Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سوشل میڈیا کا مثبت استعمال اورراج . تحریر :‌ زاہد نبی گل

    سوشل میڈیا کا مثبت استعمال اورراج . تحریر :‌ زاہد نبی گل

    سوشل میڈیا پراگلے بیس سالوں میں کوئی دوسری جماعت تحریک کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ تحریک انصاف کے وولنٹیراورایکٹوسٹ جو پچھلے دس سالوں سے عمران کے نظریہ کے لیے سوشل میڈیا پربغیرکسی پیسہ کے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں ان کا مقابلہ کرنا کسی دوسری جماعت کے بس میں نظرنہیں آرہا۔ سب سے بڑی وجہ نظریہ ہے جو تحریکی ایکٹوسٹ وولنٹیر کے پاس ہے۔

    پوری دنیا امریکا یورپ گلف یہاں تک کے افریقہ میں بیٹھے پاکستانی عمران خان کے فری میں وولنٹیر ہیں نظریہ عمران خان نیا پاکستان کے لیے وقت نکالتے ہیں. ایسی فورس اوردوسری کسی جماعت کے پاس دوردورتک نظرنہیں آتی۔ ‏فارن نیشنل کے بعد پاکستان میں بیٹھے لاکھوں سوشل میڈیا وولنٹیر بغیرکسی لالچ کے خان کا ساتھ دیتے ہیں. خان کے کہے بغیراس کی جنگ لڑتے ہیں دوسری طرف ذبردستی والا حساب ہمیں دیکھنے کوملتا ہے۔ پیڈ کمپین چلتی ہیں کیونکہ کسی دوسری جماعت کے پاس ابھی تک کوئ نظریہ نہی ہے ۔

    آخرمیں یہ کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا وولنٹیر نظریہ عمران خان نیا پاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دشمنوں کو بھی منہ توڑ جواب دیتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے وولنٹیرکا مقابلہ دوردورتک نظر نہیں آتا۔

    @ZahidNabiGill

  • ‏عید، قربانی کے مسائل اورفضائل .  تحریر: محمد بلال اسلم

    ‏عید، قربانی کے مسائل اورفضائل . تحریر: محمد بلال اسلم

    قربانی کا حکم، قربانی کرنا واجب ہے، رسول اللہ نے ہجرت کے بعد ہرسال قربانی فرمائی کسی سال ترک نہیں کی۔ جس عمل کو حضور نے لگاتارکیا اورکسی سال بھی نہ چھوڑا ہو تو یہ اُس عمل کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔ علاوہ ازیں آپ نے قربانی نہ کرنے والوں پر وعید ارشاد فرمائی۔ حدیث پاک میں بہت سی وعیدیں ملتی ہیں، مثلاً: آپ کا یہ ارشاد کہ جو قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔ علاوہ ازیں خود قرآن میں بعض آیات سے بھی قربانی کا واجب ہونا ثابت ہے۔

    قربانی کس پرواجب ہے جس شخص پرصدقۂ فطرواجب ہے، اُس پرقربانی بھی واجب ہے…یعنی قربانی کے تین ایام کے دوران اپنی ضرورت سے زائد اتنا مال یا اشیا جمع ہوجائیں کہ جن کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو اس پر قربانی لازم ہے.
    قربانی کے فضائل نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز ﷲ تعالیٰ کو پسند نہیں، ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کرہے اورقربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پرگرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی ﷲ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے (مشکوٰۃ) ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ’’ قربانی تمہارے باپ ( ابراہیمؑ) کی سنت ہے۔صحابیؓ نے پوچھا، ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ایک بال کے عوض ایک نیکی ہے۔ ( مسند احمد )

    عید کے دن کے مسنون اعمال۔ صبح سویرے اُٹھنا، غسل کرنا، مسواک کرنا، پاک اور صاف کپڑے جو اپنے پاس ہوں پہننا، خوشبو لگانا، نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا، عید گاہ کو جاتے ہوئے راستہ میں بآوازِ بلند تکبیرکہنا۔

    عید کی نماز پڑھنے کا طریقہ، نمازعید دو رکعت ہیں۔ نمازعید اوردیگر نمازوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں ہر رکعت کے اندر تین تین تکبیریں زائد ہیں۔ پہلی رکعت میں ’’سبحانک اللّٰہم ‘پڑھنے کے بعد قراءت سے پہلے اور دوسری رکعت میں قراءت کے بعد رکوع سے پہلے۔ ان زائد تکبیروں میں کانوں تک ہاتھ اٹھانے ہیں۔ پہلی رکعت میں دو تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑدیں، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیں۔ دوسری رکعت میں تینوں تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑ دیئے جائیں، چوتھی تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے جائیں۔ اگر دورانِ نمازامام یا کوئی مقتدی عید کی زائد تکبیریں یا ترتیب بھول جائے تو ازدہام کی وجہ سے نماز درست ہوگی، سجدۂ سہو بھی ضروری نہیں۔ اگرکوئی نماز میں تاخیرسے پہنچا اورایک رکعت نکل گئی تو فوت شدہ رکعت کو پہلی رکعت کی ترتیب کے مطابق قضاء کرے گا، یعنی ثناء سبحانک اللّٰہم کے بعد تین زائد تکبیریں کہے گا اورآگے ترتیب کے مطابق رکعت پوری کرے گا.

