Baaghi TV

Category: بلاگ

  • موسمیاتی کارروائی کو روکا نہیں جا سکتا ، اور ‘موسمیاتی حقیقت پسندی’ ایک خطرناک دھوکہ ہے،تحریر: ناصر اسماعیل

    موسمیاتی کارروائی کو روکا نہیں جا سکتا ، اور ‘موسمیاتی حقیقت پسندی’ ایک خطرناک دھوکہ ہے،تحریر: ناصر اسماعیل

    پیرس معاہدے کو دس سال گزر چکے ہیں، اور دنیا ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ اگرچہ سیاسی رجحانات بدلتے رہے ہیں—کبھی شدت سے—لیکن صاف توانائی کی طرف پیش رفت نہ صرف جاری ہے بلکہ تیز ہو چکی ہے۔ ال گور کے حالیہ TED کاؤنٹ ڈاؤن سمٹ کے خطاب میں ایک کڑی حقیقت سامنے آئی: جیواشم ایندھن کی صنعت کی جانب سے پیش کی جانے والی نام نہاد "موسمیاتی حقیقت پسندی” (ہار مان لینے کا ایک پرکشش نام) کے باوجود، قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی نہ صرف ممکن ہے بلکہ پہلے ہی جاری ہے۔

    ### *جیواشم ایندھن {Fossil Fuel}کی صنعت کا آخری حربہ*
    "موسمیاتی حقیقت پسندی” کا لفظ معقول لگتا ہے—جب تک آپ کو یہ احساس نہ ہو کہ یہ ہار ماننے کا ایک چالاک طریقہ ہے۔ اس کا دلائل یہ ہے: "جیواشم ایندھن ہمیشہ رہیں گے، لہٰذا اخراج کم کرنے کی کوشش چھوڑ کر صرف موافقت پر توجہ دیں۔” لیکن جیسا کہ گور نے واضح کیا، یہ مسئلے کی جڑ کو نظر انداز کرتا ہے: *80% اخراج اب بھی جیواشم ایندھن جلانے سے ہوتا ہے۔* تخفیف کو ترک کرنے کا مطلب ہے ایسی دنیا کو قبول کرنا جہاں:

    – *1 سے 2 ارب افراد* کو 2050 تک بے گھر ہونا پڑ سکتا ہے۔
    – *مہلک گرمی اور نمی* کے باعث کئی خطے رہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
    – *جنگلاتی آگ، طوفان اور سیلاب* نئے ریکارڈ بنا رہے ہیں (2024 اب تک کا گرم ترین سال تھا)۔
    – *مرجانی چٹانیں {Coral Reefs Collapse{ تباہ، مچھلیوں کی تعداد کم اور گلیشیئر غائب* ہو رہے ہیں، جس سے اربوں لوگوں کے پانی کے ذرائع خطرے میں ہیں۔

    یہ حقیقت پسندی نہیں—بلکہ *منصوبہ بند تباہی* ہے۔

    ### *خوشخبری: صاف توانائی جیت رہی ہے*
    اگرچہ کچھ حکومتیں سست روی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، لیکن مارکیٹ خود حرکت میں ہے:

    – *پیرس معاہدے کے بعد قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری دوگنی ہو چکی ہے۔*
    – *شمسی توانائی کی صلاحیت اور الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت* صرف چند سالوں میں دوگنی ہو گئی ہے۔
    – *ہوا سے توانائی میں تقریباً 50% اضافہ* ہوا ہے۔
    – *کوئلے کے پلانٹ بند ہو رہے ہیں* کیونکہ وہ مقابلہ نہیں کر پا رہے۔

    معاشیات واضح ہے: *بے عملی کی صورت میں عالمی معیشت کو 50 سال میں $178 ٹریلین کا نقصان ہو گا، جبکہ موسمیاتی کارروائی *$43 ٹریلین کا فائدہ** دے سکتی ہے۔

    ### *اخلاقی انتخاب — اور عملی بھی*
    گور اس معاملے کو صرف معاشی مسئلے کے طور پر پیش نہیں کرتے۔ یہ ایک *اخلاقی بحران* ہے—جس پر مذہبی رہنما، سائنسدان اور یہاں تک کہ ماہرین معاشیات بھی متفق ہیں۔ ہمارے پاس ذرائع موجود ہیں۔ صرف ایک چیز کی کمی ہے: *انہیں استعمال کرنے کی سیاسی مرضی۔*

    جیواشم ایندھن {Fossil Fuel}کی صنعت کی "حقیقت پسندی” ناگزیر تبدیلی کو مؤخر کرنے کی ایک آخری کوشش ہے۔ لیکن مستقبل پر ان کا کنٹرول نہیں۔ *اصل سوال یہ نہیں کہ آیا ہم منتقل ہوں گے—بلکہ یہ کہ کتنی تیزی سے، اور کتنی منصفانہ طریقے سے۔*

    گھڑی کی سوئی چل رہی ہے۔ انتخاب ہمارا ہے۔

  • بارشوں کا ماسٹر پلان اور نااہل سرکاری ادارے

    بارشوں کا ماسٹر پلان اور نااہل سرکاری ادارے

    بارشوں کا ماسٹر پلان اور نااہل سرکاری ادارے
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستان اگر سونے کی چڑیا ہے تو وہ صرف سرکاری اشرافیہ کے لیے ہے۔ ایک ایسی ریاست جہاں بجلی، گیس اور پٹرول جیسی نعمتیں عوام کی پہنچ سے باہر ہیں، مگر سرکاری ادارے ان سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ فائدے ہم عوام کے حصے میں نہیں آتے، نہ ہی آپ کے لیے ہیں، نہ میرے لیے۔ اس ملک میں جو بھی سہولت ہے، وہ صرف ان سرکاری طبقوں کے لیے ہے جن کے بل بھی ہم ہی ادا کرتے ہیں۔ مگر سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان اداروں میں بھرتی کیے گئے نالائق، سیاسی بنیادوں پر لائے گئے افراد نے ملک کی ہر منصوبہ بندی کو ناکام کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بارش جیسا قدرتی، متوقع اور سادہ سا موسمی عمل بھی ہمارے لیے آفت بن کر آتا ہے۔

    پاکستان میں ہر سال مون سون کا موسم ایک مقررہ وقت پر آتا ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے پیشگی وارننگز جاری ہوتی ہیں، اخبارات اور ٹی وی چینلز پر مسلسل الرٹس دیے جاتے ہیں، مگر جیسے ہی بارش کا آغاز ہوتا ہے، ہمارے شہر پانی میں ڈوبنے لگتے ہیں۔ لاہور، فیصل آباد، ملتان، اوکاڑہ سمیت تمام بڑے شہر ندی نالوں کا منظر پیش کرتے ہیں، گلیاں پانی سے لبریز ہو جاتی ہیں، گھروں کے اندر پانی داخل ہو جاتا ہے اور عوام کا جینا دوبھر ہو جاتا ہے۔ کیا یہ کوئی اچانک آفت ہے؟ ہرگز نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بارش ہر سال ہوتی ہے، تو پھر ہم ہر سال تباہی سے دوچار کیوں ہوتے ہیں؟ کیا یہ حکومتوں کی ناکامی ہے یا صرف منصوبہ سازوں کی؟

    حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ادارے محض کاغذی منصوبہ بندی کے ماہر ہیں۔ لاہور جیسے شہر میں جہاں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے دکھائی دیتے ہیں، وہیں ایک گھنٹے کی بارش میں مین بلیوارڈ، جیل روڈ، گلبرگ اور شاہدرہ جیسے علاقے پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ اوکاڑہ میں نکاسی آب کی صورتحال تو اس سے بھی ابتر ہے۔ نالوں کی صفائی سالہا سال نہیں ہوتی، نکاسی آب کا کوئی جامع نظام موجود نہیں، اور شہر کی غیر منصوبہ بند توسیع نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس ساری بدانتظامی کی سب سے بڑی وجہ سرکاری اداروں میں سیاسی بھرتیاں اور اقربا پروری ہے، جس نے ادارہ جاتی میرٹ اور استعداد کار کو دفن کر دیا ہے۔

    پنجاب میں نکاسی آب کی ذمہ داری محکمہ بلدیات، واسا، محکمہ آبپاشی اور مقامی حکومتوں کے کندھوں پر ہے، مگر یہ ادارے اس وقت تک حرکت میں نہیں آتے جب تک کسی شہری کی ویڈیو وائرل نہ ہو جائے یا وزیر اعلیٰ بذات خود سڑکوں پر نہ نکل آئیں۔ فنڈز ہر سال جاری ہوتے ہیں مگر زیادہ تر کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں، یا کام ادھورا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اوکاڑہ شہر کے علاقے صمد پورہ، صدیق نگر، جنوبی اوکاڑہ، سٹی نالہ، غلہ منڈی اور گول چکر میں ہر سال بارش کے ساتھ نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر فیل ہو جاتا ہے۔ شہری مجبوراً خود موٹریں لگا کر پانی نکالتے ہیں جبکہ سرکاری ادارے صرف تصاویر بنوا کر سوشل میڈیا پر رپورٹ مکمل کر لیتے ہیں۔ اس سے بڑی ادارہ جاتی بے حسی اور کیا ہو سکتی ہے؟

    ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں اربن فلڈنگ کی اصل وجوہات ناقص انفراسٹرکچر، نالوں پر تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات، اور قبل از وقت صفائی کے انتظامات کی کمی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں بارش سے پہلے صفائی، ڈرینج اور پانی کے ذخیرے کے سسٹمز پر کام کیا جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں صرف دعوے اور بیانات دیے جاتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے آج تک بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، اسے کاشتکاری یا شہری استعمال کے لیے محفوظ بنانے کے کسی بھی منصوبے پر عملدرآمد نہیں کیا۔ اگر ہم منصوبہ بندی سے کام لیں تو یہی پانی، جو آج زحمت ہے، کل رحمت بن سکتا ہے۔ اس پانی کو اسٹور کر کے ہم نہ صرف پانی کی قلت پر قابو پا سکتے ہیں بلکہ بجلی پیدا کرنے اور زرعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

    یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ کرپشن کی جڑیں صرف نچلی سطح تک محدود نہیں بلکہ آڈٹ کے وہ ادارے بھی اس میں ملوث ہیں جو احتساب کے نگہبان ہونے چاہیے تھے۔ اگر یہی ادارے خود کرپٹ ہو جائیں تو پھر کسی ماسٹر پلان، کسی فنڈ، کسی منصوبے کی کوئی ضمانت باقی نہیں رہتی۔ حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے انہیں اداروں کا قبلہ درست کرنا ہوگا، ورنہ سال بہ سال بارشیں آتی رہیں گی، شہر ڈوبتے رہیں گے، عوام روتے رہیں گے، اور ماسٹر پلان صرف فائلوں کی زینت بنے رہیں گے۔

  • حوثیوں کا بحری جنگ میں نیا حملہ: جنگ بندی مذاکرات مشکل میں،تحریر ، ناصر اسماعیل

    حوثیوں کا بحری جنگ میں نیا حملہ: جنگ بندی مذاکرات مشکل میں،تحریر ، ناصر اسماعیل

    صنعاء/غزہ: یمنی حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں اسرائیل سے تجارت کرنے والے ایک اور تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف جنگ بندی کے مذاکرات میں نئی رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔

    بحری راستوں پر حوثیوں کا کنٹرول
    حوثی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق:
    – "ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ اسرائیل کو سپورٹ کرنے والا کوئی بھی جہاز محفوظ نہیں ہوگا”
    – گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں یونانی پرچم والے جہاز "ٹیوٹر” کو نشانہ بنایا گیا
    – جہاز میں موجود 25 ملاحوں میں سے صرف 6 کو بحفاظت نکالا جا سکا

    غزہ: جنگ کے ایک اور خونریز دن
    مقامی ذرائع کے مطابق:
    – رفح کے علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں 23 شہری ہلاک
    – متاثرین میں 8 بچے اور 5 خواتین شامل
    – مقامی ہسپتالوں میں زخمیوں کا انبار، طبی سہولیات ناکافی

    مذاکرات کا اہم موڑ
    قطر میں جاری مذاکرات کے بارے میں خصوصی ذرائع کا کہنا ہے:
    – "نطزاریم کوریڈور” پر تنازعہ سب سے بڑی رکاوٹ
    – حماس کا اصرار: اسرائیلی فوجی مکمل انخلا کریں
    – اسرائیلی موقف: سلامتی کے لیے راستہ پر کنٹرول ضروری

    علاقائی ردعمل
    – ترکی: زبانی مذمت کے باوجود اسرائیل سے تجارت جاری
    – آذربائیجان: تیل کی ترسیل کے بدلے جدید اسلحہ حاصل کر رہا
    – ایران: حوثیوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے

    انسانی حقوق کی پامالی
    اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا دعویٰ:
    – "غزہ میں انسانی المیہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے”
    – "امریکی پابندیاں حقائق کو چھپانے کی کوشش”

    اختتامیہ:
    صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ آنے والے دنوں میں نہ صرف بحیرہ احمر میں بحری تجارت کو خطرات لاحق ہوں گے، بلکہ غزہ میں انسانی المیے میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے فوری اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

