Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان میں تمباکو نوشی کا سنجیدہ مسئلہ.تحریر:حنا سرور

    پاکستان میں تمباکو نوشی کا سنجیدہ مسئلہ.تحریر:حنا سرور

    ہر سال 31 مئی کو تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ عوام میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی بڑھائی جائے اور اس عادت سے چھٹکارہ پانے کی تحریک دی جائے۔ اس دن کا مقصد صرف سگریٹ نوشی کی تباہ کاریوں کی نشاندہی نہیں بلکہ تمباکو کی صنعت کے حربوں کو بے نقاب کرنا بھی ہے جو اپنی منافع بخش مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے مختلف چالاکیوں اور نفسیاتی حربوں کا سہارا لیتی ہے۔

    تمباکو صنعت نے سالوں سے اپنے نقصان دہ اثرات کو چھپانے کے لیے مختلف طریقے اپنائے ہیں۔ وہ صرف سگریٹ کی فروخت پر انحصار نہیں کرتے بلکہ نئے ذائقے، خوشبوئیں، اور دلکش پیکجنگ کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ "فلیورڈ” سگریٹ، ای سگریٹ، اور دیگر تمباکو مصنوعات نوجوانوں اور نئی نسل کے لیے تمباکو نوشی کو مزید پرکشش بناتی ہیں۔ یہ ایک منظم حکمت عملی ہے جو نہ صرف صحت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی سنگین نتائج کا باعث بنتی ہے۔پاکستان میں ہر سال تقریباً 1,60,000 سے زائد اموات تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ یہ تعداد حیران کن اور دردناک ہے۔ سگریٹ نوشی نہ صرف جسمانی صحت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ذہنی اور معاشرتی زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ بہت سے لوگ اس عادت کی وجہ سے اپنی زندگی کے خوشگوار لمحات کھو دیتے ہیں اور اپنی فیملی کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنی اور اپنے اہل خانہ کی صحت کے لیے سگریٹ نوشی کی عادت کو چھوڑ دیں۔
    "تمباکو سے انکار، زندگی سے پیار” اور”سگریٹ سے جان چھڑائیں، صحت مند زندگی گزاریں” کا نعرہ ہر پاکستانی کے دل میں بسانا ہوگا۔پاکستان میں تمباکو نوشی کا مکمل خاتمہ ممکن ہے، اگر ہم سب مل کر اس کے خلاف آواز بلند کریں اور اس بیماری کی لپیٹ سے نکلنے کی کوشش کریں۔ پاکستان میں موجودہ قوانین کے تحت سگریٹ کی پیکنگ پر گرافیکل ہیلتھ وارننگ لازمی ہے تاکہ صارفین کو سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ 286 غیر ملکی سگریٹ برانڈز بغیر گرافیکل ہیلتھ وارننگ کے فروخت ہو رہے ہیں، جو قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اس کی وجہ سے حکومت کو سالانہ تقریباً 300 ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

    تمباکو نوشی صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی بوجھ ہے۔ جب کمپنیاں قوانین کو توڑ کر اربوں روپے بچاتی ہیں اور عوام بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف بے حسی ہے بلکہ ظلم کے مترادف ہے۔تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے ہر فرد، تنظیم، اور حکومت کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر آگے آنا ہوگا۔ ہمیں تمباکو صنعت کے چالاک حربوں کو سمجھ کر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا، تاکہ ہماری اگلی نسل صحت مند، خوشحال اور تمباکو سے پاک زندگی گزار سکے۔آئیں، اس عالمی دن پر عہد کریں کہ ہم خود بھی تمباکو نوشی چھوڑیں گے اور دوسروں کو بھی اس کا شعور دیں گے تاکہ پاکستان ایک صحت مند ملک بن سکے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس: غریب کی صحت کا تحفظ یا معاشی بوجھ؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

    سگریٹ پر ٹیکس: غریب کی صحت کا تحفظ یا معاشی بوجھ؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

    سگریٹ پر ٹیکس: غریب کی صحت کا تحفظ یا معاشی بوجھ؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    31 مئی کو تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا جاتا ہے جو دنیا بھر میں تمباکو کے مضر اثرات سے آگاہی دینے اور اسکے استعمال کو کم کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ اس سال کرومیٹک ٹرسٹ اور باغی ٹی وی کی طرف سے منتخب کردہ عنوان "سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا” ایک ایسی بحث کو جنم دیتا ہے جو صحت عامہ، معاشی انصاف اور سماجی ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ موضوع پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے تناظر میں خاص طور پر اہم ہے جہاں غربت، صحت کی ناکافی سہولیات اور تمباکو کی صنعت کا اثر و رسوخ ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کرتے ہیں۔ آئے اس اہم موضوع کا گہرائی سے جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں،

    تمباکو نوشی صحت کا ایک عالمی مسئلہ ہے ، جس سے ہر سال لاکھوں افراد کی زندگیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت WHOکے مطابق تمباکو سے منسلک بیماریوں کی وجہ سے ہر سال تقریباً 8 ملین افراد ہلاک ہوجاتے ہیں، جن میں سے 1.2 ملین غیر فعال تمباکو نوشی (second-hand smoking) کے شکار ہوتے ہیں پاکستان میں یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، جہاں ہر سال تقریباً 100,000 سے زائد افراد تمباکو سے متعلق بیماریوں جیسے پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے امراض، سانس کی بیماریوں اور منہ کے کینسر کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں تمباکو کی کھپت کی شرح بھی خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ملک کی تقریباً 32 فیصد بالغ مرد اور 8 فیصد بالغ خواتین سگریٹ نوشی کرتی ہیں جبکہ پان، چھالیہ، گٹکہ اور نسوار جیسے دیگر تمباکو مصنوعات کے استعمال کو شامل کیا جائے تو یہ شرح 54 فیصد تک جا پہنچتی ہے۔ خاص طور پر غریب طبقہ جو صحت کی سہولیات اور آگاہی سے محروم ہوتا ہے، اس لت کا زیادہ شکار ہے۔ سگریٹ کی کم قیمت اسے غریب طبقے کے لیے آسانی سے قابل رسائی بناتی ہے، جس سے ان کی صحت اور معاشی حالات دونوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    سگریٹ پر ٹیکس بڑھانا تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کی ایک ثابت شدہ حکمت عملی ہے۔ WHO کے مطابق سگریٹ کی قیمت میں 10 فیصد اضافے سے ترقی پذیر ممالک میں اس کے استعمال میں 4 سے 5 فیصد کمی ہوتی ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ کمی 3 سے 4 فیصد ہوتی ہے۔ اس کی وجہ معاشی اصول ہے کہ جب کسی چیز کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کی مانگ کم ہوتی ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے میں جو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پہلے ہی جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سگریٹ کی قیمت عالمی معیار کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ جہاں سری لنکا میں ایک سگریٹ کا پیکٹ تقریباً 9 ڈالر کا ہے، وہیں پاکستان میں یہ ایک ڈالر سے بھی کم میں دستیاب ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کم ایکسائز ٹیکس اور غیر قانونی سگریٹ کی اسمگلنگ ہے۔ اگر پاکستان سگریٹ پر بھاری ٹیکس عائد کرے تو نہ صرف تمباکو کا استعمال کم ہوگا بلکہ حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا،جو صحت عامہ کے منصوبوں اور غریب طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر مالی سال 2019-20 میں پاکستان نے سگریٹ پر ٹیکس بڑھایا تھا، جس کے نتیجے میں 147 ارب روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی جو کہ پچھلے سال کے 114 ارب روپے سے نمایاں اضافہ تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس بڑھانا نہ صرف تمباکو کے استعمال کو کم کرتا ہے بلکہ معاشی فوائد بھی دیتا ہے۔ تاہم موجودہ ٹیکس نظام میں خامیاں ہیں، جیسے کہ غیر قانونی سگریٹ کی فروخت اور تمباکو کمپنیوں کی جانب سے ٹیکس چوری جو اس پالیسی کی افادیت کو کم کرتی ہیں۔

    سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ غریب طبقے کو تمباکو کی لت سے بچا سکتا ہے۔ غریب خاندان اپنی محدود آمدنی کا ایک بڑا حصہ سگریٹ پر خرچ کرتے ہیں، جو ان کے بچوں کی تعلیم، خوراک اور صحت جیسی بنیادی ضروریات کو متاثر کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں غریب گھرانوں کے افراد اپنی آمدنی کا 10 سے 15 فیصد تمباکو پر خرچ کرتے ہیں۔ اگر سگریٹ مہنگا ہو جائے تو یہ پیسہ ان کی زندگی کی بہتری کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ مزید برآں تمباکو سے متعلق بیماریوں کا علاج صحت کے نظام پر بھاری بوجھ ڈالتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال تمباکو سے متعلق بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، جو کہ غریب طبقے کے لیے اکثر ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے سے نہ صرف ان بیماریوں کی شرح کم ہو گی بلکہ صحت کے نظام پر بوجھ بھی کم ہو گا، جس سے غریب طبقے کو بہتر صحت کی سہولیات میسر ہو سکیں گی۔ تاہم اس پالیسی کے کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ سگریٹ کے عادی افرادخاص طور پر غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے قیمتوں میں اضافے کے باوجود اپنی لت کو برقرار رکھنے کے لیے دیگر ضروریات پر سمجھوتہ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ خوراک یا تعلیم پر خرچ کم کر کے سگریٹ خریدنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس سے ان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ اس کے علاوہ غیر قانونی سگریٹ کی اسمگلنگ اور سستے متبادلات کی دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ کی مارکیٹ کا حجم تقریباً 40 فیصد ہے جو کہ ٹیکس بڑھانے کی پالیسی کی افادیت کو کم کرتی ہے۔

    تمباکو انڈسٹری کا پروپیگنڈا ایک اہم نکتہ ہے۔ تمباکو کمپنیاں جیسے کہ پاکستان ٹوبیکو کمپنی اور فلپ مورس مارکیٹ کے 98 فیصد حصے پر قابض ہیں اور "غریب کے لیے سستی سگریٹ” کا بیانیہ پھیلا کر اپنی فروخت کو برقرار رکھتی ہیں۔ یہ کمپنیاں ہر سال اربوں روپے کا منافع کماتی ہیں اور اشتہارات کے ذریعے نئی منڈیاں بناتی ہیں، خاص طور پر نوجوانوں کو نشانہ بناتے ہوئے۔ یہ بیانیہ کہ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانا غریب طبقے پر ظلم ہے، دراصل تمباکو انڈسٹری کی طرف سے ایک فریب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سستی سگریٹ غریب طبقے کو بیماری اور معاشی تباہی کی طرف دھکیلتی ہے۔ تمباکو کمپنیاں نہ صرف ٹیکس چوری کرتی ہیں بلکہ غیر قانونی سگریٹ کی فروخت کو بھی فروغ دیتی ہیں، جس سے حکومتی پالیسیوں کی افادیت کم ہوتی ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانا ایک مشکل لیکن ضروری اقدام ہے۔ تاہم اس پالیسی کو کامیاب بنانے کے لیے کچھ اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے سگریٹ پر یکساں اور بھاری ایکسائز ٹیکس لگایا جائے جو تمام برانڈز پر یکساں طور پر نافذ ہو تاکہ غیر قانونی سگریٹ کی فروخت کو روکا جا سکے۔ غیر قانونی سگریٹ کی اسمگلنگ اور فروخت کو روکنے کے لیے سخت قوانین اور ان کا نفاذ ضروری ہے، جس کے لیے سرحدی نگرانی اور مارکیٹ چیکنگ کے نظام کو مضبوط کیا جائے۔ تمباکو کے مضر اثرات کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے میڈیا، سکولوں اور کمیونٹی سینٹرز کے ذریعے مہمات چلائی جائیں اور خاص طور پر نوجوانوں اور غریب طبقے کو ہدف بنایا جائے۔ سگریٹ کے عادی افراد کے لیے مفت یا کم لاگت کے بحالی پروگرامز متعارف کرائے جائیں، جو غریب طبقے کے لیے خاص طور پر مفید ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ سگریٹ پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک بڑا حصہ صحت عامہ کے منصوبوں، غریب طبقے کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خرچ کیا جائے۔ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی لگائی جائے اور حقہ کیفوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس کے علاوہ سگریٹ کے اشتہارات پر مکمل پابندی اور پیکٹس پر واضح انتباہی پیغامات کو مزید نمایاں کیا جائے۔

    31 مئی کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ تمباکو نوشی نہ صرف ایک صحت کا سنگین مسئلہ ہے بلکہ ایک سماجی اور معاشی چیلنج بھی ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانا اس بحران سے نمٹنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے جو خاص طور پر غریب طبقے کو تمباکو کی لت سے بچا سکتا ہے۔ اگرچہ اس پالیسی کے کچھ وقتی چیلنجز ہیں، جیسے کہ عادی افراد پر معاشی دباؤ اور غیر قانونی سگریٹ کی فروخت لیکن جامع منصوبہ بندی اور سخت نفاذ سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ حکومت، سول سوسائٹی اور عوام کو مل کر اس سمت میں کام کرنا ہو گا کہ تمباکو کی صنعت کے فریب سے نکلا جائے اور ایک ایسی پالیسی اپنائی جائے جو غریب طبقے کی صحت اور معاشی استحکام کو ترجیح دے۔ سگریٹ کو غریب کی پہنچ سے دور کرنا ظلم نہیں بلکہ ان کی زندگیوں کو بچانے اور ان کے مستقبل کو روشن کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس سلسلے میں کرومیٹک ٹرسٹ اور باغی ٹی وی کی کوششیں قابل تحسین ہیں جو ہر سال تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ یہ دونوں ادارے نہ صرف تحریری مقابلوں کے ذریعے سگریٹ نوشی اور تمباکو سے بنی اشیاء کے کنٹرول کے لیے شعور اجاگر کرتے ہیں بلکہ کرومیٹک ٹرسٹ مختلف فورمز پر سیمینارز اور ورکشاپس کے ذریعے آگاہی پھیلانے کی انتھک کوشش کرتا ہے۔ یہ اقدامات نوجوان نسل کو اس ان دیکھے دشمن سے بچانے کی جدوجہد کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی ان کوششوں کی بدولت معاشرے میں تمباکو کے مضر اثرات کے خلاف ایک مضبوط آواز بلند ہو رہی ہے اور وہ اس عظیم مقصد کے لیے خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ آئیے اس عالمی دن کے موقع پر عہد کریں کہ ہم ایک صحت مند، خوشحال اور تمباکو سے پاک پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا،تحریر:عبداللہ راؤ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا،تحریر:عبداللہ راؤ

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا
    تحریر:عبداللہ راؤ
    ایک طرف ملک مہنگائی کے طوفان میں گھرا ہوا ہے، تو دوسری طرف تمباکو نوشی جیسے مہلک عادتیں غریب اور متوسط طبقے کو خاموشی سے نگل رہی ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ جو شخص دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے، وہ دن بھر کی مزدوری کے بعد ایک سگریٹ کا دھواں اپنے پھیپھڑوں میں اتار کر سکون ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے، مگر یہ سکون وقتی اور دھوکہ دہی پر مبنی ہے، کیونکہ یہی دھواں اسے آہستہ آہستہ موت کی طرف لے جا رہا ہے۔

    ہر سال لاکھوں افراد تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ دل، پھیپھڑوں، منہ اور حلق کے کینسر جیسے موذی امراض کا ایک بڑا سبب سگریٹ نوشی ہے، جو نہ صرف فرد کی صحت بلکہ اس کے خاندان کی معاشی حالت کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ ایسے میں اگر سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگا دیا جائے، تو یہ ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔ جب سگریٹ مہنگی ہوگی تو کم آمدنی والے افراد کے لیے اسے خریدنا مشکل ہو جائے گا۔ نتیجتاً نوجوان اور غریب طبقہ اس زہر سے دور رہنے پر مجبور ہوگا۔ یاد رکھیں، یہ صرف ایک مالیاتی قدم نہیں، بلکہ ایک سماجی اصلاح ہے ، ایک خاموش مگر مؤثر انقلاب،

