Baaghi TV

Category: بلاگ

  • افغانستان میں شکست خور ہندوستان بوکھلاہٹ کا شکار!تحریر: محمد اختر اسلم

    افغانستان میں شکست خور ہندوستان بوکھلاہٹ کا شکار!تحریر: محمد اختر اسلم

    یہ جوحالیہ دہشت گردی ہے۔۔ اِس کے پیچھے بھارتی وردی ہے۔۔ افغانستان میں پچھلے کئی سالوں سے کی جانے والی بڑی سرمایہ کاری ضائعہونے کے پیش نظر، بھارت حسبِ معمول پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ ملک میں جاری پیشرفتیں اِس کے مذموم عزائم خاک میں ملنے کی یقینی نوید ہے۔ ہندوستان سر توڑ کوشش کر ہا ہے کہ کسی طریقہ سے بھی ا فغانستان میں جنگ جاری رہے اور ملک میں امن واپس نہ آئے تاکہ بھارت ا فغانستان کی سر زمین کو پاکستان مخالف ریاستی دہشت گردی کے لیے بلکل ویسے ہی استعمال کر سکے جیسیامریکی افواج کی موجودگی میں کرتا آیا ہے۔افغانستان سے جبری طور پر امریکی جانے سے ہندوستان کے افغانستان میں پاکستان کے کردار کو روکنے کے خوابوں کو چکنا چور کردیا گیا دوسری جانب جونہی طالبان نے اپنا کنٹرول وسیع کیا تو نئی دہلی کو قندھار اور دیگر مقامات پر اپنے عہدے داروں کو ان کے قونصل خانے سے نکالنا پڑا۔

    یہ قونصل خانے مودی حکومت کی پُشت پناہی میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ معتبر ذرائع کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قندھار سے فرار ہونے والے زیادہ تر ہندوستانی عہدیداروں کا تعلق ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انیلیسیس ونگ (را) سے ہے۔بھارت افغانستان میں تمام محاذوں پر اپنی شکست کا خود گواہ ہے، اور امریکی افواج کے انخلا نے نئی دہلی کوبوکھلاہٹ اور ششوپنج میں چھوڑ دیا ہے۔اِس بات سے ہر کوئی بخوبی واقف ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو پھیلانے کے لئے افغان سرزمین پر اپنے اڈوں کا استعمال کر رہا ہے اور بنیادی طور پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے افغانستان میں انٹیلیجنس بنیادوں کا جال بچھا رہا ہے۔اِس ظمن میں بارہا پاکستان بین الاقوامی برادری کو دستاویزات کے ذریعہ شواہد دے چُکا ہے کہ ہندوستان افغانستان میں بعض دھڑوں کو پریشانی پیدا کرنے اور وہاں خانہ جنگی جاری رکھنے کے لئے ہتھیار فراہم کررہا ہے۔ایک معتبر ذرائع ابلاغ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بھارت کاگذشتہ کئی برسوں کے دوران افغانستان میں بنایا ہوا انٹلیجنس نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے، اور مزید کہا گیا ہے کہ جب اب بھارت افغانستان سے فرار ہورہا ہے وہ اب بھی افغانستان میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے افغان طالبان مخالف قوتوں کو اسلحہ اور گولہ بارود مہیا کررہا ہے کیونکہ پُر امن افغانستان کی جانب جاری مثبت پیشرفت بھارتی عزائم کے برعکس ہے۔ بھارت پُر زور ہے کہ افغانستان میں جنگ جاری رہے

    کیونکہ وہ پُرامن افغانستان میں اپنی شکست دیکھ رہا ہے کیونکہ پُرامن افغانستان بھارت کو کبھی بھی افغانستان اور پاکستان میں مسلمانوں کے خلاف اپنے مذموم منصوبوں کو پورا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ افغانستان سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے بھارتی بڑی سرمایہ کاری ضائع ہونے پر یہ کہاوت یاد آجاتی ہے کہ دھوبی کا کُتکا نہ گھر کا نا گھاٹ کا۔۔ دوسری جانب ہر گزرتے دِن کے ساتھ افغان طالبان افغانستان پر اپنی گرفت مضبوط کرتے دیکھائی دیتے ہیں، حالیہ دنوں افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغان سر زمین کسی بھی فرد یا گروہ کی جانب سے کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔افغان -امریکا دوحہ مذاکرات میں پاکستان کا بہت ہی قلیدی قردار ہے۔افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، پاکستان امن کا داعی ملک ہے کیونکہ پاکستان دُنیا کا وہ واحد مُلک ہے جس نے خطہ میں قیامِ امن کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ افواجِ پاکستان دُنیا کی وہ واحد فوج ہے جس کے آفیسر سے سپاہی تک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کی قربانیاں دی ہیں،پاکستان افغانستان کا بہت اہم پڑوسی ہے اور افغانستان کے مسئلہ کا حل طاقت کے ذریعے ممکن نہیں، جامع مذاکرات کے ذریعے ہی سیاست حل تلاش کرنا ہوگا۔امریکی افواج کے انخلا کے بعد اب یہ ذمہ داری کابل پر عائد ہوتی ہے کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ معنیٰ خیز سیاسی مذاکرات کرے اور افغانستان کے امن کو یقینی بنائے کیونکہ افغانستان اور پڑوسی ممالکمیں معاشی استحکام لانے کے لیے دیرپا اور پائیدار امن ناگزیر ہے۔

  • واقعی نواز شریف کشمیر کا بیٹا ہے،،تحریر: حمزہ چودھری

    واقعی نواز شریف کشمیر کا بیٹا ہے،،تحریر: حمزہ چودھری

    حالیہ دنوں میں کشمیر میں انتخابی مہم کا بازار گرم ہے ۔ ہر جماعت انتخابی مہم میں مصروف ہے ۔ اسی انتخابی مہم میں مریم نواز نے کچھ لطیفے چھوڑے ہے جس میں دو درج ذیل ہے۔
    1) نواز شریف کشمیر کا بیٹا ہے۔۔۔۔
    2) نواز شریف کشمیر کے لیے جنگیں لڑے گا۔۔۔۔

