Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کرونا وائرس کی چوتھی لہر میں بھارتی ڈیلٹا وئرینٹ کی تصدیق :تحریر: محمد جاوید

    کرونا وائرس کی چوتھی لہر میں بھارتی ڈیلٹا وئرینٹ کی تصدیق :تحریر: محمد جاوید

    اگرچہ پاکستان کو کورونا وائرس کی روک تھام کے لحاظ سے علمی درجہ بندہ پہ تیسرے نمبر پہ رکھا گیا ہے۔
    بین الااقوامی سطح پر پاکستانی حکومت کی اقدام کی کافی پذیرائی بھی ہورہی ہے تاہم تمام تر احتیاط کے باوجود کرونا وائرس کی نئی قسم جو سب سے پہلے انڈیا میں تشخیص ہوئی تھی وہ پاکستان پہنچ چکی ہے یہ خبر یقیننا تشویش ناک ہے کہ وطن عزیز میں بھارتی کرونا وائرس کے مریض آنا شروع ہوگئے ہیں۔
    اس خطرناک وائرس کے پھیلنے کی خدشے کی وجہ سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنل سنٹر نے حکمت عملی ترتیب دی ہے اور اس پالیسي کے تحت 18 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو ویکسین لازمی قرار دیا ہے ۔ حکومت کی پوری کوشش اس بات پہ منحصر ہے کہ کسی طرح اس خطرناک لہر پہ قابو پایا جاسکے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں اس لہر کی وجہ سے بھارت میں لاکھوں لوگوں کی اموات ہو چکی ہے ۔
    اور پاکستان میں اب دن بدن کیسز بڑھ رہے ہیں جو کہ تشویشناک صورتحال ہے ۔
    کچھ دن پہلے اسد عمر نے اپنی ٹویٹ میں واضح طور پر یہ کہاں تھا اگر کیسز کی شرح اسی طرح بڑھتی گئی تو ہمیں شادی هالز اور ہوٹلز پہ پابندی لگانی ہوگی۔ اس وقت پاکستان میں تعلمی ادارے پہلے سے بند کیے گئے ہیں۔

    اس ضمن میں عوام کو بھی چائے حکومت کے اقدام کا بھر پور طریقے سے ساتھ دیں کیونکہ اسی میں ملک وہ قوم کی بقا ہے ۔ اس وقت حکومت کی پوری کوشش ہے کہ جلد از جلد پاکستان کے تمام افراد کو ویکسین لگائی جائے جو کہ درست اقدام ہے کیونکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے حال ہی میں بتایا تھا کہ ’ڈیلٹا ویریئنٹ اب تک کرونا وائرس کی شناخت ہونے والی اقسام میں ’سب سے زیادہ منتقل‘ ہونے والی قسم ہے، جو  ویکسین نہ لگانے والی آبادی میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔
    پاکستان میں کم عقلی اور لاشعوری ویکسین کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کی جارہی ہے اور حکومت کو چاہئے لوگوں کو اس بارے میں شعور و آگاہی دیں اور ایسی پالیسیز بنا لیں کہ جو عمل نہیں کرینگے ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے تاکہ اس چوتھی لہر سے ملک وہ قوم کو بچایا جا سکے۔
    ڈیلٹا وائرس اتنا خطرناک ہے کیونکہ یہ جلدی سے منتقل ہونے والا وائرس ہے ، پھیپھڑوں کے ری سیپٹرز کو مضبوطی سے جکڑنے اور اینٹی باڈیز کے رد عمل کو سست کرنے کی’ صلاحیت موجود ہے۔
    پاکستان کا کردار کو اب تک سراہا جا رہا ہے لگ بگ بائیس کروڑ سے زیادہ آبادی والا ملک اب تک بڑھے لیول کی تباہی سے بچا ہوا ہے اور اب بھی چائے کہ تمام قوم جلد از جلد اپنا ویکسین لگاوا لیں اور اس وائرس کی تباہی سے ملک وہ قوم کو بچائے اور ملک وہ قوم کی بقا میں اپنا مثبت کردار کو ادا کریں۔

    @I_MJawed

  • فری لانسنگ کی دنیا .تحریر عادل ندیم

    فری لانسنگ کی دنیا .تحریر عادل ندیم

    آج سے دھائی پہلے جب طلباء گاؤں سے شہر کا رخ کرتے تھے تو پڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کو فکر معاش بھی رھتی تھی جس کے لیے وہ ٹیوشن پڑھاتے ، ھوٹلز پر کام کرتے یا اس جیسے دوسرے مشقت والے کام کرتے۔
    جس سے ان کی پڑھائی پر بھی اثر پڑتا تھا ۔

    آج کا زمانہ بدل چکا ھے
    آج طلباء پڑھائی کے ساتھ ، فری لانسنگ سے کمائی کر رھے ھیں

    آج ھم آپ کو متعارف کروانے جا رھے ھیں فری لانسنگ سے۔
    سب سے پہلا سوال جو آپ سب کے اذھان میں آے گا کہ فری لانسنگ ھے کیا ؟

    فری لانسنگ سے مراد اپنی خدمات کو آن لائن بیچنا ھے ۔
    آپ کو کلائنٹ آرڈر دیتے ھیں کہ ھمارے کاروبار کے لیے ویب سائٹ بنا دیں ، ھمیں گرافکس بنا دیں ، کاروبار کی مارکیٹنگ کر دیں یا ھمارے ورچوئل اسسٹنٹ بن جائیں۔
    اس کے علاؤہ بے شمار ایسے کام ھیں جو آپ فری لانسر کے طور پر سر انجام دے سکتے ھیں .
    آپ اپنے گھر سے یہ کام سر انجام دیتے ھیں آپ کو آفس جانے کی ضرورت نہیں ھوتی۔
    کلائنٹس آپ کو عموماً گھنٹوں کے حساب سے ادائیگی کرتے ھیں

    Upwork, Fiverr, guru.com , Freelancer.com ,toptal & people per hour
    یہ بڑے فری لانسنگ کے پلیٹ فارمز ھیں جن پر ھزاروں کی تعداد میں پاکستانی بھی موجود ھیں اور ماہانہ اچھی خاصی آمدن کما رھے ھیں اور پاکستان میں روپے لا رھے ھیں

    فری لانسنگ کے لیے ضروری ھے کہ آپ کے پاس کوئی سکل ھو جو آپ آن لائن بیچ سکیں۔

    گرافک ڈیزائننگ، سرچ انجن آپٹیمائزیشن، ورڈ پریس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ ، ایمازون ورچوئل اسسٹنٹ،ای کامرس، سوشل میڈیا مینیجر اور بے شمار سکلز ھیں جو آپ سیکھ سکتے ھیں
    اب آپ یہ سوچ رھے ھوں گے کہ یہ سکلز سیکھیں ؟
    تو پریشان نہ ھوں مختلف ادارے موجود ہیں جو یہ سکلز سکھا رھے ھیں

    E-Rozgaar , Digi Skills & Tevta
    یہ حکومتی ادارے ھیں جو مختلف سکلز فری میں سکھا رھے ھیں

    اس کے علاؤہ Extreme E-commerce & enablers
    یہ نجی ادارے ھیں جو فری اور پیڈ کورسز کروا رھے ھیں

    آپ انٹرنیشنل لرننگ پلیٹ فارمز جیسا کہ Udemy & Coursera اور دیگر پلیٹ فارمز سے بھی سکلز سیکھ سکتے ھیں۔

    فری لانسنگ کے لیے ضروری ھے کہ آپ کہ پاس ایک عدد لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر اور ایک اچھا انٹرنیٹ کنیکشن ھو۔

