Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان سالانہ 8 ارب ڈالرز کا فوڈز دنیا سے ایمپورٹ کرتا ھے .تحریر:ارشاد خان

    پاکستان سالانہ 8 ارب ڈالرز کا فوڈز دنیا سے ایمپورٹ کرتا ھے .تحریر:ارشاد خان

    جس میں کوکنگ ائل ، سویابین ملک ، دالیں ، فاسٹ فوڈز، خشک دودھ ، چائے کی پتی اور بھی بہت سی چیزیں
    ھم ایک جملہ اکثر سنتے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ھے مگر آج تک کسی حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دی موجودہ حکومت نے اس طرف نہ صرف توجہ دی بلکہ عملی کام بھی شروع کر دیا ھے
    کچھ عرصہ پہلے وزیراعظم عمران خان نے پاکستان ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو ٹاسک دیا کہ آپ سروے اور ریسرچ کرو کہ ھم پاکستان میں کون کون سے فوڈز خود پیدا کر سکتے ہیں جو ھم باہر سے منگوا سکتے ہیں
    آپ سن کر حیران رہ جاو گے کہ جب ایگریکلچر ماہرین نے ریسرچ کیا تو ان کو پتہ چلا کہ ھم یہ تمام چیزیں نہ صرف خود کی ضرورت کے لئے پیدا کر سکتے ہیں بلکہ اتنی وافر مقدار میں پیدا کر سکتے ہیں جس کو ھم ایکسپورٹ بھی کر سکتے ہیں
    آپ کو صرف کچھ مثالیں دے دیتا ہوں اپ اندازہ کر لینگے
    پاکستان سالانہ صرف 1۔1 ارب ڈالر یعنی تقریبا 200 ارب روپے کا سویابین ملک ایمپورٹ کرتا ہے
    جبکہ 600 ملین ڈالر کا چائے ایمپورٹ کرتا ھے
    اس کے علاوہ پاکستان تقریبا تمام کوکنگ آئل باہر سے منگواتا ھے

    اب پاکستان ان شاءاللہ دو سال بعد اتنا سویابین دودھ پیدا کر سکے گا جو ضرورت سے زیادہ ھوگا اور ھم ایکسپورٹ کریں گے جبکہ چائے کی پتی بھی ھم ایکسپورٹ کریں گے ایمپورٹ کی وجہ سے ھمارے ملک کو سب سے بڑا نقصان یہ ھوتا ھے کہ ایک تو ملک میں روزگار کی کمی ھوتی ھے جبکہ ھمارے ملک سے ڈالر باہر جاتا ھے جس کی وجہ سے ھمارے ملک میں ڈالر کی کمی ھو جاتی ہے اور ھمارا روپیہ گر جاتا ھے اور مہنگائی ھو جاتی ھے حکومت کی کوششوں سے اب ھم اپنی ضروریات سے زیادہ یہ چیزیں پیدا کریں گے جس کا دو فائدے ھونگے ایک تو ھماری اپنی ضرورت پوری ھوگی جس سے روزگار بڑھے گا جبکہ دوسرا ھمارے ملک سے ڈالر باہر نہیں جائیں گے بلکہ زیادہ پیداوار کی وجہ سے ڈالر ھمارے ملک آتا رہے گا .جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ھوگا۔

    پاکستان ایگریکلچر انسٹیٹیوٹ نے بلوچستان کے ایک کروڑ ایکڑ رقبے کو زیتون کی کاشت کے لئے موزوں قرار دیا ھے جس پر پلانٹشن شروع ہو گئی ہے اور اگلے 3 ، 4 سالوں میں ہم اتنا زیتون ائل پیدا کریں گے کہ دنیا کو ایکسپورٹ کریں گے اور خوشی کی بات یہ ھے کہ ھم دنیا کا سب سے زیادہ زیتون ایکسپورٹ کرنے والا ملک بنیں گے۔اس کے علاوہ دالوں کی کاشت بھی شروع ھو گئی ھے جو ھماری ضرورت سے زیادہ ھونگی ایک بات ذہن میں رہے کہ مقامی سطح پر جو چیزیں ھم پیدا کریں گے ایک تو اس کی قیمت کم ھوگی جنکہ دوسرا وافر مقدار میں دستیاب ھونگے۔
    موجودہ حکومت رزاعت کے ترقی کے لئے زمینداروں کو سہولیات دے رہی ہے جس کا فائدہ اس سال سامنے آیا ھے اور وزیراعظم صاحب مسلسل خود زمینداروں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ ان کے مسائل خود سن کر سمجھ کر ان کو دور کیا جا سکے۔
    حکومت نے چین کے ساتھ بھی ایگریکلچر ریسرچ شئرینگ کا معاہدہ کیا ھے جس کے لئے بلوچستان میں جگہ مختص کی ھے۔
    ان شاءاللہ پاکستان بہت جلد زرعی شعبے میں صف اول کے ممالک میں شمار ھوگا۔
    ‎@THE_Z0R00

  • جنسی بے راہ روی اور والدین کا کردار.تحریر:نینی ملک

    جنسی بے راہ روی اور والدین کا کردار.تحریر:نینی ملک

    آج کے پر فتن دور میں ہر روز اک نیا سکینڈل ایک نئ ویڈیو منظر عام پر آ رہی ہے۔ گرل فرینڈ کلچر کے نتائج ہسپتالوں میں نومولد کی لاشیں ڈال رہے ہیں تو کبھی ابارشن کے غیر قانونی طریقے اپنانے کے بعد لڑکیوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں۔۔

