Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سیاست کرو منافقت نہیں .  تحریر: فضیلت اجالہ

    سیاست کرو منافقت نہیں . تحریر: فضیلت اجالہ

    جیسے جیسے آزاد کشمیر کے الیکشن نزدیک آرہے ہیں ویسے ویسے اپوزیشن جماعتوں کے جھوٹوں کی رفتار بھی بڑھتی جا رہی ہے
    اسی دوڑ میں شامل لندن فرار نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کا ایک بیان

    ” میں کشمیر کی بیٹی ہوں ،کشمیر سے ہمارا رشتہ بڑا پرانا ہے ”

    جھوٹ اور ڈھٹائی کی اعلی مثال ہے
    کشمیر کی بیٹی ہونے کا دعویٰ کرنے والی جعلی راجکماری سے سوال ہے کہ آپ تب کہاں تھی جب آپ کے والد نے ہائی کمیشن کو بھارت کے بارے میں بات کرنے سے روکا
    یہ حب الوطنی تب کہاں تھ جب نواز شریف ایٹمی دھماکے کرنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا ،اور جب آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے اجازت کیلیے زور ڈالا تو مودی کے یار نے اجازت تو دے دی لیکن اسکا بدلہ آرمی چیف سے استعفیٰ لیکر لیا ۔
    کیا نواز لیگ اور ان کے حامی یہ بتانا پسند کریں گے کہ کشمیر کہ یہ بیٹے تب کہا تھے جب بے گناہ کشمیریوں کا قتل عام کیا جا رہا تھا لیکن دوسری طرف نواز خاندان مودی کی والدہ کو ساڑھیوں اور آم کے تحفے بھیجنے میں مصروف تھے ۔
    4 جولائی 1999 جب نواز شریف نے پاکستان آرمی کو کارگل کی چوٹیاں خالی کرنے کا حکم دیا ،جس کے نتیجے میں پاکستان ایک جیتی ہوئی جنگ ہارگیا، تب آپکی وطن سے محبت کہا جا سوئی تھی ۔کشمیر کے اس نام نہاد بیٹے کی غیرت تب کیوں نا جاگی جب اکتوبر 1999 میں اندر کمار گجرال کو کشمیریوں کی سرگرمیںوں کی خفیہ رپورٹ دی ۔
    کوئی نون لیگی کارکن یہ کیوں نہیں سوچتا کہ 2008 میں ممبئ حملوں کے فوراً بعد نواز شریف کا بیان
    "”میں نے خود پتہ کروایا ہے اجمل قصاب یہیں کا ہے” کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔

    2011 میں اسی جعلی محب وطن نواز شریف نے کہا پاکستان اور بھارت کا کلچر ایک ہے سرحدی لکیر ہے وگرنہ جس رب کی پرستش بھارت کرتا ہے اسی کی ہم پوجا کرتے ہیں اور یوں عمران خان کو ضمیر بیچنے کا طعنہ دینے والوں نے اپنا ایمان ہی بیچ ڈالا ۔
    اگست 2011 کا بھارت نواز بیانیہ،”” واجپائی ٹھیک کہتے ہیں ہم نے انڈیا کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تمام لیگی سپورٹرز کے منہ پر تمانچہ ہے ۔
    آج ووٹ کی خاطر خود کو اسی کشمیر کے ثپوت گردان رہے ہو جس کشمیر کے حریت رہنماؤں سے ملنے سے تمہارے آقا نواز نے انکار کر دیا اور مودی سے ملاقات کی۔
    کشمیر سے نواز لیگ کا رشتہ اتنا ہی ہے کہ ہمیشہ کشمیر کے قاتل مودی کو نواز شریف نے خاندانی دوست کا درجہ دیا
    جس مودی نے کشمیریوں کیلیے جینا دوبھر کردیا اسی مودی کو نواز شریف نے بغیر ویزے کے نواسی کی شادی پہ بلایا اور ریڈ کارپٹ بچھا کر استقبال کیا
    نواز شریف وہ کرپٹ سیاستدان ہے جس نے ہمیشہ ذاتی مفاد کی سیاست کی ، پاکستان کو نقصان پہنچایا اور ہمیشہ بھارتی آقاؤں کو خوش کیا ۔مودی اور واجپائیوں سے اپنے مفاد کیلیے یارانے رکھے اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچایا
    بھارت کی کوشش تھی کہ پاکستان ڈیم نا بنا سکے اور اس کوشش کا پورا ساتھ نواز شریف نے نبھایا
    زرداری کیساتھ ملکر کالا باغ ڈیم کو دفنایا ، دیامر بھاشا ڈیم پر کام رکوایا اور پھر 2018 میں نیلم جہلم ڈیم پر کھڑے ہوکر بھارت سے بجلی خریدنے کا اعلان کر کے پاکستان کیساتھ غداری اور انڈیا کیساتھ یاری نبھائی ۔

    2016 میں جب نواز شریف پر پانامہ کا گھیرا تنگ ہوا تو بھارتی تجزی نگار نے برملا اعتراف کیا کہ بھارت نے نواز شریف پر انویسٹ کیا ہوا ہے وہ اسے بچانے کے بھرپور اقدامات کریں گے ،کیا یہ بیان نواز کے غدار وطن ہونے کا ثبوت نہیں ؟
    ایک ایسا وقت جب پاکستان کے حوالے سے یہ فیصلہ ہونے جارہا تھا کہ پاکستان کو دہشت گرد ممالک میں شامل کریں یا نہیں ایسے میں نواز شریف کا ڈان کو دیے گئے انٹرویو میں بھارت نواز بیانیہ کہ
    ” پاکستان میں دہشت گرد تنظیمیں متحرک ہیں ” کیا یہ ملک سے غداری میں نہیں آتا؟ میاں سانپ کی یہ کیسی حب وطنی الوطنی ہے کہ وہ اپنے بیان سے ملک دشمن عناصر کو خوش کرنے کے چکر میں اپنے ہی وطن کو دہشت گرد ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں ۔
    نواز لیگ کی غداری کی داستانوں سے تاریخ کے اوراق سیاہ ہیں ۔یہ مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے بڑا کردوغلو ہے۔
    ذرا نہیں پورا سوچیے ،کسی جماعت ،کسی شریف،کسی زرداری کا نہیں حق اور سچ کا ساتھ دیجیے ۔اپنے ملک پاکستان کا ساتھ دیجیے ۔

  • جنریشن گیپ،دنیا کا بڑھتا ہوا ایک مسئلہ .محمد عتیق الرحمن گورائیہ

    جنریشن گیپ،دنیا کا بڑھتا ہوا ایک مسئلہ .محمد عتیق الرحمن گورائیہ

    احمد پچھلے کافی دنوں سے پریشان تھا کہ وہ والدین سے بات کرے یانہ کرے ۔ اسی سوچ نے اس میں چڑچڑا پن پیدا کردیا تھا ۔ بات یہ تھی کہ وہ انجینئرنگ کے شعبے میں جانا چاہتا تھا لیکن اس کے والدین اسے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے ۔ یہ نہیں تھا کہ وہ ذہین نہیں یا پھر وہ محنت سے جی چراتا ہے ۔ وہ جب بھی ہمت کرتا اس کے سامنے والدین کا ادب واحترام اور ایک لاینحل سوال حائل ہوجاتا جسے حل کرنا اس کے بس کی بات نہ تھی ۔ یہ ایک احمد کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ ہر چھوٹے کا بڑے سے اور بڑے کا چھوٹے سے مسئلہ ہے ۔ بڑوں کا اپنے چھوٹوں سے مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان کی بات نہیں مانتے اور ان کی خواہشات کا احترام نہیں کرتے ،نتیجے میں نالائق،سست ،بے ادب ،کمزور اور بدتمیز جیسے القابات ملتے ہیں ۔ آج کی نسل اپنے بڑوں مثلاََ والدین ،خاندان کے بزرگوں اور اساتذہ سے شاکی رہتی ہے کہ ہمارے جذبات وخیالات کو نہیں سمجھ سکتے ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

