Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پونے: دلہن کی گاڑی کے بونٹ پر بیٹھ کر شادی میں انٹری ، ویڈیو وائرل

    پونے: دلہن کی گاڑی کے بونٹ پر بیٹھ کر شادی میں انٹری ، ویڈیو وائرل

    بھارتی شہر پونے میں دلہن نے گاڑی کے بونٹ پر بیٹھ کر شادی کے مقام پر انٹری کی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت وائرل ہورہی ہے جس میں 23 سالہ دلہن کو عروسی لباس پہنے شادی کی تقریب کے مقام پر گاڑی کے اندر بیٹھ کر جانے کے بجائے بونٹ پر بیٹھ کر جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد دلہن سمیت دلہن کے رشتے دار بھی مشکل میں پڑگئے۔

    بھارتی پولیس کی جانب سے دلہن اور اس کے رشتے داروں کے خلاف موٹر وہیکل ایکٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کرلیا جبکہ مقدمے میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں جس کے تحت دلہن سمیت رشتے داروں نے بھی ماسک نہیں لگایا ہوا-

  • ‏تبدیلی اور ہم .تحریر : ملک عمان سرفراز

    ‏تبدیلی اور ہم .تحریر : ملک عمان سرفراز

    اس دنیا میں رہنے والے انسان کس نے کسی جدوجہد میں مصروف ہے ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کے ارد گرد کا ماحول بہتر سے بہترین ہو اس کو ہر سہولت ملے جس کا وہ خواہش مند ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے انسانی جسم مشینوں کی طرح کام میں مصروف ہیں۔ اس کی وجہ تبدیلی ہے وہ مثبت تبدیلی جو کہ انسن کو اس معاشرے میں ہر وہ حقوق مہیا کرے جس کا وہ خواہشمند ہے۔
    مگر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہم اپنے مرتبے کی شان بڑھانے میں اس قدر مگن ہے کہ وہ روایات بھلا چکے جو ہمیں اپنے اباؤ اجداد سےملیں۔
    بے شک اس دنیا میں محنت کرنے والا انسان کامیاب ہے محنت سے کسی چیز کے حصول کے لیے وقت درکار ہے مگر ہم تو اس قدر جلد باذ ہیں کہ ہمیں جو چیز پسند آ جائے ہم اس کا فوری طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ہمیں چاہے کسی کے حقوق کا گلا گھونٹنا پرے یا کرپشن کرنی پڑے۔
    کہاں سے آئے گی یہ تبدیلی جب ہم خود دوسروں کے حقوق کھانے میں شرم محسوس نہیں کرتے کہاں سے آئے گی یہ تبدیلی جب اس ملک کی سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی ہر وہ کام سرانجام دے رہی ہے جس سے ہماری اخلاقی اقدار شرمندہ ہیں۔
    اس وطن کے حالات ویسے کے ویسے ہیں کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ان حالات کا ذمہ دار کون ہے؟؟

    ہم آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ سیاست دان کرپٹ ہیں کیا ہم خود کرپٹ نہیں ہیں رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے کے تقدس کو بھلا بیٹھے ہیں جہاں دنیا بھر میں اس مہینے کے پیش نظر تمام اشیاء خردنوش سستی ہوتی ہیں اور یہاں حاجی صاحب دوگنا منافع کما رہے ہیں ۔
    اور پھر ہم بات کرتے ہیں باہر کے ممالک کی کہ وہاں
    میں سہولیات بہترین ہہں ہمارے وطن میں کیوں نہیں؟؟ تو یہ ہمارے لئے شرم کی بات ہے وہ غیر مسلم ہو کر بھی کرپشن ،چوری دھوکہ دہی کو جرم سمجھتے ہیں اور ہم مسلمان ہو کر بھی یہ سب کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے ۔

    اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ریاست مدینہ ملے تو کہاں سے ملے گی وہ ریاست جب ہم اس ریاست کے ایک بھی اصول کو اپنانے کو تیار نہیں۔

    سوچئے اور غور سے سوچئے سیاستدانوں کے پاس کوئی الہ دین کا چراغ نہیں کہ وہ پل بھر میں سب تبدیل کر دیں گے اصل تبدیلی تو انفرادی طور پر ہر شخص نے لانی ہے اپنے رویے سے اپنے مظاہرے سے۔

    تبدیلی کوئی پھل نہیں جس کو درخت سے توڑا اور کھا لیا تبدیلی کا مطلب اپنے رویوں کو مثبت راستے کی طرف گامزن کرنا ہے تاکہ کسی کی ذات کو نقصان نہ ہو اور یہ معاشرہ پر امن معاشرہ بن سکے