    کبھی 4 سالہ معصوم بچے بچیاں اس ہوس کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں تو کبھی ہم جنس پرستی کا عفریت اس معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ہر طرف نوجوانوں کی ہوس کے شکار ہونے والے سہمے پڑے ہیں ہر انگلی اس نوجوان نسل کی طرف اٹھ رہی ہے ۔ ان لوگوں کی طرف کیوں نہیں جن کی ذمہ داری تھی اس نسل کی تربیت کرنا؟ کیا وہ اس سب سے مستثنٰی ہیں؟؟؟
    میرے ذاتی خیال میں سب سے بڑے ذمہ دار والدین ہیں۔ جنہوں نے اولاد کی لگثریز کی ذمہ داری تو اٹھا لی مگر تربیت بھول گئے۔ اور اگر تربیت کر بھی دی تو انکے وقت پر نکاح بھول گئے۔۔۔ بارہ سال کی عمر میں جوان ہونے والے بچے اپنی جنسی ضروریات کو کب تک دبایئں گے ؟ کیسے کنٹرول کریں گے جبکہ انکے ہاتھ میں موبائل اور صرف ایک کلک پر پورن کا ڈھیروں ڈھیر مواد موجود ہوگا؟؟ کالج یونیورسٹی تک پہنچتے جب انکو گرل فرینڈز اور بوائے فرینڈر میسر ہو جایئں گے۔ اور جب والدین انکی تعلیم اور جاب کا انتظار کرتے ہوئے انہیں نکاح کے بندھن میں نہیں باندھیں گے تب وہ ایسے خود ساختہ بندھن خود بناتے جائیں گے۔۔ 100 میں سے 99 جوان اس مرحلے میں بھی خود پر قابو پا لیں اگر تب بھی باقی 1 جوان پھر بھی خطرہ رہے گا اس اپنی جنسی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوئ ایسا رشتہ ڈھونڈے گا نہ ملنے پر آسان میسر ٹارگٹ کو ریپ کرے گا۔۔

    اگر کوئ بچی/بچہ اپنی پسند بتا دے اور نکاح کرنا چاہے تب بھی یہی والدین ذات پات اونچ نیچ کے چکر میں اپنی انا کا پرچم بلند کر کے اس حق سے محروم کر دیتے ہیں ذہنی اذیت تو جو گزرتی ہے ان بچوں پر وہ الگ کہانی مگر جس جنسی اور جسمانی ضرورت کو اس سے روک لیا جاتا ہے وہ الگ سے اثر انداز ہوتی ہے ۔۔ اکثر نشے کی لت میں پڑ کر اپنی زندگی برباد کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن افسوس اس سب کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ 14 سال کی عمر میں جوان ہونے والے 32 سال تک بنا کسی پارٹنر کی کیسے رہ رہے ہیں اس بات کا اندازہ کیوں نہیں لگایا جاتا؟
    سب قصور انہی کی طرف کیوں نکلتے ہیں۔۔ ام المومنین حضرت عائشہ رض کی شادی کم عمری میں کیوں کی گئ؟ تاکہ امت کو پیغام ملے ۔۔ مردوں کے لیے دو تین اور چار شادیوں کی اجازت دی گئ۔ مطلقہ و بیواوں سے نکاح کی تلقین کی بلکہ نبیﷺ نے خود کر کے مثال قائم کی ۔۔ نکاح کو آسان ترین بنایا گیا یہ سب کس کے لیے کیا گیا تھا؟ اسی بے راہ روی کو روکنے کے لیے لیکن آج ہم نے یہ سب چھوڑ دیا اور نتائج ہم بھگت رہے ہیں اور مزید تب تک بھگتیں گے جب تک یہ سب ہم اپنے معاشرے میں رائج نہ کر لیں۔۔۔ بلاشبہ نوجواں نسل اس کی ذمہ دار ہے مگر پہلا قدم والدین کو اٹھانا ہو گا

    ‎@NiniYmz

  • ‏طالبان کون ہیں ؟ ،تحریر : ندا ابرار

    ‏طالبان کون ہیں ؟ ،تحریر : ندا ابرار

    وہ 20 سالوں سے افغانستان کٹھ پتلی حکومت اور اس کے اتحادیوں سے لڑ رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔
    اصل میں طالبان کون ہیں؟ ان کو اتنی طاقت کیسے ملی  اور عالمی طاقتیں کیوں پریشان ہیں کہ وہ افغانستان پر دوبارہ قبضہ کرلیں گے۔
    یہ سب باتیں  سمجھنے کے لئے 1980 کی دہائ کے افغانستان کو جاننے کی ضرورت ہے جب افغان گوریلاز جنہے مجاہدین بھی کہا جاتا ہے نے نو سال تک  سوویت کا مقابلہ کیا جبکہ اسلحہ اور رقم سی آئ اے فراہم کرتا رہا ۔

    1989 میں سوویتوں نے انخلاء کرلیا اور اگلے کچھ سال افغانستان کافی افراتفری کا شکار رہا۔  1992 تک افغانستان کی جنگ  پوری طرح سے گھریلو جنگ بن چکی تھی کیونکہ قبائلی رہنما اقتدار کے لیے اپس میں گتھم گتھا تھے۔ دو سال بعد طالبان نامی ملیٹنٹ نے دنیا میں توجہ حاصل کی طالبان کے  بہت سارے ممبران نے افغانستان اور پاکستان  سے بڑے بڑے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کی تھی اور ان میں سے کچھ نے مجاہدین کی حیثیت سے جنگ بھی لڑی تھی۔اور اپنے ملک افغانستان کے لئے انکے اپنے منصوبے تھے ۔

