پی پی پی آزاد کشمیر کے صدرچوھدری لطیف اکبرنے الیکشن کمیشن آزادکشمیرکومکتوب لکھا ہے، جس میں آمدہ انتخابات میں وفاقی حکومت کی مداخلت اور ممکنہ دھاندلی کی نشاندہی کی گی ہے، جسکے مطابق انتخابی مہم قوانین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، الیکشن کمیشن سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزرا لوگوں کو ووٹ بیچ رہے ہیں، جلسے میں خطاب کے دوران پاکستان سے فنڈز دینے کی بات کررہے ہیں، اس خلاف ورزی کا ہمارے پاس وڈیو ثبوت ہے، الیکشن کمیشن سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے.
Category: بلاگ
-

ایل اے 2 کے امیدوار نے اپنی پوزیشن کیسے مضبوط کرلیِ؟
بڑجن یوسی کنیلی پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں وکشمیر کے سینئیرنائب صدراورامیدوار قانون سازاسمبلی حلقہ ایل اے 2 اسلام گڑھ چکسواری چوہدری ظفرانورکی پوزیشن مضبوط ہوگئی ہے، چوہدری ظفرانورکی جارحانہ اننگ جاری ہے، پیپلز پارٹی اورمسلم کانفرنس کی بڑی وکٹیں گرادیں ہیں، پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے کارکنان نے پی ٹی آئی کی ہمایت کا اعلان کردیا ہے، چوہدری عابد حسین، چوہدری محمد خورشید، چوہدری محمد خالد، قمر شہزاد، تیمورادریس، خرم شہزاد، چوہدری ازرم، چوہدری دانیال شبیر، چوہدری انس عابد، چوہدری محمد ایوب، چوہدری حاجی محمد یونس، چوہدری محمد قیوم، چوہدری محمد شاہ نواز، چوہدری ندیم ایوب، جنید علی، چوہدری احمد علی، چوہدری غلام رسول، چوہدری محمد شبیر، چوہدری بنارس سنگال، چوہدری محمد رئیس، عامر سہیل، چوہدری محمد توصیف شبیر، چوہدری حسن رضا، چوہدری محمد فاروق، چوہدری محمد معروف، چوہدری محمد ادریس، عنصر خادم، ناظم حسین، محمد شبیر، چوہدری عمران، چوہدری شیربان، چوہدری عاطف، چوہدری عنصر خادم، حافظ ناظم چوہدری، چوہدری یوسف اور چوہدری طارق نے اپنے کنبے قبیلے سمیت شمولیت کا باقاعدہ اعلان کیا ہے، کارکنان کا کہنا ہے کہ پچھلی حکومتوں نے علاقے میںترقیاتی کاموں پر توجہ نہیں دی ہے، علاقے کےمسائل میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے علاقے کے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے.
چوہدری ظفرانور نے شامل ہونے والے افراد کو خوش آمید کہا ہے. -

انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں اضافہ بھیانک حد تک پہنچ سکتا ہے، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
جنیوا:کینیڈا سے لے کر روس تک درجہ حرارت بڑھتا ہی جارہا ہے اور اس سے ماہرین اور عوام میں تشویش پھیلانے والے پودوں اور جانوروں کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اور ، اب ، یہ خبریں آرہی ہیں کہ انٹارٹیکا میں بھی گرجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا –
باغی ٹی وی :یکم جولائی کو قطب جنوبی پر 18.3 ڈگری سینٹی گریڈ کے ریکارڈ درجہ حرارت کی تصدیق کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں مزید متوقع اضافہ ’بھیانک حد تک‘ پہنچ سکتا ہے جو مارچ 2015 میں پچھلی اعلی 17.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک چڑھ گیا تھا۔
حالیہ تحقیقات سے بھی یہی بات سامنے آئی ہے کہ برفانی براعظم قطب جنوبی (انٹارکٹیکا) اور گرین لینڈ کے اوسط درجہ حرارت میں صرف 2 ڈگری سینٹی گریڈ کے اضافے سے بھی وہاں جمی ہوئی کھربوں ٹن برف پگھل سکتی ہے جس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح 43 فٹ تک بلند ہوسکتی ہے۔
50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ
ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر درجہ حرارت میں اضافہ اس مقام تک پہنچ گیا تو پھر شاید ہمارے پاس ماحول کو دوبارہ درست کرنے کا کوئی راستہ باقی نہیں بچے گا۔
انٹارکٹیکا کا اوسط درجہ حرارت ساحلی علاقوں میں منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ براعظم کے درمیان بلند ترین مقامات پر منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔
گرمیوں میں انٹارکٹیکا کا اوسط ساحلی درجہ حرارت گرمیوں میں 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے کچھ زیادہ، اور سردیوں میں منفی 40 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے جبکہ جمعہ کے روز انٹارکٹیکا میں 18.3 ڈگری سینٹی گریڈ کے ریکارڈ درجہ حرارت کی تصدیق، اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ’’عالمی موسمیاتی تنظیم‘‘ (ڈبلیو ایم او) نے کی تھی۔
سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف
یہ درجہ حرارت انٹارکٹیکا میں ارجنٹائن کے تحقیقی مرکز ایسپیرینزا نے 6 فروری 2020 کے روز ریکارڈ کیا تھا۔ البتہ انٹارکٹیکا میں بلند ترین درجہ حرارت 30 جنوری 1982 کے روز، 19.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اس سال 9 فروری کو انٹارکٹیکا میں برازیل کے تحقیقی مرکز نے بھی وہاں 20.75 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت معلوم کرنے کا دعوی کیا تھا لیکن ڈبلیو ایم او نے تجزیئے کے بعد اس ریکارڈ کو مسترد کردیا ہے۔
پاکستان میں عالمی حدت کے اثرات .تحریر:حمزہ احمد صدیقی
عالمی موسمیاتی تنظیم کے اوّل نائب صدر اور ارجنٹائن میں محکمہ موسمیات کے سربراہ ڈاکٹر سیلیستو ساؤلو نے کہااس نئے ریکارڈ سے ایک بار پھر یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے کےلیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے-
دوسری جانب عالمی موسمیاتی تنظیم کے سیکریٹری جنرل، پیٹیرے تالاس نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ برفانی براعظم انٹارکٹیکا، دنیا میں سب سے تیزی سے گرم ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں کا اوسط درجہ حرارت پچھلے پچاس سال میں 3 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔
گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل
-

علی امین ووٹ کی بولی لگانے لگ گئے
کوٹلی آذاد کشمیرمیں وفاقی وزیرامورکشمیرعلی امین گنڈا پوری نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک ووٹ کی لیڈ پرایک کروڑ کا پیکج دیں گے، آزاد کشمیرمیں ہماری حکومت بنتی ہے تو 500 ارب روپے کا پیکج دیں گے، وفاقی وزیر کے وہاں ہونے سے کشمیر میں لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ہے.
اسی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرمواصلات مراد سعید نے کہا کہ ہم آزاد کشمیر کی الیکشن مہم شروع کرنے آئے تھے، مگر آپ نے جیت کا فیصلہ دے دیا ہے.
علی امین اورمراد سعید کے اس بیان کو لے کرمسلم لیگ ن یوتھ ونگ یورپ کے چئیرمین راجہ محمد خالد نے پی ٹی آئی کے وزرا پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزرا آزاد کشمیر کی الیکشن کمین میں بیہودہ اورگالیوں والی زبان استعمال کررہے ہیں، ایک ووٹ ایک کروڑََِِِکی بولی لگا کرانتخابی اصلاحآت کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کررہے ہیں، وفاقی وزرا کے خلاف کاروائی کی جائے، ان حلقے کے امیدواروں کو نا اہل کیا جائے، پاکستان میں گالیوں کے کلچر کو فروغ دینے والی جماعت پی ٹی آئی کشمیر کی پرامن فضا کو آلودہ کررہی ہے، کشمیر کا سودا کرنے والی جماعت جس راستے پر چل رہی ہے اس کے آگے راجہ فاروق حیدر جرات کے ساتھ ان کا مقابلہ کررہے ہیں، کشمیرکی عوام اپنی ووٹ کی پرچی سے ان کا مکروہ چہرہ بے نقاب کردیں گے. -

