Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کشمیر کے وارث ہم ہیں، کشمیر صوبہ بنے گا نہ ضم ہونے دیں گے     وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان

    کشمیر کے وارث ہم ہیں، کشمیر صوبہ بنے گا نہ ضم ہونے دیں گے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان

    وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ کشمیر کے وارث ہم ہیں، کشمیر صوبہ بنے گا نہ ضم ہونے دیں گے ، عمران نے پوری قوم کو تقسیم کر دیا –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کھانڈا بیلہ میں کارکنان مسلم لیگ ن کے اجتماع سے خطاب کے دوران وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ اگر جھوٹ فراڈ میں آگے نکل جانے کو تبدیلی کہتے ہیں تو کشمیر میں ایسا نہیں چلے گا،پاکستان میں تبدیلی چند دنوں کی مہمان ہے-

    انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر بھر میں تعمیر وترقی کاجال بچھایا ،ضلع جہلم ویلی کو دس ارب روپے کے فنڈز دئیے جو ماضی کی کوئی حکومت نہ دے سکی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر کے الیکشن نہیں جیتے جاتے-

    راجہ فاروق حیدر خان نے کہا اسٹام دینے والوں اور بیوہ و غریب خواتین کو جعلی امدادی چٹیں دینے والوں کوجیل بھیجوائوں گا –

    راجہ فاروق نے کہا کہ مسلم کانفرنس، پی پی پی،جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی نے مل کر ٹکٹ تقسیم کئے ،عوام ایسی کسی تانگہ پارٹی کاحصہ نہ بنیں جو کشمیریوں کے تشخص اور لاکھوں کشمیریوں کے عزت وقار کو داو پر لگائے۔

    وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ہم سب کشمیری ہیں اور ایک قوم ہیں ،مجھے کہا گیا کہ آزاد کا لفظ ہٹا دیں اور میں نہیں مانا، میں نے ان کے بہت سے رازوں پر پردہ ڈالا ہوا ہے۔

  • پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ون ڈے سیریز کا آج سے آغاز

    پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ون ڈے سیریز کا آج سے آغاز

    پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ون ڈے سیریز کا آج سے آغاز ہورہا ہے، ۔ڈے اینڈ نائٹ ون ڈے میچ کارڈف میں کھیلا جائے گا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ون ڈے سیریز کا پہلا میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 5 بجے شروع ہوگا، قومی کرکٹرز نے حریف کے خلاف مقابلے کے لیے بدھ کو بھرپور پریکٹس سیشن کیا۔

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ پہلے ون ڈے میچ سے قبل انگلینڈ کی پوری ٹیم کے تبدیل ہونے سے مایوسی ہوئی ہے لیکن ہم اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں کریں گے۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے بلے باز حارث روَف انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سے باہر ہوگئے ہیں حارث روَف ہیمسٹرنگ انجری کی وجہ سے ون ڈے سیریز نہیں کھیل سکیں گے-

    سیریز کا دوسرا میچ 10 جولائی کو لارڈز میں پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 3 بجے کھیلا جائے گا جبکہ تیسرا اور آخری میچ برمنگھم میں 13 جولائی کو کھیلا جائے گا جو کہ پاکستانی وقت کے مطابق شام 5 بجے شروع ہوگا۔

    پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹوئنٹی میچز 16، 18 اور 20 جولائی کو ہوں گے۔

  • اکثر مظلوم ملزمان سے صلح کیوں کرلیتے ہیں؟ تحریر: ملک رمضان اسراء 

    اکثر مظلوم ملزمان سے صلح کیوں کرلیتے ہیں؟ تحریر: ملک رمضان اسراء 

    اکثر مظلوم ملزمان سے صلح کیوں کرلیتے ہیں؟

    منصف: اسلام آباد میں مقیم صحافی اور کالم نگار ہے۔

    کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اکثریت اوقات زیادتی کا شکار مظلوم لوگ ملزمان سے کیوں کرلیتے جس کے سبب ملزمان سزا سے بچ جاتے آج میں آپ کو اس بلاگ میں ایک حقیقی کہانی کا واقع سناتا ہوں جس میں مظلوم خاندان نے ملزمان سے صلح کرلی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں گرہ مٹ میں شریفہ بی بی نامی لڑکی کو برہنہ کرکے علاقہ کی گلیوں میں گھمایا گیا تھا۔ 13 اپریل کو مقامی عمائدین اور سابق ایم این اے ٹانک داور خان کنڈی کی ثالثی کے توسط سے گاوں گرہ مٹ میں ایک جرگہ کے تحت 2017 میں بے لباس کی گئی شریفہ بی بی کے خاندان اور ملزمان کے مابین راضی نامہ کروایا گیا۔

    جرگہ میں موجود ایک شخص نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: اس وقت شریفہ بی بی کیس میڈیا میں آنے کے بعد پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا تاہم سجاول نامی شخص جو برادری کا وڈیرا اور بااثر شخص تھا جن پر مرکزی ملزم ہونے کا الزام ہے کو کئی عرصہ بعد گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ روپوش ہوگیا تھا اور متاثرہ خاندان نے مرکزی ملزم کو سیاسی چھتری فراہم کرنے کا الزام اس وقت کے صوبائی وزیر مال اور موجودہ وفاقی وزیر علی امین خان گنڈہ پور پر عائد کیا تھا جسکی علی امین نے تردید کی تھی تاہم بااثر ملزمان شریفہ بی بی کے خاندان پر صلح کرنے کیلئے دباو ڈالتے رہے تاکہ سجاول سیہڑ کو پولیس گرفتاری سے بچایا جاسکے اور معاملہ کو رفع دفع کیا جائے  مگر اس وقت شریفہ بی بی کے خاندان نے قانونی کروائی کرنے کو ترجیح دی۔

     جرگہ میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والوں میں شامل ایک شخص نے بتایا: ہم نے اللہ کی رضا کی خاطر گزشتہ چار سال سے چلے آرہے اس مسئلہ کا راضی نامہ کرکے فریقین کے مابین یہ تنازع ختم کرایا ہے تاکہ مزید یہ ایک دوسرے کے ساتھ اس جھگڑے میں نہ پڑے رہیں۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ  اس صلح نامہ کے عوض ملزمان کی طرف سے بطور جرمانہ شریفہ بی بی کے خاندان کو کتنی رقم ادا کی گئی تو انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ بھی طے نہیں پایا جب کہ شریفہ بی بی اور ان کے خاندان نے ملزمان کو فی سبیل اللہ معاف کردیا۔ 