    @BilalAslam_2

  • قحط سالی کا شکار تھراوربےحس سندھ حکومت . تحریر: فرازوہاب

    قحط سالی کا شکار تھراوربےحس سندھ حکومت . تحریر: فرازوہاب

    اسلامی اقدارمیں خلیفہ کی ذمہ داری بہت اہم بنائی گئی ہے جب کوئی شخص خلیفہ کے عہدے پرفائزہوتا ہے تواپنی رعایا کے حقوق کے تحفظ کا ذمہ داربنا دیا جاتا ہے ایک صحابیِ رسول صلہ اللہ علیہ وسلم نے جب آپ صلہ اللہ علیہ وسلم سے پوچھا بہترین صدقہ کیا ہے تو آپ صلہ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’پانی پلانا‘۔

    لیکن آج اْمتِ مسلمہ پانی کی بوند کے لیے ترس رہی ہے اورارباب اقتدارجانورتو دورانسانی اموات کے ضیاع پربھی انتہائی ڈھٹائی سے کہ رہے ہیں کہ موت کا اختیار اللہ کے پاس ہے انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ وزیراعلی سندھ ایمانداری سے بتائیں کیا وہ چھوڑ سکتے ہیں اپنے اہلخانہ کوقحط زدہ تھرمیں؟ وہ بھی بغیرپانی کے؟ ماضی میں جب وزیراعلیٰ سندھ سے تھر کے متعلق کوئی بھی سوال کیا جاتا تو انتہائی مضحکہ خیزبات فرماتے کہ تھرمیں اموات بھوک سے نہیں غربت سے ہو رہی ہیں پتا نہیں کس قسم کا نفسیاتی معاملہ ہے وزیراعلی سندھ کے ساتھ جو ان کو یہ نہیں معلوم کہ غربت ہی بھوک کو جنم دیتی ہے اورشرجیل میمن کا یہ بیان کہ پاکستان میں روز600 بچے مرتے ہیں تھرمیں مرنے پہ شورشرابہ کیوں انتہائی سنگدلی اوربے غیرتی کی مثال تھی.

    ظاہر سی بات ہے اگرتھرمیں بھٹو، تالپور، سومرو اورمگسی خاندان رہتے تو وہ منرل واٹرپرگذارا کرتے پرتھرکواس لیے نظراندازکردیا گیا کہ وہاں غریب عوام رہتی ہے جو کنویں سے پانی بھرکراونٹوں اورگدھوں پرلاد کرگھرپہنچاتی ہے اورتھرکے معصوم بچے جنہیں تعلیم کی طرف جانا چاہیے وہ بچے بھی تعلیم کے بوجھ کی بجائے پانی کا بوجھ کاندھوں پرلیے پھرتے ہیں۔ سندھ دھرتی کے دعوے داربلاول زرداری سے سوال ہے کہ اس ضمن میں انہوں نے سندھ دھرتی جسے وہ ماں کہتے ہیں کی کیا خدمت کری؟ کیا کوئی اپنی ماں کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے جیسا سندھ دھرتی کو ماں کہنے والوں نے تھرکے ساتھ کیا؟

    سندھ حکومت کی بے حسی کی انتہا تو تھرمیں عیاں ہوگئی لیکن حیرت ہے وفاقی حکومت بھی غفلت کی چادراوڑھے ہوئے ہے اب تک سندھ حکومت اوروفاقی حکومت کی جانب سے تھرکے معاملے میں کوئی عملی اقدامات نظرنہیں آئے۔ تھرکے حالات سے حکمرانوں کی بےحسی کا اندازہ ہوجانا چاہیے جوپانچ کروڑکی آبادی والے صوبے کی عوام کوقحط سے ماررہے ہیں اتنی بڑی ناکامی پرسندھ حکومت کوغیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہوجانا چاہیے تھا۔

    @FarazWahab1

  • انسانیت . تحریر: شاہ زیب

    انسانیت . تحریر: شاہ زیب

    انسان نے آسمان کی بلندیوں کو چھولیا سمندرکی گہرائی تک کا سفر کیا چاند تک کا سفرکر ڈالا اورترقی کا سفرتیزی سے طے کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی کہ یہ اشرف المخلوقات تو ترقی کی منازل طے کرتے کہاں تک پہنچ گی ہے. یہ کیا انسان آسمان کی حد کو چھوگیا مگرافسوس کے ساتھ رہنے والے انسان سے بے خبرہے یہ کیا انسان کی نظرپوری دنیا کے حالات پرمگرساتھ رہنے والے انسان کے حالات سے بے خبر ہے. معلوم ہوا کہ ہم ہرچیز سے باخبر ہوچکے ہیں ہرچیز میں ترقی کرچکے ہیں مگرافسوس ہم انسان ہوکربھی انسانیت سے ناواقف ہیں.

