Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بابائے خدمت عبدالستار ایدھی کا مختصر تعارف . تحریر :عمر خان

    بابائے خدمت عبدالستار ایدھی کا مختصر تعارف . تحریر :عمر خان

    عبدالستار ایدھی 29 فروری 1928 کو بھارت کی ریاست گجرات میں پیدا ہوئے ، 1947 میں بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان کے شہر کراچی میں آباد ہوئے ، عبد الستار ایدھی نے 1966 میں اپنے نرسنگ ہوم کی ایک نرس بلقیس ایدھی سے شادی کی۔
    ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز

    عبد الستار ایدھی نے 1951 میں کراچی کے علاقے میٹھا در میں قلیل سرمایے سے میمن ویلنٹئر کور نام سے ایک چھوٹی سی ڈسپنسری کھولی، بعد ازاں اس کا نام تبدیل کرکے مدینہ ویلنٹئر رکھا گیا۔

    عبدالستار ایدھی نے خدمت خلق کا آغاز اسی ڈسپنسری سے کیا وہ سارا دن مجبور غریب لوگوں کی دیکھ بھال کرتے تھے اور رات کو اسی ڈسپنسری کے باہر ایک بنچ پر سو جاتے ۔

    فنڈز اکٹھے کرنے کے لئے عبدالستار ایدھی نے کئی ممالک کے دورے کئے جن میں ایران، ترکی ،فرانس ،یونان، بلغاریہ، یوگوسلاویہ،شامل ہیں۔

    پاکستان واپس آ کر انہوں نے 1952 میں ایک زچگی سینٹر اور 1954 میں نرسوں کی تربیت کے لئے ایک انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کیا۔

    عبدالستار ایدھی نے 1957 میں ایشین فلو کے وقت کراچی میں مختلف مقامات پر امدادی خیمے لگائے اور بیماروں میں مفت ادویات بھی تقسیم کیں۔

    عبدالستار ایدھی کی ان گرانقدر خدمات اور خدمت خلق کی لگن کو دیکھتے ہوئے مخیر حضرات نے دل کھول کر مدد کرنا شروع کردی ۔

    ان فنڈز کی رقم سے عبدالستار ایدھی نے ایک وین خریدی اور اسے ایمبولینس میں تبدیل کیا ، یہ وین 24 گھنٹے مریضوں کو لانے لے جانے کیلئے مفت دستیاب رہتی، اسی دوران عبدالستار ایدھی نے مدینہ ویلنٹئر ڈسپنسری کا نام تبدیل کر کے ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ رکھ لیا۔

    سیاست

    1970 میں خدمت خلق کے جذبے سے سر شار عبدالستار ایدھی نے باقاعدہ ملکی سیاست میں آ کر عوامی خدمت کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کیلئے آذاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا ، تاہم کامیاب نہ ہوسکے، 1975 میں ایک مرتبہ پھر عبدالستار ایدھی نے انتخابات میں حصہ لیا مگر دوسری بار بھی ناکام ہوئے، اس کے بعد عبدالستار ایدھی نے ہمیشہ کیلئے سیاست سے کنارہ کرلیا۔

    ایدھی فاؤنڈیشن کی خدمات پر ایک نظر

    گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایدھی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی فری ایمبولینس سروس ہے، ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس اس وقت اٹھارہ سو سے زائد ایمبولینسز موجود ہیں جو ملک بھر میں آج بھی مفت سروس مہیا کرتی ہیں، ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس دو ائیر کرافٹ ، ایک ہیلی کاپٹر ایمبولینس، 28 لائف بوٹ (بحری ایمبولینس) بھی موجود ہیں، اس کے علاؤہ موبائل میت سرد خانہ اور مختلف مقامات پر 180 سرد خانے بھی بنائے گئے ہیں ، ایک سرد خانہ میں تیس میتوں کو رکھنے کی گنجائش ہے، سرد خانوں میں رکھی میت کو اگر تین دن تک کوئی شناخت نہ کرے تو اسے مواچھ گوٹھ کراچی میں بنے ایدھی قبرستان میں دفن کردیا جاتا ہے، اس قبرستان میں لگ بھگ ایک لاکھ سے زائد میتوں کو دفن کیا جاچکا ہے، ایدھی فاؤنڈیشن نے ملک بھر میں تقریباً 180 میت خانے ، میرج بیورو سینٹرز ، پاگل خانے، اینیمل شلٹرز ، اسکولز ، پناہ گاہیں ، زچگی سینٹرز ، معذور افراد کیلئے سینٹرز ، ایدھی لنگر خانے اور بےشمار مہاجرین کیمپ بنائے ہیں۔۔

    بین الاقوامی خدمات

    دنیا بھر کے مختلف ممالک میں ایدھی سینٹرز اپنی خدمات دے رہے ہیں جن میں افغانستان، ایران ، سوڈان ، ایتھوپیا شامل ہیں۔

    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ، امریکہ ، انگلینڈ ، آسٹریلیا میں بھی ایدھی سینٹرز بنائے گئے ہیں ۔

    عبدالستار ایدھی کو ان کے خدمات بدولت بےشمار قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نواز گیا ہے۔

    وفات

    عبدالستار ایدھی 8 جولائی 2016 کو 88 برس کی عمر میں وفات پاگئے۔

  • روڈ ایکسیڈینٹ  کس کی غفلت ہوتی ہے .تحریر: احمد لیاقت

    روڈ ایکسیڈینٹ کس کی غفلت ہوتی ہے .تحریر: احمد لیاقت

    پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں روڈ حادثے کے شکار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوجاتے ہیں یا معزور ہوجاتے ہیں ۔ پاکستان میں روڈ ایکسیڈنٹ کی شرح دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے یا پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جن کو روڈ سیفٹی کے حوالے سے بدترین ممالک کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے
    پاکستان میں ہونے والے زیادہ تر روڈ حادثات انسانی غلطی کی وجہ سے ہوتے ہیں، جس میں ڈرائیورز کی غفلت سب سے نمایاں ہے۔ ڈرائیورز کی غفلت اور جلد بازی کے ساتھ غیر تربیت یافتہ ڈرائیونگ ہے

    مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر آۓ روز ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں

    👈 گاڑی چلانے کی مہارت سکھانے والے اداروں کا فقدان
    👈 ناتجربہ کار ڈرائیور
    👈 جعلی لائسنس کی روک تھام نہ ہونا
    👈مسلسل کئی گھنٹوں تک گاڑی چلانا
    👈 ملک بھرمیں یکساں لائسنس کا اجراء نہ ہونا
    👈 ٹریفک قوانین کی عدم پاسداری
    👈 موبائل فون کا استعمال
    👈 سڑکوں پر سفید اور زرد لائنوں کا نہ ہونا
    👈 مسافر بسوں میں سیٹ بیلٹ کا نہ ہونا
    👈 گاڑی کا فٹنس ٹیسٹ سرٹیفکیٹ نہ ہونا
    👈مسافر بسوں میں ہنگامی دروازہ نہ ہونا
    👈 گاڑی میں حد سے زیادہ مسافر سوار کرنا
    👈 نشہ آور چیزوں کا استعمال
    👈 پرانی گاڑیوں کا بےدریغ استعمال