    آج ھی ان اداروں کی ویبسائٹس کو وزٹ کریں، اپنی پسند کی سکل سیکھیں اور اپنے فری لانسنگ کیرئیر کا آغاز کریں۔

    فری لانسنگ کی دنیا آپ کی منتظر ھے

  • خطے کی اچانک بدلتی سکیورٹی صورتحال  اور پاکستان، تحریر  : ملک علی رضا

    خطے کی اچانک بدلتی سکیورٹی صورتحال اور پاکستان، تحریر : ملک علی رضا

    افغانستان سے امریکی اتحادی فوجوں کے اچانک انخلا کے بعد خطے کی موجودہ سکیورٹی حالات خاصے غیر متزلزل دیکھائی دے رہیں ۔ ایک طرف امریکہ کے بھاگ نے سے افغانستان میںطالبان کی پیش قدمیاں غیر معمولی بڑھ گئی ہیں اور متعدد علاقوں پر قبضہ بھی جما لیا گیا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے موجوہ پیش قدمیاں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں جو اب بج چُکی ہیں ۔ جن میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان شامل ہے ۔
    حالیہ واقعات کے بعد ، پاکستان میں بھی خاصی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پاکستان اب کی بار کیا کرنے جا رہا ہے؟ ایک طرف پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو بتا دیا کہ کسی قسم کی جنگ کے لیے پاکستان کسی بھی دوسرے ملک کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، دوسری طرف افغان طالبان نے بھی اس چیز کی یقین دہانی کروائی ہے کہ طالبان بھی افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ مہاجرین کا ہے اگر افغان طالبان اسی طرح اپنی کاروائیاں کرتے رہے تو پاکستان میں اچھی خاصی تعداد میں افغان مہاجرین آ سکتے ہیں ا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ افغان مہاجرین کی شکل میں پاکستان کے دشمن اپنے دہشت گرد بھی پاکستان میں بھیجوا سکتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی بھارت نے ایسے کام سر انجام دیے ہیں۔
    بھارت کو اس قدر خطرہ لاحق ہوگیا ہے کہ اس کے سارے بنے بنائے منصوبے اب مودی سرکار اور انکی ایجنسی ” را ” کو ناکام ہوتے نظر آ رہے ہیں کیونکہ کندھار کی جانب طالبان کی پیش قدمی نے بھارتی حکام کو خود اپنی ناکامی کے قریب تر ہوتے دیکھائی دے رہا ہے بھارت نے بھی بظاہر اپنے سفارتخانے کی حفاظت کے لیہے بھاری تعداد میں اپنے فوجی کابل بلوا لیے ہیں جو کہ بھاری مقدار میں فوجی ساز و سامان کے ساتھ لیس ہیں، پڑوسی ممالک اس چیز پر بھی سوالات کر رہے ہیں کہ امریکہ اور اسکے اتحادی جب امریکہ سے بھاگ رہے ہیں تو بھارت وہا ں اپنی فوجی طاقت کیوں جمع کر رہا ہے ؟
    اس تمام صورتحال میں ایک چیز جو مجھے لگ رہی ہے کہ امریکہ نے اپنے بھاگنے کے بعد بھارت کو اپنے نائب کے طور وہاں جانے کا کہا تا کہ جو کام بھارت ، پاکستان کیخلاف پہلے چپ کر ، کر رہا تھا اب وہ کام مزید تیزی کے ساتھ ہونگے تا کہ کسی طرح سے پاکستان بیک فٹ پر لایا جائے۔امریکہ بہت پہلے ہی سے بھارتی اثرو رسوخ کو افغانستان میں بڑھا چکا ہے وہ بھِی اس لالچ پر کہ بھارت افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان مخالف پروپیگنڈہ اور دہشت گرد کاروائیاں با آسانی کر سکے۔ امریکہ کے پیٹ میں خاصہ درد اس وجہ سے بھی ہے کہ اب کی بار پاکستان نے اسے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی اور وی یہی چاہے گا کہ کسی طرح سے پاکستان سے بدلہ لیا جائے، ایک فیٹف کی صورت میں پہلے ہی پاکستان پر تلوار لٹک رہی ہے وہ بھی کچھ ایسی چیز کا شاخسانہ لگتاہے کہ پاکستان اب اپنی خودمختاری کے فیصلے خود کر رہا ہے اور یورپی ممالک کی پاکستان کو کوئی ضرورت نہیں ۔
    اہم بات یہ ہے کہ یہاں افغان حکومت کا کردار بہت ہی عجیب و غریب ہے ، اشرف غنی کابینہ کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ اس معاملے پر وہ کیا کریں اور کس طرح اس معاملے کو ہینڈل کریں۔یہی وجہ سے کہ افغان حکومت کی ناقص پالیسیوں کیوجہ سے افغانستان عوام بھی خاصی پریشان ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان اوروزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی افغانستان کے مسلے پر مکمل حکمت عملی کیساتھ عملی میدان میں اُترنے کی ہدایات کی ہوئی ہیں اور دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بھی نجی ٹی وی چینلز کو اپنے الگ الگ انٹرویو میں بتایا کہ افغانستان کے مسلے پر پاکستان کے سکیورٹی ادارے مکمل اور کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھِی خطرے کے پیش نظر مکمل اعتماد کیساتھ ملکمی خودمختاری کی حفاظت کے انتظامات کو یقینی بنایا جائےگا، پاک فوج اور ملکی سکیورٹی کے ادارے ہمہ وقت تیار ہیں ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ نے افغانستان نے نکلنے میں بہت جلد بازی سے کام لیا جس سے خطے کی سکیورٹی صورتحال کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں لیکن پاکستان اس تمام صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنے طور پر تمام اقدامات جاری رکھے ہوئےہے۔

    اس وقت ملک کے اند ر تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا، حال ہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی قطر کا دورہ کیا اور وہاں افغان طالبان سمیت افغان حکومت اور افغانستان کے سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں قطر کے کردار بھی بات چیت ہوئی ۔ قطر نے پاکستان کی کاوشوں کا بھی شکریہ ادا کیا ۔
    پاکستان کے دوسرے ممالک سے رابطے جارے ہیں اور ر قسم کے اقدامات جو ضروری ہیں وہ کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے افغان مسلے کے حل کو مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیتا رہا اور اس معاملے کے مکمل حل تک پاکستان کا یہی موقف رہے گا۔
    یہاں ایک بات اس یقین کیساتھ کہتا چلوں کہ جہاں امریکہ اور اسکی اتحادی فوجیں 20 سالوں میں اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی اور طاقت رکھنے کے بعد بھی اپنا اسر و رسوخ قائم نہ کر سکا اور بھاگ گیا وہاں پاکستان ان خطرات سے نمٹنے کے ہمہ وقت تیار ہے اور انشا اللہ پاکستان ہر قسم کے تمام خطرات سے باحسن طریقہ کار سے نمٹنے کا حوصلہ اور طاقت رکھتا ہے۔

  • میں قربانی کیوں کروں؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    میں قربانی کیوں کروں؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    ذی الحج کا چاند نظر آتے ہی جہاں لوگ سنت ابراہیمی کو ادا کرنے کے لیے قُربانی کی تیاریوں کا آغاز کر دیتے ہیں وہیں کچھ مذہب بیزار قسم کے لوگ اس فریضے سے اپنی بیزاری کا اظہار بھی کرتے ہیں، یہ انسانیت کے نام نہاد علمبردار انتہائی جذباتی انداز میں پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ حج و قربانی پر اربوں روپے ضائع کرنے کی بجائے غریبوں کی مدد کی جائے۔

