Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نظام عدل .تحریر: ملک عمان سرفراز

    نظام عدل .تحریر: ملک عمان سرفراز

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کی سب سے بڑی وجہ اسلامی قوانین کا نفاذ تھا کہ ایسی ریاست جہاں اسلامی قوانین کا نفاذ آسانی سے ممکن ہو

    کسی بھی ریاست کے قیام کے بنیادی ستونوں میں سے نظام عدل ایک اہم ستون ہے ہے کسی بھی معاشرے میں امن وامان کے قیام کی بڑی وجہ اس معاشرے میں عدل و انصاف کو قائم ہونا ہے مگر افسوس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک نہیں دو قوانین کی بالادستی ہے امیر کے لیے الگ قانون ہے اور غریب کے لیے الگ ۔

    یہاں اگر کوئی غریب چوری جیسے جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو پہلے تو اس کو لوگوں کے ہاتھوں نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے اور پھر تھا نے کی ہوا الگ سے کھانا پڑتی ہے۔
    مگر ٹھہریے اگر آپ کا کوئی سیاستدان اس ملک کے خزانے لوٹتا نظر آئے گا یا کوئی با اثر شخص اس جرم کا مرتکب ہوتا نظر آئے گا تو اس کے ساتھ ہرگز برا سلوک نہ ہو گا بلکہ اس کے گلے میں ہار ہوں گے اور اس کے نعرے گونجتے نظر آئیں گے۔

    ایسا کیوں ہے کیونکہ ہمارا نظام عدل اس قدر خستہ حال ہو چکا ہے کہ وہ قانون جو کہ عدل ی بالادستی کے لئے تھا وہ امیروں کے گھروں کی باندی بن چکا ہے
    غریب کا بیٹا ہوائی فائرنگ جیسا جرم کرے گا تو جیل جائے گا مگر ایم این اے کا بیٹا یہی کام کرے گا تو قانون اندھا بن جائے گا۔

    قانون تو واقعی مکڑی کے جالے کی طرح ہے جس میں پھنسنا غریب کو ہوتا ہے اور امیر کی مثال اس مکری کی ہے جو خود اس قانون کے جالے کو بنتا ہے۔

    یہاں انصاف بکتا ہے ،یہاں فرمان بکتے ہیں
    زرا تم دام تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

    یہ کیسا قانون ہے کہ کرپٹ کے تحفظ کے لیے چھٹی والے دن بھی عدالت لگ جاتی ہے اور غریب انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔

    اگر کوئی بھی کسی بھی اس معاشر ے میں امن چاہتا ہے خوشخالی چاہتا ہے تو اس معاشرے میں نظام عدل کی بالادستی اور سب کے لیے فوری اور سستا انصاف ضروری ہے۔

    جب نظام عدل خستہ حال ہوتا ہے تو وہ معاشرہ بھی خستہ حال ہو جاتا ہے

  • آزاد کشمیر عام انتخابات کی سیاسی ہلچل اپنے عروج پر!تحریر: معین وجاہت

    آزاد کشمیر عام انتخابات کی سیاسی ہلچل اپنے عروج پر!تحریر: معین وجاہت

    آزاد کشمیر عام انتخابات کی سیاسی ہلچل اپنے عروج پر!تحریر: معین وجاہت
    جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں 25 جولائی 2021 کو آزاد کشمیر میں عام انتخابات ہونے جارہے ہیں ۔ جس میں تمام سیاسی پارٹیاں الیکشن جیتنے کے لیے ایڑی چوٹی کو زور لگا رہے۔

    آزادکشمیر الیکشن کو کامیاب بنانے کیلئے وفاقی وزراء بھی PTI کے حق میں بھرپور مہم چلارہے ہیں جبکہ دوسری طرف مریم نواز بھی اس وقت آزاد کشمیر میں ہیں اور بلاول بٹھو زرداری بھی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔

    ایک طرف جہاں تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف مدمقابل ہیں وہیں دوسری طرف ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے آزادکشمیر میں گزشتہ پندرہ سالوں سے مسلم کانفرنس، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتیں برسرِ اقتدار تھیں۔ آزادکشمیر کی عوام ان پرانے سیاستدانوں سے نالاں ہوچکی ہے۔ یہ سیاستدان ہر بار پارٹیاں اور انتخابی نشانات بدل کر عوام کے درمیان آجاتے ہیں۔

    یہ سیاستدان ہماری بھولی بھالی کشمیری عوام کو تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے جھوٹے وعدوں کے سبز باغ دکھاتے ہیں اور ہماری سادہ لوح عوام ان سیاستدانوں کے وعدوں اور دعووں پر اعتبار کرلیتی ہے پھر بعد میں پانچ سال پچھتاتی رہتی ہے۔

