Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قسطوں میں مرتی عوام

    قسطوں میں مرتی عوام

    قسطوں میں مرتی عوام
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی گلیوں، محلّوں، دیہی چوپالوں اور شہری بازاروں میں جو خاموشی پھیلی ہے، وہ سکون کی علامت نہیں، بلکہ طوفان سے پہلے کی گھمبیر خاموشی ہے۔ یہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں ہر فرد معاشی بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے، اور سوال یہ نہیں کہ غصہ کب اُبلے گا، بلکہ یہ ہے کہ اس غصے کا رُخ کس طرف ہو گا۔ برسوں سے جاری مہنگائی، بے روزگاری، اور ریاستی پالیسیوں کی ناکامی نے ایک عام پاکستانی کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ اب "جینا” بھی ایک جرم بن چکا ہے۔

    وفاقی بجٹ 2025-26 عوام کے زخموں پر نمک بن کر گرا۔ ایف بی آر کو گرفتاری کے اختیارات دینا، نقد ادائیگی کی حد متعین کرنا اور ڈیجیٹل انوائسنگ کو لازمی قرار دینا ایسے فیصلے ہیں جنہوں نے تاجر برادری کو خوف، غصے اور احتجاج کی جانب دھکیل دیا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر نے خبردار کیا کہ یہ پالیسیاں کاروبار کو تباہ اور ملکی معیشت کو مفلوج کر دیں گی۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ برس 21 ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان کو خیر باد کہہ چکی ہیں،کیا یہ کسی معاشی زوال کی ابتدانہیں ہے؟

    بجلی کے بل اس قوم کے لیے اب صرف ایک بل نہیں بلکہ ہر ماہ آنے والی معاشی سزائے موت بن چکے ہیں۔ ناقص ٹرانسمیشن نظام کے باعث صارفین پر 69.09 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ حکومت نے ایک طرف یونٹ ریٹس میں معمولی کمی کا اعلان کیا مگر دوسری طرف فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز، سرچارجز اور ٹیکسز کی بھرمار نے تنخواہ دار اور دیہاڑی دار مزدورطبقے کی کمر توڑ دی۔ کراچی کے رہائشی محمد معین کی بات دل چیر دیتی ہے وہ کہتا ہے کہ "روز روز ٹکڑوں میں مرنے کے بجائے حکومت ایک ہی بار بم گرا دے”یہ ایک فرد کی آواز نہیں بلکہ ایک قوم کا نوحہ ہے۔

    ٹیکسوں کا بوجھ بھی اب ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ چھوٹی گاڑیوں پر جی ایس ٹی میں اضافہ، کاربن ٹیکس، اشیائے خورونوش اور تعلیم پر بالواسطہ ٹیکسز نے عام شہری کی زندگی مزید مہنگی اور ناقابلِ حصول بنا دی ہے۔ اب تنخواہ صرف بلز اور گزارے کے لیے بھی کافی نہیں۔ بنارس ٹاؤن کراچی کا رہائشی عبدالرحمان کہتا ہے کہ "دو وقت کی روٹی، بجلی کا بل اور بچوں کی تعلیم اکٹھے نہیں چل سکتے۔” وہ شخص کس امید پر جئے گا جس کے ہاتھ میں پیسہ نہیں، پیچھے ریاست نہیں اور آگے راستہ نہیں؟

    معاشی تباہی کے ساتھ سماجی تباہی بھی ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ ژوب میں نو مسافروں کے اغوا اور قتل، کراچی میں حمیرا اصغر جیسی فنکارہ کی لاش،یہ سب ایک ایسے معاشرے کی تصویریں ہیں جہاں زندگی بے معنی اور موت بے خبر ہو چکی ہے۔ ایسے واقعات صرف جرائم نہیں، وہ ریاستی اور سماجی ناکامی کی علامت ہیں۔

    ریاستی بیانیہ اب بھی تضاد اور ابہام کا شکار ہے۔ ماہرین معیشت جیسے ڈاکٹر قیصر بنگالی ایف بی آر کے اعداد و شمار کو مشکوک قرار دیتے ہیں، جب کہ ڈاکٹر اعجاز نبی اسے معاشی استحکام کی نوید بتاتے ہیں۔ ایسے بیانات عام آدمی کے ذہن میں مزید الجھن اور بداعتمادی کو جنم دیتے ہیں۔ لوگ اب جاننا چاہتے ہیں کہ آخر ان کی مشکلات کا ذمہ دار کون ہے؟ اور یہ جاننے کا حق انہیں آئین دیتا ہے، سیاست نہیں۔

    قدرتی آفات جیسے حالیہ بارشیں، سیلاب اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے ریاستی نااہلی کو ننگا کر دیا ہے۔ لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں بجلی بند، سڑکیں ڈوبی اور ہسپتال تک پہنچنا محال ہوا۔ کیا یہی ریاستی خدمت ہے؟ جب قدرتی آفت بھی ظلم میں حکومت کا ساتھ دینے لگے، تو عوام کہاں جائیں؟

    ان سب مسائل نے عوام کو احتجاج کی طرف دھکیل دیا ہے۔ 19 جولائی کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال صرف تاجروں کا مسئلہ نہیں، یہ ایک قومی اجتماعی اضطراب کا مظہر ہے۔ #NoToUnfairTaxes، #ElectricityRelief جیسے سوشل میڈیا ٹرینڈز محض ہیش ٹیگز نہیں، یہ عوام کی چیخیں ہیں جو اب آن لائن سے آف لائن آنے کو بیتاب ہیں۔ اگر حکومت نے ان آوازوں کو سننے سے انکار جاری رکھا تو ان کے قدم ایوانِ اقتدار کی دہلیز پر ہوں گے۔

    سول نافرمانی اب محض ایک نظریاتی بحث نہیں رہی بلکہ ایک عملی امکان بن چکی ہے۔ عوام کے پاس اب چند ہی راستے بچے ہیں کہ پرامن احتجاج، بلوں کا بائیکاٹ یا مکمل بغاوت اور اگر یہ سب کچھ انتشار کے بغیر ہو تو یہ اس قوم کی تہذیب کا ثبوت ہو گا لیکن اگر ریاست نے پھر بھی آنکھیں بند رکھیں تو تاریخ کا رخ بدلنا بھی ممکن ہو جائے گا۔

    شمسی توانائی جیسے متبادل موجود ہیں مگر ہر شخص کی پہنچ سے دور ہیں۔ اصل حل تو حکومتی سطح پر ریفارمز اور عوام دوست پالیسیوں میں ہے۔ وہ وقت آ گیا ہے جب طاقتور طبقہ اپنے اللّے تللّے چھوڑے، مراعات کم کرے اور عوام کو جینے کا حق دے۔ ورنہ جب قسطوں میں مرتی ہوئی قوم کا صبر ختم ہوتا ہے تو پھر وہ خود فیصلہ کرتی ہے کہ جینا کیسے ہے۔

    یہ صرف ایک غصے کا اظہار نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے۔ عوام کا صبر اب لبریز ہے۔ حکومت، بیوروکریسی، اشرافیہ،سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب بند ٹوٹتا ہے تو وہ نہ صرف پانی بہاتا ہے بلکہ دیواریں بھی گراتا ہے اور نظام بھی۔

    یہی وہ لمحہ ہے جب ریاست کے لیے فیصلہ کن گھڑی آن پہنچی ہے کہ یا تو عوام کے ساتھ کھڑی ہو جائے یا پھر تاریخ کے ملبے تلے دفن ہونے کو تیار ہو جائے۔

    یہ ملک کے ہر اس فرد کی آواز ہے جو مہینے کے آخر میں بل دیکھ کر سانس روکتا ہے، جو بچوں کو سکول چھوڑنے پر مجبور ہے، جو دوا کے لیے لائن میں مرتا ہے اور جس کے صبر کا بند قسطوں میں ٹوٹتا جا رہا ہے۔

