Baaghi TV

Category: بلاگ

  • صحافت اور تحقیق ۔ تحریر:روشن دین دیامری

    صحافت اور تحقیق ۔ تحریر:روشن دین دیامری

    کہتے ہیں پاکستان میں جس کو کوئی کام نہیں اتا وہ صحافت شروع کرتا ہے۔ اور اجکل تو سوشل میڈیا نے طوفان برپا کر دیا ہے۔ میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے جہاں روز کوئی نہ کوئی ایسا حدثہ پیش اتا ہے جس پہ انٹرنشنل میڈیا سے لیکر لوکل میڈیا کا توجہ بن جاتا ہے۔ میرے عادت ہے صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے موبائیل دیکھ لیتا ہوں شاید اج کے دور میں ہر کوئی ایسا ہی کرتا ہو۔ فیس بک وٹس اپ ٹویٹر پہ اکثر ان ہونے کی وجہ سے مختلف لوگوں سے رابطہ رہتا تو اج جب صبح اٹھا تو دیکھا ایک طوفان پرپا تھا کوہستان میں دھماکہ ہوا ۔ہر طرف فیس بک ٹویٹر وٹسپ ۔کچھ دوستوں کے کالز بھی تھی جو میڈیا سے ہیں ۔

    میرا تعلق گلگت بلتستان سے ہونے کی وجہ سے اکثر احباب رابط کر کے راے لتے ہیں یا ہوچھ لیتے ہیں ۔خیر جب میرے پہلے نظر پڑھی کے کوہستان میں چائیز بس پہ حملہ ہوا دس بندے ہلاک اور انتالیس ذخمی میں تو میں بسترے سے اٹھ کے بیٹھ گیا۔ میں اپنے علاقے کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہوں اس کا جواب اپ کو میرے ٹویٹر وال سے ملے گا میں تقریباً ہر خبر پہ نظر رکھتا ۔باوجو کے میں ایک سائنیس کے طالب علم ہونے کے شوق سے صحافت کرتا ہوں لیکن صحافت کو عبادت سمجھ کے۔ خیر پہلے اس خبر کے طرف اتے ہیں جس کے وجی سے میں چونک کے بٹھ گیا تھا میں فیس بک اور ٹویٹر پہ کچھ مخلص دوستوں کے وال دیکھا وہاں بھی کوئی خاطر خواہ انفارمیشن نہیں تھی ۔میری عادت ہے میں تحقیق کے بغیر خبر نہیں لکھتا ۔میں سب سے پہلے کوہستان میں ہمارے دوست سجمل یادون کو کال ۔ ملایا پوچھا سنا ہے کوئی بلاسٹ ہوا ہے وہ عین وقت ہسپتال میں تھے ان کا کہنا تھا چائنیز گاڑی میں بلاسٹ ہوا ۔اب یہ دھماکہ ہے سلینڈر پھٹہ ہے فل وقت کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کسی قسم کی کوئی کنفرمیشن افیشلز کے طرف سے نہیں ائی ۔

    جب ڈی سی کوہستان سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا اب تحقیقات جاری ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔ یہ تھا اس وقت تک اصل صورت حال دوسرے طرف سوشل میڈیا پہ طوفان پرپا تھا بغیر تحقیق کے ہر کوئی اس حدثے دھماکہ بنا کے پیش کر رہا تھا ۔(اور ہاں یاد رہے گزشتہ رات کوہستان پٹن کے مقام پہ نیئٹکو کے ایک بس لینڈ سلائیڈ کے ضد میں ائی تھی جس کے وجہ سے پانچ افرا شہید ہوے تھے )۔ان میں اکثریت کاپی پیسٹ والی لوگ تھی جن کو خبر کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہوتے ان میں اکثر نیوز لینک پہ اس نئٹکو بس کے تصویر چسپاں تھی کچھ نے جنوبی پنجاب کے ایک جدثے کی تصاویر تک تک چسپاں کی تھی یہ لوگ بس کسی کے وال سے خبر اٹھاتے اور چپکا دیتے ہیں۔ اج کے اس حدثہ جس کا ابھی تک افیشل کوئی اطلاع نہیں کے دھماکے کی وجہ کیا ہے اس پہ لوگوں کے اس اس قدر غلط خبروں سے ملک کو جو نقصان ہوا ہوگا وہ شاید ہمارے سوچ سے باہر ہے۔

    ایک مممولی خبر سے ایک ملک کا امیج ذیرو ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں صحافت کے نام پہ کاپی پیسٹ چل رہا تحقیقی صحافت پاکستان میں ناہونے کے برابر ہے۔ اس تمام تر صورت حال میں حکومت وقت کچھ اصول بنانے چاے۔ ازادی اظہار رائے سب کا حق ہے لیکن جو انسان بھی خبر دے وہ ذمدار ہوگا وہ جھوٹ پہ مبنی خبر دینے کی صورت اس کی صافتی ممبر شپ معطل کردیا جاے ۔ جس بھی میڈیا گروپس کے جو بھی صحافی ہیں ان کو صحافت کی تربیت دی جاے ان کو ہر شعبے کے حواے سے ان کلاسسز ورک شاپ میں تربیت دیا جاے۔ سوشل میڈیا کے حوالے کوئی پالیسی وضع کی جائے