    اب ان لطیفوں کے بعد کچھ لکھنے کو دل کر رہا ہے لہذا میں آپ کو نواز شریف کے ماضی میں لے جاتا ہو اوع ثابت کرتا ہو نواز شریف کشمیریوں سے کتنا مخلص ہے۔
    کارگل کی جنگ شروع ہوئی تو بھارت نے امریکہ کے ذریعے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف پر دباؤ ڈالا جسے نواز شریف نے فراخ دلی سے قبول کیا اور امریکہ جا کر اعلان واشنگٹن کر آئے حالانکہ خود بھارتی جرنیل اور تجزیہ نگار اس بات کا اعتراف کرتے ہے کہ کارگل کی جنگ میں پاکستان نے کئی کلومیٹر تک بھارتی علاقہ کلئیر کرا لیا تھا اور اگر جنگ نا روکتی تو کشمیر کی صورتحال بھی مختلف ہوتی۔ جنگ بندی کے بعد جب بھارتی وزیراعظم پاکستان آیا تو نواز شریف نے ایک تقریب میں ہندو اور مسلمانوں کے رب (نعوذ باللہ) ایک قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی فوج نے کارگل میں بھارت کے ساتھ غلط کیا۔

    صرف اتنا نہیں یہ وہی نواز شریف ہے جنہوں نے بھارت میں حریت رہنماؤں سے ملنے سے انکار کر دیا تھا اور کجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے مودی کو بغیر ویزہ پاکستان اپنی نواسی کی شادی میں بلا لیا اور وہاں چھپیاں اور پپیاؤں کے ساتھ تحائف کے تبادلے بھی ہوئے لیکن کشمیر کے معاملے میں نواز شریف کے منہ سے ایک لفظ نا نکلا ۔ پاکستان کی ایجنسیوں نے گلبھوشن کو پکڑا تو نواز شریف کے منہ سے ایک لفظ تک نا نکلا۔

    جندال کاروباری سلسلے میں پاکستان آیا تو مری میں آزاد کشمیر کے جھنڈے غائب کر دیے۔

    صرف اتنا نہیں جب مشکل وقت آیا تو یہی نوز شریف نے بمبئی حملوں کا الزام پاکستان پر لگا دیا اور پاکستانی ایجنسیوں کو دنیا کے سامنے بدنام کرنے کی کوشش کی۔

    یہ ہے کچھ کرامتیں اور جنگیں جو نواز شریف نے ماضی میں کشمیر اور پاکستان کے لیے لڑی۔
    (چودھری حمزہ)

  • دُنیا دھوکے کا گھر. تحریر: کاشف علی

    دُنیا دھوکے کا گھر. تحریر: کاشف علی

    ہر حال میں یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ ایک دن موت آ کر رہے گی ہم سب اللہ تعالیٰ کی طرف واپس لوٹیں گے یہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے

    ہمارا دُنیا کا سب کچھ رہن سہن یہ سب صرف ہمارا ضرورت ہونا چاہیے اور ہمارا مقصد آخرت کی زندگی ہونی چاہیے ہمیں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے ہمیں حلال حرام جائز ناجائز کو دیکھنا چاہیئے اس دنیا میں نہ کوئی سدا رہا ہے نہ رہے گا یہ دنیا دھوکے کے گھر کے علاوہ کچھ نہیں سب آخرت کی فکر کریں حقیقی زندگی وہی ہے

    آج وقت ہے موقع ہے اللہ تعالی پر پوری طرح کامل ایمان رکھنا، اپنی قبلہ کو ٹھیک کرنا، برے اعمال اور گندی چیزوں سے بچنا، انسانوں کے ساتھ معاملات ٹھیک کرنا اپنے رب کو راضی کرنا اللہ تعالی کے حضور میں توبہ کرنا

    قرآن مجید کو پڑھنا اور سمجھنا اور اس پر عمل کرنا مرنے سے پہلے آخرت کیلئے تیاری کرنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر اپنی زندگی گزارنا، شرک نہیں کرنا اور کسی کو اللہ تعالی کے ساتھ شریک نہیں بنانا، مال دولت کے نشے میں اپنے رب اور غریبوں کو نہ بھولنا، زندگی سے پیار کرنا لیکن آخرت اور قبر کو ہمیشہ یاد رکھنا، غرور اور تکبر سے بچنا اور ہمیشہ اپنی زندگی عاجزی کے ساتھ گزارنا

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے اور جس وقت موت آئے تو اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہوں آمین

  • اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا خطرناک رحجان  اور اقوام متحدہ .تحریر: محمد زمان

    اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا خطرناک رحجان اور اقوام متحدہ .تحریر: محمد زمان

    مغرب میں اسلاموفوبیا کے رحجان میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مذہبی تعصب کی بنا پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی کینیڈا کے علاقے سکاٹون میں دو سفید فام افراد نے حملہ کر کے ایک پاکستانی محمد کاشف کو شدید زخمی کر دیا۔ ان کے بازو پر گہرے زخم آئے اور 14 ٹانکے لگے۔ حملہ آوروں نے محمد کاشف کی داڑھی بھی کاٹ دی۔ واضح رہے کہ دو ہفتے قبل بھی کینیڈا کے شہر سینٹ البرٹ میں دو مسلمان خواتین پر حملہ کیا گیا تھا۔ چاقو بردار شخص نے خواتین کو دھکے دئیے ، ان پر نسلی جملے کسے ، پھر حجاب سے کھینچ کر نیچے گرا دیا۔ حملے میں ا یک خاتون زخمی بھی ہوئی تھی۔ اسی طرح کینیڈا کے دارالحکومت ٹورنٹو میں ایک مرد اور خاتون نے زبردستی مسجد میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔ اسلاموفوبیا کی لہر پورے مغرب میں ہے تاہم کینیڈا میں ایسے واقعات کا تسلسل حیران کن ہی نہیں بلکہ مہذب دنیا کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے کیونکہ چند ہفتے قبل بھی کینیڈا میں دہشت گرد کی جانب سے ایک ہی خاندان کے چار افراد کو ٹرک سے روندے جانے سے جاں بحق ہونے والے افراد میں عمر رسیدہ ماں، فزیو تھراپسٹ بیٹا ، بہو اور کمسن پوتی شامل ہیں جبکہ نو برس کا پوتا شدید زخمی ہو گیا۔ 20 سالہ دہشتگرد مذہبی تعصب میں مبتلا تھا ، جسے پولیس نے گرفتار کر لیا ۔ اس پر کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ اونٹاریو واقعہ نے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کینیڈا میں اسلاموفوبیا کے لیے کوئی جگہ نہیں ، اس نفرت کو ختم کرنا ہو گا۔۔

