Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سیاحت اور معیشت .‏تحریر: لاریب اطہر

    سیاحت اور معیشت .‏تحریر: لاریب اطہر

    اللہ پاک نے دنیا کو خوبصورت بنایا ہے لیکن اس میں کچھ مخصوص علاقے اپنی خوبصورتی میں خاص مقام رکھتے ہیں
    کچھ تو پورے پورے ملک ہی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا میں شہرت حاصل کر چکے ہیں
    جن میں پاکستان بھی ایک خوبصورت ملک ہے
    پاکستان میں بھی کچھ شہر، علاقے تو اتنے خوبصورت ہیں کہ ان کو دیکھنے کے لیے پوری دنیا سے لوگ پاکستان کا سفر کرتے ہیں اور کئی کئی دنوں تک وہ پاکستان کے ان خوبصورت علاقوں میں رہتے ہیں
    دنیا کے اکثر ممالک کی معیشت کا دارومدار ہی سیاحت پر ہے جن میں سوئٹزرلینڈ دنیا میں سیاحت کے لیے مشہور ہے پوری دنیا سے لوگ سوئٹزرلینڈ جاتے ہیں وہاں رہتے ہیں سیر تفریح کرتے ہیں جس سے ان کی معیشت کو بھی سپورٹ ملتی ہے
    جو دوسرے ممالک سے سفر کرتے ہیں وہ ویزا، ٹکٹ، ہوٹل، ٹریولنگ سب کے لیے سیاحت کے لیے جانے والے ملک سے استعمال کرتے ہیں جس سے ان کو فائدہ ہوتا ہے
    اسی طرح جب پوری دنیا سے لوگ پاکستان کا سفر کرتے ہیں تو وہ بھی پاکستان آنے کے لیے ویزا، ٹکٹ، ٹریولنگ وغیرہ یہاں سے ہی استعمال کرتے ہیں
    جس سے پاکستان کو فائدہ ہوتا ہے
    گزشتہ ادوار میں پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا جس سے پاکستان کی سیاحت بری طرح متاثر ہوئی
    بیرونی دنیا سے تو دور پاکستانی کے شہری بھی سفر کرنے اور سیاحتی مقامات کو دیکھنے کے لئے جانے سے ڈرنے لگے
    پھر اللہ پاک کی مدد سے پاکستان کی عوام اور اداروں کی مدد سے پاکستان نے دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا اور واپس اپنے ٹریک پے آنا شروع ہوا جس سے بیرونی دنیا سے بھی لوگ اب پاکستان کا سفر کرنا شروع ہو چکے ہیں جس سے پاکستان کی معیشت اور پاکستان کی خوبصورتی دونو کو دنیا میں مقام مل رہا ہے
    اس وقت پاکستان کی موجودہ حکومت بھی کوشش کر رہی ہے پاکستان کے سیاحتی مقامات کو مزید خوبصورت اور پر امن بنایا جائے تاکہ سیاحت میں مزید اضافہ ہو
    پاکستان کے گلگت بلتستان ہو یا گلیات کے اونچے چمکتے پہاڑ
    سوات ہو یا لاہور کے سیاحتی مقامات اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا میں مشہور ہیں
    میری حکومت وقت اور اداروں سے بھی اپیل ہے کہ ان مقامات کو مزید بہتر کرنے اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں تیز کی جائیں تاکہ پاکستان بھی باقی دنیا کی طرح سیاحت سے زیادہ سے زیادہ پیسہ کما کر معیشت اور عوام کے لیے بہتر اقدامات کر سکے
    اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 2018-19ء میں پاکستان میں بیرونی سیاحوں کی تعداد 19لاکھ سے زاید رہی اور انہوںنے پاکستان میں 31کروڑ 70لاکھ امریکی ڈالرز خرچ کیے۔ورلڈ ٹورازم اینڈ ٹریول کونسل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سیاحت کو فروغ دے کر دس سال کی قلیل مدت میں 39.8ارب ڈالرز کما سکتا ہے 
    دنیا کے کئی ممالک میں قدرتی خوبصورتی تو نہیں لیکن وہاں کے حکمرانوں نے محنت اور لگن سے ملک کو خوبصورت بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا اور آج وہ اربوں ڈالرز صرف سیاحت سے کما رہے ہیں
    جبکہ پاکستان میں تو قدرتی خوبصورتی ہے
    بلند و بالا پہاڑ
    ریگستان
    دریا
    سمندر
    ہر وہ چیز جو سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے وہ پاکستان میں قدرتی طور پر موجود ہے بس اداروں کی مزید توجی کی منتظر ہے

    گو کہ پاکستان کی حکومت اس وقت بہت اچھا کام کر رہی ہے لیکن اس میں مزید بہتری کی گنجائش ابھی بھی موجود ہے

  • پاکستان کا عدالتی نظام .تحریر : حمزہ بن شکیل

    پاکستان کا عدالتی نظام .تحریر : حمزہ بن شکیل

    کسی بھی ملک، ریاست کے بنیادی ستونوں میں اہم ترین ستون انصاف کا ہے۔ اسلام بھی دنیا میں عدل و انصاف کی بنیاد پر پوری دنیا میں پھیلا جسے خود پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجہ الوداع کے موقع پر فرمایا کسی کالے کو گورے پر کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ اللہ پاک کے ہاں فوقیت صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا اہم واقع بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے .”ایک فاطمہ نامی عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کی جاتی ہے جس نے چور کی ہوتی ہے تو اس کے لیے بہت سفارشیں آتی ہیں کہ اس کا تعلق اچھے خاندان سے ہے ان کو معاف کر دیا جاۓ اور اس کا ہاتھ نہ کاٹا جاۓ لیکن اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا اور فرمایا زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ اس طرح کرتے تھے کہ امیر کو چھوڑ دیتے اور غریب کو سزا دیا کرتے تھے”

    اس وقت پاکستان میں عدالتی اصلاحات نا گزیر ہو چکی ہیں۔ ہمارے معاشرہ میں امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون ہے۔ اول تو غریب اور کمزور کو انصاف ملتا ہی نہیں اور اگر مل جاۓ تو اس میں اتنی تاخیر ہوتی ہے کہ مظلوم عدالتوں کی خاک چھانتے دنیا ہی چھوڑ جاتا ہے. غریب بیچارہ بے قصور بھی ہو تو کئی کئی سالوں تک عدالتوں کے دھکے کھاتا ہے اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور طاقتور اربوں روپے لوٹنے کے باوجود دے دلا کے چند ہی دنوں میں بری ہو جاتا ہے۔

    ایک طرف غریب روٹی یا چپل چوری کرتے پکڑا جاۓ تو ساری عمر جیل میں چکی پیستا ھے اور دوسری طرف لیاری گینگ وار کے عزیر بلوچ اور دن دھاڑے ٹریفک وارڈن کو کچلنے والے رکن بلوچستان اسمبلی مجید اچکزئی جیسے لوگ انہی عدالتوں سے نا کافی ثبوتوں کی بنیاد پر رہا ہو جاتے ہیں..