    آج حالات بدل چکے ہیں۔ عوام کافی حد تک سمجھدار ہوچکی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادکشمیر کے لوگ اپنے سیاسی حقوق کو پہچانیں اور انفرادی مفاد کے بجائے علاقائی سطح پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں۔

    آزادکشمیر کے علاقے ابھی تک پسماندہ ہیں۔ اسکول، ہسپتال اور سڑکیں تک موجود نہیں ہیں۔ کشمیری عوام سمجھ لے آپ کے منتخب سیاستدان ہر بار ووٹ لینے کے چکر میں آپ کو تعمیر و ترقی کے لالی پاپ دے جاتے ہیں۔

    آج الحمدالله ہماری نوجوان نسل باشعور ہوچکی ہے۔ نوجوان سمجھ چکے ہیں ان موسمی سیاستدانوں کا نہ کوئی مستقل نظریہ ہوتا ہے اور نہ کوئی وژن! ان سیاستدانوں کا نظریہ اقتدار کی سیاست اور انکا وژن کرپشن ہے۔ لہذا اس بار ووٹ صرف اسی امیدوار کو دیں جو عملی طور پر آپکے حلقے کے بنیادی مسائل حل کرنے میں مخلص ہو. اس امیدوار کو ووٹ دیں جسکو عوام کے بنیادی مسائل کا ادراک ہو اور وہ امیدوار اچھے اور برے حالات میں عوام کے درمیان ہو۔

    آزادکشمیر کی عوام کو تعلیم کیلئے اسکول اور کالجوں کی ضرورت ہے۔ صحت کیلئے ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی ضرورت ہے۔ ہسپتالوں بہترین طبی عملے اور ادویات کی ضرورت ہے۔ آمد ورفت کیلئے پختہ سٹرکوں اور شاہرات کی ضرورت ہے۔

    آزادکشمیر کی عوام کو تیز ترین 3G اور 4G سروس کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں 7 سال سے تھری جی اور فور جی سروس چل رہی ہے لیکن بدقسمتی آزادکشمیر میں ابھی تک ناکارہ 2G سروس چل رہی ہے۔

    آزادکشمیر کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار کی ضرورت ہے۔ میرٹ پر جب نوجوانوں کو روزگار ملے گا تو آزادکشمیر ترقی کرے گا۔

    امید ہے اور دعا ہے جو سیاسی جماعت بھی آزادکشمیر برسراقتدار آئے وہ عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں مخلص ہو۔ میری دلی دعا ہے الله پاک مجھ سمیت ہر مسلمان کو ایمانی عافیت عطا فرمائے۔ اللہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی مدد فرمائے۔ اللہ پاک وطن عزیز پاکستان اور آزادکشمیر پر اپنا خصوصی کرم نازل فرمائے ۔

    پاکستان زندہ باد
    آزادکشمیر تابندہ باد

  • ” ناکامی کی ٹہنی ” تحریر: شعیب اسلم

    ” ناکامی کی ٹہنی ” تحریر: شعیب اسلم

    بچپن میں ایک قصہ سنا کرتے تھے کہ
    ایک بادشاہ نے دو نایاب عقاب منگوائے.
    دیکھا کہ ان میں سے ایک عقاب شکار کرتا اور اڑتا تھا لیکن دوسرا ایک ٹہنی پر بیٹھا رہتا.
    بیسیوں حربے آزمائے لیکن وہ اُڑ کے نہ دیا,
    بادشاہ نے ایک ماہر شکاری کو بلوایا, اگلے دن سب نے دیکھا کہ وہی عقاب اڑانیں بھرتا پھررہا ہے.
    بادشاہ نے شکاری سے وجہ پوچھی تو شکاری نے جواب دیا کہ عقاب جس ٹہنی پر بیٹھتا تھا ,میں نے وہ ٹہنی کاٹ دی
    اسی طرح سرکس کے ہاتھی کو نازک سی رسی سے بندھا ہوا دیکھا ہوگا آپ نے,اس ہاتھی کو بچپن میں طاقتور رسی سے باندھا جاتا رہا جو وہ توڑ نہیں سکتا تھا, جس سے اسکے ذہن میں یہ بات راسخ ہوگئی کہ رسی نہیں ٹوٹے گی.

    دراصل یہ عقاب اور ہاتھی دونوں کا کمفرٹ زون تھا
    لاشعور میں یہ بات بیٹھ جائے کہ
    میں نہیں کرسکتا, مجھ سے نہیں ہوگا
    تو آسان سے آسان کام بھی پہاڑ بن جاتا ہے .
    ہم نے جگہ جگہ اپنی سوچ اپنے عمل, پر بیریئر لگا رکھے ہیں , اجتہاد سے دور بھاگتے ہیں.
    ہم میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی نازک سی ٹہنی پر بیٹھا ہے
    ہار جانے کا خوف,ناکامی کا ڈر ہمیں چیلنج قبول کرنے نہیں دیتا
    چیلنج نہ لینے سے ہم اپنی سوچ پر ناکا لگادیتے ہیں ,
    ہمارے اندر آگے بڑھنے کی لگن ختم ہوجاتی ہے,
    ہم ایک چھوٹے سے محدود سرکل میں آرام دہ رہنے کے عادی ہوجاتے ہیں,
    سہل پسند ہوجاتے ہیں.
    یہی وہ نقطۂِ عروج ہوتا ہے جہاں سے زوال شروع ہوتا ہے.
    "تغیّر کو ہے ثبات زمانے میں”
    ایک تبدیلی ہی اس دنیا میں مستقل ہے,
    جامد و ساکت, متحرک و متغیّر کے رستے کی دُھول بن کر رہ جاتے ہیں .