    یہ نام نہاد سکالرز سوشل میڈیا پر طرح طرح کی تاویلیں پیش کرتے ہیں جن میں سے چند ایک آپکی خدمت میں حاضر ہیں۔
    ایک بھائی صاحب کی پوسٹ دیکھی، جس میں وہ فرما رہے تھے کہ اس بار وہ قربانی نہیں کریں گے بلکہ اُنہی پیسوں سے اُنہوں نے ایک واٹر کولر لگوا دیا ہے۔

    کوئی یہ رونا رو رہا تھا کہ غریب ہمسائے کی لڑکی کی شادی کے لئے مدد نہ دینے والے حاجی صاحب دو لاکھ کا بکرا لے آئے ہیں۔ اور ساتھ یہ عزم بھی کیا کہ وہ حاجی صاحب کی طرح قُربانی نہیں کریں گے بلکہ کسی غریب لڑکی کی شادی کروائیں گے۔

    ایک اور صاحب نے لکھا کہ اس بار وہ عید پر قربانی نہیں کریں گے، کیوں کہ انہیں جانور ذبح ہوتے دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، مزید کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اتنی خوبصورت تخلیق کو کیوں مارا جاتا ہے۔

    ایک بھائی نے لکھا کہ مجھے کافر کہہ لو لیکن مجھے یہ نہیں پسند کہ 72 گھنٹوں میں کئی لاکھ پیارے پیارے اور معصوم جانوروں کا سرِ عام اتنے بڑے پیمانے پر قتلِ عام ہو۔ لیکن ساتھ اس بات پر بھی افسردہ تھے کہ اب کُچھ دن کے لیے انہیں سبزیوں پر گزارہ کرنا پڑے گا۔

    ایک مشہور شخصیت نے پوسٹ کی کہ لوگوں کو عید الاضحی پر لاکھوں جانوروں کو قربان / ذبح کرنے کی بجائے اپنے آئی فون توڑ (قربان کر) دینے چاہیے۔ مزید یہ بھی کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ ہر سال کروڑوں جانوروں کو قربانی کے نام پر ذبح کر دیا جاتا ہے اور وہ بھی بچوں کے سامنے۔

    جانوروں کے حقوق کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ اُسے عید الاضحی پر کروڑوں جانوروں کے قتلِ عام پر تشویش ہے، قُربانی کے نام پر بڑے پیمانے پر جانوروں کی نسل کشی کی جاتی ہے، اس سے بہت سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جانوروں کی باقیات سے نہ صرف ماحول آلودہ ہوتا ہے بلکہ قربانی کے دوران پانی کے استعمال سے پانی بھی ضائع ہوتا ہے۔

    ایک شخص نے لکھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ایسے لوگ مسلمانوں کے لیڈر بن چُکے ہیں جو قُربانی کی حمایت کرتے ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ بجائے قربانی کرنے کے وہی رقم کسی غریب کو عطیہ کر دیں، اور ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہمیں انسانیت کے نام پر پُر امن رہنا چاہئے، اور قربانی کے نام پر نمود و نمائش کی بجائے دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔

    بدقسمتی سے یہ چند بیان کیے گئے نظریات کچھ نام نہاد دیسی لبرل مسلمانوں کے ہیں۔ ایک طرف تو یہ لوگ آزادئ اظہار رائے کا پرچار کرتے ہیں لیکن دوسری طرف یہ دوسروں کے عقائد پر تنقید کرتے ہیں۔ اگر کوئی قربانی نہیں کرنا چاہتا تو نہ کرے لیکن اُسے دین کا مذاق بنانے یا اپنے عقائد اور مذہب پر عمل کرنے کی وجہ سے دوسروں پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔

    سوال یہ ہے کہ انسانیت کے ان ہمدردوں کو غریبوں کی مدد کے لئے صرف حج و قربانی ہی کیوں نظر آتی ہے؟

    اپنی بڑی بڑی گاڑیاں، 24 گھنٹے اے سی چلتے کمرے، محل جیسے پرتعیش گھر، ہر رات آباد ہوتے مہنگے ترین ہوٹل، ہزاروں روپوں کا میک اپ، لاکھوں i جیولری اور کاسمیٹیکس، لاکھوں کی مالیت کے موبائل فون کیوں نظر نہیں آتے؟ ان نام نہاد لوگوں کے لیے یہ سب جائز ہے، لیکن سال بھر میں ایک بار قربانی کرنا غلط؟

    قربانی ایک اہم مالی عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔ اس عمل کو بڑی فضیلت اور اہمیت حاصل ہےبارگاہ الہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے۔

    سورت الحج آیت نمبر 34 میں اللّٰہ نے فرمایا ہے کہ (ترجمہ !) "اور ہم نے ہر اُمت کیلئے قربانی اس غرض کیلئے مقرر کی ہے کہ وہ مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللّٰہ نے اُنہیں عطا فرمائے ہیں”۔

    قربانی کی ایک عظیم الشان صورت اللّٰہ تعالی نے امت محمدیہ ﷺ کو عیدالاضحٰی کی قربانی کی صورت میں عطا فرمائی ہے جو کہ حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے، عید الاضحی پر ایک خاص جانور کو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا اور تقرب کی نیت سے سے ذبح کیا جاتا ہے۔

    دین درحقیقت اتباع کا نام ہے اور اصل مقصد اللّٰہ تعالی کے حکم کی بجا آوری ہے، قرآن مجید میں سورت الحج کی آیت نمبر 37 میں بیان کیا گیا ہے کہ ترجمہ ! "اللّٰہ کو ہرگز نہ اُن کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اُسے تمہاری طرف سے تقوی پہنچے گا۔اسی لئے اس نے اُنہیں تمہارے لئے مسخر کر دیا،تاکہ تم اُس پر اللّٰہ کی بڑائی بیان کرو ،کہ اُس نےتمہیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والے کو خوشخبری سنا دیجیئے”۔

    سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو وسعت ہو (صاحب نصاب ہو) اس کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ (سنن ابن ماجہ )

    جو لوگ مالی وسعت یعنی قربانی کی استطاعت رکھتے ہوئے بھی قربانی ادا نہیں کرتے وہ آنکھیں کھولیں!اور اپنے ایمان کی خیر منائیں، عیدگاہیں اور مساجد اللّٰہ تعالی کی محبوب جگہیں ہیں، جہاں جمع ہونے والوں پر بارگاہ الہی سے رحمت کی برستی ہے، یہاں کی حاضری سے کسی بدنصیب کو ہی روکا جا سکتا ہے۔

    سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو بڑے موٹے تازے سینگوں والے سیاہ و سفید رنگت والے دو خصی مینڈے خریدتے، اُن میں سے ایک اپنے اُن امتیوں کیطرف سے قربان کرتے جنھوں نے اللّٰہ کی توحید اور آپ کی تبلیغ کی گواہی دی،اور دوسرا اپنی اور اپنے اہل وعیال کیطرف سے قربان کرتے ۔

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی کیا کرو اور خوش دلی سے کیا کرو کیوں کہ جب مسلمان اپنی قربانی کا رُخ قبلے کی طرف کرتا ہے تو اس کا خون،گوبر اور اُون قیامت کے دن میزان میں نیکیوں کی صورت میں حاضر کیے جائیں گے۔