    چند ایک وجوہات کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
    ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات میں تیزی رفتاری، غیر محتاط ڈرائیونگ، سڑکوں کی خستہ حالی ، گاڑی میں خرابی ، اوورلوڈنگ ، ون وے کی خلاف وزری، اورٹیکنگ، اشارہ توڑنا، غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز ، دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال ، نو عمری میں بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ، بریک کا فیل ہوجانا اور زائد مدت ٹائر وں کا استعمال شامل ہے۔لیکن ان میں سب سے اہم وجہ سڑک استعمال کرنے والے کا جلدباز روّیہ ہے۔ 80 سے 90 فیصد ٹریفک حادثات غیر محتاط رویے کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں ، مگر ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کے لئے قطعاً تیارنہیں، اوریہ ہی ٹریفک کے مسائل اور حادثات کی بنیادی وجہ ہے۔جب تک ہم اپنے رویوں کو درست نہیں کریں گے اس وقت ٹریفک حادثات میں کمی ممکن نہیں۔
    جبکہ ٹریفک حادثات اور مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دلچسپ پہلو بھی سامنے آیا کہ گاڑیوں کے لیے تو موٹر وہیکلز کے قوانین موجود ہیں مگر آہستہ چلنے والی گاڑیاں مثلاً گدھا و بیل گاڑی کے لئے کوئی قانون سازی نہیں ہے، اس وجہ سے روڈ استعمال کرنے والے یہ لوگ قانون سے نہ صرف بالا تر ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر ہونے والے ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات بھی ہیں۔ ان افراد کو تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے ، تاکہ ان کو روڈ استعمال کرنے سے متعلق مکمل آگاہی حاصل ہوسکے

    دنیا بھرمیں سرکاری سطح پر ڈرائیونگ اسکول بنے ہوئے ہیں اور گاڑی چلانے کا خواہشمند ہر شخص کئی دنوں تک اسکول جاتا ہے اور انہیں باقاعدہ طور پر ٹریفک قوانین کے ساتھ ساتھ گاڑی چلانے کی مہارت بھی سکھائی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں اس قسم کا نظام ہونے کے برابر ہے، اکثر لوگ اپنے رشتداروں یا دوستوں سے گاڑی چلانا سکیھ لیتے ہیں اور ایسا کرنا جرم بھی نہیں سمجھتے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں مخصوص ادارے ہی ڈرائیونگ سکھانے کے مجاز ہوتے ہیں۔
    حکومت کو چاہئے کہ ملک بھر میں اس قسم کا نظام متعارف کرائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کےلئے سخت سے سخت سزا مقرر کرے۔ ڈرائیونگ اسکول بنانے سے ملک میں سیکڑوں افراد کو روزگار مہیا ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں تربیت یافتہ ڈرائیور میسر ہونگے

    پاکستان کے ہرصوبے میں الگ الگ قسم کے لائسنس کارڈ جاری کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو مشکلات کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ جعلی کارڈ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ لائسنس کارڈ قومی شناختی کارڈ کی طرح مرکز اسلام آباد سے ہی جاری کیا جائے تاکہ جعلی کارڈ کی روک تھام میں بھی مدد مل سکے۔

    اسی وجہ سے پاکستان میں روڈ ایکسیڈینٹ کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ہے جس کے برعکس پاکستان کی گورنمنٹ کا کام سست روی کا شکار ہوتا ہے باہر کے ممالک میں قانون سازی کرکے اس پہ عمل پیرا کروانا گورمنٹ کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ہم سب کی یہی کوشش ہوگی ہے موجودہ گورنمنٹ اس پر توجہ دے تاکہ بہتری کیلئے بہتر اقدام کرکے لوگوں کو ہلاکتوں سے بچاۓ
    @JingoAlpha

  • افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر :تحریر: محمد جاوید 

    افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر :تحریر: محمد جاوید 

    گزشتہ کچھ دہائیوں سے افغانستان کے حالات میں نشیب و فراز دیکھنے کو ملا ہے۔ خاص کر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پہ حملے کے بعد افغانستان میں امریکی جارحیت  نے خطے میں جیوگرافیائی ، سیاسی ، معاشی اور معاشرتی اثرات مرتب کئے ہیں۔

    افغانستان روس کی طرح امریکہ کے لیے  قبرستان ثابت ہوا اور  شکست خوردہ ھو کر یہاں سے راتوں رات تاجکستان کے راستے سے رہ فرار اختیار کررہا ہے۔

    امریکی آمد کی طرح اسکی یہاں سے روانگی بھی خطے کے حالات کو نیا روخ دے گی۔ افغانستان کے ساتھ ساتھ اس کے ہمسایہ ممالک بھی اس تبدیلی کو محسوس کرینگے ۔خاص کر پاکستان ایران اور انڈیا کے اندر اس تبدیلی کے جھٹکے محسوس کئے جائیں گے۔
    انڈیا اس وقت بہت "شش و پنج”  میں مبتلا ہے ایک طرف افغانستان میں انڈین انویسٹمنٹ ڈوب رہی ہے اور "ڈوبتے ہوۓ کو تنکے کا سہرا” کے مصداق انڈیا افغان حکومت کو بچانے کی "تگ و دو "میں لگا ہوا ہے اور دوسری طرف افغان طالبان سے ملنے کے لئے بھی کوشاں ہے۔ مگر اب تک منہ کی کھانی پڑی ہے مستقبل میں بھی ایسا لگ رہا کہ انڈیا کا رول امریکہ کے ساتھ افغانستان سے ختم ہورہا ہے اور اب انڈیا کو افغانستان میں پاکستان مخالف سازشیں کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔

    رہی بات پاکستان کی تو وہ بھی اس تبدیلی کو ماضی کی طرح پھر سے محسوس کرے گا۔ افغانستان سے امریکی روانگی سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بھی ایک نیا موڑ آئے گا۔پاکستان کو امریکہ کے جانے کے بعد ایک بڑا چیلنج کا سامنا ہے کہ کسی طرح افغانستان میں امن قائم ہو اور خانہ جنگی نہ ہو ۔
    اگر خدا نہ خواستہ افغانستان میں ایک بار پھر خانہ جنگی ہوتی ہے تو اس کے برے اثرات یقینی طور پر ماضی کی طرح پاکستان پہ مرتب ہونگے اسلیے پاکستان مستحکم  اور پرامن افغانستان کے لئے ہر ممکن کوشیش کرے گا۔