عالمی سیاست اور پاکستان کو درپیش خطرات! تحریر: ایمان ملک
وہ ریاستیں جو عالمی سیاست کے گہرے پانیوں میں قومی مفاد کو بالائے طاق رکھتی ہیں اور خاص طور پر دوسروں کے تنازعات میں بے جا الھجنے کی بجائے اپنے لئے ایک قابل و مؤثر خارجہ پالیسی کے انتخاب کو ترجیح دیتی ہیں دور حاضر کے چیلنجز میں صرف وہی کامیاب ہونگی۔ بدقسمتی سے ، ماضی قریب و بعید میں متعدد پاکستانی حکومتیں اس طرح کے اقدامات کو اپنانے میں ناکام رہی ہیں ، مثال کے طور پر، افغانستان پر سوویت حملے کے بعد ملک کو سرد جنگ کی سیاست میں دھکیلنا اور ساتھ ساتھ پاکستان کو افغانی دلدل میں دھنسانا اور تو اور بدلے میں تیس لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ بنا کسی عالمی امداد کے بلا چوں چراں اپنے ناتواں کندھوں پر قبول کرنا وہ چند چیدہ چیدہ غلطیاں ہیں جن کی بڑی بھاری قیمت ہم تا حال ادا کر رہے ہیں۔
اب جبکہ خطے میں ایک اور جغرافیائی سیاسی محاذ آرائی (مغربی کیمپ بمقابلہ چین کی صورت میں) سامنے آرہی ہے تو پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے ضمن میں کچھ سخت انتخابات کرنے اور فیصلے لینے کی اشد ضرورت محسوس ہوگی۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے رواں ہفتے منگل کے روز چینی ریاست کے نشریاتی ادارے سی جی ٹی این کو بتایا کہ پاکستان کسی بھی بیجنگ مخالف گروپ بندی میں شامل نہیں ہوگا۔ پاکستان کے "سب کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے چاہئیں” ، عمران خان نے چینی میڈیا کو مزید بتایا ، کہ اسلام آباد اور بیجنگ کے مابین تعلقات بہت گہرے ہیں۔عمران خان نے انٹرویو میں ابھرتی ہوئی بیلڈ بیک بیٹر ورلڈ (بی 3 ڈبلیو) اسکیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ”عجیب ، زبردست دشمنی” ہے جس کو حال ہی میں جی 7 کی صنعتی مغربی ریاستوں (اور جاپان) کے بلاک نے شروع کیا ہے۔ جیسا کہ امریکی عہدیداروں نے ریکارڈ پر کہا ہے ، یہ منصوبہ چین کے ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو’ کا مقابلہ کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے ، جس کا سی پیک بھی ایک حصہ ہے۔
یہ قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نے مذکورہ انٹرویو میں سی پیک کو "سب سے بڑی چیز قرار دیا جو پاکستان میں اس وقت ہو رہی ہے”۔ واضح رہے کہ بی 3 ڈبلیو کے ساتھ ، امریکہ ، چین پر قابو پانے کے لئے چار ریاستوں کے گروپ ، جس میں ہندوستان بھی شامل ہے ‘ کواڈ ‘ پر زور دے رہا ہے۔ ان جغرافیائی سیاسی پیشرفتوں پر غور کرتے ہوئے دیکھا جائے تو وزیر اعظم کے خدشات درست ہیں ، اور انہوں نے بجا طور پر کہا ہے کہ پاکستان اپنے دیرینہ دوستوں کو ترک نہیں کرے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات واقعتاً دیرینہ ہیں۔ اور اس کو کسی بھی وقتی مفاد یا بے وفا و عارضی دوست کے لئے قربان گاہ پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔ ماضی میں بھی بیجنگ ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کے لئے آیا ہے ، اور پاکستان اس کے عزم و امداد کی قدر کرتا ہے۔ تاہم کسی بھی ملک کے لئے نااہل اور بے بنیاد حمایت کی پوزیشن کا جائزہ لیا جانا بھی بین الا اقوامی تعلقات کے لئے ناگزیر ہوتا ہے۔ کیونکہ بین الااقوامی تعلقات ہمیشہ زندہ اور پر وقار قوموں کے قومی مفادات کے تابع ہوتے ہیں ناکہ کسی کی ذاتی مفادات، خواہشات یا ایماء کے ۔
