Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار.تحریر : ریحانہ جدون

    بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار.تحریر : ریحانہ جدون

    بچوں کی تربیت بڑا کٹھن کام ہے کیونکہ آج کے اس دور میں بچے کی تربیت کے ساتھ ساتھ آپکو اپنی تربیت بھی کرنا پڑے گی, آ پکو اپنی عادات بھی درست کرنا پڑیں گی کیونکہ بچہ آ پ سے ہی سیکھتا ہے, آ پ ہی کی نقل کرتا ہے, ہر بات میں ویسا ہی ردعمل ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسا آ پ کرتے ہیں جیسا دیکھے گا ویسا کریگا اور جیسا سنے گا ویسا بولے گا. اپنا بچہ کس کو پیارا نہیں ہوتا… یہ ہمارے پیار کی شدت کا ہی ایک پہلو ہے کہ ہم اسکی ضرورت سے زیادہ دیکھ بھال اور نگرانی کرتے ہیں اور فکر رہتی ہے کہ اسکو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسکا بچہ ذہنی و جذباتی لحاظ سے بھی صحت مند ہو, اُسکا کردار اُسکی عادات اچھی ہوں اور بڑا ہوکر ایک مہذب اور کامیاب انسان بنے.

    ہماری اسی شدت آرزو کی وجہ سے ہم بچے کو متوازن بنانے کی کوشش میں خود متوازن نہیں رہتے اور کئی دفعہ ہم منفی رویہ اختیار کرجاتے ہیں, جیسا کہ عموماً ہم کرتے ہیں,, یہ نہ کرو, وہ نہ کرو, تم کوئی کام نہیں کرتے, یہ کیوں کِیا, یہ کیا کردیا, وغیرہ وغیرہ

    اب زرا غور کریں تو اس میں صرف دو جُز نظر آئیں گے ایک نفی اور دوسرا حکم کا…
    اور یہ دونوں اجزاء تعمیر کے نہیں بلکہ تخریب کے ہیں اور تربیت کے لئے سخت مضر.

    بیشک آپکا مقصد نیک ہے اور آپ اپنے بچے کو اچھا انسان بنانا چاہتے ہیں مگر یہ طریقہ درست نہیں کیونکہ اگر آ پ تعمیر چاہتے ہیں تو آپکا انداز بھی تعمیری ہونا چاہیے .بچہ ایک مستقل شخصیت رکھتا ہے اور اسکی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہوگی. بچے کو مناسب آزادی دیں کہ وہ اپنی اصلی شخصیت ظاہر کرسکے. آپکی ڈانٹ ڈپٹ آپکا منفی رویہ بچے کی شخصیت کو دبا دے گا. کوشش کریں کہ اپنی شخصیت بچے پر مسلط نہ کریں.

    بات چیت اور رویے میں غصے, اکتاہٹ اور کھردرے پن کا ثبوت نہ دیں. اگر بچے کے کسی کام یا بات سے آپکو غصہ آ رہا ہوتو کوشش کریں اُس وقت بچے سے بات نہ کریں, اپنے غصے پر قابو پانے کے بعد بات کریں, صبر و ضبط کا ثبوت نہ دیں گے تو بچوں میں تحمل کہاں سے آئے گا؟اُن کو پیار سے سمجھائیں اور آپکا لہجہ ایسا ہونا چاہیے کہ بچہ اسکو غور سے سُنے اور سمجھے. جہاں تک ممکن ہو انکے کھیل کود میں دخل نہ دیں کیونکہ بچوں کا کھیل بھی انکے کام کا حصہ ہوتا ہے اور کھیل سے وہ کام کرنا سیکھتے بھی ہیں. بچوں کے ساتھ دوستانہ رہنمائی کا انداز اختیار کریں, منفی کی بجائے مثبت رویہ اپنائیں. اسطرح ایک مثبت ذہن تیار ہوگا.

    کئی والدین بچوں کے ساتھ سخت رویہ اپناتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب بچہ کوئی غلطی کردیتا ہے تو والدین کے خوف سے والدین سے بات چھپانے لگتا ہے, بچے کے ساتھ آپکا دوستانہ رویہ ہوگا تو بچہ ہر بات آ پ سے شیئر کریگا. بچہ جب اسکول یا مدرسے سے واپس آ ئے تو دوستانہ رویے سے پوچھیں آج میرےبچے نے کیا کیا پڑھا آج کیا کیا کِیا… اور دیکھنا وہ شوق سے آپکو بتائے گا ہم نے آج یہ پڑھا, آج یہ کھیل کھیلا وغیرہ

    کہنا یہ ہے کہ بچے کی اپنی شخصیت کو ابھرنے کا موقع دیں. آپ اپنی شخصیت کو زبردستی اس پر نہ مسلط کریں. بچے کو کسی جائز کام اور ضروری بات سے محض اس لئے نہ روکیں کہ وہ آپکے مزاج کے خلاف ہے یا آپ کے مشاغل میں فرق آتا ہے. دیکھیں ایک حیوان بھی اپنے بچوں کو بھوکا نہیں چھوڑتا کسی نہ کسی طرح انکا پیٹ بھر دیتا ہے, مگر صرف انسان ہی ہے جو اپنی اولاد کو اگر کچھ قیمتی دے سکتا ہے ہے تو وہ ہے بہترین تربیت… آ پکی یہی بہترین تربیت انسان کی بہترین خدمت بھی ہے اس طرح آپکا بچہ ایک بہترین اور مہذب انسان بنے گا انشاءاللہ

  • یس سر سے ابسلیوٹلی ناٹ تک کا سفر .تحریر: سنگین علی زادہ

    یس سر سے ابسلیوٹلی ناٹ تک کا سفر .تحریر: سنگین علی زادہ

    سوال:
    کیا پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے معاملے میں اتنا ہی غیر سنجیدہ ہے کہ بیس سال پہلے ریاست نے ایک فیصلہ کیا تھااور بیس سال بعد پاکستان 180 ڈگری کا یوٹرن لے کر الٹا پھر گیا؟ یعنی بیس سال پہلے امریکہ کو اڈے دیے، اتحادی بن کر یس سر کیا تو اب بیس سال بعد ابسلیوٹلی ناٹ کیوں کر رہا ہے؟ جس طرح آج سے بیس سال پہلے کیے گئے مشرف کے ایک فیصلے کو عمران خان اسمبلی میں آج غلط قرار دے رہے ہیں، کیا اب سے بیس سال بعد کا کوئی حکمران اسمبلی میں کھڑے ہو کر عمران خان کے موجودہ فیصلے کو بھی غلط قرار دے رہا ہو گا؟ کیا ہم خارجہ پالیسی کے معاملے میں یوں ہی کوہلو کے بیل کی طرح ایک دائرے میں گھومتے رہیں گے؟
    جواب:
    1
    نائن الیون سے چالیس سال پہلے امریکہ نے افغان جنگجوؤں کو روس کے خلاف کھڑا کر کے پوری دنیا میں ج ہ ا د شروع کروایا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے انہی لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر ایک سو اسی ڈگری کا ٹرن لیا۔ تب نا تو آپ نے امریکہ کو کوہلو کا بیل قرار دیا نا ہی آپ کو امریکی خارجہ پالیسی دائرے میں گھومتی دکھائی دی۔ بلکہ آپ نے دل و جان سے امریکہ کے اس فیصلے کی تائید کی۔ آج اگر پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی ہے تو آپ کو تکلیف کیوں ہے؟
    2
    دنیا کی ہر ریاست میں خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا اور بنیادی مقصد ریاست کا مفاد ہوتا ہے۔ نائن الیون سے دو سال پہلے پاکستان ایٹمی دھماکے کرنے کی وجہ سے معاشی اور ملٹری پابندیوں میں جکڑا جا چکا تھا۔ ہم ایٹم بم بنا چکے تھے مگر حالات واقعی گھاس کھانے والے بنتے جا رہے تھے۔ ایسے خراب معاشی حالات میں امریکہ کے ساتھ جنگ شروع ہوتی تو یہ دانشور جو آج مشرف پہ اڈے دینے کےلیے اعتراض کر رہے ہیں، وہ گھاس کھا کھا کے مر چکے ہوتے اور ان کی بھٹکتی آتما مشرف کو اڈنے نا دینے کی وجہ سے پورے پاکستان میں گالیاں دیتی پھرتی۔