  • اپنے بچوں کو جنسی ہراسگی سے بچائیں .تحریر: میمونہ سحر

    اپنے بچوں کو جنسی ہراسگی سے بچائیں .تحریر: میمونہ سحر

    آئے روز ہم بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات سنتے ہیں ۔ پھول جیسے جسموں کو کیسے مسل کر پھر موت کے گھاٹ دیا جاتا ہے سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ پھر ہم سوچنے لگتے ہیں کہ آیا ایسا کرنے والے انسان بھی ہیں یا نہیں ؟ کیا ان کے گھروں میں بچے نہیں ہوتے یا وہ دل نہیں رکھتے جو ایسا گھناؤنا کام کرتے ہیں

    لیکن میں آپ کو بتاؤں ایسا کرنے والے بھی ہم ، آپ میں سے ہی لوگ ہوتے ہیں ۔ ہمارے قریبی یا دور کے رشتہ دار جن پر ہم اندھا یقین کر کے اپنے بچوں کو ان کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ اور وہ انہی بچوں کے ساتھ تنہائی میں اپنی حوس کی تسکین کرتے ہیں

    عام طور پر بچوں کے ساتھ ایسا کرنے والے قریبی تعلقات والے لوگ ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہم سوچنا بھی گناہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسا کچھ کرسکتے ہیں ۔

    سو میں سے اسی فیصد ہراسگی کا شکار ہونے والے بچے اپنے ہونے ہونے والی ظلم و تشدد کی روداد کسی کو نہیں بتاتے کیونکہ انہیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ انکی بات سنی نہیں جائے گی اگر سنی بھی گئی تو انہیں ہی قصوروار ٹھہرایا جائے گا اس لیے وہ خاموشی سے جنسی تشدد برداشت کرتے رہتے ہیں جو کہ ایسا کرنے والوں کو اور دلیر بنا دیتا ہے اور ایسی درندگی کرنے والے بار بار اس عمل کو دہراتے ہیں

    اور باقی کے بیس فیصد بچے اگر اپنے والدین یا کسی اقارب کو اس بارے میں آگاہ بھی کریں تو یا تو انکی آواز کو بدنامی کے ڈر سے دبا دیا جاتا ہے یا پھر انکی بات پر یقین نہیں کیا جاتا ۔ اور ایسا خصوصاََ بچیوں کے معاملات میں ہوتا ہے

    میں نے خود ایسی بہت سی لڑکیاں جنسی ہراسگی کا شکار ہوتے دیکھی ہیں ۔ ان میں سے ایک نے گھر بتایا تو الٹا اسے ہی قصوروار سمجھ کر برابھلا کہا گیا کیونکہ اس نے ایسے شخص کا نام کیا تھا جو کہ خاندان میں بہت معزز اور پانچ ٹائم کا نمازی تھا

    میری آپ سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو ایسے درندوں کی بھینٹ نہ چڑھائیں ۔ انہیں بتائیں کہ اگر آپ کے ساتھ کوئی بھی ایسی حرکت کرے جو وہ دوسروں سے چھپا کر کرے یا چھپانے کا کہے تو اسے فوراً گھر والوں کو بتائیں ۔ اگر آپ کے چھوٹے بہن بھائی ہیں تو انہیں خود سمجھائیں ۔ اور ان سے ایسے تعلقات ضرور بنا کے رکھیں کہ ایسا کوئی بھی مسئلہ ہو تو وہ بلا جھجک آپ کو آکر بتا سکیں

    بچوں کو اپنے سگے رشتہ داروں کے ساتھ بھی اکیلے مت چھوڑیں ۔ حالات اتنے بھیانک ہوگئے ہیں کہ خون کے رشتوں کا تقدس ہی ختم ہوگیا ہے ۔ اس لیے کسی پر بھی اندھا یقین نا کریں

    اور ڈرائیور ، ٹیچر ، چوکیدار کسی کے ساتھ بھی بچوں کو ہرگز اکیلا مت چھوڑیں ۔ جنسی ہراسگی کا شکار ہونے والے بچے کس مائنڈ سیٹ کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں اور پھر انکے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ تصور ہی خوفناک ہے

    دعا ہے اللہ سب کے بچوں کو ایسی درندگی سے محفوظ رکھیں اور انکی معصومیت کو برقرار رکھیں آمین

  • پیسہ کتنا ضروری ھے ۔تحریر: ڈاکٹر راہی

    پیسہ کتنا ضروری ھے ۔تحریر: ڈاکٹر راہی

    پیسہ زندگی کی ایک بہت بڑی ضرورت ہے اور اس حقیقت سے کوئی بھی باہوش انسان انکار نہیں کر سکتاخصوصاً آج کے جدید تیز رفتار معاشرے میں اس حقیقت کو انکار تو دور کی بات نظر اندازتک نہیں کیا جا سکتا ۔

