Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دورِ فِتن، ہم اور ہمارے علماء کی ذمہ داری۔۔؟ تحریر: امان الرحمٰن

    دورِ فِتن، ہم اور ہمارے علماء کی ذمہ داری۔۔؟ تحریر: امان الرحمٰن

    دورِ فِتن کی علامات جو احادیث میں بیان کی گئی ہیں وہ اب ظاہر ہوتی جارہی ہیں۔ اب آنے والا وقت سخت سے سخت تر ہوتا جائے گا ہر نئی آنے والی مصیبت کے مقابلے میں گزشتہ مصیبت ہلکی معلوم ہوگی۔ لہٰذا نجات اِسی میں ہے کہ دنیا کی محبت دل سے نکال کر آخرت کی تیاری کی جائے اللّه کے حضور صدقِ دل سے توبہ کی جائے اور رسول اللہ ﷺ کی سُنتوں کو اپنایا جائے ۔ آپ آج اپنئ اِردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو محسوس ہوگا کتنا مشکل ہے کہ میں اِن وجوہات سے بچ سکوں مگر مشکل نظر آئے گا ،کیونکہ سب سے بڑا فتنے باز ہمارا موبائل ہی ہے جو ہر چند سیکنڈ بعد ہمیں موصول ہونے والے میسیجز ہیں جو بنا تصدیق ہم تک پہنچ جاتے ہیں اور بنا تحقیق کئے وہی میسج یا تحریر ویسے ہی آپ آگے فارورڈ کرتے ہیں ، لیکن اِن گناہوں سے بچنے کا اور خُود کو اِن فتنوں سے بچانے کیلئے آسان سا حل ہے کے ہم دین کے اُن ارکان اُن باتوں کو اپنائیں جن اعمال کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ، اب یہاں بات آتی ہے کہ ہمارے علماء کا کردار کتنا ضروری ہے اور کیا وہ اپنا کردار ٹھیک سے ادا کر رہے ہیں ۔۔؟ اگر نہیں تو ہمیں خُود چاہئے کے اپنے محلے کی مسجد کے عالم یا مولوی سے سوال کریں کے کہ جناب اِس طرف بھی کچھ بیان کیا کریں ، ہمارے مُعاشرے میں بُرائی بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی رہی ہے کے ہم نے اپنے علماء سے سوال کرنا چھوڑ دیا ہے ، اُس سے ہُوا کیا۔۔؟ اُس سے یہ ہُوا کے علماء بھی ڈھیلے پڑ گئے اپنی اصل ذمہ داری سے ، اب اگر اِن مسائل پر بات کی جائے تو مجھے ایک پوری کتاب لکھنا پڑ جائے گی ، اور ہم نے کتاب کو تو ہاتھ لگانا نہیں کیوں کے زمانہ بدلتا جا رہا ہے اور اِسی بدلتے زمانے میں فتنے بپا ہوتے جائیں گے اب چند احادیث کے حوالے اور قُرآن کریم سے آیات پیشِ خدمت ہیں ۔
    انِّی لَأَرَی مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلَالَ بُیُوتِکُمْ کَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ
    صحیح البخاری رقم الحدیث۵۳۱۵۔صحیح مسلم رقم الحدیث۵۸۸۲
    بے شک میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں کی جگہوں میں فتنے ایسے گر یں گے جیسے بارش کے قطرے گرتے ہیں
    عن کعب(رض) قال أظلمتکم فتنۃ کقطع اللیل المظلم لایبقی بیت من بیوت المسلمین بین المشرق والمغرب الادخلتہ
    الفتن لنعیم بن حماد:ج۱ص۴۵۲رقم الحدیث۴۱۷
    حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اندھیری رات کے مانند تم پر ایسا فتنہ آئے گا جو نہیں چھوڑے گا کوئی گھر مسلمانوں کے گھروں میں سے مشرق و مغرب کے درمیان مگر یہ کہ وہ ہو امیں داخل ہوجائے گا
    ہر صاحب بصیرت جس کو اللہ تعالیٰ نے قلب سلیم اور اپنے دین کے صحیح فہم سے نوازا ہو ، وہ اس بات سے انکار نہیں کرے گا کہ موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ایسے گونگے اور بہرے ،گھٹا ٹوپ اور تیرہ و تاریک فتنے ظہور پذیر ہوں گے جو ایسے رگڑا دیں گے جیسے چمڑے کو زمین پر پٹخااور رگڑا جاتا ہے، جو ایسے اُدھیڑ کر رکھ دیں گے جیسے بالوں کو اُدھیڑا اور رگڑا جاتا ہے، جو ایسے ریزہ ریزہ کردیں گے جیسے خشک اور سوکھی مینگنی کو ریزہ ریزہ کردیا جاتا ہے یا جیسے روٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ثریدمیں ڈالا جاتا ہے ،جوایسی چوٹیں لگائیں گے جن کی تاب کوئی نہ لاسکے گا،اور ان فتنوں میں سب سے بد ترین فتنہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی اُمت کو ڈرایا اور فرمایا کے مجھ سے پہلے آنے والے ہر نبی اور پیغمبر نے اپنی قوم کو ڈرایا وہ ہے ’’دجال اکبر ‘‘کا فتنہ اور اس فتنے کو دنیا میں ہونے والے ہر فتنے کا موجب اور منبع قرار دیا

    وَمَا صُنِعَتْ فِتْنَۃٌ مُنْذُ کَانَتْ الدُّنْیَا صَغِیرَۃٌ وَلَا کَبِیرَۃٌالَّا لِفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ
    مسنداحمد:ج۵ص۹۸۳رقم الحدیث:۲۵۳۳۲۔مجمع الزوائد:ج۷ص۵۳۳رجالہ رجال الصحیح
    اور آج تک دنیامیں جو کوئی چھوٹا بڑا فتنہ رونماہوتا ہے وہ دجال کے فتنے کی وجہ سے ہے
    فتنہ چھوٹا ہو یا بڑا وہ دجال کے فتنے پر ہی منتج ہوگا۔سو جو اس کے فتنے سے پہلے فتنوں سے بچ گیا وہ دجال کے فتنوں سے بھی بچ جائے گا
    احادیث فی الفتن والحوادث ج:۱ ص۶۵۲بحوالہ تیسری عالمی جنگ اور دجال

    اس افسوس ناک صورتحال سے زیادہ کرب کی بات یہ ہے کہ اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم جو دنیا کا واحد گروہ ہے جسے ماضی ،حال اور مستقبل کا قُرآن و سنت کی صورت میں کافی علم دیا گیا ہے ،آج حیران اور ناواقف راہ ہیں اور بھٹک رہی ہے اور دنیا کی تاریکیوں سے روشنی کی بھیک مانگ رہی ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بعد اب ان فتنوں کے ظہور کی رفتار تیز ہوتی محسوس ہورہی ہے گویا ہمیں خُود محنت کرنا ہے اِن فِتنوں سے جتنا ہو سکے خُود کو اور اپنے اردگرد دوست احباب کو ہر چھوٹے چھوٹے برے عمل سے روکنا ہے اور مسلمان وہی ہے جو برائی کو روکے اور نیکی کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمیں ہر بات ہر آنے والے دور کے بارے میں کُھلے الفاظ میں بتایا گیا ہے کیا ہم اتنے قاہل ہو گئے ہیں کے اپنے ایمان کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے جبکہ قُرآن میں اللہ فرما رہا ہے۔ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ
    (سُورۃمحمد:۱۸)
    تو کیا یہ قیامت کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ اِن کے پاس اچانک آجائے ،یقیناً اس کی نشانیاں تو ظاہر ہوہی چکی ہیں۔پھر جب اُن کے پاس قیامت آجائے تو انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا ۔
    نشانیوں کا خروج یکے بعد دیگرے ہوگا ،اس طرح پے درپے آئیں گی جس طرح لڑی ٹوٹنے کے بعدپروئے ہوئے دانے آتے ہیں
    ان حالات کا تقاضا ہے کہ قُرآن و احادیث مبارکہ کی روشنی میں اس صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے ،موجودہ حالات کی تبدیلی کو صحیح زاویہ سے دیکھاجائے اور آئندہ کے لئے صحیح نشاندہی کی جائے تاکہ اُمت اپنے فرضِ منصبی کو پیش آنے والے عظیم معرکہء خیر وشر میں کماحقہ سرانجام دے کر پوری انسانیت کو کامیابی سے ہمکنار کرے ۔
    اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ میری اِس کوشش کو قبول فرمائے اور اللہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو سچی توبہ اور استقامت نصیب فرمائے ۔آمین
    جزاک اللہ خیراً کثیرا

  • منشیات اور ہمارا معاشرہ .تحریر : ریحانہ جدون

    منشیات اور ہمارا معاشرہ .تحریر : ریحانہ جدون

    منشیات وہ اشیاء جات ہیں جن کے استعمال کی وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ ذہنی و جسمانی آسودگی ہے- دنیا بھر میں سینکڑوں اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں انسان منشیات کے نشے میں گرفتار ہیں اور اس کی وجوہات میں میڈیا (رسائل، فلم، ٹی وی، ناول، کہانی وغیرہ) پر منشیات کے استعمال کو دلفریب انداز میں پیش کرنا، والدین کی ناقص توجہ اور تربیت، سنگت و صحبت کا اثر، دوسروں کو دیکھ کر رشک و طلب وغیرہ شامل ہیں- لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا نشے کی عادت کیوں لاحق ہوجاتی ہے؟
    پہلی بات کہ اسلام میں ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور اسکی خرابیوں سے ہر کوئی واقف بھی ہے اس لئے اسے ایک صحت مند انسان قبول نہیں کرسکتے.