    3
    آج عمران کے ابسلیوٹلی ناٹ اور مشرف کی یس کے درمیان بیس سال کا فرق ہے۔ ان بیس سالوں میں بہت کچھ بدلا ہے۔ مثلاََ
    بیس سال پہلے افغان سٹوڈنٹس کے ساتھ دنیا کا ایک بھی ملک نہیں کھڑا تھا آج درجن بھر ملک ان کے ساتھ ہیں۔
    بیس سال پہلے کا چین زمین پہ تھا آج آسمان پہ ہے اور امریکہ کو ٹکر دینے کےلیے پوری طرح تیار ہے۔
    بیس سال پہلے کا روس معاشی طور پر بدحال تھا اور امریکہ اسے مردہ ریچھ قرار دے چکا تھا۔ آج وہ ریچھ امریکا کو جِن جپھا ڈالنے کےلیے ہوشیار کھڑا ہے۔
    بیس سال پہلے افغانستان میں امریکہ کی موجودگی سے چین اور روس دونوں کو کوئی اعتراض نہیں تھا مگر آج ہے۔
    بیس سال پہلے کوئی سی پیک نہیں تھی، کوئی گوادر پورٹ نہیں تھی جن کی وجہ سے چینی مفادات کو خطرہ ہوتا اور وہ امریکہ کو یہاں سے نکالنے کےلیے پاکستان کا ساتھ دیتے۔ آج یہ سب کچھ ہے اور وہ پاکستان کا ساتھ بھی دے رہے ہیں۔
    ایسے آئیڈیل حالات اگر عمران خان کے بجائے مشرف کو اس وقت ملتے جیسے آج ہیں یقیناََ مشرف امریکہ کو ناں کرتا۔
    مگر مشرف نے ہاں کی اس لیے کہ
    1 پاکستان اس وقت اس قابل نہیں تھا کہ افغانستان کی جنگ کو اپنے گھروں میں داخل کرے۔
    2 پہلے سے موجود معاشی پابندیوں کو ختم کروانے کے بجائے دوگنا کرے۔
    3 بھارت کو موقع دے کہ اپنے اڈے امریکہ کو دے اور وہ بحرہِ ہند کے پانیوں سے ہوتا ہوا بھارت میں ڈیرہ لگائے، وہاں سے پاکستان پہ حملہ کرے اور پاکستان کو کھنڈر بنا کر یہاں اڈے بنانے کے بعد یہاں سےا فغانستان کو فتح کرے۔

    اوپر لکھا ہےکہ دنیا کی ہر ریاست کی خارجہ پالیسی کا مقصد اپنے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ مشرف نے ریاست کے مفادات کا تحفظ کیا۔ آج بیس سال بعد ریاستی مفاد کا تحفظ امریکہ کو جگہ دینے کے بجائے نکالنے میں پوشیدہ ہے لہذا ہم نے یہی کیا۔ یہی امریکہ نے کیا تھا۔ چالیس سال پہلے جو م ج ا ہ د تھے چالیس سال بعد وہ دہشت گرد تھے۔ یہی دنیا کی ہر ریاست کرتی ہے۔ یہی مثال چودہ سو پہلے مدینہ کی ریاست میں بار بار ملتی ہے۔ ریاستِ مدینہ کے تحفظ کےلیے یہودیوں جیسی قوم کے ساتھ معاہدہ کیا گیا۔ پھر ریاستِ مدینہ کے تحفظ کےلیے ہی انہی یہودیوں کے ساتھ جنگ کی گئی۔ ریاستی مفاد کے تحفظ کےلیے ریاستِ مدینہ نے مکہ کے کفار کے ساتھ صلحِ حدیبیہ کی تھی۔ اور پھر ریاستی مفاد کے تحفظ کےلیے ہی انہی کفارِ مکہ کے ساتھ جنگ کی گئی تھی۔ بلاشبہ ریاستِ مدینہ اور ریاستِ پاکستان کے مفادات میں یقیناََ فرق ہے۔ مگر یہ حقیقت کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ وہ ریاستِ مدینہ اور یہ ریاستِ پاکستان دونوں مسلمان ریاستیں ہیں۔ آپ مشرف کے فیصلے کے بجائے اس فیصلے اثرات دیکھو۔
    کیا بیس سال یہاں رہ کر امریکہ کوئی کامیابی لے سکا؟
    کیا افغان سٹوڈنٹس ختم ہو گئے؟
    کیا آج پھر افغان سٹوڈنٹس اسی طرح طاقتور نہیں؟
    کیا پوری دنیا میں امریکہ بدنام نہیں ہوا کہ مٹھی بھر جنگجوؤں کو ختم نہ کر سکا؟
    اور سب سے بڑھ کر،
    کیا بیس سال بعد ہی سہی پاکستان اس قابل نہیں ہوا کہ امریکہ کو ابسلیوٹ ناٹ کہہ سکے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر دکھ کاہے کا ہے ببوا؟
    تحریر: سنگین علی زادہ۔

  • ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ .تحریر: بشارت محمود رانا

    ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ .تحریر: بشارت محمود رانا

    پاکستان کا خواب دیکھنے اور اپنی لازوال شاعری کے زریعے محکوم اور بدحال مسلمانانِ برصغیر کو جگانے والے عظیم مفکر ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال رح صاحب کے لکھے گئے اس شعر میں جتنا وزن، وسعت اور دور اندیشی میں نے محسوس کی ہے آج اپنی اس تحریر کے زریعے اور اپنے ناقص سے علم کے مطابق کوشش کروں گا کہ کسی حد تک اس کا احاطہ کر سکوں

    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

    ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا

    جب کبھی بھی ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال رح صاحب کا یہ شعر میری نظر سے گزرتا ہے تو یقین جانیں کہ میں اس سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ کیا میں علامہ صاحب کی اس بات پہ پورا اتر رہا ہوں یا پھر اس پہ پورا اتر سکنے کی کوشش تک بھی کر رہا ہوں

    لیکن! ہر بار میں اس کے جواب میں خاموش سا رہ جاتا ہوں اور کوئی جواب نہیں ڈھونڈ پاتا وہ اِس لئے کہ میں سمجھتا ہوں کہ علامہ محمد اقبال رح صاحب کی زیادہ تر فکر اور شاعری حضورِ اقدس جناب محمّد رسول اللہ ﷺ کی احادیث و فرامین اور اُن کی قائم کردا ریاستِ مدینہ میں نافذ کردہ قوانین اور اصولوں کے گرد ہی گھومتی ہے

    تو میرے مطابق علامہ اقبال رح صاحب کا یہ کہنا کہ

    “ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”

    یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اگر کوئی سمجھے تو ہم سب کیلئے بہت بڑے اعزاز کی بھی بات ہے۔ جس کو بطور ایک “ملّت کا ستارہ” بن کے نبھانا ہم سب پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے۔ قطع نظر اس کے کہ چاہے آپ ایک وزیراعظم، ایک وزیر، ایک آرمی چیف، ایک جنرل، ایک فوجی،ایک چیف جسٹس، ایک جج، ایک وکیل، ایک سی ایس پی آفیسر، ایک سائنسدان، ایک پروفیسر، ایک ٹیچر، ایک بیوروکریٹ، ایک گورنمنٹ آفیسر، ایک سول سروینٹ، ایک ڈاکٹر، ایک بینکر، ایک بزنس مین، ایک انجینئر، ایک صحافی، ایک ادیب و شاعر، ایک اداکار و فنکار، ایک سنگر، ایک کسان و دہقان، ایک مزدور و دیہاڑی دار، ایک طالب علم، کوئی بچہ یا بوڑھا اور کوئی مرد یا عورت یہاں تک کہ ہر اِک فرد اِس ملکِ خدا داد پاکستان کیلئے ایک روشن اور چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہے اور ہم سب اپنی اپنی پہنچ اور استطاعت کے مطابق پاکستان کے ہر اچھے اور بُرے ایمج کے ذمہ دار ہیں۔