    یہ کیا یہ ہجوم کیسا ہے؟
    کوئی زخمی حالت میں سڑک پرہے اردگرد لوگوں کا مجمہ ہے. سینکڑوں ہاتھ نظرآئے مگر افسوس کوئی ایک ہاتھ مدد کے لیے نا تھا ہر کوئی ویڈیو بنانے میں مصروف تھا. انسان ہی انسانیت کا تماشہ دیکھنے لگا. یہ انسان انسان کا دشمن ہے جائیداد کے نام پرکبھی انسان کا قتل ہورہا ہے تو کبھی غیرت کے نام پرعورت کا قتل ہورہا ہے. انسان اپنے مرتبے سے کسی کو بلند ہوتا دیکھ کردوسرے کا دشمن ہے.

    رکیے!!
    بات ختم نہیں ہوئی یاد کریں کہ کس طرح چارسال کی زینب کو درندگی کا نشانہ بنا کرقتل کیا گیا اورانسانیت شرمندہ ہوگئی، انسانیت نے منہ چھپا لیا، انسانیت انسان سے ڈرگئی

    سوچیے!غورکریں
    ہم اگرانسانیت کو نہ سمجھ پائے توہمیں اشرف المخلاقات ہونے کا کوئی شرف حاصل نہیں ہے. شکریہ

    @shahzeb___

  • میرے بلوچستان کے مسائل . تحریر: آصف کریم بلوچ

    میرے بلوچستان کے مسائل . تحریر: آصف کریم بلوچ

    بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ھے. اس کا رقبہ 347190 مربع کلومیٹرھے جو پاکستان کا کل رقبے کا 43.6 فیصد حصہ بننا ھے قدرتی وسائل سے مالامال بلوچستان محل وقوع میں اہم ترین صوبہ ھے اتنے بڑے صوبے کی عوام مختلف پریشانیوں کا شکارھے.

    1. جرائم، پانی کی قلت اوربجلی کی قلت کچھ بڑے مسائل ہیں.
    2. بلوچستان میں مختلف شہروں میں بہت بڑے حادثہ ہوتے ہیں روڈ سنگل ہونے کی وجہ سے حادثے ہورہے ہیں اگرڈبل روڈ بنایا جائے تو اس مسئلہ کا سامنا نہ کرنا پڑے.
    3. بلوچستان میں جنتی بھی سرکاری زمین ہیں وہاں اکثرپرقبضہ مافیا کا قبضہ ھے وہاں سے قبضہ ختم کیا جائے تو بہترہوگا.
    4. بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال ھے لیکن ہرسہولت سے محروم ھے سمجھ نہیں آتی اس قصورواربلوچستان کی عوام ھے یا سیاستدان لہذا ہماری اپیل ھے کہ بلوچستان کے وسائل بلوچستان کی عوام پرخرچ کیئے جائیں توبہترہوگا.
    5. روڈوں و ہسپتالوں کے حالت ہرضلع میں خراب ھے کسی ضلع میں ہسپتال کی بلڈنگ ٹوٹی پھوٹی ھے کسی ضلع کی ہسپتال میں ڈاکٹرغیر حاضررہتے ہیں روڈوں کا ٹھیکہ سیاسی لوگوں کے بندوں کو ملتا ھے جہاں 100% فیصد میں سے 40 فیصد کام ہوتا ھے ایک مہینہ کے بعد روڈ کی حالت بگڑ جاتی ھے لہذا روڈوں اورہسپتالوں کی حالت بہتربنائی جائے.

    اس کا خلاصہ یہ ھے کہ معاملات بہت سنگین ہیں عوام کو اس طرح کی مہلک پریشانیاں کا سامنا کرنا پڑتا ھے تاہم مناسب ارادے اورعزم کے ساتھ صوبائی گورنمنٹ وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر ان مسائل کا حل نکالیں بلوچستان کے مسائل کا حل آسان ہے اگرکوئی نکالنا چاہے تو مسلہ بڑا نہیں ھے لیکن افسوس بلوچستان کے سیاستدانوں نے بڑا بنا دیا ہے. میں چاہتا ہوں صوبائی اوروفاقی گورنمنٹ بلوچستان کے پانچ بڑے مسائل پرتوجہ دیں.