    کوئی بھی معاشرہ انصاف کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا کیوں کے کفر کا نظام تو چل سکتا ہے پر ظلم کا نہیں۔ یاد رکھیں جہاں انصاف نہ ہو وہاں کبھی امن نہیں ہوتا اور غربت خیرات سے نہیں انصاف سے ختم ہوتی ہے۔اللّه پاک بھی انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اللّه کی عدالت میں صرف انصاف ہوتا ہے اور ظالم پر رحم کرنا مظلوم پر ظلم کرنے جیسا ہے۔ قدرت کا یہ قانون ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے یہی مکافات عمل ہے۔

    آزاد اور خود مختار عدالتیں ہی حق اور سچ پر مبنی فیصلہ دے سکتی ہیں۔ آج پاکستانی عدالتوں میں قریب 21 لاکھ سے زائد مقدمات انصاف کے منتظر ہیں- اس پرانے اور فرسودہ نظام کو اب بدلنے کا وقت ہے۔ ‏عدالتی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ موجودہ حکومت کے چند وعدوں میں سے ایک وعدہ عدالتی نظام میں اصلاحات اور تبدیلیاں تھی جو اب تک پورا نہیں ہو سکا۔

    حکومت کو تمام متعلقہ اداروں اور حکام کے ساتھ مل کر عدالتوں میں پڑے تمام زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کے حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہئے تا کہ سب لوگوں کو فوری اور بروقت انصاف مل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ جھوٹے مقدمات اور جھوٹی شہادتوں کو روکا جانا چاہئے اور مقدمات کے غیر ضروری التواء کے ذمہ دار ججز اور وکلاء کے خلاف عملی کروائی ہونی چاہئے۔ پارلیمنٹ کو عدالتی اصلاحات پر توجہ دینی چاہئیے۔

    اللّه تبارک و تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں:

    {إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ o} [المائدہ:۴۲]
    ” بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ”

    إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ
    (الحجرات 9)
    "اللہ قسط سے انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے.”

    (حدیث قدسی ، مسلم : 2577 )
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
    ” مظلوم کی بد دعا سے بچو ، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا _” (بخاری : 1469 ، مسلم : 19)

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی حالت میں تشریف لاتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں:

    ”اے لوگو! اگر میں نے کسی کی پیٹھ پر کبھی درّہ مارا ہے تو یہ میری پیٹھ حاضر ہے، وہ مجھ سے بدلہ لے سکتا ہے۔ اگر میں نے کسی کو برابھلا کہا تو یہ میری آبرو حاضر ہے، وہ اس سے انتقام لے سکتا ہے۔ اگر میں نے کسی کا مال چھینا ہے تو میرا مال حاضر ہے، وہ اس سے اپنا حق لے سکتا ہے اور تم میں سے کوئی یہ اندیشہ نہ کرے کہ اگر کسی نے انتقام لیا تو میں اس سے ناراض ہوں گا، یہ بات میری شان کے لائق نہیں۔”


  • کچروں میں دھنستا کراچی :تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کچروں میں دھنستا کراچی :تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی شہر ملک کا ترقی کا ضامن ہے اس کے لوگ وطن پرستی کا جزبہ ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے یہ ملک کی خاطر کسی بھی قربانی دینے سے کبھی بھی گریزاں نہیں رہے ہیں لیکن ملک کے کرتا دھرتاؤں نے کراچی کو ویرانوں میں تبدیل کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی کراچی والوں کو چوروں کے ساتھ مل کر چوکیداروں نے ہی تو لٹوایا ہاں ہاں اس کو لوٹنے والوں کے چہروں سے نقاب کھینچا جائے تو اس میں زیادہ تر تو اپنے ہی نظر آئینگے بلدیاتی نظام کے سب اختیارات اپنوں کے گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر تو پیپلز پارٹی کے حوالے کئے گئے اٹھارویں ترمیم سے لیکر کراچی والوں کو دئیے گئے سارے ہی زخم اگر اچھے اور تعصب کی عینک اتار کر دیکھے جائیں تو سب ہی پر اپنوں کا ہاتھ نکلے گا کوٹہ سسٹم پر رونے والے اپنوں نے پرویز مشرف دور میں کیونکر کوٹہ سسٹم ختم نہیں کروایا کیوں چودا سالوں کا گورنر گورنری کے منصب سے ہٹنے کے بعد ایک دن بھی اس کراچی میں نہیں رکا اور اگلے ہی دن دبئی کی پروقار زندگی گزارنے واپس چلا گیا جن مہاجروں کے ووٹ پر گورنر رہا 14 سالوں میں بدلے میں انہیں کیا دیکر گیا مہاجروں کی گلی محلے آج بھی گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں کچرے کا ڈھیر جو دور کسی گراؤنڈ یا کنڈی پر ہوا کرتا تھا آج ہر گلی کے کونے پر آگیا ہے روڈ دیکھے ہوئے زمانے گزر گئے گٹر کا پانی پھلانگ پھلانگ کر کراچی کا نوجوان اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کی صلاحیتوں کو اتنا حاصل کر کا ہے کے اگر وہ دوڑا تو دوسرا کوئی مقابل نہیں ہوگا دور تک بلکہ بہت دور تک کراچی والوں کا احساس محرومی بڑھ رہا ہے مقتدر حلقوں سے گزارش ہے کہ اس پر رحم نہیں صرف اس کا حق ہی دے دیا کریں تو یہ بدلے میں آپ کو ابھی جو دے رہا ہے اس کئی گنا بڑھا کر واپس کردے گا اس کا اچھا اور معیاری ڈاکٹر وہ ہی ہوسکتا ہے جو پہلے بھی اس کا بہترین علاج کر کا ہو جس کو اس کے ایک ایک سینٹی میٹر کا علم ہو جو جانتا ہو پانی آئیگا کہا سے اور جائے گا کہا سے جو جانتا ہو کراچی کے مسائل کو دنوں میں حل کرنے کا فارمولا کیا ہے جو گھر سے نکلتے وقت یہ نا سوچتا ہو کے واپس کتنے نوٹ لیکر جانا ہے جو یہ سوچتا ہو کے کراچی والوں کی صبح کو بہتر کیسے بنانا ہے جس کو یہ احساس ہو کے میرے پاس جو زمہ داری ہے اس کا اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوکر حساب کتاب دینا ہے جو پاکستان کو ترقی دینے والوں کی صف میں سب سے آگے کھڑا ہونے والا انسان ہو جو رات کو رات نہیں اور دن کو دن نہیں سمجھتا ہو جس کی گھڑی میں ایک ہی وقت نظر آتا ہو کام کام کام کام کام لینا جانتا ہو کام کرنے والوں کی قدر و قیمت جانتا ہو جو اپنے لئے فرمائشوں کا نہیں بلکہ عوام کے لئے آسائشوں کا طلبگار رہتا ہو جو کراچی سے کشمور اور ساتوں براعظموں میں اپنے کام کی وجہ سے جانا اور مانا گیا ہو جس نے وہ کام کئے کے لوگ اسے کام کا بندہ ہے کہہ کر پکاریں جو سید بھی ہو مصطفیٰ بھی ہو اور کمال بھی ہو جس کے کام کو دنیا نے سراہا ہو جس کی لگن کو کراچی ہی نہیں پورے پاکستان حمایت حاصل ہو مصطفیٰ کمال ہی ہیں جو کچرے میں دھنستے سندھ کے شہروں کو واپس اپنے اصل مقام پر لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں

    کراچی شہر ملک کی ترقی کا ضامن ہے اس کے لوگ وطن پرستی کا جزبہ ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے یہ ملک کی خاطر کسی بھی قربانی دینے سے کبھی بھی گریزاں نہیں رہے ہیں لیکن ملک کے کرتا دھرتاؤں نے کراچی کو ویرانوں میں تبدیل کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی کراچی والوں کو چوروں کے ساتھ مل کر چوکیداروں نے ہی تو لٹوایا ہاں ہاں اس کو لوٹنے والوں کے چہروں سے نقاب کھینچا جائے تو اس میں زیادہ تر تو اپنے ہی نظر آئینگے بلدیاتی نظام کے سب اختیارات اپنوں کے گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر تو پیپلز پارٹی کے حوالے کئے گئے اٹھارویں ترمیم سے لیکر کراچی والوں کو دئیے گئے سارے ہی زخم اگر اچھے اور تعصب کی عینک اتار کر دیکھے جائیں تو سب ہی پر اپنوں کا ہاتھ نکلے گا کوٹہ سسٹم پر رونے والے اپنوں نے پرویز مشرف دور میں کیونکر کوٹہ سسٹم ختم نہیں کروایا کیوں چودا سالوں کا گورنر گورنری کے منصب سے ہٹنے کے بعد ایک دن بھی اس کراچی میں نہیں رکا اور اگلے ہی دن دبئی کی پروقار زندگی گزارنے واپس چلا گیا جن مہاجروں کے ووٹ پر گورنر رہا 14 سالوں میں بدلے میں انہیں کیا دیکر گیا مہاجروں کی گلی محلے آج بھی گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں کچرے کا ڈھیر جو دور کسی گراؤنڈ یا کنڈی پر ہوا کرتا تھا آج ہر گلی کے کونے پر آگیا ہے روڈ دیکھے ہوئے زمانے گزر گئے گٹر کا پانی پھلانگ پھلانگ کر کراچی کا نوجوان اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کی صلاحیتوں کو اتنا حاصل کر کا ہے کے اگر وہ دوڑا تو دوسرا کوئی مقابل نہیں ہوگا دور تک بلکہ بہت دور تک

    کراچی والوں کا احساس محرومی بڑھ رہا ہے مقتدر حلقوں سے گزارش ہے کہ اس پر رحم نہیں صرف اس کا حق ہی دے دیا کریں تو یہ بدلے میں آپ کو ابھی جو دے رہا ہے اس کئی گنا بڑھا کر واپس کردے گا اس کا اچھا اور معیاری ڈاکٹر وہ ہی ہوسکتا ہے جو پہلے بھی اس کا بہترین علاج کر کا ہو جس کو اس کے ایک ایک سینٹی میٹر کا علم ہو جو جانتا ہو پانی آئیگا کہا سے اور جائے گا کہا سے جو جانتا ہو کراچی کے مسائل کو دنوں میں حل کرنے کا فارمولا کیا ہے جو گھر سے نکلتے وقت یہ نا سوچتا ہو کے واپس کتنے نوٹ لیکر جانا ہے جو یہ سوچتا ہو کے کراچی والوں کی صبح کو بہتر کیسے بنانا ہے جس کو یہ احساس ہو کے میرے پاس جو زمہ داری ہے اس کا اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوکر حساب کتاب دینا ہے جو پاکستان کو ترقی دینے والوں کی صف میں سب سے آگے کھڑا ہونے والا انسان ہو جو رات کو رات نہیں اور دن کو دن نہیں سمجھتا ہو جس کی گھڑی میں ایک ہی وقت نظر آتا ہو کام کام کام کام کام لینا جانتا ہو کام کرنے والوں کی قدر و قیمت جانتا ہو جو اپنے لئے فرمائشوں کا نہیں بلکہ عوام کے لئے آسائشوں کا طلبگار رہتا ہو جو کراچی سے کشمور اور ساتوں براعظموں میں اپنے کام کی وجہ سے جانا اور مانا گیا ہو جس نے وہ کام کئے کے لوگ اسے کام کا بندہ ہے کہہ کر پکاریں جو سید بھی ہو مصطفیٰ بھی ہو اور کمال بھی ہو

