی وجہ حق تلفی ہی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس کسی بھی خوشحال ملک یا معاشرہ کا جائزہ لیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ خوشحالی کہ اصل وجہ لوگوں کے مابین حقوق کی مساوی تقسیم ہے، اس معاشرے میں ان گنت مسائل اوربے چینی پائی جاتی ہے جہاں پرمساوات کی قبریں موجود ہوتی ہیں اگران حق تلفیوں کی حوصلہ شکنی نہ کی جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ یہ رویہ کا شکل اختیارکرلیتا ہے، یہاں سے یہ مسئلہ انفرادیت سے اجتما عت کے مدارمیں داخل ہوجاتا ہے اورجب اجتماعیت کے ہاتھ میں ایک خاص رویہ پنپنا ہے تو وہ روایت بن جایا کرتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کے تجزئیے سے یہ بات بخوبی جانی جاسکتی ہے کہ ہراک روایت کے پیچھے ایک خاص رویہ مضمر ہے۔ روایات میں اپنی رویوں کا اظہارہوتا رہتا ہے، روئیے اور روایت کی بنیاد کسی قوم یا معاشرے کے حامل کردہ علوم پرہوتا ہے جو وہ حقوق کی تقسیم کے بارے میں رکھتے ہیں۔

    اگر حاصل کردہ علم زندگی گزارنے کے لئے ناکافی اورناقص ہے تو منفی رویہ بنے گا، منفی روایات بنے گئے اورمنفی معاشرے کی بنیاد پڑے گی اوراگر حاصل کردہ علم مثبت ہے اورایک بہترزندگی گزارنے کے لئے کافی ہے تو مساوی حقوق، مثبت رویہ، مثبت روایات اور مثبت معاشرہ بنے گا۔اس علم کی بنیاد پرمعاشرے میں ہرچیزکے بارے میں ایک خاص رویہ موجود ہے، اب اگرمعاشرے میں موجود رویے سے مسا ئل پیدا ہورہے ہیں توہمیں علم کے وہ سرچشمے بدلنے ہوں گے جن کی بنیاد پررویہ یا روایت بنتی ہے۔اب اگراپنے معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو بہت سے تکلیف دہ منفی روئیے سامنے آئے ہیں۔ان میں سے ایک منفی رویہ معاشرے میں موجود صنفی امتیاز ہے جس نے باقاعدہ تشدد کی شکل اختیارکررکھی ہے جس کا ثبوت چند دن قبل روالپنڈی کے علاقہ ثاقب آباد میں ہونے والا واقعہ ہے۔قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ ارسلان نامی جوان نے اپنی ماں پرتشدد کیا ہمارے معاشرے میں خواتین کے بارے میں موجود منفی رویے نے ہمیں دنیا میں چھٹے نمبرپرلا کھڑا کردیا صنفی امتیازی کی بدولت ہم دنیا میں جانے جاتے ہیں ”بدنام جو ہو گے تو کیا نام نہ ہو گا“ صنفی امتیاز کوختم کرانے اورخواتین کے بارے میں قائم منفی رویوں اورروایات کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے ہمیں آنے والی نسلوں کو مثبت علم دینا ہوگی ورنہ جو حالت گلنازبی بی کے ہیں وہ ہرگھرمیں موجود ہرعورت کے ہونگے.

    @AtozaiKhan

  • محب  وطن پاکستانی . تحریر: محمد آصف شفیق

    محب وطن پاکستانی . تحریر: محمد آصف شفیق

    پاکستانی قوم ایک محب وطن قوم ہے جس کے افراد دنیا میں کسی بھی ملک کے کسی بھی شہر میں ہوں ان کی حب الوطنی میں کمی نہیں آتی، دوسرے بہت سے بیرون ملک مقیم (Overseas Pakistani) کی طرح میں بھی گزشتہ 16 سال سے بیرون ملک مقیم میں جہاں میں نے پاکستانیوں کی حب الوطنی کی کئی مثالیں دیکھیں، جب بھی کسی پارٹی رہنما نے یہاں وزٹ کیا ہرپاکستانی نے اپنے پارٹی تعلق سے بالا تر ہو کراس پروگرام میں بھرپورشرکت کی اورکوئی ناخوشگوارواقعہ بھی کبھی پیش نہیں آیا، امیر جماعت اسلامی پاکستان محترم سراج الحق صاحب کے سعودیہ میں دوروں کے دوران بہت سے بڑے پروگرامات میں شرکت کا موقع ملا جن میں تقریباً تمام پاکستانی سیاسی ودینی جماعتوں کے افراد موجود ہوتے تھے، اسی طرح مستقل پاکستان واپس جانے والوں کیلئے الوادعی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے، کسی بھائی کی خوشی غمی میں شرکت ہو یا کسی فرد کی نمازجنازہ کبھی احساس ہی نہیں ہونے دیتے کہ ہم دیس میں نہیں پردیس میں ہیں، اگر کوئی بھائی فوت ہوجائے تواس کے پروسس میں پاکستانی ایمیبسی کی مدد درکار ہوتی ہے اورالحمد للہ جن بھائیوں کو ویلفئرسیکشن میں ذمہ داری دی ہوتی ہے وہ ہمیشہ بہترین تعاون کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان بھائیوں کواجرعظیم سے نوازیں جو پردیس میں رہ کر ایک دوسرے سے ایسے جڑے ہیں جیسے سیسہ پلائی دیوار