  • سوشل میڈیا اور صحافت، معتبر کون؟

    سوشل میڈیا اور صحافت، معتبر کون؟

    سوشل میڈیا اور صحافت، معتبر کون؟
    تحریر:حبیب خان
    آج جب ہم سوشل میڈیا کے سیلاب میں بہے جا رہے ہیں تو صحافت کا مفہوم بھی بہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر سوشل میڈیا پوسٹ، ہر وڈیو یا ہر تقریر صحافت ہے؟ کیا صرف ایک موبائل فون اور انٹرنیٹ کنکشن رکھنے والا فرد صحافی کہلا سکتا ہے؟ یہ سوال محض تکنیکی یا جذباتی نہیں بلکہ صحافت کے مستقبل اور معاشرے کے اجتماعی شعور سے جڑا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں معلومات تک فوری رسائی ممکن بنائی، وہیں اس نے خبر اور رائے کے درمیان لکیر دھندلا دی۔ اب ہر وہ شخص جو اپنی رائے کو وائرل کرنا چاہتا ہے، وہ خود کو صحافی کہنے لگا ہے۔ حالانکہ صحافت محض ایک وڈیو اپلوڈ کرنے یا کسی واقعے پر تبصرہ کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ادارتی جانچ، حقائق کی تصدیق، توازن، اور اخلاقی ضابطوں کی ایک پوری دنیا چھپی ہوئی ہے۔

    کیا صرف سوشل میڈیا پر خبریں پوسٹ کرنا صحافت کہلایا جا سکتا ہے؟ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا سوال ہے مگر اس کے اثرات بڑے ہیں۔ سوشل میڈیا پر خبریں پوسٹ کرنا صحافت کا ایک جزو ہو سکتا ہے، لیکن یہ مکمل طور پر صحافت نہیں کہلایا جا سکتا۔ صحافت ایک منظم عمل ہے جس میں تحقیق، تصدیق اور غیر جانبداری شامل ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر اکثر خبریں بغیر تصدیق کے پھیلائی جاتی ہیں، جو افواہوں یا غلط معلومات کا باعث بن سکتی ہیں۔ صحافت میں اخلاقیات اور معیارات کی پابندی ضروری ہے جبکہ سوشل میڈیا پر پوسٹس عموماً ذاتی رائے یا سنسنی خیزی پر مبنی ہوتی ہیں۔

    یہاں سب سے بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر وہ شخص جو سوشل میڈیا پر ویڈیو بنا کر تبصرہ کرے، صحافی ہے؟ اس کا واضح جواب ہے کہ نہیں۔ ہر شخص جو سوشل میڈیا پر ویڈیو بناتا یا تبصرہ کرتا ہے، صحافی نہیں کہلا سکتا۔ صحافی وہ ہوتا ہے جو تربیت یافتہ ہو، معلومات کی تصدیق کرتا ہو اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی پابندی کرتا ہو۔ سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے والے اکثر افراد ذاتی رائے دیتے ہیں، جن میں تحقیق یا غیر جانبداری کی کمی ہوتی ہے۔ یہ انہیں رائے دہندہ یا مواد تخلیق کار بنا سکتا ہے، لیکن صحافی نہیں۔

    معیار اور نیت کا یہ فرق محض صحافت کی ساکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشرتی سچائی کا سوال ہے۔ ذاتی رائے یا تاثر فرد کے تجربات، جذبات، یا نقطہ نظر پر مبنی ہوتا ہے، جو اکثر غیر مصدقہ اور جانبدار ہو سکتا ہے۔ تحقیق شدہ خبر حقائق پر مبنی ہوتی ہے، جس کی تصدیق معتبر ذرائع سے کی جاتی ہے اور اسے غیر جانبداری کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر رائے اکثر سنسنی خیز یا جذباتی ہوتی ہے، جبکہ تحقیق شدہ خبر معروضیت اور ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔

    روایتی صحافت میں ادارتی جانچ اور معلومات کی تصدیق نہ ہو تو صحافت افواہ میں بدل جاتی ہے۔ صحافی کا کام صرف رپورٹنگ نہیں بلکہ حقائق کے گرد سچائی کی دیوار بنانا بھی ہے۔ ادارتی عمل میں متعدد مراحل شامل ہوتے ہیں، جیسے کہ حقائق کی جانچ، ذرائع کی تصدیق، اور مواد کی معروضیت۔ یہ عمل غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکتا ہے اور عوام کا اعتماد برقرار رکھتا ہے، جو سوشل میڈیا پر اکثر غائب ہوتا ہے۔

    لیری کنگ کا خود کو صحافی نہ سمجھنا ہمیں سکھاتا ہے کہ میڈیا کیمرے کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری کا مقام ہے۔ وہ ایک انٹرویو کنندہ اور میزبان تھے، لیکن انہوں نے صحافت کے پیشہ ورانہ تقاضوں کو تسلیم کیا، جو تحقیق اور رپورٹنگ پر مبنی ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر میڈیا شخصیت صحافی نہیں ہوتی، اور صحافت ایک مخصوص کردار اور مہارت کا نام ہے۔ اگر ایک بین الاقوامی سطح کا اینکر خود کو صحافی نہیں مانتا تو سوشل میڈیا پر چند وڈیوز بنانے والا خود کو صحافت کا نمائندہ کیسے کہہ سکتا ہے؟

    سچ کو اگر وائرل ہونے کی خواہش پر قربان کر دیا جائے تو صحافت محض تفریح بن جاتی ہے۔ صحافت کا مقصد ذمہ داری کے ساتھ سچ سامنے لانا ہے، نہ کہ صرف وائرل ہونا۔ وائرل ہونا سوشل میڈیا کی خصوصیت ہے، جہاں سنسنی خیزی اور توجہ اہم ہوتی ہے۔ صحافت کا ہدف عوام کو درست، تصدیق شدہ، اور معروضی معلومات فراہم کرنا ہے، جو معاشرے میں بیداری اور مثبت تبدیلی کا باعث بنے۔ وائرل ہونا صحافت کا ذیلی نتیجہ ہو سکتا ہے، لیکن بنیادی مقصد نہیں۔

    اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ سچ اور صحافت کو بچانے کے لیے ہمیں فوری طور پر سوشل میڈیا اور صحافت کے فرق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اس کے لیے عوامی شعور، تعلیم و تربیت، اور صحافتی اقدار کی بحالی ضروری ہے۔ مواد تخلیق کاروں کو چاہیے کہ وہ سچائی کے ساتھ جُڑنے سے پہلے سچ کی ذمہ داری کو سمجھیں۔ صحافت ایک پیشہ ہے جو سچائی، غیر جانبداری، اور ذمہ داری پر مبنی ہے، جبکہ سوشل میڈیا ایک پلیٹ فارم ہے جو ہر قسم کے مواد کو جگہ دیتا ہے۔ اگر ہم یہ فرق بھول گئے تو صحافت کا چراغ سنسنی کے طوفان میں بجھ جائے گا۔

  • ڈاکٹرجمیل جالبی،علم و ادب کے آفتاب کا سحرانگیز جائزہ

    ڈاکٹرجمیل جالبی،علم و ادب کے آفتاب کا سحرانگیز جائزہ

    ڈاکٹر جمیل جالبی، علم و ادب کے آفتاب کا سحرانگیز جائزہ
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    علم و ادب کی روشنی بکھیرنے والی عظیم شخصیت ڈاکٹر جمیل جالبی نے اردو زبان و ادب کو جن جہتوں سے جِلا بخشی، وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کی علمی و ادبی خدمات نے اردو زبان کی بنیادوں کو مضبوط کیا اور معاشرتی شعور کو جلا بخشی۔ ان کی تصانیف، تحقیقی کام، لغت نویسی، تنقید، ترجمہ، تدریسی اور اداری خدمات نے ان کی شخصیت کو ہمہ جہت بنا دیا۔