    ہمارا طرز زندگی ،سائنس اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے تبدیلیوں نے یکسر بدل کر رکھ دیا ہے مگر ہمارے رویوں میں کوئی خاطر خواہ مثبت تبدیلی رونما نہیں ہوسکی ۔ تعلیم سے معاشرے میں کسی حد تک تبدیلی تو ممکن ہوئی ہے لیکن معاشرتی سوچ اور رویے اب تک محدود ہیں ۔ جھوٹی انا اور دین سے دوری نے نوجوان نسل اور والدین میں کبھی ختم نہ ہونے والی دوریوں کو جنم دیا ہے اور اس دوری نے کئی گھروں کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے ۔ جنریشن گیپ جو کہ والدین اور اولاد کے درمیان رویوں ،ترجیحات اور خیالات پر اختلافات اور غلط فہمیوں کاباعث بنتاہے ،وہیں اس سے کئی گھرانے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں اور یہ دوریاں کئی اور معاشرتی برائیوں کو جنم دیتی ہیں ۔ دیکھنے میں آیاہے کہ جنریشن گیپ دونوں نسلوں کو تقسیم (دور) کردیتاہے ۔ جنریشن گیپ سے مراد وہ ذہنی فاصلہ ہے جو ناقابل قبول حد تک محسوس ہونے والی تبدیلیوں کی بنیاد پر پیداہوتاہے ۔ عام طور پر یہ گیپ اٹھارہ سے چالیس سال کی عمر یا اس سے زائد کے افراد کے درمیان پایاجاتا ہے جہاں دونوں اپنی اپنی جگہ الگ زاویے سے سوچتے ہیں ۔ دونوں نسلیں ایک ہی چیز کو مختلف زاویوں سے تولتی ہیں ۔ یہ باہمی فرق کام کرنے کے انداز ،ماضی کے تجربات اور ٹیکنالوجی کے استعمال تک واضح نظر آتاہے ۔ مثلاََاگر بات کی جائے ’’رابطہ رکھنے کی‘‘ تو ہمارے بزرگ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کے قائل ہیں اور خط کی شکل ہے جس کے بعد کہیں جاکر کال نظر آتی ہے جبکہ ہماری نسل کے نوجوان صرف ٹیکسٹ میسج سے ہی کام چلاتے ہیں یاپھر واٹس ایپ پر میسج کرکے اپنا پیغام پہنچادیتے ہیں ۔

    خلیل جبران کہتے ہیں کہ ہم اپنی اولاد کو بے پناہ محبت تو دے سکتے ہیں لیکن اپنے خیالات نہیں ۔ اس لئے کہ ہر کسی کے خیالات اپنے ہوتے ہیں ۔ اولاد اور والدین میں دوری کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ والدین اپنے خیالات وخواہشات اولاد پر تھوپنا چاہتے ہیں اور اولاد اپنی زندگی اپنی مرضی بلکہ اپنی خواہشات کے لئے گذارنے کی کوشش میں ہوتی ہے ۔ یہی وجہ آگے چل کر والدین اور اولاد کے درمیان دوری اور باہمی چپقلش کا باعث بنتی ہے ۔ جیسے کوئی خود ڈاکٹر تونہیں بن سکا لیکن وہ اپنی اولاد کو ڈاکٹر بنانے کی مکمل کوشش کرے گا ۔ یہ درست ہے کہ والدین کا تجربہ اور زمانہ سازی بچوں سے کہیں زیادہ اور مضبوط ہوتا ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود بچے اس سے مستفید نہیں ہونا چاہتے ۔ ہم اپنی فعال زندگی میں تقریباََ بیس سال تک اس تبدیلی کو محسوس نہیں کرپاتے لیکن اپنی اولاد کے لڑکپن میں ہ میں دنیا نہیں بلکہ اپنی اولاد یا اگلی نسل بدلی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ گویا زمانے میں ہونے والی سست رفتار تبدیلی اگلی نسل کی شکل میں اچانک انقلاب کی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔ جب تک ہ میں زمانے کی تبدیلی کا احساس ہوتا ہے تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے ۔ اگر میں اپنی بات کروں تو میں شاید 15سال کی عمر کے لگ بھگ کمپیوٹر سے روشناس ہواتھا لیکن میرے چھوٹے بھائی اسی عمر میں مجھ سے کہیں بہتر طور پر کمپیوٹر سے بہر ہ مند ہورہے ہیں مثلاََ وہ اس وقت ہر نئی آنے والی فلم ،ویڈیو گیم اور سافٹ وئیر سے باخبر ہوتے ہیں اور میں اُس عمر میں ماءوس پکڑنا سیکھ رہا تھا ۔ اسی تناظر میں اگر ان کے بعد آنے والی نسل کی بات کروں تو میری بیٹی 3سال کی عمر میں ہی موبائل پکڑ کر یوٹیوب اور گیلری سے ویڈیوزاور تصاویر دیکھنا شروع کرچکی ہے ۔

    ہماری تعلیم و تربیت ،حالات اور ماحول ہماری شخصیت سازی میں بنیادی کردار اداکرتے ہیں ۔ اگر وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کو لازم قرار دیاجائے اور ان تبدیلیوں کو قبول کرنے کی ہم اپنے اندر قوت پیداکرلیں توآئندہ نسل کی ہم بہتر طور پر تربیت کرکے اس جنریشن گیپ کو کم کرسکتے ہیں ۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ ہم ہر آنے والی تبدیلی کو قبول کرتے جائیں اور علم واخلاق جس کا حکم ہمارامذہب دیتا ہے اسے مفلوج کرکے بس ایک مفعول کی طرح جینا شروع کردیں بلکہ تبدیلی کے ہونے کے عمل کو مسلسل مان کر اپنا مثبت کردار اداکریں ۔ ہمارا یہ کردار ہم سے پہلی نسل اور آئندہ آنے والی نسل کے درمیان ایک پل کا سا ہوسکتا ہے ۔ ہم پہلی نسلوں پر اس طرح اثر انداز ہوسکتے ہیں کہ ان کے معاملے میں سوچ لیں کہ ان کی تربیت مسلسل ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق نہیں ہوئی ۔ درمیانی نسل کے طور پر ہ میں مسلسل فعال کرداراداکرنا ہوگا ۔ ہرپرانی نسل کو آئندہ نسل کو یہ رعایت دینا ہوگی کہ وہ ان کے زمانے میں بننے والے معیارات کا احترام کرے اور جس حد تک ممکن ہوان کا پاس کرے ۔ نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور بڑوں کا احترام نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ( سنن ابی داءود،باب فی الرحمۃ ) ۔ اس حدیث سے ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہم اپنے چھوٹوں کے ساتھ کس رویہ سے پیش آتے ہیں اوراپنے بڑوں کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا جارحانہ بلکہ گستاخانہ ہوتا ہے ۔ والدین کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اولاد ایک چلتی پھرتی مشین نہیں بلکہ ایک انسان ہے اسے گھر میں ایک دوست کی ضرورت ہوتی ہے ناکہ ایک داروغہ کی جس کاکام ہی ہر غلطی پر سرزنش اور ماردھاڑ ہوتا ہے ۔ والدین اپنا رویہ اپنی اولاد کے ساتھ دوستانہ اور مشفقانہ رکھیں اور ان کے ساتھ اپنی ماضی کی باتیں شئیر کریں لیکن کو شش کریں کہ اس میں اولاد کے متعلق ہتک کا کوئی پہلو نہ ہو ۔ نتیجے کے طور پر اولاد بھی اپنے مسائل اور اپنی خواہشات آپ ساتھ شئیر کرے گی ۔ کوشش کریں کہ اولاد کی جائز خواہشات کو مانیں اور ان پر اپنی خواہشات نہ تھوپیں ۔ اولاد کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اپنے مسائل وخواہشات شئیر کریں اور یقین رکھیں کہ ان کا مشورہ ان کے لئے بہترین ہوگا ۔ ان کی خواہشات کو حتی الامکان فوقیت دیں اور کوشش کریں کہ والدین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گذاریں اور ان کے تجربات سے مستفید ہوں

