Baaghi TV

Category: بلاگ

  • امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں اسٹیڈیم کے باہر فائرنگ، 4 افراد زخمی

    امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں اسٹیڈیم کے باہر فائرنگ، 4 افراد زخمی

    امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں واقع بیس بال اسٹیڈیم کے باہر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق فائرنگ کے وقت بیس بال اسٹیڈیم میں میچ جاری تھا جہاں شائقین کی بڑی تعداد میچ دیکھ رہی تھی فائرنگ ہوتے ہی شائقین میں خوف و ہراس پھیل گیا اور اسٹیڈیم سے تیزی بھاگتے ہوئے نکلنے لگے جس کے باعث بھگدڑ مچ گئی۔

    شائقین کے مطابق ان میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ فائرنگ کا واقعہ اسٹیڈیم میں ہوا ہے یا اس کے باہر ہوا ہےاس صورتِ حال کے باعث بیس بال اسٹیڈیم میں جاری میچ روک دیا گیا-

    دوسری جانب امریکی پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے چاروں زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے صورتِ حال قابو میں ہے، واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    ڈی سی پولیس نے اطلاع دی کہ فائرنگ اسٹیڈیم کے بائیں فیلڈ کونے سے باہر ، ن اسٹریٹ اور جنوبی کیپٹل اسٹریٹ جنوب مشرق میں ہوئی۔ فائرنگ کے کچھ ہی لمحوں بعد ، اعلان میں شائقین سے بال پارک میں رہنے کی اپیل کی گئی-

  • اگست کی تاریخ کے انوکھے ریکارڈ نے پاکستانی کا نام گنیز بک میں درج کروا دیا

    اگست کی تاریخ کے انوکھے ریکارڈ نے پاکستانی کا نام گنیز بک میں درج کروا دیا

    اگست کے مہینے نے پاکستانی شخص کا نام گنیز بک میں درج کروا دیا-

    باغی ٹی وی : امیر آزاد منگی نامی پاکستانی شخص کی تاریخِ پیدائش یکم اگست، اس کی شادی بھی یکم اگست کو ہوئی، بیوی کی اور7 عدد بچوں کی تاریخِ پیدائش بھی یکم اگست ہی ہے اس انوکھے ریکارڈ پر لاڑکانہ کے امیر آزاد منگی کے گھرانے کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کر لیا۔

    امیر آزاد منگی کے مطابق ان کی تاریخِ پیدائش یکم اگست ہے جبکہ ان کی بیوی اور 7 عدد بچوں کی تاریخِ پیدائش بھی یکم اگست ہی ہے ان بچوں میں دو بار پیدا ہونے والے 4 جڑواں بچے بھی شامل ہیں جو یکم اگست کو ہی پیدا ہوئے۔

    دنیا بھر میں یہ واحد گھرانہ ہے جو ایک ہی تاریخ پر پیدا ہوا جبکہ دوسرے نمبر پر بھارت کا ایک ہی تاریخ پر پیدا ہونے والا گھرانہ ہے جن کی تعداد 5 ہے۔

  • بیٹیاں رحمت ہیں . تحریر : مدثر

    بیٹیاں رحمت ہیں . تحریر : مدثر

    ہم بیٹی کی پیدائش پراتنا خوش نہیں ہوتے جتنا بیٹے کی پیدائش پرہوتے ہیں ہم سب سے پہلے ان کا حق کھاتے ہیں ان کی پیدائش پرخوشی نہ کرنے کا ہم بیٹی کی نسبت بیٹے سے زیادہ پیارکرتے ہیں کوئی بھی چیزبازارسے خرید کر لائیں تو سب سے پہلے بیٹے کو دیتے ہیں پھر بیٹی کو دوسرا بڑا حق جو ہم کھا جاتے ہیں بیٹیوں کا وہ ہے تعلیم سے محروم کرنا بیٹے کے لیے خوش ہوکرتمام تعلیمی اخراجات پورے کرتے ہیں اوربیٹی کو یہ کہ کر تعلیم نہیں دلواتے کہ بیٹیاں گھرمیں ہی اچھی لگتی ہیں ان کا کیا کام تعلیم کا بس نام لکھنا، پڑھنا آنا چاہیے بس یہی کافی ہے.

    ہماری سوچ ایک پسماندہ سوچ ہے اسی پسماندہ سوچ کی وجہ سے ہم بیٹیوں کا بنیادی حق تلف کر جاتے ہیں حالانکہ بیٹیاں جتنا اپنے کام سے لگاؤ رکھتی اورایمانداری سے سرانجام دیتی ہیں اتنا لڑکے بھی نہیں کرتے بیٹیوں کی فضیلت بھی کوئی قسمت والا جانتا ہوگا اگربیٹی کی فضیلت کا پتہ لگ جائے لوگوں کو تو سب نے بیٹے کی بجائے بیٹی کی فرمائش کرنی ہے

    بیٹی کی فضیلت تو اللہ نے خود بیان کی ہے کہ میں جس پر بے حد خوش ہوتا ہوں تو ان کے گھررحمت (بیٹی) عطا کرتا ہوں اوراللہ کہتا ہے کہ جب میں بیٹا عطاء کرتا ہوں تو بیٹے کو کہتا ہوں جاؤ اپنے باپ کا ہاتھ بٹاؤ۔ جب میں بیٹی دیتا ہوں تو اس کے باپ کا ہاتھ پاؤں خود بن جاتا ہوں۔

    بیٹے باپ کی جائیداد کے مالک بنتے ہیں اوربیٹیاں باپ کی بخشش کا ذریعہ بنتی ہیں ان کی مغفرت کے لیے دم درود قل پڑھتی رہتی ہیں. اللہ ہمیں سچے دل سے بیٹیوں سے پیار کرنے اور ان کی عزت کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین.