    پروفیسر عمیر انس کہتے ہیں کہ "ایران کے پاس ایک نیا صدر ہے اور انڈیا اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کی نئی حکومت کے ساتھ تیل کی قیمتوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی آمد کے بعد ایران پر کچھ پابندیاں ہٹائے جانے کی امید ہے اور ممکن ہے کہ انڈیا اس سے فائدہ اٹھانا چاہے گا۔”
    افغانستان کے حالات نازک دور سے گزر رہے  ہیں خطے کا ہر ملک آنے والے حالات سے اضطراب کی کفیت میں دیکھائی دے رہا ہیں۔
    اب خطے کے دیگر ممالک کو چاہئے کہ ایک بلاک بنا کر چین روس کے ساتھ ملکر افغانستان کے امن کے لئے کوشش کریں نہیں تو یہ خانہ جنگی کے منفی اثرات پورے خطے کے ممالک پر ہونگے۔ اس لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں امن ہو اور افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر ہے۔

  • ‏سوشل میڈیا :تحریر:  شاہ زیب

    ‏سوشل میڈیا :تحریر: شاہ زیب

    سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے سحر میں گرفتار کر رکھا ہے۔ یقیناً سوشل میڈیا جہاں معلومات و روابط کا تیز ترین زریعہ ہے، وہیں پر کسی حد تک سوشل میڈیا صارفین کی ایک تعداد ایسی بھی ہے جو اس کے ذریعے اپنی منفی سوچ و رویے سے دوسروں کے لئے باعثِ تکلیف و پریشانی بھی بنتے ہیں۔
    بنیادی طور پر کوئی بھی چیز بُری نہی ہوتی جبتک اس کا ستعمال برائی کو پھیلانے یا دوسروں کو تکلیف پہنچانے کے لئے نہ کیا جائے۔ سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا لوہا منوانے کے لیے ایک مضبوط پلیٹفارم مہیا کیا ہے۔
    مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بھی ایک بہت بڑی تعداد سوشل میڈیا پر اپنی صلاحیات کو بروئےکار لانے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ کُچھ منفی سوچ و رویہ کے حامل لوگوں کی وجہ سے سوشل میڈیا بھی اُن کے مضمرات سے بچ نہ پایا۔

    دنیا کے بائیس مختلف ممالک کی لڑکیوں پر کیے گئے ایک سروے کے مطابق 60 فیصد لڑکیوں کو سوشل میڈیا پر بدسلوکی یا ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لڑکیوں پر حملے سب سے زیادہ فیس بک پر ہوتے ہیں۔

    ایک عالمی سروے کے مطابق آن لائن بدسلوکی اور ہراساں کیے جانے کی وجہ سے لڑکیاں سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرنےپر مجبور ہورہی ہیں۔ اس سروے میں شامل 58 فیصد سے زیادہ لڑکیوں کے مطابق انہیں کسی نہ کسی قسم کی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لڑکیوں پر حملے سب سے زیادہ فیس بک پر ہوتے ہیں، اس کے بعد انسٹاگرام، واہٹس ایپ اور سنیپ چیٹ کا نمبر ہے۔
    پلان انٹرنیشنل نامی تنظیم کی جانب سے کیے گئے سروے میں 22 ممالک میں 15 سے 22 برس کی عمر کی 14000 لڑکیوں سے بات کی گئی۔ اس میں امریکا، برازیل، یورپین ممالک اور بھارت کی خواتین سے سوشل میڈیا کی افادیت و نقصانات پر کی گئی تفصیلی گفتگو کے مطابق بدسلوکی کا یہ سلسلہ ہر آنے والے وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے جس کی بدولت نوجوان اور ٹیلینٹڈ لڑکیوں کی بڑی تعداد خود یا اپنی فیملی کی وجہ سے سوشل میڈیا کو چھوڑنے پر مجبور ہوئیں

    فیس بُک
     سوشل میڈیا پر خواتین پر بد سلوکی اور ہراسانی ایک عام بات تصور کی جاتی ہے۔ فیس بک پر یہ حملے سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔  39 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں فیس بک پر بدسلوکی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ سروے کے مطابق انسٹا گرام پر 23 فیصد، واہٹس ایپ پر 14 فیصد، اسنیپ چیٹ پر 10 فیصد، ٹوئٹر پر 9فیصد اور ٹک ٹاک پر6 فیصد لڑکیوں کو  ہراساں کرنے اور ان کے ساتھ بدتمیزی کا رجحان پایا گیا ہے۔ جو بتدریج بڑھ رہا ہے

    کون سا سوشل میڈیا پلیٹفارم محفوظ ہے
    سروے سے اندازہ ہوا کہ بدسلوکی یا ہراساں کیے جانے کی وجہ سے ہر پانچ میں سے ایک لڑکی نے سوشل میڈیا کا استعمال یا تو بند کردیا یا اسے بہت حد تک محدود کردیا۔ سوشل میڈیا پر بدسلوکی کے بعد ہر دس میں سے ایک لڑکی کے اپنی رائے کے اظہار کے طریقہ میں بھی تبدیلی آئی۔
    سروے میں شامل 22 فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ وہ یا ان کی سہیلیوں نے ہراسانی کے خوف کی وجہ سے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔
    سروے میں شامل 59 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پرحملے کا سب سے عمومی طریقہ توہین آمیز، غیر مہذب اور نازیبا الفاظ اور گالی گلوچ کا استعمال تھا۔  41 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ وہ ارداتاً شرمندہ کرنے کے اقدامات سے متاثر ہو کر کنارہ کش ہوئیں، حتیٰ کہ باڈی شیمنگ‘ اور جنسی تشدد کے خطرات کے خوف نے اُنہیں مجبور کر دیا۔ اسی طرح 39 فیصد نسلی اقلیتوں پر حملے، نسلی بدسلوکی کی شکار ہوئیں۔

    خود اعتمادی میں کمی
    پلان انٹرنیشنل کی سی ای او اینی بریگیٹ البریکسٹن کا کہنا تھا کہ ”اس طرح کے حملے جسمانی نہیں ہوتے لیکن وہ لڑکیوں کی اظہار رائے کی آزادی اور سوشل ایکٹیویٹی کے لیے خطرہ ہوتے ہیں اور ان کے اعتماد محدود کردیتے ہیں۔