    حضرت زید بن ارقمؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! یہ قربانی کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی سنت ہے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اس میں ہمارا کیا فائدہ ہے ؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا (تمہارا فائدہ یہ ہے کہ تمہارے قربانی کے جانور کے)ہر بال کےبدلےمیں ایک نیکی ملے گی ۔ صحابہؓ نے پھر عرض کیا یارسول اللہﷺ !(جن جانوروں کے بدن پر اُون ہے اُس) اُون کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اُون کے ہر بال کے عوض میں بھی نیکی ملے گی۔

    ہماری بد قسمتی ہے کہ یہاں ہر دوسرا بندہ دین اور مذہبی معاملات پر بغیر کسی تحقیق رائے دینا اپنا حق سمجھتا ہے۔ آج پاکستانی معاشرے کو ایسے خود کو عقل کل سمجھنے والے نام نہاد سکالرز کا سامنا ہے جو مغربی سوچ سے اس قدر متاثر ہو چکے ہیں کہ یہ ہر چیز کو سیکولرازم کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ انہیں مذہب سے متعلق سب کچھ ہی برا لگتا ہے، انکا حجاب میں دم گھٹتا ہے، ہر داڑھی والا دہشت گرد نظر آتا ہے، مدارس تمام مسائل کی جڑ لگتے ہیں اور قربانی کے وقت انہیں غریب غربا یاد آ جاتے ہیں۔

    ہر سال شادیوں کے نام پر لاکھوں کا خرچہ کرتے وقت ان لوگوں کو غریب کی بیٹی یاد نہیں آتی۔ لاکھوں روپے مالیت کے موبائیل سے غریبوں سے ہمدردی کا ڈھنڈورا پیٹتے انہیں واٹر کولر لگوانا اچھا نہیں لگتا۔ ان کے میک اپ، پرفیوم اور کاسمیٹکس کے لاکھوں کے خرچے سے کئی گھروں کے چولہے جل سکتے ہیں، لیکن اس وقت غریب کا احساس ضروری نہیں ہوتا۔

    عید پر انہیں غریب کی بیٹی کی شادی کی فکر ضرور ستاتی ہے لیکن سارا سال اِن کے بوتیک سے کوئی غریب اپنی بیٹی کی شادی کا جوڑا نہیں خرید سکتا۔ عید پر جانوروں کے ذبح ہونے پر انہیں ظلم ضرور یاد آتا ہے لیکن سارا سال جب یہ گوشت کھاتے ہیں اُس وقت یہ ظلم نہیں ہوتا۔ انہیں قربانی کے وقت پانی کا استعمال ضیاع لگتا ہے لیکن سال بھر اِنکے سوئمنگ پولز میں پانی کا استعمال نظر نہیں آتا، اور انکی مہنگی گاڑیاں ہوا سے دھوئی جاتی ہیں۔

    یہ لوگ فضول خرچی روکنے کے لئے سمارٹ فونز کی خریدو وفروخت پر پابندی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ بیوٹی پارلرز اور لاکھوں کا ایک ایک جوڑا فروخت کرنیوالے بوتیکوں پر اخراجات کی بجائے غریب بچیوں کے گھر بسانے کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ پارٹیوں پر لاکھوں خرچ کرنے کی بجائے غریبوں کی مدد کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟

    قربانی کو متنازعہ بنانے والے یہ سیکولر زکوۃ کی ادائیگی کیوں نہیں شروع کرتے؟ دراصل مسئلہ غریبوں کی حمایت کا نہیں ہے، بلکہ ان کو تکلیف صرف سنت نبویﷺ پر عمل کی ہے۔ یہ لوگ سنت نبویﷺ کو بزور طاقت تو نہیں روک سکتے اور نہ ہی براہ راست تنقید کر سکتے ہیں اس لیے یہ لوگ ایک جذباتی ماحول بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بیچارے مغرب کی تقلید میں ان سے بھی بڑھ کر روشن خیال بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

    عیدِ قربان نہ صرف ایک مذہبی تہوار ہے بلکہ ایک بڑی معاشی اور فلاحی سرگرمی کا دن بھی ہے۔ عید الاضحٰی کے لیے قربانی کے جانوروں کو بڑے پیمانے پر ملک کے دیہی علاقوں سے ملک کے دیگر بڑے شہروں میں لایا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ اس طرح اربوں روپے کا سرمایہ شہروں سے دیہی اور زرعی معاشرے میں منتقل ہوجاتا ہے۔

    ہر سال عید الاضحیٰ پر 200 سے 300 ارب روپے تک کی رقم ہر شہری علاقوں سے دیہی علاقوں کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ قربانی کی وجہ سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں عارضی نوکریاں پیدا ہوتی ہیں۔ جانوروں کو منڈیوں اور گھروں میں پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کے استعمال سے لے کر انہیں چارے کی فراہمی اور قصابوں تک، لاکھوں لوگ اس معاشی سرگرمی کا حصہ بنتے ہیں۔

    مُلک میں چمڑے کی کل ضروریات کا تقریباً 40 فیصد قربانی کے تین دنوں میں پورا ہو جاتا ہے۔عیدِ قرباں پر بیرون ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں بھی اضافہ ہوتا ہے کیونکہ امریکہ اور یورپ سمیت مشرق وسطیٰ میں رہائش پذیر پاکستانی اپنی قربانی کی رقومات پاکستان بھیجتے ہیں تاکہ قربانی کا فائدہ ملک کے پسماندہ طبقات کو ہو۔

    دیکھا جائے تو قربانی دراصل غریبوں کے لئے ہی روزگار پیدا کرتی ہے، بُہت سے لوگ جو گوشت افورڈ نہیں کر سکتے اُنہیں ہر سال عید الاضحی پر کھانے کے لیے گوشت ضرور ملتا ہے، قُربانی کی کھالوں سے ایسے فلاحی ادارے چلتے ہیں جو غریبوں کے بچوں کو پڑھاتے ہیں یا پھر ہسپتالوں میں غریبوں کا مفت علاج کرواتے ہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالی مسلمانانِ عالم کو سنت ابراھیمی ( علیہ السلام) اور سنت رسولﷺ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور قربانی کے مبارک عمل کو بارگاہ جلیلہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے۔

  • اسلامو فوبیا کیا ہے؟ تحریر: محمد عدنان شاہد

    اسلامو فوبیا کیا ہے؟ تحریر: محمد عدنان شاہد

    ‏اسلاموفوبیا لفظ اسلام اور یونانی لفظ فوبیا یعنی (ڈر جانا) کا مجموعہ ہے ۔
    غیر مسلموں کو اسلام کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف خوف پیدا ہو جاتا ہے جسے اسلاموفوبیا کہتے ہیں
    اسلام و فوبیا ایک جدید لفظ ہے جو مسلمانوں اور اسلام کو بد نام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے
    اس اصطلاح کا استعمال 1976 سے ہوا 11 ستمبر 2011 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ڈرامائی حملوں کے بعد کثرت سے استعمال کیا جانے لگا۔ اس کے بعد کئی مغربی ممالک میں مسلمانوں پر حملے کیے گئے۔
    سانحہ نیوزی لینڈ کو دنیا نے دیکھا جہاں 50 جیتے جاگتے انسانوں کو لحموں میں ڈھیر کردیاگیا ۔
    آخر یہ ظلم مسلمانوں پر ہی کیوں؟؟
    اسلام تو پر امن دین ہے اور امن کا درس دیتا ہے جس مذہب میں راستے سے رکاوٹیں ہٹانے کو صدقہ جاریہ کہا جاتا ہے وہ مذہب کیسے کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے ؟
    اگر تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو دیکھا جائے گا کہ فتح مکہ کی فتح سب سے بڑی فتح تھی اس موقع پر ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں کو معاف کر کی امن کی اعلی مثال قائم کی اور دنیا کو دکھایا کہ اسلام ایک پرامن دین ہے۔