  • ففتھ جنریشن وار جاری ہے.‏تحریر: لاریب اطہر

    ہنگری کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی ایک ریسرچ کے مطابق فرسٹ جنریشن وار فیئر جنگوں کی وہ شکل ہے جس میں بڑی سلطنتیں ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑ رہی ہوتی ہیں۔ ان جنگوں کو ‘فری انڈسٹریل وارز’ بھی کہا گیا ہے۔

    اس جنریشن میں انفنٹری یا فوج کے دستے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتے ہیں اور انسانی قوت کو کامیابی کا منبہ سمجھا جاتا ہے یعنی جتنی بڑی فوج ہوگی اتنی ہی زیادہ کامیابی ہوگی۔

    یہ پہلی جنریشن17 ویں صدی کے وسط سے لے کر 19 ویں صدی کے آخر تک چلتی رہیں اور انھی اصولوں پر دنیا بھر میں مخلتف جنگیں لڑی گئیں۔

    میرے پاکستانی قوم پر دشمن نے مختلف طریقوں سے حملہ آور ہوا لیکن اللّٰہ تعالیٰ کے فضل میں نے اپنے قوم کے جوانوں کی مدد سے دشمن کے ہرحملے کو ناکام بنایا۔
    کبھی لسانیت کے بنیاد پر تو کبھی قومیت کے بنیاد تو کبھی سیاسی بے روزگاری کی بنیاد پر کبھی فرقہ واریت کی بنیاد پر کبھی صوبائیت کی بنیاد پر سب حربوں کو دشمن کے ناکام کیا اب نئے طریقے سے حملہ آور ہوا ہے
    مذہبی فساد کے بنیاد پر اپنے درمیان دشمن کے سلیپنگ سیلز کے لوگوں کو پہچانیں۔
    ہم میں موجود کچھ سیاسی بے روزگار پوری مغربی میڈیا اور دشمن سوشل میڈیا پر پورے پاکستان میں خانہ جنگی کا نیوز چلا رہا ہے
    جھوٹ اور پروپیگنڈہ پھیلایا جارہا ہے ۔۔
    خدا کے لیئے چند سیکنڈز کے لیئے سوچیں اپنے بچوں کے مستقبل کا سوچیں ایسا نہ ہو شام کی طرح پورے پاکستان میں خانہ جنگی کو ہوا دی جائے ہم سب کا دشمن ایک ہے،
    اپنے پاک وطن میں دشمن کے پروپیگنڈہ کو ہوا مت دیں
    امن محبت کا درس دیں۔
    پاکستان زندہ باد
    اسلام زندہ باد
    ختم نبوتﷺزندہ
    پاک فوج زندہ باد
    آئی ایس آئی زندہ باد

  • خواتین کے ساتھ مردوں کا بھی کارخیر میں حصہ۔تحریر۔ راجہ ارشد

    خواتین کے ساتھ مردوں کا بھی کارخیر میں حصہ۔تحریر۔ راجہ ارشد

    عیدالضحیٰ مسلم کلینڈر کے آخری مہینے کی 10 ذی الحج کو منائی جاتی ہے۔ اس عید پر جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اسے عید قرباں کہا جاتا ہے۔ حُجاج قربانی کرنے کے بعد حج کے لیے پہنا گیا خصوصی لباس، احرام، اتار دیتے ہیں۔

    قربانی کا گوشت تین حصوں میں بانٹا جاتا ہے، جس میں سے ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں کے لیے اور تیسرا غریبوں کے لیے ہوتا ہے۔
    قربانی کے جانور کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر قسم کے جسمانی نقص سے پاک ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی تلاش میں ہوتا ہے صحت مند اور خوبصورت بکرے، بھیڑ، دمبے، اونٹ یا بیل ہی خریدے۔
    مالی استطاعت رکھنے والا ہر مسلمان اپنی طرف سے قربانی کر سکتا ہے۔ اور ایسے عید پر ایسے افراد اپنی پسند کے جانور خریدنے کے لیے مویشی منڈیوں کا رخ کرتے نظر آتے ہیں اور پھر اکثر واپسی قربانی کے اپنے پسندیدہ جانور کے ساتھ ہوتی ہے
    بڑے جانور کی قربانی میں سات افراد حصہ لے سکتے ہیں جبکہ چھوٹے جانور کی قربانی ہر شخص کو الگ الگ کرنی پڑتی ہے۔ تاہم ایسے اجتماعی قربانی کی رسم ایسی ہے کہ جس میں اب بکرے کی قربانی میں بھی حصہ مل جاتا ہے۔
    قربانی کے اہل جانور کا پتا اس کے دانت دیکھ کر بھی لگایا جاتا ہے۔ اگر اس کے دو بڑے دانت ہوں تو پھر اسے قربانی کے قابل سمجھا جاتا ہے ایسے جانور ’دوندا‘ بھی کہا جاتا ہے یعنی دو دانتوں والا۔
    جانور کو ذبح کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اسے کم سے کم اذیت پہنچے۔ عید پر جانور زیادہ ہونے کی وجہ سے جانور کو زبح کرنے میں مہارت رکھنے والوں کی طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ قربانی کے جانور کو زبح کرنے سے پہلے خوب کھلایا پلایا اور گھومایا پھرایا جاتا ہے۔
    عیدالاضحیٰ پر جہاں دنیا بھر کے مسلمان ایثار و قربانی کے جذبے سے سرشار ہو کر سنّت ابراہیمی ادا کرکے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں وہیں دوسری جانب گوشت کی تقسیم کے بعد مرحلہ آتا ہے مزے مزے کے چٹخارے دار پکوان کھانے اور بنانے کا۔

    قربانی کے گوشت سے مختلف اقسام کے چٹ پٹےکھانے بنانے کا رواج گھروں میں تو عام ہے جہاں خواتین کھانوں کی تیاری کیلئے کچن میں جُت جاتی ہیں مگر اب ہوٹلوں اورپکوانوں کی دکانوں سے بھی ذائقے دار کھانے آرڈر پرتیار کرنے کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