    چیلنج لینا سیکھیں,
    ذہن منصوبہ بندی کا عادی ہوجائے گا,
    ذہن متحرک ہوا تو جسم اس سے ہم آہنگ ہونے کی تگ و دو کرے گا.
    پھر روح میں جوش,ہمت ولولہ اور قیادت کی صفات جنم لیتی ہیں.
    انسانی تاریخ کھنگال لیں,
    آپ کو ہر کامیابی کے پیچھے کوئی سر پِھرا, کوئی انوکھا, کوئی بہادر مُہم جُو نظر آئے گا
    ہر بڑی ایجاد کے پیچھے کوئی جدت پسند اور رسک لینے والی سوچ نظر آئے گی .
    تاریخ بڑی بے رحم ہے, اس میں کم ہمتی, ذہنی غلامی اور سخت و جامد رویوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے.
    ذرا کمفرٹ زون کی ٹہنی سے اُڑ کر تو دیکھیں, کتنے اُفق آپکی پرواز سے تسخیر ہونے کے منتظر ہیں ؟
    ذرا پاؤں کی زنجیر توڑیں تو سہی, کتنی دنیائیں, کتنے رستے آپکا نقشِ پا بننے کے لئے تیار ہیں ؟

    کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
    ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

  • ریاست مدینہ کی طرف سفر  تحریر:محمد نعیم شہزاد

    ریاست مدینہ کی طرف سفر تحریر:محمد نعیم شہزاد

    پیوستہ رہ شجر سے
    ریاست مدینہ کی طرف سفر

    تحریر: محمد نعیم شہزاد

    وطن عزیز پاکستان آزادی کا 74 واں سورج دیکھنے جا رہا ہے۔ ایشیاء صغیر کی سر زمین پر تاج برطانیہ کے آمرانہ تسلط کے بعد مسلمانوں پر ہندو اکثریت کے جابرانہ اقتدار کے بادل منڈلا رہے تھے کہ مسلم قیادت نے ایک الگ اسلامی مملکت کا مطالبہ کر دیا۔ حیرت ہوتی ہے ان خود ساختہ دانشوروں پر جو دو قومی نظریہ، نظریہ پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں۔ اگر ہندو، مسلم ایک قوم بن سکتے تو اس تقسیم کی قطعاً ضرورت نہ پیش آتی مگر تقسیم کا فارمولا طے ہونا اور اس پر عملدرآمد اس بات کا عکاس ہے کہ ہندو مسلم اتحاد کی حقیقت دیوانے کے خواب سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ تقسیم ہند کے بعد میں پیش آنے والے حالات و واقعات تقسیم کے اس عمل کے درست ہونے پر شاہد ہیں۔ ان 74 برسوں میں ریاست پاکستان نے بہت سے نشیب و فراز کا سامنا کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سے کلمہ لا الہ الا اللہ کے نام پر بننے والی یہ ریاست حاسدوں کے حسد اور شریروں کے شر کے باوجود قائم دائم ہے اور تاقیامت سلامت رہے گی۔ ان شاء اللہ

    سر دست میں آپ کو مدینہ ثانی کہلانے والی اس ریاست، پاکستان جسے اسلام کا قلعہ بھی قرار دیا جاتا ہے کے نظام حکومت میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کی بات کرنا چاہوں گا۔ یہ وہ تبدیلی ہے جو آ نہیں رہی بلکہ آ گئی ہے۔ اور یہ ایک بنیادی تبدیلی ہے جو کسی بھی معاشرے کی تعمیر میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
    تاریخ شاہد ہے کہ ریاست مدینہ میں جب ایک چوری کے مقدمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجرم خاتون کی سفارش کی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقوام کی تباہی کا سبب ذکر فرما دیا۔