    @MudasirWrittes

  • امن کا سفیرپاکستان خان . تحریر : کامران واحد

    امن کا سفیرپاکستان خان . تحریر : کامران واحد

    کسے معلوم تھا کہ میانوالی کے شہر میں ایک شوکت خانم نامی خاتون نے بچے کو جنم دیا جس کا نام عمران خان رکھا گیا کسے معلوم تھا کے وہ عمران نامی بچہ بڑا ہوکردنیا میں ایک رقم تاریخ ھوگا، یقیناً کسی کونہیں معلوم تھا، ہاں لیکن عرش پربیٹھی ایک ذات جانتی تھی کے یہ عمران ایک دن سب کا مان ہوگا.

    سلسلہ شروع ہوا اورکرکٹ کے میدانوں سے ایک ستارہ ابھرا جسے دنیا عمران خان کے نام سے جاننے لگی اورپھریہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ کرکٹ کے میدانوں سے شوکت خانم ہسپتال، نمل جیسے تعلیمی اداروں سے ہوتا ہوا سیاست کے میدانوں میں ایک ہی نام گونجتا تھا عمران خان غرض کہ اب گزری تاریخ گواہ ھے کہ جس شعبے میں عمران خان اسکی بہتری کے لیے ھاتھ ڈالتا ھے تواس شعبےکواپنے عروج پر پہنچنا گویا مشیت ایزدی بھی بن جاتا ھے۔ ایساھی کچھ تب ھوا جب اس عظیم والدین کے عظیم سپوت نے پاکستان کی خدمت کے لیے اپنی سیاسی جماعت تحریک انصاف کا نعرہ لگایا۔

    قسمت کی دیوی ہرمیدان میں عمران پر مہربان تھی اورخداوند کریم کے خاص فضل سے 2018 میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کے طورپرسامنے آیا اورعمران نے اس خداداد پاکستان کی باگ دوڑسنبھالی. عمران چونکہ عالمی منظر نامے امریکہ افغان جنگ کشمیر جیسے معاملات سے بخوبی واقف تھا، اسی تناظرمیں اسکا ایک ھی نعرہ اورپالیسی تھی، جس کوعمران نے ھرفورم پراٹھایا اوروہ تھی "امن” کی پالیسی، کہ ہم کسی پرائ جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے اگر حصہ بنیں گے تو صرف "امن” کا اورعمران کی نظرمیں مسئلے کا حل جنگ نہیں صرف امن مذکرات ہی تھا جس پراسے طالبان خان بھی کہا گیا لیکن وہ اپنے موُقف پرڈٹا رہا۔ امریکہ جیسی سپر پاورنے افغان جنگ میں کھربوں روپے لگائے لیکن آخرمیں اسے منہ کی کھانا پڑی اورانہی طالبان سے امن مذکرات کیے جس کا عمران شروع دن سے کہ رہا تھا۔

    کشمیر کے حوالے سے پاک بھارت کشیدگی پربھی عمران کا وہی موُقف ہے کہ اس مسلے کا حل بھی امن مذکرات سے ہی نکلے گا جنگ سے نہیں، پوری دنیا کو عمران امن کا پیغام دے رہا تو اس میں کوئ شک نہیں کہ عمران خان ہی امن کا سفیر ہے۔

    یہاں پرایک بات قابل ذکر ھے کہ عمران خان نے دنیا اوراس مملکت خداداد کے اندرونی دشمنوں کو یہ بھی واضح طورپرپیغام دیا ھے کے اس امن پالیسی کو اس کی کمزوری مت سمجھا جائے جس کا اظہارایک شعر میں ایسے دیا ہے کہ

    ‏مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
    میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے

    پاکستان زندہ باد
    عمران خان پائندہ باد

    Twitter: @Khankamoo

  • ‎امریکی انخلاء اور ممکنہ خدشات.تحریر :محمد محسن خان

    ‎امریکی انخلاء اور ممکنہ خدشات.تحریر :محمد محسن خان

    اکتوبر 2001 میں افغانستان پر امریکی حملہ انٹرنیشنل قوانین کے تحت ایک جرم تھا۔ یہ جرم ہی تھا کیونکہ امریکی فوج کی بے پناہ طاقت افغانستان کے عامیانہ انفراسٹرکچر کو مسمار کرنے اور اس کے معاشرتی بندھنوں کو توڑنے کے لئے استعمال ہوئی۔
    ‎ آپکو یاد ہوگا کہ اکتوبر ۲۰۰۱ کوصحافی اناطول لیون نے پشاور میں معروف افغانی رہنما عبدالحق کا انٹرویو لیا۔ طالبان کے خلاف مزاحمت کا حصہ بننے والے عبدالحق ، امریکی فضائی بمباری کی آڑ میں افغانستان واپس جانے کے لئے تیار ہو رہے تھے۔ تاہم ، وہ جس طرح امریکہ نے جنگ کے مقدمے چلانے کا فیصلہ کیا تھا اس سے افغان رہنما عبدالحق متفق نہیں تھے۔ عبد الحق نے لیون کو بتایا ، "موجودہ حالات میں خود سے فوجی کاروائی صرف حالات کو ہی مشکل بنا رہی ہے۔ خاص طور پر اگر یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہی اور بہت سے شہری بے گناہ مارے جائیں۔” وقت نے دیکھا کہ یہ جنگ دو دہائیاں تک جاری رہی اس عرصے میں کم از کم ستر ہزار کے قریب شہری اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

    ‎عبد الحق نےمزید کہا کہ "سب سے بہتر بات یہ ہوگی کہ امریکہ تمام افغان گروہوں کو اتفاقِ رائے سے سیاسی حل کے لئے کام کرے۔ بصورت دیگر ، مختلف ممالک کے تعاون سے اور پورے خطے کو بری طرح متاثر کرنے والے ، مختلف گروہوں کے مابین گہری تقسیم کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ یہ پیش گوئی حق پر مبنی تھی لیکن عبدالحق جانتا تھے کہ کوئی بھی اس کی بات نہیں سنے گا ۔اسی طرح وہ مزید بولے ، "شاید ، امریکہ نے پہلے ہی اپنا ذہن بنا لیا ہے کہ کیا کروں ، اور میرے ذریعہ کی جانے والی سفارشات میں بہت دیر ہو جائے گی۔”

