Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ذرائع  ابلاغ پر امریکی پابندیاں .تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    ذرائع ابلاغ پر امریکی پابندیاں .تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    گذشتہ دنوں میڈیا پر چلنے والی خبرو ں میں ایک ایسی خبر نظر سے گذرہی ہے کہ جس کا عنوان خود میڈیا کے خلاف تھا یعنی یہ خبر تھی کہ امریکی حکومت نے ایسے تمام ذرائع ابلاغ کو بند کرنے اور بلاک کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے جو کسی بھی طور پر ایسی خبریں شاءع کرتا ہوں جس میں امریکی حکومت کے اقدامات پر نقد ہو یا یہ کہ پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتاہو ۔ مزید برآں کہ وہ ذرائع ابلاغ کہ جو فلسطین کاز کے حامی ہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ فلسطین سے متعلق خبروں کو ترجیحی بنیادوں پر نشر کرتے ہیں ان سب کو امریکی حکومت کے اس پابندی کے فیصلہ کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ اس حکم نامہ کے بعد درجنوں ایسے ٹی وی چینلز اور ویب سائٹس کو امریکہ اور کئی اور ممالک میں بند کر دیا گیا ہے کہ جو امریکی استعماری نظام کی مخالفت کرتے ہیں ، اسرائیل کے جارحانہ اور دہشت گردانہ اقدامات کو دہشت گردی کہتے ہیں ، فلسطینی عوام پر ظلم و بربریت کو عوام تک پہنچا کر آگہی فراہم کرتے ہیں ، یہ سب کے سب امریکی حکم نامہ کا نشانہ بنتے ہوئے بند کر دئیے گئے ہیں ۔

    امریکی حکومت کے اس یکطرفہ اقدام نے ماضی کے ان تمام امریکی صدور اور خاص طور پر ڈونالڈ ٹرمپ کی یا دتازہ کر دی ہے کہ جنہوں نے خود سے ہی یکطرفہ اعلان کر کے بیت المقدس کی شناخت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی تاہم ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ ذرائع ابلاغ کی بندش کے امریکی فیصلہ اور اقدامات نے دنیا بھر میں کئی ایک سوالات کو جنم دیا ہے ۔

    سب سے اہم سوال تو امریکی نظام حکومت اور بنیا دپر یہی اٹھ رہا ہے کہ امریکہ جو ہمیشہ دنیا کو آزادی اظہار رائے کے نام پر یرغمال بناتا رہا ہے اب خود اس عنوان سے ایک بہت بڑی حق تلفی کا مرتکب ہو رہا ہے کہ ذرائع ابلاغ پر قد غن لگائی گئی ہے ۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکی حکومت کے اس اقدام سے جہاں امریکہ مخالف سوچ رکھنے والے عوام اور حکومتوں میں امریکہ کے خلاف مزید شدت اور نفرت آ رہی ہے وہاں ساتھ ساتھ امریکی اقدامات سے خود امریکی عوام بھی تنگ آ چکے ہیں اور اس طرح کے اقداما ت کے جو ایک طرف بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں تو دوسری طرف امریکی معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔

    امریکی عوام کا ہمیشہ سے آنے والی تمام حکومتوں سے ایک اہم سوال یہی رہا ہے کہ کہ آخر امریکی سرکار کس قانون کے تحت امریکی عوام کے ٹیکس سے جمع ہونے والی خطیر رقم کو اسرائیل کے لئے بھیجی جاتی ہے ۔ آخر امریکی عوام کے ٹیکس سے اسرائیل کو اسلحہ اور ٹیکنالوجی کیوں فراہم کی جا رہی ہے ؟ کہ جس کا استعمال اسرائیل نہ صرف فلسطین کے مظلوم عوام کے خلاف کرتا ہے بلکہ پورے خطے میں دہشت گردی اور انارکی کے لئے استعمال ہونے والے وسائل سب امریکی عوام کے ٹیکس سے خریدے گئے ہوتے ہیں ۔

    بین الاقوامی تعلقات عامہ اور علوم سیاسیات سے تعلق رکھنے والے ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے ایسے ذرائع ابلاغ کو بند کرنا اور بلیک لسٹ کرنا کہ جو فلسطین کی خبروں کو ترجیحی بنیادوں پر نشر کر تے ہیں یا یوں کہا جائے کہ امریکی نظام حکومت اور پالیسیوں سے اختلاف رائے رکھتے ہیں ، اس فیصلہ سے امریکی حکومت کو صرف اور صرف عالمی سطح پر سبکی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہونے والا ۔

    امریکی حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر پابندی کے اقداما ت نے ایک مرتبہ پھر امریکی حکومت کی فلسطین دشمن پالیسی کو واضح کر دیا ہے ۔ آج امریکی حکومت ایک طرف اسرائیل کی سرپرستی کر رہی ہے کہ جہاں اسرائیل ستر سال سے مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام میں ملوث ہے ۔ دوسری طرف یہی امریکی حکومت ہے کہ جس نے یمن میں گذشتہ پانچ برس سے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان کی دہشت گردانہ جنگ کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں ہزاروں بے گناہ یمنی شہری جس میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل ہیں موت کی نیند سو چکے ہیں ۔

    امریکہ کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر پابندی کا اقدام اس لئے کیا گیا ہے کہ امریکی حکومت کو خطرہ ہے کہ اگر فلسطین اور یمن جیسے مسائل کے بارے میں عوام تک ایک ایسا نقطہ نظر بھی بیان ہوتا رہے کہ جو آزاد ذرائع اور حقائق پر مبنی ہو تو یقینا امریکی ریاستوں میں بسنے والے عوام میں بھی بیداری کی لہر دیکھی جا سکتی ہے ۔ شاید اسی خدشہ کے باعث امریکی حکومت نے ذرائع ابلاغ پر پابندی عائد کی ہے ۔

    امریکی حکومت کے اس اقدام سے غرب ایشیاء میں موجود ٹی وی چینل اور ذرائع ابلاغ بری طرح متاثر ہوئے ہیں کہ جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر اپنی خبروں اور پروگراموں میں فلسطین کے مسئلہ کو اہمیت دیتے تھے ۔ غرب ایشیاء سے ہی تعلق رکھنے والے متعدد ماہرین اور تجزیہ کاروں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر پابند ی کا فیصلہ احمقانہ فیصلہ ہے ۔ آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور کوئی بھی خبر اور حقیقت دنیا سے مخفی نہیں رہ سکتی ۔ دنیا کے عوام با شعور ہیں اور فلسطین سمیت دنیا میں جہاں جہاں عالمی استعماری قوتوں کا جبر اور ظلم جاری ہے عوام اس کی کھل کر مذمت کر رہے ہیں ۔