    لیکن جرگہ میں موجود شناخت ظاہر نہ کرنے والے مذکورہ شخص نے اس دعوی کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان نے تمام ملزمان کو فی سبیل اللہ معاف نہیں کیا بلکہ ثالثوں نے یہ فیصلہ مبلغ 45لاکھ روپے میں کیا ہے جسکے تحت ہر ملزم کو پانچ لاکھ روپے ادا کرنے ہیں انہوں نے دعوی کیا جس روز یہ جرگہ ہوا اس وقت شریفہ بی بی کے خاندان کو موقع پر 23 لاکھ روپے ادا کیئے گئے جبکہ بقیہ رقم عدالت میں زیر سماعت کیس ختم ہونے کے بعد ادا کی جائے گی۔

    ثالثی کا کردار ادا کرنے والے نے مزید بتایا: ہم جرگہ ثالثین نے ملزمان پر کچھ شرائط عائد کی ہیں اور وہ یہ کہ ملزمان شریفہ بی بی کے محلہ کی مخصوص گلیوں جن میں متاثرہ لڑکی اور ان کے خاندان کا آنا جانا لگا رہتا ہے میں تمام عمر نہیں جائیں گے۔ اور یہ اس لیئے کیا گیا تاکہ ملزمان اور متاثرہ خاندان کا حتی الامکان آمنا سامنا نہ ہوسکے کیونکہ جو کچھ متاثرہ بچی اور ان کے ساتھ ہوا تھا اسکا کسی صورت مداوا نہیں کیا جاسکتا البتہ ہم نے پوری دیانتداری سے کوشش کی ہے کہ شریفہ بی بی کے خاندان کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور یہ راضی نامہ ان کی رضامندی سے ہوا ہے۔

    شریفہ بی بی کے بھائی سجاد سیال جن پر وڈیروں کی لڑکی کے ساتھ فون پر بات کرنے کے الزام کی وجہ سے اس جھگڑا کی بنیاد بنی تھی نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے راضی نامہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ: "ہمیں وسیب کے وڈیروں نے پہلے بھی بہت دفعہ کہا تھا کہ راضی نامہ کرلو لیکن اس وقت ہم نے انکار کردیا تھا لیکن پھر گزشتہ کئی دنوں سے گاوں سمیت مختلف اہل علاقہ اور مشران نے ہمیں کہا کہ آپس میں راضی نامہ کرلو لہذا ہم نے ان سے سوچنے کا وقت مانگا اور میں نے اپنی بہن شریفہ بی بی اور والدہ سے مشورہ کرکے جرگہ ثالثان جن میں سابق رکن قومی اسمبلی داور کنڈی اور مقامی شخصیت شیخ توقیر اکرم شامل تھے سے اپنی رضامندی ظاہر کی جسکے بعد مقامی عمائدین سمیت ان لوگوں نے ہماری صلح کروا دی۔

    ایک سوال کے جواب میں ساجد نے کہا: ” اس راضی نامہ کے حوالے سے ہم پر کسی قسم کا کوئی دباو نہیں اور ناہی ہم کسی زبردستی کے تحت ملزمان سے راضی نامہ کررہے۔

     جب ساجد سیال سے یہ سوال کیا گیا کہ: اگر آپ پر کوئی دباو نہیں اور تمام ملزمان بھی گرفتار ہوگئے تھے تو پھر کیس کی پیروی کرنے کے بجائے آپ نے صلح کیوں کی اور کیا آپ نہیں چاہتے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کیفر کردار تک پہنچیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: "ہم نے ایسا اپنی جان چھڑانے کیلئے کیا تاکہ آگے بدی (نسل در نسل دشمنی) سے بچا جاسکے کیونکہ اگر یہ تنازعہ ایسے جارہی رہا تو خدانخواستہ پھر کبھی کوئی اس دشمنی کے سبب مسئلہ نہ بن جائے لہذا یہ جھگڑا ختم ہوجائے تو بہتر ہے کیونکہ ہم اس علاقے میں رہتے ہیں یہاں آپس میں رشتہ داریاں بھی ہیں اور دوسرا کیس کی پیروی کیلئے مسلسل آنا جانا یہ ہمارے لیئے انتہائی تکلیف دہ مرحلہ رہا جبکہ میری بہن کئی عرصہ سے بیمار رہی اور اب بھی زیر علاج ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا: "میں چھ بہنوں کا واحد بھائی ہوں اور شریفہ بی بی سمیت چار بہنوں اور ایک ماں کا اکلوتا کفیل ہوں، میری دو بہنوں کی شادی ہوچکی جبکہ اس مسئلہ کے سبب شریفہ بی بی سمیت باقی تین بہنوں کے ابھی تک کہیں رشتے بھی نہیں ہوئے کیونکہ ہمارے ہاں تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے جہالت ہے۔ اور اللہ نہ کرے اس دشمنی کی وجہ سے مجھے کچھ ہوگیا تو میری بوڑھی ماں اور کنواری بہنوں کا کیا بنے گا؟”

    انکے مطابق: ملزمان کی خواتین شریفہ بی بی کے پاس جبکہ ملزمان اہل علاقہ سمیت باہمرہ ایک عدد بیل ہمارے گھر چل کر آئے اور اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے ہمارے پورے خاندان سے معافی مانگی اور شرمندگی کا اظہار بھی کیا جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو اس راضی نامہ کے بدلے جرمانہ کے طور ملزمان کی جانب سے کوئی رقم ادا کی گئی تو انہوں نے انکار نہ کرتے ہوئے اس حوالے سے بات کرنے پر معزرت کرتے ہوئے کہا کہ: وہ ہمارے پاس چل کر آگئے لہذا ہم یہ دشمنی مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتے ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ: وہ (ملزمان) خواتین و مرد ہمارے پاس معافی کیلئے چل کر آئے لہذا شریفہ بی بی بھی اس صلح نامہ سے راضی ہے اور انکو معاف کردیا گیا ہے جب ان سے کہا گیا کہ مزید تصدیق کیلئے خود شریفہ بی بی کا موقف جاننا چاہتا ہوں تو ان کا جواب تھا ہمارے علاقہ میں موبائل سروس کا بہت زیادہ مسئلہ ہے اور گاوں سے باہر صرف اونچی جگہوں پر سگنل آتے ہیں لہذا ان سے بات کرانا ممکن نہیں۔