    1996 تک طالبان نے  افغانستان دارالحکومت پر قبضہ کر لیا تھا۔  انہوں نے افغانستان کو اسلامی امارت قرار دیا اور اسلامی قانون کی اپنی سخت ترجمانی مسلط کرنا شروع کردی۔ پھر نائن الیون ہوا جس کا ذمہ دار امریکہ اسامہ بن لادن کو سمجھتا تھا ، جو افغانستان میں طالبان کی مدد سے روپوش تھا۔طالبان نے امریکہ سے کہا کہ وہ اس بات کا ثبوت چاہتے ہیں کہ لادن ہی اس حملے کے پیچھے اور جب انہوں نے اسے فوری طور پر حوالے کرنے سے انکار کردیا تو امریکیوں نے حملہ کردیا۔کچھ ہی مہینوں میں طالبان کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور افغانستان کو ایک نئی عبوری حکومت مل گئی۔تین سال بعد اس کو نیا آئین ملا اور حامد کرزئی صدر منتخب ہوئے۔جب یہ سلسلہ چل رہا تھا تو طالبان نے دوبارہ متحد اور مضبوط ہوئے  وہ غیر ملکیوں کو اپنے ملک سے باہر بھیجنا چاہیتے تھے  اور اقتدار واپس لینا چاہتے تھے اس کے بعد برسوں کے تباہ کن کشمکش جو اب بھی جاری ہے۔40،000 سے زیادہ افغان شہری ہلاک ہوئے۔کم از کم 64،000 افغان فوجی اور پولیس اور 3500 سے زائد بین الاقوامی فوجی ہلاک۔

    صرف امریکہ نے جنگ اور تعمیر نو کے منصوبوں پر تقریبا ایک کھرب ڈالر خرچ کر دیا اور آمریکہ کے ہاتھ آیا کیا ککھ نہیں اب آمریکہ بہادر گھر جا رہا ہے جوبائیڈن نے11 ستمبر تک  افغانستان چھوڑنے کا علان کر چکا ہے  اور افغانستان آج بھی عدم استحکام کا شکار ہے اور طالبان اب پہلے سے بھی کئی زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں آج پورے ملک میں طالبان کے پاس 85،000 کے قریب کل وقتی جنگجو اور تربیتی کیمپ موجود ہیں۔پورے افغانستان میں مرکز کو چھوڑ کا  ان کا کنٹرول ہو چکا ہے طالبان پہلے سے زیادہ منظم اور زمانہ شناس ہو چکے ہیں ۔طالبان کا رہنما حبیب اللہ آخوندزادہ ہے وہ اس کونسل کے سربراہ ہیں جو خزانہ ، صحت اور تعلیم جیسی چیزوں کے انچارج ہے اس کے نیچے کئ  مقامی عہدیدار کام کرتے ہیں تو ایک طرح سے طالبان نے متوازی ریاست قائم کردی ہے۔وہ اپنی عدالتیں  اسلامی طرز پر چلاتے ہیں جو افغانوں میں کافی مشہور ہیں ۔اس سارے  عرصہ کنٹرول  اور حکمت عملی نے انہیں کافی مالدار بنا دیا ہے۔
    طالبان ممبران اور اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی کے مطابق وہ سال میں 1.5 بلین ڈالر کماتے ہیں۔ سننے میں اتا ہے کہ پہلے طالبان نے افھیم کی فروخت سے کافی پیسہ کمایا لیکن  اب انھوں نے آمدنی کے  لیے اور بھی راستے تلاش کر لئے ہیں۔  پچھلے سال انہوں نے کان کنی اور معدنیات کی تجارت اور methamphetamine کی پیداوار سے لاکھوں کمائے  ۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا افغان حکومت زندہ رہ سکے گی؟  اور طالبان کیا کریں گے؟ نیو یارک ٹائمز کے ایک پروگرام میں طالبان کے اس بیان نے چیزوں کو کافی صاف کیا جب انہوں نے کہا "ایک اسلامی نظام بنانا چاہتے ہیں … جہاں خواتین کے حقوق جو اسلام کے ذریعہ دیئے گئے ہیں – تعلیم کے حق سے لے کر کام کرنے کے حق تک محفوظ ہوں گے”طالبان کی اب تک کی حکمت عملی کافی کاریگر ثابت ہوئی  ہے ۔

  • قربانی کرنے والوں کے لئے اہم احکامات

    قربانی کرنے والوں کے لئے اہم احکامات

    جن وانس کی تخلیق کا حقیقی مقصد اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی بجا لانا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی کے لیے مختلف طریقے قرآن وسنت میں متعین کیے گئے ہیں‘ جن میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، صدقات، نوافل، ذکرِ الٰہی، دعا اور دیگر بہت سی عبادات شامل ہیں۔

    اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی بندگی کے لیے بعض ایام کو خصوصی اہمیت اور فضیلت بھی عطا فرمائی ہے جن میں ایام ذی الحجہ کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

    اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ توبہ کی آیت نمبر 36میں ارشاد فرماتے ہیں: ”بے شک مہینوں کا شمار اللہ کے نزدیک بارہ ہے‘ اللہ کی کتاب میں جس دن اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور اُن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں‘‘۔ حرمت والے چار مہینوں میں رجب، ذو الحج، ذی القعد اور ـمحرم شامل ہیں۔

    حرمت والے ان چار مہینوں میں ذی الحجہ کی اپنی ایک شان اور مقام ہے کیونکہ یہ دین اسلام کے پانچویں اہم ترین رکن’’حج‘‘ کی ادائیگی کا مہینہ ہے اس لیے اس مہینے کا نام ہی ذوالحج رکھا گیا ہے یعنی حج والا مہینہ اس مہینے کی 8تاریخ کو حاجی حج کا قصد کرتے اور 9 تاریخ کو عرفات میں وقوف کرتے ہیں، عرفات کے اس وقوف کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ حاجیوں کی جملہ خطاؤں کو معاف فرما دیتے ہیں اور اس مہینے کی 10تاریخ کو دنیا بھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حاجی اور غیر حاجی مسلمان جانوروں کو ذبح کرتے ہیں-

    ذی الحجہ کے پہلے عشرے سے متعلق ایک ہدایت یہ بھی ہمیں دی گئی ہے کہ جو شخص قربانی کرتاہو، وہ ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد حجاج کرام سے مشابہت کے لیے ناخن اور بال کٹوانے سے احتراز کرے ، اس سلسلے میں کتب احادیث میں حضرت ام سلمہ ؓ سے یہ روایت منقول ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا: جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے تو تم میں سے جو آدمی قربانی کرنے کا ارادہ کرے وہ ( اس وقت تک جب تک کہ قربانی نہ کرلے) اپنے بال اور ناخن بالکل نہ کتروائے۔