    فلسطین،لبنان، شام،عراق اور ایران سمیت پاکستان سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی رائے کے مطابق فلسطینی عوام کی گذشتہ گیارہ روزہ جنگ میں اسرائیل کے مقابلہ میں مزاحمت اور استقامت نے نہ صرف اسرائیل کو بوکھلاہٹ کا شکار کیا ہے بلکہ اسرائیل کی سرپرست ریاست امریکہ بھی شدید بھونچال میں آ چکی ہے ۔ امریکی حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر پابندی کا فیصلہ امریکہ کی خطے میں شکست اور کمزوری کو واضح کر رہا ہے ۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ گذشتہ بیس سالوں میں امریکہ اور اسرائیل جو کچھ خطے میں چاہتے تھے اس طرح سے نہیں ہو اہے بلکہ اس کے بر عکس ہو رہا ہے ۔ عوام میں بیداری کی لہر پیدا ہو چکی ہے، فلسطین میں موجود مزاحمتی تنظی میں پہلے سے زیادہ مستحکم اور طاقتور ہو چکی ہیں ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ امریکی حکومت کے اس طرح کے اقدامات سے نہ تو فلسطین سے متعلق بیداری کو روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی دنیا کے عوام تک فلسطین کا پیغام پہنچنے میں کوئی رکاوٹ پیدا کی جا سکتی ہے بلکہ ایسے اقداما ت سے امریکی حکومت کے انسانی حقوق کے دعوے اور آزادی اظہار رائے کے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے اور دنیا کے سامنے امریکہ کا دوہرا معیار واضح ہو رہاہے کہ امریکی حکومت ہمیشہ کی طرح ظالم اور جابر نظاموں اور قوتوں کی سرپرستی میں مشغول ہے ۔

  • شکریہ مصطفیٰ کمال .تحریر عقیل احمد راجپوت

    شکریہ مصطفیٰ کمال .تحریر عقیل احمد راجپوت

    32سالوں میں ہر قسم کی حمایت کے باوجود آج تم لوگ گٹر کا پانی پینے پر مجبور ہو ایم کیو ایم کو گیارہ بار الیکشن جتوانے کی پہلی شرط کوٹہ سسٹم کا خاتمہ تھا مہاجر قومی فنڈ سے حاصل کئے گئے فنڈز سے مہاجروں کے لئے چھوٹے کارخانے لگنے تھے جس میں وہ عزت کے ساتھ نوکری کرنے والے تھے مہاجروں نے تو فنڈ دیا کیا کارخانے لگیں سوال چھوڑے جارہا ہوں مہاجر پورے پاکستان کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی قوموں میں شمار ہوا کرتی تھی لوگ پورے پاکستان سے تہذیب سیکھنے کراچی آیا کرتے تھے پھر یہ ہوا کہ مہاجر پورے پاکستان میں ٹارگٹ کلرز کی نظروں سے دیکھا جانے لگا 3 مارچ کو واپس آکر مصطفیٰ کمال نے مجھے عزت اور احترام واپس دیا میں اپنے اللّٰہ کے سامنے سرخرو ہو گیا میں مہاجر منجن والوں کا اعلیٰ کار نہیں، مجھے مہاجر ہونے پر فخر ہے لیکن لسانی سیاست کرنے سے اگر فوائد ہوتے تو آج مہاجروں کا یہ حال نہیں ہوتا

    ہم پاکستانی شہری کی حیثیت سے اپنے حقوق کی جدوجہد لسانی سیاست کے بغیر مصطفیٰ کمال کی قیادت میں کریں گے پاکستان میں زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے کی بھیک وہ مانگے جن کا پاکستان بنانے والوں کی اولادوں سے کوئی واسطہ نا ہو پاکستان بنانے والوں کی اولادیں پاکستان میں نئی کھینچی جانے والی کسی لسانی صوبے کی لکیروں پر نہیں پورے پاکستان پر حکومت کرنے کا اپنا آئینی حق استعمال کریں گی جو ان سے کوئی نہیں چھین سکتا اور اپنے حقوق آئین کے مطابق حاصل کرنے کی کوشش میں آپ کو اپنی جدوجہد میں شامل ہونے کی آواز لگاتے رہیں گے میری آواز آپ کے دلوں میں اتارنا میرے رب کی مرضی ہے کیونکہ جب مسجد سے اذان کی آواز لگتی ہیں تو جسے رب العالمین توفیق دیتا ہے وہی نمازوں میں شامل ہوتے ہیں اسی طرح آواز ہم دیتے رہیں گے آپ کا ہمارے ساتھ شامل ہونا میرے رب کی مرضی پر منحصر ہے

     قوم نے ایک پارٹی کو ہر لحاظ سے سپورٹ کر کے اس کے وفاقی وزیر، صوبائی وزیر اور وزیر داخلہ بنائے مگر وہ ان پولیس والوں کو کیفرِ کردار تک نا پہنچا سکے جن پر ماورائے عدالت ہلاکتوں کا الزام لگایا گیا قوم نے ووٹ اور عزت دے کر 14 سال کے لئے گورنر بنایا مگر وہ بھی اس عمل کو بے نقاب کرنے سے قاصر رہا اور مہاجروں کی سپورٹ پر گورنر کا منصب سنبھال کر 14 سال پاکستان کی تاریخ کی سب لمبی گورنری سے ہٹنے کے اگلے ہی دن مہاجروں کو گٹر ملا پانی اور کچرے کے ڈھیر میں چھوڑ کر دبئی کی پر فضا ماحول میں قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اگلی فلائٹ سے روانہ ہوگیا اور آئے دن مہاجروں کو چڑانے کے لئے روز آنے اور ان پر حکومت کرنے کے شوشے چھوڑتا رہتا ہے اور اس گروپ میں موجود لوگ ایک نئی ایم کیو ایم کے قیام کی خبریں دیتے ہوئے خوشی کے ترانے بجاتے ہوئے نظر آتے ہیں

    شکریہ مصطفیٰ کمال مجھے اپنی قوم سے منافقت کرنے کے دلدل سے نکالنے پر شکریہ میرے شہر میں روز مرنے والی میری قوم کے نوجوانوں کو شہداء قبرستان میں دفنانے سے بچانے پر شکریہ میری قوم کے بیروزگار کو پورے کراچی میں حصول رزق کے لئے نوگو ایریاز ختم کرانے اور حلال رزق کمانے کا راستہ ہموار کروانے کے لئے شکریہ منافقین کے چہروں پر چڑھے معصومیت کے نقاب نوچ ڈالنے کا۔شکریہ مہاجروں کے روز بند ہوتے روزگار کو مستقل جاری رہنے کے اسباب پیدا کرنے کا۔

    شکریہ سالوں سے بچھڑے جوانوں کو ان کے والدین سے ملانے کا۔شکریہ معصوم بچوں کی دروازے پر لگی اپنے والد کے چہرے کو دیکھنے کی آرزوں پوری کروانے کا۔ شکریہ دربدر بھٹکنے والے میری قوم کے نوجوانوں کو سہی راہ پر گامزن کرنے کا اور سب سے بڑھ کر شکریہ مسلمانوں سے لسانیت کے نام پر جاری دہائیوں کی دشمنی کو ختم کرکے بھائی کو بھائیوں کے گلے ملوانے کا۔شکریہ مصطفیٰ کمال .پاکستان ذندہ باد

