Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آنلائن بزنس میں خواتین کا کردار،تحریر:طاہرہ عتیق

    آنلائن بزنس میں خواتین کا کردار،تحریر:طاہرہ عتیق

    آنلائن بزنس میں خواتین کا کردار،تحریر:طاہرہ عتیق

    آج کل کے حالات اور مہنگائی کو مد نظر رکھتے ہوئے خواتین کو چاہیے کہ وہ بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے گھر میں آمدنی میں اضافے کا سبب بنیں ،یہ کوئی اتنی انہونی بات نہیں. ہم خواتین اگر کہیں جاب کرنا چاہیں تو انکو اسکول جوائن کرنے ٹیوشن پڑھانے یا بینکنگ میں سیکٹر میں جاب حاصل کرنے کیلئے مشورہ دیا جاتا ہے جس سے خواتین ایک محدود آمدنی کما سکتی ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ اسکول جاب میں ٹائم تو کم ہے مگر تنخواہ کے نام پر چند ہزار پکڑا دئیے جاتے ہیں جبکہ بینکنگ سیکٹر میں کام تو خوب لیا جاتا ہے مگر ترقی کی راہ میں روذے اٹکانا معمول ہے
    وہ کیا ایسے کام ہیں جو خواتین اپنی مرضی سے اپنی آسانی کےساتھ کرسکتی ہیں

    دیکھا جائے تو آجکل کا سوشل میڈیا بہت طاقتور حیثیت رکھتا ہے. فیس بک انسٹا گرام ٹویٹر پر خواتین کی بڑی تعداد نظر آتی ہے فیس بک اور انسٹا گرام پر تو باقاعدہ پیجز بنا کر خواتین چھوٹے پیمانے پر بزنس چلا رہی ہیں کپڑوں جوتوں جیولری میک اپ کھلونے اور بہت سی ایسی اشیاء ہیں جو یہ خواتین نہایت مناسب دام پر فروخت کر کے اپنا خرچہ پورا کررہی ہیں.یہ خواتین یہ کام گھر سے کرتی ہیں جس سے یہ اپنے گھر کی زمہ داری پوری کرنے کے ساتھ اپنے فری ٹائم. کو استعمال کر کے آمدنی بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں اس مد میں وہ ایک اچھا پرافٹ کما لیتی ہیں یہ ایک آسان زریعہ آمدنی ہے جس کے زریعے آپ کو گھر بیٹھے معیاری اشیاء فراہم کردی جاتی اور بازاروں کی خواری سے بھی بچا جاسکتا ہے
    مگر افسوس کا مقام ہے کہ ان خواتین کیلئے حکومت کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھا سکی جس طرح آنلائن خرید و فروخت میں اضافہ ہوا ہے حکومت کو چاہیے کہ ان خواتین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو باقاعدہ ایک پلیٹ فارم منظم کر کے دے جس میں ایسی خواتین کے مسائل کا تدراک کیا جائے بلکہ انکی حوصلہ افزائی بھی کی جائے.

  • آزاد کشمیرکی معیشت . تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    آزاد کشمیرکی معیشت . تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    اگرکوئی یہ سوال کرے کہ آزاد کشمیرکی معیشت کیا ہے تو جواب یہ ہے کہ ایک آزاد کشمیر کی کوئی معیشت نہیں ہے کیونکہ معیشت کا مطلب ہوتا ہے پیداوارکے ذرائع اوروسائل کا اسطرح سے انتظام کہ کم سے کم وسائل ضائع ہوں جبکہ اپنے ہاں صورت حال ایسی ہے کہ جیسے معیشت کا مطلب ہو وسائل کا ایسا انتظام ہو کے کم سے کم وسائل استعمال ہوں اور زیادہ سے زیادہ ضائع ہوں۔ یہ بھی الحاق پاکستان کی طرف ایک قدم ہے کہ آزاد کشمیرکی معیشت آزاد کشمیرکے کنٹرول میں نہ ہو بلکہ اس پرپاکستان کی نوکرشاہی، صنعت کاروں اور گماشتہ سرمایہ داروں کا قبضہ ہو تاکہ آزاد کشمیر کے اندرصنعت اورحرفت کی وبا نہ پھیل سکے اوریہ خطہ بدستور پاکستان کے مذکورہ بالا طبقوں کی منڈی بنا رہے اورآزاد کشمیر میں زیادہ سے زیادہ چھوٹا تاجر پیدا ہوسکے جس کو زیادہ بڑا کاوبارکرنا ہے وہ پنڈی لاہوراور کراچی جائے۔

    سوال کیا جا سکتا ہے اور اکثرارد گرد سے بے خبراپنے آکاؤں کے افکاراورخیالات کے بغیرسوچے سمجھے جگالی کرنے والے کرتے بھی ہیں کے آزاد کشمیر میں ہے ہی کیا کہ یہاں کی معیشت کا کوئی ڈھانچہ اٹھ سکے؟؟؟ لیکن اس کا جواب سیدھا سادہ سا ہے کہ سرمائے کے لحاظ سے یہ خطہ پاکستان کے امیرترین خطوں میں سے ہے آزادکشمیر کے بینکوں کا کڑوروں روپیہ (کوئی پانچ چھ سال پڑانی ایک تحقیق کے مطابق ڈدیال کے ایک علاقہ چھتڑو کے گرد و نواح جہاں کی آبادی تین ہزارتھی وہاں بینکوں میں پانچ کروڑ روپیہ تھا )اسی طرح ڈڈیال اورمیرپوروغیرہ کے بینکوں کا اربوں روپیہ مقامی سطح پرنہیں بلکہ کراچی اورلاہورکے صنعت کاراستعمال کرتے ہیں۔

