Baaghi TV

Category: بلاگ

  • 3 فٹ 7 انچ  کا شوہر اور 5 فٹ 5 انچ کی بیوی نے نیاعالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا

    3 فٹ 7 انچ کا شوہر اور 5 فٹ 5 انچ کی بیوی نے نیاعالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا

    برطانوی نژاد جوڑے جیمس لسٹڈ اور کلوئی نے حال ہی میں ایک منفرد ریکارڈ اپنے نام کیا ہے جس کے مطابق ان میاں بیوی کے قد میں سب سے زیادہ فرق ہے جو تقریباً دو فٹ بنتا ہے۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق شادی شدہ جوڑوں میں عموماً شوہر اور بیوی کا قد ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ کبھی بیوی زیادہ لمبی ہوتی ہے تو کبھی شوہر کا قد زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود، میاں بیوی کے قد میں اب تک بہت زیادہ فرق مشاہدے میں نہیں آیا۔

    33 سالہ جیمس لسٹڈ کا قد 3 فٹ 7 انچ ہے جبکہ ان کی بیوی، 27 سالہ کلوئی کی اونچائی 5 فٹ 5 انچ ہے۔ یعنی ان دونوں میں قد کا فرق 1 فٹ 10 انچ (تقریباً دو فٹ) ہے گزشتہ روز ان کی شادی کو 5 سال ہوئے ہیں جبکہ ان کی ایک بیٹی ’’اولیویا‘‘ بھی ہے۔

    جیمس ایک برطانوی اداکار اور ٹیلی ویژن چینل پر میزبان ہیں جبکہ وہ ’’تھری فٹ سیون‘‘ کے نام سے ایک ویب سائٹ بھی چلا رہے ہیں جہاں چھوٹی جسامت والے لوگوں کےلیے ٹی شرٹس فروخت کی جاتی ہیں جبکہ کلوئی ایک اسکول ٹیچر ہیں۔

    ایک جینیاتی بیماری کی وجہ سے جیمس کا قد چھوٹا رہ گیا لیکن انہوں نے اپنے چھوٹے قد کو اپنے لیے مجبوری بننے نہیں دیا۔ البتہ، ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے قد کی وجہ سے شاید ہی کبھی شادی کر پائیں گے۔

    2012 میں جیمس کو اپنے علاقے میں اولمپک مشعل تھام کر دوڑنے کا موقع ملا جسے پوری دنیا میں دیکھا گیا۔ اس کے بعد کچھ دوستوں نے ان کا تعارف کلوئی سے کروایا جو اس وقت صرف اٹھارہ سال کی تھیں۔

    حیرت انگیز طور پر، جیمس سے پہلی ملاقات ہی میں کلوئی کو ان سے پیار ہوگیا اور بالآخر 2016 میں دونوں نے شادی کرلی۔

    یہ دونوں آج بھی برطانیہ کی ویلز کاؤنٹی میں اپنی بیٹی اولیویا کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں جبکہ گزشتہ دنوں گنیز ورلڈ ریکارڈ نے بھی ’’میاں بیوی میں قد کے سب سے زیادہ فرق‘‘ کا عالمی ریکارڈ ان دونوں کے نام کردیا ہے۔

  • ایک ووٹ ایک موٹرسائکل کے بدلے بک رہا ہے، سرداربابرحسین

    ایک ووٹ ایک موٹرسائکل کے بدلے بک رہا ہے، سرداربابرحسین

    جموں کشمیریونائیٹڈ موومنٹ کے امیدواران کا مرکزی سیکرٹریٹ میں اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے نامزد امیدواروں اورمرکزی کارکنان نے شرکت کی ہے.
    جموں کشمیریونائیٹڈ موومنٹ کے سربراہ سرداربابرحسین نے مرکزی سیکرٹریٹ اسلام آباد میں منعقدہ امیدواران کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کشمیر کے وسائل پہ قابض لوگوں کو گھر بھیجنے کا وقت آگیا ہے، عوام 25 جولائی کو کرسی پہ مہر لگا کرہمیں کامیاب کریں، ریاست کشمیر کے لوگوں کا معیارزندگی بلند کرنا اولین ترجیح ہے، مقبوضہ کشمیرکی آزادی کے لیے سیاسی تحریک کھڑی کریں گے، ایک ووٹ کے بدلے ایک موٹرسائیکل دیکرووٹ خریدے جا رہے ہیں، الیکشن کمیشن اس کا نوٹس لے، کشمیر کی تحریک کو دنیا بھرمیں اجاگرکرنا ہمارا بنیادی مقصد ہے، بلدیاتی انتخابات کیلئے ریاست کومجبورکریں گے، تا کہ نوجوان قیادت آگے آئے اورریاست کشمیرکی تعمیروترقی میں اپنا کردارادا کرے.
    ہماری زندگی کا مقصد انسانیت کی خدمت اوریہی ہماری سیاست کا طرہ امتیاز ہے، 25جولائی کو کرسی کو ووٹ دیں کوئی بھی آپ کو ترچھی نگاہ سے نہیں دیکھے گا، ہم کرپشن، لوٹ مار کرنے نہیں بلکہ ریاست کشمیرکو سنوارنے کے لئے آئے ہیں، ڈورٹوڈورمہم چلائی جائے گی، وقت بہت کم ہے مگر ہماری ساری امیدیں اللہ تعالی کی ذات سے وابستہ ہیں، جموں کشمیر یونائیٹڈموومنٹ کشمیر کی واحد جماعت ہے جو مذہبی فرقہ واریت، سیاسی فرقہ واریت کا خاتمہ کرسکتی ہے، ختم نبوت اورحرمت رسول ﷺ کے دفاع کیلئے پوری کشمیری قوم کو متحد کریں گے، جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کسی خاص، فرد، برادری یا گروہ کی جماعت نہیں ہیں، ہم تمام کشمیریوں کی نمائندہ جماعت ہیں، شہدائ، غازیوں اوران کے لواحقین کے لیے ویلفیئر کا بہترین نظام قائم کریں گے، شہداء کے خاندانوں کوخصوصی پروٹوکول دیں گے.