  • مسلم پاکستان بمقابلہ سیکولر انڈیا .تحریر:حسان خان

    مسلم پاکستان بمقابلہ سیکولر انڈیا .تحریر:حسان خان

    تاریخی شہروں کے متضاد مذہبی نام اور ان دو ممالک کا نقطہ نظر

    مذہب دنیا کے تقریباً ہر معاشرے میں اولین اہمیت رکھتا ہے اور ہر معاشرہ مذہبی معاملات میں حساس پایا گیا ہے جبکہ جو معاشرے سیکولر یعنی مذہبی وابستگی سے بالاتر ہونے کے دعویدار ہیں وہاں مذہب ایک حیثیت ایک ثانوی چیز کی سی ہوتی ہے
    ہمارا ملک پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ ہے جہاں رہن سہن ، رسم و رواج نیز ہر پہلو میں مذہب کا عمل دخل نظر آتا ہے جبکہ ہمارے برعکس بھارت ایک سیکولر ملک ہونے کا دعویدار ہے اور سیکولر نظریات کے مطابق ہر شہری کو مذہبی آزادی حاصل ہے ریاست کو غرض نہیں کہ کس کا مذہب کیا ہے اور کون کیسی روایات کا قائل ہے۔ ان دونوں ہمسایہ ممالک میں مذہبی تضاد اپنی جگہ مگر پاکستان حیران کن طور پر بھارت کے مقابلے میں مذہبی طور پر زیادہ روادار ثابت ہوا ہے جبکہ بھارت میں مذہبی جنون آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ آج ہم پاکستان اور بھارت کا تاریخی شہروں کے ناموں پر رویے کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کریںگے کہ مسلم پاکستان ہندو سکھ ناموں والے شہروں پر کتنا روادار ہے اور سیکولر انڈیا کس طرح مسلم دشمنی میں تاریخی شہروں کے نام بدل کر انکی تاریخی اہمیت کو سپوتاژ کر رہا ہے

    پاکستان میں متعدد شہروں سڑکوں اور عمارتوں کے نام اس دھرتی کے ہںدو اور سکھ سپوتوں کے ناموں پر ہیں جنہوں نے ان شہروں میں زندگی گزاری ، ان شہروں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور ان شہروں کی تاریخی حیثیت میں ان شخصیات کا نمایاں اثر پایا جاتا ہے اسی طرح بھارت میں بھی بہت سارے شہروں ، شاہراوں اور ریلوے اسٹیشنوں کے نام مسلمان فاتحین کے ناموں پر ہیں جنہوں نے ان شہروں کی بنیاد رکھی ، انکی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا

    پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اگر پاکستان چاہے تو سکھ/ہندو نام والے شہروں کے نام آسانی سے تبدیل کر دے اور مسلم ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کے اس اقدام کی مذمت بھی نہیں کی جا سکتی مگر پاکستان اور پاکستانی عوام کی مذہبی رواداری کو یہ گوارہ نہیں کہ ان شہروں سے ان کے تاریخی نام چھنے جائیں۔ ننکانہ صاحب سکھوں کا ایک مقدس شہر جہاں پر سکھ مذہب کے بانی گرو نانک کی پیدائش ہوئی یہاں ہر سال ہزاروں سکھ زائرین زیادت کیلئے آتے ہیں اور پھر کرتار پور راہداری کھول کر پاکستان نے مذہبی رواداری کی مثال قائم کر دی ہے کرتار پور میں گرو نانک کی آخری آرام گاہ ہے یہاں بھی یومیہ ہزاروں سکھ زائرین زیادت کیلئے آتے ہیں اس کے علاوہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا نام بھی سکھ مذہبی گرو کے نام پر ہے۔ پاکستان کے ان دو بڑے اہم شہروں کے سکھ نام آج بھی برقرار ہیں اسی طرح لاہور میں سرگنگا رام ہسپتال اور سر گنگا رام روڈ کے علاوہ لکشمی چوک ، گرو مانگٹ وغیرہ کے نام بھی جوں کا توں قائم ہے جو ان جگہوں کی تاریخی اہمیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں کبھی کسی حلقے نے ان کو تبدیل کرنے کی بات نہیں کی اسکے علاوہ پورے پاکستان کے بہت سارے قصبوں کے ہندو سکھ نام ہیں جبکہ دوسری طرف سیکولر ہونے کا دعویدار مذہبی جنونی بھارت ہے جہاں بڑی تیزی کے ساتھ مسلم ناموں والے شہروں ، قصبوں اور عمارتوں کے نام تبدیل کیے جا رہے ہیں انکی شناخت چھینی جا رہی ہے جسکی تازہ مثال الہ آباد جیسے تاریخی شہر کا نام تبدیل کر کے "پریاگراج” رکھ دیا گیا جس سے شہر کی تاریخی حیثیت خراب ہو کر رہ گئی اسی طرح ضلع فیض آباد کا نام بدل کر "ایودھیہ” رکھ دیا گیا اس سب کے بعد بھارتی حکومتی تاریخی شہر آگرہ اور ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے نام بھی تبدیل کرنے کیلئے پرتول رہی ہے

    مودی کی انتہا پسند حکومت آتے ہی اس رجحان میں تیزی واقع ہوئی ہے۔ راجھستان میں تین گاوں کے نام اس وجہ سے تبدیل کر دیے گئے کہ وہ سننے میں مسلم نام لگتے تھے
    بھارت میں مسلم دشمنی کی بناء پر جس طرح مسلمانوں کی ثقافت اور تاریخ کو بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسکی مثال نہیں ملتی مسلم نام والے شہروں کے نام تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اردو زبان کو بھی ریلوے اسٹیشن اور سنگ میل سے غائب کیا جا رہا ہے۔ سیکولرازم کا مزاق اڑاتا بھارت دراصل مذہبی جنون کا شکار ملک بن چکا ہے جہاں مسلمانوں کی تہذیب اور ثقافت کا قتل عام ہو رہا ہے