  • اولاد، محبت کا رشتہ یا ذمہ داریوں کا بوجھ؟ تحریر :صدف ابرار

    اولاد، محبت کا رشتہ یا ذمہ داریوں کا بوجھ؟ تحریر :صدف ابرار

    ہمارا معاشرہ خود کو خاندانی نظام کا محافظ کہتا ہے، لیکن اس خاندانی نظام میں اکثر والدین اپنی اولاد کو محض ایک سہارا، ایک ضمانت یا ایک سرمایہ سمجھتے ہیں۔ یہ سوچ کہ ’’ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اس لیے تم پر ہمارا حق ہے‘‘ ایک زنجیر بن کر رہ گئی ہے جو نسل در نسل بچوں کو غلامی میں جکڑے رکھتی ہے۔

    اکثر والدین بچوں کو تعلیم بھی اس نیت سے دلاتے ہیں کہ کل کو یہی اولاد ان کی بڑھاپے کی لاٹھی ہو، ان کی محرومیوں کا مداوا کرے اور ان کی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لے۔ بچہ ہو یا بچی — کوئی اس بوجھ سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ خواہ اس کے خواب کچلے جائیں، اس کی خواہشات روندی جائیں، یا وہ ذہنی اور جسمانی اذیت سے گزرتا رہے — اس پر فرض ہے کہ وہ والدین کی نااہلی اور غیر ذمہ داری کی قیمت اپنی صحت، اپنی زندگی اور اپنی آزادی سے چکاتا رہے۔

    اس ظلم کو ’’والدین کا حق‘‘ کہہ کر جسٹیفائی کیا جاتا ہے۔ وہ والدین جو خود اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی ذمہ داری اٹھانے سے بھاگ جاتے ہیں، وہی اپنے بچوں کی قربانیوں کو اپنا حق سمجھ کر بے حسی سے تماشہ دیکھتے ہیں۔ بچے دل پر پتھر رکھ کر اپنی خوشیاں دفن کر دیتے ہیں، مگر والدین کی بھوک پھر بھی نہیں مٹتی۔

    سوال یہ ہے کہ اگر اولاد ہمارے سہارے کی ضرورت ہے تو کیا ہمیں ان پر بوجھ ڈالنے کا حق ہے؟ کیا ان کی تعلیم، ان کی محنت اور ان کا کمال صرف اس لیے ہے کہ وہ والدین کی ناکامیوں کا بوجھ اٹھائیں؟ کیا یہ انصاف ہے کہ ایک شخص کی پوری زندگی اس امید میں گزر جائے کہ شاید ایک دن وہ اپنی ذات کے لیے بھی جی سکے مگر وہ دن کبھی نہ آئے؟

    ہمیں ماننا ہوگا کہ اولاد پر حق محبت، تربیت اور رہنمائی کا ہے — غلامی کا نہیں۔ اولاد کو اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے کا حق ہے۔ ان کی تعلیم ان کا حق ہے، اس پر والدین کی خدمت کے نام پر قبضہ نہیں۔ ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا کہ اگر ہم نے زندگی دی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کی زندگی کو اپنی خود غرضی سے برباد کر دیں۔

    اگر ہم واقعی اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں انہیں محبت دینی ہوگی بوجھ نہیں۔ انہیں سہارا دینا ہوگا . سہارے کے نام پر ان کے کندھے توڑنے نہیں۔ ورنہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی غلامی کو اپنا مقدر سمجھ کر آگے منتقل کرتی رہیں گی، اور یہ درد کبھی ختم نہیں ہوگا۔

  • حکومتی تکبر اور پاکستانیوں کے اٹھتے جنازے

    حکومتی تکبر اور پاکستانیوں کے اٹھتے جنازے

    حکومتی تکبر اور پاکستانیوں کے اٹھتے جنازے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں مہنگائی، چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور بھاری بجلی کے بل عوام کی زندگیوں کو مفلوج کر چکے ہیں۔ ایسے میں وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری کا حالیہ بیان عوامی غصے میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان میں بجلی اس لیے مہنگی ہے کیونکہ اس کا استعمال کم ہے اور جب تک استعمال نہیں بڑھے گا، نرخوں میں کمی ممکن نہیں۔ یہ بیان عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہے کیونکہ بجلی ایک سہولت نہیں بلکہ ضرورت ہے اور عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ایسی منطق عام آدمی کی بے بسی کا مذاق اڑاتی ہے۔

    اویس لغاری ناقص پالیسیوں اور غیر ذمہ دار بیانات کی وجہ سے عوامی نفرت کا محور بن چکے ہیں۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اب انہیں بجلی کے بڑھتے نرخوں اور سلیب سسٹم کے جال میں الجھا دیا گیا ہے۔ موجودہ بل عوام کی قوتِ برداشت سے باہر ہو چکے ہیں اور لوگ متبادل توانائی ذرائع جیسے سولر پینلز کی طرف مجبوراً رجوع کر رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے مسلسل نرخوں میں اضافہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ محسوس ہوتا ہے۔

    چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بھی حکومت کی پالیسیوں میں تضاد کا واضح ثبوت ہے۔ اس وقت چینی کی قیمت 190 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے جو رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں 7.57 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمدات کا نتیجہ ہے۔ اس فیصلے سے مقامی مارکیٹ میں قلت پیدا ہوئی اور قیمتوں نے آسمان کو چھو لیا۔ اب حکومت چینی درآمد کرنے جا رہی ہے، جس پر 55 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد ہوگی اور اس سے چینی کی قیمت 245 روپے فی کلو تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ عوام کو مہنگی چینی خریدنے پر مجبور کر کے شوگر مافیا کو ایک بار پھر اربوں روپے کا نفع کمانے کا موقع دیا جا رہا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس پوری صورتحال کو "چینی سکینڈل” اور "قانونی کرپشن” قرار دیا جا رہا ہے۔ عوام کا ماننا ہے کہ یہ پالیسیاں کسی عوامی مفاد کی بنیاد پر نہیں بلکہ طاقتور گروہوں کے مفادات کی تکمیل کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔ وزارتِ منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی خاموشی اور حکومتی مشینری کی بےحسی اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ ایلیٹ طبقہ شوگر مافیا کے سامنے بےبس ہے۔

    دوسری جانب بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ چھوٹے کاروبار بڑھتے ہوئے بلوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہو چکے ہیں اور ایک ایک کر کے بند ہو رہے ہیں، جس سے بیروزگاری میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔ اویس لغاری کا دعویٰ کہ بجلی کی قیمتیں اس لیے بڑھ رہی ہیں کیونکہ اس کا استعمال کم ہے، عام شہری کے لیے ایک بے ربط اور غیر سنجیدہ جواز ہے۔ جب ماہانہ بجلی کے بل 10 سے 20 ہزار روپے تک جا پہنچیں تو کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے انہیں ادا کرنا کسی سزا سے کم نہیں۔