پاکستان کی بھی خواہش ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرے اور سرد جنگ کے بعد سے دونوں ملکوں کے مابین موجود سودی تعلقات سے آگے بڑھے۔ لہذا ، واشنگٹن کو یہ پیغام واضح ہونا چاہیئے کہ پاکستان ان کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتا ہے ، لیکن امریکا کو یہ بھی باور کرانا چاہیئے کہ پاکستان اپنے روایتی حلیفوں کو الگ الگ کرنے کے لئے تیار کردہ کسی بھی دشمنی کا فریق نہیں بن سکے گا۔مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکا کو افغانستان سے انخلاء کے بعد اب پاکستان کی ضرورت باقی نہیں رہی اسی لئے امریکا اب بیہودہ ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ حال ہی میں امریکا نے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لئے اسے چائلڈ سولجرز روک تھام ایکٹ کی فہرست میں شامل کر دیا۔ بظاہر اور حقیقتاً یہ بے بنیاد فیصلہ ہے کیونکہ پاکستان حالت جنگ میں نہیں، نہ ہی پاکستان کسی اور ملک کے ساتھ جنگ کر رہا ہے تو اس طرح سے کم عمر سپاہیوں کو زبردستی بھرتی کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض دباؤ بڑھانے کا حربہ ہے۔ اس سے واشنگٹن پاکستان پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے نیز اس فیصلے سے پاکستان کی فوج بھی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ اس فہرست میں شمولیت کے بعد پاک فوج بین الااقوامی امن مشن اور امریکا میں پیشہ ورانہ کورسز پر اپنے فوجی نہیں بھیج سکے گی۔ بلا شبہ یہ غمازی کرتا ہے کہ امریکہ کے لیے پاکستان کی اہمیت اب ختم ہو چکی ہے۔ مزید براں، اب مسقبل قریب میں بھی امریکہ کی طرف سے انسانی حقوق، اقلیتوں کے حقوق وغیرہ پر پاکستان کے حوالے سے منفی رپورٹس قوی متوقع ہیں۔ بلکہ یورپی یونین کی طرف سے بھی ان مسائل پر رپورٹس آئیں گی تاکہ پاکستان پر مزید دباؤ بڑھایا جائے۔۔۔ایسے میں امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں جبکہ وہ برابری کی بنیاد کی بجائے ہمہ وقت پاکستان کا آقا بننے کی کوششیوں میں لگا رہے؟؟؟ واضح رہے فیٹف کی تلوار بھی اسی ضمن پر پاکستان کے سر پر لٹکتی چھوڑی گئی ہے۔
در حقیقت ، خارجہ پالیسی کے تمام فیصلوں کی راہنمائی کرنے کا یہی مذکورہ بالا( قومی مفاد کی ترجیح) منتر ہونا چاہیئے۔ چاہے پاکستان عرب-ایران کے تنازعہ میں شامل ہو رہا ہو یا پھر خارجہ پالیسی کے دیگر سوالات میں ، پاکستان کو اپنی غیرجانبداری کو برقرار رکھنا چاہیئے۔ نیز اسے عملیت ، اصولوں اور قومی مفاد کے مطابق رہنا چاہیئے۔ مثال کے طور پر ، پاکستان نے سنہ 2015ء میں "یمن امبرگليو” ( یمن کے الجھاؤ) میں شامل نہ ہوکر صحیح فیصلہ لیا، حالانکہ اس فیصلے نے ہمارے بہت سارے عرب ‘بھائیوں’ کو ناراض کردیا تھا۔ تاہم، اس موقع پر پارلیمنٹ کی اجتماعی دانشمندی نے پاکستان کو ایک اور دلدل میں پھنسنے سے بچایا تھا۔ لہٰذا ، اب بھی اور آئیندہ بھی جمہوری عمل کے ذریعے ہی مستقبل کی خارجہ پالیسی کے تمام سوالات کو دانشمندانہ اور انصاف پسندانہ انداز میں طے کیا جانا چاہیئے۔
-

واٹس ایپ کےاینڈروئیڈ فون اور آئی فون صارفین کے لئے خوشخبری
سلیکان و یلی: واٹس ایپ نے آئی فون سے اینڈروئیڈ فون اور اینڈروئیڈ سے آئی فون پر منتقل ہونے والے صارفین کا دیرینہ مسئلہ حل کرنے پر کام شروع کر دیا ہے-
باغی ٹی وی : واٹس ایپ نظر رکھنے والی ویب سائٹ وےبیٹا انفو کے مطابق واٹس ایپ انتظامیہ اس فیچر پر گزشتہ کئی ماہ سے کام کر رہی ہےاورجلد ہی واٹس ایپ کے استعمال کنندگان ایک آپریٹنگ سسٹم سے دوسرے آپریٹنگ سسٹم پر اپنی چیٹ کو منتقل کرسکیں گے۔
WhatsApp is developing a feature to migrate your chats between different platforms.