    نقاد کہیں گے کہ ٹیکس سے حکومتی آمدن بڑھے گی مگر غریب مزید پس جائے گا۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس لگانا دراصل غریب کو بچانا ہے۔ اسے بیماری، بھاری میڈیکل بلز اور قبل از وقت موت سے محفوظ رکھنا ہے۔ ایک سگریٹ مہنگی ضرور ہو گی، مگر شاید اسی مہنگائی کے سبب کسی کا باپ، بھائی یا بیٹا موت کے منہ میں جانے سے بچ جائے۔ اس 31 مئی کو ہمیں صرف تقاریر نہیں کرنی بلکہ عملی اقدامات کی حمایت کرنی ہے۔

    تمباکو نوشی کے خلاف مؤثر قانون سازی، سگریٹ پر بھاری ٹیکس اور تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر مکمل پابندی ہی وہ راستے ہیں جو ہمیں ایک صحت مند، خوشحال اور سگریٹ فری پاکستان کی طرف لے جا سکتے ہیں،کیونکہ جب سگریٹ پر ٹیکس لگے گا، تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا اور یہی دوری، زندگی کی نزدیکی ہے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریرحبیب خان

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریرحبیب خان

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا، غریب کی پہنچ سے دور ہوگی
    تحریر: حبیب خان، نامہ نگار باغی ٹی وی اوچ شریف
    ہر سال 31 مئی کو پوری دنیا میں عالمی یومِ تمباکو نوشی منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تمباکو نوشی کوئی معمولی عادت نہیں، بلکہ ایک خاموش قاتل ہے جو لاکھوں زندگیاں برباد کر رہا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں تمباکو نوشی کے باعث ہر سال کروڑوں افراد اپنی جان گنواتے ہیں، اور ہمارے نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ تمباکو کمپنیاں بڑے دھوکے اور فریب کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ وہ انہیں آزادی، اسٹائل اور بغاوت کے نعرے دے کر موت کا زہر بیچتی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر پکڑا گیا سگریٹ، ہر چلایا گیا ویپ، ہر چبایا گیا گٹکا، ہمارے نوجوانوں کی صحت، ان کے خواب، اور ہمارے مستقبل کو برباد کر رہا ہے۔ دنیا میں ہر روز بے شمار لوگ آنکھیں بند کرتے ہیں لیکن کچھ اموات حادثہ نہیں ہوتیں ، وہ خود ساختہ ہوتی ہیں۔

    تمباکو نوشی انہی "سست زہروں” میں سے ایک ہے جو ہر سانس کے ساتھ انسان کو موت کے قریب لے جاتی ہے۔ یہ صرف ایک سگریٹ نہیں، یہ ایک چپ چاپ قتل ہے ، جو ہاتھوں میں سلگتی ہے، اور اندر ہی اندر جسم، ذہن اور روح کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا "قابلِ گریز” المیہ ہے، جسے صرف بیداری، قانون سازی اور سنجیدہ اقدامات سے روکا جا سکتا ہے۔ پاکستان، جہاں صحت کے وسائل پہلے ہی محدود ہیں، ان مہلک اثرات کی لپیٹ میں تیزی سے آ رہا ہے۔

    چین، پاپوا نیو گنی اور نائجیریا کے بعد پاکستان کا چوتھے نمبر پر آ جانا ایک قومی سانحہ ہے۔ جس پر اگر اب بھی خاموشی رہی، تو انجام ناقابلِ تصور ہو گا۔ سلگتی سگریٹ سے آج کی نوجوان نسل کا زوال ہو گیا ہے۔ تمباکو کمپنیاں کامیاب، ہم ناکام؟ نوجوان وہ بنیاد ہوتے ہیں جن پر قوموں کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ مگر افسوس، انہی ہاتھوں میں سگریٹ، ویپ، حقہ، گٹکا اور نسوار تھما دی گئی ہے۔

    تمباکو کمپنیاں جانتی ہیں کہ نوجوان ان کا "منافع بخش ہدف” ہیں۔ وہ اشتہارات میں "آزادی”، "بغاوت” اور "شخصیت” کے نام پر زہر بیچتے ہیں. اور نوجوان؟ وہ سمجھتے ہیں کہ سگریٹ پکڑنا مردانگی ہے، ویپ کرنا اسٹائل ہے، اور گٹکا کھانا روایت ہے۔

    یہ فکری زہر ہے ، جو جسمانی زہر سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ کبھی تم نے جلتی ہوئی سگریٹ کو غور سے دیکھا ہے؟ وہ دھیرے دھیرے خود کو راکھ میں بدلتی ہے . بالکل ویسے ہی جیسے ایک انسان تمباکو نوشی کا عادی ہو کر خود کو ختم کرتا ہے۔ لیکن فرق صرف یہ ہے کہ سگریٹ کی راکھ زمین پر گرتی ہے، انسان کی راکھ کسی ماں کی گود، کسی بچے کی امید، یا کسی قوم کے مستقبل پر۔

    یہ کیسی عادت ہے جسے ہم "اپنی مرضی” کہتے ہیں، مگر درحقیقت یہ ایسی غلامی ہے جس کی زنجیر ہم نے خود پہنی ہے؟ تمباکو نہ فقط جسم کو بیمار کرتا ہے بلکہ سوچ کو مفلوج، ارادے کو کمزور اور انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا نشہ ہے جس کا نشہ صرف چند لمحے ہوتا ہے، اور نقصان عمر بھر۔

    آج جب تم کسی نوجوان کو ویپ یا سگریٹ پکڑے دیکھتے ہو تو یہ مت سمجھو کہ وہ صرف دھواں اڑا رہا ہے ، وہ اپنی سانسیں، اپنی صحت، اپنے خواب اور اپنے خاندان کی خوشیاں بھی جلا رہا ہے۔ تمباکو کمپنیاں یہ جانتی ہیں کہ نوجوان ان کے سب سے نفع بخش شکار ہیں، اسی لیے وہ اشتہارات میں خوشنما وعدے اور جھوٹے خواب بیچتی ہیں اور بدلے میں موت کا سودا کر لیتی ہیں۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس دھوکے کو پہچانتے ہیں؟ کیا ہمارا میڈیا، ہمارے ادارے، اور ہماری قیادت اس سازش کو بے نقاب کرتی ہے؟ اکثر نہیں ، لیکن باغی ٹی وی ان گنت چینلز میں وہ واحد صدا ہے جو نہ بکتی ہے، نہ جھکتی ہے۔

    باغی ٹی وی صرف خبروں کا ادارہ نہیں، یہ ضمیر کی آواز ہے، بیداری کی چنگاری ہے، جو تمباکو نوشی کے خلاف ایک ایسی بغاوت چھیڑ چکا ہے جس کا ہدف صرف "خبریں دینا” نہیں بلکہ زندگیاں بچانا ہے۔ کرومیٹک کے ساتھ ان کی مشترکہ جدوجہد صرف مہم نہیں، ایک تحریک ہے۔ ایک ایسا قافلہ جو دہلیز دہلیز جا کر کہہ رہا ہے:
    "اب مزید کوئی بچہ، کوئی نوجوان، تمباکو کی بھینٹ نہ چڑھے!”