    @AsifKarimBaloch

  • پاکستان اورپاکستانی سیاست . تحریر: نواب فیصل اعوان

    پاکستان اورپاکستانی سیاست . تحریر: نواب فیصل اعوان

    پاکستان کو بنے 74 سال بیت جانے کے باوجود بھی پاکستان حقیقی معنوں میں وہ پاکستان نہیں بنا جس کا تصوراقبال نےدیکھا تھا اورقاٸداعظم نےعملی جامہ پہنایا تھا. سیاست نے ہمیں اس قدرگرا دیا ہے کہ ہم انسانیت کے درجے سے ہی گرگئے ہیں. پاکستان بننے سے لے کر اب تک کی پاکستانی سیاست کواگردیکھا جائے تو پاکستانی سیاستدانوں کی آپسی چپقلش اوروڈیرہ شاہی کی ہی وجہ سے ہم بنگلہ دیش سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں. اگراس وقت بھٹو اورمجیب دونوں مل کے اپنے مساٸل ملکی سلامتی کیلۓ حل کرلیتے تو آج بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ ہوتا اور ہم آپسی اتحاد واتفاق کی بدولت دنیا کی متحد، ترقی یافتہ اورمہذب قوم گردانے جاتے مگرافسوس کہ ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ گئے.

    اگرموجودہ صورتحال اورسیاست کا موازنہ کیا جاۓ تومیرے خیال سے پاکستان عالمی سطح پہ پاکستانی سیاستدانوں کی ہی وجہ سے بدنام ہے. ہم اپنے مفادات کی خاط ملک پاکستان سےغداری کرتے گئے اورحالات ایسے ہوچکے ہیں کہ ہرمحب الوطن پاکستانی ان حالات پہ پریشان ہے. پاکستان کے قیام سے لے کراب تک صرف چارسو خاندان اس ملک کی سیاست پرراج کرتے آئے ہیں ان خاندانوں کو مزید تقسیم کر دیا جائے تو ان کی تعداد تقریباﹰ ایک ہزاربنتی ہے. آج تک یہی بے رحم ایلیٹ کلاس اقتدارکے ایوانوں میں بیٹھ سکتے ہیں، بلکہ غریب عوام کو خوشحال بنانے، انہیں تین وقت کی روٹی دینے، سڑکیں، گلیاں، تعلیم اورصاف پانی فراہم کرنے کے نعرے لگاتی آئی ہے گو کہ کسی نے ایسا ممکن نہیں بنایا.

    پاکستان میں بدترین فوجی آمریت ہو یا جمہوریت، حکومت مسلم لیگ کی ہو یا پیپلز پارٹی کی، تحریک انصاف کی ہو یا پھر ق لیگ کی، اسمبلیوں تک نوے فیصد انہی ایک ہزارخاندانوں کے جاگیردار، زمیندار، صنعت کار اورقبائلی سردار پہنچتے ہیں باقی سیاستدانوں کو یا تو جبری دستبردارکرایا جاتا ہے یا ایسے کردارکشی کی جاتی ہے کہ اللہ امان وہ خود ہی تنگ آ کے سیاست سے دوری اختیارکرجاتے ہیں.
    اس وقت بیشتر سیاسی جماعتیں محض نام کی جمہوری جماعتیں ہیں ان نام نہاد جمہوری سیاسی جماعتوں کے تمام ترفیصلے صرف چند لیڈر آمرانہ اندازمیں کررہے ہیں ان سیاسی جماعتوں کی جمہوریت کی اوقات صرف اتنی ہے کہ ایک طرف عشروں سے چلے آ رہے یہ خاندانی لیڈرہیں اوردوسری طرف ان کی پیروی کرنے والے نسلی غلام ہیں.

    یہی سلسلہ نسل درنسل چلا آرہا ہے. پچاس کی دہائی سے لے کرآج تک تقریباﹰ ان ایک ہزارخاندانوں کا مرکزی مقصد اپنے ذاتی مفادات، اپنے رشتہ داروں، اپنے خاندان یا پھرزیادہ سے زیادہ اپنے قبیلے یا برادری کے مفادات کا تحفظ رہا ہے باقی عوام کو وعدوں کے چورن ہی بیچے گئے ایک پلڑے میں پاکستان کے نوے فیصد قانون سازوں، ایم پی ایزاورایم این ایزکی ذاتی لینڈ کروزرز، محل نما بنگلوں، زمینوں اور جائیدادوں کو رکھیں اوردوسرے پلڑے میں پاکستان کے دو سو ملین سے زائد عوام کو ملنے والی سہولیات کو رکھیں، آپ کو فرق سے پتہ چل جائے گا کہ قوم یا عوام کے مفاد میں انہوں نے کس قدر ’’جانفشانی‘‘ سے کام کیا ہے. عوام ان سیاستدانوں سے اپنی بنیادی سہولیات تک مانگتے ہوۓ ڈرتی ہے کیونکہ یہ زمینی خدا بنے بیٹھے ہیں.

