Baaghi TV

Category: بلاگ

  • لوگ کیا کہیں گے .تحریر: فرمان اللہ

    لوگ کیا کہیں گے .تحریر: فرمان اللہ

    یہ جملہ اکثر اوقات آپ سنتے ہوں گے کہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے اور اس جملے کی وجہ سے ہم اکثر اوقات مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ ہم بعض اوقات اسلام کے بتائے ہوئے احکامات کے خلاف بھی چلے جاتے ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔

    شادی کی تقریب کرنی ہے تو اپنی حیثیت سے بڑھ کر اخراجات کرنے ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ بچی کو جہیز دینا ہے اور جہیز ایک لعنت ہے لیکن دینا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ شادی بیاہ پر جانا ہے تو اچھے اور مہنگے کپڑے پہن کر جانا ہے اور اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس جملے نے انسان سے اس کی اپنی خواہش چھین لی ہے اور ہم ساری عمر بس وہی کرتے ہیں جس سے لوگوں کو خوش کر سکیں۔

    ہمارا معاشرہ اگر اس جملے کو ہی ترک کر دے تو ہمارے بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے اور ہم بہت ساری مشکلات سے باہر آ جائیں گے لیکن ہمارے معاشرے میں یہ ایک رواج بن چکا ہے اور سب اس بات کو بخوبی جانتے بھی ہیں لیکن پھر بھی اپنی سوچ اور حیثیت سے ہٹ کر کام کریں گے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے

    میرا مشورہ ہے کہ لوگوں کو جو کہنا ہے کہنے دیں آپ وہ کریں جس کا حکم ہمیں ہمارے دین نے دیا ہے وہ کریں جو آپ کی حیثیت کے مطابق ہو۔

  • مائے نی میں کنوں آکھاں……..تحریر:فرح خان

    مائے نی میں کنوں آکھاں……..تحریر:فرح خان

    عدل و انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اب تک عدل کا حصول بہت مشکل ہے۔عام آدمی انصاف کی تلاش میں خود منوں مٹی تلے سو جاتا ہے،جس کی بڑی وجہ ہے:
    لاپرواہی، اثر و رسوخ اور انصاف میں تاخیر ۔

    حیدرآباد تھانہ بلدیہ کی حدود میں شوہر کے ہاتھوں بہیمانہ تشدد سے قتل ہونے والی بیوی 4 معصوم بچوں کی ماں قرت العین کے لیے شوشل میڈیا پہ آواز بلند کی جارہی ہے ۔

    قرت العین کا قاتل شوہر عمر میمن بااثر ہونے کی وجہ سے پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا مقتول خاتون کے ورثہ کی اپیل پہ مقتول قرت العین کے قاتل شوہر عمر میمن کو سخت سزا ملے گی؟کیا معصوم بچوں کو ان کی جنت اجڑنے پہ ان کو انصاف ملے گا۔یا ہمیشہ کی طرح انصاف کی دھجیاں اڑا دی جائیں گی۔پا اثر لوگ اپنے اثر و رسوخ سے بےگناہ اور آزاد دھندھناتے پھرتے رہیں گے۔

    مائے نی میں کنوں آکھاں،
    درد وچھوڑے دا حال نی
    مائے نی میں کنوں آکھاں،

    فرح خان
    @MastaniFarah

  • ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا؛تحریر۔سمیرہ جمال

    ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا؛تحریر۔سمیرہ جمال

    اسلام صرف عبادت کا ہی نام نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو کو کیسے گزارنا ہے بہت خوبصورتی سے بتایا ہے
    اسلام میں باہمی رویوں میں توازن ہے۔ اسلام وہ مذہب ہے جہاں دوسروں کے حقوق پہ بھی بہت زور دیا گیا ہے۔ہمیں خالص اللہ کی رضا کے لئے جہاں تک ہو سکے نفع بخش بننا چاہیے، اور اپنی زندگی کو انسانیت کی بھلائی میں کسی نہ کسی طرح مصروف رکھنا چاہیے ۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ زندگی ہمیں بہت کم وقت میں بہت سبق سکھا دیتی ہے۔ انسان کی زندگی میں رونما ہونے والے حوادث ہی انسان کی سوچ کا دھارا بدل دیتے ہیں۔ سوچ میں میں پختگی آجاتی ہے، انسان اپنی ,میں؛ سےنکل آتا ہے۔یہ وہ اسٹیج ہوتی ہے جہاں پھر آپ کی اپنی خواہشات ،اپنی تمنائیں، اپنی خوشیاں اتنی اہم دکھائی نہیں دیتی جتنا دوسروں کے کام آنا، ان کے دکھ، ان کے غم ،ان کے آنسو سمیٹنا آپ کو اچھا لگتا ہے
    میں سمجھتی ہوں یہاں اس اسٹیج پر آکر دراصل انسان کا اپنے رب سے رشتہ اتنا مضبوط ہو چکا ہوتا ہے کہ دنیا ہیچ نظر آتی ہے۔ تب سوچ بدلتی ہے اور اللہ کی مخلوق کی خدمت زیادہ سکون دیتی ہے۔ یہاں میں چند چھوٹے چھوٹے کاموں کا ذکر کروں گی کہ جن کو کرنے کے بعد انسان بہت پرسکون حالت میں ہو جاتا ہے ۔
    اگر آپ کو اللہ تعالی نے صاحب مال کیا ہوا ہے تو اسی کے دیے ہوئے مال میں سے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کریں۔
    زیادہ دور نہیں کبھی اپنے اردگرد نظر دوڑائیں یقین کیجئے اتنے سفید پوش آپ کو نظر آئیں گے جو آپ کی مدد کے منتظر ہیں
    کبھی کہیں اگر آپ کو محسوس ہو کہ یہاں پہ کوئی شجر لگانا چاہیے لوگوں کی گزر گاہ تو وہاں پہ ایک سایہ دار شجر لگا دیں
    کبھی دیکھیں جہاں لوگوں کو پانی کی زیادہ ضرورت ہو یا گزرگاہ ہو تونلکا یعنی ہینڈ پمپ لگا کر دیکھیں اور مشاہدہ کریں آپ کے اس سے لوگوں کی دعائیں آپ کے شامل حال ہوگئی ہیں ۔اگر اللہ تعالی نے آپ کو اس سے زیادہ دے رکھا ہے تو آپ الیکٹرک کولر بھی لگوا سکتے ہیں۔
    گرمیاں سردیاں جب بھی موسم کا آ غا ز ہو آ پ اپنی فیملی کے کپڑے دھلوا کر پیک کروا کے اسے کسی کا تن ڈھانپنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں

    آپ کو معیوب لگے گا مگر کبھی ایسا کر کے دیکھیے کہ چھوٹی مارکیٹ میں شاپنگ کا بہانہ کر کے چکر لگائیں کہیں اگر آپ محسوس کریں کہ دکاندار کی مطلوبہ رقم گاہک ادا نہیں کر سکتا اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ مستحق ہے تو خاموشی سے دکاندار کو اشارہ کیجئے اس گاہک کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے دوکاندار ان کی خواہش کے مطابق رقم لے اور اوپر والے پیسے آ پ ادا کر دیجیے ۔
    جب بھی آپ کسی تہوار کے لیے نیا لباس لیں تو کوشش کریں کہ ایک اپنا پرانا لباس جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ اسے و شکر کے بیک کیجئے اور کسی مستحق کے گھر رات کے اندھیرے میں دے آئیے یہ بھی ایک قسم کا صدقہ ہے۔
    ہر مہینے کوشش کریں کہ کم از کم ایک یا دوفیملیز کو راشن کے ذریعے سپورٹ کیجئے ۔
    یاد رہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے کوشش کریں کہ یہ چند چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو ان سفید پوشوں کی بے بسی کو کیمرے میں مقید کرکے ضائع مت کیجئے
    خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اللہ کی رضا کی خاطر نیکیاں سمیٹ رہے ہیں
    جس سماج میں عدم مساوات ، دولت کی غلط تقسیم ، معاشی بدعنوانی اور سیاسی خود غرضی اور موقع پرستی جیسے رجحانات ہوں ،وہاں آپکی یہ چند چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہوا کا جھونکا ہوں گی جہاں آپ دعائیں تو سمیٹے گے وہیں آپ خود کو بہت مطمئن بہت پرسکون محسوس کریں گے
    اللہ آپ کا، میرا، ہم سب کا حامی و ناصر ہو

    تحریر۔۔ سمیرہ جمال
    @sumairajamalkha

  • وہی خدا ہے .تحریر۔۔ محمد کامران

    وہی خدا ہے .تحریر۔۔ محمد کامران

    ذرے زرے میں اس کے جلوے جو ہر قدم پر عیاں ہوتے ہیں، مگر افسوس دنیا کی لذت نے ہمیں سب بھلا دیا کہ سرسوں کے دانے کی بساط ہی کیا ! مگر تم دیکھتے نہیں کیا؟

    کہ وہ زمین کے سخت پردوں کو چیرتے ہوئے نرم و نازک سبز پتی کی شکل میں اپنا جلوہ بکھیرتے اور اپنے وجود کے زریعے اس کی وحدانیت کا یقین دلاتے ہیں۔ شبنم کی بوندیں جو تمہاری نظر میں کچھ نہیں انکی قدر نوزائیدہ نونہالوں سے پوچھو جنکی پیاس بجھا کر انہیں جوان اور تندرست کر دیتی ہیں۔سورج کی روشن چمکتی کرنیں جو صرف تم اپنی خوشی کا زریعہ سمجھتے ہوئے بے دردی سے ہر روز پاوں تلے کچلتے ہو وہ اپنی تیز و گرم مگر مہربان گود میں لے کر پرورش کرتیں ہیں اور ہر روز ایک نئی زندگی عطا کرتی ہیں۔ دیکھو ! ہوا کے شگفتہ جھونکے اس نازک ترین پودے کو جھولا جھلاتے جیسے ایک ماں انہیں اپنی گود میں لیے تحفظ کا احساس دلاتے ہوئے جوان کر رہی ہو۔

    کبھی غور کیا ؟ کہ وہ نازک پودے کس سلیقے، ترتیب اور نظم و ضبط کے ساتھ پرورش کرتے ہوئے تمہاری ہی نظروں کے سامنے تندو مند اور مظبوط پودے بن جاتے ہیں۔
    اتنے بہت سے اسباب جنکو کسی طرح بھی ہم اتفاق نہیں کہ سکتے اس معمولی بے ضرر اور باریک دانے کو مظبوط پودہ بنانے میں کار فرما رہتے اور وہ ماحول فراہم کیا جو آپ اور میں نہیں دے سکتے۔
    ہاں تو کہو ! کوئی تو ہے جسکے حکم سے سب ہوا۔۔۔
    مزہب کی اصطلاح میں اس قوت کا نام "خدا ” ہے۔ وہی خدا ہے ” وہی خدا ہے”
    جسکا وجود وحدانیت زرے زرے سے عیاں ہے، جسے دل سے تسلیم کرنے میں ہی ہم سب کی بقا ، کامیابی اور بخشش ہے۔