    تو پھر کیوں ناں ہم سب بطور ایک ذمہ دار شہری اپنی اپنی اس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے (قطع نظر اس کے کہ آپ سیاسی طور پہ کسی بھی سیاسی پارٹی یا لیڈر کو پسند یا نا پسند اور سپورٹ یا مخالفت کرتے ہیں کیونکہ جہاں ہمارے پیارے ملک پاکستان کی عزت اور وقار کی بات آئے تو ہمیں اپنی ہی کھینچی ہوئی اِن ریڈ لائنز کو خود ہی جوتے کی نوک پہ رکھتے ہوئے اپنے اس ملک پاکستان کے حق میں ہونے والی ہر اچھائی کے ساتھ اور ہر برائی کے خلاف کھڑا ہونا ہے) ہمیں اپنے اِرد گرد ہر اُس اچھائی کا ساتھ دینا ہو گا جو ہمارے پیارے مذہب اسلام، ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے فرامین و تعلیمات کے مطابق ہوں اور ہر اُس برائی کے خلاف دیوار بن کے بھی کھڑے ہونا ہو گا جو آنحضرت ﷺ کے فرامین و تعلیمات کے برعکس ہوں اور مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبال رح صاحب کے اِن اشعارمیں بھی اسی بات کا درس دیا گیا ہے۔

    اور ایک طرح سے اگر غور کیا جائے تو اس میں اصلاً آپ کو “امر بالمعروف و نہی عن المنکر” ہی کی اصل روح بھی نظر آئے گی جس کا حکم ہمیں اللہ تعالی نے قرآن کریم میں بھی بار بار دیا ہے۔

    تو میرے پیارے پاکستانیو! جس طرح سے ڈاکٹر علامہ اقبال رح صاحب نے ہم سب کو یہ کہہ کر ذمہ دار قرار دیا ہے کہ “افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر” میرے نزدیک اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ ہم میں سے ہر فرد اپنے ملک اور قوم کی تقدیر کو خود لِکھ کے (اچھی یا بُری) اِس کو عملی جامہ پہنانا ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔

    اور اب یہ ہم پہ منحصر ہے کہ ہم اس ملک و قوم کی شان، قدر ومنزلت کو دنیا کے سامنے اچھائی کی صورت میں پیش کرتے ہوئے اپنے پیارے ملک پاکستان کی شان میں اضافے کا باعث بنتے ہیں یا پھر اس سب کے برعکس ہم اپنے اِس ملک پاکستان کی شان، قدر ومنزلت کو اپنی اپنی برائیوں میں پڑنے کے بعد اقوامِ عالم میں بدنام کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

    اور ہم میں سے ہر کوئی اس میں برابر کا شریک ہے۔

    تو اب آخر میں اپنے سب پاکستانیوں سے یہ کہوں گا کہ آپ کبھی بھی اس بات کو فراموش مت کرنا کہ آپ لوگ اُس ملک کے باسی ہیں جو ریاستِ مدینہ کے بعد اسلام کے نام پہ کی گئی ہجرت کے بعد اور ہمارے بزرگوں کی لاکھوں قربانیوں، بہت سے ولیوں کی دُعاؤں اور کئی عظیم لیڈروں کی محنت کے بعد ہمیں نصیب ہوا تھا۔

    اور اب ہم سب پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے اِس ملک پاکستان کو اقوامِ عالم میں عظیم سے عظیم تر بنانے کیلئے ہر قسم کی تگ و دو کریں اور اپنے تائیں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔

    یقیناً! اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم سب مِل کے اس ایک مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ڈٹ جائیں تو ایک دن انشاءاللہ ہم اس میں ضرور کامیاب بھی ہو جائیں گے۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو- آمین ثم آمین

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

  • قومی ویمین کرکٹ ٹیم بدھ سے ویسٹ انڈیز کے مد مقابل ہوگی

    قومی ویمین کرکٹ ٹیم بدھ سے ویسٹ انڈیز کے مد مقابل ہوگی

    پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی اگلے سال آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ کوالیفائرراؤنڈ اورآئی سی سی ویمن ورلڈ کپ کی تیاریاں جاری ہیں، اس سلسلے میں بدھ کے روز پاکستان ویمن ٹیم کا مقابلہ ویسٹ انڈیزکی ویمن ٹیم سے ہونے جا رہا ہے، پانچ ایک روزہ میچوں پرمشتمل سیریز کا پہلا میچ انٹیگا کے کولیج کرکٹ گراؤنڈ میں بدھ کے روزکھیلا جا ئے گا، اس سال پاکستان ویمن ٹیم اپنا چوتھا ایک روزہ میچ کھیلنے جا رہی ہے، اس سے قبل پاکستانی ٹیم دورہ جنوبی افریقہ میں تین ایک روزہ میچ کھیل چکی ہے، پہلا ایک روزہ میچ کے علاوہ کولیج کرکٹ گراؤنڈ میں دوسرا اورپانچویں میچ بلترتیب 9 اور18 جولائی کو کھیلا جائے گا.
    ندا ڈار نے اس سیریزکے دوران ٹی ٹونی وکٹوں کی سنچری مکمل کی ہے، 19 سالہ فاطمہ ثناء اورڈیانا نے چارچاروکٹیں حاصل کیں ہیں، ندا ڈارکی باؤلنگ نے مخالف ٹیم کے رنزروکنے میں اہم کردارادا کیا ہے.
    جویریہ خان نے کہا کہ پاکستان ٹیم نے باؤلنگ کے شعبے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اب ایک روزہ میچوں کی سیریزمیں بھی بہترنتائج حاصل کرنے کے لیے بیٹنگ لائن کوپرفارم کرنا ہو گا، جویریہ خان 2744 رنزبنا کرویمن ٹیم کی ایک روزہ میچوں کی کامیاب ترین بلے باز ہیں، یہ پانچ میچ ہمارے لیے بہت اہم ہیں، ان میچزسے ورلڈ کپ کوالیفائرمرحلے اوراگلے سال ویمن ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں مدد ملے گی، بیٹنگ لائن کے پرفارم کرنے سے اچھے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، ٹی ٹونٹی سیریزسے ہمیں بیٹنگ کنڈیشنزکوسمجھنے میں کافی مدد ملی ہے، ہم ایک روزہ سیریزمیں بہترپرفارم کریں گی، بیٹسمینوں کو مشکل حالات میں خود کو پرسکوں رکھنےکی کوشش کرنا ہوگی، ٹی ٹونی میں شکست پرجویریہ خان کا کہنا تھا، ہم نے میچزجیتنے کے لیےسخت محنت کی تھی، ہم نے بیٹنگ پر بہت کام کیا تھا، بدقسمتی سے ہم ایک یونٹ کی طرح پرفارم کرنے میں ناکام رہے ہیں، لیکن ہماری باؤلنگ نے بہت اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کیا جو کہ ایک خوش آئند عمل ہے، نڈا ڈا اورانعم امین بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں، فاطمہ ثناء ایک نوجوان کے طور پریشرمیں حالات کوبرداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
    پاکستان ویمن اے ٹیم کی تین میچوں پر مشتمل ایک روزہ سیریز کا آغاز ہفتے سے ہوگا، قومی اے ٹیم ہفتہ کو دوبارہ ایکشن میں نظر آئے گی۔ اس سے قبل قومی اے ٹیم تین ٹی ٹونی میچوں پرمشتمل سیریزمیں ویسٹ انڈیز کی اے ٹیم کو شکست دے چکی ہے، قومی اے ٹیم کی اوپنرعائشہ ظفرنے ایک ہاف سنچری کی مدد سے 93 رنز بنائے ہیں، کائنات امتیازنے چاروکٹیں حاصل کیں ہیں، رامین شمیم، ماہم طارق اورایمن انورنے تین تین وکٹیں حاصل کیں ہیں، رامین پاکستان اے ٹیم کی قیادت کا سلسلہ جاری رکھیں گی.
    اسکواڈ میں جویریہ خان (کپتان، قومی ٹیم)، رامین شمیم (ون ڈے کپتان، اےٹیم)، سدرہ نواز(ٹی 20 کپتان، اے ٹیم)، عالیہ ریاض، ایمن انور، انعم امین، عائشہ نسیم، عائشہ ظفر، ڈیانا بیگ، فاطمہ ثناء، ارم جاوید، جویریہ رؤف، کائنات امتیاز، کائنات حفیظ، ماہم طارق، منیبہ علی صدیقی(وکٹ کیپر)، ناہیدہ خان، ناجیہ علوی(وکٹ کیپر)، نشرہ سندھو، نتالیہ پرویز، ندا ڈار، عمائمہ سہیل، صبا نذیر، سعدیہ اقبال، سدرہ امین، اورسیدہ عروب شاہ کو شامل کیا گیا ہے.