    جس کے کام کو دنیا نے سراہا ہو جس کی لگن کو کراچی ہی نہیں پورے پاکستان کی حمایت حاصل ہو مصطفیٰ کمال ہی ہیں جو کچرے میں دھنستے سندھ کے شہروں کو واپس اپنے اصل مقام پر لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں

  • سرد جنگ .تحریر:رانا عزیر

    سرد جنگ .تحریر:رانا عزیر

    افغانستان میں جنگ کے اختتام کے آثار دور تک دکھائی نہیں دے رہے کیونکہ امریکہ اس خطے میں رہنا چاہتا ہے اور وہ پاکستان میں ایک دفعہ پھر تباہی مچانا چاہتا ہے تاکہ سی پیک کو تباہ کیا جا سکے۔ چین سی پیک کے ذریعے ہی وسطی ایشیاء اور پھر دنیا کے دیگر ممالک تک رسائی حاصل کررہا ہے جو کہ امریکہ اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

    اشرف غنی نے بھی اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر واشنگٹن کی طرف کشکول بڑھا دیا ہے۔ ابھی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق طالبان 117 اضلاع پر قابض ہوچکے ہیں وہ امریکی سازوسامان پر بھی قابض ہورہے ہیں۔ اب امریکہ عرب ممالک سے پاکستان پر پریشر بڑھا رہا ہے کہ آپ کے تمام پاکستانیوں کو نکال دیا جائے گا اگر امریکہ کی افغانستان میں مدد نہ کی گئی، لیکن پاکستان کی ریاست کا دوٹوک فیصلہ ہے نو مور۔ بھارت کو بھی بڑا خطرہ لاحق ہے چونکہ بھارت بھی اپنے را کے ایجنٹ جو پاکستان میں دہشتگردی کرنے کیلئے دہشتگردوں کو افغانستان سے کنٹرول کرتے تھے ان کو بھارت لے جا چکا ہے، اب بھارت کو ڈر ہے کہ پاکستان کی افغانستان میں سیاسی مداخلت بڑھی گی۔ خطے میں امریکہ اور چین کے شدت پکڑتے اختلافات اور سرد جنگ کو ملحوظ خاطر نہایت ضروری ہے، چین برملا یہ کہہ چکا ہے کہ وہ اب سپر پاور بننے جارہا ہے، چین کے کیے اب پاکستان بہت اہم ہے اور ایسی قیادت بھی چین کو پاکستان میں چاہیے تھی جو امریکہ کے سامنے کھڑا ہوسکے اب چین کے پاس دونوں صورتیں موجود ہیں، امریکہ پاکستان کو اب ایران، عراق اور دیگر وسطیٰ ایشیائی ممالک سے توڑنے چاہتا ہے جس میں ایک پائپ لائن کا پراجکٹ بہت اہم ہے جو عراق سے شروع ہوتا ہے پاکستان کے ذریعے ہمالیہ کشمیر اور چائنہ تک جاتا ہے یوں تیل چین جائے گا اور چینی سرمایہ کاری مشرق وسطی میں پھیلے گی۔ امریکہ اب وسطی ایشیاء کے ساتھ مشرق وسطی میں بھی اسڑیجٹک ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جس کے بعد اس کا مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے۔

    دنیا میں چین کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ اور ون بیلٹ ون روڈ ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔ چین سرمایہ کاری، تجارت کو استعمال کرتے ہوئے ایشیا میں ذرائع آمد و رفت کا ایسا جال بچھا رہا ہے جس سے ہر ایک پالیسی اس منصوبے کو اتنا اوپر لے کر جارہی ہے کہ پورا خطہ اس کی آغوش میں آجائے گا جس کا سب سے اہم حصہ گوادر ہے جو پوری دنیا کا حب بننے جارہا ہے جس سے عرب بھی tips for building strength پریشان ہیں کہ ان کی معیشت بھی کھڈے لائن لگ جائے گی۔ سی پیک کو سبوتازژ کرنے کیلے بھارت اور امریکہ پاکستان میں دہشتگردی کی نئی لہر لانے کی منصوبہ بندیاکررہے ہیں۔ تاکہ پاکستان کا امن برباد کرکے سرمایہ کاری کو روکا جائے لیکن نئے پاکستان کا وقت آگیا ہے

  • ھئمم

    ھھآج کل ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہاں عورت کو ایک بوجھ، ذمہ داری اور بد نصیبی کی نشانی سمجھا جاتا ہے ۔ خواتین کے لئے بدقسمتی سے ایسے ایسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں کہ وہ خود کومعاشرے کا حصہ سمجھتے سے محروم کردیتی خود کو۔ آج کل ہمارے معاشرے میں عورت کے لئے یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس کا کام صرف گھر گرہستی کرنا ہے اور خود کو شوہر کے لئے ایک بہت ہی اچھی بیوی بن کر دیکھانا ہے۔ وہ کبھی شوہر کے آگے زبان نہ چلائے،اسکی بات ہر خواہش ایک آواز میں پوری کرے۔کیوں عورت کو صرف گھر گرستی جیسے کاموں تک ہی محدود کررکھا ہے۔