    جو مذہب غیر مسلموں کے حقوق کا بھی خیال رکھتا ہے آخر اس مذہب سے اتنا ڈر کیوں ؟ جہاں تک دیکھا جائے تو اسلاموفوبیا کی سب سے بڑی وجہ سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ کہ اسلام کی بڑھتی مقبولیت۔
    زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں حال ہی میں 8 جون کو کینیڈا میں پاکستانی نژاد خاندان کو گاڑی تلے روند کر قتل گیا اس واقعہ میں چار افراد ہلاک ہوئے اور 9 سال کا بچہ بچہ زندہ بچا۔
    وزیراعظم پاکستان عمران خان نے آئی سی او کے پلیٹ فارم پر بھی اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات پر زور دیا
    جناب عمران خان نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اسلاموفوبیا بنیاد پرستی اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کا سختی سے مقابلہ کریں عمران خان نے اسلامی ممالک کے سربراہان کو کو خطوط لکھے جس میں انہوں نے کہا کہ اسلام فوبیا کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

  • پاکستان میں کرپشن پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے .از قلم! صاحبزادہ ملک حسنین

    پاکستان میں کرپشن پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے .از قلم! صاحبزادہ ملک حسنین

    بدعنوانی کو بین الاقوامی طور پر انگریزی زبان کا لفظ کرپشن نہیں بولا جاتا ہے کرپشن ذاتی مفاد کے لئے اپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا نام ہے دنیا کے ہر دور میں بیشتر ممالک میں اس کا وجود رہا ہے سیاسی اداروں کے علاوہ حکومتوں کے سربراہوں سے لے کر معمولی درجہ کے ملازم بھی اس میں ملوث پائے جاتے ہیں پرائیویٹ اداروں اور سرکاری مالیاتی اداروں میں بھی کرپشن پائی جاتی ہے
    سیاسی اداروں میں انتخابات کے موقع پر ووٹ خریدے جاتے ہیں اور اچھے عہدے دینے کے وعدے اور خصوصی مراعات کی پیشکش انتخابات کی آزادی میں مداخلت کرپشن کے زمرے میں آتے ہیں

    قانونی فیصلے کرنے والے اداروں میں بھی کرپشن عروج پر ہے وہ گفٹ کی صورت میں یا پیسے کی ادائیگی رشتہ داروں کی حمایت سماجی اثر و رسوخ آدمی عام آدمی کے حق کو ختم کر دیتے ہیں جس کو ہم سادہ زبان میں رشوت کہتے ہیں غریب کے بس کی تو بات نہیں ہے کہ وہ رشوت دے سکے لیکن پاکستان میں یہ چیز برعکس ہے امیر سے لے کر غریب تک رشوت کے دلدل میں پھنس چکے ہیں کسی بھی محکمے میں چلے جائیں رشوت کے بغیر کام نہیں ہوتا سرکاری واجبات کی ادائیگی نہ کرنا بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے بینکوں سے قرضے لے کر معاف کروا لینا ٹیلی فون بجلی سوئی گیس اور پانی کے بلوں کی ادائیگی نہ کرنا ملک کی معیشت کو کمزور کرنا سیاسی کرپشن میں آتا ہے کرپشن نہ قابل علاج بیماری کی طرح انسانیت سے چمٹ گئی ہے اور اس کو روکنے کے لیے کئی دانشوروں اپنی توانائیاں صرف کر دی ہیں

    کرپشن روکنے کیلئے صرف اس کا ایک ہی طریقہ ہے وہ یہ کہ جو شخص کرپشن میں ملوث پایا جائے اس کو فورا برطرف کر دیا جائے اور تاحیات اس پر پابندی لگا دی جائے کہ وہ کسی بھی سرکاری یا نجی محکمہ میں کوئی نوکری یا کاروبار نہیں کر سکتا اس کی بنیادی وجہ یہ ہے اگر کسی کے بچے چند روپے کما کر آتے ہیں تو ان کے والدین یا ان کی بہن یا اگر وہ شادی شدہ ہے تو یہ سوال نہیں کرتے کہ یہ پیسے کہاں سے آئے ہیں اگر پاکستان میں ہر شخص اس عمل پر عمل پیرا ہو تو لوگوں میں خوف پیدا ہوگا کہ ہم نے گھر جا کر جواب دینا ہے کہ ہم کہاں سے پیسے کما کر لائے ہیں کس طریقے سے کما کر لائے ہیں تو اس میں یہ خوف پیدا ہو گا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کرنا کیونکہ اگر میں کرتا ہوں تو مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا وہ حلال رزق کمائے گا محنت کرے گا کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ میں نے گھر جا کر جواب دینا ہے اب آتے ہیں گھریلو کرپشن کی طرف وہ یہ کہ اگر ہم بچے کو سو روپے دیتے ہیں اور اس میں سے 80 روپے کا سامان آتا ہے تو وہ بقیہ 20 روپے بچہ اپنی جیب میں رکھ لیتا ہے اور وہ گھر والوں کو واپس نہیں دیتا جب وہ سامان لے کر واپس گھر آتا ہے تو بتاتا ہے کہ سامان سو روپے کا آیا ہے بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ والدین اس سے سوال نہیں کرتے کہ کونسی چیز کتنے کی آئی ہے کون سی چیز کتنے کی ہے حساب نہیں کرتے یہاں سے اس کی سوچ کرپشن کی طرف جاتی ہے اور کرپشن ایک ایسی دلدل ہے جو انسان کو تمام عمر نہیں چھوڑتی کرپشن صرف بچوں کی حد تک محدود نہیں ہے کرپشن ایک عالمی مسئلہ ہے میں پاکستان کی کرپشن پر بات اس لئے کر رہا ہوں کہ دنیا میں سب سے زیادہ اگر کرپٹ لوگ ہیں یا کرپٹ سیاست دان ہیں تو وہ پاکستان میں ہیں آپ کسی بھی محکمے میں نوکری کے لیے جاتے ہیں تو بغیر رشوت کے آپ کو وہ نوکری نہیں ملتی اور اس عمل سے کتنے غریب لوگوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے اور وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں پاکستان میں کئی دہائیوں سے اس ناسوت بیماری نے اپنی جڑیں مضبوط کر رکھی ہیں جس کو اگر بیان کیا جائے تو لکھتے لکھتے ورک ختم ہو جائیں ایک طالب علم پڑھائی کرتا ہے اور جتنی محنت کرنے کا حق بنتا ہے اگر وہ پڑھائی میں اتنی محنت نہیں کرتا تو یہ بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے بدقسمتی اور بدبختی اس ملک میں یہ ہے کہ آج کے اس پرفتن دور میں اگر کوئی شخص سرکاری یا نجی ہسپتال میں جاتا ہے کسی بھی ہنگامی صورت میں تو اس کو جلدی آپریشن کے لیے بھی رشوت دینی پڑتی ہے کتنی شرم کی بات ہے کہ وہ ملک جس میں آئین و قوانین رشوت لینے یا دینے کی صورت میں سزا کا حکم دیتا ہے اور دین اسلام بھی یہی حکم دیتا ہے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ اسی ملک میں سب سے زیادہ کرپشن ہوتی ہے پاکستان میں اگر سیاسی کرپشن ختم کر دی جائے تو تب بھی یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ اس ملک میں ہر ایک محکمہ میں کرپشن نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں پر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اس ملک میں چند روپوں کے عوض تعلیمی ڈگری مل جاتی ہے اور آپ یہ بھی اندازہ کر لیں کہ جس ملک میں تعلیم پیسوں میں بکتی ہو وہ ملک تباہی کے کس قدر دہانے پر پہنچ چکا ہے اگر کرپشن حقیقت میں اس ملک سے ختم کرنی ہے اس کا صرف ایک ہی واحد طریقہ ہے جو چوری کرے اس کے ہاتھ کاٹ دیا جائے ہمارا دین اسلام بھی یہی حکم دیتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے جو ادارے ہیں جو کرپشن کے خلاف کاروائی کرتے ہیں سب سے زیادہ کرپشن انہی اداروں میں پائی جاتی ہے اللہ اللہ کر کے اگر کسی کو گرفتار بھی کیا جاتا ہے تو برائے نام میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں بیان کر سکوں کے اس ملک میں کس کس ادارے میں اور کس کس جگہ کرپشن پائی جاتی ہے آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ اگر ہم اپنی ذات کا محاسبہ کرتے ہیں اور اپنے آپ کو درست سمت کی طرف گامزن کرتے ہیں تو اس سے کرپشن پر قابو پایا جاسکتا ہے "کیونکہ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”