    "کمزور کو سزا دینا اور طاقتور کو چھوڑ دینا”۔

    یہ ہر دور کا المیہ رہا ہے کہ طاقتور اور مالدار طبقہ اپنی طاقت کے زور پر تمام طرح کے مواخذات سے بری الذمہ ٹھہرتا ہے اور سارا زور کمزور اور غریب عوام پر ہی نکلتا ہے۔ امیر شخص واضح ثبوت موجود ہونے کے باوجود بچ جاتا ہے اور غریب محض شک کی بنیاد پر دھر لیا جاتا ہے۔ اس پر مستزاد محکمانہ غفلتیں ہیں جن کی وجہ سے عوام انصاف سے یا تو محروم ہیں یا منتظر اور یہ انتظار ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ ایسے وقت میں پاکستان سیٹزن پورٹل کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ آپ کسی بھی محکمے کی طرف سے لیت و لعل کا شکار ہیں یا آپ کی شنوائی نہیں ہو رہی تو اپنی شکایت کے لیے اس پورٹل کی طرف رجوع کریں۔ شکایت درج کرنے کے 40 یوم سے پہلے پہلے آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور اگر شکایت پوری طرح رفع نہ یہہو تو اس کا اظہار تبصرہ کے کالم میں کریں یا دوبارہ شکایت درج کر دیں اور پہلے والی شکایت کا حوالہ بھی دے دیں ۔

    گزشتہ 9 ماہ کے عرصے میں میں سیٹیزن پورٹل سے تین بار مستفید ہوا ہوں اور وہ ثمرات پائے ہیں جو اس کے بغیر ناممکن تھے۔ جب ہمارا کوئی جائز کام رکا ہوا ہو اور اس کے پورے ہونے کی کوئی امید نظر نہ آتی ہو تو سیٹیزن پورٹل ہی ہماری آخری امید بن جاتا ہے اور آپ کو انصاف آپ کی دہلیز پر ہی مل جاتا ہے۔ ایسے میں وزیراعظم پاکستان کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں جنہوں نے اس نظام کا اجراء کیا۔ یہی وہ بنیادی تبدیلی ہے جو قوموں کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ میں اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان کو مبارک باد دینا چاہوں گا اور امید رکھوں گا کہ انصاف کی فراہمی کا یہ سلسلہ بدستور جاری رہے گا اور ہمارے پاک وطن کو ریاست مدینہ کے ماڈل پر ایک فلاحی ریاست بنا دے گا۔

    محمد نعیم شہزاد ایک فری لانس بلاگر اور کانٹینٹ رائٹر ہیں۔ ان کے موضوعات میں تعلیم، عمرانیات اور سیاسیات شامل ہیں۔ لکھاری کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ان کا پرسنل اکاؤنٹ وزٹ کریں۔

  • افغانستان امن عمل میں پاکستان کی اہمیت ، تحریر: سید محمد مدنی

    افغانستان امن عمل میں پاکستان کی اہمیت ، تحریر: سید محمد مدنی

    ۔ افغانستان جو پاکستان کاپڑوسی ملک ہے زیادہ تر اس کا وقت جنگ لڑتے ہوئے ہی گزرا ہے اس سے پہلے کافی طاقتیں آئیں پھر روس آیا اس وقت امریکہ ایک بین الاقوامی طاقت بن رہا تھا اسے روس کی اجارہ داری پسند نہ تھی اس نے افغانستان پرحملہ کیا اور روس سویت یونین کو وہاں قابض نہ ہونے دیا بلا آخر روس ١٩٨٩، ١٩٩٠ میں سوویت یونین جسے یو ایس ایس آر کہا جاتا تھا ٹُوٹا اور اس کے ٹُکڑے ہوئے اور روس اپنی طاقت کھو بیٹھا پھر امریکہ دوبارہ کچھ سال کے بعد حملہ آور ہؤا اور نام نہاد دہشت گردی کا واقعے ١١/٠٩/٢٠٠١کی بنا پر افغانستان پر حملہ کیا جس میں بہت سی جانیں ضائع ہوئیں اب ٢٠ سال بعد ٢٠٢١ میں حالات بدلے اور امریکہ کو بھی یہ احساس ہؤا کہ اب وہ مزید جنگ جاری نہیں رکھ سکتا اس نے فیصلہ کیا ہے کہ ستمبر ٢٠٢١ تک افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ہوجائےگا لیکن اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے اور پڑ رہے ہیں مگر وزیراعظم سول اور ملٹری لیڈر شپ کی بہترین حکمت عملی کام دکھا رہی ہے
    اب آتے ہیں پاکستان کی اہمیت کی طرف ماضی میں جو بھی حکومت رہی اس نے صرف اور صرف اپنا مفاد دیکھا نا کہ پاکستان کا زیادہ ماضی میں جائے بغیر اب روشنی ڈالتے ہیں حالیہ سیچوایشن پر اس وقت پاکستان میں ایک مضبوط لیڈر شپ وزیراعظم عمران خان کی شکل میں موجود ہے پچھلے کچھ دنوں امریکہ نے پاکستان پر ماضی کی طرح مرضی کی شرائط لاگو کرنا چاہیں لیکن وزیر اعظم عمران خان نے ہر وہ شرط رد کر دی جو پاکستان کے مفاد میں نہیں تھی یہاں تک کہ امریکی عہدے داران جو وزیر اعظم کے عہدے سے نچلے عہدے کا آفیشل تھا سے بات کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ اگر امریکہ کو مجھ سے بات کرنی ہےتو وہاں کا صدر بات کرے میں وزیر اعظم ہوں پروٹو کول کا خیال رکھا جائےپچھلے دنوں امریکی سیکرٹری بلنکن کا پاکستانی وزیر خارجہ کو فون آیا جس میں دو طرفہ امور اور افغان امن عمل پر بات چیت ہوئی امریکی ٹیلی فون کالز اور ملاقاتیں زیادہ اگر نہیں بھی ہوئیں لیکن امریکہ کو یہ علم ہو چکا ہےکہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کسی بھی حالت میں ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جو ریاست پاکستان کے خلاف ہوگا ورنہ اس سے پہلے جب گیارہ ستمبر کو دہشت گردی کا واقعہ ہؤا تو امریکہ نے پاکستان پر ایک فون کر کے یہ پریشر ڈالا کہ