    اس واقعہ کی کینیڈا سمیت پوری دنیا میں شدید مذمت کی گئی جبکہ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اس وقت کہا کہ یہاں اسلاموفوبیا کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن اس کے بعد تسلسل سے ایسے واقعات کا ہونا افسوسناک ہے۔ دنیا میں پر امن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے ایسے واقعات پر قابو جانا ضروری ہے۔ کینیڈا سمیت دنیا کے جس کونے میں بھی اسلاموفوبیا کی لہر موجود ہے اس کے آگے مکمل بند باندھنے کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف بیانات سے ممکن نہیں۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے مغربی ممالک کے حکمران اور ادارے جتنا دبائو پاکستان پر ڈالتے ہیں اس کی معمولی سی ذمہ داری انہیں خود بھی لینی چاہیے اور اپنے ممالک میں بڑھتی ہوئی فکری شدت پسندی پر قابو پانا چاہیے۔ دنیا میں تو پہلے ہی تہذیبوں کے تصادم کے خطرات موجود ہیں ۔ ایسے واقعات ان کو ہوا دے سکتے ہیں، لہذا کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا فرض بنتا ہے کہ وہ کینیڈا کا سافٹ امیج دنیا میں برقرار رکھنے کے لیے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے خطرناک نظریات و رحجانات کو بھرپور جذبہ انسانیت کے ساتھ کچل کے رکھ دیں ، ورنہ پانی سر سے گزر گیا تو سب کچھ لاحاصل رہے گا۔کینیڈا میں مقیم خاندان کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اس میں مسلمانوں سے نفرت جھلکتی نظر آتی ہے۔ ایسے حملے کافی عرصے سے مغربی ممالک میں ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا واقعہ مغربی ممالک میں بڑھتے اسلاموفوبیا کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کو اجتماعی کوششیں کرنا ہونگی۔

    وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی طرف سے اس حملے پر ردعمل اسلاموفوبیا کے خلاف مثبت سوچ کا اظہار ہے۔ ایسی سوچ مغربی معاشرے کی طرف سے اجتماعی اور متفقہ طور پر سامنے آئے تو بین المذاہب ہم آہنگی کی طرف پیشرفت ہو گی۔ مسلمانوں پر شدت پسندی کا ملبہ ڈالنے والوں کو حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اپنی سوچ بدلنا ہو گی۔ اس حوالے سے مسلم ممالک کو بھی اسلام کے بارے میں پیدا کی گئی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے موثر اور فعال پلیٹ فارم پر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔پوری دنیا میں اسلامو فوبیا کی لہر میں بڑی شدت آئی ہے۔ حتی کہ مہذب کہلانے والے اور اپنے ملک اور معاشروں میں تحمل و برداشت کو فروغ دینے کے دعویدار بھی اسلامو فوبیا میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات گزشتہ کئی ماہ سے پے درپے ہو رہے ہیں۔ اسلاموفوبیا کی بنا پر مساجد میں گھس کر نمازیوں کو شہید کیا گیا۔ شاپنگ مالز میں آنے والوں کو مذہبی منافرت اور تعصب کا نشانہ بنایا گیا۔ سڑک کنارے کھڑی فیملی کو ٹرک تلے روند دیا گیا۔ الغرض جہاں بھی موقع ملا، اسلام دشمنی کا مظاہرہ کیا گیا جس سے پورے عالم اسلام میں سخت تشویش پائی جا رہی تھی جس پر پاکستان نے دیگر اسلامی ملکوں سے مل کر او آئی سی کے پلیٹ فارم سے آواز اٹھائی اور اسلامو فوبیا کا معاملہ جنرل اسمبلی تک لے گئے جس پر پاکستان کی کوششوں کو کامیابی ملی اور بالآخر جنرل اسمبلی نے اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کے حوالے سے عالمی حکمت عملی میں مذہبی اور نسلی امتیازات کی بالواسطہ یا بلا واسطہ اقسام کے خاتمے اور اس بنیاد پر دہشت گرد گروپوں کی جانب سے نفرت اور تشدد پھیلانے کے عمل کو روکنے پر بھی زور دیا اور اقوام متحدہ سے کہا کہ وہ ایسے شدت پسندوں اور اسلام مخالف سرگرم دہشت گرد گروپوں سے لاحق خطرات کے بارے میں رپورٹ جاری کرے۔اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں سے منظم سازش اور باقاعدہ منصوبہ بندی دہشت گردی کو اسلام سے نتھی کیا جاتا رہا ہے حالانکہ کئی اسلامی ملک بالواسطہ یا بلاواسطہ دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں جبکہ دوسری طرف اسلام نے نہ صرف ہشت گردی بلکہ مذہب کی بنیاد پر کسی سے تعصب اور نفرت کی بھی مذمت کی ہے۔ امید ہے کہ جنرل اسمبلی کے ریمارکس پر اقوام متحدہ کے عملدرآمد کرانے کے حوالے سے اسلامو فوبیا کا بڑھتا ہوا خطرناک رجحان اپنی موت آپ مر جائے گا اسلامو فوبیا سے پیدہ شدہ دہشت گردی کے خطرات کو گلوبل سٹرٹیجی میں شامل کرنا بڑی کامیابی ہے۔۔ جنرل اسمبلی کے سنہری فیصلے کو اسلامی دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے

  • پاکستان بمقابلہ انگلینڈ بی.تحریر : انس حفیظ

    پاکستان بمقابلہ انگلینڈ بی.تحریر : انس حفیظ

    کیا پاکستانی کرکٹ ٹیم واقعی اس قابل نہیں کہ انگلینڈ کی بی ٹیم کا مقابلہ بھی نہ کر پائے؟؟؟

    پاکستانی ٹیم میں کم از کم پانچ کرکٹرز تو ایسے ہیں جو دنیا کی وائٹ بال کے ٹاپ تھرٹی کرکٹرز میں ضرور آتے ہیں۔۔ بابر، شاہین، حسن ، فخر اور امام۔۔۔ پانچ ورلڈ کلاس کرکٹرز کے ساتھ اگر آپ بھارت، آسٹریلیا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو مسلسل ہرا نہ بھی سکیں تو کم از کم انہیں شدید قسم کا ٹف ٹائم تو دے ہی سکتے ہیں۔۔۔۔

    تو پرابلم کہاں ہے؟؟؟؟

    کیا کوچنگ سٹاف اور کپتان کو بدلنا مسائل کا حل ثابت ہو سکتا ہے؟؟؟

    کچھ حد تک۔۔۔۔ وقار یونس پانچویں دفعہ کوچنگ کر رہا ہے۔ وقار کے کریڈٹ پر کوئی ایک بھی کارنامہ ہے؟؟ محمد اکرم نے باؤلرز کو ڈسپلن باؤلنگ کرنا سکھائی۔ محمد اکرم کے دور میں پاکستانی باؤلرز نے کئی ماہ تک ایک بھی نو بال نہیں کی تھی اور اسی طرح اظہر محمود نے سلو بالز اور کٹرز سکھائے۔۔۔۔ وقار کیا سکھا رہا ہے؟؟