    عورت معاشرے کی تکمیل کے لیے اہم عنصر ہے۔ عورت ہر روپ میں انمول تحفہ ہے خدا کی طرف سے وہ صرف اپنے خاندان کی زندگی ہی نہیں بناتی بلکہ ایک خالی مکان کو گھر بنانے میں اپنی زندگی گزار دیتی ہے۔ اپنی خواہشات کا گلہ گھونٹ دیتی ہے۔ بچوں کی اچھی تربیت کرتی ہے،انکی اچھی اور اعلی پرورش کرتی ہے اور اولاد کو اچھا شہری بنانے کی کوشش میں مگن ہوجاتی ہے۔بحیثیت مجموعی عورت کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ایک مثالی ریاست،معاشرہ اور خاندان تعمیر کرے۔
    آج اگر ہم اپنے ملک میں کئی علاقوں میں جائیں وہاں عورت پر نظر ڈالیں تو اس کو اعلی تعلیم، صحت جیسی بنیادی حق سے بھی محروم کررکھا ہے۔ ان کو خود سے فیصلہ کرنے کا حق بھی نہیں دیا جاتا ہے۔
    آج کے زمانے میں اب بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ وقت بدل گیا ہے تو کیا ہوا عورت کے حقوق اب بھی ویسے ہی ہیں۔ آج بھی عورت کو صحت، تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی میسر نہیں۔اور جن علاقوں میں تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات میسر ہیں وہاں ان کو مساوات اور ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    منفی مساوات کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان ان ملکوں میں دوسرے نمبر پر آتا ہے اور اس لحاظ سے پیچھے بھی ہے۔
    آج بھی خواتین اپنے اوپر تشدد صرف اور صرف اس لئے برداشت کررہی ہیں کہ ان پر کوئی اور تشدد نہ ہوجائے وہ سمجھتی کہ اگر انہوں نے آواز اٹھائی تو لوگ ان پر انگلیاں اٹھائیں گے اور ان کو الزام تراشی کا شکار بنا دیں گے۔ ان کے گھر والے بھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے اور یوں ہرحال میں قربانی دینے،برداشت کرنے کے اور مصلحت سے کام لینے کے لئے بھی عورت کو ہی کہا جائے گا۔ ان کو ہر وقت اس بات کا ڈر کہ کہیں طلاق ہوگئی تو لوگ اور یہ معاشرہ کیا کہے گا لوگ کیا سوچیں گے معاشرے میں اور مزید بدنامی ہوگی۔ ہر حال میں عورت کو ہی تحمل اور برداشت سے کام لینا ہوگا اور اس بات کا دباؤ اس کو گھر والے اور رشتہ دار بھی دیتے ہیں کہ چاہیے کچھ بھی ہو اپنا گھر تم کو ہی بچانا ہے۔ آخر کیوں اور کب تک؟ کیا یہ سب اگر کسی مرد کے ساتھ ہو تو کیا اس کو بھی اسی طرح لوگ سمجھائیں گے،یہی کہیں گے کہ اپنی انا کو مارو،اور رشتہ بچاو۔ شاید نہیں اور کبھی نہیں کیونکہ ان کی نظر میں عورت ایک بہت بے معنی سی چیز ہے اور اس لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔

    مرد عورت پر ہاتھ اٹھائے، گالیاں دے،مارپیٹ کرے پھر بھی عورت کو یہ رشتہ ختم نہیں کرنے کا کہا جاتا ہے، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ مالی لحاظ سے شوہر کی ہی محتاج ہوتی ہے۔ اس کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ اپنے اخراجات خود برداشت نہیں کرسکتی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ والدین اس کی تعلیم پر توجہ ہی نہیں دیتے اور ان کی تعلیم پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ وہ ان کو گھر سے باہر بھیجنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ اور یہی سب سے بڑی وجہ ہوتی ہے جو عورت مالی لحاظ سے اپنے گھر والوں کے سامنے کمزور اور ان کی محتاج بن کر رہ جاتی ہے۔
    اگر عورت کو بچپن میں ہی اس کے حقوق دیے جائیں تو وہ ایسے کسی بھی قسم حالات اور ناانصافی کا سامنا نہیں کرے۔
    آج معاشرے میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ عورت کو صحت تعلیم روزگار جیسے حقوق دیے جائیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بیٹیوں کی تربیت ایسے کریں ان کو اچھی تعلیم دلوائیں اور ان کو سارے حقوق دیں۔ کسی بھی کے ساتھ محض صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں رکھا جائے کیونکہ کچھ بھی ہو سب سے پہلے وہ انسان ہے۔ عورت کی قابلیت کو اس بات سے نہیں جانچیں کہ وہ صرف گول روٹی ہی بنا سکتی ہے بلکہ اس معاشرے میں رہتے ہوئے اس کا حصہ ہوتے ہوئے وہ ہر کام جو مرد کرسکتا ہے وہ عورت بھی کر سکتی ہے اور اپنے گھر والوں کا سر فخر سے بلند بھی کرسکتی ہے۔ اس لیے عورت کی قدر کریں اور اس کا خیال رکھیں۔

    تحریر: ایمن رافع

  • 5 جولائی یومِ سیاہ کا ڈھونگ تحریر: فیصل خالد

    5 جولائی یومِ سیاہ کا ڈھونگ تحریر: فیصل خالد

    ذوالفقار علی بھٹو کی بنائی ہوئیPPP فقط چُوں چُوں کا مربہ پارٹی تھی
    اس میں اسلام،سوشلزم،جمہوریت اور لادینیت کے تمام اجزاء شامل تھے
    بلاشبہ بھٹو جینئیس تھا لیکن زیادہ تر معاملات میں اِیول جینئیس تھا
    وہ جینئیس تھا تو صرف اس حوالے سے کہ وہ لوگوں کو جمع بھی کر سکتا تھا اور انہیں کسی نکتے پر مائل بھی کر سکتا تھا
    یہی وجہ ہے کہ اس نے پی پی پی کے بے تُکے منشور پر سیاستدان بھی جمع کر لیے تھے اور اسلام کا تڑکہ لگانے کیلیے مولانا کوثر نیازی جیسے مولوی بھی ساتھ ملا لیے تھے

    یہ بھٹو کی منفی لیکن طلسماتی شخصیت اور اس کے جاہلانہ منشور کا کمال ہے کہ پی پی کو ضیاء جیسا اسلام پسند اور الطاف حسین جیسا دہشت گرد بھی ختم نہ کر سکے
    بھٹو نے پی پی میں جو مفاد پرست لوگوں کی زیریں غلام قیادت ترتیب دی تھی اس نے بھی ذاتی مفاد پرستی کا حق ادا کر دیا
    بھٹو کے دربارِ منافقت میں وڈیرے،تعلیم یافتہ افراد مزدور جب پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

    سب جونکوں کی طرح اپنی اپنی جگہ کو چاٹنے میں مصروف رہے
    کسی کو صف اول کی قیادت اور بھٹو کا متبادل بننے کی فکر نہیں تھی کہ پی پی کے سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جاسکے

    یہی وجہ ہے کہ بھٹو کی پی پی کا سیاسی عمل اس کی پھانسی کے بعد جمہوریت سے موروثیت کی شکل اختیار کر گیا