This video shows how chats are migrated from iOS. It's needed a cable: are new tools for PC coming or what?It'll be available for beta testers in a future update. Follow @WABetaInfo for more 💚 pic.twitter.com/Bu6xGxkpWE
— WABetaInfo (@WABetaInfo) July 2, 2021
ویب بیٹا انفو نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ چیٹ کس طرح باآسانی منتقل کی جاسکیں گی ویڈیو کے کیپشن میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس کیلئے ایک کیبل کی ضرورت درپیش ہوگی تاہم یہ سہولت فی الحال بیٹا ورژن استعمال کرنے والے صارفین کیلئے متعارف کروائی جائے گی۔رواں سال مارچ میں ہی یہ خبرسامنے آئی تھی کہ واٹس ایپ دو آپریٹنگ سسٹمز کے درمیان چیٹ منتقل کرنے کے فیچر پر کام کر رہا ہے کیوںکہ گوگل اینڈروئیڈ صارفین کے لیےچیٹ کا بیک اپ گوگل ڈرائیو پر جب کہ آئی فون کے صارفین کی چیٹ کا بیک اپ آئی کلاؤڈ پر بناتا ہے۔
واٹس ایپ صارفین کی دیرینہ خواہش تکمیل کے مراحل میں داخل
اور یہ دونوں ایک دوسرے کے بیک اپ کو منتقل کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور ایک موبائل سے دوسرے فون پر منتقل ہونے صارف گوگل ڈرائیو یا آئی کلاؤڈ پر موجود واٹس ایپ کے چیٹ بیک اپ کو منتقل نہیں کر سکتے۔
توکلنا ایپ میں اب نئے فیچرز اردو زبان میں بھی دستیاب
-

زمین سے 66 ہزار کلومیٹر فاصلے پر گزرنے والا نیا سیارچہ
11 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتا ہوا ایک نو دریافت شدہ سیارچہ زمین سے 66 ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے گزرتا دیکھا گیا ہے۔
باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 7 میٹر طویل یہ سیارچہ جسے ‘2021 این اے’ کا نام دیا گیا ہے 3 جولائی کوسعودی وقت کے مطابق صبح 7بج کر57 منٹ پر دیکھا گیا تھا۔
یہ سیارچہ زمین سے ایک قمری فاصلے تقریبا384401 کلومیٹرکے اندر2021 کے آغاز کے بعد سے اب تک گزرنے والا 68 واں سیارچہ ہے جدہ میں فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینئر ماجد ابو زہرہ نے بتایا کہ اس سیارچے کا تعلق اپولو گروپ سے ہے۔
زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ
یہ ایسے سیارچوں کا مجموعہ ہے جس میں 5.3 سے لے کر 12میٹر قطر کی چٹانیں شامل ہیں یہ زمین کے قریب والے سیارچوں کی اس نام نہاد فہرست میں شامل ہیں جن کی گزرگاہیں زمین کے مدار کو قطع کرتی ہیں۔
‘2021 این اے’ سیارچہ زمین کے قریب آنے سے قبل پہلی مرتبہ یکم جولائی کو ہوائی کی ‘پین سٹارس ون ‘ رصد گاہ سے دیکھا گیا تھا۔
سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی
ابوزہرہ نے کہا ہے کہ اگر سیارچہ زمین سے تصادم کے راستے پر ہوتا تو یہ زمین کی فضا میں پہنچتے ہی آگ کا گولا بن جاتا کسی بھی سیارچے کی دریافت نظام شمسی کے بارے میں ہمارے علم کو آگے بڑھانے میں معاون ہوتی ہے۔
ابو زہرہ کے مطابق یہ اجسام ٹائم مشینوں کی طرح ہیں جن کے پاس بہت سارے رازموجود ہوتے ہیں۔ یہ ہماری زمین کی ابتدا کے بارے میں مزید معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔
ابوزہرہ نے بتایا ہے کہ جدید سیارچے کی نقل و حرکت کا مشاہدہ، مستقبل میں کسی بھی سیارچے سے لاحق خطرے کا اجتماعی طور پر جواب دینے کے لئے بین الاقوامی صلاحیتوں کی آزمائش کا بہترین موقع ہے۔
چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت
-

توکلنا ایپ میں اب نئے فیچرز اردو زبان میں بھی دستیاب
سعودی عرب میں توکلنا ایپ میں مزید فیچرز کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں ’ہیلتھ پاسپوٹ‘ کے علاوہ بیرون ملک سفر کے دوران کورونا انشورنس کی سہولت کے بارے میں معلومات شامل ہیں اور فیچرز عربی سمیت متعدد زبانوں میں فراہم کیے گئے ہیں جن میں اردو شامل ہے۔