    تحریر۔۔ محمد کامران
    @kaamm_ii

  • حضرت عمرؓ .تحریر مدثر محمود

    حضرت عمرؓ .تحریر مدثر محمود

    مرادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تاریخِ اسلام کی وہ نامور شخصیت ہیں جو جرأت و بہادری کی وجہ سے قبولِ اسلام سے قبل ہی شہرت کے حامل تھے۔ امام ترمذی نے بیان کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی اسی جرأت کی وجہ سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بحضورِ الہٰ التجاء کی: اے اللہ! عمر بن خطاب اور عمرو بن ہشام (ابوجہل) میں سے اپنے پسندیدہ بندے کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا فرما۔ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کی دعا قبول کرتے ہوئے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعہ اسلام کو عزت دی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام سے قبل مسلمان مشرکینِ قریش سے چھپ کر عبادات کیا کرتے تھے لیکن جب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ آج سے مسلمان عبادات چھپ کر نہیں بلکہ علی الاعلان کیا کریں گے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:

    ’’بے شک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام ہمارے لیے فتح تھی۔ خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے ہم نے مشرکین کا مقابلہ کیا اور خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھنا شروع کیں۔‘‘

    (المعجم الکبیر للطبرانی، رقم: 8820)

    اُس دن سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا لقب فاروق رکھ دیا گیا۔ یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا-

  • بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں باپ کا کردار! .تحریر: فیضان علی

    بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں باپ کا کردار! .تحریر: فیضان علی

    بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں باپ کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے جو کے پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے
    ابتدائی عمر سے لے کر اسے شعور آجانے تک یہ والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اسے کیسا ماحول فراہم کر رہے ہیں کیونکہ وہ جس ماحول میں رہے گا اور وہاں کے لوگوں کے درمیان رہے گا جو انہیں کرتا دیکھے گا وہی اس کورے کاغذ یا سلیٹ جیسے دماغ میں نقش ہوجائے گا

    (ماں کی گود بچے کی پہلی درست گاہ ہوتی ہے)

    تعلیم و تربیت انسانی روح کی بہت اہم غذا ہیں
    جب بچہ دنیا میں آ کر اپنی آنکھیں کھولتا ہے تو اس کے کانوں میں اذان دی جاتی ہے گویا اسی وقت اس کی تعلیم و تربیت کا آغاز ہو جاتا ہے ماہرین کا کہنا ہے بچے کا دماغ کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے بچہ جس ماحول میں پیدا ہوتا ہے بہت جلد وہ اسی ماحول کا اثر پکڑ لیتا ہے
    اپ جیسا ماحول بچوں کو مہیا کریں گے وہ اسی ماحول کی تعلیم حاصل کریں گا اور اسی رنگ میں ڈھل جائیں گے یہ بات ہم پر لازم ہے کے ہم اپنے بچوں کو کس قسم کا ماحول اور کس قسم کی تعلیم اپنے بچوں کو دیتے ہیں
    ابتدائی عمر سے لے کر انہیں شعور آجانے تک یہ والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ بچوں کو ایک اچھا ماحول دیں اور ان کی اچھی تربیت کریں بچے اپنے ماحول میں اردگرد کے لوگوں کو جو کرتا دیکھیں گے جن کے ساتھ نشت و برخاست ہوں گا انہی چیزوں کو انہی کے آداب طور طریقے اپنے دماغ میں نقوش کرتے جائیں گے اور یہ ماحول کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے
    سب سے بڑھ کر ماں باپ کی محبت بچوں کے لیے، بچوں کی تعلیم و تربیت میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے آپ اپنے بچوں کے ساتھ جس شفقت اور محبت کے ساتھ پیش آئیں گے اپ کے بچے بھی اسی طرح ایک میٹھی تربیت حاصل کریں گے دنیا میں محبت اور شفقت سے بڑھ کر کچھ نہیں یہی شفقت بچوں کو ایک اچھا انسان بھی بناتی ہے

    اب جب بچہ اسکول جانے لائق ہوجاتا ہے تو لازماً اسے ادب و آداب و اخلاقیات اور حسنِ عمل کی بنیادی تربیت فراہم کی جائے والدین کو اپنے گھروں میں مذہبی اور روحانی ماحول تشکیل دینے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے انہیں جھوٹ، بدزبانی اور لڑائی جھگڑے سے کنارہ کشی اختیار کرلینی چاہیے بچوں کو کھیلنے کے لیے کون سا کھلونا دینا ہے یہ فیصلہ کرتے ہوئے والدین کو بہت بڑی احتیاط برتنی چاہیے
    گھر کا ماحول سب سے اہم ترین عنصر ہے جو بچے کی زندگی پر گہرا اثر مرتب کرتا ہے ایک بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی لمحات سے ہی اپنے والدین پر منحصر ہوتا ہے جو اس کی تمام ضروریات کو پورا کرتے ہیں والدین بچوں کے پہلے معلمین ہوتے ہیں اور ان کے لیے رول ماڈل کا کردار ادا کرتے ہیں
    بہت سارے بچے خوش قسمت ہوتے ہیں کے جن کو گھر کا ماحول والدین کی محبت اور شفقت سے بھرپور ایک اعلیٰ سازگار ماحول ملتا ہے اور یہ بچوں کی کامیابی کا بہت اہم ضامن ہے
    اگر والدین یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں کتنے کامیاب ہیں تو اس کا اندازہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کو دیکھ کر لگا سکتے ہیں اگرچہ بچے اخلاقی طور پر اچھے ہیں تو یہ والدین کی اعلیٰ کامیابی ہے یوں بچے کامیابی اور ناکامی پرکھنے کا حقیقی پیمانہ ہیں