    اس وقت تقریبا ایک ملین یعنی دس لاکھ کشمیری مزدوراورمحنت کش مشرقی وسطیٰ اوریورپ وامریکہ میں آباد ہیں اورآزاد کشمیرکی آدھی آبادی کا روزمرہ کا خرچ اٹھانے اورہزاروں کو تعمیراتی شعبے میں مزدوری فراہم کرنے اورسینکڑوں بے روزگار "پوسٹ گریجویٹوں” اور وکیلوں کو پلاٹوں کی خرید و فروخت کاشغل مہیا کرنے اوربیسیوں کو پراپرٹی ڈیلنگ کے میدان میں ملازمتیں فراہم کرنے کے علاوہ کروڑ ڈالرسالانہ زرمبادلہ بھی بھیجتے ہیں. جو سارے کا سارا پاکستانی نوکرشاہی اورسرمایہ کارہڑپ کرجاتے ہیں بغیرکوئی ڈکارمارے۔ لیکن جب سال بعد ڈھائی ارب روپیہ آزاد کشمیر کی حکومت کودیا جاتا ہے تو اخباروں میں سرخیاں لگتی ہیں اورٹی وی پربھی اس کی خبریں نشرکی جاتی ہیں یوں عام کشمیری سے لے کر بڑے بڑے پھنےخان دانشور یہ سمجھتے ہیں کے آزاد کشمیر پاکستان پربہت بڑا بوجھ ہے۔

    لیکن ظاہرہے کہ ان میں سے اکثر یا تو کشمیر سے پاکستان کو ہونے والی آمدنی سے بے خبرہوتے ہیں یا پھردوسروں کو بے خبراورکنفیوز کرنا چاہتے ہیں جنگلات، منگلا ڈیم کا پانی وبجلی، دریا، پی آئی اے کی کشمیریوں سے سلانہ آمدنی اس کے علاوہ ہے۔ یوالحاق پاکستان کی قوتوں معیشت کے میدان میں بھی کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی بنیادیں خوب مضبوط کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی اورحق نمک خوب ادا کیا۔ اس احساس کو عام آدمی کے ذہن میں پختہ کرنے کے لیے کہ کشمیر پاکستان کے ساتھ الحاق کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا آزاد کشمیر کے اندربرسراقتدار”بااثراورمعتبر” شخصیات کی طرف سے اس طرح سے اخباری بیان بھی اہم کرداراداکرتے ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ "ہم تو پاکستان کی سرپرستی کے بغیرایک کپ چائے بھی نہیں بناسکتے ”

    @zeeshanwaheed43

  • ‏جھوٹ بولنا کتنا بڑا گناہ ؟تحریر یاسمین ارشد

    ‏جھوٹ بولنا کتنا بڑا گناہ ؟تحریر یاسمین ارشد

    خود اعتمادی کی زبردست کمی کا شکار رھنا ہر وقت محسوس ھوتی ھوئی دل کی بے سکونی جھوٹ کے نتیجے پہ ملنے والی قدرت کی طرف سے خود کار سسٹم کے تحت روحانی جسمانی ذہنی بیماریاں اگر جھوٹ پکڑا جائے تو دوسروں کا ہمیشہ کیلئے آپکی ذات پر سے اعتبار ختم ہو جاتا ہے جھوٹ بولنے والا ہمیشہ کم ظرفی کا شکار رھتا ھے کیونکہ اسکی سوچ مثبت سوچ سوچنے کی اہلیت سے خالی ھو جاتی ھے جھوٹ بولنے والے کی سوچ ایک کے بعد دوسرا فراڈ کرنے کا موقع ڈھونڈتی ھے یعنی ایسا انسان چاہ کر بھی کسی کے ساتھ بھی مخلص نہیں بن سکتا جھوٹ آپ سے اپکے مخلص سچے محبت کرنے والے دوستوں رشتوں کو چھین لیتا ھے کیونکہ مخلص لوگ جب آپکے لفظوں اور عمل میں جھوٹ اور دغا بازی دیکھتے ہیں تو نفرت کرنے لگتے ہیں کیونکہ انکا مان ٹوٹ جاتا ھے جھوٹ کی عادت بڑھتی بڑھتی ہر صورت منافقت تک پہنچ جاتی ھے یعنی یہ چھوٹی سی معصوم سی عادت سمجھی جانے والی گندی عادت بڑے بڑے گناہوں کو مقناطیس کی طاقت کے برابر اپنی طرف کھینچتی ھے سائنس کے پجاری بھی ذرا کان کھولیں سائنسی مشین کے مطابق جھوٹ ایسے ہارمونز اور کیمیکل جنریٹ کرتا ھے جو کینسر ، موٹاپے ، ڈپریشن ، مستقبل کا خوف ، نشے کی عادت ، جوا کھیلنے کی عادت ، بدکرداری ، اپنے روز مرہ کے کسی بھی کام میں پوری توجہ کا فقدان ، ماضی کے غم میں مستقل رھنے والے پیٹرن بنا دیتا ھے ایسا اس لئے ھوتا ھے کہ جب ہم جھوٹ بولتے ہیں اس وقت ہمارے نیورانز مطلب ذہنی مشینری قدرتی طریقہ کار سے ہٹ کر غلط رستے پر سوار ھو جاتی ھے جبکہ انسانی ذہن اور جسم قدرتی خودکار بنیادوں پہ چلنے والی مشین ھے

    قدرت نے دماغی سسٹم کی سیٹنگ اپنے معیار پہ رکھی ھے لیکن جب انسان اس معیاری سسٹم کو اپنے بے حودہ معیار پہ سیٹ کرتا ھے اس وقت نیورانز کی آمد و رفت میں اچانک ایکسیڈنٹ ھونا شروع ھو جاتے ہیں آگے آپ خود سمجھدار ہیں سسٹم کے اشاروں پہ چلنے والی ٹریفک پرسکون چلتی رھتی ھے جبکہ اپنی مرضی سے چلنے والی اشارہ توڑنے والی بے ہنگم گاڑیوں کی ٹکر کس انداز میں ھو سکتی ھے جسم کا کتنا نقصان ھو سکتا ھے اسکا اندازہ اپ لگا سکتے ہیں یقینا آپ جان چکے کہ گھر بیٹھے روحانی ، جسمانی اور ذہنی صحت کا اتنا بڑا نقصان کوئی جاہل گوار ہی کرے گا لیکن یقینا آپکی ذات اور جہالت میں زمین آسمان کا فاصلہ موجود ھے یہ میں جانتی ھوں جھوٹ چھوٹی موٹی بیماری نہیں ھے جھوٹ وہاں ملتا ھے جہاں انسان اندر سے کمزور ھو اپنے خیالات ، احساسات ، جزبات اپنی خوشیوں اپنے دکھوں کو بیان کرنے کی ہمت نہ رکھتا ھو ڈرا ھوا ھو جھوٹا انسان جھوٹ کی مدد سے رشتہ تو بنا لیتا ھے مگر اسے نبھانے کی اہلیت نہیں رکھتا کیونکہ جھوٹ اپنے ساتھ 10 اخلاقی بیماریاں بھی اسی سوچ میں پیدا کر دیتا ھے جو کسی رشتے کو مسمار کرنے کیلئے کافی ھوتی ہیں