    لغت نویسی: زبان کی بنیادوں کا تعین
    ڈاکٹر جمیل جالبی لغت نویسی میں خاص دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کی معرکہ آرا تصنیف "قومی انگریزی اردو لغت” دو جلدوں پر مشتمل ایک ایسا علمی سرمایہ ہے جو اردو زبان کی سائنسی، ادبی، معاشی، قانونی، طبّی، تجارتی اور سماجی اصطلاحات کو مربوط انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس لغت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں علاقائی، مقامی اور عوامی سطح کے الفاظ کو بھی شامل کیا گیا تاکہ زبان کی اصلیت قائم رہے۔ دیگر لغوی کاموں میں "قدیم اردو کی لغت” اور "فرہنگِ اصطلاحات جامعہ عثمانیہ” شامل ہیں۔

    تحقیق و تاریخ ادب اردو
    ڈاکٹر جالبی کی سب سے نمایاں اور یادگار تصنیف "تاریخ ادب اردو” ہے، جو چار ضخیم جلدوں پر مشتمل ایک فکری، تحقیقی اور ثقافتی دستاویز ہے۔ اس میں اردو ادب کے ارتقاء کو صرف زمانی ترتیب میں نہیں بلکہ تہذیبی، سیاسی اور معاشرتی عوامل کی روشنی میں بھی پیش کیا گیا ہے۔

    ان کی تحقیقی خدمات میں "مثنوی قدم راؤ پدم راؤ”, "دیوان حسن شوقی” اور "دیوان نصرتی” کی بازیافت شامل ہے، جن کے ذریعے انہوں نے اردو ادب کی گمشدہ کڑیوں کو بازیاب کیا۔ ان کی دیگر اہم کتب میں "اردو زبان کی تاریخ” اور "اردو نثر کا ارتقاء” شامل ہیں۔

    تنقید: فکری تجزیے کی بنیاد
    ڈاکٹر جالبی کا شمار جدید تنقیدی نظریات کے ماہرین میں ہوتا ہے۔ ان کی اہم تنقیدی کتب میں "تنقید اور تجربہ”, "نئی تنقید”, "عصری ادب”, "ادب، کلچر اور مسائل”, "میر تقی میر: ایک مطالعہ”, "قومی زبان: یکجہتی، نفاذ اور مسائل” شامل ہیں۔

    وہ ادب کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی تنقید، فکری تجزیے اور معاشرتی اصلاح کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کی تصنیف "ارسطو سے ایلیٹ تک” مغربی تنقید کی تفہیم میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

    ترجمہ نگاری: علم و ادب کی عالمی رسائی
    ڈاکٹر جالبی نے ترجمہ نگاری میں بھی اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کے اہم تراجم میں جارج آرویل کا ناول "جانورستان”, "ٹی ایس ایلیٹ کے مضامین”, "برصغیر میں اسلامی کلچر” اور "برصغیر میں اسلامی جدیدیت” شامل ہیں۔

    ان کے تراجم صرف زبان کی تبدیلی نہیں بلکہ تخلیقی حسن کے آئینہ دار ہیں، جن میں اصل متن کی روح اور مفہوم کو محفوظ رکھا گیا۔

    کلچر، تہذیب اور بچوں کا ادب
    کلچر اور تہذیب کے میدان میں ان کی کتاب "پاکستانی کلچر: قومی کلچر کی تشکیل” ایک اہم تصنیف ہے، جس میں انہوں نے زبان، رسم و رواج، قومی وحدت اور تہذیبی شناخت پر سیر حاصل بحث کی۔

    بچوں کے لیے ادب بھی ان کے قلم کی توجہ کا مرکز رہا۔ ان کی بچوں کے لیے لکھی گئی کتابیں "حیرت انگیز کہانیاں” اور "کھوجی” مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔

    ادارتی، تدریسی و ادارتی خدمات
    ڈاکٹر جالبی نے "پیامِ مشرق”, "ساقی” اور "نیا دور” جیسے معروف ادبی جرائد کی ادارت کی۔ وہ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر، مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشین اور اردو لغت بورڈ کے سربراہ بھی رہے۔

    ان کی خطوط نگاری کا بھی ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے، جس میں تقریباً دو ہزار خطوط شامل ہیں۔ ان کا مجموعہ "مکاتیب مشاہیر بنام ڈاکٹر جمیل جالبی” کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔

    جمیل جالبی: ایک زندہ علمی روح
    معزز قارئین! بطور ادب کے طالب علم، جمیل جالبی کے مطالعے کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں ان کی علمی روح سے ملاقات کر رہا ہوں۔ انہوں نے معاشرے کے ذہنوں سے جہالت کے اندھیرے مٹانے کے لیے جو چراغ جلائے، ان کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑ سکتی۔

    علم و ادب کی مٹھاس جس معاشرے کی زبان پر آ جائے، وہاں نفرتیں دم توڑ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر جالبی نے ادب کو ایک ایسا مرہم بنا دیا جو ہر زخم کو بھرنے کی شفا رکھتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ ان کی روح کو بلند درجات عطا فرمائے اور ان کی کتابوں کی روشنی سے معاشرے کے اندھیرے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ آمین ثم آمین۔

  • آن لائن تعلیم یا آن لائن فراڈ؟ سینکڑوں طلبہ شکار بن گئے

    آن لائن تعلیم یا آن لائن فراڈ؟ سینکڑوں طلبہ شکار بن گئے

    لاہور (باغی ٹی وی رپورٹ)آن لائن تعلیم یا آن لائن فراڈ؟ سینکڑوں طلبہ شکار بن گئے
    تفصیلات کے مطابق آن لائن تعلیم کی بڑھتی مقبولیت نے جہاں تعلیمی رسائی کو آسان بنایا، وہیں جعلی کورسز اور سرٹیفکیٹس کے ذریعے فراڈ کے واقعات میں بھی خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں سینکڑوں طلبہ جعلی آن لائن تعلیمی اداروں کا شکار ہوئے، جن سے لاکھوں روپے ہتھیائے گئے۔ یہ رپورٹ حالیہ واقعات، فراڈ کے طریقہ کار، اور بچاؤ کے اقدامات پر روشنی ڈالتی ہے۔

    روزنامہ جنگ میں 9 جولائی 2025 کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق فیصل آباد میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے ایک منظم فراڈ نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خاص طور پر واٹس ایپ اور فیس بک پر جعلی تعلیمی کورسز کی پیشکش کر رہا تھا۔ ملزمان نے معروف یونیورسٹیوں کی نقل کرتے ہوئے ویب سائٹس بنائیں اور طلبہ سے رجسٹریشن فیس کے نام پر 20,000 سے 50,000 روپے وصول کیے۔ ایک متاثرہ طالب علم احمد علی نے بتایا کہ اس نے "آن لائن ڈیجیٹل مارکیٹنگ کورس” کے لیے 40,000 روپے ادا کیے، لیکن کورس کے نام پر صرف چند غیر معیاری پی ڈی ایف فائلز موصول ہوئیں۔ ایف آئی اے نے تین ملزمان کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے جعلی سرٹیفکیٹس، لیپ ٹاپس اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات برآمد کیں .