    Are you with us or against us ?

    مطلب کیا آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف یہ بڑا عجیب سا سوال تھا بلکل ایسے جیسے دھمکی ہو یا دھونس مگر آج بہت فرق ہے اب امریکہ کے فون آرہے ہیں تو وہ زرا بہتر انداز میں بات کرتا ہے ایک اور جگہ جب وزیر اعظم سے امریکی چینل نے انٹرویو کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ امریکہ کو اپنےاڈے دیں گے تو اس پر وزیر اعظم نے واضح کہا کہ

    Absolutely Not

    یعنی ہرگز نہیں بلکل نہیں پاکستان کی سر زمین سے افغانستان پر کسی قسم کا کوئی بھی حملہ نہیں ہوگا

    اب آپ فرق دیکھ لیں کہ پاکستان نے اپنی اہمیت خود دکھائی ہے اور یہ ممکن تب ہی ہوتا ہےجب آپ کے پاس ایک مضبوط لیڈرشپ ہواور آپ خود اپنی اہمیت دکھائیں افغانستان امن عمل کے پروسیس میں جتنا اہم کردار پاکستان کا ہےکسی اور کا نہیں یہاں تک کہ افغان طالبان کو بات چیت کی میز پر لانے کے لئے پاکستان ہی نےکوششیں کیں ہیں بدقسمتی سے کچھ سیاسی جماعتیں اسے سیاسی رنگ دے رہی تھیں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ صاحب اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے تمام سیاسی پارٹیوں کو قومی سلامتی کونسل کے ان کیمرہ سیشن میں افغانستان امن عمل کے پروسیس پر بریف کیا اور کہا کہ یہ ریاست پاکستان کامسئلہ ہے دنیائے نقشے پر اس وقت پاکستان کی بہت زیادہ اہمیت ہے امریکہ جیسی سُپرپاور بھی آج پاکستان کی منت سماجت کرتی نظر آتی ہے وزیر اعظم نے یہ بھی صاف کہا کہ

    “We Will Be Your Friend, Not Your Slave’

    یعنی ہم آپ کے دوست بنیں گے لیکن آپ کے غلام نہیں

    یادرکھیں ہمیشہ کے قومیں اس وقت بنتی ہیں جب ایک لیڈر شپ مضبوط اسٹینڈ لیتی ہے آپ کا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا.

    ﷲ تعالیٰ پاکستان کاحامی و ناصر ہو آمین

  • ووٹ خراب کرنے نہیں، ریاست کشمیرکے استحکام کے لئے آئے ہیں،ظفرخادم

    ووٹ خراب کرنے نہیں، ریاست کشمیرکے استحکام کے لئے آئے ہیں،ظفرخادم

    جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے ایل اے 22 سے نامزد امیدوارکرنل (ر) ظفرخادم نے پائینولہ میں کارنرمیٹنگ سے خطاب کیا ہے.

    ہمارا مقابلہ کسی سیاسی پارٹی سے نہیں ریاست کشمیرکے دشمنوں سے ہے، جنہوں نے کشمیریوں کے حقوق پہ ڈاکہ ڈالا ہے، ہم نے سیاست کا آغازکاروبارنہیں خدمت اورعبادت سمجھ کرکیا ہے، کرسی کا نشان مضبوط اورمستحکم ریاست کشمیرکا نشان ہے، کشمیرمیں امن، روزگاراورتجارت کی بہتری کے لیے کرسی پرمہرلگائیں، ہم آپ کے ووٹ کی حفاظت اورحلقے کے مسائل حل کریں گے۔

    کرنل(ر)ظفرخادم کا کہنا تھا کہ میں نے ایل اے 22 دیکھا امیدواروں نے جو وعدے کئے وہ وفا نہیں ہوئے ہیں، ہم جھوٹ کی جگہ سچ لانا چاہتے ہیں، خیانت کی جگہ امانت ودیانت لانا چاہتے ہیں، لوٹ کھسوٹ کی جگہ ریاست کشمیرکے خزانے کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، ہم سوچ و بچارکے بعد سیاست میں آئے ہیں، ہم کسی کا ووٹ خراب کرنے نہیں آئے بلکہ ریاست کشمیرکے استحکام کے لئے میدان میں نکلے ہیں.