  • غریبی محبت کا دشمن ہے .تحریر: محمد اصغر بلوچ

    غریبی محبت کا دشمن ہے .تحریر: محمد اصغر بلوچ

    غریبی محبت کا دشمن ہے .تحریر: محمد اصغر بلوچ
    لوگ کہتے ہیں غربت میں تو اپنے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں تم غیروں کی بات کرتے ہو
    ایسی ہی کہانی کچھ میری کسی سے محبت کرنا اور اسکی عادت پڑ جانا اور جب وہی ساتھ چھوڑ جائے تو انسان ذہنی مریض بن جاتا ہے
    عرصہ ہونے کو ہے لیکن وہ شخص میرے ذہن میرے خیالوں سے جاتا ہی نہیں،
    مان لیا جائے کہ اسکی بھی مجبوریاں ہوتی ہیں لیکن جس شخص نے مجھے اتنا چینج کیا اسکی ہر بات ماں باپ کی طرح مانی لیکن اسے ایسی کیا مجبوری پیش آئی کہ وہ چھوڑ گیا یہ سوال ہر وقت میرے ذہن میں ہے

    اسکی باتوں اور اسکے خیالوں سے میں ایک اندازہ لگا چکا کہ میری غریبی میری محبت کی قاتل نکلی
    خدارا کسی سے محبت کرنا ہے تو اسے راستہ میں مت چھوڑو وہ درمیان راستے میں نہ مر سکتا ہے نہ جی سکتا ہے
    آخر میں فراز کا ایک شاعر یاد آیا کہ
    محبت کرنا ہے تو خدا سے کرو
    ان مٹی کھلونوں میں وفا نہیں ملتی

  • ایک دنیا اور ایک انسان، تحریر:میاں بخش علی پیرزادہ

    ایک دنیا اور ایک انسان، تحریر:میاں بخش علی پیرزادہ

    دنیا کی اس مختصر سی اور دھوکے والی زندگی کے بعد نا ختم ہونے والی زندگی ہمارا انتظار کر رہی ہے اور ہم سب نے جان بوجھ کر اپنے بچوں کی آخرت بھلا کر دنیا میں انکو مصنوعی کامیابی کے پیچھے لگا رکھا ہے جبکہ اصل کامیابی تو موت کے بعد کی ہے جس کے لیئے ہماری کسی قسم کی کوئی تیاری نہیں … آپ آکسفورڈ یونیورسٹی سے پڑھیں یا ہاورڈ سے آپ سے سوال تعلیمی ڈگریوں کا نہیں بلکہ اچھے اور برے اعمال کے حوالے سے ہوگا .. آپ دنیا کی تعلیم ضرور حاصل کریں بلکہ خوب حاصل کریں کوئی ممانعت نہیں مگر یہ سب الله تعالیٰ اور نبی پاک صلى الله عليه وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر چل کر ہو تو کامیابی کا ضامن ہوسکتی ہے … تب دنیا میں بھی مزے کریں اور آخرت میں بھی کامیاب ہوجائیں … مگر یہاں کچھ لوگ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا حوالہ دیکر دین دار طبقوں کا مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں حالانکہ وہ خود اپنا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں اور سخت خسارے میں رہتے ہیں …

    مجھے الله تعالیٰ نے صرف نو سال کی کم عمری میں عالمی شہرت کے میڈلز پہنائے ، پڑھائی لکھائی اور ذہانت میں کمال درجہ عطا کیا مگر یہ زندگی چونکہ جلد ختم ہوجائے گی اور اگلی منزل پر مجھے روک کا پوچھا جائے گا کہ ہم نے آپکو زندگی دی تھی وہ کن چیزوں میں اور کس جگہ صرف کی تو سوچیئے کہ ہمارے پاس کیا جواب ہوگا یہ وہ وقت ہوگا جب انسان حسرت کریگا کہ ایک بار الله دنیا میں دوبارہ بھیج دیں تو وہ اپنی پوری کی پوری زندگی سجدے میں گزار دیں لیکن افسوس کہ یہ موقع انسان کو دوبارہ نہیں ملے گا. میرے بھائیوں اس بڑی ناکامی کے خوف نے مجھ سے میری دنیا کی مختصر سی زندگی کی شہرت بھلا رکھی ہے اور میں اس کوشش میں ہوں کہ کیسے اپنی قوم کے بچوں کو صراط مستقیم پر لاکر بچاؤں … کسے ان بچوں کی خوب صورت تربیت کروں کہ جس سے نا صرف وہ پاکستان اور امت مسلمہ کے لیئے کارآمد ثابت ہوسکیں بلکہ الله اور نبی پاک صلى الله عليه وسلم بھی خوش ہو جائیں.اس دنیا کی شہرت دولت اور پروٹوکول سب ختم ہونے والا ہے یہ وہ جالا ہے جس میں شیطان انسان کو پھنسا کر ناکام بنانا چاہتا ہے . میری تقریریں اب بھی چل رہی ہیں میری دنیاوی انگریزی تعلیم اب بھی جاری و ساری ہے بس پہلے اور اب میں صرف اتنا فرق آیا ہے کہ اب میں کچھ بھی کام کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھتا ہوں کہ میرے نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ کیا تھا . میرے الله نے مجھے زندگی گزارنے کے لیئے جو قرآن بھیجا ہے وہ میری زندگی کے حوالے سے کیا کہتا ہے. بس اتنی سی بات سے ہم دین کو سخت جان کر اس سے اس لیئے بھاگ رہے ہیں کہ لوگ کہیں گے کہ بندا مولوی بن گیا ہے . جو تضحیک ہم لوگ آج کل علما کی کر رہے ہیں وہ بھی ہماری ناسمجھی ہی ہے کیونکہ جس معاشرے میں لوگوں کے دلوں میں دین کی اہمیت اور قدر نہیں ہوگی تو وہاں کے علما کے ساتھ پھر یہی رویہ برتا جاتا ہے … میرے بھائیوں یہ دین صرف مولویوں کے لیئے نہیں آیا دین ایک طرز زندگی ہے ایک ترتیب ہے جو ہم سب کے لیئے چودہ سو سال پہلے پیش کیا گیا … آپ کے انگریزی سکول تو ابھی بنے ہیں جبکہ دین کا معاملہ تو صدیوں پرانا ہے …