    چنانچہ قرآن کریم میں ایک جگہ ہےکہ”تم بت پرستی کی گندگی اورجھوٹی بات کہنے سے بچو”(حج)اور رسول اکرم ﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ’تین چیزیں منافق کی نشانیوں میں سے ہے، جب بات کرے توجھوٹ بولے،کسی سے کوئی وعدہ کرے تو اسکی خلاف ورزی کرے،اورامانت میں خیانت کرے'(بخاری)اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ اگرچہ وہ روزہ رکھے،نماز پڑھے اور لوگ اسکو مسلمان سمجھیں مگر پھر بھی وہ منافق ہے،غور کرنے کی بات ہے کہ جھوٹے لوگوں کے لئے کتنی سخت وعیدیں آئی ہوئی ہیں،کیا ہمارا کوئی بھی کام آج جھوٹ سے خالی ہوتا ہے؟ہرگھنٹہ اور ہر منٹ بلکہ ہرہر سکنڈ پر آج لوگ جھوٹ بول رہے ہیں،پھر کیا اس جھوٹ میں ہم شامل نہیں؟کیا ہمیں اسکا محاسبہ نہیں کرناچاہئے؟ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’اگر کوئی مذاق کے طور پر بھی جھوٹ بولے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے”ایک اور حدیث میں ہے کہ’ایسے جھوٹ بولنے والوں کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کو ہنسانےکے لئے جھوٹ بولتا ہے،اسکے لئے ہلاکت ہے اسکے لئے تباہی ہے'(ترمذی)ان احادیث کی روشنی میں ہمیں غور کرنا چاہئے کہ کیا ہماری مجلسیں، محفلیں،ہوٹلیں، بازار،دکان اور ہمارے گھر وغیرہ اس سے محفوظ ہیں؟نہیں تو آخر اسکی وجہ کیا ہے؟جھوٹ بولنا بہت بڑاگناہ ہے مگر دو متحارب فریقوں یا دو لوگوں کےدرمیان مصالحت کرا دینا اور اسکے لئے محض صلح جوئی، فتنہ و فساد کے خاتمے کی نیت سے کچھ جھوٹی باتیں کہہ دینا جائز ہے اور اسکی اجازت دی گئی ہے،ایسا شخص جھوٹا اور گناہ گار نہیں کہلائے گا،مگر یہ ضروری ہے کہ وہ باتیں خیرو بھلائی کی ہی ہوں،جو ایک دوسرے کی طرف منسوب کرکے پہنچائی جائیں،ان میں فسق وشرک نہ ہو،بخاری کی حدیث میں ہے”وہ آدمی جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے پھر خیر کی باتیں پہنچاتا ہے یا اچھی باتیں کہتا ہے”اور مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ صرف تین مواقع ایسے ہیں جہاں جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئ ہے،ایک شوہر بیوی میں اختلاف کو دورکرنے کے لئے،دوسرے مسلمانوں میں باہمی تعلقات کی اصلاح کے لئے اور تیسرا میدان جنگ میں،

    علماء نے لکھا ہے کہ ان کے علاوہ اور کسی جگہ یاکسی مو قع پر کذب بیانی اورجھوٹ بولنا ہرگز درست نہیں،لیکن ہاں مجبوری کی حالت اس سے مستثنی ہے،اگر انسان کو مجبور کردیا جائے اور اسے اپنی جان کا خدشہ لاحق ہو تو ایسی صورت میں جھوٹ بولکر جان بچانے کی رخصت دی گئی ہے،اس صورت میں وہ گنہگار نہیں ہوگا،جھوٹ ایسی منحوس چیز ہے کہ اسکے بولنے والے کے پاس سے فرشتے بھی دور ہٹ جاتےہیں،ایک حدیث میں ہے کہ”جب بندہ جھوٹ بولتاہے تو فرشتے اسکی بدبو کی وجہ سے ایک میل دور چلے جاتےہیں”(ترمذی)ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ سے پوچھا گیا،کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں،پھرسوال کیا گیا کیا مومن بخیل ہوسکتا ہے؟فرمایا ہاں،پھر پوچھا گیا کیامومن جھوٹا ہوسکتا ہے؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں،دیکھا آپ نے اس حدیث میں مسلمان بزدل بھی ہوسکتا ہے،بخیل بھی ہوسکتا ہے لیکن جھوٹا نہیں ہوسکتا،ہمارا حال یہ ہے کہ کوئی بھی کام ہمارے پاس جھوٹ کے بغیر نہیں ہوتا،پھر ہمارے حالات کیسے درست ہوں؟ایک دوسری حدیث میں آپ نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ’تم جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لےجاتا ہے اورگناہ جہنم کی طرف لےجاتا ہے،آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اورجھوٹ کے پھیرنے میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالی کے نزدیک کذاب لکھ دیاجاتا ہے،دراصل جھوٹ ایسی بری صفت ہے جو کسی مسلمان کے شایان شان نہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جھوٹ بولنے سے احتیاط کریں اورہمیشہ سچ بات کہنے کی عادت ڈالیں،اپنے بچوں کے دلوں میں جھوٹ سے نفرت پیدا کریں،سچائی کی اہمیت اورمحبت اپنے بچوں کے دلوں میں ڈالیں اور یہ بتائیں کہ سچائی ہمیشہ نجات دلاتی ہے اور جھوٹ انسان کو ہلاک وبرباد کر دیتا ہے،بلکہ ایک حدیث میں ہےکہ آپ ﷺ نے فرمایا’جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دے،اگرچہ وہ باطل ہے تواللہ تعالی اسکے لئے جنت کے صحن میں گھر تعمیر فرمائیں گے'(ترمذی)لہذاٰ کوشش کریں کہ ہم ہرجگہ سچی بات کریں اورسچ کواپنی زندگی میں داخل کریں،تب ہی ایک صالح اورپاکیزہ معاشرہ وجود میں آسکتا ہے جو وقت کی بھی اہم ضرورت اور انسانی تقاضا بھی ہے اللہ تعالیٰ ہم سبکو جھوٹ سے بچائے اورہمیشہ سچ بولنے، سچی بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بھائیو اور بہنو یاد رکھنا ایک سچ سو سکھ لاتا ھے جبکہ ایک جھوٹ آپکی ذات میں ہزار کھوٹ پیدا کرتا چلا جاتا ھے کیا فائدہ جھوٹ کا ، ، ، اور ، ، ، جھوٹے کے ساتھ کا ۔۔۔