    بچوں کو چند احتیاطی تدابیر کے ساتھ والدین کے زیرِنگرانی سوشل میڈیا کا استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
    جب بچہ 10، 12 سال کا ہو جاتا ہے تو والدین کی ذمہ داریوں میں بھی تبدیلی آ جانی چاہیے اس عمر میں بچہ اسکول میں محلے میں اور معاشرے میں دوستیاں قائم کرنے لگتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اس عمر میں بچوں کے دوست بن جائیں اور ان کے لیے صحیح راستے کی رہنمائی کریں۔
    بچوں کی یہ عمر ہر لحاظ سے خوب پھلنے پھولنے کی ہوتی ہے اس عمر میں بچوں کی نقل و حرکات پہ کڑھی نظر رکھنی چاہیے بچوں کو گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے کے ساتھ اپنے ساتھ نماز ادا کرنے کا پابند بھی بنائیں اور معاشرے میں بڑھتے کچھ جرائم اور تشدد کے واقعات کے بارے میں بڑی احتیاط کے ساتھ بچوں کو انکے بارے میں آگاہ کیا جائے،
    ایک سنہری کہاوت ہے کے گھر میں بچوں کے اچھے دوست بن جائیں تو بچے باہر کی بری دوستی سے بچ جاتے ہیں سادہ الفاظ میں یہ کہوں گا کے بچوں کو گھر میں اچھا دوستانہ ماحول مہیا کریں تاکے اپ کے بچے بُری صحبت سے بیچیں
    اولاد ﷲ تعالٰی کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس کا تحفظ کرنا والدین کی زمہ داری ہے
    اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ، ‘اے ایمان والو تم اپنے آپ کو اور اپنے گهر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندهن آدمی اور پتهر ہیں۔‘ (66:6)

  • پاکستان اور اس کا مستقبل،تحریر: اسعد گل اعوان

    پاکستان اور اس کا مستقبل،تحریر: اسعد گل اعوان

    پاکستان کا مستقبل سیاسی، مزہبی اور دفاعی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان دنیا میں ایٹمی قوت سے جانا جاتا ہے۔ پاکستان اس وقت عالمی طاقتوں کیلئے بہت اہم ہے چاہے وہ روس ہو، چائنا ہو، امریکہ ہو یا پھر عرب ممالک۔ پاکستان کئی سالوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے جس کے نتیجہ میں ستر ہزار سے زائد عام شہری اور افواج پاکستان کے جوان اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کر چکے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ جیسے کہ پہلے کہہ چکا پاکستان کا مستقبل سیاسی،مزہبی اور دفاعی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے تو آئیں ان تینوں پہلوؤں کا الگ سے جائزہ لیتے ہیں۔
    1- سیاسی پہلو:
    پاکستان نے مارشل لاء میں کافی وقت سامنا کیا کیونکہ ہم پر ہمیشہ سے نا اہل حکمران مسلط رہےجنھوں نے صرف اپنے زاتی کاروبار کو آگے بڑھایا۔ مارشل لاء کی وجہ سے پاکستان کو کافی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود پاکستان معاشی طور پر مستحکم رہا۔ پہلے مارشل لاء میں بھی پاکستان معاشی طور پر اتنا مضبوط تھا کہ دوسرے ملکوں کو قرضے فراہم کرتا تھا۔ لیکن مفاد پرست ٹولے کے آنے کے بعد پاکستان کو کشکول اٹھانا پڑا۔ اور پھر اس کرپٹ ٹولی کی آپس کی باریوں کی بدولت پاکستان قرضوں میں ڈوب گیا۔پاکستان کو بہت عرصے بعد ایک ایسی قیادت نصیب ہوئی جس نے اپنے زاتی کاروبار کے بجائے پاکستان کو اہمیت دی اور مزید دیوالیہ ہونے سے بچایا جو اس کرپٹ ٹولے کو ہضم نہ ہوا۔ پاکستان اس وقت عمران خان کی قیادت میں مسحکم کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ اور انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب ٹیکسٹائل سے لے کر آئی ٹی تک پاکستان دنیا میں اپنا نام بنائے گا۔
    2-مزہبی پہلو:
    پاکستان کے وجود میں دین اسلام خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا 27 رمضان کو وجود میں آنا پھر کلمے کی بنیاد پر نام رکھا جانا اللہ کی طرف سے خاص تحفہ ہے۔ ماضی میں پاکستان نے فرقہ ورانہ دہشت گردی کا بھی سامنا کیا۔ حکومت وقت کی پابندیوں اور اقدام کی وجہ سے پاکستان کافی حد تک فرقہ ورانہ دہشت گردی کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ دین اسلام کی سر بلندی اور حضور پاک ﷺ کی ناموس کیلئے جس قدر مضبوط آواز عمران خان نے اٹھائی اس پر عمران خان کی تعریف نہ کرنا نا انصافی ہو گی۔سیاسی پہلو کے ساتھ مزہبی پہلو سے بھی عمران خان پاکستان کے امیج کو بہتر کی طرف لے جا رہے۔