    اینی بریکگیٹ کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو آن لائن تشدد کا خود ہی مقابلہ کرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور صحت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
    فیس بک اور انسٹا گرام کا کہنا ہے کہ وہ بدسلوکی سے متعلق رپورٹوں کی نگرانی کرتے ہیں اور دھمکی آمیز مواد کا پتہ لگانے کے لیے آرٹیفیشل یا ذہنی انٹلی جینس کا استعمال کرتے ہیں اور اس پر کارروائی بھی کی جاتی ہے۔
    ٹوئٹر کا بھی کہنا ہے کہ وہ ایسی تکنیک کا استعمال کرتا ہے جو توہین آمیز مواد کی نشاندہی کرسکے اوراسے روک سکے۔
    سوشل میڈیا مینجمنٹ کے اِن اقدامات کے باوجود مذکورہ بالا سروے  سے بآسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے والی تکنیک اب تک اُس طرح سے موثر نہیں رہی۔
    چنانچہ مزید اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اِس اخلاقی اور قانونی جُرم کی روک تھام کی جا سکے۔
    اس کے ساتھ ساتھ والدین کو اپنی بیٹیوں کے اعتماد اور ہمت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اُن کی تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ وہ معاشرے میں خود اعتمادی کے ساتھ ہر آنے والے چیلنج کے ساتھ کامیابی سے نمٹ سکیں۔ شکریہ
    @shahzeb___

  • کووڈ کی علامات و حقائق اور اس سے بچاؤ :تحریر: سجاد علی

    کووڈ کی علامات و حقائق اور اس سے بچاؤ :تحریر: سجاد علی

    کووڈ – 19 مختلف انسانوں پر مختلف طرح سے اثر انداز ہوتا ہے. بہت سے متاثرہ افراد میں بہت ہی معمولی نوعیت کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور وہ بغیر ہسپتال داخل ہوئے بھی تندرست ہو جاتے ہیں.

    عام ابتدائی علامات :

    1- بخار
    2- خشک کھانسی
    3- تھکاوٹ

    غیر عام علامات :

    1- جسم درد
    2- گلہ کی سوزش
    3- اسہال
    4- آشوبِ چشم
    5- سر درد
    6- زائقہ اور سونگھنے کی حس کا غائب ہونا
    7- جلد کی سوزش
    8- جلد کی رنگت تبدیل ہونا

    سنگین علامات :
    1- سانس لینے میں دشواری
    2- سینے کا درد یا دباؤ
    3- بول چال یا حرکت کا ماؤف ہو جانا

    اگر آپ سنگین علامات کا شکار ہیں تو فورا معالج سے رجوع کریں.

    عام اور ہلکی علامات والے افراد جو کسی اور مرض میں مبتلا نہیں، گھر میں ہی معالج کی ہدایات کے مطابق عمل کر کے علامات پر قابو پا سکتے ہیں.

    کووڈ کی علامات پانچ سے چھ دن میں ظاہر ہوتی ہیں. اور بعض اوقات چودہ سے بیس دن میں نمایاں ہوتی ہیں.
    کم و بیش یہی دورانیہ مکمل صحتیابی کا بھی ہے، چودہ سے بیس دن میں مریض مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں. بعض اوقات زیادہ سیریس علامات کی صورت میں دورانیہ تیس سے چالیس دن کا ہو سکتا ہے.

    احتیاطی تدابیر :

    کووڈ – 19 سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں. تجویز کردہ احتیاطی تدابیر اپنا کر اپنی اور دوسروں کی صحت کا خیال رکھا جا سکتا ہے اور اسے مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے.

    1- باہر جاتے وقت اچھے اور معیاری فیس ماسک کا استعمال کریں.
    2- بلا ضرورت ہجوم میں جانے سے گریز کریں.
    3- دو میٹر کا سماجی فاصلہ برقرار رکھیں. متاثرہ فرد سے قریب ہونے کی صورت میں کورونا سمیت دیگر وائرس منتقل ہونے کا خدشہ رہتا ہے.
    4- جب ضرورت ہو تو پانی اور صابن سے اپنے ہاتھ دھوئیں. ایسا کرنے سے ہاتھوں پر موجود وائرس ختم ہو سکتے ہیں.
    5- ہاتھ مختلف چیزوں کو چھونے کی وجہ سے وائرس منتقل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہو سکتے ہیں اس لیے آنکھ، ناک اور منہ چھونے سے اجتناب کریں.
    6- اپنے نظام تنفس/سانس کی صحت کا خیال رکھیں.
    7- طبیعت بہتر محسوس نہ ہو تو گھر پر رہیں. اس طرح اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے.
    8- بخار، کھانسی یا سانس لینے میں مشکل ہو تو فوراً معالج سے رجوع کریں.
    9- تمام سبزیوں اور پھلوں کو اچھی طرح دھو کر استعمال کریں.
    10- پکے ہوئے اور خام کھانوں، گوشت وغیرہ کے لیے الگ کٹنگ بورڈز اور چھریاں استعمال کریں.
    11- ایک دوسرے کے استعمال شدہ برتن استعمال کرنے سے اجتناب کریں.
    12- برتن اچھی طرح دھو کر خشک کر کے ڈھک کر رکھیں.
    13- بیمار جانوروں کا، یا باسی گوشت مت استعمال کریں.
    14- مارکیٹوں میں آوارہ جانوروں، کچرے اور فضلے سے دور رہیں.
    15- جانوروں یا ان سے متعلق مصنوعات کو استعمال کرتے وقت ہاتھوں پر دستانے پہنیں.
    16- جانوروں یا ان کی مصنوعات کو چھونے کے بعد صابن سے ہاتھ دھوئیں.
    17- یونیفارم صاف ستھرا رکھیں، روزانہ دھوئیں.
    18- باہر سے واپس آنے پر نہا کر لباس تبدیل کر لیں اور لباس دھو دیں.
    19- اہلخانہ کو کام کی جگہ پر پہنے جانے والے لباس/یونیفارم سے دور رکھیں.
    20- مکمل گھر، خاص کر کچن، باتھ روم اور زیادہ استعمال ہونے والے حصے، کام کی جگہ، زیرِ استعمال چیزیں، سواری وغیرہ کو کم ازکم دن میں ایک بار جراثیم کش دوائی سے ضرور صاف کریں.
    21- بیمار جانوروں یا غیرصحت مند نظر آنے والے جانوروں سے دور رہیں. اور ان کا علاج کروائیں.
    22- صابن اور پانی میسر نہ ہونے کی صورت میں ہینڈ سینیٹائزر وائیپس یا لیکویڈ ہمیشہ اپنے پاس رکھیں.
    23- کورونا وائرس سے متعلق تازہ ترین صورتِ حال سے آگاہ رہیں.
    24- اپنے معالج، طبی اداروں اور حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کریں.