    اس روایت میں قربانی کرنے والوں کو بقر عید کا چاند دیکھنے لینے کے بعد قربانی کر لینے تک بال وغیرہ کٹوانے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے ،تاکہ جو لوگ حج کررہے ہیں اور احرام کی حالت میں ہیں وہ بال ناخن نہیں کٹواسکتے، لہٰذا دوسرے لوگوں کو بھی احرام والوں کی مشابہت حاصل ہو جائے ۔

    تاہم یہ ممانعت تنزیہی ہے ،لہٰذا بال وغیرہ کا نہ کٹوانا مستحب ہے اور اس کے خلاف عمل کرنا ترک اولیٰ ہے، لیکن حرام نہیں، لہٰذا کسی کو ضرورت ہو یا کوئی عذر ہواور وہ بال ناخن کٹوادے تو گناہ گار نہیں ہوگا۔بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو موقع دیاگیا ہے کہ وہ اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے بھی حج اور حجاج کرام سے ایک نسبت اور مشابہت پیدا کرلیں، اور ان کے ساتھ کچھ اعمال میں شریک ہوجائیں یہ مشابہت بھی ان شاء اللہ ہمارے لیے رحمت اور برکت کا سبب ہوگی۔

  • جہیز ، عدالت کا نیا حکم اور ہمارا معاشرہ .تحریر:عینی سحر

    جہیز ، عدالت کا نیا حکم اور ہمارا معاشرہ .تحریر:عینی سحر

    بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں جہیز ایک لعنت ہے لیکن اس لعنت سے چھٹکارا کسی بھی دور میں نہیں پایا جاسکا _ معاشرے میں جڑ پکڑ جانے والے اس رواج میں طبقہ ہاۓ زندگی کے ہر طبقے کو جکڑ رکھا ہے _ خواہ امیر لوگوں کا طبقہ ہو متوسط یا غریب ہر کوئی اپنی حیثت سے اس رواج کو زندہ رکھے ہوئے ہے _ امیروں کو شادی کے موقع پر جہیز کی صورت میں اپنی دولت کی نمائش کرنے اور دوسروں پر دولت کے بل بوتے پر دھاک بٹھانے کا ایک موقع مل جاتا ہے جس میں وہ کروڑوں کے گھر سے لیکر گاڑیوں سونے چاندی کے جہیز کے تحائف سے خوب نمائش کر پاتے ہیں _ عام طور پر ہمارے معاشرے میں اس نمائش کا اثر یہ ہوتا ہے کے اکثر لوگ مرعوب ہو جاتے ہیں اور یہ خواہش رکھتے ہیں کے خود بھی کچھ ایسا کرسکیں _

    دوسری جانب امیروں میں یہ دوڑ زور پکڑتی ہے اگر فلاں اتنا کرسکتا ہے تو میں اس سے بھی بڑھ کر دکھاؤں گا _ یہی دکھانے کی دوڑ معاشرے میں موجود متوسط اور غریب طبقے کو پیچھے چھوڑتے ہوۓ مزید بے بس بناتی ہے _ جہیز کا بوجھ ہر شخص نہیں اٹھا پاتا اور کچھ لوگ دوسروں کی دیکھا دیکھی جب بیٹے کا رشتہ طے کرتے ہیں تو ہونے والی بہو کے گھرانےسے بھی ایسی ہی توقع رکھتے ہیں _ کچھ لگی لپٹی باتوں سے اظہار کر دیتے ہیں تو کچھ کھل کر مطالبے کرتے ہیں اس احساس کے بغیر کے لڑکی کے والدین خواہ ان مطالبوں کو پورا کرسکیں یا نہیں

    جہیز کے اسی زور پکڑتے مطالبوں نے بہت سی جوان بچیوں کی شادیوں کو تاخیر میں ڈال رکھا ہے _ لڑکی کے والدین کیلئے محض جہیز کا بندوبست کرنا ہی نہیں شادی کا کھانے اور ہونے والی رسموں کا بھی خرچ اٹھانا ہوتا ہے جو کے مہنگائی کے اس دور میں کافی دشوار ہے _

    اتنی جدوجہد اور محنت کے بعد بھی جب غریب آدمی بیٹی کی شادی کا فریضہ ادا کر دیتا ہے تو پھر بھی اسکی بیٹی کو سسرال میں کم جہیز لانے کے طعنے اور کوسنے سننا پڑتے ہیں _ یہ ہمارا معاشرتی المیہ ہے _ کیوں کے کچھ لوگوں کی لالچی ذہنیت کسی کی بیٹی کی زندگی اجیرن بنا سکتی ہے _

    اگر جہیز دیکر بھی والدین اپنی بیٹیوں کی خوشیوں کی ضمانت حاصل کر سکیں تو بھی کافی ہوتا لیکن اسکے باوجود جہیز کے نامہ پر والدین کو لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے _ افسوسناک پہلو یہ ہے کے کئی خواتین کی شادی کے بعد علیحدگی اور طلاق کے بعد انکے جہیز پر سسرال کا قبضہ رہتا ہے_ جو کے حقیقت میں ان خواتین کا حق ہے جو انھیں واپس دے دیا جانا چاہئیے _

    ایسی صورتحال میں چند خواتین نے عدالت سے مدد کیلئے رجوع کیا جب انھیں طلاق دے دی گئی تو جہیز واپس نہیں کیا جارہا _ مختلف مقدمات میں جہیز میں خریدے جانے والے سامان کی رسیدیں بھی عدالت میں پیش کی گئیں لیکن سسرال والے ان چیزوں کی موجودگی سے انکاری رہے اور نہ ہی انکو واپس کرنے کو تیار تھے _

