Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پیٹس لورز کلب کی ضرورت،تحریر:ملک سلمان

    پیٹس لورز کلب کی ضرورت،تحریر:ملک سلمان

    گلی میں شدید دھوپ اور گرمی میں قربانی کے بکرے اور گائے بندھی ہوئی نظر آئیں۔ گرمی کی شدت سے بیچارے بکروں کی زبان حلق سے باہر آ رہی تھی۔ گاڑی روک کر پانی کی بوتل جو اپنے لیے رکھی تھی باہر بندھے بکرے کے برتن میں ڈال دی اس نے فور۱” سے پہلے ٹھنڈا پانی پیا اور مشکور نظروں سے آسمان کی طرف دیکھا جیسے اس وقتی ریلیف کیلئے اللہ کا شکر ادا کر رہا ہو۔ پاس بیٹھے چوکیدار سے کہا کہ ان کے مالکان کو سمجھاؤ اتنی گرمی ہے گھر میں کسی پنکھے کے نیچے ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔ چوکیدار نے بتایا کہ صاحب جی میری ڈیوٹی ان کا باہر خیال رکھنا ہے کہ کوئی چور ی نہ کر کے لے جائے، باقی ساری گلی والوں نے بکرے اور گائے اس لیے باہر باندھے ہوئے ہیں کہ ہر آتے جاتے کو دکھا سکیں کہ وہ قربانی کررہے ہیں۔ مجھے ہماری اجتماعی گھٹیا سوچ پر شدید دکھ ہوا کہ قربانی کا مقصد دکھاوا ہی رہ چکا ہے جبکہ قربانی فرض کرنے کا حقیقی سبق تو یہ تھا کہ آپ اپنی عزیز چیز اللہ کی راہ میں قربان کریں۔ جس بکرے کو ہم نے اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہے اس کو شدید دھوپ اور گرمی میں اذیت دیکر ہماری قربانیاں کیسے قبول ہوسکتی ہیں۔؟

    خدارا نمود و نمائش میں پاگل ہوکر ان معصوم اور بے زبان جانوروں پر ظلم نہ کریں ورنہ اللہ کی قسم تمہاری قربانی قبول ہونا تو دور یہ جانور اللہ کے ہاں تمہاری شکایت کریں گے۔ اس اذیت کے بدلے تمہارا گریبان پکڑیں گے۔ بکرا منڈی کے انتظامی افسران سے بھی گزارش ہے جہاں اتنے اللے تللوں کے جعلی بل تیار کرتے ہیں وہیں ان بے زبان جانوروں کیلئے پنکھے، ائیر کولر اور سایہ فراہم کرکے دعائیں لیں۔

    اگر آپ کا بکرا بھی باہر گلی میں بندھا ہے یا کہیں گرم جگہ تو اسی فوری سایہ دار جگہ اور ٹھنڈی ہوا فراہم کریں۔
    ہمارے گھر میں عید سے چند دن پہلے بکرا آجاتا ہے اگر گرمی ہوتو مناست ٹھنڈی جگہ اور پنکھے کا انتظام کیا جاتا ہے جبکہ مجھے یاد ہے کہ جب سردیوں کی عید ہوتی تھی تو امی بکرے کو جرسیاں اور کمبل پہنا کر خیال رکھتی تھیں۔ بکرے کو چیف گیسٹ کا سٹیٹس دیا جا تھا، دالیں، پھل سبزیاں اور تازہ چارہ کھلایا جاتا تھا۔ امی نے سختی سے تلقین کرنی کہ یہ اللہ کا مہمان ہے اس کی خدمت کرو گے تو اللہ قربانی قبول کرے گا۔ ہمارے گھر میں بولنے والا راء طوطا ہے جسے گرمیوں میں اے سی کمرے میں اور سردیوں میں ہیٹر والے کمرے میں شفٹ کردیا جاتا ہے۔ گھر میں آنے والے ہر پھل پر پہلا حق طوطے کا ہوتا ہے۔ گھر کی چھت پر دو درجن سے زائد مٹی کے کونڈے ہیں جن میں باجرہ، گندم اور پانی رکھا جاتا ہے تاکہ پرندے کھانا کھا سکیں اور پانی پی سکیں۔

    لکھاری کا کام حکومت،افراد اور اداروں کی تعریف یا تنقید کرنا نہیں ہوتا۔ لکھاری کا اصل کام یہی ہے کہ معاشرتی برائیوں اور مسائل کا ذکر کیا جائے۔اس لیے میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ منافقانہ شرم و ہچکچاہٹ کی بجائے معاشرتی برائیوں کا تذکرہ کرتا رہوں۔

    آئے دن کسی نہ کسی معصوم جانور اور پرندوں پر ظلم و زیادتی کی خبریں دیکھ کر دل شدید رنجیدہ ہوتا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ پیٹس لورز کلب (pets Lovers Club) بنایا جائے جہاں خاص طور پر معاشرتی ناانصافی اور انسانوں کے جانوروں کے ساتھ غیرانسانی رویوں اور ظلم و ستم کا شکار سٹریٹ ڈاگ، بلیوں سے لیکر ہر طرح کے جانوروں کیلئے کئیر سینٹر ہو۔ زخمی جانوروں اور پرندوں کیلئے ہسپتال اور ریہبلیٹیشن سینٹر ہو۔ جو احباب بھی Pets Lovers Club(پیٹس لورز کلب) کا حصہ بننا چاہتے ہوں ضرور انباکس کریں ہم اجتماعی کاوش سے انسانیت دوستی کی اچھی مثال قائم کرسکتے ہیں۔

    حکومت کو چاہئے کہ گھریلو جانوروں کیلئے انسپیکشن کا سسٹم ہو اگر کسی کو گھر میں PET رکھنے کا شوق ہو تو مناسب سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ جانوروں اور پرندوں پر ظلم و زیادتی کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور سخت سزائیں دی جائیں۔

    میں نے عید الفطر پر بھی لکھا تھا کہ اگر عید کی حقیقی خوشی حاصل کرنی ہے تو ذاتی ملازمین کے ساتھ ساتھ گلی، محلے، بینکوں اور پبلک مقامات کی سکیورٹی اور دیگر ڈیوٹی پر مامور ایسے افراد کو عیدی ضرور دیں جو اپنی عید قربان کر کے بھی ہماری حفاظت کا فریضہ ادا کرتے ہیں اور عید جیسے اہم تہوار پر بھی حصول رزق حلال کیلئے کام کر رہے ہوتے ہیں۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • مودی کی گولی، سیندور اور سردار

    مودی کی گولی، سیندور اور سردار

    مودی کی گولی، سیندور اور سردار
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    26 مئی 2025 کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات کے شہر بھوج میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو کھلی دھمکی دی، جس نے پاک بھارت تعلقات میں ایک نیا تناؤ پیدا کر دیا۔ مودی کا یہ بیان کہ "پاکستان کے عوام سوچیں کہ انہوں نے کیا حاصل کیا؟ انڈیا آج دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے اور پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ پاکستان کے لوگوں کو آتنک سے نجات کے لیے خود آگے آنا ہوگا، ورنہ میری گولی تو ہے” جوعالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور علاقائی امن کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ پاکستان نے اسے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی، جس نے نام نہاد "آپریشن سندور” کی ناکامی اور بھارت کی سفارتی کمزوری کو مزید بے نقاب کر دیا۔

    مودی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب پاکستان نے بھارت کے تین رافیل سمیت سات طیاروں اور 26 دفاعی تنصیبات کو تباہ کر دیا تھا، جس سے بھارت کی جھنجھلاہٹ صاف ظاہر ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں 15 مئی 2025 کو ایک سکھ سردار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں انہوں نے آپریشن سندور کے نام اور اس کی تاریخی اہمیت پر طنزیہ تبصرہ کیا۔ سردار نے دعویٰ کیا کہ جب ہندوستان پر غیر ملکی حملہ آور جیسے ترک اور مغل وغیرہ حملہ کرتے تھے تو وہ نہ صرف مال و اسباب لوٹتے تھے بلکہ ہندوستانی خواتین کو بھی اغوا کرکے لے جاتے اور بیچ دیتے تھے۔ ان کے مطابق اُس وقت کے ہندوستانی مردوں نے، جنہیں وہ "بزدل” کہتے ہیں، حملہ آوروں سے منت کی کہ وہ ہماری کنواری لڑکیوں کو لے جائیں لیکن شادی شدہ خواتین کو چھوڑ دیں اور ان کی شناخت کے لیے شادی شدہ خواتین کی مانگ میں سندور لگانا شروع کیا۔ سردار نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ روایت ہندوؤں کی بزدلی کی علامت ہے کیونکہ انہوں نے اپنی خواتین کی حفاظت کے لیے کوئی عسکری اقدام کرنے کے بجائے ایک علامتی نشان اپنایا۔ انہوں نے مودی کی غیرت اور "گولی مارنے کی اوقات” کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور کی ناکامی اور مودی کی دھمکی اسی تاریخی کمزوری کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ سندور کی روایت ہندو مذہب میں صدیوں سے موجود ہے اور اس کا تعلق ویدک رسومات سے ہے، سردار کا یہ بیان مودی کی ناکامی کو ایک طنزیہ انداز میں پیش کرتا ہے۔

    پاکستان نے مودی کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اشتعال انگیز، نفرت پھیلانے والا اور عالمی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے پریس ریلیز میں کہا کہ ایک جوہری طاقت کے وزیر اعظم کا اس انداز میں بیان دینا انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اپنا دفاع کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ مودی کا بیان خطے کے امن کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی اشتعال انگیز سیاست اور انتہا پسندانہ سوچ کا نوٹس لے۔

    آپریشن سندور سے قبل بھارت نے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا، حالانکہ بین الاقوامی قانون اسے یہ اختیار نہیں دیتا۔ بھارت نے تمام پاکستانی شہریوں کے ویزوں کو منسوخ کر دیا، حتیٰ کہ علاج کے لیے بھارت میں موجود پاکستانیوں کو بھی کوئی رعایت نہیں دی گئی۔ پاکستانی خواتین جو بھارت میں بیاہی گئی تھیں اور بھارتی خواتین جو پاکستان میں بیاہی گئی تھیں اور اپنے میکے ملنے بھارت گئی تھیں، انہیں بھی سفری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں۔