    منتخب ہونے کے بعد خود نہیں کھاﺅں گا بلکہ حلقے پرلگاﺅں گا، 25 جولائی تک ترقیاتی کاموں پرپابندی ہے اس کے بعد اللہ نے جتنی توفیق دی ہے کام کروائیں گے، خدمت کی سیاست کریں گے، مسئلہ کشمیرذاتی یا سیاسی نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے، مقبوضہ کشمیرکی عوام اپنے خون سے تحرےک آزادیی کشمیرکی آبیاری کررہے ہیں، کشمیرکی آزادی پاکستان کی مضبوطی اوراستحکام کی ضمانت ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کریںگے.

  • عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کرنے والوں کوگھر بھیجنے کا وقت آگیا،کاشف جمیل

    عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کرنے والوں کوگھر بھیجنے کا وقت آگیا،کاشف جمیل

    جموں کشمیریونائیٹڈ موومنٹ کے ایل اے 21سے نامزد امیدوارانجینئرکاشف جمیل نے راولا کوٹ بلدیہ اڈہ میں انتخابی دفترکا افتتاح کیا ہے،
    کرسی کا انتخابی نشان عزم، یقین اوراجالوں کا نشان ہے، ہم ریاست کشمیرکا مستقبل روشن کرنے آئے ہیں، خدمت انسانیت کی بنیاد پرووٹ لے کرایل اے 21 سے کامیابی حاصل کریں گے، منشیات فروش اورقبضہ مافیا راولا کوٹ پہ قابض ہے، کرپشن، لوٹ مارکی سیاست کے خاتمے کے لئے کرسی پرمہرلگائیں، ہماری تحریک آپ کے مفادات کا تحفظ کرے گی.

    اس موقع پرایل اے 21 سے عوام کی بڑی تعداد موجود تھی، امیدوارانجینئرکاشف جمیل کے انتخابی دفتر پہنچنے پراہلیان علاقہ نے ان کا بھرپوراستقبال کیا ہے، پھولوں کے ہار پہنائے گئے ہیں.

    افتتاح کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے جموں کشمیریونائیٹڈ موومنٹ کے ایل اے 21 سے نامزد امیدوارانجینئرکاشف جمیل کا کہنا تھا کہ عوام 25 جولائی کو کرسی پرمہرلگا کرکرپشن کے سرداروں کومسترد کردیں گے، عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کرنے والوں کوگھر بھیجنے کا وقت آگیا ہے، کرسی پرمہرلگا کراپنی تقدیربدلیں اور ریاست کشمیر کو مضبوط بنانے کے لئے ہمارا ساتھ دیں، کرپشن کا خاتمہ اورقومی خزانہ لوٹنے والوں کا احتساب کریں گے.

    انہوں نے مزید کہا کہ آپ کے ووٹ کے تقدس کواب تک پامال کیا گیا ہے، حلقہ ایل 21 کی عوام ہرطرح کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، ہمارے نوجوان ڈگریاں لیکرسڑکوں پردھکے کھانے پرمجبورہیں، ہم لوگوں کے مسائل حل کرنے کیلئے سیاست میں اترے ہیں، قوم ہمارا ساتھ دے انہیں کبھی مایوس نہیں کریں گے۔