    سوال یہ ہے کہ کس حد تک پیسہ زندگی کیلئے ضروری ہے ۔

    ہمارے میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا پر کوئی پروگرام خوبصورت چہروں، بڑے گھر، بڑی گاڑیوں اور بیرون ملک شاندار لوکیشنز کے بغیرنہ تو بنایا جاتا ہے نہ دکھایا جاتا ہے ۔

    ان چیزوں کا اثر ہمارے معاشرے کے اَپر اور مڈل کلاس طبقہ پر بہت منفی ہوتا ہے اور وہاں پیسہ کماؤ اور پیسہ دکھاؤ کی ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ شروع ہوجاتی ہے ۔

    پاکستان میں جائز نا جائز طریقے سے پیسہ کمانے کے ساتھ بیرون ممالک جانے کے لیے کن مشکلوں کا سامنا ہوتا ہے وہ الگ کہانی اور کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے

    یورپ میں بسنے والے لوگ آجکل جاب لیس کے بعد خود اپنے خرچے اٹھانے سے محروم ہیں لیکن پاکستان میں بسنے والے دس بارہ افراد پر مشتعمل کُنبہ بھی انکی طرف نگاہ لگائے ہوئے ہوتا ہے

    گھرکے افراد کی بے جا خواہشات اور ان خواہشات کے حصول کیلئے
    میں نے یہاں بھی لوگوں کو مشین بنتے دیکھا اپنے لیے نہیں اپنوں کے لیے مگر ان سب کا اک ہی دکھ سب سے بھاری ہوتا ہے کہ جب پیسے کے مقابلے میں انکی ذاتی خوشی اور خواہش کی اپنوں کے نزدیک کوئی قدر نہیں ہوتی

    ہزاروں داستانیں ہیں ــــــــ سب کے پاس ہونگی ـــــــــ

    اک فیملی ہے پہلے امریکہ اب 15 سال سے یہاں مقیم ہے
    اپنی یہاں فیملی کے 5 افراد کا اکلوتا کفیل اور پاکستان میں سارے خاندان کی مشین ہے

    شادی شدہ بہن بھائیوں ، انکی اولادوں کے بھی خرچے اسکے ذمہ ہیں
    کسی بھتیجے کو باہر بھیجنا ہو ـــــــ کسی بھانجے کو کاروبار بنا دینا ہو اسی کے ذمہ ہے اس نے سب کیا

    جائیداد بنائی ــــــــــ گھر بنایا ــــــ سب بھائیوں کے حوالے سب سانجھا
    اک بہن میکے بیٹھی تھی اسکے بچوں کو سالوں پالا جب بچے بڑے ہوئے انکے باپ کو بچوں کی یاد آئی لے واپس لے گیا

    دوسری بہن کے میاں کو یہ طریقہ بڑا مناسب لگا اپنی بیوی بچوں کو نکال دیا جاو بھائی پالیں گے
    باقی بھائی کیا انھی صاحب پر وہ بھی آ پڑے
    وہ بندا سب خوشی غمی سے بہت سکون اور حوصلے سے سب کو پال رہا ہے مگر ـــــــــــ

    دس سال ہوگے پاکستان نہیں گے ـــــــ جب بھی جانے کا نام لیں پاکستان سے فون اجاتے ہیں فلاں مجبوری ہے پیسے چاہیے
    آپ ائیں گے تو کہاں ٹھہریں گے ـــــــ گھر چھوٹا ہے پہلے ساتھ والا احاطہ بھی تعمیرکرتے ہیں پھر شوق سے ملنے آنا پھر اچھے سے بندا مل بیٹھتا ہے

    دل میں رو کر پھر بیٹھ گیا ــــــــــــــــــ بیوی بچے بچارے جانا چاہتے ہیں پچھلے سال انکو چھٹیوں میں امریکہ لے گیا کہ چلو یہاں ہی گھوم پھر لیتے ہیں

    پھر دل پر پتھر رکھا ــــــــ اور سوچنے لگے کہ جائیں گے تو پاکستان اک بار دو ماہ ملکر واپس اجائیں گے

    مارچ بریک میں تیاری ہے ۔۔ کل پوچھنے لگے ـــــــــ کوئی مکان کرائے پر مل سکتا ہے ہمیں دو تین ماہ کے لیے چاہیے
    اس بار جو بھی ہوا میں اپنا الگ سے گھر کیسے بھی ہوا خرید کر آوں گا مگر دو ماہ کے لیے مجھے کوئی ٹھکانہ چاہیے

    ـــــــــــــ

    یہ وہ رشتے جو خون جگر پی جاتے ہیں مگر خون میں ابال تک نہیں آتا
    لعنت ہے ایسے رشتوں پر اور ایسے سفید خون پر جو اپنوں کے خون پر پلتے ہیں اور جیببوں پر نظر رکھتے ہیں ان سے تو بندا تنہا اکیلا ہی ٹھیک ہے کم ازکم یوز ہونے کا غم تو نا ہو !!

  • مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے . تحریر: حمیرا نذیر

    مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے . تحریر: حمیرا نذیر

    مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے . تحریر: حمیرا نذیر
    حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجئے لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے لگے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سے فرمایا میرے قریب آجاؤ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی والدہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں،

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بہن کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی خالہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے لیے پسند نہیں کرتے،

    پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے جسم پر رکھا اور دعاء کی کہ اے اللہ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔
    مسند احمد جلد نہم:حدیث نمبر 2259​

  • ڈھونڈتے ہیں اُسے ، ثروت نجمی

    ڈھونڈتے ہیں اُسے ، ثروت نجمی

    ڈھونڈتے ہیں اُسے
    ہر گلی ، ہر نگر
    کھو گیا ہے مرا
    وہ فقیرِ شہر

    جِس کی باتوں میں تھی
    کس قدر سادگی
    اُس نے اُمید کی
    ہم کو دی روشنی

    بے کسوں کے لئے
    آسرا تھا وہی
    بے گھروں کا فقط
    آشیاں تھا وہی

    جس کا جھولا بنا
    زندگی کا سبب
    آدمی تھا عجب
    جانتے ہیں یہ سب

    وہ فرشتہ نُما
    گر نہیں ہے تو کیا
    چھوڑ کر ہے گیا
    ایک جلتا دیا

    آو ہم بھی کوئی
    کام ایسا کریں
    نام ایدھی کا سب
    مل کے روشن کریں

    ڈھونڈنا کیا اُسے
    ہر گلی ہر نگر
    کر چکا ہے مری
    دل کی بستی میں گھر

    وہ فقیرِ شہر
    وہ فقیرِ شہر

    ثروت نجمی

  • ادب اور ہمارا معاشرہ ۔۔ تحریر: محمد اسحاق بیگ

    ادب اور ہمارا معاشرہ ۔۔ تحریر: محمد اسحاق بیگ

    مجھے لکھنے کا بہت شوق ہے ۔۔ میرے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ کالم لکھو چلو لکھ لکھ کہ تمھاری سوچ وسیع ہو گی لکھنا ائے گا غلطیاں درست ہوتی جائیں گی ۔۔۔ میں نے سوچا مشورہ اچھا ہے لوگوں کا فورا رسپونس بھی ا جائے گا۔۔۔
    خیر پچھلے 4 مہینے سے لکھ رہا ہوں مگر مجھے بے حد حیرت ہوتی ہے جب میں نے وہاں موجود دوسرے رائٹرز کو تھوڑا بہت پڑھنا شروع کیا ۔۔۔ان کہ لائکس دیکھ کہ کمنٹس دیکھ کہ مجھے لگا کچھ تو بات ہے کہ لوگ ادھر جا رہے مجھے دیکھنا چاہیے ۔۔۔
    مگر مجھے انتہائی مایوسی ہوئی ہمارے ادب کا معیار کس کدھر گرنے لگا ہے جس مار پیٹ کو ہم ڈومیسٹک وائلنس کا نام دیتے ہیں وہاں وہ رومانس کہ پانی میں بھگو کہ لوگوں کو کھلایا جا رہا ہے لوگ بڑی رغبت سے کھا رہے ہیں ۔۔ہیرو شادی کی پہلی رات سے لے کر کوئی آدھے ناول تک ظلم کرتا ہے مار پیٹ ۔۔۔ بے اعتباری ۔۔۔نظر زبردستی سب کچھ پھر جانے اسے کیسے محبت ہو جاتی ہے اور ہیروئین ۔۔۔واہ اللہ ہی حافظ ان کا جو اتنی مار کھا کہ بھی ڈھیٹ بن کہ ہیرو کو چاہتی ہیں ۔۔واہ

    یہی لڑکیاں جب شادی کر کہ جاتی ہیں تو وہی تھپڑ انکو جسم پہ نہی روح پہ لگتے ہیں محبت کہیں غائب ہو جاتی ہے انکا شوہر ہیرو نہی ولن لگتا ہے ۔۔
    بے شک فلم ڈرامہ یا ناول larger then life کہ معاولے پہ بنتے ہیں مگر کچھ تو ادب کا لحاظ کیجیئے ۔۔۔ چلو ایک آدھ ناول سہی مگر ہر ناول ہر ناول سستے چھیچھورے رومانس کہ سوا کچھ نہی ۔۔۔