    ‎اس جنگ میں ہونے والی ناقابل یقین تباہی کے 20 سال گزرنے کے بعد امریکہ سیاسی مصالحت کی طرف لوٹ آیا۔
    ‎عبدالحق افغانستان واپس چلے گئے اوراطلاعات کیمطابق ۲۶ اکتوبر ۲۰۰۱ کو طالبان نے قتل کردیا۔ ان کا مشورہ اب ماضی کا حصہ ہے۔ ستمبر ۲۰۰۱ میں ، افغانستان میں طالبان سمیت اکثر سیاسی اشرافیہ بات چیت کے لئے تیار تھی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ امریکی طیارے افغانستان کے لئے جہنم کے دروازے کھول دے گے۔ اب دو دہائیوں بعد ، طالبان اور دیگر کے مابین خلیج مزید وسیع ہوگئی ہے۔ مذاکرات کی بھوک اب زیادہ موجود نہیں ہے

    ‎14 اپریل 2021 کو ، افغانستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر میر رحمن رحمانی نے متنبہ کیا کہ ان کا ملک ایک "خانہ جنگی” کے دہانے پر ہے۔ کابل کے سیاسی حلقے خانہ جنگی کے بارے میں بات چیت کا آغاز کر رہے ہیں جب 11 ستمبر تک امریکہ کا انخلاء ہو۔ یہی وجہ ہے کہ 15 اپریل کو کابل میں امریکی سفارتخانے میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ، طلوع نیوز کی شریف امیری نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی سے پوچھا خانہ جنگی کے امکان کے بارے میں آنکھیں بند کرنا کیسے ممکن ہے؟ وزیرخارجہ بلنکن نے جواب دیا ، "مجھے نہیں لگتا کہ یہ کسی کے مفاد میں ہے ، کم سے کم یہ کہنا کہ افغانستان کو خانہ جنگی کا شکار ہونا ، لمبی جنگ میں جانا۔ اور یہاں تک کہ طالبان ، جیسے ہم نے یہ سنا ہے ، نے کہا ہے کہ اسے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے

    درحقیقت افغانستان کم از کم نصف صدی سے خانہ جنگی کا شکار ہے ، کم از کم مجاہدین کی تشکیل کے بعد سے افغانستان کے شمالی اتحاد سے لڑنا تھا۔ اس خانہ جنگی کو افغانستان کے انتہائی قدامت پسند گروہ طالبان کی حمایت کے ذریعہ تیز کیا گیا تھا۔ اس عرصے میں کبھی بھی امریکہ نے امن کا راستہ پیش نہیں کیا۔ اس کے بجائے ، اس نے کابل میں نتائج پر قابو پانے کے لئے امریکی طاقت کی بے تحاشا استعمال کرنے کے لئے ہر موڑ پر ہمیشہ بے تابی کا مظاہرہ کیا ہے۔امریکی فوج کا انخلاء جس کا اعلان اپریل ۲۰۲۱کے آخر میں ہوا تھا اور یکم مئی سے شروع ہوا تھا ، اتنا واضح نہیں تھا جتنا اب ایسا لگتا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے 14 اپریل 2021 کو اعلان کیا کہ "امریکی فوجیوں کے گھر واپس آنے کا وقت آگیا ہے۔” اسی دن امریکی محکمہ دفاع نے واضح کیا کہ 11 ستمبر تک 2500 فوجی افغانستان سے چلے جائیں گے۔ ، نیو یارک ٹائمز نے نوٹ کیا تھا کہ امریکہ کے افغانستان میں 3500 فوجی موجود ہیں حالانکہ واضح طور پر کہا جاتا ہے کہ اس ملک میں 2500 امریکی فوجی موجود ہیں۔” پینٹاگون کے ذریعہ امریکی فوج کی تعداد بارے مبالغہ آرائی ہے۔ اسسٹنٹ سکریٹری برائے دفاع برائے استحکام کے دفتر کی ایک رپورٹ کے علاوہ ، یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ امریکہ کے پاس افغانستان میں زمین پر تقریبا 16000 ٹھیکیدار موجود ہیں۔ وہ متعدد خدمات مہیا کرتے ہیں ، جن میں زیادہ تر فوجی مدد شامل ہوتی ہے۔ان میں سے کسی بھی ٹھیکیدار یا اضافی نامعلوم ایک ہزار امریکی فوجیوں سے انخلا کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ، اور نہ ہی ہوائی بمباری ، ڈرون حملوں سمیت ختم ہوگی اور نہ ہی اسپیشل فورسز کے مشنوں کا کوئی خاتمہ کا فیصلہ یا ارادہ ظاہر کیا گیا۔

    ‎اپریل ۲۰۲۱ کو ، بلنکن نے کہا کہ امریکہ اشرف غنی کی افغانستان حکومت کو تقریبا۳۰۰ملین ڈالر فراہم کرے گا۔ اشرف غنی ، جو اپنے پیش رو حامد کرزئی کی طرح ایک کمزور اور کٹھ پتلی صدر دکھائی دیتے ہیں کی موجودگی میں اب افغانستان امریکی انخلا کے بعد کی حکومتوں کی باتوں سے گونج اٹھا ہے ، جس میں یہ تجویز بھی شامل ہے حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار کی حکومت تشکیل دینے کی تجویز بھی شامل ہے جس میں وہ قیادت کریں گے اس میں طالبان شامل نہیں ہوں گے۔ اس دوران اب امریکہ نے اس خیال سے اتفاق کیا ہے کہ حکومت میں طالبان کا کردار ہونا چاہئے۔ اب یہ کھل کر کہا جارہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کا خیال ہے کہ طالبان 1996 سے 2001 تک کے مقابلے میں "کم سختی سے حکومت کریں گے”۔