    شریفہ بی بی کے بھائی نے میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: میڈیا نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا اور جن جن لوگوں نے ہمارے لیئے اس وقت ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہم ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ 

    شریفہ بی بی کیس میں ملزمان کے وکیل غلام محمد سپل  نے بتایا: چند ماہ قبل اس کیس میں نامز ملزمان نے ضمانتیں کروائی تھی تاکہ وہ شریفہ بی بی کے خاندان کے ساتھ راضی نامہ کرسکیں جسکے لئے خود متاثرہ خاتون نے ڈی آئی خان سیشن کورٹ میں بیان قلمند کرایا تھا کہ ہماری ملزمان کے ساتھ صلح پر بات چیت چل رہی لہذا مجھے ان کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں جسکے بعد عدالت نے انہیں دو ماہ کا وقت دیتے ہوئے ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

    جب ملزمان کے وکیل سے پوچھا گیا کہ دعوی کیا جارہا ہے کہ رقم کے عوض صلح نامہ کیا گیا ہے لیکن دونوں فریقین اس بات کو ماننے سے انکاری ہیں کیا اس کی کوئی قانونی وجہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: بالکل اگر واقعی یہ راضی نامہ پیسوں کے عوض ہوا ہے اور یہ لوگ عدالت میں یہ جواز پیش کریں کہ ہم نے ملزمان کو رقم کے بدلے معاف کیا تو پھر عدالت یہ بات قبول نہیں کرتی یہی وجہ ہے کہ وہ فی سبیل اللہ معاف کرنے کا کہہ رہے تاکہ کل کو عدالت میں کوئی قانونی مسئلہ پیدا نہ ہوجائے۔

    جب اس سلسلہ میں شریفہ بی بی کے وکیل احمد علی اور جرگہ میں ثالثی کا اہم کردار ادا کرنے والے سابق رکن قومی اسمبلی داور خان کنڈی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ 

    پس منظر:

     نومبر 2017 میں شریفہ بی بی جس کا تعلق گاوں گرہ مٹ تحصیل درابن ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے کے بھائی سجاد سیال پر  کومب برادری کی ایک لڑکی سے فون پر بات کرنے کے الزام کی دشمنی کی بنا پر ان کی متاثرہ بہن کو بااثر وڈیروں نے برہنہ کرکے گاوں کی گلیوں میں گھمایا تھا لیکن دوسری طرف سجاد سیال اس الزام سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس لڑکی سے فون پکڑا گیا تھا وہ میرا نہیں تھا اور ناہی میرے نام پر اسکی سم تھی، اس وقت سم ڈیٹا نکلوایا گیا تھا اور وہ سم جس شخص کے نام پر تھی اسے چھپا دیا گیا اور جھوٹا الزام مجھ پر لگادیا گیا۔

     شریفہ بی بی کے خاندان کے مطابق ان کی سترہ سالہ بیٹی کو بے لباس کرنے والوں میں کل 9 لوگ ملوث تھے جن میں سجاول سیہڑ نامی وڈیرا ان کی پشت پناہی کررہا تھا اور انہوں نے اس واقعہ کے فورا بعد متاثرہ لڑکی کے بھائی سجاد پر پرچہ کروا دیا کہ درحقیقت یہ ملزم ہے اور اس نے ہمارے گھر آکر خواتین کے کپڑے پھاڑے۔

     شریفہ بی بی کے خاندان نے دعوی کیا تھا کہ: یہ اس لئے کیا گیا تاکہ متاثرہ خاندان کی طرف سے کیا گیا پرچہ کراس ہوسکے لیکن بعدازاں اس کوتاہی میں ملوث ایس ایچ او کو معطل بھی کیا گیا جنہوں نے مرکزی ملزم کے ساتھ مل کر اس وقت سانحہ کے فورا بعد رپورٹ کیلئے آئی متاثر لڑکی کو تھانہ میں گالیاں دی تھی جس کا الزام خود شریفہ بی بی نے ایک ٹی وی پروگرام میں بھی لگایا تھا کہ:  "جب میں خاندان کے ساتھ تھانہ رپورٹ کرنے گئی تو وہاں موجود پولیس آفیسر نے مجھے گالیاں دیتے ہوئے دھکے دیئے اور کہا نکل جاو اصل قصوروار تمہارا بھائی سجاد ہے اور تم اب ان پر الزام لگا رہی۔”

     بعدازاں معاملہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے قومی سطح پر چلا گیا اور پولیس نے تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا اور عدالت پیش کرکے جیل بھیج دیا تھا۔

    سماجی کارکن رجب علی فیصل کا خیال ہے کہ اکثر مظلوم ملزمان سے اس لیئے صلح کرلیتے ہیں کیونکہ ان میں کیس کی پیروی کی طاقت نہیں ہوتی کیونکہ وہ غریب اور غیر تعلیم یافتہ ہوتے ہیں لہذا  ایسے دیہی اور پسماندہ علاقوں کے لوگ مقامی وڈیروں سے ڈرتے ہیں کیونکہ تھانہ کچہری میں سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے انکی پہنچ زیادہ ہوتی ہے۔ اور پھر انہوں نے اسی معاشرہ میں رہنا ہوتا ہے انکی جائیداد، روزگار، رشتہ داریاں وہاں پر ہوتی ہیں لہذا وہ چاہا کر بھی ملزمان کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا سکتے کیوں کہ وہ مختلف مجبوریوں میں جکڑے ہوتے ہیں جس میں سب بڑی وجہ آگاہی نہ ہونا اور غربت ہے۔ کیونکہ ہمارے ملک اس بارے میں کسی قسم کی آگاہی ہے اور نا ہی ایسا کوئی فعال ادارہ جو ان لوگوں صحیح معنوں میں رہنمائی یا مدد کرسکے اور شریفہ بی بی کیس میں بھی یہی عوامل شامل ہیں جسکے سبب مظلوم گھرانے نے ملزمان سے صلح کرلی۔