    یوم آزادی ہو یا یوم دفاع پاکستان یا کشمیرڈے ہویا کوئی بھی قومی دن پردیس میں موجود پردیسی اپنی گاڑیوں اپنے کپڑوں اوراپنی تیاریوں سے کسی بھی فرد جو کہ پاکستان میں موجود ہوکم محبت کا اظہار نہیں کرتا، مملکت سعودیہ میں موجود سفارتخانہ بھی ان اسپیشل دنوں کیلئے اپنے دروازے کھولتا ہے اپنے ہال میں بڑے بڑے پروگرامات ترتیب دیتا ہے، جن میں ہرپارٹی کے افراد کواظہارخیال کا بھرپورموقع فراہم کیا جاتا ہے.

  • مصائب اور اسکا مقابلہ .تحریر : ریحانہ بی بی

    مصائب اور اسکا مقابلہ .تحریر : ریحانہ بی بی

    انسانی زندگی میں خوشی اور غم کا عجیب سنگم ہے, کبھی بہت زیادہ خوشی اور کبھی کوئی مصیبت…
    پہلی بات یہ ہے کہ اگر زندگی میں دکھ نہ ہو تو خوشی کا احساس بھی نہیں ہوتا. زندگی اپنی تمام تر خوشیوں اور غموں کے ساتھ, پھول کے ساتھ کانٹے, دھوپ کے ساتھ چھاؤں کا حسین امتزاج ہے. البتہ خوشی کے لمحات غیر محسوس طریقے سے گزر جاتے ہیں.
    اس دنیا میں کبھی بھی انسان کو دائمی خوشی حاصل ہے نہ دائمی غم. یہ سلسلہ ہر انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے کوئی اس سے خالی نہیں. پر جب کسی پہ پریشانیوں کا سلسلہ دراز ہوجاتا ہے تو وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیا کی ساری مصیبتیں اسی کو مل رہی ہیں..
    ہم میں سے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ان مشکلات سے بددل ہوجاتے ہیں کہ انکی زندگی آ زمائشوں کا مجموعہ بن گئی ہے, وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ انکی قسمت ہی ایسی بنائی گئی ہے…… مگر یاد رکھیں اللہ کے نبی کا ارشاد ہے کہ :
    لوگوں میں سب سے زیادہ مصائب اور آ زمائش انبیاء کو پہنچے, پھر نیک و صالح لوگوں کو پھر جو اُن سے زیادہ مشابہت رکھنے والے انکو.
    حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آ زمائش کس کی ہوتی ہے ؟
    آ پ نے فرمایا انبیاء کی, پھر صالحین کی کی.
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ جب کسی قوم کو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے تو اسے آ زمائش میں ڈالتا ہے. بندہ جب اس پر راضی رہتا ہے تو اللہ اس سے راضی و خوش ہوجاتا ہے.
    اس حدیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ محض بیماری, پریشانی, آزمائش, سزا نہیں بلکہ اُس آ زمائش پر صبر نہ کرنے میں ہے.
    حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ جب اپنے بندے کے ساتھ خیر کا معاملہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا ہی میں جلدی سزا دے دیتا ہے اور اگر اللہ اپنے بندے کے ساتھ خیر کرنا نہیں چاہتا تو اسکے گناہوں کے باوجود اسکی گرفت نہیں کرتا, پھر قیامت کے دن اسکا بدلہ دیتا ہے.

    ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ ہمیں مصائب و آ زمائش میں کس طرح رہنا ہے , اس سے کس طرح نمٹنا چاہئے.
    منفی انداز اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ منفی طرزعمل بندے کو اللہ سے دور کر دیتا ہے.
    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جو کسی نہ کسی طرح کی آ زمائش میں مبتلا نہ ہو ہاں اسکی نوعیت الگ الگ ضرور ہوتی ہے.
    میری اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو مصائب کیوں درپیش ہوتے ہیں اور انکا مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے.
    انسان مصائب کا مقابلہ صبر سے کرے. اس میں کوئی شک نہیں کہ اسکے مصائب نعمتوں سے بدل جائیں اور نعمتوں کی حفاظت شکر ادا کرکے کریں.