  • قربانی :تحریر ارم رائے

    قربانی :تحریر ارم رائے

    مسلمانوں کے مذہبی تہواروں میں قربانی کو خاص مقام حاصل ہے۔ پانچ بڑے مذہبی تہوار جن میں "12ربی ال اول” ہے شب برات” ہے "شب معراج” ہے "عید الفطر” ہے اور "عید الاضحیٰ” ہے۔ عید الاضحیٰ جسے قربانی کہتے ہیں۔ ویسے تو ایک قربانی اور بھی تھی جو اج سے 13سو سال پہلے کربلا کے میدان میں دی گئی۔ جس میں دین اسلام کو بچانے کے لیے نواسہ رسول صلی الله والہ وسلم نے اپنے گھرانے کی قربانی دے کر بچایا۔ آج بھی ہم اگر ازان سنتے ہیں یا. اسلام ہمارے پاس اصل شکل میں موجود ہے تو یہ نواسہ رسول صلی الله عليه وسلم کی زندگی اور انکے گھرانے کی قربانی کی وجہ سے ہے۔ ایک تہوار جو ہم ان تکلیفوں کو یاد کرکے مناتے ہیں جو کربلا میں دی گئیں تو دوسری قربانی کو ہم خوشی کے طور پر مناتے ہیں کہ کیسے الله کی راہ میں بیٹا قربان کیا اور الله نے قربانی قبول کی۔زوالحج کے مہنیے میں دس ذوالحج کو قربانی کی جاتی ہے حلال جانور کی۔ اور یہ قربانی یاد دلاتی ہے ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کی جو انہوں نے الله کی محبت میں الله کی راہ میں اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دی۔ اللہ کی بارگاہ میں وہ قربانی قبول ہوئی ۔ حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام کا الله سے عشق مکمل ہوا اور فرمان سے انحراف نا کیا۔ تب سے لے کے اب تک مسلمان اس عظیم قربانی کی یاد میں ہرسال کروڑوں جانور زبح کر کے اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ قربانی کے لیے کچھ شرائط مقرر کی گئیں۔
    شرائط یہ ہیں۔
    پہلی کہ جانور گھر کا ہو مطلب خود پالا ہو اونٹ گائے بھیڑ بکری وغیرہ۔
    جانور کی پوری ہو جیسے بھیڑ کا بچہ چھ ماہ میں پوری کر لیتا ہے جبکہ بکری ایک سال میں اسی طرح گائے دو سال میں جبکہ اونٹ پانچ سے میں اپنے سامنے والے دو دانت گرا دیتے ہیں۔
    تیسری شرط: عیب سے پاک ہو مثلاً اس کی آنکھ کان ٹانگ پر کوئی واضح ضرب نا ہو یا ٹوٹی نا ہو۔
    چوتھی شرط: ایسا پدائشی لنگڑا جو باقی جانوروں کے ساتھ چل نا سکتا ہو۔
    پانچویں شرط: یعنی بہت لاغر اور کمزور نا ہو۔

    قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جو صدقہ یا فطر کا ہے۔ یعنی جس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں، زمہ میں واجب الادا اخراجات ادا کرنے کے بعد اتنا مال ہو یا سامان جسکی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو یا اس سے زائد ہو ان سب پر قربانی کی ادائیگی فرض ہے اور ایسے لوگ زکوٰۃ نہیں لے سکتے۔
    پاکستان میں بھی یہ مذہبی تہوار بہت عقیدت اور محبت سے منایا جاتا ہے کچھ سال پہلے تک یہ اتنا مشکل نہیں تھا کیونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت سے وابستہ لوگ اپنے گھروں میں اورزمینوں پر جانور پالتے تھے۔ ہر سال کروڑوں روپے کا ریوینیو حاصل ہوتا تھا کئی لوگوں کے روزگار وابستہ تھا۔ لیکن کچھ سالوں سے لائیوسٹاک پر توجہ نہیں دی گئی جسکی وجہ سے جانور نا صرف ضرورت سے کم ہیں بلکہ مہنگے بھی بہت ہے۔ لائیوسٹاک ماہرین کہتے ہیں کہ بہتر حکمت عملی سے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں حلال جانوروں کی تعداد سترہ کروڑ ہے۔ جس، میں گائیوں کی تعداد 3کروڑ 92لاکھ، بھینسوں کی تعداد 3کروڑ 42 لاکھ بھیڑوں کی تعداد 6کروڑ 80 لاکھ، جبکہ اؤنٹوں کی تعداد 10لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔اس تنادب سے دیکھا جائے تو دودھ کی پیداوار پچاس ہزا ٹن بڑے گوشت 2ہزار ٹن، چھوٹے گوشت مٹن کی تعداد 7ہزار ٹن اور مرغی کے گوشت کی پیدا وار 12 سو ہزار ٹن سے تجاوز کرگئی۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے فارمرز حضرات اور کاشتکاروں کی اگر مناسب تربیت کی جائے اور جدید ٹیکنالوجی سے استفاده حاصل کیا جائے تو اس میں مزید بہتری لائی جاسکتی ہےاس وقت لائیوسٹاک کا ملک پیداوار میں 12فیصد اور زراعت کا مجموعی طور پر 55فیصد ہے۔پنجاب سمیت ملک کی تقریباً چار کروڑ کے قریب دیہی ابادی لائیوسٹاک سیکٹر سے منسلک ہے۔ جو اپنی روزمرہ کی ضروریات کا 35سے 40 فیصد لائیو سٹاک سے پورا کرتی ہے۔بڑھتی ہوئی ابادی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے ان غذاؤں کی کھپت میں اضافہ ہو لیکن اسے بڑھانے کی طرف توجہ کم ہونے کی وجہ سے ان اشیاء کی قیمتوں میں بے پناہ ضافہ ہوا ہے۔ جو عام لوگوں کی پہنچ سے دور جارہی ہیں اور بکر عید یعنی عید قربان میں ان جانوروں کی قیمت کو پر لگ جاتے ہیں۔ جو کہ متوسط طبقے کے لیے بڑے تکلیف دہ حالات یوجاتے ہیں۔ جو چھوٹا جانور پہلے 10سے 20ہزار میں ملتا تھا وہ اب 25سے 30 تک چلا گیا ہے۔ اور بڑے جانور میں حصہ جو کہ 7ہزار سے 10 ہزار تک تھا وہ 15سے 25 تک کا ہوگیا ہے۔ یوں اس مذہبی تہوار کو منانے کے لیے بھی ہزاروں لوگ محروم رہ جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کچھ سال پہلے تک لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والی ماسیاں بھی اپنی تنخواہ سے پیسہ اکٹھا کر کے قربانی کیا کرتی تھیں اور جو سکون اور طمانیت انکے چہرے پر ہوتی تھی وہ قابل دید ہوتی تھی۔ لیکن اب تنخواہ دار ہو یا چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والا اس کے لیے قربانی کا جانور خریدنا نا قابل برداشت ہوتا جارہا ہے۔یہ مذہبی تہوار مہنگائی کی وجہ سے تکلیف کا باعث بن رہا ہے۔اس لیےحکومت سے درخواست ہے جس طرح باقی انڈسڑیز کو چلایا جارہا ہے ہنگامی بنیادوں پر بلکل اسی طرح لائیوسٹاک پر بھی توجہ دی جائے۔ تاکہ لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہو، لوگوں کو خالص غذا ملے اور پاکستان بھی ایکسپورٹ کرنے والے ممالک میں شامل ہو۔ اور یہ مذہبی تہوار اسی جوش و جذبے سے منا سکیں جیسے پہلے منایا کرتے تھے۔
    جزاک الله