    اسی طرح11 اکتوبر 2023 کو24 نیوز اردونے ایک رپورٹ دی کہ ایف آئی اے راولپنڈی نے ایک گینگ کے سرغنہ امیر حمزہ کو گرفتار کیا جو جعلی ملازمتوں اور آن لائن تعلیمی کورسز کے ذریعے فراڈ کر رہا تھا۔ ملزم نے واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا اشتہارات کے ذریعے طلبہ اور بیروزگار افراد کو نشانہ بنایا۔ متاثرین سے "فنگر پرنٹس، میڈیکل اور پروسیسنگ فیس” کے نام پر 78,800 روپے فی کس وصول کیے گئے۔ مجموعی طور پر 32 متاثرین سے 25 لاکھ روپے ہتھیائے گئے۔ ملزمان نے جعلی میڈیکل اور فنگر پرنٹ سہولیات قائم کی تھیں اور طلبہ کو غیر معتبر سرٹیفکیٹس دیے گئے جو ملازمت کے لیے ناکارہ تھے

    توسنامہ نوائے وقت نے 26 فروری 2025 کو ایک خبر شائع کی کہ کراچی میں بھی جعلی آن لائن اکیڈمی نے سینکڑوں طلبہ سے لاکھوں روپے لوٹے۔ یہ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے منسلک ہونے کا دعویٰ کرتی تھی اور "آن لائن ایم بی اے” اور "آئی ٹی سرٹیفکیٹس” کے کورسز پیش کرتی تھی۔ ایک طالبہ عائشہ خان نے بتایا کہ اس نے 1.5 لاکھ روپے فیس ادا کی لیکن کورس غیر پیشہ ورانہ اساتذہ اور ناقص مواد پر مشتمل تھا۔ سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ جعلی ہے اور کسی ادارے میں قابل قبول نہیں۔ ایف آئی اے نے اس اکیڈمی کے خلاف تحقیقات شروع کیں اور عوام سے ہوشیاری کی اپیل کی

    بی بی سی اردو کی 3 اکتوبر 2020کی ایک رپورٹ کے مطابق آن لائن تعلیمی فراڈ عالمی سطح پر بھی بڑھ رہا ہے۔ سائبر مجرمان جعلی ویب سائٹس، ای میلز اور سوشل میڈیا اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ خاص طور پر کم تعلیم یافتہ افراد کو جعلی کورسز اور سرٹیفکیٹس کی پیشکش کی جاتی ہے۔ سٹیفن کونان کے حوالے سے بتایا گیا کہ موبائل بینکنگ اور آن لائن پلیٹ فارمز کے بڑھتے استعمال نے سائبر کرائم کو فروغ دیا۔ پاکستان میں بھی ایسی جعلی ای میلز اور واٹس ایپ میسجز عام ہیں جو لاٹری یا تعلیمی کورسز کے ذریعے ذاتی معلومات مانگتی ہیں۔

    اس طرح کے فراڈ کے طریقہ کار میں جعلی ویب سائٹس اور ایپس کا استعمال سرفہرست ہے، جہاں ملزمان معروف تعلیمی اداروں کی نقل کر کے طلبہ سے رجسٹریشن فیس وصول کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام پر پرکشش اشتہارات پھیلائے جاتے ہیں۔ متاثرین کو غیر معتبر سرٹیفکیٹس دیے جاتے ہیں جو ملازمت یا اعلیٰ تعلیم کے لیے قابل قبول نہیں ہوتے۔ کئی معاملات میں بھاری ایڈوانس فیس وصول کر کے رابطہ منقطع کر لیا جاتا ہے جبکہ بعض جعلی ایپس یا ویب سائٹس صارفین کی ذاتی معلومات، جیسے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات چوری کرتی ہیں۔

    متاثرین کی کہانیاں دل دہلا دینے والی ہیں۔ احمد علی (فیصل آباد) نے بتایا، "میں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کورس کے لیے 40,000 روپے ادا کیے، لیکن مجھے صرف چند پی ڈی ایف فائلز ملیں۔ جب میں نے رابطہ کیا تو انہوں نے جواب دینا بند کر دیا۔” اسی طرح عائشہ خان (کراچی) نے کہا، "میں نے ایم بی اے کورس کے لیے 1.5 لاکھ روپے دیے، لیکن سرٹیفکیٹ جعلی نکلا۔ اب میری ساری جمع پونجی ضائع ہو گئی۔” محمد عمر (راولپنڈی) نے بتایا، "مجھ سے ملازمت کے لیے کورس فیس کے نام پر 78,000 روپے لیے گئے، لیکن نہ تو ملازمت ملی اور نہ ہی سرٹیفکیٹ کسی کام کا تھا۔”

    ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے آن لائن فراڈ کے خلاف متعدد کامیاب آپریشنز کیے ہیں۔ فیصل آباد، کراچی اور راولپنڈی میں حالیہ چھاپوں کے دوران متعدد ملزمان گرفتار کیے گئے اور جعلی ویب سائٹس بند کی گئیں۔ ایف آئی اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک پیشکشوں سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی فراڈ کی اطلاع فوری دیں۔ بچاؤ کے لیے چند اہم اقدامات شامل ہیں، کسی بھی آن لائن کورس میں رجسٹریشن سے پہلے ادارے کی ساکھ چیک کریں، بھاری ایڈوانس فیس مانگنے والے اداروں سے ہوشیار رہیں اور معاہدے کی شرائط غور سے پڑھیں۔ مضبوط پاس ورڈز استعمال کریں اور مشکوک لنکس یا ایپس سے دور رہیں۔ فراڈ کا شبہ ہونے پر فوری طور پر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے رابطہ کریں (ہیلپ لائن: 111-345-786)۔ صرف تسلیم شدہ تعلیمی اداروں سے کورسز لیں اوردینی تعلیم کیلئے مقامی عالم یا مفتی سے مشورہ کریں۔

    آن لائن تعلیمی فراڈ پاکستان میں ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جو طلبہ کی مالی اور تعلیمی امنگوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ایف آئی اے کی کارروائیاں قابل ستائش ہیں لیکن عوام کی آگاہی اور احتیاط ہی اس خطرے سے بچاؤ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ مستند اداروں سے رابطہ، مشکوک پیشکشوں سے گریز اور سائبر سیکیورٹی کے اقدامات سے اس طرح کے فراڈ سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

  • حکومتی پالیسیاں، تاجروں کی ہڑتال اور بے حس جوتے کھاتی عوام

    حکومتی پالیسیاں، تاجروں کی ہڑتال اور بے حس جوتے کھاتی عوام

    حکومتی پالیسیاں، تاجروں کی ہڑتال اور بے حس جوتے کھاتی عوام
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف بے رحم حکومتی پالیسیاں ہیں جو سرمایہ کاروں، صنعتکاروں اور تاجروں پر ٹیکسوں کا ایسا بوجھ ڈال رہی ہیں جو عملاً کاروبار کو دفن کرنے کے مترادف ہے تو دوسری جانب ایک تھکی ہاری، بے حال اور دبے ہوئی عوام ہے جو روز مہنگائی، بیروزگاری اور بڑھتے ہوئے بلوں کے طوفان میں اپنی سانسیں گن رہی ہے۔ مگر اس دو انتہاؤں کے درمیان جو سب سے حیران کن فرق ہے وہ ردعمل کا ہے،جیساکہ تاجر متحد ہو کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور عوام چپ چاپ "جوتے” کھاتی رہتی ہے۔

    حالیہ بجٹ 2025-26 کے خلاف بزنس کمیونٹی کے واضح اور بھرپور ردعمل نے اس تاثر کو مزید مستحکم کیا ہے کہ یہ طبقہ جانتا ہے کہ اپنی آواز کیسے منوانی ہے۔ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے صدر اکرام الحق، پاکستان سپورٹس گڈز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین خواجہ مسعود اختر اور دیگر تمام کاروباری نمائندوں نے متفقہ طور پر نہ صرف بجٹ کو مسترد کیا بلکہ 19 جولائی کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان بھی کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ 37A اور 37B جیسے "کالے قوانین” بزنس کو تباہ کرنے کی سازش ہیں اور آئی ایم ایف کی خوشنودی کے لیے مقامی صنعتوں کی گردن مروڑی جا رہی ہے۔

    یہ تمام بیانات اور فیصلے بتاتے ہیں کہ تاجر طبقہ نہ صرف حالات کی نزاکت کو سمجھتا ہے بلکہ منظم، متحد اور باہمی اتفاق سے ان کا مقابلہ بھی کرتا ہے۔ اُن کے پاس ادارے ہیں، پلیٹ فارم ہیں، قیادت ہے اور سب سے بڑھ کر شعور ہے کہ کب، کہاں اور کیسے اپنی طاقت کو استعمال کرنا ہے۔

