Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہماری آرمی ہماری محافظ .تحریر: فضل عباس

    ہماری آرمی ہماری محافظ .تحریر: فضل عباس

    پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی دشمنوں کی سازشیں شروع ہو گئی پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے دشمنوں نے ہر ممکن کوشش کی لیکن پاکستان آرمی نے ہمیشہ ان کے دانت کھٹے کیے
    بقول شاعر:
    انگلی مت اٹھانا بازو توڑ کر رکھ دیں گے
    غلطی سے جو للکارے گا گاڑ کے رکھ دیں گے
    ہم پاکستانی مجاہد ہیں اس دھرتی کے رکھوالے
    ہم جان کی بازی کھیل کر تجھ کو کاٹ کر رکھ دیں گے

    پاکستان بننے کے سترہ سال بعد ہمارے اذلی دشمن بھارت نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہمارے ملک پاکستان پر حملہ کیا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس نے اپنا ہاتھ شیر کے منہ میں دیا ہے پاکستانی افواج نے نہ صرف بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا بلکہ بھارت کو ناکوں چنے چبوا دیئے بھارت کی یہ حالت تھی کہ ایک بی آر بی نہر پار نہ کر پایا اور اس کے علاوہ چونڈہ کے محاذ پر اپنے ٹینکوں کو تباہ کروا بیٹھا آج بھی چونڈہ کو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان کہا جاتا ہے
    اس عبرت ناک شکست کے بعد انڈیا دم دبا کر اقوام متحدہ بھاگا اور دونوں ممالک میں جنگ بندی ہوئی

    1971 میں جب ملک دو لخت ہو گیا تب افواج پاکستان نے آگے بڑھ کر سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ملک کو سنبھالا اور پاکستان کو مستحکم حالت میں لاۓ

    1998 کی کارگل جنگ میں پاکستانی افواج نے بھارت کو جو زخم دیے وہ آج تک تازہ ہیں پاکستان کے اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے جنگ کے دوران انڈین سر زمین پر قدم رکھا اور دشمن کو للکارا اور اسے بتایا کہ ہم ہر وقت اپنے وطن کی حفاظت کے لیے تیار ہیں اگر کبھی دشمن نے پاکستان کو میلی نگاہ سے دیکھا تو اس کی وہ آنکھ باقی نہیں رہے گی جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں افواج پاکستان نے یہاں بھی انڈیا کو دھول چٹائی

    پاکستانی افواج کی سب سے بڑی لڑائی اس کے بعد آتی ہے اور وہ ہے دہشتگردی سے لڑائی
    پاکستانی فوج دنیا کی واحد فوج ہے جس نے دہشتگردی کو شکست دی دہشتگردی سے جنگ سب سے مشکل جنگ ہے اس جنگ میں دشمن کے کئی چہرے ہوتے ہیں کبھی اپنوں کے روپ میں چھپے دشمن سے لڑنا پڑتا ہے تو کبھی بیرونی فنڈنگ پر پلنے والے غداروں سے

    لیکن افواج پاکستان نے یہ کارنامہ انتہائی کامیابی سے سر انجام دیا ہے دشمن جس روپ میں بھی تھا اس کے سر کچل دیا ہےاس سب کے لیے پاکستان آرمی نے کئی آپریشن کیے اور ان آپریشنز میں کئی دہشت گردوں کو جہنم واصل کیاان آپریشنز میں مشہور ترین آپریشن”ضرب عضب” ہے اس آپریشن دہشتگردی کا سر اس طرح کچلا کہ وہ دوبارہ اٹھ نہ سکی

    اللہ تعالیٰ پاکستانی افواج کو مزید طاقت ور بناۓ تا کہ پاکستان سمیت تمام مسلمان ممالک خود کو محفوظ سمجھیں آمین ♥️

  • آزادی اظہار رائے. تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    آزادی اظہار رائے. تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو سوچنے، سمجھنے اور غور و فکر کی صلاحیت دی ہے۔ اور جب انسان غور و فکر کرتا ہے تو مختلف قسم کے خیالات جنم لیتے ہیں اور اُن خیالات کا اظہار بھی ایک فطری امر ہے۔ اس لیے اظہارِ رائے کی آزادی شاید انسان کا بنیادی حق ہے۔

    یہ ضروری نہیں کہ انسان اپنے خیالات کا اظہار صرف زبان کے ذریعے کرے، بلکہ انسان کا لباس، اُسکا رہن سہن کا طریقہ، اُسکا عمومی رویہ، معاشرتی برتاؤ اور احساس زمہ داری سب اظہار کرنے کے طریقے ہیں۔

    ہر انسان فطری طور پر آزاد نظریات کا حامل ہوتا ہے۔ کوئی بھی دوسرا شخص آپ پر اپنے خیالات اور نظریات تھوپ نہیں سکتا، اسی طرح ہم بھی کسی پر اپنے نظریات نہیں تھوپ سکتے۔ آزادی ایک فطری عمل ہے اور انسان کا بنیادی حق بھی۔

    لیکن آزادی کیسی بھی ہو اِسکی کچھ حدود ضرور ہوتی ہیں، مذہبی حدود، قومی حدود، معاشرتی حدود اور اخلاقی حدود وغیرہ۔ یہ سب حدود کسی بھی مہذب معاشرے میں امن و امان، انصاف اور خوشگوار ماحول کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔

    معاشرے کا ہر فرد چاہتا ہے کہ کوئی اُسکی زندگی یا آزادی میں عمل دخل نہ دے، لیکن جب کوئی اپنی حد سے تجاوز کرتا ہے تو دوسرے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں اور کسی نہ کسی کو عمل دخل دینا پڑتا ہے، اس طرح معاشرے میں نہ صرف اختلافات جنم لیتے ہیں بلکہ اُن میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت بھی آتی ہے۔

    آج ہمارا معاشرہ جس اخلاقی زوال کا شکار ہے اسکی وجہ سے ہم نے اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو بھی متنازعہ بنا دیا ہے۔ اسے منافقت کہیں یا دوغلا پن لیکن ہم لوگ اپنے لیے تو ہر طرح کی آزادی چاہتے ہیں لیکن دوسروں کی آزادی ہمیں قبول نہیں، ہم دوسروں پر تو تنقید کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں لیکن خود پر تنقید قبول نہیں، ہمیں اپنا جھوٹ تو قبول ہے لیکن کوئی اِسکی تصحیح کرے، یہ قبول نہیں۔

    لباس انسان کی سوچ اور نظریات کی عقاسی کرتا ہے، اور ہر انسان اپنی پسند کے مطابق لباس کا انتخاب کرتا ہے۔ کوئی کسی کو اپنی مرضی کا لباس پہننے پر مجبور نہیں کر سکتا نہ ہی کسی کو اپنی مرضی کا لباس پہننے سے روک سکتا ہے۔ البتہ مذہب اور معاشرہ لباس کے انتخاب کے لیے کچھ حدود ضرور متعین کرتا ہے جو کہ انسانوں کی ہی فلاح کے لیے ہیں۔

    کُچھ عرصے سے لبرلز کے ایک گروپ کی جانب سے وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ کو اُن کے پردے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لیکن جب عمران خان نے ایک انٹرویو میں فحش اور نا مناسب لباس اور اسکے معاشرے پر ہونے والے اثرات کی بات کی تو ان لوگوں نے سب سے زیادہ شور بھی مچایا۔

    یہ منافقت ہی تو ہے کہ آپ خود تو مذہب یا معاشرے کی حدود کو پامال کرتے ہوئے اپنی سوچ کے مطابق لباس کا انتخاب کرنے کو اپنا حق سمجھیں اور پہنیں، لیکن کوئی دوسرا اگر مذہب کی حدود میں رہتے ہوئے کوئی لباس منتخب کرے تو آپ اُسکا مذاق اڑائیں اور تنقید کریں۔

    آزادی اظہار رائے یہ تو نہیں کہتی کہ آپ خود تو دوسروں کے پہناوے پر تنقید کرنا اپنا حق سمجھیں لیکن اگر کوئی دوسرا آپ کے پہناوے پر بات کرے تو کہہ دیں کہ کسی کو آپ کے لباس کے متعلق بات کرنے کا کوئی حق نہیں۔

    کچھ روز قبل ایک خاتون وکیل اور فیمینسٹ نے ایک خاتون جرنلسٹ پر دوغلے پن کا الزام لگایا، اس الزام کی وجہ یہ تھی کہ خاتون صحافی نے ہم ٹی وی کے ایک پروگرام میں بطور مہمان شرکت کی تھی جس کی میزبانی ایک مشہور زمانہ سنگر کر رہے تھے۔