    7 مئی 2025 کو شروع ہونے والے آپریشن سندور میں بھارتی فضائیہ نے رافیل طیاروں کے ذریعے پاکستان اور آزاد کشمیر میں مبینہ دہشت گرد کیمپوں پر میزائل حملے کیے۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے جیش محمد، لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے ٹھکانوں پر کیے گئے، تاہم پاکستان میں حملےشہری علاقوں میں کئے گئے، جس میں بہاولپور کی ایک مسجد سمیت دیگر مقامات کو نقصان پہنچا اور 40 شہری شہید ہوئے۔ پاکستان نے 10 مئی کو "آپریشن بنیان مرصوص” کے نام سے جوابی کارروائی کی، جس میں پاکستانی فضائیہ نے بھارتی فضائی دفاعی نظام، تین رافیل سمیت سات طیاروں اور 26 فوجی تنصیبات کو تباہ کیا۔ بھارتی فوج کی ترجمان کرنل صوفیہ قریشی نے پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ پاکستان نے 26 بھارتی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور بھارت مزید لڑائی نہیں چاہتا۔

    بھارتی میڈیا نے ابتدا میں آپریشن سندور کو کامیابی کے طور پر پیش کیا، لیکن پاکستانی جوابی کارروائی نے بھارت کی ناکامی کو عیاں کر دیا۔ جرمن میڈیا نے رپورٹ کیا کہ رافیل طیاروں کی تباہی نے آپریشن سندور کو ناکام بنا دیا، اور سابق بھارتی وزیر خارجہ یشونت سنہا نے کہا کہ مودی حکومت "گودی میڈیا” کے ذریعے اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے ناقابل تردید شواہد پیش کیے کہ بھارتی میڈیا نے جھوٹی خبریں پھیلائیں، جن میں لاہور بندرگاہ (جو حقیقت میں موجود نہیں) کی تباہی جیسے مضحکہ خیز دعوے شامل تھے۔ آپریشن سندور کے بعد پاکستان نے بھارتی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں اور تجارتی تعلقات معطل کر دیے۔ آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے بھارتی آپریشن کی مذمت کی اور دونوں فریقوں سے ضبط کی اپیل کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا جو مودی کی سفارتی ناکامی کا واضح ثبوت تھا۔

    آپریشن سندور کی ناکامی، مودی کی کھوکھلی دھمکیاں اور سکھ سردار کی طنزیہ ویڈیو اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت طاقت کے گھمنڈ اور جھوٹے فخر میں حقیقت سے منہ موڑ چکا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف میدان جنگ میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا بلکہ دنیا کو دکھا دیا کہ ہم امن چاہتے ہیں، لیکن دفاع سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ مودی جس "گولی” کی بات کرتا ہے، وہ اب ایک مذاق بن چکی ہے اور "سندور” جو بھارت اپنی غیرت کی علامت بتاتا ہے، وہ درحقیقت ان کی تاریخ کی کمزوریوں کی یاد دہانی ہے۔

    اب بھی وقت ہے کہ بھارتی عوام مودی کی انتہاپسند سوچ، نفرت انگیز پالیسیوں اور جنگی جنون کے آگے بند باندھیں۔ اسے صاف اور دو ٹوک انداز میں یہ پیغام دینا ہوگا کہ بس بہت ہو گیا، ہمیں جنگ نہیں، امن چاہیے۔ پاکستان نے کبھی بھی جنگ کی پہل نہیں کی، لیکن اگر مودی نے دوبارہ ایسی کسی مہم جوئی کی حماقت کی، تو اُسے ایک بار پھر اسی پاکستان سے سامنا کرنا پڑے گا جو نہ صرف ایک مضبوط، متحد اور باہمت قوم ہے بلکہ ایسی جرأت مند مسلح افواج رکھتا ہے جو دشمن کو اس کی سرزمین میں گھس کر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس بار جنگ صرف میدان میں نہیں ہوگی بلکہ بھارت کا پورا شیرازہ بکھر جائے گا اور تاریخ مودی کے غرور کو ایک سبق کے طور پر یاد رکھے گی۔