    مصباح الحق کا میں فین رہا ہوں لیکن اب مجھے بھی لگنے لگا ہے کہ مصباح ماڈرن وائٹ بال کرکٹ کے ڈائینامکس نہیں سمجھتا۔۔۔ انوویشن نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔۔۔ کیا مصباح نے کبھی وکٹ یا مخالف ٹیم کی سٹرینتھ یا میچ سیچویشن کے مطابق بیٹنگ آرڈر میں کوئی تبدیلی کی؟؟؟ کیا مخالف ٹیموں کے بلے بازوں کے خلاف کبھی کوئی آؤٹ آف باکس پلین بنایا؟؟؟

    بابر اعظم سات نسلوں بعد بھی اچھا کپتان نہیں بن سکتا۔ پاکستانی کرکٹ کے چار پانچ سال ذائع کرنے کے بعد زیادہ سے زیادہ وہ ایک مناسب سا کپتان بن پائے گا۔ انگلینڈ کے خلاف دوسرے میچ میں جب فاسٹ باؤلرز کی پھینٹی لگنا شروع ہوئی تو اگلے آٹھ اوورز تک بابر نے کوئی ریسپانس نہیں دیا۔ حالانکہ ایک دو اوور بعد ہی اسے پارٹ ٹائم باؤلرز کی طرف جانا چاہئے تھا کیونکہ کرکٹ کی بنیادی سی بات ہے کہ جب بلے باز اکثر ایگریسیو موڈ میں ہو تو پارٹ ٹائمر اکثر نہیں کھیل پاتے۔۔۔مگر بابر۔۔۔۔

    ہم فینز کا مسلہ یہ ہے کہ سب کچھ غلط ہوتے دیکھ کر بھی نہ تو کرکٹ دیکھنا بند کر سکتے ہیں نہ ہی پاکستانی ٹیم کو سپورٹ کرنا ختم کر سکتے ہیں۔۔۔ کچھ یہ ہی شرم کرلیں۔۔۔ مگر ابھی دلی بہت دور است۔۔۔

  • روح _قربانی. تحریر:تحریر : چوہدری عطا محمد

    روح _قربانی. تحریر:تحریر : چوہدری عطا محمد

    عید _ قربان کا موسم ہے ہر طرف قربانی کے جانوروں کے رنگ دکھائی دیتے ہیں تو کہیں بکروں کا جھرمٹ تو کہیں بچھڑوں کے ڈیرے ہیں. رنگا رنگ اور دیدا زیب جانوروں سے سڑکیں اور ویران جگہیں رونقیں بکھیر رہی ہیں. لوگ جوق در جوق منڈیوں کا رخ کرتے دکھائی دیتے ہیں. کچھ کامیاب لوٹتے تو کچھ اپنی تلاش کے سلسلے کو بڑھانے کی ٹھان واپس لوٹ جاتے ہیں. درس و تدریس کے عمل میں بھی موسم _ قربان کا رنگ دکھائی دینے لگا ہے اور جمعہ کے خطبات اور دیگر محافل میں اس کے تذکرہ جاری و ساری ہے. ہر شخص اس موضوع کو اپنے انداز و زاویے سے اپنی گفتگو کا حصہ بناے ہوئے ہے. سوال تو ہی ہے کہ اس قربانی کی ضرورت کیوں؟
    اس میں امت کیلئے کیا سبق ہے؟
    ایک بات تو یہ کہ اس قربانی کے زریعے سمجھایا گیا کہ رب العالمین جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے آزمائش دیتا ہے. پھر اس آزمائش میں جو جتنا بہتر صبر و برداشت سے پورا اترتا ہے اتنا ہی اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے. انبیاء کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مال و اولاد کا امتحان کا سلسلہ ہوا.
    سمجھنے کے لیے موضوع کے قریب قریب مثال عرض کرتا چلوں.

    رب العالمین نے قرآن کریم میں کس شان سے زکر کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دیکھیں
    مقصد رضا الہی ہونا چاہیئے
    پھر جب آگ میں پھینکے جانے کی آزمائش سے گزرے تو اولاد کی دعا کی

    رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۱۰۰)فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ(۱۰۱)

    ترجمۂ کنز العرفان

    اے میرے رب! مجھے نیک اولاد عطا فرما۔ تو ہم نے اسے ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری سنائی۔

    تفسیر صراط الجنان

    حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا وصف:
    اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حلیم اور بُردبار لڑکے کی بشارت دی اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خود بھی حلیم تھے،جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

    ’’اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ‘‘(توبہ:۱۱۴)

    ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ابراہیم بہت آہ و زاری کرنے والا، بہت برداشت کرنے والا تھا۔

    اورارشاد فرمایا: ’’اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ‘‘(ہود:۷۵)

    ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ابراہیم بڑے تحمل والا ،بہت آہیں بھرنے والا، رجوع کرنے والا ہے۔

    اولاد بھی مانگی تو مقصد رب العالمین کا فرمانبرداری اور اسی کی رضا ہی تھی.
    پھر اسی بیٹے کے زریعے آزمائش کا سلسلہ شروع ہوا.
    فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰىؕ-قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ٘-سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۰۲)

    ترجمۂ کنز العرفان

    پھر جب وہ اس کے ساتھ کوشش کرنے کے قابل عمر کو پہنچ گیا توابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں ۔اب تو دیکھ کہ تیری کیا رائے ہے ؟بیٹے نے کہا: اے میرے باپ! آپ وہی کریں جس کا آپ کو حکم دیاجارہا ہے۔ اِنْ شَاءَاللہ عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

    یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

    سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی
    آج کی ماں ہوتی تو بیٹا باپ کی جدائی کے بعد انتقام لینے باپ کے سامنے کھڑا ہوتا قربان جائیں اس ماں سلام اللہ علیہا کی تربیت پر جب حکم خدا ہو تو کیا اولاد اور کیا گھر بار دنیا کی محبت. سب کی حیثیت بعد میں پہلے بات اللہ کی رضا.
    پھرجب آزمائش کا وقت آیا اور

    فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ(۱۰۳)

    ترجمۂ کنز العرفان

    تو جب ان دونوں نے (ہمارے حکم پر) گردن جھکادی اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا (اس وقت کا حال نہ پوچھ)۔