  • ورلڈ کپ سپرلیگ کیلئے پاک انگلینڈ کے درمیان سیریز کل سے شروع

    ورلڈ کپ سپرلیگ کیلئے پاک انگلینڈ کے درمیان سیریز کل سے شروع

    پاکستانی ٹیم ورلڈکپ سپرلیگ کے پوائنٹس ٹیبل میں ترقی کا عزم لیے جمعرات کوانگلینڈ کے مد مقابل آئے گی، پاکستان اور انگلینڈ کے مابین تین ایک روزہ بین الاقوامی میچز پرمشتمل سیریز کا آغاز 8 جولائی کو کارڈف سے ہوگا۔ دونوں ممالک کے مابین یہ سیریز آئی سی سی مینز ورلڈ کپ سپرلیگ کا حصہ ہے، جو کہ آئی سی سی مینزکرکٹ ورلڈکپ 2023 کا کوالیفائنگ راؤنڈ تصورکیا جارہا ہے، ورلڈکپ سپرلیگ میں ہرمیچ جیتنے والی ٹیم کو دس پوائنٹس ملیں گے، میچ برابریا بے نتیجہ ختم ہونےکی صورت پردونوں ٹیموں میں پانچ پانچ پوائنٹس تقسیم کردئیے جائیں گے۔
    فی الحال پاکستان آئی سی سی مینزورلڈکپ سپر لیگ کے پوائنٹس ٹیبل پر6 میچز کھیل کر40 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبرپر ہے، جبکہ انگلینڈ 12 میچز میں سے 6 میں فتح کے ساتھ 65 پوائنٹس ٹیبل پر سر فہرست ہے۔ اس دوران انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا ایک میچ بے نتیجہ ختم ہوا۔ بنگلہ دیش کی ٹیم 50 پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر دسری پوزیشن پر موجود ہے۔
    یہ بارہواں موقع ہوگا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میزبان ٹیم کے خلاف ان کی سرزمین پر کوئی ون ڈے انٹرنیشنل سیریزکھیلے گی، دونوں ممالک کے مابین گزشتہ سیریزمیں انگلینڈ کا ریکارڈ شاندار ہے، جس نے 11 میں سے 9 سیریز جیتیں جبکہ ایک ڈرا رہی، اس دوران پاکستان نے انگلش سرزمین پراپنی واحد سیریز 1974 میں جیتی تھی، گزشتہ سال دورہ انگلینڈ میں شامل ٹی ٹونٹی سیریز1-1 سے برابرکرنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کےحالیہ اعداد وشمار متاثرکن ہیں۔
    آئی سی سی مینزکرکٹ ورلڈکپ 2019 کے بعد سے اب تک پاکستان کرکٹ ٹیم نے مجموعی طو پر8 ون ڈے میچز کھیلے ہیں، جس میں سے 6 میں اس نے کامیابی حاصل کی ہے، یہی نہیں ورلڈکپ 2019 اورچیمپنزٹرافی 2017، پچاس اوورزپرمشتمل فارمیٹ کے یہ دونوں ایونٹس انگلینڈ میں کھیلے گئے تھے، ان دونوں ایونٹس میں پاکستان نے انگلینڈ کو شکست سے دوچار کیا تھا، آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ 2019 کی فاتح انگلینڈ اورآئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017 کی چیمپئن پاکستان کی ٹیم رہی تھی۔
    دونوں ٹیمیں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017 کے سیمی فائنل میں اسی میدان (صوفیہ گارڈنز کارڈف) پر مدمقابل آئی تھیں، جہاں حسن علی نے 35 رنزکےعوض 3 وکٹیں حاصل کرکے پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کیا تھا، اوپنرفخرزمان نے اس میچ میں نصف سنچری اسکور کی تھی۔
    پاکستان اسکواڈ میں شامل نمایاں کھلاڑی عموماََ پاکستان کے باؤلرزاپنی نپی تلی باؤلنگ سے حریف ٹیم کے بلے بازوں پردھاک بیٹھاتے ہیں، اس مرتبہ بابراعظم، محمد رضوان، فخر زمان اور امام الحق کی صورت میں پاکستان کا ٹاپ آرڈر ون ڈے کرکٹ میں پاکستان کے اسکواڈ کی سب سے نمایاں بات ہے، بابراعظم نہ صرف آئی سی سی ون ڈے انٹرنیشنل پلیئر رینکنگ میں 865 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہیں بلکہ گزشتہ 2 سال سے اب تک اس فارمیٹ میں ان کے رنز کی بنانے کی اوسط 85.00 رہی ہے۔ اس دوران انہوں نے 104.93 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز اسکور کیے، اپنے 6 سالہ ون ڈے انٹرنیشنل کیرئیر میں اب تک 56.83 کی اوسط سے رنز بنانے والے بابراعظم کا انگلینڈ کی ٹیم کے خلاف ریکارڈ بھی اچھا ہے۔ وہ اب تک انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے 16 ون ڈے میچز میں 45سے زائد کی اوسط اور 93.69 کے اسٹرائیک ریٹ سے 639رنز بناچکے ہیں۔اس میں 5 نصف سنچریاں اور ایک سنچری شامل ہے۔ اس دوران انہوں نےآخری تین ون ڈے میچز میں سے ایک سنچری اور 2 نصف سنچریاں بنا رکھی ہیں۔
    اُدھر جنوبی افریقہ کے خلاف تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں شامل 2سنچریاں بنانے والے فخر زمان بھی انگلش کنڈیشنز میں اور انگلش باؤلرز کے خلاف بہتر کھیل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ اب تک انگلینڈ کے خلاف 7 میچز میں 41.85 کی اوسط اور 107.72 کے اسٹرائیک ریٹ سے 293 رنز بناچکے ہیں۔
    وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان بھی اس سیریز میں پاکستان کے ٹاپ آرڈر کا ایک اہم سہارا سمجھے جائیں گے۔ وہ فی الحال محدود طرز کی کرکٹ میں اپنے ون ڈےا نٹرنیشنل کیرئیر کی شاندار فارم میں موجود ہیں۔اوپنر امام الحق بھی انگلینڈ کے خلاف اچھا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ وہ اب تک انگلش ٹیم کے خلاف 5 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں۔ اس دوران انہوں نے 92 کی اوسط ااور86.60 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنائے۔
    اسی طرح ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی آئی سی سی پلیئرز رینکنگ میں 12ویں نمبر پر موجود فاسٹ باؤلرشاہین شاہ آفریدی گزشتہ 10 میچز میں 25 وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کی باؤلنگ لائن اپ کا سب سے خطرناک ہتھیار ہیں۔ شا ہین کی ون ڈے کیریئر کی بہترین باؤلنگ بھی انگلینڈ میں ہے، جہاں انہو ں نے بنگلا دیش کے خلاف 35 رنز دے کر6 وکٹیں حا صل کیں ہیں.

  • انسانیت کیا ہے؟میان بخش علی پیرزادہ

    انسانیت کیا ہے؟میان بخش علی پیرزادہ

    انسانیت کیا ہے؟ کیا انسانیت نام کا کوئی تصور ہے؟ اگر ہے تو اس میں کوئی ترقی ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہے تو اس افسانے کی حقیقت کیا ہے؟ ابھی تک نہ کوئی ایسی کتابیں نظر سے گزری، جس کا مرکز انسانیت ہو البتہ کچھ ماہرین نے موجودہ معاشی ترقی عناصر ترکیبی پر ضرور اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ صر ف مادّی یا منافع پر مبنی چیزوں کے اعداد و شمار کا نام ترقی ہونی چاہیے۔ ان میں وہ کام بھی شامل ہونا چاہیے جو لوگ خیرات و صدقات کی مد میں کرتے ہیں اور اس میں وہ خرچے بھی شامل ہونے چاہئیں، جو لوگ تعلیم و تربیت پر خرچ کرتے ہیں۔