    ٹوٹتے گھر کی بربادی ہی کافی نہ ہو بلکے اوپر سے دیا جانے والا جہیز بھی سسرال والے اینٹھ لیں تو یہ مظلوم پر مزید ظلم ہے _

    ایسے میں کئی مقدمات میں یہ شکایت عدالت تک پہنچائی گئی کے عدالتی حکم کے باوجود جہیز کا کافی سامان واپس نہیں کیا گیا _ مشکل یہ ہے کے جہیز کے اس سامان کو دیا جانا ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے _

    ایسے بڑھتے ہوۓ واقعات نے عدالت کو اس مسلے کے حل کرنے کیلئے اقدام کرنے پر مجبور کردیا ہے _ لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو اب حکم دیا ہے کے وہ نکاح ناموں میں اضافی خانوں کا اندراج کرے جہاں جہیز کی تفصیل درج کی جاسکے _ ایسے میں ہر چیز نکاح نامے میں لکھ دی جاۓ کے جہیز کے نام پر کیا دیا گیا_ نکاح ایک باہمی معاہدہ ہے اور اس پر جہیز کی تفصیل کا اندراج خواتین کو مستقبل میں تحفظ دے گا کے خدا نخواستہ اگر

    انکی شادی ناکام ہوتی ہے تو انکو دئیے جانے والے جہیز کا اندراج اس بات کو یقینی بناۓ گا کے سسرال کو وہ درج اشیاء واپس دینا ہونگیں _ لہٰذا یہ سب تحریری شکل میں محفوظ ہوگا _ ایسی صورت میں سسرال والے انکار یا جہیز کی واپسی میں حیل وحجت نہیں کرسکیں گے

    لاہور عدالت کے اس فیصلے سے نجی مقدمات کو تیزی سے نبھٹانے اور حقدار کو اسکا حق واپس دلانے میں مدد ملے گی _

    ہم میں سے ہر ایک کو جہیز کی اس لعنت کو ختم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہئیے تاکے جہیز کے نام پر جوان لڑکیاں شادی کے انتظار میں بوڑھی نہ ہوں اور بیٹیوں کے والدین پر کسی قسم کا بوجھ نہ ڈالا جاۓ _

    ہمارے سامنے نبی پاک ﷺ کی ہے جنہوں نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہہ کو چند ایک ضروری استعمال کی چیزوں کے سوا دنیاوی سامان نہ دیا بلکے اپنی بیٹی کو بہترین تربیت علم اور اخلاق سے مزین کیا _ یہی وہ بہترین تحفہ ہے جو والدین اپنی اولاد کو دے سکتے ہیں _

    بیٹیوں کی دی جانے والے تعلیم ، ہنر ، تربیت اور اخلاق ہی وہ دولت ہے جو تمام عمر انکے ساتھ رہے گی جبکے جہیز کے نام پر ملنے والا مال و اسباب ناپائیدار ہے جو ہمیشہ ساتھ نہیں رہ سکتا _

  • ‏ان، انا پسندی اور خودغرضی ،تحریر: ‏حمیرا الیاس

    ‏ان، انا پسندی اور خودغرضی ،تحریر: ‏حمیرا الیاس

    “جب میں نے کہہ دیا تو تمہیں سمجھ نہیں آتی ایک بار جو کہا میں دن کو دن بولوں تو دن سمجھو، تمہاری عقل ہے یا کہیں بیچ کھائی ہو۔ خبردار آیندہ میرے سامنے آواز اونچی ہوئی”
    “میری بات رد کرنے کی ہمت کیسے کی تم نے؟ مجھے پسند نہیں کہ کوئی میرے فیصلے پر چوں و چرا کرے۔ میری بات پتھر پر لکیر ہے۔”
    “میں اسے کیوں کال کروں؟ میری بلا سے وہ زندہ رہے یا جئے بس یہ میری انا گوارہ نہیں کرتی کہ اس کے پیچھے پیچھے پھروں”
    "بڑا ہی انا پرست ہے, اپنے سوا کسی کو خاطر میں نہیں لاتا/لاتی۔”
    “میرا مشورہ کو یہ فالتو ہے جو بلاوجہ ہی دوں، اتنا فالتو نہیں میں کہ ہر ایرے غیرے کو منہ لگاؤں۔”
    "جیسے میں یہ کام کر سکتا کسی اور میں تو یہ صلاحیت ہے ہی نہیں اتنے اچھے سے کرنے کی، سب میرے سامنے پانی بھرتے۔”
    اکثر اس قسم ۔کے فقرے ہمیں سننے کو ملتے ہیں، ہم سب ایسے رویے کہ وجہ سے مسلسل حالت تکلیف میں بھی رہتے، لیکن انا پسندی کی عادت کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
    آناہے کیا؟
    خودغرضی اور انا کا کیا رشتہ ہے؟
    انا کی منفیت سے بچنے کے کیا راستے ہیں؟

    عربی لفظ "انا” کا مطلب "میں” واحد متکلم ہے، ہر وہ چیز جو ہم اپنی ذاتی پسند یا نا پسند کی بنا پر کرتے، اور اس میں دوسرے انسان کے نفع نقصان کے بارے میں نہیں سوچتے تو اس کیفیت قلبی کو اناکہتے۔
    انا بذات خود غلط نہیں ہے، انا پسندی ضرور غلط ہے۔ جب ہم انا کے غلام بننے لگتے تو یہ ایک منفی جذبہ بن جاتی، تب یہ خودغرضی کا لبادہ اوڑھ لیتی۔ اور اصل برائی کی جڑ یہ انا کی غلامی ہی ہے۔ انا کا موجود ہونا تب تک قابل قبول رہتا جب تک اسے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتارہتا، انسانی انہی نے انسان کو بقاء کے مقام پر کھڑا کیا، لیکن جیسے ہی اسے ایک مکمل سکروٹنی کے نظام سے آزاد کرتے تو انا کا سرکش گھوڑا سرپٹ دوڑتا اور خودپسندی اور خودغرضی کا عفریت انسان کو اپنی لپیٹ میں لینے لگتا، جس کے سائے اتنے دبیز ہوجاتے کہ دوسرے انسان اور ان کی ضروریات اپنے سامنے ہیچ لگنے لگتے۔