    نیپرا کی طرف سے کی گئی معمولی کمی جیسے 99 پیسے فی یونٹ، اس شدید مہنگائی کے سامنے بے اثر دکھائی دیتی ہے۔ عوام اب خود کو بچانے کے لیے سولر پینلز کی طرف مائل ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہو چکا ہے کہ ریاستی ادارے اب ان کے مالی مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں۔ یہ وہ فضا ہے جس میں اعتماد کا رشتہ ریاست اور شہری کے درمیان ٹوٹنے لگتا ہے۔

    مہنگائی کا یہ طوفان صرف چینی اور بجلی تک محدود نہیں رہا۔ آٹا، دالیں، کوکنگ آئل، سبزی اور ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ سکھر میں آٹے کی قیمت 160 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جب کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھا دیے ہیں، جس سے ہر شے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    2025-26 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو صرف 10 فیصد اضافہ دیا گیا لیکن جب مہنگائی کی شرح 12 سے 15 فیصد سے زائد ہو تو یہ اضافہ دکھاوا معلوم ہوتا ہے۔ نتیجتاً متوسط اور نچلے طبقے نے تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات پر خرچ کم کرنا شروع کر دیا ہے۔ دوسری طرف بجٹ میں دیہاڑی دار مزدور کو زندہ درگور کر دیا گیا ہے جو پہلے ہی بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ ہے، جس کے بچے سکول نہیں جا سکتے، جو بچوں کا علاج نہیں کرا سکتا۔ سرکاری ہسپتالوں میں غریب اور مزدور کے بچوں کو علاج کے بجائے موت کی نیند سلایا جا رہا ہے، جس کی تازہ مثال پاکپتن کے سرکاری ہسپتال میں گزشتہ ماہ ہونے والی بچوں کی 20 ہلاکتیں ہیں۔ اس کی انکوائری رپورٹ کچھ بھی ہو مگر غریب کے بچے تو مر گئے اور سوال یہ ہے کہ ان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

    سوشل میڈیا عوامی غم و غصے کا آئینہ بن چکا ہے۔ روزانہ درجنوں پوسٹس میں یہ شکوہ دہرایا جا رہا ہے کہ حکومت مکمل طور پر مافیاز کے کنٹرول میں آ چکی ہے اور غریب آدمی کے لیے اس ملک میں جینا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

    یہی بے بسی، یہی ناانصافی اور یہی مسلسل معاشی دباؤ وہ بنیادیں ہیں جو عوامی بےچینی کو تحریک میں بدلتی ہیں۔ حکومتی پالیسیوں میں شفافیت کا فقدان، ناقص منصوبہ بندی اور طاقتور طبقات کی خوشنودی پر مبنی فیصلے عوام کے صبر کو آزماتے جا رہے ہیں۔ چینی کی برآمدات کے بعد مہنگی درآمد، بجلی کے نرخوں میں من مانا اضافہ اور اویس لغاری جیسے وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات ، یہ سب مل کر اس نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔

    اب ہر پاکستانی کے ذہن میں یہ سوالات انگاروں کی طرح دہک رہے ہیں کہ غریب کے بچوں کے لیے سکولوں کے دروازے کیوں بند کر دیے گئے؟ کیا تعلیم اب صرف امیروں کی میراث بن چکی ہے؟ سرکاری ہسپتالوں میں مزدوروں اور عام شہریوں کے بچوں کو "علاج” کے نام پر موت کیوں دی جا رہی ہے؟ بجلی کے سلیب گرد بلوں میں جکڑے لوگ کب تک خودکشیاں کرتے رہیں گے؟ مہنگی چینی، آٹا، دال اور ادویات خریدنے کی سکت نہ رکھنے والے کب تک زندہ دفن کیے جاتے رہیں گے؟ آخر کب تک ہر مہینے کے اختتام پر گھروں سے مہنگائی کا مارا جنازہ نکلے گا؟

    یہ سوالات صرف احتجاجی بینروں یا سوشل میڈیا پوسٹس کے نعرے نہیں ہیں بلکہ ایک مجبور قوم کی چیخیں اور اضطراب ہیں جو اپنے جینے کے حق کی بھیک مانگ رہی ہے۔ اور جب ایک قوم اپنے حقِ زندگی کے لیے سوال کرنا شروع کر دے، تو یہ وقت اربابِ اختیار کے لیے فیصلہ کن گھڑی ہوتا ہے۔ اب تاریخ خاموش نہیں رہے گی،حکومتی بے حسی اور تکبر کی وجہ کتنے پاکستانیوں کےمزید جنازے اٹھیں گے؟،یہ سوالات کبھی نہ کبھی جواب مانگیں گے اور اگر اقتدار کے ایوانوں میں سننے والا کوئی نہ ہوا تو پھر عوام خود اپنے خون سے جواب لکھیں گے۔حکومتی ارباب اختیار کو اس وقت سے ڈرنا چاہیئے ،جب وہ کچھ کرناچاہیں گے تو اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی اور آناََ فاناََ سب کچھ ملیامیٹ ہوجائے گا.