    ‎ایسا لگتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ دو یقین دہانیوں کے ساتھ طالبان کو اقتدار میں واپس آنے کی اجازت دینے کے لئے تیار ہے: پہلا ، یہ کہ امریکی موجودگی باقی ہے ، اور دوسرا ، کہ امریکہ کے اہم حریفوں یعنی چین اور روس کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے جو اس کے بزدلانہ انخلا کے بعد ایک شکست خوردہ مصالحت لگتی ہے۔ کابل۔ 2011 میں ، امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ہندوستان کے شہر چنئی میں بات کی ، جہاں انہوں نے ایک نئی سلک روڈ انیشیٹو کی تشکیل کی تجویز پیش کی تھی جو وسطی ایشیا کو افغانستان اور ہندوستان کی بندرگاہوں کے راستے جوڑتی تھی۔ اس اقدام کا مقصد روس کو وسط ایشیا میں اپنے روابط سے منقطع کرنا اور چینی سی پیک کے قیام کو روکنا تھا ، جو اب ترکی تک پوری طرح سے مکمل ہے۔

    ‎استحکام اب افغانستان کے کارڈوں میں نہیں۔ جنوری میں ، ازبکستان کے سابق وزیر خارجہ اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے موجودہ سکریٹری جنرل ، ولادی میر نوروف نے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ایک پروگرام سے خطاب کیا۔ نوروف نے کہا کہ داعش یا داعش اپنے جنگجوؤں کو شام سے شمالی افغانستان منتقل کررہے ہیں۔ شدت پسند جنگجوؤں کی یہ تحریک نہ صرف افغانستان بلکہ وسطی ایشیا اور چین کے لئے بھی تشویش کا باعث ہے۔ 2020 میں ، واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا کہ امریکی فوج ، داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فوائد حاصل کرنے کے دوران ، طالبان کو فضائی مدد فراہم کرتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ اگر طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہوتا ہے تو ، آئی ایس آئی ایس اسے غیر مستحکم کردے گی

    ‎فراموش کی گئی افغان خواتین کے حالات تشویشناک ہیں ، اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار ، رسول باسو نے 1986 سے 1988 تک افغان حکومت میں خواتین کی ترقی کے اعلٰی مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1987 میں خواتین کو برابری کے حقوق مہیا کیے گئے ، جس کی وجہ سے خواتین کے گروپوں کو کام کاج اور گھر میں برابری کے لئے جدوجہد کرنے اور مردانہ اصولوں کے خلاف جدوجہد کرنے کی اجازت دی گئی۔ چونکہ جنگ میں مرد کی بڑی تعداد ہلاک ہوگئی تھی ، باسو نے ہمیں بتایا ، خواتین کئی پیشوں میں چلی گئیں۔ خواندگی کی شرح میں اضافے سمیت خواتین کے حقوق کیلئے خاطر خواہ فائدہ ہوا۔ اگر طالبان اب اس خانہ جنگی میں کابل حکومت کو جس کا امکان زیادہ ہے نکال باہر کرتے ہیں تو مغرب و انسانی حقوق کی تنظمیں خواتین کے حقوق بارے تشویش کا شکار ہیں ۔امریکہ کو افغانستان چھوڑنے سے قبل ہی ایک مشترکہ حکومت کے قیام اور خواتین کے حقوق یقینی ضمانت حاصل کرنی چاہیے تھی جبکہ وہ اب چونکہ افغانستان سے بھاگ کھڑا ہوا ہے تو اس بات کی ضمانت دینا قطعی مشکل ہے کہ اس خانہ جنگی یا اس کے بعد قائم طالبان ممکنہ حکومت میں خواتین کے حقوق کا خیال رکھا جا سکے گا ۔
    تحریر محمد محسن خان
    Twitter :MMKUK1

  • "پاکستانی صحافت کی معراج”۔    تحریر:رانا آصف محبوب

    "پاکستانی صحافت کی معراج”۔    تحریر:رانا آصف محبوب

            

    معراج عروج سے نکلا ہے اور اس کے معنی ہی اوپر جانا یا چڑھنا ہیں۔انسان کو بھی اسی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے کہ جس سے انسان اپنی زندگی میں اوپر کی طرف سفر کرے انسان اسی لئے بلندی کے حصول کی تگ و دو میں دن رات ایک کرتا ھے۔
    اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بنے تقریبآ 73 سال ہو چکے اور یہ ریاست چار ستونوں پر کھڑی ھے بلکہ لیٹی ھے۔اس ریاست میں چار ستون اس طرح ٹھونکے گئے ہیں جس طرح کبھی شادیوں پر ٹینٹوں کے درمیان میں ایک بمبو ٹھونکا جاتا تھا جو تن تنہا نا صرف پورے ٹینٹوں کا بوجھ اٹھاتا تھا بلکہ اس کے گرد گھومنے والے بچوں کی گردش حالات کی گردش سمجھ کر برداشت کرتا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد یقینا ایک تاثر تھا کہ فوج اور سیاست دان ریاست کے دو ستون ہیں ۔پھر رفتہ رفتہ جب بیگم نصرت بھٹو کیس ،جسٹس حمود الرحمن کیس ایسے چند واقعات رونماہوئے تو ریاست کے ستونوں میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا اور عدلیہ کو بھی ریاست کا تیسرا ستون تسلیم کر لیا گیا اور جب ججوں کے ایک ٹولے نے مشرف آمریت کو قانونی قرار دیتے ہوئے اسے آئین میں ترامیم تک کا حق عطا کر دیا تو اس ستون کی مسلمہ حیثیت کو چیلنج کرنا ناممکن بنا دیا۔

    اج ہم ریاست کے چوتھے ستون یعنی صحافت کی بات کریں گے۔صحافت پاکستان کا ستون مشرف کی بندوق سے نکلنے والی گولی ثابت ہوا۔اکیسویں صدی کے آغاز میں دنیا الیکٹرانک میڈیا کے چنگل میں پھنسی تو پاکستان بھی گلوبل ویلج کا حصہ بن کر اس سے محفوظ نہ رہ سکا اور الیکٹرانک میڈیا کی پرائیوٹائزیشن نے اپنے قدم جمائے تو پاکستان کے سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی حلقے اور عسکری وجوڈیشری اس کے اثر سے ثمر آور ہوئے تو میڈیا ریاست کے چوتھے ستون کی حیثیت سے اپنے آپ کو متعارف نہ صرف کروا چکا تھا بلکہ کنگ میکر کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔

    میڈیا پہلے اتنا آزاد اور مضبوط نہیں تھا وقت کے ساتھ ساتھ اسکی اہمیت میں ا ضافہ ہوا تو سیاستدانوں نے میڈیا کے اس میدان میں اپنے مطلب کے دوست تلاش کر لیے ۔ پھر جب 21ویں صدی کے آغاز میں پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے پاﺅں جمانے شروع کیے اور امن کی آشا کے نام پر ہنودویہود نصاری سے دولت اکٹھی کرنے کو اپنا مقصد حیات بنا لیا اور میڈیا میں موجود ایسے گروپوں نے خبر بتانے کی بجائے خبر بنانے کو صحافت کا شیوا بنا لیایہی وجہ ہے کہ یہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے کبھی آمروں سے مل جاتے ہیں اور کبھی اپنے ہی تراشیدہ بتوں سے مہم جوئی شروع کر لیتے ہیں۔سوشل میڈیا کے دور میں اب اپنے ہی خیالات سے بھاگنا ناممکن ہو چکا ھے چہ جائیکہ وہ عوام تک ٹؤئیٹ یا فیس بک سٹیٹس کی مد میں نا پہنچ سکیں۔آج کا صحافی اپنے پیشے کے اعتبار سے صحافی کم اور کسی سیاسی یا طاقتور ادارے کا سپوکس پرسن بن چکا ھے۔اس کے باوجود کہ الیکٹرانک میڈیا کی عوام میں تیزی سے گرتی ساکھ کا زمہ دار بھی یہ خبر دینے کی بجائے خبر بنانے والے صحافی ہیں جو ہر بات پر "تو” کی گفتگو کرنے سے بھی گریز نہی کرتے۔پہلے صحافت کی معراج سچی اور مصدقہ زرائع سے من و عن خبر دینا سمجھا جاتا تھا۔لیکن مادہ کی اس دورڑھ میں شاید معراج کے معنی بدل دئیے ہیں۔آج پاکستان کے صحافی کی معراج ہوا میں اڑتا ھیلی کاپٹر ھے جس میں بیٹھ کر وہ کسی طاقتور انسان کا انٹرویو کر کے سوشل میڈیا پر تصاویر اپ لورڈ کر سکے۔آج کے صحافی کی معراج کے پائیدان یقینأ غلام گردشوں کی دھلیز سے شروع ہو کر غلام گردشوں کی دھلیز پر ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

    تحریر:رانا آصف محبوب
    Twitter iD:@RAsifViews

  • صرف پردہ کا حکم عورت کا ہی کیوں عام ؟تحریر قراۃالعین

    صرف پردہ کا حکم عورت کا ہی کیوں عام ؟تحریر قراۃالعین

    ہمارے معاشرے میں ہر جگہ صرف عورت کے پردے کی ہی بات ہوتی ہے اچھی بات ہے اسلام کی خوبصورتی پردے میں ہے ہونی بھی چاہے
    پر وہ مرد جو ہر وقت عورت کا پردہ پردہ کرتے رہتے کیا وہ خود عورت کو دیکھ کر نگاہ نیچ رکھتے؟ ہرگز نہیں۔
    اگر رکھی ہوتی تو انہیں کبھی معلوم نہ ہوتا کوئی عورت بے پردہ گھوم رہی ہے یا پردے میں

    ہر جگہ عورت کا پردہ پردہ کرنے والے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ قرآن میں عورت کے پردے سے پہلے مرد کو نگاہ نیچی رکھنے کا حکم ملا ہے

    پر یہ خاصہ مشکل کام ہے آپ کی اٹھی نگاہیں عورت کی بے پردگی کی طرح نہ تو کسی کو نظر آتیں ہیں نہ اس میں کوئی برائی
    سمجھی جاتی

    کوئی عورت پردے میں بھی ہوگی تو اسکا گھر تک پیچھا کیا جاتا اس کو تب تک دیکھا جاتا جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نہ ہو جائے
    تو اس میں قصور کس کا ہوا آپ کی حیوانیت کا یا عورت کے پردے کا
    تو خدارا منافقت چھوڑیں عورت کے پردے کے ساتھ ساتھ مردوں کو نگاہیں نیچے رکھنے کا فیصلہ بھی جگہ جگہ عام کریں
    جس طرح گھر میں اپنی ماں بہن بیٹیوں بہو کو دیکھ کر نگاہیں نیچی کرلی جاتی ہیں اسی طرح پرائی عورتوں کےلئے بھی نگاہیں نیچی
    کریں
    تحریر قراۃالعین
    @qurat_Writters

  • "تعلیم کی افادیت .تحریر:نـــازش احمــــد

    "تعلیم کی افادیت .تحریر:نـــازش احمــــد

    آج کے اس پر آ شوب اور تیز تیرین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کا حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ترقی کرلے حالانکہ آ ج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے۔ ایٹمی ترقی کا دور ہے، سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے۔مگر اسکول میں بنیادی عصری تعلیم، ٹیکنیکل تعلیم، انجینٔرنگ، وکالت ، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا
    آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے۔ جدید علم تو ضروری ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بہی اہمیت اپنی جگہ مسمم ہے ، اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کے لیے اخلاقی تعلیم بہی بے حد ضروری ہے۔ اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی عبادت،محبت ، خلوصِ، ایثار، خدمت خلق، وفاداری اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح اور نیک معا شرہ کی تشکیل ہو سکتی ہے۔
    تعلیم کے حصول کے لیے قابل اساتذہ بہی بے حد ضروری ہیں جو بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھ کر اور کچھ کلاسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہو گیا بلکہ استاد وہ ہے جو طلباء وطالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو پیدا کرتا ہے اور انہیں شعور و ادراک، علم و آگہی نیز فکر کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔ جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا. ان کے شاگرد آ خری سانس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں۔ اس تناظر میں اگر آ ج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ پیشہ تدریس کو بہی آ لودہ کر دیا ہے۔