    تفسیر صراط الجنان

    {فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا: تو جب ان دونوں نے (ہمارے حکم پر) گردن جھکادی۔} جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے فرزند نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سر ِتسلیم خم کر دیا اور جب حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے فرزند کو ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان کے فرزند نے عرض کی’’اے والد ِمحترم ! اگر آپ نے مجھے ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو پہلے مجھے رسیوں کے ساتھ مضبوطی سے باندھ لیں تاکہ میں تڑپ نہ سکوں اور اپنے کپڑے بھی سمیٹ لیں تاکہ میرے خون کے چھینٹے آپ پر نہ پڑیں اور میرا اجر کم نہ ہو کیونکہ موت بہت سخت ہوتی ہے اور اپنی چھری کو اچھی طرح تیز کر لیں تا کہ وہ مجھ پر آسانی سے چل جائے اور جب آپ مجھے ذبح کرنے کے لئے لٹائیں تو پہلو کے بل لٹانے کی بجائے پیشانی کے بل لٹائیں کیونکہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ جب آپ کی نظر میرے چہرے پر پڑے گی تو ا س وقت آپ کے دل میں رقت پیدا ہو گی اور وہ رقت اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور آپ کے درمیان حائل ہو سکتی ہے اور اگر آپ مناسب سمجھیں تو میری قمیص میری ماں کو دیدیں تاکہ انہیں تسلی ہو اور انہیں مجھ پر صبر آ جائے ۔حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’ اے میرے بیٹے! تم اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے میں میرے کتنے اچھے مددگار ثابت ہو رہے ہو۔ اس کے بعد فرزند کی خواہش کے مطابق پہلے اسے اچھی طرح باندھ دیا، پھر اپنی چھری کو تیز کیا اوراپنے فرزند کومنہ کے بل لٹا کر ان کے چہرے سے نظر ہٹا لی، پھر ان کے حَلق پر چھری چلادی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں چھری کو پلٹ دیا،اس وقت انہیں ایک ندا کی گئی ’’اے ابراہیم ! تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا اور اپنے فرزند کو ذبح کے لئے بے دریغ پیش کر کے اطاعت وفرمانبرداری کمال کو پہنچادی، بس اب اتنا کافی ہے،یہ ذبیحہ تمہارے بیٹے کی طرف سے فدیہ ہے اسے ذبح کر دو۔ یہ واقعہ منیٰ میں واقع ہوا۔( بغوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۴ / ۲۸-۲۹، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ص۱۰۰۶، ملتقطاً)

    جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے فرزند کو ذبح کرنے کیلئے چلے تو شیطان ایک مرد کی صورت میں حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس آیا اور کہنے لگا’’کیا آپ جانتی ہیں کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ کے صاحبزادے کو لے کر کہاں گئے ہیں ؟ وہ تو آپ کے بیٹے کو ذبح کرنے کیلئے لے گئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا حکم دیا ہے۔حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: ’’اگر انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو پھر اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے رب تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ یہاں سے نامراد ہو کر شیطان حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پہنچا اور ان سے کہا ’’اے لڑکے!کیا تم جانتے ہو کہ آپ کے والد آپ کو کہاں لے کر جا رہے ہیں ؟ ’’خدا کی قسم! وہ آپ کو ذبح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’پھر تو انہیں اپنے رب تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنا چاہئے، مجھے بسر و چشم یہ حکم قبول ہے۔ جب شیطان نے یہاں سے بھی منہ کی کھائی تو وہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پہنچا اور کہنے لگے’’اے شیخ! آپ کہاں جا رہے ہیں ؟حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’اس گھاٹی میں اپنے کسی کام سے جارہا ہوں ۔ شیطان نے کہا’’اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ شیطان آپ کے خواب میں آیا اور ا س نے آپ کو اپنا فرزند ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔اس کی بات سن کر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے پہچان لیا اور فرمایا’’اے دشمنِ خدا! مجھ سے دور ہٹ جا ،خدا کی قسم ! میں اپنے رب تعالیٰ کے حکم کو ضرور پورا کروں گا۔یہاں سے بھی شیطان ناکام و نامراد ہی لوٹا۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۴ / ۲۳)

    غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم

    نہایت اس کی حُسین ابتدا ہے اسماعیل
    پھر اگلی آیت میں رب العالمین کی جانب سے کامیابی کی بشارت ملی اور مقام کو مزید عروج دیا گیا.
    وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ(۱۰۴)قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَاۚ-اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(۱۰۵)اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ(۱۰۶)وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ(۱۰۷)وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ(۱۰۸)سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ(۱۰۹)كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(۱۱۰)اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ(۱۱۱)

    ترجمۂ کنز العرفان

    اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم!۔ بیشک تو نے خواب سچ کردکھایاہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔ بیشک یہ ضرور کھلی آزمائش تھی۔ اور ہم نے اسماعیل کے فدیے میں ایک بڑا ذبیحہ دیدیا ۔ اور ہم نے بعد والوں میں اس کی تعریف باقی رکھی۔ ابراہیم پرسلام ہو۔ ہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔ بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل ایمان والے بندوں میں سے ہیں ۔

    {وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ: اور ہم نے اسماعیل کے فدیے میں ایک بڑا ذبیحہ دیدیا۔} علامہ بیضاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں اس ذبیحہ کی شان بہت بلند ہونے کی وجہ سے اسے بڑا فرمایا گیا کیونکہ یہ اس نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا فدیہ بنا جن کی نسل سے سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں ۔ (بیضاوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۵ / ۲۲)
    بات عشق کی تھی صاحب.
    عشق تو قربانی مانگتا ہے.
    سیرت رسول کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اہل بیت سے واقعہ کربلا سمیت بے شمار واقعات ملتے ہیں. جہاں عشق حقیقی اپنی تکمیل کے لیے پیاروں کے پیار کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے. لیکن بات بہت دور نکل جائے گی. اور سیرت رسول کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع میں اس پر بات ہو گی.

    روح قربانی کیا ہوئی؟
    1. کوئی بھی عمل کیجئے اس کی کامل مقبولیت رضا الہی کی نیت سے مشروت ہے
    انبیاء کرام کی زندگیوں میں اس کی ڈھیروں مثالیں موجود ہیں اور ہم نے اوپر قرآن اور احادیث بھی سے یہی سیکھا ہے.
    2. رب کریم جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسکی آزمائش میں اسکی مدد کرتا ہے اور اسے کامل بنا دیتا ہے اس لئیے صبر اور تحمل سے اس کے فیصلے کا انتظار کیجئے
    ہم نے اوپر قرآن سے یہی سیکھا
    3. قربانی سب سے پیاری چیز کی ہوتی ہم نے اوپر قرآن سے یہی سیکھا
    اس لیے اللہ کی بارگاہ میں خرچ کرتے وقت عمدہ اور بہترین کا انتخاب کیجئے. تاکہ جب وہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے تو آپ کے اندر اس کی محبت بھی ہو اور اس پر رب العالمین کی راہ میں دینے والا جزبہ بھی کہ میں اپنی قیمتی چیز جس سے مجھے محبت ہے اپنے رب کی راہ میں اس کے حکم سے اپنی محبت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دیتا ہوں.
    یہی روح_قربانی ہے کہ رب کا حکم نفس کی خواہش پر ہر طرح سے غالب رہے
    والسلام
    تحریر : چوہدری عطا محمد