  • تین لاشیں ۔ اور ایک سوال۔۔۔تحریر: شاہدہ مجید

    تین لاشیں ۔ اور ایک سوال۔۔۔تحریر: شاہدہ مجید

    کیا ہم سب زندہ ہیں ۔۔ یا صرف سانس لے رہے ہیں ۔۔
    "مثال ہے پنجابی کی: اولاد کلاد ہو جاندی اے، ما پے کماپے نئیں ہوندے” یعنی "اولاد بے وفا ہو سکتی ہے، لیکن ماں باپ کبھی ماں باپ ہونا نہیں چھوڑتے” —
    یہ والدین کی محبت کے لیے ایک محاورہ ہے،
    وہ محبت جو بے غرض، بے لوث اور غیر مشروط سمجھی جاتی ہے۔
    لیکن پھر ایک لاش ملتی ہے…
    تین ہفتے پرانی لاش ۔۔
    جو اس محاورے کو جھوٹا کردیا ہے ۔
    یہ لاش صرف حمیرا کی نہیں ہے… یہ انسانیت کی گلی سڑی لاش ہے۔
    یہ واقعہ محض موت نہیں، ایک ایسا طمانچہ ہے جو سماج کے چہرے پر پوری قوت سے پڑتا ہے۔
    اداکارہ، ماڈل، اور سوشل ورکر حمیرا اصغر — جو لاکھوں فالوورز رکھتی تھیں،
    ۔۔۔
    ماڈل تھی اداکارہ تھی ۔
    ۔، جو تنہائی میں اس طرح مریں کہ ان کے ماں باپ نے بھی لاش لینے سے انکار کر دیا۔
    پولیس نے فون کیا۔ بھائی نے کہا والد سے بات کریں۔ والد نے غصے سے کہا: ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
    جو کرنا ہے کریں۔ ہم لاش نہیں لیں گے۔ فون بند ہو گیا۔
    یہ صرف ایک بیٹی کی لاش نہیں تھی،
    یہ اس رشتے کے تقدس کا جنازہ تھا جسے ہم مقدس مانتے ہیں۔
    کیا رشتے اب بدنامی کے خوف، خودغرضی، یا مفاد پرستی کے ترازوں میں تولے جاتے ہیں؟
    وہ لڑکی جس کے ہزاروں چاہنے والے تھے، وہ سوشل میڈیا پر موجود تھی، اس کی مسکراہٹوں میں زندگیاں جھلکتی تھیں — آخر تنہائی میں کیوں مری؟ کیوں کوئی اس کی غیر موجودگی محسوس نہ کر سکا؟
    ایسی موت تنہائی کی نہیں، ہمارے ضمیر کی موت ہے۔
    یاد کریں سیمیں درانی — ایک بھولی ہوئی کہانی۔۔۔
    وہ حسین تھی…بہت حسین۔ روشن آنکھیں، زندہ دل، ہنسنے ہنسانے والی، سوال اٹھانے والی۔
    بہادر اور زندہ دل تھی ۔۔
    فیس بک کے کئی لوگ اسکے اچھے دوستوں میں شمار ہوتے۔۔
    لیکن دنیا اسے سمجھ نہ سکی۔ کچھ نے اس کی ہنسی کو آزادی کہا، ،،
    کچھ نے اس کی تحریروں کو بے باکی کہا،۔۔
    مگر وہ جن کی اسے سب سے زیادہ ضرورت تھی، وہ خاموشی سے کنارہ کش ہو گئے۔۔۔
    ایسی عورت اگر خود کو فنا کر لے، تو یہ واقعہ نہیں، واردات ہے۔۔۔
    اس کی پنکھے سے لٹکی پانچ دن پرانی لاش کو خودکشی کہنا کافی نہیں۔
    اگر یہ خودکشی ہے تو سمجھنا چاہیے کہ انسانیت بھی اسکے ساتھ خودکشی کرچکی ۔۔
    ۔ کہاں تھے اس کے وہ اپنے، جو اس کی غیر موجودگی سے بھی لاتعلق رہے؟
    وہ دل کی مریضہ تھی، لیکن رشتے — جنہیں خون کہا جاتا ہے — اس کے دل تک نہ پہنچ سکے۔۔۔۔
    سیمیں کی موت صرف اس کی اپنی نہیں، یہ ہمارے معاشرے کی بے حسی کی فردِ جرم ہے۔
    عائشہ خان —سینئر ادکارہ ۔۔
    ستر سالہ بزرگ خاتون ۔
    وہ چہرہ جو برسوں اسکرین پر جگمگاتا رہا —
    دلوں کو چھوتا، کہانیوں کو جان بخشتا۔
    عائشہ خان… صرف ایک اچھی اداکارہ نہیں ، بلکہ با اخلاق، مہذب اور شائستہ لب و لہجے والی شخصیت تھیں۔
    ان کے پڑھے لکھے، سیٹ ہنستے بنستے بچے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ایک ذمہ دار ماں بھی تھیں۔ ۔۔
    لیکن جب اولاد اپنی زندگی میں مصروف ہوئی تو ماں کو ہی بھول گئی۔
    وہ کرداروں میں جیتی رہیں، مگر شاید اپنی ذات میں مرتیں رہیں۔
    جب دم توڑ گئیں تو کئی دن کسی کو خبر نہ ہوئی۔۔۔۔۔
    اور جب خبر آئی، تو تنہائی کی بو ساتھ لائی —
    جو برسوں سے ان کے ارد گرد تھی۔
    عائشہ خان کی موت صرف ایک سینئر اداکارہ کی موت نہیں تھی — یہ فنکاروں کے لیے سماج کی بے رخی پر دنیا کی سٹیج پر انکا آخری سین تھا۔
    اور اب پھر ایک 21 دن پرانی لاش ملی ہے ۔۔۔
    اب سب کہانیوں ، انکی زندگیوں اور انکی لاشوں میں ایک بات مشترک ہے ۔۔اپنوں کی بے رخی اور تنہائی کی بو ۔۔۔
    تین لاشیں، تین کہانیاں ہیں اور سماج سے ایک لاوارث سوال ہے ۔۔
    کیا ہم سب زندہ ہیں؟

  • یزیدِ وقت اور غزہ کا کربلا ، امت کی خاموشی پر سوال ،تحریر: اقصیٰ جبار

    یزیدِ وقت اور غزہ کا کربلا ، امت کی خاموشی پر سوال ،تحریر: اقصیٰ جبار

    تاریخ کا پہیہ اکثر وہی مناظر دہراتا ہے جنہیں انسان بھولنا چاہتا ہے۔ چودہ سو سال قبل 61 ہجری میں سرزمینِ کربلا پر ایک خونی داستان رقم ہوئی، جہاں نواسۂ رسول ﷺ، حضرت امام حسینؑ نے اپنے خاندان سمیت دینِ محمدیؐ کی بقا کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ امامؑ نے یزید کی جابر حکومت کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرتے ہوئے قربانی، حریت، اور اصول پسندی کی وہ مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

    یزید محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک نظام، ایک ایسا نظریہ ہے جو طاقت کے نشے میں عدل و انسانیت کو روند ڈالتا ہے۔ کربلا میں اسی سوچ نے پانی بند کیا، بچوں، عورتوں اور اہلِ بیتؑ پر ظلم کے پہاڑ توڑے، حتیٰ کہ نواسۂ رسول ﷺ کے سر کو نیزے پر چڑھا دیا گیا۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے ظلم کے خلاف بغاوت کا اعلان ہے۔

    آج فلسطین، خاص طور پر غزہ، اسی یزیدی ذہنیت کا شکار ہے۔ اسرائیل 1948ء سے نہ صرف فلسطینیوں کے گھروں پر قبضہ کر رہا ہے بلکہ مسجد اقصیٰ کو بارہا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ہزاروں معصوم بچوں، عورتوں اور بزرگوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔ 2023 سے جاری موجودہ جنگ میں تو ظلم کی انتہا ہو چکی ہے — اسپتال، اسکول، امدادی کیمپ، حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ کے دفاتر تک محفوظ نہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی ایک نئی کربلا کی یاد دلاتی ہے۔