    اب آئیے دوسری طرف دیکھیں تو وہ عوام جس پر ہر مہینہ بجلی کے بلوں کی صورت میں قہر نازل ہوتا ہے، جس کے باورچی خانے میں آٹا، چینی، گوشت اور سبزیاں خواب بن چکے ہیں جو روز کسی نہ کسی خاندان کی خودکشی کی خبر سن کر بھی چپ رہتی ہے۔ واپڈا کی "سلیب گردی” ہو یا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، ہر مسئلہ براہ راست عوام کو متاثر کرتا ہے۔ پھر بھی کوئی اجتماعی احتجاج، کوئی ملک گیر تحریک، کوئی شٹر بند ہڑتال نظر نہیں آتی۔

    اس عوامی خاموشی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ سب سے بڑی وجہ ایک مؤثر قیادت اور تنظیم کی عدم موجودگی ہے۔ عوام کے پاس نہ کوئی چیمبر آف کامرس ہے، نہ کوئی نمائندہ آواز، نہ ہی وہ متحد ہونے کے کسی پلیٹ فارم پر متفق ہیں۔ دوسرا، خوف اور مایوسی نے دلوں کو مردہ کر دیا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ "کچھ نہیں بدلے گا”، اور اس سوچ نے انہیں بے عملی کی قبر میں دفن کر دیا ہے۔ حزب اختلاف کی غیر موجودگی اور میڈیا کی مصلحت پسندی نے اس بے حسی کو اور بھی مضبوط کر دیا ہے۔

    تاجروں کی ہڑتال ہمیں بتاتی ہے کہ اتحاد میں طاقت ہے، تنظیم میں اثر ہے اور قیادت میں سمت ہے۔ اگر عوام ان اصولوں کو اپنائیں تو وہ بھی اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ لیکن کیا وہ ایسا کریں گے؟ کیا وہ اپنی بے بسی کو طاقت میں بدلنے کے لیے تیار ہیں؟ یا پھر وہی "جوتے کھاتی عوام” بن کر تماشائی بنی رہے گی؟

    اس موقع پر ایک پرانی کہاوت یاد آتی ہے کہ”سو پیاز اور سو جوتے۔” جب بادشاہ نے مجرم کو اختیار دیا کہ وہ یا تو سو پیاز کھائے یا سو جوتے سہے، تو اس مجرم نے پہلے پیاز کھانے شروع کیے۔ مگر جب برداشت نہ رہی تو جوتوں کی سزا قبول کی اور آخر کار دونوں پورے کیے،سو پیاز بھی کھائے اور سو جوتے بھی سہے۔

    آج پاکستانی عوام بھی اسی دو راہے پر کھڑی ہے۔ وہ ہر روز "پیاز” کی صورت میں مہنگائی، بیروزگاری، لوڈشیڈنگ اور ٹیکسوں کا بوجھ اٹھا رہی ہے اور "جوتوں” کی صورت میں ذلت، بے بسی، استحصال اور خاموشی برداشت کر رہی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ عوام کب تک سو پیاز اور سو جوتے دونوں سہتی رہے گی؟ کیا وہ تاجروں کی طرح اپنے حق کے لیے اٹھ کھڑی ہو گی؟ کیا اب وقت نہیں آیا کہ "تماشائی” کی حیثیت سے نکل کر "تحریک” کا حصہ بن جایا جائے اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے؟ یہ فیصلہ اب صرف عوام نے ہی کرنا ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتی ہے۔

  • رچرڈ وولف کی سخت انتباہ: ٹرمپ کا معاشی منصوبہ امریکہ کو نہیں بچائے گا .تحریر: ناصر اسماعیل

    رچرڈ وولف کی سخت انتباہ: ٹرمپ کا معاشی منصوبہ امریکہ کو نہیں بچائے گا .تحریر: ناصر اسماعیل

    دہائیوں تک، امریکی معیشت ڈالر کی بالادستی اور غیر ملکی قرضوں کی بدولت عالمی سطح پر غالب رہی۔ لیکن معاشیات دان رچرڈ وولف اپنے حالیہ تجزیے میں خبردار کرتے ہیں کہ یہ دور اب ختم ہو رہا ہے۔ امریکہ کے زوال کی اصل وجہ غیر ملکی مقابلہ نہیں بلکہ ملک میں پرورش پانے والی کارپوریٹ لالچ، نظامی عدم مساوات اور سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامیوں کا سامنا کرنے سے انکار ہے۔ ٹرمپ کا ٹیرف پر مبنی معاشی منصوبہ امریکی صنعت کو بحال کرنے سے قاصر ہے، بلکہ یہ ایک مایوس کن چال ہے جو مزدوروں کو مزید دبائے گی، عالمی سطح پر جوابی کارروائیوں کو جنم دے گی اور زوال کی رفتار کو تیز کرے گی۔

    ### *امریکہ کا سنہری دور کیسے ختم ہوا؟*
    وولف اس زوال کی جڑ 1971 تک لے جاتے ہیں جب صدر نکسن نے سونے کے معیار کو ترک کر دیا، جس سے امریکہ کو بے تحاشہ ڈالر چھاپنے کی آزادی مل گئی۔ غیر ملکی ممالک—پہلے جاپان، پھر چین—نے اپنے ڈالرز کو امریکی قرضوں میں تبدیل کر کے امریکی استعمال کو مالی معاونت فراہم کی۔ لیکن اب یہ نظام ٹوٹ رہا ہے۔ ڈالر پر اعتماد کم ہو رہا ہے، سونے کی مقبولیت پھر سے بڑھ رہی ہے اور قرض دہندگان امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کر رہے ہیں۔ دریں اثنا، امریکی کارپوریشنز نے زیادہ منافع کے لیے ملازمتیں بیرون ملک منتقل کر دیں، مینوفیکچرنگ کو کھوکھلا کرنے کے بعد غیر ملکیوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔ وولف کا مؤقف ہے کہ "اصل مجرم تو سی ای اوز اور شیئر ہولڈرز تھے جنہوں نے ملازمتیں بیرون ملک بھیجیں اور منافع اپنی جیبوں میں ڈال لیا۔”

    ### *ٹرمپ کے ٹیرف: مزدوروں پر ٹیکس، کوئی حل نہیں*
    ٹرمپ کا منصوبہ ٹیرف پر انحصار کرتا ہے، لیکن وولف اس کے پیچھے کی منطق کو بے نقاب کرتے ہیں:
    – *صارفین قیمت چکاتے ہیں*: ٹیرف درحقیقت خفیہ ٹیکس ہیں جو کام کرنے والے طبقے کے اخراجات بڑھاتے ہیں جو پہلے ہی جامد اجرتوں کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے۔
    – *بہانہ بازی: چین یا میکسیکو کو مورد الزام ٹھہرانا امریکی کارپوریشنز کے کردار سے توجہ ہٹاتا ہے جنہوں نے ملازمتیں ختم کیں۔ "ملازمتیں ‘بھاگی’ نہیں تھیں—انہیں *جان بوجھ کر منتقل کیا گیا تھا،” وولف کہتے ہیں۔
    – *قلیل مدتی لالچ، طویل مدتی نقصان*: ٹیرف بڑے کاروباروں کا تحفظ کرتے ہیں، مزدوروں کا نہیں۔ یہ جوابی کارروائیوں کو دعوت دیتے ہیں، امریکہ کو الگ تھلگ کرتے ہیں اور حقیقی اصلاحات کو مؤخر کرتے ہیں۔

    ### *گہری بیماری: ایک دھوکے باز نظام*
    یہ بحران صرف معاشی نہیں—یہ جمہوریت کا بھی بحران ہے۔ صرف 3% امریکی آجروں کے طور پر کام کرتے ہیں جبکہ اکثریت کو کام کی جگہ پر فیصلوں میں کوئی آواز حاصل نہیں۔ دولت انتہائی غیر منصفانہ طور پر مرتکز ہے: سب سے امیر 1% آبادی کے پاس نیچے کے 90% سے زیادہ دولت ہے۔ کارپوریشنز اربوں ڈالر اسٹاک خریداری پر خرچ کرتی ہیں جبکہ مزدوروں کو نظر انداز کرتی ہیں۔ دونوں سیاسی جماعتوں—ڈیموکریٹس نے نیم حکمت عملیوں اور کارپوریٹ تعلقات کے ذریعے جبکہ ریپبلکنز نے یونینوں کو توڑنے اور ڈی ریگولیشن کے ذریعے—نے اس نظام کو ممکن بنایا ہے۔