    ہمارا لکھا ہر لفظ پڑھنے والوں کہ دلوں پہ اثر کرتا ہے اگر آپ رومانس کہ نام پہ ولگیرٹی لکھیں گے تو آپ کو اسکا حساب دینا ہو گا اگلے جہاں میں ۔۔۔ کیونکہ آپ چاہیں تو کرداروں کو کپڑے پہنا سکتے ہیں سب آپ کہ ہاتھ میں ہے ۔۔وہ سب لکھنے بے مقصد ہے جو جذبات کو مشتعل کر دے وہ لکھنے کی ضرورت ہے جو جذبات کو قابو رکھنا سکیکھائے ۔۔۔اگر اپ کا لکھا کوئی پڑھ کہ غلط قدم اٹھائے تو آپ اس کہ ذمے دار ہیں لیکن آپ کا لکھا کوئی پڑھ کر غلطی سے رک جائے تو بھی اپ کو اجر ملے گا ۔۔اپ وہ لکھیں جو اپ باپ بھائی ماں بہن بیٹی کہ سامنے رکھ سکیں کہ پڑھو ۔۔
    ادب لکھنے کی کوشش کریں ۔۔میں بھی کوشش کرتا ہوں اور ایک دن کامیاب ہو جاوں گا ادب لکھنے میں

    محمّد اسحاق بیگ

  • بحیثیت پاکستانی ہمارے فرائض.تحریر : علی حسن

    بحیثیت پاکستانی ہمارے فرائض.تحریر : علی حسن

    ہمارے وطن عزیز پاکستان کے حالات ناقابل یقین مراحل میں ہیں. اس کی بنیادی وجہ ہم سب جانتے ہیں ایک تو ہمارے سیاست دان ملک کو لوٹتے رہے ہیں اور دوسرا بحیثیت قوم ہماری تربیت نا ہو سکی.
    قومیں کس طرح ترقی کرتی ہیں یہ شعور آنا بہت ضروری ہے.
    ہر کوئی صرف خود کو بنانے کے لیے دوسرے کو نقصان پہنچا رہا ہے.
    رشوت خوری، ٹیکس چوری اور ذخیرہ اندوزی کر کہ مہنگائی کو پروان چڑھانا سنگین جرائم ہیں بد قسمتی سے حکومتیں ان جرائم پر قابو نا پا سکیں.

    ہمارا ملک ہمارے گھر کی مانند ہے اور ہمارے ملک کی عوام گھر کے افراد کی مانند ہیں. جب ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو نقصان پہنچانے کی بجائے فائدہ دینے کی کوشش کریں گے تو ہم ایک عظیم قوم بن جائیں گے ہمارا مقابلہ کوئی نہیں کر سکے گا.

    جس طرح اپنے گھر کو بنانے کے لیے محنت کی جاتی ہے اسی طرح پاکستان کو دنیا کی سپر پاور بنانے کے لیے کام کرنا ہو گا.
    ملک کی ترقی کا دارومدار ملک کی آمدنی پر ہے.
    سرمایہ دار لوگوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ملک کی تعمیر و ترقی میں.
    سرمایہ دار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک میں کاروبار کرنے کو ترجیح دیں نا کہ باہر کے ممالک میں.
    پاکستان میں کاروبار سے لوگوں کو روزگار ملے گا غربت کا خاتمہ ہو گا. ملک کی آمدنی بڑھے گی.

    ہر شعبے کے افراد کو چاہیے کہ پاکستان کی ترقی میں انفرادی طور پر اپنا حصہ ضرور شامل کریں.
    ہمارے ملک کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے سرکاری ملازمین غریب شہریوں سے رشوت وصول کر رہے ہیں، تاجر حضرات غیر قانونی منافع لے رہے ہیں، وکلاء کی بہت بڑی تعداد بھی عام آدمی کو انصاف فراہم نہیں کر پا رہی.

    ہم اپنا کردار کس طرح ادا کر سکتے ہیں؟
    ہمارا تعلق جس بھی شعبے سے ہو مثلاً ڈاکٹر، وکیل، ٹیچر، دکاندار، فیکٹری مالک اور باقی تمام شعبے،
    پولیس شہریوں کی مدد کرے نا کہ رشوت لے، ڈاکٹرز غریب لوگوں کا علاج کچھ کم پیسوں میں کر دیں، وکلاء عام آدمی کے لئے انصاف کی فراہمی کی کوشش کریں، تاجر حضرات غیر قانونی منافع نا لیں لوگوں کو مناسب دام میں اشیاء فروخت کریں ، فیکٹری مالکان اپنے ورکرز کی تنخواہوں کا خاص خیال رکھیں.

    ہر ایک طبقے کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کی ترقی کے لئے اپنے ملک کی عوام کو سکون اور راحت پہنچائے تاکہ عام آدمی بھی اپنی زندگی بدلنے کی طرف جا سکے.