  • عیب پوشی . تحریر:عائشہ شاہد

    عیب پوشی . تحریر:عائشہ شاہد

    "ﺣﺎﻝِ ﺩﻝ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ سب ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ
    ﻗﺼﮧ ﻏﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮈﮬﻮﻟﮏ ﮐﯽ ﺗﮭﺎﭖ ﮐﮩﺘﮯ هیں.”

    ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ !!
    ( جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا ) (بخاری و مسلم)

    یہاں میں ہم سب کی رہنمائی کے لیے ایک واقع شئیرکرنا چاہوں گی کسی ملک میں ایک نہایت ہی انصاف پسند اورعوام کے دکھ درد بانٹنے والا بادشاہ رہتا تھا مگرجسمانی طورپرایک ٹانگ اورایک آنکھ سے محروم تھا ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہرمصوروں کواپنی تصویربنوانے کیلئے بلوا لیا اوروہ بھی اس شرط پرکہ تصویرمیں اُس کے یہ عیوب نہ دکھائی دیں۔ سارے کے سارے مصوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکارکردیا اوروہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویربناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ہی ایک آنکھ سے محروم اوروہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پرکھڑا ہوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سے بھی معزورتھا.

    لیکن اس اجتماعی انکارمیں ایک نہایت ہی ہوشیارمصورنے کہا :
    بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپ کی تصویراورجب تصویرتیارہوئی تو اپنی خوبصورتی میں ایک مثال اورشاہکار تھی۔

    وہ کیسے؟؟
    تصویرمیں بادشاہ شکارکرتا دیکھائی دے رہا تھا ہاتھ میں تیرکمان تھا اوروہ گھوڑے پرسوارتھا اورشکار کرتے ہوئے اس نے ایک آنکھ بند کر رکھی تھی جس آنکھ سے وہ محروم تھا اورجس ٹانگ سے وہ معزورتھا وہ ٹانگ گھوڑے کے دوسری جانب تھی جوکہ دیکھائی نہ دیتی تھی
    اوراس طرح بڑی آسانی سے ہی بادشاہ کی بے عیب تصویرتیارہوگئی تھی بادشاہ نےاس مصورکو اس عیب پوشی پربے انتہا انعام سے نوازا۔

    یہ صرف کہانی نہیں بلکہ ایک سبق ہے کیوں کہ ہم بھی اِسی طرح دوسروں کی بے عیب تصویربنا لیا کریں اوراپنے رب کریم سے انعامات حاصل کیا کریں آج اس نفسا نفسی کے دور میں ہر ایک دوسرے میں مصروف ہے حالانکہ ہمارے اندر بھی بے شمارعیب موجود ہیں۔ آج ہم دوسرے مسلمانوں کے عیوب پرپردہ ڈالیں گے کل ان شاء اللہ رب رحیم ہمارے عیوب سے درگزر فرمائے گا۔ تو آج سے کوشش کریں دوسرے کے عیبوں کو چھپایا کریں گے خواہ ان کے عیب کتنے ہی واضح ہی نظر آ رہے ہوں اورجب بھی لوگوں کی تصویر دوسروں کے سامنے پیش کیا کریں اُن کے عیبوں کی پردہ پوشی کریں گے کیونکہ انبیاء کے علاوہ کوئی شخص بھی عیبوں سے خالی نہیں بے شک

    اے انسان یہ جان لوتم کسی بشرمیں ہزارخامی اگرجودیکھو تو چپ ہی رہنا کسی بشرکا جو راز پاؤ یا عیب دیکھوتو چپ ہی رہنا اگرمنادی کو لوگ آئیں تمہیں کوئی کُریدیں یا تمہیں منائیں تمہاری ہستی کے گیت گائیں تمہیں کہیں کہ بشرمیں دیکھی برائیوں کو بیان کردو تو چپ ہی رہنا
    جواز یہ ہے دلیل یہ ہے
    ضعیف لمحوں کی لغزشوں کو
    بے محر ناطے کی قربتوں کو
    ہماری ساری حماقتوں کو
    ہماری ساری خباثتوں کو
    وہ جانتا ہے
    وہ دیکھتا ہے
    مگر وہ چپ ہے
    اگر وہ چپ ہے
    تو میری مانو
    وہ کہہ رہا ہے
    چپ ہی رہنا