  • کشمیر اور بھارتی جارحیت . تحریر:نواب فیصل اعوان

    کشمیر اور بھارتی جارحیت . تحریر:نواب فیصل اعوان

    جب سے بھارت نے کشمیر کی آزاد حیثیت کے قانون آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا ہے تب سے کشمیر میں حالات سازگار نہیں ہیں
    بھارت چاہتا ہے کہ کشمیر کی جگہ دو علاقے بن جاٸیں ایک کو وہ جموں کشمیر کا نام دینا چاہتے ایک کو لداخ کا اسی وجہ سے آرٹیکل 370 ختم کیا گیا ہے اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعد بھارتی حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی اور مودی یہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کا نظام لیفٹینٹ گورنر چلاٸیں جو کے اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے
    جہاں آرٹیکل 370 ختم ہوا وہیں اس کی ایک شق کو برقرار رکھا گیا ہے جس کے مطابق صدرمملکت تبدیلی و حکم نامے جاری کرنے کے مجاز ہونگے
    کشمیر میں اس وقت بدترین حالات ہیں بھارتی جارحیت اپنے عروج پہ ہے انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں
    کشمیریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اقوام متحدہ کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی چپ سادھ رکھی ہے
    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس ارٹیکل کے خاتمے کے بعد انسانی حقوق کی پامالی میں اضافہ ہوگا
    بھارت اقوام متحدہ کی بھی کسی قرارداد کو خاطر میں نہیں لا رہا ..

    کشمیریوں کی صبح آہ و بکا کرتے ہوتی ہے اور شام تک کسی نا کسی گھر کا چراخ گل کر دیا جاتا ہے کبھی آزادی پسند کہہ کے جیلوں میں ڈالا جاتا ہے تو کبھی دہشتگردانہ کارروائياں کر کے نوجوانوں کو شہید کیا جاتا ہے ..
    پیلٹ گنز سے نشانہ بنایا جاتا ہے رسیوں سے باندھ کے گاڑیوں کے پیچھے گھسیٹا جاتا ہے کشمیری بہنوں کی اجتماعی عصمت دری کی جاتی ہے مطلب کے انسانی حقوق کی پامالی کا وہ کام نہیں جو قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں پہ نا کیا ہو ..
    آرٹیکل 370 ختم کرنا ایک سوچی سمجھی سازش ہے اس سازش کا لب لباب یہ ہے کہ بھارت کشمیر میں غیر کشمیری آبادکاری کرنا چاہتا ہے اور یہی قانون بھارتی راستے کی رکاوٹ تھا اب بھارتی کشمیر میں آباد ہونگے تو بہت جغرافیاٸ تبدیلیاں واقع ہونگی اور کشمیر ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل ہو جاۓ گا ..
    مقبوضہ جموں کشمیر کا جھنڈا الگ ہوتا تھا اس قانون کے خاتمے کے بعد یہ حق بھی کشمیر سے چھین لیا گیا ..
    اتنا بھارتی جارحیت ہونے کے باوجود عالمی دنیا کا مسلہ کشمیر پہ چپ رہنا المیہ ہے .؟
    کیا اقوام متحدہ کشمیر کو فلسطین بننے دیگا .؟

  • امریکہ کے خلاف زیادہ کس ملک نے جنگ جیتی .تحریر ارشاد حسین

    امریکہ کے خلاف زیادہ کس ملک نے جنگ جیتی .تحریر ارشاد حسین

    وتینام نے امریکہ کے خلاف افغانستان سے زیادہ بڑی "فتح” حاصل کی تھی لیکن تباہ ہو برباد ہوکر۔ آپ کی فوج یا دفاعی نظام کا اؤلین مقصد اپ کو ایسی تباہی سے بچانا ہوتا ہے۔ آپ کی دفاعی مشین ختم ہوجائے یا فوج تباہ ہوجائے تو پھر مزاحمت تو عوام بھی کر لیتی ہے لیکن تباہی کے ساتھ۔
    اس مزاحمت کی مثالیں دے کر اپنی افواج کو لتاڑنا جو آپ کو اس سے بچا رہی ہوتی ہیں حد درجہ بےوقوفی اور جہالت ہے۔
    یہ کہنا کہ "افغانیوں نے محض اللہ پر توکل کیا اور جیت گئے۔” زمینی حقائق اور اسلام کی سکھائی گئی حکمت و بصیرت کے خلاف ہے کیا کشمیری اللہ پر توکل کر کے نہیں لڑ رہے؟

    اور پھر ویتنامی تو غیر مسلم ہیں انہوں نے تو زیادہ بڑی فتح حاصل کی تھی۔ویتنام اور افغانستان کا ایک چھوٹا سا موازنہ پیش کرتا ہوں افغانستان پر حملہ آور افواج کی زیادہ سے زیادہ تعداد 130،000 تھی اور ان کو 180،000 ملی اردو کی مدد حاصل تھی ویتنام پر حملہ آور افواج کی تعداد 6 لاکھ تھی جن میں 547،000 صرف امریکی فوج تھی اور ان کو 850،000 جنوبی ویتنامی فوج کی مدد حاصل تھی۔
    افغانیوں نے 20 سالوں میں 2400 امریکی فوجی مارے جب کہ ویتنامیوں نے 20 سال میں 58000 امریکی فوجی مارے۔