    تحریر یاسمین ارشد
    twitter.com/IamYasminArshad
    @IamYasminArshad

  • سیاست اوراسلام . تحریر: ملک منیب محمود

    سیاست اوراسلام . تحریر: ملک منیب محمود

    اسلام میں سیاست اُس فعل کو کہتے ہیں جس کے انجام دینے سے لوگوں میں بھلائی ہو اورفسادات دُورہوجائیں. جبکہ اہل مغرب حکومت کرنے کو سیاست کہتے ہیں ۔اہل مغرب کی نظر میں حکومت کرنے کے 2 ہی اصول ہیں، ڈکٹیٹر شپ اورجمہوریت.

    کچھ اسلامی ممالک میں بادشاہی نظام بھی متعارف ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اسلام اورسیاست کا تعلق کیا ہے؟
    کیا اسلام نے کوئی سیاست کے اصول بتائے ہیں کیا، احدیث اس بارے میں کیا کہتی ہے اورقرآن میں سیاست کے بارے میں کیا کیا حکم ہے؟
    قرآن کریم میں لفظ سیاست تو نہیں البتہ ایسی بہت سی آیتیں موجود ہیں جو سیاست کے مفہوم کو واضح کرتی ہیں، بلکہ قرآن کا بیشتر حصّہ سیاست پرمشتمل ہے، مثلاً عدل و انصاف، امربالمعروف و نہی عن المنکر، مظلوموں سے اظہارِہمدردی وحمایت، ظالم اورظلم سے نفرت اور اس کے علاوہ انبیا ٴاوراولیأ کرام کا اندازِسیاست بھی قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔

    وقال لہم نبیّہم انّ اللّٰہ قد بعث لکم طالوت ملکاً، قالوا انّی یکون لہ الملک علینا و نحن احق بالملک منہ ولم یوت سعة من المال قال انّ اللّٰہ اصطفہ علیکم وزادہ بسطة فی العلم والجسم واللّٰہ یوتی ملکہ من یشآء واللّٰہ واسع علیم “ (سورہٴ بقرہ، آیت 247 )

    ترجمہ : ”ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو حاکم مقررکیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ کس طرح حکومت کریں گے۔ ان کے پاس تو مال کی فراوانی نہیں ہے۔ ان سے زیادہ تو ہم ہی حقدارحکومت ہیں۔ نبی نے جواب دیا کہ انہیں اللہ نے تمہارے لیے منتخب کیا ہے اور علم و جسم میں وسعت عطا فرمائی ہے اوراللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتا ہے کہ وہ صاحب وسعت بھی ہے اورصاحب علم بھی “

    اس آیت سے ان لوگوں کے سیاسی فلسفہ کی نفی ہوتی ہے جو سیاست مدارکے لیے مال کی فراوانی وغیرہ کو معیارقراردیتے ہیں، سیاستمدار کے لیے ذاتی طور پر” غنی “ ہونا کا فی نہیں ہے بلکہ اسے عالم وشجاع ہونا چاہیے۔ اِس آیت کو ہم ایک اورزاویہ سے دیکھے تو جوآج سے 1000 سال پہلے کلیسائی نظام تھا اُسکے مطابق ریاست کا سربراہ حُکم الٰہی کی طرف سے ہوتا ہے مطلب یہ کہ اُنکے مطابق ریاست کا سربراہا اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے ۔

    اب حدیث کا بھی مطالعہ کرتے ہیں کہ حدیث کیا کہتی ہے اِس بارے میں
    حدیث میں سیاست کے معنی : عدل و انصاف اور تعلیم و تربیت کے ہیں۔
    جبکہ علمأ کی نظرمیں : رسول اللہ ﷺ اورخلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت و روش، استعمار سے جنگ، مفاصد سے روکنا، نصیحت کرنا سیاست ہے۔

    قرآن میں سیاست کے معنی : حاکم کا لوگوں کے درمیان میں حق کے ساتھ فیصلہ کرنا، معاشرے کو ظلم و ستم سے نجات دینا، امربالمعروف و نہی عن المنکرکرنا اوررشوت وغیرہ کو ممنوع قراردینا ہے. آج سے 14 سو سال پہلے اگر ہم حکومت کرنے کے اصول دیکھے جوھمارے نبی صلی علیہ وآلہ وسلّم نے اپنائے، جہاں امیرغریب، طاقتوراورکمزورسب برابرتھے. انصاف کا حصول اتنا ہی آسان تھا جتنا آج کے دور میں عدلیہ کا پیسوں کی خاطربک جانا ہے۔

    حضرت عمر فاروق کا زمانہ آج بھی مثل راہ ہے، وہ ایسا دور تھا جب ایک انسان کا بھوکا سوجانا بھی حکمران کو ہلا کر رکھ دیتا تھا۔ سب کوبنیادی حق حاصل تھا تمام مذاھب کے لوگ اُس ایک پرچم کے نیچے آباد تھے۔ آج کی سیاست سے موازنہ کیا جائے تومکمل طورپرتبدیل ہوچکا ہے۔ آج کے زمانہ انصاف كا حصول مشکل ترین فعل ہے۔ لوگ اپنے بنیادی حقوقِ ملنے سے قاصر ہیں۔ امیرغریب کا فرق ہرجگہ کیا جاتا ہے۔ آج بھی ہم اگر اُن بنیادی اصول پرعمل کرنے لگ جائے تو اسلامی ریاست ممکن ہے اوراُس لحاظ سے اسلام اورسیاست کا تعلق بہت گہرا ہے۔