    عید الاضحٰی آ رہی ہے عید منائیں قربانی بھی کرئیں مگر یاد رکھیں کرونا کی چھوتھی لہر بھی آ رہی ہے حکومت کے بتائے ہوئے ایس او پس پے بھی عمل کریں

    پچھلے سال بھی عوام کو جس طرح سمجھایا گیا تھا اس کے برعکس عوام نے کام کیا اور کسی بھی طرح کسی بھی ایس او، پی پر عمل نہیں کیا ۔ عید کے بڑے بڑے اجتماعات کیے گئے، لوگوں نے خوب ڈٹ کر سماجی دوری کا ستیاناس کیا  اور خوب محفلیں جمائیں  کیونکہ عید قربان میں لوگ زیادہ پارٹیاں کرتے ہیں گوشت کی فراوانی ہوتی  ہے، یوٹیوب سے ریسیپیز لی جاتی ہیں اور خواتین کے ساتھ مرد حضرات بھی اس کارخیر میں حصہ ڈالتے ہیں ۔

    چھوٹی عید اگر روزوں کے بعد انعام ہے تو بڑی عید ہمیں ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے مگر اب یہ اسلامی تہوار ہماری اناؤں اور روئیوں کے باعث تہواروں کے موافق لگتے ہی نہیں ہیں ۔
    ہر شخص سیر سے سوا سیر بن گیا ہے کوئی بھی کسی مسئلے پر سر جھکانے کو تیار ہی نہیں ہوتا اور چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ رائی کا پہاڑ بن جاتا ہے ۔
    عیدوں پر جو خوشیاں ہوتیں تھیں اب وہ خاک ہوگئی ہیں ہر شخص اپنی خودنمائی اور خود پرستی کا شکار ہوگیا ہے انہیں دوسرا کوئی نظر ہی نہیں آتا۔
    اگر دیکھا جائے تو بڑی عید میں اصل قربانی باپ اور بیٹے کی گفتگو تھی۔اور دنبے کا ذبیحہ اس کا فدیہ تھا۔
    ہمیں دنبہ تو یاد رہا گفتگو یاد نہ رہی اس لیے ہماری عیدوں میں چاشنی نہیں رہی حالانکہ پہلے کی نسبت اب اچھے کپڑے اور جوتے پہنے جاتے ہیں مگر جس سے بھی پوچھا جائے وہ یہی کہتا ہے کہ عید کا مزہ نہیں رہا ۔

  • سوشل میڈیا کی رشتے داریاں.تحریر:عامر سہیل

    سوشل میڈیا کی رشتے داریاں.تحریر:عامر سہیل

    عام زندگی کے علاوہ یہاں سوشل میڈیا پر بھی کئی بد کردار ، آوارہ اور عیاش فطرت لوگ صرف لڑکیاں پھنسانے اور انکی معصومیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے آتے ہیں ، ان کا ایک خاص طریقہ کار ہوتا ہے ، جس پر عمل کر کے وہ لڑکی کو با آسانی شیشے میں اتار لیتے ہیں۔
    کبھی مذھب کا لبادہ اوڑھ کر خود کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی بہت میٹھا ، با اخلاق بن کر اعتماد جیتا جاتا ہے ، پھر انبکس شروع ہو جاتے ہیں ، فون نمبر مانگا جاتا ہے ، پھر تصاویر مانگی جاتی ہیں اور لڑکی کو یقین دلانے کیلئے الله اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جھوٹی قسمیں تک کھائی جاتی ہیں کہ صرف میں ہی دیکھوں گا اور کسی کو نہیں دکھاؤں گا۔
    اب جو لڑکی بیوقوف ہوتی ہے یا اپنے حالات کی ستائی ہوتی ہے وہ ان باتوں میں آ جاتی ہے اور ان بے غیرتوں کو ہمدرد سمجھ کر اپنے حالات شئیر کر لیتی ہے اور اعتبار کر کے اپنی تباہی کا سامان کر لیتی ہے۔

    اور پھرجب وہ لڑکی مکمل طور پر ان کے بس میں آ جاتی ہے تو ملاقات پر اصرار کیا جاتا ہے ، ملنے سے انکار پر لڑکی کے گھر والوں کو بتانے کی دھمکیاں دے کر اس لڑکی کو باہر بلا کر اس کی عزت کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے اور اس کی بھی ویڈیو اور تصاویر بنا لی جاتی ہیں جن کو مستقبل کی بلیک میلنگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، یعنی ایک شریف لڑکی کو جسم فروشی کی اس دلدل میں دھکیل دیا جاتا ہے ، جس سے وہ چاہ کر بھی نہیں نکل سکتی ، لڑکی صرف اس ڈر کی وجہ سے کہ کہیں گھر والوں کو پتا نہ چل جائے ، بس تڑپتی ہے اور اپنی قسمت کو کوستی ہے کہ کس لمحے اس سے یہ غلطی ہوئی اور ہر لمحے موت کی دعا مانگتی ہے۔
    لہٰذا میری بہنوں سوشل میڈیا پر کسی شخص کا اعتبار نہ کریں جو آپ سے محبت کے نام پر گفتگو کرتا ہو یا مذھب کا سہارا لے کر آپ کے قریب ہونے کی کوشش کر رہا ہو ، یہ بھی ممکن ہے وہ آپ کے ساتھ اور بہت سی لڑکیوں کو بیوقوف بنا رہا ہو اسلئے خود بھی بچیں اور اپنی دوستوں کو بھی بچائیں!
    براہ مہربانی سوشل میڈیا پر لڑکوں سے رشتے داریاں نہ بنائیں ، نہ ہی ان کو اپنے فوٹو وغیرہ دکھائیں ،
    ضرورت کیا ہے آخر ، خود کو نمائش کیلئے پیش کرنے کی ؟؟؟
    کیا آپ کو ہونے والے ان نقصانات کا اندازہ ہے جو کل آپ کی آنے والی زندگی تک تباہ کرسکتے ہیں ؟؟؟
    اپنی تصاویر اپنی فیملی کے لئے رکھیں سوشل میڈیا پر ان تصاویر کا بنا اجازت کاپی کر کے غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے اور آپ کو خبر تک نہیں ہوتی اور یہ چیز آپ کے لئے نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہے !! ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں لڑکیوں کی تصاویر یا ویڈیو بنائی گئی اور پھر انھیں بلیک میل کر کے غلط کام کرنے پر مجبور کیا گیا جس کے نتیجے میں کئی لڑکیوں نےخود کشی کر لی !.

    میری بہنو فرض کریں کہ
    اگر آپ ایسی ہی ایک لڑکی ہو جو ایسے کسی بے غیرت انسان کے ہتھے چڑھ گئی ہوں اور گھر والوں کے ڈر سے کسی کو بتا بھی نہیں سکتی کہ کیسے ان لوگوں یا حالات سے چھٹکارا پایا جائے ، تو میری بہنو ایک غلطی تو آپ سے ہوچکی ، جیسے بھی ہوئی مگر اب اس ڈر سے کہ گھر والے کیا کہیں گے ، آپ خاموش نہ رہیں پلیز ،اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے آپ اپنی امی ، بہن وغیرہ کو بتا کر ان سے مدد مانگیں ، ان کا غصہ وقتی ہوگا مگر ہوگا آپ ہی کی بھلائی میں ، اور آپ کو اس غلاظت سے نکلنے میں مدد دے گا اور آئندہ کیلئے ایک سبق بھی ۔ باقی معاف کرنے والی ذات اللہ پاک کی ہے وہ بہت مہربان اور معاف کرنے والا ہے !