    اللہ ہم سب کو اس ناگہانی آفت سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین

  • عام سی دنیا اور خصوصی بچے . تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    عام سی دنیا اور خصوصی بچے . تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ان کے گھر بچے کی پیدائش ہوئی، بہت پیارا صحت مند بیٹا۔اس کا نام ذیشان رکھا گیا، لیکن چند ہی دن بعد ایسا محسوس ہوا کہ بچے کے جسم کا ایک حصہ دوسرے حصے سے چھوٹا اوروہ صحیح طرح حرکت نہیں کر رہا جب اس کو ہسپتال لے گئے تو پتہ چلا کہ بچہ Cerebral Palsy کا شکار ہے۔مدیحہ اور حیات حیران کہ بظاہر بالکل ٹھیک نظر آنے والا بچہ اس بیماری کا شکار کیسے ہوا؟ یہ بیماری میں بچوں کے دماغ کی نشوونما سے روکتی، جس سے اعصاب پر فرق پڑتا ہے بچے چل نہیں سکتے بول نہیں سکتے اور کچھ کیسز میں بات کرنے اورچیزیں سمجھنے سے قاصر ہوتے، یعنی دماغیجسمانی بیماری دونوں ایک ساتھ حملہ کرتی۔ کچھ کیسز میں بچوں کو دورے پڑتے جوکہ بچے کو دماغی اعصابی طور پر مزید کمزور کرتے۔
    یہ خبر ان دونوں کے لیے بہت تکلیف دہ تھی۔ اتنے چھوٹے سے بچے کے ٹیسٹ، اتنی دوائیاں اور ان کا بچہ روتا بھی نہیں تھا کیونکہ بیماری کی وجہ سے اس کے پاس بولنے کی طاقت بھی نھیں تھی۔ جیسے جیسے ذیشان بڑا ہونے لگا تو اس کی معذوری سب کے سامنے آگئی، نا چل سکتا، نا بول سکتا اور چیزیں پکڑ نہیں سکتا ۔ یہاں سے کڑا امتحان شروع ہوا۔ لوگوں نے ان کو طعنے دینا شروع کردیے کہ یہ بچہ ایسا کیوں، تم دونوں نے ضرور کوئی گناہ کیا، لگتا کسی کی بددعا لگ گئی۔ ان کے اپنے خاندان میں گود بھرائی کی تقریب تھی، مدیحہ کو اس لیے رسم نہیں کرنے دی گئی کہ کہیں ان کے جیسا بچہ نا پیدا ہوجائے۔ وہ ساری تقریب میں مجرم کی طرح کھڑی رہی۔ سب اس کو مشکوک نظروں سے دیکھتے تھے۔ لوگ اس کو طعنے دیتے، اس کو کہتے، اور بچے پیدا نہ کرنا تم میں کوئی نقص ہے، جبکہ ایسا نہیں تھا، مدیحہ اور حیات اچھے انسان تھے۔

    بیٹے کی بیماری اور لوگوں کی نفرت نے مدیحہ کو ذہنی مریض بنا دیا، وہ ہر وقت روتی رہتی، تاہم اس کے شوہر نے اس کا بہت ساتھ دیا، وہ بچے کا بھی خیال کرتا اور اس کا بھی دھیان کرتا۔ پھر ایک ماہر نفسیات سے ملنے کے بعد اس کی زندگی میں تبدیلی آئی۔ اُس نے دونوں میاں بیوی کا سمجھایا کہ دماغی اور جسمانی معذوری کے پیچھے طبی وجوہات ہوتی ہیں، یہ کسی بددعا یا جادو ٹونے کا نتیجہ نہیں۔ یہ قسمت میں لکھا تھا کہ آپ دونوں نے دنیا میں جنت کمانی تھی۔ ایک خصوصی بچے کی خدمت اور اس سے پیار کرکے آپ کو جو روحانی سکون ملے گا وہ شاید کسی اور چیز سے میسر نہ آئے۔ نابینا پن، قوت گویائی قوت سماعت سے محروم تو عام انسان بھی ہوسکتا ہے، کچھ حادثات میں انسانوں کا ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے اسی صورت میں علاج اور تھراپی سے کوشش کی جاتی ہے کہ انسان کو اس قابل کیا جائے کہ وہ روزمرہ زندگی میں اپنا تھوڑا حصہ ڈال سکے۔ ماہر نفسیات نے ان دونوں کو سنٹر برائے خصوصی اطفال میں بھیج دیا، یہ سرکاری ادارہ تھا، سہولیات تو کم تھیں، لیکن سٹاف بہت اچھا تھا، انہوں نے ذیشان کو مختلف ورزشیں کروائ، فزیو تھراپی کروائی، اس کے لیے خصوصی جوتے بنوائے گئے۔ تھراپی، علاج اور اساتذہ کی وجہ سے ذیشان میں تبدیلی آئی۔ پہلے جو شان ہر وقت بستر پر رہتا تھا، اس نے چیزیں پکڑنا شروع کردیں اور چلنے کی کوشش کرنے لگا۔ دو سال میں شان بیٹھنے اور ہاتھ سے چیزیں کھانے کے قابل ہوگیا۔ مدیحہ اور حیات دونوں مل کر ذیشان کا کام کرتے، تاہم وہ دیکھتے کہ خصوصی بچوں کے لیے نہ ہی پارکس میں جھولے اور نہ ہی ان کیلئے کھلونے بازار میں ملتے ۔ وہ اکثر یہ ناانصافی دیکھ کر اداس ہوجاتے۔ ذیشان کو اپنے سکول میں بہت سے دوست مل گئے، کوئی بول نہیں سکتا تھا، کوئی چل نہیں سکتا تھا، کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا، لیکن سب بہت پیارے۔ یہ بچے تو دنیا کی ہر چیز سے زیادہ معصوم تھے، ایک دوسرے سے کوئی نفرت نہیں تھی، وہاں سب کی مل کی سالگرہیں منائی جاتی۔ بہت سے خاندان ان خصوصی بچوں کی بدولت قریب آگئے۔ حیات کی ٹرانسفر ہوگی، جب دوسرے شہر میں آکرانہوں نے شان کو خصوصی بچوں کے سکول میں داخل کروایا تو وہ یہ سن کر حیران رہ گئے کہ فیس پچاس ہزار روپے ماہانہ تھی، یہ سکول صرف خصوصی بچوں کے والدین کو لوٹنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ایسے سکول شاید پورے ملک میں بہت جگہ ہوں، لیکن حکومت کی دلچسپی نہیں، شاید خصوصی بچے ان کی ترجیح نہیں۔ مدیحہ نے ذیشان کی ہوم سکولنگ شروع کروادی اور ساتھ ہی ڈاکٹر سے سپیچ تھراپی اور ایکسر سا ئز بھی۔ وقت گزرتا گیا آج شان آٹھ سال کا ہے، وہ خود چل سکتا ہے، اپنے ہاتھ سے کھانا کھاسکتا ہے اور تھوڑا تھوڑا بول لیتا ہے۔ بہت اچھی تصویریں بناتا ہے، سب کہتے ہیں یہ بڑا ہوکر آرٹسٹ بنے گا۔ وہ خصوصی بچوں کیلئے قائم سرکاری سکول میں جاتا ہے، اس کی والدہ خود اس کو لے کر جاتی ہیں، تھراپی، کونسلنگ اور علاج نے اس کو پہلے سے بہت فعال کردیا ہے۔ طبی بنیادوں پر وہ مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوسکتا، لیکن وہ اب کسی پر بوجھ نہیں ہے۔