    اگر ہم انسانیت پر غور کریں تو انسانیت کا پہا اصول قربانی کا ہونا چاہیے کیونکہ اج ہم اس لیے زندہ ہیں کہ ہماری ماؤں نے ہمارے لیے قربانیاں دیں۔ جسمانی طور پر ہم ان کے خون کا حصہ ہیں۔ اگر قربانی کی تشریح ہم یوں کریں کہ کسی کسی دوسرے انسان یا حیوان کو راحت پہنچانے کے لیے اپنے وسائل خرچ کرنا۔ اب یہ وسائل مالی، جسمانی، مکانی، زمانی، یا ذہنی ہو سکتے ہیں۔

    انسانیت کا دوسرا اصول ایمان داری کا ہونا چاہیے- اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسروں کے لیے وہ چیز پسند کریں، جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ انسانیت یہ نہیں ہے کہ میں خود فاسٹ فوڈ نہ کھاؤں بلکہ دوسروں کو کھلا کر فائدہ حاصل کرنے کے لیے اشتہار بازی کا ہر ذریعہ استعمال کروں۔ مطلب یہ کہ ایک چیز جس کو میں اپنے لیے نقصان دہ سمجھتا ہوں، دوسروں کو کھلاتا ہوں۔

    تیسرا اصول، عزت نفس۔ نفسیاتی طور پر ہر انسان کو عزت نفس عزیز ہے، لہٰذا ہر انسان کا فرض ہے کہ دوسروں کی عزت کا خیال رکھے۔ آدمیت و احترام آدمی کے اصول کی پاسبانی کرے اور یہ احترام بلا تفریق ہونا چاہیے۔ عزت کا تعلق زبان کے استعمال سے ہے لہٰذا انسانیت کا تقاضا ہے کہ اپنی زبان کو انسانیت کے تابع کریں۔

  • بھارتی دہشت گردی اور پاکستان کے خلاف کاروائیاں، تحریر:نوید شیخ

    بھارتی دہشت گردی اور پاکستان کے خلاف کاروائیاں، تحریر:نوید شیخ

    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لاہور میں دھماکے کا ذمہ دار اور ماسٹر مائنڈ ’’را‘‘ ایجنٹ تھا ۔ اب تو سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں نے دھماکے کے ذمہ داروں اور ان کی نقل و حرکت کا پورا ریکارڈ کھنگال لیا ہے ۔ اس وقت پاکستان کے پاس ملزم کے بیرون ملک روابط کے تمام ریکارڈ موجود ہیں۔ جن میں فنانس، بینک اکاؤنٹ، آڈیوز اور دیگر ثبوت شامل ہیں۔۔ میں آپکو بتاوں ۔ جس دن لاہور میں دھماکہ ہوا ہمارے انوسٹی گیشن نیٹ ورک پر سائبر حملے کئے گئے تھے ۔ ۔ اس لاہور واقعہ کی کچھ لوگوں نے باہر بیٹھ کر پوری کارروائی پلان کی ہے ۔ جبکہ کچھ لوگوں نے پھر ان ہدایات پر عمل کرکے پاکستان میں تمام کارروائی پر عمل کیا، دھماکے میں ملوث 56 سال کا peterکراچی کا رہنے والا ہے، peter زیادہ تر بیرونی ممالک میں رہا ہے اور اس کا
    ۔۔۔ را۔۔۔ سے تعلق ثابت ہوگیا ہے ۔

    ۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پنجاب پولیس کے شعبہ انسدادِ دہشتگردی نے جس محنت اور برق رفتاری سے شواہد اکٹھے کئے ہیں وہ قابل تحسین ہے۔ ۔ اس واردات کے لیے پیسے تیسرے ملک سے بھجوائے گئے ۔ ایک ملزم عید گل کا تعلق افغانستان سے ہے جس نے پاکستانی شناختی کارڈ بھی بنوا رکھا ہے۔ جس تیسرے ملک کا نام نہیں لیا گیا وہ بھی افغانستان ہی ہے کیونکہ اس سے بہت پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر نے جب دہشت گردی کے بارے میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت پیش کئے تھے تو بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا تھا کہ افغانستان میں بھارتی قونصل خانوں کا اس دہشت گردی میں کیا کردار ہے ان میں بیٹھے ہوئے بھارت کے کون کون سے سفارت کار کس کس سے رابطے میں ہیں کس کس طرح اور کس کس چینل سے انہیں پیسے پہنچائے جاتے ہیں۔ کس طرح ان کے اکاؤنٹ میں یہ رقم ٹرانسفر ہوتی ہے۔ انہیں جدید اسلحہ کیسے فراہم کیا جاتا ہے۔ تربیت کس طرح دی جاتی ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کے لئے انہیں کس طرح ٹارگٹ دیا جاتا ہے اور کیسے سرحد پار کرائی جاتی ہے اور لانچ کیا جاتا ہے۔ اتنا عرصے پہلے اتنے سارے ثبوت ایک ہی پریس کانفرنس میں فراہم کر دیئے گئے تھے اور اقوام متحدہ اور اس کے اداروں سمیت دنیا کے کئی ملکوں کو ڈوزئیر بھی بھیجے گئے تھے جن میں یہ سارے ثبوت موجود تھے۔ لیکن آج تک نہیں سنا کہ دنیا کے کسی ملک نے اس معاملے میں بھارت کے ساتھ بات کی ہو اور اگر کی بھی ہو گی تو اس سے کوئی باخبر نہیں ہو سکا چند روز تک ان خبروں اور ان ثبوتوں کا اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر تذکرہ ہوا اور پھر دنیا اپنے اپنے مسائل میں الجھ گئی۔ بھارت البتہ اسی طرح دہشت گردی کے واقعات کی منصوبہ بندی کرتا رہا ۔ اُس ڈوزیئر کے پیش ہونے کے بعد بھی بلوچستان میں دہشت گردی کے کئی بڑے چھوٹے واقعات ہوئے جن میں ڈائریکٹ بھارت کا ہاتھ تھا۔ اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔

    ۔ اس لیے اس دفعہ جو کارروائیاں ہوئیں اور جو شواہد ملے ہیں وہ اتنے مضبوط ہیں کہ اگر اس پر بھی دنیا خاموش رہی تو پھر سمجھا جائے گا کہ دنیا امن نہیں چاہتی۔۔ بھارت کو کیونکہ معلوم تھا کہ وہ پکڑا گیا ہے تو جوہر ٹاؤن دھماکے کے بعد جموں میں ڈرون حملے کا ڈرامہ رچایا گیا اور اس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی گئی۔ جس پر دنیا نے اسکو کوئی خاص لفٹ نہیں کروائی ۔ ۔ پر سچ یہ ہے کہ پاکستان میں جو بھی دہشت گردی ہوتی ہے وہ بھارت کراتا ہے۔ اور یہ ہمارا دشمن نمبر ون ہے۔ ۔ دوسری جانب پاکستان نے ہمیشہ پرامن بقائے باہمی کی بات کی۔ جبکہ بھارت کی جانب سے پاکستان کی پرامن شناخت کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کر ایک منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے۔۔ کیونکہ آپ دیکھیں ممبئی حملے ہوں، بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہو یا پلوامہ کا واقعہ ہو بھارت کے پاس پاکستان پر عائد کئے جانے والے الزامات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔ صرف اپنے عالمی اثرورسوخ کو بروئے کار لا کر پاکستان کو قصور وار ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی رہی ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کے پاس دہشت گردی کے متعدد واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ہیں ۔ اے پی ایس کے سانحہ میں بھارتی کردار تھا۔ چند سال قبل لاہور کی مال روڈ پر پولیس پر خودکش حملہ ہوا اس میں بھارتی کردار سامنے آیا۔ بلوچستان سے بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو پکڑا گیا۔ کلبھوشن نے دہشت گردانہ کارروائیوں میں معاونت کا اعتراف بھی کیا۔ ۔ پر آپ دیکھیں الٹا پاکستان پر بھارت کے کہنے پر ایف اے ٹی ایف اور چائلڈ سولجر ایکٹ کے تحت پابندیاں لگانے کا فیصلہ ہو گیا۔ ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس میں ہماری کسی کوتاہی کا دخل ہے کہ ہمارے مہیا کئے ہوئے ثبوتوں پر غور نہیں کیا جاتا یا ہم اپنا مقدمہ اچھی طرح نہیں لڑ رہے یا کہیں نہ کہیں کوئی خرابی ہے کہ اتنے سارے ڈھیروں ثبوتوں کے باوجود دنیا مان کر نہیں رہی کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو کوئی نہ کوئی ملک تو ایف اے ٹی ایف سے کہتا کہ بھارت کو بھی واچ لسٹ میں رکھو، یا ہمارا کوئی غمگساربھارت سے کہتا کہ بہت ہو چکی، اب یہ سلسلہ روک دو، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے دوست ملک بھی بھارت میں سرمایہ کاری کے لئے بے چین رہتے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ کشمیر میں اس کی زیادتیوں پر بھی نہیں بولتے ہیں اور کبھی نہیں سنا کہ انہوں نے انسانی ہمدردی کے تحت ہی بھارتی قیادت سے کہا ہو کہ کشمیری بھی انسان ہیں ان کے ساتھ کم از کم انسانی سلوک تو کرو، ایسے میں ہم کب تک بھارتی دہشت گردی کے ثبوت پیش کرکے دنیا سے یہ توقع رکھیں گے کہ وہ ان ثبوتوں کی بنیاد پر بھارت کے خلاف کوئی کارروائی کرے۔

    ۔ دنیا سے امیدیں باندھنے کی بجائے ہمیں خود ہی ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ ساتھ کسی ٹھوس لائحہ عمل پر غور کرنا چاہیے۔ افسوس ہے کہ ایسی ناقابل تردید شہادتوں کے باوجود عالمی طاقتوں نے بھارتی رویے سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ، ایف اے ٹی ایف اور سلامتی کونسل سمیت کوئی ادارہ بھارت کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی جرأت نہیں کر پا رہا جو عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار کی دلیل ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھارت مسلسل پاکستان میں تخریب کاری میں مصروف ہے۔ اگر ان تمام ثبوتوں اور شواہد کے پیش نظر دنیا بھارت کے خلاف کارروائی کرتی تو بلوچستان میں سیکورٹی فورسز پر دہشت گرد حملے نہ ہوتے اورنہ ہی لاہور میں دھماکا ہوتا۔ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے تمام واقعات میں بھارت براہ راست ملوث رہا ہے۔ بھارت کے دہشت گردوں سے بالواسطہ روابط ہیں اور اس مقصد کے لئے بھارت عرصہ دراز سے افغانستان کی سرزمین کو بیس کیمپ کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ لاہور میں دھماکا بھی سازش کے تحت کرایا گیا جب فیٹف اجلاس میں پاکستان کے بارے میں فیصلہ ہورہا تھا۔ ایسے موقع پر لاہور میں دھماکا کرانے کا مقصد یہی تھا کہ یہ ظاہر کیا جائے کہ پاکستان دہشت گردی پر قابو پانے میں فی الحال کامیاب نہیں ہوسکااور پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے بجائے بلیک لسٹ کیا جائے ۔ وہ الگ بات ہے کہ ہر بار کی طرح بھارت کو اس بار بھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ لیکن عجیب بات ہے کہ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے والے ملک پاکستان کو تو ایک عرصے سے گرے لسٹ میں رکھا گیا ہے۔ لیکن پاکستان میں دہشت گردی کرانے والا ملک بھارت فیٹف کی نظروں سے اوجھل ہے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ فیٹف فوری طور پر ہنگامی اجلاس طلب کرکے بھارت کو بلیک لسٹ کردے۔ اور لاہور دھماکا اس حوالے سے تازہ ترین ثبوت ہے۔ ۔ اب ضروری ہے کہ عالمی ادارے بھارت کے حقیقی چہرے کو دیکھیں اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی سرپرستی کرنے پر اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عالمی برادری نے بھار ت کے مکارانہ کردار پر خاموشی اختیار کئے رکھی تو سمجھا جائے گا کہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کسی قانون اور اصول کی بنیاد پر نہیں بلکہ امتیازی، انتقامی خواہشات کے تحت کی جا رہی ہیں۔ جبکہ بھارت مسلسل خطے کے امن کے ساتھ کھیل رہا ہے۔

  • اسلام اور تصورِ علم .تحریر :شاہ زیب

    اسلام اور تصورِ علم .تحریر :شاہ زیب

    اسلام جس کی ابتداء ہی اقراء سے ہوئی دراصل بنیادی طور پر ایک تعلیمی تحریک ہے.
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ” انما بعثت معلما ” بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے, مزید فرمایا "علماء انبیاء کے وارث ہیں ",
    گویا نبی مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد تعلیم دینا قیامت تک علماء کا فریضہ ٹھہرا ہے.

    اسلام واحد مذہب ہے جس نے تمام انسانوں کے لئے علم حاصل کرنا فرض قرار دیا اور اس فرض کی انجام دہی کو معاشرے کی ایک ذمہ داری بنایا.

    آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جو پہلی وحی نازل ہوئی وہ علم کے مقام اور اسکی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے.
    اسلامی تعلیمات کی بنیادی خصوصیات ہیں کہ انکا محور روحانی, دنیاوی اور شعوری معراج ہے.

    اسلامی تعلیم کے مطابق علم کا سرچشمہ ذاتِ باری تعالیٰ ہے.
    اشیاء و ہدایت سب اسی کی طرف سے ہے.
    علم کو مقصد حیات کا درجہ رکھتا ہے, دنیا میں انسان کی حیثیت توحید, رسالت, آخرت اور انفرادی و اجتماعی زندگی کی تربیت اور اخلاقیات کے آفاقی اصول اسلامی تعلیمات کا بنیادی جزو ہیں.
    اسلام تربیت کو تعلیم سے علیحدہ نہیں کرتا تربیت ہی انسان کو اللہ کا خاص بندہ بناتی ہے.

    اسلام فکر و تدبر کی دعوت دیتا ہے علم و بصیرت کی پذیرائی کرتا ہے.روحانیت اور سائنسی و معاشرتی قوانین فطرت کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے.