    انا کی غلامی میں جانے والے شخص کی زندگی سطحی اور مصنوعی ہونے لگتی، اسے ہر آن اپنی کھوکھلی شخصیت کو برقرار رکھنے کے لئے کھوکھلے اور جھوٹے رویوں کا سہارا لیناپڑتا، اور نتیجتا” تنہائی کا شکار ہونے لگتا۔ انا پسند اور خودغرض انسان کے لئے اس کی ذات کی اہمیت اتنی بڑھ جاتی کہ وہ اذیت پسند ہونے لگتا، بلاوجہ کاغصہ دراصل اس کی کمزور شخصیت کو کیموفلاج کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں ہوتا، لیکن اس کی وجہ سے ہر محبت کرنے والا اس سے دوری اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتا۔
    انکی پیروی کرنے والے ہی تھے جنہوں نے ربوبیت سے انکار اور انا الحق کا نعرہ بلند کرنے والے بن گئے، ایک اللہ کی نا ماننے والے ہوئے اور منکرین ہونے کے ساتھ ہی اپنی خودپسندی کے زعم میں فرعون و نمرود بن کر خدائی تک کے دعوے کربیٹھے۔ زمینی تخت نشین اپنی انا کے ہاتھوں مجبور عام لوگوں کو روانسان بھی نہیں گردانتے، تو یہ انا جب اک بیماری کی شکل اختیار کر لے تب ہی خدائے عزوجل کی طرف سے ان زمینی خداؤں پر عذاب الٰہی کی صورت کچھ نا کچھ ایسااتارا جاتا جو نسل انسانی کو یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اے حضرت انسان، اگر تم خود کو سپرد کر دو گے اس کے جو میری چاہت یے،تو میں بخشدوں گا تجھ کو جو تیری چاہت ہے۔

    حتمی فلاح کا نسخہ کیمیا یہی ہے کہ انکے سرکش گھوڑے کو لگام ڈالی جائے اوراسے خود غرضیوں خود پسندی کی راہ تک جشنے سے روکا جائے تاکہ انسانیت کی روح پنپ سکے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان دوسرے انسان کو جینے کا حق دینے پر راضی ہو جائے گا، جب وہ اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ پوری ایمانداری سے فرائض کی ادائیگی پر بھی کام کرے۔ کہ ایک کے فرائض ہی دوسرے کے حقوق ہیں۔
    اسلامی نظام معاشرت ایسے تمام منفی رجحانات کا حل دیتا ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اس معاشرت کو اختیار کریں جس میں اناتو قابل قبول ہے، انا پسندی و خودنمائی نہیں۔

    @humerafs

  • آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ تحریر:حنا

    آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ تحریر:حنا

    آج سے لگ بھگ ہزار سال پہلے( 800 سے 1100 صدی پہلے )اسلام سائنس کے گولڈن ایج سے گزر رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب بغداد سائنسی علوم کے لئے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ دور دراز سے دانشور، اساتذہ اور طلبا علم کی تلاش میں بغداد کا رخ کرتے تھے ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ۔ مسلمانوں کی پہچان ریسرچ اور ایجاد سے ہوتی تھی۔ الجبرا، الگورتھم، ذراعت، میڈیسن، نیویگیشن، اسٹرونومی، فزکس،کوزمولوجی، سائیکولوجی وغیرہ، ان سب فیلڈز کے چیمپئن مسلمان تھے،پھر یہ سب اچانک رک گیا۔ علم، فلسفہ، ایجاد اور دانش کا یہ دور اچانک مسلمانوں کے سامنے سے غائب کیسے ہوگیا؟

    نیل ڈی گراس ٹائیسن کے مطابق انکی ایک بنیادی وجہ امام غزالی کا وہ دینی تفسیر ہے جسکا خلاصہ یہ ہے کہ numbers یعنی ہندسوں اور اعداد کے ساتھ کھیلنا ( Maths )شیطان کا کام ہے۔ ریاضی کائنات کی زبان ہے اور آپ سائنس میں سے ریاضی نکال نہیں سکتے۔ امام غزالی کے اس تفسیر کے بعد گویا کسی نے اسلامی سائنس کے گھٹنے کاٹ دیئے ۔اور اس حادثے سے اسلام آج تک recover نہیں کرسکا۔
    1900 سے 2010 کے درمیان سائنس میں نوبل انعامات حاصل کرنے والوں کو دیکھتے ہیں ۔ پوری دنیا میں یہودیوں کی آبادی زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ کروڑ ہے لیکن پچھلے سو سال میں سائنس سے related نوبل انعامات میں سے 25 فیصد یہودیوں نے حاصل کئے۔

    Biochemical: 49
    Chemistry : 28
    Physics : 45
    Economics : 28
    Total : 150
    25 %
    اسکے مقابلے میں مسلمانوں کی آبادی ڈیڑھ ارب ہے اور یہ اعداد و شمار ہماری سائنسی contributions کو ری پریزنٹ کرتی ہیں:
    Biochemical : 0
    Chemistry: 1
    Physics: 1
    Economics: 1
    Total: 3
    0.5 %