    سب سے پہلا سوال کہ منشیات کیا ہے ؟؟
    منشیات مختلف کیمیائی مرکبات سے بنائی جاتی ہے جو ایک انسانی جسم میں معمول سے ہٹ کر وہ کیفیت پیدا کرے جسے استعمال کرنے والے شخص کی چاہ ہو.. منشیات میں مبتلا نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے
    منشیات کا استعمال تو آدمی اپنے اختیار سے شروع کرتا ہے؛ لیکن جب وہ اس لت میں پڑ جاتا ہے تو آپ اپنے قابو میں نہیں رہتا، وہ اضطراراً منشیات کے خرید نے اوراستعمال کرنے پر گویا مجبور ہوتا ہے ، چاہے کھانے کو دو روٹی میسر نہ ہو ، گھر کے لوگ بھوک اور فاقہ سے گذار رہے ہوں ، علاج کے لئے پیسے میسر نہ ہوں ؛ لیکن جو اس عادت کا اسیر ہو گا، وہ انسانی ضروریات کو پس پشت ڈال کر پہلے اپنی اس بری عادت کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا ، اس لئے اسراف اور فضولی خرچی کا یہ بہت بڑا محرک ہے، نشہ خوری نے خاندان کے خاندان کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ، …

    دیکھا جائے تو اس کے استعمال پر پابندی ہونے کے باوجود یہ آ سانی سے دستیاب ہے بلکہ اب تو رواج کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے.
    اور جس طرح ہماری نوجوان نسل نشے کی لت میں مبتلا ہورہی ہے وہ تشویش ناک ہے, اتنی پابندیوں کے باوجود اسکے استعمال کی شرح میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے,
    نوجوانوں میں یہ وباء عام ہونے کی وجوہات میں کچھ وجوہات یہ بھی ہیں مثلاً بےخوفی کا بڑھ جانا
    موت سے غافل ہونا
    آ خرت کی فکر اور اللہ کی بارگاہ میں حاضری اور جواب دہی کا استحضار نہ رہنا,
    جب یہ سب ہوگا تو یہ گناہوں کی طرف جائیں گے ایسا لگتا ہے کہ انکی لگام انکے نفس کے قبضے میں ہے,
    افسوس کے کچھ لوگ معاشرے میں اسکا عادی ہونا فخر سمجھتے ہیں
    منشیات کے بہت سی اقسام ہیں جن میں چرس, نشہ آور ادویات, تمباکو نوشی, شراب, گھٹکا وغیرہ…
    سب سے زیادہ خطرناک نشہ ہیروئن کا ہے, جب کوئی شخص ہیروئن کی لت میں پڑ جاتا ہے وہ نشے کا مریض کہلاتا ہے.
    آ ج پاکستان کی کئ مصروف شاہراہیں دیکھ لیں سینکڑوں نوجوان وہاں نیم بےہوشی میں پڑے نظر آ ئیں گے, ان میں کچھ گھریلو مسائل سے تنگ آ کے نشے کی طرف راغب ہوئے اور کچھ لیلیٰ مجنوں کی کہانی کا حصہ خود کو سمجھنے لگے تھے, کچھ بےروزگاری اور معاشرتی بے حسی کی وجہ سے…. وہ اسطرح کہ جب معاشرتی طعنوں کی ضد میں انسان تنہائی پسند رہتا ہے اور اسکی بےسکونی اسکی توجہ نشے کی طرف مبذول کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ معاشرتی لعن طعن سے بےحس ہونے کے لئے اسکا استعمال کرتا ہے.

    ویسے نشے کا استعمال کس دور میں ہوا یہ معلوم نہیں اور جو لوگ نشے کے استعمال سے تکلیف, ذہنی دباؤ ختم کرنا چاہتے ہیں وہ اسکا بےدریغ استعمال کرتے ہیں پر وہ نہیں جانتے کہ اس سے ذہنی دباؤ وقتی طور پر ختم ہوجاتا ہے پھر مصیبت ہمیشہ گلے پڑ جاتی ہے.
    نشے کا استعمال کرنے والے افراد حقیقت میں کمزور قوت ارادی کے ہوتے ہیں, اس لئے بعض اوقات بے سکونی اور اضطرابی کی کیفیت بھی انسان کو نشے میں مبتلا کرسکتی ہے.
    نشے کے نقصانات زیادہ ہیں یہ تیزی سے انسان کو اسکے منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں, ایسے لوگ معاشرے میں دوسروں کی نظروں سے گر جاتے ہیں اور کئی تو اپنا گھر بار نشے کی لت میں بیچ دیتے ہیں,
    انکے بچے رُل جاتے ہیں. انکے خاندان بکھر جاتے ہیں.
    منشیات کا عادی انسان نہ صرف خود کا نقصان کردیتا ہے بلکہ اپنے سے جُڑی زندگیوں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے انکی زندگی کو بھی توڑ پھوڑ کا شکار بنا دیتا ہے .
    ایسے لوگ حقیقت میں بہت مظلوم ہوتے ہیں انکو ہماری مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم انکو دوبارہ سے زندگی کی سہی راہ پہ لا سکتے ہیں. اس لئے انکو حقارت سے نہ دیکھیں, انکی عزت نفس مجروح ہونے سے بچائیں, ایسے لوگوں کو توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور انھیں احساس دلانا ہے کہ وہ بھی اس معاشرے کا فرد ہیں…

  • سب سے پہلے پاکستان .تحریر : ملک علی رضا

    سب سے پہلے پاکستان .تحریر : ملک علی رضا

     
    ہم امن کے ساتھی ہیں مگر کسی قسم کی جنگ میں ہم امریکہ کا ساتھ نہیں دے سکتے، ایسا کہنا تھا وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا  قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوران خطاب میں۔حالیہ خطے کی  بدلتی صورتحال اور افغانستان سے امریکی اتحادی افواج کے انخلا کی وجہ سے اس وقت پاکستان پر سخت پریشر ہے کیونکہ امریکہ نے اپنی افغانستان میں ناکامی کے بعد پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین میں امریکی اتحادی فوجیوں کو جگہ فراہم کرے تا کہ وہ پاکستان میں رہ کر افغانستا ن کے علاقوں پر اپنی نظر رکھ سکے۔ مگر پاکستان نے عالمی دباو  اور خطرات کو پس پُشت ڈال کر امریکہ کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ اب پاکستان کسی بھی دوسرے کی جنگ میں براہ راست شامل نہیں ہوگا جیسے پہلے پاکستان نے امریکہ کے کہنے پر سب کچھ کیا اور اس جنگ میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان اُٹھانا پڑا  ۔

    اسی اثنا میں امریکہ نے افغانستان میں  رہ کر پاکستان میں 430 کے قریب ڈرون اسٹرائیک کیے جس میں ہزاروں بے گناہ افراد کی جانیں گئیں اور بہت نقصان اُٹھانا پڑا ۔ عمران خان کی حکومت شروع ہوتے ہی وزیر اعظم کا خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ عمران خان یہودی ایجنٹ ہے مگر  یہ کیسا ایجنٹ ہے کہ جس نے یہودیوں کے سامنے پاکستان نے عزت وقار کی خاطر گُھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا جیسا کہ گزشتہ ادوار میں کیا گیا ۔پاکستان نے طالبان ، امریکی اتحادی فوجوں اور افغانستان حکومت میں امن کی خاطر ثالث کا کردار ادا کیا یہی وجہ ہے کہ اب کی بار امریکہ کو پاکستان کی منت سماجت کرنی پڑی کہ وہ افغانستان سے انخلا میں انکی مدد کرے اور طالبان کیساتھ امن کی فضا قائم کرنے میں مدد کرے اور پاکستان نے جہاں تک ممکن ہوا مدد کی تا کہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔ دوسری جانب امریکہ ایک طرف پاکستان کے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہہ رہا ہے اور دوسری جانب بھارت کو افغانستان میں کنٹرول دلوانے کے لیے جو اس سے بن پڑ رہا ہے وہ کر رہا ہے ۔ اسی وجہ سے 25 سال بعد ایسا موقع آیا ہے کہ بھارت کی افغان طالبان سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ عمران خان نے کچھ دن پہلے ایک امریکی جریدے کو انٹرویو میں بھی امریکہ کو اپنی سرزمین دینے پر   دو ٹوک جواب دیا تھا  کہ پاکستان اب اپنی سرزمین کسی بھی قسم کی جنگ کے لیے استعمال ہونے نہیں دےگا۔