  • 28مئی کے بعد پاکستان کی ایک اور برتری،تحریر:قاضی کاشف نیاز

    28مئی کے بعد پاکستان کی ایک اور برتری،تحریر:قاضی کاشف نیاز

    اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے اہل پاکستان کو ،اسلامیان پاکستان کو پاکستان اور اسلام کے ازلی دشمن بھارت کے خلاف ایک بار پھر تاریخی فتح سے ہم کنار کیا۔۔۔28مئی کے ایٹمی دھماکوں کے بعد اللہ نے پاکستان کو ایک اور برتری عطا کی۔۔۔ یہ سب یقینا اللہ کی خصوصی مدد سے ہی ممکن ھوا ھے۔۔۔اس موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو اسوہ منقول ھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی فخر کے اظہار کی بجائے اللہ کی بارگاہ میں عاجزی و خشیت سے جھک جاتے۔۔۔اور سجدہ شکر بجا لاتے۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے وقت مکہ میں داخل ھوئے تو اس وقت آپ کی عاجزی کی یہ انتہا تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک اونٹنی پر اتنا جھکا ھوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک لکڑی کے کجاوے سے لگ رہی تھی(المعجم الاوسط للطبرانی:۶/۸۵، رقم الحدیث: ۵۸۷۱)
    اللہ نے بھی ایسے موقع پر اپنے نبی کو یہی تلقین کی
    فسبح بحمد ربک واستغفرہ
    پس اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم،اس فتح عظیم کے موقع پر اپنے رب کا شکر ادا کرو اور اس سے استغفار کرو۔۔
    غرض جب فتح کے موقع پر اللہ اپنے نبی جیسی معصوم عن الخطاء ہستی سے بھی یہ توقع رکھتا ھے کہ وہ اسے اپنی کسی قابلیت،کسی بہادری و ذہانت یا اپنی کسی زبردست جنگی سٹریٹجی کا نتیجہ نہ سمجھیں یا اپنے جدید اسلحہ و تعداد کا کوئی کرشمہ بھی نہ سمجھیں بلکہ اس فتح اور کامیابی کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی خاص غیبی مدد ہی سمجھیں تاکہ اپنی صلاحیتوں کو ہی اصل سمجھ کر کسی غرور و گھمنڈ کا شکار نہ ھو جائیں۔۔ایک نبی کی ہستی سے ایسا گمان بھی معاذاللہ اگرچہ نہیں کیا جا سکتا لیکن اس طرح نبی کو مخاطب کر کے مسلمانوں کی مستقل تربیت کی گئی کہ وہ ایسے کسی بھی موقع پر کسی بھی قسم کی جاہلانہ نخوت کا شکار نہ ھوں۔۔۔
    ایک مسلمان کا یہی انداز ھوتا ھے۔۔جب وہ اپنی ہر کامیابی پر اللہ کے حضور اور زیادہ جھکتا،اسلام پر اور زیادہ کاربند ھوتا اور استغفار کرتا ھے تو اللہ بھی اسے پہلے سے زیادہ کامیابیوں اور کامرانیوں سے نوازتا ھے۔۔اس کی توبہ قبول کرتا ھے،اس کے گناھوں کو مٹاتا بلکہ ان گناھوں کو بھی نیکیوں میں بدل دیتا ھے اور اگر وہ یہ کام نہ کریں تو اللہ جیتی ھوئی جنگ شکست میں تبدیل کرتے بھی دیر نہیں لگاتے۔۔۔ایسی کئی جیتی ھوئی جنگوں کو شکست میں تبدیل ھونے کی کافی مثالیں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔۔سب سے بڑی مثال جنگ احد کی ھے جب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین جنگ جیت چکے تھے۔۔۔جنگ کے آخر میں جب بعض صحابہ کرام سے صرف اتنی غلطی ھوئی اور وہ بھی ایک اجتہادی غلطی۔۔انہیں سالار جنگ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ہدایت تھی کہ ایک درہ کو تاحکم ثانی کسی صورت خالی نہیں کرنا۔۔۔جنگ کے اختتام پر جب لشکر کفار شکست کھا کر پسپا ھو گیا اور فتح پوری طرح واضح ھو گئی تو ان صحابہ کرام نے سمجھا کہ جب فتح ھو گئی اور جنگ بھی ختم ھو گئی،کفار سب پسپا ھو گئے تو اب یہاں کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔چنانچہ انہوں نے وہ جگہ چھوڑ دی۔۔اس معمولی اجتہادی غلطی اور اپنے سالار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نادانستہ نافرمانی کا بھی یہ نتیجہ نکلا کہ پسپا ھوتا شکست خوردہ لشکر کفار درہ خالی دیکھ کے وہیں سے اچانک واپس پلٹا اور مسلمانوں پر پھر سے دھاوا بول دیا جس سے مسلمانوں کا کافی جانی نقصان ھوا اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شدید زخمی ھوئے۔۔
    دور نہ جائیں تو پاکستان کی ابتدائی دو جنگوں کا حال ہی سامنے رکھ لیں ۔۔65ء کی جنگ میں پاکستان نے الحمدللہ اپنے سے پانچ گنا بڑے ملک بھارت کو شکست فاش دی ۔۔۔بھارت کے اندر گھس کر بھارت کے کئی علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا ۔۔اس وقت بھی پاک فضائیہ نے بھارتی طیارے گرانے کے عالمی ریکارڈ قائم کیے ۔۔۔حالانکہ اس وقت ہمارے پاس نہ ایٹمی صلاحیت تھی نہ کوئی جدید چینی ہتھیار،میزائل اور طیارے تھے۔۔بس صرف اور صرف خالص اللہ کی مدد کے سہارے یہ جنگ نہ صرف لڑی گئی بلکہ زبردست کامیابی بھی حاصل کی گئی۔۔۔۔۔ہمارے ہیرو ایم ایم عالم نے تین منٹ سے بھی کم وقت میں پانچ بھارتی طیارے گرائے۔۔۔ایک ایک دن میں بائیس بھارتی طیارے مار گرائے گئے۔۔ سیالکوٹ چونڈہ کے محاذ پر دوسری عالمی جنگ کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ پاکستان نے کامیابی سے لڑی اور دشمن کے بے شمار ٹینکوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔۔۔اتنی بڑی کامیابی اور فتح کے صرف چھ سال بعد کیا ھوا۔۔۔ھم اپنے جشن اور مستیوں میں غرق ھوئے اور بھارت بدلے کے لیے ایک دن بھی آرام سے نہ ںیٹھا۔۔۔71ء میں اس نے واپس پلٹ کر حملہ کیا اور ہمارا آدھا ملک ھم سے الگ کر لیا۔۔۔یہ کامیابی مکار بنیے نے جنگ کے ذریعے کم اور پاکستانی مسلمانوں کو باھم ایک دوسرے سے لڑا کر زیادہ حاصل کی۔۔۔اس نے مغربی پاکستان،پنجاب اور پاک فوج کے خلاف جاہلانہ لسانی عصبیت کے نام پہ اس قدر شدید نفرت پھیلائی کہ مشرقی پاکستان کی عوام اپنی ہی فوج کے خون کی پیاسی ھو گئی۔۔۔جب عوام کو ہی فوج کے خلاف کر دیا جائے تو دنیا کی پھر طاقتور سے طاقتور فوج بھی ناکام ھو جاتی ھے۔۔اسی نکتے کو بھارت نے استعمال کیا اور اس نے اپنی چانکیائی سیاست کے ذریعے پاکستان کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کر لی۔۔۔
    آج بھی بھارت وہی کھیل دوبارہ بچے کھچے پاکستان میں کھیل رہا ھے۔۔۔پھر وہی اسی طرح کا ڈیزائن اور ماحول کہ فوج اور پنجاب کے خلاف نفرت پھیلا دو اور پھر دیکھو کہ پاکستان ٹوٹتا ھے یا نہیں۔۔۔تاھم اللہ کا شکر ھوا کہ پاکستان اس بار بھارت اور ہمارے کچھ نادان سیاستدانوں کی طرف سے ایسے تمام زرخیز ماحول پیدا کرنے کے باوجود جنگ میں بری طرح شکست سے دو چار ھوا ھے۔۔۔لیکن دشمن سے ھمیں ایک لمحہ بھی غافل نہیں رہنا چاہیے۔۔۔ہمارا دشمن انتہائی کمینہ دشمن ھے۔۔۔یہ صرف پاکستان کا دشمن نہیں،یہ اصلا اسلام اور مسلمانوں کا کھلا دشمن ھے۔۔اسی لیے تو آج غزہ کا قصائی اسرائیل ہی جنگ میں اس کا واحد سب سے بڑا دوست بن کے کھڑا تھا۔۔ایسا دشمن زخم کھا کے آرام سے بیٹھنے والا نہیں۔۔۔یہ بدلے کی آگ میں سانپ کی طرح مسلسل پھنکار رہا ھے۔۔مودی ہر الیکشن کے قریب کبھی بھارتی مسلمانوں کے خلاف
    محاذ کھول دیتا ھے تاکہ ہندؤوں کا ووٹ بینک پکا رکھا جا سکے اور کبھی وہ پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتا ھے۔۔۔لیکن اس بار پاکستان کے خلاف اس کی مہم جوئی اسے بری طرح الٹ پڑ گئی۔۔اس نے بڑی منصوبہ بندی سے پہلگام میں کچھ سیاحوں کو خود قتل کرانے کا فالس فلیگ ڈرامہ کیا اور پھر اس کی آڑ میں 6ـ7مئی کی درمیانی شب رات کے اندھیرے میں پاکستان پہ حملہ آور ھو گیا۔۔۔ وہ اپنے تئیں بڑے طمطراق اور جدید ترین ہتھیاروں میزائلوں طیاروں کے ساتھ پورے کر و فر کے ساتھ پاکستان پہ حملہ آور ھوا اور اس یقین کے ساتھ کہ جیسے پاکستان بس چند منٹوں گھنٹوں کی مار ھے لیکن الحمدللہ پاک فوج نے اسے ایسا کرارا جواب دیا کہ وہ الٹا اپنے دو جدید ترین رافیل جہاز سمیت 6طیارے،48ڈرون اور اربوں ڈالر کا جدید ترین دفاعی اینٹی میزائل سسٹم SU 100 بھی تباہ کروا بیٹھا اور وہ پاکستان سے پانچ گنا بڑی طاقت ھونے کے باوجود صرف تین گھنٹے چالیس منٹ کی مار ثابت ھوا جس کی وجہ سے پورے عالم میں اس کی خوب جگ ہنسائی ہوئی۔۔۔جواب میں بھارت پاکستان کا ایک بھی طیارہ نہ گرا سکا نہ دکھا سکا۔۔۔ یوں مودی کا پاکستان کو نقصان پہنچا کر الیکشن جیتنے کا اس کا خواب چکنا چور ھو گیا۔۔ اس کی ہنڈیا بیچ چوراہے ہی پھوٹ گئی۔۔۔اس کے الیکشن جیتنے کے سارے تخریبی پلان دھرے رہ گئے چنانچہ الیکشن جیتنے اور اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے وہ اب کچھ بھی اڈونچر کر سکتا ھے۔۔اس کے مکروہ عزائم سے کون واقف نہیں۔۔لہذا اس وقت ضرورت اس امر کی ھے کہ ھم دشمن سے کسی بھی محاذ پہ غفلت کا شکار نہ ھوں۔۔۔ھم نے دشمن پہ فتح عظیم ضرور حاصل کی ھے لیکن یہ اتنی بڑی فتح نہیں کہ جس کے بعد دشمن ھم پہ دوبارہ حملہ کرنے کی ہمت اور طاقت بھی نہ رکھتا ھو۔۔اور ھم خواہ مخواہ کسی فخر و تکبر کا شکار ھو جائیں۔۔ھم نے دشمن کو پسپا ھونے پہ ضرور مجبور کیا ھے لیکن اس کو ھم نے مٹا نہیں دیا۔۔۔یا اس کی طاقت بالکل ختم نہیں کر ڈالی۔۔۔سانپ زخمی ضرور ھوا ھے لیکن اس کا سر ابھی پوری طرح کچلا نہیں گیا۔۔سانپ بھی ابھی موجود ھے اور وہ پھنکار بھی رہا ھے۔۔۔
    اس موقع پہ قوم میں باہمی یک جہتی سب سے زیادہ برقرار رکھنے کی ضرورت ھے۔عسکری محاذ پہ دشمن ہمیں بارہا آزما چکا ھے اور ہر جنگ میں اسے بری طرح منہ کی کھانا پڑی ھے۔۔اسے کامیابی ہمیشہ پاکستانی قوم اور اداروں کو باھم لڑانے سے ملی ھے۔۔۔ دشمن کی یہ سازش اگر ھم کامیاب نہ ھونے دیں اور قومی یکجہتی کو زیادہ سے زیادہ برقرار رکھیں،باہمی سیاسی اختلاف کو اس حد تک نہ بڑھائیں کہ ھم دشمن کے خواب کی تکمیل کا باعث بن جائیں۔۔اور آپس میں ہی لڑ کے تباہ ھو جائیں جبکہ دشمن بغیر جنگ کے ہی ھم پہ فتح حاصل کر لے۔۔۔
    اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں،سیاستدانوں اور پوری قوم کو یہ تدبر اور تفکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔اگر اس تدبر اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھتے ھوئے ھم ایمان،اتحاد اور جہاد فی سبیل اللہ کے جذبے سے سرشار ھو کر آگے بڑھتے رھیں تو ان شاءاللہ دشمن اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ھو سکے گا۔۔
    بس اب صرف دو باتیں ہمیں پیش نظر رکھنی چایئیں۔۔۔پہلی بات یہ کہ صرف دفاع کافی نہیں۔۔ بھارت کی آئے دن کی جارحیت اور سندھ طاس
    عقیدہ معطل کرنے کی دھمکیوں کا علاج صرف دفاع کی بجائے جارحانہ حکمت عملی سے ممکن ھے۔۔اس لیے کہ
    offence is the best defence
    ہندو بنیے کا تو علاج ہی یہی ھے۔۔مسلمان فاتحین نے اسی اصول پر ہی انتہائی کم تعداد ھو کر بھی پورے برصغیر پر ایک ہزار سال تک حکومت کی۔۔اج بھی ہندو بنیے کا یہی علاج ھے
    دوسری بات یہ کہ بھارت اگر صرف دہشت گردی پہ مذکرات کرے تو پاکستان بھی سوائے مسئلہ کشمیر کے اور کسی آیشو پر بات کرنے سے انکار کر دے کیونکہ دنیا جانتی ھے کہ تمام مسائل کی وجہ صرف یہی مسئلہ ھے۔۔اب پاکستان کے ڈٹ کے کھڑے ھونے کا وقت ھے۔۔اب کسی قسم کی پرانی مصلحت آمیزانہ اور ضرورت سے زیادہ شریف بننے کی پالیسی ترک کی جائے ۔۔
    10مئی کے جواب کے بعد اب پاکستان دنیا میں الحمدللہ بھارت سے زیادہ طاقتور ملک بن کے ابھرا ھے ۔۔ اپنی اس حیثیت کا بھرپور فایدہ اٹھایا جائے تو ائندہ بھی کامیابیاں اور کامرانیاں ہمارا مقدر ھوں گی۔۔ان شاءاللہ
    پاکستان زندہ باد
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستانی عوام زندہ باد

  • درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے
    ہربااختیار کے گرد درباری جمع،عوام کی کون سنے،وزیر اعلیٰ پنجاب کی تقلید کرناہوگی
    مریم نوازشریف نے پنجاب کا نقشہ بدل دیا،نوجوانوں کی مقبول لیڈر،سب کے دل جیت لئے
    فیلڈ مارشل سید عاصم منیرمعرکہ حق میں کامیابی پر دنیا کی طاقتور شخصیات کی فہرست میں شامل
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر پاکستان میں نہیں عالمی دنیا میں بھارت کا مقابلہ کرنے کے بعد مضبوط شخسیت بن کر ابھرےہیں،پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کیساتھ تصادم جیت لیا، اس تصادم میں بری فضائی،بحری اور جملہ اداروں کا کردار قابل تحسین ہے،قوم کو پتہ چل گیا کہ ملکی سلامتی مضبوط ہاتھوں میں ہے،مسجد اقصیٰ کا مستقبل امریکہ نہ اسرائیل اور نہ ہی دیگر دنیا کے ہاتھ میں ہے، مسجد اقصیٰ کا مستقبل وہی ہے جو اللہ تعالی نے طے کر رکھا ہے،مسجد اقصیٰ کی وہ ہی حفاظت کرے گا جس پروردگار نے ابابیلوں کو بھیج کر ہاتھی والوں کو عبرت کا نشان بنا دیا تھا، آج کا انسان موجودہ قیامت خیز ماحول میں بھی عبرت حاصل نہیں کرتا تو اس پر بحث کرنے سے کیا حاصل،ملکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں،جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے دعویداروں سے اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ جمہور کے مسائل کی طرف توجہ دیں اگر ایک صوبے کی وزیر اعلیٰ میرٹ گڈ گورنس چٹ سسٹم کا خاتمہ کر سکتی ہے،تو باقی کیوں نہیں، ایک خاتون وزیر اعلیٰ نے پنجاب کا نقشہ بدل کر رکھ دیا،نوجوان بچوں اور بچیوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے غریب لوگوں کی مالی امداد سے لیکر دیگر بنیادی مسائل حل کر سکتی ہے تو دیگر صوبوں کی حکومتیں کس مرض میں مبتلا ہیں،پاکستان نے اگر دنیا کیساتھ ترقی کرنی ہے تو تباہ کن سیاسی انداز اور ذاتی مفادات کی پالیسی کو بدلنا ہو گا،بہت ہو چکا اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے کردار ادا کریں مشرق وسطیٰ امریکی بدلتی پالیسی اور دیگر ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلی کو مدنظر رکھیں اور پاکستان کی ترقی اور عوامی کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں، استحکام پاکستان کا خواب مکمل جب ہو گا جب رائٹ مین فار رائٹ جاب پر عمل ہو گا،نااہل کرپٹ بد دیانت ذاتی مفادات اقرباء پروری متکبر اور چاپلوس خوشامدی ٹولے سے جان چھڑانی ہو گی جب تک ملک کی سیاسی جماعتوں کی بلند دیواروں اور دروازوں پر درباریوں کا قبضہ رہے گا عوامی کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے

  • پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار،بہتری کے لیے تجاویز اور عملی اقدامات

    پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار،بہتری کے لیے تجاویز اور عملی اقدامات

    پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار،بہتری کے لیے تجاویز اور عملی اقدامات
    تحریر:سید ریاض جاذب
    پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا شعبہ کئی دہائیوں سے اصلاحات کا متقاضی رہا ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور تعلیمی نظام کو اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ترقی یافتہ اقوام نے تعلیم کے ذریعے ہی معاشی، سائنسی اور سماجی میدانوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اگر پاکستان کو عالمی سطح پر مؤثر اور مضبوط مقام حاصل کرنا ہے تو اسے اپنے تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مندرجہ ذیل تجاویز ایک جامع حکمت عملی کی صورت میں پیش کی جا رہی ہیں۔

    سب سے پہلے نصاب کی باقاعدہ نظرثانی ناگزیر ہے۔ موجودہ دور میں جب دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ، اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے موضوعات پر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، ہمارے تعلیمی اداروں میں اب بھی پرانے طرز کے نصاب پڑھائے جا رہے ہیں۔ اس لیے نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا، اور رٹے بازی کے بجائے تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی مہارتوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس ضمن میں عالمی جامعات کے نصاب کا جائزہ لینا اور ان کے کامیاب ماڈلز کو مقامی حالات کے مطابق اپنانا سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

    ملک بھر میں یکساں تعلیمی معیار اور نصاب کا نفاذ بھی ایک بڑا قدم ہو سکتا ہے۔ جب مختلف علاقوں اور اداروں میں مختلف نصاب رائج ہوتے ہیں تو اس سے تعلیمی عدم مساوات اور مواقع کی تقسیم میں فرق پیدا ہوتا ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے قومی سطح پر یکساں نصاب کی پالیسی نافذ کرنی ہوگی، جس سے تمام طلبہ کو برابر مواقع میسر آئیں گے اور تعلیمی نظام میں ہم آہنگی پیدا ہو گی۔

    اساتذہ اعلیٰ تعلیم کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے جامع پروگراموں کی ضرورت ہے۔ تدریس میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز کی تربیت، اور اساتذہ کی تعلیمی اسناد کی تصدیق جیسے اقدامات معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اساتذہ کے لیے بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت اور ریسرچ فیلوشپس کی حوصلہ افزائی کر کے ان کی علمی سطح کو بلند کیا جا سکتا ہے۔

    تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینا کسی بھی اعلیٰ تعلیمی نظام کا مرکزی ستون ہوتا ہے۔ پاکستان میں تحقیق کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی مسابقتی تحقیقی گرانٹس کی فراہمی، اور یونیورسٹیوں و صنعت کے درمیان روابط کو مضبوط کر کے عملی تحقیق کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ تحقیق کا دائرہ صرف سائنسی موضوعات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ سماجی، معاشی اور انسانی علوم کی تحقیق بھی اتنی ہی اہم ہے۔ تحقیقی مقالوں کی اشاعت، عالمی جرائد تک رسائی اور پیٹنٹس کی رجسٹریشن پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

    تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ جب ادارے ایک دوسرے کے ساتھ تجربات کا تبادلہ کرتے ہیں، تو معیار خود بخود بہتر ہوتا ہے۔ والدین اور کمیونٹی کی شمولیت سے بھی اداروں کو مثبت فیڈبیک اور سماجی حمایت حاصل ہوتی ہے، جس سے طلبہ کی کارکردگی پر بھی خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ تعلیمی بورڈز اور ایچ ای سی کو اداروں کے سالانہ جائزے کا ایک مؤثر نظام مرتب دینا ہوگا تاکہ بہتری کی راہ ہم وار ہو سکے۔

    اعلیٰ تعلیم کو طلب اور روزگار کی ضروریات کے مطابق بنانا وقت کا تقاضا ہے۔ جب فارغ التحصیل نوجوان مارکیٹ کی ضروریات کو پورا نہیں کرتے تو بے روزگاری بڑھتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے تعلیمی اداروں کو ایسے مضامین اور پروگرامز متعارف کرانے ہوں گے جو عملی میدان میں مؤثر ثابت ہوں۔ انٹرن شپس، انڈسٹری سے براہ راست منسلک کورسز، اور ٹیکنیکل تعلیم کے شعبے کو بڑھاوا دے کر گریجویٹس کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

    حکومت، ایچ ای سی، تعلیمی ادارے، صنعت اور دیگر تمام متعلقہ فریقین کو باہم مربوط حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ صرف نصاب کی اصلاح یا اساتذہ کی تربیت کافی نہیں؛ یہ سب پہلو ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں جنہیں یکجا کر کے ہی معیار اور رسائی کو ایک ساتھ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اور پالیسی سازی میں ماہرین تعلیم کی شمولیت جیسے اقدامات تعلیمی ترقی کے سفر کو تیز کر سکتے ہیں۔

    پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب بہت زیادہ ہے جو کسی بھی قوم کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہوتا ہے، لیکن اگر ان نوجوانوں کو معیاری تعلیم نہ دی جائے تو یہی اثاثہ بوجھ بن سکتا ہے۔ اس لیے تعلیمی نظام کو نوجوانوں کی ضروریات اور صلاحیتوں کے مطابق تشکیل دینا ضروری ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنی ذاتی زندگی سنوار سکیں بلکہ ملکی ترقی میں بھی فعال کردار ادا کر سکیں۔

    عالمی درجہ بندیوں میں پاکستانی جامعات کا مقام بہت پیچھے ہے، جس کی ایک بڑی وجہ تحقیق، نصاب اور تدریسی معیار میں کمی ہے۔ اگر ہم بین الاقوامی معیار کی تعلیم کو اپنا ہدف بنائیں تو نہ صرف ہمارے تعلیمی ادارے ترقی کریں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بھی بہتر ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت داری کرے تاکہ پاکستانی جامعات کو عالمی سطح کے تحقیقی و تدریسی مواقع میسر آ سکیں۔

    یہ تجاویز محض کاغذی نکات نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کو روشن بنانے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ان تجاویز کو پالیسی کی سطح پر اپنایا جائے اور ان پر عمل درآمد کے لیے نیک نیتی سے اقدامات کیے جائیں۔

  • ادب کا روشن چراغ، آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا)

    ادب کا روشن چراغ، آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا)

    ادب ایک ایسا نور ہے جو دلوں کو منور کرتا ہے، سوچوں کو جلا بخشتا ہے اور معاشروں کو سنوارتا ہے۔ یہی ادب جب قلم سے قرطاس پر اُترتا ہے، تو تہذیبوں کی بنیاد بنتا ہے۔ اور جب لکھنے والے اپنی عزت، تحفظ، اور شناخت کے لیے اکٹھے ہوں تو وہ صرف تنظیم نہیں بناتے، وہ ایک فکری انقلاب کی بنیاد رکھتے ہیں۔آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) بھی ایسی ہی ایک روشن امید ہے ، جو اہلِ قلم کی خدمت، تحفظ، فلاح اور ترقی کے لیے معرضِ وجود میں آئی۔ اس کے بانی اور روحِ رواں، ایم ایم علی، اس قافلے کے وہ سالار ہیں جنہوں نے نہ صرف لکھنے والوں کو ایک پلیٹ فارم دیا بلکہ ادب کو ادارہ جاتی حیثیت عطا کی۔

    ایم ایم علی ، بانی صدر، اپووا
    ایم ایم علی کا نام اردو ادب میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ ایک کہنہ مشق قلم کار، حساس دل رکھنے والے تخلیق کار اور باہمت تنظیم ساز ہیں۔ ان کی قیادت میں اپووا نے صرف تنظیمی بنیادیں نہیں رکھیں، بلکہ ایک نظریاتی پیغام دیا ہے”ادب زندہ ہے، جب تک اہلِ ادب باوقار ہیں!”