  • آج کا معاشرہ اور والدین کا کردار.تحریر :یاسر خان بلوچ

    آج کا معاشرہ اور والدین کا کردار.تحریر :یاسر خان بلوچ

    آجکل ہم آئے دن سوشل میڈیا پر جنسی استحصال کا سنتے ہیں۔اور یہی وہ سب سے بڑی غلطی ہے جسمیں والدین غفلت کا شکار ہیں۔جسمیں ان کی اولادیں بلیک میلنگ جیسے گھٹیا کاموں میں ذلیل ہو رہے ہیں خواہ وہ جنسی، جسمانی، مالی اور ذہنی استحصال ہو۔اور کچھ عرصے سے ایسے واقعات ہوئے ہیں جسمیں حقیقت والدین کے سامنے کھل کر آ گئی ہو گی۔
    سب سے پہلے ہمیں اس غلط فہمی سے باہر آنا ہو گا کہ ہمارے بچے محفوظ ہیں۔ہمیں اپنے بچوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے نچوں کی ذہنی، جسمانی، اور جنسی ضرورتوں کے بارے میں خیال رکھنا ہو گا۔والدین کو کھل کر اس کے متعلق اپنے بچوں سے بات کرنے کی ضرورت ہے خاص طور پر لڑکیوں سے۔کسی بھی سنگین غلطی کے بعد بلیک میل ہونے کیلئے تیار ہونا بھی ایک سنگین غلطی ہے۔
    ہمیں یہ بات اب سمجھ لینی چاہیے کے باہر ایسے خونخوار اور بیہودہ قسم کے بھیڑیے (عثمان مرزا) گھوم رہے ہیں جو کبھی بھی ہماری نسل پر حملہ کر سکتے ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں دوستی کے نام پر ایک ٹرینڈ بنا ہوا ہے انسان کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ دل میں ایک جگہ بنتی جاتی ہےجسے وہ فرینڈ شپ سے پورا کرنا چاہتا ہے۔اسی فرینڈ شپ سے وہ ایک معاشرے تک پہنچتا ہے۔ اور جب تک اسے پتا چلتا ہے کہ یہ کیسا معاشرہ ہے تو وہ اسکی دلدل میں پھنس چکا ہوتا ہے اور اس سے نکل نہیں سکتا۔پھر یہ معاشرہ یا تو اسے نشے پہ لگا دیتا ہے یا تو اسے گندگی میں گاڑھ کر رکھ دیتا ہے۔ پھر اسے جرائم پیشہ عناصر میں ملوث کروا دیتا ہے۔

    اکثر والدین کو یہ زعم ہوتا ہے کہ ان کی اولاد کا کردار بہت پختہ ہے اور انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ کس سے مل رہے ہیں؟ کس کے ساتھ بیٹھ رہے ہیں؟ کون سی محفل میں ان یا آؤٹ ہو رہے ہیں؟ گھر کب آ رہے ہیں؟ کیونکہ وہ اس یقین میں رہتے ہیں کہ ان کی اولاد ایسا کر ہی نہیں سکتی۔
    مگر افسوس کے ساتھ جب تک انہیں ان کے پختہ کردار کا علم ہوتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔تب وہ سوائے اپنی آنکھوں سے اشک بہانے کے کچھ نہیں کر سکتے۔ جب تک انہیں معلوم ہوتا ہے تب تک وہ اس گندگی میں اتنے پھنس چکے ہوتے ہیں کہ نکلنا مشکل ہوتا ہے۔
    حالیہ واقع میں عثمان مرزا اور اسکے ساتھی جس جوڑے کی ویڈیو بناتے ہیں وہ ایک سال پہلے کی ہے اور اطلاعات کے مطابق اس جوڑے کو پانچ سے چھ دفعہ بلیک میل کر چکے ہوتے ہیں۔ اور میرے مطابق ایسے واقعات جن وجوہات کی بنا پر رونما ہو رہے ہیں ان میں سب سے بڑی وجہ اپنے بچوں کیلئے والدین کا ٹائم نہ نکالنا ہے۔ اور بچوں سے ایسا تعلق نہ بنانے کی وجہ ہے جسمیں آپکے بچے آپکو اپنے بارے میں کھل کر بتا سکتے ہوں۔
    آپ خود سے یہ سوال کریں کہ کیا آپ اپنی بیٹی یا بہن سے ان کے جسمانی تعلق کے متعلق بات کرنے کو تیار ہیں؟ کیا آپ اسکی ذہنی، نفسیاتی تعلق کے متعلق بات کرنے کیلئے تیار ہیں؟ معاشرہ اور لوگ اسکا تماشہ لگائیں اسے ذلیل کریں اس سے بہتر ہے کہ آپ اس سے پہلے ان سے اس کے متعلق بات کریں۔
    ہمیں پاکستان میں ایسا قانون نافذ کروانے کی ضرورت ہے جسمیں ایسے بھیڑیوں کیلئے سنگین سزائیں رکھی جائیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسطرح کے جرائم سے دور رہیں۔
    ماں باپ، معاشرہ، تعلیمی ادارے اور مساجد و مدارس کی سطح پر اس حوالے سے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچے محفوظ رہیں۔
    ہمارا معاشرہ اس حد تک گر چکا ہے۔اور ہمیں اس گندگی کو صاف کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اگر ہم نے یہ نہ کیا تو یہ گندگی آج نہیں تو کل ہم تک بھی پہنچ سکتی ہے۔اور پھر پچھتانے کو کچھ نہیں بچے گا۔