    اسلام میں تعلیم اور علم کسی ایک کے لئے یا مخصوص طبقے کے لئے نہیں جیسے برہمن اور پادری وغیرہ کے لئے ہوتا ہے بلکہ کل انسانیت کے لیے فرض ہے.
    اور علم کو بغیر عمل فتنہ قرار دیا گیا ہے
    اسلام کی نظر میں تعلیم تحریک ہے
    تعلیم تبلیغ ہے
    تعلیم دینے اور لینے میں بے ایمانی اور کنجوسی کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے اسلام میں.
    اپنی اگلی نسلوں کے لئے خود بھی تعلیم حاصل کرنا چاہئے اور اسلامی خطوط پر بچوں کی پرورش کے لئے تگ و دو کرنی چاہئے.
    وما علینا الا البلاغ المبین.
    @shahzeb___

  • آزاد کشمیر انتخابات.. تحریر:خنیس الرحمٰن

    آزاد کشمیر انتخابات.. تحریر:خنیس الرحمٰن

    اس وقت آزاد کشمیر میں انتخابات کا شور سنائی دے رہا ہے۔ہر شخص اپنی من پسند پارٹی اور امیدوار کو سپورٹ کررہا ہے۔الیکشن میں تقریباََ بیس دن باقی ہیں۔جوں جوں پولنگ کا دن قریب آرہا ہے سیاسی جماعتوں میں ایک نیا جوش اورولولہ محسوس کیا جارہا ہے۔جہاں تحریک انصاف،پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار و کارکنان جیت کے لیے پرعزم ہیں وہیں کچھ نئی جماعتیں بھی اس سیاسی اکھاڑے میں قدم رکھ کر جیت کے لیے پرعزم ہیں۔لیکن اصل مقابلہ تین بڑی جماعتوں کے درمیان ہے۔ سب جماعتوں کے قائدین اپنی جماعتوں کو جتوانے کے لیے سر توڑ کوششیں کررہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے بھی کشمیر کا دورہ کیا۔وہ آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے اپنے دورے کے دوران کوٹلی کے علاقے ہجیرہ میں خطاب کے دوران کہا کہ جیالے بھاری اکثریت سے کامیاب ہونگے،آزاد کشمیر میں اگلی حکومت پیپلز پارٹی بنائے گی۔اس دوران وہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں اپنے امیدواران کی کارنر میٹنگز اور جلسوں سے خطاب کررہے ہیں۔انہیں آزاد کشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کا خدشہ ہے۔انہوں نے کوٹلی میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں دھاندلی کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ یہ خود دھاندلی کے ذریعے ملک پر مسلط ہوئے ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کی بات کی جائے تو گذشتہ پانچ سال انہوں نے کشمیر میں حکومت کی۔مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر کی سیاسی مہم کے لیے مریم نواز صاحبہ کو میدان میں اتارا ہے۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں گلگت بلتستان کے انتخابات میں مریم نواز صاحبہ نے بھر پور مہم میں حصہ لیا لیکن وہاں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ شہباز شریف بھی مریم نواز کے ساتھ مل کر کشمیر کی انتخابی مہم چلائیں گے۔مریم نواز آٹھ جولائی کو کشمیر میں اپنی مہم کا آغاز کریں گی۔

    پاکستان تحریک انصاف بھی کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے پرعزم ہے۔تحریک انصاف کی طرف سے علی امین گنڈا پور پہلے سے ہی مظفر آباد میں موجود ہیں اور مہم چلا رہے ہیں۔سردار تنویر الیاس بھی بھر پور متحرک ہیں،سردار تنویر الیاس نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔اس دوران وزیر اعظم کے کشمیر دورے کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

    تمام بڑی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مسلم کانفرنس،جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں بھی الیکشن کی بھر پورتیاری کررہی ہیں۔سابق آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل کے صاحبزادے عبداللہ حمید گل کی جماعت بھی حصہ لے رہی ہے۔اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں تحریک لبیک اور جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ بھی حصہ لے رہی ہے،دونوں جماعتوں کا کشمیر کی سیاست میں پہلا قدم ہے۔تحریک لبیک پر شروع میں پابندی بھی لگائی گئی لیکن الیکشن کمیشن نے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے ترجمان سردار حمزہ رافع نے بتایا کہ وہ تمام حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کر چکے ہیں،ان کا مقابلہ کسی سیاسی جماعت سے نہیں وہ کشمیر کی محرومیاں دور کرنا چاہتے ہیں اور بلدیاتی الیکشنز بحال کروانا ان کے منشور کا حصہ ہے،انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر موومنٹ کے سربراہ سردار بابر حسین تحریک انصاف سے منسلک رہے اس کے بعد انہوں نے اپنے چند نظریاتی رفقاء کے ساتھ مل کر جماعت کی بنیاد رکھی ۔انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی مہلک وباء میں موومنٹ نے خدمت خلق کا کام بھی کیا ,بھوکوں تک کھانا پہنچایا اور گھر گھر جاکر کورونا سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی دی اور آئندہ بھی خدمت کے کام کرتے رہیں گے .گذشتہ روز سوموار کے دن اسلام آباد پبلک سیکرٹریٹ میں امیدواران سے گفتگو کرتے ہوئے سردار بابر حسین نے کہا کہ عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پچیس جولائی کو کرسی پر مہر لگا کر اسے کامیاب بنائیں،ہمارا مقصد کشمیر کی تحریک کو اجاگر کرنا ہے۔بلدیاتی انتخابات کے لیے ریاست کو مجبور کریں گے تاکہ نوجوان قیادت اوپر آئے اور کشمیر کی تعمیر و ترقی میں اپنا کرادار ادا کرے۔سردار بابر حسین خود بھی سہنسہ،پنجیڑہ کے حلقے سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور حلقے میں کارنر میٹنگز کررہے ہیں۔آزاد کشمیر کی فتح کا تاج کس کے سر سجے گا اب اس کا فیصلہ عوام پچیس جولائی کو کرے گی۔

  • بچپن کی شرارت قسط 3۔  تحریر : طلعت سلام

    بچپن کی شرارت قسط 3۔ تحریر : طلعت سلام

    السلام علیکم دوستوں

    امید ہے کے آپ لوگ میری اپنی بچپن کی شرورتوں سے محظوظ ہو رہے ہونگے۔۔

    آج پھر ایک پرانی ایسی شرارت جو کے تھوڑی شرارت کے لیول سے اوپر تھی اور جس پر مجھے اکثر افسوس بھی ہوتا ہے وہ آپ سب کے ساتھ شیعر کرتی ہوں۔۔۔

    ھمارا گھر پاکستان میں ڈبل اسٹوری گھر تھا۔ بیڈ رومز سب کے اوپر والے حصے میں تھے۔ اور جس جگہ ھمارا بیڈروم تھا وہ گلی میں سامنے کی طرف تھا اس میں بالکونی بھی تھی اور ایک بہت ہی بڑی کھڑکی۔ گھر کیونکہ کارنر کا تھا تو سٹی کے ایک پول پر بڑا سا بلب لگا رہتا تھا۔۔۔