    @MMUNEEBPTI

  • ریڑھ کی ہڈی میں موجود ڈسک سے جڑے مسائل .تحریر: حسن قدرت

    ریڑھ کی ہڈی میں موجود ڈسک سے جڑے مسائل .تحریر: حسن قدرت

    ڈسک کیا ہے اور کیسے بنتی ہے؟ ریڑھ کی ہڈی میں چھوٹے چھوٹے جوڑ موجود ہوتے ہیں جنہیں ہم ورٹیبری کہتے ہیں کچھ جوڑ آپس میں جڑے ہیں کچھ میں اور کچھ میں سپیس ہے جنکے درمیان ایک لچکیلا مادہ ہوتا ہے جسے ہم ڈسک کہتے ہیں ہماری ریڑھ کی ہڈی کے ٹوٹل33 جوڑ ہیں جن میں 23 انٹرورٹیبرل ڈسک موجود ہیں جتنا انسان صحت مند ہوگا اس میں ڈسک اتنی زیادہ ہوگی اور اسی تناسب سے اسکی لمبائی ہوگی

    ڈسک کے اجزاء: ڈسک میں بنیادی طور پر کولیجن ہوتا ہے اور پروٹیوگلائیکینز (جو پانی کو اپنی طرف اٹریکٹ کرتے ہیں) یہی وجہ ہے کہ ایک صحت مند ڈسک کے نیوکلیس میں 90 فیصد پانی موجود ہوتا ہے

    ڈسک کیسے کام کرتی ہے : ڈسک ہمارے جوڑوں کو رگڑ سے بچاتی ہے ڈسک پانی جذب کرتی ہے اور فاسد مادے خارج کرتی ہے یعنی یہ ایک پراسس ہے جس میں انجذاب اور اخراج ایک ساتھ ایک ہی وقت میں ہوتا ہے یعنی پانی کا انجذاب اور فاسد مادوں کا اخراج اور اگر ایسا نہیں ہوتا ، ڈسک کو صحیح مقدار میں پانی نہیں ملتا تو ڈسک الٹا کام کرنے لگتی ہے یعنی پانی کو خارج کر کے فاسد مادے اکھٹے کرنے لگتی ہے

    ڈسک کیسے متاثر ہوتی ہے:ہماری روزمرہ کی سرگرمیوں کے دوران ڈسک بہت زیادہ کمپرس ہو جاتی ہے جب اس پہ دباؤ پڑتا ہے تو یہ پانی خارج کرتی ہے اور پوٹاشیئم اور سوڈیم کو جذب کرتی ہے (فاسد مادے) جسکی وجہ سے بیلنس خراب ہوتا ہے اور پانی کی کمی کی وجہ سے یہ کم ہو جاتی ہے ( اگر وقت پہ اسکا تدارک نہ کیا جائے تو یہ سپائنل کروز کو متاثر کرتی ہے جس سے پوسچر خطرناک حد تک خراب ہوجاتا ہے )

    وجوہات: اسکی وجوہات عمر کا بڑھنا ،پراپر نیوٹریشن کا نہ ہونا ،ڈایابٹیز،سموکنگ،اوورلوڈنگ،کوئی ماضی کی ڈسک انجری یا ایسا کام جس سے ڈسک بہت زیادہ موبائل ہو یا وائبریٹ ہو ہوسکتی ہیں (اگر آپ کو ڈسک کا کوئی مسئلہ ہے تو کوشش کریں کہ ایسا کام نہ کریں جس سے ڈسک پہ زور آئے یا شاک لگے)

    صبح اٹھ کر ریڑھ کی ہڈی کے سارے جوڑوں میں درد کیوں محسوس ہوتا ہے؟ ایک نارمل بندہ جب صبح اٹھتا ہے تو سپائن کی جو ہائٹ ہے سارا دن وہی رہتی ہے مگر وہ بندہ جسکی ڈسک کا مسئلہ ہے اس میں سپائن کی ہائٹ سارا دن گزرنے کے بعد 2 سینٹی میٹر تک کم ہو جاتی ہے اور عموماً صبح اٹھنے کے 30 منٹ بعد ہی ریڑھ کی ہڈی میں سے 54 فیصد پانی خارج ہو جاتا ہے اسلیے بہت ممکن ہے کہ اسے اٹھتے ساتھ ہی ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف ہو جسکی وجہ یہ ہے اٹھتے ساتھ ہی پانی کا اخراج ڈسک سے شروع ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ڈسک انجری کے چانسز صبح کے وقت زیادہ ہوتے ہیں

    جب ہم رات کو ریلکس ہو کر سوتے ہیں ،ڈسک سے پریشر ختم ہوتا ہے وہ پانی کو جلدی سے جذب کرتی ہے اسلیے جب ہم رات کو نیند سے اٹھ کر پانی پیتے ہیں تو اس سے ڈسک کی لمبائی بڑھتی ہے (ڈسک ایک لچکیلا مادہ ہے جو جوڑوں کو آپس میں رگڑ سے بچاتا ہے )

    ڈسک کی صحت اور علاج:ڈسک کی صحت کے ضروری ہے کہ آپ اپنی خوراک کا خیال رکھیں پراپر جوسز لیں (کوشش کریں گھر پہ بنائیں)،فروٹس،کچی سبزیاں، دودھ کی مناسب مقدار اور ایسی غذائیں جن میں آئرن شامل ہو زیادہ پانی پئیں اسکا علاج مخصوص پوسچرل پوزیشنز سے کیا جاتا ہے جوگنگ سے بھی اور رننگ سے بھی اسکے ساتھ مخصوص ورزش بتائی جاتی ہے جس سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے کسی اچھے فزیو تھراپسٹ کو اپنی مکمل ہسڑی دیں اور پھر ان سے مشورہ کریں