    اپوزیشن جماعتیں عمران خان پر تنقید کے نشتر چلاتے رہتے ہیں اور  دنیا بھر  کے ممالک اس وقت عمران خان کے کسی بھی بیان کو لیکر طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اور انٹرنیشنل میڈیا تو عمران خان کے کسی بھی بیان کو جو امریکہ ، اسرائیل یا انکے اتحادیوں کے بارے میں بات ہوتی اس میں سے ہر منفی پوائنٹ کو اُٹھا کر دنیا کے سامنے اس طرح سے لاتے ہیں جیسے عمران کان نے انکے خلاف بات کر کے کوئی جُرم کر دیا ہو۔یہ بات تو کنفر م ہو چکی ہے ایک تُرکی کے صدر رجب طیب ادرغان اور دوسرا اب عمران خان ایسا لیڈر ہے جس کی بات پوری دنیا میں گونجتی ہے۔ کشمیر کے معاملے پر بھی اقوام متحدہ سے لیکر او آئی سی جیسے فورمز یورپین پارلیمنٹ تک کشمیر کے حوالے سے بات کی گئی جو کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ یہاں اگر ہم پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے کردار کی تعریف نہ کی جائے تو یہ سراسر زیادتی ہوگی یہاں تک کہ اس سب کے پیچھے جو اصل محنت ہے وہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی محنت ہےجنہوں نے  پاکستان کے وقار کی خاطر امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو بھی اب انکی اصل جگہ پر رکھ دیا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی  لیفٹینت جنرل فیض حمید کے مختلف ممالک کے دوروں اور خاص طور پر تُرکی ، قطر اور افغانستان کے دوروں کی خاصی اہمیت رہی۔ عمران خان کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس وقت پاکستانی کی سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے۔ عمران خان کے   ہر بیان کے بعد بھارت میں ایک آگ سی لگ جاتی ہےا ور  اتنی تکلیف امریکہ کو نہیں ہوتی جتنی بھارت کو ہوتی ہے۔عمران خان کے پارلیمنٹ میں دیے جانے والے بیان کو اپوزیشن کی جماعتو ں نے بھی سراہا جس کے بعد عوام  کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ جو بات عرصہ دراز سے حکومتیں کرنے والوں کے کرنی چائیں تھیں اور پہلی بار بننے والا وزیر اعظم عمران خان کر رہا ہے۔ عمران خان نے پاکستان کے وقار اور عزت کی خاطر بیرونی دباو کو مسترد کر دیا ہےاور اب  اس کے آفٹر شاکس پاکستان میں متعدد جگہوں سے آئیں گے کیونکہ اس بات کی تکلیف کارد عمل پاکستان میں آئے گا ۔ اب اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں اور تمام سیاسی جماعتوں کو  عمران خان کا ساتھ دینا چائیے۔ آنے والے وقت میں پاکستان کے لیے مزید مشکلات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے تا کہ پاکستان اپنے موقعف سے پیچھے ہٹ جائے تو اس کے لیے عوام کو چائیے کہ وہ فیصلہ کریں کہ انہوں نے سیاسی قیادتوں کے لیے کام کرنا ہے یا پاکستان کی عزت و وقار کے لیے ؟۔ عمران خان نے کشمیر کے حوالے سے بھی پھر سے کہہ دیا کہ اگر بھارت اپنے  فیصلوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا تب تک  بھارت کے ساتھ بات چیت نہیں ہوگی ۔

  • میٹنگ میں جنرل باجوہ نے نواز شریف کو کیا پراسرار پیغام دیا؟ .تحریر: رانا عزیر

    میٹنگ میں جنرل باجوہ نے نواز شریف کو کیا پراسرار پیغام دیا؟ .تحریر: رانا عزیر

    گزشتہ روز پاکستان کی تاریخ انتہائی اہم میٹنگ ہوئی جس میں آرمی چیف اور دیگر فوجی حکام سمیت پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت نے شرکت کی۔ یہ میٹنگ چونکہ خفیہ تھی اس لیے اس کے مندرجات کھل کر سامنے نہیں آئے، لیکن جو ذرائع نے بتایا ہے وہ بہت دلچسب ہے، آرمی چیف نے نوازشریف کا ذکر کیا، اور کچھ اہم اشارے دیے جس نے ن لیگ کی کشتی میں بڑاسوراخ کردیا اور لندن میں بیٹھا کاغذی شیر بھی رسوا ہوگیا۔
    سیاسی عسکری قیادت میں زیادہ گپ شپ کھانے کی میز پر ہوئی۔ اجلاس میں ماحول اچھا تھا، کسی معاملے پر بھی تلخی نہیں ہوئی،اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کے درمیان برف پگھل گئی۔

    پہلا سوال مشاہد حسین، دوسرا شہباز شریف اور تیسرا بلاول بھٹو جبکہ تیسرا شاہ محمود نے کیا۔

    ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی کو کہا تھا کہ وزیراعظم اجلاس میں نہ آئیں۔حکومت اور فوج ایک ہی پالیسی پر نظر آئے۔سوال جواب کا سیشن طویل ہو گیا جس پر آرمی چیف نے کہا کہ کوئی اعتراض نہیں ، اجلاس بے شک ہفتے کے آخر پر رکھ لیں۔ آپ کے ساتھ ہم کھانا کھائیں گے ناشتہ کرنے کو بھی تیار ہیں۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ لینا ہے۔
    آرمی چیف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور سیکیورٹی صورتحال پر اجلاس کچھ دن بعد پھر بلا لیتے ہیں۔ اجلاس میں آرمی چیف نے لیگی رہنما احسن اقبال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے بیٹے سے نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں ملا تھا، رہنما ن لیگ مشاہد حسین نے کہا کہ اپوزیشن بالخصوص مسلم لیگ ن پر ہاتھ ہولہ رکھیں جس پر آرمی چیف سے مسکراتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری بھی ساتھے کھڑے ہیں آپ کے۔
    ذرائع کے مطابق کھانے کی میز پر رانا ثناء اللہ اور رانا تنویز بھی آ گئے۔ تو جنرل باجوہ نے کہا کہ میری تو بیوی بھی راجپوت ہے، میرے چھوٹے بیٹے کی منگنی پشتونوں میں ہوئی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کی فوج میں 40 فیصد پشتون ہیں۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی ایم کے ایم این اے علی وزیر کو معاف کر دیں، آرمی چیف نے جواب دیا کہ پاکستانی فوج پر تنقید برداشت نہیں کریں گے۔

    لہذا علی وزیر کو بھی معافی مانگنی ہو گی۔مجھ پر تنقید تو نواز شریف اور ایاز صادق نے بھی کی تاہم ہم نے برداشت کی۔اس دوران محسن داوڑ نے اٹھ کر بولنے کی کوشش کی تو اسپیکر نے روک لیا جس پر قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آپ کھل کر بات کریں۔محسن داورڈ آپ مجھ سے علحیدگی میں بھی ملیں،کبھی آپ کا راستہ نہیں روکا۔آپ الیکشن جیت کر آئے ہیں لہذا آپ کی بات سننے کو تیار ہیں۔
    بلاول بھٹو نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ علی وزیر کو معاف کردیا جائے جس میں نوازشریف کو بھی گہرا پیغام پہنچا۔ آرمی چیف نے جواب دیا : میری ذات کو گالیاں دیں میں نے کچھ نہیں کہا، جنرل فیض کو دیں خیر ہے لیکن ان لوگوں نے فوج کو گالیاں دیں وہ قابل برداشت نہیں ہے۔ اب اس سے کیا واضح ہوتا ہے؟ جو صحافی دن رات یہ گن گا رہے تھے کہ نواز شریف کی ڈیل ہوچکی ہے، نوازشریف نے فوج کو الٹا لٹکانا تھا اس وجہ سے فوج نے اسے باہر بھیج دیا ان کا ڈراپ سین ہوگیا، پس ثابت ہوا ہے اب اگر نوازشریف وطن واپس آئیں گے، ان کو پاکستان کے ادارے الٹا لٹکانے کے لیے تیار ہیں، اور اس ڈر سے آج کے بعد نوازشریف وطن واپس نہیں آئیں گے اور وہ غدار الطاف حسین کا روپ دھار چکے ہیں۔

  • اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ  سیکھو—— خاص تحریر—— (علی عمران شاھین)

    اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو—— خاص تحریر—— (علی عمران شاھین)

    چند روز قبل کینیڈا میں ایک پاکستانی مسلم خاندان کو جو ٹرک کے نیچے کچل کر قتل کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا،میں نے اس پر اپنی ایک اصلاحی مجلس میں کچھ معروضات پیش کیں کہ ہم مسلمانوں کا اس طرح بلاوجہ و بلا ضرورت اپنے ملک چھوڑ کرکافروں کے ملکوں میں جاکر برضا و رغبت و اطمینان رہنا بالکل غلط ہے۔ایسا عمل کرنے والوں کے بارے میں پیارے نبی محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ ہے کہ "میں ان سے بری ہوں”