    کیا یہ سب ایک نیا یزید نہیں؟ کیا اسرائیل کی درندگی، نسل کشی، اور مذہبی مقامات کی بے حرمتی کربلا کے یزیدی مظالم سے کم تر ہے؟ کربلا میں پانی بند کیا گیا، غزہ میں پانی، بجلی، دوا، خوراک — سب کچھ بند ہے۔ وہاں یزید تھا، یہاں اسرائیل ہے؛ وہاں حسینؑ تھے، یہاں ہزاروں مظلوم فلسطینی ہیں — لیکن جذبہ، صبر اور استقامت وہی ہے۔

    حضرت امام حسینؑ کا ایک قول ہے:> ” اگر تم دین نہیں رکھتے تو کم از کم آزاد مرد بنو۔” (بحارالانوار، جلد ۴۴)

    آج غزہ کے نہتے مگر غیرتمند لوگ اسی آزادی، عزت اور مزاحمت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس فلسفے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں جسے ہم نے صرف مجلسوں اور نوحوں تک محدود کر دیا ہے۔

    امتِ مسلمہ کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر ہم نے واقعی کربلا سے سبق سیکھا ہوتا تو غزہ کی سرزمین پر ظلم اس قدر نہ بڑھتا۔ اگر ہم نے صرف ماتم کیا اور فلسفۂ کربلا کو نہ سمجھا، تو پھر آج ہم یزیدِ وقت کے سامنے کیوں خاموش ہیں؟

    کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کے لیے کھڑے ہونا فرض ہے، چاہے ہم تعداد میں کم ہوں، چاہے قربانی دینی پڑے۔ فلسطین کے معصوم بچوں کی چیخیں، ماؤں کی آہیں، اور شہداء کی قبریں آج ہم سے سوال کر رہی ہیں:

    "تم کون ہو؟ حسینؑ کے ماننے والے یا یزید کی خاموشی کے وارث؟”

    ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم ظلم کے خلاف کلمۂ حق بلند کریں گے یا صرف تاریخ کو یاد کر کے خود کو زندہ ضمیر سمجھنے کا فریب دیتے رہیں گے؟ کیا ہم کربلا کی پیروی کریں گے یا یزیدِ وقت کی خاموش تائید؟

  • چینی کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ: حکومتی وعدوں کی ناکامی اور عوام کی پریشانی

    چینی کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ: حکومتی وعدوں کی ناکامی اور عوام کی پریشانی

    چینی کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ: حکومتی وعدوں کی ناکامی اور عوام کی پریشانی
    تحریر: حبیب اللہ خان، نامہ نگار باغی ٹی وی بہاولپور
    پاکستان میں چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ صرف عوام کے لیے ایک بڑا معاشی دھچکا ہے بلکہ حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ گزشتہ برس شوگر ملز مالکان اور ڈیلرز نے حکومت کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ چینی کی برآمد سے نہ صرف زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ برآمدات کے باوجود مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں یا دستیابی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

    ان دعوؤں کی بنیاد پر حکومت نے چینی کی برآمد کی اجازت دے دی اور پُر اعتماد انداز میں کہا کہ کرشنگ سیزن سے قبل نہ چینی کی قلت ہوگی، نہ قیمتیں بڑھیں گی، اور نہ ہی درآمد کی ضرورت پیش آئے گی۔ لیکن آج صورتحال مکمل طور پر اس کے برعکس ہے۔

    چینی کی قیمتیں بے قابو ہو چکی ہیں، مارکیٹ میں قلت پیدا ہو رہی ہے، اور اب حکومت کو دوبارہ چینی درآمد کرنے کے لیے ڈالرز خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ دسمبر 2024 میں جو چینی ایکس مل ریٹ پر 125 سے 130 روپے فی کلو دستیاب تھی، وہ اب ریٹیل مارکیٹ میں 190 سے 200 روپے فی کلو کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اوچ شریف میں چینی کی قیمت 6 روپے کے اضافے کے ساتھ 190 روپے، احمد پور میں 5 روپے اضافے سے 195 روپے، اور بہاولپور میں صرف ایک ماہ میں 10 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں قیمت 200 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے۔

    شوگر ڈیلرز نے برآمدات کے ذریعے ڈالر تو ضرور کمائے، لیکن اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا۔ برآمدات سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ بے معنی ہو جاتا ہے جب ملک کو دوبارہ وہی چینی درآمد کرنے کے لیے قیمتی ڈالرز خرچ کرنے پڑیں۔ یہ صورتحال حکومتی منصوبہ بندی میں خامیوں، شفافیت کی کمی اور فیصلہ سازی میں مفادات کے تصادم کو بے نقاب کرتی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے اس بحران کو جنم دیا؟ ماہرین کے مطابق چینی کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں شوگر ملز کی جانب سے پیداوار کے اعداد و شمار میں ہیر پھیر، برآمدات کو غیر ضروری طور پر ترجیح دینا، اور مقامی مارکیٹ کی طلب کو نظر انداز کرنا شامل ہیں۔ شوگر ملوں نے مبینہ طور پر پیداوار کو جان بوجھ کر کم ظاہر کیا تاکہ برآمدات کی اجازت حاصل کی جا سکے، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں چینی کی دستیابی متاثر ہوئی۔ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اضافے نے بھی درآمدات کو مزید مہنگا کر دیا، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر پڑا۔

    چینی ایک بنیادی ضرورت کی شے ہے، اور اس کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوام کی قوتِ خرید پر ضرب لگا رہا ہے۔ غریب اور متوسط طبقہ، جو پہلے ہی مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، چینی کے اس ہوشربا اضافے سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ بیکریوں، مٹھائی فروشوں اور چینی استعمال کرنے والی دیگر صنعتوں پر بھی اس بحران کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بحران کا حل کیا ہے؟ حکومت کو فوری طور پر چینی کی برآمدات پر پابندی عائد کرنی چاہیے اور مقامی ضروریات کو ترجیح دینی چاہیے۔ شوگر ملز کی پیداوار اور اسٹاک کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ اعداد و شمار میں ہیر پھیر روکی جا سکے۔ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے سبسڈی یا دیگر اقدامات پر غور کیا جائے۔ اگر حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو یہ بحران نہ صرف معیشت بلکہ سیاسی استحکام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    چینی کی قیمتوں میں بے قابو اضافہ نہ صرف حکومتی وعدوں کی ناکامی کا نتیجہ ہے بلکہ ناقص منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت کی عدم موجودگی کا ثبوت بھی ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومت سنجیدگی سے اپنی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لے اور عوامی مفاد کو اولیت دے، ورنہ عوامی اعتماد اور ملکی معیشت دونوں شدید خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