  • شاہینوں کا شہر سرگودھا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    شاہینوں کا شہر سرگودھا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    1904 میں ایک انگریز عورت کے ہاتھوں نو آبادیاتی نظام کے تحت آباد کیا جانے والا پاکستان کا پہلا شہر سرگودھا ہے اسکے بعد اسلام آباد اور فیصل آباد بنائے گئے۔
    شہر کے درمیان میں ایک مارکیٹ ہے جسے گول چوک مارکیٹ کہا جاتا ہے اسکے اندر ایک خوبصورت مسجد بھی ہے۔ کہتے ہیں اسی جگہ ایک تالاب ہوا کرتا تھا جسکے کنارے ایک گھر تھا ۔ ہندو جو اس تالاب کا مالک تھا اسکا نام “گودھا” تھا اور تالاب کو فارسی میں “سر” کہتے ہیں تو اسی مناسبت سے اس کا نام سرگودھا رکھا گیا۔
    اپنے محلے وقوع کے اعتبار سے سرگودھا خاص اہمیت کا حامل شہر ہے۔ 5800 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان میں واقع سرگودھا کو ڈویژن کا درجہ حاصل ہے اور موجودہ ڈویژن میں 6 تحصیلیں بھلوال، بھیرہ، کوٹمومن، سرگودھا، سلانوالی، شاہ پور شامل ہیں۔ کل آبادی تقریبا 270000 دو لاکھ ستر ہزار ہے۔
    تعلیمی میدان میں سرگودھا کا لٹریسی ریٹ تقریبا 80% ہے جبکہ پورے ملک میں 30%۔ تعلیمی اداروں میں سرفہرست سرگودھا یونیورسٹی ،اس کے علاوہ ائیربیس کالج، میڈیکلُ کالج، لاء کالج، ووکیشنکل کالج، کامرس کالج اور بہت سارے پرائیویٹ تعلیمی ادارے جیسے پنجاب گروپ آف کالجز، دارارقم گروپ، بیکن ہاوس، سٹی سکول سسٹم خدمات انجام دے رہے ہیں۔
    صحت کی سہولتوں کے لیے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور اسکے علاوہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز، پرائیویٹ ہسپتال ، ٹی بی سنٹر ، ٹراما سنٹربھی موجود ہیں۔ شوکت خانم ، آغا خان ہسپتال کے کولیکشن سنٹر بھی کام کررہے ہیں۔
    کیونکہ یہ ایک پلانڈ شہر ہے تو اس شہر میں ہر قسم کے کاروبار کے الگ الگ بازار ہیں جیسے سونے کی مارکیٹ، کپڑے کی مارکیٹ۔ تمام بازاروں کے درمیان میں ایک چوک آتا ہے جو ان بازاروں کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔ اگر آپ شہر کے کسی بھی کونے سے داخل ہوں تو آپ پورے شہر کو باآسانی گھوم سکتے ہیں۔

    دفاعی لحاظ سے اس شہر کی بہت اہمیت ہے کیونکہ یہاں پر پاکستان ائرفورس کا ہوائی اڈہ ہے۔ اسی مناسبت سے اس شہر کو شاہینوں کا شہر بھی کہا جاتاہے۔ اس شہر کی فضائیں ہر وقت ائرفورس کے جنگی طیاروں کی آواز سے گونجتی رہتی ہیں۔ 1965 کی جنگ میں ائر فورس نے بہت اہم کردار ادا کیا اور بہترین کارکردگی پر سرگودھا شہر کو ہلال استقلال سے نوازا گیا۔ لاہور اور سیالکوٹ کے علاوہ یہ اعزاز صرف سرگودھا شہر کوہے۔ اسی جنگ میں دشمن کو ناکوں چنے چبوانے والے اور ایک منٹ سے کم وقت میں انڈیا کے 5 جہازوں کو مار کر ورلڈ ریکارڈ بنانے والے ایم ایم عالم کا تعلق بھی سرگودھا سے تھا۔ اسکے علاوہ سرفراز رفیقی کا تعلق بھی سرگودھا سے تھا۔ پاکستان کے کم عمر ترین نشان حیدر کا اعزاز پانے والے راشد منہاس اسی دھرتی کے سپوت ہیں۔
    سرگودھا اپنی بہت ساری باتوں سے مشہور ہے جس میں سرفہرست یہاں کا کینو مالٹا ہے جو پورے پاکستان بلکہ بیرونی ممالک میں بھی بہت پسند کیا جاتا ہے۔سرگودھا شہر بجری کی سپلائی سے بھی مشہور ہے بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا کرش سپلائر ہے۔ اس شہر نے پاکستان کی بہت ساری مشہور شخصیات کو بھی جنم دیا ہے جن میں جنرل حمید گل، احمد خان المعورف ملنگی، فٹح خان بلوچ،مفتی محمد شفیع، خواجہ ضیاءالدین سیالوی،خواجہ قمرالدین سیالوی، ملک فیروز خان نون، ملک خضر حیات ٹوانہ، پیر امیر محمد بھیروی. مولانا محمد حسین نیلوی . پیر کرم شاہ صاحب ازھری. سید حامد علی شاہ . مولانا ثناءاللہ امرتسری: علامہ عطاءاللہ بندیالوی. مولانا عبدالشکور ترمذی. سید سبطین نقوی اور مولانا نقشبند شامل ہیں۔
    اسکے علاوہ کھیل میں محمد حفیظ، اعزاز چیمہ اور نوید لطیف کرکٹ میں سرگودھا کی نمائندگی کر چکے۔ اس شہر کے نامور شعراء میں احمد ندیم قاسمی, وصی شاہ، ڈاکٹر وزیر آغا. ریاض احمد شاد . شاکر کنڈان. محمد حیات بھٹی. غلام محمد درد. قاسم شاہ. افضل عاجز. اور ھارون الرشید تبسم .سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ڈاکٹر عطاء الرحمان. ڈاکٹر شاہد اقبال. ڈاکٹر عامر علی شامل ہیں۔