    ہمیں غریب عوام کا بہت زیادہ احساس کرنا ہو گا. غریب لوگوں کو عزت والی زندگی میسر آنی چاہیے جو بیچارے اپنی بیٹی کی شادی کے وقت پریشان، کوئی بیماری آ جائے تو پریشان اور کوئی معمولی سی پریشانی بھی ان کے لیے پہاڑ بن جاتی ہے.

    عام آدمی کو اٹھنے کا موقع ملے گا تو ملک ترقی کرے گا اس طرح کے نظام میں امیر امیر تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور غریب غریب تر.

  • ‏عشق مجازی اور انسانی درندے  .تحریر: محمد صابر مسعود

    ‏عشق مجازی اور انسانی درندے .تحریر: محمد صابر مسعود

    سوشانت اپنی حوس کی وجہ سے پاگل ہوچکا تھا قریب تھا کہ وہ بیہوش ہو جاتا اس نے دن کے تین بجے اپنی گرل فرینڈ (پریتی) کو کال کی، پریتی اکل و شرب سے فراغت کے بعد محو خواب ہو چکی تھی اسی اثناء میں موبائل کی رنگ بجی اور ڈرتے ہوئے موبائل کی جانب قدم رنجاں ہوئی ابھی تو ڈر کی وجہ سے کلیجہ منھ کو آ رہا تھا لیکن موبائل اسکرین پر نام دیکھ کر خوشی کی انتہا نا رہی (کیونکہ یہ کال پریتی کے لئے کسی عام شخص کی نہیں تھی بلکہ یہ اسکے دل کا ٹکڑا تھا) اور اسکرین کو اسکرول کرتے ہوئے فون اٹھایا، دوسری جانب سے حوس سے بھری آواز آئی (جسے یہ نادان لڑکی محبت کی انتہا سمجھ رہی تھی) جانی! لو یو ناں یار، کیا کر رہی ہو؟ اور ہاں کہاں ہو؟ یار تمھارے بغیر دل نہیں لگ رہا، تم سے ملنے کے لئے دل پرکٹے پرندے کی طرح پھڑ پھڑا رہا ہے اسلئے پلیز گھر آجاؤ یار۔ پریتی فرط محبت میں کچھ یوں گویا ہوئی۔ ٹو یو سو مچ میری جان، یار میں گھر پے ہوں، تھک کر سوگئ تھی لیکن تمھاری کال دیکھ کر نیندیں بالکل غبارے کی طرح اڑ گئ۔ اور ہاں تم سے ملنے کے لئے میں بھی بیقرار تھی لیکن دروازے سے گیٹ کیپر کی موجودگی میں کیسے آؤں؟ کیونکہ معلوم ہونے کی صورت میں والدین گھر سے باہر نکال دینگے۔
    سوشانت! ارے یار میں ہوں ناں، اگر انہوں نے معلوم ہونے کی صورت میں تمہیں گھر سے نکلنے پر مجبور کر بھی دیا تو میں تمھیں شہزادیوں کی طرح رکھونگا، ہر چیز کا خیال رکھونگا۔
    پریتی کا یہ سننا تھا کہ وہ چیخ کر بولی” آئی لو یو میری جان (کیونکہ ایک لڑکی کو پیار و محبت اور کئیر ہی کی ضرورت ہوتی ہے) کہا کہ میں تمھاری بانہوں میں کچھ وقت بتانے کے لئے آ رہی ہوں، ایک بیگ لیکر گیٹ کیپر سے چھپ چھاتے ہوئے سوشانت کی اور نکل پڑی جسمیں موبائل و پیسے موجود تھے۔ ایک آٹو والے کو آواز دیتے ہوئے کہا۔ بھیا ھدھد پور چلو گے؟ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ جی ہاں، کیوں نہیں
    پریتی اپنی بڑی بڑی آنکھوں، بڑے بڑے بالوں، رخساروں و ہونٹوں پر میک اپ اور عمدہ قد و قامت کی وجہ سے ہر دیکھنے والے کو مسحور کر رہی تھی تا آنکہ وہ سوشانت کے ایک بڑے سے مکان کے پاس جا پہنچی اور پر کشش آواز میں ندا لگائی۔ جانی! آپ کی جان آ چکی ہے دروازہ کھولو۔۔