    ### *کیا کوئی راستہ باقی ہے؟*
    وولف کو بڑھتے ہوئے تحریکوں—مزدور تنظیمیں، اشتراکیت میں بڑھتی دلچسپی، ورکر کوآپریٹیوز—میں امید نظر آتی ہے، لیکن وہ وقت کی کمی سے خبردار کرتے ہیں۔ نظامی تبدیلی کے بغیر، امریکہ ناقابل واپسی زوال کا شکار ہو جائے گا۔ "ٹرمپ کا منصوبہ ٹائٹینک پر کرسیوں کو دوبارہ ترتیب دینے جیسا ہے،” وولف کہتے ہیں۔ "سوال صرف سرمایہ دارانہ نظام کے زوال سے بچنے کا نہیں—بلکہ یہ ہے کہ کچھ بہتر کیسے تعمیر کیا جائے۔”

    *حتمی خیال*: اصل تقسیم بائیں اور دائیں کے درمیان نہیں—بلکہ اشرافیہ اور باقی سب کے درمیان ہے۔ جب تک معاشی طاقت کو جمہوریت نہیں دی جاتی، نہ تو کوئی ٹیرف اور نہ ہی کوئی ٹیکس کی چھوٹ ہمیں بچا سکتی ہے۔

  • بلوچستان پھر لہولہو،سیاسی  اورمذہبی لیڈر کہاں سو گئے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بلوچستان پھر لہولہو،سیاسی اورمذہبی لیڈر کہاں سو گئے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بے گناہ شہری اور جوان کب تک شہید ہوتے رہیں گے،کیا حملے روکنا صرف فوج کی ذمہ داری!
    بیورو کریسی اور سول انتظامیہ کس مرض کی دوا ،’’را‘‘ کا نیٹ ورک توڑنے کیلئے ایک ہونا ہوگا
    نواز شریف قوم کی امید، سابق وزیر اعظم موثر کردارادا کریں لوگوں نے آس لگالی
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    سیاسی جماعتیں جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے اپنی سمت درست کریں،مکالمے کو فروغ دیں، اپنا رُخ عوامی خدمت قومی اور بین الاقوامی مسائل جن کا ملک کو سامنا ہے اُن پر توجہ د یں، مسخرے پن سے باہر نکل کر سنجیدہ سیاست کریں، تب جا کر امریکہ سمیت عالمی دنیا سیاسی جماعتوں اور ملکی جمہوریت پر انحصار کرے گی ، سیاسی گلیاروںمیں وہی شور ،وہی ہنگامہ ایک دوسرے پر الزامات،کیا جو کچھ سیاسی گلیاروں میں ہو رہاہے اس سے استحکام پاکستان کا خواب مکمل ہوگا؟ بلوچستان اور ایشیاء کا خوبصورت ترین علاقہ سیاحتی علاقہ کے پی کے لہولہان ہے، کیا ملک کی سیاسی جماعتوں نے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوچا کہ آخر وہ کون سا گناہ ہے جس کی سزا ہماری عوام کو مل رہی ہے؟ کیا پاکستان اور عوام کی سلامتی کے ذمہ دار صرف پاک فوج جملہ ادارے اور پولیس ہی ہیں ؟ سیاستدانوں ، مذہبی جماعتوں ، بیوروکریٹ ، بیورو کریسی اور انتظامیہ کی بھی کوئی ذمہ داری ہے یا نہیں،بلاشبہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں کردار ادا کررہا ہے ، بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ کا نیٹ ورک بلوچستان میں اور افغانستان میں پھیلا ہے، پاکستا ن میں موجود جو چھوٹے بڑے شہروں میں افغانی مبینہ طور پر اس میں ملوث ہو سکتے ہیں، بلوچستان میں بے گناہ لوگ شہید ہو رہے سیکیورٹی فورسز اور شہری ،یہ نہایت سنگین اور پیچیدہ مسئلہ ہے ، اس کو روکنے کے لئے ایک جامع پائیدار اور سنجیدہ حکمت عملی کی ضرورت ہے، بلوچستان میں بھارت کی مداخلت کو سفارتی ذرائع سے روکاجائے ، امریکہ یورپی ممالک اور دیگر ممالک میں موجود سفارت کار اپنا کردار ادا کریں، اندرون ملک ایسے اقدامات اُٹھائے جائیں تاکہ کوئی بیرونی قوت فائدہ نہ اُٹھا سکے، ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین بلوچستان کو لے کر اپنا کردار ادا کریں، صدقے دل سے اس لہولہان بلوچستان اور کے پی کے کو امن کا گہوارہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں، اس سلسلے میں نواز شریف کی سربراہی میں تمام سیاسی قائدین گول میز کانفرنس میں فیصلہ کریں ، نواز شریف ملک کے ایک ممتاز سیاستدان ہیں جنہوں نے ملکی سیاست میں کئی دہائیوں تک فعال کردار ادا کیا ہے ، وہ موثر کردار ادا کر سکتے ہیں ، نواز شریف بطور سابق وزیراعظم اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ، لاہور میں موجود نواز شریف ملک وقوم کے لئے اُمید ہے ،اپنا موثر کردار ادا کریں گے

  • خود فراموشی کا انجام،تحریر: اقصیٰ جبار

    خود فراموشی کا انجام،تحریر: اقصیٰ جبار

    Email; jabbaraqsa2@gmail.com

    قوموں کی زندگی میں کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب صرف منزل کا کھو جانا المیہ نہیں ہوتا، بلکہ راستے کا بھٹک جانا اور خود کو پہچاننے سے انکار کرنا اصل تباہی بن جاتا ہے۔ پاکستان آج ایک ایسے ہی نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف معاشی بحرانوں کا لامتناہی سلسلہ، دوسری طرف سماجی بگاڑ کی انتہا، اور ان سب کے درمیان بطور امت مسلمہ ہماری بےحسی اور لاتعلقی، گویا خود کشی کی مکمل تصویر ہے۔

    یہ سچ ہے کہ مہنگائی، بیروزگاری، بدعنوانی اور عدالتی نظام کی کمزوریاں ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہی ہیں، مگر اصل زہر ہماری اجتماعی بےحسی میں ہے۔ آج کا پاکستانی فرد صرف اپنی ذات تک محدود ہو چکا ہے۔ اسے ہمسائے کی بھوک نظر نہیں آتی، اسے مزدور کی محنت کی قدر نہیں، اسے استاد کی توقیر کا شعور نہیں۔ معاشرتی اقدار صرف تقریروں تک محدود ہو چکی ہیں اور کردار سازی کا عمل تعلیمی نصاب میں دفن ہو چکا ہے۔

    ہم نے دین کو صرف عبادات تک محدود کر دیا، حالانکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ قرآن صرف رواجی تلاوت کے لیے رکھا گیا، اور سنت صرف تقریر کا موضوع بنی رہی۔ ہم نے دین کو دل سے نہیں، رسم سے اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ نمازیں بڑھتی گئیں اور معاملات بگڑتے گئے، داڑھیاں لمبی ہوئیں مگر دل تنگ، مساجد آباد ہوئیں مگر بازار بےایمان۔

    پاکستان کے بازاروں میں جھوٹ عام ہے، دفاتر میں رشوت معمول، سڑکوں پر بدتمیزی عام، اور تعلیمی اداروں میں اخلاقیات ناپید۔ ہم نے ترقی کو صرف عمارتوں سے جوڑا، انسانوں کے معیارِ فکر اور احساس کو نظر انداز کر دیا۔ اسی لیے آج ہمارے ہاں شرحِ خواندگی تو بڑھ رہی ہے، مگر شعور گھٹ رہا ہے۔