  • جھوٹ ایک لعنت.تحریر: موسی حبیب راجہ

    جھوٹ ایک لعنت.تحریر: موسی حبیب راجہ

    جھوٹ اور سچ یہ عادتیں بچپن ہی سے سیکھائی جاتی ہے جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اس وقت ماں جو کرتی ہے بچے پر اس کے اثرات  ہوتے ہیں۔ ماں باپ جھوٹ کے عادی ہوں تو یقینا بجے بھی جھوٹ ہی بولیں گے۔ دیکھا جائے تو سچ یا جھوٹ، دھوکہ فریب  ہر قول و فعل ایک دوسرے کے اردگرد ہی گھومتے ہیں
    حدیث شریف کا مفہوم ہے تمام گناہوں کی جڑ جھوٹ ہے
    جھوٹ بول کر انسان دوسرے انسان کو چپ کروا سکتا یے
    دوسرے انسان کو دھوکہ دے سکتا ہے
    دوسرے انسان کو اپنی چیز بیچ سکتا ہے
    لیکن اللہ تعالٰی کے سامنے کیسے جھوٹ بولے گا
    قول و فعل میں تضاد بھی جھوٹ ہے
    اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے اور سچائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی چاہیے۔ سچ وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سچ کہا اور جھوٹ وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جھوٹ کہا۔ سچ، نجات اور سکون کا باعث ہے اور جھوٹ، تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں۔جھوٹ بولنا انسان کو دنیا و آخرت میں اللہ کی رحمت سے بھی محروم کردیتا ہے اور لوگوں کی نظروں میں اس کا اعتبار اور رتبہ ختم کردیتا ہے۔ اور انسان کو نا اتفاقی کے مرض میں مبتلا کردیتا ہے یہ زبان کی آفت اور ایمان کو مسمار کرنے کا  سبب بنتا ہے۔جھوٹ ہی تمام گناہوں کی جڑ ہے۔

     قرآن مجید میں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے
    ” جھوٹ افترا تو وہی باندھتے ہیں جنہیں اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں ہوتا۔ اور یہی لوگ جھوٹے ہیں”
    ( سوره النحل: 105)

    جھوٹ کے متعلق کچھ احادیث:-

       سچ اور جھوٹ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: ’’تم پر سچ بولنا لازم ہے، کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔ اور انسان لگاتار سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور تم لوگ جھوٹ بولنے سے بچو، کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ دکھاتا ہے اور برائی دوزخ کا راستہ دکھاتی ہے، اور انسان لگاتار جھوٹ بولتا رہتا ہے، جھوٹ بولنے کا متمنی رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘
    (صحیح مسلم: 6094)

       ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے۔“
    [صحيح بخاري حديث 6095]

    جھوٹ بولنے سے انسان دوسرے انسانوں کی نظر میں تو گرتا ہی ہے ساتھ میں اللہ تعالٰی کے ہاں بھی سخت عذاب کا مستحق بھی ہو جاتا ہے

    دنیا والوں سے تو جھوٹ بول کرنی چھپا سکتا ہے اللہ تعالٰی سے کیسے چھپائے گا
    انسان جب ایک جھوٹ بولتا ہے تو اس کو چھپانے کے لیے اس کو دس جھوٹ اور بولنے کرتے ہیں

    جھوٹ سے انسان اللہ تعالٰی کے ہاں بھی اور دنیا والوں کے ہاں بھی منہ دیکھانے لے قابل نہیں رہتا

    مل کر معاشرے سے جھوٹ جیسی لعنت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے

  • بچپن کی شرارت قسط 4۔۔۔ تحریر: طلعت سلام

    بچپن کی شرارت قسط 4۔۔۔ تحریر: طلعت سلام

    آپ سب بھی حیران ھونگے کے طلعت کتنی ساری شرارتی تھی، ہر دوسرے دن ایک نئی شرارت کے ساتھ سامنے آجاتی ہے۔
    بچپن کی یادیں ایک خزانے سے کم نہیں اور میرا خیال ہے کے میرے ساتھ اپ سب کی زندگی میں بھی بچپن کی حسین یادیں لازمی ھونگی۔
    اکثر میں جب اکیلی ھوتی اور کچھ کرنے کو نہیں ھوتا تو میں پرانی تصویریں نکال کے دیکھتی ہوں۔ اور یقین جانیں پرانی تصویریں دیکھنے سے ساری پرانی یادیں تازہ ھو جاتی ہیں اور جسم میں ایک نئی انرجی بھر جاتی ہے۔
    اپ کو بھی مشورہ ہے اگر کبھی گھر میں اکیلے بور ھورہے ھوں تو اپنی پرانی تصویریں دیکھا کریں۔ آپکے ھونٹوں پر مسکراہٹ آجائے گی۔
    اچھا جی اب چلتے ہیں ایک بہت ہی بیوقوفانہ قسم کی بچپن کی شرارت تو نہیں کہوں گی کیونکہ اس وقت میں نویں کلاس میں تھی۔ ھم لوگ ہر گرمی کی چھٹیوں میں پاکستان جایا کرتے تھے۔ اپنی دوسری قسط میں بتا چکی ھوں کے ھم لوگ ابوظہبی میں رہتے تھے۔
    جی جناب تو گرمیوں کی چھٹیاں ھم پاکستان میں گزارتے تھے۔ وہاں ھمارے ابو کے ایک دوست کی فیملی تھی وہ بھی دبئی سے ہر سال ھمارے آگے پیچھے ہی پاکستان جایا کرتی تھی۔ انکے 3 بچے تھے۔ ان میں سے دو مجھ سے بڑے تھے۔ وہ دو بہن بھائی اور ھم 3 بہنیں ھم پانچوں کی بہت بنتی تھی۔
    ایک دن ھم نے پروگرام بنایا کے سب مل کے کولڈ کافی پینے جاتے ہیں۔ کیونکہ کراچی میں گرمیاں بہت زیادہ تھیں۔
    ھم تینوں بہنیں چھوٹی تھیں اسلیے ڈرائیو نہیں کرتی تھیں۔ عمران جو کے ابو کے دوست کا بیٹا تھا وہ ڈرائیو کرتا تھا۔ تو ھم پانچوں اٹھے اور تیار ھو کے امی سے پیسے لیے اور یونیورسٹی روڈ پر اس وقت ایک ریسٹورنٹ ھوتا تھا عثمانیہ اس میں پہنچ گئے۔ کہاں پہلے میں ایک اکیلی شرارتی اور کہاں شرارتی بچوں کا ٹولہ ایک ساتھ۔
    ھم سب نے اندر جا کے کولڈ کافی آرڈر کی اور پینے لگے۔ ہنسی مذاق کے دوران میری چھوٹی بہن کے گلاس الٹ گیا۔ افففففف اسکے بعد تو پوچھیں مت مجھے شرارت سوجھی اور جھوٹ موٹ بہن کو ڈانٹنے لگی کے یہ کیا کر دیا۔ اتنا بڑا نقصان پورے دس روپے کی کافی تھی۔ اور تم نے الٹ دی۔ اور اسکے بعد اپنا اسٹرا اٹھایا اور ٹیبل پر گری کافی کو اسٹرا سے پینے کی ایکٹنگ کرنے لگی😂😂😂 میری بہنیں اور دوست سب زور زور سے ہنسنے لگے۔ ھماری ہنسی کی وجہ سے نہ صرف سارے لوگ ساتھ ویٹر بھی پریشان ھو کے آگیا۔ اور سارے آس پاس بیٹے لوگ مجھے ناکام کوشش کرتے دیکھکے ہنسنے لگے۔ ویٹر کہنے لگا کے میں دوسرا گلاس لادیتا ھوں۔ اور میں بجائے کہتی کے لے آو دوسرا گلاس۔