    اُس سنگر پر کُچھ عرصہ قبل ایک خاتون اداکارہ کی طرف سے ہراسمنٹ کا الزام لگایا گیا تھا، جو کہ بعد میں ثابت نہ کیا جا سکا۔

    لیکن حال ہی میں وہی فیمینسٹ بطور وکیل، ایک خاتون صحافی کے ایک یو ٹیوبر پر کیے گئے ہراسمنٹ کیس میں اُس یو ٹیوبر کی طرف سے کیس لڑ رہی ہیں۔ خاتون وکیل کے موکل نے ایک خاتون صحافی کو ہراس کرنے کے ساتھ گھٹیا قسم کے الزام بھی لگائے تھے۔

    یہ اخلاقی منافقت کی ایک اور مثال ہے۔ ایک طرف آپ کسی پر اس بات کی وجہ سے تنقید کریں کہ اس نے ایک ایسے شو میں شرکت کی جہاں ایک ملزم میزبانی کر رہا تھا، دوسری طرف آپ اُس شخص کی وکالت کریں جس پر خاتون کی ہراسمنٹ کرنے کا کیس چل رہا ہے، اور تیسری طرف آپ خواتین کی ہراسمنٹ کے خلاف آواز اٹھانے کا ڈھونگ کریں۔
    (یاد رہے پہلے بھی اسلام آباد کی ایک عدالت نے جھوٹے الزامات لگانے کے ایک کیس میں اُس یو ٹیوبر کو 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔)

    لبرلز کا ایک گروپ، جو بات تو خواتین کے حقوق کی کرتا ہے لیکن حمایت صرف اُن کی کرتا ہے جن کے خیالات انکے نظریات کے مطابق ہوں، جن کے خیالات انکے نظریے سے مطابقت نہیں رکھتے اُن پر صرف تنقید کی جاتی ہے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بات کرنے کی آزادی صرف انکو ہے، کسی دوسرے کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ اِنکے خیالات سے اختلاف کرے۔ ان کے کسی ساتھی سے اگر کوئی بدتمیزی یا اختلاف کرے تو یہ لوگ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، لیکن اگر انکا ساتھی کسی کے ساتھ بدتمیزی بھی کرے تو وہ قصور وار نہیں سمجھا جاتا۔

    اس سب کے علاوہ آجکل ہماری صحافت کے حالات بھی کچھ نازک ہی ہیں۔ ایک طرف سکرین پر بیٹھ کر نہ صرف حکومت اور فوج پر بلکہ ریاست پر بھی تنقید کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف آزادی اظہارِ رائے پر پابندیوں کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔

    صحافی حضرات ذرائع کے نام پر بغیر تصدیق کے خبریں شیئر کرتے ہیں، اور اگر کوئی ادارہ ذرائع کا پوچھ لے تو دھمکیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کسی خبر کی تردید کر دی جائے تو انکی صحافت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے، اور یہ تصیح کرنے والوں پر ہراسمنٹ کا الزام لگا دیتے ہیں۔

    اگر کسی صحافی کی گاڑی کا ٹائر بھی پنکچر ہو جائے تو الزام فوج یا اداروں پر لگا دیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک ایکٹوسٹ شمالی علاقوں میں سیر کرنے گیا، کچھ صحافیوں نے رابطہ نہ ہونے پر الزام لگا دیا کہ اُسے ایجنسیوں نے اٹھا لیا ہے، لیکن اُس ایکٹوسٹ کی واپسی کے بعد حقیقت سامنے آنے پر کسی نے معذرت تک نہ کی۔
    حال ہی میں ایک یوٹیوبر کی کچھ لوگوں نے پٹائی کی لیکن موصوف نے بیان دیا کہ اسے آئی ایس آئی نے مارا ہے اور مزید کہا کہ مارنے والوں نے مار پیٹ کرنے سے پہلے اپنا تعلق خفیہ ایجنسی سے بتایا تھا۔
    اس واقعہ پر فوج پر خوب تنقید کی گئی، لیکن اس شخص کے قریبی دوست نے اپنی سٹوری میں کہا کہ یہ حملہ ایک دوسرے صحافی نے کروایا ہے۔
    اس طرح ہمارے ایک اور پیارے صحافی جن پر کچھ سال قبل حملہ ہوا تھا، ہمیشہ اُس حملے کا الزام فوج پر لگاتے آئے ہیں، حال ہی میں یہ عقدہ کھلا کہ اُن صحافی صاحب کو بہت پہلے ہی اصل مجرم کا بتا دیا گیا تھا جس کو وہ نہ صرف ہمیشہ چھپاتے رہے بلکہ الزام خفیہ اداروں پر لگاتے رہے۔ لیکن پھر بھی ہمارا شکوہ یہی ہے کہ ہمیں کام کرنے کی آزادی نہیں دی جا رہی۔

    حال ہی میں میڈیا پر ایک شور بھرپا ہوا کہ پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے دے رہا ہے۔ جس کی حکومت کی طرف سے تردید کی گئی۔ ایک انٹرویو میں جب عمران خان سے یہی سوال پوچھا گیا تو انہوں نے واضح الفاظ میں بتایا کہ پاکستان امریکہ کو اپنی سرزمین استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ اس تردید کے بعد جن لوگوں نے فوجی اڈے دینے کی بات پر واویلہ کیا تھا، وہ اب اس بات پر واویلہ کر رہے ہیں کہ جب امریکہ نے پاکستان سے فوجی اڈے مانگے ہی نہیں تو حکومت انکار کس کو اور کیوں کر رہی ہے۔

    یہ بھی ایک منافقت ہے کہ ہم صحافی حکومت یا اداروں پر تنقید کرنا اور گالیاں دینا تو اپنا حق سمجھتے ہیں، لیکن اگر کوئی ہم پر تنقید کرے تو اس پر ٹرول کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔

    کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے جہاں اظہار رائے کی آزادی کا دفاع کیا وہاں یہ بھی کہا کہ یہ کسی حدود کے بغیر نہیں ہونی چاہیے اور اس سے مخصوص برادریوں کی جب دل چاہے اور بلاوجہ دل آزاری نہیں ہونی چاہیے۔

    آزادی اظہار رائے کسی حدود کے بغیر نہیں ہوسکتی، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر ہمیں بولنے کا حق ہے تو دوسروں کو بھی بولنے کا حق ہے، اور ہم اظہارِ رائے کی ایسی آزادی کے متحمل نہیں ہو سکتے جس سے ہمارے وطن کی سالمیت اور معاشرتی اقدار متاثر ہوتی ہو۔

  • ثریا عظیم ہسپتال (ٹرسٹ )کے نام غریبوں کا استحصال . تحریر: نسیم الحق زاہدی

    ثریا عظیم ہسپتال (ٹرسٹ )کے نام غریبوں کا استحصال . تحریر: نسیم الحق زاہدی

    ٹرسٹ کا مطلب وہ املاک جونیک مقاصد کے لیے وقف کردی جائے ۔عام حالات میں ہم جب بھی کسی ادارہ کے ساتھ لفظ ٹرسٹ لکھا دیکھتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں یہ تصور ہوتا ہے کہ ایک رفاہی ،فلاحی ادارہ ہوگا یہی لفظ اگر بالخصوص کسی ہسپتال کے ساتھ لکھا ہواہو تو اس کا مطلب ہے کہ یہاںپر ایک معمولی سی فیس کے اندر مستحق افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جوکہ عام انسان کو کسی سرکاری ہسپتال میں میسر نہیں آتیں ۔ہمارے ایک دوست بڑی خوب بات کہا کرتے ہیں کہ سرکاری ہسپتال میں بندہ صرف جان سے جاتا ہے جبکہ پرائیوٹ ہسپتال میں جان کے ساتھ ساتھ مال سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے ہیں ۔یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان کے اندر اتنے مسلمان نہیں ہونگے جتنی مذہبی تنظیمیں ہیں اور وہ بھی اس قدر طاقتور کہ چلتے ملک (سسٹم )کو جام کرسکتیں ہیں زندہ کئی مثالیں موجود ہیں مگرافسوس کہ 73سالوں میں ”اسلامی نظام“نافذ نہیں ہوسکا کیونکہ ان کا ایجنڈا ”اسلام“نہیں اسلام آباد اور ”پیٹ“ہے ۔آج کہیںخدمت تو کہیں مذہب تو کہیں جمہوریت کے نام پر معصوم بھولی بھالی عوام کا قتل عام کیا جارہا ہے”سبھی رانگ نمبر“ہیں اور ظلم تو یہ ہے کہ انکو کوئی پوچھنے والا نہیں یہ لوگ اس قدر طاقتور ہیں کہ جب کوئی انکی اصلیت کو عیاں کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی زبان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کردی جاتی ہے ۔ میری جماعت اسلامی کے بارے سوچ ذرہ مختلف تھی کیونکہ میں سید ابوالامودودی ؒکے افکارات،نظریات اور خدمات کو پڑھ چکا ہوں ۔ثریا عظیم (ٹرسٹ)ہسپتال جوکہ جماعت اسلامی کا ہے اور جہاں پر بلا امتیازرنگ ،نسل ومذہب انسانیت کی خدمت کا دعویٰ کیا جاتا ہے آئیے ذرہ اس دعویٰ کی حقیقت کو جاننے کی ادنیٰ سی کوشش کرتے ہیں عام چیک اپ پرچی فیس مبلغ سوروپے ہے بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جوکہ یہ فیس ادا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے ،سپشلسٹ ڈاکٹر کی فیس مبلغ پندرہ سو روپے سے لیکر تین ہزار اور بعض کی تو یقینا اس سے بھی زیادہ ہوگی ۔الٹراساﺅنڈ اور دیگر ٹیسٹ دوسری لیبارٹریوںسے بھی مہنگے ہیں کیونکہ یہ ”ٹرسٹ “ہے ڈرپ لگوانے کے دوسو روپے اور انجکشن لگوانے کے پچاس روپے ۔