    @BinteChinte

  • معلم علم دیتا ہے . تحریر: صاحبزادہ ملک حسنین

    معلم علم دیتا ہے . تحریر: صاحبزادہ ملک حسنین

    بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے دوسری درسگاہ اساتذہ کی تربیت ہے "معلم” یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب سکھانے والا ہے معلم قوم کا معمارہوتے ہیں معلم وہ ہے جوبے ادب کو باادب اور بے ہنرکو باہنرکردے معلم کا کردارصرف کلاس کی چاردیواری تک محدود نہیں بلکہ قوم کی ذہنی واخلاقی تربیت میں بھی موجود ہے یہ معلم ہی ہے جو طلبہ میں اخوت، مساوات، بھائی چارہ اورجذبہ حب الوطنی پیدا کرتا ہے معلم ہی طلباء میں شخصیت سازی اورکردارسازی کی بنیاد ڈالتا ہے معلم ہی نے اس دنیا کوعظیم مفکرین ماہرین دیے ”

    معلم بادشاہ نہیں ہوتا مگر وہ اپنے طلبا کو بادشاہ بناسکتا ہے معلم انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا! میں دنیا میں ایک معلم بنا کربھیجا گیا ہوں عظیم مفکر روسوں کہتا ہے کہ بچہ ایک کھلی کتاب ہوتا ہے اوراس کے ہرورق کو پڑھنا معلم کے لیے لازمی ہوتا ہے معلم ایک ایسا زینہ ہے جو خود تو ہمیشہ اپنی جگہ پررہتا ہے لیکن اس کے سہارے ہزاروں لاکھوں لوگ بلندیوں کی طرف بڑھ جاتے ہیں معلم اپنے ہنراپنے فن اوراپنے علم کو طلبہ تک ایسے ہی پہنچاتا ہے جیسے ایک پرندہ اپنے بچے کے منہ میں دانہ ڈالتا ہے اسی لیے ہزاروں سالوں سے معلم کو عزت احترام اورتکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے فاتح عالم سکندرایک مرتبہ اپنے استاد ارسطو کے ساتھ جنگل میں سے گزررہا تھا کہ راستے میں ایک بڑا برساتی نالہ آگیا نالہ بارش کی وجہ سے نالہ طغیانی پرآیا ہوا تھا استاد اورشاگرد دونوں بضد تھے کہ پہلے نالہ کون پارکرے گا آخرکار ارسطو نے سکندرکی بات مان لی سکندرنے پہلے نالہ پار کیا اور پھرارسطو نے نالہ پار کرکے سکندر کوکہا کہ تم نے پہلے نالہ پارکر کے میری توہین نہیں کی کیا؟ سکندر نے جواب دیا نہیں استاد مکرم! میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے ارسطو رہے گا تو ہزاروں سکندر تیار ہوسکتے ہیں لیکن سکندر ایک بھی ارسطو تیار نہیں کرسکتا معلم بچے سے وہاں سے امید لگاتا ہے جہاں سے دوسرے امید چھوڑ دیتے ہیں

    حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں جس نے مجھے ایک لفظ پڑھایا وہ میرا استاد ہے وہ چاہے تو مجھے بیچ دے یا ساری زندگی کے لیے اپنا غلام بنا لے

    دنیا میں جس معاشرے میں اساتذہ کی عزت نہیں کی گئی تاریخ گواہ ہے کہ وہ معاشرے تباہ اوربرباد ی کا شکار ہوئےہیں لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے آج کل کے پر فتن دورمیں معلم کے ساتھ جس قدربرا سلوک کیا جاتا ہے اس سے ہم سب واقف ہیں کبھی اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی مذہب کا لبادہ اوڑھ کرقتل کردیا جاتا ہے وہ معاشرہ کیا ترقی کرے گا جواساتذہ کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرے گا
    استاد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب خلیفہ وقت ہارون الرشید نے اپنے بچوں کواستاد کی جوتیاں پہنانے کے لیے لڑتے ہوئے دیکھا ایک کہتا ہے کہ استاد محترم کو جوتیاں میں پہناؤں گا دوسرا کہتا ہے کہ میں "تاج رکھا ہے زمانوں نے ان کے سروں پر
    جو تھے استاد کے جوتوں کو اٹھانے والے”

    اگر ہم واقعی میں ترقی کرنا چاہتے ہیں اوراپنے طلبا کو صحیح معنوں میں علم دلوانا چاہتے ہیں تو "معلم”کے وہ تمام حقوق دیئے جائیں جن پر ان کا حق ہے اگر اساتذہ خوش ہوں گے وہ پریشانیوں سے دورہوں گے تو طلباء کو اچھے طریقے سے پڑھا سکیں گے اللہ رب العزت سے میری دعا ہے اللہ پاک میرے ان اساتذہ کی مغفرت فرمائے جو اس دنیائے فانی سے کوچ کر چکے ہیں اورآخرمیں اتنا ہی کہوں گا مجھ ناچیزکی اتنی اوقات نہیں کہ میں اساتذہ کی شان میں کچھ لکھ سکوں آج میں جو کچھ بھی ہو اپنے اساتذہ کرام کی وجہ سے ہوں۔