  • نظریاتی سیاست ہی ہمارا مقصد ہے،چوہدری خالد حسین

    نظریاتی سیاست ہی ہمارا مقصد ہے،چوہدری خالد حسین

    جاتلاں میں جموں کشمیریونائیٹڈ موومنٹ کے امیدوارچوہدری خالد حسین کی جانب سے ایک کامیاب جلسہ کیا گیا ہے، لوگوں کی بڑی تعداد نے پرجوش اندازمیں پھولوں کی پتیاں نچھاورکرکے استقبال کیا ہے، پنڈال جیوے جیوے خالد حسین کے نعروں سے گونج اٹھا ہے.

    جاتلاں کے مقامی لوگوں نے ایک جلسے کا انعقاد کیا ہے، جلسے کے مہمان خصوصی جموع کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کی ٹکٹ پرنامزد امید وارچوہدری خالد حسین ہیں، علاقہ مکین نے پرجوش استقبال کیا ہے پھولوں کی پتیاں نچھاورکی ہیں، ہارپہنائے گئے ہیں، جاتلاں کی عوام نے مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے، 25 جولائی کوکرسی پرہی مہرلگایئں گے، مزید کہا کہ اب باری والوں کی کشمیرمیں کوئی جگہ نہیں ہے، خدمت کرنے والوں کوموقع دیں گے، نظریاتی جماعت ہی کشمیر کے مستقبل کی ضامن ہے.

    چوہدری خالد حسین نامزدامیدوارنے علاقہ مکین کا شکریہ ادا کیا ہے، عوام کے توقعات پرپورا اترنے کا عزم کیا ہے، ہم ایک نظریہ کو لے کر سیاست میں آئے ہیں، نظریاتی ساست ہی ہمارا مقصد ہے.

  • شرکا نے محبت میں مراد سعید کو اپنے کادھوں پرچڑھا لیا

    شرکا نے محبت میں مراد سعید کو اپنے کادھوں پرچڑھا لیا

    نامزد امیدواراسمبلی تحریک انصاف آزاد کشمیر حلقہ ایل اے 29 خواجہ فاروق احمد کی انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسہ گاہ آمد پروفاقی وزیرعلی امین گنڈا پور، مراد سعید اوررہنما پی ٹی آئی آزاد کشمیرسردارتنویرالیاس خان کا شانداراستقبال کیا گیا ہے.

    وفاقی وزیرمراد سعید کوجلسے شرکا نےاپنے کاندھوں پراٹھا لیا ہے، جلسہ گاہ میں پنڈال عوام ے بھرا ہوا ہے، شرکا نے پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی بھی کی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ شرکا یہ محبت 25 جولائی کوکس نشان پرمہرلگائے گی.

    جلسہ سے علی امین گنڈہ پور، مراد سعید اورتنویرالیاس نے خطاب کیا ہے، شرکا سے خطابات کرتے ہوئے مہمانوں نے پارٹی کا منشوربتایا ہے، مزید کہا ہے کہ 25 جولائی کو کشمیرکی غیرت مند عوام بلے کے نشان پرمہر گا کریہ ثابت کرے گی کہ کشمیرکے اصل محافظ پی ٹی آئی کی جماعت ہے.