    بقول نواب فیصل فیبی، میں ڈرتا ہوں ان سے کوئی بھی درخواست کرنے کوسفید پوش ہوں ڈرلگتا ہے کہیں پرچے نہ کرا دیں پاکستان کی سیاست اب غلاظت کے سوا کچھ نہیں رہی ایک دوسرے پہ الزام تراشیوں سے لیکرایک دوسرے کی کردارکشی تک سب چلتا ہے. غیرملکی آقاٶں کو خوش کرنے کیلۓ اس ارض پاک کے خلاف بیانات دے کریا اشتعال انگیزی پھیلانے سے بھی گریزنہیں کیا جاتا ہے.

    فرمان قاٸد ہے کہ، اگر ہم اس عظیم مملکت کو خوش اورخوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں اوربلخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پرمرکوزکرنی ہوگی.

    لیکن افسوس ہم بانی پاکستان قاٸداعظم محمد علی جناح کے سنہری اقوال ہی بھول گئے ہیں. یہی پاکستانی سیاست دان اسراٸیل کے دوروں پہ جاتے رہے ہیں جبکہ قاٸد فرما گئے تھے کہ ” اسراٸیل ایک ناجاٸز ریاست ہے جسے امت کے پیٹ میں گھونپا گیا ہے اسے پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا “

    الغرض ہم اپنی تاریخ اوراپنے محسنوں کو بھول کے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دینے لگ گئے اورپاکستان کو ایک صدی پیچھے جا چھوڑا ہے. ہم نے اجداد کے خون کے ساتھ وفا نہ کی، ہم اجداد کی قربانیاں بھول گئے، ہم بے حس ہوگئے، کسی بھی ملک کی سیاست اورسیاستدان ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں اگر ہڈی مضبوط ہے تو آپ کھڑے ہیں اگر ہڈی ٹوٹ جاۓ تو آپ بیٹھ جاتے ہیں اوریہی کچھ میرے ملک پاکستان کے ساتھ پاکستانی سیاستدانوں نے کیا ہے.

    @NawabFebi

  • قیام پاکستان میں علمائے کرام کا کردار . تحریر: سیدعمیرشیرازی

    قیام پاکستان میں علمائے کرام کا کردار . تحریر: سیدعمیرشیرازی

    علماء انبیاء کے وارث ہیں، یہ بات صحیح احادیث سے ثابت ہے، سننِ ترمذی، سننِ ابن ماجہ، صحیح ابنِ حبان ودیگرکتبِ حدیث میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث کا ایک جملہ "و إن العلماء ورثة الأنبياء” ہے،”سنن الترمذي” کی روایت کے الفاظ یہ ہیں۔

    لیکن ہماری بدقسمتی تودیکھیں اس حدیث کا انکارکررہے ہوتے ہیں اورعلماء کرام پربےجا تنقید بلکہ ذاتیات پرجا کرانکا مذاق اڑانے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتے بات ہورہی ہے پاکستان کے قیام میں علماء کا کردار جب سرسید احمد خان نے دوقومی نظریے "Two Nation Theory” کی بنیاد رکھی اورانہیں یہ محسوس ہوگیا تھا مسلمان اورہندو ایک ساتھ نہیں رہ سکتے دونوں کے مذہب ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں مسلمان اللّه کے ماننے والے اورہندو بتوں کے پجاری ہیں۔

    جب قائد اعظم محمد علی جناح نے چودہ اگست 1947 کے دن کا آزادی کا اعلان کیا تو ہندوؤں نے مسلمانوں پرتشدد کی کارروائیاں شروع کردیں اوردیکھتے ہی دیکھتے برصغیر جسے subcontinent کہا جاتا تھا وہاں ہرطرف مسلمانوں پرظلم وستم ڈھایا گیا، پھرمسلمانوں نے پاکستان ہجرت شروع کی اس ہجرت کے دوران لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اورانہی جانوں میں علماء کرام کی ایک بڑی تعداد شامل تھی اورتاریخ کی کتابوں میں یہ بات درج ہے کہ اس وقت کے علماء حق (علماء دیوبند) کے بیس لاکھ علماء کرام نے بھی اپنی جانیں قربان کی اس ملک کی بقاء کیلئےعلماء کو زندہ قبروں میں ڈالا گیا زندہ جلایا ہرطرح کا ظلم کیا گیا تھا.

    قائداعظم رح کی محنت کے ساتھ ساتھ علماء کی بھی لازوال قربانیاں تھی جس کے بعد یہ پاک دھرتی باب الاسلام ہمیں ملا علمائے کرام کی لازوال قربانیوں کو ہم بھول نہیں سکتے اورسب سے التجا بھی ہےعلماء پرتنقید کرنے سے پہلے یہ ضرورسوچیں علماء کون ہیں کل روز محشرمیں جب ہم اللّه کے ہاں پیش ہونگے تو انبیاءؑ کی صفوں میں چالیس صفیں علماء کی ہونگی یہ شان ہے علماء کی اورآج ہم کتنی آسانی سے کسی عالم دین کا دنیا والوں کے سامنے مذاق بنا دیتے ہیں کیا ہمیں مرنا نہیں ہے ؟؟ موت تو برحق ہے کل ہم کس منہ سے حضورﷺ کے سامنے پیش ہونگے یہ سوچیں ذرا اورخدارا آج سے اللّه کے حضورمعافی مانگیں بیشک اللّه رحمن و رحیم ہے۔