    Malik_Hasnain92

  • سوشل میڈیا کے مثبت استعمال .تحریر:فروا نذیر

    سوشل میڈیا کے مثبت استعمال .تحریر:فروا نذیر

    Twitter id: @InvisibleFari_

    سوشل میڈیا نے معاشرے میں بہت ترقی پائی ہے
    آجکل یہ سمجھ لیں کہ سوشل.میڈیا بغیر دنیا نامکمل ہے
    اور اسی سوشل میڈیا کو انسان اپنے مقصد کیلیے بھی استعمال کرتا ہے
    کوئی بھی انسان کچھ بھی بلاوجہ استعمال نہیں کرتا اسکو اپنے مقصد کو لاتا اور کوشش کرتا ہےکہ اس مقصد کو پورا کیا جائے

    سوشل میڈیا کے بہت سے اثرات ہوتے ہیں ہرعمر کے انسان پر چاہے وہ بچہ ہو جوان ہو بڑا ہو
    اور اسی طرح کے اس کے مثبت اثرات بھی ہیں جو انسان کی زندگی میں بہت تبدیلی لاسکتا ہے اگر ہم اسکو اچھی نیت سے استعمال کریں

    کچھ بھی کرنے کیلیے ہماری نیت صاف ہونی چاہیے اور ہر اس کام کو عمل میں پہلے خود لے کر آنا چاہیے جسے ہم سوشل میڈیا پر لاتے ہیں
    تاکہ ہم سب کو اندازہ ہو کونسے کام کو کہاں کیسے اور کسطرح استعمال میں لانا ہے..

    اس طرح سمجھ لیں کہ انسان اگر اپنا آپ دکھانا چاہتا ہے تو وہ سوشل میڈیا پر جائے گا سوشل میڈیا میں صرف کوئی ایک ایپ نہیں ہے بے تحاشا ایپس ہیں جن کا استعمال مفاد کیلیے اور مثبت انداز میں ہو رہا ہے
    جن میں سے چند یہ ہیں:
    • واٹس ایپ
    • ٹویٹر
    • انسٹاگرام
    • فیسبک
    • سکائپ
    وغیرہ وغیرہ یہ سب سوش میڈیا کی اقسام ہیں
    سب کے فائدے کیا کیا ہیں:

    – واٹسایپ
    واٹس ایپ ہر انسان کہ ضرورت ہے اس سے آپ کسی بھی وقت کہی بھی رابطہ کر کے اہنا کام کر سکتے ہو
    یہ آہکو رشتہ داروں سے بات کرنے کے مواقع بھی دیتی ہے اور اپنی فیملی سے جڑے رہنا ایک بہت اچھا کام ہے کیونکہ ہم سب کو ہمیشہ مل جل کے رہنا چاہہے تاکہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام آسکیں..

    – ٹویٹر
    ٹویٹر کے جہاں نقصان وہی بہت سے فوائد ہیں.
    آپ کو دنیا کی ہر خبر ٹویٹر سے مل سکتی یے آپ نے ڈائریکٹ اگر کسی سیاستدان سے بات کرنی تو ٹویٹر سب سے بیسٹ آپشن ہے آپ کسی مشکل میں ہیں ٹویٹر پر صرف ایک ٹرینڈ چلائے اور وزیراعظم کو مینشن کرتے جائے آہکا کام ہو گا
    ہر طرح کے لوگ ہیں ٹویٹر پر جن سے آپ رابطہ کر کے بہت کچھ سیکھ سکتے ہو صرف ایک ٹویٹر ایسی ایپ ہے جو آہکو بہت کچھ سکھاتی رہتی یے

    – انسٹاگرام
    یہ ایپ ٹویٹر سے زیادہ استعمال میں ہے لیکن اس کا اتنا فائدہ نہیں جتنا ٹویٹر ہے وہاں آپ آواز بلند کر سکتے ہو لیکن انسٹا پر اہسا کچھ نہیں ہوتا
    انسٹا بھی اپنی جگہ مفید ہے کچھ یوتھ کیلیے جن کو ڈراماز شوبز والوں سے ملنے کا شوق ہو وہ سب انسٹا کو جوائن کرتے ہیں اس لیے ہر چیز کا کسی نہ کسی کیلیے فائدہ ہے

    – فیسبک
    فیسبک ایک بہت ہی پرانی اور مفید سوشل ایپ ہے جہاں بہت سے مسائلز کو سامنے لایا جاتا پاکستان کے بارے میں
    انڈیا کے پروپیگنڈاز بھی سامنے آتے ہیں ٹویٹر والے ان سب پروپیگنڈوز کو اجاگر کرتے ہیں اور فیسبک سے انکی شروعات ہے… بہت سے لوگ آج بھی فیسبک پر زیادہ ہیں خاص کر یوتھ وہاں سے بہت کچھ حاصل کر رہی ہے