  • مسلم کانفرنس کی اہم رکن پی ٹی آئی میں شامل

    مسلم کانفرنس کی اہم رکن پی ٹی آئی میں شامل

    مسلم کانفرنس کوحلقہ غربی باغ میں 440 وولٹ کا جھٹکا لگ گیا ہے، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف توصیف عباسی کی جارحانہ بیٹنگ جاری ہے.
    سینئررہنما اورمسلم کانفرنس شعبہ خواتین راولپنڈی کی صدرشہناز خان نے مسلم کانفرنس چھوڑ کرپاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے، چیف آرگنائرزسینیٹرسیف اللہ نیازی سے تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ملاقات ہوئی ہے، تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات توصیف عباسی اور چیف آرگنائزر تحریک انصاف کے چیف آف سٹاف کرنل (ر) امان اللہ بھی موجود ہیں.
    سابق صدر مسلم کانفرنس شعبہ خواتین راولپنڈی نے کہا کہ ہل سرنگ سمیت غربی باغ کا پوراعلاقہ تحریک انصاف کے پرچم تلے متحرک ہوچکا ہے، وزیراعظم عمران خان کے تنازعہ کشمیر پرتاریخی مؤقف نے اہلِ کشمیر کے حوصلوں کو جلا بخشی ہے.

  • والدین عہد کریں .تحریر: شعیب رحمان

    والدین عہد کریں .تحریر: شعیب رحمان

    پاکستان میں روانہ 8 بجے زیادتی کا شکار ہوتے ہیں اغواء ہونے والوں کی تعداد الگ ہے کچھ سالوں سے اچانک اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جہاں حکومت ادارے اسکی روک تھام میں ناکام وہی والدین بھی بچوں کی حفاظت پر خاص توجہ دیتے دکھائی نہیں دیتے ایسے کتنے کیسز ہیں جن میں بچے گھروں سے باہر چیز لینے جاتے مگر واپس نا آتے جیسا آج کل ماحول ہے رشتےداروں پر بھی بھروسہ کرنا مشکل ہے اکثر کیسز میں قریب کے لوگ ہی ملوث پائے جاتے ہیں پھر وہ پڑوس کے ہی کیوں نا ہوں کچھ عرصہ قبل زینب ریپ کیس میں پڑوسی ہی مجرم تھا جو ناک کے نیچے رہا مگر کسی کو شک نا ہوا وہ اپنے انجام کو پہنچا اس کے باوجود کوئی خاص ڈر خود ایسے درندوں میں نا پایا گیا آخر وجہ کیا ہے کچھ لوگ کہتے یہ بے حیائی کا نتیجہ تو جناب تین چار سال کی بچی کیا بے حیائی کرتی نوجوان لڑکے کیا خود کو چادر میں لپیٹ کر گھر سے باہر نکلیں عورت کو پردے کا طعنہ دینے والے مردوں کی نظروں میں شرم کی کمی کیا ایسے واقعات کا خمیازہ نہیں تعلیمی ادارے، مدارس، ہسپتال کی نرس ہو یا فیکٹری میں جاب کرنے والی مجبور ماں کس طرح خود کو ان واقعات سے بچائیں ایسے وقت میں جہاں حکومت کو سخت اقدامات کرنے چاہئیں وہی ہمارے وزیراعظم سارا ملبہ خواتین کے کپڑوں پر ڈال دیتے ہاں وہ ڈی چوک کے دھرون کو بھول چکے جہاں 126دن خواتین و مرد سب ساتھ روزانہ علم کی روشنی جلاتے تھے اس وقت اقتدار کی بھوک تھی تو سب اچھا تھا آج اقتدار کا نشہ ہے تو عورت بے حیا ریپ کیسز کی جڑ ! تو بتائیں جناب 3 سالہ بچی کو لاہور کے ایک اسکول میں درندگی کا نشانہ بنانے والے درندے کون تھے ؟ بوائز ہاسٹل میں نوجوان کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے کون ہیں ؟ جہاں ساری زمہ داری والدین پر ڈالی جاتی وہی ہماری حکومت اپنی کارکردگی پر کب دھیان دیگی حکومتی وزراء خو آئے دن اسکینڈلز کا شکار رہتے ہیں وہ کیا ہمارے بچوں ماں بہنوں پر ہونے والی اس درندگی پر آواز اٹھائیں گے ؟ کب سرعام پھانسی کا بل پاس ہوگا ؟ کب ایسے درندوں کو سنسار کیا جاے گا؟ یا یہ مان لیں ہم کے ہمیں خود ہی ایسے شیطانوں کا خاتمہ کرنا ہوگا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں کوئی اس ماں سے پوچھے جس کی پھول جیسی بچے بنا کپڑوں کے خون میں لت پت مردہ حالت میں کچرہ کنڈی پر ملے وہ ماں کیا جانے قانون اس بے بس باپ کو کن الفاظوں میں آپ حوصلہ دینگے جس کی اک لوتی اولاد سڑک پر لٹ جاے اور حکومت کہے تحقیقات جاری ہے کیسے ملے گا ان والدین کو سکون جن کی بچیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر برہنا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرکے غلط کام پر لگایا جاتا