    وہ جن کی سوچ میں صداقت کا رنگ ہو
    جن کی قیادت میں قلم کو امنگ ہو
    وہی ہیں بانی اس کارواں کے، جن کا نام
    ایم ایم علی، جن پہ فخر کرے ہر سخن ور کا کلام

    ان کا وژن ہے کہ لکھاری، شاعر، ادیب، ناقد، افسانہ نگار، سب کو ایک ایسا ادارہ فراہم کیا جائے جہاں وہ نہ صرف اپنی تخلیقات کو فروغ دیں بلکہ اپنے حقوق کی پاسداری بھی یقینی بنائیں۔ اپووا کی بنیاد اسی وژن کی علامت ہے۔

    ملک یعقوب اعوان ، سینئر وائس چیئرمین،
    اپووا کی قیادت میں ایک اور معتبر نام ملک یعقوب اعوان کا ہے، جو تنظیم کے سینئر وائس چیئرمین ہیں۔ ان کی شخصیت سنجیدگی، تدبر، اور ادبی وفا کا پیکر ہے۔ وہ لکھاریوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں اور ادیبوں کی بہبود کو ایک مشن سمجھ کر سرانجام دے رہے ہیں۔

    یعقوب اعوان ہیں فکر و ادب کا امین
    جو لفظوں میں رکھے ہیں خلوص کے نگین
    ہو جس کے ساتھ، وفا کا پرچم بلند
    وہی تو ہے اپووا کا معتبر کندن

    ان کی خدمات تنظیم کے استحکام اور وسعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا ہر بیان، ہر قدم ادب کے احترام اور تخلیق کار کی عزت کے لیے اُٹھتا ہے۔

    سلمیٰ کشم،سینئر نائب صدرخواتین
    اردو ادب میں جب ہم نسائی شعور، جمالیاتی احساس، اور فکری بلندی کی بات کرتے ہیں تو چند نام فوراً ذہن میں ابھرتے ہیں، اور ان میں ایک ممتاز، تابناک نام سلمیٰ کشم کا ہے۔ وہ صرف ایک شاعرہ یا ادیبہ نہیں، وہ ایک مکمل فکری دنیا کا نام ہیں؛ ایک ایسا نکھرا ہوا قلم جو لفظوں کو فقط لکھتا نہیں، روح میں اتارتا ہے۔ان کا تعلق قصور کی سرزمین سے ہے ، وہی قصور جو بلھے شاہ کی دھرتی ہے، جہاں ہر سانس میں ادب کی خوشبو ہے، اور ہر گلی میں صوفیانہ جمال بکھرا ہوا ہے۔ اسی دھرتی کی بیٹی سلمیٰ کشم ادب کی اس روایت کی وارث ہیں۔

    قصور کی مٹی نے بخشا ہے ان کو رنگِ خیال
    ہر لفظ میں رس، ہر سوچ میں اجالا ہے کمال
    سلمیٰ ہیں وہ نام، جن کے حرفوں سے
    غزلیں مہکیں، نظمیں چمکیں، جذبے بولیں

    سلمیٰ کشم کے قلم کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی تخلیقات میں صرف جذبات نہیں، بلکہ گہرا مشاہدہ، زندگی کی جزئیات، کا نچوڑ بھی ملتا ہے۔ وہ اپنے اشعار میں سماج کی اُن پرتوں کو اجاگر کرتی ہیں جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کے ہاں درد بھی ہے، امید بھی، سوال بھی اور جواب بھی۔ وہ اردو ادب میں خواتین کے نمائندہ چہروں میں سے ایک سمجھی جاتی ہیں۔سلمیٰ کشم نہ صرف ایک تخلیق کار ہیں بلکہ ایک فعال ادبی رہنما بھی ہیں۔ اپووا میں ان کا نائب صدر بننا اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ نہ صرف تخلیقی میدان میں ممتاز ہیں بلکہ تنظیمی، فلاحی اور فکری قیادت کی بھی اہل ہیں۔ وہ ان خواتین کی آواز ہیں جو لکھنا چاہتی ہیں، لیکن مواقع کی منتظر ہیں۔

    جن کے لہجے میں شائستگی، قلم میں سچائی
    جن کے خیال سے جاگے کئی دلوں کی بینائی
    وہ سلمیٰ کشم، جو رہنمائی کا چراغ ہیں
    اپووا کی زینت، نسائی ادب کی شفاف مثال ہیں

    قصور کی دھرتی نے جو گوہر ہمیں عطا کیے ہیں، سلمیٰ کشم اُن میں نمایاں ہیں۔ ان کی تخلیقات مقامی فضا میں جَڑی ضرور ہیں لیکن ان کے اثرات عالمی افق تک جاتے ہیں۔ سلمیٰ کشم ایک خیال کا نام ہے، ایسا خیال جو معاشرے کو بہتر بنانے کی خواہش رکھتا ہے، جو صنفِ نازک کو باوقار انداز میں پیش کرتا ہے، جو ادب کو فقط کتابوں میں قید نہیں کرتا، بلکہ لوگوں کے دلوں میں اُتارتا ہے۔ان کی موجودگی اپووا جیسے ادارے کے لیے باعثِ فخر ہے، اور ان کی تخلیقات اردو ادب کے خزانے میں ایک قیمتی اضافہ ہیں۔اپووا میں ان کی موجودگی اس بات کی غماز ہے کہ تنظیم خواتین اہلِ قلم کو بھی وہی عزت، وقار، اور نمائندگی دے رہی ہے جس کی وہ حقدار ہیں۔

    کشیدہ ہر لفظ، ہر مصرع اُن کا جمال
    قلم سے نکلے تو ہو جائے حسنِ کمال
    وہ سلمیٰ کشم، جو احساس کی ترجمان
    ہیں اپووا میں روشنی کی پہچان

    آج کے دور میں، جب ادب کو محض مشغلے یا غیر اہم سرگرمی سمجھا جا رہا ہے، اپووا ایک ایسی تنظیم بن کر سامنے آئی ہے جو اہلِ قلم کی عزتِ نفس، ان کی فکری آزادی، اور تخلیقی حیثیت کو معاشرے میں اجاگر کر رہی ہے۔یہ صرف ایک ایسوسی ایشن نہیں بلکہ ایک ادبی انقلاب کی تمہید ہے ایسا انقلاب جو..
    ہر لکھاری کو ایک ادارہ جاتی پہچان دے
    شاعروں کی آواز کو پلیٹ فارم دے
    ادیبوں کی بہبود کے لیے عملی اقدامات کرے
    قومی و بین الاقوامی سطح پر اردو ادب کی نمائندگی کرے
    نئی نسل کے لکھاریوں کی تربیت، حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرے

    اپووا کی قیادت، یعنی ایم ایم علی، ملک یعقوب اعوان، اور سلمیٰ کشم، نہ صرف تنظیمی ذمہ داریوں کو نبھا رہے ہیں بلکہ ایک مشن کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ مناصب کوئی عہدے نہیں، بلکہ ایک امانت ہیں جو قوم کے اہلِ قلم نے ان کے سپرد کی ہے۔

    قلم کے وارثوں کا یہ قافلہ چلے
    سچائی، روشنی، وفا کے گیت گائے
    اپووا ہو منزل، اتحاد ہو زادِ راہ
    ادب کی دنیا میں یہ چراغ جلائے

    دعا ہے کہ اپووا کا یہ کارواں بڑھتا رہے، پھلتا پھولتا رہے، اور اردو ادب کو وہ مقام دلوائے جس کا وہ ہمیشہ سے مستحق رہا ہے۔