    امتِ مسلمہ کی حالت بھی مختلف نہیں۔ ہم جو کبھی ایک صف میں کھڑے ہونے کا فخر رکھتے تھے، آج قومیت، مسلک، اور مفادات میں بٹ چکے ہیں۔ فلسطین، کشمیر، روہنگیا اور غزہ کی چیخیں صرف سوشل میڈیا پر دکھ بھری پوسٹوں تک محدود ہیں۔ عملی اقدامات کا جذبہ ناپید ہو چکا ہے۔ او آئی سی جیسے ادارے صرف اجلاس منعقد کرنے کے لیے رہ گئے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ مسلمان امت کا مفہوم قیادت، علم، اخلاق اور عدل سے جڑا تھا، اور آج ہم صرف ردعمل سے کام چلا رہے ہیں۔

    اب بھی وقت ہے کہ ہم خود احتسابی کریں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے زوال کا سبب باہر نہیں، ہمارے اندر ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم اپنے رویوں، سوچ اور ترجیحات کو بدلنا ہوگا۔ عبادات کے ساتھ معاملات کو بہتر بنانا ہوگا۔ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے، سچ بولنے، حق کا ساتھ دینے، اور علم کو بنیاد بنانے کا عہد کرنا ہوگا۔

    کیونکہ اگر ہم نے اب بھی آنکھ نہ کھولی، تو تاریخ صرف ہمارا نوحہ لکھے گی، فخر نہیں۔

  • حکومتی بے حسی اور پاکستان میں برین ڈرین

    حکومتی بے حسی اور پاکستان میں برین ڈرین

    حکومتی بے حسی اور پاکستان میں برین ڈرین
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان آج ایک ایسی کربلا سے گزر رہا ہے جہاں اس کے نوجوان، اس کا سب سے قیمتی اثاثہ، معاشی بدحالی، ہوشربا مہنگائی اور حکومتی بے حسی کے ہاتھوں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ 2023 سے جولائی 2025 تک، لاکھوں پاکستانی، جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، نرسز، اور اساتذہ شامل ہیں، بہتر مستقبل کی تلاش میں ہجرت کر گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف 2025 کے پہلے تین ماہ میں 172,144 نوجوان روزگار کے لیے بیرونِ ملک روانہ ہوئے جبکہ سیالکوٹ جیسے صنعتی شہر سے 4831 نوجوان، جن میں 60 فیصد تعلیم یافتہ تھے، نے وطن کو الوداع کہا۔ بدقسمتی سے، غیر قانونی سمندری راستوں سے یورپ جانے کی کوشش میں 343–353 پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ اعداد و شمار صرف ہندسوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہر اس خاندان کی چیخ و پکار ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔

    2023 میں 862,000 اور 2024 میں 727,381 پاکستانی ہجرت کر گئے، جن میں سے 45,687 ہنرمند افراد تھے۔ 2025 کے پہلے تین ماہ میں یہ تعداد 172,144 تک جا پہنچی، اور اگر چھ ماہ کے اعداد و شمار شامل کیے جائیں تو یہ تعداد کئی لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ سیالکوٹ سے ہجرت کرنے والے 4831 نوجوانوں میں سے 60 فیصد اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، جو وطن میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق روزگار نہ ملنے کے باعث مشرق وسطیٰ، یورپ، اور امریکہ کی طرف رخ کر گئے۔ یہ "برین ڈرین” پاکستان کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ ملک اپنی باصلاحیت نسل کھو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک جیسے سعودی عرب، قطر، اور دبئی تعمیراتی اور ٹیکنیکل شعبوں میں ملازمتیں فراہم کر رہے ہیں، لیکن یورپ جانے کی خواہش میں کچھ نوجوان غیر قانونی سمندری راستوں کا انتخاب کرتے ہیں، جہاں انسانی سمگلرز ان کے خوابوں کا استحصال کرتے ہیں۔

    غیر قانونی ہجرت کے دوران سمندری سانحات نے پاکستانی معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ 2023 سے جولائی 2025 تک، 343–353 پاکستانی بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس میں کشتیوں کے ڈوبنے سے ہلاک ہوئے۔ اٹلی کے کروٹون ساحل پر 27 فروری 2023 کو ہونے والے حادثے میں 6 پاکستانی ہلاک ہوئے، جن میں سے 2 کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی اور 4 لاپتہ رہے۔ یونان کے پلاس ساحل پر جون 2023 میں ایک کشتی ڈوبنے سے 241–251 پاکستانی ہلاک ہوئے، جن میں سے 111 مصدقہ اور 130–140 غیر مصدقہ ہیں۔ لیبیا کے ساحلوں پر مارچ 2023، فروری 2025، اور جولائی 2025 سے قبل کے واقعات میں 29–39 پاکستانی اپنی جان سے گئے۔ مراکش کے ساحل پر جنوری 2025 میں 13 اور بحر اوقیانوس میں 2 جنوری 2025 کو 44 پاکستانی ہلاک ہوئے، جب انسانی سمگلرز نے پیسوں کے تنازع پر کچھ افراد کو سمندر میں پھینک دیا۔ ہر ہلاکت ایک ماں کی چیخ، ایک باپ کی امید اور ایک خاندان کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کہانی ہے۔

    اس المیے کی جڑیں پاکستانی معاشرے کے معاشی اور سماجی حالات میں پیوست ہیں۔ 2023 میں افراط زر 46 فیصد تک جا پہنچا، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ آٹا، چینی اور ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جبکہ بجلی کے بل تین گنا اور ایندھن کی قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں۔ ایک عام پاکستانی خاندان اپنی آمدن کا 70 فیصد کھانے اور بجلی کے بلوں پر خرچ کر رہا ہے۔ بے روزگاری کی شرح 22 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور 4.5 ملین پاکستانی بے روزگار ہیں، جن میں سے 11.1 فیصد نوجوان ہیں۔ سیالکوٹ جیسے شہر جو صنعتی سرگرمیوں کے لیے مشہور ہے، وہاں بھی 60 فیصد تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نوکریاں نہیں مل رہیں۔ ایک 33 سالہ خاتون جو برطانیہ ہجرت سے قبل دو نوکریاں کرتی تھی، کہتی ہیں کہ وہ گھریلو اخراجات پورے نہ کر سکیں۔ یہ حالات نوجوانوں کو وطن چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

    حکومتی بے حسی نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ وزراء خاص طور پر اویس لغاری جیسے ذمہ داران، جو توانائی کے شعبے کی نگرانی کرتے ہیں، عوام کو بنیادی سہولیات دینے میں ناکام رہے ہیں۔ بجلی کے ناقابل برداشت بل اور لوڈشیڈنگ نے متوسط اور غریب طبقے کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ پر سبسڈیاں ختم کرنے سے مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا، لیکن حکومت نے کوئی ٹھوس حل پیش نہیں کیا۔ سیاسی عدم استحکام جو 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے سے شروع ہوا، نے معاشی اصلاحات کو روک دیا۔ بونگے وزراء کی ناقص پالیسیوں نے عوام کا اعتماد ختم کر دیا ہےاور حکومتی دعوؤں کے باوجود مقامی روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے۔ صنعتی زونز، کاروبار دوست پالیسیاں اور تعلیمی اصلاحات کے وعدے کاغذی رہے ہیں جبکہ پاکستانی معیشت زوال کا شکار ہے۔ 2023 میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 3 بلین ڈالر تک گر گئے جو صرف تین ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی تھے۔

    غیر قانونی ہجرت کی طرف راغب ہونے کی وجوہات بھی رقت آمیز ہیں۔ انسانی سمگلرز دیہی علاقوں کے نوجوانوں کو یورپ میں "سنہری مستقبل” کے جھانسے دیتے ہیں اور لاکھوں روپے لے کر انہیں موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔ قانونی ہجرت کے لیے ویزوں کا حصول مشکل اور مہنگا ہے، جس سے نوجوان غیر قانونی راستوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ کچھ خاندانی دباؤ اور سماجی توقعات کے تحت خطرہ مول لیتے ہیں جبکہ دیگر کو سمندری سفر کے خطرات کا علم ہی نہیں ہوتا۔ ایک سروے کے مطابق 37 فیصد پاکستانی ہجرت کی خواہش رکھتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل نظر نہیں آتا۔ یہ مایوسی پاکستانی معاشرے کی روح کو کھوکھلا کر رہی ہے۔