  • بھارتی سی ڈی ایس بپن راوت کے کارنامے، تحریر:نوید شیخ

    بھارتی سی ڈی ایس بپن راوت کے کارنامے، تحریر:نوید شیخ

    بیچ میں اتوار آگیا تھا مگر چند دن پہلے کی بات ہے کہ بھارتی فواج کی جھوٹی شان و شوکت کے پرخچے دنیا کے سامنے اڑنے لگے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ناThe man behind the gun always matters ۔ اب مسلسل ناکامیوں کے سبب بھارتی افواج کے دو بڑے آپس میں لڑ پڑے ہیں ۔۔ بپن راوت نے زمینی افواج کو برتر کہا ہے جبکہ بھارتی ائیر فورس کو معاون کہا ہے ۔

    ۔ اب یہ بپن راوت کی جانب سے ایئر فورس پر ایک ڈائریکٹ حملہ تھا تو بھارتی ایئر چیف نے بھی بیان داغ دیا ۔ اور چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کے بیان کی نفی کر دی۔ کہ بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو کبھی رافیل طیاروں میں کرپشن، پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے۔۔ حالانکہ شفاف تجزیہ کیا جائے تو بھارتی فوج ۔ ایئر فورس اور نیوی سب ہی ہر جگہ ہر معاملے میں ناکام ہی ہوئی ہیں ۔ ۔ ویسے ہم کو سی ڈی ایس بپن راوت کا شکرگزار ہونا چاہیئے اور دعا کرنی چاہیئے کہ ان کا یہ عہد یوں ہی سالوں سال چلتا رہا ہے ۔ کیونکہ ان کی بدولت ہی دنیا کو معلوم ہورہا ہے کہ بھارتی افواج کوئی منظم فورس نہیں بلکہ ایک ملیشیاء ہیں ۔ ۔ جہاں افسران کو جنگ لڑنا تو نہیں آتا مگر کرپشن کرنی آتی ہے ۔ جہاں یہ تو نہیں پتہ کہ جہاز اُڑانا کیسے ہے مگر رافیل ڈیل میں دیہاڑی لگانی آتی ہے ۔ جہاں افسران کو یہ تو نہیں پتہ کہ سرحد پر کھڑے جوان کوکھانے کے لیے سوکھی روٹی اور دال کیسے پہنچانی ہے مگر یہ پتہ ہے کہ اپنے سے جونئیرز اور انکی بیگمات کو جنسی ہراساں کیسے کرنا ہے ۔ ۔ تو میری نظر میں چاہے بپن راوت ہوں بھارتی ایئر چیف ہوں یا بھارتی نیوی تینوں ہی فیل ہیں ۔ کیونکہ بھارتی فوج نے لداخ میں مار کھائی تھی تو ابھی نندن پاکستان چائے پی کر گیا تھا ۔ تو بھارتی نیوی اپنے کھڑے جہاز اور submarinesکو ڈبونے میں مہارت رکھتی ہے ۔

    ۔ میں کچھ آپکو بپن راوت کے کارنامے گنوا دیتا ہوں ۔ سب سے پہلے تو بپن روات کی سربراہی میں بھارت میں رافیل طیاروں کی خریداری میں کرپشن کا سکینڈل سامنے آیا تھا ۔ جس سے انھوں نے اپنی ہی ایئر فورس کو 45 ہزار 696 کروڑ بھارتی روپے کا ٹیکہ لگایا تھا۔۔ تو یہ ان کے کرتوت ہیں ۔ دراصل ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کو 6.25 بلین ڈالر کے ٹھیکے سے نوازا گیا اور تیجا جہاز لینے پر مجبور کیا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستانی فضائیہ پہلے دن ہی ان جہازوں کو ان کی تکنیکی مسائل کی وجہ سے مسترد کر چکی تھی۔ کیونکہ 1970 ء کے بعد سے MIG-21
    کے حا دثات میں 170 سے زیادہ پائلٹ اور 40 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ بلکہ اس کو میڈیا نے flying cofins کا نام دے دیا تھا ۔یوں مگ-21 کے فرسودہ بیڑے کی جگہ تیجا جہازوں کو متعارف کرایا گیا لیکن اب تک 60 فیصد تیجا گراؤنڈ ہو چکے ہیں۔ مودی حکومت اور بھارتی ائیر فورس کا 27 جنوری کو تیجا جہاز استعمال نہ کرنا اس پروجیکٹ کی ناکامی کا عکاس ہے۔ یوں بھارتی ایوی ایشن سسٹم انڈسٹری اپنی غیر معیاری پیداوار اور دہائیوں پرمحیط اپنی مسلسل نا کامیوں اور نااہلیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں بد نام ہے۔ دنیا میں خود کو چین کا متبادل اور مقابل متعارف کروانے والا ملک 26 سال میں اپنے تیار کردہ جہاز کی کینوپی کا فالٹ تک درست نہ کر پایا۔ تو یہ کارکردگی بھارتی ایئر فورس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

    ۔ دوسرا آپ سب کو معلوم ہے کہ یہ سی ڈی ایس بپن راوت ہی ہیں جن کہ miscalculationکی وجہ سے بھارتی افواج نے 2020میں چین کے خلاف ایک ناکام آپریشن کیا جس میں بھارتی فوج کے افسر سمیت پتہ نہیں کتنے جوان جان کی بازی ہار گئے ۔ چینیوں نے اٹھا اٹھا کر سیدھا اوپر سے نیچے پھینکا تھا ۔ اور اگر آپ کو یاد ہو تب کی اخباری رپورٹس کے مطابق یہ کلی طور پر سی ڈی ایس بپن راوت کا پلان تھا اور بھارتی آرمی چیف کو اس کا کچھ معلوم نہیں تھا ۔ اس آپریشن کی ناکامی کے بعد یہ سننے میں بھی آیا تھا کہ سی ڈی ایس بپن راوت اور بھارتی آرمی چیف جنرل منوج نروانے کی آپس میں ۔۔۔ توتو میں میں ۔۔۔ بھی ہوئی تھی ۔ چین سے مار کھانے کے بعد بپن راوت یہاں تک نہیں روکا بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھارت جو امریکہ کے کواڈ گروپ میں شامل ہوا ہے یہ بھی بپن راوت کا کارنامہ ہے ۔ کیونکہ اس کو یہ معلوم ہے کہ بھارتی فوج تو کسی صورت چین کا مقابلہ نہیں کرسکتیں ۔ تو امریکہ کا ہی آسرا ہو جائے مگر وقت نے طے کیا کہ یہ ایک بہت بڑا بلنڈر ثابت ہوا ۔ کیونکہ بپن راوت نے تو بس سوچا کہ امریکہ کی گود میں بیٹھ کر پتہ نہیں ان کو ٹیکنالوجی سمیت کیا کیا ملے گا ۔ جس سے یہ چین کا بھرکس بنا دیں گے ۔ پر بھارت کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کا بھارت کو معاشی طور پر کتنا دھچکا لگے گا ۔ چین نے بھارتی اشیاء پر مختلف طرح کی پابندی لگائی ۔ جس کی وجہ سے بھارت کو معاشی طور پر کافی نقصان پہنچا ۔ اور بھارت چین کے منتے ترالے کرتا دیکھائی دیتا ہے ۔ جبکہ چین نے جب سے لداخ کے علاقوں پر قبضہ کیا ہے وہ ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا ہے ۔ ساتھ ہی بھارت کو اپنی افواج اتنی بلندی پر رکھنے پر اچھا خاصا خرچہ بھی کرنا پڑرہا ہے اوراچھی خاصہ تعداد میں بھارتی افواج کو مستقل طور پر وہاں رکھنا پڑ رہا ہے ۔ یوں بپن راوت کی ایک غلطی جو اس نے شروعات میں ایک ناکام آپریشن کرکے کی اس کا نقصان اب تک بھارت اٹھا رہا ہے ۔