    – سکائپ
    سکائپ کا یہ فائدہ کہ آپ دنیا کے جس بھی کونے میں بیٹھے ہو اہنے عزیز کو باآسانی دیکھ سکتے ہو باآسانی بات کر سکتے ہو
    اسکو بہت سے فارن لوگ استعمال کرتے ہیں خاص کر وہ جو اونلائن جاب کرتے ہو وہ اسکو ویڈیو پر بات چیت کیلیے استعمال کرتے ہیں
    اسکا استعمال پہلے کی نسبت کم ہوتا جارہا ہے کیونکہ واٹسایپ سے ویڈیو کالز ہوجاتی ہیں

    جس طرح ہر چیز کے بننے کا کوئی نہ کوئی فائدہ ہے اسی طرح ہر سوشل ایپ کا اپنی جگہ فائدہ اور استعمال ہے

    لیکن کوشش رہے سوشل میڈیا کو مثبت انداز میں استعمال کریں تاکہ مشکلات سے بچ سکیں اور بہت کچھ سیکھ سکیں

  • پاکستان، افغانستان اور طالبان.تحریر ملک علی رضا

    پاکستان، افغانستان اور طالبان.تحریر ملک علی رضا

    دوستو افغانستان سے امریکہ اور اتحادی افواج کے یکم مئی سے انخلا کے اعلان کے بعد سے متعدد اضلاع کی جانب طالبان کی پیش قدمی جاری ہے۔افغانستان میں طالبان نے اب تک ملک کے 34 صوبوں میں سے 20 صوبوں کے ہیڈ کوارٹرز کے گرد گھیرا تنگ کر لیا ہے۔ طالبا ن اپنی اسلامی ریاست بنانے کے لیے افغانستان نے آدھے سے زیادہ حصوں پر قابض ہوچکے ہیں۔
    طالبان کے قبضے میں آنے والے اکثر علاقوں کی سٹریٹیجک اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ یہ ان اہم شہراہوں پر واقع ہیں جو کابل کو ملک کے شمالی، جنوبی اور مغربی علاقوں سے جوڑتی ہیں۔اکثر شہر جن کا طالبان نے محاصرہ کیا ہے وہ ملک کے شمال میں واقع ہیں جہاں افغانستان کی سرحدیں اپنے وسط ایشیائی ہمسایوں کے ساتھ ملتی ہیں۔
    طالبان نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک کے جنوب اور مشرق میں واقع اہم شہروں کے گرد اپنے آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور اب انھوں نے افغان دارالحکومت کابل کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا ہے۔
    سنہ 1996 میں طالبان کی ’جائے پیدائش‘ کہلانے والے جنوبی صوبے قندھار کے بعض اضلاع پر طالبان پہلے ہی کنٹرول کرنے کا دعویٰ کر چکے ہیں جبکہ ملک کے دس بڑے شہروں میں سے کم از کم تین شہروں قندھار، ہرات اور غزنی کے گرد طالبان نے گھیرا تنگ کر لیا ہے.
    طالبان سپین بولدک، چمن سرحدی کراسنگ جو قندھار کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے ملاتی ہے وہاں افغانی افواج کنٹرول چھین لیا ہے اور اب مکمل طور پر بارڈر ایریا طالبان کےقبضے میں ہے۔جیسے ہی اس علاقے کا قبضہ طالبان نے حاصل کیا پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی سرگرمیاں اور ہر قسم کی آمدورفت بند کر دی گئی ، تاہم دو دن مذاکرات کےبعد طالبان قیادت نے پاکستان سے ملحقہ سپین بولدخ بارڈر کھول دیا گیا۔

    ادھر پاکستان نے بھی موجودہ خطرات کے پیش نظر افغانستان نے ملحقہ بارڈرز پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور بارڈر پر چیکنک کا عمل بھی سخت کر دیا گیا ہے۔ ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے بھی اس معاملے کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے قوم کو مکمل یقین دہانی کروائی ہے کہ کسی بھی قسم کی خطرے سے نمٹنے کے لیے افواج پاکستان ہمہ وقت تیار ہیں۔
    دوسری جانب افغانستان کے وائس پریذیڈنٹ امراللہ صالح نے پاکستان کے حوالے سے بیان دیا اس حوالے سے کچھ تحقیقات ہوئیں تو یہ پتہ چلا ہے کہ جب افغانستان کی طرف سے یہ رابطہ کیا گیا کہ طالبان نے پاکستان سے ملحقہ بارڈر ایریا پر قبضہ کیا ہے وہ طالبان سے قبضہ واپس لینے کے لیے افغان حکومت نے پاکستان کی آرمی سے بات چیت کی کہ ہم طالبان پر حملہ کرینگے تو ہو سکتا ہے پاکستان کی حدود پر بھی اس کے اثرات ہوں تو اس پر پاکستان نے صاف کہہ دیا کہ اگر پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا اسی لیے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر آپ نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تو اس پر ایکشن لیا جائے گا کیونکہ بارڈر ایریاز میں کسی بھی طرح سے پاکستانی حدود کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس کے بعد افغان حکومت کی جانب سے جو غیر ذمہ دارانہ بیان آیا اس لیے پاکستان کو اس طرح کا بیان دے کر نیچا دکھانے کی کوشش کی جائے گی ۔