    انہوں نے دکھایا کہ سستا سگریٹ دراصل مہنگی موت ہے اور شعور ہی واحد بچاؤ ہے۔ ہمیں اب خاموشی نہیں، آواز بننا ہے۔ تمباکو کے خلاف یہ جنگ صرف باغی ٹی وی کی نہیں، ہر اُس ماں کی ہے جس نے بیٹے کو کھانستے دیکھا، ہر اُس بیوی کی ہے جس نے شوہر کو ہسپتال کے بستر پر تڑپتے دیکھا اور ہر اُس قوم کی ہے جو زندہ رہنا چاہتی ہے۔

    آو قلم کو تلوار، زبان کو آواز، اور عمل کو ہتھیار بنائیں۔
    ہم تمباکو کی ہر شکل کو رد کریں گے۔
    ہم اس دھوئیں سے زندگی کو چھین کر واپس لائیں گے۔
    ہم نسلوں کو بچائیں گے، کیونکہ زندگی ابھی ختم نہیں ہوئی، مگر اگر ہم نے آنکھ نہ کھولی… تو شاید جلد ہو جائے گی۔

    آؤ، عہد کریں:
    ہم تمباکو نہیں، صحت کا انتخاب کریں گے۔
    ہم خاموش نہیں، بیدار ہوں گے۔
    ہم باغی ٹی وی کی آواز بن کر، تمباکو کی ہر شکل کو مسترد کریں گے۔
    کیونکہ سانس وہی قیمتی ہوتی ہے، جو دھوئیں کے بغیر لی جائے۔

  • تمباکو کے خلاف آواز اٹھائیں، اور اپنے کل کو بچائیں۔تحریر:نورفاطمہ

    تمباکو کے خلاف آواز اٹھائیں، اور اپنے کل کو بچائیں۔تحریر:نورفاطمہ

    تمباکو نوشی…. صرف ایک انفرادی عادت نہیں بلکہ ایک المیہ بن چکی ہے، جو نہ صرف انسانی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ ملکی معیشت، ماحول اور نوجوان نسل کے مستقبل کو بھی تاریک کر رہی ہے۔ اس تناظر میں غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تمباکو نوشی کے خلاف شروع کی جانے والی مہم قابل تحسین اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔تمباکو نوشی کے نقصانات پر اگر غور کیا جائے تو فہرست بہت طویل ہے۔ یہ عادت پھیپھڑوں کے سرطان، دل کی بیماریوں، اور سانس کی تکالیف کا باعث بنتی ہے۔بچوں، خواتین اور بزرگوں کو بھی بالواسطہ متاثر کرتی ہے۔معاشی بوجھ میں اضافے کا سبب بنتی ہے، کیونکہ علاج مہنگا اور دیر پا ہوتا ہے۔

    اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر تمباکو پر ٹیکس بڑھایا گیا تو غریب آدمی سگریٹ نہیں خرید سکے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی مقصد ہونا چاہیے، اگر سگریٹ اتنی مہنگی ہو جائے کہ غریب کی پہنچ سے دور ہو جائے تو وہ شخص شاید انہی پیسوں سے بچوں کے لیے پھل لے آئے، جو ان کی صحت کے لیے مفید ہوں گے۔ یہ نہ صرف مالی فائدہ ہوگا بلکہ ایک نسل کو تباہی سے بچانے کی کوشش بھی ہوگی۔آج کا نوجوان تمباکو نوشی کو "فیشن” اور "سٹائل” سمجھتا ہے، مگر حقیقت میں وہ ایک زہر کو اپنے جسم میں اتار رہا ہوتا ہے۔ اگر ہم نے ابھی قدم نہ اٹھایا تو آنے والے وقت میں نشے کی دوسری اقسام، جیسے چرس، آئس، اور ہیروئن تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی۔

    اگرچہ حکومت نے تمباکو نوشی پر مختلف پابندیاں لگا رکھی ہیں، مثلاً عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر جرمانہ، اشتہارات پر پابندی، اور سگریٹ پیک پر وارننگ، لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔کیا آپ نے کبھی دیکھا کہ کسی تعلیمی ادارے، مسجد یا ہسپتال کے باہر کھڑے افراد کو تمباکو نوشی سے روکا گیا ہو؟یہی وہ خلا ہے جسے پُر کرنے کے لیے معاشرے کو متحرک ہونا پڑے گا۔ہمیں اپنی مہم کا آغاز ان اداروں سے کرنا ہوگا جہاں سے اصلاح ممکن ہو،تعلیمی ادارے جہاں بچوں کو بچپن سے ہی تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہی دی جائے۔مساجد جہاں علما خطبوں میں اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔میڈیا، تمباکو مخالف اشتہارات اور کہانیاں عام کی جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ تمباکو مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کرے تاکہ ان کی دستیابی کم ہو،تمباکو سے حاصل ہونے والی آمدن کو صحت و تعلیم کے شعبوں میں استعمال کرے،ایک مؤثر مانیٹرنگ سسٹم بنائے تاکہ قوانین پر سختی سے عمل کروایا جا سکے۔

    صحت مند پاکستان صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک خواب ہے، جس کی تعبیر تب ہی ممکن ہے جب ہم اجتماعی سطح پر تمباکو نوشی کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں، بچوں، بزرگوں اور آنے والی نسلوں کو تمباکو کی لعنت سے بچانا ہوگا۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ایک بیمار، آلودہ اور نشہ زدہ قوم بننا چاہتے ہیں یا ایک باہمت، صحت مند اور روشن خیال قوم، جو آنے والے وقت میں دنیا کے سامنے ایک مثال بن سکے۔آئیں، تمباکو کے خلاف آواز اٹھائیں، اور اپنے کل کو بچائیں۔

  • مشاعرہ سے مکالمہ تک، ملی ادبی پنچائیت کا فکری و قومی کردار

    مشاعرہ سے مکالمہ تک، ملی ادبی پنچائیت کا فکری و قومی کردار

    ملی ادبی پنچائیت کے بانی چیئرمین محترم ریاض احمد احسان ان چمکتے ہوئے ستاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے لاہور کی ادبی فضا کو نئی جہتیں دیں، اور فکر و فن کے متلاشیوں کے لیے ایک متحرک، فعال اور باوقار پلیٹ فارم فراہم کیا،ریاض احمد احسان صرف ایک شاعر یا ادیب نہیں، بلکہ ایک تحریکی روح ہیں، اُن کی شخصیت میں ایک ایسا جادو ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے، بکھرے ذہنوں کو سمیٹتا ہے اور ادب کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رکھتا بلکہ سماج، ملت اور قوم کے حقیقی مسائل سے جوڑ کر پیش کرتا ہے،وہ ملی جذبے سے سرشار، فکری بیداری کے سفیر اور ادبی وحدت کے پیامبر ہیں۔ اُن کا اندازِ گفتگو، اندازِ میزبانی، اور ہر تقریب میں ان کی متحرک شرکت یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ ادب کو ایک مشن سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔ اُن کے ہاتھوں سجنے والی محافل میں نہ کوئی سیاسی تعصب ہوتا ہے، نہ ذاتی مفادات کی بو، بلکہ صرف اور صرف فکر، فن اور وطن کی خوشبو ہوتی ہے،

    محترم ریاض احمد احسان کی زیرِ قیادت قائم ہونے والی تنظیم ملی ادبی پنچائیت ایک ایسا ادبی قافلہ ہے جو صرف مشاعرے نہیں کراتا، بلکہ فکری مکالمے، قومی شعور، اور اجتماعی دانش کے فروغ کا ذریعہ بن چکا ہے، اس پلیٹ فارم کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں ہر مکتبِ فکر، ہر نسل اور ہر طبقے کے اہلِ قلم کو خوش آمدید کہا جاتا ہے،ملی ادبی پنچائیت نے ادب کو محض شاعری کے رنگین لفظوں سے نکال کر اسے وطن، امن، حب الوطنی اور فکری آزادی کے دائرے میں رکھا ہے، یہ ایک ایسی درسگاہ ہے جہاں شاعر صرف قافیہ نہیں دیکھتا بلکہ قوم کے کرب کو محسوس کرتا ہے، اور دانشور صرف تنقید نہیں کرتا بلکہ اصلاح کا راستہ دکھاتا ہے،یہ ادارہ نہ صرف ثقافتی ورثے کی حفاظت کر رہا ہے، بلکہ نئی نسل کو ادبی شعور سے ہمکنار کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ہر تقریب میں نظریاتی گہرائی، فکری وسعت اور قومی ذمہ داری کا عنصر نمایاں ہوتا ہے، جو اسے دیگر تنظیمات سے ممتاز بناتا ہے،ریاض احمد احسان ایک ایسے فکری اور روحانی اثاثے کا نام ہیں جس پر اہلِ لاہور ہی نہیں، پوری ادبی دنیا کو فخر ہونا چاہیے۔ وہ جہاں جاتے ہیں، ادب کے چراغ جلاتے ہیں، امن کے پیغام بانٹتے ہیں، اور اہلِ قلم کو وہ زبان دیتے ہیں جو صرف کتابی نہیں، عملی بھی ہو۔