    ۔ پھر بپن راوت نے باوجود اس کے بھارت اندرونی طور پر کچھ نہیں بناتا ہے ۔ یہ آئیڈیا دیا کہ بھارتی افواج کو made in india equipmentاستعمال کرنا چاہیئے ۔ اس فارمولے نے ابھی اپنا اثر نہیں دیکھایا ہے مگر عنقریب آپکو اس کے اثرات بھی دیکھائی دینے لگیں گے ۔ کیونکہ یاد رکھیں خراب tejasبنانے میں تیس سے چالیس سال لگے ہیں اور ساٹھ فیصد تیجا گراونڈ ہیں ۔ پیسوں کا تو کوئی حساب ہی نہیں ہے ۔ تو یہ made in indiaاسلحہ بھارتی فوج کی ایک اور قبر بننے جا رہا ہے ۔ ۔ اچھا جس مقصد کے لیے بپن راوت کو ایک طرح سے extension دے کر سی ڈی ایس لگایا گیا تھا ۔ وہ مقصد پورا نہیں ہوا ۔ وہ یہ تھا کہ بھارتی فوج ، بھارتی نیوی ، بھارتی ایئر فورس کے آپریشنز کو یکجا کیا جائے ۔ یعنیinteroperabilityبنائی جائے ۔ اس میں تو وہ مکمل ناکام ہوگئے ہیں ۔ بھارتی آرمی چیف بپن راوت سے خوش نہیں ۔ بھارتی ایئر فورس چیف سے ان کا حالیہ پھڈا آپکے سامنے ہے ۔ یقینی طور پر انڈین نیوی کو بھی ان سے شکایات ہوں گی ۔ ۔ کیونکہ بپن راوت سمجھتا ہے کہ ایئر فورس اور نیوی آرمی کے supporting armsہیں ۔ مگر ایسا ہوتا نہیں ہے ۔ یوں بپن راوت اپنی ہی فورسز کو ایک دوسرے کے سامنے لا رہا ہے ۔ اور ایک دوسرے کو ایک دوسرے کے خلاف کر رہا ہے ۔ پھر بپن راوت جو cold star doctrine کی دھمکی دیا کرتا تھا وہ بھی پاکستان کب کا اٹھا کر بحر ہند میں پھینک چکا ہے ۔

    ۔ اس کے علاوہ آپکو یاد ہو یہ وہ ہی بپن راوت ہے جو two war frontsپر اکیلا لڑنے کے دعوے کیا کرتا تھا ۔ یعنی بیک وقت پاکستان اور چین کے ساتھ جنگ ۔ اب گزشتہ ایک سال سے یہ چین سے معافیاں مانگ رہے ہیں مگر اب وہ ان کو گھاس نہیں ڈال رہا ہے اور مذاکرات کے نام پر بھارتی افواج کو بھی exposeکررہا ہے اور بھارتی حکومت کے بھی ناک سے چنے چبوا رہا ہے ۔ یوں بھارتی افواج کی جھوٹی شان و شوکت کے پرخچے دُنیا کے اُڑانے میں بپن راوت کا کریڈٹ سب سے زیادہ ہے ۔آپ کا کیا خیال ہے ۔

  • جعلی سگریٹ بنانے والی فیکٹری کے مالک کو گرفتار نہ کرنے کی بڑی وجہ سامنے آگئی

    جعلی سگریٹ بنانے والی فیکٹری کے مالک کو گرفتار نہ کرنے کی بڑی وجہ سامنے آگئی

    دی وائس کے زیراہتمام جعلی سیگریٹ بنانے والی کمپنی وے وارڈ کے خلاف مظفرآباد مرکزی ایوان صحافت کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے، مظاہرین نے پلے کارڈ اورکتبے اٹھا رکھے تھے، جن پروے وارڈ کمپنی کے خلاف انتظامیہ اورپولیس کے خلاف نعرے درج تھے، فضا نااہل انتظامیہ ہائے ہائے، دوہرا قانون نا منظور، نااہل پولیس ہاے ہاے، جعلی سیگریٹ کمپنی بند کرو بند کرو، سے گونج اٹھی ہے، اگردوہفتے کے اندربابرتاج کو گرفتارنہ کیا گیا تویہ معاملہ دی وائس کے زیراہتمام انٹرنیشنل سطح پر اٹھایا جائے گا، جعلی کمپنی کی پشت پناہی کرنے والے نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، جس پر ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے، اگرکمپنی کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گی تو ہم پشت پناہی کرنے والوں کے ناموں کوچوکوں چرواہوں میں آویزاں کریں گے.
    نوجوانوں نے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر، آئی جی پی آزاد کشمیر، ڈی آئی جی، کمشنر مظفرآباد، ایس ایس پی مظفرآباد ڈی سی مظفرآباد کومخاطب کرتے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ جعلی سیگریٹ بنانے والی فیکٹری کے مالک بابرتاج نامی شخص جس پرمتعدد ایف آئی آردرج ہوئی ہیں کو آج تک کیوں گرفتارنہیں کیا گیا ہے،بابر تاج اسمبلی میں کیسے پہنچتا ہے، بابر تاج کشمیر ہاؤس میں کیسے پہنچتا ہے، بابرتاج پرائم منسٹر ہاؤس کیسے پہنچتا ہے، سی سی ٹی فوٹیج پی ایم ہاؤس سے جعل ساز بابر تاج تک کیسے پہنچی ہیں، ایسے مقامات پر پولیس کی کڑی سیکورٹی ہوتی ہے پھر نامزد ملزم درجنوں ایف آئی آروالا جعل سازملزم ہرجگہ کیوں کھلے عام گھوم پھررہا ہے؟ آخر اس شخص کو اتنی چھوٹ کیوں دے رکھی ہے؟‌ کیا قانون امیراورغریب کے لیے برابر نہیں ہے ، پولیس ملزم کو گرفتار کیوں نہیں کرتی اگر کرتی بھی ہے تو ایک دو گھنٹے بعد رہا کیوں کر دیتی ہے؟ اگر اس طرح کوئی اورعام شہری ہوتا تواس کوعمرقید یا سزائے موت دی جاتی، لیکن اس بااثر شخص کو گرفتار کرتے ہی کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے؟
    مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہماری ریاست کے اندردوہرا قانون کس لیے قائم کیا گیا ہے؟ ایک عام آدمی کواپنی ضمانتیں کروانے کے لیے مہینوں انتظارکرنا پڑتا ہے، مگراس شخص کو صرف پانچ منٹ میں رہا کردیا جاتا ہے، کیا یہ مافیا اتنا بااثر ہے اس پرپولیس بھی ہاتھ ڈالنے سے ڈرتی ہے؟ آخر اس کے پیچھے رازکیا ہے وہ عوام کے سامنے لایا جائے، اگر پی ایم ہاؤس کی فوٹیج لیک ہوسکتی ہے، اگر پی ایم ہاؤس ہی محفوظ نہیں توایک عام آدمی اپنے آپ کو کیسے محفوظ سمجھے گا؟
    گزشتہ چند روز قبل بھی بابرتاج کی کمپنی میں بڑی تعداد میں شراب اوراسلحہ برآمد ہوا، لیکن کیا مجال اس کے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی، ملزم بابرتاج اورکمشنرانکم ٹیکس آخردونوں پی ایم ہاؤس کیا کررہے تھے؟ دونوں کے درمیان جب ہاتھا پائی ہوئی پولیس ہونے کے باوجود اس ملزم کوگرفتارکیوں نہیں کیا گیا تھا، عوام کو بے وقوف نہ سمجھا جائے اس کے پیچھے جن لوگوں کے ہاتھ ہیں ان ہاتھوں کو سامنے لایا جائے، ورنہ ہم اچھی طرح سامنے لانا جانتے ہیں، چند عرصہ قبل بھی اس کی فیکٹری روانی کے مقام پرانکم ٹیکس کی جانب سے چھاپہ مارا گیا ہے، جس پرجعلی سیگریٹ برآمد بھی ہوئے ہے، فیکٹری کوسیل کرنے کے احکامات بھی جاری ہوئے ہیں، لیکن کیا مجال مافیا نے اس فیکٹری کو بند کرنے دیا ہو، ہم نوجوانوں کی زندگیوں سے کھلواڑ نہیں کرنے دیں نگے، چاہئے اس کے لیے ہمیں بھی کیوں نہ تختہ دارپر لٹکا دیا جائے‌، ہمیں مجبور نہ کیا جائے ہم کوہالہ پل بند کرکے احتجاج کرینگے.
    پاکستان کے مختلف تھانوں میں بھی اس جعل سازکے خلاف ایف آئی آر درج ہیں پھر بھی اس کوگرفتارنہ کرنا سمجھ سے بالا تر ہے، اگراس چھوٹی سی ریاست کے اندرجعلی فیکٹریاں بنای جا سکتی ہیں تو دیگرعوام کو بھی چھوٹ دے دینی چاہیے، کیوں کہ ہماری انتظامیہ اور پولیس بہت کمزورہے، یہ صرف کمزوراوربے بس کے لیے رہ گی ہے، کیوںکہ ان کے بس میں نہیں کے بااثراورامیرپرہاتھ ڈال سکے.
    اس موقع پر نواجونوں ک بڑی تعداد موجود تھی، راجہ سمیع بابر، راجہ قیس قدیر، راجہ شیراز، راجہ قاسم فرید، راجہ حسنین، راجہ احسان، احمد گیلانی، عاشر قریشی، ایاز احمد،مزمل ملک، قاسم ریاض، رقیب سلہریا، راجہ زین، حق نوازسلہریا، عماد راجہ، علی راجہ، راجہ احتشام، راجہ مشائق، بلال خان، انس شمریز، ذیشان قاضی، محمد اویس، راجہ نبیل، مہدی شاہ، حنین، راجہ عاصم، راجہ ذوالقرنین، نواز احمد، صفدر راجہ، اسامہ سعید، مدثر شیخ، عمرگل حسن، ملک علیان اعوان، وغیرہ نے شرکت کی ہے.