    میں نے اسے اونچی اونچی آواز میں لیکچر دینا شروع کردیا۔ کھانا گرنے پر گناہ ھوتا اور پیسے الگ ضائع ھوتے۔ میرے ابو بہت محنت سے کامتے ہیں اور اس نے گرا دیا۔۔۔ بلا بلا بلا😂😂😂
    اور میرے بک بک کی وجہ سے نہ صرف میری بہنیں دوست بلکہ قریب کی ٹیبل پر بیٹھے سارے لوگوں کی ہنسی رکنا مشکل ھوگئی۔ اس بیچارے ویٹر کو اتنا لیکچر دیا کے اسے کچھ سمجھ نہیں آیا بیچارہ پریشان ھوتا رہا۔ اور بھاگ کے فری میں دوسری کافی لے آیا۔ اس عمر میں بات بے بات ہنسی بہت آتی ہے۔ اور یہی ھم سب کے ساتھ ھو رھا تھا۔
    آج بھی جب اس واقعے کو سوچتی ہوں تو ہنسی روکنا مشکل ھو جاتی ہے۔ کیونکہ جس طرح میں نان اسٹاپ بولے جا رہی تھی اور بیچارہ ویٹر حیران ھو کے مجھے خاموشی سے دیکھ رھا تھا۔۔
    ویسے دل میں تو سوچ رہا ھو گا کے یہ کیا چیز ہے۔ پر مجھے کسی کی کوئی پروا نہیں تھی۔ اس دن میں نے اپنی شرارتوں سے سب کو اتنا ہنسایا کے مت پوچھیں۔ ویٹر تک کی ہنسی نہیں رک رہی تھی۔ ویسے جب ھم جانے لگے تو میں نے ویٹر کو اسپیشل ٹپ دی صرف مجھے برداشت کرنے کی وجہ سے۔ اور ویٹر زیادہ ٹپ ملنے پر اتنا خوش ھوا کے ھماری ساری بدتمیزوں والی شرارت بھول گیا۔
    اور میرا کافی شکریہ ادا کیا۔
    ویسے جو حرکت میں نے کی وہ آپ لوگ نہیں کرنا۔ آجکل ماحول مختلف ہے۔ کیا پتہ جوتے ہی پڑجائیں😂

  • رچرڈ برنسن کا خلائی سفر کامیاب، توقع ہے کہ یہ سفرابھرتی خلائی سیاحت کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا    رچرڈبرنسن

    رچرڈ برنسن کا خلائی سفر کامیاب، توقع ہے کہ یہ سفرابھرتی خلائی سیاحت کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا رچرڈبرنسن

    ارب پتی رچرڈ برنسن خلائی سیاحت کے کامیاب سفر کے بعد زمین پر واپس آگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ورجن گلیکٹک خلائی جہاز پر سوار تین دیگر مسافروں اور دو کمانڈروں کے ہمراہ انہوں نے کچھ منٹ خلا میں گزارے توقع ہے کہ یہ سفر ابھرتی خلائی سیاحت کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا۔

    پرواز کے دوران برنسن نے کہا کہ یہ مہم جوئی زندگی کے ایک عظیم تجربے کی نمائندگی کرتی ہے۔یہ خلائی جہاز امریکا کی نیو میکسیکو ریاست میں اسپیس پورٹ خلا کے لیے روانہ ہوا۔ اس نے تقریبا 50 منٹ تک خلا میں سفر کیا۔

    برنسن نے اعلان کیا کہ وہ ورجن گیلیکٹک ہولڈنگز انک کے لیے ٹیسٹ فلائٹ پر جائیں گےانہوں نے ایک ہفتہ قبل اس وقت یہ اعلان کیا تھا جب ان کی عمر71 سال ہوگئی تھی۔

    برنسن کی پرواز کےصرف نو روز بعد خلائی سیاحت کی دوڑ میں ایمیزون کے بانی جیف بیزوس 20 جولائی کو خلا سفر پر جا رہے ہیں وہ بلیو اوریجن خلائی جہاز میں خلا میں جائیں گے۔

    سفر کا فیصلہ امریکا سے منظوری کے بعد کیا گیا ورجن گیلیکٹک کی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن فیس ادا کرنے والے مسافروں کو لے جاتی ہے برنسن ورجن کے وی ایس ایس یونٹی خلائی جہاز پر سوار ہوئےاس کے ٹیک آف سے لینڈنگ تک کوئی 90 منٹ لگے۔

    ایمازون کے سرابرہ جیف بیزوس کی خلا سے زمین پر واپسی روکی جائے، پیٹیشز پر41000…

    یہ پرواز نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن کی وضع کردہ خلائی لائن کے قریب پہنچ گئی۔ اس لائن کو "کرمان لائن” کہا جاتا ہے جو زمین کی سطح سے 100 کلومیٹر دور ہے۔

    خیال رہے کہ متعدد بار تاخیر، ایلون مسک اور جیف بیزوز سے سخت مسابقت کے بعد ورجین گلیکٹک کا یونٹی 22 مشن کامیاب ہوا اس سے قبل بلیو اوریجن نے اپنی پہلی انسانی پرواز 20 جولائی کو بھیجنے کا اعلان کیا تھا جس میں جیف بیزوز بھی شامل ہوں گے تاہم اس اعلان کے فوری بعد ورجن گلیکٹک نے 11 جولائی کو اپنی پہلی پرواز بھیجنے کا اعلان کیا۔

    رچرڈ برانسن رچرڈ برانسن کی خلا میں یہ پرواز ورجین کی اہم کامیابی ہے کیونکہ یہ اسپیس شپ 2 کا پہلا مکمل ٹیسٹ بھی تھا اور اس سے کمرشل خلائی پروازوں کا راستہ کھل جائے گاکمپنی کی جانب سے 2022 سے خلائی پروازوں کو شروع کیے جانے کا امکان ہے۔