    افغانیوں نے امریکی اتحادی ملی اردو کے 65000 فوجی ہلاک کیے جب کہ ویتنامیوں نے امریکی اتحادی جنوبی ویتنامی فوج کے 3 لاکھ فوجی ہلاک کیے افغانیوں نے نیٹو کے 22000 فوجی زخمی کیے جب کہ ویتنامیوں نے صرف امریکہ کے 303000 فوجی زخمی کیے افغانستان میں امریکہ مزاکرات کر کے جا رہا ہے جب کہ ویتنام سے بھاگ کر گیا تھا اور امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں سے لٹکے ہوئے تھے ویتیامیوں کی کل تعداد 2 کروڑ 40 لاکھ تھی جب کہ افغانیوں کی 3 کروڑ 20 لاکھ ہے۔ افغانستان کا رقبہ 652،860 مربع کلومیٹر جب کہ شمالی ویتنام کا 157،880 مربع کلو میٹر تھا۔ یعنی افغانیوں کو گوریلا جنگ لڑنے کے لیے زیادہ بڑا اور پیچیدہ میدان جنگ دستیاب تھا اور سب سے بڑھ کر ویتنامی غیر مسلم تھے۔ یعنی ان کو کوئی آسمانی مدد حاصل نہ تھی جیسا کہ ہم افغان "سٹوڈنٹس” کے بارے میں دعوی کرتے ہیں آپ موازنہ کریں تو ویتنامی زیادہ بڑے جنگجو اور زیادہ بڑے ” م ج ہ دین” ثابت ہوتے ہیں لیکن 2 لاکھ سویلین افغانستان میں اور 3 لاکھ ویتنام میں مارے گئے۔ دونوں ملکوں کا خوب کباڑا ہوا۔ افغانی اور ویتنامی عورتوں کی عزتیں لوٹی گئیں اور لاکھوں لوگ بےگھر ہوئے یہ ہیں افغانستان اور ویتنام کی عظیم فتوحات۔

    پھر بھی ۔۔۔ آپ یہ سنتے ہونگے اخے افغان "سٹوڈنٹس” کے پاس کیا تھا؟ بس اللہ پر توکل کیا اور امریکہ کو شکست دے دی،
    ہمارے پاس ایٹم بم ہے تو اس کو چاٹیں ویتنام نے امریکہ کو شکست دیدی ہم سے دس گنا چھوٹا تھا، وغیرہ وغیرہ کیا واقعی دشمن آپ کے ملک میں گھس کر اپ کو 20 سال تک رگید کر اور تباہ و برباد کر کے چلا جائے تو یہ آپ کی فتح ہوتی ہے ان لوگون کو ذرا نہیں اندازہ کہ آپ کی فوج یا آپ کے جنگی طاقت کی وجہ سے آپ سے کسی جنگ کا ٹل جانا یا آپ کی فوج کا دشمن کو سرحدوں پر روکے رکھنا کیا معنی رکھتا ہے انڈیا کی بے پناہ بڑی جنگی مشین کو پاک فوج نے سرحدوں پر روک رکھا ہے لہذا ہمیں ٹھیک سے سمجھ نہیں آرہی۔ لیکن افغانستان نے اپنی پراکسی جنگ پاکستان کے اندر داخل کی۔ جب جنگ سرحدوں کے اندر آئی تو آپ کی چیخیں آسمان تک پہنچیں یا نہیں؟ 70 ہزار جانوں اور 150 ارب ڈالر کی تباہی کا رونا روتے ہیں یا نہیں ہم نے چار جنگیں لڑنے کے باؤجود اگر مقبوضہ کشمیر نہیں لیا تو کیا انڈیا پانچ گنا بڑی طاقت ہونے کے باؤجود آزاد کشمیر لے سکا ہے؟؟ وہ بھی تو دعوی رکھتے ہیں نا ایل او سی کے اس پار انڈیا کی 10 لاکھ فوج کے مقابلے میں ایل او سی کے اس طرف ہماری فوج 1 لاکھ سے بھی کم ہے۔ یعنی دس گنا بڑے دشمن کو فوج نے روکا ہوا ہے اور آزاد کشمیر کے لوگ محفوظ اور پرسکون ہیں (کیا انڈین بھی اپنی فوج کو ایسے ہی طعنے دیتے ہیں؟) پاک فوج نے آپ کے خون کی پیاسی ایک دنیا کو آپ سے دور رکھا ہوا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب پاک فوج اپنا خون نہ دیتی ہو۔ اس کی قدر آپ کو تب آئیگی جب آپ کی فوج بیچ میں سے ہٹ جائے گی۔