  • لوگوں کو کورونا ویکسین سے متعلق آگاہی فراہم کرنیوالے آٹو رکشے کے چرچے

    لوگوں کو کورونا ویکسین سے متعلق آگاہی فراہم کرنیوالے آٹو رکشے کے چرچے

    بھارت کی ریاست چنئی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ گوتم نے کوویڈ 19 کی ویکسین سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لئے ویکسین لگانے کے بعد ایک آٹو رکشہ کا ماڈل بنایا ہے-

    باغی ٹی وی :انڈین ایکسپریس کے مطابق تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رکشے کو کس منفرد طرز سے ڈیزائن کیا گیا ہے رکشے پر نیلے رنگ کا پینٹ کیا گیا ہے اس کے چاروں اطراف سرنجیں نکلی ہوئی ہیں جبکہ چھت پر کورونا ویکسین کی بڑی سی شیشی بھی بنائی گئی۔

    اس رکشے میں ساؤنڈ سسٹم بھی نصب ہے جو اونچی آواز میں لوگوں کو کورونا وائرس کی ویکسین کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔

    “میں ویکسینیشن کے بارے میں شعور پیدا کرنے پر کام کر رہا تھا اور میں نے گریٹر چنئی کارپوریشن سے رجوع کیا جو بھی کچھ ایسا ہی کرنے کا ارادہ کر رہا تھا۔ چنانچہ ہم مل کر ’ویکسین آٹو‘ لے کر آئے۔ یہ منصوبہ دو ماہ قبل تیار کیا جانا تھا لیکن بدقسمتی سے اس میں تاخیر ہوگئی کیونکہ میں کوویڈ ۔19 سے متاثر ہوا تھا ، ”گوتم نے انڈین ایکسپرس کو بتایا۔

    آٹو منی کندن نامی ایک شخص چلاتا ہے جو کارپوریشن کے ہر زون کو روزانہ کی بنیاد پر محیط کرتا ہے۔ گوھم کا کہنا ہے کہ زونل میڈیکل آفیسر انہیں ان علاقوں کی ایک فہرست فراہم کریں گے جہاں ویکسین لگانے کے بارے میں شعور کی کمی ہے۔ اس مہم کے دوران جی سی سی زون کے سپروائزر بھی موجود رہیں گے۔ گوتم اور دیگر رضاکار ویکسین سے متعلق پرچے دیتے ہیں اور لوگوں کوویکسین سے متعلق ان کے سوالات پوچھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

    “جی سی سی کی طرف سے بہت کوشش کرنے کے باوجود ، شہر میں بہت سے لوگ اب بھی ویکسین سے آگاہ نہیں ہے۔ خوف کا عنصر بھی ہے۔ ہم ان کو سمجھاتے ہیں کہ ماضی میں ویکسین نے بیماریوں کا خاتمہ کیا ہے۔ ایک عورت میرے پاس آئی اور کہا کہ اسے ویکسین کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ ٹیکہ لگانے کے لئےمطلوبہ دستاویزات رکھنے والے قریبی پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹر میں جاؤ۔ بہت سے لوگ کوویشیلڈ اور کوویکسین کے فرق سے بخوبی واقف نہیں ہیں اور ہم ان سب چیزوں کو آسان زبان میں سمجھا رہے ہیں-

    گوتم نے بتایا کہ آٹو کو اس انداز سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اگر بارش ہو بھی تو اسے کوئی نقصان نہیں ہو گا اور یہ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے۔

  • پاکستان سمیت دنیابھرمیں مقیم کشمیری آج سے ہفتہ شہدا منارہےہیں،مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کا اعلان

    پاکستان سمیت دنیابھرمیں مقیم کشمیری آج سے ہفتہ شہدا منارہےہیں،مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کا اعلان

    پاکستان سمیت دنیا بھرمیں مقیم کشمیری آج سےہفتہ شہدامنارہےہیں-

    باغی ٹی وی : کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہفتہ شہدامنانےکی کال کل جماعتی حریت کانفرنس نےدی پاکستان اوربیرون ممالک میں دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا جائے گا-

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل احتجاجی ریلیاں اورجلوس نکالےجائیں گے، 8جولائی کوشہید برہان وانی کےیوم شہادت کویوم مزاحمت منایا جائےگا اور برہان وانی کےآبائی قصبےترال کی طرف مارچ کیاجائےگا-

    کے ایم ایس کی رپورٹ کے مطابق 13جولائی کو 1931کےشہدا کی یاد میں یوم شہدا منایا جائےگا، ہفتہ شہدا کےدوران مقبوضہ کشمیرمیں مکمل ہڑتال ہوگی-

  • کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید تمغہ بسالت.   تحریر: ایمان ملک

    کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید تمغہ بسالت. تحریر: ایمان ملک

    سوات جسے پاکستان کا سویٹزر لینڈ بھی کہا جاتا ہے سرسبز وشاداب میدانوں، خوبصورت مرغزاروں اور شفاف پانی کے چشموں سے مالا مال ہے۔ دنیا کے حسین ترین خطوں میں شمار کیا جانے والا یہ علاقہ، پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد سے شمال مشرق کی جانب 254 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے جب کہ صوبائی دارلحکومت پشاور سے اس کا فاصلہ 170 کلو میٹرہے۔ مگرسنہ 2007ء سے سنہ2009ء کے درمیان دہشت گرد تنظیم ٹی این ایس ایم (تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی) کے بانی صوفی محمد اور اس کے داماد ملا فضل اللہ کے زیر قیادت طالبان نے سوات میں نظام عدل اور نفاذ شریعت کی آڑ میں ایسا گھناؤنا کھیل رچا کہ اس پوری وادی کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔
    جولائی سنہ 2007ء میں جنوبی ایشیاء کی یہ خوبصورت ترین وادی موت اور تباہی کی وادی میں تبدیل ہو گئی۔ جہاں سیاحوں کی بجائے خوف کے سائے منڈلانے لگے۔ اور بچیوں نے اسکول جانا چھوڑ دیا۔ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جانا بند کر دیئے گئے۔ اور ٹی وی سیٹس، سی ڈیز اور کمپیوٹرز کو حرام قرار دے کر نذرِآتش کرنا شروع کر دیا گیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بچیوں کے اسکولوں اور سی ڈیز کی دکانوں میں دھماکے ہونے لگے اور پولیس اور سیکورٹی فورسز پر خود کش حملے روزانہ کا معمول بن گیا۔ ملا فضل اللہ کی کھڑی کردہ دہشت گرد "شاہین فورس” نے طالبان کمانڈر سراج الدین کی زیر قیادت بالائی سوات کے اسکولوں، ہسپتالوں اور گورنمنٹ دفاتر کا کنٹرول سنبھال لیا۔ جہاں پاکستان کے قومی سبز ہلالی پرچم کو ٹی این ایس ایم کے سیاہ اور سفید پرچم سے تبدیل کر دیا گیا۔