باغی ٹی وی : خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی رپورٹ کے توکلنا ایپ کی انتظامیہ کا کہنا ہےکہ ایپ کے فیچرز میں مزید اضافے سے لوگوں کو کافی سہولت ہوگی نئے اضافہ کیے جانے والے فیچرز میں سعودی مرکزی بینک اور کواپریٹو انشورنس کونسل کی جانب سے منظورشدہ انشورنس پالیسی جو بیرون مملکت سفر کے دوران کورونا کے مرض کی کوریج کےلیے مخصوص ہے شامل ہے۔
واٹس ایپ صارفین کی دیرینہ خواہش تکمیل کے مراحل میں داخل
نئے فیچر میں ہیلتھ پاسپورٹ کی تفصیلات کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں ویکسینیشن کے بعد اسٹیٹس ظاہر کیا جاتا ہے ہیلتھ پاسپورٹ کے ذریعے با آسانی معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص نے ایک ویکسین لگوائی ہے یا دونوں کا کورس مکمل کرچکا ہے۔
اگر دونوں ویکسین لگوائی ہیں تو اسٹیٹس ’محصن‘ کا ہوگا اس کے ساتھ ہی ویکسینیشن کی تاریخ اور جو ویکیسین دی گئی ہے اس کی تفصیلات بھی درج کی جاتی ہیں۔
کراچی کے نوجوان نے موٹر وے پر ہنگامیصورتحال کیلئے خاص موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی
ہیلتھ پاسپورٹ میں سفر کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کی رپورٹ شامل کی جاتی ہے جو بیرون ملک سفر کے لیے درکار ہوتا ہے۔
سعودی منصوعی ذہانت ’سدایا‘ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ توکلنا کے نئے فیچرز ایپ اسٹور، ایپ گیلری یا گوگل اسٹور سے اپ ڈیٹ کیے جاسکتے ہیں نئے فیچرز عربی سمیت متعدد زبانوں میں فراہم کیے گئے ہیں جن میں اردو شامل ہے۔
فیس بُک کا اپنے "شی مینز بزنس” کو پاکستان میں توسیع دینے کا فیصلہ
-

وقت کی قدر کریں.تحریر: ملک ضماد
بس صبح ہوئی شام ہوئی
عمر یوں ہی تمام ہوئیاللہ تعالٰی نے انسان کو اپنی زندگی کو سنوارنے یا بگاڑنے کے لیے عمر کا تعین کر کے اس مخصوص وقت دیا ہے
ہر انسان کے پاس اتنا ہی وقت ہے جتنا اس کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے
بہترین انسان وہ ہے جو وقت کی قدر و اہمیت کو سمجھ کر مخصوص اوقات میں مخصوص کام جو اس کو اللہ پاک کی طرف سے بتائے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کر کے بتائے وہ کرے
گیا وقت ہاتھ نہیں آتا
انسان اپنی جتنی زندگی گزار چکا ہے وہ قصہ پارینہ بن چکی ہے
اب وہ وقت کسی بھی صورت واپس نہیں آ سکتا
اگر گزرے وقت میں اچھے کام کیے تو وہ اس کو آنے والی دنیاوی اور آخرت کی زندگی میں کام آئیں گے
انسان کے پاس جو وقت ہے وہ اس کو اگر قیمتی بنا لے تو اس کی باقی زندگی آسان گزرتی ہے
اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں بھی بار ہا وقت کی قسمیں کھا کر انسان کو بتایا
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَالْعَصْرِ اِنَّ ا لْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ
(العصر:3،2)قسم ہے زمانہ کی۔ یقیناً انسان خسارے میں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کی قسم اٹھائی ہے ان میں سے ایک وقت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفجر میں صبح کی قسم، سورۃاللّیل میں رات کی قسم، سورۃالضحیٰ میں چاشت کے وقت کی قسم اور سورۃ العصر میں زمانہ کی قسم کھائی ہے
اس لیے انسان کو اپنا موجودہ وقت جو وہ گزار رہا ہے اس کو قیمتی بنانے اور آگے کی زندگی کو آسان کرنے کے لیے وقت کی قدر کرنی چاہیے
وقت کی قدر ان لوگوں سے پوچھیں جن کے پاس وقت، موقع، پیسہ سب کچھ تھا لیکن انہوں نے وقت کی قدر نہیں تو وہ لوگ آج رو رہے ہیں اقر چیخ چیخ کر دنیا کو بتا رہے ہیں خدا راہ وقت کی قدر کر لو آج وقت ہے تو اس کے قدر کرو کل نہیں ہو گا تو پچھتاوا ہو گا