    اب آخر میں !!!
    آوارہ اوباش لڑکوں اور مردوں کے لئے ایک پیغام !!!
    عورت مقدّس ہے اسکے تقدّس کو اپنے اعمال سے پامال مت کیجئے !
    یاد رکھیں!! کہ آپ آج جس طرح کسی اور کی بہن ، بیٹی کو ورغلا رہے ہو، اس کے ساتھ زنا کرنا چاھتے ہو کل کو یہی سب آپ کے گھر دہرایا جائے گا کیوں کہ دنیا مکافات عمل ہے ، کسی کی بیٹی کے تن سے چادر ہٹانے سے پہلے سوچنا کہ کل یہی کچھ آپ کی بہن بیٹی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہی نہیں بلکہ لازمی ہوگا !
    آج اگر آپ کسی کی بچی کی زندگی خراب کرو گے تو کل آپ کی اپنی بیٹی بھی اسی مقام پر کھڑی ہوگی اور آپ کے پاس سوائے سر پیٹنے کے کوئی چارہ نہ ہوگا۔
    اگر آپ اپنے لئے ایک نیک بیوی اور نیک بیٹی کی کی آرزو رکھتے ہو تو دوسروں کی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی عزت دینا سیکھو ، کیونکہ ؛؛؛
    قران پاک میں ہے:
    الخَبيثٰتُ لِلخَبيثينَ وَالخَبيثونَ لِلخَبيثٰتِ ۖ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبينَ وَالطَّيِّبونَ لِلطَّيِّبٰتِ ۚ ﴿٢٦﴾ سورة النور ۔
    (ترجمہ) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے ہیں۔
    اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیئے ہیں —

  • آزاد کشمیر کے  انتخابی دنگل میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا . تحریر: محمد جاوید

    آزاد کشمیر کے انتخابی دنگل میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا . تحریر: محمد جاوید

    آج کل الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا ہو یا سوشل میڈیا گلی چوراہوں ایک ہی بات پہ بحث ہورہی کہ آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں جیت کا سہرہ کس پارٹی کے سر سجے گا یہ تو 26 جولائی کو پتا چلے گا مگر اس وقت انتخابی دنگل کا معرکہ بہت زور وہ شور سے شروع ہو چکا ہے۔ بڑی پارٹیوں کو ٹکٹ کی تقسیم میں ہر حلقے میں مشکل کا سامنا ہے۔ سفارش، اقرباء پروری، مرکز کی پسند اور ناپسند، سینئر رہنماؤں کی دو دو حلقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نے پارٹیوں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ہر ایک حلقہ سے ہر جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مرکزی قیادت اور لیڈران کے ساتھ انتخابی مہم کا آغاز کر لیا ہے۔
    اب ایک نظر آزاد کشمیر پہ ڈالتے ہیں۔آزاد کشمیر ریاست جموں و کشمیر کا وہ حصہ ہے جو اس وقت پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ اس کا باقاعدہ نام ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے۔ یہ علاقہ 13،300 مربع کلومیٹر (5،135 مربع میل) پر پھیلا ہے۔ آزاد کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد ہے اور ریاست آزاد جموں و کشمیر کی آبادی اندازا 40 لاکھ ہے۔ آزاد کشمیر میں 10 اضلاع، 19 تحصیلیں اور 182 یونین کونسلیں ہیں۔ آزاد کشمیر کے اضلاع میں ضلع باغ، ضلع بھمبر، ضلع پونچھ، ضلع سدھنوتی، ضلع کوٹلی، ضلع مظفر آباد، ضلع میر پور، ضلع نیلم، ضلع حویلی اور ضلع ہٹیاں شامل ہیں۔
    آزادکشمیر کے 29 حلقوں میں 22 لاکھ 37 ہزار 58 ووٹ جبکہ مہاجرین کے 12 حلقوں کیلئے 4 لاکھ 44 ہزار 634 ووٹ ہے ،گو کہ یہ انتخابات پاکستان کے حالات یا آزاد خطے کے تقدیر بدلنے کے لئے اتنے اہم نہیں ہوتے لیکن کشمیر میں انتخابات کا موسم آتے ہی ہر گھر ، بازار ، چوراہے اور گلی کوچوں میں سیاست پر بحث کی جاتی ہے۔

    ووٹ کا فیصلہ برادری کا سربراہ کرتا ہے۔ بڑی برادریاں الیکشن میں اپنا نمائندہ منتخب کراتی ہیں جبکہ چھوٹی برادریوں کو اپنی بقاء کے لئے ان کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ جو برادری یا فرد بڑی برادریوں سے ٹکرانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو داستان عبرت بنادیا جاتا ہے آزاد کشمیر کے انتخابات کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو ہر دور میں یہ انتخابات خونی تصادم کی شکل اختیار کرتے رہے ہیں۔ برادریاں اپنی گردن بلند رکھنے کے لئے باقی برادریوں کی گردنیں اتارنے سے گریز نہیں کرتیں۔جیت ایک سیاسی جماعت یا ایک برادری کی ہوتی ہے مگر شکست انسانیت کی ہوتی ہے۔ ایک نشست کی خاطر عزتوں کی پامالی ہوتی ہے، تعلقات اور دوستیوں کی قربانیاں دی جاتی ہیں۔
    موجودہ الیکشن میں بھی تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا۔ مگر بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا کہ کسی بھی سیاسی پارٹی نے کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد کو کوئی بہتر طریقے سے اپنے منشور میں شامل نہیں کیا ۔ایسا لگتا ہے جیسے کشمیری شہدا کے خون کے ساتھ غداری کی جا رہی ہے اور معصوم کشمیریوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔

    آزاد کشمیر میں انتخابی مہم اس وقت غیرریاستی یعنی پاکستانی سیاسی پارٹیوں کے بڑے لیڈر چلا رہے ہیں۔ مقامی قیادت بڑی حد تک پس منظر میں چلی گئی ہے۔ پاکستانی لیڈرز اپنی انتخابی تقریروں میں بالعموم وہی زہر اگل رہے ہیں جو پاکستان میں ان کا خاصہ ہے یعنی گالم گلوچ، دشنام طرازی، الزامات اور بہتان، جوش خطابت میں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں، اسے ابھی پاکستان کا حصہ بننا ہے۔ 
    کہیں کشمیر سے تعلق ظاہر کرنے کے لئے فوٹو شاپ کی مدد لی جارہی ہے تو کہیں پہ وہی نعرہ روٹی کپڑا مکان تو کہیں اس تبدیلی کی رٹ لگائی جارہی ہے جو مجھ سمیت بہت سے پاکستانی امید لگائیں بیٹھں ہیں اب دیکھنا یہ ہے کشمیر کے لوگ کس پارٹی کے سر پہ اقدار کا تاج سجاتے ہیں یہ فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