    خصوصی ضروریات کی چار اقسام ہیں، وہ جن کو جسمانی مسائل ہوں، جنہیں نشوونما میں مسائل کا سامنا ہو، جن کو جذباتی رویے اور دماغ کے مسائل ہوں اور جس میں کمزوری شامل ہے۔ بچوں میں یہ بیماریاں عام ہیں :Down syndrome، Autism، ADHD، Bipolar disorder، Dystrophy، Epilepsy، Dyslexia، Visually impaired and Blindness۔ ان سے مکمل صحت یاب تو نہیں ہوسکتے، لیکن تھراپی اور ادویات سے جزوی فعال کیا جاسکتا ہے۔ خصوصی بچے اللہ کی نعمت ہیں، جن سے شفقت اور خدمت کرکے ہم جنت کماسکتے ہیں۔ جب بھی کسی خصوصی بچے کو دیکھیں، اس کے والدین سے غیر ضروری سوال نہ کریں۔ والدین کی اجازت سے اس بچے کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھ دیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کے والدین کو استقامت دے اور وہ اسی طرح اپنے بچے کا خیال کرتے رہیں۔ خصوصی بچے عذاب نہیں جنت کے پھول ہیں، انہیں پاگل مت کہیں، ان کے والدین کے ساتھ بدتمیزی نہ کریں، ان کو تکلیف نہ دیں۔

  • کراچی خاموش کیوں ؟ تحریر :ام امیمہ

    کراچی خاموش کیوں ؟ تحریر :ام امیمہ

    ‏تغافل کی آغوش میں سورہے ہیں
    تمہارے ستم اور میری وفائیں —

    ہر شہر اور صوبے کو وہاں رہنے والے لوگوں سے منسوب کیا جاتا ہے ۔
    جیسے پشاور کو پٹھانوں سےپنجاب کو پنجابیوں سے بلوچستان کو بلوچوں سے۔
    لیکن کراچی سب کا ہے سب کے لئے ماں کی شفقت رکھتا یہ شہر وطن عزیز کے ہر شہری کو ماں کی طرح آغوش میں سمیٹ لیتا ہے !
    لیکن ستم دیکھیے کے وفائیں تقسیم کرتا شہر نہ صرف حکومتی عدم توجہ کا شکار رہا بلکہ ہم یہاں بسنے والے بھی شریک جرم ہیں کبھی نا اہلوں کو ووٹ دے کر تو کبھی ہر نا انصافی پر خاموش رہ کر !
    آخر اہلیان کراچی اس قدر خاموش کیوں رہے؟ ہمیں ٹوٹے پھوٹے روٹ دیئے گئے
    ہم "خاموش ” ہمیں بجلی کے طعطل کا سامنا کرنا پڑا ہم نے خاموشی سے جنریٹر اور یو پی ایس خرید لئے ہمیں مردم شماری میں کم گنا گیا ہم پھر خاموش رہے یہ طویل خاموشی یا تو کسی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے یا میسر کچھ سہولتوں سے بھی محروم کر سکتی ہے۔
    پہلے معمولی بارشوں سے نصف کراچی زیر آب آتا ہے لیکن گزشتہ سال ہونے والی مون سون کی بارشوں میں پورا کراچی ڈوب چکا تھا اب چاہے وہ پاپوش نگر ہو لیاقت آباد ہو یا ڈیفنس کی گلیاں سب نے

    پانی پہ کشتیاں چلائی ۔
    اب سندھ سرکار مانے یا نہ مانے سعید غنی شارع فیصل کا صاف ستھرا حصہ تلاش کرنے کے بعد
    "سب نارمل ہے” کی رپورٹ دیتے رہیں
    لیکن اہلیان کراچی نے پانی میں کشتیاں چلائی سو حقیقت سے رو شناس ہیں !

    گزشتہ سال کراچی میں مون سون کی بارشوں نے 90 سالہ ریکارڈ توڑا بادلوں اور بارشوں کی یہ سازش جاری رہی تو ریکارڈ بنتے ٹوٹتے رہیں گے۔
    اگر بات آج کی بارش کے حوالے سے کی جائے تو ایک طرف نکاسی آب کے معاملات کچرے سے بھرے نالے حکومت سندھ کی سیاست کو اپنے اندر دفن کر رہے ہیں وہیں بجلی کی بندش نے شہریوں کے لئے باران رحمت کو زحمت بنا دیا کئی علاقوں میں بارش کی پہلی بوند کے ساتھ بجلی لمبی رخصت پر گئی اور رات گئے لوٹی لیکن گلستان جوھَر کے بلاک 18 سمیت مختلف علاقوں میں آدھی رات تک بجلی موجود نہیں تھی
    گلستان جوھَر بلوچستان سجی کے سامنے تنگ آئے شہریوں نے مین روڈ بلاک کر کے احتجاج کیا
    آخر وطن عزیز کا سب سے بڑا شہر جو ملک کی معشیت میں۔ ریڈ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہے
    کب تک زبوں حالی کا شکار رہے گا

  • ‏غیبت ،ایک ناجاٸز اور قبیح گناہ .تحریر حمزہ احمد صدیقی

    ‏غیبت ،ایک ناجاٸز اور قبیح گناہ .تحریر حمزہ احمد صدیقی

    آج ہمارے معاشرہ میں جو برائیاں،خرابیاں اور تباہ کاریاں سرکش عفریت کی طرح سر اٹھائے کھڑی ہیں ان کا شمار کرنا ناممکن ہے مگر غیبت ایک ایسا ناجاٸز ، قبیح گناہ ہے ،جس نے ہمارے معاشرہ کا امن اور سکون بربادکر دیاہے۔ اس سنگین گناہ کی قباحت و شناعت قران و سنت کے اندر واضح ہے مگر افسوس ہے کہ آج کی محفلیں اس گناہِ بے لذت سے آباد ہیں ۔

    مکرمی! غیبت کیا ہے ؟ کسی کے پس پشت اس کے کسی ایسے عیب کوذکر کرناجواس میں موجود بھی ہواورمقصداس کی برائی ہو اوراگر اسے اس بارے میں معلوم ہوجائے تو اسے ناگوار گزرے یہ غیبت ہے

    حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺنے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام رضوان ﷲ علیہ اجمعین نے کہا ﷲ اور اس کا رسولؐ ہی بہتر جانتے ہیں؟ آپ ﷺنے فرمایا: اپنے بھائی کے اس عیب کو بیان کرے کہ جس کو وہ ناپسند سمجھتا ہے۔ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اگر وہ عیب واقعی اس بھائی میں ہو جو میں بیان کر رہا ہوں۔ تو آپ ﷺنے فرمایا : اگر وہ عیب اس میں ہے جو تم کہہ رہے ہو تو وہ تبھی تو غیبت ہے اگر اس میں نہ ہو تو وہ بہتان ہے۔
    (صحیح مسلم)