    اس گھمبیر صورتحال سے نمٹنے کے لئے اس وقت کی نگران حکومت نے تقریباً25000 کے قریب سپاہیوں پر مشتمل پاک فوج کے دستے وادی سوات روانہ کئے۔ جن کی کارروائی کے بعد ملا فضل اللہ کے بہت سے ساتھی مارے گئے اور وہ خود فرار ہو گیا۔ اس کارروائی کے دوران تقریباً 13 پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کو چارباغ اورمٹہ کے علاقوں میں بے دردی سے جانوروں کی طرح ذبحح کیا گیا۔ اور یہیں سے ہی پاکستان میں دہشت اور بربریت کے ایک ایسے باب کا آغاز ہواجس میں پاکستان کے متعدد سول اور عسکری اداروں سے وابستہ اہلکاروں نے جانیں نچھاور کر کے بہادری اور دلیری کی وہ داستانیں رقم کیں جن کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اوراس لئے ہم سے ڈومور کا مطالبہ کرنے والوں پر یہ لازم ہے کہ پاکستان کے ان شہریوں،فوجی افسران اور جوانوں کی لہو سے لکھی گئی منفرد داستانوں کو پڑھیں اور اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر خود سے سوال کریں کہ کیوں ان کی ڈیرھ لاکھ کے قریب فوج، بے تحاشہ وسائل اور وسیع بجٹ کے باوجود افغانستان میں نہ تو امن قائم کر پائی اور نہ طالبان کے زیر تسلط علاقوں کا کنٹرول حاصل کر سکی؟؟؟

    بہرحال، سوات میں ملا فضل اللہ دوبارہ سرگرم ہوا اس نے پاکستانی ریاست اور اس کے نظام کے خلاف کھلم کھلا جنگ کا اعلان کر دیا جو اس کے شر انگیز نقط نظر میں غیر اسلامی اور غیر شرعی تھا۔ حالات مزید بگڑتے گئے مگر اسی دوران حکومت اور دہشت گرد تنظیم ٹی این ایس ایم کے بانی صوفی محمد کے مابین ‘امن معائدہ’ طے پاگیا۔ اسی اثناء میں طالبان کی جانب سے ایس ایس جی (اسپیشل سروسز گروپ) کے 4 اہلکار بھی حراست میں لئے گئے جب وہ خوازہ خیلہ بازار میں معمول کے مطابق خریداری کرنے میں مشغول تھے۔ اگرچہ ان اہلکاروں کے پاس اسلحہ موجود تھا مگر پھر بھی انہوں نے امن معائدے کی پاسداری کرتے ہوئے ہر گز کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔ اور خود کو چپ چاپ طالبان کے حوالے کر دیا۔ ان ایس ایس جی کے چار اہلکاروں میں سے ایک کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید بھی تھے جنہوں نے اپنے کردار اور عمل سے پاک فوج کے بعد دیگرنوجوان آفیسرز کے لئے ایک ایسی مثال چھوڑی جو سب کے لئے باعث تقلید بنی۔ اور آج اسی لئے ہم سینہ تان کر کہتے ہیں کہ ہمارے آفیسرز کی شہادتوں کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

    کہوٹہ سے تعلق رکھنے والے اس پاک فوج کے آفیسر نے اپنی ابتدائی تعلیم ملٹری کالج جہلم سے حاصل کی جو کہ پاک فوج کی نرسری تصور کی جاتی ہے۔ بعد ازاں پاک فوج میں کمیشن حاصل کرنے کے بعد کیپٹن نجم نے رضاکارانہ طور پر خود کو ایس ایس جی سروس کے لئے پیش کیا۔ جو عسکری تربیت سازی کے حوالے سے انتہائی دشوارگزار اورکٹھن انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ مگر کیپٹن نجم نے اس تربیت کی ہر مشکل کو آسانی سے عبور کیا اور ایک نڈر، سخت جان کمانڈو بنے جس کا ثبوت انہوں نے اُن بائیس 22 دنوں میں دیا جو انہوں نے اپنے چار دیگر ساتھیوں سمیت طالبان کی حراست میں گزارے۔ ان کی بڑی ہمشیرہ مسز وحیدہ عامر کے مطابق ان کے خاندان کو ان کی حراست کا علم پاک فوج سے نہیں بلکہ دنیا ٹیلی وژن کے اس براہ راست نشر کئے جانے والے انٹر ویو سے ہوا جو بہت عرصے تک علمی حلقوں میں زیرِ بحث رہا۔ دوران حراست کیپٹن نجم کو اپنے گھر والوں سے بذریعہ ٹیلی فون بات چیت کی اجازت تھی ۔ مگر انہوں نے اپنی گفتگو میں کبھی بھی اپنے گھر والوں پر عیاں نہیں ہونے دیا کہ وہ طالبان کی حراست میں ہیں اور نہ ان کے خاندان نے ان پر ظاہر کیا کہ وہ سب جانتے ہیں۔

    کیپٹن نجم کی ہمشیرہ کے مطابق ان کے بھائی ان 22 دنوں میں بہت باہمت اوربا حوصلہ رہے نہ تو ان کا ایمان ڈگمگایا نہ ان کے پاؤں لڑ کھڑائے۔ بلکہ وہ انہیں تاکید کرتے رہے کہ اگر انہیں کچھ ہو جائے تو کبھی بھی پاک فوج کو برا بھلا نہ کہا جائے کیونکہ وہ پاک فوج کو اپنا حقیقی خاندان تصور کرتے تھے۔ یہاں واضح رہے کہ یہ تذکرہ سنہ 2009ء میں اپریل کے آخری اور مئی کے اوائل کے دنوں کا ہے جب پاکستان کے حالات بہت خراب تھے اور سرعام میڈیا پر پاک فوج کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا جانا معمول سمجھا جاتا تھا ۔ اس دوران کیپٹن نجم کے ایک بھائی اور چھوٹی بہن ملک سے باہر قیام پذیر تھے جنہیں وہاں ان کے موبائل فونز پر طالبان کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے۔ طالبان یہ سب پریشر ٹیکٹکس کے لئے کر رہے تھے تا کہ ان چار اہکاروں کے بدلے ان کی حکومت کے ساتھ کوئی ڈیل طے پا جائے۔ جو کہ ممکن نہیں ہوئی۔ اسی اثناء میں کیپٹن نجم اور ان کے دیگر ساتھی طالبان کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب بھی ہوئے اور انہوں نے ایک قریبی گاؤں میں پناہ لی۔ مگر وہاں ان کی مخبری ہو گئی اور انہیں وہاں سے بھی بھاگنا پڑا۔ مگراسی دوران ان کا ایک ساتھی ٹانگ پر گولی لگنے کے باعث زخمی ہو گیا اورزمین پر گر گیا۔ اس نے کیپٹن نجم سے کہا، "سر آپ جائیں، مجھے یہیں چھوڑ دیں”۔ مگر کیپٹن نجم ریاض شہید ایک حقیقی کمانڈو تھے وہ کیسے اپنے ساتھی کو وہاں اکیلا چھوڑ سکتے تھے۔ لہٰذا وہ سب اپنے زخمی ساتھی کو بچانے کے چکر میں دوبارہ طالبان کی گرفت میں چلے گئے۔ اب ان کی فون پر گھر والوں سے بات چیت ہونا بھی بند ہو گئی۔ کیونکہ طالبان کو سمجھ میں آچکا تھا کہ حکومت پاکستان اور پاک فوج ان ظالمان سے کسی بھی قسم کی کوئی سودے بازی نہیں کرے گی۔

    اب کیپٹن نجم اور ان کے دیگر تینوں ساتھیوں کو الگ الگ جگہوں پر حراست میں رکھا گیا تھا۔ ایک دن انہیں معلوم ہوا کہ صبح طالبان ان سب کو ذبح کر کے شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور ان کے دیگر ساتھیوں کو ذبح کر بھی دیا گیا۔ مگر جب طالبان کیپٹن نجم کو لینے کمرے میں داخل ہوئے تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کس ماں کے شیر کو للکار رہے ہیں۔ کیپٹن نجم نے ایک ایک کر کے (کمرے میں انہیں لینے کے آنے والے) آٹھ دہشت گردوں کی گردنیں توڑ کر انہیں جہنم واصل کر دیا۔ اوراسی اثناء میں پاکستان کا یہ عظیم لخت جگر کمرے کے باہر کھڑے دہشت گرد کی فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہو گیا۔ اور بالآخر 11مئی سنہ 2009ء میں پاک فوج کے اس 24 سالا نوجوان آفیسر کو اپنے آبائی علاقے کہوٹہ میں پورے عسکری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ گو کہ کوئی بھی دنیاوی تمغہ یا اعزاز کیپٹن نجم کی قربانی اوربے مثال بہادری کے شایان شان نہیں مگر بعد از شہادت کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید کو حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی ملک و قوم کے لئے خدمات اور عظیم قربانی کے اعتراف میں تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔
    کیپٹن نجم نے اپنے ساتھیوں سمیت جان کے نذرانے تو پیش کئے مگر ان چاروں سپاہیوں کی قربانی ہی تھی جو سوات کو طالبان کے ناپاک قدموں سے پاک کرنے کے لئے آپریشن راہِ نجات اور راہِ راست کا موجب بنی۔ یہ آپریشن آج دنیا بھر کی متعدد ملٹری اکیڈمیز میں ایک ٹیکسٹ کیس کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے۔ جس نے جنت کا نظارہ پیش کرنے والی اس وادی(سوات) کو خوف کے سائے سے نکال کر دوبارہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