  • ہندوستان حالات حاضرہ کی روشنی میں قسط نمبر(1).تحریر: محمد صابر مسعود

    ہندوستان حالات حاضرہ کی روشنی میں قسط نمبر(1).تحریر: محمد صابر مسعود

    تنِ تنہا سفر کرنے کا میرا یہ پہلا موقع تھا جب دہلی سے میوات کا قصد کیا اس وقت عمر نو، دس سال تھی لیکن دل پر رنج و غم تھا، نا ہی پیشانی پر کسی بھی طرح کا بل جبکہ گھر تقریباً سو کلو میٹر کی مسافت پر تھا کیونکہ یہ سنہ 2008 – 2009 تھا اس وقت ہندوستان میں حقیقتاً ایک حد تک جمہوریت باقی تھی، ” ہندو، مسلم، سکھ، عیسائ سب آپس میں بھائ بھائ” کا نعرہ واقع کے مطابق تھا، تقسیم کرو (ہندو مسلم کو بانٹو) اور حکومت کرو کا نعرہ لگانے والی انگریز کی غلام، دوغلی، بدکار، زہرو نفرت پھیلانے والی اور ہندوستان کو بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کردینے والی بھارتی جنتا دل جیسی پارٹیوں کا راز نا تھا، مدرسے سے نکل کر، اساتذہ سے چھپ چھپاتے ہوئے اسٹیشن پہنچ کر سبز کلر کی کثیر ڈبوں پر مشتمل ایک پرانی سی ٹرین میں جا بیٹھا جسکی رفتار یک بیک کم و زیادہ ہو جاتی تھی، سامنے تین چار نوجوان لڑکے بیٹھے ہوئے تھے جنکی قد و قامت تقریباً ساڑھے پانچ، چھ فٹ تھی، دیکھنے سے وہ اسکول کے طلباء نظر آ رہے تھے، کمسن دیکھ کر میرا دل رکھنے کے لئے طنز و مزاح کی باتیں کرنے لگے، تعلیم و تعلم اور گھر کے احوال و کوائف کے بارے میں دریافت کرنے لگے، اسی طرح گفت و شنید چلتی رہی اور بڑے ہی آرام و سکون کے ساتھ گویا کہ میں اپنے بھائیوں کے ساتھ تکلم کر رہا ہوں پلول پہنچ گیا، انہوں نے مجھ سے معلوم کیا کہ تم گھر کے راستے سے آشنا ہو؟ میں نے معصوم سے لہجے میں مسکراتے ہوئے سر ہلا کر کہا’ جی ہاں’ باجود اس کے کہ مجھے راستے کا علم تھا انہوں نے آٹو والے سے کہا کہ اسے فلاں جگہ چھوڑ دینا مزید یہ کہ وہاں سے کسی دوسرے آٹو میں بٹھا کر اسے گھر کی جانب روانہ کردینا اور ہنستے و مسکراتے ہوئے الوداع کہ کر مجھے روانہ کردیا۔۔۔۔

    یہ حقیقی جمہوری ہندوستان تھا اس وقت سب لوگ بھائی بھائیوں کی طرح رہا کرتے تھے لیکن آج اسی ہندوستان میں، اسی روٹھ پر جسکا میں نے ذکر کیا (2017/22/جون) کو میوات میں کھنداؤلی گاؤں کے سولہ سالہ حافظ جنید کو عید کی خریداری کے بعد دہلی سے گھر لوٹتے ہوئے متعصب و متنفر، غلیظ و ناپاک اور ذلیل و بدبودار ہندو غنڈوں نے ٹرین میں چاقو مار مار کر شہید کردیا تھا تعجب کی بات یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ کوئ اس ظلم کو روکتا جس پر آسمان بھی بلک بلک کر رویا ہوگا، فرشتے بھی ان ظالموں کو صفائے ہستی سے مٹانے کے لئے تڑپے ہونگے حاضرین میں سے بعض درندہ صفت انسانوں نے کہا کہ ان سب کو مار دو۔۔۔۔۔

    جاری ہے۔۔

  • مقامات مقدسہ کی  زیارت .تحریر:‏محمد آصف شفیق

    مقامات مقدسہ کی زیارت .تحریر:‏محمد آصف شفیق

    ‏کورونا کی وبا نے جہاں گھروں تک محدود کردیا وہیں دفتر کی بجائے گھر سے کام اور جمعہ ہفتہ کی چھٹی نے ایسے مواقع فراہم کر دئے کہ ہر ہفتہ آپ باقائدہ پروگرام بنا کر سعودیہ میں موجود مقامات مقدسہ کی زیارتیں خود بھی کرسکیں اور اپنے دوست احباب کیساتھ اپنا تجربہ شئر کرسکیں ، میں روزگار کے سلسلہ میں 2005 سے سعودیہ میں مقیم ہو ں ، اس وبا کے دوران سعودیہ کے طول و عرض میں گھومنے کا موقع میسر آیا ، کمپنی کا اللہ بھلا کرے انہوں نے گزشتہ فروری میں الریاض سے جدہ ٹرانسفر کردیا اور موقع ملا کہ کم و بیش ہر ہفتہ کسی نہ کسی مقدس مقام کی زیارت کی جائے
    ‏جدہ سے حدیبیہ کا فاصلہ کم و بیش 60 کلومیٹر ہے اپنی گاڑی پر آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں وہاں پہنچا جا سکتا ہے ، ہم بھی اپنے احباب کے ساتھ جدہ سے بزریعہ کار حدیبیہ پہنچے ٹھیک اسی مقام پر جہاں صلح حدیبیہ پیش آیا پرانی مسجد کی باقیات موجود ہیں اور گورنمنٹ کی طرف سے ایک رہنمائی کیلئے بورڈ بھی آویزاں ہے ، ایک نئی مسجد بھی تعمیر کی گئی ہے جسے مسجد حدیبیہ کا نام دیا گیا ہے ، مسجد حدیبیہ لکھ کر گوگل میپ سے با آسانی اس مقام تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے ، اسی رہنما ئی والے بورڈ پر عربی اور انگلش میں تحریر موجود ہے مگر سہولت کیلئے بورڈ پر بار کوڈ موجود ہے جسے سکین کرنے پر ساری معلومات اردو اور انڈونیشن زبان میں بھی تبدیل ہوجاتی ہے

    ‏مکہ مکرمہ سے جدائی کے چھ سالوں بعد 1400 صحابہ کرامؓ کیساتھ حج کی غرض سے مدینہ منورہ سے ہی احرام باندھ کر قربانی کے جانور ساتھ لے کر اور نیام کی تلوار کے علاوہ کوئی ہتھیار بھی ساتھ نہیں مگر پھر بھی قریش مکہ نے آپ ﷺ کو اور صحابہ کرام ؓ کو مکہ جانے سے روک دیا اور آپ ﷺ نے حضرت عثمان غنی ؓ کو اپنا ایلچی بنا کر بھیجا جنہیں قریش مکہ نے روک لیا اور مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ حضرت عثمان ؓ کو شہید کردیاگیا ہے تو اصحاب رسول ﷺ میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہم اس وقت تک یہاں سے نہیں جائیں گے جب تک کہ مشرکین سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بدلہ نہ لے لیں اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ ببول کے درخت کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھ گئے اور تمام صحابہ ؓ نے قصاص عثمان ؓ پر آپ ﷺ نے بیعت لی جسے بیعت رضوان کہا اور سورۃ الفتح میں جس کا ذکر آیا
    ‏جب جب آپ ان مقدس مقامات کی زیارت کو جائیں تو قرار اور سکون میسر آتا ہے اسے الفاظ میں بیان کیا جانا ممکن نہیں ، زیارت مقامات مقدسہ کا سلسلہ ان شاء اللہ جاری ہے اور ان شاء اللہ اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنے احساسات آپ سب پڑھنے والوں تک پہنچانے کی کوشش کرتا رہوں گا
    ‏دعاوں کا طلبگار
    ‏محمد آصف شفیق
    ‏جدہ ۔ سعودیہ
    ‏⁦‪masief@gmail.com‬⁩