    کہتے ہیں ٹک ٹاک بین کریں ٹک ٹاک فساد ہے” آپ کو بنا دوں کے ٹک ٹاک سے بڑھ کر یوٹیوب پر مواد پایا جاتا ہے توکیا ہم یوٹیوب پر پابندی کا ٹرینڈ چلائیں ؟ ایسی کتنی ایپس ہیں وہ سب بند کردیں ہمارے پاکستانی ایڈز کیا کم ہیں بے حیائی پھیلانے میں ان پر پابندی کیسے ممکن ہوگئی ؟ رمضان ٹرانسمشن کے نام پر خواتین کو نچوانے والے حکومتی وزراء کے خلاف کب آواز اٹھائے گا کوئی ؟ ہم ناامید ہوچکے ہیں مان لیں والدین کو چائیے اب اس پڑوس سے لے کر کسی ادارے پر بھروسہ کرکے اپنے لخت جگر کو اکیلا باہر نا چھوڑیں نا کسی کے ساتھ جانے دیں آپ کی اولاد کا خیال صرف آپ رکھ سکتے ہیں دوسرا کوئی نہیں تو آج سے عہد کریں ہمارے بچے ہماری زمہ داری اللہ پاک سب کے بچوں کو اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین

  • “جب تم میں حیا باقی نہ رہے تو جو چاہے کرو”  تحریر:اقصٰی  یونس

    “جب تم میں حیا باقی نہ رہے تو جو چاہے کرو” تحریر:اقصٰی یونس

    ڈرامے اور فلیمیں اپنے معاشرے کی عکاسی اور اپنے کلچر کو فروغ دینے کیلئے بنائی جاتی ہیں مگر افسوس صد افسوس کہ جو کچھ آج کل ہمارے ڈراموں اور فلموں میں دکھایا جا رہا ہے وہ کسی طور ہمارے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا ۔ چینلز ریٹنگ کی دوڑ میں مغربی معاشرے اندھا دھند تقلید کیے جارہے ہیں اور اس تقلید میں وہ شاید یہ بھی بھول چکے کہ وہ ایک اسلامی ریاست کا حصہ ہیں ۔

    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ہے لاالہ الا اللہ پہ رکھی گئی مگر آج مغربی پراپیگندہ اپنی جڑیں اتنی مضبوطی سے پاکستان کے میڈیا میں گاڑ چکا ہے کہ اس کا کوئی حل شاید ہی ممکن ہو۔

    ایک وقت تھا جب پاکستان ٹیلی ویژن پہ بہت اچھا اور معیاری مواد دکھایا جاتا تھا ۔ نیوز اینکرز سر پہ سلیقے سے دوپٹہ جمائے نظر آتی تھی اور ڈراموں کے ذریعے انتہائی اہم اور نازک موضوعات کو زیر بحث لایا جاتا تھا ‎ٹیلی و یژن کبھی کسی زمانے  میں گھر بھر کی تفریح کیساتھ دنیا سے جوڑنے کا سبب تھا۔

    ‎اب مغرب کی اندھی تقلید  سے معاشرے کے بگاڑ وبربادی کا سبب بن گیا ہے۔ بے راہ روی  بے حیائی کے فروغ میں ٹی وی کا بہت بڑا کردار  ہے۔ جیسے جیسے چینلز کی تعداد میں اضافہ ہوا بے حیائی بڑھتی گئی۔ہمارے حکمران  چونکہ دین بیزار  ہیں اس لئے   میڈیا کا کوئی قبلہ کوئی  قانون نہیں۔ سو شتر بے مہار کی مانند  جس نے   جو چاہا دکھایا ۔ ننگ پن فحاشی کے وہ مناظر  دکھائے جانے لگے جنہیں  تنہائی  میں دیکھتے ہوئے  بھی شرم آجائے۔
    ‎ اینکرو کمپیئر کا دوپٹہ جو سر  سے نہ ہٹتا تھا گزرتے وقت کیساتھ   دوپٹہ ہی نہیں حیا بھی کہیں گم ہوگئی۔ اس وقت چند اسلامی چینلز  کے سوا  ہر ٹی وی  چینل  پر عریانی اور فحاشی کو ایسے فروغ دیا جارہا ہے "جیسے یہ کوئی لازمی زمینداری ہو”

    ہر ڈرامے میں بس طلاق اور افیئرز جیسے موضوعات زیر بحث لائے جاتے ہیں تو کہیں حاملہ عورت کا ڈی این اے ٹیسٹ ایک سنگین مسئلہ دکھایا جاتا ہے۔ جہاں کسی کو امیر دکھانا ہوں نیم برہنہ لباس پہنا دیا جاتا ہے۔ اور غربت دکھانے کو سر پہ دوپٹہ آوڑھا دیا جاتا ہے۔پہلے دوپٹہ غائب ہوا اب آہستہ آہستہ کپڑے بھی سکڑ کر مزید چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں ۔ یہاں تک بھی بات قابل برداشت نہ تھا۔ مگر سونے پہ سہاگہ یہ ایوارڈ شو جو صرف بے حیائی کا بازار ہیں ۔ گزشتہ روز “ ہم سٹائل لکس ایوارڈ “ کی کچھ تصاویر دیکھنے کا اتفاق ہوا ان تصاویر کو دیکھ کر میں قلم اٹھائے بغیر نہ رہ سکی۔

    ان تصاویر میں دوپٹہ تو خیر نظر آنا کسی بنجر جگہ پر آم کے درخت دیکھنے کے مترادف تھا لیکن ان تصاویر سے صاف ظاہر تھا کہ ہم مغربی میڈیا سے کتنے متاثر اور اور اسکے کتنے دلدادہ ہیں ۔ خوبصورت نہیں بلکہ ماڈرن نظر آنے کی دوڑ میں ماڈلز اور اداکارہ خود کو نیم برہنہ کرنے پہ بھی راضی اور یہ مناظر کیمرے کی آنکھ میں قید ہو کر ساری دنیا تک پہنچے ہوں گے ۔

    رہی بات ریٹنگ کی دوڑ کی تو کون کہتا ہے کہ پاکستانی اچھے ڈراموں کی بجائے ساس بہو کی لڑائی اور بے حیائی کا تڑکا لگاتے ڈرامے دیکھنا چاہتے ہیں اگر ایسا ہوتا تو ارطغرل جیسا ڈرامہ جو اسلامی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے ریٹنگ کے سارے ریکارڈ نہ توڑتا۔