    @SyedUmair95

  • جذبہِ ایثار، تحریر:بشارت محمود رانا

    جذبہِ ایثار، تحریر:بشارت محمود رانا

    ہر سال ۱۰ ذوالحج کو تمام دنیا کے مسلمان حضرت ابراہیم (ع) کی اللہ تعالی کے حکم پہ عمل کرتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کی اُس عظیم قربانی کی سُنت پہ عمل کرتے ہوئے جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔

    ہزاروں سال پہلے پیش آنے والا یہ واقعہ اللہ تعالی نے ہمیں قرآنِ مجید میں ہو بہو بیان کر کے ہم مسلمانوں تک پہنچایا ہے۔ تاکہ ہم بھی اِس سے سبق سیکھ سکیں۔

    جِس طرح حضرت ابراہیم (ع) نے اپنے اکلوتے بیٹے جو کہ انہیں اور حضرت حاجرہ (ع) کو اللہ تعالی نے تب عطا کیا جب کہ یہ دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ تو عُمر کے اس آخری حصے میں اللہ تعالی کی طرف سے ملی ہوئی اس اولاد کو اللہ تعالی کے حکم کے مطابق جب حضرت ابراہیم (ع) کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم ملا، تو حضرت ابراہیم (ع) نے تب نہ تو کوئی حیلا اور نہ کوئی بہانہ گھڑنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس بارے میں کسی قسم کی اللہ تعالی سے کوئی شکایت کی۔

    اور دوسری جانب حضرت اسماعیل (ع) جو تب تک ایک چھوٹے سے بچے تھے، انھوں نے بھی اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے اس حکم کو سن کے لمحہ بھر کے لئے بھی نہ ڈرے، نہ ہچکچائے اور نہ کسی قسم کی کمزوری دکھائی۔

    اور یہاں تک کہ کبھی حضرت ابراہیم (ع) کو اور کبھی اُن کے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو بار بار شیطان مردود بھی آ کے ورغلاتا و پھسلاتا رہا کہ کہیں کسی طرح کوئی کمزوری دِکھا کے اللہ تعالی کے حکم کی نافرمانی کر سکیں، لیکن وہ مردود ناکام ہی رہا۔

    پھر جب حضرت ابراہیم (ع) اللہ تعالی کے اس حکم کے سامنے سر تسلیمِ خم کرتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو قربان کرنے کے دوران چھری کو چلا رہے تھے، تب پھر اللہ تعالی نے چھری کو کاٹنے سے منع فرما دیا اور حضرت ابراہیم (ع) کی اس عظیم قربانی کو قبول کرتے ہوئے ایک دُنبہ بھیجا اور حضرت ابراہیم (ع) کو اس دُنبے کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔

    اسی عظیم قربانی کے بدلے میں حضرت ابراہیم کو اللہ تعالی کی طرف سے خلیل اللہ (جس کے معنی اللہ کا دوست کے ہیں) کا لقب دیا گیا اور اُن کے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو اللہ تعالی کی طرف سے ذبیح اللہ (جس کے معنی ﷲ کی راہ میں قربان ہونے والا کے ہیں) کا لقب دیا گیا۔

    تو اس عظیم اور بے مثال قربانی کو سنت کے طور پر نبھاتے ہوئے تمام دنیا کے مسلمان۱۰ ذوالحج کو عید الاضحی کے موقع پر جسے عید ایثار یا پھر قربانی کی عید بھی کہا جاتا ہے، اس پہ تمام صاحبِ استطاعت لوگ جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کر کے مناتے ہیں

    اور اس قربانی کے گوشت کو ہم اللہ تعالی اور اپنے پیارے نبی و رسول جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دیے گئے احکامات کے مطابق اپنے عزیز و اقارب، رشتے داروں، محلے داروں، اپنے ارد گرد موجود غریب و غرباء اور اُن لوگوں میں بانٹتے ہیں جو قربانی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔

    اگر دیکھا جائے تو اس قربانی کے دن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، جیساکہ اللہ تعالی کے احکامات کو ہمیں ہر صورت ماننا چاہیے اور شیطان مردود کے ہاتھوں کھلونا نہیں بننا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے یا جن سے منع فرمایا ہے اُن میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔

    اور دوسرا یہ کہ شیطان مردود جو کہ انسان کا کُھلا دشمن ہے، وہ طرح طرح کے طریقوں سے ہمیں ورغلا اور پِھسلا کر گناہوں کی طرف دھکیلنے اور اللہ تعالی کے احکامات سے رو گردانی کروانے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے۔ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمیں کبھی بھی اُس شیطان مردود کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہیے اور اللہ تعالی کے احکامات کو اپنی اپنی زندگیوں میں لازم و ملزوم سمجھ کر شامل کرنا چاہیے