    3- دفاعی پہلو:
    پاکستان دفاعی لحاظ سے کافی مضبوط ملک ہے۔ جس کے پاس جدید ترین ہتھیار، بہترین صلاحیت کی حامل افواج اور دنیا کی اعلی ترین انٹیلیجنس ایجنسی ہے۔ پاکستان کافی عرصے سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے چاہے وہ ٹی ٹی پی ہو، مشرکی اور مغربی بارڈر ہو، بھارتی ایجنسی را کے دہشت گرد ہوں یا بھارت کی حمایت یافتہ بی ایل اے کے دہشت گرد ہوں۔ افواج پاکستان بہت سے عالمی ساشوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ معرض وجود سے لے کر آج تک پاکستان بہت سے ملکوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے لیکن با صلاحیت اور جنگی حالات گزری ہوئی تجربہ کار فوج کے بدولت پاکستان آج بھی قائم ہے اور انشاءاللہ پاکستان کو ختم کرنے کا خواب دشمنان پاکستان کیلئے شرمندہ تعبیر ہوگا ۔

  • جنگیں، فساد یا امن…!!! تحریر: محمد اسامہ

    جنگیں، فساد یا امن…!!! تحریر: محمد اسامہ

    جنگ کا مطلب فساد، خون ریزی، تباہی، بربادی ہوتا ہے. جنگ ہمیشہ فساد کا ہی باعث بنتی ہیں. جنگ جانی، مالی، اعصابی، جذباتی نقصان کا موجب ہوئی ہے. جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہ تھی نہ ہے. اس کا ثبوت یہ ہے کہ مسائل کو جنگ کے ذریعے حل کرنیوالے بالآخر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں. دنیا جنگوں کی تاریخ سے بھڑی پڑی ہے. ان کی داستان کوپڑھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہرجنگ کا اختتام میزپرہی ہوا ہے. جنگ عظیم اول ہو، جنگ عطیم دوئم ہو، ہٹلرکی نسل کشی ہو، سب جنگوں کا اختتام میزپرہوا ہے. جنگوں نے ہمیشہ کسی بھی ملک کی جانی اورمالی کمرتوڑی ہے. جنگ زدہ ممالک اپنے حال سے مزید سوسال پیچھے چلے جاتے ہیں.

    کچھ اس طرح ہی جنوبی ایشیائی ممالک میں ہورہا ہے. جنوبی ایشیاء میں برصغیر کی مثال سامنے رکھیئے. برصغیرپر1000 سال تک حکومت کرنے والے مسلمان حکمرانوں کو آپس میں لڑوا کرانگریزنے برصغیرپرقبضہ کرلیا تھا. اپنی موجودگی میں نسل پرستی کومزید شے دیکر نسلوں کوآپس میں لڑوا دیا گیا تھا. امن کا پیامبربن کردونوں نسلوں میں صلح صفائی کروا کرمعززبن جاتا تھا. برصضیرپرسوسال کی حکومت میں انگریز نے دوقوموں کو لڑوایا ہی تھا. اسی اثناء میں برصغیرمیں ایک قومی لیڈر پیدا ہوئے. جنہیں برصغیر کی موجودہ حالت دیکھ کرسمجھ آ گئی تھی کہ اب یہ دو قومیں اکٹھی نہیں رہ سکتی ہیں. ان دونوں قوموں کو علیحدہ ہونا پڑے گا. طویل جدوجہد کے بعد برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا تھا. اس فیصلے کو منتقی انجام دینے والے وہی انگریز تھے، جنہوں نے دونوں قوموں لڑوایا تھا. چنانچہ تقسیم برصغیر کے وقت بھی انگریزخون کے پیاسے نکلے تھے. تقسیم کے دوران بھی قیمتی جانوں کا سرعام قتل کیا گیا تھا. انگریزنے برصغیر میں نہ چاہتے ہوئے بھی تقسیم کردی تھی. مگر دل میں برصغیرمیں ہونے والی ناکامی پربغض رکھا ہوا تھا. اس بغض کی وجہ سے انگریزنے برصغیرکواب تک مستقل جنگ میں دھکیل دیا ہے. وسط ایشیاء مسلسل میدان جنگ بنا ہوا ہے.

    متعدد چھوٹی جنگوں کے علاوہ اس خطے میں بڑی جنگیں ہوچکی ہیں. 70 کی دہائی میں دنیا نے روس کوآگے لگا کرسوویت یونین کے نام سے 28 ممالک نے خشک اورگرم علاقے کی سرزمین افغانستان پرحملہ کردیا تھا. اس حملہ کے نتیجہ میں بے گناہ جانوں کا ضیاع ہوا تھا. امن سے رہنے لے افغانیوں پرظلم کیا گیا تھا. پھردنیا نے دیکھا نہتے افغانیوں نے اس وقت کی دنیا کی سپرپاورکے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا. یتھیاروں سے لیس 28 ممالک کو نہتے افغانیوں سے شکست سے دوچارہونا پڑا تھا. وقت کی سپرپاورکے 26 ٹکڑے ہوئے تھے. افغانیوں نے اس وقت کی سپرپاورکا غرورخاک میں ملا دیا تھا. سپرپاوراوراس کے اتحادیوں کو منہ کی کھانا پڑی تھی. نتیجہ کیا نکلا، سپر پاوراور اس کے اتحادیوں کا، افغانیوں کا اور خطے کا امن برباد ہوا تھا، خطے کی معاشی حالت برباد ہوگئی تھی. پھراس جنگ ک اختتام بہت سی جانیں گوانے کے بعد ایک میزکے گرد بیٹھ کر، ایک کاغذ کے ٹکڑے پرہوا تھا. یوں کہیں کہ میز کے گرد بیٹحھ کرامن کا معاہدہ کرکے کیا گیا تھا. اتنی جانیں اورمال گوانیں کے بعد میزکے گرد ہی بیٹھنا تھا توجنگ کی کیوں……..

    سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ کے پاس دنیا کی سرداری گئی تھی. تقریبا دس سال کےعرصہ کے بعد امریکہ نے اپنے ملک میں ڈرامائی حملہ کرکے افغانیوں پرالزام لگایا کہ یہ حملہ انہوں نے کیا ہے. اس حملے کا بدلہ لینا اوردنیا کواپنی پاوردکھانے کے لیے افغانستان میں حملہ کرنا ضروری ہوگیا تھا. اپنے ملک میں حملہ کا ڈرامہ کروانے کا مقصد یہی تھا کہ اسے افغانستان پرحملہ کرنے کا بہانہ مل سکے. چنانچہ افغانستان پرحملہ کوعملی جامہ پہنانے کیلئے 7 اکتوبر2001 کی صبح افغانستان کی سرزمین پربارود کے بادل چھانے شروع ہوگئے تھے. اس جنگ میں امریکہ اکیلا نہیں تھا. اس کے ساتھ 58 ملکوں کی فوج تھی. جنہیں نیٹو فورسسز کا نام دیا گیا تھا. ان 58 ملکوں کی فوج کے ساتھ جدید جنگی سازوسامان، دنیا کے بہت بڑے دفائی بجٹ تھے. اس جنگ کو دنیا کی مہنگی ترین جنگوں میں گنا جاتا ہے. اس جنگ مں نیٹو فورسزنے ہمسایہ ممالک سے ہوائی اڈے لے لیے تھے. خطے کے ملکوں کو بھی اس جنگ میں زبردستی گھسیٹا گیا تھا. ایک اسلامی ملک کو دوسرے اسلامی ملک کے خلاف اپنا اتحادی بنایا گیا تھا. عالمی رپوٹس کے مطابق اس جنگ میں 325 بلین ڈالر کا خرچہ کیا گیا تھا. اسلحہ کی ہرنئی ایجاد اس جنگ میں استعمال کی گئی تھی. 2001 سے شروع ہونے والی یہ جنگ 2020 تک چلی. اس جنگ میں نیٹو فورسز کے لاتعداد فوجی قتل ہوئے تھے. مدمقابل افغانی قوم نے کچھ نہ ہونے کے باوجود ان 58 ممالک کا بھرپورمقابلہ کیا. دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ نہتے افغانیوں نے نیٹو فورسزکے ساتھ کیسا سلوک کیا ہے. دونوں ہتھیار بند فورسز نے ایک دوسرے کا بھرپورمقابلہ کیا ہے. مگر اس جنگ میں افغانستان کے معصوم لوگوں کا بہت نقصان ہوا ہے. اپنے گھروں سے نکل مکانی کرنا پڑی ہے. 20 سال کی جنگ میں نیٹو فورسز کو افغانستان کی ایک انچ جگہ بھی نہیں ملی. بلکہ 20 سال کی طویل جنگ کے بعد افغانستان کے مدمقابل لوگوں کے سامنے ہتھیارڈالنے پڑے ہیں. نیٹو فورسزنے افغانستان کے پمسایہ ملکوں سے منت ترلہ کرکے اس طویل جنگ کوختم کرنے کا اعلان کیا ہے. آخر20 سال کی قتل و غارت کے بعد میزکے گرد ہی بیٹھنا پڑا. نہتھے افغانیوں سے جنگ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے، بلکہ جان اورمال کا ضیاع ہوا ہے.

    انگریز نے جنوبی ایشیاء میں جنگیں کیوں کیں……!!!!!!
    برصغیر کی تقسیم سے پہلے اس علاقے پر ہزار سال تک مسلمانوں نے حکومت کی ہے، اپنے دورحکومت میں ان حکمرانوں نے اس خطےمیں امن کا قیام کیا، انصاف کیا. مگر ہرعروج کو زوال ہوتا ہے. مسلمان حکمران آپس میں لڑنا شروع ہوگئے تھے. پھرانگریزنے اس کا بھرپورفائدہ اٹھایا. ان کی لڑائیوں میں مزید آگ لگادی. آگ کی شدت اتنی ہوگئی کہ پورے خطے میں اپنی حکمرانی کھو بیٹھے تھے. انگریز نے اس خطے پرقبضہ کرلیا تھا. 100 سال تک حکومت کی. اس خطے کی عوام نے ان کی حکومت کوقبول نہیں کیا. ایک نظریاتی ملک کے قیام کی تحریک نے برصغیرکو دوحصوں میں تقسیم کردیا. دنیا کے نقشے پرایک نظریاتی ملک وجود میں آگیا تھا. اس ملک نے بہت تھوڑے عرصے دنیا میں بہت اہمیت حاصل کرلی تھی. قدرت نے اس علاقے کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے. گرم پانی یہاں ہے، ہر قسم کی معدنیات یہاں ہیں، دنیا کی سب سے بہترین بحری پورٹ یہاں ہے، صلاحیت سے بھرپورعوام یہاں پیدا ہوتے ہیں.

    اس ساری بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جنوبی ایشیاء میں ہونے والی ان طویل جنگوں کا مقصد اس نظریاتی ملک پرقبضہ کرنا تھا. جو بری طرح ناکام ہوا ہے. سوویت یونین کی سپرپاورہویا نیٹوفورسزسب نے اپنے بھرپوروسائل لگائے ہیں. مگراس نظریاتی ملک کو زیرنہیں کرسکے ہیں. افغانستان میں سوائے خشک پہاڑوں کے کچھ نہیں ہے. جس نے بھی افغانستان پرحملہ کیا ہے اس کا مقصد نظریاتی ملک تھا. کیونکہ اس نظریاتی ملک نے آزاد ہونے کے تھوڑے ہی عرصہ میں ایٹمی حیثیت کرلی تھی. دنیا کو یہ بات چبھنے لگ گئی تھی. دنیا نے محسوس کرلیا تھا کہ اس نظریاتی ملک مستقبل میں ہماری جگہ لے لیگا.