    28 مئی 1998 کا دن پاکستانی قوم کے لیے ایک ناقابلِ فراموش لمحہ ہے، جب ایٹمی دھماکوں کے ذریعے پاکستان نے دنیا کو باور کروا دیا کہ یہ ملک دفاعی لحاظ سے ناقابلِ تسخیر ہو چکا ہے۔ اس تاریخی دن کی یاد میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) ہر سال تقریبات منعقد کرتی ہے، اور امسال بھی لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں یومِ تکبیر کی مناسبت سے کیک کاٹنے کی پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔اس یادگار تقریب میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے بھرپور شرکت کی۔ ملی ادبی پنچائیت کے بانی چیئرمین اور لاہور کی علمی ادبی فضا کے روحِ رواں، محترم ریاض احمد احسان بھی اس تقریب کی رونق بنے۔ اُن کی موجودگی نے تقریب کو نہ صرف وقار بخشا بلکہ حالاتِ حاضرہ پر اُن سے ہونے والی گفتگو نے تقریب کو فکری گہرائی بھی عطا کی۔

    ریاض احمد احسان نے 29 مئی کو کاسموم پولیٹن کلب، لارنس گارڈن لاہور میں منعقد ہونے والی "امن و جنگ” مشاعرہ و مکالمہ کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی، جو ملی ادبی پنچائیت کی جانب سے منعقد کی جا رہی تھی۔ اگرچہ طے شدہ وقت پر پہنچنا ممکن نہ ہو سکا، تاہم تقریب میں دیر سے پہنچنے کے باوجود شرکت کی،تقریب میں ادیبوں، شاعروں اور قومی فکر رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مشاعرہ کے ساتھ ساتھ فکری مکالمے نے محفل کو مزید معنویت عطا کی۔ جہاں ہر فرد امن کی خواہش رکھتا تھا، وہیں اگر جنگ یا جارحیت مسلط کی جائے تو اس کے خلاف جواب نہ دینا بھی کمزوری گردانا گیا۔ خواجہ جمشید امام کے بقول، "اس پر خاموشی نامردانگی ہے”۔

    اس تقریب کی صدارت ملی ادبی پنچائیت سپریم کونسل کے چیئرمین، جناب رضوان کاہلوں نے کی۔ اس موقع پر معروف شاعر، ادیب اور دانشور میجر (ر) شہزاد نیئر کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔ اُنہوں نے اپنے صدارتی خطبے میں افواجِ پاکستان کی حکمت عملی، کارگل جنگ کے چشم دید تجربات اور آپریشن بنیان مرصوص سے متعلق دلچسپ اور معلوماتی گفتگو کی۔میجر (ر) شہزاد نیئر نے نہ صرف روایتی جنگ بلکہ جدید دور کی سائبر وار کی پیچیدگیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ اُن کا خطاب جذبۂ حب الوطنی سے لبریز تھا، جس نے حاضرین کے دلوں کو گرما دیا۔ اس ادبی اور فکری محفل میں گائیکی کے رنگ بھی شامل کیے گئے۔ معروف گائیک سکندر خاقان، مرزا جاوید اقبال بیگ، شہباز حیدر اور میڈیم ہما عمران نے ملی نغموں سے سامعین کے جذبوں کو بلند کیا۔ اپووا کے بانی چیئرمین ایم ایم علی نے اپنی خوبصورت شاعری سے محفل کو نورانی کر دیا۔

    محترم ریاض احمد احسان نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیتے ہوئے تقریب کو عمدہ طریقے سے ترتیب دیا، اور اپنی موجودگی سے اسے جِلا بخشی۔ اُن کی متحرک شخصیت نے اہلِ لاہور کی علمی و ادبی پہچان کو مزید نمایاں کر دیا،تقریب کے اختتام پر پرتکلف عشائیہ اور چائے کا اہتمام تھا، جہاں اہلِ ذوق افراد نے باہم گفتگو کرتے ہوئے محفل کی خوبصورتی کو سراہا۔یومِ تکبیر کے موقع پر ہونے والی یہ تقریبات نہ صرف وطن سے محبت کے جذبے کو تازہ کرتی ہیں بلکہ اہلِ قلم کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ادبی ہم آہنگی اور فکری تبادلے کو فروغ دیتی ہیں۔ ریاض احمد احسان، رضوان کاہلوں، میجر شہزاد نیئر اور دیگر تمام احباب اس ادبی و قومی خدمت پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

  • پانی  کی کمی بڑا مسئلہ،مستقبل کیلئے سٹوریج کا انتظام کرنا ہوگا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پانی کی کمی بڑا مسئلہ،مستقبل کیلئے سٹوریج کا انتظام کرنا ہوگا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پانی کی کمی بڑا مسئلہ،مستقبل کیلئے سٹوریج کا انتظام کرنا ہوگا
    قحط کے سائے منڈالارہے ہیں ،کالاباغ ڈیم جیسے منصوبے ملک کی ضرورت
    معیشت بچانے کیلئے قرض لے لیا ،پانی کیلئے کس کے پاس جائیں گے،ذرا نہیں پورا سوچیں
    بھارت سفارتی سطح پر تنہا ہوچکا،اسحاق ڈار کی ڈپلومیسی نے پاکستان کو دنیا کا عظیم ملک بنادیا
    تجزیہ، شہزاد قریشی

    امریکی صدر کی روزانہ کی بنیاد پر پالیسیوں کی تبدیلیاں ایک سوالیہ نشان ہے ، اگر ٹرمپ یہ سوچتے ہیں کہ وہ امریکی اتحادیوں کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتے ہوئے سامراجی خواہشات پر زور دیتے ہوئے یو ایس ایڈ کو تباہ کرتے ہوئے ، وائس آف امریکہ کو خاموش کراتے ہوئے امریکہ کے اندر قوانین کو چیلنج کرتے ہوئے اور اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے دستبردار ہو کر چین کا مقابلہ کر سکتے ہیں تو ان پالیسیوں سے ناکامی امریکہ کے مقدر میں ہے، امریکی مارکیٹیں ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اشارہ دے رہی ہیں، بھارتی وزیراعظم مودی شاید اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقاوامی معاہدہ ہے جس کی ثالثی عالمی بینک نے کی ہے اس معاہدے میں ایسی کوئی شق نہیں جس کے تحت بھارت اس معاہدہ پر عمل کرنے سے دستبردار ہوسکتا ہے ، مودی بھارت کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی کے راستوں پر لے کر جا رہا ہے اگر بھارت ایس حرکت کرے گا تو دنیا بھارت پر دبائو ڈالے گی اس سلسلے میں وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار عالمی دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں مودی خواب تو دیکھ سکتا ہے مگر خواب حقیقت میں تبدیل نہیں کر سکتا،تاہم صاحب اختیارات، ذمہ داران ریاست بیورو کریٹس، ملکی سیاسی گلیاروں میں جدید دور کے مسیحا، ہیروز سوچیں ارض وطن کی ملکیت خدا پاک کی ہے ،

    صاحب اختیارات سے التجاہی کی جا سکتی ہے کہ پاکستان پانی کی کمی کی طرف جا رہا ہے امریکہ سمیت دنیا کے ممالک میں پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات موجود ہیں پانی ایک سنگین مسئلہ ہے کالا ڈیم کی تعمیر اس سرزمین کی زندگی بچانے اور آنے والی نسلوں کے لئے ضروری ہے،تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں پاکستان کے لئے فیصلہ کریں پانی کی کمی سے قحط جیسے حالات کے خطرات منڈلاتے کیوں نہیں دکھاتی دیتے ذرا سوچئے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لیا جا سکتا ہے مگر پانی کی قلت اور زراعت کو فروغ دینے کے لئے پانی کس سے ادھار لیا جائے گا؟ خدارا سیاسی لڑائیاں اقتدار اور اختیارات کے لئے تو لڑی جا رہی ہیں کبھی ریاست کے اس سنگین مسئلہ پانی پر بھی توجہ دیں کالا باغ ڈیم کے لئے بھی کبھی ایک کل جماعتی کانفرنس کا اہتمام کریں یہ پاکستان کے مستقبل کا معاملہ ہے خدارا ہوش کیجئے

  • شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ،تحریر:ملک سلمان

    شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ،تحریر:ملک سلمان

    پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ اور خاتون چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے ہوتے ہوئے پنجاب میں کسی عام خاتون کے ساتھ بھی ناروا سلوک کا ہونا ناقابل برداشت ہونا چاہئے لیکن ایک معلم کے ساتھ مجرموں والا رویہ ہونا ہم سب کیلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ سیکرٹری سکول ایجوکیشن پنجاب کے آفیشل پیچ پر لگی تصاویر اور ویڈیو نے ناصرف اساتذہ اکرام کے منصب و مقام کی توہین کی بلکہ اساتذہ کے ساتھ ساتھ ہر باشعور اور غیرت مند فرد کو رلا کر رکھ دیا۔ سیکرٹری خود اور اپنے ہمنوا افسران کے ہمراہ کرسیوں پر براجمان ہو کر بادشاہانہ تمکنت کے ساتھ معزز خواتین اساتذہ کو کھڑے کرکے ہئیرنگ کر رہا ہے۔ مرد و خواتین اساتذہ کو مجرموں کی طرح کھڑے کرکے سننا استاد کی توہین اور جتنی مذمت کی جائے اتنی کم والا شرمناک رویہ ہے۔
    پورے پنجاب کے اساتذہ اور ہر شہری اس رویے پر شدید دکھی اور غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر مکتبہ فکر کی طرف سے اس شرمناک رویے پر سیکرٹری سے معافی اور وزیراعلیٰ سے سیکرٹری کی برطرفی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
    میڈم وزیراعلیٰ جب آپ نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف لیا تو دنیا بھر کی تعلیمی و سماجی تنظیموں کی طرف سے آپ کی وزارت اعلیٰ کو پنجاب میں خواتین کی بااختیاری اور تعلیمی و معاشرتی ترقی کے نئے دور کا آغاز کہا گیا تھا۔ بین الاقوامی تنظیموں نے مریم نواز کی وزارت اعلیٰ کا خیر مقدم کیا بلکہ اس امید کا اظہار کیا تھا کہ شعبہ تعلیم میں وزارت اور سیکرٹری کسی خاتون کو دے کر دنیا کو پنجاب اور پاکستان میں خواتین کی تعلیمی ترجیحات کا پیغام دیا جائے گا۔
    پولیس کے رویہ کے بارے عوام کو عمومی شکایت ہوتی ہے لیکن میں نے دیکھا ہے وہاں بھی اگر کسی کو معلوم ہوتا ہے کہ سامنے والا استاد ہے تو حیا کرتے ہیں۔ بیوروکریسی میں بہت سارے افسران جو اچھے خاندانی بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتے ہیں آج بھی اگر انکا استاد انکے دفتر آجائے تو وہ اپنی سیٹ پیش کرتے ہیں یا کم از کم ریوالونگ چئیر کی بجائے ان کے ساتھ کرسی یا صوفے پر بیٹھتے ہیں کہ وہ کبھی بھی اپنے استاد سے بڑے نہیں ہوسکتے۔ آرمی اور جوڈیشری میں قابل تعریف حد تک استاد کی عزت کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔
    اللہ کے نبی نے بیشتر دفعہ فرمایا کی مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اللہ کے آخری پیغمبر کا کام کرنے والوں کے ساتھ ایسا شرمناک رویہ؟
    ایک موقع پر اللہ کے نبی کا فرمان ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ۔ استاد کے مقام کیلئے رسول اللہ سے باب العلم کا لقب پانے والے اور جنت کے سردار حضرت علی کا یہ قول کافی ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوں۔ امام علی بن حسین زین العابدین کا کہنا ہے کہ استاد کا حق ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے اور اسکی موجودگی کا لحاظ کیا جائے۔
    خلیفہ ہارون الرشید کے دونوں بیٹے استاد کے جوتے پکڑنے میں پہلے کرنے کیلئے مقابلہ کرتے تھے۔
    سیکرٹری تعلیم نے معزز اساتذہ کو کھڑے کرکے نا صرف ان کے منصب و مقام کی توہین کی بلکہ ان کی پیشگی اجازات کی بغیر انکی ویڈیو بنا کر اور سوشل میڈیا پر اپلود کر کے پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی کی، پیکا ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کی ویڈیو یا تصویر بنانا اور بنا اجازت سوشل میڈیا پر شئیر کرنے کی سزا تین سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہے۔ پولیس سمیت تمام سرکاری ملازمین کو پابند کیا جائے کہ وہ کسی بھی معزز شہری کی ویڈیو نہ تو بنائیں اور نہ ہی سوشل میڈیا پر شائع کریں۔ کوئی بھی سرکاری ملازم کسی کا کام کرکے احسان نہیں کرتا جو زبردستی انکی ویڈیو اور تصاویر بنا کرسوشل میڈیا پر تشہیر کی جاتی ہے۔ عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیراعلی اور وزیراعظم کے علاوہ کسی بھی سرکاری ملازم کی تشہیر نہیں ہونی چاہئے۔ عوامی فلاح و بہبود کے تمام تر کاموں کا کریڈٹ اور تشہیر صرف اور صرف عوام کے منتخب نمائندوں کا حق ہے نہ کہ سرکاری ملازمین کا۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • پاکستان کی فیصلہ کن فتح اور عربوں کی خاموشی

    پاکستان کی فیصلہ کن فتح اور عربوں کی خاموشی

    پاکستان کی فیصلہ کن فتح اور عربوں کی خاموشی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفی بڈانی
    2025 کا پاک،بھارت تنازعہ جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر ابھرسامنے آیا ،کیا یہ صرف ایک عسکری تصادم تھا یا اس نے خطے کے طاقت کے توازن کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا؟ پہلگام میں ہونے والے مودی سرکار کے فالز فلیگ آپریشن یا دہشت کردی کی کارروائی سے شروع ہونے والی یہ کشیدگی، "آپریشن بنیان مرصوص” کی صورت میں پاکستان کی غیر متوقع، فیصلہ کن اور کامیاب جوابی کارروائی میں تبدیل ہوئی، جس نے نہ صرف بھارت کی جارحیت کو ناکام بنایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری صلاحیت اور سفارتی بصیرت کو نمایاں کر دیا۔ لیکن اس فتح کی کہانی صرف میدان جنگ تک محدود نہیں بلکہ اس میں عرب دنیا کی معنی خیز خاموشی جیسے اہم سوالات بھی پوشیدہ ہیں سوالات جو خطے کے جغرافیائی سیاسی منظرنامے، عالمی اتحادیوں کے کردار اور مستقبل کی سمت کے بارے میں گہرے غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔

    اس تنازع کے دوران پاکستان نے ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان سے فعال حمایت حاصل کی،سیزفائرکے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ان ممالک کے دورے کیے، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے چین سے مضبوط تعاون حاصل کیا۔ ترکیہ، ایران، اور آذربائیجان نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی جبکہ چین نے سیاچن اور لداخ میں بھارت کے خلاف محاذ کھول کر اپنا کردار ادا کیا۔ الجزیرہ نے 10 مئی 2025 کو رپورٹ کیا کہ ایران نے پاک بھارت تنازع میں غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔ بیجنگ کے سہ فریقی اجلاس نے پاک-افغان تعلقات کی بحالی کی راہ ہموار کی۔ تاہم، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کی غیر جانبداری نے سوالات اٹھائے۔ تاریخی طور پر پاکستان نے 1965 اور 1971 کی جنگوں میں عرب ممالک سے سفارتی اور عسکری حمایت حاصل کی تھی۔ سعودی عرب نے اقوام متحدہ میں پاکستان کا ساتھ دیا، مالی امداد فراہم کی جبکہ ایران نے اسلحہ اور تیل دیا۔ بدلے میں پاکستان نے فلسطین کے لیے عرب ممالک کی حمایت کی اور سعودی عرب میں فوج تعینات کی۔ لیکن 2025 میں عرب ممالک کی غیر جانبداری ان کے بھارت کے ساتھ بڑھتے معاشی تعلقات کی وجہ سے تھی۔ ٹیلی گراف نے 11 مئی 2025 کو رپورٹ کیا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی بھارت کے ساتھ 50 ارب ڈالر سے زائد کی تجارت اور سرمایہ کاری نے ان کے فیصلوں کو متاثر کیا۔ ابراہم معاہدوں کے بعد متحدہ عرب امارات اور بحرین کا اسرائیل کے ساتھ تعاون بھی اس معاشی ترجیح کی عکاسی کرتا ہے۔