    لباس جسم کو ڈھانپنے کا ذریعہ ہے ۔ مگر اب لباس کی تراش خراش جسمانی نشیب و فراز کو ظاہر کرنے کے لئے کی جاتی ہے اور اسے ترقی، ماڈرن ازم، جدید دور کی ضرورت اور روشن خیالی کا نام دیا گیا ہے۔ آج کے نوجوان فلم،ٹی وی ڈرامے، اشتہارات، اخبارات میں فلمی ستاروں کی تصاویر دیکھ کر ان کے جیسا بننے کا سوچتے ہیں۔ اب ہماری نئی نسل کی اکثریت کے رول ماڈل انڈین فلموں کے ہیرو‘ ہیروئن ہوتے ہیں اور ان کا خیال ہوتا ہے کہ اگر وہ بیہودہ لباس نہ پہنیں تو وہ ترقی یافتہ‘ روشن خیال نہ کہلائیں گے بلکہ ان کا شمار اولڈ کلاس میں ہو گا۔

    سوال یہ ہے کہ پیمرا اور ریگولیشن اتھارٹیز کیا بھانگ پی کر سو رہے ہیں ۔ پیمرا فقط ایک نوٹس دے کر سمجھتا ہے کہ اپنی ساری زمینداری سے سبکدوش ہوگیا۔ صرف پیمرا ہی کیوں قومی اسمبلی میں بیٹھے ہر شخص کو صرف کرسی کی بھوک کا لالچ ہے ان کی بلا سے کلچر ، ثقافت اور اخلاقیات جائے بھاڑ میں ۔ یہ زمینداری تو ہر شہری کی بھی ہے کہ وہ اس پہ آواز آٹھائے ۔ مگر اس مسئلے سے شاید نہ تو پیمرا کو غرض ہے نہ ہی کسی ریاستی ادارے کو ۔ کیونکہ یہ مسئلہ ان کے مفادات اور حرس سے کہیں پیچھے رہ گیا اور وہ کرسی کی دوڑ میں ریاست مدینہ کے دعویدار اپنی ساری زمینداریاں بھول بیٹھے ہیں ۔

    پیمرا کو چاہیے ٹیلی ویژن پہ نشر ہونے والے مواد کو مکمل طور پہ مانیٹر کیا جائے ۔ اور ہر وہ مواد جو بے حیائی کو فروغ دے اسے مکمل طور پہ بین کرکے متعلقہ چینل کو بھاری جرمانہ کیا جائے ۔ تاکہ آئیندہ کوئی ایسا پروجیکٹ کرے ہی نہ جس سے ہماری ثقافت اور کلچر کو نقصان پہنچے۔اور ایسے ڈراموں کو فروغ دیا جائے جو حقیقی معنوں میں ہمارے معاشرے ،ہمارے کلچر اور ثقافت کی عکاسی کرے۔

    وہ حیا جو کل تلک تھی مشرقی چہرے کا نُور
    لے اُڑی اُس نِکہتِ گُل کو یہ تہذیبِ فرنگ

    <Writer Aqsa Younas


     Aqsa Younas

    Aqsa Younas is a Freelance Journalist Content Writer, Blogger/Columnist and Social Media Activist. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes columns on political, international as well as social issues. To find out more about her work on her Twitter account

      

     


    https://twitter.com/AqsaRana890

  • ‏سر سبز و شاداب .تحریر: شاہ زیب

    ‏سر سبز و شاداب .تحریر: شاہ زیب

    کائناتِ ارضی و سماوی کی تخلیق و حیران کر دینے والی ترتیب، خوبصورت و سر سبز لہلہاتی فصلوں اور کھیتیوں، گھنے اور قد آور درختوں سے مزین جنگلات، عقل و خرد اور دل و نگاہ کو مست و بےخود کر دینے والی سُریلی آبشاروں، روح وقلب کو تازگی بخشتے دریاؤں اور سمندروں، اسمان کوچھوتے سخت جان پہاڑوں، الگ الگ نوعیت کے رنگ و بو سے مزین خوشبودار پھولوں اورصحت افزا پھلوں، خوشوں والی کھجوروں اور بھوسے اور خوراک و معاشی ضروریات کی تکمیل کرنے والے اناج سے مزین یہ کائنات انسانی سوچ کی تمام حدوں سے ورا اُلوریٰ یقیناً اُس ذات کا بے حد و بے شمار شکر ادا کرنے کے لئے عظیم نشانیاں ہیں جِس نے انہیں حضرت انسان کے لئے انہیں پیدا فرمایا۔

    یقیناً تمام کبریائی، بزرگی اورعظمت اُسی ذات کے شایانِ شان ہے جِس نے تمام آسمانی کرّے باہمی ترتیب و مطابقت کے ساتھ اس پیدا فرمائے کہ نہ ان میں کوئی جھول ہے نہ کوئی خامی، اور اسی ذات بزرگ و برتر نے آسمانِ دنیا کو روشن ستاروں اور سیّاروں سے روشن و آراستہ فرمایا۔ اس کائنات کا یہ نظام ودیعت اور تخلیق ذرا بھر بے ضابطگی اور عدمِ تناسب سے مکمل طور پر پاک و مبرا ہے اور اس طرح مرتب کہ ایک کا نظام دوسرے میں کسی طرح بھی مُدخل نہیں-

    قرآن پاک اللہ تعالی کی تخلیق پر تمام معترضین نقادوں کو چیلنج کرتا ہوا فرماتا ہے :