    ان دو جنگوں کے بارے مختصر تعارف کروانے مقصد یہ ہے کہ جنگ کے کیا نتائج حاصل ہوتے ہیں؟
    جنوبی ایشیاء میں 70 کی دہائی سے شروع ہونے والی طویل جنگ نے خطے میں بے امنی اورخطے کومعاشی طور پرکمزورکیا ہے. جنگ ہمیشہ فساد برپا کرنے کا ہی باعث بنی ہے. دہشت گردی کے نام سے شروع ہونے والی جنگ نے خطے میں مزید دہشت گردی پھیلائی ہے. ایک تہذیب کی عوام کودوسری تہذیب کی عوام سے میں لڑوایا گیا ہے. پیسا دے کر بھائی کو بھائی کا قاتل بنایا گیا ہے. ان جنگوں سے جنوبی ایشیاء کے خطے میں بسنے والے ملکوں کی معیشت تباہ ہوئی ہے. قوموں کے مستقبل تباہ ہوئے ہیں. کسی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے. بلکہ شکست سے دوچارہونا پڑا ہے. جن کی سرزمین تھی وہی دوبارہ اپنی حکومت قائم کرنے کے قریب ہیں. یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ جس نظریاتی ملک کو صفحہ ہستی سے مٹانے آۓ تھے اسی کی منتیں کرنا پڑیں. اس کے ذریعے سے افغانستان میں جنگ بندی کیلئے ثالثی کا کردار ادا کروایا. اس نظریاتی ملک کو درمیان میں ڈال کر اس جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا. یہ ہے اس نظریاتی ملک کی دنیا میں اہمیت.

    @its_usamaislam

  • پاکستان کی یوم آزادی ایک لمحہ فکریہ . تحریر :‌ ابوبکراورکزئی

    پاکستان کی یوم آزادی ایک لمحہ فکریہ . تحریر :‌ ابوبکراورکزئی

    اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادی کا حصول اورمسلمانوں کے لئے الگ مملکیت کا قیام اللہ تعالی کی عظیم الشان نعمت تھی جو اس خطے کے مسلمانوں پرنازل ہوئی۔ یہ اہلِ پاکستان کا فرض تھا کہ وہ اس نعمیتںِ عظمی کو ہرقدم پریاد رکھتے اوراسے فراموش نہ ہونے دیتے۔ اس سلسلے میں چند گزارشات پیشںِ خدمت ہیں.

    1. جس طرح پاکستان کا قیام مسلمانوں پراللہ کا انعام تھا اس طرح اس کا عظیم اشان کرم یہ تھا کہاس مملکیت کے قیام کے لئے 27 رمضان اور جمعہ کے دن کا انتخاب کیا گیا۔ اس دن کا انتخاب کسی انسان کی سوچ کا نتیجہ نہیں تھا کیونکہ اس دن کا یقین تنہا مسلمانوں کے اختیار میں نہیں تھا۔ بلکہ اس فیصلے میں انگریز، ہندواورسکھ بھی شامل تھے۔ ظاہرہے وہ اس نقطہ نظرسے اس دن کا انتخاب نہیں کرسکتے تھے۔ کہ یہ مسلمانوں کے لئے ہرلحاظ سے خیروبرکت کا دن ہے۔ ظاہرمیں نگاہیں اس بات کو مخص اتفاق سمجھتی ہیں کہ جو دن اِن اقوام کے اتفاق سے قیامِ پاکستان کا دن قرارپایا وہ جمعہ 27 رمضان کا دن تھا۔ لیکن جس شخص کا ایمان، قدرت کاملہ اورحکمت بالغہ پرہواس کے نزدیک اس کائنات کا کوئی واقعہ مخص بحث واتفاق کا نتیجہ نہیں ہوتا ان میں سے بعض حکمتوں کا علم انسان کو ہو جاتا ہے اوربہت سی حکمتیں اس کے پروازِ تخیل سے ماورا ہوتی ہیں اوروہ اپنی محدود فکر کے نتیجے میں ہی ان واقعات کو بحث واتفاق کا کرشما قراردیتے ہیں۔ لہذا قیامِ پاکستان کے مہینے، اس مہینے کے آخری عشرے، اور آخری عرشے میں 27 رمضان اوراس میں بھی جمعہ کے دن کا انتخاب نہ تو انسانی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا اور نہ بحث و اتفاق کا۔ بلکہ یقینا یہ یقین منجانب اللہ تھا۔