  • یوم تکبیر۔۔۔ تجدید عہد کا دن ،تحریرڈاکٹر حافظ مسعودعبدالرشید اظہر

    یوم تکبیر۔۔۔ تجدید عہد کا دن ،تحریرڈاکٹر حافظ مسعودعبدالرشید اظہر

    28 مئی 1998ءایک ایسا دن تھاجب کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی واحد نظریاتی ریاست نے اپنے دفاع کو فولادی حصار فراہم کرتے ہوئے دنیا کفر کو یہ پیغام دیا کہ وہ نہ صرف اپنے جغرافیے کی حفاظت کرنا جانتی ہے بلکہ اپنی نظریاتی سرحدوں پر بھی کسی قسم کی سودے بازی کے لیے تیار نہیں۔ یہی دن ”یومِ تکبیر“ کے طور پر جانا جاتا ہے، وہ دن جب پاکستان نے خود کو دنیا کی ساتویں اور عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت کے طور پر منوایاجس کی وجہ سے پورے عالم اسلام بلکہ دنیا میں موجود ہر مسلمان کا سر فخر سے بلند اور پیشانی اپنے رب کے حضور سر بسجود ہوگئی۔
    جب پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا تو یہ سفر آسان نہ تھا۔ سائنس، ٹیکنالوجی، ماہرین، وسائل اور وقت، سب کچھ محدود تھا۔ لیکن پاکستانی قوم کا جذبہ ایمانی اور رب العزت پر توکل یقین اور بھروسہ لامحدود تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے مخلص اور باصلاحیت سائنسدانوں نے اپنی زندگی وقف کر دی۔ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز اور دیگر اداروں میں شب و روز تحقیق جاری رہی۔ عالمی سطح پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لیے دباﺅ ، دھمکیاں اور معاشی پابندیوں کی باتیں کی گئیں۔ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ سب رکاوٹیں اس وقت غیر موثر ہو گئیں جب پاکستان کے جذبے نے ان سب کے سامنے ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا۔ ابتداہی سے جن مسلم ممالک نے پاکستان کے ساتھ مالی تعاون کیا ان میں سعودی عرب سرفہرست ہے ۔ یہ وہ دور تھا جب مملکت سعودی عرب کے فرمانروا جلالة الملک شاہ فیصل بن عبدالعزیز تھے ۔ وہ اسلام کے سچے خادم اور بہت ہی دور اندیش حکمران تھے ۔ وہ پاکستان سے بھی بے حد محبت کرتے تھے ۔ ان کی دلی خواہش تھی کہ پاکستان عسکری اعتبار سے مضبوط تر ہو ۔ یہی وجہ تھی کہ ملک فیصل بن عبدالعزیزنے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کےلئے مملکت کے خزانوں کے منہ کھول دیے ۔ اس طرح سے پاکستان کا ایٹمی پروگرام تکمیل کو پہنچا ۔ پاکستان میں مختلف اوقات میں مختلف حکومتیں برسر اقتدار آتی رہیں ان میں باہم شدید قسم کے اختلافات بھی رہے لیکن تمام تر باہمی مخالفت کے باوجود ایک بات پر سب متفق رہیں کہ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت اور طاقت سے لیس کرنا ہے ۔ بہر حال وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ 11مئی 1998ءکو بھارت نے ایک بار پھر پوکھران میں پانچ ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں طاقت کے توازن کو شدید متاثر کیا۔ بھارتی قیادت نے کھلے عام پاکستان کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کو جنوبی ایشیا میں ”نیا سورج“ طلوع ہونے کے مترادف قرار دیا۔بھارت خود کو علاقے کا چوہدری اور پاکستان کو اپنی طفیلی ریاست سمجھنے لگ گیا۔ہندو بنیا اپنے تئیں اس زعم کا شکار ہوگیا کہ اب پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کی تقدیر اس کے ہاتھ میں ہے ۔ جب بھارت ایٹمی دھماکے کرچکا تو اس کے بعد دنیا کی نگاہیں پاکستان پر مرکوز ہو گئیں۔ عالمی طاقتیں متحرک ہو گئیں کہ پاکستان کو دھماکہ نہ کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ معاشی پابندیوں، قرضوں کی بندش اور سفارتی دباو جیسے تمام حربے آزمائے گئے۔ امریکہ، جاپان، اور یورپی ممالک نے وطن عزیز پاکستان کی قیادت بالخصوص میاں نواز شریف کو یہ باور کرایا کہ اگر اس نے دھماکہ کیا تو اس کے نتائج بھیانک ہوں گے اور پاکستان کو بدترین قسم کی معاشی اور سفارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
    ان حالات میں پاکستان کے لیے فیصلہ آسان نہ تھا۔ ایک طرف شدید عالمی دباو تھا تو دوسری طرف پوری قوم کا مطالبہ تھا کہ بھارت کو اس کے ایٹمی غرور کا جواب دیا جائے۔ عوام، افواج، اور دانشور طبقہ ایک آواز ہو چکا تھا۔ آخرکار غیرت مند، محب وطن، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مسلم ممالک بالخصوص مملکت سعودیہ عربیہ کی مشاورت سے مسلم امہ کے وسیع تر مفاد، قومی غیرت اور دفاعِ وطن کو فوقیت دیتے ہوئے وہ فیصلہ کیا جس پر آج بھی قوم فخر کرتی ہے۔ 28 مئی 1998 ءکو بلوچستان کے ضلع چاغی میں دھات کے پہاڑوں نے لرز کر گواہی دی کہ پاکستان نے وہ کارنامہ سرانجام دیا ہے جو ہمیشہ تاریخ کا حصہ رہے گا۔ پانچ ایٹمی دھماکوں نے نہ صرف بھارت کو مو¿ثر جواب دیا اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا بلکہ اسلامی دنیا میں ایک نئی امید پیدا کی۔اس مشکل ترین وقت میں مملکت سعودی عربیہ نے پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا۔ مالی تعاون کیساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی شانہ بشانہ کھڑا ہوا ۔جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ ایک مشکل ترین مرحلہ تھا ۔ ایک طرف بھارت کی جارحیت تھی، دوسری طرف اندیشہ ہائے دور دراز تھے معاشی اور سفارتی پابندیوں کے خدشات تھے ۔ تب اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کا دورہ کیا ۔اگرچہ اس وقت ملک فہد بن عبدالعزیز سعودی عرب کے فرمانروا تھے تاہم ان کی علالت کی وجہ سے امور مملکت ولیعہد ملک عبداللہ بن عبدالعزیز چلارہے تھے ۔ نواز شریف نے ملک فہد اور ولیعہدملک عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ۔سعودی فرمانروا ملک عبداللہ نے نواز شریف کو ہر قسم کے مالی اخلاقی اور سفارتی تعاون کا یقین دلایا
    یہ وہ وقت تھا جب ایٹمی دھماکے کرنے پر امریکہ نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے نتیجے میں پاکستان شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر پر اتنا شدید دباو¿ تھا کہ حکومت نے نجی بنکوں سے ڈالر نکلوانے پر پابندی لگا دی تھی۔ان حالات میں جب کوئی دوسرا ملک یا قرض دینے والا آئی ایم ایف جیسا ادارہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کی مالی مدد نہیں کر سکتا تھا، سعودی عرب پاکستان کی مدد کو آیا ۔ سعودی عرب نے اس وقت پاکستان کو تین ارب ڈالر سالانہ تیل دینا شروع کیا تھا۔تیل کی فراہمی کا یہ سلسلہ 1998 ءکے بعد بھی کئی برس تک جاری رہا ۔ ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں کئی قسم کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ پابندیاں لگائی جاچکی تھیں اس وجہ سے سعودی عرب نے یہ ظاہر کیا کہ پاکستان کو تیل ’ادھار‘ دیا جارہا ہے لیکن دراصل یہ مفت تیل تھا جس کے پیسے کبھی بھی سعودی عرب نے پاکستان سے نہیں لئے۔ ایٹمی دھماکوں کے چند ہفتوں بعد ولیعہد ملک عبداللہ آٹھ ملکوں کے دورے پر روانہ ہوئے ۔آغاز واشنگٹن سے ہوا عالمی اقتصادی پابندیوں کے باوجود پاکستان کو تیل کی فراہمی کے متعلق امریکی اخبار نیوسوں کے سوال پر سعودی رہنما کا جواب تھا پاکستان کےلئے زندگی اور موت کے اس مرحلے پر آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہم اسے تنہا چھوڑ دیں گے ۔واشنگٹن سے شروع ہونے والے اس عالمی دورے کا اختتام پاکستان پر ہوا تھا ۔ دورے کی اس ترتیب میں دنیا کےلئے پیغام تھا کہ ملک عبداللہ کے نزدیک پاکستان ایسے ہے جیسے اپنا گھر ہو ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب شاہ عبداللہ پاکستان آئے تو انھیں کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا دورہ بھی کروایا گیا ۔ یہ بات معلوم ہے کہ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ وہ حساس ترین جگہ ہے جہاں کوئی غیر متعلقہ شخص خصوصاََ غیر ملک پر بھی نہیں مارسکتا ۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد وزیر اعظم نواز شریف سعودی عرب گئے تو ایوان شاہی میں ان کےلئے بیمثال استقبالیہ کا اہتمام تھا تب ولی عہد ملک عبداللہ نے ان کا ہاتھ فضا میں بلند کرتے ہوئے انھیں اپنا فل بردار قرار دیا شاہ فہد اور دیگر بھائی ان کے ہاف برادر تھے ۔ یہ تھا پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں سعودی عرب کا کردار جس پر آج ہر پاکستان کو فخر ہے ۔ حقیقت یہ کہ اگر سعودی عرب کا تعاون شامل حال نہ ہوتا تو پاکستان میں ایٹمی پلانٹ کی تنصیب ہوتی نہ ہی پاکستان کےلئے ایٹمی دھماکے کرنا ممکن ہوتا اور نہ آج پاکستان کےلئے اپنا دفاع کرنا ممکن ہوتا ۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب،اک نظر ٹریفک وارڈن کو بھی دیکھ لیں،تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلیٰ پنجاب،اک نظر ٹریفک وارڈن کو بھی دیکھ لیں،تحریر:ملک سلمان