    اور تیسرا یہ کہ ہمیں نہ صرف اس عید ایثار کے موقعے پہ ہمارے ارد گرد موجود غریب و غربا، محلہ داروں، رشتہ داروں اور اُن لوگوں کو جو سفید پوش ہیں، کبھی نہیں بھولنا چاہیے اور اپنی استطاعت میں رہتے ہوئے ان کی ہر قسم کی مدد کو تیار رہنا چاہیے جس سے ایک بہترین اور ہمدرد معاشرہ بھی قائم ہو سکتا ہے جو ایک دوسرے کا ہر اچھے و برے وقت میں خیال رکھتا ہو۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو اس عید ایثار کی عظیم قربانی سے سبق سیکھنے، اس پہ عمل کرنے اور اس کی برکات کو سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

    واخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

  • "پانی کی قدر و قیمت” .تحریر:نـــازش احمــــد

    "پانی کی قدر و قیمت” .تحریر:نـــازش احمــــد

    پانی کی قدر و قمیت پانی اللہ
    ﷻکی بہت بڑی نعمت ہے، انسان کے بےشمار معاملات پانی سے حل ہوتے ہیں انسان کو قدم قدم پر پانی کی ضرورت پڑتی ہے،پانی کے بغیر انسان کے لئے شاید زندہ رہنا بھی ناممکن ہوجائے ،اور زندگی کے معاملات حل کرنا دشوار ہوجائیں ،تومعلوم ہوا کہ پانی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور وطن عزیز پاکستان کو اللہ ﷻنے اس نعمت سے خوب نوازا ہے ،پانی وافر مقدار میں موجود ہے لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم اس پانی کی حفاظت کریں  پانی کو ضائع نہ کریں، جتنی بڑی یہ نعمت ہے وہی حیثیت اس پانی کو دی جائے اور اس پانی کی حفاظت کی جائے اور اسے احتیاط سے استعمال کیا جائے مگر بدقسمتی کے ساتھ قدرت کے اس حسین تحفے کاضیاع بیدردی سے جاری ہے،چھوٹی چھوٹی احتیاطوں سے اس انمول تحفے کی بچت کی جا سکتی ہے۔ہم اپنے روزمرہ کے کاموں میں بہت سا پانی ضائع کردیتے ہیں۔جس کا ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا۔ اپنے روزمرہ کے کاموں میں اگرہم تھوڑی سی احتیاط کرلیں توبڑی مقدارمیں پانی بچاسکتے ہیں۔ ٹوتھ برش کرنے کے دوران اگرکھلا نل ہم بندکردیں ،تواس سے ہم 1 منٹ میں کئی لٹرتک پانی کی بچت کرسکتے ہیں۔ نہاتے وقت اگرآپ صابن لگانے کے دوران نل یا شاوربندکردیں، توپانی کی بڑی مقدارضائع ہونے سے بچ سکتی ہے ،

    اس کے علاوہ اگر ممکن ھو تو نہاتے وقت شاور کی بجائے، بالٹی کا استعمال کیا جائے۔صابن لگاتے اوربال شیمپوکرتے وقت شاوربند کرنے کی صورت میں کافی پانی بچایا جا سکتا ہے ۔اگر اپنی گاڑی کوپانی کے پائپ کی بجائے، پانی بھری بالٹی سے دھوئیں ،تونہ صرف بہت زیادہ پانی کی بچت ہوگی، بلکہ آپ کاگیراج بھی کم گندہ ہوگا۔ پانی میں دھونے کے بجائے، اپنی سبزیاں کٹورے میں دھوئیں۔پانی اورتوانائی دونوں بچاتے ہوئے، سبزیاں کم سے کم پانی میں پکائیں۔ دھونے والے برتنوں پر،پہلے سے پانی بہاناضروری نہیں۔اگربرتنوں پرسے بچے ہوئے کھانے کوہاتھ سے کھرچ دیں گے توکافی پانی بچ سکتاہے۔ واشنگ مشین کوکپڑوں سے بھرکردھونا زیادہ بہترہے۔کیوں کہ اگرمشین کوکم کپڑوں کیساتھ دھویا جائیگا توپانی کیساتھ ساتھ توانائی بھی زیادہ خرچ ہوگی۔ ان سب کے علاوہ گھرمیں ٹپکتے، نلوں اورپانی رستے دیگرآلات کی مرمت سے پانی کی بڑی مقداربچائی جاسکتی ہے۔جبکہ بارش کاپانی محفوظ کرکے بھی کئی طرح سے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی کے مسائل کے بارے میں عوام میں شعور پیدا کیا جائے! اللہ ﷻہم سب کو اپنی نعمتوں کی قدر کرنے کی توفیق دے اور نعمتوں کی ناقدری کرنے اور اس کو ضائع کرنے سے بچائے۔ آمین ثم آمین!
    @itx_Nazish
    نـــازش احمــــد