    اس خطے کے مسلمانوں پراللہ تعالی کے بے پناہ کرم کا نتیجہ تھا کہ ہمیں پاکستان جیسی عظیم نعمت عطا فرمانے کے لئے اس مبارک دن کا انتخاب کیا گیا جو اپنی رحمتوں اور برکتوں کے لحاظ سے سال کا افضل ترین دن تھا۔ یہ تو اللہ تعالی کی عطا تھی جو ہماری کسی کوشش اور طلب کے بغیر مخص اس کے فضل وکرم سے حاصل ہوئی۔ لیکن اس عطا کے مقابلے میں اپنی ناشکری اورناقدری ملاحظہ فرمائیے کہ اس نعمت کا اتنا ادراک و احساس کرنے کی توفیق بھی نہ ہمیں ہوئی؟ کہ ہم 27 رمضان کو پورا پاکستان اور اپنا یومِ استقلال تسلیم کر لیتے۔ چنانچہ جب یومِ آزادی کے لئے دن کی یقینی کا سوال آیا تو ہم نے 27 رمضان کی بجائے 14 اگست کو اپنا یومِ آزادی قرار دے دیا۔
    مختصر یہ کہ اللہ تعالی کی اس غیبی تاہیک کی اس سے بڑھ کر ماقدری، احسان فراموشی اورکوتاہی کیا ہو گی؟ کہ سال کے جس افضل ترین دن کو اللہ تعالی نے ہمارے لئے یومِ پاکستان قرار دیا تھا ہم نے اس کو اپنا یوم آزادی تسیلم کرنے سے انکار کر دیا اور اس کو نظر انداز کر کے اپنی محبت اور عقیدت کا مرکز 14 اگست کو بنا لیا۔ میں سمجھتا ہوں یہ ہماری احسان فراموشی کا پہلا امتحان تھا۔ جس میں ہم "اللہ معاف فرمائے” بری طرح ناکام ہوئے۔ حکومت اس سنگین غلطی کی تلافی کرے اور ہم سے ماضی میں 27 رمضان کی ناقدری کا جو جرم سرزد ہوا اس سے اجتماعی توبہ کر کے آنئدہ کے لئے 14 اگست کی بجائے 27 رمضان کو یوِم استقلال ٹھہرائے۔

    2. ہمارا یومِ آزادی، اس پر منایا جانے والا جشن اور اس موقع پر منعقد ہونے والی تقاریب ان دوسری اقوام کے جشن آزادی سے مختلف اور ممتاز ہونی چاہئے جن کے نزدیک آزادی کی مسرت جیت رسمی کھیل تماشوں سے عبارت ہے۔ اللہ نے اس مملکیت کے ذریعے ہمیں بیک وقت انگریزی استعار اور ہندو سامراج دونوں سے نجات عطا فرمائی اور اپنی تعمیر کرنے کا خود موقع دیا۔ ہمارا یومِ آزادی درحقیقت یومِ شکر ہونا چاہئے جس میں صرف ہماری زبان نہیں بلکہ ہماری ایک ایک نقل و حرکت شکر گزاری کی آئینہ دار ہو۔

    پاکستان کا یوم استقلال ہر سال ہم سے یہ سوال بھی کرتا ہے کہ جس ملک کے قیام کے لئے ہزاروں مسلمانوں نے اپنے جان و مال اپنے جذبات اور اپنی عزت وآبرو کی جتنی قربانیاں دی تھیں جس کی بنیاد میں نا جانے کتنے مسلمانوں کا خون شامل تھا اس کے قیام کے لئے ہم نے کتنی جانیں رخصت کی ہیں؟ جب تک ہم اس سوال کے جواب میں اپنے پروردگار کے سامنے سرخرو ہونے کے اسباب پیدا نہ کر لیں اس وقت تک یوم آزادی کی یہ تقریبات مخص ایک رسمی کاروائی ہی رہیں گی اور قیام پاکستان کے اصل مقصد کے پیشِ نظر ان کی حیثیت ہماری بے عملی پر ایک بھرپور طنز سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتی۔

    @merayTweets

  • عورت ! . تحریر: مزمل حسین

    عورت ! . تحریر: مزمل حسین

    چودہ سے بیس سال کی عمرمیں عورت گلاب کی ایک شگفتہ کلی ہے نسیمِ سحر کا ایک جھونکا ہے شفاف پانی کا ایک چشمہ ہےسراپا محبت ہے.
    عورت اکیس سے پچیس سال کی عمر میں ایک سایہ داردرخت ہے اس کے جذبے شبنم کے قطروں کی طرح پاکیزہ ہوتے ہیں سراپا محبت ہے.
    عورت چھبیس سے تیس سال کی عمرمیں پھولوں سے بھری ہوئی ایک شاخ کی مانند ہے جس سے گھر کی آرائش ہوتی ہے یہ ویرانوں کو زندگی بخشتی ہے اس کی محبت چاند کی روشن کرنوں کی طرح دلکش ہوتی ہے یہ سراپا زندگی ہے.
    اکتیس سے پینتیس سال کی عورت اس باغباں کی مانند ہے جو گلستانِ حیات میں خوش رنگ پھول لگاتا ہے اور پھر ان کی نشوونما کرتا ہے اس عمرمیں عورت اولادِ آدم کی تعمیر کے لیے کوشاں رہتی ہے. سراپا جدوجہد ہے.
    چھتیس سے چالیس سال کی عمر میں عورت ایک ایسی چٹان ہے جو طوفان سے ٹکرا جانے کی ہمت رکھتی ہے اس کے چہرے پر کامرانی کے نقوش واضح ہوتے ہیں یہ اس فاتح کی مانند ہے جو زندگی کی بیشتر مہمات کو سر کر چکا ہو سراپا عزم ہے.
    عورت اکتالیس سے ساٹھ سال کی عمر میں ایک ایسی کتاب ہے جو سنہری تجربات سے بھری ہو یہ دوسروں کے لیے راستے کا ٹھیک تعین کر سکتی ہے یہ ایک ایسی روشنی ہے جو منزل کا ٹھیک پتہ دیتی ہے سراپا شفقت ہے.

    لیکن آجکل کی ماڈرن عورت کو دیکھتے ہوئے احساس ہورہا ہے ہماری آنے والی نسلیں خدا نہ کرے وہ پیدا ہونگی جیسی نسل امریکہ یورپ کی ہے.

    میری تمام ماؤں بہنوں سے گزارش ہے خود پررحم کریں آپ صرف ایک صنفِ نازک ہی نہیں قوم کے مستقبل کی بنیاد بھی ہیں تو اپنے آپکو اسلامی طریقہ زندگی کے مطابق ڈھالیں.

    @Muzii_2