    راقم الحروف عرصہ چار سال تک ایک میڈیکل سنٹر پر ملازمت کرتا رہا ہے ۔اچھی طرح علم ہے کہ ایک غیر معیاری میڈیسن کمپنی اپنے میڈیکل ریپ کے ذریعے کس طرح اپنی ادویات کی فروخت کے لیے ڈاکٹر زحضرات کو اچھی خاصی رقوم سے لیکر گاڑیوں سمیت اندورن بیرون ممالک کے دورے بھی شامل ہیں ۔ایک اچھی کمپنی کا انجکشن جو کہ تین سو روپے میں دستیاب ہے وہی انجکشن اسی سالٹ میں غیرمعیاری اور ٹھیکے کی کمپنی کا مبلغ پندرہ سوروپے میں فروخت ہوتا ہے ۔میڈیکل سے تعلق رکھنے والے افراد اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ دنیا بھر میں ہر دوائی کا الگ فارمولا(سالٹ)ہوتا وہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہر کمپنی مختلف نام سے اس سالٹ کی دوائی تیار کرتے ہیں جس طرح اسپرین سالٹ کو مختلف کمپنیاں مختلف ناموں سے تیار کرتی ہیں سب سے مشہور” ڈسپرین “ہے ۔اکثر یہ تجربہ کرنے کو ملتا ہے کہ جوڈاکٹر کسی پرائیوٹ ہسپتال یا کلینک میں کسی مریض کومیڈیسن تجویز کرتا ہے (اب تو سرکاری ہسپتالوں کا یہی حال ہے ) وہ ادویات یا تو اسی ہسپتال کی فارمیسی سے ملتی ہیں یا پھر اس سے ملحقہ ایک مخصوص فارمیسی سے ملتی ہیں ڈاکٹر باقاعدہ حکم دیتا ہے کہ جو میڈیسن لکھی ہیں وہی لی جائیں اور فلاں میڈیکل سٹور پر دستیاب ہونگیں۔ثریا عظیم ہسپتال میں ایک عام بچوں کے ڈاکٹر وسیم جوکہ تقریباً ہر بچے کو معمولی سی تکلیف پر تیرہ ،چودہ سو روپے کی ڈرپ لگوانے کی فوری ہدایت کرتا ہے اور ساتھ یہ حکم بھی جاری کرتا ہے کہ میڈیسن ہسپتال کی فارمیسی سے خریدی جائیں ،یقین کریں وہی ادویات اچھی کمپنی کی معیاری فارمیسی سے چھ سے سات سوروپے کی ہوتی ہیں جوکہ ہسپتال کی فارمیسی سے غیر معیاری ادویات تیرہ سے چودہ سو روپے کی ہوتی ہیں ۔کئی بار یہ تجربہ ہوچکا ہے اگر ڈاکٹر صاحب کو اس کی پرچی کے مطابق ادویات باہر کی فارمیسی سے اچھی کمپنی کی لاکر دیں ہیں تو انہوں نے رعونت بھرے لہجے میں کہا کہ ڈاکٹر میں ہوں یا کہ تم ؟۔ہر ڈرپ کے ساتھ ڈرپ ٹیپ منگوائی جاتی ہے ایک ٹیپ تقریباً دو سے تین لوگوں کے لیے استعمال ہوسکتی ہے مگر وہ بقیہ ٹیپ واپس نہیں کی جاتی اور وہی بقیہ ٹیپ مہارت سے اگے مریض کو لگائی جاتی ہے اور نئی ٹیپ رکھ لی جاتی ہے جوکہ یقینا رات کو اکھٹی کرکے واپس کردی جاتی ہونگیں۔مجھ جیسے بے بس لوگ ہسپتال کی فارمیسی سے ادویات خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ہسپتال کے اندر غریب اور مستحق افراد کے تقریباً فری علاج کے لیے مخیر حضرات کی طرف سے دی گئی زکوة،صدقات،عطیات اور دیگرز فنڈ ز سے ایک باقاعدہ شعبہ موجود ہے ۔

    امیر جمات اسلامی لاہور ڈاکٹر ذکر اللہ مجاہد سے اچھا تعلق ہے اور وہ واقعی ایک نفیس ،بااخلاق،باکرداراور درد دل رکھنے والے انسان ہیں ۔وہ اکثر ثریا عظیم ٹرسٹ ہسپتال میں غرباءکے فری علاج اور جماعت کی دیگر خدمات کے متعلق آگاہ کرتے رہتے ہیں پراثر اور پر تاثیر گفتگو کے ساتھ ساتھ سحر انگیز لہجہ بھی رکھتے ہیں۔اپنی خوش اخلاقی کی وجہ سے اخبارات،ٹی وی چینلز کی رونق بنے رہتے ہیں۔ایک مشہور کہاوت ہے کہ جس شخص کا ہمسایہ بھوک سے مرجائے ،سخی اسکو کہلوانے کا کوئی حق نہیں ۔آپ نے سندھ میں میڈیکل کیمپس لگاکر ہزاروں لوگوں کو فری ادویات دیں،آپ نے شیخوپورہ میں دوسو افراد کی آنکھوں کے آپریشن کیے ،مگر آپ کے ہمسائے کے پاس اپنے بچے کا چیک اپ کروانے کے لیے ڈاکٹر کی فیس نہیں ہے بتائیے ایسی سخاوت کا کیا حاصل ؟۔مسجد تو بنادی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے ۔من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں سے نمازی بن نہ سکا ۔راقم الحروف لٹن روڈ جماعت کے دفتر کا پڑوسی ہے ۔بیٹی کی طبیعت ناساز تھی اورہسپتال میں مستحق افراد کے شعبہ کے انچارج سے رابطہ کیا اور عرض کی کہ ہسپتال میں بچوں کے ایک انتہائی قابل سپشلسٹ فرشتہ صفت ڈاکٹر اقبال احمد اظہر سے چیک اپ کروانا ہے پرچی فیس مبلغ پندرہ سوروپے معاف کردی جائے۔کیونکہ موجودہ حکومت نے برابری کی وہ زندہ مثال قائم کی ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی کل تک لوگوں کو زکوة،صدقہ،خیرات دینے والے آج لینے والوں میں ہوئے بیٹھے ہیں ۔ادھر ہمارے اعمال بد کا نتیجہ ”کرونا“اور مسلسل لاک ڈاﺅن نے مجھ جیسے لاکھوں افراد کو خود کشی کرنے پر مجبور کردیا ہواہے ،خدا نے حرام موت مرنا حرام کیا ہے اور حاکم وقت نے جینا۔