    محکمہ تعلیمات اور اسکول انتظامیہ اور معاشرہ بھی ان چار کتابوں پر قانع ہوگیا۔کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تو آج نمبرات اور مارک شیٹ پر ہے۔مگر افسوس کہ ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں پر مفاد پرست ٹولہ قصر شاہی کی طرح قابض رہا ہے
    جن کے نزدیک اس عظیم پیشہ کی قدرو قیمت کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے،بدقسمتی اس بات کی بھی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوئے ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے ہمارے تعلیمی نظم کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کررکھا ہے جس نے رسوائی کے علاوہ شاید ہی کچھ عنایت کیا ہو۔ مگر پھر بھی جس طرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اسی طرح مسلمان بھی کبھی جدید تعلیم دور نہیں رہے بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ تر کے بانی مسلمان ہی ہیں۔موازنا کیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ آج یورپ تک کی جامعات میں مسلمانوں کی تصنیف کردہ کتابیں نصاب میں شامل ہیں۔
    @itx_Nazish
    نـــازش احمــــد

  • حضرت ابراہیم علیہ السلام کا صبر و تحمّل . ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    حضرت ابراہیم علیہ السلام کا صبر و تحمّل . ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    خالق کائنات ﷻنے اپنے بندوں کی ہدایت کیلئے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام علیہ السلام دنیا میں بھیجے ،جن کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر امام الانبیا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم تک جاری رہا ۔ان میں حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو دوسرے انبیا پر کئی جہتوں سے ایک خاص قسم کی بزرگی اور عظمت حاصل ہے۔ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زندگی ابتلاء و آزمائش کے دشوار گزار اور صبر آزما مراحل سے بھری ہوئی ہے۔ اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے اس میں سرخروئی اور سربلندی کے لئے کئی راز پوشیدہ ہیں۔ زندگی کے ہر موڑ پر ایثار و قربانی کے انمول اور زرین باب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پیش کئے

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرزندانِ توحید کے لئے ایثار و قربانی کا بہترین نمونہ چھوڑا ہے۔ خواہ وہ تبلیغ کی راہ میں ملنے والی مشکلات ہوں یا توحید کی راہ میں نظرِ آتش ہونا، ہجرت کرنا ہو یا اپنے لاڈلے اور پیارے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا، وہ اللہ پاک کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے ہر دم تیار رہنے میں بنی نوع انسان کے لئے بہترین اسوہ موجود ہے۔صبر و استقلال اور دِین پر استقامت کے حوالے سے حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ کی زندگی ایسے روشن چَراغ کی حیثیت رکھتی ہے، جس کی روشنی قیامت تک اپنی نُورانی کرنیں بکھیرتی رہے گی.اللہ تعالیٰﷻ نے قرآن پاک میں ان کا ذکر کثرت سے فرمایا اور مسلمانوں کوان کی زندگی اور قربانیوں سے سبق لینے کی تلقین فرمائی ہےتاکہ مسلمان ان کے نقش پا کو اپنا کر اپنی دنیا اورآخرت سنوار سکے

    قرآنِ کریم میں ارشادِ ربّانی ہے”اور جب ابراہیمؑ کے پروردگار نے چند باتوں میں اُن کی آزمائش کی، پھر اُنہوں نے اُسے پورا کیا تو اللہ نے اُن سے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کے لیے پیشوا بنانے والا ہوں۔سُورۃالبقرہ

    حضرت سیدنا ابراہیم ؑکی زندگی میں آزمائشوں کا ایک سلسلہ رہا، جو صرف اور صرف آپؑ کی شان اور عظمت کے اظہار کیلئے تھا۔آپؑ کے عزم و استقلال پر ہزاروں مرتبہ بھی قربان جائیں تو کم ہے

    قارٸین اکرام!حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ دینی حمیّت، ایمانی جذبے، صبر و استقلال اور اپنی جلالتِ قدر کے باعث ہر امتحان اور ہر آزمائش میں پورے اُترے آٸیے ان کے تین بڑے امتحانات کو ملاحظہ فرماٸیے۔۔۔

    اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا پہلا امتحان اس وقت لیا،جب انہیں بادشاہِ وقت نمرود کے حکم سے دہکتی ہُوئی آگ کی نذر کیا گیا، تو اُس وقت جس ایمانی جذبے اور تسلیم و رضا کا مظاہرہ اُنہوں نے فرمایا، وہ
    انسانی تاریخ میں اُن ہی کا امتیاز اور اُن ہی کا حصّہ ہے

    اسی اہم واقعہ کی عکاسی کرتے ہوۓ ایک شاعر کہتا ہے۔

    آج بھی ہو جو ابراہیم سا ایماں پیدا
    آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا،

    آج بھی ہمارے لئے کفار و مشرکین کی طرف سے لگائی گئی مکر وفریب اور ظلم و جبر کی آگ گلستاں میں تبدیل ہو سکتی ہے، آج بھی اپنے ایمان کی پختگی سے ہم ان کے جھوٹے غرور کو ملیا میٹ کر سکتے ہیں، لیکن بشرطیکہ ہمیں اپنے سینوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح ایمان کے چراغ کو روشن کرنا ہوگا، توکل علی اللہ کا اتم مصداق بننا ہوگا، اپنے قلوب سے ہر ایک کا خوف نکال کر اسے محض خوف خدا سے آباد کرنا ہوگا ،تب جاکر وقت کا نمرود بھی ہمارے ایمان کے سامنے سرنگوں اور گھٹنے ٹیکتا ہوا نظر آۓ گا۔

    اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا دوسرا امتحان اس وقت لیا ،جب انہوں نے اپنی زوجہ حضرت ہاجرہ اور چہیتے واکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل کو حرم کی ویران وبیابان سرزمین پر چھوڑ آؤ۔ اس وقت دور دور تک مکہ میں کوئی آبادی نہ تھی۔ ایسی اجاڑ جگہ اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر واپس آجانا جبکہ وہاں نہ کوئی انسان تھا اور نہ ہی دانہ پانی کا نام ونشان، حضرت ہاجرہ ان دنوں حضرت اسماعیل کو دودھ پلاتی تھیں ،اپنے شیر خوار بچے اور بیوی کو ایسی جگہ چھوڑ آنا سخت ترین امتحان تھا۔ اس امتحان کا مقصد جہاں اپنے محبوب بندے کی آزمائش کرنی تھی، وہاں دوسری طرف کعبہ شریف کی تعمیر اور مکہ مکرمہ کو آباد کرنا بھی مقصود تھا غرض یہ کہ حضرت ہاجرہ اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلاتی رہیں مشکیزہ کا پانی اور کھجوریں ختم ہوگئیں یہا ں تک کہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا بھوکی پیاسی ہوگئیں جس کے سبب دودھ بننا بھی ختم ہوگیا اور آپ کے ساتھ ساتھ بچہ بھی بھوک وپیاس سے بلک اٹھا۔ بچے کی تڑپ اور پیاس آپ سے دیکھی نہ گئی۔ اس بے قراری کے عالم میں دوڑ کر قریب کی پہاڑی صفا پر چڑھیں کہ شاید کہیں پانی نظر آجائے یا کوئی انسان ہی نظر آجائے جو اُن کی مدد کرسکے لیکن وہاں کچھ نظر نہ آیا تو اُتر کر دوڑتی ہوئی مروہ کی پہاڑی پر چڑھیں کہ گوہر مقصود نظر آجائے مگر یہاں بھی کوئی نظر نہ آیا۔ اسی بے قراری، تڑپ اور پریشانی میں آپ نے صفا ومروہ کے سات چکر لگائے۔جب آپ بالکل تھک گئیں اور پانی ملنے کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آرہی تھی ۔ حضرت اسماعیل بھی پیاس سے سخت مضطر تھے، آپ نے ایڑی زمین پر پٹخنا شروع کردیا تب اللہ کے فضل سے حضرت اسماعیل کا معجزہ ظہور میں آیا۔ جہاں آپ ایڑی ماررہے تھے، اللہ نے وہاں سے پانی کا ایک چشمہ جاری فرمادیا۔ جب حضرت ہاجرہ نے اس منظر کو دیکھا تو مارے خوشی کے پانی سے کہنے لگیں زم زم یعنی رک جا رک جا۔ جب بی بی ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے پانی پیا تو آپ کا دودھ جاری ہوگیا۔ اس وقت ایک فرشتہ ظاہر ہوا اور اس نے آپ سے کہا کہاس بات سے خوف نہ کرو کہ تم ضائع ہوجاؤگی بے شک یہاں بیت اللہ ہے اس کی تعمیر یہ بچہ اور اس کے والد کریں گے ۔بے شک اللہ تعالیٰ اپنے مقربین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔

    اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا تیسرا امتحان اس وقت لیا،جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دین حق کی خاطر ہجرت کی اور اپنے رب سے ایک نیک اولاد کی دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرماتے ہوئے ایک بردبار وحلیم بیٹا عطا فرمایالیکن جب حضرت اسماعیل علیہ السلام چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا صبر وحلم اور بردباری واضح کرنا مقصود ہوا، چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے ۷؍ذی الحجہ کی رات خواب دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں بیٹا ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ آپ علیہ السلام صبح تفکر وتردد میں مبتلا رہے کہ کیا یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے یا فقط خواب و خیال تو نہیں ، آٹھ تاریخ کا دن گزر جانے پر رات پھر خواب دیکھا۔ صبح یقین کرلیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ہے۔ اس کے بعد آنے والی رات کو پھر خواب دیکھنے پر صبح اس پر عمل کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ اسی لئے ۱۰؍ ذی الحجہ کو یوم النحر (ذبح کا دن ) کہا جاتا ہے ۔ آپ نے اس خواب کا ذکر حضرت اسماعیل سے کیا تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کردیا اور اتنی بڑی آزمائش کا بردباری اور خندہ پیشانی کے ساتھ سامنا کرنے کیلئے خود کو پیش کردیا۔یہاں چونکہ مطلوب ومقصود حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی نہیں تھی بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش مقصود تھی، اسلئے جب انہوں نے حضرت اسماعیل کے حلقوم پر چھری رکھی اور اسے چلانے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل امیں کے ساتھ جنت سے ایک دنبہ بھیجا جسے آپ نے حضرت اسماعیل کی جگہ لٹا دیا اور حضرت اسماعیل کو اس مقام سے ہٹا لیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کو قربان ہونے سے بچا لیا لیکن جانور کی قربانی کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے صبح قیامت تک کیلئے قربانی کے عمل کو جاری فرمادیا ہے جو ہمیں جد الانبیا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اور ان کی قربانیوں اور آزمائشوں کی یاد دلاتی ہے

    ان تینوں واقعات سے ہمیں یاد بسق ملتا ہے کہ ہم بلا چون وچرا حکم الہی کے آگے سرتسلیم خم کردیں،بدون اشکال و اعتراض فرامینِ رب کو بجالانے والے بن جائیں!

    اللہ پاکﷻ آپ کا اور آپکے عزیز و اقارب کا حامی و ناصر ہوآمین!