وقت انسان کو خود اپنی قدر کرنے کے لیے بلاتا ہے لیکن انسان غافل ہے جو وقت کی قدر نہیں کرتا
وقت انسان کو بار بار موقع دیتا ہے اپنے آپ کو سنبھال لو، سنوار لو، کچھ کما لو، لیکن انسان کی آنکھوں پے لمبی عمر جینے اور صحت مند رہنے کی پٹی بندھی ہوئی ہے جو اس کو سمجھ نہیں آتی
اگر لمبی عمر کا انتظار وقت کرتا تو نوح علیہ السلام 9 سو سال سے زیادہ عمر پا کر بھی دنیا سے چلے گئےاگر صحت پکی پکی تندرست رہتی تو اللہ کے پیارے حبیب نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم بیمار نا ہوتے
اس لیے انسان کو آنکھیں کھول کر اللہ کے حکم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقوں پر زندگی گزارنی چاہئے تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکے
جب ہم اپنے کاروبار، نوکری، پیشہ کو پورا ٹائم نہیں دیتے تو وہ کاروبار تباہ ہو جاتا ہے
نوکری سے ہمیں نکال دیا جاتا ہے
اس طرح ہم آپ زندگی میں اگر زندگی کو گزارنے کے لئے ٹائم نہیں دیں گے
وقت کی قدر نہیں کریں گے تو کیسے ہم سوچ سکتے ہیں ہماری زندگی آرام دہ، اور خوشیوں سے بھری گزرے گیجو وقت کو مفت گنوائے گا
وہ آخر کو پچھتائے گا
کچھ بیٹھے ہاتھ نہ آئے گا
جو بوئے گا سو کھائے گا
تو کب تک دیر لگائے گا
یہ وقت بھی آخر جائے گا
اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے -

پاکستان میں یک جماعتی سیاسی نظام . تحریر:سنگین علی زادہ
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کو دیکھا، مجھے یوں لگتا ہے کہ مستقبل میں تمام سیاسی جماعتوں میں سے قابل لوگوں کو منتخب کر کے، ایک ایسی سیاسی جماعت بنائی جائے گی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قابل ترین افراد شامل ہوں گے۔
پاکستانی سیاست میں ایک ایسی تبدیلی کی ضرورت ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک سیاسی جماعت میں ضم کر کے صرف واحد قومی سیاسی جماعت بنے۔ بالکل اسی طرح جیسے چین میں یک جماعتی سیاسی نظام ہے۔ اس کے فائدے ہی فائدے ہیں۔ ایک تو ملک سے انصافیوں، جیالوں، پپلیوں اور پٹواریوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور پیچھے خالص اور سیاست سے پاک پاکستانی رہ جائیں گے۔ دوسرا یہ اسلامی نظامِ حکومت کے نزدیک ترین ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت میں پارٹیاں نہیں ہوتیں۔
خود عمران خان چین میں صدر کے چناؤ اور صدارتی امیدوار نامزد کرنے کے طریقہ کار کی تعریف کر چکے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں عمران خان کے زہن میں چینی نظامِ سیاست امریکہ کے نظامِ سیاست سے بھی بہتر ہے۔
یک جماعتی سیاسی نظام میں صرف ایک سیاسی جماعت ہوتی ہے۔ اس میں قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان کو عوام منتخب نہیں کرتے۔ بلکہ سیاسی پارٹی کے ارکان کا آپس میں مقابلہ کروا کے پارٹی کے ارکان کے زریعے ہی قومی و صوبائی اسمبلیوں کےلیے لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں میں کچھ قابل اور ایماندار سیاست دان موجود ہیں۔ نا تو ایسا ہے کہ سارے سیانے لوگ صرف پی ٹی آئی یا ن لیگ میں ہیں۔ اور نا ہی ایسا ہے کہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی یا تحرiیکِ لبیIک میں تمام کے تمام لوگ قابل ہیں۔ ہر سیاسی جماعت میں کچھ ہیرے، کچھ موتی، جبکہ کچھ کنکر پتھر ہیں۔اگر ایسا ہو جائے کہ ہر جماعت کے ان ہیرے موتیوں کو الگ کر دیا جائے۔ اور کنکروں پتھروں وغیرہ کی چھانٹی کر کے باہر کر دیا جائے۔ پھر تمام ہیروں کو اکھٹا کر ایک جماعت میں ضم کر دیا جائے اور باقی کی تمام سیاسی پارٹیوں کو ختم کر دیا جائے، تو ایک ایسی سیاسی پارٹی بن سکتی ہے جس میں امریکہ کے ساتھ سیاسی جنگ لڑنے کی صلاحیت موجود ہو گی۔