    البتہ وہیں کے مقامی لوگوں کا معاملہ مختلف ہے۔بعد گفتگو نجی محفل ہوئی تو ایک دوست میرے پاس بیٹھ کر کینیڈاویورپ وغیرہ کے” فضائل "بیان کرنے لگے۔

    انہوں نے جب وہاں کی خوبیاں گنوانی شروع کیں تو میں نے کہا کہ ان خوبیوں کو اپنانے سے ہمیں کس نے روکا؟اور اس پر اختلاف کس کا ہے؟ ہمیں خود کو درست کرنا چاہیے، اخلاقی و معاشرتی آداب کو زندگی کا حصہ بنانا چائیے، یہ سب تو میں خود ابھی بیان بھی کر چکا ہوں۔

     

    باتوں باتوں میں انہوں نے ساتھ خود ہی انکشاف کیا کہ ان کے خاندان کے بہت سے افراد کینیڈا میں ہی مقیم ہیں۔ ان کی پھوپھو حالیہ رمضان کے آغاز میں کینیڈا میں ہی وفات پا گئی تھیں تو ان کی وہیں تدفین ہوئی۔بتانےلگے کہ ان کی قبر کی جگہ کے لئے وہاں ان کی فیملی نے مقامی سرکاری انتظامیہ کو پاکستانی 9لاکھ روپے کے برابر ادا کی تب تدفین ممکن ہوئی۔

    (بصورت دیگر نعش تب تک سرد خانے میں رہتی ہے جب تک رقم کا انتظام نہ ہوجائے اور وہ مسلمان باہم چندہ وغیرہ جمع کرکے کرتے ہیں،اور سرد خانے کا بل بھی بھرنا پڑتا ہے)

    جی، آپ کو معلوم ہے کہ کینیڈا وہ ملک ہے،جو کرہ ارض پر رقبے کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر پے اور آبادی میں پونے چار کروڑ کے ساتھ 37ویں نمبر پر (یعنی ہمارے ایک شہر کراچی سے کچھ زیادہ )البتہ دولت وثروت میں دنیا کے پہلے 10امیر ترین ممالک میں سے ایک،لیکن دل اتنا تنگ اور ظرف اتنا چھوٹا ہے کہ ایک قبر کی جگہ اپنے کسی شہری کو مفت تو کجا کم قیمت میں نہیں دے سکتے۔۔۔۔۔

    میں ابھی پڑھ رہا تھا کہ ہماری ایک عدالت نے آج ہی پنجاب حکومت کو حکم دیا ہے کہ بڑے شہروں کے پوش امیر علاقوں میں بھی جو چند ہزار روپے لے کر تدفین ہوتی ہے،اسے بھی ختم کرے اور مکمل مفت تدفین کا اہتمام کرے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

    اسی دوران ایک اور دوست بتانے لگے کہ ان ملکوں میں بسنے والے ہم پاکستانی وغیرہ تو انگریزوں کے علاقوں میں بہت کم جاتے ہیں کیونکہ ان کی ہم سے نفرت ہی اتنی ہوتی ہے جو برداشت نہیں ہو پاتی۔نائن الیون کے بعد تو وہاں ہر روز کتنی جگہ تارکین وطن مسلمانوں کو چن چن کر مارا جاتا،حملے کئے جاتے ہیں۔

    کمال دیکھئے کہ وہاں آپ پانی سے استنجا نہیں کرسکتے، کیوں کہ کسی بھی استنجا خانے میں پانی رکھنا سخت منع ہے،آپ جتنے مرضی امیر ہوں،گھر میں ملازم نہیں رکھ سکتے،گھر کے سارے کام اہل خانہ نے خود کرنے ہوتے ہیں،مر جائیں تو جنازے میں 40 موحد نمازی مسلمان شامل ہونے والے نہ مل پائیں،

    یہ کیسی زندگی ہے جس کی طرف ہمارے لوگ دوسروں پر محض اپنی سبقت ظاہر کرنے کے لئے لپک لپک کر دوڑے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ وہی جن کے یہاں ناز نخرے اٹھانے والے بے شمار ہوتے ہیں وہ وہاں محض چمک دمک پر نامعلوم و گمنام زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے سب لٹانے پر تیار ہوجاتے ہیں۔۔۔۔۔جن کی یہاں حکومتی موج مستیاں ہوتی ہیں اور ہر طرف ہٹو بچو کی صدائیں ہوتی ہیں وہ وہاں سڑکوں گلیوں ٹرینوں میں ویسے ہی گھوم رہے ہوتے ہیں اور کوئی انہیں دیکھنے والا نہیں ہوتا۔

    اللہ فرماتے ہیں‌
    (اے مسلمانو !)تمھیں کافروں کا دنیا میں عیش و رونق کے ساتھ رہنا کسی دھوکے میں نہ ڈالے،یہ تو تھوڑا سا سامان زیست ہے اور پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ ٹھہرنے کی بہت بری جگہ ہے۔۔۔۔
    اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
    سنگ مر مر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے

    اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو۔۔۔۔۔۔
    خاص تحریر۔۔۔۔۔(علی عمران شاھین)

  • اخوت یونیورسٹی خواب نہیں حقیقت۔ تحریر: عادل ندیم

    اخوت یونیورسٹی خواب نہیں حقیقت۔ تحریر: عادل ندیم

    وہ دور جس میں تعلیم کو ذریعہ معاش بنا لیا گیا ھو
    اس دور میں تعلیم، کھانا ، رھائش، یونیفارم اور دیگر ضروری سامان کی مفت فراہمی ایک دیوانے کا خواب ھی لگتا تھا۔
    لیکن یہ خواب حقیقت کا روپ دھار چکا ھے۔

    میں آپ کو متعارف کروانے جا رھا ھوں
    لاھور اور قصور کے سنگم پر للیانی نہر کے کنارے واقع اخوت کالج یونیورسٹی قصور سے۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب کا ایک اور خواب ایک اٹل حقیقت کا روپ دھارے ھمارے سامنے کھڑا ھے۔

    اخوت کالج یونیورسٹی میں پنجاب، سندھ ، کے پی کے ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت تمام علاقوں سے برابری کی بنیاد پر طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ھے۔

    اخوت کالج میں انٹرمیڈیٹ کی کلاسز کا آغاز 2015 سے ھو چکا تھا اور اب یونیورسٹی کلاسز کا بھی آغاز ھو چکا ھے۔
    طلباء سے ایک روپیہ بھی فیس کی مد میں نہیں لیا جاتا۔
    اعلیٰ معیار کا کھانا ، تعلیم اور رہائش مفت فراھم کی جاتی ھے۔
    طلباء کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ھے۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب سے جب طلباء کی فیس کے بارے میں پوچھا جاتا ھے تو ان کا یہ کہنا ھے کہ
    اخوت کالج یونیورسٹی میں طلباء سے پڑھائی سے قبل لاکھوں روپے فیس کا مطالبہ نہیں کیا جاتا بلکہ طلبا سے کہا جاتا ھے کہ پڑھ لکھ کر جب کامیاب ھو جاؤ تو پھر آ کر اپنی فیس ادا کر دینا تا کہ آپ کسی کا سہارا بن سکو اور آپ کی دی ھوئی فیس سے کوئی اور پڑھ لکھ کر کامیاب ھو سکے۔

    اس قدر اعتماد؟ اس قدر بھروسہ ؟
    اسے خاموش انقلاب ھی کہا جا سکتا ھے ۔

    ایسا انقلاب جو ھمیں کچھ سالوں بعد نظر آنا شروع ہو جاے گا جب اخوت کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلباء مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سر انجام دیں گے۔
    اخوت ایجوکیشن پروگرام میں اخوت کالج یونیورسٹی قصور ، اخوت انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فیصل آباد ، اخوت کالج فار وومن چکوال ، این جے وی سکول کراچی اور اخوت پرائمری سکولز (350 سے زائد) شامل ھیں ۔

    نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹّی بہت زرخیز ہے ساقی

  • دولت عثمانیہ کا آغاز و ارتقا .تحریر: محمد سمیع اللہ

    دولت عثمانیہ کا آغاز و ارتقا .تحریر: محمد سمیع اللہ

    عثمانیوں کا تعلق ایک ترکمانی قبیلے سے ہے۔ جو ساتویں صدی ہجری بمطابق تیرھویں صدی عیسوی کو کردستان میں آباد تھا۔ اور پیشے سے چرواہا تھا۔ چنگیز خان کی قیادت میں جب منگولیوں نے عراق اور ایشیائے کوچک کے مشرقی علاقوں میں حملے کئے تو عثمان کا دادا سلیمان اپنے قبیلے کے ساتھ ہجرت کر کے کردستان سے اناضول کے علاقوں میں ا بسا اور اخلاط کے شہر کو اپنا مسکن بنایا۔ یہ 617ھ 1220ء کی بات ہے عثمان کا دادا سلیمان 627ھ بمطابق 1230ء کو فوت ہوا اور اپنے منجھے بیٹے ارطغرل کو اپنا جانشین بنایا ارطغرل اناضول سے شمال مغرب کی جانب مسلسل بڑھتا رہا اسکے ساتھ تقریبا سو خاندان اور چار سو سے زائد شہسوار تھے۔
    عثمان کا والد ارطغرل جب منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لئے یہاں سے نکلا تو اس وقت اسکے ساتھ چار سو کے قریب خاندان تھے۔ راستے میں ایک جگہ اچانک شوروغوغا بلند ہوا۔ ارطغرل جب قریب پہنچا تو دیکھا کہ مسلمانوں اور نصرانیوں کے درمیان جنگ کا میدان گرم ہے اور بیزنطنی عیسائی مسلمانوں کو پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ ارطغرل کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ اپنی پوری قوت اور شجاعت کے ساتھ آگے بڑھے اور اپنے ہم مذہب و ہم عقیدہ بھائیوں کو اس مشکل سے نکالے۔ ارطغرل نے اس زور سے حملہ کیا کہ نصرانیوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ اور اسکی پیش قدمی مسلمانوں کے لئے فتح کا سبب بن گئی۔ جب معرکہ کارزار ختم ہوا تو سلجوقی اسلامی لشکر کے سپہ سالار نے ارطغرل اور اسکے دستے کی بروقت پیش قدمی کی تعریف کی اور انہیں رومی سرحدوں کے پاس اناضول کی مغربی سرحدوں میں ایک جاگیر عطا کی۔ اس طرح انہیں موقع دیا کہ وہ رومی علاقوں کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے سلجوقی سلطنت کی توسیع کا موجب بنے۔ سلجوقیوں کو ارطغرل اور اسکے قبیلے کی صورت میں ایک طاقتور حلیف مل گیا۔ جنہوں نے رومیوں کی خلاف جہاد میں انکا پورا پورا ساتھ دیا۔اس ابھرتی ہوئی سلطنت اور سلاجقہ روم کے درمیان ایک گہرہ تعلق پیدا ہو گیا جس کا سبب رومی تھے جو انکے مشترکہ دشمن تھے اور مذہب و عقیدہ میں انکے مخالف تھے۔
    ارطغرل جب تک زندہ رہا محبت کا یہ تعلق باقی رہا۔ارطغرل کی وفات کے بعد اسکے بیٹے نے بھی سلطنت سلجوقیہ کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا۔
    عثمان کی پیدائش::
    656ھ بمطابق 1258ء کو ارطغرل کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ والدین نے اس کا نام عثمان رکھا۔اسی عثمان کی طرف عثمانی سلطنت منسوب کی جاتی ہے۔ یہ اسی سال کی بات ہے جب ہلاکو خان کی قیادت میں منگولوں نے عباسی خلافت کے دارالحکومت بغداد پر حملہ کیا۔ بڑے بڑے واقعات پیش آئے۔مسلمانوں نے بڑی بڑی مصیبتیں دیکھی۔ منگولوں نے شہر میں تباہی مچا دی۔
    انہوں نے مرد عورتیں بزرگ بچے حتی کہ جو بھی ملا اسے قتل کر ڈالا سوائے نصرانیوں کہ یا ان لوگوں کہ جنہوں نے ان کے ہاں پناہ لی۔
    یہ بہت واقعہ اور عظیم حادثہ تھا۔ جس سے انت مسلمہ کو گزرنا پڑا۔ ایک ایسی امت جو اپنی نافرمانیوں اور گناہوں کی وجہ سے کمزور ہو گئی۔ اور اسکی طاقت جاتی رہی۔تاتاریوں نے دل کھول کر خون ریزی کی اور بےشمار انسانیت کو قتل کیا۔مال و دولت کو لوٹا۔ گھروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ان مشکل حالات میں جب امت مسلمہ کڑے وقت سے گزر رہی تھی دولت عثمانیہ کا مؤسس عثمان پیدا ہوا ۔
    عثمان میں اعلی قائدانہ صلاحیتیں

    شجاعت و حوصلہ مندی: جب بیزنطینوں نے مورصہ، مادانوس، ادرہ، نوس، کتہ، کستلہ، کے نصرانی امراء کو 700ھ 1301ء میں دولت عثمانیہ کے مؤسس عثمان سے جنگ کرنے کی غرض سے ایک صلیبی معاہدہ تشکیل دینے کی دعوت دی اور نصرانی امراء نے انکی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس نوزائدہ سلطنت کو ختم کرنے کے لئے ایکا کر لیا۔تو عثمان اپنی فوجوں کو لیکر آگے بڑھا خود جنگوں میں گھس گیا اور صلیبی فوجوں کو تتر بتر کر کے شجاعت و بہادری کا شاندار مظاہرہ کیا کہ عثمانیوں کے نزدیک اس کی بہادری ضرب المثل بن گئی۔
    حکمت و دانائی:
    عثمان جب اپنی قوم کا رئیس اعظم مقرر ہوا تو اس نے بڑی عقل ودانائی کا مظاہرہ کیا اور سلطان علاء الدین کی نصرانیوں کے خلاف مدد کی۔ بہت سے ناقابل شکست شہروں اور قلعوں کو فتح کرنے میں اسکے ساتھ رہا اسی وجہ سے دولت سلاجقہ روم کے فرمانروا سلجوقی سلطان علاءالدین نے اسے بڑی عزت دی اسے اپنے نام کا سکہ ڈھالنے اور اپنے ماتحت علاقوں میں اپنے نام کا خطبہ پڑھنے کی اجازت دی۔
    اخلاص و اللہیت : عثمان کے زیر نگیں علاقوں کے قریب بسنے والے لوگوں کو اس بات کا علم ہوا کہ وہ دین اسلام کا ایک مخلص سپاہی ہے تو وہ اسکی مدد کو کمربستہ ہو گئے اور ایک ایسی اسلامی سلطنت کے ستونوں کو مستحکم کرنے کے لئے متحد ہو گئے جو اسلام دشمن سلطنت کے سامنے نا قابل عبور دیوار بن کر کھڑی ہو گئی
    صبر واستقامت:
    جب عثمان نے قلعوں اور شہروں کو فتح کرنا شروع کیا تو یہ صفت ان کی شخصیت میں نمایاں طور پر سامنے آئی 707ھ میں اس نے یکے بعد دیگرے کتہ، لفکہ، اق، حصار، قوج حصار کے قلعے فتح کئے۔ 712ھ میں کبوہ، یکیجہ طراقلوا اور تکرر بیکاری وغیرہ قلعے فتح کیے۔
    عدل وانصاف:
    اکثر ترکی مراجع جنہوں نے عثمانیوں کی تاریخ قلم بند کی ہے بتاتے ہیں کہ ارطغرل نے اپنے بیٹے بانی دولت عثمانیہ قرہجہ حصار میں قاضی مقرر کیا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب 684ھ 1285 ء میں مسلمانوں کا اس شہر پر قبضہ ہوا۔عثمان نے ایک جھگڑے میں ایک مسلمان کی خلاف فیصلہ سناتے ہوئے بیزنطنی نصرانی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔بیزنطینی کو اس سے بڑا تعجب ہوا اور اس نے عثمان سے پوچھا کہ آپ نے میرے حق میں کیسے فیصلہ سنا دیا جبکہ میں آپ کے دین پر نہیں ہوں تو عثمان نے اسے جواب دیا کہ ہمارا دین ہمیں انصاف کرنے کا کہتا ہے تو میں کیسے نہ انصاف کروں عثمان کے اس عدل و انصاف کی بدولت اس شخص اور اسکی قوم کو ہدایت نصیب ہوئی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
    وعدہ کی پابندی:
    وعدہ کی پاسداری کا انہیں بڑا خیال تھا وہ جو وعدہ کرتے پورا کرتے۔ قلعہ اولوباد کے بازنطینی امیر نے جب عثمانی سپاہ کے ہاتھ میں قلعے کی چابیاں دیں تو یہ شرط عائد کی کہ کوئی عثمانی سپاہی پل سے گزر کر قلعے میں داخل نہیں ہو گا۔ عثمان نے اسکا پورا پورا التزام کیا اور اسکے جانشینوں نے بھی اس عہد کو نبھایا۔
    عثمان کا دستور حکمرانی:
    دولت عثمانیہ کے بانی عثمان کی زندگی جہاد اور دعوت دین کے لئے عبارت تھی۔ علماء اسلام امیر کو گھیرے رکھتے تھے اور سلطنت میں شرعی احکام کی تنفیذ اور انتظامی امور کی