    ’’الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاؕ-مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍؕ-فَارْجِعِ الْبَصَرَۙ-هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ(۳)ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ(۴)
    ترجمہ: کنزالایمان
    جس نے سات آسمان بنائے ایک کے اوپر دوسرا تو رحمٰن کے بنانے میں کیا فرق دیکھتا ہے تو نگاہ اٹھا کر دیکھ تجھے کوئی رخنہ(خرابی وعیب) نظر آتا ہےپھر دوبارہ نگاہ اٹھا نظر تیری طرف ناکام پلٹ آئے گی تھکی ماندی‘‘
    تفسیر:
    اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کے آثار میں  سے یہ ہے کہ اس نے کسی سابقہ مثال کے بغیر ایک دوسرے کے اوپرسات آسمان بنائے۔ہر آسمان دوسرے کے اوپر کمان کی طرح ہے اور دنیا کا آسمان زمین کے اوپر گنبد کی طرح ہے اور ایک آسمان کا فاصلہ دوسرے آسمان سے کئی سوبرس کی راہ ہے۔ تو اے بندے! تو اللّٰہ تعالیٰ کے بنانے میں  کوئی فرق اور کوئی عیب نہیں دیکھے گا بلکہ انہیں  مضبوط،درست،برابر اور مُتَناسِب پائے گا۔تو آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھ تا کہ تو اپنی آنکھوں  سے اس خبر کے درست ہونے کو دیکھ لے اور تیرے دل میں  کوئی شبہ باقی نہ رہے،پھر دوبارہ نگاہ اٹھا اور باربار دیکھ، ہر بارتیری نگاہ تیری طرف ناکام ہو کر تھکی ماندی پلٹ آئے گی کہ بار بار کی جُستجُو کے باوجود بھی وہ ان میں کوئی خَلَل اور عیب نہ پاسکے گی۔

    اللہ پاک نے نہ صرف یہ کائنات اور اس میں موجود نظام تخلیق فرمایا بلکہ خود اس نظامِ بے مثال و باکمال کی حفاظت کاذمہ بھی لیا۔

    کبھی غور تو کریں کہ اس نظام کی ترتیب کس قدر عقل و خرد کو لاچار کر دیا کرتی ہے۔
    اس شمسی و قمری نظام و ترتیب میں سورج اور چاند مقررہ حساب و اوقات کے پابند ہیں جو منزلیں اور اوقات ان کیلئے مقرر ہیں نہ ان سے تجاوز کرتے ہیں اور نہ روگردانی ، اپنے اپنے مدار میں مصروف و متحرک ہیں کیا مجال کہ سرسائی دائیں ہوں یا بائیں یا لمحہ بھر کی بھی تقدیم، تاخیر و سکونت ہو سکے۔

    الغرض نظامِ ارض و سمٰوات میں جس جہت غور و تفکر کر لیں مکمل نظم و ضبط اور ترتیب و تکمیل پائی جاتی ہے، نظامِ قدرت کے اس توازن و ترتیب کی وجہ سے ہر شے مکمل افادیت اور حسن و تازگی کا منبع ہے-

    جبتک یہ نظام اِسی ترتیب و توازن سے چلتا رہتا ہے انسان اِس کی افادیت سے مستفید و متنفع رہتا ہے لیکن ادھر انسان نے اس توازن و ترتیب کو زاتی مفاد کے لئے عدم توازن کا شکار کرنے کی کوشش کی تو اس کو دور رس منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑا- یہ ہر ذی شعور و خرد پر مثلِ شمس واضح و عیاں ہے کہ تخلیقِ کائنات میں کوئی کمی، کوئی کجی، کوئی نقص وآلودگی کا شائبہ بھی نہیں –
    تو پھر یہ جو آج کا انسان نواع و اقسام کی آلودگیوں و پیچیدگیوں کا شکار نظر آتا ہے یہ اس کی زاتی تخلیق شُدہ ہیں۔

    بظاہر آج کے انسان نے مادی اشیا و صنعت میں فقیدالمثال ترقی کر لی ہے۔ ایجادات و تعمیرات میں بہت آگے نکل گیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی نئی سے نئی دریافت میں سرگرداں ہے۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دھن میں نئے سے نئے تجربات و ریاضات کی کھوج میں ہے۔ لیکن اِسی کھوج اور طاقت ور بننے کے نشے میں بےشُمار ایسے عوامل و طریق میں کھو چکا ہے کہ وقتی مفاد کے لئے دورافتادہ نقصانات کو پرکھنے و ادراک کرنے سے عاری ہو چکا ہے۔ انسان کی اسی دھن کا شکار آج کا معاشرہ ہوتا جا رہا ہے۔

    صنعتی و سائنسی ترقی کے نام پر جب انسان نے گیسی مادوں کی بڑے پیمانے پر ایجادات و استعمال کو اس کے دور رس مضمرات سے کنارہ کش ہوتے ہوئے، مختلف الاقسام ایجادات، تحقیقات کے نام پر کیمیائی اور حیاتیاتی دریافتوں کے ذریعے ترقی حاصل کی- اِس ترقی کی راہ میں آنے والے نقصانات سے پیدا ہونے والے احتساب و سوالات سے مبرا و منزہ انسان جب اپنی دھن میں بھاگتا چلاگیا تو اسی ترقی کی وجہ سے قدرتی ماحول پر انتہائی بھیانک اثرات مرتب ہونے لگے-
    آج کے دور کا ہر ترقیاتی منصوبہ اس اجتماعی ماحول کو کسی نہ کسی طرح نقصان سے دوچار کر رہا ہے۔
    1880ء سے پہلے توکبھی کسی نے اس ماحولیاتی آلودگی پر کسی قسم کی خاطر خواہ توجہ نہ دی۔ لیکن اس صنعتی ترقی میں استعمال ہونے والی مادی گیسوں، کیمیائی و نباتاتی اشیاء و اجزا کے کثرتِ استعمال اور نئی ایجادات کے بنا پر پیدا ہونے والی اس
    آلودگی کی پیمائش کی حساب و کتاب کرنے کے لئے پہلا ادارہ عمل میں لایا گیا۔
    اس ادارے کی تحقیقات کے تحت اِن تمام استعمال شدہ عوامل کے پیشِ نظر فضا میں درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
    اس کی تحقیق کے مطابق سنہ 1880 سے سنہ 1980 تک اس درجہ حرارت میں 0.13 فارن ہیٹکے حساب سے ہر دس سال میں اضافہ ہوا ہے۔
    1981 کے بعد اس میں 0.32 ڈگری فارن ہیٹ/10سال کے حساب سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق اِس طویل عرصہ میں 2019 ایسا سال تھا جِس میں درجہ حرارت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔
    تحقیقاتی ادارے کو یہ کہنا ہے کہ اگر اسی رفتار سے ماحولیاتی الودگی میں اضافہ ہوتا رہا تو اگلے چند سالوں کے بعد یہ اس کے باعث سطح سمندر میں اضافے سے ساحلی علاقےزیر آب آنے کےخطرے سے دوچار ہیں۔
    اِسی درجہ حرارت کی وجہ سے گلیشئیرز پگلنا شروع ہو گئے ہیں۔ اور بارشوں کے سلسلے متاثر ہونے اور غیر متوقع طوفانوں کی تباہی کے خطرات منڈلانے لگے ہیں۔