    گذشتہ روز جب وزیراعلیٰ آفس سے اس بات کی خبر ملی کی ٹریفک پولیس کی بدمعاشیوں کے خلاف اسٹوڈنٹس کی پکار پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فوری طور پر منگل کی صبح ٹریفک مسائل کے حوالے سے خصوصی اجلاس رکھا ہے تو طلبہ و طالبات کیلئے یہ بہت بڑی بریکنگ نیوز، خوشی اور ایکسائٹمنٹ والی بات تھی کہ ان کی وزیراعلیٰ ان کیلئے کس قدر باخبر اور فکر مند ہیں۔ مریم نواز کا مقبولیت کا گراف 67فیصد سے 95فیصد پر آگیا لیکن اگلے ہی دن یعنی آج دوپہر میڈم وزیراعلیٰ آپ کے دفتر سے جاری کردہ پریس ریلیز سے سخت مایوسی ہوئی ناصرف طلبہ و طالبات اور نوجوان طبقے بلکہ ہر قانون پسند شہری خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ سی ٹی او اور ٹریفک وارڈن کو حکم دیا جاتا کہ سات دن میں چار لاکھ پبلک ٹرانسپورٹرز کی اوریجنل نمبر پلیٹ نہ لگی اور کروڑوں روپے کی کرپشن بند نہ ہوئی تو سی ٹی او سمیت سب کو جیل بھیج دیا جائے گا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ ٹریفک پولیس کو وارننگ دی جاتی کہ معزز شہریوں کے ساتھ اپنا رویہ درست کرو خاص طور پر طلبہ و طالبات اور نوجوان طبقہ جو ہمارا مستقبل ہے۔
    پہلے پہل تو اسسٹنٹ کمشنرز اور ایس پیز کی گاڑیاں بنا نمبر پلیٹ تھی اب تو تھانوں اور دیگر سرکاری ملازمین نے بھی سیف سٹی کیمرہ کے آن لائن چالان اور دیگر غیرقانونی حرکات کیلئے بنا نمبر پلیٹ گاڑیاں بھگانا شروع کردی ہیں۔ کیا قانون کا اطلاق صرف ٹیکس دینے والے معزز شہریوں کیلئے رہ گیا ہے؟
    اس پریس ریلیز میں کہیں بھی اس بات کا تذکرہ نہیں کہ بنا نمبر پلیٹ گاڑی چلانا کتنا بڑا جرم ہے، میڈم وزیر اعلیٰ بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں دہشت گردوں کی سہولت کاری کا کام کررہے ہیں۔ میڈم جن رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹرز کو آپ کے سامنے غریب بنا کر پیش کیا جاتا ہے یہی غربت کارڈ صرف لاہور شہر میں 1200کروڑ ماہانہ کی غیر قانونی کمائی کا زریعہ ہیں۔ ایک ہزار سے دو ہزار فی رکشہ و پبلک ٹرانسپورٹ وصولی کی بجائے ان پبلک ٹرانسپورٹرز کو قانون کے دائرے میں لایا جائے تو نہ صرف پانچ ہزار کروڑ ماہانہ سرکاری خزانے میں آئیں بلکہ محفوظ اور پرامن لاہور و پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا۔ پریس ریلیز میں ٹریفک پولیس کو غیرقانونی پارکنگ کی سرپرستی سے روکنے اور غیر قانونی پارکنگ کے خاتمے کیلئے اقدامات کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔ ٹریفک پولیس جس غیر قانونی پارکنگ سے مبینہ طور پر پرسنل پاکٹ کرپشن کیلئے پانچ سے دس کروڑ ماہانہ اکٹھا کرتی ہے اگر وہی پارکنگ منظم طریقے سے لاہور پارکنگ کمپنی کو کرنے دے تو پانچ سو کروڑ ماہانہ سرکار کیلئے اکٹھا کرسکتی ہے اسی طرح پورے پنجاب میں پانچ ہزار ارب صرف پارکنگ سے اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔

    یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ٹریفک پولیس جتنی رقم بطور رشوت اکٹھا کرتی ہے سرکار کو اس رقم کا 900فیصد نقصان کرتی ہے۔ کیونکہ اگر سرکار کو 1000ملنا چاہیے تو رشوت میں 100اکٹھا کیا جاتا ہے۔ یہ900فیصد صرف ٹیکسوں کی مد میں اکٹھی ہونے والے رقم کا نقصان ہے جبکہ بنا نمبر پلیٹ ہونے کی وجہ سے یہی رکشے اور پبلک ٹرانسپورٹرز روڈ ایکسیڈنٹس کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ حکومت پنجاب کے جاری کردہ ریکارڈ کے مطابق پنجاب میں ہر ایک منٹ میں 1500روڈ ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں جن میں لگ بھگ 80فیصد موٹرسائیکل اور رکشے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ بنا نمبر پلیٹ ہونے کی وجہ سے یہ ون وے اور فاسٹ لین کا غیر قانونی استعمال کرتے ہیں اشارے پر بھی رکنے کی زحمت نہیں کرتے۔ اغوا، قتل اور دہشت گردی میں پچانوے فیصد یہی بنا نمبر پلیٹ ٹرانسپورٹ استعمال ہوتی ہے۔ لوگ مرتے ہیں تو مریں لیکن ٹریفک پولیس کمائی کے ان اڈوں پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں۔

    آج سپہر تین بجے کے قریب گارڈن ٹاؤن سے نکلا تو سپیکر پنجاب اسمبلی کے گھر سے حمید لطیف ہسپتال تک پرائیویٹ دفاتر، مارکیٹ اور کار شوروم کی گاڑیوں، کھانے کی اشیاء کی ریڑھیوں اور رکشوں سے ہاف سڑک پر قبضہ تھا، لمحہ فکریہ اور بے شرمی کی انتہا دیکھیں کہ سینٹر آف دی لاہور کلمہ چوک ناصرف رکشہ سٹینڈ کا منظر پیش کررہا تھا بلکہ رکشہ والے اسے ہوم سٹیشن سمجھ کر کھلے عام رانگ وے کا استعمال کر رہے تھے۔ گذشتہ روز شاہ عالم مارکیٹ جانا تھا تو بانساں والا بازار ون وے کی وجہ سے کلوز تھا اور متبادل راستے کی طور پر میوہاسپتال کی بیک سائڈ سے گیا جبکہ میرے سامنے ہی وارڈن بنا نمبرپلیٹ رکشوں کو ون وے پر جانے دے رہا تھا (ویڈیو ثبوت موجود ہے) میو ہسپتال اور لیڈی ولنگٹن ہسپتال کی بیرونی دیوار کے ساتھ ایک سو سے زائد غیر قانونی دکانیں قائم کی گئی ہیں لیکن ان تجاوزات کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوسکی۔

    ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ کی رقم بڑھانے کا فیصلہ خوش آئند لیکن قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہئے، پولیس سمیت سرکاری گاڑیوں کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ اگر وارڈن شہری کی ویڈیو بنا سکتا ہے تو شہری کو بھی حق دیا جائے کہ وہ بھی وارڈن کی بدتمیزی، پارکنگ مافیا اور پبلک ٹرانسپورٹرز کی سرپرستی کی ویڈیو بنا کر بطور ثبوت وزیراعلیٰ آفس کو بھیج سکیں۔ اگر ویڈیو بنانے پر معزز شہریوں پر پیکا لگ سکتا ہے تو اسی پیکا ایکٹ کا نفاذ وارڈن اور دیگر سرکاری ملازمین پر بھی ہونا چاہئے۔ جو نوجوان مستقبل میں مریم نواز کو بطور وزیراعظم اس لیے دیکھنا چاہتے تھے کہ مریم رول آف لاء کی بات کرتی ہے وہ آج سخت مایوس ہیں اور کسی نئے راہنما کی تلاش میں ہیں، اس سے قبل کی اس ملک کی اکثریتی آباد یعنی نوجوانوں کی آپ سے ساری امیدیں دم توڑ دیں آپ واضح الفاظ میں ”رول آف لاء“ کا اعلان کریں ٹریفک پولیس سمیت دیگر کرپٹ اور بدتمیز اہلکاروں کو جیل بھیجیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • پاکستان کا ایٹمی پروگرام، یوم تکبیر سے بنیان مرصوص تک

    پاکستان کا ایٹمی پروگرام، یوم تکبیر سے بنیان مرصوص تک

    پاکستان کا ایٹمی پروگرام، یوم تکبیر سے بنیان مرصوص تک
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
    28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میں ایٹمی دھماکوں کی گونج نے پاکستان کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ یہ یوم تکبیر کا دن تھا، جب پاکستان دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنا۔ اس دن شہید ذوالفقار علی بھٹو کا خواب حقیقت بن گیا، میاں نواز شریف کا عزم فتح یاب ہوا، اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سائنسی کاوشوں نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنیان مرصوص عطا کی۔ یہ صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں تھی بلکہ قومی غیرت، خودمختاری اور عالم اسلام کے لیے فخر کا لمحہ تھا، جس نے بھارت کے جارحانہ عزائم کو خاک میں ملایا اور خطے میں طاقت کا توازن بحال کیا۔

    پاکستان کا ایٹمی پروگرام اس وقت وجود میں آیا جب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1965 میں قومی اسمبلی کے خطاب میں اعلان کیا کہ اگر بھارت ایٹم بم بنائے گا تو ہم گھاس کھائیں گے، لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے (قومی اسمبلی کے ریکارڈز کے مطابق بھٹو نے 1965 میں اپنے خطاب میں ایٹمی پروگرام کی ضرورت پر زور دیاتھا)۔ ان کے اس وژن نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور پاکستانی قوم کو اپنی سلامتی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عزم دیا۔ برسوں بعد جب 11 مئی 1998 کو بھارت نے پوکھران میں ایٹمی دھماکے کیے (دی ہندو کی 11 مئی 1998 کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے پوکھران میں ایٹمی تجربات کیے) تو خطے میں طاقت کا توازن بگڑ گیا۔ بھارت نے نہ صرف اپنی ایٹمی صلاحیت کا مظاہرہ کیا بلکہ کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر فوج جمع کر کے پاکستان کے زیرانتظام آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کااعلان کردیا۔ بھارتی سائنسدانوں نے تکبر سے دعویٰ کیا کہ جامع ایٹمی پابندی معاہدہ (CTBT) صرف کمزور ممالک کے لیے ہے (ٹائمز آف انڈیا کی 12 مئی 1998 کی رپورٹ کے مطابق بھارتی سائنسدانوں نے CTBT کو مسترد کیا)۔ اس گھمنڈ نے پاکستانی عوام کے جذبات کو بھڑکایااور پورے ملک سے مطالبہ اٹھا کہ پاکستان بھارت کو منہ توڑ جواب دے۔ عالم اسلام کے پاکستان دوست حلقوں نے بھی اس کی پرزور حمایت کی۔

    اس نازک موڑ پر پاکستان کو مغربی دنیا سے شدید دباؤ کا سامنا تھا۔ دی نیویارک ٹائمز کی 15 مئی 1998 کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر بل کلنٹن نے وزیراعظم میاں نواز شریف سے براہ راست رابطہ کیا اور خبردار کیا کہ ایٹمی دھماکوں کی صورت میں پاکستان کو سخت اقتصادی اور سیاسی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بی بی سی کی 16 مئی 1998 کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور جاپانی قیادت نے بھی پاکستان پر ایٹمی تجربات نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ لیکن وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے قومی وقار اور سلامتی کو مقدم رکھا۔ جیو ٹی وی کے آرکائیوز کے مطابقوزیراعظم میاں نواز شریف نے 1998 میں اپنے خطاب میں کہا کہ ہم اپنی آزادی اور غیرت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ پاک فوج کی قیادت نے اس فیصلے میں بھرپور تعاون کیا اور سول و عسکری قیادت کی یہ یکجہتی پاکستان کی کامیابی کی بنیاد بنی۔