  • افغان جنگ اور پاکستان . تحریر:حسان خان

    افغان جنگ اور پاکستان . تحریر:حسان خان

    آجکل ٹیلی ویژن ہو یا اخبار یا پھر انٹرنیٹ پر گردش کرتی تصاویر اور ویڈیوز ہر جگہ افغانستان میں طالبان کی بڑھتی فتوحات اور افغانستان سے امریکی انخلاء کا ہی ذکر سننے کو ملتا ہے۔ بلاشبہ افغانستان خطے کا اہم ملک ہے اور وہاں وقوع پذیر ہونے والے واقعات خطے کے دیگرممالک پر اپنے اثرات چھوڑ جاتے ہیں مگر افغانستان اور افغان جنگ پاکستان کے لیے بہت اہم کیوں ہے ؟؟ کیوں ہر دوسرا پاکستانی افغان جنگ پر بات کر رہا ہوتا ہے ؟؟ آج ہم جانیں گے افغانستان کی سیاسی تاریخ اور اس میں پاکستان کا کردار اور اس افغان جنگ نے پاکستان پر کیا کیا اثرات ڈالے
    افغانستان میں 1973 تک بادشاہت کا نظام رائج رہا مگر 1973 میں بادشاہ کے چچازاد داود خان نے بادشاہ کو معزول کر دیا اور بادشاہت کو ختم کر کے افغانستان میں جمہوری نطام نافظ کر دیا اور خود افغانستان کے پہلے صدر بن بیٹھے۔ انکا دورِ صدارت زیادہ طویل نہ ہو سکا اور 1978 میں کمیونسٹ جماعت پی ڈی پی اے نے انکے خلاف بغاوت کر دی اس بغاوت میں داود خان مار دیے گئے۔ سویت یونین کی حمایت یافتہ کمیونسٹ جماعت بھی زیادہ دیر تک سکون سے حکومت نہ کر سکی اور انکے لیڈروں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آ گئے
    اختلافات اس قدر شدید تھے کہ داود خان کے بعد صدارت سنبھالنے والے نور محمد ترکئی کو انکے اپنے وزیرخارجہ حفیظ اللہ امین نے پہلے معزول اور پھر قتل کروا دیا اور خود صدارت کی کرسی پر جا بیٹھے۔ حفیظ اللہ امین اور انکی جماعت تھی تو کمیونسٹ نظریات کی حامل مگر حفیظ اللہ امین نے امریکہ کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات رکھنے کی کوششیں شروع کر دیں اور انہی بوجوہات کی بناء پر 1979 میں سویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کر دی۔ پہلے مرحلے میں سویت یونین کے خفیہ اہلکار فضائی راستے سے افغانستان پہنچے اور پھر افغان فورسز کی وردی میں صدارتی محل میں داخل ہوکر صدر حفیظ اللہ امین کو قتل کر کے افغان حکومت گرا دی اور اپنی پسند کے ببرک کرمل کو صدر کی کرسی پر بٹھا دیا
    دوسرے مرحلے میں سویت یونین سے مزید دو ڈویژن فوج افغانستان پہنچی تاکہ نئی حکومت کو رٹ قائم کرنے میں مدد دی جا سکے
    افغانستان میں طاقت کے بگڑتت توازن اور سویت یونین کی دراندازی پر افغانستان کے اندر اور باہر شدید ردعمل آیا۔ حریت پسند افغان عوام نے روسی کٹھ پتلی حکومت کو مسترد کر دیا ساتھ ہی حکومت اور غیر ملکی افواج کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا

    امریکہ ، پاکستان ، ایران اور سعودیہ عرب نے مجاہدین کی بھرپور مدد کا اعلان کر دیا اور انہی دنوں سے پاکستان کا افغانستان میں کردار شروع ہوتا ہے۔ پاکستان چوکہ افغانستان کا ہمسایہ ملک ہے اس وجہ سے افغان مجاہدین کی معاونت اور انکی تربیت کی تمام ذمہ داری پاکستان کے سپرد کی گئی جبکہ اسکے اخراجات امریکہ اور سعودیہ برداشت کرتا رہا۔ افغان جنگ میں پاکستان کے شامل ہو جانے سے پاکستان میں "کلاشنکوف کلچر” عام ہو گیا غیر قانونی ہتھیار آسانی سے ملنے لگے جبکہ منشیات کی لعنت بھی اسی دور میں پاکستان میں عام ہوئی۔ اسکے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کی پاکستان آمد ہوئی جسکی وجہ سے پاکستان کو اندرونی سکیورٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑنا۔ امریکہ ، پاکستان اور سعودیہ کی مدد سے مجاہدین روس کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے اور شکست خوردہ روس بلآخر 1989 میں اپنے جنگی آلات وہیں چھوڑ کر الٹے پاوں بھاگنے پر مجبور ہو گیا

    روس چلا گیا پیچھے وسیع اسلحے کے ڈھیر چھوڑ گیا ساتھ ہی مجاہدین نے بھی خود کو منظم کیا اور بلآخر 1996 میں کابل پر قبضہ کر کے افغانستان میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ پاکستان نے اس حکومت کو تسلیم کر کے انکے ساتھ تعاون جاری رکھا اور افغانستان کے اندرونی معاملات سے سائڈ پر ہو گیا۔ پاکستان کو زیادی دیر سکون میسر نہ آئا اور 2001ء میں روس سے سبق سیکھے بغیر امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اس موقع پر امریکہ کو دوبارہ اپنا پرانا دوست پاکستان یاد آ گیا گیا اور پاکستان ایک بار پھر افغان جنگ کا فریق بن کر جنگ کی چکی میں پِسنے لگا۔ اب کی بار افغان جنگ پاکستان پر سب سے بھاری رہی "تحریک طالبان پاکستان” کے نام سے ریاست مخالف تنظیم وجود میں آ گئی جس نے پاک فوج اور عام عوام پر حملے شروع کر دیے۔ خودکش حملوں کے اُس دور نے پاکستان کو دیائیوں پیچھے دھکیل دیا بیرونی سرمایہ کاری رک گئی ، پوری دنیا کے سامنے پاکستان کا چہرہ داغدار ہو گیا اور پاکستان کا شمار دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں ہونے لگا۔ افغان جنگ میں حصہ لینے کی پاداش میں پاکستان کو 83000 جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ معیشت کو 126 ارب ڈالر کا جھٹکا لگا اس سب کے باوجود پاکستان کو ہمیشہ Do More سننے کو ملا کبھی پاکستان کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔۔

    روس امریکہ کیلئے بھی افغانستان ڈراونا خواب ثابت ہوا۔ روس کو جان چھڑانے میں دس سال جبکہ امریکہ کو بیس سال لگے اور اب 2021 میں امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں یوں دونوں ہی ناکام و نامراد اس خطے سے چلے گئے
    روس اور امریکہ کی ان جنگوں نے افغانستان اور پاکستان کو تباہ کر دیا ساری دنیا سے پولیو ختم ہو گیا مگر ان دو ممالک میں اب بھی موجود ہیں، ان دو ممالک کا پاسپورٹ اب بھی دنیا کے بدترین پاسپورٹوں میں شمار ہوتا ہے جبکہ دونوں ممالک کی عوام میں بھی نفرت کی خلیج پائی جاتی ہے
    افغانستان میں طالبان اب پھر سے زور پکڑ رہے ہیں پورے ملک میں انکا غلبہ ہوتا جا رہا ہے اب پاکستان کو چاہیے ممکنہ طالبان حکومت سے بس اتنے ہی تعلقات رکھے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو سکے اسکے علاوہ خود کو افغانستان اور انکے معاملات سے دور رکھے تاکہ دیرپا امن ممکن ہو سکے
    پاکستان زندہ آباد