    اس موسمی تبدیلی کے پیشِ نظر مجبوری ہجرت،انواع القسام بیماریوں، قلتِ اجناس، جنگلی حیات کا ناپید ہونا، پانی کی قلت اور دیگر معاشی و معاشرتی مسائل کا سامنا ناگزیر ہے-

    اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس وقت انسانی جان کی بقاء کو اِس ماحولیاتی آلودگی سے شدید خطرہ لاحق ہے۔
    اس پر تو کوئی دوسری رائے نہی ہو سکتی کہ روئے زمین پر تمام جانداروں اور بالخصوص انسانی جان کے تحفظ کا انحصار جن ضروریاتِ حیات پر کیاجا سکتا ہے ان میں سےایک پاک و شفاف ماحول و ہوا ہے- اس اہم اور حساس معاملے پر ادراک و فہم ہر ذی شعور کو جاننا اور اِن مضمرات کی روک تھام کے لئے اُن عوامل کو کارفرما لانا انتہائی ضروری ہے جِس سے ماحول آلودہ ہونے سے بچ سکے کیونکہ اس کا بالواسطہ تعلق انسانی حیات سے ہے۔
    اس ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات کا اندازہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے جِس کے مطابق دنیا میں 70 لاکھ لوگ ہوائی آلدگی اور آکسیجن کی کمی کیوجہ سے انتقال کر چکے ہیں۔

    جیسا کہ شروع میںذکر ہوا کہ اللہ کا نظام ایک اکمل واعلٰی اور ہر نقص و کمی سے پاک نظام ہے۔ اسی نظام میں ہر مسئلے کا حل اور تدارک رکھا گیا ہے۔ دین اسلام جہاں دیگر مسائل کے متعلق راہنما و پیشوا ہے وہاں ہر ماحولیاتی آلودگی سے متعلق بھی ایک آفاقی نقطۂ نظر رکھتا ہے-
    ماحولیاتی نقصان و فضائی آلودگی کے تدارک کیلئے اسلام میں واضح احکام کے ذریعے صفائی اور شجر کاری کے فوائد ذکر کیے ہیں قرآن پاک میں کھیتی باڑی اور پودوں کا نقصان پہنچانا منافقین کا شیوہ قرار دیا ہے۔

    اسلام میں بلاضرورت درختوں کو کاٹنے سے منع کیا گیا ہے- حتیٰ کہ جنگ میں روانگی کے وقت فوجوں کو اس بات کی باقاعدہ ہدایت کی جاتی کہ وہ شہروں اور فصلوں کو برباد نہی کریں گے-
    حضور نبی اکرم (ﷺ) نے شجر کاری کو صدقہ قرار دیا اور حکم فرمایا:
    “ اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہے اور وہ اس کو لگا سکتا ہے تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو‘‘
    لہٰذا ہمیں بطور مسلمان اِن اسلامی تعلیمات و تربیت کی روشنی میں اپنے گردونواع کے ماحول و فضا کو پاک و صاف رکھنے کے لئے جہاں تک ممکن ہو اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہنا ہے۔ اور اپنی آنےوالی نسلوں کو اس آلودگی کے نقصانات سے بچانے کے لئے ایسے اقدام کرنے ہوں گے جِن کے ثمرات کے نتیجہ میں وہ ایک صحت مند اور توانا زندگی گزار سکیں۔
    ہر فرد معاشرے کا حصہ اور اہم اکائی ہے۔ مختلف اکائیوں کے اجتماع کو معاشرہ کہتے ہیں۔ جب تمام اکائیاں اپنے مثبت کردار کو جمع کرتی ہیں تو ہی صحت مند معاشرہ وجود پا سکتا ہے۔
    آئیے سب ملکر اس معاشرے کی فضا کو آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنااپنا کردار ادا کریں۔
    جتنا ممکن ہو اپنے گردو نواع میں صفائی ستھرائی رکھنے، پانی کے ضیاع سے بچنے، غلاظت اور گندگی کوپھیلاؤ کے تدارک کاذریعہ بنیں اور زیادہ سے زیادہ شجر کاری کےذریعے ماحول کو ہرا بھرا اور سر سبز و شاداب بنا دیں اِنࣿ شَاءاَللٰؔه
    @shahzeb___