  • افغانستان، امریکی فوج کا انخلاء اورپاکستان پرمنڈلاتے خطرات.تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    افغانستان، امریکی فوج کا انخلاء اورپاکستان پرمنڈلاتے خطرات.تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ہیرو شیما پر ایٹم بم گرانے کے بعد سے آج تک دیکھیں تو امریکہ نے کہیں کوئی جنگ نہیں جیتی، ویت نام ہو یا صومالیہ ، سوڈان ہو یا عراق ،ہرجگہ امریکہ کوناکامی کاسامناکرناپڑا،امریکہ سے پوری دنیاکے لوگ نفرت کرتے ہیں امریکہ نے جس ملک پر جنگ مسلط کی اس ملک کے وسائل لوٹے ہیں ، امریکہ نے کبھی تنہا جنگ نہیں لڑی ہمیشہ دیگر ممالک کے لائولشکر سے حملہ آور ہوامگرامریکہ کوکہیں بھی کامیابی نصیب نہ ہوئی اس کے برعکس امریکہ نے کبھی اپنی شکست بھی تسلیم نہیںکی۔
    9/11 کوبہانہ بنا کر افغانستان پر امریکا اور اس کے اتحادیوںنے 2002 ء میں جنگ مسلط کر دی۔ افغانستان کے خلاف اس جنگ میں تقریباََتمام مغربی ممالک امریکا کے حواری بن کر شامل ہو گئے، ان ممالک میں برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیٹو تنظیم کے بیشتر ممالک شامل تھے۔ اس کارروائی میں نیٹو فوجوں ہوائی طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے اور فرضی دہشت گردوں کو نشانہ بناتے ،ان گنت بم افغانیوں کی بستیوں پر گراتے جس سے جیتے جاگتے انسانوں کی بستیاں پلک جھپکتے ہی مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوجاتی تھی۔

    گیارہ ستمبر 2001 میں جب امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہوا اور اس حملے کی ذمے داری اسامہ بن لادن پر ڈالی گئی تو امریکا اسامہ بن لادن کو ڈھونڈتے ہوئے افغانستان میں داخل ہوگیا۔ اسامہ کی تلاش پر بے گناہ افغانوں کا خون بہایا گیا۔ افغان سرزمین پر تاریخ کی بدترین بمباری کی گئی اور اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا۔اس سے قبل طالبان دورحکومت میں افغانستان پرامن افغانستان کی طرف گامزن تھا لیکن گیارہ ستمبر کے واقعے نے ایک بار پھر حالات بدل دیے اور افغانستان کی سرزمین سے اٹھنے والی بدامنی کی لہرنے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ افغانستان کی جنگ میں امریکا کا اتحادی بننے پر پاکستان کو بم دھماکوں کی صورت میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ جانی و مالی قربانیوں کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کیا۔ ملک میںامن کیلئے پاک فوج،رینجرز، ایف سی، پولیس، پاکستانی شہریوں اور سیاستدانوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ آج بھی پاکستانی عوام بم دھماکوں کی گونج سے سہمے ہوئے ہیں۔

    گزشتہ 21 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے بعد اب امریکا نے اپنی ناکامی کا مبینہ اعتراف کرتے ہوئے اس ناکامی کا ملبہ پاکستان پرڈالنے کی کوشش کی اور بالآخر واپسی کا فیصلہ کر ہی لیا، یہ جنگ امریکا کے گلے میں پھنسی ایسی ہڈی بن گئی تھی جسے وہ نہ نگل سکتا تھا اور نہ ہی اگل سکتا تھا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ رواں سال 11 ستمبر تک تمام امریکی فوجی دستے افغانستان سے واپس بلالیے جائیں گے۔افغانستان میں سب سے بڑا فوجی اڈہ بند کرنے کے ساتھ ہی گویا امریکا نے جنگِ افغانستان کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے جس کا فیصلہ گزشتہ سال طالبان کے ساتھ کیے گئے معاہدے میں کیا گیا تھا۔افغانستان کا بگرام ایئر بیس امریکی فوج نے خالی کر دیاہے، امریکی فوجی رات کی تاریکی میں خاموشی سے واپس چلے گئے، افغان انتظامیہ بھی بے خبر رہی،امریکیوں کے انخلاء کا افغان طالبان نے خیرمقدم کیا ہے۔ کابل میں صرف 650 امریکی فوجی سفارت خانے کی حفاظت کے لیے رہ گئے ہیں، مکمل انخلا اگست میں ہو گا۔ فضائی آپریشن اب متحدہ عرب امارات، قطر یا بحری بیڑے سے کیے جائیں گے، مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اتحادیوں نے مل کر بہت سی جنگیں جیتیں لیکن افغان جنگ ہار گئے۔ امریکی فوج کے انخلا کے بعد اب ایک بار پھر افغانستان میں اقتدار کی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ افغان طالبان نے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ افغان طالبان دارالحکومت کابل کے قریبی علاقوں تک پہنچ چکے ہیں اور افغان دارالحکومت کابل سے ایک گھنٹے کی دوری پر ہیں جوکہ کسی بھی لمحے کابل پر قبضہ کرسکتے ہیں،ان حالات کودیکھتے ہوئے افغان کٹھ پتلی صدر اشرف غنی اپنے فیملی کے افرادکوپہلے ہی افغانستان سے نکال چکا ہے،

    خوداشرف غنی نے طالبان کے خطرے کے پیش نظرفرارہونے کیلئے جہازتیارکھڑاکیاہواہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں ایک بار پھر افغانستان کی اندرونی معاملات کے اثرات پاکستان پر پڑنے کا خطرہ موجود ہے۔ افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال حکومت پاکستان کیلئے پریشانی کا باعث ہے ۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں ایک طویل نشست ہوئی اور ممکنہ خطرات سے بچنے کیلئے صف بندی کی جارہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے تو واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ پرائی جنگ کا کیوں حصہ بنیں۔ انہوں نے امریکا کو ہوائی اڈے دینے سے بھی انکار کردیا ہے۔ لیکن حکومت کو مغربی سرحدوںسے اٹھنے والے خطرات کے بادلوں کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ملکی معاشی صورتحال بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ افغان مہاجرین کا مزیدبوجھ برداشت کیا جاسکے۔ اس حوالے سے حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا اور ملکی مفاد میں سیاسی جماعتوں کو بھی حکومت کا ساتھ دینا چاہئے۔