  • رِستے ناسور”.تحریر:محمّد اسحاق بیگ

    رِستے ناسور”.تحریر:محمّد اسحاق بیگ

    ایک لڑکی کی عمر انتیس سال ہے. ایک بیٹی کی ماں ہے. بائیس سال کی عمر میں شادی اور چوبیس سال کی عمر میں بیوہ ہوئی. معاشی طور پہ آسودہ ہے. شوہر کا ترکے بھی ملا ہے اور میکہ بھی خوشحال ہے. والدہ بیمار رہتی ہیں. اس لیے گھر کی ساری زمہ داری اس پہ ہے. شادی شدہ بہنوں کی ڈیلوریز نمٹانا، اسپتال میں ان کے ساتھ رہنا اور ان کے سسرال والوں کے ناز نخرے اٹھانا اب اسی کی زمہ داری ہے. ان پانچ سالوں میں اس کے گھر والوں نے اس کی شادی کے بارے میں کبھی نہیں سوچا. سوشل میڈیا پہ ہی اس کی ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی. لڑکا چونتیس سال کا ہے. لڑکے کی تین چھوٹی بہنیں ہیں. تینوں غیر شادی شدہ ہیں. ماں نے صاف کہہ دیا ہے کہ جب تک تینوں بہنوں کی شادیاں نہیں ہوجاتیں، وہ اپنی شادی کا سوچے بھی نا.

    یہ دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں. لڑکا اسے بیٹی کے ساتھ قبول کرنے کے لیے تیار ہے. لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ شادی کے بعد اپنے شوہر پہ معاشی بوجھ نہیں ڈالے گی. مرحوم شوہر کے ترکے سے اپنا اور اپنے بچے کا خرچہ بآسانی اٹھا لے گی. لیکن لڑکے کی والدہ ایک لفظ سننے کے لیے تیار نہیں ہیں. ادھر لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اب اسے شادی کی کیا ضرورت ہے. جو خوشی اس کے نصیب میں تھی مل چکی. اب اسے اپنی زندگی بیٹی کی پرورش، والدین کی خدمت اور بہن بھائیوں کی ٹہل سیوہ میں گزارنی چاہیے.

    کچھ ماہ پہلے اس نے مجھے کہا ہے کہ ہم خفیہ نکاح کر رہے ہیں کیونکہ ہمارے والدین ہماری شادی نہیں کریں گے. مجھے کہتی ہے آپا بیوہ، مطلقہ یا بڑی عمر کی غیر شادی شدہ بیٹی ہمارے ہاں سب سے سستی ہاؤس کیپر، نرس اور کک ہے. اپنے منہ سے شادی کا کہنے والی بے غیرت اور بے حیا ہے. صرف ایک سوال. انہیں یہ قدم اٹھانے کے لیے کس نے مجبور کیا؟ کیا اس لڑکی اور لڑکے کا مطالبہ غلط ہے؟ یہ تو فطرتاً صالح ہیں جو نکاح کرنا چاہتے ہیں ورنہ کیا وہ بے راہ رو نہیں ہوسکتے؟ ان کی فطری خواہش کا گلہ گھونٹنے کا حق ان کے والدین کو کس نے دیا؟؟

    ایک لڑکی ہے. اس کی شادی کی عمر نکلی جا رہی ہے. اس کا کزن جو اس کا ہم عمر ہے پانچ سال سے اس کا رشتہ مانگ رہا ہے. والدین تیار نہیں. وہ اس کے پھوپھی زاد سے اس کی دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں جو اس سے پندرہ سال بڑا ہے اور چار بچوں کا باپ ہے. صرف اس لیے کہ وہ مالدار ہے. لڑکی کے باپ نے اس سے صاف کہہ دیا ہے کہ چاہے وہ ساری زندگی گھر بیٹھی رہے، وہ اس کی شادی اس کی پسند سے نہیں کریں گے. اس لڑکی نے مجھ سے کہا ہے کہ آپا بروزِ حشر میرا ہاتھ ہوگا اور میرے والدین کا گریبان. میں آگے سے چپ رہی. کیا جواب دیتی.

    ایک لڑکا ہے بتیس سال کا. سات سال پہلے خاندان میں منگنی ہوچکی ہے. ملک سے باہر کما کما کر اپنی دو بہنوں کی شادی کر چکا ہے. مکان بھی بنا لیا ہے. ہر ماہ ایک معقول رقم بھی بھیجتا ہے. اس سال شادی کا ارادہ تھا. والدہ نے کہا کہ آتے وقت دلہن کے زیورات لیتے آنا. لڑکے کا کہنا ہے کہ اس کی اتنی گنجائش نہیں کہ شادی کے خرچے کے ساتھ زیورات بھی خریدے. اس پہ والدہ محترمہ نے فرمایا تو پھر ایک سال لیٹ کرتے ہیں کیونکہ انہیں شریکے میں منہ بھی دکھانا ہے اور بری کے زیورات کے بغیر بہو لا کر وہ اپنے خاندان کی عورتوں کے سامنے ناک نہیں کٹوا سکتیں. لڑکی بغیر زیورات کے بھی رخصت ہونے کے لیے تیار ہے لیکن اس کی ہمت نہیں کہ کسی کو کچھ کہہ سکے. وہ بس اپنے منگیتر کے سامنے رو ہی سکتی ہے، جو وہ پوری دلجمعی سے کر رہی ہے. لڑکے کے زیادہ زور دینے پہ اسے والدین کی طرف سے بیغیرت، بے حیا اور بے شرم کے خطابات مل چکے ہیں.

    اور ہم کہتے ہیں کہ معاشرے میں دن بدن بڑھتی بے راہ روی، اخلاقی تنزلی کی وجہ آج کی نوجوان نسل ہے. موبائل فون اور سوشل میڈیا ہے.
    تھوڑا نہیں پورا سوچیے.

    محمّد اسحاق بیگ

    @Ishaqbaig___

  • سادگی سے شادی زندگی میں آسانی.تحریر: شاہدہ بانو

    سادگی سے شادی زندگی میں آسانی.تحریر: شاہدہ بانو

    شادی دو انسانوں کے درمیان ایک پیار محبت کا ایک ایسا رشتہ ہے جس کو جوڑنے کے لیے نکاح جیسا پیارا عمل رکھا گیا ہے
    نکاح سنت انبیاء کرام ہے
    سنت کے مطابق شادی کرنے سے زندگی میں برکت آتی ہے
    نئے جوڑے نئے رشتے کے دل میں اطمنان اور پیار کا رشتہ بڑھتا ہے
    آج کل کے دور میں ہم لوگوں نے شادی کو اٹھا مشکل کر دیا کہ عام انسان کی پہنچ سے تو کہیں دور نکل چکی ہے شادی
    لڑکیاں جہیز نا ہونے کی وجہ سے گھروں میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں
    جب کہ اسلام میں صرف نکاح اور حسب استطاعت ولیمہ پے بس
    نا جہیز کا تصور ہے
    نا اور کوئی رسم ہے
    صرف نکاح وہ بھی مسجد میں کریں تاکہ عام عوام تک نکاح کا پیغام پہنچ جائے
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس نکاح میں سب سے زیادہ برکت ہوتی ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو
    إن اعظم النکاح برکة أیسرہ موٴنة
    (مسند احمد رقم: ۲۴۵۲۵) 