اس کے کئی فائدے ہوں گے مثلاََ
1 وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی اور خارجہ معاملات سنبھالنے کا اضافی فوج جی ایچ کیو سے کم ہو جائے گا۔
2۔ سفارت کاری کے میدان میں جس طرح پاکستان اب بہت پیچھے دھکے کھاتا پھر رہا ہے، یہ دھکے کھانے سے بچ جائے گا۔
3 کثیر جماعتی سیاسی نظام ملک میں جو انتشار اور افراتفری پیدا کرتا ہے وہ ختم ہو جائے گا۔
4 سول اداروں کے اندر جو سیاسی مداخلت ہوتی ہے وہ سو فیصد سے کم ہو کر صرف دس فیصد رہ جائے گی۔ درجنوں سیاسی جماعتوں کے بجائے صرف ایک سیاسی جماعت ہونے کی وجہ سے۔
5 ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے معاملات میں جو سیاسی مداخلت ہوتی ہے اور اس کے جواب میں سیاست کے اندر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے، یہ آپس کی چھیڑ چھاڑ اور لڑائی بھی ہمیشہ کےلیے ختم ہو جائے گی۔
6 سیاسی مقاصد اور مفادات کے تحت ملک میں جو لسانی، صوبائی اور فرقہ وارانہ تقسیم سیاسی جماعتیں پیدا کرتی ہیں وہ ختم ہو جائے گا۔
7۔ سیاسی جماعتیں آپس میں الیکشن لڑنے کےلیے ہر پانچ سال بعد مجموعی طور پر اربوں روپے خرچ کرتی ہیں۔ یہ اربوں روپے خرچ کر کے اسمبلی تک پہنچتی ہیں اور اسمبلی پہنچنے کے بعد کھربوں روپے کی دیہاڑیاں لگاتی ہیں۔ اگر ایک ہی سیاسی جماعت ہو ملک میں تو الیکشن کی وجہ سے ہونے والے کھربوں روپے کے یہ ہیر پھیر بھی ختم ہو جائیں گے۔
8 ملک سے نسل در نسل چلنے والی موروثی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ بادشاہت کی طرح جو پہلے دادا ایم این اے بنتا ہے، پھر بیٹا منسٹر بنتا ہے اور پھر پوتا وزیر بنتا ہے اس کا ہمیشہ کےلیے خاتمہ ہو جائے گا۔
9 غیر ملکی ایجنسیوں کےلیے کثیر سیاسی جماعتی نظام میں اپنے مطلب کے لوگوں کی منڈی لگی ہوتی ہے۔ یونین کونسل کے چیئرمین سے لے کر فیڈرل منسٹر تک، غیر ملکی ایجنسیاں ہمیشہ اپنے مطلب کا بندہ ڈھونڈنے میں کامیاب رہتی ہیں۔ ایک ہی سیاسی جماعت ہو تو یہ لعنت کم ہو جائے گی۔
10 یک جماعتی سیاسی نظام کے زریعے سرمائے کی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یعنی ارب پتی آدمی اپنے ایک ارب روپے میں سے دس کروڑ روپے کا خرچہ کر کے الیکشن جیت جاتا ہے۔ اور پھر کئی ارب کماتا ہے۔ اگر مناسب چیک اینڈ بیلنس رہے تو یک جماعتی نظام میں یہ لعنت بھی نہیں رہے گی۔
11 جاگیردار، نوابزادے، رئیس، انڈسٹریل لوگوں کا سیاست سے قبضہ ختم ہو جائے گا۔ بس سیاست صرف قابل لوگوں کا عقلی کھیل رہ جائے گی۔
یک جماعتی سیاسی نظام کے فائدے تو اتنے ہیں کہ ان پہ کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ چین اسی یک جماعتی سیاسی نظام کے زریعے سپر پاور بننے جا رہا ہے۔
دیکھیے آپ کے پاس پانچ سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑنے والی گاڑی موجود ہو۔ مگر سڑک جس پہ وہ گاڑی چل رہی ہو، اس میں جمپ ہی اتنے ہوں کہ گاڑی ساٹھ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اوپر جا ہی نہ سکے تو آپ کو چاہیے کہ آپ اس سڑک کو اتنا بہتر کرو کہ اس پہ گاڑی پانچ سو کلو میٹر فی گھنٹہ دوڑ سکے۔ موجودہ سیاسی نظام پہ آپ ملک کی گاڑی کو ساٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑا رہے ہیں۔ جبکہ یہ گاڑی پانچ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی دوڑ سکتی ہے۔ تو بہتر ہے کہ سیاسی نظام کی اس سڑک کو اب تبدیل کر لیا جائے۔ کیوں کہ ہمسائے ملک بھارت کے علاوہ اب بنگلہ دیش جو سنہ 71 میں ہم سے آزاد ہوا تھا، اس کی گاڑی بھی ہم سے بہتر دوڑ رہی ہے۔ ہمیں بھی اب اپنی سیاسی سڑک بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