    رچرڈ برانسن نے اس کمپنی کی بنیاد 2004 میں رکھی تھی اور انہیں توقع تھی کہ 2009 میں لوگوں کو خلا کی سیر کرانے کا آغاز ہوسکتا ہے، مگر اس سسٹم کی تیاری مشکل ثابت ہوئی جبکہ مالی اخراجات زیادہ اور 2014 کی تجرباتی پرواز جان لیوا ثابت ہوئی۔

    تاہم 17 سال کی کوششوں کے بعد یہ کمپنی توقع کررہی ہے کہ اب اسے کامیابی مل سکے گی جو اب تک سیکڑوں افراد کو 2 سے ڈھائی لاکھ ڈالرز کے ٹکٹ فروخت کرچکی ہے۔

    ائیر کار کی کامیاب آزمائشی پرواز

    امریکا کی ریاست نیو میکسیکو سے سیاحوں یا سائنسی محققین کو اس اسپیس شپ سے خلا میں بھیجا جائے گا جہاں وہ چند منٹ تک بے وزنی، بالائی خلا سے زمین کے مسحور کن نظارے اور محفوظ لینڈنگ کے تجربے سے گزر سکیں گے۔

  • ‏ہیلتھ کارڈ خطرے میں ہے . تحریر: زمان لالہ

    ‏ہیلتھ کارڈ خطرے میں ہے . تحریر: زمان لالہ

    ہسپتال لوگ شوق سے نہیں مجبوری میں جاتے ہیں۔
    اپنے پیاروں کے علاج کے لیے جاتے ہیں اور وہاں ان کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔

    اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور یہ اس وقت کی سب سے بڑی حقیقت ہے آج 70 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہمارے ملک کا ایک عام آدمی تعلیم روٹی کپڑا مکان صحت اور انصاف کے لیے مارا مارا پھر رہا ہے۔
    خاص کر جب ایک عام آدمی شدید بیماری اور سخت ایمرجسی میں ہسپتال پنہچتا ہے کہ اس کی جان بچا لو کہ میرے پیارے کی سانسیں چلتی رہیں اور اس کو وہاں وہ علاج نہیں ملتا اور ایک عام آدمی کے لیے یہ ایک انتہائی دردناک صورتحال ہوتی ہے اور اس درد و بے بسی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

    عمران خان جب آپ وزیر اعظم نہیں بنے تھے تب آپ بار بار تعلیم صحت اور انصاف کی بات کیا کرتے تھے۔

    آج آپ کے پاس اقتدار ہے طاقت ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ ساتھ ہی بہت سے مافیاز چیلنجز  اور کرپٹ سسٹم (جو کہ کام نہیں کرے دیتا) جیسے مسائل بھی ہیں
    لیکن اس سب کے باوجود وزیراعظم عمران خان صاحب یہ آپ ہی کی ذمہداری ہے کہ قوم کو ان مسائل میں سے نکالیں۔

    وزیر اعظم صاحب ہمیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ آپ اپنے وعدوں کو بھولے نہیں اور جیسا کہ آپ نے حال ہی میں بتایا کہ آپ چاہتے ہیں کہ جب آپ کی حکومت کے پانچ سال پورے ہوں تو آپ عوام کو تعلیم اور صحت کے مسائل سے نکال چکے ہوں۔

    ہیلتھ کارڈ کا اجرء ایک قابل تحسین اقدام ہے کہ ایک غریب ادمی کو 10 لاکھ روپے سالانہ فی خاندان ملتا ہے کہ وہ جس ہسپتال میں چاہے اچھے سے اچھا علاج کروائے اور یہ غریب آدمی کے اس خواب کی تعبیر ہے جو وہ ہمیشہ سے دیکھتا آیا۔۔۔

    لیکن۔۔۔جب وہ ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل ہوتا ہے تو ان 10 لاکھ روپوں کی قدر اس تیزی سے گرتی ہے کہ کسی سخت بیماری کی صورت میں شائید یہ 10 لاکھ روپے بمشکل 10 دن کا خرچہ ثابت ہوتے ہیں اور اگر 10دن سے زیادہ ہسپتال میں گزرے تو پھر غریب کہاں جائے گا اور کیا ہو گا اسکے علاج کا۔

    اب کچھ ذکر سرکاری نظام صحت کا۔۔۔

    پاکستان کا موجودہ نظام صحت پاکستان کی کُل آبادی میں سے صرف 30 فیصد عوام کو سہولت مہیا کرتا ہے بقایا 70 فیصد آبادی پرائیویٹ ہسپتالوں، چھوٹے بڑے کلینک سے لے کر جعلی ڈاکٹروں اور عطائیوں کے رحم و کرم پر ہے۔
    انٹرنیشنل آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق نظام صحت میں پاکستان 195 ملکوں میں 154 پر ہے۔

    یہ ہے سرکاری نظام صحت کا حال تو یقینا پھر عوام نے پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ تو کرنا ہی ہے

    پرائیویٹ ہسپتال مافیا جس میں چھوٹے بڑے ہسپتالوں سے لے کر پرائیویٹ لیبارٹیاں اور فارمیسی شامل ہیں۔
    یہ وہی پرائیویٹ مافیا ہے جس کی عوام سے لوٹ مار، بےرحمی اور شدید ظلم و زیادتی کے باعث اُس وقت کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے سو موٹو نوٹس لیا۔
    ہیومن رائٹس پٹیشن کیس نمبر 10633/2018 
    اور اس مافیا کو لگام ڈالی اور تمام تر عدالتی کاروائی اور
    پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی رپورٹس کے بعد سپریم کورٹ کا تفصیلی حکم نامہ جاری ہوا جس میں پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کے ریٹس طے کردیئے گئے۔

    لیکن سب سے مزے مزے کی بات کہ کوئی بھی ہرائیویٹ ہسپتال سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق طے کیئے گئے ریٹس پر کام کرنے پر تیار نہیں۔

    جی ہاں۔۔۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ مانا ہی نہیں گیا اور
    نہ ہی پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن یا پبلک سروس ہیلتھ کمیشن نے اُس حکم نامے پر عملدرآمد کروانے کے لیے یا عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی کی۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کی دھجیاں اُڑا دی گئیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی تعمیل نہ کر کے تمام متعلقہ ادارے اور تمام پرائیویٹ ہسپتال شدید ترین عدالتی توہین کے نہ صرف مرتکب ہوئے بلکہ دھڑلے سے توہین عدالت اس وقت بھی جاری ہے۔

    تو اب جبکہ عمران خان نے ہر ایک خاندان کو 10لاکھ روپے سالانہ علاج کی سہولت دے دی ہے تو کیا یہ رقم بےرحم پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کے لیے کافی ہے؟

    جب ہیلتھ کیئر کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں سپریم کورٹ کی طرف سے طے کئیے گئے ریٹس لاگو نہیں ہوں گے تو یہ ہیلتھ کارڈ بیچارہ کیا کرے گا؟

    ہیلتھ کارڈ کی کامیابی کا دارومدار صرف اور صرف اس صورت میں ہی ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے اُس عدالتی حکم نامے پر عملدرامد ہو جو پرائیویٹ ہسپتال مافیا کی لوٹ مار سے عوام کو بچانے کے لیے جاری کیا گیا۔

    نہیں تو اس دس لاکھ روپے کے ہیلتھ کارڈ کی بھی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ پرائیویٹ ہسپتال مافیا ایک بھوکے اور خونخوار مگرمچھ کی طرح منہ کھولے صرف اور صرف ہیلتھ کارڈ ہولڈر کےانتظار میں گھات لگائے بیٹھا ہے۔

    ‎@Zaman_Lalaa