    عالمی سفارتی نقشہ دو واضح بلاکس میں تقسیم ہو تا ہوا واضح نظر آرہا ہے ایک طرف چین، روس، ترکیہ، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک پاکستان کے ساتھ ہیں اور دوسری طرف امریکہ، یورپ اور بھارت مغربی مفادات کے ساتھ ہیں۔ فوٹو نیوز نے 12 مئی 2025 کو رپورٹ کیا کہ امریکہ کی ثالثی اور غیر جانبداری پاکستان کی سفارتی کامیابی تھی۔ تاہم، عرب ممالک کی غیر جانبداری ایک چیلنج ہے۔

    اگر بھارت دوبارہ جارحیت کرتا ہے تو ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور چین پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے، جیسا کہ آئی آر آئی اے نے 11 مئی 2025 کو رپورٹ کیا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شہباز شریف سے ملاقات میں غیر مشروط حمایت کا وعدہ کیا۔ قطر محدود سفارتی حمایت دے سکتا ہے کیونکہ اس نے ماضی میں پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے ہیں۔ پاکستان کو عرب ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے لیے معاشی تعاون کو ترجیح دینی چاہیے، جیسے کہ سی پیک میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پاک-سعودی جوائنٹ انویسٹمنٹ فنڈ قائم کرنا۔ ویژن 2030 کے ساتھ توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں شراکت داری کی جانی چاہیے۔ اسلامی تعاون تنظیم میں فلسطین اور کشمیر کے مسائل کو مشترکہ ایجنڈے کے طور پر اٹھایا جائے۔ قطر کے ساتھ توانائی اور دفاعی معاہدوں کو وسعت دی جائے۔ سعودی عرب کے ساتھ عسکری تربیتی پروگراموں اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے معاہدوں کو مضبوط کیا جائے۔ پاک عرب ثقافتی میلے، تعلیمی وظائف اور میڈیا کے ذریعے عرب عوام کے ساتھ رابطے بڑھائے جائیں۔

    آپریشن بنیان مرصوص محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا فیصلہ کن لمحہ تھا جس نے نہ صرف دشمن کی جارحیت کو ناکام بنایا بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان اپنے دفاع، خودمختاری اور خطے کے امن کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔ اس کامیابی نے پاکستان کی عسکری برتری اور سفارتی بصیرت کو نمایاں کیا، مگر ساتھ ہی عرب دنیا کی خاموشی نے یہ اہم سوال بھی اٹھایا کہ آیا مذہبی اور ثقافتی قربتیں عملی حمایت میں کیوں نہیں بدل سکیں۔ یہ لمحہ اس امر کا متقاضی ہے کہ پاکستان اب محض عسکری طاقت پر نہیں بلکہ فعال، وسعت پذیر اور دور اندیش سفارت کاری پر بھی انحصار کرے۔ عرب ممالک کے ساتھ معاشی، ثقافتی اور سفارتی روابط کو ازسرنو ترتیب دینا ہو گا تاکہ محض عوامی ہمدردی نہیں، بلکہ حکومتی سطح پر عملی حمایت بھی حاصل ہو۔ اسی کے ساتھ ساتھ ترکیہ، ایران، چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ موجودہ اشتراکِ عمل کو مزید وسعت دینا ہوگی تاکہ پاکستان آئندہ کسی بھی بحران میں نہ صرف تنہا کھڑا ہو بلکہ پورے خطے کو اپنے ساتھ لے کر ایک مؤثر اور متوازن عالمی کردار ادا کر سکے۔ 2025 کی فتح کو ایک مستقل حکمت عملی کی بنیاد بنا کر ہی پاکستان خطے میں پائیدار امن اور قومی وقار کا علم بلند رکھ سکتا ہے۔

  • بجٹ ، بجٹنگ اور اس کی اقسام، ایک تحقیقاتی جائزہ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    بجٹ ، بجٹنگ اور اس کی اقسام، ایک تحقیقاتی جائزہ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    بجٹ تعارف و تعریف؛ (Concept of Budget)

    تاریخی طور پہ دیکھا جائے۔ تو بجٹ ایک لاطینی زبان کے لفظ "بلگا” اور فرانسیسی لفظ "بوجٹ(Bougette)” سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی چمڑے کے کسی تھیلے یا بیگ یا پرس کے ہیں۔

    اٹھارویں صدی میں برطانیہ کے وزیر خزانہ اور پہلے وزیراعظم مسٹر رابرٹ پول جب پارلیمنٹ میں مالی امور کی منظوری کے لئیے جاتے۔ تو ان کے پاس ایک چمڑے کا تھیلا ہوتا تھا۔ جس میں ملک کے مالی امور سے متعلقہ اہم دستاویزات ہوتیں۔ بعد میں یہ تھیلا "بجٹ” کے نام سے مشہور ہوا۔ یوں تاریخی اعتبار سے بجٹ کا آغاز 1745ء میں برطانیہ سے ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ اصطلاح آمدنی و اخراجات سے بڑھ کر مالیاتی منصوبہ بندی، مالی امور کے نظم و نسق اور ملکی وسائل کی تفویض کاری کے پورے عمل تک وسعت اختیار کر گئی۔

    علم معاشیات کی رو سے اگر ہم بجٹ کی اصطلاح کی تعریف کریں۔ تو ” بجٹ ایک مالیاتی یا زری منصوبہ نما دستاویز ہے۔ جس میں کسی حکومت کو اسے ایک مالی سال کے دوران حاصل ہونے والی وصولیوں جو وہ مختلف ذرائع سے حاصل کرتی ہے۔ اور ایک مالی سال کے دوران کئے جانے والے وہ اخراجات جو وہ مختلف مدوں پر کرتی ہے۔ کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس میں نئے مالی سال کے ریونیو و اخراجات کے لئیے تخمینہ سازی بھی کی جاتی ہے ۔ اور پچھلے مالی سال کے ریونیو و اخراجات کے اعدادوشمار بھی ظاہر کئیے جاتے ہیں ۔”

    حکومت کے معاشی فرائض ؛ (Economic Functions of Govt)

    کسی بھی ملک کی حکومت کو تین بنیادی مالی فرائض سر انجام دینے پڑتے ہیں۔

    1_ معاشی استحکام ؛ (Economic Stability)
    جس میں ملکی معیشت سے افراط ِ زر و تفریطِ زر کو کنٹرول کرنا نیز بیروزگاری کی سطح کو کم کرنا ہے۔

    2_ معاشی ترقی ؛ (Economic Growth)
    جس میں ملک کے بنیادی انفراسٹرکچر جن میں ذرائع نقل و حمل ، انفرمیشن ، ٹیکنالوجی کی ترقی اور توانائی کی بہتر و سستی فراہمی ہے۔ مزید مخصوص صنعتوں کو اعانوں کی فراہمی تاکہ ملکی معاشی افزائش یا معاشی گروتھ یعنی ملکی پیداوار خواہ وہ صنعتی ہو یا زرعی (GDP) میں اضافہ ممکن ہو سکے ۔