    جمہوریت کیلیے شعور و قابلیت درکار ہوتی ہے جبکہ موروثیت کیلیے لا شعور اور جاہلیت مطلوب ہوتی ہے
    چنانچہ بھٹو کی پیدا کی ہوئی جہالت نے پی پی کو سیاسی سے زیادہ موروثی طور پر مستحکم کیا
    پی پی کی موروثیت کو بے نظیر نے خوب استعمال کیا،
    بھٹو کے نام کا مکمل فائدہ اٹھایا

    پھر بے نظیر کے قتل کے بعد زرداری نے موروثیت کی گاڑی کو جہالت کے دو پہیے بے نظیر کو "شہید” کہہ کر اور بلاول زرداری کو "بھٹو” کہہ کر دیے اور خود جئے بھٹو کا اسٹئرنگ سنبھال کر چلانے لگا

    یہی مرحلہ پی پی کی تباہی کا آغاز تھا

    پی پی میں جن کو بزرگ سیاستدان کہا جاتا ہے ان کی حیثیت خاندان کے بوڑھے ملازم،مالی یا خانسامے سے زیادہ نہیں۔اور نہ ہی ان میں سیاسی شعور ہے۔
    وہ کل وقتی لٹیرے تھے اور لٹیرے ہی رہے۔
    کسی کو پی پی کے سیاسی حوالے کی فکر نہ رہی۔
    یہی وجہ ہے کہ وہ بزرگ ملازم اور جیالے زرداری سے موہوم اختلاف کے باوجود پی پی کے نام سے لوٹ مار کرتے رہے۔
    ورنہ پی پی 50 سال کے بعد سندھ تک محدود نہ ہوتی۔

    پی پی کو موروثیت نے تباہ کر دیا

    نصرت بھٹو کی رفاقت،بے نظیر کی ذہانت اور زرداری کی شاطرانہ خیانت نے پی پی کو محدود سہی لیکن زندہ ضرور رکھا ہوا ہے۔

    اب نصرت کی رفاقت اور بے نظیر کی ذہانت ختم ہو گئیں۔

    زرداری کی دلیرانہ اور شاطرانہ قیادت کے ختم ہونے کی صورت میں بلاول کی مخنثانہ اور مضحکہ خیز قیادت پی پی کو مکمل تباہی سے ہمکنار کرنے کو ہمہ وقت تیار ہے۔
    کیونکہ بلاول کے پاس اس کی انفرادی حیثیت میں بے نظیر جیسی ذہانت ہے نہ زرداری جیسی خباثت

    ابھی بھی پی پی کے برائے نام سیاستدانوں کیلیے موقع ہے کہ وہ "مرد ” بنیں، آگے آئیں۔
    پارٹی قیادت پر سوال اٹھائیں اور پارٹی کو موروثیت سے سیاست و جمہوریت کی راہ پر گامزن کریں۔
    خود بھی جیالے پن سے نکل کر سیاسی کارکن بنیں۔

    یقین جانیے بلاول کی طفلانہ، مخنثانہ اور جاہلانہ "حرکات” وہ آگ ہیں جو زرداری کی موت کے فوراً بعد پارٹی کو جلا کر بھسم کر دیں گی

    "اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے”

    Twitter handle
    @_FaysalKhalid

  • ماضی کو بھول کر مستقبل کو دیکھا جائے بلاول بھٹو

    ماضی کو بھول کر مستقبل کو دیکھا جائے بلاول بھٹو

    چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے نکیال کشمیرمیں الیکشن کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بے نظیر سے سیکھا ہے کہ جہاں کشمیرکی بہن، بیٹی کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا، عمران خان کوبزدل وزیراعظم قراردیا گیا ہے، موودی تاریخی حملہ کرتا ہے وزیراعظم بزدلانہ رویہ رکھے ہوئے ہے، ہم آزاد کشمیرکی عوام کے ساتھ ہیں، نا ہم اسلام آباد میں کٹھ پٹھلی حکومت چاہتے ہیں، نا ہم آزاد کشمیرمیں کٹھ پٹھلی حکومت چاہتے ہیں، ہماری اولین ترجیح یہ کہ آزاد کشمیرزیادہ روزگاردیئے جائیں گے، زیادہ نوکریاں دی جائیں گی، پیپلزپارٹی کے دورمیں پینشن کا اضافہ ہوا ہے، تنخواہوں بھی ہمارے دور میں اضافہ کیا گیا ہے، ہم عمران کی طرح آپ کو لاوارث نہیں چھوڑ سکتے ہیں، آپ سب سیاسی جماعت کو جانتے ہیں، پیپلز پارٹی کو موقع دیں تاکہ اپنے آباؤاجداد کے خواب کو پورا کرسکوں، عمران خان نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کر کے نوکروں سے نکال دیا ہے، پیپلزپارٹی وہ جماعت ہے جوعوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں،ہم نے غریب کا ساتھ دیا ہے، ہم ہر پالیسی میں کلئیر ہیں، کشمیر کا مستقبل کشمیرکی عوام کریں کشمیری عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں، اسمبلی میں کھڑے ہوکر ہم کہتے ہیں کشمیر کی سودے بازی نا منظور کرتے ہیں، میں آپ کے درمیان ہوں بے نظیر کا مشن، ذولفقار کا مشن نا مکمل ہے، ماضی کو بھول کر مستقبل کو دیکھا جائے، ایک ہی جماعت ہے جو پاکستان کو ہر مسئلے سے نکال سکتا ہے، تیر کا ساتھ دیں، جیت کا نشان تیر کا نشان ہے.