    سوشانت جسکا رنگ سانولا، گھنگریالے بال اور لمبے تڑنگے قد کا مالک تھا، نشے سے دھت، دروازہ کھولا اور پریتی کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا، کچھ کھاؤ گی؟ پریتی نے انکار کرتے ہوئے کہا سوشانت بس مجھے تمھارا ساتھ چاہئے یہی میرے لئے سب کچھ ہے، سوشانت نے سگریٹ جلا کر ایک زور دار کش لگائی، دروازے پر کنڈی لگاتے ہوئے حوس بھری نگاہوں سے پریتی کی طرف بڑھا، برہنہ کرکے بانہوں میں لیکر اسے بیڈ پر ڈال دیا اور پریتی سوشانت کی محبت میں خود کو اس کے حوالے کرتے ہوئے ایک سرینڈر کرنے والے فوجی کی طرح پیروں کو دراز کرتے ہوئے لیٹ گئی، سوشانت نے پاس پڑے موبائل کا کیمرہ چالو کرکے پریتی کی طرف کردیا، پریتی کیمرہ دیکھ کر ہکی بکی رہ گئ کیونکہ کبھی اس نے کسی سے اپنی تصویر تک کلک نہیں کرائی تھی اور آج اسکی سیکسی ویڈیو بنائی جا رہی تھی اسلئے اس نے بڑے ہی درد بھرے لہجے میں کہا جانو پلیز کیمرہ بند کردو نا ۔ سوشانت نے کہا نہیں تمہارا چہرہ نہیں آئے گا ”
    میں اپنی ماں کی قسم کھاتا ہوں ۔۔خود ہی دیکھوں گا یہ وڈیو پھر ڈیلیٹ کردوں گا کیونکہ اکیلے میں مجھے تمھاری بہت یاد آتی ہے۔ نہیں پلیزززز ” ہاتھ ہٹاؤ نا جان ”
    ” نہیں ” سوشانت نے بڑے ہی مان کے انداز میں کہا: اچھا میری قسم ہے تمہیں ہاتھ ہٹاؤ وڈیو بنانے دو
    ” اپنی قسمیں مت دیا کرو مجھے بہت برا لگتا ہے”
    قسم دینا پڑجاتی ہے تم بھی تو بھروسہ نہیں کرتی میں نے بھلا کس کو دکھانی ہے۔۔۔ڈیلیٹ کردوں گا
    "بھروسہ کرتی ہوں تبھی تو خود کو تمھارے حوالے کردیا ہے ”
    ” تو پھر بنانے دو نا "!
    ” تم باز نہیں آؤ گے۔۔۔۔۔ اچھا بنا لو ” !! لو یو ”
    بہت محبت کرتی ہوں تم سے، میرا مان مت توڑنا اور ہاں چاہتی ہوں ہیر رانجھا کی طرح ہماری محبت کی بھی کہانیاں سنائی جائیں ”
    "سوشانت نے پھیکے سے لہجے میں کہا ہمممم۔۔۔۔۔ لو یو ٹُو ”
    کٹی پتنگ کی طرح جھولتی ہوئی گھر پہنچی اور کمرے میں آ کر سوگئی ۔۔۔۔
    ” وہ عام سے گھر کی گمنام لڑکی تھی ”
    مگر جب اسکی آنکھ کُھلی تو وہ اور اسکی محبت مشہور ہوچکی تھی ” ..
    پھر کیا ہوا لڑکا سرعام دندناتا پھر رہا ہے …
    اس لڑکی کا کیا بنا … والدین اور شہر والوں کی نظر میں وہ طائفہ بن چکی تھی، یہ درد سہنا اسکے لئے بہت مشکل تھا کیونکہ کل تک اسکی بہت عزت تھی، ٹینشن میں بہت بڑی بیماری کا شکار بن چکی تھی بالآخر اس دار فانی سے دار بقا کی طرف لوٹ گئی کچھ دنوں بعد پتہ چلا کہ لڑکی کا گلہ کاٹ کے اس کو کسی کے بھی سامنے لائے بغیر والدین راکھ کر چکے ہیں اسی طرح ایک ہیر رانجھے کی کہانی اختتام ہوئی ۔۔

    نتیجہ ! نہیں نہیں میری بہنو میں آپ سے ہاتھ جوڑ کے درخواست کرتا ہوں ایسا ہر گز نا کرنا یہ آپ کی زندگی سے کھیلنے والے درندے ہیں جو آپ کو محبت کے نام پر کھلونا بنا کر استعمال کرتے ہیں، جب آپ سے من بھر جاتا ہے تو ٹشو پیپر کی طرح پھینک کر راستہ الگ کرلیتے ہیں لیکن اس وقت تک آپ سب کی نظر میں نہیں تو کم از کم اپنی نظر میں طائفہ بن چکی ہوتی ہو اور وہ بیغرت کھلے سانڈ کی طرح کسی دوسری کی تلاش میں ہوتا ہے یا پھر غیر ملک مزے لے رہا ہوتا ہے .اور آخر میں رہ جاتے ہیں آپ کے ماں باپ اور بھائی وہ تو جیتے جی ہر روز بیچارے شرم سے مر رہے ہوتے ہیں، بس زندہ لاش بنے ہوتے ہیں اسلئے اپنی، والدین کی اور رشتہ داروں کی عزت کا خود خیال کریں