    آج ہم سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور ہماری افواج اور آئی ایس آئی پر دہشت گردوں سے روابط ہونے کےالزامات عائد کئے جاتے ہیں۔ اس فوج پر الزامات لگائےجاتے ہیں جس نے کیپٹن نجم سمیت اپنے چار بیٹے شہید کروا دیئے مگران کی جانوں کے بدلےطالبان سے کسی قسم کی سودے بازی نہیں کی۔ مگر کہیں نہ کہیں تو کوتاہی ہماری بھی ہے کیونکہ بد قسمتی سے ہم آج تک دہشت گردی خلاف جنگ میں اپنی قربانیاں اور اپنے نڈر ہیروز کی کارنامے اس طرح دنیا کے سامنے نہیں لا پائے جس طرح امریکہ اپنے سپاہیوں کی کہانیاں عالمی جنگوں کے بعد اور ابھی افغان جنگ کے حوالے سے منظر عام پر لاتا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ پروپیگنڈہ وار کا دور ہے۔ جس میں زمینی کارروائی کے علاوہ ذہن سازی اور مثبت سوچ کی نشونما اور ترویج پر بھی توجہ دینا لازم ہوتا ہے۔ اور جہاں ہم شاید بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

    یہ کام صرف پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا نہیں بلکہ ہمارے پرائیویٹ میڈیا بشمول فلم انڈسری اور ڈرامہ انڈسٹری کا بھی ہے کہ وہ آگئے آئیں اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوں اور قربانیوں کو فلمانے میں اپنی کردار ادا کریں تاکہ دنیا بھی جان سکے کہ پاکستان دہشت گرد ریاست نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ریاست ہے۔

  • خیبر پختونخواہ کے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز، خطرات اور اُنکا حل .تحریر : ذیشان ہوتی

    خیبر پختونخواہ کے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز، خطرات اور اُنکا حل .تحریر : ذیشان ہوتی

    پشتون قوم میں تین اقسام کے نوجوان ہیں۔ اور یہ وہ نوجوان ہیں کہ اگر مل کر ایک ساتھ چلیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں نہیں روک سکتی۔
    پہلی قسم کے نوجوان مذہبی طبقے سے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو ہر شہ کو مذہب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ نوجوان ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں جو ان نوجوانوں کے دلوں میں مذہب کے نام پر وطن سے نفرت پیدا کرتے ہیں۔ یہ نوجوان مذہب کے نام پر خودکش دھماکوں کے لئے تیار کیے جاتے ہیں۔

    دوسری قسم ان نوجوانوں کی ہے جو قوم پرست ہیں۔ ان نوجوانوں کو بچپن سے قوم پرستی کی بناء پر نفرت سکھا دی گئی ہوتی ہے اور ان کے ذہنوں میں یہ بات رکھ دی گئی ہوتی ہے کہ پشتون قوم کو ہمیشہ سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو ہر سطح پر قوم پرستی کا نعرہ لگاتے ہیں اور قوم پرستی کی خاطر پاکستان کو بھی اہمیت نہیں دیتے۔
    تیسری قسم ان نوجوانوں کی ہے جو سوشل میڈیا پر فعال ہیں۔ یہ نوجوان ہر اس طبقے کی حمایت کرلیتے ہیں جو طبقہ انہیں اپنی مفاد کے لئے استعمال کرتے ہوئے انہیں پیسے فراہم کرتا ہو۔ یہ نوجوان پیسے کی لالچ میں ملک کے خلاف نفرت پھیلانے سے بھی نہیں کتراتے ہیں۔

    اس وقت پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے اور ملک کے دشمنوں کی یہی سازش ہے کہ پہلے اس ملک کے نوجوانوں کو تقسیم کریں اور پھر انہیں اپنی مفادات کے لئے استعمال کریں۔ اس وقت پاکستان میں 64 فیصد نوجوان ہیں۔ جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہے جہاں نوجوانوں کی شرح پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ابھی تک نوجوانوں کے اتحاد کے لئے کوئی پروگرام تربیت نہیں دیا گیا جہاں یہ نوجوان آپس میں بیٹھ جائیں، اور اس کی وجوہات اوپر بیان کر دی گئی ہے۔
    دوسری طرف غیر ملکی میڈیا نے پاکستان میں صرف خیبرپختونخواہ کو نشانہ بنایا ہوا ہے۔ اور ہر واقعے کو بڑھ چڑھ کر پیش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مختلف پیجز بناتے ہیں اور ایسا مواد شئیر کرتے ہیں جو پاکستان اور نوجوانوں کے لئے نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ جبکہ نوجوان طبقہ میڈیا کے اس پراپیگنڈے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کا پہلا ہدف بھی یہی نوجوان ہیں، کیونکہ نوجوان وہ طبقہ ہے جو جلد اثر انداز ہوتا ہے اور ان کو کسی بھی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
    اسی طرح بہت سے این جی اوز بھی پاکستان کے خلاف کام کرتے ہوئے نوجوانوں کے لئے مختلف تربیتی پروگرام تشکیل دیتے ہیں اور ان تربیتی پروگراموں میں نوجوانوں کو ایسی مواد فراہم کرتے ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ ریاستی اداروں کے لئے بھی نقصان دہ ہوتے ہیں۔ یہاں نوجوانوں کی ایسی ذھن سازی کی جاتی ہے کہ یہ نوجوان اپنے ہی ریاستی اداروں کے خلاف بولنے لگتے ہیں۔ بیشتر این جی اوز نے پشتون نوجوانوں ہی کو اپنا نشانہ بنایا ہوا ہے اور بے روزگار نوجوانوں کو چند روپوں کی لالچ میں ملک کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ ان نوجوانوں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہ ملک کتنی قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا ہے۔

    ہمارے تعلیمی اداروں کا نصاب بھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ نوجوانوں کی ذہن سازی کرے۔ ایک طرف سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال انتہائی ناکارہ ہے ہے۔ جبکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اول تو طلباء کو دیگر زبانیں سکھائی جاتی ہیں اور جب طلباء میٹرک پاس کرلیتے ہیں تو نہ انہیں علامہ اقبال کے افکار کا پتہ ہوتا ہے اور نہ قائد اعظم محمد علی جناح کی اس ملک کے لئے قربانیوں سے با خبر ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ طلباء ان قومی رہنماؤں کے خلاف تک بولنے لگتے ہیں۔

    پاک فوج نے اس ملک کی حفاظت اور سربلندی کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں اور بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ لیکن اس وقت نوجوانوں کا ایسا ایک طبقہ موجود ہے جو پاکستان کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔ نوجوانوں کے اس طبقے میں پاکستان کے نوجوان کم جبکہ افغانستان کے نوجوان زیادہ ہیں۔ اس طبقہ نے پاکستان کے نوجوانوں کو تقسیم کر رکھا ہے اور یہ نہیں چاہتے کہ اس ملک میں امن قائم ہو۔

    بھارت بھی پاکستان کا وہ دشمن ہے جو پاکستان میں امن نہیں چاہتا۔ بھارت بھی ان پشتون نوجوانوں کو اپنی مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے اور مختلف ذرائع سے خاص تنظیموں کو فنڈنگ فراہم کرکے پاکستان اور خصوصاً پاک فوج کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ اگر اس وقت ہم نے اپنے ان مسائل پر غور نہ کیا تو چند ہی سالوں میں اس مقام پر پہنچ جائیں گے کہ جہاں ہمیں اپنے دوست اور دشمن کا پتہ تو لگ جائے گا لیکن تب وقت گزر چکا ہوگا۔