    @HusnHere

  • ٹویٹر اکاؤنٹ کی ویرفکیشن مشکل مگر ناممکن نہیں : تحریر: محمد جاوید

    آج کل ٹویٹر پہ ایک دوڑ لگی ہوئی ہے جیس کو دیکھو اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ مجھ سمیت ہر بندہ ٹویٹر پہ اپنے اکاؤنٹ کی ویرفکیشن میں لگا ہوا ہے اور ہونا بھی چائے کیونکہ ویرفکیشن کرانا سب کا حق ہے۔ سب کو بلیو ٹک ملنا چائے تو اس سلسلے میں بنا کسی ریسرچ کے بندہ ناچیز نے بھی اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کے لئے اپلائی کیا اور بعد میں کافی ریسرچ کے بعد تب جاکر معلوم ہوا کہ اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کا کام اتنا آسان نہیں اور ناممکن بھی نہیں ہے بس کچھ باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ۔

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کے لئے اپلائی کرنے سے پہلے ایک بار اپنے اکاؤنٹ کو دیکھو کیا وہ ٹویٹر کے رولز کے حساب سے قابل قبول ہے بھی یا نہیں تو اس سلسلے میں کچھ بنیادی باتیں ہے جن کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے اس کے بعد اگر اپ اپلائی کرتے ہو تو 99 فیصد مثبت نتائج کے توقع کیا جا سکتا ہے
    اگر آپ ان شرائط پہ پورے اترتے ہیں تو اپکے اکاؤنٹ کو ویرفکیشن سے کوئی نہیں روک سکتا بس ان بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے

    (1) سب سے پہلے آپ کا اکاؤنٹ ایکٹو ہو اور کمپلیٹ ڈیٹیلز موجود ہو ۔
    (2) اکاؤنٹ کے پروفائل میں نام اور تصویر ہو ۔
    (3) پچھلے 6 مہینوں سے اکاؤنٹ آپ کے استعمال میں ہو اسکا مطلب ہے ایکٹو ہو
    (4) اکاؤنٹ میں تصدیق شدہ ای میل ایڈریس یا فون نمبر موجود ہو ۔
    (5) پچھلے 12 مہینوں میں ٹویٹر کی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کیا هو۔ جیسا کہ تین دن یا سات دن کی لمیٹ نہیں لگی ہو۔

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    اگر آپ کا اکاؤنٹ ان شرائط پہ پورا اترتا ہے تو اس کے بعد آپ جس پیشے سےوابستہ ہے اس کٹیگری میں اپلائی کرو اور اس کٹیگری کے شرائط پہ بھی پورا اترنا ضروری ہے جب آپ ویرفکیشن فارم پر کرو گے تب ٹویٹر آپ سے مانگے گا جیسا کہ اگر آپ جرنلسٹ کٹیگری میں اپلائی کرتے ہو تو آپکو کسی نیوز ارگنائزیشن کے ساتھ منسلک ہونا اپکا لکھا ہوا آرٹیکل جیس میں اپکا اکاؤنٹ مینشن ہوا ہو اور اس لنک کا ہونا بھی ضروری ہے۔

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

    یہ مخصوص کٹیگری والے شرائط تو بہت آسان ہے مگر سب سے مشکل شرط جو ہے وہ نمبر 5 ہے کیونکہ ہم سب لوگ یا تو کسی ٹرینڈ کی وجہ سے یا زیادہ فولونگ/ان فولونگ کی وجہ سے اسکی زد میں آجاتے ہیں اب اگر آپ نے اپنے اکاؤنٹ کی ویرفکشن کرانی ہو تو پہلے بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ہےاس کے بعد مخصوص کٹیگری کے شرائط پہ بھی پورا اترنا ہے۔
    اکاؤنٹ ویرفکیشن ڈیپارٹمنٹ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ٹویٹر جلدی ہی تین اور کٹیگریز کا اضافہ کرنے والا ہے جن میں سب سے پہلے سائنٹسٹ پھر مذہبی رہنما اور اس کے بعد ٹیچرز تو ان حضرات کے لئے اچھی بات ہے جو موجودہ کٹیگریز پہ پورا نہیں اترتے۔
    اب یہ آپ کے اوپر منحصر ہے کس طرح آپ ٹویٹر کے بنیادی شرائط پہ پورا اترتے اور بلیو ٹک کا حقدار بن جاتے۔

    پیسوں کی ضرورت نہیں، خوشحال ہوں،جوڑے سے معافی مانگ لی تھی،عثمان مرزا کا عدالت میں بیان

  • ‏ہماری کرکٹ بدحالی کا شکار کیوں ،تحریر عبید الله

    ‏ہماری کرکٹ بدحالی کا شکار کیوں ،تحریر عبید الله

    پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف 3-0 سے ہارنے کی وجہ سے دل ابھی تک صدمے سے باہر نہیں آیا تب سے یہی سوچ رہا ہوں آخر کیا محرکات ہیں جو ہماری کرکٹ اتنی زوال کا شکار ہے
    ایک وقت تھا کہ پاکستان کے بارے میں کہا جاتا تھا یہاں کی مٹی کرکٹر اگلتی ہے اس مٹی نے کیسے کیسے ہیرے پیدا کیے عمران خان، جاوید میانداد، انضمام الحق، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، عبدالرزاق،
    شاہد خان آفریدی، سعید انور، عامر سہیل، عبدالقادر، عاقب جاوہد.
    لیکن اب تو لگتا ہے قومی کرکٹ ٹیم کو پسند ناپسند کے بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے کیسے کیسے ہیرے ضائع کر دیے جیسا کہ عمران نذیر، عبدالرزاق، حسن رضا، محمد آصف، محمد عامر، عمر گل، وہاب ریاض، محمد شبیر، سعید اجمل.
    اسی طرح بہت سے کرکٹر سفارش، یا پیسا نہ ہونے کی وجہ سے آگے نہیں آ پاتے۔

    ایسے ہی ایک کرکٹر عبید اللہ جنکا تعلق پشاور سے اور (پدائش 4 جون 1992) ہیں

    انہوں نے اپنی فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز اکتوبر 2016 کو قائد اعظم ٹرافی میں پاکستان ایئر لائنز کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا
    انہوں نے 19 نومبر 2017-18 کے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں پشاور کی طرف سے نمائندگی کی۔ انیس نومبر، 2017 کو راولپنڈی میں کراچی کے مخالف جبکہ پشاور کی نمائندگی کرتے ہوے 72 سکور کیا اور 23 نومبر 2017 کو راولپنڈی میں پشاور کی نمائندگی کرتے ہوئے فیصل آباد کے خلاف سینچری پلس 114 سکور کیا.