    اس عظیم مشن کے مرکزی کردار ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے، جنہیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا باپ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی سائنسی مہارت اور قومی جذبے سے اس پروگرام کو کامیابی تک پہنچایا۔ ڈان اخبار کی 2004 کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے لکھا کہ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز تھا کہ میں نے اپنی قوم کی حفاظت کے لیے کام کیا۔ 28 مئی 1998 کو جب چاغی کے پہاڑوں میں پانچ ایٹمی دھماکوں کی گونج بلند ہوئی تو پورا پاکستان خوشی سے جھوم اٹھا۔ یہ لمحہ صرف ایک تکنیکی کامیابی نہیں تھا بلکہ شہید بھٹو کے وژن، میاں محمد نواز شریف کے فیصلے، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی محنت اور سول عسکری قیادت کے اتحاد کا نتیجہ تھا۔ ڈان اخبار کی 29 مئی 1998 کی رپورٹ کے مطابقوزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو نشان پاکستان سے نوازا اور کہا کہ یہ قوم کی طرف سے ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔ اس دن پاکستان نے دنیا کو پیغام دیا کہ وہ ایک خودمختار اور غیرتمند قوم ہے جو اپنی سلامتی پر کوئی سودا نہیں کرے گی۔

    یوم تکبیر کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوئی جب 10 مئی 2025 کو پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی۔ اگر پاکستان ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو بھارت کے جارحانہ عزائم کو روکنا شاید ناممکن ہوتا۔ اسٹریٹجک اسٹیڈیز انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق ایٹمی صلاحیت نے خطے میں دفاعی توازن قائم رکھا اور بھارت کو جارحانہ پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کیا۔ یہ فتح شہید بھٹو کے اس عزم کی تکمیل تھی کہ پاکستان ہر قیمت پر اپنی آزادی کی حفاظت کرے گا۔ میاں نواز شریف نے عالمی دباؤ کے باوجود قومی مفادات کو مقدم رکھا جبکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور دیگر سائنسدانوں نے اپنی محنت سے اس خواب کو حقیقت بنایا۔ پاک فوج اور سول قیادت کی یکجہتی نے اس فیصلے کو عملی جامہ پہنایا، جس سے پاکستان آج دنیا کے خودمختار ممالک میں سر فخر سے بلند کر کے کھڑا ہے۔

    پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف اس کی اپنی سلامتی کے لیے نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے فخر کا باعث ہے۔ یہ عالم اسلام کو پیغام دیتا ہے کہ عزم، اتحاد اور سائنسی ترقی سے کسی بھی دشمن شکست سے دوچار کیاجا سکتا ہے۔ یوم تکبیر سے بنیان مرصوص تک کا یہ سفر ہر پاکستانی کو یاد دلاتا ہے کہ ہماری قیادت نے مشکل حالات میں بھی اپنی غیرت اور خودمختاری پر سودا نہیں کیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا وژن، میاں نواز شریف کا عزم، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سائنسی کاوشیں اور سول عسکری قیادت کی یکجہتی اس بنیان مرصوص کی بنیاد ہیں۔آج دنیا کے افق پر پاکستان کا پرچم شان و شوکت سے لہرا رہا ہے، یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک غیرت مند، خودمختار قوم ہیں جو اپنی مٹی، اپنے وقار اور اپنے نظریے کی حفاظت کرنا جانتی ہے اور دشمن کی ہر سازش کا سینہ تان کر مقابلہ کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے۔

  • عورت بااختیار قومی کانفرنس اور راجنپور کی عورت

    عورت بااختیار قومی کانفرنس اور راجنپور کی عورت

    عورت بااختیار قومی کانفرنس اور راجنپور کی عورت
    تحریر:سید ریاض جاذب
    پنجاب کے جنوبی کنارے پر واقع ضلع راجن پور، محض ایک جغرافیائی حد بندی کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی سرزمین ہے جو فطرت کے حسین مناظر، دریا اور پہاڑوں کی آغوش میں ہونے کے باوجود محرومیوں، پسماندگی اور بے توجہی کی تلخ داستان سناتی ہے۔ یہ ضلع ایک طرف کوہِ سلیمان کے دلکش پہاڑی سلسلے سے جڑا ہوا ہے، تو دوسری طرف دریاۓ سندھ کی موجیں اس کی زمین کو سیراب کرتی ہیں۔ مگر افسوس کہ قدرتی حسن کی یہ سرزمین معاشرتی اور اقتصادی ترقی کی دوڑ میں نہ صرف پیچھے رہ گئی بلکہ کئی حوالوں سے وقت کے قافلے سے کٹ کر رہ گئی ہے۔

    جب ڈیرہ غازی خان کو ڈویژن کا درجہ ملا، تو اس کے ساتھ ہی اس کی تحصیل راجن پور کو ضلع کا درجہ دے دیا گیا، مگر اس تبدیلی سے علاقے کی تقدیر نہ بدل سکی۔ ترقیاتی عمل یہاں تک پہنچتے پہنچتے جیسے تھک سا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں کی کمی، صحت کی سہولیات کا فقدان، بنیادی انفراسٹرکچر کی زبوں حالی اور سب سے بڑھ کر قبائلی و جاگیردارانہ نظام کی جکڑ نے اس خطے کے عوام کو ایک مسلسل معاشرتی جمود میں قید کر رکھا ہے۔

    راجن پور کا سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ یہاں کی خواتین ہیں، جو دہری محرومی کا شکار ہیں۔ ایک طرف پسماندہ معیشت اور بنیادی سہولیات کی کمی، تو دوسری طرف روایتی تمن داری، قبائلی رسوم و رواج، اور سماجی رکاوٹیں۔ خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور خود مختاری کے مواقع فراہم کرنا آج بھی ایک خواب سا معلوم ہوتا ہے۔

    یہ بات سچ ہے کہ راجن پور آج بھی کئی حوالوں سے محروم ہے، مگر تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔ سیلاب، غربت اور بندشوں نے اگرچہ پروین بی بی جیسی خواتین کی زندگیاں مفلوج کر دیں، لیکن یہی بحران ان کے لیے ایک موقع بھی بن گیا۔ انہوں نے تربیت حاصل کی، روزگار اپنایا، اور رفتہ رفتہ خود کو اور اپنے علاقے کو بدلنے لگیں۔ یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ اگر حالات کو بدلا جائے، مواقع دیے جائیں، تو محرومیوں کی زنجیروں کو توڑا جا سکتا ہے۔

    تاہم، اس سیاہی میں امید کی کچھ روشن کرنیں بھی نظر آتی ہیں۔ راجن پور کی کچھ بیٹیاں ایسی بھی ہیں جنہوں نے اپنے حوصلے، علم، ہنر اور آواز کے ذریعے نہ صرف اپنے لیے نئی راہیں تلاش کیں بلکہ دیگر خواتین کے لیے بھی مشعلِ راہ بنیں۔ ان میں ڈاکٹر شریں مزاری کا نام نمایاں ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں، جبکہ منیبہ مزاری ایک حوصلہ مند کہانی اور خواتین کے لیے طاقت کی علامت ہیں۔ شازیہ عابد اور نرجس بتول، شہناز اکبر جیسے نام بھی راجن پور کی شناخت کا فخر ہیں جنہوں نے سماجی سطح پر خدمات انجام دے کر خواتین کی آواز کو تقویت دی۔

    حال ہی میں راجن پور کی تاریخ میں ایک مثبت موڑ اس وقت آیا جب موجودہ ڈپٹی کمشنر شفقت اللہ مشتاق، جو نہ صرف ایک فعال منتظم بلکہ علم و ادب سے گہرا شغف رکھنے والے افسر ہیں، نے "عورت بااختیار قومی کانفرنس” کا انعقاد کیا۔ یہ کانفرنس محض ایک رسمی اجتماع نہیں تھا، بلکہ یہ اُس گونگی آواز کو زبان دینے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی جو صدیوں سے دبی ہوئی ہے۔

    ملک بھر سے ممتاز خواتین، ماہرین اور سماجی کارکنان اس کانفرنس میں شریک ہوئیں۔ اگرچہ ان میں سے اکثر شہری علاقوں سے تعلق رکھتی تھیں، مگر ان کی موجودگی نے راجن پور کی خواتین کو یہ پیغام دیا کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ ان رول ماڈل خواتین کی کامیابیاں ایک ایسی روشنی ہیں جس کی کرنیں اب راجن پور کی گلیوں، بستیوں اور جھونپڑیوں تک پہنچ رہی ہیں۔

    یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ پنجاب کی موجودہ وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف ہیں، جنہوں نے خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت اور تحفظ کے لیے کئی مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ اُن کی قیادت میں راجن پور جیسے اضلاع کے مسائل پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ایسے میں خواتین کی قومی کانفرنس کا راجن پور میں انعقاد یہ ثابت کرتا ہے کہ اب پسماندہ علاقوں کی خواتین بھی قومی مکالمے کا حصہ بننے جا رہی ہیں۔

    راجن پور کی عورت اب خاموش تماشائی نہیں بلکہ متحرک کردار بننے کو تیار ہے۔ اسے اگر تعلیم، تربیت، معاشی خودمختاری، اور تحفظ فراہم کیا جائے تو وہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتی ہے بلکہ معاشرے کے دھارے کو بھی مثبت سمت میں موڑ سکتی ہے۔

    یہ وقت ہے کہ ہم راجن پور کی عورت کی آواز بنیں، اس کے مسائل کو سنیں، اور اس کے خوابوں کو حقیقت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ کیونکہ جب ایک عورت بااختیار ہوتی ہے، تو ایک نسل بااختیار ہوتی ہے، اور جب ایک نسل بااختیار ہوتی ہے، تو ایک قوم کی تقدیر بدلتی ہے۔