    شادی سادگی سے کی جائے جس جگہ رشتہ پسند آئے تو لڑکا یا لڑکی کا ولی اور سرپرست پیغامِ نکاح دیدے، جب منظور ہوجائے تو بلا کسی رسم ورواج کے کوئی دن مثلاًجمعہ کا روز مقرر کرلیا جائے، اس دن لڑکا اپنے والد اور ایک دو معزز افراد کے ساتھ لڑکی کے یہاں چلا جائے، وہاں کسی مسجد میں سب لوگ نماز ادا کریں، اور اس مسجد میں لڑکی کا ولی بھی لڑکی سے اجازت لے کر آجائے، بعد نماز تھوڑی دیر فریقین اور حاضرین مسجد میں بیٹھ جائیں ، پھر مسجد کا امام یا کوئی اہل فرد خطبہ پڑھ کر لڑکی کے ولی (یا وکیل) کی اجازت سے لڑکے کے سامنے ایجاب کرے، لڑکا قبول کرلے پھر مختصر دعا کرائے، بس نکاح ہوگیا، اس کے بعد لڑکی والے دلہن کو رخصت کرادیں، اگر اس موقع پر لڑکا اور اس کے ساتھ آنے والے دوچار افراد کو لڑکی والے کھانا کھلادیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ جب لڑکی رخصت ہوکر سسرال چلی آئے تو شبِ زفاف کے بعد لڑکا ولیمہ مسنون کردے، جس میں حسب حیثیت اعزہ واقارب نیز غرباء مساکین کو مدعو کرکے کھانا کھلادے۔

     آج کل شادی اور منگنی کے نام پر جو رسمیں کی جاتی ہیں، ان کا ترک ضروری ہے، نیز مروجہ بارات بھی واجب الترک ہے، شادی کی محفل میں تصویر کشی اور ویڈیو گرافی کی جو وباء پھیلی ہوئی ہے وہ تو قطعا ناجائز ہے، ان سے احتراز ضروری ہے۔

    آئیں سب سے پہلے اپنے گھروں سے ان غیر شرعی رسومات کا خاتمہ کریں پھر عام عوام تک آواز پہنچائیں

  • مختصر تاریخ قلعہ چلاس۔ تحریر:روشن دین دیامری

    مختصر تاریخ قلعہ چلاس۔ تحریر:روشن دین دیامری

    چلاس دیامر استور ڈویژن کا دارالخلافہ ہے یہاں کی ابادی تقریبا ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہیں ۔چلاس میں قراقرم یونیورسٹی کا ایک سب کمپس ایک لڑکوں کے ڈگری کالج ایک خواتین کی کالج کے علاوہ تین لڑکوں کے اور ایک لڑکیوں کی ہائی سکول ہے۔ آج ہم قلعہ چلاس پہ بات کرتے ہیں ۔یہ قلعہ چلاس کے مرکزی بازار میں موجود ہے اج کل یہ قلعہ پولیس کے ذیر استمال ہے۔

    1852 کو مہاراجہ گلاب سنگھ نے کرنل لوچن سنگھ کو چلاس میں تعنات کیا ۔یہ فوجی دستہ چلاس پہنچا تو چلاس کے لوگ اس قلعہ کے اندر گھس گٸے،اس قلعہ پر باہر سے حملہ کرنا بہت مشکل تھا۔یہ قعلہ چلاس کی ایک ایسی جگہ پر بنایا گیا جہاں سے پوری چلاس نشانے پہ ہے۔لیکن فوج ڈوگرہ نے اس کا محاصرہ کرلیا اور مورچے تیار کرکے لڑاٸی شروع کردی،محاصرین نے بڑی بہادری سے مقابلہ کرلیا،قلعے کی فصیل سے پتھرو اور گولیوں کی ایسی بارش کردی ڈوگرہ فوج کو قلعہ تک پہنچنے تک بڑی سختی اُٹھانی پڑی اس لڑاٸی میں ڈوگرہ فوج کی ڈیڈھ ہزار سپاہی مجروح و مقتول ہوٸے،آخر کوٸی راستہ نہی ملا تو ڈوگرہ فوج نے اندر موجود پانی کے ہوز کو نقب کے زریعہ خالی کیا لیکن اندر موجود بہادر لوگوں نے تین دن تک پانی کی پرواہ نہی کی،اور روغن پیتے رہے بلا آخر پیاس کی وجہ مجبور ہوکر قلعہ کا دروازہ کھول کر بھاگنے لگے،کافی لوگ اس معرکہ میں شہید ہوٸے بعض کو قیدی بنادیاگیا،اور قلعہ کو آگ لگا کر فنا کر دیا کیا گیا۔

    1892 کو جو ریاست کشمیر کا یہاں عہدیدار تعنات تھا چلاس کے لوگوں نے اُس کو بھگا دیا جو کندھے پر گولی کھاکر گلگت پہنچ گیا۔اور نومبر 1892 کو ڈاکٹر رابٹسن پھر سے چلاس پر حملہ آور ہوکر چلاس کو فتح کیا اور حکومت قاٸم کیا گیا،کافی عرصہ ڈوگرہ حکومت چلنے کے بعد 1893.94کو اس قلعہ کو دوبارہ جدید طریقے سے تعمیر کیا گیا۔اور اس میں باقاعدہ ڈوگرہ فوج تعنات کردی،اور 1935 میں روسی فوج کی خطرے کی پیش نظر برٹش گورنمنٹ نے گلگت کے محلقہ علاقہ جات اور چلاس کا انتظام براہ راست اپنے ہاتھ میں لیکر گلگت میں پولیٹیکل ایجنٹ اور چلاس میں ایسسٹنٹ ایجنٹ مقرر کٸے اور اس کی مدد کیلٸے گلگت سکاوٹس فورس کا قیام عمل میں لاٸی،اور یہ ڈوگرہ فوج کی جگہ تعینات رہی، یہ قلعہ سکاوٹس کا ملکیت تصور ہونے لگا،اور 1971 کے جنگ کے بعد سکاوٹس کو عملی جامہ دیا گیا،اور سکاوٹس کو این ایل ای کا نام دیکر 1974 کو بونجی منتقل کیا گیا۔اور یہ قلعہ خالی ہوا تو پولیس محکمے کی درخواست پر فروخت کیا جس کی قیمت 3لاکھ گیارہ ہزار روپے رہی اور آج یہ قلعہ دیامر پولیس لاٸن کے شکل میں موجود ہے۔

    اگر اس قلعہ کو پولیس سے خالی کروا کے محکہ ٹوریزم کے حوالےکیا جائے تو اس سے ایک بہترین سیاحتی مقام بنایا جا سکتا ہے۔ ہمارے بارہا کوشش رہی ہے کہ اس تاریخی ورثہ کو پولیس کے محکمہ سے اٹھا کے عوام کے لے اوپن کیا جائے تاکہ التت بلتت فورٹ ہنزہ کے طرح اس کو بھی سیاحت کے لے لے استمال کیا جائے اور اس حاصل ہونے والے امدن سے علاقے کے ترقی کے استمال کیا جاسکے گا۔