    سٹرائیک ریٹ 92.30 رہا جبکہ ایوریج 18.00 رہی. اگر پی سی بی نے اس پسند ناپسند کے نظام کو نہ بدلا تو آنے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں حال انگلینڈ کے خلاف سیریز سے بھی برا ہوگا
    اس لیے پی سی بی کو چاہیے کہ کھلاڑیوں کا میرٹ پر انتخاب کریں نہ کہ ذاتی پسند کی بنیاد پر.
    سوشل ٹویٹر اکاؤنٹ
    ‎@ObaidVirk_717

  • عورت اور گالی! . تحریر: حسن ریاض آہیر

    عورت اور گالی! . تحریر: حسن ریاض آہیر

    ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ گالی دیے بغیر اپنی بات مکمل نہیں کر سکتے۔ وہ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی بات میں گالی دینے سے انکی بات کا وزن بڑھ جائے گا یا بات سننے والے پراس طرح سے رعب پڑے گا یا اس سے متاثر ہو گا۔ کچھ لوگوں کی تو عادت بن چکی ہے اور کچھ لوگ اس فعل کو فخریہ اپنی مشہوری کے طور پر بیان کر رہے ہوتے ہیں کہ فلاں کو بھئی بڑی گالیاں دی میں نے۔

    ہماری گالیوں میں آخرکون ہوتا ہے ؟ اس کا جواب ہے ” عورت ” ۔

    جی ہاں ہماری گالیوں میں عورت ہوتی ہے۔ آخر وہ عورت کون ہے ؟

    وہ عورت جو تمہیں پیدا کرتی ہے، تمہاری پرورش کرتی ہے اورتمہیں بولنا سکھاتی ہے۔ لیکن تمہاری گالیوں میں پھر بھی اسی کا نام ہوتا ہے۔ بہو کی صورت میں ہوگی۔ پڑھا لکھا انسان ہو یا ان پڑھ یہ بد فعلی اکثرمیں موجود ہوتی ہے۔ آج کل سوشل میڈیا کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، کہیں کسی موقع پرکسی بات پراختلاف ہو جائے یا تلخ جملوں کا تبادلہ ہوجائے تو آپ کو وہاں کھلے عام گالیاں بکتے لوگ نظرآئیں گے۔ حتیٰ کہ ہمارے حکمران جو ٹی وی شوزاور پارلیمنٹ میں موجو ہوتے ہیں جو ہماری نمایندگی کررہے ہیں وہ بھی اس برے عمل کا شکارنظرآتے ہیں۔

    اللّٰہ پاک نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا اور ہمیں سمجھ بوجھ عطا کی۔ ہمیں صبرکرنے کا حکم دیا۔ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے اورہمارے پاس قرآنِ کریم ہے جو ہمیں سیدھے راستے پرچلنے کا صحیح راہ دکھاتا ہے توہم کیوں غفلت میں سب بھولائے بیٹھے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں اوراسلام ایک مہذب دین ہے اسلیئے اس نےگالی کو سنگین جرم اورگناہ کبیرہ قراردیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کریں تو یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ اسلام میں تو ایک غیرمسلم کو بھی گالی دینا جائزنہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں گالم گلوچ کو بطورہتھیار اورآخری حربہ استعمال کیا جاتا ہے جو تعلیمات دین، اسلام اور تعلیمات محمدی ﷺ کی سراسرمنافی ہے۔

    قرآن مجید میں عورت کی اہمیت اورمقام کے بارے میں کئی ایک آیات موجود ہیں۔ اسلام کی آمد سے قبل عورت بہت مظلوم اورمعاشرتی و سماجی عزت واحترام سے محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اورقابل نفرت تصورکیا جاتا تھا۔ اہل عرب کا عورت کے ساتھ بدترین رویہ تھا۔ قرآن حکیم نے واضح کیا کہ زمانۂ جاہلیت میں عورت کا مرتبہ ناپسندیدہ تھا وہ مظلوم اورستائی ہوئی تھی اورہرقسم کی بڑائی اورفضیلت مردوں کے لئے تھی۔ اس میں عورتوں کا حصہ نہ تھا حتی کہ عام معاملات زندگی میں بھی مرد اچھی چیزیں خود رکھ لیتے اوربیکارچیزیں عورتوں کو دیتے۔

    لیکن دین اسلام کے بعد یہ سب بدل گیا اورہمیں یہ بتایا گیا کہ عورت مقدس ہے، قابل احترام اورقابل عزت ہے۔ ہمیں نا صرف اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ہے بلکہ وہ تمام حقوق بھی پورے کرنے ہیں جو ہمیں قرآن کریم میں بتائے گئے ہیں. ہمیں خود کو بدلنا ہوگا، ہمیں اس معاشرے کو بدلنا ہوگا۔ میٹھا بولیں، پیارسے بات کریں، کوئی انسان آپ سے بات تلخ کریں تو صبرکریں۔ اکثرکچھ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں نے ایسا بولا تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا۔ اصل برداشت ہی صبرکرنا ہے۔

    اللّٰہ پاک ہمیں اس بد فعلی اور گندی زبان استعمال کرنے سے اورشیطان کو خود پرہاوی ہونے سے بچائیں۔ اللّٰہ پاک ہمیں اس معاشرے کو اچھائی کی طرف راغب کرنے اور بدلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !

    @HRA_07

  • ایک بار پھر ایک حوا کی بیٹی غائب.تحریر: احمد لیاقت

    ایک بار پھر ایک حوا کی بیٹی غائب.تحریر: احمد لیاقت

    ایک بار پھر ایک حوا کی بیٹی غائب.تحریر: احمد لیاقت

    یہ خاتون ہمارے ایک بہت اچھے پسرور کے رہائشی بھائی کی ہمشیرہ ہیں جو کہ 11 جولاٸی 2021 کو ساڑھے تین بجے کی ٹرین میں لاھور سے کراچی جانے کے لیے اپنی 10 سالہ بیٹی کے ساتھ روانہ ھوٸیں ۔ جنہوں نے 12 جولاٸی دن 2 بجے کراچی پہنچنا تھا۔لیکن نہیں پہنچیں اور موباٸل فون بھی 11 جولاٸی رات 9 بجے سے بند ھے

    یہ وہی حوا کی بیٹی ہے جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئیں جس کے کانوں میں اذان دی گئی اور جسکو دین کا شرف حاصل ہوا جو ایک باپ کی عزت اور بھائی کی غیرت بنی ۔ حوا کی بیٹیاں کب تک غیر محفوظ رہیں گئیں دل خون کے انسو روتا ہے اس غریب اور بے سہارا کی آواز بنیں

    جو بچے غائب ہوئے ان کے ساتھ ظلم زیادتی کے بعد ان کو پھینک دیتے ہیں حکومت وقت کب تک دیکھتے رہیں گے اس طرح کے واقعات جب مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا نہیں دی جاتی تب تک ایسے حوا کی بیٹیاں غائب ہوتی رہیں گی

    افسوس پاکستان کے اسکے گندے اور ناقص قانون کا یہ حال ھے کہ نہ لاھور پولیس اور نہ ھی کراچی پولیس یہ کیس لینے کو تیار ھے۔ اُ لٹا کہتے یںں جو کرنا ھے خود کریں ہم کچھ نہیں کر سکتے

    برائے مہربانی بحیثیت مسلمان اگر کوٸی کسی طرح بھی انکی خبر دے سکے تو لازمی نیچے دیئے گے نمبرز پر رابطہ کریں ‏‎جب تک سرے عام پھانسی کا قانوں لاگو نہیں ھو گا تب تک یہ درندے ایسے ہی معصوم پھولوں کی زندگیاں ختم کرتے رہیں گی اگر قوم میں شعور ہے تو ایک تحریک چلاٸیں گورنمنٹ سے پھانسی کا قانوں ایمپلیمینٹ کرواٸیں ورنہ یہ معصوم بچے آج کسی اور کے تو کل ہمارے بھی ہوسکتے ہیں۔

    اللہ پاک ان ماں بیٹیوں سمیت ہر مسافر کو محفوظ رکھے آمین۔ برائے رابطہ لواحقین فون نمبرز

    0336-7350956
    0342-2018177
    0347 1285917

  • واٹر کولر اور قربانی .تحریر ماریہ بلوچ

    واٹر کولر اور قربانی .تحریر ماریہ بلوچ

    ہر سال عید قربان پہ ایک خاص طبقہ اس طرح کے ایشوز لے کر آتا ہے اور دلائل ایسے ہوتے ہیں کہ اکثر لوگ قائل ہو جاتے ہیں واٹر کولر نصب کرنا کسی غریب کی بچی کی شادی کرنا وغیرہ ۔ ایسے کام بلاشبہ نیکی کے کام ہیں جن سے انکار نہیں اور عام فہم عوام قربانی اور ان نیک کاموں میں موازنہ کر کے ہاں میں ہاں ملانے لگتی ہے ۔
    قربانی ایک فریضہ ہے جو کہ سال بھر میں صرف ایک بار مخصوص ایام کے لیے ہے جبکہ واٹر کولر شادی کرنا غریبوں کو کھانا کھلانا وغیرہ فلاحی کام ہیں جن کو اسلام نے صدقات کے زمرے میں رکھا ہے اور صدقات بھی اللہ کو بہت محبوب ہیں اسکے قرب کا ذریعہ ہیں۔
    سوچنے کی بات یہ ہے اللہ نے قربانی کو اتنی اہمیت کیوں دی ؟ سنت ابراہیمی کو دین محمدیﷺ کی شریعت میں کیوں لاگو کیا؟؟ کوئ اور چیز یا کام بھی اسکی جگہ مختص کیا جا سکتا تھا مگر اللہ نے کیوں نہیں کیا؟؟؟؟

    جب انسان اس نہج پر سوچتا ہے تو وہ باقی چیزوں میں کنفیوز نہیں ہو پاتا۔۔
    عید قربان دراصل غربا کی عید ہے ۔ وہ غریب جو سال بھر مویشی پالتے ہیں اچھی قیمت وصول کر پاتے ہیں۔
    چارا بیچنے والے ،قصاب، جانور لاد کر لے جانے والے گاڑیوں کے مالکان، منڈیوں میں جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے مزدور یہ سب لوگ صدقات نہیں بلکہ محنت کر کے اسکا اچھا صلہ وصول کر پاتے ہیں ۔ انکی عزت نفس بحال رہتی ہے۔

    قربانی کا گوشت صرف اقربا ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی کھانا نصیب ہوتا ہے جو سال بھر شاید دور سے حسرت بھری نگاہوں میں ہی دیکھ پاتے ہیں ۔ انکو یہ گوشت صدقہ نہیں ہدیہ کیا جاتا ہے. جیسے اپنے عزواقربا کو دیا جاتا ہے اور بالکل جیسے قربانی کرنے والا خود باعزت طریقے سے کھاتا ہے۔
    اس اتنی بڑی نیکی کو ایک واٹر کولر سے موازنہ کرنا بالکل ناانصافی ہے ۔۔ فلاحی کاموں کے لیے اللہ نے آپکو پورا سال اور توفیق دے رکھی ہے دل کھول کر خرچ کیجئے مگر جہاں حکم الہی قربانی مانگے وہاں اسکی تعمیل صرف قربانی ہی ہو گی کوئ دوسرا عمل اسکی جگہ نہیں لے سکتا۔۔

    تحریر ماریہ بلوچ
    @Shezm__