    ماڈرن سائنسی دور میں ہماری کوئی ایک بھی میجر کنٹری بیوشن نہیں ہے ۔ In fact پچھلے کئی صدیوں سے ہم ہر سائنسی ایجاد کو پہلے حرام قرار دیتے ہیں، پھر کچھ سال بعد اسکے گن گانے لگ جاتے ہیں ۔ printing Press وہ واحد ایجاد کہی جا سکتی ہے جس سے یورپ میں سائنسی ایجادات کی ابتدا ہوئی، لوگ سائنسی مقالات لکھنے لگے،کتب چھپنے لگیں، میگزین، اخبارات۔۔۔ہر طرح کا علم دور دراز تک پھیلنے لگا۔ اس دوران شیخ الاسلام نے فتوہ دیا کہ پرینٹنگ پریس حرام ہے!! 230 سال تک پرینٹنگ پریس پر اسلامی سلطنت میں پابندی لگی رہی۔ مغرب سائنسی تحقیق اور ایجادات میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور اسلام صرف ایک فتوی کی وجہ سے کم از کم 250 سال پیچھے رہ گیا۔

    جب جہاز ایجاد ہوا تو برصغیر میں فتوی سامنے آیا کہ جہاز میں سفر کرنا حرام ہے کیونکہ اتنی اونچائی پر جانا قدرت کو للکارنے کے مترادف ہے!!اسی طرح ریڈیو، کیمرہ، ٹی وی، وغیرہ، سب پہ فتوے کے داغ لگائے گئے۔

    آج کوئی Blood transfusion کو حرام قرار دے رہا ہے، کوئی Hair transplant کو، تو کوئی Gene editing technology کو واہیات قرار دے رہا ہے۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
    سوال یہ ہے کہ آخر ہم چاہتے کیا ہیں….

    ۔
    <p

  • ‏فیشن زدہ حجاب جس میں پردے کو پردے کی ضرورت :تحریر معین ملک

    ‏فیشن زدہ حجاب جس میں پردے کو پردے کی ضرورت :تحریر معین ملک

    ‏ آج کل کی نوجوان نسل نے پردے کو کیا بنا لیا ھے ، میری سمجھ میں نہیں آتا یہ پردے کی کونسی شکل ھے ؟
    ‏ابھی پچھلے دنوں کی بات ھے ایک کلینک میں جانا ہوا، کافی رش تھا تو نمبر لیکر ایک طرف بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگا ،،،،،،

    ‏اتنے میں تین نوجوان لڑکیاں بھی کلینک میں داخل ہوئیں، خوبصورت میکسی نما عبایا پہنے ہوئے ،بالکل چست آستینیں، گلے اور آستینوں پر بہت خوبصورت کام بنا ہوا ،،،،
    ‏سر پہ بڑی خوبصورتی اور نفاست سے چھوٹا سا اسکارف لپیٹا ہوا۔ سر پہ بائیں طرف اسکارف کے اوپر ایک نگینوں سے مزین پن لگائی ہوئی ۔۔۔

    ‏اسکارف اتنا چھوٹا کہ بمشکل چہرے سے تھوڑا سا نیچے گلے تک آرہا تھا ۔
    ‏اتنا بھی نہیں تھا کہ سینے کو تو ڈھانپ لے۔ عبایا ایسا کہ جسم کے سب نشیب وفراز کو واضح کررہا تھا، اسکارف صرف خوبصورتی کے لئے پہنا گیا جس میں چہرہ بھی کھلا ہوا تھا ۔
    ‏آنکھیں گویا نین کٹارے،،، سرمہ ،کاجل، لائنر اور ہونٹوں پر لپ اسٹک،،،،،،

    ‏دل میں درد کی ایک لہر سی اٹھی، پردے کے نام پر ایسی بے حیائی،،،؟
    ‏ایسے پردے کو تو خود پردے کی ضرورت ھے………….. !!!

    ‏اور کچھ خواتین جو تھوڑا سا چہرے کو ڈھانپنے کا اہتمام کر بھی لیتی ہیں مگر سینے انکے بھی کھلے ہوئے ہوتے ہیں،،، برقعے ایک سے بڑھ کر ایک اسٹائلش،،،، نت نئے ڈیزائن، کڑھائی، کٹ ورک، موتی ،نگینے ، رنگوں سے بھرپور،،،،،
    ‏پردے اور حجاب کے نام پر کیسے کیسے فیشن متعارف کرائے جارہے ہیں کہ وہ بجائے عورت کو ڈھانپنے کے مزید عیاں کر رہے ہیں ۔ نا دیکھنے والا بھی دیکھنے پر مجبور ہوجائے۔
    ‏ہر ایک نظر کو دعوت نظارہ دیتے ہوئے حجاب
    ‏ہماری خواتین نے برقعے اور حجاب کو بھی فیشن کے طور پر اپنالیا،،،،،
    ‏حسن اور خوبصورتی کے مقابلے،،،،،،
    ‏ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ،،،،
    ‏سب میں نمایاں نظر آنے کا جذبہ،،،،،
    ‏فیشن کا حد سے بڑھتا شوق،،،،
    ‏افسوس صد افسوس،،،،

    ‏میری قابلِ احترام بہنو!!! یہ کس راستے پر چل پڑی ہو،، یہ وہ راستہ ھے جسے شیطان نے ہماری نظروں میں مزین کر کے دکھا دیا ھے،،،

    ‏ذرا سوچیں تو سہی کیا یہ وہی پردہ ھے قرآن نے جس کا حکم دیا ھے؟؟؟

    ‏يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا.
    ‏سورۃ الأحزاب. 59
    ‏اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہ دیجیے کہ وہ اپنی چادروں کے پلو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں. اس طرح زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ تعالٰی معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے.