  • ہمیں افغانستان کی صورتحال پر نظر کیوں رکھنا پڑتی ہے؟ تحریر: ارشد محمود

    ہمیں افغانستان کی صورتحال پر نظر کیوں رکھنا پڑتی ہے؟ تحریر: ارشد محمود

    افغانستان جو آج کل اخبار کی زینت بنا ہوا ہے اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ ایک علم کو اپنے ذرائع سے خبروں کی کھیپ پہنچتی رہتی ہے ۔ تو ایسے میں ہم بھی کان لگا کر ہمہ تن گوش ہوتے ہیں کہ دیکھیے کون سی خبر ہم تک کیسے پہنچتی ہے ۔افغانستان سے ہمارا رشتہ اتنا ہی قدیم ہے جتنے کہ ہم خود ۔ ایک تو افغانستان کی اکثریت آبادی مسلم ہے ، دوسرا ہماری ہمسائیگی میں واقع ہونے کی وجہ سے ہمیں اس کے معاملات پر نظر رکھنی پڑتی ہے، تیسرا عالمی طاقتوں کی گزرگاہ ماضی کی طرح آج بھی افغان زمین کو ہی سمجھا جاتا ہے اور چوتھا ہمارا ازلی دشمن بھارت امریکی آشیرباد سے افغانستان میں اپنے خونی پنجے مضبوط کیے بیٹھا ہے جس کی وجہ سے نہ چاہتے ہوے بھی ہمیں افغانستان کی بدلتی حالت پر نہ صرف نظر رکھنا پڑتی ہے بلکہ حالات کو اپنے لیے سازگار بنانے کی جدو جہد بھی کرنا ہوتی ہے۔ پاکستان بحیثیت ریاست کبھی بھی افغانستان میں جنگ نہیں چاہتا کیونکہ ادھر جنگ کا مطلب ہے کہ اس کی تپش پاکستان تک پہنچنا ۔ ماضی قریب و بعید میں بھی پاکستان نے افغانستان میں امن کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ امریکا کو افغانستان سے نکالنے کا راستہ ملنا پاکستان کی ہی مرہون منت ہے ۔ بھارت نے جہاں افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے وہی پر اس نے افغانستان میں اپنی انٹیلی جنس ایجنسی کو ایسے استعمال کیا ہے کہ ایک طرف امریکیوں کی خبریں رکھی ہیں اور دوسری طرف پاکستان میں دخل اندازی کرکے پاکستان کے حالات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی کرچکاہے۔

    کئی ایک افغانی اس گھناونے کام میں بھارت کے نہ صرف مددگار رہے ہیں بلکہ بھارتی پے رول پر کام بھی کرتے رہے ہیں۔ پاکستان نے امت واحدہ اور انسانیت کے نام پر لاکھوں بلکہ کروڑوں افغانیوں کو پناہ دی اور ان میں سے کچھ نے اپنا دین ، روایات اور اصول و ضوابط کو پس پشت ڈال کر بھارتی پروپیگنڈے سمیت خودکش دھماکوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھارت کا ساتھ دیا ہے ۔ آج کے اخبارات میں ایک خبر چھپی ہوئی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ افغان ایجنسی بھی بھارتی ایجنسی کے ساتھ ملکر اپنے بڑے بھائی کے چھرا گھونپ رہی ہے ۔ اخبار کے مطابق طالبان کو افغان چیک پوسٹوں سے 3 ارب روپے کے قریب پاکستانی کرنسی ملی ہے ۔ یاد رہے کہ یہ چیک پوسٹیں پاکستانی سرحد پر افغان سیکیورٹی فورسز سے چھینی گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر بھی کچھ تصاویر موجود ہیں جن میں ایک شخص کو پاکستانی روپیوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ بتائی گئی معلومات کے مطابق یہ رقم افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس کے کرنل کے کمپاونڈ سے ملی ہے۔ اس کمپاونڈ کے عقب میں ہی قندھار کا بھارتی قونصلیٹ تھا جو تازہ تازہ خالی ہوا تھا ۔ افغان سیکیورٹی فورسز یہ رقم سمگلروں سے بطور رشوت لیتی رہیں اور پھر یہ رقم پاکستان میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو دی جاتیں جو پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرتی تھیں۔

    حالیہ خبر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں ہوے دہشت گردانہ واقعات میں افغانی انٹیلی جنس کا کردار کس قدر اہم رہا ہے ۔ پاکستان پر قبضے کے خواب دیکھنے والے امریکا و نیٹو افواج کے انخلا کے بعد اپنی زمین کا دفاع کرنے میں تو نا کام ہو چکے ہیں ۔ آئے روز طالبان کی طرف سے بتایا جا رہا ہے کہ وہ فلاں قصبے میں داخل ہوچکے ہیں اور اتنے افغان فوجیوں نے ہتھیار ڈال کر پناہ مانگی ہے ۔ ایسے میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے کہ افغان سرحد کے قریب چند لوگ پاکستانی سرزمین میں رہتے ہوئے بھی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے سے باز نہیں آتے ۔ امید ہے کہ جہاں بھارت کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور افغان حکومت کو اپنی حکومت بچانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہیں پر ان بے وقوفوں کو بھی سمجھ آجائے گی کہ وہ کن ہاتھوں میں کھیلتے رہے ہیں۔ پاکستان آج بھی کوشش میں ہے کہ افغان عوام کا کم سے کم نقصان ہو کیوں کہ افغانی ہمارے بھائی ہیں اور ہم آج بھی انھیں امن و سکون سے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن بھارت کی کوشش ہے کہ وہ افغانی خفیہ ایجنسی کے ذریعے نہ صرف افغانستان میں جما رہے بلکہ پاکستان میں بدامنی پھیلاے ۔ بھارت یاد رکھے کہ پاکستانی عوام نہ صرف جاگ رہی ہے بلکہ افغانستان میں ہورہے واقعات پر گہری نظر رکھے معاملات کو سمجھ بھی رہی ہے ۔ ایسے میں اگر بھارت باز نہیں آتا تو اسے نکیل ڈالنے میں کوئی تردد نہ ہوگا ۔