    قرآن نے اس گناہ کو مردہ انسان کے گوشت کھانے سے توصیف کیا ہے اور روایات میں اس کا گناہ زنا کرنے سے بھی زیادہ شدید کہا گیا ہے، غیبت کا شمار بھی گناہ کبیرہ میں ہی آتا ہے اور اس حوالہ سے اس قدر ممانت ہے کہ عام زندگی میں اس کا تصور بھی محال ہے، اللہ اور اس کے محبوبؐ نے غیبت کو پسند نہیں کیا اورغیبت کا شمار بھی گناہ کبیرہ میں ہی آتا ہے

    ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو۔ کیا پسند کرتا ہے تم میں سے کوئی شخص کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے تو مکروہ سمجھتے ہو۔ اور ڈرتے رہا کرو ﷲ سے، بے شک ﷲ تعالی بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔ (الحجرات)

    یہاں بہت واضح ہے کہ اللہ تعالی نے غیبت کرنے سے منع فرمایا ہے اور غیبت کرنے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے اور جگہ ارشاد ربانی ہے کہ بڑی خرابی ہے ایسے شخص کی جو غیبت ٹٹولنے والا غیبت کرنے والا ہو، سوۃ الحمزہ، آیت نمبر 1،

     خاتم النبیین ﷺکا فرمانِ ہے:معراج کی رات ميں ايسی عورَتوں اور مَردوں کے پاس سے گزرا جو اپنی چھاتیوں کے ساتھ لٹک رہے تھے، تو ميں نے پوچھا:اے جبرئيل! يہ کون لوگ ہيں؟ عرض کی:يہ منہ پر عيب لگانے والے اور پيٹھ پيچھے برائی کر نے والے ہیں

    اگر ذرا اپنی محفلوں، مجلسوں پر نظر ڈالیے! کس قدر اس گناہ کا رواج ہو چکا ہے اور ہم دن رات اس گناہ میں مبتلا ہیں غیبت کا تعلق حقوق العباد سے ہے اور حقوق العباد کا معاملہ یہ ہے کہ جب تک بندہ اس کو معاف نہ کرے اس وقت تک یہ معاف نہ ہوگا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں پر لعنت وملامت کی گئی ہے جوایک دوسرے کی غیبت اور چغلخوری کرتے ہیں ،اور ادھر کی بات ادھر پھیلایا کرتے ہیں یا ایک دوسرے کی راز کو فاش کرکے سماج میں فتنہ وفساد پھیلانے کا ذریعہ وسبب بنتے ہیں نیز آپسی دوستانہ و یارانہ تعلقات کو خراب کرتے نیز ایسا کرکے معاشرے کے اندر برائیوں ، بےحیائیوں اور فحاشیوں کو عروج دیتے ہیں

    آج کل لوگ دعاؤں میں کم اور
    غیبتوں میں زیادہ یاد رکھتے 

    میرے بھائیو! حقیقت یہ ہے کہ ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی عزّت کا محافظ ہے مگر افسوس!ایسا نازک دور آ گیا ہے کہ اب اکثر مسلمان ہی دوسرے مسلمان بھائی کی عزّت کے پیچھے پڑا ہوا ہے جی بھر کر غیبتیں کررہا ہے اور چغلیاں کھا رہا ہے غیبت میں مرتکب ہونے کے علاوہ، اس کو سننا بھی حرام ہے جس مجلس میں کسی کی غیبت ہو رہی ہو تو گفتگو کا رخ بدلنے کی کوشش کریں کوئی دوسرا موضوع چھیڑ دیں کیونکہ غیبت کرنے والا دوقسم کے جرائم کا مرتکب ہوتا ہے

    ایک جرم تو اللہ تعالیٰ کے حق میں کرتا ہے، جس کا کفارہ یہ ہے کہ اپنے جرم پر ندامت کا اظہار کرے، جبکہ دوسرا جرم بندے کے حق میں کرتا ہے ، جس کا کفارہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہے ،اگر اُس شخص کو غیبت کا علم ہوا ہو تو اس سے معذرت کا اظہار کرے، اور اگر اس کو غیبت کا علم نہ ہوا ہو تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرے اور اُس بندے کے حق میں نیک دعا کرے،نیز یہ یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے اور اللہ کے فرشتے اس کے ایک ایک عمل کو قلمبند کر رہے ہیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ؟کہ غیبت سے کس طرح پرہیز کیا جائے۔ جب دل خیشت الہی سے سرشار ہو،آخرت کی زندگی کا پختہ یقین ہوگا اور قبر کی زندگی ہر وقت یاد ہوگی تو یقین مانیے، یہ گناہ سرزد نہیں ہوگا۔ کوشش کیجیے غیبت سے خود بھی بچیں اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی اس قبیح گناہ سے بچاٸیں کیونکہ غیبت کی خباثتوں معاشرے میں ناچاقی ، بے چینی ،اختلاف وانتشار کا ماحول پیدا ہو تا ہے لہذاہمیں غیبت سے باز رہنا چاہیے اور ایک صالح ، پاکیزہ اور تعمیری معاشرہ قائم کرنے لیے ہمہ دم جد وجہد کر نی چاہیے۔

    ﷲﷻ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو غیبت جیسی جان لیوا بیماری سے بچائے۔آمین!!

  • لاقانونیت  . تحریر:فرمان اللہ

    لاقانونیت . تحریر:فرمان اللہ

    کسی بھی معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی سب سے بڑی وجہ لاقانونیت ہوتی ہے۔ اگر ایک طرف ریاست قانون نافذ کرنے میں ناکام رہتی ہے تو دوسری طرف عوام قانون کو توڑنے میں پیش پیش ہوتی ہے۔ قانون کا رکھوالا اگر ایک طرف رشوت لیتا ہے تو دوسری طرف جن کے لیے قانون بنتا ہے وہ رشوت کی پیش کش کرتے ہیں۔

    میں بیرون ملک مقیم ہوں لیکن جس طرح یہاں قانون کی پاسداری کرتا ہوں ویسے ہی پاکستان جا کر بھی کرتا ہوں۔ جس طرح تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اسی طرح قانون کا نفاذ بھی ریاست اور عوام دونوں ملکر کرتے ہیں اور جس معاشرے میں لاقانونیت ہو اُس معاشرے میں طاقتور قانون کو اپنے گھر کی لونڈی بنا لیتا ہے اور ایسے معاشرے میں ظلم کی انتہا بھی ہوتی ہے اور ظلم کا حساب بھی نہیں ہوتا۔

    ریاست کے ساتھ ساتھ اگر عوام بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے قانون کو فالو کرے تو یقیناً قانون کے رکھوالے بھی اپنے فرائض سرانجام دیں گے