  • کہو طوفان سے اپنی سمت بدلے ،میری کشتی میں کوئی نوح نہیں ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    کہو طوفان سے اپنی سمت بدلے ،میری کشتی میں کوئی نوح نہیں ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    حکومتوں کا آنا جانا مکافات عمل نہیں ،ہردور میں پہلا گیا اور نیا آیا
    نواز شریف دور میں ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے پابندیاں لگیں ،دوست ممالک نے بھرپور ساتھ دیا
    چین کی مدد سے جے ایف تھنڈر طیارہ بنانا بھی نواز شریف کا کارنامہ،مضبوط خارجہ پالیسی طرہ امتیاز رہا
    موجودہ حکومت میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی بہترین خارجہ پالیسی سے کامیابیاں ملنے لگیں
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    سابق وزیر اعظم عمران خان پر مقدمات حقیقت ہیں یا افسانہ، اس کو مکافات عمل قرار دیا جارہا ہے، تاریخ کا مطالعہ کریں اچھے سے اچھے تاجدار بھی ایک وقت میں اپنے اقتدار سے الگ ہوئے مثلا اورنگزیب عالمگیر اور عمر بن عبدالعزیز تو کیا ان کے لئے تخت شاہی سے علیٰحدہ ہو جانا کسی مکافات عمل کا نتیجہ تھا ،ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک پراسس ہے کہ اس دنیا فانی سے ہر ایک کو رخصت ہونا ہے اور اسکی جگہ دوسرے نے لینی ہے لہٰذا اس پراسس کو مکافات عمل قرار دینا ہرگز مناسب نہیں ،بھٹو سے قبل اور بھٹو کے بعد نواز شریف سے لیکر محترمہ بینظیر بھٹو شہید تک جتنے بھی وزارت عظمی کے عہدوں پر فائز رہے جو کچھ ان پر گزری اسکی بڑی وجہ سیاسی جماعتوں میں نہ سیاست نہ جمہوریت ہے، ہماری سیاست اور جمہوریت انتقام سے شروع ہو کر انتقام ہی پر ختم ہوتی ہے، آج بھی سیاسی گلیاروں میں جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کا پرچار کرنے والے موجود ہیں مگر ان کی آوازیں دب چکی ہیں ،سیاسی جماعتوں میں غیر جمہوری اور مفاد پرست اور مسخرے پن کی حدوں کو کراس کرنے والے سیاست دانوں کی اکثریت ہے کسی زمانے میں سیاست نظریہ کے گرد گھومتی تھی آج کی سیاست اور جمہوریت صرف اور صرف اقتدار اور اقتدار کے گرد گھومتی ہے، مثبت سیاست ہماری قومی ضرورت ہے کاروباری سیاست اور مفاداتی سیاست کو مدفن کرنا ہو گا، بقول شاعر ،،
    کہو طوفان سے اپنی سمت بدلے
    میری کشتی میں کوئی نوح نہیں ہے

    پاکستان کے عالمی دنیا کے کئی ممالک کیساتھ تعلقات ہیں اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی کہتے ہیں کسی بھی ملک کا داخلی اور خارجی استحکام ہے خارجہ پالیسی بناتے وقت سول حکومت اور ذمہ داران ریاست شامل ہوتے ہیں عمران حکومت کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان خارجہ محاذ پر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکا پاکستان عالمی تنہائی کا شکار ہو گیا کہا جا رہا تھا شاہ محمود قریشی کی خارجہ امور پر گرفت بہت مضبوط ہے مگر نتیجہ صفر رہا، نواز شریف کے دور حکومت میں خارجہ پالیسی میں نمایاں کامیابی نظر آئی ہے، بینظیر بھٹو شہید کے دور حکومت میں امریکہ نے ایف 16 طیاروں کی قیمت وصول کرنے کے بعد پاکستان کو طیارے نہیں دئیے نواز شریف کے دورے حکومت میں جب ایٹمی دھماکوں کی پاداش میں پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگیں نواز شریف کی کامیاب خارجہ پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب چین اور دیگر ممالک نے پاکستان کی مدد کی اور چین کی مدد سے جے ایف تھنڈر طیارہ بنا لیا گیا، نواز شریف کے دور حکومت میں سعودی عرب نے چونتیس ممالک کا فوجی اتحاد بنایا جس کی سربراہی پاکستان کے حصے میں آئی، نواز شریف کے دورے حکومت میں چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کا معاہدہ ہوا چین کے تعاون سے متعدد منصوبے شروع کئے گئے نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان اور ترکیہ ایک دوسرے کے مزید قریب ہوئے موجودہ حکومت نواز شریف کی ہی خارجہ پالیسی پر عمل کر رہی ہے ،سینیٹر اسحاق ڈار کو داد دینا ہو گی انھوں نے پاک بھارت ، اسرائیل ایران جنگ میں روایتی خارجہ پالیسی کے مقابلے میں ایسے اقدامات کئے پاکستان اور قوم پر مستقبل میں اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے بلاشبہ اسحاق ڈار کی کامیاب خارجہ پالیسی سے مستقبل میں نئے معاشی امکانات سمیت خارجہ پالیسی میں پاکستان کو کامیابیاں حاصل ہوں گی

  • بجلی کا بل، سولی کا پھندہ اور حافظ نعیم الرحمان کی خاموشی

    بجلی کا بل، سولی کا پھندہ اور حافظ نعیم الرحمان کی خاموشی

    بجلی کا بل، سولی کا پھندہ اور حافظ نعیم الرحمان کی خاموشی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں بجلی کے بل اب صرف ایک گھریلو خرچ نہیں رہے بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے موت کا پروانہ بن چکے ہیں۔ یہ بل کسی بھی وقت کسی کا چولہا بجھا سکتے ہیں، کسی بچے کے سکول کی فیس روک سکتے ہیں یا کسی بوڑھے ماں باپ کی دوا چھین سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ صرف قیمتوں کا نہیں بلکہ اس ظالمانہ اور غیر منصفانہ "سلیب سسٹم” کا ہے جو عوام کو ایک ایسے شکنجے میں کس چکا ہے جہاں ایک یونٹ کا فرق زندگی اور موت کی لکیر بن چکا ہے۔

    حکومتی پالیسی کے مطابق اگر کوئی صارف 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرتا ہے تو اسے سبسڈی دی جاتی ہے اور قیمت فی یونٹ 10.54 روپے سے 13.01 روپے تک ہوتی ہے۔ مگر جیسے ہی یہ تعداد 201 یونٹ ہو جائے تو وہ صارف نان پروٹیکٹڈ کیٹگری میں شامل ہو جاتا ہے جہاں فی یونٹ قیمت 33.10 روپے ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ بجلی کے بل میں کئی اقسام کے ٹیکس اور سرچارجز شامل ہو کر بل کو ناقابل برداشت بنا دیتے ہیں۔ ایک عام صارف کا 200 یونٹ کا بل تقریباً 3,083 روپے بنتا ہے، لیکن صرف ایک یونٹ اضافے پر یعنی 201 یونٹ پر بل 8,154 روپے ہو جاتا ہے۔ صرف ایک یونٹ کا فرق اور بل میں 5,071 روپے کا اضافہ؟ یہ مذاق نہیں، معاشی ظلم ہے۔