    تحریر ہر بہن تک پہنچا دیں تاکہ کوئی بھی بہن کسی درندے کے ہاتھ نہ لگ جائے۔۔۔

  • یتیم کا مال .تحریر :فضیلت اجالہ

    یتیم کا مال .تحریر :فضیلت اجالہ

    ارشاد باری تعالی ہے
    جو لوگ ناحق ظلم سے یتیم کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب دوزخ میں جائیں گے ۔

    ہمارے معاشرہ وہ تاریک معاشرہ ہے جس میں بلا خوف و خطر یتیم کا مال کھایا جاتا ہے ۔
    وہ کمسن بچے جن کے والدین کو اجل اسوقت اپنی آغوش میں لے لیتی ہے جب ان معصوموں کو لفظ یتیم کا مطلب بھی نہی پتہ ہوتا تو قریبی رشتہ دار ان کی پرورش کی زمہ داری لیکر زمانے کی نظر میں معزز ٹھرتے ہیں مگر اندر ہی اندر ان بچوں کی جڑے کاٹتے ہوئے کاغزات میں اتنی ہشیاری سے رد وبدل کرواتے ہیں کہ جیسے ان کی وراثت کا حق بھی باپ اپنے ساتھ قبر میں لے گیا ہو ۔اور ایسا کرتے ہوئے انہیں ایک لمحے کیلیے بھی خوف خدا محسوس نہی ہوتا ۔
    اگر کبھی ضمیرملامت کرے بھی تو طرح طرح کے بہانوں سے دلوں کو بہلاتے ہیں کہ کیا ہوا جائداد رکھ لی تو ،
    انکے نان نفقے کا بوجھ بھی تو مرے سر پر ہے
    آخر انکو رہنے کو چھت دیں رہیں ہے
    لیکن یہ دلائل دیتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں کہ یتیم کا مال ہڑپ کرنا سراسر ناجائز اور حرام ہے اور ایسا کرنے والوں کیلیے قرآن میں سخت عزاب کی وعید ہے ۔

    ایک حدیث مبارک ہے کہ رسول اللہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا ؟
    تم لوگ مفلس کس کو سمجھتے ہو؟
    صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ مفلس وہ ہے جس کہ پاس مال و دولت نا ہوں ،درہم ،نا ہو۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا نہی ۔مفلس تو وہ ہے جو قیامت کہ دن آئے ،اس نے نمازیں بھی پڑھی ہوں ،روزے بھی رکھیں ہوں ،زکواۃ بھی دی ہو حج بھی کیا ہو لیکن،اس کے ساتھ ساتھ اسنے کسی کو گالی دی تھی ،کسی کا حق کھایا تھا ،یتیم و مسکین کا مال ہڑپ کیا تھا کیسی پہ تہمت لگائ تھی ،کسی پہ ناجائز بہتان بھی باندھا تھا ،اب جب اعمال پلڑے میں ڈالے گئے تو اسکا ایک برا عمل ایک نیکی لے گیا دوسرا عمل دوسری نیکی لے گیا اس طرح ایک ایک کر کہ ساری نیکیاں چلی گئ لیکن اب بھی کچھ لوگوں کا حق اس پہ باقی ہے تو اب ان حقداروں کے گناہ اس شخص پہ لاد دیے جائیں گے یہاں تک کہ وہ یہ بوجھ اٹھائے جہنم میں جا گرے گا یہ ہے اصل مفلسی ۔
    اسلام میں یتیم کے مال کی حفاظت پہ زور دیا گیا ہے ۔
    یہاں تک کہ وہ شادی کی عمر کو پہنچ جائیں تو انکا مال انکے حوالے کرنے کا حکم آیا ہے ۔صرف یہ نہی بلکہ یتیم کی کفالت اور اسکو اسکا حق دینے والے کیلیے خصوصی انعام کا اعلان بھی ہے ۔
    سھیل بب سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    رسول اللہ نے اپنی انگشت شہادت اور درمیان والی انگلی کو آپس میں ملایا اور صحابہ کو دکھاتے ہوئے فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والہ قیامت میں اس طرح ساتھ ہون گے۔
    لہزا ہمیں ان تمام باتوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور خود کو جہنم سے محفوظ کرنا ہے کیونکہ ہم نے ہمیشہ یہاں نہی رہنا اور آخر ایک دن پلٹنا ہے اس خدائے بزرگ و برتر کی جانب جس سے کوئ عمل چھپا ہوا نہی ۔
    نئ نسل کہ پاس اسلام سیکھنے کے بہت سے زرائع ہیں ۔نا صرف خود بلکہ اپنے بڑوں کو بھی نیک عمل کی ترغیب دیں انہیں یتیم کا حق دینے پہ آمادہ کریں اور اپنی آخرت سنواریں ۔