    جب پاک فوج ج سائیڈ پر ہوئی تو دشمن ہم پاکستانیوں کا خون بھی پی جائیں گے اس دھرتی ماں پر ہمارے بہت سے سے جو انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اب دو تین دن کے اندر ہی دیکھ لیں ضلع کرم کے علاقے زیوا میں ۔ ایک افسر سمیت دو جوان کیپٹن باسط اور سپاہی حضرت بلال شہید۔ ہوگئے تھے اور رات یعنی 14 جولائی کو ‏بلوچستان کے ساحلے علاقے پسنی میں سیکیورٹی فورسز کہ گاڑی پہ دھماکہ ہوا اس دھماکے میں ہمارا جوان کیپٹن عفان مسعود شہید، ہو گیا ہمارے بچوں کو یتیم ہونے سے بچا لیا اپنے بچے کو یتیم کر گیا شہید کیپٹن عفان مسعود کے گھر دو ماہ پہلے ہی بیٹا پیدا ہوا اور آج اپنے بیٹے کو یتیم کر کے ہمیشہ کے لئے چلا گیا ؟ اور اس دھماکے میں ہمارے 5 جوان زخمی بھی ہوئے پاکستانیوں اپنی افواج کی قدر کرو یہی افواج ہے جو دن رات اپنے خون کے نذرانے پیش کر رہی ہے اپنی پاک دھرتی کے لیے یہی پاک افواج ہے جو پہاڑوں پر سینہ تانے کھڑی ہے اور رات کو ہم اپنی سکون کی نیند سوتے ہیں جب ہم اپنی افواج کو کسی کرپٹ سیاستدان کے کہنے پر برا بھلا کہتے ہیں تو ان شہداء کے گھر والوں کے ساتھ کیا گزرتی ہوگی گھر والے کیا سوچتے ہوں گے ہم اسی دن کے لیے اپنے بیٹے قربان کیے ان کے طعنے سننے کے لیے میرے بھائیو کسی کرپٹ سیاستدان کے کہنے پر اپنی افواج کو برا بھلا نہ کہو یہی افواج ہے تو ہمارا پاکستان ہے ہم سکون سے جی رہے ہیں اللہ پاک ہمارے جوانوں کی حفاظت فرمائے اور دشمن کو نیست و نابود کردے آمین

  • قبائلی اضلاع میں دہشتگردی سے متاثرہ افراد کی بحالی ​میں افواجِ پاکستان کا کردار.تحریر: محمد عابد خان اتوزئی

    قبائلی اضلاع میں دہشتگردی سے متاثرہ افراد کی بحالی ​میں افواجِ پاکستان کا کردار.تحریر: محمد عابد خان اتوزئی

    افواج پاکستان کا شمار بھی ملک کے اُن چند اداروں میں ہوتا ہے جنہوں نے قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک ملک کی خدمت میں اہم کردار اداکیا ہے۔ افواجِ پاکستان نے نہ صرف یہ کہ ملکی سرحدوں کے دفاع کو ہمیشہ مستحکم رکھا اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گزشتہ دو دہائیوں سے پاک فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروفِ عمل ہے۔ جس میں ہزاروں جانباز اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ افواجِ پاکستان نے ملک کی تعمیر و ترقی میں ہمیشہ بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اور وطن عزیز کو جب بھی ہنگامی حالات کا سامنا کرنا پڑا، تو ہمیشہ سرکاری و غیر سرکاری اداروں نے افواجِ پاکستان سے مدد طلب کی ہے۔ کٹھن سے کٹھن حالات اور کڑے سے کڑے امتحانوں میں افواج پاکستان نے اپنے فرائض تندہی، جانفشانی، ایمانداری اور غیرجانبداری سے انجام دیے ہیں۔اور غیر یقینی حالات کا حل بہت خوش اسلوبی سے نکالا ہے۔

    افواجِ پاکستان کے جوانوں نے پاک سر زمین کے دفاع اور سلامتی کے لیے ناقابلِ فراموش داستانیں رقم کیں۔ افواج پاکستان کی انہی قربانیوں کی بدولت پوری قوم ان پر ناز کرتی ہے۔ پاک فوج کا سب سے بڑا مقصد ملکی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے۔ پاک فوج نے ناصرف اپنے ملک میں دہشت گردوں کا صفایا کیا بلکہ دوسرے ممالک میں بھی اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر مشکلات میں گِھرے افراد کو زندگی کی نئی راہ دکھائی۔خیبر پختونخوا جو پچھلے کئی سال دہشت گردی کا رہا،لیکن پاک فوج کی قربانیوں کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوگیا۔

    پاک فوج نے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرکے خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف یکے بعد دیگرے آپریشنز کیے۔ اور دہشگردی کے خاتمے کے لئے اپنی جانیں پیش کی۔امن کے قیام کے ساتھ ساتھ پاک فوج جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی کرتی رہی۔ اور دہشتگری کی لپیٹ میں آنے والے علاقوں کے عوام کو سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بناتے رہے۔ پاک فوج نے دہشتگردوں کی طرف سے نصب کردہ بارودی سرنگوں اور دہشتگردی کے دیگر واقعات میں معذور ہونے والے افراد پرخصوصی توجہ دی۔اس ضمن میں پاک فوج نے مختلف سماجی اداروں کی مدد سے ان معذور افراد کی فلاح کے لئے مختلف کوششیں کیں۔