    پاکستان میں ہونے والے حالیہ واقعات و معاملات کو اگر آپ دیکھیں تو یہ بہت سارے معاملات جو ہیں وہ نظر آرہے ہیں کہ جس میں پاکستان کے خلاف بہت ساری چیزیں جس طرح بھی افغان نائب صدر کی بیٹی کا اغواہ کیا گیا اور پاکستان کے خلاف ایک منظم سازش کی گئی اس میں بھی بڑے خدشات پائے جاتے ہیں ۔پاکستان کے دشمن پاکستان میں سی پیک کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں پاکستان کی ترقی ہو رہی ہے اس کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں دوسرا جو پاکستان خطے میں امن کی کوششیں کر رہا ہے ان کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔
    پاکستان اس وقت اچھی کوشیشیں کر رہا ہے تاکہ خطے میں امن ہو جائے لیکن پاکستان کے جو اس وقت معاملات ہیں وہ پاکستان کو بیرونی خطرات ہیں اور اندرونی خطرات ہیں جن پر پاکستان کڑی نظر رکھَے ہوئے ہے۔ پاکستانی افواج اور سکیورٹی ادارے کسی بھی قسم کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں ۔ اور پاکستان کی عوام کا اپنی افواج اور حکومت پر مکمل اعتماد ہے کہ ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔۔

  • لاقانونیت…تحریر: عثمان غنی

    لاقانونیت…تحریر: عثمان غنی

    پاکستان میں جرم کی شرح دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔دن دیہاڑے اغواہ،راستے میں گاڑی یا موبائل فون جیسے قیمتی سازو سامان چھین لینا،بھتہ خوری،راتوں کو گھروں یا دوکانوں میں نقب لگانا،ءیہ سب عام ہے۔ان وارداتوں کے ڈر سے اکثر لوگ مغرب ہوتے ہی گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں۔عوام خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔اور ان میں ایک خوف کی کیفیت پائی جاتی ہے۔جس وہ کھل کر سانس نہیں لے پاتے۔۔۔
    ہم اکثر بات کرتے ہیں ترقی یافتہ ممالک کے امن کی۔اور پھر اس کے بعد ہم ان کے امن کی وجہ ڈھونڈھتے ہیں۔اور سب سے آخر میں ہم ان سب ممالک کا اپنےملک کےموازنہ کرتے ہین۔موازنہ کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں ادارے کس طرح کام کرتے ہیں اور ہمارے ہاں ادارے کس طرح کام کرتے ہیں۔
    اس صورت حال میں پولیس کا کردار سب سے زیادہ ہے۔اور اسی لحاظ سے سب سے زیادہ تنقید بھی اسی ادارے پر کی جاتی ہے۔اب اگر اس ادارے کا موازنہ ہم ترقی یافتہ ممالک کی پولیس سے کریں تو سب سے بڑا فرق ہمیں عددی لحاظ سے نظر آتا ہےنظر آتا ہے ۔ ہماری پولیس کا سب سے بڑا مسئلہ اس کے پاس افرادی قوت کی کمی ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں جہاں ہر دو منٹ بعد آپ کو پولیس موبائل دیکھائِ دے گی وہیں پاکستان میں دو گھنٹے بعد بھی نہیں دیکھائی دے گی۔دور دراز کے علاقوں میں پولیس اپنی چوکیاں بناتی ہے مگر نفری کی کمی کی وجہ سے انہیں آباد نہیں کر سکتی۔تنخواہوں اور مرعات کی کمی وغیرہ ۔۔ثانوی مسائل ہیں جو تقریبا تمام سرکاری اداروں کو در پیش ہیں۔
    لیکن اگر ہم اپنی تاریخ میں دیکھیں تو عددی کمی کبھی بھی مسلمانو کے آڑھے نہیں آسکی۔زیادہ دور نہیں جاتے سن 1972سے پہلے کے سعودی عرب کو ہی دیکھ لیں۔ایک انگریز رائٹر جان پرکائنز اپنی کتاب "دا اکنامک ہٹ مین ” میں لکھتے ہین کہ اس زمانے میں سعودی میں حالات ایسے تھے کے اگر آپ ایک دن اپنا کوئی سامان کہیں چھوڑ جاتے ہیں تو دوسرے دن وہ آپ کو وہیں پڑا ملے گا۔
    اور آج کل سعودی بھی انگریزوں کے نقش قدم پر چلتا ہوا عددی قوت سے قابو پانے میں کوشاں نظر آتا ہے ۔مگر یہ بہر حال ناممکن کی حد تک مشکل ہے۔
    ایک لحاظ سے پولیس کی تعداد بڑھانا بھی ٹھیک ہے مگر ۔۔۔جو چیز ہمیں اند سے کھائےجا رہی ہے وہ اس سے زرا مختلف ہے۔
    مثال کے طور پر کہیں پولیس کا ناکا لگا ہے اور کسی پولیس والے کا استاد وہاں سے گزرتا ہے تو اس کو بنا چیکنگ کے جانے دیا جاتا ہے ۔ وجہ ۔۔۔۔ استاد کی عزت ہے۔ خاندان کو تو خیر رہنے ہی دیں۔۔۔اگر کوئی ہمسایا بھی گزرتا ہے تو اس کو بھی دوسروں پر فوقیت دی جاتی ہے وجہ۔۔۔ہمسائے کے حقوق۔۔