    اب آپ سوچ رہے ھونگے کے میں یہ کیوں بتا رہی😂 جی جناب اصل میں رات کو اس بلب سے ھمارے بیڈروم میں بہت روشنی آتی تھی جو کے ھم تینوں بہنوں کو بودر کرتی تھی۔ چھوٹی اور بڑی بہنیں تنگ ہوتی پر خاموش ھو جاتی۔
    لیکن طلعت بیگم کے پاس ہر چیز کا علاج ھوتا تھا۔ ایک دن میں نے اپنی بہنوں کے ساتھ مل کے پلان بنایا کے کسی طرح اس بلب کو توڑنا ہے😬🤭

    پہلے تو بڑی نے منع کیا پھر آخر کار بار بار اسے سمجھانے پر وہ بھی شامل ھوگئی۔

    اب مسئلہ یہ تھا کے توڑیں کیسے؟؟؟
    چھوٹی نے مشورہ دیا کے پتھر مارتے ہیں شاید نشانہ لگ جائے اور بلب ٹوٹ جائے۔ ایک رات ھم تینوں ڈھیر سارے چھوٹے پتھر جمع کر کے اپنے بیڈ روم میں لے گئے۔ اور جب سب سو گئے تو ھم تینوں بالکونی میں گئے اور بلب کا نشانہ لے کے پتھر مارا، پتھر بلب کو تو لگا نہیں سامنے والے کی چھت پر چلا گیا۔ ھم پھر بھی نہیں رکے ایک کے بعد ایک مارتے رہے۔ اور ہوا کچھ یوں کے بلب کے بجائے سامنے والے کی کھڑکی ٹوٹ گئی۔

    اور اسکے بعد تو ھم تینوں اندر بھاگے ی
    ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔
    اس کے بعد سامنے والے باہر نکلے اور جو گلی میں ہنگامہ ھوا، اففففففف اندر ھم تینوں دبکے بیٹھے رہے۔ اور وہ بیچارے کبھی کسی پر اور کبھی کسی پر الزام ڈالتے رہے۔ کسی کا شک ھم پر نہیں گیا، گلی میں موجود لڑکوں پر شک کرتے رہے، ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کے لڑکیاں بھی یہ کام کر سکتی ہیں۔

    لیکن اس کوشش سے بھی بلب نہیں ٹوٹا تھا۔ اب ھم نے اگلی رات دوسرا پلان کیا۔ اور یہ میرا پلان تھا، ھمارے پاس آئیر گن تھی تو جناب میں دوسری رات آئیر گن لے کے آئی اور اندر بیٹھے بیٹھے کھڑکی سے بلب کا نشانہ لیا، دو تین بار کی کوشش کے بعد بالآخر بلب ٹوٹ گیا۔ اور ھم تینوں بہنیں رات میں ہی جشن منا کے سو گئے۔

    لیکن اس وقت کراچی انتظامیہ کچھ زیادہ ہی افیشینٹ تھی ایک دن کی شکایت پر ہی آ کے بلب بدل دیتے ہیں۔ باز آنے والے ھم بھی نہیں تھے۔ ہر ھفتے نیا بلب لگتا اور طلعت بیگم کا نشانہ بھی ایسا پکا ھو گیا تھا کے ایک ہر فائر میں بلب توڑ دیتی۔

    پر ایک دن امی جان کو پتہ چل گیا کے یہ حرکت میری بیٹیاں کر رہی ہیں اففففففف اسکے بعد کچھ بتانے کی ھمت نہیں ہاہاہاہاہاہاہا، اچھے خاصے تھپڑ سے میرا سواگت جو ھوا تھا۔

    اب سوچتی ہوں یار کتنی بدتمیز تھی میں بلب راہ گیروں کی اسانی کے لیے لگائے جاتے اور میں کیا کرتی تھی۔

    شکر ہے امی کے تھپڑ نے مجھے مزید یہ کام کرنے سے روک دیا ورنہ نجانے میں سٹی کا اور لوگوں کا کتنا نقصان کرتی رہتی۔

    اب اجازت دیں پھر ملینگے ایک نئی شرارت کے ساتھ۔

  • کشمیری عوام کا فیصلہ دونوں ممالک کو ماننا پڑے گا، بلاول

    کشمیری عوام کا فیصلہ دونوں ممالک کو ماننا پڑے گا، بلاول

    بلاول بھٹو زرداری نے عباس پور کے جلسے میں اپنے خطاب کا آغاز نعرہ نعرہ بھٹو سے کیا ہے، بلاول بھٹو نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو کے چاہنے والے کھڑے ہیں تو میڈیا والے کیسے کہ سکتے ہیں کہ پیپلز پارٹی ختم ہوگئی ہے، یہ آپ کیلے ٹریلر ہے ہم تو میدان میں نکل چکے ہیں، کشمیر کے جیالوں بھٹو کے ساتھ دے کر آپ نے اپنا آپ دکھایا تھا، 25 جولائی کو وزیراعظم منتخب کرکے ہم بنی گالہ کا رخ کریں گے، یہ تاریخ میں کشمیر کیلئے سب سے اہم الیکشن ہے، دونوں طرف کیلئے ایک پیغام ہوگا، کشمیرکا سودا نا منظور ہے، کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ آزاد کشمیرکی عوام کیلئے نا منظورہے، ہم مودی کوشادیون پردعوت نہیں دیتے، ہم مودی کی آنکھؤں میں آنکھیں ڈال کرجواب دے سکتے ہیں، ہمارا کٹھ پتلی وزیراعظم عمران کہتا ہے کہ میں کیا کروں، قائد عوام نے سکھایا ہے کہ ہزارسال جنگ لڑنا پڑی وہ جنگ لڑیں گے، مودی ایک طرف ظلم کررہا ہےعمران خان کا کیا جواب کیا ہوتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیرکے نوجوان کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ خود کریں، کشمیر کی مائیں بہنیں جواب دیں گے، ہم کسی کو کشمیر کے سودے کی اجازتی نہیں دیں گے، کرتے ہوئے کہا عباس پور کے پہاڑوں میں نہیں دں گے، پورے پاکستان کوماننا پڑے گا دنیا کوماننا پڑے گا کشمیرکا فیصلہ کشمیر کی عوام کرے گی، کشمیر کی عوام خود فیصلہ کریں‌گے ، وہ فیصلہ اسلام آباد کو بھی ماننا پڑے گا، دہلی کوبھی ماننا پڑے گا، تبدیلی چہرہ کیا ہے، تبدیلی کا اصلی چہرہ مہنگائی ہے، ہم مہنگائی میں اپنے ہمسائیوں سے آگے ہیں، اس حکومت نے جس سکے پاس چھت تھی وہ بھی چھین لی ہے، ہم نے غریب طبقوں کا ساتھ دیا، آج بھی تاریخی مینگائی ہے، ہم نے اپنے دور میں کسی کو تنہا نہیں چھوڑا ہے.