    معلوم ہوا کہ پرچی فیس معاف نہیں ہوسکتی یہ امیر لاہور ڈاکٹر ذکراللہ مجاہد کا فرمان ہے ۔ خود امیر محترم کو کال کی جسارت کی تو حسب روایت انہوں نے نمبر مصروف کردیا پہلے تو کبھی کال سن لیا کرتے تھے مگر مسلسل”امارت“اور خدا جب حسن دیتا ہے تو نزاکت آہی جاتی ہے والی بات ۔ہم بھی بہت سے بڑے لوگوں کے ساتھ بہت سا وقت گزار چکے ہیں اور اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ جب کسی سے بات نہ کرنی ہو تو کس طرح فون کاٹ کر مصروفیت کا میسج بھیجا جاتا ہے ۔عرصہ بائیس سال سے”قلم“سے جڑے ہوئے ہیں دو سیرت النبی پر اور کشمیر پر کتاب بھی لکھ چکا ہوں مگر میری ان خدمات سے انکو کیا فائدہ ؟یہ دور سلجوق تھوڑا ہے کہ جس میں خواجہ حسن طوسی (ابوعلی حسن ابن علی بن اسحاق)کوشاہ سلجوق اسکی علمی خدمات کے اعتراف میں ”نظام الملک“کا خطاب دینے کے ساتھ سلطنت سلجوقیہ کا وزیر اعلیٰ اور معتمد خاص مقرر کرے ۔ایک وقت تھا کہ جب اہل قلم افراد کی تخلیقات اور تصانیف پر انکی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی مگر پیشہ ور قصیدہ گو افراد نے اہل قلم افراد سے یہ حق چھین لیا ہوا ہے۔آخر میں امیر جماعت اسلامی پاکستان مولانا سراج الحق اور امیر جمات لاہور ڈاکٹر ذکراللہ مجاہدسے ہاتھ جوڑ اپیل ہے کہ کہ وہ ثریا عظیم ہسپتال کے ساتھ سے لفظ (ٹرسٹ)ختم کردیں اس طرح غریبوں کا استحصال نہ کریں ۔درحقیقت یہ ایک پرائیوٹ ہسپتال ہے جہاں پر پیسے سے زندگی تو نہیں ملتی مگرعزت ضرور ملتی ہے۔۔۔

  • بچے ہمارے عہد کے ” تحریر: فرزانہ شریف

    بچے ہمارے عہد کے ” تحریر: فرزانہ شریف

    فیس بک پر ایک خبر پڑھی کہ ایک نوجوان نمبر کم آنے پر ماں ، باپ کی ڈانٹ سے دلبرداشتہ ہو کر بیٹے نے زہر کی گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا _ انھیں ساتھ یہ بھی لکھنا چاہیے تھا کہ ماں ،باپ کے خواب ، خواہشات ، امید ، آس ، روشن مستقبل کا خاتمہ بھی ساتھ ہو گیا _یہ صرف اک زندگی نہیں ختم ہوئی بلکہ کئ زندہ لاشیں چھوڑ گیا اپنے پیچھے _ ہر سال رزلٹ آنے پر ایسے واقعات منظر عام پر ضرور آتے ہیں _ مگر مجھے کبھی بھی ان مرنے والے بچوں کے ساتھ ہمدردی نہیں ہوئی _ انھوں نے تو خود اپنی جانوں پر ظلم کیا اور بھلا ظالموں کے ساتھ کیسی ہمدردی ؟؟

    مجھے تو اس ماں کے ساتھ ہمدردی ہوتی ہے جو اک ہی دن میں بوڑھی ہو گئ ہو گی _ مجھے تو اس باپ کے ساتھ ہمدردی ہوتی ہے جسکی کمر اتنے بھاری دکھ سے جھک گئ ہو گی __
    حیرانی کی انتہا تو میری تب ہوئی جب میں نے اس پوسٹ پر کۓ جانے والے کمنٹس پڑھے وہ کچھ اسطرح تھے ” ماں ، باپ کو کچھ خیال کرنا چاہیے تھا ڈانٹتے ہوۓ جوان بیٹا تھا ” _ "ماں باپ کو نمبروں کی دوڑ سے باہر آ جانا چاہے ” __ ” بچوں کو اپنی زندگی جینے دیں ” __ ” بچوں کو وہ کرنے دیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں ” _

    یہ سب کمنٹس پڑھ کر مجھے تعجب ہوا _ ہم کس راہ پر چل نکلے __ بچوں کو وہ کرنے دیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں __ اک منٹ بچے کرنا کیا چاہتے ہیں آپ چند دن انھیں آزاد چھوڑ کر دیکھ لیں لور لور سڑکوں پر پھرنا چاہیں گے سارا دن موبائل میں گم رہنا چاہتے ہیں ، ساری ساری رات جاگ کر فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں ، آدھی آدھی رات تک دوستوں کی رنگین محفلوں کا حصہ بنا رہنا چاہتے ہیں یہ سب ہی تو چاہتے ہیں بچے آزادی کے نام پر۔۔

    اگر آپ دل لگا کر پڑھتے ہیں ساتھ ساتھ آپکو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی کچھ ہاتھ پیر مارنے پڑتے ہیں ، اماں ، ابا نے کسی اچھے سکول کالج میں بھی داخل نہیں کروایا سہولیات بھی میسر نہیں آپکو اور پھر آپکے نمبر کم آتے ہیں آپکے والدین آپکو ڈانٹتے ہیں تو بیٹا اپکو حق ہے آپ دلبرداشتہ ہو جائیں گھر چھوڑ جائیں یا گولیاں کھا لیں میں آپکے ساتھ ہوں آپکے حق میں ہوں _ اگر آپکو پڑھنے کے علاوہ کوئ کام نہیں کرنا پڑتا ، آپکے ہاتھ میں موبائل بھی ہے ، آپکے کھانے پینے کا خیال بھی کیا جاتا ہے ، آپکو اچھے سکول ، کالج میں داخل کروایا گیا اور پھر آپکے نمبر کم آئیں اور والدین پوچھیں بھی نہ تو آپ غلط ہیں ، یعنی پھر آپ چاہتے ہیں والدین سے والدین ہونے کا حق چھین لیا جاۓ؟ آپکا ساتھ دینے والے بھی غلط ہیں میری ماں نے ایک دفعہ کہا تھاجن کے پلے کوئی کرتوت نہیں ہوتی وہی زیادہ اچھلتے ہیں اور یہ سچ ہے خالی برتن زیادہ شور کرتے ہیں جن بچوں میں کچھ کرنے کی طاقت نہیں ہوتی ، جو ناکام اور نکارہ زندگی چاہتے ہیں وہی والدین کے آگے تن کر کھڑے ہوتے ہیں وہی زیادہ شور ڈال کر چیخ کر چلا کر ، دھمکیاں دے کر یو پھر کبھی کبھی ان دھملکیوں پر عمل کر کے اپنے عیبوں پر پردہ ڈالتے ہیں
    صاف سی بات ہے جن والدین نے آپ پر اپنی محنت کی کمائی لگانی ہے اپنا وقت ، محبت ، توجہ نچھاور کرنی ہے انھوں نے پھر نمبروں کی دوڑ میں بھی دوڑانا ہے آپکو اتنا تو پھر حق ہے نا انکا اور پھر بدلے میں آپ انھیں اچھا رزلٹ بھی نہ دے سکو تو آپ کا قصور ہے برائے مہربانی اپنا قصور چھپانے کے لیے حرام موت کو گلے لگا کر والدین کے حصے میں قصور ڈالنا بند کریں خود چلے جاتے ہیں اور دنیا کی نظروں میں ماں ، باپ کو مشکوک کر کے ساری عمر پچھتاوؤں کے سپرد کر جاتے ہیں ۔۔۔

  • دلیپ کمار اور اردو زبان .تحریر : ندا ابرار

    دلیپ کمار اور اردو زبان .تحریر : ندا ابرار

    "یہ کون ہنس رہا ہے پھولوں میں چھپا ہوا
    بہار کس کی دھن پر بے چین ہے۔

    یہ الفاظ کانوں میں پڑتے ہی، ایک خوش شکل خوبصورت  چہرہ  ذہن میں آتا ہے وہ دلیپ کمار صاحب کا چہرہ ہے۔  دلیپ صاحب ہندی سنیما میں ‘ٹریجڈی کنگ’ کے نام سے مشہور ہیں ۔ انہوں نے ہندوستانی سنیما کو اپنی اداکاری سے اس طرح نوازا کہ ان کی فلمیں آج تک تقریبا  تمام عمر کے لوگوں کو خوش کرتی ہیں۔  دلیپ کمار صاحب جن کے ہونٹوں پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی ، 11 دسمبر 1922 کو اِس وقت  کے پاکستانی شہر پشاور میں پیدا ہوئے۔  ان کا اصل نام محمد یوسف خان تھا اور انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1944 میں فلم جوار بھاٹا سے کیا تھا۔  انہیں اس فلم سے زیادہ شناخت نہیں ملی ، لیکن ایسا ہوا کہ بطور اداکار ان کا سفر شروع ہوا۔  تاہم ، "جواربھاٹا” کے تقریبا  تین سال بعد ، فلم ‘جگنو’ ایک کامیاب فلم تھی ، جس میں وہ اور نور جہاں ایک ساتھ کام کر رہے تھے۔  اس کے بعد ، ‘شہید’ ، ‘میلہ’ ، اور ‘اداز’ جیسی فلموں کے بعد ، وہ ایک کامیاب اداکار کے طور پر مشہور ہوئے۔  بہت سارے فلمی نقادوں کا خیال ہے کہ دلیپ صاحب  کی اداکاری حقیقت پر مبنی اداکاری تھی، جس کے ذریعے انہوں نے ہندوستانی سنیما کی اداکاری میں ‘حقیقت پسندی’ قائم کی۔