    پاک فوج نے وانا، جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگوں اور دھماکوں میں معذور ہونے والے افراد کے لئے ریہاب سنٹر قائم کیا۔ جہاں 194 معذور افراد کو مصنوعی ٹانگیں لگائی گئی۔ اسی طرح پاک فوج نے فاٹا ڈیسیبل ویلفیئر آرگنائزیشن کے اشتراک سے “چل فاؤنڈیشن” کے ذریعے 96 اور “پاکستان انسٹیوٹ آف پراستیٹک اینڈ آرتھوٹک سائنسز” کے ذریعے 163 معذور افراد کو مصنوعی ٹانگیں لگوائی۔پاک فوج کی مدد سے دہشت گردی سے متاثر کل 435 افراد کو مصنوعی ٹانگیں فرائم کی گئی۔ جن میں 308 کا تعلق جنوبی وزیرستان، 28 ٹانک، 7 لکی مروت،، 72 شمالی وزیرستان، 17 ضلع کرم، 2 خیبر، 6 ضلع مہمند اور 12 افراد کا تعلق باجوڑ سے تھا۔سی ایم ایچ میں بارودی سرنگ دھماکوں میں زخمی افراد کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ مستقبل میں بھی یہ سلسلہ نہ صرف جاری رہے گا بلکہ اس کو مزید بہتر بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔اس کے علاوہ قبائلی اضلاع میں دہشت گردوں کے ہاتھوں بچھائی گی بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے پاک فوج دن رات کام کررہی ہے۔

    پاک فوج نے مختلف علاقوں کے معذور افراد میں 700 وہیل چیئرز، بیوہ خواتین میں 590 سلائی مشینیں اور 115 بیساکھیاں تقسیم کیں۔ ضلع کرم میں 50 ضرورت مند افراد کو وہیل چیئرز، 40 عورتوں کو سلائی مشینیں، اور 15 افراد کو بیساکھیاں فراہم کی گئی۔اسی طرح شمالی وزیرستان میں 400 افراد کو وہیل چیئرز، 350 خواتین کو سلائی مشینیں اور 50 افراد کو بیساکھیاں، جنوبی وزیرستان میں 250 افراد کو وہیل چیئرز، 200 خواتین کو سلائی مشینیں اور 50 افراد کو بیساکھیاں فراہم کی گئی۔پاک فوج ہمیشہ سے پاکستان میں امن و استحکام کے قیام کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام کی خیر خواہی اور فلاحی امور میں اپنی قربانیاں پیش کرتی رہی ہیں۔یہ افواج پاکستان کی انتھک کوششوں اور قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان میں امن کا قیام یقینی ہوگیا ہے۔

  • آدم کی بیٹی.تحریر: محمد عدنان شاہد

    آدم کی بیٹی.تحریر: محمد عدنان شاہد

    بیٹی کا نام جب بھی زبان پر آتا ھے دل میں ایک لطیف سا محبت کا جذبہ جاگتا ھے۔اپنی بیٹی کے لیے دعا ہو یا دوسروں کی بیٹی کے لیے دعاھو یہی دعا دل سے نکلتی ھےکہ اللہ سب کی بیٹیوں کو خوش رکھے ۔یہ مہکتی کلیاں اپنے چمن کی ہوں یا دوسروں کے چمن کی پیاری لگتی ھیں دعاھے یہ سدا مہکتی رھیں۔ ماند نہ پڑیں یہ ایسے ہی چمن کی رونق بڑھاتی رھیں آمین
    ایک دفعہ ایک بزرگ خاتون نے کتنی پیاری بات کہ ھم جواپنی بیٹیوں کے لیے چاھتے ھیں وہ دوسروں کی بیٹیوں کے لیے بھی چاھیں سوچ لیں کہ آج جو بوئیں گے کل وھی کاٹیں گے۔

    کتنےظالم ھیں وہ لوگ جو اپنی بیٹی کےلیے پھول اوردوسروں کی بیٹی کے کانٹے پسند کرتے ھیں اپنی بیٹی کو خوشیوں سے کھیلنا دیکھناچاھتے ھیں اور دوسروں کی بیٹی کو دکھ دیتے ھیں اپنی بیٹی کے عیبوں پر پردہ ڈالتے ھیں اوردوسروں کی بیٹی کو بد نام کرنے کا کوئی موقع ھاتھ سے جانے نھیں دیتے ۔

    لیکن سچ بات تویہ ھے کہ بیٹیاں تو سب کی بیٹیاں ھوتی ھیں یہ ھماری اور تمھاری نھیں ھوتیں۔
    اللہ ھمیں توفیق دے کہ ھم سب کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیوں کے برابر سمجھیں اور ان کو خوش رکھیں۔آمین

    یہی آدم کی بیٹی ہے
    ستم کی تیز آندھی میں
    خزاں آثار پیڑوں سے
    بکھرتے پات کی صورت
    ہوا کا ہاتھ تھامے
    چل رہی ہے
    کئی الزام سر لے کر
    ہمیشہ خشک آنکھوں سے
    جو دل اپنا بھگوتی ہے
    کبھی شکوہ نہیں کرتی
    وہی آدم کی بیٹی ہے
    کسی انجان راستے پر
    کسی ظا لم کے اشارے پر
    کسی دیوار میں چنوائی جاتی ہے۔

    میرے خالق نے گوندھا ہے
    اسے انمول مٹی سے
    مگر یہ کون جانے، کون سمجھے
    یہی آدم کی بیٹی ہے۔

  • کراچی میں ٹریفک کا مسئلہ.تحریر:ام سلمیٰ

    کراچی میں ٹریفک کا مسئلہ.تحریر:ام سلمیٰ

    کراچی دنیا کا پانچواں بڑا شہر اور اس میں مسائل کے انبار ایک توجہ طلب مسئلہ ٹریفک کا وقت کے ساتھ ساتھ بے حساب اضافہ اس مسئلے کے بارے میں صوبائی حکومت اور کراچی سٹی ایڈمنسٹریٹر اور دیگر متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کرنا چاہتی ہوں۔ شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس کے ساتھ ہی شہر کے مسائل کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ ٹریفک جام کے علاوہ ، خطرناک توازن کے ذریعہ آواز کی آلودگی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ ہر کوئی جلدی میں نظر آتا ہے اور تیزی سے جانا چاہتا ہے ، خاص طور پر موٹرسائیکل سوار ، رکشہ اور بس ڈرائیور ٹریفک قوانین کو توڑتے ہیں اور دوسروں کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ ہر ایک اپنی مرضی سے چلتا ہے ، اس ٹریفک کی گڑبڑ کے سبب طلباء ، دفتر جانے والے افراد اور دیگر عام طور پر وقت پر نہیں پہنچ سکتے ہیں۔

    کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور یہ بھی دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے شہروں میں سے ایک ہے۔ سڑکوں پر بھاری ٹریفک کے بڑھتے ہوئے رش ​​کے نتیجے میں اکثر انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ آج شہر کراچی بہت ساری پریشانیوں سے لیس ہے۔ لیکن ٹریفک کا مسئلہ اس شہر کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔

    اگر آپ کراچی کے شہری ہیں تو آپ کو خاص کر صبح اور شام کے وقت شہر کی مشہور سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اگر آپ اس وقت کے دوران شہر بھر میں سفر کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو بہت صبر کرنا ہوگا۔ عام طور پر پورے شہر میں ٹریفک جام ہوتا ہے۔ یہ کسی خاص علاقے کا مسئلہ نہیں تھا صبح اور شام کے اوقات میں یہ پورے شہر کا مسئلہ ہے، شہر کے لوگ جب ہر دن دفاتر ، اسکولوں ، یونیورسٹیوں میں جاتے ہیں تو ٹریفک میں پھنس جاتے تھے۔ لوگ اس سڑک پر ٹریفک جام میں کئی گھنٹے گزارنے کے بعد اپنے کام کی جگہوں سے اپنے گھروں کو واپس پہنچ جاتے ہیں۔

    کئی بار سڑکوں پر ٹریفک کا کوئی اہلکار نظر نہیں آتا ہے جو سڑکیں صاف کرتے ہیں۔ شہر کے لوگ روز بروز معمول کے مطابق لوگوں کے مابین جھڑپوں سے مایوس ہوجاتے ہیں۔ سڑک پر موجود ہر شخص اپنی مایوسی کو دور کرنے کے لئے کسی سے لڑنے کے لئے تیار ہے۔ صوبائی حکومت کو اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دے کیوں کے دن بہ دن صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے ، کیوں کہ اس سنگین مسئلے کو حل کرنے اور لوگوں کو راحت دینے کے حکام کی مناسب توجہ کی ضرورت ہے۔ میں صوبائی حکومت اعلی حکام اور محکمہ ٹریفک پولیس سے سخت اقدامات کرنے پر توجہ دلانا چاہتی ہوں ، تاکہ ہر شخص آسانی اور راحت کے ساتھ سفر کرسکے اور ٹریفک جام کی پریشانی کو صحیح طریقے سے نبھایا جاسکے۔

  • میرے کراچی کے مسائل .تحریر:ام سلمہ

    میرے کراچی کے مسائل .تحریر:ام سلمہ

    پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی کا کاغذوں پر 2 کروڑ عوام طویل عرصے سے مختلف پریشانیوں کا شکار ہیں۔ جرائم ، پانی کی قلت ، اور بجلی کی قلت کچھ بڑے مسائل ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ پورا شہر اس طرح کے جان لیوا پریشانیوں کے مضر اثرات میں پھنس گیا ہے۔ان مسائل نے نہ صرف پاکستان کے معاشی مرکز کو گھیرے میں لے لیا ہے بلکہ انھوں نے کراچی کے بے بس لوگوں کو بھی درہم برہم کردیا ہے۔

    میں چاہتی ہوں صوبائی اور وفاقی گورمنٹ کراچی کے پانچ بڑے مسائل کی طرف توجہ دے جن کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی ضرورت ہے۔

    سب سے پہلے ، شہر میں پانی کے شدید بحران کے سلسلے میں کافی نقصان ہوا ہے۔ تاہم ، اگر اس کا انتظام نہ کیا گیا تو یہ کراچی کے بدترین متاثرہ علاقوں میں تشدد کا باعث بن سکتا ہے۔

    دوسرا ، سب سے زیادہ آبادی والے شہر پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بگڑتی ہوئی آگ نے آگ کو مزید اکسایا ہے۔ میٹرو اور گرین بس پروجیکٹس ابھی باقی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ، ٹریفک جام مزید خراب ہوگیا ہے۔ اگر لوگوں کا ٹرانسپورٹ کا ایک اچھا اور عمدہ نظام ہوتا تو لوگوں کو اس مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

    تیسرا ، غیر قانونی بستیوں اور اراضی پر قبضہ کرچی سے ختم کرنا ضروری ہے۔ سیاسی حمایت کے ساتھ لینڈ مافیا ایک خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ متعلقہ حکام کو چاہئے کہ وہ روشنی والے شہر کی سرزمین سے ایسے مافیا کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔

    چوتھا، کراچی ، وفاق کی 60 فیصد محصولات پیدا کرنے کے باوجود مشکل سے 10 فیصد وفاقی وسائل حاصل کرتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کی مشترکہ کاوشیں جرائم ، بجلی کی قلت اور بیروزگاری کے خاتمے کو ختم کرسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں ، پاکستان کے سب سے بڑے اور سب سے بڑے شہر کو وفاقی وسائل کی ضرورت ہے جو 10 فیصد سے زیادہ ہے۔