  • تعلیمی اداروں میں کیمرے کیوں ضروری ۔۔۔تحریر:حنا

    تعلیمی اداروں میں کیمرے کیوں ضروری ۔۔۔تحریر:حنا

    جیسا کہ آپ جانتے ہیں ۔ہمارے ملک میں بدفعلی زنا اور فحاشی دن بدن بڑتی جارہی ہے ۔حکمران ریاست حتی کہ سبھی لوگ بے بس نظر آتے ہیں ۔۔کہ اس بدفعلی کو کیسے روکا جاے ۔آئے روز ِنت نئے کیس دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ دنیا بھر کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی اداروں میں کیمرے نصب کیے جاتے ہے اساتذہ سمیت بچوں کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے ۔بطور مسلمان ہم سب جانتے ہیں فحاشی اور بدفعلی گناہ ہے جرم ہے اور اسلام میں اس کی کیا سزا ہے ۔
    زنا کی سزا بتاتے وقت ۔
    اللہ تعالی نے فرمایا ۔
    اور تمھیں اللہ کے دین کے نفاد کے متعلق ان دونوں کے بارے میں کوئ ترس نہ آئے ۔
    اگر تم اللہ تعالی اور یوم آخرت پر یقین رکھتے ہو ۔
    (النور 2:24)
    وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲)ترجمہ: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔
    زنا کرنے والا شخص اگر غیر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سو (۱۰۰) کوڑے ہیں اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سنگسار کیا جانا ہے، آدھا جسم زمین میں گاڑ کر پتھروں سے اسے مارا جائے یہاں تک کہ اس کی جان نکل جائے۔ ایسی سزا کو حدود اللہ کہا جاتا ہے جس کا جاری کرنا حاکم اسلام کا کام اور ذمہ داری ہے، 

    پاکستان میں اس وقت تین بڑے مکتبہ فکر ہیں جنکے مدارس کثیر تعداد میں پورے پاکستان میں پھیلے ہوۓ ہیں دیوبندی مکتبہ فکر کا الحاق وفاق المدارس سے ہے جس سے تقریبا 18600 مدارس منسلک ہیں جنمیں 20 لاکھ کے قریب طلباء طالبات زیر تعلیم ہیں جبکہ بریلوی مکتبہ فکر کا الحاق تنظیم المدارس سے ہے اور اس سے تقریبا 9000 بریلوی مدارس منسلک ہیں جنمیں 13 لاکھ طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں
    اس طرح اہل حدیث مکتبہ فکر کا الحاق وفاق المدارس اسلافیہ سے ہے اس کے تحت تقریبا 1400 مدارس ملک بھر میں فعال ہیں جنمیں کل ملا کے 39000 طلباءوطالبات زیر تعلیم ہیں
    خلاصہ یہ نکلا کے پاکستان میں 29000 رجسٹرڈ مدارس ہیں جنمیں 3339000 طلباءوطالبات زیر تعلیم ہیں
    اسی طرح دنیاوی تعلیم کے اداروں پر بات ہو تو سرکاری غیر سرکاری ابتدائی مڈل سیکنڈری کالج یونیورسٹی سمیت 2234255 ادارے دنیاوی تعلیم کے لیۓ پاکستان میں فعال ہیں جنمیں قریب 8 کروڑ قوم کے بچے بچیاں زیر تعلیم ہیں

    پاکستان بھر میں مدرسہ ہو یا کالج یونیورسٹی ہو یا جامعہ الا قلیل ہر ایک ادارے میں ہفتے مہینے میں ایک دو کیس ایسے ضرور سامنے آتے ہیں جن سے پتا چلتا ہے طلباء نے آپس میں یا طالب علم نے طالبہ سے یا ٹیچر نے طالبہ کیساتھ قاری نے بچے کیساتھ ٹیچر نے شاگرد کے ساتھ پروفیسر نے طلبہ کے ساتھ زیادتی کی ہے اور سینکڑوں ایسی زیادتیاں ہوتی ہیں جو سامنے ہی نہیں آتیں بچے مسلسل زیادتی کا شکار ہو ہو کر مفلوج ہو جاتے ہیں کچھ عرصہ پہلے گجرانوالہ کی دینی درسگاہ کی ویڈیو سامنے آئی تھی اس طرح اک کالج میں کلاس روم کے سیکنڈل کی بھی لاہور یونیورسٹی میں ایک طلبہ کا گینگ ریپ بھی مانسہرہ کے قاری شمس الدین کی زیادتی ہو یا آئے روز جو دین کے ٹھیکدار ہوتے ۔جو خود کو دین کا وارث کہتے ہیں آئے روز ان کی بدفعلی کی وڈیو آرہی ہے ۔

    اگر ہم سیاست سے بالاتر ہو کر دیکھیں ۔تو ہمارے آس پاس ان گنت بچے اس وقت زیادتی کے بعد قتل کیے جا چکے ہیں. انصاف نہیں ملتا ۔۔کیوں؟ اس کی ایک بڑی وجہ ہے ۔۔میرے حکمرانوں کی خاموشی ۔۔۔موجودہ حکمران ہوں یا ماضی کے ۔۔سبھی ہمیشہ تب بولتے ہیں جب قتل یا درندگی سے متاثرہ ہونے والے بچے کا تعلق مخالف پارٹی کے صوبے یا علاقے سے ہو ۔۔ہمیشہ اس وقت انصاف کا رونا رویا جاتا ہے جب مخالف کو ذلیل اور لعن طعن کرنا ہو ۔حکمران انبیاء اور صحابہ کی مثالیں عوام کو تو دیتے ہیں لیکن خود عمل کیوں نہی کرتے درندگی فحاشی کتنا ہی بڑھ گئ ہو ۔اسے روکنا حکمرانوں پر فرض ہے ۔۔لیکن میرے حکمران تو جیسے ستو پی کر سووے ہووے ہیں ۔۔جناب عالی صرف گرفتار کرنے کو سزا دینا نہیں کہتے ۔۔کہ کسی نے جرم کیا تو آپ نے اسے سزا دے دی ۔۔جیلوں میں عیاشی کی زندگی دے دی ۔۔اور پھر وہی مجرم پولیس کو رشوت دے کر ضمانت کروا لیتا ہے ۔۔۔خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے چوبیس لاکھ مربع میل کر حکومت کی……..راتوں کو اٹھ اٹھ کر پیرا دیتے تھے اور لوگوں کی ضرورت کا خیال رکھتے تھے…..کہتے تھے اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن عمر (رضی اللہ عنہ )سے اس بارے میں پوچھ ہو گی……

    ۔۔جب مدرسہ کا مولوی بچے کے ساتھ زنا کرتا ہے ۔ قتل کرتا ہے تو تمام علماء خاموش ہوتے ہیں ۔مگر ڈگری والے ماسٹر رونا ڈال رہے ہوتے ہیں ۔انصاف کا ۔۔ اصل میں انصاف کا نہیں ۔بلکہ مدرسے کو بدنام کرنے کا اور اس وقت میری تمام حقوق کی تنظیمیں بھی بڑھ چڑھ کہ بولتی ہے میرے اداکار میرے گلوکار چینلوں پہ کالے رنگ کے لباس پہن کہ آجاتے ہیں۔مگر انصاف نہیں مانگتے ۔انصاف مانگتے تو جس مولوی کی غلطی ہو وہ اس کی سزا کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں لیکن وہ تمام مولوی طبقے کو گالی گلوچ مدرسوں کو غلط جگہ قرار دے کر اپنا الگ ہی بغض نکالنے لگ جاتے ہیں ۔ مدرسے کو بدنام وہ تمام مولوی طبقہ بھی کرتا ہے جو ایک مولوی کی غلطی پہ گناہ پہ خاموش ہوتا ہے ۔وہ تمام حافظ قرآن وہ تمام عالم بھی اس گناہ میں شامل ہوتے ہیں کیونکہ وہ خاموش رہے ۔اب آپ لوگ مجھے کہیں گے ۔تم علماء کو برا کیوں بول رہی ۔۔ باقی جگہوں پر بھی تو ایسا ہوتا ہے ۔۔ارے باقی جگہیں خدا کا گھر نہیں کہلائ جاتی مساجد مدارس کو خدا کا گھر کہا گیا ہے ۔۔اور علماء کا رتبہ بہت بلند رکھا گیا ہے ۔۔قرآن جیسی عظیم کتاب پڑھانے والا بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے والا ایسا فحش عمل کرے گا تو سوال تو ہوں گے ۔۔ انگلی تو اٹھے گی ۔۔صرف اس پر نہیں ہر مولوی ہر داڑھی والے پر کہ کہیں یہ بھی ایسا تو نہیں ۔۔ایک مچھلی گندی ہو تو پورا تالاب گندہ کرتی ہے۔۔۔دوسری بات ۔جب سکول کالجز یونیورسٹیوں میں کسی لڑکی لڑکے کے ساتھ غلط ہوتا ہے یا قتل ہوتا ہے تو میڈیا خاموش ہوتا ہے ۔میرے حکمران خاموش ہوتے ہیں ۔میرے اداکاروں میری گلوکاروں کے سیاہ رنگ کے لباس گم ہو جاتے ہیں ۔کیوں؟ کیوں کہ وہ جگہیں ڈگری والوں کی ملکیت ہوتی ہے ۔۔وہاں منہ بند رکھنے کے پیسے ملتے ہیں میڈیا مالکان کو ۔حقوق کے علمبرداروں کو ۔موم بتی مافیا کو ۔وہاں ہر تیسرا بندہ یہ کہ کر جھٹلا دیتا ہے کہ لڑکی ہی غلط ہو گی ۔لڑکا ہی غلط ہو گا ۔۔۔والدین ہی برے ہوں گے ۔۔۔ آج زنا کی اس وباء سے چھوٹے چھوٹے بچے بھی محفوظ نہیں۔وہ لڑکا ہو یا لڑکی ۔۔آج یہ کہنا کہ لڑکی نے ہی ورغلایا ہوگا ۔۔یا یہ کہنا بچی کا لباس پورا نہ تھا تو مرد بہک گیا ۔۔ایک ماں کا لاڈلہ بہک گیا ۔۔دین کا خودساختہ ٹھیکدار بہک گیا ۔۔یا سکول ماسٹر پروفیسر بچے کی خوبصورتی اور میک اپ کو دیکھ کر بہک گیا یہ بالکل غلط بات ہے۔ سال دو سال کے بچے جو ماں تک بولنا نہی جانتے ہوتے ۔ وہ بھی محفوظ نہیں ۔۔کیوں؟ اس کے ذمہ دار آپ سب بھی ہے ۔آپ نے کیوں نہیں مانگا انصاف ۔۔اسماء کے لیے ۔عاصمہ کے لیے ۔مدیحہ کے لیے ۔آمنہ کے لیے ۔ ۔نور کے لیے ۔ہادیہ کے لیے ۔رضوان کے لیے ۔عامر کے لیے ۔اور ان جیسے بے شمار بچوں کے لیے ۔۔آپ کیوں صرف اک دوسرے کی مخالفت پہ ہی بولتے ہو۔سرے عام پھانسی پر کیوں نہیں بولتے ؟کیوں نہیں سرے عام سنگسار کی بات کرتے۔۔کوی بھی بندہ کسی دوسرے کے ایسے جرم پر اسے سنگسار نہیں کر سکتا ۔۔یہ قانون حکمران بناتا ہے حکمران مجرم کو سنگساری کی سزا دے سکتا ہے ۔