  • طالبان افغانستان اور الزام کی زد میں پاکستان .تحریر:عبدالمجید مہر ایڈوکیٹ

    طالبان افغانستان اور الزام کی زد میں پاکستان .تحریر:عبدالمجید مہر ایڈوکیٹ

    ٩/١١کے بعد امریکا نے افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تو امریکہ اور عالمی دنیا کے دباو میں مجبور ہوکر ہمیں امریکہ کو راستے بھی دینے پڑے ،کیونکہ ہم راستے نا دیتے تو شائد دنیا ہم پر کئ سخت پابندیاں لگاسکتی تھی جوکہ ہمارے اپنے ملک کے لئے بہت نقصاندہ ہوتا ،ادھر امریکہ کو راستے دینے پر طالبان نے ہمیں امریکی ایجنٹ تسلیم کرلیا
    اور نئ جنگ کا آغاز شروع ہوچکا جس کے نتیجے میں کئ لاکھ افغان پناھ گزینوں نے پاکستان کی طرف ہجرت کی اور ہم نے ان کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مسلماں بھائیوں اور ان کے خاندانوں کو پاکستان میں نا صرف کھلے دل سے خوش آمدید کہا بلکہ ہم نے ان کے لئے کوئی مخصوص کیمپس یا علائقہ نہیں رکھا بلکہ اتنی حد تک آزادی دی کہ وہ پورے پاکستان میں جیسے چاہیں ،جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں وہاں افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ایک حکومت تشکیل دی گئی

    بقول طالبان کے حامد کرزئی کی حکومت امریکہ نے اپنے مفاد کے لئے بنائ ہے اس حکومت کا افغان سرزمین یا یہاں کے باشندوں سے کوئی تعلق نہیں اس لئے طالبان نے نا صرف امریکہ بلکہ افغان حکومت کے خلاف بھی جنگ کا اعلان کیا پاکستان کو اس جنگ کا خمیازہ بھی اس لئے بھگتنا پڑا کیونکہ ہمیں بھی امریکی ایجنٹ کا لقب دیا جاچکا تھا ،اسی سلسلے میں TTPکے دھشتگردوں نے پاکستان میں آرمی،سول اداروں ،ہمارے بازاروں،مسجدوں،اسکولوں سمیت ہر جگہ پر حملے کئے وہاں سے امریکہ کا جب دل چاہتا پاکستان میں ڈروں ماردیتا تھا جس کے نتیجے میں TTPکو ذیادہ فائدہ ہوتا تھا کیونکہ TTPقبائلی علائقوں میں مضبوط ہوتی گئ اور عوام کو پاکستان آرمی اور حکومت کے خلاف بھڑکانے میں مصروف رہی اس وجہ سے ڈرون حملے میں جس کے خاندان کے لوگ شہید ہوتے تو وہ ہتھیار اٹھالیتا پاکستان کے خلاف اسی وجہ سے ہمارے ملک میں بھی ایک جنگ سی کیفیت پیدا ہوگئ ،آئے روز دھماکوں سے نا صرف خوف کا عالم پیدا ہوگیا بلکہ اس کے نتیجے میں ہمیں ٧٠ ہزار سے زائد جانوں کے نزرانے اور اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ،بہرحال ہماری پاک افواج کی بہترین حکمت عملی سے ہم نے پاکستان میں دھشتگردی پر قابو پالیا اور ادھر افغانستان میں امریکہ اور طالبان کی جنگ اپنی آخری مراحل کی طرچ جاچکی تھی ٢٠ سالوں کی اس جنگ میں امریکہ کو مسلسل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو ایک بار پھر اپنی عزت بچانے کے لئے امریکہ نے پاکستان سے درخواست کی کہ کسی طرح طالبان اور امریکہ کے مزاکرات کروائے ہیں آخرکار پاکستان نے اپنی کوششوں سے امریکہ اور طالبان کو آمنے سامنے بٹھایا اور مزاکرات شروع ہوئے جس کے بعد امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنا شروع کردی اور اب ایک بار پھر طالبان افغانستان پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں

    پاکستان نے واضع موقف اپنایا ہے کہ ہم کسی صورت ایسی کسی حکومت کو سپورٹ نہیں کریں گے جو افغان عوام کی خواہشات کے خلاف ہو اس لئے پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان پرامن مزاکرات ہوں تاکہ افغانستان کی عوام بھی سکون سے اپنی زندگی کزارسکیں اور مستقبل کا فیصلہ افغان عوام پر چھوڑا جائے کہ وہ کس کی حکومت چاہتے ہیں
    اس سارے معاملات میں جہاں امریکہ،افغان حکومت اور طالبان سب پاکستان حکومت کے کردار کی تعریف کررہی ہے وہیں
    چند شرپسند عناصر اور خاص طور پر انڈیا پاکستان پر الزام تراشی کرتے نظر آرہے ہیں کہ طالبان کی پشت پر پاکستان کھڑا ہے حالانکہ پاکستان کا واضع موقف دنیا کے سامنے ہیں لیکن چونکہ انڈیا نے افغانستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری جس کا مقصد افغان حکومت کو اپنا بناکر یہاں سے پاکستان کے خلاف دھشتگردی اور تخریب کاریاں کی جائیں گی تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جاسکے لیکن افغانستان کی بدلتی صورتحال میں انڈیا کو اپنی ساری سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آرہی ہے اس لئے وہ اب اس پروپگینڈہ کو فروغ دے رہے ہیں کہ پاکستان اور طالبان ایک ہی ہیں

    لیکن انڈیا شائد بھول گیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کی عوام کا رشتہ ١۴ سو سالوں پر محیط ہے ہم دونوں اطراف کے المسلم اخو مسلم کے رشتے سے بندھے ہیں ،ہم ایک دوسرے کے بھائی ہیں ،ہم دونوں اطراف امن کے داعی ہیں آج بھی افغانستان کا بچہ بچہ پاکستان سے اتنی ہی محبت کرتا ہے جتنی محبت پاکستانی افغانستان کے لوگوں سے کرتے ہیں
    پاکستان کی امن کوششوں کو دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے ،دنیا پاکستان کی تعریف کررہی ہے
    اور ہم پاکستانی ہماری حکومت ،افواج ،انٹیلجنس ادارے سب اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان کے حالات جلد سے جلد بہتری کی طرف جائیں تاکہ افغانستان میں بھی ایک عوامی حکومت آئے جو افغان عوام کی امنگوں کے مطابق کام کرے اور اس خطے میں ایک بار پھر سے امن و سکون کی ہوا چلے
    جزاک اللہ