  • ٹویٹر پہ میرا پہلا دن .تحریر:بشارت محمود رانا

    ٹویٹر پہ میرا پہلا دن .تحریر:بشارت محمود رانا

    آج میں آپ سب کو سنانے جا رہا ہوں اپنی ٹویٹر پہ ہونے والی پہلی اینٹری مطلب میرا پہلا دن اور اِس دوران پیش آنے والے خوشگوار واقعات پہ مبنی کہانی میری زبانی۔۔۔

    جی ہاں ٹویٹر پہ میرا پہلا دن۔۔

    ویسے تو میں ٹویٹر پہ بہت پہلے سے موجود تھا اور ۲۰۱۲ کے شروع میں ہی میں نے ٹویٹر اور فیس بُک پہ اپنا پہلا پہلا اکاونٹ بنالیا تھا۔ حالانکہ فیس بُک پہ میں نے اپنا ایک پیج بھی بنایا ہواہے جس پہ ہزاروں میں میری فالووئینگ بھی ہے اور لوگ مجھے “Pakistan Ka Tiger” کے نام سے جانتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود بھی میں ٹویٹر پہ اتنا ایکٹو نہیں رہا کرتا تھا شائد اسکی وجہ بھی فیس بک ہی تھی اور ٹویٹر پہ بس اتنا سمجھ لیں کہ کبھی مہینے بعد ٹویٹر آن کر کے دیکھ لیا کرنا یا پھرکبھی اس سے بھی زیادہ وقت بیت جایا کرتا تھا۔

    لیکن! پھر ایک دم سے میری سوشل میڈیا زندگی میں چینج آیا جب میں نے ٹویٹر پہ ایک ٹرینڈنگ ٹیم میں شمولیت اختیار کی تو اسی دن کو میں ٹویٹر پہ اپنا پہلا دن تصور کرتا ہوں۔

    تب! شروع کے کچھ دن تو مجھے کافی چیزیں سمجھنے میں ہی گزر گئے جیسے کہ کسی کو ہینڈل کے ساتھ کیسے مینشن یا پھر پکچر میں ٹیگ کیسے کرنا ہے

    یہ سب سمجھنے کیلئے ٹویٹر رولز بھی پڑھے اور کچھ آن ائیر اور کچھ آف ائیر دوستوں سے بھی مدد لی اور یوٹیوب کا بھی بہت شکریہ کہ اس سے بھی بہت سی معلومات حاصل کیں جو میرے لئے بہت مفید ثابت ہوئیں اور بہت سے ایسے سینئرز جو بہت عرصے سے ٹویٹر استعمال کر رہی/رہے تھے اُن میں سے چند ایک سے بات بھی ہوئی اور کچھ سے بات کئے بنا ہی مطلب صرف انکی ٹویٹس کو دیکھ دیکھ کے ہی بہت سی چیزیں سیکھنے کوملیں، اُن سب کا بھی مشکور ہوں۔

    اور یہ سب بتاتے ہوئے میں بالکل بھی شرم محسوس نہیں کر رہا ہوں کیوںکہ کسی بھی چیز کو سمجھنے اور پھر اُس کی جانکاری پہ مکمل عبور حاصل کرنے تک کیلئے ایک باقائدہ پروسیس ہوتا ہے جسے پورا کئے بنا کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اور میں بھی اسی پروسیس سے گزرا۔

    جیسے جیسے مجھے چیزوں پہ عبور حاصل ہوتا گیا (البتہ! سیکھنے کیلئے ابھی بھی بہت کچھ باقی ہے) تو میں نے دیکھا کہ یہ تو دنیا ہی الگ تھی کہ جہاں پوری دنیا، مطلب ہر ملک سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے جن میں ہیڈ آف سٹیٹس، گورنمنٹس آفیشلز، گورنمنٹس کے ادارے، انٹرنیشنل این جی اوز، انٹرنیشنل نیوز چینلز، انٹرنیشنل نیوز پیپرز، سیاستدان، صحافی، اداکار، سنگرز، رائٹرز، ڈائریکٹرز، شاعر، ادیب، فیشن ڈیزائنرز و آرٹسٹس، بیوٹیشنز یہاں تک کہ ہر طبقہِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ٹویٹر پہ اپنے مداحوں کو لبھانے کیلئے ٹویٹس کرنا اور پھر عام عوام یعنی فالوورز کا ان کو ریپلائی کرنا اور پھر جواباً آپس میں بات چیت تک کا بھی ہونا یقیناً میرے لئے یہ ایک انتہائی خوشگوار تجربہ تھا اور اس سے میں بہت محظوظ بھی ہونا شروع ہو گیا تھا۔

    پھر نیشنل اور انٹرنیشل لیول کے جو ٹرینڈز ہوتے ہیں اُن کے بارے میں بھی پتا چلا اور اس کا تجربہ ہونا بھی میرے لئے ایک نئی چیز تھی کیونکہ اس سے پہلے اکثر میں نے نیوز میں سُن اور دیکھ رکھا تھا کہ کسی کے حق میں یا مخالفت میں ٹویٹر پہ ٹرینڈ ہو رہا ہے اور اُس میں ہزاروں، لاکھوں یا کروڑوں ٹویٹس ہوئی ہیں۔

    اس سفر میں جو کہ اب تک صرف چند ماہ پر ہی محیط ہے، تو اپنے اس سفر کے دوران ایک انٹرسٹنگ بات یہ تھی جس پہ آپ بھی ہنسیں گے کہ میں نے ہر اُس ٹرینڈنگ ٹیمز میں شمولیت اختیار کی جس کے کسی ایک میمبر کا بھی مجھے آٹو انویٹیشن ملا تھا کیونکہ تب تک مجھے آٹو میسج کا بھی پتا نہیں تھا ( اور اب پتا چل جانے پہ میں کسی بھی آٹو میسج پہ کبھی کان ہی نہیں دھرتا) اور پھر میرے اپنے خود کے اصولوں پہ پورا نہ اترنے پہ میں نے کافی ٹرینڈنگ ٹیمز کو خیر باد بھی کہا (اپنے طور پہ وہ سب بھی اچھا کام کر رہی ہیں اُن کیلئے بھی میری نیک خواہشات ہیں) اور پھر اِن ٹرینڈز کے دوران میں نے اِن چند ماہ میں ہی اپنے بہت سے اکاونٹس سسپینڈ بھی کروائے، انٹرسٹنگلی ایک بار تو ایسا ہوا کہ ایک ہی دن میں میرے چار اکاونٹ سسپنڈ ہوگئے وہ لمحہ میرے لئے بہت ہی شاکنگ تھا لیکن! اسے میں اپنے لئے اعزاز بھی سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب اسلام، پاکستان، کشمیر و فلسطین اور اپنے کپتان جناب وزیراعظم عمران خان کے حق میں آواز اٹھانے کا ہی نتیجہ تھا۔ تو ٹویٹر کے اس سفر میں مجھے بہت سے نئے اور اچھے دوست بھی ملے اور بہت سے نئے تجربات سے بھی گزرا۔