    ایک انٹرویو میں دلیپ کمار کہتے ہیں کہ ان کے والد فلموں کے سخت خلاف تھے۔ ان کے دوست ‘لالہ بیسشور ناتھ جن کو دنیا  ‘پرتھویراج کپور’ کے نام سے جانتی ہے سے دلیپ صاحب کے والد اکثر  شکایت کرتے تھے کہ ان کے صاحب زادے کیا کام کررہے ہیں؟  یعنی یہ کوئی کام کیوں نہیں کرتا فارغ رہتا ہے ۔
    کام نا کرنے کا لیکچر سن سن کر دلیپ صاحب  نے فلموں میں کام کرنا شروع کیا ، لہذا اس دوران انہوں نے اپنے والد کے غصے سے بچنے کے لئے اپنے نام "یوسف خان” کو اسکرین پر استعمال نہ کرنے کی بات کی تھی۔  تقریبا تین مہینوں کے بعد انھے ایک  کمرشل سے معلوم ہوا کہ ان کا نام اسکرین پر دلیپ کمار کے نام سے ڈالا گیا ہے۔
    دلیپ صاحب  کو اردو سے بہت گہرا پیار تھا۔ انہے  شعر و شاعری میں بہت دلچسپی تھی۔
    ٹام الٹر کہتا ہیں کہ جب وہ دلیپ صاحب سے  سے اپنی اداکاری کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ملا تو انہوں نے دلیپ صاحب سے پوچھا ، "دلیپ صاحب اچھی اداکاری کا راز کیا ہے؟”  دلیپ صاحب نے انہیں بہت آسان جواب دیا ، شعر و شاعری”۔  ٹام الٹر کے بقول ، اس نے اس جواب کے پس پردہ راز کی تلاش کی ، ایک لمبے عرصے تک کھوج لگائ جس سے ایک بات سمجھ میں آگئی کہ ہر مذاق والا اپنے مذاق کے ذریعہ کچھ کہنا چاہتا ہے۔  وہ جو کہنا چاہتا ہے وہ ایک چیز ہے اور وہ کس طرح کہنا چاہتا ہے وہ ایک بات ہے۔  شعر و شاعری ہمارے دماغ کو مستحکم کرنے کا سب سے آسان اور موثر طریقہ ہے۔  ایک شاعر چار مختلف حالتوں میں چار مختلف طریقوں سے ایک ہی بات کہہ سکتا ہے۔  تو کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک اداکار بھی چار مختلف ‘اظہار’ کے ساتھ اپنے آپ کو بیان کر سکے؟  ادیب اور شاعری ہماری سوچنے کے انداز میں ایک مختلف قسم کی گہرائی کا اضافہ کرتے ہیں ۔
    دلیپ صاحب کے گھرانےمیں اداکاری سیکھنے کی بات بھی نہیں ہوسکتی تھی  ایسی صورتحال میں ، انہوں نے ادب اور شاعری سے اپنا رشتہ قائم کیا اور بہت سی کتابیں پڑھیں۔  فلموں میں کامیاب اداکار بننے کے بعد بھی وہ مشاعرے میں حصہ لیا کرتے تھے۔  جب انہیں مشاعرہ میں اسٹیج پر بلایا جاتا تھا ، اور وہ شعر بولنا شروع کرتے تھے تو ایسا لگتا تھا جیسے اس کی زبان سے پھول گر رہے ہوں۔  ایک مشاعرہ میں دلیپ صاحب  نے علامہ اقبال کی نظم "طلوع اسلام” کا ایک شعر پڑھا ،

    جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
    ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے

    اور کہا ، "وہ کیفیت جو اہل ایمان کی ہے وہ بھی اسی (اردو) زبان کی ہے۔”  ایسی بہت ساری کہانیاں ہوں گی جو اردو کے لئے دلیپ صاحب  کی محبت کو بیان کرتی ہیں۔
    وہ ہم میں نہیں لیکن اپنی اداکاری اور خوبصورت زبان کی وجہ سے وہ تاریخ کے لیجنڈ تھے اور لیجنڈ رہے گے

  • ڈیمز کی کمی، ہر سال لاکھوں کیوسک پانی کا ضیاع .تحریر: سیف علی

    ڈیمز کی کمی، ہر سال لاکھوں کیوسک پانی کا ضیاع .تحریر: سیف علی

    یوں تو اللہ رب العزت نے پاکستان کو پانی جیسی بیش قیمت نعمت سے مالا مال کر رکھا ہے، یہاں نہ صرف زیر زمین پانی کے ذخائر موجود ہیں بلکہ پہاڑوں پر پگھلنے والی برف اور بارشوں کے سبب دریائوں میں بھی پانی وافر مقدار میں موجود رہتا ہے مگر سالہا سال گزر جانے کے باوجود منتخب حکومتوں اور متعلقہ اداروں نے کبھی سنجیدگی سے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیمز بنانے کی طرف توجہ نہیں دی جا سکی اور یوں ہر سال لاکھوں کیوسک پانی سیلابوں کی شکل میں دریائوں کے راستے سمندر کی نظر ہو جاتا ہے۔زراعت پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے اور غریب آبادی کے بڑے حصے کو روزگار اور خوراک کی فراہمی کا بڑا ذریعہ ہے مگر ہمارے ہاں نہری نظام موثر نہ ہونے اور حکومت کی طرف سے وقت گزرنے کے ساتھ نہری نظام کو سائنسی بنیادوں پر استوار نہ کرنے کی وجہ سے پانی کی بڑی مقدار ضائع ہو کر ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی کے بنجر ہونے کا سبب بن رہی ہے۔ کچے اور بوسیدہ نہری نظام کی وجہ سے ضائع ہونے والے پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے طاقتور وڈیرے اور زمیندار اپنی اراضی کو سیراب کرنے کے لئے نہروں میں بند بناندھ کر پانی کی فراہمی روک دیتے ہیں یوں طاقتور زمیندار تو اپنی فصلوں کو سیراب کرلیتا ہے مگر غریب اور کمزور کسان کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے ہرسال خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، زراعت کے شعبے کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ طاقتور اور کمزور کے لئےیکساں بنیادوں پر پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاۓ تاکہ ہمارا غریب کسان خوشحال ہو اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کا کسان خوشحال تو پاکستان خوشحال۔

    سندھ کی بات کی جائے تو یہاں چھوٹے زمینداروں اور کاشتکاروں کو پیش آنے والا سب بڑا مسئلہ پانی چوری کا ہے، بڑے زمیندار نہروں میں بند باندھ کر پانی چوری کر لیتے ہیں مقامی کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر سندھ بھر کی نہروں کو پختہ کر دیا جاۓ اور سندھ میں سائنسی بنیادوں پر ایسا واٹر سسٹم لایا جاۓ جس سے پانی چوری کرنا نا ممکن ہو تو چھوٹے زمینداروں اور کاشتکاروں کی مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
    پنجاب زراعت کے شعبے میں خاصی ترقی کر چکا ہے اور اس ترقی اور خوشحالی کی ایک وجہ پنجاب میں زیرزمین میٹھے پانی کے ذخائر اور پانی کی تقسیم کے نظام کا باقی صوبوں سے بہتر نظام کا رائج ہونا ہے تاہم جنوبی پنجاب کے بیشتر علاقوں میں اب بھی بہتری کی خاصی گنجائش موجود ہے۔

    بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر ترقی کی دوڑ میں باقی صوبوں سے خاصا پیچھے ہے جس کی دیگر وجوہات کے ساتھ بلوچستان میں زیرزمین پانی کے ذخائر کی کمی ہے لحاظ سے کافی پیچھے ہے اگر ملک میں ڈیمز بنانے کی طرف دی جاتی اور لاکھوں کیوسک پانی کو ضائع ہونے سے بچا کر ذخیرہ کرلیا جاتا تو بلوچستان کی لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی کو قابل کاشت بنا کر ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا تھا۔

    اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان میں کسی بھی دور حکومت میں ڈیمز کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام صوبوں میں نئے ڈیمز بنانے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے نہ صرف ہمیں پانی کی کمی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے بلکہ ضائع ہونے والے پانی کو ذخیرہ کرکے ہم اپنی بجلی کی ضروریات کو بھی پورا کرکے جہاں ملکی معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ چھوٹے زمینداروں اور غریب طبقے کی زندگیوں میں خوشحالی لا سکتے ہیں۔

  • کہاں ملتا ہے انصاف : تحریر:ماشا نور

    کہاں ملتا ہے انصاف : تحریر:ماشا نور

    پولیس کا کام ملزم کو گرفتار کرنا اسکے خلاف ثبوت اکھٹا کرنا عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے جرم ثابت ہونا سزا دینا عدالت کا کام ہے مگر اس نظام میں جرم ثابت کیسے ہو ملزم گرفتاری سے قبل ضمانت لے لیتا ہے جو باآسانی مل جاتی ہے چھٹی والا دن ہو یا آدھی رات امیروں سیاستدانوں کے لیے عدالت کے دروازے آدھی راتوں تک کھلے ہیں، گرفتاری ہو بھی جاے تب کالے کوٹ والے کیس کو اتنا کھینچتے کے مدعی تنگ آکر مقدمہ واپس لے لیتا یا دنیا سے رخصت ہوجاتا، مشہور ماڈل ایان علی منی لانڈرنگ کیس میں ملزمہ کو گرفتار کیا گیا خوب پیشیاں ہوئی محترمہ جب پیشی پر تشریف لاتی تو معلوم ہوتا جیسے کسی بیوٹی پارلر کی اوپننگ پر تشریف لائی ہوں زبردست پروٹوکول دیا جاتا سیلفیاں بنوائی جاتی پولیس والے خوشی سے پھولے نا سماتے،

    ماڈل ایان علی 2015 میں اسلام آباد ائیرپورٹ سے دبئی پانچ لاکھ ڈالرز غیر قانونی طورپر لے جاتے ہوئے پکڑی گئیں تھیں، جس کے بعد انہیں تین ماہ جیل کی ہوا کھانی پڑی تھی، کیس کی سماعت کسٹم عدالت میں ہوئی اور عبوری چالان میں ملزمہ کو قصور وار قرار دیا گیا اور نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا بعد ازاں ایان علی نے لاہور ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی عدالت نے فیصلہ سنایا، بیرون ملک جانے کی اجازت کے بعد بیرون ملک روانہ ہوگئیں آج تک یہ کیس چل رہا ہے دوسری طرف ایان علی کو گرفتار کرنے والے کسٹم افسر اعجاز چوہدری کا قتل ہوا جو آج تک معمہ بنا ہوا ہے پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا اعجاز چوہدری کی بیوہ نے کیس میں ایان علی کو شامل کرنے کی درخواست دی ، کیس آج تک لٹکا ہوا ہے انصاف نا ہوا نا ہی ایان علی کو سزا ہوئی، عدالتی نظام اتنا سست ناکارہ ہوچکا ہے جہاں غریبوں کو دو سنوائی پر سزا ہوجاتی وہی بڑے بڑے مگرمچھوں کو ضمانتیں باآسانی مل جاتی ہیں بہت سے مقدمے تو ایسے ہیں جہاں ملزم جیل میں دم توڑ جاتے انکی سنوائی ہوتی ہی نہیں بعد میں جب انکا نمبر آتا تب تک وہ مٹی تلے دفن ہوتے، شارہ خ جتوئی کیس بھی سب کے سامنے ہے کس طرح مجرم وکٹری کا نشان بناکر عدالت سے ضمانت لیے باہر آئے تھے،

    ایسا ایک انوکھا کیس جہاں ایک غیر ملکی نے دن دہاڑے دو معصوموں کو کچلا اور باآسانی پرائیوٹ جہاز سے اپنے وطن روانہ ہوااس کیس میں بھی کالے کوٹ والوں نے خوب کمال دکھایا دو جوان اولادوں کا خون کیسے کس طرح معاف کیا والدین نے سمجھنے والے سب سمجھتے ہیں

    یہاں بات نظام کو بدلنے انصاف دینے کی بھول ہی جائیں اگر آپ پیسے والے ہیں تو آپکو ضمانت آدھی رات کو بھی مل جاے گی ورنا سڑتے ہیں جیل میں یہی آپکا مقدر ہے نظام کو بدلنے کے دعوے کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے نواز شریف ملک سے فرار، مریم نواز کو بار بار ضمانت ملنا، زرداری کو ضمانت، اسحاق ڈار ملک سے فرار پھر یہ عدالتیں صرف غریبوں کو سزائیں دینے کے لیے بنائی گئیں ہیں یا ملزمان کو ملک سے فرار ہونے میں مدد کے لیے فیصلہ آپ خود کرسکتے ہیں ایک باشعور انسان کیا ان حالات میں انصاف کی امید رکھ سکتا ہے ؟ یہ ایک سوال آپکے لیے چھوڑے جارہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر ماشانور

  • ففتھ جنریشن وار کے ساتھ پاکستان میں پراکسی وار.تحریر :امان الرحمٰن

    ففتھ جنریشن وار کے ساتھ پاکستان میں پراکسی وار.تحریر :امان الرحمٰن

    افغانستان کی دن بہ دن بدلتی صورتحال کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مشترکہ دُشمن پاکستان میں وہی پراکسیز کو تیز کرنے کی کوشش میں ہیں جو آج سے چند سال پہلے مسلط کر کے اور مُنہ کی کھا چُکا ہے اب دوبارہ ایک بار پھر سے افغانستان میں شکست خُوردہ ہو کر کسی مکار لومڑی اور بُزدل دُشمن کی طرح اپنے تمامتر وسائل استعمال کرتے ہُوے پاکستان میں انتشار کی فضاء پیدا کرنےکے لئے ففتھ جنریشن وار کے ساتھ پراکسی وارمسلط کرنےجا رہا ہے بھارت اور امریکہ کے ساتھ اسرائیل میں یہ تہہ ہُوا ہےکے پاکستان کو چین کے ساتھ دوستی کی سزا ضرور ملنی چاہئےکیوں کے اب پاکستان اپنے اندرونی اور بیرونی فیصلوں میں خُود کو آزاد کر رہا ہے۔

    اور یہ دُشمن کو پسند نہیں آرہا کے پاکستان نے بھارت کو نازی سوچ سے ملا کر دنیا میں ذلیل کر کہ رکھ دیا ہے انٹرنیشنل لیول پر دنیا کو اپنے ساتھ ملایا ہے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کے بھارت سے کشمیر پر 370 اے لگوا کر پاکستان کو بھڑکانے میں ناکام رہے تو بھارت، امریکہ، اسرائیل ڈائریکٹ پاکستان سے لڑائی یا پاکستان پر حملہ کی گُنجائش نہیں رہی ۔
    اب جیسا کے ماضی میں پاکستان کی مسلح افواج نے دنیا کی سب سے خوفناک پراکسی وار لڑی ہے بلکہ اُن میں فتح حاصل کی ہے ، الحمدُللہ ۔
    دُشمن نے پاکستان میں باقی دنیا کی طرح سیدھا حملہ نہیں کیا جیسا کہ افغانستان پر، عراق، لیبیا ، شام یا اور ممالک میں سیدھا آکر اٹیک کیا لیکن پاکستان پر کوئی بھی حملہ نہیں کر سکا کیونکہ ہم نیوکلیئر پاور ہیں بہادر افواج بھی ہے اور لڑنے کی قابلیت بھی ہےاور شائدیہ خطرہ بھی ہو کے کہیں پاکستان ایٹمی حملہ ہی نہ کردے کہ عالمی جنگ شُروع ہو جائے اور پوری دنیا ہی تباہ ہو جائے۔

    اِسی لئے دُشمن کے پاس آسان حل یہی تھا کے ففتھ جنریشن وار کے ساتھ پراکسی وار لڑی جائے اور ساتھ جھوٹا پروپیگنڈہ جاری رکھا جائے ۔