    اس وقت تیزی سے بدلتے عالمی پس منظر میں جب ممالک عالمی طاقتوں کے اثر سے نکل کراپنے ملکی مفادات کے پیش نظر فیصلے کر رہے ہیں، سی پیک کا منصوبہ اس خطے کے مختلف چھوٹے بڑے ممالک کے لیے اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔نیپال سے گوادر تک بننے والا معاشی کوریڈوراور خطے کے تمام چھوٹے بڑے ممالک کے ساتھ چین کی بھاری مشترکہ سرمایہ کاری نے امریکا اور اس کے حلیفوں کے لیے نئی پریشانی اور مشکلات کھڑی کرد ی ہیں۔چین کا بنایا ہوا سی پیک دنیا کی تجارتی منڈی کو یکسر تبدیل کرنے جا رہا ہے۔ 62 ارب ڈالرز کی چینی سرمایاکاری سے غیر محدود رسائی اور معاشی ترقی پاکستان کے استحکام کا راستہ کھولنے جا رہی ہے جو ہمارے بعض دوست ممالک کو قابل قبول نہیںہے۔ ایسے وقت میں امریکی فوج کے انخلاء سے خطے میں انتشارپیداہونے کے خطرات مزیدبڑھ چکے ہیں ،جس سے تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں خلل پڑسکتا ہے اورامریکہ سمیت پاکستان کے دشمن ممالک نہیں چاہتے کہ سی پیک منصوبہ کامیاب ہو،ایساپاکستان کو کسی صورت قبول نہیں ہے، حکومت پاکستان اورہمارے اداروں کوچاہئے کہ دشمنوں کی سازشوں ،انتشار اوردہشت گردی کے مذموم مقاصدکوناکام بنانے اورخطرات سے نمٹنے کی پیش بندی ضرورکرلیں۔

  • ہسپتال مافیا. تحریر: شعیب رحمان

    ہسپتال مافیا. تحریر: شعیب رحمان

    ہمارے ملک میں بہت سی مافیاز میں سے ایک "ہسپتال مافیا” بھی ہے، جو کہ عام شہری (غریب ہو یا امیر) کے جزبات سے کھیلتی جسکا اولین کام صرف اور صرف پیسہ بٹورنا ہے.
    یہ اب پرانی بات ہوئی کہ ہسپتال والے مسیحائی کا کام کرتے آج کے دور میں یہ بات الف لیلی کی داستان ہی لگتی، پورے ملک سے آپکو سینکڑوں واقعات سننے کو ملینگے کہ ہسپتال کی انتظامیہ نے ڈیڈ باڈی دینے کے لیئے کس طرح سے رقم نکلوائی،
    ہمارے ایک دوست ضیاء الدین ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں انکے بقول ہمیں باقاعدہ یہ لیکچر دیا جاتا کے جبتک مریض کے لواحقین پیسے دینے کی استطاعت رکھتے ہوں ان سے پیسے نکلواتے رہو کیونکہ آپکی تنخواہ اور ہسپتال کے اخراجات اسی سے چلتے ہیں-
    جب بوڑھے والدین اپنے آخری وقت کو پہنچتے تو یہ ہسپتال گدھ کی طرح حملہ آور ہوتے،ایک تو گھر والوں پر فیملی پریشر بھی ہوتا کہ والدین کو ہسپتال کیوں لیکر نہی گئے؟

    نا ہونے کے برابر کیسس میں ایسا ہوا ہوگا کہ ستر اسی سال عمر کا پیشنٹ سیریس حالت کے بعد صحت یاب ہوکر گھر لوٹا ہو، 95% کیسس میں یہ ہسپتال اس عمر کے مریضوں کو میت میں بدل نے کے لاکھوں روپے لیتے، جسکے لیئے غریب مڈل کلاس شخص قرض لیتا، زیور بیچتا مگر ان ہسپتال والوں کو زرا بھی احساس نہی ہوتا،
    حکومت کو چاہئے اس معاملے میں قانون سازی کرے اور ہسپتال کی انتظامیہ کو پابند کرے کہ علاج میں کامیابی کی صورت میں ہی اسے بل ادا کیا جائے اور اگر مریض جاں بر نہی ہوتا تو بل کی ادائیگی کو لواحقین کے حالات سے مشروط کیا جائے کہ اگر وہ دینے کے قابل ہیں تو ادا کریں ورنہ ہسپتال کی انتظامیہ اس شخص سے حلفیہ بیان لیکر بل کو خود ادا کرے،اس یہ ہوگا انتظامیہ لواحقین کو مریض کے متعلق درست معلومات بتائے گی غیر ضروری علاج سے اجتناب کریگی، نیب کو بھی چاہیئے کہ زرا ہسپتالوں کی لوٹ ماری کو چیک کرے کرونا کی وبا کے دوران عام شہری کو کسی چور ڈکیت نے نہی لوٹا ہوگا جتنا کے ان مسیحاؤں نے لوٹا
    #شعیب_رحمان

  • بیروزگاری کا خاتمہ پر کیسے؟؟ تحریر : حمزہ بن شکیل

    بیروزگاری کا خاتمہ پر کیسے؟؟ تحریر : حمزہ بن شکیل

    اس وقت دنیا بھر میں بیروزگاری ایک بہت سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس سے دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک بھی متاثر ہیں۔ بیروز گاری کے باعث معاشرہ میں بیشمار سماجی برائیاں سر اٹھاتی ہیں جن کی روک تھام کے لئے ہمیں حکومتی اور انفرادی سطح پر چند ضروری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

    ویسے تو بیروزگاری کی بیشمار وجوہات ہیں پر ان میں ایک سب سے بڑی وجہ ہماری دن بدن بڑھتی آبادی بے جس کی وجہ سے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال اس سال ہونے والے ایف آئی اے کے امتحان ہیں جن کے لئے اب تک 12 لاکھ امیدواروں نے 1137 سیٹوں کے لئے درخواستیں جمع کرائی ہیں جو کے ٹوٹل کا دس فیصد بھی نہیں بنتا۔ بیروز گاری کی دوسری سب سے اہم وجہ آئے روز بڑھتی مہنگائی اور ٹیکس ہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس سب نے غریب اور بیروز گار شخص کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ دو سال میں جہاں کورونا وائرس نے کئی انسانی جانیں نگلی ہیں وہیں اس کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے روزگار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور بیروز گاری کی سطح میں بہت خطر ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سفارشی کلچر جیسی معاشرتی برائیاں بھی بے روزگاری کی ایک بڑی وجہ میں سے ایک ہیں جس کے باعث بہت سے محنتی اور ہنر مند افراد کو اچھی نوکری حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اندازہ لگائیں پاکستان میں ہر سال قریب 28 ہزار نوجوان گریجویشن مکمل کرنے کے باوجود اچھی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔

    بے روزگار افراد کو پریشانی اور ذہنی تناؤ کے باعث بہت سی جسمانی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے افراد اموماً معاشی بدحالی اور مایوسی کی دلدل میں پھنسنے کے بعد فرار اختیار کرنے کے لئے نشے کی لت میں لگ جاتے ہیں اور کچھ تو خودکشی تک کر لیتے ہیں۔

    ہر حکومت کا فرض ہے کہ وہ بیروزگاری جیسی سنگین اور سماجی برائی کو کسی صورت نظر انداز نہ کرے اور اپنی طرف سے ہر ممکن اقدامات کرے تا کہ بیروزگاری کو جلد از جلد جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ اس مسئلے کے خاتمے کیلئے حکومت کو مناسب معاشی منصوبہ بندی، موثر حکومتی پالیسیاں اور ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات بیروز گاری کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سفارش جیسے ترجیحی سلوک کا خاتمہ ضروری ہے تا کہ نوکریاں میرٹ کی بنیاد پر مل سکیں۔

    حکومت کے ساتھ ساتھ تمام مخیر حضرات کو بھی اس کار خیر میں کھل کر اپنا حصہ ڈالنا چاہئے تاکہ ہم مل کر معاشرے سے بیروزگاری کو ختم کر سکیں اور ایک خوشحال معاشرہ تشکیل پا سکے۔

  • برداشت ۔ تحریر : منیب جنجوعہ

    برداشت ۔ تحریر : منیب جنجوعہ

    اعلیٰ انسانی اخلاق کیا ہیں اور زندگی میں ان کی اہمیت کیا ہے، اس مسئلے پر مختلف علمائے عمرانیات اور دوسرے اہلِ فکر نے بہت کچھ لکھا اور کہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ زندگی کے بنیادی مسائل میں سے ہے۔ اخلاق کی حیثیت اور اہمیت کو مختصر ترین لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اخلاق دراصل زندگی کے طریقے، سلیقے اور قرینے کا نام ہے، اور اس طریقے کا تعین اور اس سلیقے اور قرینے کا حصول ہی دراصل اخلاقیات کا حقیقی موضوع ہے
    کیا وجہ ہے کہ معاشرے میں عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے ہم سیاسی جماعتوں کے کارکنان پر نظر لگاہیں تو ایک دوسرے کو گالی کے اعلاوہ کچھ نہیں اگر مذہب بحث کو دیکھیں تو فقہ واریت عروج پر ہے۔
    کیا ہوگیا ہے معاشرے کو؟
    ملک کے کرتا دھرتا تو سکون سے ملتے جلتے اور رہتے ہیں لیکن عام سیاسی کارکن کیوں ان کی خاطر ایک دوسرے سے نفرت کر رہا ہے ہر فورم پر ایک نفرت کیوں عیاں ہے؟
    پالیسی پر بحث کریں لیکن ذاتیات پر حملے نہ کریں۔

    قومی طور پر بھی برداشت ختم ہوچکی ہے گلی کوچے پر ایک دوسرے سے نفرت اور گالی نظر ا رہی ہے اخلاق اور دین کے حکم کو ہم نےچھوڑ دیا ہے۔

    عہد کریں
    ہر لفظ محبت کا بولیں گے کوئی گالی دے گا تو بھی محبت سے دلیل سے بات کریں گے

    بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاق۔ یعنی ’’میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔‘‘

    دوسری روایت میں حُسْنَ الْاَخْلَاق کے الفاظ آئے ہیں۔
    حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَحْسَنَ النَّاسِ خُلْقًا رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں سے اعلیٰ اخلاق رکھتے تھے۔ (متفق علیہ)

    حضور ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کے بارے میں قرآن مجید کی شہادت یہ ہے کہ:
    اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔
    ’’بے شک آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔‘‘

    معاف کرنا، برداشت کرنا، محبت کرنا اللہ کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقبول سنت ہے:

  • اسلام اور نظریہ پاکستان .محمدعادل حسین

    اسلام اور نظریہ پاکستان .محمدعادل حسین

    اسلام اور نظریہ پاکستان .محمدعادل حسین
    ھوَالَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ فَمِنۡکُمۡ کَافِرٌ وَّ مِنۡکُمۡ مُّؤۡمِنٌ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲﴾
    (سورة التغابن)
    اسی نےتمہیں پیدا کیا پس تم میں سے بعض تو کافر ہیں اور بعض ایمان والے ہیں اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالٰی خوب دیکھ رہاہے

    نظریہ سے مراد وہ مستحکم سوچ ہے جو آپ کو عملی زندگی میں قدم اٹھانے پر مجبور کرے.
    یا
    کسی چیز کے بارے میں کوئی تصور، حکیمانہ رائے یا خیال، خصوصی فکر، حکیمانہ بات، نچوڑ

    اور
    فلسفہ کے لحاظ وہ تصور یا ادراک جو ایک نوع کے کل افراد پر حاوی ہو، تصور کلی، لائحہٗ عمل، فکری مسئلہ
    یا یوں کہہ لیں کہ
    کسی مسئلے میں نظری اور فکری اختلاف کے لحاظ سے مخصوص نقطہٗ نظر

    وطن عزیز کی بنیاد جس نظریے پہ قائم ہوئی اسے نظریہ پاکستان کہتے ہیں

    نظریہ پاکستان کواگر اسلامی نظریہ حیات کہا جاۓ تو یہ بے جا نہ ہوگا کیونکہ یہ وہ دعوت ہے جس کو رب العالمین نے انسانیت کی راہنمائی کیلۓ بھیجے گۓ ہر نبی اور رسول دےکے بھیجا تاکہ اس کے ذریعےوہ انسانیت کو انکی تخلیق کامقصد اورخالق ومعبود کی پہچان کرواسکیں

    اور وہ دعوت تھی کلمہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ

    نبی رحمت محمدمصطفیٰ‎‎ﷺ نے سب پہلے اپنی قوم کو جو دعوت دی وہ یہی تھی اور یہی کلمہ دنیا وآخرت کی حقیقی کامیابی ہے اور اسی دعوت اسی کلمہ پہ وطن عزیز کی بنیاد رکھی گئی

    کیونکہ برصغیر میں الگ نظریات کی حامل دوایسی قومیں آباد تھی جن کی طرز زندگی ،معاشرت،عبادت ،سیاست وعدالت سب مختلف تھے ایک قوم اسی کملہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ کاعقیدہ رکھنے والی خدائے واحدپرستاردوسری لاکھوں خداؤں کی پجاری .ایک اپنے رب کےاس حکم
    فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انۡحَرۡ ؕ﴿۲﴾
    (الکوثر)
    پس تُو اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر ۔