    کچھ ماہ قبل جب بشریٰ انصاری نے مدارس میں کیمرے لگانے کا مطالبہ کیا تو ایک مشہور سلفی دانشور نے غلاظت اگلتے ہوئے اس مطالبے پہ بشریٰ کو طوائف قرار دیا تھا۔وہ اداکارہ ہے تو وہ طوائف ٹھہری اور مذہب کے نام پر بدفعلی کرنے والے کیا کہلاے؟
    ہاں یہ کہا جاسکتا تھا کہ سکولوں کالجوں میں بھی کیمرے لگاے جائیں ۔آپ مدرسوں میں کیمرے لگاو کوی مولوی مخالفت کرے اسے الٹا لٹکاو ۔۔علماء مولوی کو بھی ہم نے خدا سمجھ لیا ہے ۔۔کہ وہ گناہ کر ہی نہیں سکتا اور اگر کرتا ہے تو چپ کر جاو خاموش ہو جاو ۔۔نہ جانے کیوں یہ سوچ لوگوں کے ذہنوں پر مسلط کی ہووی ہے ۔کہ عالم حافظ کو سزا کی بات کی تو دین خطرے میں پڑھ جاے گا ۔۔۔ارے دین کو سب سے زیادہ بدنام خود یہ علماء کررہے ہیں علماء کے بارے ایک فرمان ہے
    عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔” (بیہقی)۔۔۔تو علماء کو علماء ہی سمجھیے ۔۔خدا یا رسول نہیں کہ یہ مجرم ہے تو خاموش ہو جاو

    ہم ملکر حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں ۔پورے پاکستان میں خفیہ کیمرے نصب کیے جائیں
    مدارس میں کیمرے لگائے جائیں ۔ بشرطیکہ وہ کیمرے کالج، یونیورسٹی،ایم این اے، ایم پی ایز کے ریسٹ ہاؤسز، افسران کے دفاتر، پولیس، وکلاء اور بڑے بڑے دفاتر جو حکومت کے ماتحت ہے ہر جگہ خفیے کیمرے نصب کیے جائیں ۔۔ہاں یہ مفت کا کام نہیں ہے اس پہ بہت پیسہ لگے گا ہم عوام دیں گے پیسہ ۔۔ویسے بھی ہم بہت ٹیکس دیتے ہیں ۔۔چند پیسے اگر ہماری نسل کے تحفظ پہ لگ جائیں تو ہمیں قابل قبول ہے ۔۔آپ کیمرے لگائیں ۔پھر دیکھیں گے ۔۔برائی کس جگہ سے جنم لے رہی ہے ۔۔۔اور کون اس برائ سے پاک صاف ہے

    ۔

    Article Writer Name

    Hina 

     

  • ‏افغان باشندے یا افغان طالبان، تحریر: ارم رائے

    ‏افغان باشندے یا افغان طالبان، تحریر: ارم رائے

    ‏افغان باشندے یا افغان طالبان یہ دونوں ایک ہی قوم کے دو نام ہیں۔ روس جب اسی کی دہائی میں افغانستان کو فتح کرنے آیا تو امریکہ نے افغان لوگوں کو وہاں کے باشندے قرار دیا اور انکی مدد کی تاکہ روس کو شکست ہو۔ البتہ ایسا ہوا بھی لیکن امریکہ کی مدد سے زیادہ افغان باشندوں کی جنگجو سوچ نے مدد کی اور انہوں نے اس وقت کے بہترین روسی ٹینکس کو بھی راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا اور روس کو شکست فاش ہوئی اور بدلے میں روس کو اپنی ریاستوں سے ہاتھ دوھونا پڑا۔ جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہی افغانی باشندے طالبان کہلائے گئے۔ روس تو چلو دس سال رہا افغانستان میں لیکن امریکہ تقریبا بیس سال رہا اور اسکی جنگی صلاحیت روس سے بھی زیادہ طاقتور تھی لیکن نتیجہ کیا ہوا؟ وہی جو روس کے ساتھ ہوا لیکن روس نے تو کوئی مدد نہیں کی اس بار امریکہ کے خلاف تو امریکہ کس کو الزام دے سکتا ہے اپنی شکست کا؟ امریکہ کو شکست اس لئے ہوئی کہ اس بار بھی امریکہ فوج کی لڑائی طالبان سے نہیں بلکہ افغانی باشندوں سے تھی جو کبھی ہار نہیں مانتے۔ اب امریکہ وہاں سے نکل رہا ہے تو طالبان یعنی افغانی باشندوں کو سول جنگ کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔

    مگر حقیت بلکل اس کے برعکس ہے۔ امریکہ سے زیادہ طالبان نے سیکھا ہے اس جنگ سے۔ انہوں نے سفارتی تعلقات اتنے اچھے سے استعمال کیے کہ امریکہ کا کوئی مطالبہ بھی امریکہ کے اپنے مفاد میں نہیں گیا اور یوں طالبان نے اپنے سارے مطالبات بھی منوا لئے اور امریکہ کو معاہدے کا پابند بھی کرلیا۔ اب نیٹو ممالک کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ طالبان سول حکومت کو گرا کر لوگوں کا خون بہائیں گے جو کہ بلکل غلط ہے۔ اصل میں یہ امیج اشرف غنی نے بنایا ہے طالبان کا مگر جن شہروں پر طالبان نے اب قبضہ کیا ہے وہ وہاں موجود لوگوں کی مدد سے کیا ہے اور زیادہ تر شہروں میں ایک قطرہ خون بھی نہیں بہا۔ اس سے صاف ظاہر ہے اگلے الیکشن میں حکومت طالبان کی ہوگی یعنی اصل میں لوگوں کی منتخب کی گئی حکومت۔ اگر ایسا ہوا تو کیا امریکہ اس حکومت کو قبول کرے گا تو یقین سے کہہ رہی ہوں کہ ہاں قبول کرے گا آج نہیں توکل۔ اس ایشیائی خطے میں اگر امن قائم رکھنا ہے تو امریکہ اور بھارت کا اثرورسوخ ختم کرنا ہوگا جو کہ امریکہ کے جانے سے ہوجائے گا۔ساری عسکریت پسندی اور شدت پسندی بھارت اور امریکہ کے تعاون سے کی گئی اور اس خطے کا امن برباد کرکے اسلحہ کی مارکیٹ کو فائدہ پہنچایا گیا۔ مجھے یقین ہے طالبان کی حکومت سے لوگوں کے حالات بدلیں گے اور اسکا اثر پاکستان پر یقینا پڑے گا کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن کا سب سے بڑا خواہش مند ہے کیونکہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ جیسے بھی ہوں وہ ہوتے تو بھائی بھائی ہی ہیں نا.