    اس "برین ڈرین” کے نتائج تباہ کن ہیں۔ پاکستان اپنی باصلاحیت نسل کھو رہا ہے، جو معاشی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ گجرات اور کوٹلی جیسے شہروں سے لاپتہ ہونے والے 100 سے زائد پاکستانیوں کے خاندان آج بھی انتظار میں ہیں۔ ایک ماں کا اپنے بیٹے کی لاش کے انتظار میں روتے ہوئے کہنا کہ "میں نے اسے پڑھایا، لیکن اسے نوکری نہ ملی” دل کو چیر دیتا ہے۔ یہ سانحات صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ حکومتی ناکامی اور عوام کو کچھ بھی ڈیلیور نہ کر پانے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ تعلیمی نظام ملکی معیشت کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افرادی قوت تیار نہیں کر رہا اور صنعتی ترقی کی کمی نے روزگار کے مواقع کم کر دیے ہیں۔ پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے لیکن معیشت اس "یوتھ بلج” کو جذب کرنے سے قاصر ہے۔

    اس بحران سے نکلنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ مقامی روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے صنعتی زونز قائم کیے جائیں۔ ووکیشنل ٹریننگ اور ہنر مندی پر مبنی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی اور عوام میں غیر قانونی ہجرت کے خطرات کے بارے میں آگاہی ضروری ہے۔ مہنگائی اور بجلی کے بلوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹھوس پالیسیاں بنائی جائیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو پاکستان اپنی ترقی کے خوابوں کو ہمیشہ کے لیے کھو دے گا۔

    کیا ہم ہمیشہ اپنی قوم کے بہترین دماغوں کو بیگانہ سرزمینوں پر دفن ہونے کے لیے رخصت کرتے رہیں گے؟ کیا یہ وقت نہیں آ گیا کہ ہم سوچیں، کیوں ہمارا نوجوان اپنے وطن سے ناامید ہے؟ کیا حکومتیں صرف اعداد و شمار پر آنکھیں بند رکھیں گی، یا ان ماؤں کی فریاد سنیں گی جن کے بیٹے سمندروں میں غرق ہو گئے؟ کیا ہم اس سسٹم کو بدلنے کے لیے کھڑے ہوں گے یا یوں ہی اپنی صلاحیتوں کو دفن ہوتے دیکھتے رہیں گے؟ سوالات ہمارے سامنے ہیں، مگر کیا ہمارے پاس ان کے جوابات ہیں؟

  • امریکہ ایک فیصلے کے موڑ پر: بدلتی دنیا میں ڈھل جاؤ یا ختم ہو جاؤ.تحریر:ناصر اسماعیل

    امریکہ ایک فیصلے کے موڑ پر: بدلتی دنیا میں ڈھل جاؤ یا ختم ہو جاؤ.تحریر:ناصر اسماعیل

    امریکہ ایک بحران کے دہانے پر کھڑا ہے— لیکن یہ بحران فوجی شکست یا معاشی تباہی کا نہیں، بلکہ غیر اہمیت کا ہے۔ دہائیوں تک، دوسری جنگ عظیم کے بعد کا عالمی نظام واشنگٹن کی بالادستی کے گرد گھومتا رہا، لیکن دنیا آگے بڑھ چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ بدلتے حالات کے مطابق ڈھلے گا یا ماضی کو تھامے رہے گا جبکہ نئی طاقتیں عالمی منظر نامے کو نئی شکل دے رہی ہیں۔

    ### *سپر پاور کا پرانا کھیل ختم ہو رہا ہے*
    امریکی ڈالر کی کمی اس کہانی کو بیان کرتی ہے۔ کبھی عالمی تجارت کا ناقابل چیلنج ستون رہنے والی یہ کرنسی صرف اس سال ہی 10 فیصد گر چکی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 2025 کے آغاز میں امریکی مارکیٹوں سے 500 ارب ڈالر نکال لیے، جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتیں خاموشی سے یوآن اور یورو جمع کر رہی ہیں۔ پابندیاں، جو کبھی طاقت کا بے رحم ہتھیار تھیں، اب الٹا اثر کر رہی ہیں، کیونکہ روس اور جیسے ممالک ڈالر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے روپے میں تیل کی تجارت کر رہے ہیں۔

    دریں اثنا، BRICS—جس میں اب سعودی عرب اور ایران جیسے بڑے ممالک بھی شامل ہو چکے ہیں—دنیا کی کل GDP کا تقریباً 45 فیصد حصہ ہے۔ چین کے "بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبے نے براعظموں میں پھیلے ہوئے 1 ٹریلین ڈالر کے انفراسٹرکچر کے ذریعے اپنا اثر بڑھایا ہے، جبکہ افریقہ کے 53 ممالک کے ساتھ صفر ٹیرف معاہدے نے "باہمی فائدے” کو محض ایک نعرے سے زیادہ بنا دیا ہے۔

    ### *تحفظ پسندی بمقابلہ شراکت داری*
    امریکہ کا ردعمل؟ دیواریں اور بلند۔ افریقہ اور یورپ کی مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف نے اتحادیوں کو مایوس کر دیا ہے، اور معیشتیں دوسری طرف دیکھ رہی ہیں۔ اس کے برعکس چین کا افریقہ کے ساتھ تجارتی عروج: سڑکیں، بندرگاہیں اور فیکٹریاں جو کسی نظریاتی شرط کے بغیر بنائی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افریقی رہنما اب واشنگٹن نہیں، بلکہ بیجنگ کو اپنا سب سے بڑا معاشی پارٹنر کہتے ہیں۔

    صنعت میں بھی فرق بڑھ رہا ہے۔ امریکی مینوفیکچرنگ دنیا کی کل پیداوار کا صرف 17 فیصد ہے، جو چین کے 30 فیصد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ پینٹاگون کے لامتناہی بجٹ بھی اس حقیقت کو چھپا نہیں سکتے کہ ویت نام، افغانستان اور اب یوکرین کی جنگیں بغیر معاشی استحکام کے فوجی طاقت کی حدیں ظاہر کر چکی ہیں۔

    ### *نئی عالمی نظام کا انتظار نہیں کرے گا*
    روس اور چین کے 2024 کے دفاعی معاہدے نے سب کو جگا دیا۔ اسی طرح بھارت کا روس کے ساتھ روپے میں تیل کا سودا بھی ایک اشارہ تھا۔ ممالک اپنے اختیارات بڑھا رہے ہیں، اور امریکہ، جو اب بھی سرد جنگ کے ذہنیت میں جکڑا ہوا ہے، ایک تماشائی بننے کے خطرے سے دوچار ہے۔

    سبق؟ دباؤ کا طریقہ کام کرتا ہے— لیکن صرف ایک حد تک۔ دنیا اب کثیر قطبی ہو چکی ہے، اور ممالک کے پاس متبادل موجود ہیں۔ اگر امریکہ وفاداری کا مطالبہ کرتا رہا لیکن احترام یا باہمی فائدہ پیش نہیں کرے گا، تو طویل عرصے کے اتحادی بھی راستہ بدل سکتے ہیں۔

    ### *مستقبل کے لیے ایک انتخاب*
    یہ مایوسی پھیلانے والی بات نہیں— یہ حقیقت ہے۔ امریکہ میں اب بھی بے مثال اختراع، ثقافتی اثر اور جمہوری اقدار موجود ہیں۔ لیکن جب تک یہ تکبر کو لچک، پابندیوں کو سفارت کاری اور تحفظ پسندی کو حقیقی شراکت داری سے نہیں بدلتا، یہ تاریخ کے غلط رخ پر جا سکتا ہے۔

    اکیسویں صدی ان لوگوں کو موقع دیتی ہے جو تعاون کرتے ہیں، نہ کہ جنہیں حکم چلاتے ہیں۔ سوال یہ ہے: کیا واشنگٹن بروقت سیکھ پائے گا؟