    پر عمل کرتے ہوئے جانور ذبح کرنے والی اور دوسری ان کواپنا معبود ماننے والیایک قوم المسلم اخ المسلم دعوت پر عمل پیرا دوسری اونچ نیچ کو ترجیع دینے والی ایک قوم کی برتری کامعیار تقوی اور دسری برادری ازم کو فروغ دینے والی ‎ایسے میں دونوں کا اکٹھے رہنا ممکن نہیں تھا .اور مسلمانوں نے کامطالبہ کیا تاکہ وہ اپنے دین کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کر سکے اور یہ یہی نعرہ نگرنگر گلی گلی لگایا کہ اس دعوت اس کلمے کی بنیاد پہ کہ جوابدی واخری کامیابی ہے .پاکستان مطلب کیا؟ لاالہ الا اللہ

    اگرچہ مٹھی بھر لوگ تھے مگر ان کو کامیابی اسی نظریے اور سوچ کی وجہ سے ملی کیونکہ یہ خود ساختہ یازمینی نہیں بلکہ آسمانی تھا اورجذبہ بھی سچا تھا اللہ نے اپنی نصرت بھی اسی وجہ کی اگرچہ مخالفین کی تعداد کئی گناہ تھی کہ اپنے مخالفین کی صفوں میں نظر آئے ،
    وطن تو حاصل کر لیا مگر اس نظرے کو عملی جامہ پہنانے سے آج تک قاصر رہے

    وطن عزیز کو لاحق تمام مسائل کا حل صرف ایک آؤ اس نظریئے طرف لوٹ چلیں
    کیونکہ
    نظریہ پاکستان ہی حقیقت میں بقائے پاکستان ہے

    والسلام

  • "عورت اور مرد لازم و ملزوم” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    "عورت اور مرد لازم و ملزوم” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو ناقص العقل اور کم فہم بنایا ہے تو دوسری طرف عورت کی سادگی و بھولپن کو بھی لائق محبت رکھا عورت کتنی ہی غیر معمولی کیوں نہ ہو مرد کی ہوش مندی و ہوشیاری سے مات کھا جاتی ہے مرد کو اوصاف میں مقام میں برتری حاصل ہے اور اس کو سجتا بھی ہے کہ وہ اپنی برتری کا استمعال کرے حاکم بن کر نہیں بلکہ ایک زمہ داری ولی بن کر عورت کو ساتھ لے کر چلے اس کی اہمیت کو تسلیم کرے کیوں کہ عورت
    ہمیشہ سے مضبوط، خود سے بہتر و برتر، سہارے کی تلاش میں رہتی ہے
    اسے پسند ہے مضبوط اور محفوظ حصار میں رہنا مرد جتنا مضبوط ہو گا عورت خود کو معاشرے میں اتنا ہی زیادہ معتبر اور با وقار سمجھتی ہے
    مرد محبت کو بھی اپنے تابع رکھنا چاہتا ہے جب دل کیا دو لفظ محبت کے بول کر عورت کو رام کر لیا اور جب چاہا اسکی زات کی توہین و تذلیل کر دی
    مرد ہمیشہ خود کو برتر ہستی سمجھتا ہے اور سمجھنا چاہیے بھی لیکن دوسرا پہلو بھی مد نظر رکھنا چاہیے صنف نازک بھی انسان ہے اسکی بھی خواہشات ہیں اسکی مرضی بھی معنی رکھتی ہے لیکن بقول
    مشتاق احمد یوسفی کے’’بعض مَردوں کو عشق میں محض اس لیے صدمے اور ذلّتیں اٹھانی پڑتی ہیں کہ محبت اندھی ہوتی ہے کا مطلب وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ شاید عورت بھی اندھی ہوتی ہے
    جو کہ سرا سر غلط اور قابل نفی حقیقت ہے
    عورت ہمیشہ مرد کو ہر طرح سے جانچتی ہے معاشرتی لحاظ سے اسکا اسٹیٹس بھی دیکھنا ضروری ہے اور یہ اسکا بنیادی حق ہے محض محبت کے ورد پر زندگی نہیں گزرتی بہرحال زندگی کے حقائق سے انحراف ممکن نہیں
    مرد اور عورت لازم و ملزوم ہیں اور یہ کبھی نہ ختم ہونے والی بحث ہے جو ہمیشہ سے چلتی آئی ہے لیکن مرد کی فضیلیت کو تسلیم کرنا چاہیے اور یہی حقیقت عورت کو ہمارے معاشرے میں معتبر کرتی ہے
    مرد و زن دونوں ہی ہمارے معاشرے کا لازمی حصہ ہیں ایک کا کردار دوسرے سے مشروط ہے اور دونوں ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں
    اور اگر بات کی جائے تربیت کی تو اس سے انکار ممکن نہیں کہ تربیت اگر بیٹی کو دینی ضروری ہے تو بیٹا بھی ایک متوازن شخصیت بننے کے لیے مکمل تربیت کا محتاج ہے
    اگر لڑکی ماں اور بیوی کے کردار میں اہم ہے تو ایک مرد بھی باپ یا شوہر ہونے کے ناطے خاندان کی مضبوطی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ماں اور باپ دونوں مل کر ہی ایک صحت مند خاندان کی بنیاد رکھتے ہیں کوئی ایک کبھی بھی دوسرے کی کمی کبھی پوری نہیں کر سکتا اس حقیقت سے بھی
    انکار نہیں کہ بچوں کے لیے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے تو باپ بھی اس تربیت گاہ کا ایک اہم اور بنیادی کردار ہے۔کسی بھی بچے کی تربیت کے لیے نہایت ضروری ہے کہ گھر کا ماحول سازگار ہو اور اس ماحول کو بنانے والےمرد اور عورت والدین ہونے کا فریضہ احسن طریقے سے سر انجام دیں اور یہی ہمارے معاشرے کے لئے ضروری اور خوب صورت پہلو ہے جو ہمیں دوسرے معاشروں سے ممتاز رکھتا ہے۔
    زہرا نگاہ نے عورت کا مقام یوں بیان کیا ہے
    "ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی
    دونوں فرض نبھا کر اس نے ساری عمر عبادت کی”