    3_ معاشی فلاح و بہبود ؛ (Economic Welfare)
    جس میں ملکی عوام کو صحت و تعلیم ، امن و دفاع، رہائش و نقل و حمل کی سہولیات کی بہتری و اضافہ کرنا شامل ہے۔
    کسی بھی حکومت کو اپنے سرکاری معاملات چلانے نیز یہ تمام فرائض ادا کرنے کے لئیے آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاکہ وہ اپنے ان اخراجات کو بخوبی پورا کر سکے۔

    سرکاری بجٹ کا ڈھانچہ ؛ (Structure of Govt Budget)

    حکومت ٹیکسوں ، بیرونی سرمایہ کاری، قرضوں اور امداد وغیرہ سے یہ آمدنی حاصل کرتی ہے۔ اور ان اخراجات کی مدوں میں خرچ کرتی ہے ۔
    سرکاری بجٹ کی تین ممکنہ صورتحال ہو سکتی ہیں۔

    1_ متوازن بجٹ ؛ ( Balanced Budget)

    اگر تو حکومت کی آمدنی اور اس کے اخراجات آپس میں برابر ہوں۔ تو ایسے بجٹ کو متوازن بجٹ (Balanced Budget) کہا جاتا ہے۔ جہاں ،

    Govt Revenue = Govt Expenditures

    2_ فاضل بجٹ ؛ (Surplus Budget)
    اگر کسی بجٹ میں حکومت کا ریونیو ، اس کے اخراجات سے بڑھ جائے۔ تو اسے فاضل بجٹ (Surplus Budget) کہا جاتا ہے۔ جو کہ معاشیات دانوں کی نظر میں اچھا تصور نہیں کیا جاتا ۔ کہ اس کا مطلب یہ ہے۔ کہ حکومت عوام سے ٹیکس تو وافر وصول کر رہی ہے۔ مگر ان کی سہولیات اور معاشی ترقی پہ خرچ نہیں کر رہی۔ جس سے بجٹ فاضل بن رہا ہے۔ مگر آج کل کے حالات کے پیش نظر یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی ملک کا بجٹ فاضل بن پائے ۔ جیسے,

    Govt Revenue > Govt Expenditures

    3_ خسارے کا بجٹ ؛ (Deficit Budget)
    اسی طرح اگر کسی ملک کے اخراجات اس کے ریونیو سے بڑھ جائیں ۔ تو اسے خاسر بجٹ یا خسارے کا بجٹ(Deficit Budget) کہا جاتا ہے۔ جہاں

    Govt Revenue < Govt Expendituresترقی پزیر ممالک کا زیادہ تر خاسر بجٹ ہی ہوتا ہے۔ بجٹ میں اس خسارے کے پورا کرنے کے لیئے حکومتوں کو سرکاری و بیرونی قرضہ جات اور امداد کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ بیرونی قرضوں کی فراہمی کے لئیے آئی ۔ ایم۔ ایف ، ورلڈ بنک اور ایسے کئی ادارے و ممالک وغیرہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قرض لینے والے ممالک کو بھاری سود اور کئی پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔بجٹنگ یا بجٹ سازی؛

    بجٹ سازی کے عمل کو "بجٹنگ” کہا جاتا ہے ۔ کسی ملک کی وزارات خزانہ پچھلے مالی سال کے اعداد و شمار اور نئے مالی سال کے اہداف و تخمینوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگلی مالی مدت کے لئیے بجٹ سازی کا عمل سر انجام دیتی ہے۔ اس کے لئیے وزارتِ خزانہ ملک کے تمام اہم شعبوں سے ڈیٹا حاصل کرتی ہے ۔

    بجٹ سازی کی اقسام ؛

    معاشیات میں بجٹ سازی کے تناظر میں بجٹ کی 9 ممکنہ اقسام ہیں ۔ یا بجٹ 9 طرح کے ہو سکتے ہیں۔

    1_ جامد بجٹ(Static Budget)
    ایک بار بجٹ بننے کے بعد ایسے بجٹ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ یعنی یہ پورے مالی سال میں جامد رہتا ہے۔

    2 لچکدار بجٹ (Flexible Budget)
    ایسے بجٹ کی ایک بار بجٹ سازی کے بعد مالی مدت کے دوران بوقت ضرورت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ یعنی شبعوں میں تفویض کردہ وسائل میں بوقت ء ضرورت تبدیلی ممکن ہے۔

    3_ فنکشنل بجٹ (Functional Budget)
    ملکی معیشت یا کسی آرگنائزیشن کے ہر شعبے کا اس کی ضرورت کے مطابق الگ الگ بجٹ بنانا فنکشنل بجٹ کے زمرے میں آتا ہے۔

    4_ ماسٹر بجٹ (Master Budget)
    فنکشنل بجٹ کا مجموعہ ماسٹر بجٹ ہوتا ہے۔ جس میں معشیت کے تمام شبعہ جات کے الگ الگ بجٹ کو یکجا کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً ،
    Master Budget =Production Budget + Marketing Budget +Development Budget + Administration Budget….etc.

    5_ زیرو بیسڈ بجٹ (Zero- Baised Budget)
    ماضی کے اعداد و شمار سے صرف نظر کرتے ہوئے حالیہ آمدنی و ضرورت کے مطابق جو نیاء بجٹ بنایا جاتا ہے ۔ جس میں پچھلی مالی مدت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔ اسے زیرو۔ بیسڈ بجٹنگ کہا جاتا ہے۔ سمجھ لیں کہ یہ پہلی بار حالیہ ضرورت کے مطابق ہوتا ہے۔

    6_ شراکتی بجٹنگ (Participative Budgeting)
    شراکتی بجٹ، بجٹ سازی کا ایک طریقہ ہے۔ جس میں بجٹ سازی کے عمل میں مختلف اسٹیک ہولڈرز، جیسے شہری، رہائشی، یا کسی تنظیم کے اراکین شامل ہوتے ہیں۔ اس نقطہء نظر کا مقصد بجٹ سازی کے فیصلوں میں شفافیت، جوابدہی، اور کمیونٹی کی شمولیت کو بڑھانا ہوتا ہے۔
    سادہ الفاظ میں بجٹ سازی کے اس طریقہ ء کار میں کسی معیشت یا آرگنائزیشن کی تمام اپر اور لوئر دونوں درجوں کی منجمنٹ تخمینہ سازی میں اپنی رائے دیتی ہے ۔

    7_نافذ کردہ بجٹنگ ( Imposed Budget)
    نافذ کردہ بجٹنگ میں بجٹ سازی میں کسی ملک یا آرگنائزیشن کی صرف اپر لیول منیجمنٹ ہی حصہ لیتی ہے۔ اور اسے نافذ کر دیا جاتا ہے ۔ نافذ کردہ بجٹنگ ، شراکتی بجٹنگ کے بلکل منافی بجٹ سازی کا طریقہ ء کار ہے۔

    8_ رولنگ بجٹ
    (Rolling Budget Or Budget Rollover)
    ماضی کے اعداد و شمار کو پیش ِ نظر رکھ کر مستقبل کے تخمینوں سے مطابقت رکھتا ہوا جو نئی مالی مدت کے لیئے نیا بجٹ بنایا جاتا ہے۔ اسے رولنگ بجٹ کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر ممالک یا آرگنائزیشنز میں رولنگ بجٹ سازی ہی کی جاتی ہے۔

    9_ سالانہ بجٹ (Annual Budget)
    ایک نئے مالی سال کے لئیے کوئی ملک یا آرگنائزیشن اپنے معاشی تخمینوں و اہداف اور اپنی آمدنی و اخراجات کو مد نظر رکھتے ہوئے جو بجٹ تیار کرتی ہے۔ اسے سالانہ بجٹ کہا جاتا ہے۔

    حاصل ء بحث ؛ ( Conclusion )
    بجٹ کسی بھی ملک یا آرگنائزیشن کے لیئے ایک دو طرفہ بک کیپنگ کی طرح ہے۔ جس میں ایک طرف اس کی آمدنی ہے۔ تو دوسری طرف اس کی حالیہ و مستقبل کے ترقیاتی اخراجات ہیں۔ جن کی مطابقت کا ایک مخصوص مالی مدت(ایک سال) کے لئیے پلان بجٹ ہے۔