    اور اگر کوئی بیچارہ پولیس والہ ایسا نہ کریں تو ہم "امن پسند”عوام گلہ کرنے ان بیچاروں کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔۔گھر نا بھی جاسکیں تو کہیں بھی ملے ہمارہ شکوہ تیار ہوتا ہے۔۔۔اور وہ اگلی بر لازما ہم سے رعایت برتتا ہے۔اس سب سے عوام میں اختلافات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔اور پولیس جیسے حساس ادارے کے بارے میں منفی خالات پروان چڑھتے ہیں۔
    پولیس کی ناکامی کی جو سب سے بڑی وجہ ہے وہ ہے پولیس پر سیاست دانوں کا کنٹرول ۔۔۔۔اگر کسی چوکی میں کوئی نیا اے ایس آئی آتا ہے تو اس علاقے کے کونسلر کے پاس اس کے آنے سےبھی پہلے اس کی ساری معلومات پہنچ چکی ہوتی ہے ۔اور اس کے پہلے آرڈر سے بھی پہلے اس کو "آج رات کھانا ہمارے ساتھ کھانے "کا آرڈر مل چکا ہوتا ہے۔اس کھانے میں اس کو نمک حلالی کے سارے گر سیکھاے جاتے ہیں۔اور اس کے بعد پولیس کوئی بھی ایکشن لے "چھوڑ دو پاجی ساڈا بندا ے”کہہ کر سب رفہ دفعہ کرا دیا جاتا ہے۔اور وہ بیچارہ نمک حلالی کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

    اور دیکھا جائے تو ہماری آدھی پولیس عدالتوں کے باہر اور آدھی سیاستدانوں کے گھرں کے باہر ملتی ہے۔اور اگر کوئی پولیس والا کہیں کچھ غلط کرتا نظر آحائے تو پوری علم فاضل قوم اپنے نادر و نایاب خیالات کا اضہار کرنے اور ان کو گالیاں دینے مین پیش ہوتی ہے۔اصل میں ہم شہدا کی لاشوں پر روتے ہیں غازیوں کو جوتوں کے ہار پہناتے ہیں۔ایک نوجوان جب پولیس مین جاتا پے تو وہ یہ یرارادہ لے کر نہین جاتا کے رشوت لون گا مگر ہم اس کو عادی کرتے ہین اپنے چھوٹے غیر قانانی کام نکلوانے کے لیَے کچھ کام جلدی کروانے کے لیئے۔۔۔۔
    اس تمام صورت حال کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پولیس اپنا کام صیح نہیں کر سکتی۔اور ملک میں جرم بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ہمیں پولیس پر تنقید سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔ہم اپنے پیاروں کو امتحان میں ڈال دیتے ہیں جب ہم ان سے تھوڑی سی "غیر اخلاقی”فیور لیتے ہیں۔ہم خود اپنے فرض پر جلدی پہنچنےکے لئے ان کے فرض کو سائد پر رکھ دیتے ہیں۔ہمیں باہر سے امن ادھار نہیں ملے گا ۔کوئی ہمیں امن گفٹ نہیں کرے گا ۔
    ہمیں اپنے ملک کے امن کے لئے خود کوششیں کرنی ہوں گی ۔اور سب سے بڑی کوشش ہم اپنے پیاروں کے لئے امتحان نا بن کر کر سکتے ہیں۔۔اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ کیا واقعی ہم کر سکتے ہیں؟؟؟؟؟؟