    پانچواں آلودگی ، شہری شہری منصوبہ بندی اور کچرے کو کچلنے اور ضائع کرنے کے مناسب نظام کی عدم موجودگی نے کراچی کو دنیا کا سب سے مایہ ناز شہر بنا دیا ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے متعلقہ حکام کو کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو مضبوط کرنا ہوگا۔ حکومت کو آلودگی سے متعلق عوامی آگاہی مہم بھی چلانی ہوگی۔

    اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ، معاملات بہت سنگین ہیں۔ لوگوں کو اس طرح کے مہلک پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم ، مناسب ارادے اور عزم کے ساتھ ، صوبائی گورمنٹ وفاق حکومتِ کے ساتھ مل کر ان مسائل کو حل کرسکتی ہے۔ کراچی کا شہر روشن ، ایک بار پھر بین الاقوامی تجارت اور مالیات کا مرکز بن سکتا ہے۔

  • ہر انسان بدل سکتا ہے اگر وہ خود کو بدلنے کا ارادہ کر لے۔“تحریر ۔۔ ڈاکٹر راہی

    ہر انسان بدل سکتا ہے اگر وہ خود کو بدلنے کا ارادہ کر لے۔“تحریر ۔۔ ڈاکٹر راہی

    پانچ ماہ پہلے ایک نوجوان کا سیشن تھا، نوجوان نے مجھ سے ایک سوال کیا کہ آپ کیسے سب سنتے ہیں اور حل بھی بتاتے ہیں جواب بھی دیتے ہیں سوالوں کا۔..

    میں یہ تصویر اور پوسٹ اُس نوجوان کے نام کر رہا ہوں۔

    میں بھی بہت کُند اور بنجر ذہن کا مالک ہوا کرتا تھا، چھوٹی چھوٹی باتوں پہ غصہ کرتا تھا، پیدل چلتے یا گاڑی چلاتے ہوئے خود ہی لوگوں سے ریس لگا لیتا تھا۔

    رشتوں کی اتنی قدر نہیں کرتا تھا، سوشل میڈیا پہ یا فضول کے پیجز بنا کر اُن پہ وقت ضائع کیا کرتا تھا۔

    لوگوں کو باتیں سناتا تھا، بس اپنی بات کرتا تھا، دوسروں کی کم سنتا تھا، خود کو ہی ٹھیک سمجھتا تھا باقی سب کو غلط، خود کو عقلِ کل سمجھتا تھا۔

    ہر فضول کام میں ٹانگ پھنساتا تھا، زندگی کے اُسلوب سے نابلد تھا، رکھ رکھاؤ نہیں جانتا تھا۔

    پھر کچھ ایسا ہوا کہ مجھے کتابوں سے عشق ہو گیا۔
    کتابیں پڑھتا جاتا ہوں زبان پہ خاموشی چھاتی جاتی ہے، لوگوں کو پہروں چپ چاپ سنتا رہتا ہوں، مجھے سب خود سے بہتر لگتے ہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں کی اہمیت ختم ہو چکی ہے، لوگوں کو راستہ دینے لگا ہوں، کسی سے ریس نہیں لگاتا اپنی مستی میں چلتا ہوں پیدل ہوں یا گاڑی پہ۔

    لوگوں کو جج کرنا چھوڑ دیا، اُن کے ہر فعل پہ سوچتا ہوں کہ کیا پتہ وہ مجبور ہوں، اپنی مجبوری سب کو نہ بتا سکتے ہوں۔

    انسانوں سے پیار ہو گیا،ہر انسان کتاب جیسا لگتا ہے۔
    ذہن جو صحراؤں جیسا خشک تھا، بنجر تھا اُس میں بارش ہونے لگی اور ذہن کی سر زمیں پہ انسانیت کی ہری بھری فصلیں لہلانے لگیں، ہر انسان سے بے لوث محبت کرنے کا بیج ”میرے بابا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ کی سیرت پاک نے میرے اندر ایسا بویا کہ وہ ننھے پودے سے ایک بہت بڑا گھنی چھاؤں والا تناور درخت بن گیا اور اب دن رات دعائیں مانگتا ہوں کہ اس درخت کو پھل لگ جائیں تو انسانیت کو فائدہ ہو۔

    غمِ جاناں اور غمِ روزگار کے شہر چھوڑ کر غمِ انسانیت کے ملک میں جابسا ہوں۔۔

    باتیں تو شیطان کی انت جیسی ہیں ختم ہی نہیں ہوتیں۔
    یہ سارے کمالات تو والدین کی تربیت، ”میرے بابا محسنِ انسانیت، پیغمبرِ بے مثال صاحبِ شرف و کمال حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ کی سیرت پاک اور کتابوں کے ہیں ورنہ یہ بندہ ناچیز تو اس قابل نہیں تھا۔۔

    مجھے نسبتوں اور حوالوں نے ایک پہچان بخشی ہے ورنہ میں بھی ایک گمنام زندگی گزار رہا ہوتا۔۔
    تصویر میں موجود کتابیں میرے پچھلے پانچ ماہ ہیں،ہر روز دو لیکچرز سننا، میڈیکل کی کتابیں، اخبارات کے دو تین کالمز ہر ہفتے پڑھنا ان کتابوں کے علاوہ ہیں۔
    دو بلیک ڈائیرز بھی ہیں جن میں سیشنز لکھے ہوئے ہیں۔

    ”ہر انسان بدل سکتا ہے اگر وہ خود کو بدلنے کا ارادہ کر لے۔“