    پچھلے 20 سالوں میں دیکھا جائے توپاکستان میں دنیا کی سب سے خطرناک پراکسی وار لڑی گئی، میرے پاکستان میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب ایک ماہ میں 40، 40 بم دھماکے ہوتے تھے پاکستان میں تب سے اب2021 تک 70 ہزار سے زائدپاکستانی شہید ہوے جن میں فوج کے جوان، پولیس، لاانفورسمنٹ ایجنسیز کے اہلکار، اور عام شہری شامل ہیں اور وہ لوگ بھی جو گُمراہ ہوے دُشمن کی باتوں میں آکر ریاست کے خلاف لڑتے ہوے مارے گئےیہ اُسی پراکسی وار کا حصہ بنے جو اب پھر دوبارہ تیز نظر آرہی ہے جیسا کے بلوچستان میں بی ایل اے، اور پی ٹی ایم، ایم کیو ایم، جسقم جئے سندھ والے، اِن سب کو "را” سی آئی اے، اسرائیل فنڈز دیتے تھے ۔

    اِ س کا ثبوت ساری دنیا کے سامنے کُلبھوشن یادیو ہے، ہیلری کلنٹن کا انٹرویو سامنے ہے کہ ہم نے یہ سب کیا پاکستان میں، اور کچھ عرصہ پہلے بھارتی ریٹائرڈ میجر گوروآریا ٹی وی پر بیٹھ کر خُود بتا رہا تھا کے ہم نے بلوچستان میں کیا کِیا اور کیا کریں گے یہ بات وہ کُھل کراکثر کرتا رہا ہے۔
    اور اب بھی یہ معملہ چل رہا ہے بلکہ اب زور پکڑ رہا ہے کیوں کے سی پیک نزدیک آگیا ہے پاکستان مستحکم ہو رہا ہے تو دُشمن نہیں چاہتا کے پاکستان میں سکون ہو پاکستان ترقی کرے۔جیسا کے پہلے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پاکستان کے بارے میں خبریں دیا کرتا تھا اب بھی دے رہا ہے جیسے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کی خبر بھارت میں بیٹھا بی بی سی کا نمائندہ دے رہا تھا کُچھ الگ انداز میں ، اور چند ماہ پہلے ایک بار پھر لال مسجد کی خبریں لگا رہا تھا جیسا پہلے لال مسجد پر خبریں دیا کرتا تھا اب پھر یہ ہمارے دینی حلکوں کو اُبھارنے کیلئے پُرانی خبریں نئے انداز میں چھاپ رہا ہے کیوں ؟

    کبھی فرقہ وارانہ فساد کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی دہشت گردی کی کسی تنظیم سے پاکستان کو جوڑنے کی ناکام کوشش ہوتی ہے یہی تو ہے ففتھ جنریشن وار فیئرجس سے ریاست کی عوام کے ساتھ ساتھ عالمی معاشی منڈی میں پاکستان کی غلط اندازمنظر کشی کی جائے ، بدنام کیا جائے اور فیٹف جیسے اِدارے کو بنا کر صرف اپنے مقاصد حاصل کرنےکے لئے استعمال کیا جائے ۔
    ہمیں ہوشیار رہنا ہو گا اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھٹکنے سے بچانا ہوگا اور اِن شاءاللہ ہم اب اِس پراکسی وار کو اچھے سے سمجھ چُکے ہیں ، ہم ففتھ جنریشن وار فیئر سوشل میڈیا پر لڑنے کے ساتھ ساتھ اب ہم ٹرینڈ بھی ہو گئے ہیں کے یہ ففتھ جنریشن وار کیا بلاہے اور یہ شعور ہمیں ہمارے محسِن لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور صاحب نے اچھے سے سکھا دیا تھا جب وہ ایک مشکل وقت میں پاکستان کے لئے پاک فوج کےشعوبہِ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے عہدے پر فائز تھے وہ وقت یقیناً پاکستان کے لئے بہت کٹھن اور مشکل وقت تھا تب لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور صاحب نے ہی پاکستان کی بکھرتی ہُوئی غفلت میں ڈُوبتی ہُوئی نوجوان نسل کو اُن کا مقصد یاد کروایا تھا اور اِس نہ نظر آنے والی جنگ کو کاؤنٹر کرتے ہُوےلیڈ کرتے ہُوے رہنمائی کرتے ہوےبھرپور طریقےسے سوشل میڈیا پر ایک مضبوط عصاب کی مالک پاکستانی نوجوانوں کو دُشمن کے مقابل لا کھڑا کیا اور ہم ایک مُٹھی کی طرح متحدہو گئے، اور ہیں اور ہمیشہ متحد رہیں گےاِن شاء اللہ۔ اللہ پاک ہمارا اور ہمارے پیارے پاکستان کا حامی و ناصر ہو آمین
    پاکستان پائندہ آباد

  • ذبح عظیم .تحریر: مزمل مسعود دیو

    ذبح عظیم .تحریر: مزمل مسعود دیو

    اللہ تعالی نے اپنے انبیاء کو اس سرزمین پر مبعوث فرمایا تاکہ وہ ہم تک اللہ تعالی کا پیغام پہنچائیں۔ پھر ان انبیاء کو بہت بڑے بڑے امتحانات سے آزمایا۔ جن کو اللہ پاک نے چنا وہ سب اپنے امتحانات میں سرخرو ہوئے اور ہمارے لیے مثالیں چھوڑ گئے۔ ایسا ہی ایک امتحان جو بہت صبر آزما تھا اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لیا۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ پاک سے اولاد کی تمنا کی اور اللہ تعالی نے تقریبا 100 سال کی عمر میں اسے پورا کیا اور آپکو ایک بیٹا حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا کیا۔ اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے امتحان لیا۔ روز خواب میں قربانی کا حکم ہوتا کہ اپنی سب سے پیاری چیز اللہ کی راہ میں قربان کرو۔ لاتعداد اونٹ اور بکریاں روز اللہ کی راہ میں قربان کیں لیکن پھر خواب دوبارہ آتا رہا حتی کہ بیٹے کی قربانی کا حکم ملا۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی حضرت مائی ہاجرہ کو سارا قصہ سنایا اور وہ بھی آخر نبی کی بیوی تھی اللہ پاک کے حکم پر آمین کہہ دیا اور اپنے بیٹے کو اللہ تعالی کی راہ میں قربانی کے لیے تیار کیا۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو لے کر اللہ کی راہ میں قربان کرنے نکل پڑے راستے میں شیطان آیا اور اللہ کے نبی کو ورغلانے کی کوشش کی لیکن ہر بار منہ کی کھائی اور اللہ کے نبی نے اسے تین مقام پر پتھر مارے۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی کی اس ادا کو ہمارے لیے حج کے واجبات میں شامل کردیا۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کر زمین پر لٹایا تو بیٹے نے عرض کی کہ بابا میری اور اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں کہیں فرط محبت میں اللہ تعالی کی حکم عزولی نہ ہوجائے۔ دونوں باپ بیٹے نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی اور اپنے لخت جگر کو زمین پر لٹا دیا۔ پوری کائنات حیرت میں چلی گئئ فرشتے، جنات کہ یااللہ یہ کیسا امتحان ہے اور یہ کیسے تیرے بندے ہیں جو تیرے حکم کو بجا لانے کے لیے ہر حال میں تیار ہیں۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بسم اللہ پڑھ کر چھری چلائی لیکن اللہ تعالی کے حکم سے چھری نہیں چلی تو آپ مسلسل چھری چلاتے رہے۔ اللہ پاک نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ میرا ابراہیم تب تک چھری چلائے گا جب تک اسکے ہاتھ کو گرم خون نہ لگا۔ جنت سے ایک دنبہ لے جاو اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو نکال کر دنبہ لٹادو ۔ پھر چھری چلی تو گرم خون ہاتھوں کو لگا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔
    جب پٹی کھولی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بیٹھے مسکرا رہے تھے۔ اللہ تعالی کا پیغام سنایا اور کہا کہ اللہ تعالی نے آپکی قربانی قبول کر لی اور آپ اپنے امتحان میں سرخرو ہوئے۔ اپنے بیٹے کے ساتھ گھر تشریف لائے اور اپنی بیوی کو خوشخبری سنائی کہ ہمارا رب ہم سے راضی ہو گیا۔ اللہ تعالی کو اپنے رسول کلیم اللہ کی ادا اتنی پسند آئی کہ قیامت تک جو شخص حج کے لیے جائے گا وہ اس سنت کو ادا کرے گا۔