  • کرپشن معاشرے کی تباہی کا سبب .تحریر: ملک ضماد

    کرپشن معاشرے کی تباہی کا سبب .تحریر: ملک ضماد

    کسی بھی معاشرے، ملک، ریاست مین جب کرپشن، بدعنوانی زور پکڑ جائے تو وہ معاشرہ، ملک، ریاست تباہی کی طرف سفر شروع کر دیتا ہے
    جہاں معاشرے، ملک، ریاست کے بجائے اپنی ذات کو ترجیح دی جانے لگے،
    جہاں عدل و انصاف کے بجائے رشوت، سفارش سے جائز کام بھی کروانے پڑیں
    جہاں تعلقات کی بنیاد پر گلیاں پکی ہونے لگیں
    جہاں ریفریسنزز سے لائن میں کھڑے آخری آدمی کو پہلا نمبر دیا جانے لگے
    جہاں نام بتا کر کام کروانے پڑیں
    پھر وہ معاشرے ترقی نہیں بلکہ تنزلی کی جانب سفر شروع کر دیتا ہے
    پھر بھلے اس ملک، ریاست میں قدرت وسائل ہوں یا پڑھے لکھے لوگ وہ بھی اس ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتے جب تک معاشرے سے کرپشن کے ناسور کو ختم نہیں کیا جاتا
    جب تک معاشرے میں سب لوگوں ہو برابری کی سطح پر انصاف اور حق نہیں مل جاتا
    جب تک تعلقات نہیں بلکہ میرٹ پے گلیاں پکی نا ہونے لگ جائیں
    جب تک وزیر مشیر بھی لائن میں لگ کر کام نا کروانے لگ جائیں
    جب تک نام بتا کر نہیں بلکہ کام بتا کر کام نا ہونے لگ جائیں
    وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا
    کرپشن کو ختم کرنے کے لیے صرف حکمرانوں کی ہی نہیں بلکہ عام عوام کی ذمہ داری بھی ہے
    جب عام عوام رشوت، تعلقات کے بجائے میرٹ پے کام کروائے گی
    رشوت مانگنے والوں کو دنیا کے سامنے لائے گی

    وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ‘‘
    {البقرة:188}
    "اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھا یا کرو ، نہ حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ظلم و ستم سے اپنا لیا کرو ، حالانکہ تم جانتے ہو”

    حدیثِ شریف:
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ 
    ( سنن أبو داود :3580 ، القضاء – سنن الترمذي :1337، الأحكام – سنن ابن ماجه :2313 ، الأحكام)

    ترجمہ:
    حضرت عبد اللہ بن عمر ورضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے پر لعنت فرمائی ہے

    { سنن ابو داود ، ترمذی ، ابن ماجہ }

    حلال مال میں برکت ہوتی ہے اور حرام مال بے برکتی کا سبب ہے ۔

    رشوت گناہ ِکبیرہ اور رحمت الٰہی سے دوری کا سبب ہے ۔

    رشوت کا لین دین معاشرہ میں بد دیانتی اور ظلم کا سبب ہے

    قومی سطح پر بھی حکومت وقت کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی قومی فریضہ ہے وہ اپنے ارد گرد اگر کہیں کرپشن ہوتی ہے اس کو روکے اگر خود نہیں روک سکتا تو متعلقہ اداروں کو اس کی اطلاع دے تاکہ بروقت کارروائی ہو کر کرپشن، جیسے ناسور کو ختم کیا جا سکے

    آئیں مل کر عہد کریں خود بھی اور اپنے ارد گرد لوگوں کو بھی کرپشن، رشوت ستانی سے روکیں گے اور مل کر معاشرے کو کرپشن جیسی مرضی بیماری سے نجات دلائیں گے

  • میں کراچی ہوں .تحریر ماشا نور

    میں کراچی ہوں .تحریر ماشا نور

    میں کراچی ہوں .تحریر ماشا نور
    یوں تو سبھی کراچی کے وارث بنتے ہیں مگر جہاں بات کراچی والوں کے حقوق کی آئے تب وفاق دانتوں میں انگلیاں دبائے خاموش اور صوبائی حکومت سب اچھا ہے کا راگ الاپتی نظر آتی ہے کسی کو کوئی غرض ہی کے شہر کراچی میں پانی ہے یا نہیں بجلی آئے نا آئے لاکھوں کے بل آنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی نلکوں میں پانی کی امید لگائے کراچی والے ٹینکر مافیا کے رحم وکرم پر گزربسر کررہے ہیں پانی تو خرید کر پینا پڑے گا آخر پورے ملک کو پالنے کی زمہ داری کراچی والوں کی جو ہے گھر میں گیس آئے نا آئے سی این جی پمپ پر گیس ملنا کسی کراچی والے کے لیے نعمت سے کم سے روزگار کی خاطر رکشہ چلانے والے اس مہنگائی میں کیسے چلائیں پیٹرول پر رکشہ یہاں تو بڑے بڑوں کا تیل نکال دیا ہے مہنگائی نے، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر آپکو ہیل پارک کے جھولوں کا مزہ نا آئے تو کیا ہی بات ہے کہنے کو کما کر دینے والا شہر ہے مگر حساب وہی ماں اولاد کو اچھا کھلا کر پہنا کر خود بھوکی رہ جاتی ، ارے جناب ہم سے کوئی وقت کی پابندی سیکھے کے الیکٹرک کے لوڈ شیڈنگ کر کر کے عوام کو گھڑی دیکھنے کی عادت ہی چھڑا دی اب تو بجلی جانے آنے کے حساب سے ہی کراچی والوں نے خود کو ڈھال لیا ہے
    گھر سے باہر نکلتے ہی اپکو لگے گا آپ کسی کچرے کے جزیرے پر پہنچے ہیں جگہ جگہ کوڑا بہتے گٹر پارکس میں غلاظت اور ہمارے خوبصورت شہر کے بیچ پولیس کی موجودگی میں پل کے نیچے بیٹھے نشئی جو ہر طرح کا نشہ باآسانی کرتے ہی نہیں بیچتے بھی ہیں تھوڑا آگے بڑھ جائیں تو غیر مقاموں کی بڑی آبادی آپکو نظر آئے گی جنہونے اس شہر کو اپنا آبائی گھر سمجھ کر بستر ڈالے ہوئے ہیں ہم پھر بھی آف نہیں کرتے کیونکہ ہم کراچی والے ہیں ہم میں سب سما جاتے ہیں مگر ہمارا دکھ ہمارے مسائل نا کوئی سیاسی جماعت حل کر سکی نا ہی وفاقی حکومت نے "کھاتے ہیں تو لگا بھی دیں” ایک بار بھی سوچا نہیں،