  • تبدیلی یا دھوکہ، تحریر:نوید شیخ

    تبدیلی یا دھوکہ، تحریر:نوید شیخ

    اب پتہ نہیں یہ افواہ ہے یا یہ خبر جان بوجھ کر گزشتہ دس پندرہ دنوں سے پھیلائی جا رہی ہے ۔ کہ عمران خان نے اپنے چند انتہائی بااعتماد ساتھیوں سے مشاورت کے بعد قبل از وقت انتخاب کی تیاری شروع کردی ہے۔ اور شاید اس سال کے آخر میں یا پھر اگلے سال کے آغاز میں نئے الیکشن ہو جائیں ۔

    ۔ یہ بھی دیکھائی دے رہا ہے کہ عمران خان کے وزراء میڈیا کے بھرپور استعمال کے ذریعے ایک نیا ’’بیانیہ‘‘ تشکیل دیتے نظر آرہے ہیں۔ جس میں اپوزیشن کو ہمشیہ کی طرح ’’چور اور لٹیرے‘‘کہہ کر پکارا جاتا ہے اور اپنے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہم نے کرنا تو بہت کچھ تھا مگر حالات ساتھ نہیں دے رہے ہیں ۔ گزشتہ حکومتیں بگاڑ پیدا ہی بہت زیادہ کرگئی ہیں ۔ پر عمران خان ڈٹ گیا ہے ۔ وہ ان چوروں اور لیٹروں کے سامنے نہیں جھک رہا ہے ۔۔ یہاں تک کہ عمران خان امریکہ کیا ، بھارت کیا ، کسی کو گھاس نہیں ڈال رہا ہے ۔ اور پھر وہ ہی جنرل مشرف والا فارمولا لگایا جاتا ہے کہ عمران خان کے لیے pakistan first ہے ۔ یہ مسلسل گزشتہ کئی روز سے انٹرویو دیے گئے ہیں جس کا واحد ایجنڈا امریکہ ، افغانستان اور بھارت تھا اس کے بعد سے ٹیم عمران خان کپتان کو ایسا رہنما ثابت کرنے پر لگی ہوئی ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہا تھا ناکہ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیداور پیدا ۔۔۔جو نہ امریکہ کے آگے جھکتا ہے ۔ نہ مودی کی پرواہ کرتا ہے ۔ نہ کسی مافیا سے ڈرتا ہے ۔ نہ اسٹیبلشمنٹ کی سنتا ہے ۔ اور نہ ہی پارٹی میں کسی بغاوت سے گھبراتا ہے ۔

    ۔ سچی بتاوں تو مجھے نہیں پتہ کہ عمران خان قبل ازوقت الیکشن کروائیں گے یا نہیں ۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم نہیں کہ امریکہ کے سامنے وہ یوں ہی ڈٹے رہیں گے یا نہیں ۔ ۔ پر اس سب شور شرابے ، قصے کہانیوں اور سازشوں کے بیچ میں ایک مسئلہ ہے جس پر جان بوجھ کر کسی کی نظر نہیں جانے دی جارہی ہے ۔ وہ ہے روز بروز عوام کی زندگی اجیرن ہونا ۔ صرف بجٹ پیش ہونے اور بجٹ پاس ہونے کے آس پاس کے پندرہ دنوں میں پیٹرول دو دفعہ مہنگا ہوگیا ہے ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ پر نہ کسی کے پاس تسلی بخش جواب ہے نہ یہ معلوم کہ یہ لوڈ شیڈنگ ختم کیسے ہوگی ۔ ۔ لوگوں اور میڈیا کو گول گول دوسری چیزوں میں گھمانے کا ایک گھن چکر جاری ہے ۔ دیکھا جائے تو اپنے اقتدار کے روز اوّل سے عمران حکومت بازار میں کسادبازاری لائی۔ ہزاروں لوگ بے روزگار ہوئے۔ بجلی ، پیڑول اور گیس کی قیمتوں میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہوا۔ روزمرہّ استعمال کی اشیائے کی بڑھتی قیمتوں نے صرف کم آمدنی والوں کی ہی کمر نہیں توڑی اچھے اچھوں کے چینخیں نکوا دی ہیں ۔۔ اگر ان حقائق کو سامنے رکھا جائے تو عمران خان کو قبل از وقت انتخاب بارے سوچنا بھی نہیں چاہیے۔

    ۔ کیونکہ اس سے بڑی ناکامی کیا ہو گی کہ جب جب وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ مہنگائی سب سے مشکل چیلنج ہے اور ساتھ ہی یقین دلاتے ہیں کہ مہنگائی پر جلد قابو پا لیں گے۔ تو گھی اور آئل کی قیمت میں سات روپے فی کلو اضافہ ہوجاتا ہے ۔ ۔ عوام نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر تحریک انصاف کو موقع ہی اس لیے دیا تھا کہ یہ مہنگائی سے نجات دلائے گی کرپشن کا خاتمہ کرے گی اور کڑا احتساب کرے گی ۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کو زبوں حال معیشت ملی تھی۔ پر اب حکومتی عوؤں کے مطابق اس میں مضبوطی آ چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے ہیں۔ ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔ پر اب بھی حکومت کے پاس صرف ایک ہی جواب ہے کہ معیشت اس سے کہیں زیادہ تباہ ہو چکی ہے جس کا اندازہ کیا گیا تھا۔ مسلسل تین سال سے مہنگائی پر قابو پانے کی امید دلائی جا رہی ہے مگر مہنگائی ہے کہ نہ صرف قابو میں نہیں آ رہی بلکہ مزید بھی پھن پھیلائے جا رہی ہے۔ ادھر بیروزگاری بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

    ۔ مجھے تو یہ ایک لطیفہ لگتا ہے پتہ آپ اس کو کیسے لیتے ہیں ۔ اگر آپکو یاد ہو تو ان چوتھے وزیر خزانہ شوکت ترین نے چند روز پہلے ہی اسمبلی میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس نہیں لگائیں گے۔پتہ نہیں اب انھوں نے ٹیکس لگایا ہے یا نہیں پر ہر چیز اپنے آپ مہنگی ضرورہورہی ہے ۔ چاہے پھر وہ آٹا ہو ، چینی ہو ، دالیں ہو یا سبزیاں اور پھل ہوں ۔ ۔ کہا گیا تھا کہ منی بجٹ نہیں آئے گا مگر بجٹ کے دوسرے دن انہوں نے آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس بڑھانے کی بات کی۔ بجٹ کے چوتھے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔

    ۔ اس لیے اب عوام حکومتی گورننس اور وعدوں دونوں سے مایوس نظر آتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے دو سال باقی رہ گئے ہیں۔ اگر عوام کو مطلوبہ ریلیف نہ ملا تو حکومت انتخابات میں عوام سے خیر کی امید نہ رکھے۔ حکومت کو سرپٹ دوڑتے مہنگائی کے گھوڑے کو لگام ڈالنا ہو گی۔ کیونکہ ملکی معیشت کو حکمرانوں کی نظر سے دیکھیں تو سب اچھا کی نوید ہے۔جب کہ غریب طبقے کی آنکھوں سے دیکھیں تو ہر آنے والا دن زندہ رہنے کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔۔ ایک مزدور، دیہاڑی دار، راج مستری، چھوٹا بلڈر، کسی دکان پر بارہ پندرہ سو روپے روزانہ کی ملازمت کرنے والے کے لیے ایک دن کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہیں، چائے پراٹھا کے دام بڑھ گئے، تھڑے پر ملنے والی چائے کا کپ تیس روپے کا ہوگیا ہے۔ مسالے مہنگے، دالیں، سبزیاں، ادرک، پیاز، دارچینی، الائچی، سونف، مچھلی، دودھ ، دہی سب کچھ مہنگا ہو چکا ہے۔ کوئی خاتون خانہ ایسی نہیں ملے گی جو مہنگائی کے ہاتھوں تنگ نہ ہو، کاروبار ٹھپ، تاجر پریشان، نان، ڈبل روٹی کے ریٹ ہوشربا ہوگئے ہیں ۔ غریب اور مڈل کلاس طبقہ مٹن کو بھول گیا ہے کیونکہ بیف اور چکن بھی اس کی جیب پر بھاری پڑ رہا ہے۔۔ ان حالات میں جب لوگ اقتصادی ترقی، ڈالروں کی برسات جیسے بیانات سنتے ہیں اور اپنے شب وروز دیکھتے ہیں تو انھیں افسوس ہوتا ہے کہ ارباب اختیار زمینی حقائق سے کس قدر بے بہرہ ہیں، یا اتنے سنگ دل اور بے حس ہیں کہ انھیں پتا ہی نہیں کہ ملک میں غریب خانے، مسافر خانے، مفت کھانے کھلا کر ملکی معیشت یا اقتصادی نظام کے مضبوط قلعے نہیں بنا ئے جاسکتے۔ باتیں تو حکمران غربت کے خاتمہ اور ایشین ٹائیگر بننے کی کرتے ہیں لیکن اپنے عوام کو معاشی آسودگی نہیں دے سکتے۔ مہنگائی کے لیے جس ٹائیگر فورس کو لائے تھے، اس کا کسی کو علم نہیں ہے کہ کہاں گئی ٹائیگر فورس۔۔ اس حکومت سے عوام کو امیدیں تھیں، شاید اب بھی ہے لیکن کوئی تو ایسی خبر سنائی دے جس سے غریب کو یقین آجائے کہ وہ اچھے دن بھی آئیں گے۔ جس کے خواب عمران خان نے دیکھائے تھے ۔