    ‏@warrior1pak

  • ضلع  تلہ گنگ کا چورن اور عوامی تحریک .تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    ضلع تلہ گنگ کا چورن اور عوامی تحریک .تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    1985 میں اٹک اور جہلم کے کحچھ حصوں کو ملاکر بننے والا ضلع چکوال ( تقریبا” 6524 کلومیٹر ) رقبے پر محیط ہے۔ اسکی پانچ تحصیلیں ہیں جن میں چکوال، کلرکہار، چواسیدن شاہ، تلہ گنک اور لاوہ شامل ہیں جبکہ اسکی کل آبادی لگ بھگ 15 لاکھ افراد کے قریب ہے۔ چکوال کو اپ گریڈ کرتے وقت ، تحصیل تلہ گنگ کو ضلع اٹک سے منسلک کیا گیا تھا اور اس وقت اسے ضلع چکوال کا دوسرا سب ڈویژن بنایا گیا تھا۔ پانچ تحصیلوں میں تلہ گنگ سب سے بڑی اور گنجان آبادی پر محیط تحصیل ہے۔ اس میں تقریبا” 17 یونین کونسلز، 80 کے قریب چھوٹے بڑے دیہات / گاوں، 320 کے قریب مختلف تعلیمی ادارے (سکولز ، کالجز) اور 3 پولیس اسٹیشن شامل ہیں ۔
    اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو تحصیل تلہ گنگ لگ بھگ 85 سال تک (1901-1985) تک انتظامی طور پر ضلع اٹک کے زیر اثر رہا ہے اور 1985 میں جب چکوال کو ضلع بنایا گیا تو اس علاقے کو اسکے ساتھ منسلک کردیا گیا۔ اسی سال یعنی 1985 میں پاکستان میں غیر جماعتی انتخابات کروائے گئے، تو ان کے ذریعہ ذات، برادری، دولت و حیثیت اور روایتی سیاسیی خاندانوں کو استحکام بخشا گیا۔ اس استحکام کی بدولت خاندانی سیاستدان ہر مرتبہ منتخب ہوکر اسمبلیوں تک پہنچتے رہے ہیں۔ 1985 سےلیکر تاحال یہاں کی سیاست نظریات کی بجائے مخصوص خاندانوں کے گرد گھومتی آرہی ہے۔ یہ چند مخصوص لوگ مخصوص سیاسیی جماعتوں کے ٹکٹس پر الیکشن لڑتے ہیں اور اگر پارٹی انکو ٹکٹ نہ دے تو یہ فورا” ہی کسی بھی دوسریسیاسیی جماعت کے ساتھ الحاق کرلیتے ہیں۔ بلفرض متبادل پارٹی بھی ٹکٹ سے محروم رکھے تو یہ آزاد حیثیت سے الیکشن میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔

    اسی موورثی سیاسیی پالیسی کی وجہ سے انہوں نے اپنے اپنے مخصوص علاقوں میں اپنی سیاسیی اجارداری اور وڈیرہ شاہی قائم کررکھی ہے۔ اپنے لیے حمایتی، مالی سپورٹرز اور موورثی طور پر سیاسیی اثرورسوخ رکھنے والے افراد کو پال رکھا ہے، جو الیکشنز میں انکے دست راست بنکر انہیں ہر طرح کی مدد فراہم کرتے ہیں۔ 1985 سے لیکر تاحال تلہ گنگ کی علاقائی سیاست میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی رونما نہ ہوسکی۔ لگ بھگ 36 سال سے یہاں کے وڈیرے اور موورثی سیاستدانوں کی سیاست ایک ہی ڈگر پر چلی آرہی ہے ۔سال 1988 سے لیکر 2018 تک کے الیکشنز تک تمام سیاسیی جماعتوں نے "ضلع تلہ گنگ” کے نعرے کو انتخابی مہمات کے دوران "قومی نعرے” کے طور پر استعمال کرکے عوام کے جائز حق پر ڈاکہ ڈالتے آرہے ہیں۔
    سال 2014 میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی ڈاریکٹو آرڈر کا ایک عدد ردی کاغذ بنام ضلع تلہ گنگ ایشو کیا تھا اور ہمیشہ کیطرح میاں جی نے بھی یہ چورن بیچ کر عوام کی داد موصول کرلی تھی۔ ابھی چند روز پہلے موجودہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے چئیر مین اور وزیراعظم عمران خان کیطرف سے بھی متعلقہ انتظامیہ کو تحصیل تلہ گنگ کی اپ گریڈیشن کےلیے ایک عدد سرکاری ڈاریکٹو آرڈرز جاری ہوچکا ہے، لیکن تاحال تلہ گنک کی سیاسیی بے یارو مددگار عوام کو اس حوالے سے کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔ دوسری جانب این اے 65 کی تمام سیاسیی جماعتیں ڈاریکٹو آڈرز کےلیے کریڈیٹ کریڈیٹ کی دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں لگے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تمام سیاسیی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام ترشی کرتی نظر آرہی ہیں، کوئی پوائنٹ سکورنگ کے چکر میں لگا ہے تو کوئی عوام کی داد موصول کرکے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ اس تحریک نے اور سیاسیی پوائنٹ کورنگ کی رفتار نے اس وقت مزید زور پکڑ لیا جب حکمران جماعت کی اتحادی ق لیگ کے صوبائی وزیر معدنیات حافظ عمار یاسر نے "ضلع تلہ گنگ” کے حوالے نے بیان دیا کہ ” ضلع تلہ گنگ قابل عمل منصوبہ نہیں ہے” ۔ اس مایوس کن بیان کے آتے ہی سوشل میڈیا پر سوشل ورکرز اور سیاسیی جماعتوں کیطرف سے مسلم لیگ ق پر تنقید کے تیروں کی بارش شروع ہوگئی، تحریک انصاف، نون لیگ اور باقی سیاسیی جماعتوں نے حافظ عمار یاسر کے اس مایوس کن بیان کی شدید الفاظ میں مزاحمت کی اور انکا کہنا تھا کہ اگر "ضلع تلہ گنگ” قابل عمل منصوبہ نہیں ہے تو اپنی الیکشن مہمات کے دوران یہ چورن کیوں بیچا گیا ہے ؟ عوام سے کیوں جھوٹ بولا گیا؟ عوام کی آنکھوں میں کیوں دھول جھونکی گئی؟ عوام کو کیوں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاکر ان سے ووٹ حاصل کیے گئے ؟ آخر کب تک تلہ گنگ کی عوام کو دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑیں گی ؟ کب تک عوام اپنے مسائل کی پوٹلیاں اٹھا کر چکوال جاتی رہے گی ؟ کب تک عوام کو چھوٹے چھوٹے کاموں کےلیے گھنٹوں لمبی لائن میں کھڑا ہونا پڑے گا ؟ کب تک عوام کو بنیادی ضروریات کے ضروری کاغذات بنوانے کےلیے گھنٹوں روڈ پر ٹرانسپورٹ کےلیے زلیل و رسو ا ہونا پڑے گا؟

    اس وقت سوشل میڈیا پر "تلہ گنگ کو ضلع بناو” تحریک زور و شور سے جاری ہے۔ ابھی تک سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان، سوشل ورکرز، سیاسیی و سماجی کارکن، صحافی برادری، اساتذہ کرام، ڈاکٹرز الغرض تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس تحریک کا حصہ بن چکے ہیں اور نہ صرف ضلعی سطح پر اس تحریک کو چلایا جارہا ہے بلکہ بیرون ملک سے بھی کثیر تعداد میں نوجوانوں نے اس تحریک کو جوائن کرلیا ہے۔ سعودی عرب میں مقیم نوجوانوں کیطرف سے "ضلع تلہ گنگ” کےلیے اسپیشل دعائیں بھی کی گئی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر موجود تمام افراد کا کہنا ہے کہ اب یہ تحریک "ضلع تلہ گنگ ” کے نوٹیفکیشن جاری ہونے تک ایسے ہی چلے گی اور کسی قسم کی سیاسیی یا حکومتی ہیرا پھیری میں نہیں آیا جائے گا۔ تمام افراد کا ایک ہی نعرہ، "بناو تلہ گنگ ضلع ہمارا” بناو تلہ گنگ ضلع ہمارا”۔ تحریک کے شرکاء کا کہنا ہے کہ اس بار ہمیں سیاسیی پارٹی بازیوں سے بالا تر ہوکر "ضلع تلہ گنگ” کےلیے کوشش کرنی ہے ، تمام اختلافات کو ایک طرف رکھ کر، صرف مشترکہ مفاد کو اپنانا ہے، نون، ش، ق، پی ٹی آئی سب کو بھول کر عوامی مفاد کو سامنے رکھنا ہے۔
    ہماری وزیراعظم پاکستان عمران خان ، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی وزیر معدنیات عمار یاسر سے گزارش ہے کہ خداراہ اب تلہ گنگیوں کے حال پر رحم کریں اور نصف صدی سے چلی آرہی تحصیل کو "ضلع تلہ گنگ” بنایا جایا تاکہ عوام کو درپیش مسائل میں کمی واقع ہوسکے۔