    جن میں سے ایک یہ کہ بعض افراد کے اکثر ٹویٹر پہ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات اور مطلب پرستی والی دوستیوں کے بارے ٹویٹس بھی نظر سے گزرے تاہم اب تک میرا ایسے کسی بھی تجربے سے بالکل بھی پالا نہیں پڑا کیونکہ میں تو شروع سے ہی عزت دو کی پالیسی پہ عمل پیرا ہوں اور دوسرے فریق سے کبھی بھی عزت ملنے کی توقع سے نہیں ملا اور ہمیشہ اگلے کو خود سے زیادہ عزت دار اور معتبر سمجھاہے۔

    اور ہمارا پیارا دینِ اسلام اور ہمارے پیارے نبی ص کی تعلیمات بھی ہمیں یہی اصول سکھاتی ہیں کہ “جو تم سے توڑے اُس سے جوڑو اور جو تم سے جوڑے تم اُس سے مزید مضبوطی سے جُڑو” مطلب کہ عزت اور پیار دینے والوں کو ہمیشہ اُن سے بڑھ کے عزت و احترام اور پیار دو اور جو عزت نہیں کرتے اُن کی اور زیادہ عزت کرو تاکہ وہ بھی دوسروں کو عزت دینا سیکھ سکیں۔

    باقی سوشل میڈیا کی طرح ٹویٹر کو بھی میں نے ایک آئینے کی طرح پایا جس میں آپ خود کو اور دوسروں کو اچھے سے جانچ اور پرکھ سکتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی ٹویٹس، پوسٹس اور کمنٹس کے ذریعے اپنے آپ اور اپنی تربیت و اخلاقیات کو عیاں کر رہا ہوتا ہے۔

    اس لئے میرے مطابق تو ہر کسی کو عزت اور احترام دینا ہی مناسب ترین عمل ہے اور اللہ تعالی ہم سب کو اسی پہ عمل پیرا فرمائیں۔ آمین

    چونکہ ہر کسی کا کسی کو (افراد یا ماحول) کو جانچنے اور پرکھنے کا پیمانہ الگ ہو سکتا ہے مگر میں نے تو سوشل میڈیا کو ایسا پایا جسے میں نے اپنی تحریر کے زریعے آپ تک پہنچایا اور یہ تو تھا میرا اب تک کا ٹویٹر کا سفرنامہ جس میں اور بھی بہت سے انٹرسٹنگ واقعات اور تجربات ہیں جو کہ سب اس ایک تحریر میں سنانا ناممکن ہے اور کوشش کروں گا کہ اپنی کسی آنے والی تحریر میں وہ بھی سُنا سکوں

    امید ہے کہ آپ کو میرا یہ خوشگوار سفرنامہ پسند آیا ہو گا۔

  • قومی کرکٹ ٹیم کا ٹریننگ سیشن 7 جولائی سے شروع

    قومی کرکٹ ٹیم کا ٹریننگ سیشن 7 جولائی سے شروع

    دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے اعلان کردہ قومی اسکواڈ میں شامل ٹیسٹ کرکٹرز7 جولائی سے کراچی میں ٹریننگ کا آغاز کریں گے، یہ دس روزہ کیمپ بائیوسیکیورماحول میں لگایا جائے گا، کیمپ مکمل کرنے کے بعد یہ تمام کھلاڑی 21 جولائی کو لاہور کے مقامی ہوٹل میں آئسولیشن کریں گے، قومی ٹیم 26 جولائی کو بارباڈوس روانہ ہوگی، تربیتی کیمپ کی نگرانی ہیڈآف پلیئرز ڈویلمپنٹ ثقلین مشتاق کریں گے، اس دوران نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر کے دیگرکوچزمحمدیوسف، مشتاق احمد، عمررشید اورعتیق الزمان بھی ان کی معاونت کریں گے، فزیوتھراپسٹ امتیازاحمد، اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ صبوراحمد اورمساجرعمران سلطان بھی کیمپ میں شرکت کریں گے.
    اس کیمپ میں گیارہ ٹیسٹ کھلاڑیوں عابد علی، اظہرعلی، فواد عالم،عمران بٹ، محمد عباس، نسیم شاہ، نعمان علی، ساجد خان، شاہنواز دھانی، یاسرشاہ اورزاہد محمود کے علاوہ چھ اضافی کھلاڑیوں کو بھی طلب کیا گیا ہے، ان چھ کھلاڑیوں میں عاکف جاوید، عرفان اللہ شاہ، امیرحمزہ، محمد حسن، محمد عمراورسیف اللہ بنگش شامل ہیں.
    کیمپ میں طلب کردہ 25 کھلاڑیوں، کوچزسمیت اورکیمپ میں شامل دیگر پانچ ارکان کی اتوار کے روز کویڈ 19 ٹیسٹنگ کی گئی ہے، جس کے نتائج منفی آئے ہیں، یہ تیس ارکان اب منگل کو کراچی میں اکھٹےہوں گے، جہاں ان کی دوسری کوویڈ 19 ٹیسٹنگ کی جائے گی۔

  • حارث سہیل کی انجری ٹھیک نا ہوسکی

    حارث سہیل کی انجری ٹھیک نا ہوسکی

    مڈل آرڈر بیٹسمین حارث سہیل ابھی بھی اپنی دائیں ٹانگ میں درد محسوس کررہے ہیں، لہٰذا وہ 5 سے 6 جولائی تک ڈربی میں شیڈول آخری دونوں پریکٹس سیشنز میں شرکت نہیں کریں گے، اسی انجری کی وجہ سے ڈربی میں کھیلے گئے دونوں انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچزمیں بھی شرکت نہیں کی تھی، حارث سہیل کے ری ہیب کا آغاز ہوچکا ہے، تاہم ان کا ایم آرآئی اسکین 6 جولائی کو کارڈف میں ہوگا، جس کا جائزہ لینے کے بعد ہی ان کی انگلینڈ کے خلاف پہلے ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں دستیابی کا فیصلہ کیا جائے گا، پاکستان اورانگلینڈ کےمابین تین ایک روزہ اور تین ٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچزپرمشتمل سیریز کا آغاز8 جولائی کو کارڈف سے ہوگا، قومی کرکٹ اسکواڈ 6 جولائی کو ڈربی سے کارڈف روانہ ہوگا۔