    میں کراچی ہوں میں بارش،ٹوٹی سڑکیں، ٹرانسپورٹ،بہتے گٹر، بے روزگاری، لاچاری، پانی کی قلت میں سب برداشت کرونگا مگر میں تم سب کو پالوں گا کسی کو بھوکا نہیں مرنے دنگا میں خود سب سہتا رہوں گا ٹوٹ جاؤنگا مگر تمہارے گھروں کے چولھے بجھنے نہیں دنگا ہاں میں بے بس ہوں میں اکیلا ہوں مگر میں تم کو اکیلا نا چھوڑوں گا تم سب مجھ کو نوچ کر کھالو میں اف تک نا کرونگا ہاں میں "لاوارث” ہوں پر تم کو "لاوارث” نا چھوڑوں گا

  • معاشرے کی اصلاح کیسے ہوگی؟ تحریر: احمد لیاقت

    معاشرے کی اصلاح کیسے ہوگی؟ تحریر: احمد لیاقت

    کچھ لوگ معاشرےکی اصلاح کی بات کرتےہیں ضرور کرنی بھی چاہیے، اور کچھ لوگ معاشرےمیں انصاف کی بات کرتےہیں یہ بھی ضرور کرنی چاہیے، لیکن اس پر بہت کم بات ہوتی ہے کہ معاشرے میں بگاڑ اور فساد کب پیدا ہوتاہے؟

    معاشروں میں بگاڑ خدا کی قائم کردہ حدود اور لمٹ کو کراس کرنے سے پیدا ہوتا ہے، دنیا میں جن افراد اور معاشروں نے بھی اللہ کی قائم کردہ لمٹ کو کراس کیا انہوں نے کسی اور پر نہیں خود پر ظلم کیا، معاشرے کا بگاڑ صرف غریب ملکوں میں نہیں ترقی یافتہ ملکوں میں زیادہ نظر آتا ہے

    چودہ سو سال پہلے اللہ پاک نے ہمیں اپنی قائم کردہ حدود سے باہر نکلنے کے نقصانات سے آگاہ کردیا تھا اللہ تعالی کے اس ارشاد کی روشنی میں یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہےکہ

    یہ اللہ کی حدیں ہیں سو ان سے تجاوز نہ کرو، اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا سو وہی ظالم ہیں۔ (سورہ بقرۃ 229)

    معاشرے اور افراد کو حدور اور لمٹ میں قائم رکھنے کے لیے سب سے بڑی چیز انصاف اور عدالت ہے جس کی نصیحت خدا نے چودہ صدیاں قبل حکمرانوں سے فرمائ تھی

    اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو ، بے شک اللہ تمہیں نہایت اچھی نصیحت کرتا ہے بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے (سور نساء 58)

    معاشرے کی اصلاح کے لیے لمبی چوڑی پلاننگ کی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو یہ دو آسان نسخے بتا دیے ہیں ان پرعمل کی ضرورت ہے، معاشرے کے افراد خدا کی بتائ ہوئ لمٹ میں زندگی بسر کریں اور جو بھی اس لمٹ کو کراس کرے چاہے وہ غریب ہو یا امیر عالم ہو یا جاہل اسٹوڈنٹ ہو یا ٹیچر مرد ہو یا عورت اور فقیر ہو یا بادشاہ اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے، جس دن یہ دو کام ہوگئے معاشرہ ٹھیک ہو جائے گا۔

    کسی ایک فرد کی اصلاح معاشرے کی اصلاح ہے
    یہ کہاوت بھی اسلام کے بالکل برعکس ہے اسلام کہتا ہے کہ اسلام کو ریاست میں نافذ کرو جس میں معاشرے کی اصلاح ہوگی معاشرے میں ہر انسان کی اصلاح ہوگی

  • قومی ہاکی ورلڈ کپ کے ہیرو بلڈ کینسر کی بیماری میں مبتلا ہوگئے

    قومی ہاکی ورلڈ کپ کے ہیرو بلڈ کینسر کی بیماری میں مبتلا ہوگئے

    ہاکی ورلڈ کپ 1994 کے ہیرونوید عالم کینسرکی بیماری میں مبتلا ہوگئے ہیں، اولمپئن نوید عالم کو بلڈ کینسرکی تشخیص شوکت خانم ہسپتال میں ہوئی ہے، نویدعالم بیجنگ اولمپکس میں پاکستان ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ بھی رہ چکے ہیں.
    بیٹی حاجرہ نوید نے بتایا ہے کہ شوکت خانم کے ڈاکٹرزنےعلاج کیلئے 40 لاکھ روپے کا تخمینہ بتایا ہے، بابا نے پاکستان کو94 کا ورلڈ کپ جتوایا تھا، علاج میں مدد کی ضرورت ہے، وفاقی حکومت اورصوبائی حکومتوں سے بھی علاج میں مدد کی اپیل کی گئی ہے.
    اولمپین چیمپین نوید عالم نے 1994 کا ورلڈ کپ جتوایا تھا، وہ 2005 سے 2007 تک ہاکی فیڈریشن میں سیکٹری کے عہدے پر تعنیات رہے تھے، پاکستان ہاکی فیڈریشن کے خلاف بات کرنے پر فیڈریشن نے انہیں ڈیئریکٹر جنرل کے عہدے برخواست کردیا تھا.