    @ForIkPakistan

  • کس سے منصفی چاہیں :تحریر: عرفان محمود گوندل

    کس سے منصفی چاہیں :تحریر: عرفان محمود گوندل

    سینئر ایڈوکیٹ بشیر قاضی صاحب نے ایک بار کہا تھا کہ بندہ دو وجوہات سے دھوکہ کھاتا ہے ۔ پہلی وجہ لالچ اور دوسری وجہ اعتماد
    یعنی آپ جس سے دھوکہ کھاتے آپ اس کی باتوں میں آجاتے ہیں اور زیادہ کے لالچ میں دھوکہ کھا جاتے ہیں
    دوسری وجہ جب کسی پر آپ کو اعتماد ہو ۔ لیکن دوسرے کی نیت میں فتور ہو تو وہ آپ کو دھوکہ دیتا ہے ۔
    یہ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے جب قاضی بشیر ایڈوکیٹ صاحب کے ساتھ کسی محفل میں بیٹھا تھا تو ان کی زبانی سنا تھا ۔
    لیکن آج کا معاشرہ ان دو باتوں کے علاؤہ بھی دھوکے دیتا ہے ۔ بلکہ اب تو دھوکہ دینے کے لیے منظم گروہ بن چکے ہیں ۔
    باقاعدہ ایک ادارہ تشکیل پاتا ہے اور وہ عوام کو چونا لگا کے غائب ہو جاتا ہے ۔
    پھر غائب بھی ایسے ہوتا ہے کہ اس کے آثار بھی گم ہو جاتے ہیں ۔
    اسی طرح مجرمین کو چھپانے غائب کرنے یا عدالتوں سے بری کروانے کے بھی ہزار طریقے ایجاد ہو چکے ہیں ۔
    دو نمبر دستاویزات تیار کرنے ، بیک ڈور چینل سے ڈگریاں لائسنس اور دوسری دستاویزات تیار کروانا ۔۔ جیسے یہ سب کچھ قانونی ہوتا جارہا ہے اور لوگ اسے قبول کررہے ہیں ۔
    قوانین معاشرے تشکیل دیتے ہیں
    آج سے سو سال پہلے کے حالات میں جو قوانین نو آبادیاتی نظام کی صورت میں ہم پر لاگو ہوئے تھے ان کو اس وقت کے معاشرے نے قبول کیا ۔
    آج سے چالیس پچاس سال پہلے تک اسی علاقے کے لوگ ان قوانین کا احترام کرتے تھے

    افسران رشوت نہیں لیتے تھے
    عوام رشوت دینا جرم سمجھتے تھے
    قوانین کا احترام تھا
    اساتذہ ایک ہی طرح کا نصاب پڑھاتے تھے نہ ٹیوشن سینٹر نہ اردو انگریزی الگ نظام تعلیم۔
    ٹریفک قوانین پہ عمل ہوتا تھا،
    عدالتیں سزائیں دیتی تھیں تو وہ قبول کی جاتی تھیں ۔
    مجرم جیل میں ہوتا تھا تو وہ جیل میں ہی رہتا تھا ۔ یہ نہیں ہوتا تھا کہ جعلی مریض بن کے ہسپتال منتقل ہو جاتا تھا ۔ یا رات کو گھر اور دن میں دکھانے کےلیے جیل میں۔
    اشتہاری مجرم واقعی اشتہاری ہوتے تھے نہ کہ پولیس کی حفاظت میں۔
    ملاوٹ کرنا جرم تھا
    ناپ تول پورا تھا
    وغیرہ وغیرہ
    لیکن اب ترتیب الٹ ہے ۔
    موجودہ معاشرے کے لوگوں نے ان قوانین کا جو نوآبادیاتی دور میں نافذ ہوئے تھے مذاق بنا دیا ہے۔
    اب قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لیکر قانون پر عمل کرنے والی عوام تک بلکہ خواص تک ان تمام قوانین سے بغاوت کر چکے ہیں۔
    کوئی بھی موجودہ دور کا انسان ان قوانین کو نہ مانتا ہے نہ عمل کرتا ہے نہ عمل کرواتا ہے
    بلکہ جہاں معاشرتی قوانین یا حکومتی نافذ کردہ قوانین آ جائیں یا کوئی ان کے چنگل میں پھنس جائے وہاں شارٹ کٹ کا سہارا لیا جاتا ہے اور قانون پر عمل نہ کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے

    موجودہ قوانین سرکاری ملازمین کی ” اضافی روزی” کا ذریعہ بن چکے ہیں
    عدالتیں
    تھانہ کچہری
    پٹواری
    انکم ٹیکس
    کسٹم
    تعلیم
    حتیٰ کہ ہر ادارہ کے ملازمین کسی بھی پھنس جانے والے شکار کو ضرور قانون کے گندے جالے میں پھنسا کے پیسے نکلواتے ہیں۔
    اور عوام کو بھی معلوم ہے کہ جب تک شارٹ کٹ استعمال نہیں کرنا اس ایک ادارے کے ساتھ ساتھ دوسرے ادارے والوں کو بھی کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا اس لیے قانون سے جان چھڑاؤ اور کچھ دے دلا کے یہیں بات کو ختم کرو ۔
    کیوں نہ ایسے کیا جائے کہ اس روش کو قانونی حیثیت دے دی جائے ؟ یعنی جس طرح معاشرتی تقسیم ہے اسی طرح قوانین بھی تقسیم کر دیے جائیں اور عوام کو آزادی دے دی جائے کہ وہ کون سا طریقہ استعمال کرنا چاہتے ہیں اور اپنے کام کا کیا ریٹ دینا پسند کریں گے
    یعنی کام کروانے کے سرکاری ریٹ مقرر کر دیے جائیں
    جو جتنے پیسے پھینکے گا اس کو اتنا ہی جلدی رزلٹ ملے گا
    مثلاً عدالت کے باہر ریٹ آویزاں ہوں
    تھانے کے باہر ہر طرح کے کیس کے ریٹ آویزاں ہوں
    ہسپتال کے باہر
    کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والوں کی دکانوں پہ
    جیسے
    مردہ چکن کے تکے 40روپے فی
    حلال چکن کے تکے 100 روپے فی
    باسی کھانا 200 روپے فی
    رازی کھانا 400 روپے فی
    ہم رشوت تو ویسے بھی چھپ کے دیتے ہیں
    ہم ملاوٹ زدہ کھانے تو ویسے بھی چھپ کے بیچتے ہیں
    ہم ہر ناجائز کام تو ویسے بھی کرتے ہیں
    جب یہ سب چھپ چھپا کے معاشرے میں جائز ہے تو اس کو ویسے ہی قانونی حیثیت دے دی جائے تو کم از کم حکومتی رٹ تو بحال ہو۔ کم از کم یہ معاشرہ انسانوں کا معاشرہ لگے نہ کہ جنگل کا۔