    ایکس(ٹویٹر) پر لوگ اپنے بل شیئر کر رہے ہیں۔ کہیں 199 یونٹس کا بل 2,000 روپے ہے اور وہی صارف اگر 201 یونٹس استعمال کر لے تو بل 9,000 روپے سے تجاوز کر جاتا ہے۔ اس پر اگر کوئی اضافی سرچارج بھی لگ جائے تو غریب کے لیے بجلی جلانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بے بسی، غصہ اور دکھ مل کر انسان کو یا تو خودکشی پر مجبور کرتے ہیں یا احتجاج پر۔

    یہ کوئی مفروضہ باتیں نہیں ہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق گوجرانوالہ کے انور کا بل صرف 3,800 روپے تھا لیکن عدم ادائیگی پر اس کا کنکشن کاٹ دیا گیا۔ اس نے ہمسائے سے بجلی لی تو گیپکو نے بجلی چوری کا مقدمہ درج کر دیا۔ یہ صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے انور کا بیٹا فراز تیزاب پی کر مر گیا۔ اس کی ماں کی چیخ، "میرا بیٹا بلوں کے چکر میں مر گیا” ایک ایسا جملہ ہے جو ہر قانون ساز کے کان میں گونجنا چاہیے۔ لاہور کا ریڑھی بان فیصل ہو یا ڈسکہ کی نسرین بی بی، سب کی کہانیاں ایک جیسی ہیں۔ کسی نے بل کی زیادتی سے تنگ آ کر خودکشی کی تو کسی نے اپنے خاندان کو کھو دیا۔

    دوسری طرف وہ اشرافیہ ہے جسے بجلی یا تو مفت فراہم کی جا رہی ہے یا انتہائی رعایتی نرخوں پر۔ سینئر صحافی حامد میر نے ایکس (ٹویٹر)پر ایک بل کی تصویر شیئر کی جس میں واپڈا کے ایک ملازم نے 1,200 یونٹس بجلی استعمال کی اور صرف 716 روپے ادا کیے۔ ملتان میں ایک افسر کے 895 یونٹس کے بل کی رقم صرف 1,201 روپے تھی۔ یعنی یہ لوگ 1.5 روپے فی یونٹ سے بھی کم میں بجلی حاصل کر رہے ہیں جبکہ عام صارف 201 یونٹ پر 8,000 سے 11,000 روپے ادا کر رہا ہے۔ یہ دہرا معیار معاشرے میں غصہ، محرومی اور بغاوت کو جنم دے رہا ہے۔

    یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب موجودہ حکومت، خاص طور پر وزیر توانائی اویس لغاری بجلی کے مسائل کا کوئی عملی حل دینے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ عوام کو اس نظام میں پھنسا دیا گیا ہے جہاں لائن لاسز، بجلی چوری، مفت بجلی کی سہولیات اور مہنگے نجی پاور پلانٹس کے کیپیسٹی چارجز کا بوجھ ان صارفین پر ڈالا جا رہا ہے جو نہ چوری کرتے ہیں، نہ مفت بجلی استعمال کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایماندار صارف ہی اس پورے کرپٹ نظام کا اصل شکار بن چکا ہے۔

    یہی وہ لمحہ ہے جب عوام نے توقع کی تھی کہ کوئی ان کا مقدمہ لڑے گا اور یہ توقع حافظ نعیم الرحمان سے تھی۔ وہی حافظ نعیم جو ماضی میں کے الیکٹرک کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے تھے، عوامی مظاہروں کی قیادت کرتے تھے اور بجلی کے ہر بحران پر سڑکوں پر احتجاج کرتے تھے۔ لیکن آج جب ظلم پورے ملک میں سلیب سسٹم کی صورت میں نافذ ہے، عوام خودکشیاں کر رہے ہیں تو حافظ نعیم کی خاموشی حیران کن اور تکلیف دہ ہے۔

    کیا جماعت اسلامی نے اپنی سیاسی حکمت عملی بدل لی ہے؟ کیا حالیہ انتخابی نتائج نے ان کے احتجاجی جذبے کو ماند کر دیا ہے؟ یا وہ کسی مفاہمتی پالیسی کے تحت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں؟ ان سوالات کا جواب خود حافظ نعیم الرحمن کو دینا ہوگا۔ کیونکہ عوام اب اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں انہیں جذباتی تقاریر نہیں، عملی مزاحمت چاہیے۔ ان کی خاموشی اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ جماعت اسلامی اب حکومتی دباؤ یا مصلحت کے تابع ہو چکی ہے۔

    عوام نے 201 یونٹ کی سلیب گردی کو مسترد کر دیا ہے۔اس سسٹم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ سوشل میڈیا پر "NoMoreSlabLooting” جیسے ٹرینڈز روزانہ کی بنیاد پر چل رہے ہیں۔ صارفین یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ سلیب سسٹم کو ختم کیا جائے،اداکار نعمان اعجاز نے ایکس(ٹویٹر) پر لکھا، "200 یونٹ والی بدمعاشی ختم کریں۔” عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ سلیب سسٹم اصلاح کیا جائے، اشرافیہ کی مفت بجلی ختم ہو، پن بجلی اور قابل تجدید توانائی سے سستی بجلی بنائی جائے اور ٹیکسز و سرچارجز ہٹا کر شفاف نظام لایا جائے۔ یہ ظلم کب تک جاری رہے گا؟ جب تک اشرافیہ کو مراعات ملتی رہیں گی اور عام صارف پر بوجھ ڈالا جاتا رہے گا، عوامی غصہ بڑھتا رہے گا۔

    جناب وزیراعظم میاں شہباز شریف، عوام کا غیض و غضب نوشتہ دیوار ہے۔ 201 یونٹ کی سلیب گردی اور اشرافیہ کی مفت بجلی سولی کا پھندہ ہے جو غریب پاکستانیوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔ آپ ہمیشہ اقتدار میں نہیں رہیں گے۔ جب آپ عوام کے سامنے جائیں گے، تو اشرافیہ کے سہارے آپ کو عوام کے غیض و غضب سے نہیں بچا سکیں گے۔ یہ غصہ، جو سڑکوں پر، سوشل میڈیا پر اور ہر گھر میں پھیل چکا ہے، آپ کی حکومت کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا۔ فوری طور پر سلیب سسٹم کی اصلاح کریں، مفت بجلی کی مراعات ختم کریں اور غریب کو سستی بجلی دیں۔ ورنہ، تاریخ آپ کو اس حکمران کے طور پر یاد رکھے گی جس نے عوام کو معاشی عذاب میں جکڑ زندہ درگور کردیا۔