  • زندگی کا راز اور قانون کشش ،تحریر: آمنہ بخاری

    زندگی کا راز اور قانون کشش ،تحریر: آمنہ بخاری

    لوگ جو چاہتے ہیں وہ ان کے پاس نہیں ہے اور اس کی وجہ صرف ایک ہے کیونکہ وہ زیادہ تر اس بارے میں سوچتے ہیں جو وہ نہیں چاہتے بجائے اس کے جو وہ چاہتے ہیں زندگی کا عظیم راز "قانون کشش” میں رکھا گیا ہے اس قانون کے تحت جو کچھ آپ سوچتے ہیں آپ اس چیز کو اپنی طرف کھینچتے ہیں قانون کشش در حقیقت آپکے خیالات کا ردِ عمل ہے اور یہ قانون بالکل قانون ثقل کی طرح کام کرتا ہے یہ غیر جانبدار اور بے لاگ ہے اور یہ فطرت کا قانون ہے یہ آپکو وہ کچھ دیتا ہے جس کے بارے میں آپ سوچتے ہیں ایک انسان کی حقیقت اسکی سوچ میں موجود ہوتی ہے آپ اگر لگاتار سوچتے ہیں کہ میں بحث نہیں کرنا چاہتا تو قانون کشش کے مطابق آپ زیادہ بحث کرنا چاہتے ہیں

    یہ ساری کائنات خیالات کی آماجگاہ ہے ہر انسان اپنی زندگی قانون کشش و خیالات کے ذریعے تخلیق کر رہا ہے یہ قانون ہر شخص کی زندگی میں ہمیشہ سے کام کر رہا ہے جب کوئی انسان اس قانون سے باخبر ہو جاتا ہے تو اس بات سے بھی باخبر ہو جاتا ہے کہ آپ ناقابل یقین قوت کے مالک ہیں جو آپ کو آپکی زندگی کے وجود کے بارے میں سوچنے کے قابل بناتی ہے آپ جو سوچ رہے ہیں وہ آپ کے مستقبل کی تخلیق کر رہا ہے آپ کو زندگی میں جو کچھ چاہیے آپ کو اپنی ذات کو صرف اس بات کا یقین دلانا ہے کہ وہ چیز آپکی ہو چکی ہے پھر فطرت کا قانون دیکھیں وہ کیسے راستے بنا کر اس چیز کو آپ تک پہنچائے گی آپ کی زندگی تب بدلتی ہے جب آپ اپنی سوچ کا دائرہ کار بدل لیتے ہیں

    "رونڈ ابرن” کی ایک کتاب "دی سیکرٹ” کے مطابق خیالات مقناطیسی ہیں اور خیالات کی ایک فریکوئنسی ہے جیسے ہی آپ اپنے خیالات سوچتے ہیں یہ کائنات میں بھیجے جاتے ہیں اور یہ ایک ہی فریکوئنسی کی مشابہت والی چیزوں کو اپنی طرف کشش کرتے ہیں ہر بھیجی گئی چیز اپنے منبع کی طرف واپس لوٹتی ہےخیالات مثبت اور منفی ہوتے ہیں کوئی دوسرا آپکو نہیں بتا سکتا کہ آپ اچھا محسوس کر رہے ہیں یا برا آپ کے خیالات ہی آپ کے احساسات(جذبات) کا باعث بنتے ہیں اگر آپ برا محسوس کر رہے ہیں تو یہ آپ کے خیالات ہیں جو آپ کو برا محسوس کروا رہے ہیں جب کبھی آپ کو برے احساسات محسوس ہوں تو فوراً اپنی فریکوئنسی کو بدلیں اور اس کے لیے مسلمان ہونے کے ناطے آپ اللّہ کا ذکر کرنا شروع کر دیں اپنی خوشگوار یادوں کی طرف خود کو راغب کریں اور ایسا کرنے کے لیے آپکو صرف دو سے تین منٹ درکار ہیں۔

    پاکستان جیسے ممالک پر کئی دہائیوں سےمنفی سوچ کے بادل چھائے ہوئے ہیں جب پاکستانی ناامیدی کا کفر ترک کر دیں گے اچھی سوچ اور امید سے سر اٹھا کر جینا سیکھیں گے مثبت رویوں کو اپنائیں گےتو یہ مایوسی کے بادل ایسے چھٹ جائیں گےجیسے کبھی تھےہی نہیں "ڈاکٹر جان ہیلگن کے مطابق اندرونی خوشیاں در حقیقت کامیابی کا راز ہیں”
    خوشیاں آپکی سوچ کے تابع ہیں سوچ بدلیں اور دیکھیں آپ کی زندگی کیسے بدلتی ہے۔
    قلمکار: آمنہ بخاری