    ‏قرآن جس پردے کا حکم دیتا ھے وہ تو مومن عورتوں کی زیب و زینت کو چھپانے کے واسطے ھے، تاکہ پہچان لی جائیں کہ یہ شریف باحیا عورتیں ہیں، ان پر کوئی میلی نظر نہ ڈالے،،،،
    ‏مگر آجکل جو کچھ پردے اور حجاب کے نام پر ہمارے سماج میں ہورہا ھے اگر اسے نہ روکا گیا تو پردہ خود ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ‏برقع پہننے کا مطلب کیا ھے، اسکارف پہننے کا مطلب کیا ھے ۔۔۔ کیا دوسروں کی توجہ خواہ مخواہ اپنی طرف مبذول کرانا ،،،، ؟
    ‏جس طرح کے عبایا اور اسکارف ہم نے استعمال کرنا شروع کردیئے ہیں، کیا یہ واقعی پردے کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں، یا ہم نے حجاب کے نام پر ایک اور زیب و زینت اختیار کر لی ھے،،،؟
    ‏اس طرح کے حجاب کا آخر مقصد کیا ھے؟ ہم کس کو خوش کررہے ہیں؟ کس کو متاثر کرنا چاہتے ہیں؟
    ‏ذرا اپنے دلوں کو ٹٹولیں تو سہی،
    ‏کیا یہ پردہ ہم اللہ کو خوش کرنے کے لئے کر رہے ہیں؟
    ‏کیا یہ پردہ ہمارے ایمان کے تقاضوں کو پورا کررہا ھے؟
    ‏پردہ تو عورت کو عزت اور عظمت عطا کرتا ھے، اسے دوسروں کی نظر میں باعزت بناتا ھے، اسے لوگوں میں معزز اور محترم ظاہر کرتا ھے ۔
    ‏اسے نامحرم مردوں کی حریص نظروں سے بچاتا ھے ۔ پردہ عورت کی حفاظت کرتا ھے ۔۔۔۔۔ !!!
    ‏لیکن جو پردہ آج ہم کررہے ہیں کیا وہ ان سارے تقاضوں کو پورا کررہا ھے؟؟؟

    ‏میری مودبانہ اور دردمندانہ درخواست ھے، اپنی مسلمان بہنوں سے، اپنے معاشرے سے، کہ خدارا پردے کو پردہ ہی رہنے دیں، اسے اپنی خواہشات اور فیشن کی بھینٹ نہ چڑھائیں ،،،،،
    ‏اپنے اسلامی وقار کو قائم رکھیں، سادگی کو اپنائیں، سادگی ایمان کا حصہ ھے، ر
    ‏فیشن سے عزت نہیں ملتی، اللہ عزت دیتا ھے، اپنی نیتوں کو ٹھیک کرلیں، ڈھیلے ڈھالے اور سادہ حجاب اور برقعے استعمال کریں، اللہ کی رضا و خوشنودی کو پیش نظر رکھیں، اللہ کا حکم پورا کرنے کے لئے پردہ کریں، دین کے احکامات کا تمسخر نہ اڑائیں،،،،،!!!

  • پچنند کے لوگوں نے بلے کی حمایت کااعلان کردیا

    پچنند کے لوگوں نے بلے کی حمایت کااعلان کردیا

    آزاد کشمیرمیں پی ٹی آئی کی امید وارڈاکٹرنازیہ نیازراجہ کو کامیاب بنانے کےلئے پربھرپورکوشش کی جا رہی ہے، ڈھڈمبرکالونی پچنند کے علاقہ مکینوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں.

    ایم این اے چوہدری سالک حسین اورفرزند تلہ گنگ صوبائی وزیرمعدنیات پنجاب حافظ عماریاسرکی ہدایت پرضلعی صدرپاکستان مسلم لیگ ق ملک اسد محمود کوٹ گلہ اورحاجی عمرحبیب، ملک شیر، افضل باٹا کی آزاد کشمیرالیکشن مہم کے سلسلے میں ڈھڈمبرکالونی پچنند میں میٹنگ منعقد کی گئی ہے.

    اس میٹنگ میں کشمیری برادری کے حاجی شوکت حسین جرال، حاجی محمد عظیم، محمد منیر، محمد ظفر، راجہ وسیم، قاضی افتخار، قاضی ممتاز، محمد شکیل جرال، محمد جمیل جرال، موسیٰ جرال شانی جرال، قمرجرال، قاضی ذوالفقار، راجہ طاہر محمود، اوردیگر اہلیان ڈھڈمبر کالونی پچنند نے ایم این اے چوہدری سالک حسین اورفرزند تلہ گنگ صوبائی وزیرمعدنیات پنجاب حافظ عماریاسرکی قیادت پراعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹرنازیہ نیازکی حمایت کا اعلان کردیا ہے.

    ڈاکٹرنازیہ نیازراجہ نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد علاقے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پرحل کریں گی. 25 جولائی کو بلے کے نشان کامیابی کا نشان ہوگا.

  • کشمیری کلبوشن کے وکیل کو مسترد کرتے ہیں، حسن مرتضیٰ

    کشمیری کلبوشن کے وکیل کو مسترد کرتے ہیں، حسن مرتضیٰ

    حسن مرتضی نے کہا ہہے کہ کشمیری کلبوشن کے وکیل کو مسترد کردیں گے.

    سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر جاری کردہ اپنے بیان میں پی پی پی کے رہنما حسن مرتضی نے حکومتی جماعت پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی جماعت اوراس کے وزرا آزاد کشمیرمیں عوامی حمایت سے محروم ہو کربوکھلا اٹھے ہیں، گالم گلوچ برگیڈ کوعلی الصبح سیاسی مخالفین کوٹارگٹ کرنے کی ذمہ داری دے دی جاتی ہے، عمران خان بھی جلسوں سے خطاب کی خواہش پوری کرلیں، کشمیری کلبوشن کے وکیل کو مسترد کردیں گے، ان کی سیاسی ومعاشی ساخت توٹ چکی ہے، اب صرف چلاؤ ہے.

    آزاد کشمیر کے الیکشن کی تاریخ‌ جونہی نزدیک آرہی ہے، سیاسی گھماگھمی میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے، مخالف جماعتوں پرالفاظوں کی بوچھاڑکی جارہی ہے، تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، سیاسی جوڑ توڑ بھی کیا جا رہا ہے.